10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsمدارک التنزیل

Ayah 10:70

مَتَاعٌ فِی الدُّنْیَا ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِیْقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِیْدَ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 10:70 in the Quran reader

(ان کے لئے جو) فائدے ہیں دنیا میں (ہیں) پھر ان کو ہماری طرف لوٹ کر آنا ہے۔ اس وقت ہم ان کو عذاب شدید (کے مزے) چکھائیں گے کیونکہ کفر (کی باتیں) کیا کرتے تھے

70: مَتَاعٌ فِی الدُّّنْیَا (دنیا میں فائدہ اٹھانا ہے) یعنی ان کا یہ افتراء دنیا کا معمولی سانفع ہے کہ اس سے وہ کفر میں اپنی سربراہی جمائے ہوئے ہیں اور اسکی پشت پناہی کرکےحضور ﷺ کو تکلیف پہنچا رہے ہیں۔ ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُھُمْ ثُمَّ نُذِیْقُھُمُ الْعَذَابَ الشَّدِیْدَ (پھر انہوں نے ہمارے ہاں لوٹ کر آنا ہے پھر ہم ان کو سخت عذاب چکھائیں گے) ہمیشہ رہنے والابِمَا کَانُوْا یَکْفُرُوْنَ (اس وجہ سے کہ وہ کفر کرتے تھے) ان کے کفر کے سبب۔
Ayah 10:71

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ نُوْحٍ١ۘ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَیْكُمْ مَّقَامِیْ وَ تَذْكِیْرِیْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَعَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْتُ فَاَجْمِعُوْۤا اَمْرَكُمْ وَ شُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ لَا یَكُنْ اَمْرُكُمْ عَلَیْكُمْ غُمَّةً ثُمَّ اقْضُوْۤا اِلَیَّ وَ لَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 10:71 in the Quran reader

اور ان کو نوح کا قصہ پڑھ کر سنا دو ۔ جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ اے قوم ! اگر تم کو میرا (تم میں) رہنا اور خدا کی آیتوں سے نصیحت کرنا ناگوار ہو تو میں تو خدا پر بھروسہ رکھتا ہوں تم اپنے شریکوں کے ساتھ مل کر ایک کام (جو میرے بارے میں کرنا چاہو) مقرر کرلو اور وہ تمہاری تمام جماعت (کو معلوم ہوجائے اور کسی) سے پوشیدہ نہ رہے پھر وہ کام میرے حق میں کر گزرو اور مجھے مہلت نہ دو ۔

واقعہ نوح۔ : 71: وَاتْلُ عَلَیْھِمْ (انکو پڑھ کر سنائیں) نَبَاَنُوْحٍ (نوح (علیہ السلام) کا واقعہ) وہ واقعہ جو قوم کے ساتھ ان کو پیش آیا۔ اس پر وقف لازم ہے۔ اگر ایسا نہ کریں تو اذ، اُتْلُ کا ظرف بن جائے گا۔ حالانکہ تقدیرعبارت یہ ہے۔ اذکر اذ قال اِذْقَالَ لِقَوْمِہٖ یٰـقَوْمِ اِنْ کَانَ کَبُرَ عَلَیْکُمْ جب انہوں نے اپنی قوم کو کہا اے میری قوم اگر تمہیں گراں گزرا ہے) بھاری و گراں معلوم ہوا جیسا کہ البقرہ۔ 45 وانھا لکبیرۃ الا علی الخاشعین۔ مَّقَامِیْ (میرا کھڑا ہونا) نمبر 1۔ میرا مرتبہ یعنی میری ذات جیسا کہ اس آیت 46 سورت الرحمان میں ولمن خاف مقام ربہ جنتان یعنی وہ اپنے رب کی ذات سے ڈرا۔ یا نمبر 2۔ میرا ٹھہرنا اور تمہارے درمیان قیام کرنا ساڑھے نو سو سال یا۔ نمبر 3۔ کھڑا ہونا وعظ و نصیحت کیلئے۔ وَتَذْکِیْرِ یْ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ (اور میرا اللہ تعالیٰ کی آیات کے ذریعہ ڈرا نا) کیونکہ وہ جب ایک جماعت کو وعظ کرتے تو وہ کھڑے ہو کر ان کو نصیحت کرتے تاکہ ان کے کھڑے ہونے کی جگہ ان کے سامنے آجائے اور ان تک بات پہنچ جائے۔ فَعَلَی اللّٰہِ تَوَکَّلْتُ (پس اللہ تعالیٰ ہی کی ذات پر میں نے بھروسہ کیا) یعنی میں نے اپنا معاملہ اس کے سپرد کیا۔ فَاَجْمِعُوْا اَمْرَکُمْ (تم اپنے معاملے کو جمع کرو) اجمع الامرکام کا عزم اور پختہ نیت کرنا۔ وَشُرَکَآ ئَ کُمْ ( اور اپنے شرکاء کو) اس میں وائو مع کے معنی میں ہے۔ یعنی اپنے شرکاء کے ساتھ مل کر بات طے کرلو۔ قرار داد پاس کرلو۔ ثُمَّ لَایَکُنْ اَمْرُکُمْ عَلَیْکُمْ غُمَّۃً (پھر تمہارا معاملہ تم پر مخفی بھی نہ رہے) یعنی تم پر غم و رنج کا باعث نہ ہو۔ الغم اور الغمہ دونوں کا معنی کرب و کر بہ کی طرح ایک ہی ہے یا خفاء میں التباس ہو۔ الغمہ سُرّہ کو کہتے ہیں یہ غمہ اذا سترہ سے ہے اور یہی معنی اس روایت میں ہیں۔ فرائض میں اخفاء نہیں (لاغمۃ فی فرائض اللہ) کوئی اخفاء نہیں بلکہ انکو ظاہر کیا جائیگا۔ مطلب آیت کا یہ ہے۔ میرے ہلاک کرنے کا قصد و ارادہ تم پر مخفی نہ رہے لیکن اس کو کھلے طور پر تم مجھے بتلانے والے ہو۔ ثُمَّ اقْضُوْا اِلَیَّ (پھر تم میرے بارے میں فیصلہ کرو۔ ) وہ بات جس کا تم ارادہ رکھتے ہو یعنی میری ہلاکت کے بارے میں جو تمہارے ہاں برحق ہے کر ڈالو۔ یہ اسی طرح ہے جیسے آدمی اپنے غریم کا حق ادا کر دے۔ نمبر 2۔ جو تم سے بن پڑے وہ میرے متعلق کرلو۔ وَلَاتُنْظِرُوْنَ (اور تم مجھے مہلت نہ دو )
Ayah 10:72

فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَمَا سَاَلْتُكُمْ مِّنْ اَجْرٍ١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ١ۙ وَ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 10:72 in the Quran reader

اور اگر تم نے منہ پھیرلیا تو (تم جانتے ہو کہ) میں نے تم سے کچھ معاوضہ نہیں مانگا۔ میرا معاوضہ تو خدا کے ذمے ہے۔ اور مجھے حکم ہوا ہے کہ میں فرمانبرداروں میں رہو۔

72: فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ (پس اگر تم منہ موڑو) اگر تم میری نصیحت سے اعراض کرو۔ اور میری خیر خواہانہ باتوں سے رخ موڑو۔ فَمَاسَاَلْتُکُمْ مِّنْ اَجْرٍ (پس میں تم سے کوئی مزدوری نہیں مانگتا) نمبر 1۔ کہ جس سے لازماً منہ موڑا جائے۔ یا نمبر 2۔ میں تم سے کوئی مزدوری نہیں مانگتا کہ تمہارے منہ موڑنے سے وہ رہ جائے گی اور میں اس سے محروم رہ جائونگا۔ اِنْ اَجرِیَ اِلَّا عَلَی اللّٰہِ (میرا اجر اللہ تعالیٰ ہی کے ذمہ ہے) اور وہ میرا اجر وثواب آخرت ہے جو مجھے آخرت میں مل جائے گا۔ یعنی میں نے تمہیں یہ نصیحت فقط اللہ تعالیٰ کی خاطر کی کسی دنیاوی غرض کی بناء پر نہیں کی۔ نکتہ : اس میں دلالت ہے کہ تعلیم قرآن اور علم دین پر اجر لینا منع ہے۔ وَاُمِرْتُ اَنْ اَکُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ (اور مجھے حکم ملا ہے کہ میں فرمانبرداروں میں سے ہوں) یعنی جو اس کے حکموں کی پابندی کرتے ہیں خواہ وہ مشروعات سے ہو یا ممنوعات سے۔ قراءت : اِنْ اَجْرِیَ فتحہ کے ساتھ حفص، ابو عمرو، مدنی و شامی نے پڑھا ہے۔
Ayah 10:73

فَكَذَّبُوْهُ فَنَجَّیْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ فِی الْفُلْكِ وَ جَعَلْنٰهُمْ خَلٰٓئِفَ وَ اَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِیْنَ Open ayah 10:73 in the Quran reader

لیکن ان لوگوں نے انکی تکذیب کی تو ہم نے ان کو اور جو لوگ ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے سب کو (طوفان سے) بچالیا اور انھیں (زمین میں) خلیفہ بنادیا اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھُٹلایا ان کو غرق کردیا تو دیکھ لو کہ جو لوگ ڈرائے گئے تھے ان کا کیسا انجام ہوا۔

نتیجہ تکذیب : 73: فَکَذَّبُوْہُ (پس انہوں نے جھٹلادیا) انہوں نے ان کی تکذیب پر مداومت اختیار کی فَنَجَّیْنٰہُ (پس ہم نے اس کو بچالیا) ڈوبنے سے وَمَنْ مَّعَہٗ فِی الْفُلْکِ وَجَعَلْنٰھُمْ خَلٰٓئِفَ ( اور ان کو جو کشتی میں ان کے ساتھ تھے، نائب بنایا) غرق سے ہلاک ہونے والوں کے یہ نائب بنے۔ وَاَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا فَانْظُرْ کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُنْذَرِیْنَ (اور ڈبو دیا ان لوگوں کو جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا پس غور کرو کیسا انجام ہوا ان لوگوں کا جن کو ڈرایا گیا) اسمیں کفار پر گزرنے والے معاملے کو بڑا بنا کر پیش کیا گیا ہے اور کفار مکہ جو رسول اللہ ﷺ کے مخاطب تھے ان کو ڈرایا گیا اور آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی۔
Ayah 10:74

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِمْ فَجَآءُوْهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا بِهٖ مِنْ قَبْلُ١ؕ كَذٰلِكَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِ الْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 10:74 in the Quran reader

پھر نوح کے بعد ہم نے اور پیغمبر اپنی اپنی قوم کی طرف بھیجے۔ تو وہ ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے۔ مگر وہ لوگ ایسے نہ تھے کہ جس چیز کی پہلے تکذیب کرچکے تھے اس پر ایمان لے آتے۔ اسی طرح ہم زیادتی کرنے والوں کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں۔

74: ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْم بَعْدِہٖ (پھر ہم نے ان کے بعد بھیجا) یعنی نوح (علیہ السلام) کے بعد رُسُلًا اِلٰی قَوْمِھِمْ (انبیاء (علیہم السلام) کو ان کی قوموں کی طرف) یعنی ہود، صالح، ابراہیم، لوط، شعیب علیہم الصّلوٰت والسلامفَجَآ ئُ وْھُمْ بِالْبَیِّنٰتِ (وہ ان کے پاس دلائل لائے) ایسی واضح دلیلیں جو ان کے دعوی کو ثابت کر رہی تھیں۔ فَمَا کَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا (مگر وہ ایسے نہ تھے کہ ایمان لے آتے اس پر) پس انہوں نے کفر پر اصرار کیا ان انبیاء (علیہم السلام) کی تشریف آوری کے باوجود بِمَا کَذَّبُوْا بِہٖ مِنْ قَبْلُ (جس کو انہوں نے پہلے جھٹلایا) ان کی آمد سے قبل مقصد یہ ہے کہ رسول کی آمد سے قبل اہل جاہلیت تھے حق کی تکذیب ان کا شیوہ تھا۔ مگر بعثت کے بعد ان کی حالت میں تبدیلی نہ آئی اور وہ ایسی تکذیب پر قائم رہے گویا ان کی طرف کوئی پیغمبر مبعوث ہی نہیں ہوا۔ کَذٰلِکَ نَطْبَعُ (اسی طرح ہم مہر لگاتے) اس مہر کی طرح ہم مہر لگاتے ہیں عَلٰی قُلُوْبِ الْمُعْتَدِیْنَ (حد سے تجاوز کرنے والوں کے دلوں پر) یعنی تکذیب میں جو حدود کو پھاند جاتے ہیں۔
Ayah 10:75

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰى وَ هٰرُوْنَ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ بِاٰیٰتِنَا فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 10:75 in the Quran reader

پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اسکے سرداروں کے پاس بھیجا تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ گنہگار لوگ تھے۔

واقعہ موسیٰ ( علیہ السلام) و فرعون : 75: ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْم بَعْدِ ھِمْ (پھر ہم نے ان کے بعد بھیجا) ان رسولوں کے بعد مُّوْسٰی وَ ہٰرُوْنَ اِلٰی فِرْعَوْنَ وَمَلا ئِہٖ بِاٰیٰتِنَا (موسیٰ و ہارون کو فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف اپنی آیات دیکر) آیات سے وہ نو آیات مراد ہیں۔ فَاسْتَکْبَرُوْا (پس انہوں نے تکبر کیا) ان آیات کو تسلیم کرنے سے اور سب سے بڑا تکبر یہ ہے کہ بندے اپنے رب کے قاصد کو ماننے میں سستی کریں جبکہ رسالت کو واضح بھی کردیا گیا اور اس کو قبول کرنے سے بڑائی اختیار کریں۔ وَکَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ (اور وہ مجرم لوگ تھے) بڑے جرائم پیشہ کفار تھے اسی لئے انہوں نے اس کو قبول کرنے سے تکبر کیا اور اس کو مسترد کرنے کی جرأت کی۔
Ayah 10:76

فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْۤا اِنَّ هٰذَا لَسِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 10:76 in the Quran reader

تو جب ان کے پاس ہمارے ہاں سے حق آیا تو کہنے لگے کہ یہ تو صریح جادُو ہے۔

76: فَلَمَّا جَآئَ ھُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِ نَا (پس جب ان کے پاس حق آچکا ہماری طرف سے) جب انہوں نے پہچان لیا کہ وہ حق ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ قَالُوْا (تو انہوں نے کہا) شہوت پرستی کی وجہ سے اِنَّ ہٰذَا لَسِحْرٌ مُّبِیْنٌ (بیشک یہ کھلا ہوا جادو ہے) حالانکہ وہ جانتے تھے کہ جادو سے سب سے زیادہ دور چیز جو ہے وہ حق ہی ہے۔
Ayah 10:77

قَالَ مُوْسٰۤى اَتَقُوْلُوْنَ لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَكُمْ١ؕ اَسِحْرٌ هٰذَا١ؕ وَ لَا یُفْلِحُ السّٰحِرُوْنَ Open ayah 10:77 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا کیا تم حق کے بارے میں جب وہ تمہارے پاس آیا یہ کہتے ہو کہ یہ جادو ہے ؟ حالانکہ جادوگر فلاح نہیں پانے کے۔

77: قَالَ مُوْسٰی اَتَقُوْلُوْنَ لِلْحَقِّ لَمَّا جَآئَ کُمْ (موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کیا تم حق کو کہتے ہو جبکہ وہ تمہارے پاس آچکا ہے) یہ استفہام انکاری ہے اور ان کا مقولہ محذوف ہے یعنی ہذا سحر کیا یہ جادو ہے پھر انکار کو دوسری مرتبہ لوٹا یا اور کہا اَسِحْرٌ ھٰذَا (کیا یہ جادو ہے) یہ خبر اور مبتداء ہے۔ وَلَایُفْلِحُ السّٰحِرُوْنَ (اور جادوگر کامیاب نہیں ہوتے) یعنی وہ کامیاب نہ ہونگے۔
Ayah 10:78

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا وَ تَكُوْنَ لَكُمَا الْكِبْرِیَآءُ فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا نَحْنُ لَكُمَا بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:78 in the Quran reader

وہ بولے کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ جس (راہ) پر ہم اپنے باپ دادا کو پاتے رہے ہیں اس سے ہم کو پھیر دو ۔ اور (اس) ملک میں تم دونوں ہی کی سرداری ہوجائے ؟ اور ہم تم پر ایمان لانے والے نہیں ہیں

78: قَالُوْا اَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا (وہ کہنے لگے کیا تم ہمارے پاس آئے ہوتا کہ تم ہٹا دو ) ہمیں پھیر دو ۔ عَمَّا وَجَدْنَاعَلَیْہِ اٰبَآئَ نَا (اس سے جس پر ہم نے اپنے آبائو اجداد کو پایا) یعنی بتوں کی عبادت یا فرعون کی عبادت وَتَکُوْنَ لَکُمَا الْکِبْرِیَآئُ (اور ہوجائے تم دونوں کیلئے بڑائی) یعنی بادشاہت کیونکہ بادشاہوں ہی کی صفات بڑائی عظمت، بلندی ہوتی ہیں فِی الْاَرْضِ (زمین میں) یعنی سرزمین مصر میں۔ وَمَانََحْنُ لَکُمَا بِمُؤْمِنِیْنَ (ہم تم دونوں پر ایمان لانے والے نہیں ہیں) اس میں تصدیق کرنے والے جو کچھ تم لے کر آئے ہو۔ قراءت : حماد و یحییٰ نے یکونؔ پڑھا ہے۔
Ayah 10:79

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ ائْتُوْنِیْ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِیْمٍ Open ayah 10:79 in the Quran reader

اور فرعون نے حکم دیا کہ سب کامل فن جادوگروں کو ہمارے پاس لے آؤ۔

79: وَقَالَ فِرْعَوْنُ ائْتُوْنِیْ بِکُلِّ سٰحِرٍ عَلِیْمٍ (اور فرعون نے کہا تم میرے پاس ہر پڑھے لکھے جادوگر کو لائو) قراءت : حمزہ، علی نے سحّار پڑھا ہے۔
Ayah 10:80

فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰۤى اَلْقُوْا مَاۤ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ Open ayah 10:80 in the Quran reader

جب جادوگر آئے تو موسیٰ نے ان سے کہا کہ جو تم کو ڈالنا ہے ڈالو۔

80: فَلَمَّا جَآئَ السَّحَرَۃُ قَالَ لَھُمْ مُّّوْسٰٓی اَلْقُوْا مَآ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ (جب جادوگر آگئے تو انہیں موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا تم ڈالو ! جو تم نے ڈالنا ہے)
Ayah 10:81

فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا قَالَ مُوْسٰى مَا جِئْتُمْ بِهِ١ۙ السِّحْرُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَیُبْطِلُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 10:81 in the Quran reader

جب انہوں نے (اپنی رسیوں اور لاٹھیوں کو) ڈالا تو موسیٰ نے کہا جو چیزیں تم (بناکر) لائے ہو جادو ہے خدا اس کو ابھی نیست و نابود کر دے گا۔ خدا شریروں کے کام سنوارا نہیں کرتا۔

81: فَلَمَّآ اَلْقَوْا قَالَ مُوْسٰی مَاجِئْتُمْ بِہِ السِّحْرُ (جب انہوں نے ڈـال دیا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا جو کچھ تم لائے ہو وہ جادو ہے) نحو : ماؔ موصولہ ہے اور مبتداء ہے جئتم بہ اس کا صلہ ہے اور السحرؔ خبر ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے الذین جئتم بہٖ ھوالسحرجو تم لائے ہو وہ جادو ہے۔ نہ کہ وہ جس کو فرعون اور اسکی قوم نے جادو قرار دیا حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات ہیں۔ قراءت : السحرؔ پر وقف ہے ابو عمرو نے اسی طرح پڑھا ہے۔ استفہام کی صورت میں۔ اس قراءت کے مطابق ما استفہامیہ ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے۔ ای شیء جئتم بہ۔ تم کونسی چیز لائے ہو کیا وہ جادو ہے ؟ اِنَّ اللّٰہَ سَیُبْطِلُہٗ (بیشک اللہ تعالیٰ عنقریب اس کو باطل کردیں گے) اس کا باطل ہونا کھول دیں گے۔ اِنَّ اللّٰہَ لَایُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِیْنَ (بیشک اللہ تعالیٰ نہیں درستی کرتے مفسدوں کے عمل کی) اس کو قائم نہیں رہنے دیتے بلکہ تہس نہس کردیتے ہیں۔
Ayah 10:82

وَ یُحِقُّ اللّٰهُ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَ۠ Open ayah 10:82 in the Quran reader

اور خدا اپنے حکم سے سچ کو سچ ہی کر دے گا اگرچہ گنہگار برا ہی مانیں۔

82: وَیُحِقُّ اللّٰہُ الْحَقَّ (اور اللہ تعالیٰ حق کو ثابت کردیں گے) اور اس کو قائم و مضبوط کردیں گے بِکَلِمٰتِہٖ ( اپنے کلمات کے ذریعہ) اپنے اوامرو قضایا کے ساتھ یا اسلام کو اپنی نصرت سے غلبہ دیں گے۔ وَلَوْکَرِہَ الْمُجْرِمُوْنَ (اگرچہ مجرموں کو ناپسند ہو) یہ بات۔
Ayah 10:83

فَمَاۤ اٰمَنَ لِمُوْسٰۤى اِلَّا ذُرِّیَّةٌ مِّنْ قَوْمِهٖ عَلٰى خَوْفٍ مِّنْ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهِمْ اَنْ یَّفْتِنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 10:83 in the Quran reader

تو موسیٰ پر کوئی ایمان نہ لایا مگر اس کی قوم میں سے چند لڑکے (اور وہ بھی) فرعون اور اس کے اہل دربار سے ڈرتے ڈرتے کہ کہیں وہ ان کو آفت میں نہ پھنسا دے اور فرعون ملک میں متکبر اور متغلب اور (کبر و کفر میں) حد سے بڑھا ہوا تھا۔

قومہ کی ضمیر کا مرجع : 83: فَمَآ اٰمَنَ لِمُوْسٰٓی (پس ایمان نہ لائے موسیٰ پر) ان کے ابتداء بعثت میں اِلَّا ذُرِّیَّۃٌ مِّنْ قَوْمِہٖ عَلٰی خَوْفٍ مِّنْ فِرْعَوْنَ (مگر ان کی قوم میں سے بعض اولاد، فرعون کے خطرے کے باوجود) مگر ایک جماعت جنکا تعلق اولاد بنی اسرائیل سے تھا۔ گویا تقدیر کلام یہ ہے الا اولاد من اولاد قومہ مگر کچھ اولاد ان کی قوم کی اولاد میں سے۔ اور اس کا واقعہ یہ ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کے بڑوں کو بلایا تو انہوں نے فرعون کے خوف کی وجہ سے کوئی جواب نہ دیا۔ مگر نوجوانوں کی ایک جماعت نے فرعونی خوف کے باوجود آپ کی دعوت پر لبیک کہی (اس قومہٖ کا مرجع موسیٰ علیہ السلام) نمبر 2۔ قومہٖ کی ضمیر فرعون کی طرف لوٹائیں تو ذریۃ سے ذریت فرعون مراد ہونگے اس صورت میں مومن آل فرعون۔ آسیہ امرأۃ فرعون۔ خازن فرعون، خازن کی بیوی، فرعون کے گھر کی مشاطہ (بال سنوارنے والی) ۔ وَمَلَائِھِمْ (اور اس کے سرداروں کے) ھُمْ ، کی ضمیر فرعون کی طرف آل فرعون کے معنی کے لحاظ سے لوٹتی ہے جیسا کہتے ہیں ربیعہ و مضر۔ نمبر 2۔ اس طور پر کہ وہ دوست و اصحاب والا تھا۔ جو اس کا حکم چلاتے تھے۔ اس لئے ان کا لحاظ کر کے ضمیر لوٹا دی۔ نمبر 3۔ ھُمْ کا مرجع ذریت ہو تو معنی یہ ہوگا۔ فرعون کے خوف کے باوجود اور بنی اسرائیل کے سرداروں کے خوف کے باوجود کیونکہ وہ سرداران بنی اسرائیل اپنے اس انجام سے ڈرتے تھے۔ جو فرعون کی طرف سے متوقع تھا۔ اپنے متعلق اور ان نوجوانوں کے متعلق۔ اسکی دلیل اَنْ یَّفْتِنَھُمْ کا لفظ ہے جو آگے آتا ہے (کہ کہیں وہ ان کو فتنہ میں مبتلا نہ کر دے) مراد اس سے فرعون کا سزا دینا ہے۔ وَاِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ فِی الْاَرْضِ (اور بیشک فرعون زمین میں غالب تھا) غالب اور زبردست تھا وَاِنَّہٗ لَمِنَ الْمُسْرِفِیْنَ (اور بیشک وہ البتہ حد سے نکلنے والوں میں سے تھا) ظلم و فساد اور تکبر و بڑائی سے کیونکہ وہ اپنے متعلق خدائی کا دعویدار تھا۔
Ayah 10:84

وَ قَالَ مُوْسٰى یٰقَوْمِ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ فَعَلَیْهِ تَوَكَّلُوْۤا اِنْ كُنْتُمْ مُّسْلِمِیْنَ Open ayah 10:84 in the Quran reader

اور موسیٰ نے کہا کہ اے قوم اگر تم خدا پر ایمان لائے ہو تو اگر (دل سے) فرمانبردار ہو تو اسی پر بھروسا رکھو۔

بنی اسرائیل کا دلاسہ : 84: وَقَالَ مُوْسٰی یٰـقَوْمِ اِنْ کُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰہِ ( اور موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا اے میری قوم اگر تم اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہو) اگر تم نے سچے دل سے تصدیق کی اور اسکی آیات پر یقین کیا۔ فَعَلَیْہِ تَوَکَّلُوْا (تو اس پر ہی بھروسہ کرو) فرعون سے حفاظت کیلئے اپنے معاملے کو اسی ہی کے سپرد کرو۔ اِنْ کُنْتُمْ مُّسْلِمِیْنَ (اگر تم فرمانبردار ہو) اسلام میں توکل کی شرط ہے اور اسلام اس بات کا نام ہے کہ وہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کریں۔ یعنی اپنے نفوس کو سالم و خالص اللہ تعالیٰ ہی کیلئے کردیں کہ اس میں نفس و شیطان کا قطعا ًحصہ نہ ہو۔ کیونکہ توکل ملاوٹ کے ہوتے ہوئے ممکن نہیں۔
Ayah 10:85

فَقَالُوْا عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا١ۚ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 10:85 in the Quran reader

تو وہ بولے کہ ہم خدا ہی پر بھروسا رکھتے ہیں۔ اے ہمارے پروردگار ! ہم کو ظالم لوگوں کے ہاتھ سے آزمائش میں نہ ڈال۔

85: فَقَالُوْا عَلَی اللّٰہِ تَوَکَّلْنَا (پس انہوں نے کہا ہم نے اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کیا) انہوں نے یہ کہا کیونکہ وہ لوگ اس میں مخلص تھے یقینا باری تعالیٰ نے ان کے اس توکل کو منظور فرمایا۔ اور ان کی دعا کو قبول کیا اور ان کو نجات عنایت فرمائی اور ان کو ہلاک کردیا جو فرعون سے ڈرتے تھے اور ان کا میاب لوگوں کو اپنی زمین میں نائب بنایا۔ نکتہ : جو شخص چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ پر توکل میں درست و خالص ہو اس کو چاہیے کہ وہ ملاوٹ چھوڑ دے اور ایک اللہ تعالیٰ ہی کا ہوجائے۔ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَۃً لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ (اے ہمارے رب ہمیں ظالمین قوم کا تختہ مشق نہ بنا) فتنہ سے پہلے مضاف محذوف ہے یعنی فتنہ کی جگہ یعنی عذاب کی جگہ نہ بنا کہ وہ ہمیں عذاب دیتے رہیں یا ہمارے دین کے متعلق وہ ہمیں فتنے میں مبتلا کردیں یعنی گمراہی میں مبتلا کردیں۔ الفاتن ،ؔ حق سے گمراہی میں مبتلا کرنے والا۔
Ayah 10:86

وَ نَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 10:86 in the Quran reader

اور اپنی رحمت سے قوم کفار سے ہمیں نجات بخش۔

86: وَنَجِّنَا بِرَحْمَتِکَ مِنَ الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ ( اور تو اپنی رحمت کے ساتھ کافر قوم سے نجات دے) یعنی اسکی غلامی اور ماتحتی سے۔
Ayah 10:87

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰى وَ اَخِیْهِ اَنْ تَبَوَّاٰ لِقَوْمِكُمَا بِمِصْرَ بُیُوْتًا وَّ اجْعَلُوْا بُیُوْتَكُمْ قِبْلَةً وَّ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:87 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کی طرف وحی بھیجی کہ اپنے لوگوں کے لئے مصر میں گھر بناؤ اور اپنے گھروں کو قبلہ (یعنی مسجدیں) ٹھیراؤ اور نماز پڑھو۔ اور مومنوں کو خوشخبری سنادو۔

بنی سرائیل کو ہدایات : 87: وَاَوْحَیْنَآ اِلٰی مُوْسٰی وَاَخِیْہِ اَنْ تَبَوَّاٰ لِقَوْمِکُمَا بِمِصْرَ بُیُوْتًا (اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی کی طرف وحی کی کہ تم دونوں اپنی قوم کیلئے مصر میں گھر بنائو) ۔ تبوّء المکان کا معنی مکان کو رہائش کیلئے مقرر کرنا جیسے کہتے ہیں۔ توطنہ کا معنی وطن بنانا۔ مطلب آیت کا یہ ہے کہ مصر میں ایسے مکان بنائو جو خصوصی تمہاری قوم کی رہائش کیلئے ہوں۔ اور ایسے مکان بنائو جو عبادت کیلئے لوٹنے اور نماز ادا کرنے کیلئے ہوں۔ وَّ اجْعَلُوْا بُیُوْتَکُمْ قِبْلَۃً (اور بنائو اپنے گھروں کو قبلہ رخ) یعنی مساجد جنکا رخ قبلہ یعنی کعبہ کی طرف ہو۔ موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھ والے کعبہ کی طرف نماز ادا کرتے تھے۔ پہلے پہل گھروں میں کفار سے خفیہ طور پر عبادت کا حکم تھا۔ تاکہ وہ ان پر غلبہ کر کے ان کو تکلیف نہ پہنچائیں۔ اور دین کے متعلق فتنہ میں مبتلا نہ کریں۔ جیسا کہ ابتداء اسلام میں مسلمان مکہ میں نماز ادا کرتے تھے۔ وَّاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ (اور نماز قائم کرو) اپنے گھروں میں نماز ادا کرلو تاکہ کفار سے مامون رہو۔ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ ( اور ایمان والوں کو خوشخبری سنا دیں) اے موسیٰ نکتہ : اولاً خطاب تثنیہ پھر جمع اور آخر میں واحد کے صیغہ سے فرمایا کیونکہ عبادت کے مقامات کا انتخاب موسیٰ و ہارون (علیہم السلام) کو تفویض کیا گیا تھا۔ پھر جمع لائے کیونکہ مساجد کی تعمیر اور ان کی آبادی جمہور امت کا فریضہ تھا۔ پھر آخر میں موسیٰ (علیہ السلام) کو خطاب فرمایا۔ یہ موقعہ بشارت تھا تاکہ ان کی عظمت سب پر ظاہر ہوجائے۔ اور جنکے حق میں بشارت دی گئی ان کا مرتبہ معلوم ہو۔
Ayah 10:88

وَ قَالَ مُوْسٰى رَبَّنَاۤ اِنَّكَ اٰتَیْتَ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاَهٗ زِیْنَةً وَّ اَمْوَالًا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ رَبَّنَا لِیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِكَ١ۚ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰۤى اَمْوَالِهِمْ وَ اشْدُدْ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْا حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ Open ayah 10:88 in the Quran reader

اور موسیٰ نے کہا اے ہمارے پروردگار ! تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیا کی زندگی میں (بہت سا) ساز وبرگ اور مال وزر دے رکھا ہے۔ اے پروردگار ان کا مآل یہ ہے کہ تیرے راستے سے گمراہ کردیں۔ اے پروردگار ! ان کے مال کو برباد کر دے اور ان کے دلوں کو سخت کر دے کہ ایمان نہ لائیں جب تک عذاب الیم نہ دیکھ لیں۔

88: وَقَالَ مُوْسٰی رَبَّنَآ اِنَّکَ اٰتَیْتَ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاَہٗ زِیْنَۃً (اور موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا اے ہمارے پروردگار ! بیشک آپ 6 نے فرعون اور اس کے سرداروں کو زینت دی ہے) زینت ہر ایسی چیز کو کہتے ہیں جس سے انسان اپنے آپ کو مزین کرتا ہے جیسے لباس زیورات، قالین، اثاث البیت وغیرہ وَّاَمْوَالًا (اور مال) یعنی نقدی، نعمتیں، زمینیں فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا رَبَّنَا لِیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِکَ (دنیا کی زندگی میں اے ہمارے پروردگار جس کا نتیجہ یہ کہ وہ لوگوں کو تیرے راستہ سے ہٹا رہے ہیں) تاکہ وہ لوگوں کو آپ کی اطاعت سے برگشتہ کریں۔ قراءت : کوفی کے نزدیک الدنیاپرو قف نہیں کیونکہ لیضلّوا، اتیت کے متعلق ہے۔ ربنا کو دوسری مرتبہ تضرع میں الحاح و اصرار کیلئے لائے۔ شیخ ابومنصور (رح) : فرماتے ہیں جب اللہ تعالیٰ نے جانا کہ وہ لوگوں کو گمراہ کریں گے تو ان کو وہ سب کچھ دیا تاکہ وہ گمراہی میں زور لگالیں اور یہ اسی طرح ہے جیسے آل عمران 178 میں فرمایا انما نملی لھم لیزدادوا اثما۔ پس یہ آیت معتزلہ کے خلاف قوی حجت ہے۔ دعائے موسیٰ d: رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰٓی اَمْوَالِھِمْ ( اے ہمارے پروردگار ان کے اموال کو مٹا دے) یعنی اموال کو ہلاک و تباہ کر دے اور اس کے آثار کو زائل کر دے۔ کیونکہ یہ تیری نعمتوں سے تیری معصیت پر معاونت حاصل کر رہے ہیں۔ الطمسؔ کا معنی مٹانا اور ہلاک کرنا ہے۔ ایک قول یہ ہے نمبر 1۔ ان کے دراہم و دنانیر پر نقش نگار تو وہی تھا مگر وہ پتھروں میں بدل گئے۔ نمبر 2۔ دوسراقول تمام اموال اسی طرح بن گئے۔ وَاشْدُدْ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ (اور ان کے قلوب کو سخت کردے) ان کے دلوں پر مہر لگا دے اور ان کو سخت کردے۔ فَلَایُؤْمِنُوْا (پس وہ ایمان نہ لائیں) یہ اشدد کا جواب ہے۔ اس صورت میں معنی یہ ہوگا وہ ایمان نہ لائیں گے حَتّٰی یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ (یہاں تک کہ دردناک عذاب کو نہ دیکھ لیں) یہاں تک کہ وہ دردناک عذاب کو دیکھ لیں گے اور یہ اسی طرح ہوا چناچہ فرعونی ڈوبنے تک ایمان نہیں لائے۔ اور ایسے وقت اگر وہ ایمان لاتے بھی تو قابل قبول نہ تھا کیونکہ یہ ایمان یاس تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کے متعلق یہ بددعا اس وقت فرمائی جب ان کے ایمان سے مایوس ہوگئے اور وحی سے ان کو معلوم ہوگیا کہ یہ ایمان نہ لائیں گے وحی سے علم کے بغیر تو ان کو یہ دعا کرنے کا حق نہیں کہ وہ ایمان نہ لائیں گے کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی طرف دعوت ایمان دیکر ہی تو مبعوث کیا گیا تھا۔ نکتہ : یہ آیت دلالت کر رہی ہے کہ کسی کیلئے کفر پر موت کی بددعا کفر نہیں ہے۔
Ayah 10:89

قَالَ قَدْ اُجِیْبَتْ دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِیْمَا وَ لَا تَتَّبِعٰٓنِّ سَبِیْلَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:89 in the Quran reader

(خدا نے) فرمایا کہ تمہاری دعا قبول کرلی گئی تو تم ثابت قدم رہنا اور بےعقلوں کے راستے نہ چلنا۔

89: قَالَ قَدْ اُجِیْبَتْ دَّعْوَتُکُمَا (اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم دونوں کی دعا قبول کرلی گئی) کہا گیا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) دعا فرما رہے تھے اور ہارون (علیہ السلام) آمین کہنے والے تھے۔ نکتہ : اس سے یہ ثابت ہوا کہ آمین دعا ہے پس اس کا مخفی کہنا اولیٰ ہے۔ مطلب آیت کا یہ ہے کہ تمہاری دعا مستجاب ہے۔ اور جو تم نے طلب کیا وہ ہو کر رہے گا۔ لیکن اس کا ایک وقت ہے۔ فَاسْتَقِیْمَا پس تم دونوں استقامت اختیار کرو) تم دونوں دعوت و تبلیغ کے فریضہ پر مستقیم رہو۔ وَلَاتَتَّبِعٰٓنِّ سَبِیْلَ الَّذِیْنَ لَایَعْلَمُوْنَ (تم دونوں بےعلموں کے راستہ پر مت چلو) جاہلوں کے راستہ کی اتباع نہ کرو جو قبولیت دعا کی سچائی اور حکمت امہال سے واقف نہیں ہیں۔ دعا اور قبولیت میں چالیس سال کا فاصلہ تھا۔ نحو و قراءت : لا تتبعان۔ نون کی تخفیف اور کسرہ کے ساتھ کیونکہ نون تثنیہ کے ساتھ مشابہت کی وجہ سے التقاء ساکنین ہوا۔ یہ شامی کا قول ہے۔ دیگر قراء نے ان کو غلطی پر قرار دیا کیونکہ نون خفیفہ کا سکون خود واجب ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ نہی نہیں بلکہ مضارع منفی ہے،۔ یا حال ہے اور تقدیر عبارت اس طرح ہے۔ فاستقیما غیر متبعین۔
Ayah 10:90

وَ جٰوَزْنَا بِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْبَحْرَ فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَ جُنُوْدُهٗ بَغْیًا وَّ عَدْوًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَدْرَكَهُ الْغَرَقُ١ۙ قَالَ اٰمَنْتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِیْۤ اٰمَنَتْ بِهٖ بَنُوْۤا اِسْرَآءِیْلَ وَ اَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 10:90 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار کردیا تو فرعون اور اس کے لشکر نے سرکشی اور تعدی سے ان کا تعاقب کیا۔ یہاں تک کہ جب اس کو غرق (کے عذاب) نے آپکڑا تو کہنے لگا میں ایمان لایا کہ جس (خدا) پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں فرمانبرداروں میں ہوں۔

بنی اسرائیل کی آزادی اور فرعون کا غرق : 90: وَجٰوَزْنَا بِبَنِیْ اِسْرَآئِ یْلَ الْبَحْرَ (ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر پار گزار دیا) نکتہ : یہ اہل سنت کی دلیل ہے کہ افعال کا خالق اللہ تعالیٰ ہے۔ فَاَ تْبَعَھُمْ فِرْعَوْنُ وَجُنُوْدُہُ (پس ان کا پیچھا فرعون اور اس کے لشکر نے کیا) پس ان کو جالیا۔ کہا جاتا ہے تبعتہ، حتی اتبعتہ۔ میں نے اس کا پیچھا کیا یہاں تک کہ میں اس کو جاملا۔ بَغْیًا (سرکشی کے طور پر) وَّعَدْوًا (دشمنی کے طور پر) ظلم کے طور پر نحو : یہ دونوں حال ہونے کی بناء پر منصوب ہیں۔ یا مفعول لہٗ ہیں۔ حَتّٰی اِذَآ اَدْرَکَہُ الْغَرَقُ (یہاں تک کہ جب وہ ڈوبنے لگا) اس پر وقف نہیں کیونکہ قَالَ اٰمَنْتُ ، اِذَا کا جواب ہے قَالَ اٰمَنْتُ اَنَّہٗ (اس نے کہا میں ایمان لایا تحقیق شان یہ ہے) ۔ یہ اذا کا جواب ہے۔ قراءت : حمزہ و علی نے اِنَّہٗپڑھا اور اس کو جملہ مستانفہ قرار دیا۔ اور اٰمَنْت کا بدل بنایا ہے۔ دوسرے قراء نے اَنَّہٗ پڑھا ہے۔ اور ایمان کے صلہ با ؔ کو حذف مانا ہے۔ لَآ اِلٰہَ اِلَّا الَّذِیْْ اٰمَنَتْ بِہٖ بَنُوْآ اِسْرَآئِیْلَ وَاَنَامِنَ الْمُسْلِمِیْنَ (اس کے سوا کوئی معبود نہیں مگر وہی کہ جس پر بنو اسرائیل ایمان لائے اور میں فرمانبرداروں میں سے ہوں) نکتہ : اس میں دلیل ہے کہ ایمان اور اسلام دونوں ایک چیز ہیں اسلئے کہ اس نے کہا امنت پھر کہا وانامن المسلمین۔ فرعون نے ایک معنی کو تین مرتبہ تین عبارتوں میں دھرایا۔ تاکہ قبولیت ہوجائے۔ پھر بھی قبولیت نہیں ہوئی کیونکہ اس کا وقت گزر چکا تھا۔ ورنہ حالت اختیاری میں تو ایک مرتبہ بھی کافی تھا۔
Ayah 10:91

آٰلْئٰنَ وَ قَدْ عَصَیْتَ قَبْلُ وَ كُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 10:91 in the Quran reader

(جواب ملا) کہ اب (ایمان لاتا ہے) حالانکہ تو پہلے نافرمانی کرتا رہا اور مفسد بنا رہا ؟

91: ٰٓ الْئٰنَ ( کیا اب) تو اضطرار کی گھڑی میں ایمان لاتا ہے۔ جبکہ تو غرق ہو رہا ہے۔ اور اپنے بچنے کی امیدٹوٹ چکی ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ جب پانی نے اس کو ڈبونے کی لگام چڑھائی تو یہ کہہ اٹھا۔ نحو : آٰ لْئٰنَ کا عامل اَتُؤْمِنُ محذوف ہے۔ وَقَدْ عَصَیْتَ قَبْلُ وَکُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ (حالانکہ تو نے اس سے قبل نافرمانی کی اور تو مفسدین میں سے تھا) ان گمراہوں میں سے تھا جو ایمان سے برگشتہ کرنے والے ہوتے ہیں۔ روایت میں ہے کہ جبرئیل (علیہ السلام) نے اس سے ایک استفتاء طلب کیا۔ ماقول الا میر فی عبدلرجل نشأ فی مالہ و نعمتہ فکفر نعمتہ وجحد حقہ وادعیالسیادۃ دونہ۔ امیر کیا کہتے ہیں ایسے غلام کے متعلق جو ایسے آدمی کا ہو جس کے مال و نعمت میں اس نے پرورش پائی ہو مگر وہ غلام اپنے آقا کی نعمتوں کی ناشکری کرے اور اس کے حقوق کا منکر ہوجائے اور خود آقا کی جگہ سرداری کا دعوے دار بن بیٹھے۔ پس اس نے اس سوال کا جواب یہ لکھا : یقول ابو العباس الولیدبن مصعب۔ جزاء العبد الخارج علی سیدہ، الکافر نعماءہ ان یغرق فی البحر۔ ابو العباس الولید بن مصعب کہتا ہے کہ ایسے غلام کی سزا کہ جو اپنے آقا کے خلاف خروج کرنے والا اور اسکی نعمتوں کی ناشکری کرنے والا ہو۔ اس کو سمندر میں ڈبو دیا جائے۔ چناچہ جب وہ ڈوبنے لگا تو جبرئیل (علیہ السلام) نے اسکی اپنی تحریر اس کے ہاتھ میں تھما دی اس نے پہچان لی۔
Ayah 10:92

فَالْیَوْمَ نُنَجِّیْكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوْنَ لِمَنْ خَلْفَكَ اٰیَةً١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ اٰیٰتِنَا لَغٰفِلُوْنَ۠ Open ayah 10:92 in the Quran reader

تو آج ہم تیرے بدن کو (دریا سے) نکال لیں گے تاکہ تو پچھلوں کیلئے عبرت ہو۔ اور بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے بیخبر ہیں۔

جیسی توبہ ایسی نجات : 92: فَالْیَوْمَ نُنَجِّیْکَ ( آج ہم تمہیں نجات دیتے ہیں) تمہیں اونچی زمین پر ڈالتے ہیں اس کو پانی نے اسطرح ساحل پر پھینکا جیسا کہ وہ بیل ہے۔ بِبَدَنِکَ (تمہارے بدن کو) یہ حال ہے تقدیر عبارت اس طرح ہوگی فی الحال التی لا روح فیک وانماانت بدن۔ ایسی حالت میں کہ تجھ میں روح نہ ہوگی۔ بیشک تو فقط ایک بدن ہوگا۔ یا نمبر 2۔ اپنے بدن کے ساتھ کامل درست ہوگا اس میں سے کچھ بھی کم نہ ہوگا۔ اور نہ متغیر ہوگا۔ نمبر 3۔ ننگا بلا لباس ایک بدن ہوگا۔ نمبر 4۔ اپنی درع سمیت ہوگا اسکی سونے کی بنی ہوئی ایک زرہ تھی۔ جس سے وہ پہچانا جاتا تھا۔ قراءت : ابوحنیفہ (رح) نے بِاَبْدَانِکَپڑھا ہے اور یہ اس طرح جیسا کہ عرب کہتے ہیں باجرامہ مطلب یہ ہوا اپنے تمام بدن کے ساتھ اس میں کسی جزو کی کمی نہ ہوگی۔ یا اپنی زر ہوں کے ساتھ کیونکہ وہ ان کے ذریعہ ظاہر ہونے والا تھا۔ لِتَکُوْنَ لِمَنْ خَلْفَکَ اٰیَۃً (تاکہ تو بعد والوں کیلئے ایک نشانی بن جائے) پیچھے آنے والے لوگوں کیلئے علامت ہو۔ منؔ سے مراد بنی اسرائیل تھے۔ ان کے دلوں میں یہ بات تھی کہ فرعون اس سے بڑھ کر حالت والا تھا کہ سمندر میں ڈوبے ایک قول یہ ہے کہ ان کو موسیٰ (علیہ السلام) نے اسکی ہلاکت کی اطلاع دی مگر انہوں نے تصدیق نہ کی اللہ تعالیٰ نے اس کا بدن ساحل پر ڈال دیا۔ جس کو انہوں نے آنکھوں سے دیکھ لیا۔ ایک قول یہ بھی ہے ممن خلفک سے مراد جو تیرے بعد اہل زمانہ ہونگے اور آیت کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کے سامنے اسکی غلامی ظاہر ہوجائے اور اس کا ناحق دعوٰی خدائی وہ محالات سے ہے۔ عظیم سلطنت کے باوجود نافرمانی کی وجہ سے اس کا انجام کیا ہوگا۔ اور اس کا دعوی ربوبیت ناممکنات میں سے ہے۔ اور اسکی اتنی بڑی سلطنت کے باوجود نافرمانی کی وجہ سے اس کا انجام وہ ہوا جو تم نے دیکھا پس اور کسی کے متعلق کیا خیال ہے ؟ وَاِنَّ کَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ اٰیٰتِنَا لَغٰفِلُوْنَ (بیشک بہت لوگ ہماری آیات سے البتہ غفلت برتنے والے ہیں)
Ayah 10:93

وَ لَقَدْ بَوَّاْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مُبَوَّاَ صِدْقٍ وَّ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْا حَتّٰى جَآءَهُمُ الْعِلْمُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 10:93 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کو رہنے کو عمدہ جگہ دی اور کھانے کو پاکیزہ چیزیں عطا کیں لیکن وہ باوجود علم حاصل ہونے کے اختلاف کرتے رہے۔ بیشک جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں تمہارا پروردگار قیامت کے دن ان میں ان باتوں کا فیصلہ کر دے گا۔

بنی اسرائیل کو عمدہ ٹھکانہ دیا : 93: وَلَقَدْ بَوَّاْنَا بَنِیْ اِسْرَآئِ یْلَ مُبَوَّاَ صِدْقٍ (تحقیق ہم نے بنی اسرائیل کو بہت اچھا ٹھکانہ دیا) عمدہ پسندیدہ رہنے کی جگہ اور وہ مصر اور شام تھی۔ وَّرَزَقْنٰھُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ فَمَا اخْتَلَفُوْا ( ہم نے ان کو پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا پس انہوں نے اختلاف نہ کیا) اپنے دین میں حَتّٰی جَآ ئَ ھُمُ الْعِلْمُ (یہاں تک کہ ان کے پاس علم آچکا) یعنی تورات اور انہوں نے اسکی تعبیر میں اختلاف کیا۔ جس طرح امت محمد ﷺ نے قرآن مجید کی آیات کی تعبیر میں اختلاف کیا۔ یا نمبر 2۔ مراد حضرت محمد ﷺ کے متعلق علم ہے اور اختلاف بنی اسرائیل حالانکہ وہ اہل کتاب تھے۔ آپ کی صفات میں اختلاف کیا کہ آیا آپ وہی نبی آخر الزمان ہیں یا نہیں ہیں۔ اس کے بعد کہ ان کے پاس علم آچکا کہ آپ وہی نبی آخر الزمان ہیں۔ اِنَّ رَبَّکَ یَقْضِیْ بَیْنَھُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فِیْمَا کَانُوْا فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ (بیشک آپ کا رب ان کے درمیان قیامت کے دن ان چیزوں میں فیصلہ کرے گا جسمیں وہ اختلاف کرتے تھے) اور سچے اور جھوٹے کو الگ کرے گا اور ہر ایک کو اس کا بدلہ دیگا۔
Ayah 10:94

فَاِنْ كُنْتَ فِیْ شَكٍّ مِّمَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ فَسْئَلِ الَّذِیْنَ یَقْرَءُوْنَ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ لَقَدْ جَآءَكَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَۙ Open ayah 10:94 in the Quran reader

اگر تم کو اس (کتاب کے) بارے میں جو ہم نے تم پر نازل کی ہے کچھ شک ہو تو جو لوگ تم سے پہلے کی (اتری ہوئی) کتابیں پڑھ تے ہیں ان سے پوچھ لو۔ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس حق آچکا ہے تو تم ہرگز شک کرنے والوں میں نہ ہونا۔

آیات میں شک کرنے والے : 94: فَاِنْ کُنْتَ فِیْ شَکٍّ مِِّمَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ فَسْئَلِ الَّذِیْنَ یَقْرَئُ وْنَ الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکَ ( اگر تمہیں شک ہے اس چیز میں جو ہم نے آپ کی طرف اتاری تو ان لوگوں سے پوچھ لو جو کتاب آپ سے پہلے پڑھتے ہیں) جب بنی اسرائیل کا پہلے تذکرہ ہوا۔ اور وہ کتاب کو پڑھنے والے تھے۔ بنی اسرائیل کے متعلق بتلایا کہ علم ان کے پاس آچکا کیونکہ رسول ﷺ کا معاملہ تورات و انجیل میں لکھا ہوا ہے اور وہ آپ کو اس طرح پہچانتے ہیں۔ جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔ تو ان کے علم کی تاکید صحت قرآن اور صحت نبوت ﷺ سے کردی اور اس میں مبالغہ کیا اور فرمایا اگر بالفرض والتقدیر آپ کو شک واقع ہو۔ اور جس کو کوئی شبہ گزرے تو اس کے حل کا طریق کار یہی ہے۔ کہ اس کے حل کی طرف جلدی کی جائے اور اصول دین کی طرف رجوع کیا جائے۔ اور اس کے دلائل سے راہنمائی لی جائے۔ یا علماء سے بات چیت کی جائے۔ پس آپ علماء اہل کتاب سے پوچھیں وہ قرآن مجید کی صحت کو پوری طرح جاننے والے ہیں۔ اس طور پر کہ اور تو اور رہے آپ جیسی شخصیت بھی ان کیطرف اس سلسلہ میں مراجعت کرسکتی ہے۔ پس اس سے مقصود قرآن مجید کی صحت کے متعلق احبار کے رسوخ علم کا بیان ہے۔ یہ مطلب نہیں کہ (نعوذ باللہ) رسول اللہ ﷺ کو قرآن مجید کے متعلق کوئی شک ہے۔ پھر فرمایا لَقَدْ جَآئَ کَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ (تحقیق تیرے پاس تیرے رب کی طرف سے حق آچکا) یعنی واضح آیات سے تیرے ہاں ثابت ہوچکا اور چمکدار براہین سے روشن ہوگیا۔ کہ آپ کو جو ملا ہے وہ برحق ہے جس میں شک کی کوئی مجال نہیں۔ فَلاَ تَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ (پس تم ہرگز نہ بنو شک کرنے والوں میں سے) ممترین کا معنی شک کرنے والے۔ اور اسپر وقف نہیں کیونکہ ولاتکونن کا اسپر عطف ہے۔
Ayah 10:95

وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَتَكُوْنَ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 10:95 in the Quran reader

اور نہ ان لوگوں میں ہونا جو خدا کی آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں نہیں تو نقصان اٹھاؤ گے۔

آیات کی تکذیب مت کرو : 95: وَلَا تَکُوْنَنَّ مِنَ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ فَتَکُوْنَ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ ( اور ہرگز نہ ہو ان لوگوں میں سے جنہوں نے آیات اللہ کو جھٹلایا پس ہوجائو گے نقصان کرنے والوں میں سے) پس ثابت قدم رہ اور اپنے سے شک کی نفی میں مداوت مت کرو اور اسی طرح اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کی نفی میں ہمیشگی اختیار کرو۔ یا نمبر 2۔ اس انداز سے آپ کو جوش دلانا اور بھڑکا نا مقصود ہو جیسا کہ سورة القصص کی آیت 86 فلا تکونن ظہیرًا للکافرین اور القصص آیت 87 ولا یصدنک عن آیات اللہ بعداذانزلت الیک۔ اور ثابت قدمی اور عصمت میں اضافہ کیلئے فرمایا گیا اسی لئے آپ (علیہ السلام) نے اس آیت کے نزول کے وقت فرمایا۔ لا اشک ولا اسأل، بل اشھد انہ الحق۔ (ابن جریر فی تفسیرہ) میں نہ شک کرتا ہوں اور نہ ہی کسی سے پوچھتا ہوں۔ بلکہ میں گواہی دیتا ہوں کہ برحق ہے۔ یا نمبر 3۔ خطاب آنحضرت ﷺ کو فرمایا مگر مراد آپ کی امت ہے تقدیر اس طرح ہوگی ان کنتم فی شک مما انزلنا الیکم (اگر تمہیں شک ہے اس میں جو ہم نے تمہاری طرف اتارا ہے) یہ سورت النساء 174 کی طرح ہے وانزلنا الیکم نورًا مبینًا نمبر 4۔ خطاب ہر سامع کو ہے اور اس کے متعلق شک جائز و درست ہے جیسے عرب کہتے ہیں۔ اذا اخوک فھن۔ نمبر 5۔ ان نافیہ ہے یعنی آپ شک میں نہیں کہ سوال کریں۔ مطلب یہ ہے کہ ہم آپ کو سوال کا اسلئے حکم نہیں دے رہے کہ آپ شک کرنے والے ہیں۔ لیکن سوال کا حکم اسلئے ہے تاکہ آپ کے یقین میں اضافہ ہو جیسا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو احیاء موتی کا معائنہ کر کے اطمینان ہوا۔ سوال۔ اننافیہ تو اس مقام پر آتا ہے جہاں اس کے بعد اِلَّا ہو جیسا کہ سورت الملک آیت 20 میں ان الکافرون الافی غرور جواب : یہ لازم نہیں قرآن مجید سورة فاطر آیت 41 میں ہے ان امسکھما من احد من بعدہٖ یہاں ان نافیہ ہے اور اس کے بعد اِلَّا نہیں ہے۔
Ayah 10:96

اِنَّ الَّذِیْنَ حَقَّتْ عَلَیْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 10:96 in the Quran reader

جن لوگوں کے بارے میں خدا کا حکم (عذاب) قرار پا چکا ہے وہ ایمان نہیں لانے کے۔

96: اِنَّ الَّذِیْنَ حَقَّتْ عَلَیْھِمْ کَلِمَتُ رَبِّکَ (بیشک وہ لوگ جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہوچکی) ان پر وہ بات ثابت ہوچکی جو لوح محفوظ میں ہے اور اسکی خبر ملائکہ کو دے دی گئی کہ ان کی موت کفر پر ہوگی یا نمبر 2۔ کلمۃ ربک سے سورة اعراف 18 لاملئنّ جہنّممراد ہے۔ لَایُؤْمِنُوْنَ ۔ (وہ ایمان نہیں لانے کے) اس پر وقف نہیں ہے کیونکہ ان کا ماقبل سے تعلق ہے۔
Ayah 10:97

وَ لَوْ جَآءَتْهُمْ كُلُّ اٰیَةٍ حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ Open ayah 10:97 in the Quran reader

جب تک عذاب الیم نہ دیکھ لیں خواہ ان کے پاس ہر (طرح کی) نشانی آجائے۔

97: وَلَوْجَآئَ تْھُمْ کُلُّ اٰیَۃٍ حَتّٰی یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ (اور اگر ہر نشانی ان کے پاس آجائے یہاں تک کہ عذاب درد ناک کو نہ دیکھ لیں) یعنی ناامیدی کے وقت پس وہ ایمان لائیں اور ان کو وہ ایمان نفع نہ دے گا۔ نمبر 2۔ قیامت میں اس وقت کسی کا ایمان قابل قبول نہ ہوگا۔
Ayah 10:98

فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَ١ؕ لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 10:98 in the Quran reader

تو کوئی بستی ایسی نہ ہوئی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان اسے نفع دیتا۔ ہاں یونس کی قوم ' کہ جب ایمان لائی تو ہم نے دنیا کی زندگی میں ان سے ذلت کا عذاب دور کردیا اور ایک مدت تک (فوائد دنیاوی سے) ان کو بہرہ مند رکھا۔

قوم یونس ( علیہ السلام) کا واقعہ اور ان کی قابل رشک حالت : 98: فَلَوْلَاکَانَتْ قَرْیَۃٌ اٰمَنَتْ (کیوں نہ کوئی ایسی بستی ہوئی جو ایمان لاتی) کیونکر ان بستیوں میں سے جو کفر پر قائم رہیں اور ہم نے ان کو ہلاک کردیا۔ کوئی بستی ایسی نہ ہوئی جو معاینہ سے قبل مخلصانہ ایمان لاتی اور اس کو اس طرح مؤخر نہ کیا جاتا جیسا کہ فرعون کو گلا گھونٹنے تک مؤخر کیا گیا۔ فَنَفَعَھَآ اِیْمَانُھَآ (پس ان کو ان کا ایمان فائدہ دیتا) اس طرح کہ وقت اختیار میں ایمان لانے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کو قبول کرلیا۔ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَ (مگر قوم یونس علیہ السلام) نمبر 1۔ یہ مستثنیٰ منقطع ہے۔ یعنی لیکن قوم یونس (ایمان لائی اور اس کو اس کے ایمان نے فائدہ دیا) یا نمبر 2۔ مستثنیٰ متصل ہے۔ اور جملہ نفی کے معنی میں ہے گویا کلام اس طرح تھا۔ مااٰمنت قریۃ من القری الھالکۃ الاقوم یونس۔ ہلاک شدہ بستیوں میں سے کسی بستی والوں سے سوائے قوم یونس (علیہ السلام) کے ایمان کو قبول نہیں کیا۔ یہ مستثنیٰ ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ لَمَّآ اٰمَنُوْا کَشَفْنَا عَنْھُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَمَتَّعْنٰھُمْ اِلٰی حِیْنٍ (جب وہ ایمان لائے تو ہم نے ان سے دنیا کی زندگی میں رسوائی کا عذاب کھول دیا اور ان کو ایک وقت تک فائدہ دیا) ان کی مقررہ مدت تک۔ روایت میں ہے کہ یونس (علیہ السلام) کو نینوٰی کی طرف مبعوث فرمایا گیا جو سرزمین موصل میں واقع ہے انہوں نے جھٹلا دیا پس ناراض ہو کر آپ ان کے ہاں سے چل دیے۔ جب آپ کو نہ پایا تو انہیں عذاب کے اترنے کا خطرہ ہوا۔ ان تمام نے ٹاٹ کا لباس پہنا اور چالیس راتیں اپنی آوازوں کو بلند کیا تمام ایک میدان میں جمع ہوئے بچے، عورتیں جانور بھی ساتھ تھے۔ اور مائوں نے اپنے بچوں کو اپنے سے الگ کردیا اور چوپایوں کی اولاد کو ان سے جدا کردیا۔ وہ ایک دوسرے کی طرف شوق مند ہوئے اور مخلصانہ ایمان اور توبہ کا اظہار کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم کیا اور ان سے عذاب کو دور کردیا۔ یہ جمعہ اور دس محرم کا دن تھا۔ انہوں نے ایک دوسرے کے حقوق تک لوٹا دیے یہاں تک کہ اگر کسی کی ایک اینٹ اپنی بنیاد میں لگائی تھی تو وہ بھی اکھاڑ کر واپس کردی۔ یہ کہا گیا کہ جب ان پر عذاب اترنے لگا تو وہ اپنے علماء میں ایک شیخ کے پاس گئے جو زندہ تھے۔ شیخ نے فرمایا تم اس طرح کہو : یا حی حین لا حی و یاحی محیی الموتی ویاحی لا الہ الا انت۔ جب انہوں نے کہا تو اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب کو کھول دیا۔ حضرت فضیل (رح) نے فرمایا انہوں نے اسطرح کہا اللّٰہم ان ذنوبنا قد عظمت و جلّت، وانت اعظم منھا واجلّ ، افعل بنا ماانت اہلہ ولا تفعل بنا مانحن اہلہ۔
Ayah 10:99

وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِی الْاَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِیْعًا١ؕ اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:99 in the Quran reader

اور اگر تمہارا پروردگار چاہتا تو جتنے لوگ زمین پر ہیں سب کے سب ایمان لے آتے۔ تو کیا تم لوگوں پر زبردستی کرنا چاہتے ہو کہ وہ مومن ہوجائیں ؟

کمال قدرت و نفوذ مشیئت : 99: وَلَوْ شَآ ئَ رَبُّکَ لَاٰ مَنَ مَنْ فِی الْاَرْضِ کُلُّھُمْ (اور اگر آپ کا رب چاہتا تو ضرور ایمان لے آتے اہل زمین) جس میں سے کوئی شخص و فرد باہرنہ رہتا۔ جَمِیْعًا (تمام) یہ حال ہے اس حال میں کہ وہ اجتماع کرنے والے ہوتے ایمان پر اور اس پر اکٹھے ہوتے اختلاف نہ کرتے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی کمال قدرت اور نفوذ مشیّت کی خبر دی۔ کہ اگر وہ چاہتا تو تمام اہل زمین ایمان لاتے۔ مگر اس نے چاہا کہ لوگ اختیاری ایمان لائیں اور اس کیلئے کفر کو چاہا جس کے متعلق اپنے علم سے جانا کہ وہ ایمان نہ لائیں گے بلکہ کفر کا چنائو کریں گے۔ معتزلہ کہتے ہیں کہ مشیّت سے مراد قر والجائ کی مشیت ہے یعنی اگر ان میں جبراً ایمان پیدا کرتا تو وہ ایمان لاتے۔ لیکن اسنے چاہا کہ وہ اختیاری ایمان لائیں۔ مگر وہ ایمان نہ لائے اسکی دلیل میں یہ آیت پیش کی افانت تکرہ الناس حتّٰی یکونوا مؤمنین۔ یعنی آپ کو ایمان میں جبر واکراہ کی مشیّت حاصل نہیں یہ میرے پاس ہے۔ جواب : یہ خیال فاسد ہے کیونکہ ایمان بندے کا فعل ہے اور بندے کا فعل وہی ہوسکتا ہے جو اسکی اپنی قدرت و طاقت سے حاصل ہو۔ اور یہ بلا اختیار ثابت ہی نہیں ہوسکتا۔ باقی آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مہربانیاں ہیں۔ اگر اپنی مہربانی ان کو دے دیتا تو وہ اپنے اختیار سے ایمان لے آتے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے جانا کہ وہ ایمان نہ لائیں گے تو ان کو توفیق نہ دی۔ اَفَاَنْتَمیں استفہام نفی کے معنی میں ہے مطلب اس طرح ہے کہ اے محمد ﷺ آپ مالک نہیں کہ ان کو ایمان پر مجبور کریں کیونکہ ایمان تصدیق وا قرار سے ہوتا ہے اور تصدیق پر اکراہ ممکن نہیں۔ اََفَاَنْتَ تُکْرِہُ النَّاسَ حَتّٰی یَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ (سو کیا آپ لوگوں پر زبردستی کرسکتے ہیں جس میں وہ ایمان ہی لے آویں)
Ayah 10:100

وَ مَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تُؤْمِنَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ یَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:100 in the Quran reader

حالانکہ کسی شخص کو قدرت نہیں کہ خدا کے حکم بغیر ایمان لائے۔ اور جو لوگ بےعقل ہیں ان پر وہ (کفر وذلت کی) نجاست ڈالتا ہے۔

100: وَمَاکَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تُؤْمِنَ اِلَّا بِاِذْنَ اللّٰہِ ( کسی نفس کیلئے مناسب نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر وہ ایمان لائے) اذن سے یہاں۔ نمبر 1۔ مشیّت مراد ہے یا نمبر 2۔ قضاء و قدر مراد ہے۔ یا نمبر 3 توفیق و تسہیل مراد ہے۔ یا نمبر 4۔ علم مراد ہے۔ وَیَجْعَلُ الرِّجْسَ ( اور عذاب کو مقرر کرے) یعنی عذاب یا ناراضی یا شیطان یعنی شیطان کو مسلط کر دے۔ عَلَی الَّذِیْنَ لَایَعْقِلُوْنَ (ان لوگوں پر جو بےعقل ہیں) اپنی عقلوں سے فائدہ حاصل نہیں کرتے۔
Ayah 10:101

قُلِ انْظُرُوْا مَا ذَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا تُغْنِی الْاٰیٰتُ وَ النُّذُرُ عَنْ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 10:101 in the Quran reader

(ان کفار سے) کہو کہ دیکھو تو آسمانوں اور زمین میں کیا کیا کچھ ہے۔ مگر جو لوگ ایمان نہیں رکھتے ان کے نشانیاں اور ڈراوے کچھ کام نہیں آتے۔

قراءت : حماد و یحییٰ نے نَجْعَلُ پڑھا ہے۔ 101: قُلِ انْظُرُوْا (کہہ دیں تم دیکھو) استدلالی نگاہ سے اور عبرت کی نظر سے مَاذَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (کہ آسمان و زمین میں کیا ہے) آیات اور عبر جو دن رات کے اختلاف سے ظاہر ہوتی ہیں اور کھیتوں اور پھلوں کے ظہور سے سامنے آتی ہیں۔ وَمَا تُغْنِی الْاٰیٰتُ (اور آیات فائدہ نہیں دیتیں) ما ؔ نافیہ ہے۔ وَالنُّذُرُ ( اور ڈرانے والے) انبیاء جو ڈراتے رہے۔ یا ڈرا وے عَنْ قَوْمٍ لَّایُؤْمِنُوْنَ (ایمان نہ لانے والی قوم کو) جنکے ایمان کی توقع نہیں۔ وہی تو بےعقل ہیں۔
Ayah 10:102

فَهَلْ یَنْتَظِرُوْنَ اِلَّا مِثْلَ اَیَّامِ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ قُلْ فَانْتَظِرُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ Open ayah 10:102 in the Quran reader

سو جیسے (برے) دن ان سے پہلے لوگوں پر گزر چکے ہیں۔ اسی طرح کے (دنوں کے) یہ منتظر ہیں۔ کہہ دو کہ تم بھی انتظار کرو۔ میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔

102: فَھَلْ یَنْتَظِرُوْنَ اِلَّا مِثْلَ اَیَّامِ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِھِمْ (پس وہ انتظار نہیں کر رہے مگر ان لوگوں کے دنوں جیسے جو ان سے پہلے ہوئے) یعنی جن میں بڑے بڑے واقعات پیش آئے جیسا کہا جاتا ہے۔ ایام العرب لوقائعھا۔ قُلْ فَانْتَظِرُوْا اِنِّیْ مَعَکُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ (کہہ دو پس تم انتظار کرو بیشک میں تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں)
Ayah 10:103

ثُمَّ نُنَجِّیْ رُسُلَنَا وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كَذٰلِكَ١ۚ حَقًّا عَلَیْنَا نُنْجِ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 10:103 in the Quran reader

اور ہم اپنے پیغمبروں کو اور مومنوں کو نجات دیتے رہے ہیں۔ اسی طرح ہمارا ذمہ ہے کہ مسلمانوں کو نجات دیں۔

آخر میں نجات ایمان والوں کی : 103: ثُمَّ نُنَجِّیْ رُسُلَنَا (پھر ہم نجات دیتے ہیں اپنے رسولوں کو) اسکا عطف کلام محذوف پر ہے۔ جس پر الامثل ایام الذین خلوا من قبلہمدلالت کررہا ہے۔ گویا اس طرح کہا گیا نہلک الامم، ثم ننجی رسلنا ہم امتوں کو ہلاک کردیتے ہیں۔ پھر اپنے رسولوں کو نجات دیتے ہیں۔ احوال ماضیہ کی حکایت کے طور پر یہ فرمایا وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا (ان لوگوں کو جو ایمان لائے) اور جو ان انبیاء (علیہم السلام) پر ایمان لائے۔ کَذٰلِکَ حَقًّا عَلَیْنَا نُنْجِ الْمُؤْمِنِیْنَ (اسی طرح ہم پر ایمان والوں کی نجات لازم ہے) یعنی اس نجات دینے کی طرح ہم تم میں سے جو ایمان والے ہیں ان کو نجات دیں گے اور مشرکین کو ہلاک کریں گے۔ اور حقا علینا ؔ یہ جملہ معترضہ ہے یہ لازم ہے ہم پر لازم ہونا۔ قراءت : علی وحفص نے نُنْجِیْ تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔
Ayah 10:104

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْ دِیْنِیْ فَلَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ اَعْبُدُ اللّٰهَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰىكُمْ١ۖۚ وَ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 10:104 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ کہہ دو کہ لوگو ! اگر تم کو میرے دین میں کسی طرح کا شک ہو تو (سن رکھو کہ) جن لوگوں کی تم خدا کے سوا عبادت کرتے ہو میں ان کی عبادت نہیں کرتا۔ بلکہ میں خدا کی عبادت کرتا ہوں۔ جو تمہاری روحیں قبض کرلیتا ہے اور مجھ کو یہی حکم ہوا ہے کہ ایمان لانے والوں میں ہوں ؟

دین کی تعریف بزبان رسول : 104: قُلْ یٰٰٓاَیُّھَا النَّاسُ (کہہ دو اے لوگو) یعنی اے اہل مکہ اِنْ کُنْتُمْ فِیْ شَکٍّ مِّنْ دِیْنِیْ (اگر تمہیں میرے دین میں شک ہے) میرے دین کے صحیح اور درست ہونے کے متعلق۔ پس یہ میرا دین ہے جس کی تعریف تم سن لو۔ اب آگے دین کی تعریف بیان فرمائی۔ فَلَآ اَعْبُدُ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ (میں ان کی عبادت نہیں کرتا جنکی تم اللہ تعالیٰ کے سواء عبادت کرتے ہو) یعنی اصنام وَلٰکِنْ اَعْبُدُ اللّٰہَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰکُمْ (اور لیکن میں تو اس اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہوں جس کے قبضہ میں تمہاری موت ہے) وہ تمہیں موت دے گا۔ موت کو توفی سے تعبیر کیا تاکہ ان کو بتلادیا جائے کہ اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ڈرنے اور تقوٰی کے لائق ہے۔ اور عبادت کی حقدار ہے نہ وہ جو کہ کسی چیز کی قدرت نہیں رکھتے۔ وَاُمِرْتُ اَنْ اَکُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ (اور مجھے حکم ملا ہے کہ میں مومنین میں سے ہوجائوں) ان اکون سے پہلے با ؔ محذوف ہے مطلب اس طرح ہے۔ بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے اس بات کا حکم دیا بسبب اس کے کہ اس نے مجھ میں عقل رکھ دی اور اس سبب سے کہ اس نے اپنی کتاب میں میری طرف وحی فرمائی۔
Ayah 10:105

وَ اَنْ اَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا١ۚ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 10:105 in the Quran reader

اور یہ کہ (اے محمد ﷺ سب سے) یکسو ہو کر دین (اسلام) کی پیروی کئے جاؤ۔ اور مشرکوں میں ہرگز نہ ہونا۔

105: وَاَنْ اَقِمْ وَجْھَکَ لِلدِّیْنِ (اور یہ کہ تو سیدھا کر اپنا چہرہ دین کیلئے) یعنی مجھے یہ بھی وحی کی کہ تو سیدھا کر اپنا چہرہ (الایۃ) امرت کے ہم شکل کرنے کیلئے ان اقم فرمایا نمبر 1۔ مطلب یہ ہے تو پورے طور پر اس پر متوجہ ہو کر جو اللہ تعالیٰ نے تجھے حکم دیا تو استقامت اختیار کر۔ نمبر 2۔ اسکی طرف سیدھا رخ کر دائیں بائیں مت رخ پھیر۔ حَنِیْفًا (یکسو ہو کر) ۔ یہ للدینؔ سے حال ہے یا الوجہ سے حال ہے۔ وَلَاتَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ (اور ہرگز تم مشرکین میں سے مت بنو)
Ayah 10:106

وَ لَا تَدْعُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُكَ وَ لَا یَضُرُّكَ١ۚ فَاِنْ فَعَلْتَ فَاِنَّكَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 10:106 in the Quran reader

اور خدا کو چھوڑ کر ایسی چیز کو نہ پکارنا جو نہ تمہارا کچھ بھلا کرسکے اور نہ کچھ بگاڑ سکے۔ اگر ایسا کرو گے تو ظالموں میں ہوجاؤ گے۔

106: وَلَا تَدْعُ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَالَا یَنْفَعُکَ (اور نہ تم پکار واللہ تعالیٰ کے سواء ان کو جو تمہیں نفع نہیں پہنچا سکتے) اگر تم ان کو پکارو۔ وَلَایَضُرُّکَ (اور نہ نقصان دے سکتے ہیں) اگر تم ان کو چھوڑو۔ فَاِنْ فعَلْتَ (اگر تم نے ایسا کیا) یعنی اگر تم نے ان کو اللہ تعالیٰ کے سواء پکارا جو تمہیں نہ نفع دے سکتے اور نہ نقصان دے سکتے ہیں۔ پکارنے کو بطور اختصار فعل سے تعبیر کیا۔ فَاِنَّکَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِیْنَ (پس بیشک اس وقت ہوجائو گے ظالموں میں سے) اذا یہ جزاء ہے شرط اسکی محذوف ہے۔ یہ سوال مقدر کا جواب ہے۔ گویا کہ سائل کہہ رہا ہے کہ بتوں کی عبادت کا انجام کیا ہے اور اس کو ظالمین میں سے قرار دیا کیونکہ شرک سے بڑا کوئی ظلم نہیں۔
Ayah 10:107

وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ١ۚ وَ اِنْ یُّرِدْكَ بِخَیْرٍ فَلَا رَآدَّ لِفَضْلِهٖ١ؕ یُصِیْبُ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 10:107 in the Quran reader

اور اگر خدا تم کو کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا اس کا کوئی دور کرنے والا نہیں۔ اور اگر تم سے بھلائی کرنی چاہے تو اس کے فضل کو کوئی روکنے والا نہیں۔ اور اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے فائدہ پہنچاتا ہے اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔

107: وَاِنْ یَّمْسَسْکَ اللّٰہُ بِضُرٍّ ( اگر اللہ تعالیٰ تمہیں کوئی تکلیف پہنچائے) پہنچائیں مرض وغیرہ۔ فَلَا کَاشِفَ لَہٗ (اس کا کوئی دور کرنے والا نہیں) یعنی اس تکلیف کا اِلَّا ھُوَ (مگر وہی) یعنی اللہ تعالیٰ وَاِنْ یُّرِدْکَ بِخَیْرٍ (اور اگر وہ تم کو کوئی راحت پہنچانا چاہے) خیر سے عافیت مراد ہے فَلَا رَآدَّلِفَضْلِہٖ (اس کے فضل کو کوئی رد کرنے والا نہیں) اسکی مراد کو کوئی رد نہیں کرسکتا یُصِیْبُ بِہٖ (وہ پہنچاتا ہے اس کو) یعنی خیر کو مَنْ یَّشَآ ئُ مِنْ عِبَادِہٖ (جن کو وہ چاہے گا اپنے بندوں میں سے) اس آیت سے قطعی طور پر ثابت ہوا کہ طریق رغبت و رھبت اسی ہی کی طرف ہے اور اعتماد بھی اسی ہی پر ہے۔ وَھُوَالغَفُوْرُ الرَّحِیْمٌ ( وہ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے) مصیبت سے گناہ مٹانے والا اور عطاء سے معافی دینے والا۔ نکتہ : عبادت اوثان کا ذکر کرنے کے بعد نہی لائے اور ان بتوں کے متعلق ذکر کیا کہ وہ نہ نقصان دے سکتے ہیں اور نہ نفع اور اللہ تعالیٰ ہی نافع وضار ہیں۔ وہ ایسی ذات ہے کہ اگر وہ تمہیں تکلیف دے تو اس کے ازالہ پر سوائے اس کے کسی کو قدرت نہیں ہے۔ تو سوچو ! بےشعور، جماد کو کیونکر قدرت ہوسکتی ہے۔ اور اسی طرح اگر وہ خیر کا ارادہ فرمائیں۔ خواہ ساری کائنات نہ چاہتی ہو وہ ضرور فضل و احسان پہنچا کر رہتے ہیں۔ جب دوسرے سارے انسان اس خیر کو روک نہیں سکتے تو بت کیا روکیں گے۔ پس وہی اس بات کے لائق ہے کہ عبادت میں اس کو کعبہ توجہ بنایا جائے۔ یہ طرز اس آیت سے زیادہ بلیغ ہے جو سورة الزمر 38 میں ہے اِنْ اَرَادَنِیَ اللّٰہُ بِضُرٍّہَلْ ہُنَّ کٰشِفٰتُ ضُرِّہٖٓ اَوْ اَرَادَنِیْ بِرَحْمَۃٍ ہَلْ ھُنَّ مُمْسِکَاتُ رَحْمَتِہٖ اس آیت میں ارادہ کا ذکر ایک میں اور مس کا دوسرے میں گویا یوں معلوم ہوتا ہے کہ دو امور کے ذکر کرنے کا ارادہ ہے۔ نمبر 1۔ ارادہ نمبر 2۔ خیر و شر میں سے ہر ایک میں پہنچنا اور یہ کہ ان میں سے جس کا وہ ارادہ کرے اسکو کوئی واپس نہیں کرسکتا۔ اور جو وہ پہنچائے اس کو زائل کرنے کی کسی میں طاقت نہیں پس مختصر کرتے ہوئے مس کا ذکر کیا اور دونوں میں سے کسی ایک کے پہنچنے کو کہتے ہیں۔ اور دوسرے میں ارادہ کا ذکر کیا تاکہ مذکور سے محذوف پر دلالت ہوسکے۔ اس کے باوجود کہ اصابہ کو خیر سے موصوف کر کے یصیب بہ من یشاء من عبادہٖٖ میں ذکر فرمایا گیا ہے۔
Ayah 10:108

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ١ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا١ۚ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِوَكِیْلٍؕ Open ayah 10:108 in the Quran reader

کہہ دو کہ لوگو ! تمہارے پروردگار کے ہاں سے تمہارے پاس حق آچکا ہے۔ تو جو کوئی ہدایت حاصل کرتا ہے تو ہدایت سے اپنے ہی حق میں بھلا کرتا ہے اور جو گمراہی اختیار کرتا ہے تو گمراہی سے اپنا ہی نقصان کرتا ہے اور میں تمہارا وکیل نہیں ہوں۔

تم مانو نہ مانو میں نے تو وحی کی اتباع کردی : 108: قُلْ یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ (کہہ دیں اے لوگو) اے اہل مکہ قَدْجَآ ئَ کُمُ الْحَقُّ (تحقیق تمہارے پاس حق آچکا) یعنی قرآن یارسول مِنْ رَّبِّکُمْ فَمَنِ اھْتَدٰی (تمہارے رب کی طرف سے پس جس نے ہدایت کو اختیار کیا) ہدایت کو چنا اور حق کی اتباع کی فَاِنَّمَا یَھْتَدِیْ لِنَفْسِہٖ (بیشک اس نے ہدایت کو اپنے فائدے کیلئے اختیار کیا) اس چنائو سے اس نے اپنے نفس کو فائدہ پہنچایا۔ وَمَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْھَا (اور جو شخص گمراہ ہوا پس اسکی گمراہی کا وبال اس پر ہے) گمراہی کے آثار سے نقصان اسی کی ذات کو ہوگا اس میں علیٰ ، ضرر اور لام انتفاع کا معنی دے رہے ہیں۔ وَمَآ اَنَا عَلَیْکُمْ بِوَکِیْلٍ (اور میں تم پر کوئی داروغہ نہیں ہوں) حفاظتی کہ جس کے سپرد تمہارا معاملہ ہو بلکہ میں فقط بشیر و نذیر ہوں۔
Ayah 10:109

وَ اتَّبِعْ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ وَ اصْبِرْ حَتّٰى یَحْكُمَ اللّٰهُ١ۖۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ۠ Open ayah 10:109 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر ﷺ تم کو جو حکم بھیجا جاتا ہے اس کی پیروی کئے جاؤ اور (تکلیفوں پر) صبر کرو۔ یہاں تک کہ خدا فیصلہ کردے۔ اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔

109: وَاتَّبِعْ مَایُوْحٰٓی اِلَیْکَ وَاصْبِرْ (تم اتباع کرو اسکی جو تمہاری طرف وحی کی جاتی ہے اور صبر کرو) ان کی تکذیب اور ایذاء پر حَتّٰی یَحْکُمَ اللّٰہُ (یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ فیصلہ کر دے) تمہارے حق میں ان کے خلاف مدد و غلبہ کا وَھُوَ خَیْرُ الْحٰکِمِیْنَ (اور وہ سب سے بہتر حاکم ہے) کیونکہ وہ سرائر سے بھی خبردار ہے۔ اس کو کسی دلیل و گواہ کی حاجت نہیں۔ بحمداللّٰہ تمت ترجمۃ سورة یونس لیلۃ الجمعۃ 15 رجب، 1423؁ ھ