Ayah 9:1سورت کے نام :
اس سورت کے کئی نام ہیں۔ نمبر 1۔ البراء ۃ۔ نمبر 2۔ التوبہ نمبر 3۔ المشقشقۃ۔ نمبر 4۔ المبعثرۃ۔ نمبر 5۔ المشردۃ۔ نمبر 6۔ المخزیۃ۔ نمبر 7۔ الفاضحۃ۔ 8۔ المثیرۃ۔ نمبر 9۔ الحافرہ۔ نمبر 10۔ المنکلۃ ‘ نمبر 11۔ المدمدمۃ۔
وجہ تسمیہ : البراءۃ کہنے کی وجہ اس میں کفار سے بیزاری اور دست برداری کا اعلان ہے۔
نمبر 2۔ التوبہ اسلئے کہتے ہیں اس میں مسلمانوں کی توبہ کا تذکرہ ہے۔
نمبر 3۔ المشقشقۃ اس لئے کہتے ہیں کہ نفاق سے بیزاری کا اظہار کرتی ہے۔ (عبداللہ بن عمر )
نمبر 4۔ المبعثرۃ منافقین کے اندرونی رازوں سے پردہ اٹھاتی ہے۔ (ابن منذر)
نمبر 5۔ المشردۃ : منافقین کو منتشر کرنے والی
نمبر 6۔ المخزیۃ : منافقین کو رسوائی میں مبتلاء کرنے والی۔
نمبر 7۔ الفاضحۃ۔ منافقین کو رسوا کرنے والی۔ (ابن عباس )
نمبر 8۔ المثیرۃ۔ نفاق کی حالت کو اکھاڑ کر سامنے لانے والی۔
نمبر 9۔ الحافرۃ۔ منافقین کو کرید کر ظاہر کرنے والی۔
نمبر 10۔ المنکّلۃ۔ منافقین پر عذاب لانے والی۔
نمبر 11۔ المدمدمۃ۔ منافقین پر تباہی لانے والی عذاب اتارنے والی (حذیفہ )
ابتداء میں ترک ِتسمیہ کی وجہ :
نمبر 1۔ حضرت علی اور ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ بسم اللہ امان ہے اور براءت تو امان کو اٹھانے اور ختم کرنے کیلئے اتری۔ نمبر 2۔ حضرت عثمان ؓ کا قول ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر جب کوئی سورت یا آیت اترتی۔ تو ارشاد فرماتے اس کو فلاں مقام پر رکھ دو ۔ رسول اللہ ﷺ نے وفات پائی اس کے بارے میں نہیں بتلایا کہ کہاں رکھیں۔ اس کا واقعہ سورة انفال کے مشابہ تھا۔ کیونکہ اس میں وعدوں کا تذکرہ ہے اور اسمیں معاہدوں سے بیزاری کا اعلان ہے۔ اسی لئے دونوں کو ملا دیا گیا ان دونوں سورتوں کو صحابہ کرام ؓ القرنتین کہتے ہیں اور سبع طوال میں سے ساتویں سورت شمار کرتے ہیں۔ نمبر 3۔ کہا جاتا ہے کہ اصحاب رسول اللہ ﷺ نے اس میں اختلاف کیا۔
بعض نے کہا انفال و براءت ایک سورت ہے اور قتال کے متعلق نازل ہوئیں۔ بعض نے کہا یہ دو سورتیں ہیں۔ دونوں کے درمیان فاصلہ ان کے قول کے پیش نظر چھوڑ دیا گیا۔ جو ان کو دوسورتیں کہتے تھے۔ اور جو ایک سورت کہتے تھے۔ ان کے قول کے پیش نظر بسم اللہ چھوڑ دی گئی۔
مشرکین سے اعلان بیزاری :
آیت 1: بَرَآئَ ۃٌ(دست برداری) نحو : یہ مبتداء محذوف ہذِہٖ کی خبر ہے۔ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖٓ اِلَی الَّذِیْنَ عَاھَدْ تُّمْ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ (اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور اس کے رسول کی طرف سے ان مشرکین سے جن سے تم نے عہد کر رکھا ہے) نحو : نمبر 1۔ من یہ ابتدائے غایت کیلئے ہے اور محذوف سے متعلق ہے۔ یہ صفت نہیں جیسا کہ اس قول میں برئت من الدین۔ اب تقدیر عبارت اس طرح ہے۔ ھذہٖ براءۃ و اصلۃ من اللّٰہ و رسولہ الی الذین عاھدتم۔ یہ براءت ملنے والی ہے۔ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ان لوگوں کو جن سے تم نے معاہدہ کیا۔ یہ اس طرح ہے جیسا تم کہو۔ کتاب من فلان الی فلان۔
نمبر 2۔ براء ۃٌ مبتداء ہے کیونکہ صفت سے اس کی تخصیص کی گئی اور الی الذین عاھدتم یہ خبر ہے۔ جیسا تم کہو۔ رجل من بنی تمیم فی الدار۔ مطلب اس طرح ہوگا۔ اللہ اور اس کا رسول دونوں بریٔ الذمہ ہیں اس عہد سے جو تم نے مشرکین سے کیا اور وہ عہد ان کی طرف واپس کیا جارہا ہے۔
Ayah 9:2چار ماہ کی مہلت :
آیت 2: فَسِیْحُوْا فِی الْاَرْضِ اَرْبَعَۃَ اَشْھُرٍ (پس تم لوگ اس سرزمین میں چار ماہ چل پھرلو) پس تم زمین عرب میں چل پھر لو جس طرح چاہو۔ السیح مہلت کے ساتھ چلنا۔ روایت میں ہے کہ انہوں نے مشرکین مکہ اور دیگر عرب سے معاہدے کئے۔ پس وہ رکے رہے مگر ان میں سے کچھ قبائل وہ بنو ضمرہ، بنو کنانہ پس عہد توڑنے والوں کی طرف انکا عہد پھینک دیا گیا۔ اور ان کو چار ماہ جو کہ اشہر حرم ہیں۔ سرزمین عرب میں امن سے چلنے کی اجازت دی۔ فاذا جیسا اس آیت میں ہے فاذا انسلخ الاشھر الحرم فاقتلوا المشرکین ( التوبہ : 5) اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اشہر حرام میں قتل و قتال ممنوع چلا آرہا ہے۔
نزول آیت :
یہ آیت 9 ھ میں نازل ہوئی۔ مکہ 8 ھ میں فتح ہوا۔ مکہ کے امیرعتاب بن اسید ؓ مقرر ہوئے تھے۔ اس موقع پر ابوبکر صدیق ؓ کو رسول اللہ ﷺ نے 9 ھ میں امیر الحج مقرر فرمایا۔ پھر علی المرتضی ؓ کو اپنی اونٹنی عضباء پر سوار کر کے ان کے پیچھے بھیجا تاکہ حاجیوں کے مجمع میں سورة توبہ کی تلاوت کردیں۔ آپ سے یہ کہا گیا کہ اگر آپ ابوبکر ؓ کی طرف بھیج دیتے تو آپ نے فرمایا لا یؤدی عنی الا رجل منی۔ معاہدات کی براءت میرے خاندان کا آدمی کرسکتا ہے۔ جب حضرت علی ؓ حضرت ابوبکر ؓ کے اتنا قریب پہنچے کہ وہ اونٹنی کی آواز سن پا رہے تھے وہ فوراً بول اٹھے یہ تو رسول اللہ ﷺ کی اونٹنی کی آواز ہے۔ حضرت علی ؓ ان کو آملے۔ تو ابوبکر ؓ کا پہلا سوال یہ تھا۔ أامیر ام مأ مور ؟ تو انہوں نے جواب دیا مأ مور۔ جب سات ذی الحجہ کا دن آیا ابوبکر ؓ نے خطبہ دیا۔ اور حج کے احکام ان کو بتلائے۔ دس ذی الحجہ یوم النحر علی ؓ جمرئہ عقبہ کے پاس کھڑے ہوئے اور یہ اعلان کیا۔ یٰٓایھا الناسُ رسولُ رسول اللّٰہ الیکم ! میں رسول اللہ ﷺ کا قاصد تمہارے پاس آیا ہوں۔ مجمع نے سوال کیا۔ کیا حکم لائے۔ آپ نے تیس یا چالیس آیات سورة توبہ کی پڑھ کر سنائیں اور پھر کہا مجھے چار باتوں کا حکم ہوا ہے۔
مندرجاتِ اعلان :
نمبر 1۔ الایقرب البیت بعد ہذا ا لعام مشرک۔
نمبر 2۔ لا یطوف بالبیت عریان
نمبر 3۔ لا یدخل الجنۃ الا کل نفس مومنۃ۔
نمبر 4۔ ان یتم الی کل ذی عہد عہدہ۔ مشرک آئندہ بیت اللہ کے پاس نہ پھٹکے۔ ننگا طواف نہ ہوگا۔ جنت میں صرف مومن جائے گا۔ معاہد کا عہد پورا کیا جائیگا۔
مجمع : اے علی ! تیرے چچا زاد بھائی نے بات پہنچا دی۔ ہم نے معاہدے پس پشت ڈال دیئے۔ ہمارے اور اس کے درمیان صرف تیر اندازی اور تلوار چلانے کا معاہدہ ہے۔ چار مہینے یہ ہیں نمبر 1۔ شوال، ذوالعقدہ، ذوالحجہ، المحرم یا ذی الحجہ کے بیس ایام، المحرم، صفر، ربیع الاول، دس دن ربیع الآخر کے۔ یہ حُرُم۔ نمبر 1۔ اس لئے تھے کہ ان کو ان چار ماہ میں امن دیا گیا تھا۔ اور قتل و قتال ان سے حرام کیا گیا تھا۔ نمبر 2۔ تغلیباً حرم کہا کیونکہ ذی الحجہ اور المحرم انہی اشہر حرم میں سے تھے۔
مسلک ِجمہور :
اشہر حرم میں قتال اب مباح ہے اور یہ حکم منسوخ ہوچکا۔ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّکُمْ غَیْرُ مُعجِزِی اللّٰہِ (اور یہ جان لو کہ تم اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں کرسکتے) اس سے بڑھ کر بھاگ نہیں سکتے اگرچہ وقتی طور پر تمہیں مہلت دی گئی ہے۔ وَاَنَّ اللّٰہَ مُخْزِی الْکٰفِرِیْنَ (اور بیشک اللہ تعالیٰ کافروں کو رسوا کریں گے) قتل سے دنیا میں ذلیل کرے گا۔ اور آخرت میں عذاب دیکر۔
Ayah 9:3اعلان کا تعلق تمام سے :
آیت 3: وَاَذَانٌ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖٓ اِلَی النَّاسِ (اور اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے عام لوگوں کے سامنے اعلان کیا جاتا ہے) نحو : براءت جس طرح مرفوع ہے۔ اسی طرح یہ بھی مرفوع ہے۔ پھر جملہ کا عطف بھی اسی طرح ہے۔ الاذان بمعنی اعلان ہے۔ جیسا کہ امان اور عطاء بمعنی ایمان اور اعطاء آئے ہیں۔ دونوں جملوں میں فرق صرف یہ ہے کہ پہلا جملہ ثبوت براءت کی خبر ہے۔ اور دوسرا جملہ اس اعلان کے لازم ہونے کی اطلاع ہے جو ثابت ہوچکا۔
براءت کو معاہدہ والے مشرکین سے معلق کیا اور اعلان کو لوگوں سے معلق کیا کیونکہ براءت کا تعلق معاہدین اور توڑنے والوں کے ساتھ خاص ہے اور اعلان کا تعلق معاہد اور غیر معاہد تمام قسم کے لوگوں کیلئے ہے۔ خواہ معاہدین نے عہد توڑا ہو یا نہ توڑا ہو۔ یَوْمَ الْحَجِّ الْاَکْبَرِ (بڑے حج کی تاریخوں میں) نمبر 1: یوم عرفہ کیونکہ عرفہ افعال حج میں سب سے بڑا رکن ہے۔ نمبر 2۔ یوم نحر مراد ہے کیونکہ حج کی تکمیل طواف زیارت، نحر، حلق، رمی، سے اسی دن میں ہوتی ہے۔ حج اکبرکہنے کی وجہ یہ ہے کہ عمرہ کو حج اصغر کہا جاتا ہے۔
اَنَّ اللّٰہَ بَرِیْٓ ئٌ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ (اللہ اور اس کا رسول دونوں دست بردار ہوتے ہیں) یعنی بان اللہ۔ الا ذان کے صلہ کو تخفیف کیلئے حذف کردیا۔ وَرَسُوْلُہٗ نمبر 1: بری ہے جو کہ نیت میں تھا۔ اس پر اس کا عطف ہے۔ نمبر 2۔ ابتداء پر اور خبر محذوف ہے۔ ای ورسولہ بریٌٔ۔
قراءت : انّ کے اسم پر عطف کر کے منصوب پڑھا گیا۔ اس میں جرّ جوار کی وجہ سے ہے۔ یا قسم کی وجہ سے جیسا کہتے ہیں لَـعَمْرُکَ ۔
اہمیت تعلیم :
بیان کیا گیا کہ ایک اعرابی نے سنا کہ کوئی شخص اس آیت کو اس طرح پڑھا رہا ہے کہ معنی الٹ جاتا ہے۔ اس نے سنکر کہا اگر اللہ تعالیٰ اپنے رسول سے بری ہے تو میں اس سے بری۔ اس کی زبان سے یہ کلمہ سن کر اس کا گریبان تھامے عدالت فاروقی میں لے گیا۔ اعرابی نے اس آدمی کی قراءت نقل کی اس وقت فاروق اعظم ؓ نے حکم دیا عربی تعلیم دی جائے تاکہ اعراب کی غلطیاں لوگ نہ کریں۔
فَاِنْ تُبْتُمْ (اور اگر تم نے توبہ کی) کفر اور دھوکے سے۔ فَھُوَ (تو وہ) یہ توبہ َخیْرٌ لَّکُمْ (تمہارے لئے بہت بہتر ہے) کفر پر اصرار سے وَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ (اور اگر تم نے اعراض کیا) نمبر 1۔ توبہ سے نمبر 2۔ اسلام کے خلاف اعراض اور تولی سے توبہ کرو۔ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّکُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللّٰہِ (تو یہ سمجھ لو کہ تم اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں کرسکتے) تم اللہ تعالیٰ سے سبقت نہیں کرسکتے۔ اور نہ ہی اس کی سزا اور پکڑ سے نکل جانے والے ہو۔ وَبَشِّرِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ (اور ان کافروں کو درد ناک سزا کی خبر سنا دیں) ہمیشہ رہنے والی نعمتوں کے ساتھ بشارت کی بجائے۔
Ayah 9:4استثناء معاندین :
آیت 4: اِلَّا الَّذِیْنَ عٰھَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ (ہاں مگر وہ مشرکین مستثنیٰ ہیں۔ جن سے تم نے عہد لیا ہے) یہ فسیحوا فی الارض سے استثناء ہے۔ مطلب یہ کہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلان بیزاری ہے۔ ان مشرکین کے متعلق جن سے تم نے معاہدہ کیا۔ پس تم ان سے کہہ دو تم چل پھرلو۔ مگر وہ لوگ جن سے تم نے معاہدہ کیا۔ ثُمَّ لَمْ یَنْقُصُوْکُمْ شَیْئًا (پھر انہوں نے تمہارے ساتھ ذرا کمی نہیں کی) معاہدے کی شرائط سے یا عہد کو پورا کرو اس کو نہ توڑو۔
قراءت ـ : لم ینقضوکم بھی پڑھا گیا۔ یعنی انہوں نے عہد نہیں توڑا اور یہ مناسب تر ہے۔ لیکن مشہور قراءت زیادہ بلیغ ہے۔ کیونکہ تمام کے مقابلہ میں ہے۔ وَّ لَمْ یُظَاہِرُوْا عَلَیْکُمْ اَحَدًا (اور نہ تمہارے مقابلہ میں کسی کی مدد کی) انہوں نے کسی دشمن کی تمہارے خلاف معاونت نہیں کی۔ فَاَتِمُّوْٓا اِلَـیْھِمْ عَھْدَھُمْ (پس ان کے معاہدہ کو پوراکرو) ان کو مکمل و تام ادا کرو۔ اِلٰی مُدَّتِھِمْ (ان کی مدت تک) ان کی مدت کے مکمل ہونے تک۔
نحو : استثناء یہاں استدراک کے معنی میں ہے۔ گویا انکو عہد توڑنے والوں کے بارے میں حکم دیکر کہا لیکن وہ لوگ جنہوں نے عہد نہیں توڑا انکا عہد مدت تک پورا کرو اور انکے قائم مقام نہ ٹھہرائو اور پورا کرنے والے کو دھوکا دینے والے کی طرح مت قرار دو ۔
اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ (بیشک اللہ تعالیٰ احتیاط رکھنے والوں کو پسند کرتے ہیں) یعنی تقویٰ کا تقاضا یہ ہے کہ دونوں فریقین کے مابین برابری نہ کی جائے۔ پس تم اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔
Ayah 9:5عہد توڑنے والوں کے خلاف کارروائی کا حکم :
آیت 5: فَاِذَا انْسَلَخَ (جب گزر جائیں) گزرنا یا نکلنا الْاَشْھُرُ الْحُرُمُ (حرمت والے مہینے) جن میں عہد توڑنے والوں کو بھی چلنے پھرنے کی اجازت دی گئی۔ فَاقْتُلُوْا الْمُشْرِکِیْنَ (تو ان مشرکین کو قتل کرو) وہ جنہوں نے عہد کو توڑ دیا۔ اور تمہارے خلاف دشمنوں کی معاونت کی۔ حَیْثُ وَجَدْ تُّمُوْھُمْ (جہاں تم چاہو) حرم میں یاحل میں وَخُذُوْھُمْ (اور ان کو پکڑو) اور ان کو قید کرلو۔ الاخذ۔ قید و بند میں ڈالنا۔ وَاحْصُرُوْھُمْ (اور ان کو باندھو) اور ان کو قید کرلو۔ اور علاقہ میں تصرف سے روک دو ۔ وَاقْعُدُوْا لَھُمْ کُلَّ مَرْصَدٍ (اور دائو گھات کے مواقع میں ان کی تاک میں بیٹھو) ہر راستے اور گزر گاہ پر۔
نحو : یہ ظرف کی وجہ سے منصوب ہے۔ فَاِنْ تَابُوْا (پھر اگر وہ توبہ کرلیں) کفر سے وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ ٰاتَوُا الزَّکٰوۃَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَھُمْ (اور نماز پڑھنے لگیں اور زکوٰۃ دینے لگیں تو انکا راستہ چھوڑ دو ) نمبر 1: ان کو قید و بند سے آزاد کرو۔ یا نمبر 2۔ ان سے ہاتھ روک لو۔ اور تعرض نہ کرو۔ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ (بیشک اللہ تعالیٰ مغفرت کرنے والے) کفر چھپانے اور اسلام سے دھوکا دہی کو رَّحِیْمٌ (رحمت کرنے والے ہیں) قتل کا حکم نہ دیا التزام کی ادائیگی سے پہلے۔
Ayah 9:6پناہ کی اجازت :
آیت 6: وَاِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ اسْتَجَارَکَ فَاَجِرْہُ (اگر کوئی مشرکین میں سے تمہاری پناہ کا طالب ہو۔ تو آپ اس کو پناہ دیں) نحو : احدٌ کا لفظ فعل مضمر کی وجہ سے مرفوع ہے۔ جس کی تفسیر فعل ظاہر کر رہا ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے وان استجارک احد ٌ استجارک۔ مطلب یہ ہے۔ اگر ان مہینوں کے گزرنے کے بعد کوئی مشرک تمہارے پاس آجائے جس کے ساتھ تمہارا کوئی معاہدہ نہیں اور وہ تم سے امن کا خواہاں ہے تاکہ توحید، قرآن سے استفادہ کرے تو اس کو امن دے دو ۔
حَتّٰی یَسْمَعَ کَلٰمَ اللّٰہِ (یہاں تک کہ وہ کلام الٰہی سن لے) اور اس میں تدبر کرے اور اسلام کی حقیقت اس کے سامنے آجائے۔ ثُمَّ اَبْلِغْہُ (پھر اس کو پہنچا دو ) اس کے بعدماْ مَنَہٗ (اس کے امن کی جگہ میں) اس کے اس گھر میں جہاں وہ امن پانے والا ہے۔ اگر وہ اسلام نہیں لایا۔ پھر اگر چاہو تو اس سے لڑ سکتے ہو۔
مسئلہ : اس میں دلیل ہے جس کو امن دیا جائے اس کو ایذاء پہنچانا جائز نہیں۔ مگر ہمارے دار الاسلام میں وہ اقامت اختیار نہیں کرسکتا۔ اس کو لوٹنے کا اختیار دیا جائے گا۔ ذٰلِکَ (یہ حکم) اجازت والا حکم جو اس ارشاد فأجرہُُمیں ہے۔ بِاَنَّھُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْلَمُوْنَ (اس وجہ سے ہے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو پوری خبر نہیں رکھتے) اس وجہ سے کہ وہ جاہل لوگ ہیں اسلام کی حقیقت سے واقف نہیں ہیں۔ اور نہ ہی ان کو تمہاری دعوت کی حقیقت کا علم ہے۔ پس ان کو امن دینا ضروری ہے تاکہ کلام اللہ کو سن کر یا سمجھ کر حق کو قبول و عدم قبول کا فیصلہ کریں۔
Ayah 9:7مشرک عہد پر قائم نہیں رہ سکتا :
آیت 7: کَیْفَ یَکُوْنُ لِلْمُشْرِکِیْنَ عَھْدٌ عِنْدَ اللّٰہِ وَعِنْدَ رَسُوْلِہٖٓ (ان مشرکین کا عہد اللہ تعالیٰ کے نزدیک اور اس کے رسول کے نزدیک کیسے رہے گا) نحو : کیف یہ استفہام انکاری کے معنی میں ہے یعنی انکا عہد پر قائم رہنا اوپری و عجیب بات
ہے پس تم ان سے یہ توقع مت رکھو اور نہ دلوں میں یہ بات لائو اور نہ ان کے قتل کے متعلق سوچو۔ پھر اِلَّا الَّذِیْنَ عٰھَدْتُّمْ (مگر وہ جن سے تم نے عہد لیا ہے) سے استدراک کیا۔ کہ اس سے وہ لوگ مستثنیٰ ہیں جن سے تم نے معاہدہ کیا۔ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ (مسجد حرام کے پاس) اور ان سے نقض عہد آج تک پیش نہیں آیا۔ جیسے بنو کنانہ، بنوضمرہ، تو ان کے معاملہ میں ڈھیل پیدا کرو اور ان سے نہ لڑو۔ فَمَا اسْتَقَامُوْا لَکُمْ (پس جب تک یہ لوگ تمہارے ساتھ سیدھی طرح رہیں) اور ان سے نقض عہد ظاہر نہ ہو۔ یعنی جب تک وفائے عہد پر قائم رہیں۔ فَاسْتَقِیْمُوْالَھُمْ (تم بھی ان کے ساتھ معاہدہ پر قائم رہو) وفا کرتے ہوئے۔
نحو : ماؔ شرطیہ بمعنی فَاِنْ ہے۔ کہ اگر وہ استقامت اختیار کریں تو تم بھی معاہدہ کی پابندی کرو۔ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ (بیشک اللہ تعالیٰ کو احتیاط رکھنے والے پسند ہیں) یعنی انتظار ان کے سلسلہ میں متقین کے خصائل میں سے ہے۔
Ayah 9:8کافروں کو کسی چیز کا پاس لحاظ نہیں :
آیت 8: کَیْفَ وَاِنْ یَّظْھَرُوْا عَلَیْکُمْ (کیسے ؟ حالانکہ ان کی حالت یہ ہے کہ اگر وہ تم پر کہیں غلبہ پاجائیں) دوبارہ اس لئے لائے تاکہ مسلمانوں کو بتلا دیا جائے کہ مشرکین سے عہد کی پابندی بعید تر ہے۔
نحو : فعل کو معلوم ہونے کی بناء پر حذف کردیا۔ ای کیف یکون لھم عہد و حالہم انہم ان یظہروا علیکم وہ معاہدہ کی پاسداری کیونکر کریں گے کہ انکا حال یہ ہے کہ اگر وہ تم پر کامیابی پالیں اس کے بعد بھی کہ معاہدے کی پختہ قسمیں اٹھا چکے لَایَرْقُبُوْا فِیْکُمْ اِلًّا (تمہارے متعلق وہ پاس ولحاظ نہ کریں گے قربت کا) وہ کسی قسم کی رعایت نہ کریں گے اور نہ قرابت کا لحاظ وَّ لَا ذِمَّۃً (اور نہ قول وقرار کا) عہد کا پاس یُرْضُوْنَکُمْ بِاَفْوَاھِھِمْ (وہ لوگ اپنی زبانی باتوں سے راضی کر رہے ہیں) قسموں سے وعدہ کر کے اور وفاداری کا عہد کر کے۔ ان کے ظاہر و باطن میں اختلاف کو بیان کرنے کیلئے یہ ابتدائی کلام ہے اور دوبارہ اس لئے لائے کہ معاہدہ کی پابندی ان سے بہت بعید اور دور ہے۔ وَتَاْبٰی قُلُوْبُھُمْ (اور ان کے دل نہیں مانتے) ان قسموں سے اور وعدے کی وفاداری سے وَ اَکْثَرُھُمْ فٰسِقُوْنَ (ان میں زیادہ آدمی شریر ہیں) عہد کو توڑنے والے ہیں۔ یا کفر میں سرکشی اختیار کرنے والے ہیں۔ انسانیت کی کوئی حد ان کو جھوٹ بولنے سے نہیں روک سکتی۔ اور نہ کوئی اخلاقی قدر توڑنے سے باز رکھ سکتی ہے جیسا کہ بعض کفار میں ان دونوں باتوں کی قربانی پائی جاتی ہے۔
Ayah 9:9آیت 9: اِشْتَرَوْا (انہوں نے اختیار کر رکھا ہے) بدلہ میں لیا۔ بِٰایٰتِ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کی آیات کے بدلے) قرآن کے ثَمَنًا قَلِیْلًا (حقیر بدلہ) معمولی سامان اور وہ شہوات و ہوا کی اتباع ہے۔ فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِہٖ (پس یہ لوگ اللہ کے رستہ سے ہٹے ہوئے ہیں) اس سے اعراض کیا اور دوسروں کو روکا۔ اِنَّھُمْ سَآ ئَ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (ان کا یہ عمل بہت ہی برا ہے) ان کی یہ حرکت بد ترین حرکت ہے۔
Ayah 9:10کسی مومن سے تو رشتہ کا بھی پاس نہیں :
آیت 10: لَا یَرْقُبُوْنَ فِیْ مُؤْمِنٍ اِلًّا وَّ لَاذِمَّۃً (یہ لوگ کسی مومن کے متعلق نہ قرابت کا لحاظ کریں اور نہ قول وقرار کا) یہ سابق کی تکرار نہیں بلکہ ما کانوا یعملون کی تشریح ہے اول آیت سے مراد خاص ہے اس لئے کہ فیکم کا لفظ ہے۔ اور دوسری آیت عام ہے کیونکہ اس میں فی مومن ہے۔ وَاُولٰٓپکَ ھُمُ الْمُعْتَدُوْنَ (یہ لوگ بہت ہی زیادتی کر رہے ہیں) جو ظلم و شرارت میں انتہاء سے تجاوز کرنے والے۔
Ayah 9:11توبہ اور اس کی علامات :
آیت 11: فَاِنْ تَابُوْا (اگر یہ لوگ توبہ کرلیں) کفر سے وَاَقَامُوالصَّلٰوۃَ وَٰاتَوُا الزَّکٰوۃَ فَاِخْوَانُکُمْ (اور نماز پڑھنے لگیں اور زکوٰۃ دینے لگیں تو وہ تمہارے بھائی ہوجائیں گے) پس وہ تمہارے بھائی ہیں۔
نحو : مبتداء محذوف ہے۔ فِی الدِّیْنِ (دینی) نسب میں نہیں وَنُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ (اور ہم تفصیل سے احکام بیان کرتے ہیں) ہم کھول کر بیان کرتے ہیں۔ لِقَومٍ یَّعْلَمُوْنَ (سمجھ دار لوگوں کیلئے) سمجھتے اور اس میں سوچ و بچار کرتے ہیں۔ یہ جملہ معترضہ ہے گویا اس طرح کہا : ان من تامل تفصیلھا فھو العالم تحریضًا علی تامل مافصل من احکام المشرکین المعاہدین و علی المحافظۃ علیھا۔
جو اس کی تفصیل میں غور کرے تو وہ جان لے گا۔ معاہدہ کرنے والوں اور توبہ کرنے والوں کے احکام کی تفصیل پر غور کی ترغیب دینے کیلئے اور اس کی پاسداری کیلئے۔ یہ جملہ مستقل ذکر کیا گیا ہے۔
Ayah 9:12اگر معاہدہ توڑیں اور طعنہ زنی کریں تو قابل گردن زدنی ہیں :
آیت 12: وَاِنْ نَّکَثُوْٓا اَیْمَانَہُمْ مِّنْم بَعْدِ عَھْدِہُمْ (اگر وہ لوگ عہد کرنے کے بعد اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں) یعنی انہوں نے قسموں کے ذریعہ کئے جانے والے معاہدے توڑ دیے۔ وَطَعَنُوْا فِیْ دِیْنِکُمْ فَقَاتِلُوْٓا اَپمَّۃَ الْکُفْرِ (اور تمہارے دین میں طعنہ کریں۔ تو تم ان کفر کے راہنمائوں سے لڑو) قراءت : دونوں ہمزہ کے ساتھ کوفی شامی نے پڑھا ہے۔ بقیہ قراء نے ایک ہمزہ سے پڑھا جو کہ غیر ممدودہ اور اس کے بعد یائے مک سورة ہے۔ اس کی اصل أأممۃ یہ جمع امام ہے جیسے عماد جمع اعمدۃ۔ پہلی میم کی حرکت نقل کرکے ہمزہ ساکنہ کو دی اور میم کو دوسری میم میں ادغام کردیا۔ جنہوں نے دونوں ہمزہ کو باقی رکھا انہوں نے دوسرے ہمزہ کو کسرئہ ماقبل کی وجہ سے یا سے بدلا ہے۔ فاِنَّھُمْ لَآ اَیْمَانَ لَھُمْ (ان کی قسمیں نہیں رہیں) پہلاحصہ آیت وان نکثوا ایمانھم میں ان کے لئے ایمان کو ثابت کیا مگر یہاں نفی کردی۔
وجہ فرق یہ ہے کہ جو اَیْمان وہ ظاہر کرتے ہیں وہ شروع آیت میں مراد ہے اور اس حصہ میں حقیقت کا اعتبار کر کے فرمایا لا ایمان لہم۔
مسئلہ : کافر کی قسم قسم شمار نہیں ہوتی۔ امام شافعی (رح) نے اس آیت کا معنی یہ کیا ہے وہ قسم پوری نہ کریں گے کیونکہ ان کے ہاں کافر کی قسم قسم شمار ہوگی کیونکہ اس کی تعریف میں نکث (ٹوٹنا) کا لفظ آیا ہے۔
قراءت : شامی نے لا اَیْمَان بمعنی لا اسلام پڑھا ہے۔ لَعَلَّھُمْ یَنْتَھُوْنَ (اس ارادے سے کہ یہ باز آجائیں) یہ فقاتلوا ائمۃ الکفر سے متعلق ہے ان کے مابین جملہ معترضہ ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے لیکن غرضکم فی مقاتلتھم انتھاء ھم عماھم علیہ بعد ماوجدمنہم من العظائم۔ ان کے ساتھ تمہاری لڑائی کی غرض یہ ہونی چاہیے کہ وہ جس چیز پر ہیں اس سے باز آجائیں۔ اس کے باوجود کہ ان سے یہ بڑے بڑے معاملات پائے گئے۔ گناہ گار کیلئے درحقیقت یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے غایت کرم ہی تو ہے بس !
Ayah 9:13لڑائی پر آمادگی :
آیت 13: پھر لڑائی پر آمادہ کیا۔ اَلاَ تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّکَثُوْٓا اَیْمَانَھُمْ (تم ایسے لوگوں سے کیوں نہیں لڑتے جنہوں نے اپنی قسموں کو توڑ ڈالا) جو انہوں نے معاہدہ میں حلف اٹھایا۔ وَھَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ (اور رسول اللہ ﷺ کے جلاوطن کرنے کی تجویز کی) مکہ سے وَھُمْ بَدَئُ وْ کُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍ (اور انہوں نے تم سے خود پہلے تمہاری دشمنی کی ابتداء کی) لڑائی میں۔ اور ابتداء کرنے والا بڑا ظالم ہوتا ہے پس ان کے ساتھ لڑائی سے تمہیں کونسی رکاوٹ ہے ؟ اس میں مسلمانوں کو ایسے لوگوں کے ساتھ ترک قتال پر توبیخ کی اور ساتھ ساتھ لڑائی پر آمادہ کیا۔ پھر لڑائی پر ابھارنے کے اسباب ذکر کئے۔ جیسے نقض عہد، اخراج رسول، بلا سبب ابتدائے قتال۔ اَتَخْشَوْنَھُمْ (کیا تم ان سے ڈرتے ہو) کفار سے ڈرنے پر توبیخ ہے۔ فَاللّٰہُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْہُ (اللہ تعالیٰ زیادہ حقدار ہے کہ اس سے ڈرو) کہ اس سے ڈراجائے۔ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ (اگر تم ایمان رکھتے ہو) پس اس ہی سے ڈرو یعنی کامل ایمان کا تقاضہ یہ ہے کہ فقط اللہ تعالیٰ ہی سے ڈرا جائے اور دوسرے کی کوئی پرواہ نہ کی جائے۔
Ayah 9:14کفار سے لڑو اللہ ان کو تمہارے ہاتھوں سزا دیں گے :
آیت 14: جب ان کو ترک قتال پر توبیخ کردی تو کھل کر ان کو حکم دیا۔ قَاتِلُوْھُمْ (ان سے لڑو) ایمان والوں سے نصرت کا وعدہ کیا تاکہ ان کے دل مضبوط رہیں اور ان کی نیتوں میں بھی خرابی نہ آئے۔ یُعَذِّبْھُمُ اللّٰہُ بِاَیْدِیْکُمْ (اللہ تعالیٰ ان کو تمہارے ہاتھوں سزا دے گا) قتل کروا کر وَیُخْزِھِمْ (اور ان کو ذلیل کرے گا) قیدی بناکر وَیَنْصُرْکُمْ عَلَیْھِمْ (اور تم کو ان پر غالب کرے گا) تمہیں ان پر غلبہ دیکر وَ یَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْ مِنِیْنَ (اور مسلمانوں کے دلوں کو شفا دے گا) ان میں سے ایک جماعت کو۔ اس سے مراد بنو خزاعہ ہیں جو رسول اللہ ﷺ کے حلیف تھے۔ (جن پر حملہ کر کے بنو بکر نے قریش کی مدد سے بنو خزاعہ کو حرم میں قتل کیا تھا۔ جس سے فتح مکہ کا واقعہ پیش آیا) تو بنو خزاعہ کے مسلمان مراد ہیں۔
Ayah 9:15مسلمانوں کی بےچینی کا ازالہ :
آیت 15: وَیُذْھِبْ غَیْظَ قُلُوْبِھِمْ (اور ان کے دلوں کی بےچینی دور کرے گا) جو کفار کی طرف سے ان کو تکلیف پہنچی اللہ تعالیٰ نے یہ تمام وعدے پورے کردیئے یہ آپکی نبوت کی دلیل و ثبوت ہے۔ وَیَتُوْبُ اللّٰہُ عَلٰی مَنْ یَّشَآ ئُ (اور جس کو چاہے گا اللہ تعالیٰ توبہ کی توفیق دیگا) یہ ابتدائے کلام ہے اور اس بات کی اطلاع ہے کہ بعض اہل مکہ اپنے کفر سے توبہ کریں گے اور یہ واقعہ ہوا ان میں بہت سے لوگ اسلام لائے جیسے ابو سفیان، عکرمہ بن ابی جہل، سہیل بن عمرو۔
ردِمعتزلہ : اس میں معتزلہ کے اس قول کا رد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ تمام کافروں کی توبہ قبول کرے لیکن وہ اپنے اختیار سے توبہ نہ کریں گے۔ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ (اللہ تعالیٰ بڑے علم والے ہیں) وہ آئندہ کے حالات کو جاننے والے ہیں جیسا کہ ماضی سے واقف ہیں حَکِیْمٌ (بڑی حکمت والے ہیں) توبہ قبول کرنے میں۔
Ayah 9:16مجاہدین کی پہچان کی جائیگی :
آیت 16: اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَکُوْا وَلَمَّا یَعْلَمِ اللّٰہُ الَّذِیْنَ جٰھَدُوْا مِنْکُمْ (کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ تم یوں ہی چھوڑ دیئے جائو گے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ابھی ان لوگوں کو تمہارے اندر سے چھانٹا ہی نہیں جنہوں نے جہاد کیا) : اَم منقطعہ ہے ہمزہ تو بیخ کیلئے ہے کیونکہ حسبان کا معنی پایا جاتا ہے تقدیر یہ ہے لا تترکون علی ما انتم علیہ حتی یتبین المخلص منکم وھم الذین جاہدوا فی سبیل اللّٰہ لوجہ اللّٰہ۔ تم جس حالت میں ہو اس پر چھوڑا نہ جائے گا یہاں تک کہ تم میں سے مخلصوں کو ظاہر نہ کردیا جائے۔ اور وہ وہی ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کیا صرف اسی کی رضا مندی چاہنے کیلئے۔
وَلَمْ یَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَلَا رَسُوْلِہٖ وَلَا الْمُؤْمِنِیْنَ وَلِیْجَۃً (اور اللہ اور رسول اور اسکے مؤمنین کے سوا کسی کو خاص دوست نہ بنایا) یعنی انہوں نے رسول اللہ ﷺ اور مومنوں کے مخالفین کو راز دار نہیں بنایا۔ لما یہ توقع کیلئے ہے اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ایسا ہونا بالکل متوقع ہے کہ مخلصین و غیر مخلصین کو چھانٹ لیا جائے۔
نحو : لَمْ یتخذوا کا عطف جاھدوا پر ہے اور یہ صلہ کے تحت داخل ہے تقدیر عبارت اس طرح ہے ولما یعلم المجاہدین منکم والمخلصین غیر المتخذین ولیجۃ من دون اللّٰہ مقصود نفی علم کی ہے۔ معلوم کی نہیں جیساکہتے ہیں ماعلم اللہ منی ما قیل فی اس سے تمہاری مراد یہ ہے ماوجد ذالک منی کہ یہ بات میری طرف سے پائی ہی نہیں گئی۔ مطلب یہ ہوگا کہ تمہارا خیال ہے کہ بلا مجاہدہ تمہیں چھوڑ دیا جائیگا۔ اور مشرکین سے تمہیں الگ نہ کیا جائیگا۔ وَاللّٰہُ خَبِیْرٌم بِمَا تَعْمَلُوْنَ (اللہ تعالیٰ کو تمہارے سب کاموں کی خبر ہے) خیر یا شر سے۔ پس وہ اس پر تمہیں بدلہ دے گا۔
Ayah 9:17مشرک اللہ کی مسجد کو آباد کرنے والا کیسے ؟
آیت 17: مَاکَانَ لِلْمُشْرِکِیْنَ (مشرکین اس لائق نہیں) ان کے لئے درست اور مناسب نہیں اَنْ یَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰہِ (کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مسجدوں کو آباد کریں) قراءت : مکی، بصری نے مَسْجِدَ اللّٰہِ پڑھا اور اس سے مسجد حرام مراد لی۔ نمبر : 1 قراءت میں جمع اس لئے لائے کہ قبلہ مساجد وہی ہے اور تمام مساجد کا امام بیت اللہ ہے پس اس کی آبادی کرنے والا گویا تمام مساجد کو آباد کرنے والا ہے۔ کیونکہ اس کا ہر حصہ مسجد ہے۔
نمبر 2۔ جنس مساجد مراد ہے۔ جب ان میں اس کی جنس کو درست کرنے کی صلاحیت نہیں تو اس کے تحت مسجد حرام بھی داخل ہوگئی کہ وہ اس کی آبادی کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ اس لئے مسجد حرام تو اس جنس کا مرکزی نکتہ ہے اور سینہ ہے اور یہ کنایہ کا مؤکدترین طریقہ ہے جیسا تم کہو فلان لا یقرأ کتاب اللہ یہ بات قراءت قرآن کے بارے میں تصریح سے زیادہ موثر ہے۔
شٰھِدِیْنَ عَلٰٓی اَنْفُسِھِمْ بِالْکُفْرِ (ایسی حالت میں کہ وہ خود اپنے کافر ہونے کا اقرار کر رہے ہیں) اس لئے کہ وہ عبادت اصنام کا اعتراف کرتے ہیں۔ یہ یعمر وا کی وائو سے حال ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ما استقام ان یجمعوا بین امرین متضادین عمارۃ متعبدات اللّٰہ مع الکفر باللّٰہ وبعبادتہٖ ان کو مناسب نہیں دو متضاد باتیں اپنے میں جمع کرنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت گاہیں تعمیر کرتے ہیں اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کا انکار کرتے ہیں۔ اُولٰٓپکَ حَبِطَتْ اَعْمَالُھُمْ وَ فِی النَّارِ ھُمْ خٰلِدُوْنَ (ان لوگوں کے تمام اعمال بےکار ہیں وہ لوگ دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے) ہمیشہ رہنے والے۔
Ayah 9:18مومن مسجد کو آباد کرنے والا ہے :
آیت 18: اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کی مساجد کو آباد کرنا تو صرف ان لوگوں کا کام ہے) اس کی تعمیر، بوسیدہ کی مرمت، صفائی، روشنی کا انتظام، جن چیزوں کیلئے مساجد نہیں بنائی گئیں ان سے حفاظت مثلاً دنیا کی باتیں کیونکہ مسجد کی تعمیر کا مقصد عبادت اور ذکر الٰہی کیلئے ہے اور علم پڑھانا بھی اس ذکر میں شامل ہے۔ مَنْ ٰامَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ (جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے دن پر ایمان لائیں) یہاں ایمان بالرسول کا تذکرہ نہیں کیا۔ کیونکہ یہ خود معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے والے کو رسول پر ایمان لانا ضروری ہے۔ کیونکہ شہادت، اذان، اقامت وغیرہ میں دونوں شہادتیں ساتھ ساتھ ہیں۔ نمبر 2۔ اس ارشاد سے ایمان بالرسول پر دلالت کردی وَ اَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَٰاتَی الزَّکٰوۃَ وَلَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰہَ (اور نماز کی پابندی کریں اور زکوٰۃ دیں اور سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کسی سے نہ ڈریں) اخلاص پر متنبہ کیا۔ مراد خشیت سے دین میں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضامندی پر کسی دوسری رضامندی کو کسی توقع کے خوف سے ترجیح نہ دے۔ اس لئے کہ بعض اوقات مومن محذورات سے ڈرتا ہے اور ڈرنے کے علاوہ اس کو کسی چیز کا اختیار ہی نہیں رہتا۔ دوسرا قول یہ ہے پہلے وہ اصنام سے ڈرا کرتے تھے۔ اور ان سے امیدیں لگاتے تھے پس اس خوف کی نفی ان سے کی گئی ہے۔
فَعَسٰٓی اُولٰٓپکَ اَنْ یَّکُوْنُوْا مِنَ الْمُھْتَدِیْنَ (پس ایسے لوگوں کی نسبت توقع ہے کہ وہ اپنے مقصود تک پہنچ جائیں گے) ہدایت کے مواقع سے مشرکین تو بہت دور ہیں اور ان کے شرک کی وجہ سے اعمال سے انتفاع بھی نہیں ہوسکتا۔ عسٰی کا کلمہ استعمال فرمایا جو طمع کیلئے اور امید کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان مساجد کی تعمیر ان لوگوں کے مناسب ہے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں انہی کے حق میں یہ چیزیں مقبول ہیں دوسروں کیلئے نہیں۔
Ayah 9:19کفر کے ہوتے ہوئے تعمیر مسجد ‘ سقایہ حجاج بےوزن اعمال ہیں :
آیت 19: اَجَعَلْتُمْ سِقَایَۃَ الْحَآجِّ وَعِمَارَۃَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ کَمَنْ ٰامَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَجٰھَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ لَا یَسْتَوٗنَ عِنْدَ اللّٰہِ وَاللّٰہُ لَایَھْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ (کیا تم نے حجاج کے پانی پلانے کو اور مسجد حرام کے آباد رکھنے کو اس شخص کے برابر قرار دے لیا ہے جو اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان لایا اور اس نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کیا ہو۔ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے نزدیک برابر نہیں۔ اور اللہ تعالیٰ بےانصاف لوگوں کو سمجھ نہیں دیتا) السقایہ۔ العمارۃ۔ یہ دونوں مصدر ہیں۔ فعل سقٰی، عمر جیسا الصیانۃ والوقایۃ۔ یہاں مضاف محذوف ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے۔ اجعلتم اہل سقایۃ الحاج و عمارۃ المسجد الحرام کمن ٰامن باللّٰہ۔ کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانے والوں اور مسجد حرام کی تعمیر کرنے والے کو ایمان والوں کے برابرقرار دیا۔
دوسرا قول : مصدر اسم فاعل کے معنی میں ہے۔ ابن زبیر کی قراءت اس کی معاون ہے۔ سُقاۃَ الحاجِّ و عَمَرَۃَ الْمسجِد الحرام مطلب یہ ہے کہ مشرکین کے مومنین سے مشابہ ہونے کا انکار ہے۔ مشرکین کے اعمال حبط شدہ اور مسلمانوں کے اعمال ثابت و قائم شدہ ہیں۔ اور اس بات سے انکار کیا گیا کہ ان کے مابین برابری مانی جائے۔ اور ان کے برابر قرار دینے کو کفر کے بعد ایک اور ظلم قرار دیا۔ کیونکہ انہوں نے مدح و فخر کو ایسے مقام کیلئے تجویز کیا جو مدح و فخر کا مقام ہرگز نہیں۔
شان نزول : یہ عباس ؓ کے جواب میں اتری جب بدر میں وہ قید ہوئے تو علی ؓ ان کو رسول اللہ ﷺ کے خلاف لڑائی کے سلسلے میں ڈانٹ ڈپٹ کرنے لگے۔ اور قطع رحمی پر بھی ان کو کھری کھری سنائیں تو عباس ؓ کہنے لگے تم ہمارے محاسن کو چھوڑ کر ہماری غلطیاں گناتے ہو۔ تو ان سے پوچھا گیا تمہارے محاسن کیا ہیں۔ تو کہنے لگے ہم بیت اللہ کو تعمیر کرتے، حاجیوں کو پانی پلاتے، قاتل کی گردن چھڑاتے ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ عباس ؓ نے سقا یہ پر فخر کیا اور شیبہ نے عمارت پر اور علی ؓ نے اسلام اور جہاد پر۔ اللہ تعالیٰ نے علی ؓ کی تصدیق کردی۔
Ayah 9:20ایمان ‘ ہجرت و جہاد مقبول ترین عمل ہیں جو جنت کا باعث ہیں :
آیت 20: الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَھَاجَرُوْا وَجٰھَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِاَمْوَالِھِمْ وَاَنْفُسِھِمْ اَعْظَمُ دَرَجَۃً عِنْدَ اللّٰہِ (جو لوگ ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کی اور جان ومال سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کیا وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں بڑے مرتبہ والے ہیں) اہل سقا یہ اور اہل تعمیر کے مقابلہ میں وَاُولٰٓپکَ ھُمُ الْفَآپزُوْنَ (اور یہی لوگ کامیاب ہیں) نہ کہ تم کامیابی سے مخصوص ہو ان کی بجائے۔
Ayah 9:21آیت 21: یُبَشِّرُھُمْ رَبُّھُمْ (ان کا رب ان کو بشارت دیتا ہے) قراءت : حمزہ نے یُبْشِرُھمْ پڑھابِرَحْمَۃٍ مِّنْہُ وَرِضْوَانٍ وَّ جَنّٰتٍ (اپنی طرف سے بڑی رحمت اور بڑی رضا مندی اور ایسے باغات) رحمت، رضوان، جنات کی بشارت دی اور ان کو نکرہ ذکر کیا تاکہ بتلایا جائے کہ یہ انعامات غیر معمولی ہیں اور کسی وصف کے ساتھ بیان سے باہر ہیں اور معر ّف کو معرفہ ذکر کیا گیا۔ لَّھُمْ فِیْھَا (جن میں ان کیلئے) ان جَنّات میں نَعِیْمٌ مُّقِیْمٌ (دائمی نعمتیں ہوں گی) دائمی۔
Ayah 9:22آیت 22: خٰلِدِیْنَ فِیْھَآ اَبَدًاط اِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہٗ اَجْرٌ عَظِیْمٌ (ان میں یہ ہمیشہ ہمیشہ کو رہیں گے بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے پاس بڑا اجر ہے) جو غیر منقطع ہے۔
Ayah 9:23آیت 23: شان نزول : جب اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر ﷺ کو ہجرت کا حکم دیا تو ایک آدمی اپنے بیٹے کو کہنے لگا اور اپنے بھائی اور دیگر قرابتداروں کو کہ ہمیں تو ہجرت کا حکم مل گیا۔ ان میں سے بعض نے جلدی سے ہجرت کو اختیار کرلیا۔ اور بعض سے ان کے بیٹے اور ازواج چمٹ گئیں ہمیں تو یہاں خالی ہاتھ چھوڑ رہا ہے۔ ہم ضائع ہوجائیں گے۔ وہ یہ سن کر ان کے ساتھ رہ پڑا اور ہجرت کو چھوڑ بیٹھا پس یہ آیت اتری۔
کافر غیر ہے خواہ باپ ہو :
یٰٓـاَیـُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْٓا ٰابَآئَ کُمْ وَ اِخْوَانَکُمْ اَوْلِیَآئَ اِنِ اسْتَحَبُّّوا الْکُفْرَ عَلَی الْاِیْمَانِ (اے ایمان والو۔ اپنے باپوں اور اپنے بھائیوں کو دوست نہ بنا ئو اگر وہ لوگ کفر کو ایمان کے مقابلہ میں عزیز رکھیں) یعنی کفر کو ترجیح دیں اور پسند کریں۔ وَمَنْ یَّتَوَ لَّھُمْ مِّنْکُمْ (اور جو شخص تم میں سے ان کے ساتھ رفاقت رکھے گا) جو کافروں سے دوستی اختیار کرے گا۔ فَاُولٰٓپکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ (پس ایسے لوگ بڑے نافرمان ہیں)
Ayah 9:24یہ رشتہ داریاں اللہ اور رسول کے مقابلے میں بےحیثیت ہیں :
آیت 24: قُلْ اِنْ کَانَ ٰابَآ ؤُ کُمْ وَاَبْنَآ ؤُکُمْ وَاِخْوَانُکُمْ وَاَزْوَاجُکُمْ وَعَشِیْرَتُکُمْ (آپ کہہ دیں کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارا کنبہ) تمہارے اقارب۔ قراءت ؛ ابوبکر نے وعشیراتکم پڑھا ہے۔ وَاَمْوَالُ اڑقْتَرَفْتُمُوْھَا (اور وہ مال جو تم نے کمائے ہیں) جو مال تم نے کمایا۔ وَ تِجَارَۃٌ تَخْشَوْنَ کَسَادَھَا (اور وہ تجارت جس میں نکاسی ہونے کا تم کو خطرہ ہو) گرم بازاری کے وقت فوت ہونے کا وَمَسٰکِنُ تَرْضَوْنَھَآ اَحَبَّ اِلَیْکُمْ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَ جِھَادٍ فِیْ سَبِیلِہٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰی یَاْ تِیَ اللّٰہُ بِاَمْرِہٖ (اور وہ گھر جن کو تم پسند کرتے ہو۔ تم کو اللہ سے اور اس کے رسول سے اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ پیارے ہیں تو تم منتظر رہو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا حکم بھیج دے) جلد آنے والا عذاب یا بدیر ملنے والا عذاب یا فتح مکہ وَاللّٰہُ لَایَھْدِ ی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ (اور اللہ تعالیٰ بےحکمی کرنے والوں کو ان کے مقصود تک نہیں پہنچاتے) یہ آیت ان لوگوں کی شناعت احوال کا بیان ہے جو عقیدہ کی کمزوری اور یقین کے ضعف میں مبتلا ہیں۔ بڑے پرہیز گار بھی باپ، اولاد، مال متاع سے زیادہ دین سے محبت نہیں کرتے۔
Ayah 9:25مواقع نصرت :
آیت 25: لَقَدْ نََصَرَکُمْ اللّٰہُ فِیْ مَوَاطِنَ کَثِیْرَ ۃٍ (اللہ تعالیٰ نے تم کو بہت مواقع میں غلبہ دیا) نمبر 1۔ جیسا واقعہ بدر، قریظہ، بنی نضیر، حدیبیہ، خبیر، فتح مکہ، نمبر 2۔ وہ مواقع جن میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر ﷺ کی مدد کی اور ایمان والوں کی امداد فرمائی وہ اسّی 80 ہیں۔ مواطن الحرب : مقامات و مواقف حرب وَیَوْمَ حُنَیْنٍ (اور حنین کے دن بھی) یہاں یوم سے پہلے اذکروا محذوف ہے۔ یعنی تم یوم حنین کو یاد کرو۔
غزوئہ حنین :
حنین ایک وادی ہے جو مکہ اور طائف کے مابین ہے۔ اس میں مسلمانوں اور کفار کے درمیان معرکہ پیش آیا۔ مسلمانوں کی تعداد بارہ ہزار تھی۔ ہوازن و ثقیف جنکی تعداد چار ہزار بتلائی جاتی ہے۔ (مگر حافظ ابن حجر (رح) نے چو بیس ہزار لکھی ہے) جب مسلمانوں کا ان سے سامنا ہوا تو کسی مسلمان کی زبان سے نکل گیا۔ لن نغلب الیوم من قلۃ آج ہم قلت کی وجہ سے مغلوب نہ ہونگے۔ رسول اللہ ﷺ کو یہ بات گراں گزری۔ اِذْ (جب) یہ یوم سے بدل ہے۔ اَعْجَبَتْکُمْ کَثْرَ تُکُمْ (جب تمہاری کثرت نے تمہیں خودپسندی میں مبتلا کردیا) کثرت کی خود پسندی والی بات سامنے آگئی اور یہ بات ان کی نگاہ سے (بعض مراد ہیں) اوجھل ہوگئی کہ کثرت جنود سے فتح نہیں بلکہ من جانب اللہ ہے۔ پس اول وہلہ میں شکست کھا گئے اور شکست خوردہ مکہ پہنچ گئے۔
(مگر یہ بات خود قابل تحقیق ہے کسی معتبرروایت میں شکست خوردہ کا مکہ پہنچنا منقول نہیں)
آپ کی ثابت قدمی :
رسول اللہ ﷺ اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ ثابت قدم رہے۔ آپ کے خچر کی لگام عباس بن عبدالمطلب اور رکاب سفیان بن حارث تھامے ہوئے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا اے عباس ! لوگوں کو آواز دو ۔ ان کی آواز بہت بلند تھی۔ چناچہ انہوں نے آواز دی یا اصحاب الشجرہ۔ آواز پہنچتے ہی منتشر صحابہ یہ کہتے ہوئے آواز کی طرف بڑھے۔ لبیک، لبیک، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ابلق گھوڑوں پر سوار سفید کپڑوں میں ملبوس فرشتے اترے۔ اسی وقت رسول ﷺ نے مٹی کی ایک مٹھی لے کر خدا کے حکم سے دشمنوں کی طرف پھینکی پھر فرمایا خدا کرے تم شکست کھا جائو۔ رب کعبہ کی قسم تم شکست کھا جائو۔ پس کفار کو شکست ہوگئی ( مسلم) اس دن رسول اللہ ﷺ نے یہ دعا مانگی، اللّٰھم لک الحمد والیک المشتکٰی وانت المستعان “ یہ موسیٰ ( علیہ السلام) کی دعا ہے جو آپ نے سمندر پار کرتے وقت مانگی تھی۔
کثرت نے فائدہ نہ دیا :
فَلَمْ تُغْنِ عَنْکُمْ شَیْئًا وَّ ضَاقَتْ عَلَیْکُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ (تمہاری کثرت نے تم کو کچھ فائدہ نہ پہنچایا اور تم پر زمین باوجود اپنی وسعت کے تنگی کرنے لگی) نحو : مارحبت کا مامصدریہ ہے۔ اور با بمعنی مع ہے۔ ای مع رحبھا۔ وسعت کے باوجود اور اصل میں متلبسۃ برحبھا ہے۔ اس طرح کہ جار و مجرور حال ہیں۔ جیسا کہتے ہیں۔ دخلت علیہ بثیاب السفر یعنی متلبسًا بثیاب السفر۔ میں ان کے ہاں آیا سفر کے کپڑے پہننے کی حالت میں اب مطلب آیت کا یہ ہے کہ دشمن سے بھاگنے کی تمہیں جگہ نہیں مل رہی تھی۔ گویا کہ زمین ان پر تنگ ہوگئی۔ ثُمَّ وَلَّیْتُمْ مُّدْبِرِیْنَ (پھر تم پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے) پھر تم شکست کھا گئے۔
Ayah 9:26نزولِ سکینہ :
آیت 26: ثُمَّ اَنْزَلَ اللّٰہُ سَکِیْنَتَہٗ (پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی تسلی اتاری) اس کی وہ رحمت جس سے ان کو سکون ملا اور وہ ایمان لائے۔ عَلٰی رَسُوْلِہٖ وَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ وَاَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْھَا (اور ایسے لشکر نازل فرمائے جن کو تم نے نہیں دیکھا) یعنی ملائکہ، فرشتوں کی تعداد آٹھ ہزار تھی یا پانچ ہزار تھی یا سولہ ہزار تھی۔ وَعَذَّبَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا (اور کافروں کو سزا دی) قتل اور قید کا اور عورتوں اور بچوں کے قیدی بننے کا وَذٰلِکَ جَزَآئُ الْکٰفِرِیْنَ (اور یہ کافروں کی سزا ہے)
Ayah 9:27آیت 27: ثُمَّ یَتُوْبُ اللّٰہُ مِنْم بَعْدِ ذٰلِکَ عَلٰی مَنْ یَّشَآئُ (پھر اللہ تعالیٰ جس کو چاہیں توبہ نصیب کردیں) اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو ان میں سے اسلام لے آئے۔ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ (اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت والے ہیں) اسلام کے ذریعہ وہ کافر کے کفر کو چھپا دیتا ہے۔ رَّحِیْمٌ (بڑی رحمت کرنے والے ہیں) شکست کے بعد بھی دوست کی مدد کرتا ہے۔
Ayah 9:28مشرکین نجس ہیں ان کا داخلہ مسجد حرام میں ممنوع ہے :
آیت 28: یٰٓاَیـُّـھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْٓا اِنَّمَا الْمُشْرِکُوْنَ نَجَسٌ (اے ایمان والو۔ مشرک لوگ نرے ناپاک ہیں) پلیدی والے ہیں نجس مصدر ہے کہا جاتا ہے : نجس نجسًا و قذر قذرًا کیونکہ ان میں وہ شرک تھا۔ جو بمنزلہ نجاست ہے۔ اور اسلئے بھی کہ نہ وہ طہارت کرتے ہیں۔ نہ غسل کرتے ہیں نہ نجاسات سے بچتے ہیں تو گویا گندگی ان کو لباس کی طرح چمٹی ہوئی ہے۔ یا ان کو بعینہٖ نجاست قرار دیا۔ تاکہ وصف نجاست میں ان کے متعلق مبالغہ ظاہر ہو۔ فَـلَا یَقْرَبُوا الْمَسجِدَ الْحَرَامَ (وہ لوگ مسجد حرام کے پاس نہ آنے پائیں) نہ وہ حج کو آئیں اور نہ عمرہ کریں جیسا کہ وہ جاہلیت میں کیا کرتے تھے۔
بَعْدَ عَامِھِمْ ھٰذَا (اس سال کے بعد) یہ 9 ھ کی بات ہے جب ابوبکر ؓ کو امیر الحج بناکر بھیجا گیا تھا۔ قریب آنے کی نفی سے مراد حج وعمرہ کی ممانعت ہے۔ اور یہی ہمارا مذہب ہے البتہ دخول حرم اور مسجد حرام اور دیگر مساجد سے ان کو روکا نہیں جاسکتا۔ مگر امام شافعی (رح) کے نزدیک ان کو مسجد حرام کے قریب نہ آنے دیا جائے گا۔ اور امام مالک (رح) کے ہاں مسجد حرام اور دیگر تمام مساجد سے بھی ان کو روکا جائے گا۔
دوسرا قول مشرکین کو مسجد کے قریب آنے کی نفی کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان ان کو حرم میں اقتدار و اختیار حاصل نہ کرنے دیں۔
خطرئہ افلاس کی ممانعت :
وَاِنْ خِفْتُمْ عَیْلَۃً (اگر تم کو مفلسی کا خطرہ ہو) حج سے مشرکین کو روکنے کی وجہ سے اگر تمہیں فقر کا خطرہ ہو۔ کیونکہ ان کے آنے کی وجہ سے کئی سہولتیں اور اشیاء میسر آتی تھیں۔ فَسَوْفَ یُغْنِیْکُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ (تو اللہ تعالیٰ تم کو اپنے فضل سے محتاج نہ رکھے گا) نمبر 1۔ غنائم کے ذریعہ یا نمبر 2۔ بارش اور نباتات کی کثرت سے نمبر 3۔ مسلمان حاجی تجار کے ذریعہ اِنْ شَآئَ (اگر اللہ چاہے گا) اس میں تعلیم دی کہ اپنے معاملات کو اللہ تعالیٰ کی مشیت سے معلق کیا کرو۔ تاکہ تمام امیدیں اسی تک پہنچ کر منقطع ہوں۔ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ (بیشک اللہ خوب جاننے والا) تمہارے احوال کو حَکِیْمٌ (حکمت والا ہے) تمہاری امیدوں کو پورا کرنے میں۔ نمبر 2۔ وہ بندوں کی مصلحتوں سے واقف ہے اور جو وہ حکم دیتا ہے اور ارادہ کرتا ہے اس میں حکمت والا ہے۔
Ayah 9:29اہل کتاب اور دیگر کفار سے حکم قتال :
آیت 29: یہ اہل کتاب کے متعلق اتری۔ قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَایُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ (تم ان لوگوں سے لڑو جو نہ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں) کیونکہ یہ یہود دو خدا اور نصاریٰ تثلیث کے قائل ہیں۔ وَلَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ (اور نہ آخرت پر) کیونکہ اس کے متعلق وہ اس کے بر خلاف ہیں جو ان پر لازم ہے انکا عقیدہ ہے کہ جنت میں اکل و شرب نہیں ہے۔ وَلَا یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ (اور نہ ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے حرام بتلایا ہے) کیونکہ جو اللہ تعالیٰ نے کتاب و سنت میں حرام کیا اس کو حرام قرار نہیں دیتے۔ یا تورات و انجیل میں جو کچھ لکھا ہے اس کو ہی نہیں جانتے۔ وَلَا یَدِیْنُوْنَ دِیْنَ الْحَقِّ (اور نہ سچے دین کو قبول کرتے ہیں) وہ دین اسلام پر اعتقاد نہیں رکھتے۔ جو کہ برحق دین ہے۔ کہا جاتا ہے : فلان یدین بکذا۔ جب کہ وہ اس کو دین کے طور پر اختیار کرلے اور اس کا معتقد ہوجائے۔ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ (یہ ان لوگوں میں سے ہیں جو اہل کتاب ہیں) یہ الذین جو پہلے مذکور ہوا اس کا بیان ہے۔
مجوس کا حکم : جزیہ کے سلسلہ میں مجوس کا حکم اہل کتاب کی طرح ہے اسی طرح ترک، ہنود وغیرہ بھی ‘ صرف مشرکین عرب کا حکم مختلف ہے۔
امام زہری سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے عرب کے علاوہ دیگر تمام بت پرستوں سے جزیہ پر صلح کرلی۔ (عبدالرزاق فی تفسیرہ)
حَتّٰی یُعْطُوا الْجِزْیَۃَ (یہاں تک کہ جزیہ دینا قبول کرلیں) یہاں تک کہ وہ اسکو قبول کرلیں۔ جزیہ کو اسلئے جزیہ کہتے ہیں۔ نمبر 1۔ کہ جن پر یہ لازم کیا جاتا ہے۔ ان پر اس کی ادائیگی ضروری ہے۔ نمبر 2: ذلت کے ساتھ کفر میں جو مہلت ملی یہ اس کی سزا ہے۔ عَنْ یَّدٍ (ماتحت ہوکر) یعنی ایسے ہاتھ سے جو موافقت کرنے والا ہو۔ ممانعت کرنے والا اور باز رہنے والا نہ ہو۔ کیونکہ جس نے انکار کیا اور دینے کیلئے تیار نہ ہوا۔ اس کا ہاتھ امان میں نہ دیا گیا۔ البتہ مطیع و فرمانبردار اپنی مدد کا ہاتھ دینے والا ہے۔ اسی لئے محاورہ ہے۔ اعطٰی بیدہ اس وقت بولتے ہیں جب مطیع ہوجائے۔ اسی طرح کہا جاتا ہے نزع یدہ عن الطاعۃ۔ فلاں سرکش ہوا۔
نمبر 2۔ یہاں تک کہ جزیہ دست بدست دیں ادھار نہیں۔ اور خود آکر دیں کسی کے ہاتھ نہ بھیجیں۔ بلکہ دینے والا لینے والے کو خود دے۔ وَّ ھُمْ صٰغِرُوْنَ (اور رعایا بن کر رہیں) یہ ان سے بطور ذلت لیا جائے گا اور اس کی صورت یہ ہے کہ دینے کے لئے پیدل آئے سوار نہ ہو اور کھڑا ہونے کی حالت میں دے جبکہ وصولی والا نمائندہ اپنی نشست گاہ پر بیٹھنے والاہو۔ اور اس کو جنجھوڑا جائے اور گریبان سے پکڑا جائے اور اس طرح کہا جائے اے ذمی جزیہ ادا کرو۔ اور اگر وہ ادا کر رہا ہو تو اس کو پیچھے دھکیلا جائے اسلام لانے کی صورت میں جزیہ ساقط ہوجائے گا۔
Ayah 9:30یہود و نصاریٰ پہلے کفار کی طرح ہیں :
آیت 30: وَقَالَتِ الْیَھُوْدُ (اور یہود نے کہا) تمام یا بعض نے عُزَیْرُ ڑابْنُ اللّٰہِ (کہ عزیر اللہ کا بیٹا ہے) یہ مبتداء اور خبر ہے۔ جیسا کہ المسیح ابن اللہ کی ترکیب ہے۔ عزیر، یہ عجمی نام ہے غیر منصرف ہے علم و عجمیت کی وجہ سے ہے جنہوں نے اس کو منصرف مانا انہوں نے تنوین سے پڑھا وہ عاصم، علی ہیں۔ وَقَالَتِ النَّصٰرَی الْمَسِیْحُ ابْنُ اللّٰہِ ذٰلِکَ قَوْلُھُمْ بِاَفْوَاھِھِمْ (اور نصاریٰ نے کہا کہ مسیح اللہ کے بیٹے ہیں یہ ان کا قول ہے۔ ان کے منہ سے کہنے کا) یہ ایسا قول ہے جس کی معاون کوئی دلیل صحیح موجود نہیں ہے۔ اور نہ کسی کا بیان اس کی سند میں پیش کیا جاسکتا ہے بس یہ منہ سے نکالا جانے والا لفظ محض ہے۔ جو اپنے ساتھ کوئی معنی نہیں رکھتا جیسا کہ مہمل الفاظ ہوتے ہیں۔
یُضَاھِئُوْنَ قَوْلَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ (یہ بھی ان لوگوں جیسی باتیں کرنے لگے جو ان سے پہلے کافر ہوچکے) اس میں حذف مضاف ضروری ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے یضا ہی قولھم قولھم انکا قول ان کے قول کے مشابہ ہے۔ پھر مضاف کو حذف کر کے ضمیر کو اس کے قائم مقام کردیا۔ اسلئے یہ مرفوع میں بدل گیا۔ یعنی ان الذین کانوافی عہد رسول اللہ امن الیہود والنصاری یضاہی قولہم قول قد مائھم مطلب یہ ہے کہ انکا پرانا کفر ہے جو ان میں چلا آرہا ہے جدید نہیں نمبر 2۔ ضمیر نصاریٰ کی طرف راجع ہے۔ یعنی یضاہی قولہم۔ نصاریٰ کا قول یہود کے قول کے مشابہ ہے نصاریٰ نے المسیح ابن اللہ کہا ہے۔ جبکہ یہودنے جو ان سے پہلے ہوئے انہوں نے عزیرابن اللہ کہا۔
قراءت : یضاھئون عاصم نے پڑھا۔ اور اصل المضاہاۃ بمعنی مشابہت اکثر قراء نے ہمزہ کو چھوڑا اور ان کا قول امراۃ ضھیاء سے مشتق ہے۔ اس عورت کو کہتے ہیں جو مردوں کی مشابہت اختیار کرے کہ اس کو حیض نہ آئے زجاج کا قول یہی ہے۔
قٰتَلَھُمُ اللّٰہُ (اللہ ان کو غارت کرے) یعنی وہ اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کو یہ کہا جائے اَنّٰی یُؤْفَکُوْنَ (یہ کدھر الٹے جا رہے ہیں) دلیل کے واضح ہوجانے کے باوجود وہ حق سے کس طرح پھر رہے ہیں۔