9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsمدارک التنزیل

Ayah 9:62

یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ لِیُرْضُوْكُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَحَقُّ اَنْ یُّرْضُوْهُ اِنْ كَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:62 in the Quran reader

(مومنو ! ) یہ لوگ تمہارے سامنے خدا کی قسمیں کھاتے ہیں تاکہ تم کو خوش کردیں۔ حالانکہ اگر یہ (دل سے) مومن ہوتے تو خدا اور اسکے پیغمبر ﷺ خوش کرنے کے زیادہ مستحق ہیں۔

مسلمانوں کو خوش کرنے کے لئے قسمیں کھانا ‘ حالانکہ اللہ اور رسول کو راضی کرنا چاہیے : آیت 62: یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰہِ لَکُمْ لِیُرْضُوْکُمْ (وہ لوگ تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں تاکہ تم کو راضی کرلیں) اس میں مسلمانوں کو خطاب فرمایا۔ منافقین طعنہ زنی کرتے یا جہاد سے تخلف اختیار کرتے پھر معذرت کیلئے آجاتے اور پکی قسمیں اٹھاکر معذرتیں پیش کرتے اور مسلمانوں کو راضی کرتے اس میں انہیں فرمایا۔ وَاللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ اَحَقُّ اَنْ یُّرْضُوْہُ اِنْ کَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ (حالانکہ اللہ اور اس کا رسول زیادہ حق رکھتے ہیں کہ اگر یہ لوگ سچے مسلمان ہیں تو ان کو راضی کریں) یعنی اگر تم اپنے زعم و خیال کے مطابق مومن ہو تو اللہ اور اس کے رسول کو اطاعت ووفاداری سے کرنا تمہارا فرض ہے۔ ہٗ ؔ کی ضمیر واحد لاکر بتلا دیا کہ اللہ اور اس کے رسول کی رضامندی ایک چیز ہے اس میں کوئی فرق نہیں۔ جیسا کہا جاتا ہے احسان زید واجمالہ نعشنی۔ اب احسان و اجمال ایک شئی ہی ہے۔ نمبر 2۔ واللّٰہ احق ان یرضوہ ورسولہ احق ان یرضوہ اللہ تعالیٰ اس بات کے حق دار ہیں کہ اس کو راضی کیا جائے اور اس کا رسول بھی اس بات کا حقدار ہے کہ اس کو راضی کیا جائے۔
Ayah 9:63

اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّهٗ مَنْ یُّحَادِدِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاَنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدًا فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ الْخِزْیُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:63 in the Quran reader

کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں کہ جو شخص خدا اور اس کے رسول ﷺ سے مقابلہ کرتا ہے تو اس کے لئے جہنم کی آگ (تیار) ہے جس میں وہ ہمیشہ (جلتا) رہے گا ؟ یہ بڑی رسوائی ہے۔

اللہ و رسول کا مخالف جہنمی ہے : آیت 63: اَلَمْ یَعْلَمُوْٓا اَنَّہٗ (کیا ان کو معلوم نہیں کہ شان یہ ہے) معاملہ اور شان یہ ہے مَنْ یُّحَادِدِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ (جو شخص اللہ کی اور اس کے رسول کی مخالفت کرے گا) مخالفت میں جو حد سے تجاوز کرنے والا ہے۔ یہ حاد د، مفاعلہ کے وزن پر ہے۔ یہ الحد سے بنا ہے۔ جیسا الشق سے المشاقہ فَاَنَّ لَہٗ (تو یہ بات ٹھہر چکی ہے کہ ایسے شخص کیلئے) اس کی خبر محذوف ہے۔ یعنی فحق اَنَّ لَہٗ پس واقعہ یہ ہے کہ اسی کے لئے نَارَ جَھَنَّمَ خَالِدًا فِیْھَا ذٰلِکَ الْخِزْیُ الْعَظِیْمُ (دوزخ کی آگ ہے اس میں وہ ہمیشہ رہے گا یہ بہت بڑی رسوائی ہے)
Ayah 9:64

یَحْذَرُ الْمُنٰفِقُوْنَ اَنْ تُنَزَّلَ عَلَیْهِمْ سُوْرَةٌ تُنَبِّئُهُمْ بِمَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ قُلِ اسْتَهْزِءُوْا١ۚ اِنَّ اللّٰهَ مُخْرِجٌ مَّا تَحْذَرُوْنَ Open ayah 9:64 in the Quran reader

منافق ڈرتے رہتے ہیں کہ ان (کے پیغمبر ﷺ پر کہیں کوئی ایسی سورت (نہ) اتر آئے کہ ان کے دل کی باتوں کو ان (مسلمانوں) پر ظاہر کردے۔ کہہ دو کہ ہنسی کیے جاؤ جس بات سے تم ڈرتے ہو خدا اس کو ضرور ظاہر کردے گا۔

منافقین کو اپنے متعلق سورت اترنے کا خطرہ : آیت 64: یَحْذَرُ الْمُنٰفِقُوْنَ (منافق اس سے اندیشہ کرتے ہیں) یہ خبر ہے جو امر کا معنی دیتی ہے ای لیحذر المنافقون۔ منافقین کو ڈرنا چاہیئے۔ اَنْ تُنَزَّلَ عَلَیْھِمْ سُوْرَۃٌ (کہ مسلمانوں پر کوئی ایسی سورت اتار دی جائے) مکی و بصری قراء نے تُنْزِلَتخفیف سے پڑھا ہے۔ تُنَبِّئُھُمْ بِمَا فِیْ قُلُوْبِھِمْ (جو ان کو منافقین کے دل کی بات پر مطلع کر دے) کفر اور منافقت۔ نمبر 1۔ اس میں ضمیریں منافقین کی طرف لوٹتی ہیں جب سورت ان کے متعلق نازل ہوتی ہے تو گویا ان پر اترتی ہے اس کی دلیل یہ آیت ہے قل استہزئُ وا۔ یہ استہزاء کرنے والے منافقین ہی تھے۔ نمبر 2۔ پہلی دونوں ایمان والوں کی طرف اور تیسری منافقین کی طرف اور یہ درست ہے کیونکہ معنی اس کی طرف لے جاتا ہے۔ امر تہدیدی : قُلِ اسْتَھْزِئُ وْا (آپ فرما دیں کہ اچھا تم استہزاء کرتے رہو) یہ امر تہدید کیلئے ہے۔ اِنَّ اللّٰہَ مُخْرِجٌ مَّا تَحْذَرُوْنَ (بےشک اللہ اس چیز کو ظاہر کر کے رہے گا جس کا تم اندیشہ کرتے تھے) اس کو ظاہر کرنے والے ہیں جس سے تم ڈر رہے ہو۔ یعنی تمہیں اپنے نفاق کے ظاہر ہونے کا ڈر ہے۔ چناچہ منافقین ہر وقت اسلام اور مسلمانوں کے سلسلہ میں استہزاء کرنے پر محسوس کرتے کہ کہیں وحی نازل ہو کر ان کی رسوائی نہ کر دے۔ یہاں تک کہ بعض کہنے لگے کہ مجھے تو یہ پسند ہے۔ کہ سامنے لا کر سو کوڑے مارلئے جائیں مگر کوئی رسوا کن چیز ہمارے بارے میں نہ اترنے پائے۔
Ayah 9:65

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّمَا كُنَّا نَخُوْضُ وَ نَلْعَبُ١ؕ قُلْ اَبِاللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ وَ رَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 9:65 in the Quran reader

اور اگر تم ان سے (اس بارے میں) دریافت کرو تو کہیں گے کہ ہم تو یوں ہی بات چیت اور دل لگی کرتے تھے۔ کہو کیا تم خدا اور اسکی آیتوں اور اس کے رسول ﷺ سے ہنسی کرتے تھے ؟

استہزاء پر استفسار اور خوش طبعی کا بہانہ کردیا : آیت 65: وَلَپنْ سَاَلْتَھُمْ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّمَا کُنَّا نَخُوْضُ وَنَلْعَبُ (اور اگر آپ ان سے پوچھیں تو ضرور کہہ دیں گے ہم تو محض مشغلہ اور خوش طبعی کر رہے تھے) رسول اللہ ﷺ غزوئہ تبوک کی طرف تشریف لے جارہے تھے۔ منافقین کی ایک جماعت آپ سے آگے آگے چل رہی تھی۔ وہ آپس میں کہنے لگے اس شخص کو دیکھو شام کے قلعے اور محلات فتح کرنا چاہتا ہے یہ بعید، بہت بعید ہے کہ یہ امید پوری ہو۔ اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ آپ کو مطلع کردیا آپ نے فرمایا احبسوا علی الرکب ان سواروں کو روک کر میرے پاس لائو۔ جب وہ آئے تو آپ نے فرمایا تم نے یہ، یہ بات کی ہے۔ اس پر کہنے لگے۔ یانبی اللہ ! ہم آپ کے متعلق یا آپ کے اصحاب کے متعلق کوئی بات نہیں کر رہے تھے۔ بلکہ ہم ایسی بات میں مصروف تھے۔ جس سے سفر کی مشقت و صعوبت کم ہو۔ یعنی اگر آپ ان سے پوچھیں تم نے یہ کیوں کر کہا۔ تو ضرور یہ جواب دیں گے ہم تو ایک دوسرے سے ہنسی مذاق کر رہے تھے۔ آپ ان کو فرما دیں۔ کیا منافقین کو ہنسی مذاق کے لئے اللہ و رسول ہی ملا ہے : قُلْ اَبِا للّٰہِ وَ ٰایٰتِہٖ وَرَسُوْلِہٖ کُنْتُمْ تَسْتَھْزِئُ وْنَ (آپ کہہ دیں کہ کیا اللہ کے ساتھ اور اس کی آیتوں کے ساتھ اور اس کے رسول کے ساتھ تم ہنسی کرتے تھے) نمبر 1۔ ان کی معذرت کی کوئی پرواہ نہ کی کیونکہ وہ جھوٹ بول رہے تھے۔ پس ان کو اپنے استہزاء کا گویا معترف قرار دیا گیا۔ (کہ استہزاء کا تو تمہیں اعتراف ہے اور اب موقعہ جھوٹ بول کر دوسرا بتاتے ہو ؟ ) نمبر 2۔ ہمزہ تقریری کو باللہ وآیاتہ الاٰیۃ پر داخل کر کے ظاہر کردیا کہ ان کو اپنے استہزاء کا اعتراف تھا۔ کیونکہ یہ ہمزہ ثابت شدہ چیز پر داخل ہوتا ہے۔ گویا وہ مذاق کے معترف تھے۔ اسی لئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو توبیخ کی کہ یہ موضوع سخن تمہارا غلط ہے۔
Ayah 9:66

لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ١ؕ اِنْ نَّعْفُ عَنْ طَآئِفَةٍ مِّنْكُمْ نُعَذِّبْ طَآئِفَةًۢ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 9:66 in the Quran reader

بہانے مت بناؤ تم ایمان لانے کے بعد کافر ہوچکے ہو۔ اگر ہم تم میں سے ایک جماعت کو معاف کردیں تو دوسری جماعت کو سزا بھی دینگے۔ کیونکہ وہ گناہ کرتے رہے ہیں۔

جھوٹے بہانے نہ بنائو تم تو کافر ہوگئے ہو توبہ کرو : آیت 66: لَا تَعْتَذِرُوْا (تم اب بہانے مت کرو) اپنے جھوٹے اعذار میں مشغول مت رہو یہ تمہار امنافقت والا راز ظاہر ہونے کے بعد قطعاً فائدہ مند نہ ہونگے۔ قَدْ کَفَرْتُمْ (تم تو کفر کرنے لگے) تم نے تو اپنے استہزاء سے چھپا ہوا کفر ظاہر کردیا۔ بَعْدَ اِیْمَانِکُمْ (اپنے ایمان کے بعد) ایمان کے ظاہر کرنے کے بعد اِنْ نَّعْفُ عَنْ طَآپفَۃٍ مِّنْکُمْ (اگر ہم تم میں سے بعض کو چھوڑ بھی دیں) ان کی توبہ اور نفاق کے بعد مخلصانہ ایمان لانے سے نُعَذِّبْ طَآپفَۃً بِاَنَّھُمْ کَانُوْامُجْرِمِیْنَ (تو ہم دوسرے گروہ کو تو سزا دیں گے اس سبب سے کہ وہ مجرم تھے) نفاق پر اصرار کرنے والے اور اس سے توبہ کرنے والے نہ تھے۔ قراءت : تُعَذَّب طائفۃٌ عاصم کے علاوہ دوسروں نے پڑھا ہے۔
Ayah 9:67

اَلْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ بَعْضُهُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۘ یَاْمُرُوْنَ بِالْمُنْكَرِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوْفِ وَ یَقْبِضُوْنَ اَیْدِیَهُمْ١ؕ نَسُوا اللّٰهَ فَنَسِیَهُمْ١ؕ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 9:67 in the Quran reader

منافق مرد اور منافق عورتیں ایک دوسرے کے ہم جنس (یعنی ایک ہی طرح کے) ہیں کہ برے کام کرنے کو کہتے اور نیک کاموں سے منع کرتے اور (خرچ کرنے سے) ہاتھ بند کئے رہتے ہیں۔ انہوں نے خدا کو بھلا دیا تو خدا نے بھی ان کو بھلا دیا۔ بیشک منافق نافرمان ہیں۔

منافقین مرد و عورتیں کامل فاسق ہیں : آیت 67: اَلْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ (منافق مرد اور منافق عورتیں تعلیم دیتے ہیں) منافق مردوں کی تعداد تین سو (300) اور عورتوں کی تعداد ایک سو ستر (170) تھی۔ بَعْضُھُمْ مِّنْ 7 بَعْضٍ (سب ایک طرح کے ہیں) گویا وہ ایک جان کی طرح ہیں۔ اس میں ان کے مومن ہونے کی نفی ہے اور ان کی تکذیب ان کے اس قول میں موجود ہے ویحلفون باللّٰہ انہم لمنکم اور یہ وما ھم منکم کو اور پختہ کر رہی ہے۔ ان کی تعریف ایسے الفاظ سے بیان فرمائی جو مسلمانوں کی حالت کے بالکل متضاد و مخالف ہے۔ یَاْ مُرُوْنَ بِالْمُنْکَرِ (وہ بری بات کی تعلیم دیتے ہیں) کفرو معصیت کا وَ یَنْھَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوْفِ (اور اچھی بات سے منع کرتے ہیں) اطاعت اور ایمان سے وَیَقْبِضُوْنَ اَیْدِیَھُمْ (اور اپنے ہاتھوں کو بند رکھتے ہیں) نیک مقام پر خرچ سے بخل برتتے ہوئے اور صدقات اور انفاق فی سبیل اللہ سے گریز کرتے ہوئے نَسُوا اللّٰہَ (وہ اللہ کو بھول گئے) اللہ تعالیٰ کے حکم کو چھوڑ دیا یا اس کے ذکر سے غفلت اختیار کی فَنَسِیَھُمْ (پس اللہ تعالیٰ نے ان کا خیال نہ کیا) ان کو اپنی رحمت و فضل سے محروم کردیا۔ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ (بلاشبہ منافق بڑے ہی سرکش ہیں) وہ کامل فاسق ہیں جس کو کفر میں سرکشی اور ہر بھلائی سے علیحدگی کا نام دینا چاہیے مومن کے لئے یہ ڈانٹ کافی ہے کہ اس کے عمل پر اس برے نام کا اطلاق ہو، جس کو اللہ تعالیٰ نے منافقین کی انتہائی قابل مذمت صفت کہہ کر ذکر کیا۔ (سورئہ حجرات کی آیت میں بھی فرمایا (بئس الاسم الفسوق بعد الایمان)
Ayah 9:68

وَعَدَ اللّٰهُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْكُفَّارَ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ هِیَ حَسْبُهُمْ١ۚ وَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌۙ Open ayah 9:68 in the Quran reader

اللہ نے منافق مردوں اور منافق عورتوں اور کافروں سے آتش جہنم کا وعدہ کیا ہے جس میں ہمیشہ (جلتے) رہیں گے۔ وہی انکے لائق ہے اور خدا نے ان پر لعنت کردی ہے اور ان کے لئے ہمیشہ کا عذاب (تیار) ہے۔

کفار و منافقین ہمیشہ کی جہنم کے حقدار اور ملعون ہیں : آیت 68: وَعَدَ اللّٰہُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَالْمُنٰفِقٰتِ وَالْکُفَّارَ نَارَ جَھَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا (اللہ تعالیٰ نے منافق مردوں اور منافق عورتوں اور کفار سے دوزخ کی آگ کا وعدہ کر رکھا ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے) اس میں ان کے لئے خلودطے ہوچکا۔ ھِیَ (وہ) آگ حَسْبُھُمْ (ان کے لئے کافی ہے) اس میں ان کے عذاب کے بہت بڑے ہونے کی دلالت ہے کہ جس پر اضافے کی ضرورت نہیں۔ وَلَعَنَھُمُ اللّٰہُ (اور اللہ تعالیٰ ان کو اپنی رحمت سے دور کر دے گا) ان کی تعذیب کے ساتھ توہین کی جائیگی اور ان کو مذمت میں ملعون شیاطین کے زمرہ میں شامل کردیا وَلَھُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ (اور ان کے لئے لازوال عذاب ہوگا) جو اس جلدی ملنے والی زندگی میں ہمیشہ رہے گا اس سے کبھی الگ نہ کیا جائے گا اور وہ۔ نمبر 1۔ منافقت کی مشقت۔ نمبر 2۔ مسلمانوں کے خوف سے باطن کا ظاہر سے مخالف ہونا۔ نمبر 3۔ رسوائی کا ہر گھڑی دغدغہ۔ نمبر 4۔ اسرار پر اطلاع کی صورت میں نزول عذاب کی لٹکنے والی تلوار۔
Ayah 9:69

كَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْكُمْ قُوَّةً وَّ اَكْثَرَ اَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًا١ؕ فَاسْتَمْتَعُوْا بِخَلَاقِهِمْ فَاسْتَمْتَعْتُمْ بِخَلَاقِكُمْ كَمَا اسْتَمْتَعَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ بِخَلَاقِهِمْ وَ خُضْتُمْ كَالَّذِیْ خَاضُوْا١ؕ اُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 9:69 in the Quran reader

(تم منافق لوگ) ان لوگوں کی طرح ہو جو تم سے پہلے ہوچکے ہیں۔ وہ تم سے بہت طاقتور اور مال و اولاد کہیں زیادہ تھے۔ تو وہ اپنے حصے سے بہرہ یاب ہوچکے۔ سو جس طرح تم سے پہلے لوگ اپنے حصے سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ اسی طرح تم نے اپنے حصے سے فائدہ اٹھا لیا۔ اور جس طرح وہ باطل میں ڈوبے رہے اسی طرح تم باطل میں ڈوبے رہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت میں ضا ئع ہوگئے اور یہی نقصان اٹھانے والے ہیں۔

اے منافقو ! تمہارا حال پہلوں جیسا ہے جو دنیا کے مزے لوٹ کر عذاب کا شکار بنے ‘ تم بھی بنو گے : آیت 69: کَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ کَانُوْٓا اَشَدَّ مِنْکُمْ قُوَّۃً وَّ اَکْثَرَاَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًا فَاسْتَمْتَعُوْا بِخَلَاقِھِمْ فَاسْتَمْتَعْتُمْ بِخَلَاقِکُمْ کَمَا اسْتَمْتَعَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ بِخَلَاقِھِمْ ۔ (تمہاری حالت ان لوگوں جیسی ہے جو تم سے پہلے ہوچکے ہیں وہ طاقت کے اضافہ اور مال و اولاد کی کثرت میں تم سے بڑھ کر تھے پس انہوں نے اپنے حصے سے خوب فائدہ حاصل کیا پس تم نے بھی اپنے حصے سے خوب فائدہ حاصل کیا جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں نے اپنے حصے سے فائدہ حاصل کیا تھا) کاف کالذین میں محل رفع میں واقع ہے یعنی ان لوگوں کی طرح ہو جو تم سے پہلے ہوئے۔ نمبر 2۔ یہ منصوب ہے فعلتم کی وجہ سے ای فعلتم مثل فعل الذین من قبلکم تم نے وہی فعل کیا جو ان لوگوں نے کیا جو تم سے پہلے ہوئے۔ اور وہ فعل یہ ہے کہ تم نے اپنے دنیوی حصہ سے خوب فائدہ اٹھایا جیسا ان لوگوں نے اٹھایا مطلب یہ ہے دنیا کی لذتوں سے فائدہ اٹھایا۔ الخلاقؔ، حصہ یہ خلق سے بنا ہے۔ وہ اندازے کو کہتے ہیں۔ ماخلق للانسان کا معنی ماقدرمن خیرٍجو خیر مقدر ہو۔ وَخُضْتُمْ (اور تم بری باتوں میں گھس گئے) باطل میں کَالَّذِیْ خَاضُوْا (جیسا وہ گھسے تھے) اس فوج کی طرح جو گھسنے والی ہو۔ نمبر 1۔ اس گھسنے کی طرح جیسے وہ گھسے۔ الخوض کا معنی لہو و باطل میں داخل ہونا۔ نکتہ : فاستمتعوا بخلاقھم کو پہلے ذکر کیا گیا حالانکہ استمتع الذین من قبلکم بخلاقہم اس کی جگہ کفایت کرنے والا ہے۔ یہ اس لئے شروع میں لائے تاکہ پہلے لوگوں کا حظوظ دنیا سے لذت اندوز ہونا اور شہوات فانیہ میں مشغول ہونا ظاہر ہو۔ وہ دنیا میں پڑ کر عاقبت کو بالکل بھول گئے اور آخرت کی قطعًا طلب نہ رہی پھر کما استمتع لا کر موجودہ لوگوں کی حالت کو ان کی حالت سے تشبیہ دی۔ اُولٰٓپکَ حَبِطَتْ اَعْمَالُھُمْ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ (اور ان کے اعمال دنیا اور آخرت میں ضائع ہوگئے) یہ اس قول کے بالمقابل لائے : وَ ٰاتَیْنٰہُ اَجْرَہٗ فِی الدُّنْیَاجوَاِنَّہٗ فِی الْاٰخِرَۃِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ (العنکبوت : 27) وَاُولٰٓپکَ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ (اور وہ لوگ بڑے نقصان میں ہیں) پھر پہلے لوگوں کے حالات ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔ پہلی اقوام کی ان کو خبریں ملیں مگر عبرت حاصل نہیں کی بلکہ اسی کفر و تکذیب کے سبب وہ ہلاک ہوئے :
Ayah 9:70

اَلَمْ یَاْتِهِمْ نَبَاُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ١ۙ۬ وَ قَوْمِ اِبْرٰهِیْمَ وَ اَصْحٰبِ مَدْیَنَ وَ الْمُؤْتَفِكٰتِ١ؕ اَتَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ۚ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 9:70 in the Quran reader

کیا ان کو ان لوگوں (کے حالات) کی خبر نہیں پہنچی جو ان سے پہلے تھے ؟ (یعنی) نوح (علیہ السلام) اور عاد اور ثمود کی قوم اور ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم اور مدین والے اور الٹی ہوئی بستیوں والے۔ ان کے پاس پیغمبر نشانیاں لے کر آئے اور خدا تو ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا لیکن وہی اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے۔

آیت 70: اَلَمْ یَاْ تِھِمْ نَبَاُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ قَوْمِ نُوْحٍ (کیا ان لوگوں کو ان کی خبر نہیں پہنچی جو ان سے پہلے ہوئے ہیں جیسے قوم نوح) یہ الذین سے بدل ہے۔ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ ۔ وَقَوْمِ اِبْرٰھِیْمَ وَاَصْحٰبِ مَدْیَنَ (اور عاد اور ثمود اور ابراہیم ( علیہ السلام) کی قوم اور اہل مدین) اہل مدین یہ شعیب ( علیہ السلام) کی قوم تھی۔ وَالْمُؤْتَفِکٰتِ (اور الٹی ہوئی بستیاں) قوم لوط کے شہر ائتفاکھن ان کی حالت خیر کو شر سے پلٹ دیا۔ اَتَتْھُمْ رُسُلُھُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیَظْلِمَھُمْ (کہ ان کے رسول ان کے پاس صاف نشانیاں لے کر آئے پس اللہ نے تو ان پر ظلم نہیں کیا) یہ صحیح نہیں کہ اسی نے ان کو ظلم سے ہلاک کیا ہو کیونکہ وہ حکیم ہے بلا جرم سزا نہیں دیتا۔ وَلٰکِنْ کَانُوْٓ ا اَنْفُسَھُمْ یَظْلِمُوْنَ (لیکن وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے) کفر اور تکذیب رسل کے ساتھ۔
Ayah 9:71

وَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ۘ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ یُطِیْعُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ سَیَرْحَمُهُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:71 in the Quran reader

اور مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے دوست ہیں کہ اچھے کام کرنے کو کہتے اور بری باتوں سے منع کرتے اور نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے اور خدا اور اس کے پیغمبر ﷺ کی اطاعت کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن پر خدا رحم کرے گا۔ بیشک خدا غالب حکمت والا ہے۔

مومن مردوں ‘ عورتوں پر اللہ کی رحمتیں ہوں گی : آیت 71: وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُھُمْ اَوْلِیَآئُ بَعْضٍ (اور مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے رفیق ہیں) تنا صرو تراحم میں یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ (وہ نیک باتوں کی تعلیم دیتے ہیں) اطاعت و ایمان کے ذریعہ وَیَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ (اور بری باتوں سے منع کرتے ہیں) شرک اور معصیات وَیُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَیُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَیُطِیْعُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ ط اُولٰپکَ سَیَرْ حَمُھُمُ اللّٰہُ (اور نماز کی پابندی رکھتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کا کہنا مانتے ہیں ان لوگوں پر ضرور اللہ تعالیٰ رحمت کرے گا) سین ؔ لائی گئی جو بہر صورت وجود رحمت کا فائدہ دے رہی ہے۔ اس سے وعدے کی تاکید کردی جیسا کہ وعید میں یہ سین وعید کی تاکید کیلئے آئی ہے مثلاً سانتقم منک یومًا۔ اِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ (بےشک اللہ تعالیٰ قادر ہے) ہر چیز پر غالب ہے اور قادر ہے ثواب و عقاب دے سکتا ہے حَکِیْمٌ (حکمت والا ہے) ہر چیز کو اس کے مقام پر رکھنے والا ہے۔
Ayah 9:72

وَعَدَ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ مَسٰكِنَ طَیِّبَةً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍ١ؕ وَ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ اَكْبَرُ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ Open ayah 9:72 in the Quran reader

خدا نے مومن مردوں اور مومن عورتوں سے بہشتوں کا وعدہ کیا ہے۔ جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں (وہ) ان میں ہمیشہ رہیں گے اور بہشت ہائے جاودانی میں نفیس مکانات کا (وعدہ کیا ہے) اور خدا کی رضامندی تو سب سے بڑھ کر نعمت ہے۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔

ان سے ہمیشہ کی جنت کا وعدہ : آیت 72: وَعَدَ اللّٰہُ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَاالْاََنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا وَمَسٰکِنَ طَیِّبَۃً (اللہ تعالیٰ نے مومن مردوں اور مومن عورتوں سے ایسے باغات کا وعدہ کر رکھا ہے جن کے نیچے سے نہریں چلتی ہوں گی جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور شاندار مکانوں کا) جن میں زندگی خوب گزرے گی۔ حضرت حسن (رح) فرماتے ہیں موتیوں کے محلات، یا قوت احمر اور زبر جد کے بنگلے۔ فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍٍ (جو کہ ان ہمیشگی کے باغوں میں ہوں گے) عدن یہ نام ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا : جَنّٰتِ عَدْنِ اڑلَّتِیْ وَعَدَ الرَّحْمٰنُ (مریم : 61) نکتہ : الذی اور التی کو جملہ کے شروع میں لاتے ہیں جبکہ جملہ کو معرفہ کی صفت بنائیں۔ پس عدن یہاں اسی طرح لایا گیا ہے۔ یہ جنت کا شہر ہے۔ وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰہِ (اور اللہ تعالیٰ کی رضا مندی) اللہ تعالیٰ کی رضامندیوں میں سے کچھ اَکْبَرُ (سب سے بڑی چیز ہے) ان تمام سے بڑھ کر ہے کیونکہ اس کی رضا ہر سعادت و کامیابی کا اصل سبب ہے۔ ذٰلِکَ (یہ) نمبر 1۔ اس وعدے کی طرف اشارہ فرمایا۔ نمبر 2۔ رضوان کی طرف اشارہ ہے۔ ھُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ (بڑی کامیابی ہے) صرف یہی کامیابی ہے وہ کامیابی نہیں جس کو لوگ کامیابی قرار دیتے ہیں۔
Ayah 9:73

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ اغْلُظْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 9:73 in the Quran reader

اے پیغمبر ﷺ ! کافروں اور منافقوں سے لڑو اور ان پر سختی کرو۔ اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے۔

کفار و منافقین سے سخت رویہ اختیار کریں : آیت 73: یٰٓـاَیـُّھَا النَّبِیُّ جَاھِدِ الْکُفَّارَ (اے نبی جہاد کریں کفار سے) تلوار سے وَالْمُنٰفِقِیْنَ (اور منافقین سے) دلیل سے وَاغْلُظْ عَلَیْھِمْ (اور ان پر سختی کریں) ان دونوں جہادوں میں اور ان سے مت ڈرو۔ مسئلہ : ہر وہ شخص جس کے عقیدہ میں خرابی ہو اس کا یہی حکم ہے کہ دلیل سے اس کے ساتھ جہاد کیا جائے گا اور اس کے معاملے میں حتی الامکان سختی برتی جائے گی۔ وَمَاْوٰٹھُمْ جَھَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِیْرُ (اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے) جہنم۔
Ayah 9:74

یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ مَا قَالُوْا١ؕ وَ لَقَدْ قَالُوْا كَلِمَةَ الْكُفْرِ وَ كَفَرُوْا بَعْدَ اِسْلَامِهِمْ وَ هَمُّوْا بِمَا لَمْ یَنَالُوْا١ۚ وَ مَا نَقَمُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ اَغْنٰىهُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ فَاِنْ یَّتُوْبُوْا یَكُ خَیْرًا لَّهُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّتَوَلَّوْا یُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ عَذَابًا اَلِیْمًا١ۙ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ مَا لَهُمْ فِی الْاَرْضِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 9:74 in the Quran reader

یہ خدا کی قسمیں کھاتے ہیں کہ انہوں نے (تو کچھ) نہیں کہا حالانکہ انہوں نے کفر کا کلمہ کہا ہے اور یہ اسلام لانے کے بعد کافر ہوگئے ہیں اور ایسی بات کا قصد کرچکے ہیں جس پر قدرت نہیں پا سکے اور انہوں نے (مسلمانوں میں) عیب ہی کونسا دیکھا ہے سوا اس کے کہ خدا نے اپنے فضل سے اور اس کے پیغمبر ﷺ نے (اپنی مہربانی سے) ان کو دولتمند کردیا ہے ؟ تو اگر یہ لوگ توبہ کرلیں تو ان کے حق میں بہتر ہوگا اور اگر منہ پھیر لیں تو خدا ان کو دنیا اور آخرت میں دکھ دینے والا عذاب دیگا۔ اور زمین میں ان کا کوئی دوست اور مددگار نہ ہوگا۔

آیت 74: شان نزول : رسول اللہ ﷺ نے دو ماہ تک تبوک میں قیام فرمایا۔ آپ پر قرآن مجید اترتا رہا۔ منافقین متخلفین کے سربستہ عقائد کو طشت ازبام کرتا رہا۔ ان میں سے جو ساتھ تھے وہ ان آیات کو سنتے رہے ان میں سے ایک جلاس بن سوید تھا۔ اس نے آیات کو سن کر کہا اللہ کی قسم ! اگر محمد ﷺ کی بات ہم پیچھے رہ جانے والے سرداروں کے متعلق درست ہے تو ہم گدھوں سے بھی زیادہ برے ہیں۔ اس پر عامر بن قیس انصاری ؓ نے جلاس کو کہا جی ہاں محمد ﷺ صادق المصدوق ہیں۔ اور تو گدھے سے بھی زیادہ بدتر ہے۔ جب یہ بات رسول اللہ ﷺ کو پہنچی تو آپ نے جلاس کو بلایا۔ تو وہ جھوٹی قسم کھا گیا کہ اس نے یہ بات نہیں کہی۔ اس پر عامر ؓ نے ہاتھ اٹھا کر دعا کی اللّٰھم انزل علی عبدک و نبیک تصدیق الصادق و تکذیب الکاذب اسپر یہ آیت اتری۔ منافقین کا کلمہ کفر : یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰہِ مَاقَالُوْا وَلَقَدْ قَالُوْا کَلِمَۃَ الْکُفْرِ (وہ لوگ قسمیں کھا جاتے ہیں کہ انہوں نے فلانی بات نہیں کہی حالانکہ انہوں نے کفر کی بات کہی تھی) نمبر 1۔ یہ کلمہ ان کان ما یقول محمد حقا فنحن شر من الحمیر۔ جلاسؔ کی توبہ : نمبر 2۔ استہزائے کلمات۔ اس پر جلاس کھڑا ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم میں نے یہ کلمات کہے ہیں عامر نے سچ کہا ہے جلاس تائب ہوگیا اور آئندہ اس کی توبہ پکی رہی۔ وَکَفَرُوْا بَعْدَ اِسْلَامِھِمْ (اور اپنے اسلام کے بعد کافر ہوگئے) اسلام کے اظہار کے بعد کفر یہ کلمات کا اظہار کیا۔ مسئلہ : اس میں یہ دلالت پائی جاتی ہے کہ ایمان اور اسلام ایک چیز ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، وکفروا بعد اسلامھم۔ اسلام کے انکار کو کفر قرار دیا جیسا کہ ایمان کا انکار کفر ہے۔ وَھَمُّوْا بِمَا لَمْ یَنَالُوْا (اور انہوں نے ایسی بات کا ارادہ کیا تھا جو ان کے ہاتھ نہ لگی) نمبر 1۔ حضرت محمد ﷺ کو قتل کا منصوبہ نمبر 2۔ عامر کو قتل کا منصوبہ کیونکہ انہوں نے جلاس کا اسی لمحہ جواب دیا۔ نمبر 3 عبداللہ بن ابی کی تاج پوشی کا منصوبہ تیار کیا اگرچہ رسول اللہ ﷺ پسند نہ کریں۔ کیا یہ احسان کا بدلہ ہے : وَمَا نَقَمُوْٓا (اور انہوں نے یہ صرف اس بات کا بدلہ دیا ہے) انہوں نے عیب نہیں لگایا اور اوپری حرکت کا ارتکاب نہیں کیا۔ اِلَّآ اَنْ اَغْنٰھُمُ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ مِنْ فَضْلِہٖ (کہ ان کو اللہ نے اور اس کے رسول نے رزق ہی سے مالدار کردیا) یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کی مدینہ تشریف آوری کے وقت تنگی والی زندگی گزار رہے تھے۔ نہ گھوڑوں پر سواری نہ حصول غنیمت۔ آپ کی تشریف آوری کے بعد مالدار ہوگئے۔ جلاس کا غلام قتل ہوگیا۔ آپ ﷺ نے اس کی دیت بارہ ہزار درہم دلوائی جس سے وہ مالدار ہوگیا۔ دعوتِ توبہ : فَاِنْ یَّتُوْبُوْا (پس اگر وہ توبہ کریں) منافقت سے یَکُ ثواب ہوگا جوخَیْرًا لَّھُمْ (ان کے لئے بہتر ہوگا) یہ آیت کا وہ حصہ ہے جس پر جلاس کا نصیب جاگ اٹھا اور وہ مخلصانہ تائب ہوگیا۔ وَاِنْ یَّتَوَلَّوْا (اور اگر روگردانی کریں) نفاق پر اصرار کریں۔ یُعَذِّبْھُمُ اللّٰہُ عَذَابًا اَلِیْمًا فِی الدُّنْیَا وَالْاٰ خِرَۃِ (تو اللہ تعالیٰ ان کو دنیا اور آخرت میں دردناک سزا دے گا) دنیا میں قتل اور آخرت میں آگ وَمَالَھُمْ فِی الْاَرْضِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَانَصِیْرٍ (اور ان کا دنیا میں نہ کوئی دوست ہے اور نہ کوئی مددگار) جو ان کو عذاب سے نجات دلائے۔
Ayah 9:75

وَ مِنْهُمْ مَّنْ عٰهَدَ اللّٰهَ لَئِنْ اٰتٰىنَا مِنْ فَضْلِهٖ لَنَصَّدَّقَنَّ وَ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 9:75 in the Quran reader

اور ان میں بعض ایسے ہیں جنہوں نے خدا سے عہد کیا تھا کہ اگر وہ ہم کو اپنی مہربانی سے (مال) عطا فرمائے گا تو ہم ضرور خیرات کیا کریں گے اور نیکو کاروں میں ہوجائیں گے۔

آیت 75: وَمِنْھُمْ مَّنْ عٰھَدَ اللّٰہُ (اور ان میں بعض آدمی ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سے عہد کرتے ہیں) روایت میں ہے کہ ثعلبہ بن حاطب نے کہا یارسول اللہ ! میرے لئے دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے مال عنایت فرما دے۔ آپ ( علیہ السلام) نے فرمایا۔ اے ثعلبہ ! قلیل مال جس کا شکریہ ادا کیا جائے وہ اس کثیر سے بہت بہتر ہے جس کے شکریہ کی طاقت نہ ہو۔ اس نے درخواست کا اعادہ کیا اور کہا جس ذات نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اگر اللہ تعالیٰ نے مجھ مال دے دیا تو میں ہر حق والے کو اس کا حق دونگا۔ آپ نے دعا فرما دی۔ اس نے بکریاں خریدیں وہ اس طرح بڑھیں جیسے کیڑے بڑھتے ہیں یہاں تک کہ مدینہ میں اس کی اپنی جگہ تنگ ہوگئی۔ پس اس نے وادی میں جاکر ڈیرہ لگا دیا اور جمعہ و جماعت سے منقطع ہوگیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کے متعلق پوچھا تو بتلایا گیا کہ اس کا مال اسقدر بڑھ گیا ہے کہ وادی میں وہ سما نہیں سکتا۔ تو آپ نے فرمایا یا ویح ثعلبۃ۔ رسول اللہ ﷺ نے صدقہ وصول کرنے والوں کو بھیجا۔ لوگوں نے اپنے صدقات ان کو دیے۔ ثعلبہ کو بھی انہوں نے صدقہ کیلئے کہا تو کہنے لگا یہ جزیہ ہے پھر ان کو کہا واپس جائو تاکہ میں اپنی رائے قائم کرلوں۔ جب وہ واپس لوٹے تو انہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ اس سے پہلے کہ وہ دونوں قاصد کوئی بات کرتے۔ یا ویح ثعلبۃ ! یا ویح ثعلبۃ پس یہ آیت اتری۔ پھر ثعلبہ صدقہ لے کر آیا۔ تو آپ نے فرمایا مجھے اللہ تعالیٰ نے تیرا صدقہ قبول کرنے سے منع کردیا ہے وہ اپنے سر پر مٹی ڈالنے لگا۔ آنحضرت ﷺ کی وفات ہوگئی۔ ابوبکر صدیق ؓ کے پاس صدقہ لے کر آیا۔ آپ نے قبول نہ کیا۔ پھر عمر ؓ کے پاس ان کے زمانہ خلافت میں صدقہ لا یا انہوں نے منظور نہ کیا۔ خلافت عثمانی میں وہ مرگیا۔ ( رواہ البیہقی فی دلائل النبوۃ۔ مگر اس کی اسناد میں اسقدر ضعف ہے کہ قابل حجت نہیں۔ ایسا واقعہ تو کثرت سے نقل ہونا چاہیئے تھا جبکہ احادیث کی کتابوں میں دور تک انکا نشان بھی نہیں ملتا۔ فافہم و تدبر) لَپنْ ٰاتٰنَا مِنْ فَضْلِہٖ (کہ اگر اللہ تعالیٰ ہم کو اپنے فضل سے عطا فرما دے) یعنی مال لَنَصَّدَّقَنَّ (تو ہم خوب خیرات کریں) ہم صدقہ ضرور نکالیں گے۔ نصدّ قن اصل میں نتصد قن ہے تاکو صاد میں ادغام کردیا کیونکہ دونوں میں قرب مخرج پایا جاتا ہے۔ وَلَنَکُوْنَنَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ (اور ہم خوب نیک کام کیا کریں) صدقہ نکال کر۔
Ayah 9:76

فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ بَخِلُوْا بِهٖ وَ تَوَلَّوْا وَّ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 9:76 in the Quran reader

لیکن جب خدا نے ان کو اپنے فضل سے (مال) دیا تو اس میں بخل کرنے لگے۔ اور (اپنے عہد سے) روگردانی کر کے پھر بیٹھے

مال ملا تو بخل کرنے لگے : آیت 76: فَلَمَّآ ٰاتٰھُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ (پس جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے فضل سے دے دیا) اللہ تعالیٰ نے ان کو دے دیا اور انہوں نے اپنی تمنا پالی۔ بَخِلُوْا بِہٖ (تو وہ اس میں بخل کرنے لگے) انہوں نے اللہ تعالیٰ کا حق روک لیا اور وعدہ وفائی نہ کی۔ وَتَوَلَّوْا (اور روگردانی کرنے لگے) اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے وَّھُمْ مُّعْرِضُوْنَ (اور وہ تو روگردانی کے عادی ہیں) اعراض پر انکا اصرار قائم رہا۔
Ayah 9:77

فَاَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلٰى یَوْمِ یَلْقَوْنَهٗ بِمَاۤ اَخْلَفُوا اللّٰهَ مَا وَعَدُوْهُ وَ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ Open ayah 9:77 in the Quran reader

تو خدا نے اس کا انجام یہ کیا کہ اس روز تک کے لئے جس میں وہ خدا کے رو برو حاضر ہوں گے ان کے دلوں میں نفاق ڈال دیا اس لئے کہ انہوں نے خدا سے جو وعدہ کیا تھا اس کے خلاف کیا اور اس لئے کہ وہ جھوٹ بولتے تھے۔

پھر جب مال سے نفاق دل میں گھر گیا : آیت 77: فَاَعْقَبَھُمْ نِفَاقًا فِیْ قُلُوْبِھِمْ (پس اللہ تعالیٰ نے ان کی سزا میں ان کے دلوں میں نفاق قائم کردیا) بخل نے ان کے دلوں میں نفاق کو پختہ کردیا کیونکہ نفاق کا وقتی سبب یہی بنا۔ اِلٰی یَوْمِ یَلْقَوْنَہٗ (جو اللہ تعالیٰ کے پاس جانے کے دن تک رہے گا) اپنے فعل کی سزا پائیں گے وہ دن قیامت کا ہے۔ بِمَآ اَخْلَفُوا اللّٰہَ مَا وَعَدُوْہُ وَبِمَا کَانُوْا یَکْذِبُوْنَ (اس وجہ سے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے اپنے وعدہ میں خلاف ورزی کی اور اس سبب سے کہ وہ جھوٹ بولتے تھے) اس وجہ سے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے جو صدقہ، صلاح کا وعدہ کیا تھا اس کی خلاف ورزی کی تو جھوٹے ثابت ہوگئے۔ اسی لئے وعدہ خلافی کو نفاق کا تیسرا حصہ کہا جاتا ہے۔
Ayah 9:78

اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ سِرَّهُمْ وَ نَجْوٰىهُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِۚ Open ayah 9:78 in the Quran reader

کیا ان کو معلوم نہیں کہ خدا ان کے بھیدوں اور مشوروں تک سے واقف ہے اور یہ کہ وہ غیب کی باتیں جاننے والا ہے ؟

اللہ تو ان کی سرکشیوں سے بھی واقف ہے : آیت 78: اَلَمْ یَعْلَمُوْٓا (کیا ان کو یہ خبر نہیں) وہ منافقین اَنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ سِرَّھُمْ (کہ اللہ تعالیٰ کو ان کے دل کا راز معلوم ہے) وعدہ کی خلاف ورزی کے سلسلہ میں جو نفاق کا پختہ ارادہ چھپایا ہوا ہے۔ وَنَجْوٰھُمْ (اور ان کی سرگوشی بھی) دین کے متعلق جو مطاعن اپنی خفیہ مجالس میں بکتے ہیں۔ اور صدقات کو جزیہ کہتے ہیں۔ اور اس کو روکنے کی تدابیر اور بہانے کرتے ہیں۔ وَاَنَّ اللّٰہَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ (اور یہ کہ اللہ تعالیٰ تمام غیب کی باتوں کو خوب جانتے ہیں) اس پر کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔
Ayah 9:79

اَلَّذِیْنَ یَلْمِزُوْنَ الْمُطَّوِّعِیْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ فِی الصَّدَقٰتِ وَ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ اِلَّا جُهْدَهُمْ فَیَسْخَرُوْنَ مِنْهُمْ١ؕ سَخِرَ اللّٰهُ مِنْهُمْ١٘ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 9:79 in the Quran reader

جو (ذی استطاعت) مسلمان دل کھول کر خیرات کرتے ہیں اور (بیچارے غریب) صرف اتنا ہی کما سکتے ہیں جتنی مزدوری کرتے ہیں (اور اس تھوڑی سی کمائی میں سے بھی خرچ کرتے) ہیں ان پر جو (منافق) طعن کرتے اور ہنستے ہیں خدا ان پر ہنستا ہے۔ اور ان کے لئے تکلیف دینے والا عذاب (تیار) ہے۔

نفلی صدقات والوں پر طعنہ زنی : آیت 79: اَلَّذِیْنَ (یہ ایسے لوگ ہیں) نمبر 1۔ یہ محل نصب میں ہے۔ نمبر 2۔ ذم کی وجہ سے محل رفع میں ہے۔ نمبر 3۔ سرھم و نجوٰٹھم کی ضمیر سے بدل ہونے کی بناء پر مجرور ہے۔ یَلْمِزُوْنَ الْمُطَّوِّعِیْنَ (جو ان نفل صدقہ دینے والوں پر طعن کرتے ہیں) جو نفلی صدقات و تبرعات کرنے والوں پر طعنہ زنی کرتے ہیں۔ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ فِی الصَّدَقٰتِ (جو ایمان والوں میں سے ہیں صدقات کے سلسلہ میں) یہ یلمزون کے متعلق ہے روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صدقہ پر آمادہ کیا۔ عبدالرحمان بن عوف چار ہزار درہم لائے۔ اور عرض کی میرے پاس آٹھ ہزار تھے۔ میں نے چار ہزار اپنے رب کو قرض دے دیے۔ اور چار ہزار اپنے اہل و عیال کیلئے رکھ لیئے۔ اس پر آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا بارک اللّٰہ فیما اعطیت و فیما امسکت ( رواہ البزار) اللہ تعالیٰ نے ان کو برکت عنایت فرمائی۔ یہاں تک کہ ان کی بیوی تماضر سے ان کی صلح آٹھویں حصہ کے ربع پر ہوئی جس کی مقدار اسی ہزار تھی۔ حضرت عاصم نے صدقہ میں کھجور کا ایک وسق خرچ کیا۔ وَالَّذِیْنَ (اور ان لوگوں پر) اس کا عطف المطوعین پر ہے۔ لَایَجِدُوْنَ اِلَّا جُھْدَ ھُمْ (جن کو میسر نہیں مگر صرف محنت و مزدوری) اپنی طاقت (کی مقدار) نافع نے جَھدھم پڑھا۔ یہ دونوں ایک ہی لفظ ہیں بعض نے کہا الجُھد طاقت اور الجَھدمشقت۔ ابو عقیل ؓ ایک صاع کھجور لائے اور عرض کی میں نے تمام رات دو صاع کھجور کے بدلے اونٹ کی رسی کھنچی۔ ایک صاع اہل و عیال کیلئے چھوڑا اور ایک صاع حاضر خدمت کردیا۔ منافقین نے ان پر طعنہ زنی کرتے ہوئے کہا عبدالرحمان اور عاصم نے تو ریاکاری کیلئے خرچ کیا ہے۔ اور ابو عقیل نے جو صاع دیا۔ اللہ تعالیٰ کو اس کی ضرورت نہیں۔ فَیَسْخَرُوْنَ مِنْھُمْ (پس ان کا مذاق اڑاتے ہیں) سَخِرَ اللّٰہُ مِنْھُمْ ۔ (اللہ تعالیٰ ان کی مسخری پر ان کو بدلہ دے گا) اور یہ اگرچہ صورت میں بددعا معلوم ہوتی ہے مگر یہ خبر ہے بددعا نہیں۔ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ (اور ان کے لئے درد ناک سزا ہوگی) درد انگیز۔
Ayah 9:80

اِسْتَغْفِرْ لَهُمْ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ١ؕ اِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِیْنَ مَرَّةً فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 9:80 in the Quran reader

تم ان کے لئے بخشش مانگو یا نہ مانگو (بات ایک ہی ہے) اگر (ان کے لئے) ستر دفعہ بھی بخشش مانگو گے تو بھی خدا ان کو نہیں بخشے گا۔ یہ اسلئے کہ انہوں نے خدا اور اسکے رسول ﷺ سے کفر کیا اور خدا نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

آیت 80: جب عبداللہ بن عبداللہ بن ابی نے رسول اللہ ﷺ سے درخواست کی میرا والد بیمار ہے اس کے لئے استغفار فرما دیں تو یہ آیت نازل ہوئی : عبداللہ بن ابی کے لئے استغفار کی ممانعت : اِسْتَغْفِرْلَھُمْ اَوْلَا تَسْتَغفِرْ لَھُمْ (آپ خواہ ان کے لئے استغفار کریں یا ان کے لئے استغفار نہ کریں) یہ امر خبر کے معنی میں ہے گویا اس طرح فرمایا گیا لن یغفر اللّٰہ لہم استغفرت لہم ام لم تستغفرلہم۔ اللہ تعالیٰ ان کو ہرگز نہ بخشے گا آپ نے ان کے لئے استغفار کردیا۔ یا نہیں کیا۔ اِنْ تَسْتَغْفِرْ لَھُمْ سَبْعِیْنَ مَرَّۃً فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰہُ لَہُمْ (اگر آپ ان کے لئے استغفار کریں گے ستر مرتبہ بھی تب بھی اللہ تعالیٰ ان کو نہ بخشے گا) السبعون کا عدد اہل عرب کے ہاں کثرت بیان کیلئے استعمال ہوتا تھا۔ یہ تحدید وغایت کیلئے یہاں نہیں لایا گیا۔ اس لئے کہ اگر آپ ساری زندگی ان کے لئے استغفار کرتے تب بھی ان کے لئے معافی نہ تھی کیونکہ وہ کافر تھے اللہ تعالیٰ کافر کی بخشش نہیں فرماتے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر آپ نے استغفار کے اندر مبالغہ کیا تب بھی اللہ تعالیٰ ان کو معاف نہ فرمائیں گے۔ نکتہ : سبعین کا تذکرہ بہت سی روایات میں آیا ہے، وہ تمام روایات کثرت پر دلالت کرتی ہیں تحدید وغایت کو بیان نہیں کرتیں۔ تمام اعداد میں ستر کا عدد منتخب کرنے کی وجہ یہ ہے کہ عدد دو قسم کے ہیں نمبر 1۔ قلیل۔ نمبر 2۔ کثیر۔ قلیل تین سے کم ہوتا ہے اور کثیر تین سے اوپر تمام گویا کثیر کا سب سے چھوٹا عدد تین ہے اور بڑے کی کوئی حد نہیں۔ پھر عدد کی ایک تقسیم ہے۔ نمبر 1۔ عدد طاق۔ نمبر 2۔ عدد جفت۔ سب سے پہلاجفت 2 دو ہے۔ اور سب سے پہلا طاق 3 تین ہے۔ اور ایک عدد نہیں۔ ان دونوں قسموں کی پہلی جمع کثرت سات ہے کیونکہ اس میں 3 ایک طاق اور تین جفت ہیں اور دس کامل حساب ہے۔ کیونکہ دس سے بڑھ کر تو احاد کی اضافت عشرہ کی طرف ہی ہے۔ جیسا کہتے ہیں۔ اثنا عشر، ثلاثہ عشر بیس تک۔ اور عشرون میں عشرہ کو دو مرتبہ لا یا گیا۔ ثلاثون میں تین مرتبہ دس کو دہرایا گیا۔ اسی طرح سو تک۔ پس ستر کا عدد کثرت اور نوع کو جامع ہے۔ اور کثرت اسی سے ہے۔ اور کمال حساب اور کثرت اسی سے ہے۔ گویا کمال حساب اور کثرت دونوں کو اس نے اپنے اندر سمیٹ لیا۔ اس لئے اہل عرب سے سبعون کو کثیرعدد میں سب سے کم درجہ کا عدد ہر بات کا لحاظ کر کے شمار کرلیا۔ کثرت کی تو کوئی انتہاء نہیں۔ پس سبعین کی تخصیص ممکن ہے اسی حکمت کی بناء پر ہو۔ واللہ اعلم ذٰلِکَ (یہ) یہ مغفرت سے یأ س کی طرف اشارہ ہے۔ بِاَنَّھُمْ (اس وجہ سے ہے) اس سبب سے کہ وہ کَفَرُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ (کہ انہوں نے اللہ اور رسول کے ساتھ کفر کیا) کفار کیلئے مغفرت نہیں وَاللّٰہُ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ ( اور اللہ تعالیٰ ایسے سرکش لوگوں کو ہدایت نہیں کرتا) وہ ایمان سے نکلنے والے ہیں جب تک کہ کفر و سرکشی کو اپنے لئے منتخب کرنے والے ہیں۔
Ayah 9:81

فَرِحَ الْمُخَلَّفُوْنَ بِمَقْعَدِهِمْ خِلٰفَ رَسُوْلِ اللّٰهِ وَ كَرِهُوْۤا اَنْ یُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ قَالُوْا لَا تَنْفِرُوْا فِی الْحَرِّ١ؕ قُلْ نَارُ جَهَنَّمَ اَشَدُّ حَرًّا١ؕ لَوْ كَانُوْا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 9:81 in the Quran reader

جو لوگ (غزوہ تبوک میں) پیچھے رہ گئے وہ پیغمبر خدا ﷺ (کی مرضی) کے خلاف بیٹھ رہنے سے خوش ہوئے اور اس بات کو ناپسند کیا کہ (خدا کی راہ میں) اپنے مال اور جان سے جہاد کریں۔ اور (اوروں سے بھی) کہنے لگے کہ گرمی میں مت نکلنا (ان سے) کہہ دو کہ دوزخ کی آگ اس سے کہیں زیادہ گرم ہے۔ کاش یہ (اس بات کو) سمجھتے۔

تخلف جہاد پر منافقین کی خوشی : آیت 81: فَرِحَ الْمُخَلَّفُوْنَ (یہ پیچھے رہ جانے والے خوش ہوگئے) نمبر 1۔ وہ منافقین جنہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اجازت طلب کی اور ان کو اجازت دے دی گئی اور غزوئہ تبوک میں ان کو مدینہ میں ہی چھوڑ دیا گیا۔ نمبر 2۔ جو لوگ سستی سے پیچھے رہ گئے اور ان کو نفاق اور شیطان نے اس بات پر آمادہ کیا۔ بِمَقْعَدِھِمْ (اپنے بیٹھ رہنے پر) غزوہ میں نہ جانے کی بناء پر خِلٰفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ (رسول اللہ ﷺ کے بعد) رسول اللہ ﷺ کی مخالفت میں یہ مفعول لہ یا حال ہے ای قعدوا لمخالفتہ یا مخالفین لہٗ وہ مخالفت کی وجہ سے بیٹھ رہے یا اس حال میں بیٹھ رہے کہ وہ آپکی مخالفت کرنے والے تھے۔ وَکَرِھُوْٓا اَنْ یُّجَاھِدُوْا بِاَمْوَالِھِمْ وَاَنْفُسِہِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ (اور ان کو ناگوار ہوا کہ اللہ کی راہ میں اپنے مال اور جان کے ساتھ جہاد کریں) انہوں نے وہ نہ کیا جو مسلمان کرتے ہیں۔ اپنی جان اور مال کا نذرانہ بارگاہ الٰہی میں پیش کرتے ہیں۔ اور وہ اس کو ناپسند کیوں نہ کرتے۔ جبکہ ان میں ایمان اور یقین کے دو اعی میں سے کوئی چیز موجود نہ تھی۔ استہزائی جملے : وَقَالُوْا لَا تَنْفِرُوْا فِی الْحَرِّ (اور کہنے لگے تم گرمی میں جہاد کیلئے نہ نکلو) نمبر 1۔ انہوں نے ایک دوسرے کو کہا نمبر 2۔ مسلمانوں کو بیوقوف بنانے کیلئے کہا۔ قُلْ نَارُ جَھَنَّمَ اَشَدُّ حَرًّاط لَوْکَانُوْ ا یَفْقَھُوْنَ (آپ کہہ دیں کہ جہنم کی آگ بہت زیادہ گرم ہے کیا خوب ہوتا اگر وہ سمجھتے) اسمیں ان کی جہالت کو واضح کیا کہ ایک گھڑی کی مشقت سے جو اپنے کو بچائے اور اس کی وجہ سے ہمیشہ کی مشقت میں مبتلا ہوئے وہ تو عقل مند کیا اجہل الجاہلین میں سے ہے۔
Ayah 9:82

فَلْیَضْحَكُوْا قَلِیْلًا وَّ لْیَبْكُوْا كَثِیْرًا١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 9:82 in the Quran reader

یہ (دنیا میں) تھوڑا ساہنس لیں اور (آخرت میں) انکو ان اعمال کے بدلے جو کرتے رہے ہیں بہت سا رونا ہوگا۔

آیت 82: فَلْیَضْحَکُوْا قَلِیْلاً وَّ لْیَبْکُوْا کَثِیْرًا (پس یہ ہنسیں گے تھوڑا اور روئیں گے بہت) وہ دنیا میں اپنے پیچھے رہنے پر ذرا سی خوشی منا لیں آخرت میں ان کو اس کی سزا میں بہت رونا پڑے گا۔ نکتہ : یہاں خبر کو امر کے انداز سے ذکر کر کے اس کا حتمی اور لازمی ہونا بتلایا کہ اس کے علاوہ اور کوئی صورت نہ پیش آئے گی۔ روایت میں ہے کہ منافقین آگ میں دنیا کی عمر کی مقدار روتے رہیں گے ان کے آنسو رکنے نہ پائیں گے اور نہ ہی پلک جھپک کیلئے نیند کریں گے۔ جَزَائًم بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ (ان کاموں کے بدلہ میں جو وہ کیا کرتے تھے) نفاق سے جو کماتے تھے۔
Ayah 9:83

فَاِنْ رَّجَعَكَ اللّٰهُ اِلٰى طَآئِفَةٍ مِّنْهُمْ فَاسْتَاْذَنُوْكَ لِلْخُرُوْجِ فَقُلْ لَّنْ تَخْرُجُوْا مَعِیَ اَبَدًا وَّ لَنْ تُقَاتِلُوْا مَعِیَ عَدُوًّا١ؕ اِنَّكُمْ رَضِیْتُمْ بِالْقُعُوْدِ اَوَّلَ مَرَّةٍ فَاقْعُدُوْا مَعَ الْخٰلِفِیْنَ Open ayah 9:83 in the Quran reader

پھر اگر خدا تم کو ان میں سے کسی گروہ کی طرف لیجائے اور وہ تم سے نکلنے کی اجازت طلب کریں تو کہہ دینا کہ تم میرے ساتھ ہرگز نہیں نکلو گے۔ اور نہ میرے ساتھ (مددگار ہو کر) دشمن سے لڑائی کرو گے۔ تم پہلی دفعہ بیٹھ رہنے سے خوش ہوئے تو اب بھی پیچھے رہنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو۔

آیت 83: فَاِنْ رَّجَعَکَ اللّٰہُ (پس اگر اللہ تعالیٰ آپ کو واپس لائے) اللہ تعالیٰ آپ کو تبوک سے واپس لے جائینگے۔ اِلٰی طَآپفَۃٍ مِّنْھُمْ (انکے کسی گروہ کی طرف) یہاں طائفہ فرمایا اسلئے کہ بعض نے توبہ کرلی اور بعض طبعی موت مرگئے۔ فَاسْتَاْذَنُوْکَ لِلْخُرُوْجِ (پھر یہ لوگ نکلنے کی اجازت مانگیں) غزوئہ تبوک کے بعد والے غزوہ میں فَقُلْ لَّنْ تَخْرُجُوْا مَعِیَ اََبَدًا (تو آپ فرما دیں کہ تم کبھی بھی میرے ساتھ نہ نکلو گے) قراءت : حمزہ، علی، ابوبکر نے یا کے سکون سے یخرجوا پڑھا ہے۔ وَّلَنْ تُقَاتِلُوْا مَعِیَ عَدُوًّا (اور نہ میرے ساتھ مل کر کسی دشمن سے لڑوگے) حفص نے مَعِیَ پڑھا۔ اِنَّکُمْ رَضِیْتُمْ بِالْقُعُوْدِ اَوَّلَ مَرَّۃٍ (تم نے پہلی بار بیٹھ رہنے کو پسند کیا) پہلی مرتبہ جب تمہیں تبوک کی طرف بلایا گیا۔ فَاقْعُدُوْا مَعَ الْخٰلِفِیْنَ (پس تم پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو) انکے ساتھ جو عذر کی وجہ سے پیچھے رہے ہیں۔
Ayah 9:84

وَ لَا تُصَلِّ عَلٰۤى اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّ لَا تَقُمْ عَلٰى قَبْرِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ مَاتُوْا وَ هُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 9:84 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر ﷺ ان میں سے کوئی مر جاّئے تو کبھی اس کے جنازے پر نماز نہ پڑھنا نہ اس کی قبر پر جا کر کھڑے ہونا یہ خدا اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ کفر کرتے رہے اور مرے بھی تو نافرمان (ہی مرے) ۔

آیت 84: عبداللہ نے اپنے والد عبداللہ بن ابی کے متعلق درخواست کی کہ آپ میرے باپ کے کفن کیلئے اپنی قمیص مبارک مرحمت فرمائیں اور اس پر نماز جنازہ ادا فرمائیں۔ آپ ﷺ نے قبول فرمایا۔ حضرت عمر ؓ آڑے آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا۔ اے عمر ! یہ بات اسکو نفع نہ دیگی۔ مگر مجھے امید ہے کہ اس کی قوم کے ایک ہزار آدمی ایمان لے آئیں گے۔ ( ابن جریر فی تفسیرہ) پس یہ آیت اتری۔ وَلَاتُصَلِّ عَلٰٓی اَحَدٍ مِّنْھُمْ (اور آپ ان میں سے کسی کی نماز جنازہ نہ پڑھیں) منہم سے مراد منافقین ہیں اور صلوٰۃ سے مراد نماز جنازہ ہے روایت میں ہے کہ خزرج کے ایک ہزار آدمی مخلصانہ اسلام لے آئے جب انہوں نے دیکھا کہ وہ ثوب نبوی کے ساتھ تبرک کا خواہش مند تھا۔ مَّاتَ (جو کوئی مرجائے) یہ احد کی صفت ہے اور اَبَدًا (کبھی) یہ تُصَلِّ کا ظرف ہے۔ عادت ِطیبہ : آپ ﷺ جب میت کو دفن کرلیتے تو اس کی قبر پر کھڑے ہو کر اس کے لئے دعا فرماتے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا وَّلَا تَقُمْ عَلٰی قَبْرِہٖط اِنَّھُمْ کَفَرُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَمَاتُوْا وَھُمْ فٰسِقُوْنَ (اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہوں انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا انکار کیا ہے اور وہ حالت کفر ہی میں مرگئے ہیں) اس لا تقم کی نہی فرمانے کی علت ذکر فرمائی گئی ہے کہ یہ دعا کے حقدار نہیں ہیں کیونکہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے منکر ہیں۔
Ayah 9:85

وَ لَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَ اَوْلَادُهُمْ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّعَذِّبَهُمْ بِهَا فِی الدُّنْیَا وَ تَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 9:85 in the Quran reader

اور ان کے مال اور اولاد سے تعجب نہ کرنا۔ ان چیزوں سے خدا یہ چاہتا ہے کہ انکو دنیا میں عذاب کرے۔ اور (جب) ان کی جان نکلے تو (اس وقت بھی) یہ کافر ہی ہوں۔

ان کا مال و اولاد ان کے حق میں سوہان روح ہیں : آیت 85: وَلَا تُعْجِبْکَ اَمْوَالُہُمْ وَاَوْلَادُھُمْ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ اَنْ یُّعَذِّبَھُمْ بِھَا فِی الدُّنْیَا وَتَزْھَقَ اَنْفُسُھُمْ وَھُمْ کٰفِرُوْنَ (اور ان کے اموال اور اولاد آپ کو تعجب میں نہ ڈالیں اللہ تعالیٰ کو صرف یہ منظور ہے کہ ان چیزوں کی وجہ سے ان کو دنیا میں بھی عذاب میں گرفتار رکھے اور ان کا آخری سانس حالت کفر ہی میں نکلے) مبالغہ اور تاکید کیلئے دوبارہ لائے۔ تاکہ مخاطب بھولنے نہ پائے۔ اور اس کو یقین ہوجائے کہ یہ اہم ترین بات ہے اور ہر آیت میں ایک گروہ کا تذکرہ ہے جو دوسرے گروہ سے مختلف ہے۔
Ayah 9:86

وَ اِذَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ اَنْ اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ جَاهِدُوْا مَعَ رَسُوْلِهِ اسْتَاْذَنَكَ اُولُوا الطَّوْلِ مِنْهُمْ وَ قَالُوْا ذَرْنَا نَكُنْ مَّعَ الْقٰعِدِیْنَ Open ayah 9:86 in the Quran reader

اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے کہ خدا پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ ہو کر لڑائی کرو۔ تو جو ان میں دولت مند ہیں وہ تم سے اجازت طلب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں تو رہنے ہی دیجئے کہ جو لوگ گھروں میں رہیں گے ہم بھی انکے ساتھ رہیں۔

جہاد کے حکم سے مالدار بھاگتے ہیں : آیت 86: وَاِذَآ اُنْزِلَتْ سُوْرَۃٌ (جب کبھی کوئی سورت اتاری جاتی ہے) اس سورت سے مکمل سورت بھی مراد لی جاسکتی ہے۔ اور سورت کا بعض حصہ بھی مراد لیا جاسکتا ہے جیسا کہ قرآن اور کتاب کا لفظ تمام اور بعض ہر دو پر بولا جاتا ہے۔ اَنْ ٰامِنُوْا بِاللّٰہِ (اور اس میں یہ نازل کیا جاتا ہے کہ تم اللہ پر ایمان لائو) با ؔ محذوف ہے ای بِاَنْ ٰامِنُوْایا اَنْ مفسرہ ہے۔ یہ کہ اللہ پر ایمان لائو۔ وَجَاھِدُوْا مَعَ رَسُوْلِہِ اسْتَاْذَنَکَ اُولُوا الطَّوْلِ مِنْھُمْ (اور اس کے رسول کے ساتھ مل کر جہاد کرو تو ان میں سے دولت والے آپ سے رخصت مانگتے ہیں) مال ووسعت والے وَقَالُوْا ذَرْنَا نَکُنْ مَّعَ الْقٰعِدِیْنَ (اور کہتے ہیں کہ ہم کو اجازت دیں کہ ہم بھی یہاں ٹھہرنے والوں کے ساتھ رہ جائیں) ان لوگوں کے ساتھ جن کو نہ جانے کیلئے مرض، اپاہج پن کا عذر ہے۔
Ayah 9:87

رَضُوْا بِاَنْ یَّكُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ وَ طُبِعَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 9:87 in the Quran reader

یہ اس بات سے خوش ہیں کہ عورتوں کے ساتھ جو پیچھے رہ جاتی ہیں (گھروں میں بیٹھ) رہیں انکے دلوں پر مہر لگا دی گئی ہے۔ تو یہ سمجھتے ہی نہیں۔

وہ خانشہ نشینی کے خواہاں ہیں : آیت 87: رَضُوْا بِاَنْ یَّکُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ (وہ لوگ خانہ نشین عورتوں کے ساتھ رہنے پر راضی ہوگئے) الخوالف سے عورتیں مراد ہیں اس کی واحد خالفہ ہے۔ وَطُبِعَ عَلٰی قُلُوْ بِھِمْ (اور ان کے دلوں پر مہر لگ گئی) کفر و منافقت کو اختیار کرنے کی وجہ سے مہر کردی گئی۔ فَھُمْ لَایَفْقَھُوْنَ (پس وہ نہیں سمجھتے) جہاد میں کیا سعادت مندی اور کامرانی مخفی ہے اور پیچھے رہنے میں کیا شقاوت و ہلاکت ہے۔
Ayah 9:88

لٰكِنِ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ الْخَیْرٰتُ١٘ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 9:88 in the Quran reader

لیکن پیغمبر ﷺ اور جو لوگ انکے ساتھ ایمان لائے سب اپنے مال اور جان سے لڑے انہی لوگوں کے لئے بھلائیاں ہیں اور یہی مراد پانے والے ہیں۔

رسول اور مومن جہاد کرنے والے ہیں : آیت 88: لٰکِنِ الرَّسُوْلُ وَالَّذِیْنَ ٰامَنُوْا مَعَہٗ جٰھَدُوْا بِاَمْوَالِھِمْ وَاَنْفُسِھِمْ (لیکن رسول اللہ ﷺ اور آپ کے ساتھ ایمان والے انہوں نے اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کیا) اگر یہ لوگ نہیں گئے تو ان سے بہت بہتر لوگ تو غزوہ کیلئے گئے۔ وَاُولٰٓپکَ لَھُمُ الْخَیْرٰتُ (انہی کے لئے ساری بھلائیاں ہیں) خیرات کا لفظ دونوں جہان کی کامیابیوں کو شامل ہے کیونکہ لفظ مطلق ہے اور اسمیں گنجائش ہے۔ نمبر 2۔ حوریں مراد ہیں کیونکہ اس ارشاد میں ہے فیھن خیراتٌ حسان۔ ( الرحمان : 70) وَاُولٰٓپکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ (اور یہی لوگ کامیاب ہیں) ہر مطلوب ان کو ملے گا۔
Ayah 9:89

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ Open ayah 9:89 in the Quran reader

خدا نے ان کے لئے باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ یہ بڑی کامیابی ہے۔

جنت کے حقدار : آیت 89: اَعَدَّ اللّٰہُ لَھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ (اللہ تعالیٰ نے ان کیلئے ایسے باغ تیار کر رکھے ہیں جنکے نیچے سے نہریں جاری ہیں اور وہ ان میں ہمیشہ رہینگے یہی بڑی کامیابی ہے) اَعَدَّ ؔ کا لفظ بتلا رہا ہے کہ جنت مخلوق ہے۔
Ayah 9:90

وَ جَآءَ الْمُعَذِّرُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ لِیُؤْذَنَ لَهُمْ وَ قَعَدَ الَّذِیْنَ كَذَبُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 9:90 in the Quran reader

اور صحرا نشینوں میں سے بھی کچھ لوگ عذر کرتے ہوئے (تمہارے پاس) آئے کہ ان کو بھی اجازت دی جائے۔ اور جنہوں نے خدا اور اس کے رسول ﷺ سے جھُوٹ بولا وہ (گھر میں) بیٹھ رہے۔ سو جو لوگ ان میں سے کافر ہوئے انکو دکھ دینے والا عذاب پہنچے گا۔

بہانہ باز دیہاتی : آیت 90: وَجَآئَ الْمُعَذِّرُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ لِیُؤْذَنَ لَھُمْ (اور دیہاتیوں میں سے کچھ بہانہ باز لوگ آئے تاکہ ان کو اجازت مل جائے) نمبر 1۔ اس حکم میں عذر کی بناء پر اجازت دی جائے۔ جبکہ اس سے اسمیں کوتاہی اور سستی ہوگئی ہو۔ اور اس کی حقیقت یہ ہے کہ اس کو وہم ہے کہ وہ پیچھے رہنے میں معذور ہے حالانکہ اس کو کوئی عذر نہیں۔ نمبر 2۔ المعذرون اصل میں المعتذرون ہے تا ؔ کو دال میں ادغام کردیا۔ اور حرکت عین کو دی۔ اس سے مراد باطل معذرتیں بنانے والے۔ ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد بنو اسد، بنو غطفان ہیں انہوں نے کہا کہ ہمارے اہل و عیال ہیں اور ہم میں تنگدستی ہے پس ہمیں پیچھے رہنے کی اجازت دے دیں۔ وَقَعَدَالَّذِیْنَ کَذَبُوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ (اور بیٹھ رہے وہ لوگ جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے بالکل ہی جھوٹ بولا تھا) یہ منافق دیہاتی ہیں جو نہ آئے اور نہ ہی معذرت پیش کی اس سے ظاہرہو گیا کہ ایمان کے دعوی میں انہوں نے اللہ اور اسکے رسول سے جھوٹ بولا ہے۔ سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ (جو ان میں سے کافر رہیں گے ان کو درد ناک عذاب پہنچے گا) دیہاتیوں میں سے جو کافر ہیں ‘ دنیا میں قتل کی صورت میں اور آخرت میں آگ کی شکل میں۔
Ayah 9:91

لَیْسَ عَلَى الضُّعَفَآءِ وَ لَا عَلَى الْمَرْضٰى وَ لَا عَلَى الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ مَا عَلَى الْمُحْسِنِیْنَ مِنْ سَبِیْلٍ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌۙ Open ayah 9:91 in the Quran reader

نہ تو ضعیفوں پر کچھ گناہ ہے اور نہ بیماروں پر اور نہ ان پر جنکے پاس خرچ موجود نہیں (کہ شریک جہاد ہوں یعنی) جبکہ خدا اور اسکے رسول ﷺ کے خیر اندیش (اور دل سے انکے ساتھ) ہوں۔ نیکو کاروں پر کسی طرح کا الزام نہیں ہے۔ اور خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

ضعفاء و معذورین کا استثناء : آیت 91: لَیْسَ عَلَی الضُّعَفَآئِ (کم طاقت لوگوں پر نہیں) بوڑھے اور اپاہج وَلَا عَلَی الْمَرْضٰی وَلَاعَلَی الَّذِیْنَ لَایَجِدُوْنَ مَایُنْفِقُوْنَ (اور نہ بیماروں پر اور نہ ان لوگوں پر جن کو خرچ کرنے کو میسر نہیں) یہ مزینہ، جہینہ اور بنی عذرہ کے فقراء مراد ہیں۔ حَرَجٌ (کوئی گناہ) گناہ اور تاخیر کرنے میں تنگی اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ (جبکہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ اخلاص رکھیں) اس طرح کہ ظاہر و پوشیدہ ایمان لائیں اور اطاعت کریں جیسا کہ مخلص اپنے دوست کے ساتھ کرتا ہے۔ مَا عَلَی الْمُحْسِنِیْنَ (نیکوں کاروں پر نہیں ہے) مخلص معذورین مِنْ سَبِیْلٍ (کسی قسم کا الزام) یعنی ان پر نہ تو کوئی گناہ ہے اور نہ ہی وہ کسی عتاب کے مستحق ہیں۔ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ (اور اللہ بڑی مغفرت والے) ان کی پیچھے رہنے والی خطاء معاف فرما دیں گے۔ رَّحِیْمٌ (رحم والے ہیں) ان پر مہربان ہیں۔
Ayah 9:92

وَّ لَا عَلَى الَّذِیْنَ اِذَا مَاۤ اَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَاۤ اَجِدُ مَاۤ اَحْمِلُكُمْ عَلَیْهِ١۪ تَوَلَّوْا وَّ اَعْیُنُهُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا اَلَّا یَجِدُوْا مَا یُنْفِقُوْنَؕ Open ayah 9:92 in the Quran reader

اور نہ ان (بےسروسامان) لوگوں پر (الزام) ہے کہ تمہارے پاس آئے کہ ان کو سواری دو اور تم نے کہا کہ میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جس پر تم کو سوار کروں تو وہ لوٹ گئے اور اس غم سے کہ انکے پاس خرچ موجود نہ تھا۔ انکی آنکھوں سے آنسو بہ رہے تھے۔

زادِ سفر سے معذور لوگ : آیت 92: وَّلَا عَلَی الَّذِیْنَ اِذَا مَآ اَتَوْکَ لِتَحْمِلَھُمْ (اور نہ ان لوگوں پر کہ جس وقت وہ آپ کے پاس آئے اسلئے تاکہ آپ ان کو سواری دیں) سواری عنایت کریں قُلْتَ (آپ نے کہہ دیا) یہ اَتَوْکَ کی کا فؔ سے حال ہے اور اس سے پہلے قد مضمر ہے ای اذا اتوک قائلاً ۔ جب وہ یہ کہتے ہوئے آئے کہ ہمیں سواری دیں تو آپ نے انہیں جواب دیا۔ لَآ اَجِدُ مَآ اَحْمِلُکُمْ عَلَیْہِ تَوَلَّوْا (میرے پاس تو کوئی چیز نہیں جس پر میں آپ کو سوار کر دوں تو وہ واپس چلے جاتے ہیں) یہ اذا کا جواب ہے وَّ اَعْیُنُہُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ (اس حالت میں کہ ان کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوتے ہیں) بہتے ہیں تفیض دمعًا بنسبت یفیض دمعھا سے زیادہ بلیغ ہے کیونکہ اسمیں آنکھ کو اس طرح قرار دیا گویا وہ چھلکتے آنسو ہیں۔ من ؔ بیانیہ ہے جب کہتے ہیں افدیک من رجل جار و مجرور ملکر تمیز کی وجہ سے محل نصب میں واقع ہیں اور یہ بھی درست ہے کہ قلت لا اجد جملہ مستانفہ ہو۔ گویا اس طرح کہا گیا اذا ما اتوک لتحملھم تولّوا۔ جب وہ آپ کے پاس آتے ہیں تاکہ تم ان کو سواری دو وہ واپس لوٹتے ہیں۔ تو سوال پیدا ہوا وہ روتے ہوئے کیوں واپس لوٹ رہے ہیں ؟ تو جواب دیا۔ قلت لا اجدما احملکم علیہ۔ تم نے کہا میرے پاس تمہیں دینے کیلئے سواری نہیں۔ البتہ اس جملے کو شرط و جزاء کے درمیان معترضہ جملہ کی طرح لایا گیا ہے۔ حَزَنًا (اس غم میں) یہ مفعول لہٗ ہے اَلَّا یَجِدُوْا مَا یُنْفِقُوْنَ (کہ ان کو خرچ کرنے کو کچھ میسر نہیں) اسلئے کہ وہ خرچہ کیلئے کچھ نہیں پا تے۔ یہ مفعول لہٗ ہونے کی وجہ سے منصوب ہے اور اس کا ناصب حَزَنًا ؔ ہے نمبر 1 سواری طلب کرنے والے ابو موسیٰ اشعری ؓ اور ان کے ساتھی ہیں۔ نمبر 2۔ رونے والے چھ انصاریٰ ہیں۔
Ayah 9:93

اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَى الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَكَ وَ هُمْ اَغْنِیَآءُ١ۚ رَضُوْا بِاَنْ یَّكُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ١ۙ وَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 9:93 in the Quran reader

الزام تو ان لوگوں پر ہے جو دولتمند ہیں اور (پھر) تم سے اجازت طلب کرتے ہے (یعنی اس بات سے) خوش ہیں کہ عورتوں کے ساتھ جو بیچھے رہ جاتی ہیں (گھروں میں بیٹھ) رہیں خدا نے انکے دلوں پر مہر کردی ہے۔ پس وہ سمجھتے ہی نہیں۔

مالدار پیچھے رہنے کی وجہ سے گنہگار ہیں : آیت 93: اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَی الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْکَ (صرف الزام ان لوگوں پر ہے جو آپ سے اجازت چاہتے ہیں) پیچھے رہنے میں وَھُمْ اَغْنِیَآ ئُ رَضُوْا (باوجود اسکے کہ وہ مالدار ہیں وہ راضی ہوگئے) رضوا یہ جملہ مستانفہ ہے گویا اس طرح کہا گیا کیا وجہ ہے کہ انہوں نے مالدارہونے کے باوجود اجازت طلب کی۔ تو جواب ملا وہ اس بات پر راضی اور خوش ہیں بِاَنْ یَّکُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ (کہ وہ خانہ نشین عورتوں کے ساتھ رہیں) کہ وہ بھی من جملہ خوالف کی لڑی میں پرو دیئے جائیں وَطَبَعَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ فَھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ (اللہ تعالیٰ نے انکے دلوں پر مہر کردی جسے وہ جانتے ہی نہیں)
Ayah 9:94

یَعْتَذِرُوْنَ اِلَیْكُمْ اِذَا رَجَعْتُمْ اِلَیْهِمْ١ؕ قُلْ لَّا تَعْتَذِرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكُمْ قَدْ نَبَّاَنَا اللّٰهُ مِنْ اَخْبَارِكُمْ١ؕ وَ سَیَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَ رَسُوْلُهٗ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 9:94 in the Quran reader

جب تم ان کے پاس واپس جاؤ گے تو تم سے عذر کریں گے۔ تم کہنا کہ عذر مت کرو ہم ہرگز تمہاری بات نہیں مانیں گے خدا نے ہم کو تمہارے (سب) حالات بتا دیئے ہیں۔ اور ابھی خدا اور اس کا رسول ﷺ تمہارے عملوں کو (اور) دیکھیں گے پھر تم غائب وحاضر کے جاننے والے (خدائے واحد) کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور جو عمل تم کرتے رہے ہو وہ سب تمہیں بتائے گا۔

جھوٹی معذرت والے : آیت 94: یَعْتَذِرُوْنَ اِلَـیْکُمْ (یہ لوگ آپ کے سامنے پیش کریں گے) اپنے نفوس کیلئے ایک باطنی عذر بناتے ہیں۔ اِذَا رَجَعْتُمْ اِلَیْھِمْ (جب تم ان کے پاس واپس جائو گے) اس سفر سے قُلْ لَّا تَعْتَذِرُوْا (آپ کہہ دیں کہ یہ عذر مت پیش کرو) جھوٹے لَنْ نُّؤْمِنَ لَـکُمْ (ہم ہرگز تم پر اعتماد نہ کریں گے) ہم ہرگز تمہاری تصدیق نہ کریں گے یہ اعتذار کی ممانعت کی علت ہے کیونکہ عذر کرنے والے کی اصلی غرض یہ ہوتی ہے کہ اس سلسلہ میں اس کی بات سچی تسلیم کرلی جائے۔ قَدْ نَبَّاَنَا اللّٰہُ مِنْ اَخْبَارِکُمْ (اللہ تعالیٰ نے تمہاری کچھ خبریں ہمیں بتادیں ہیں) یہ ان کی تصدیق کے قبول نہ کرنے کی علت ہے جب اللہ تعالیٰ ان کے حالات اور ضمائر کے متعلق اپنے رسول کو وحی کرتے ہیں تو مناسب نہیں کہ ان کی معذرتوں میں ان کی تصدیق کی جائے وَسَیَرَی اللّٰہُ عَمَلَکُمْ وَ رَسُوْلُہٗٗ (اور آئندہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول تمہاری کار گزاری دیکھ لیں گے) کیا تم اپنے کفر پر قائم رہتے ہو یا اس سے رجوع کرتے ہو۔ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰی عَالِمِ الْغَیْبِ وَالشَّھَادَۃِ (پھر تمہیں لوٹایا جائے گا اس ذات کی طرف جو پوشیدہ اور ظاہر کو جاننے والا ہے) تم اس کی طرف لوٹائے جائوگے وہ ہر ظاہرو باطن کا بینا ہے۔ فَیُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ (پھر وہ تم کو بتادے گا جو کچھ تم کرتے تھے) پس وہ اس کے مطابق تمہیں بدلہ دے گا۔
Ayah 9:95

سَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ اِذَا انْقَلَبْتُمْ اِلَیْهِمْ لِتُعْرِضُوْا عَنْهُمْ١ؕ فَاَعْرِضُوْا عَنْهُمْ١ؕ اِنَّهُمْ رِجْسٌ١٘ وَّ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 9:95 in the Quran reader

جب تم ان کے پاس لوٹ کر جاؤ گے تو تمہارے روبرو خدا کی قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے درگزر کرو۔ سو ان کی طرف التفات نہ کرنا یہ ناپاک ہیں اور جو کام یہ کرتے رہے ہیں ان کے بدلے ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے۔

وہ جان چھڑانے کے لئے قسمیں اٹھائیں لگے تم ان سے اعراض کرو : آیت 95: سَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰہِ لَکُمْ اِذَا انْقَلَبْتُمْ اِلَیْھِمْ لِتُعْرِضُوْا عَنْھُمْ (ہاں وہ اب تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھائیں گے جب تم ان کے پاس واپس جائو گے تاکہ تم ان کو ان کی حالت پر چھوڑ دو ) تاکہ تم ان کو چھوڑ دو اور تو بیخ بالکل نہ کرو۔ فَاَعْرِضُوْا عَنْھُمْ (پس تم ان سے اعراض کرو) ان کی طلب پوری کردو۔ اِنَّھُمْ رِجْسٌ (وہ لوگ بالکل گندے ہیں) یہ ترک عتاب کی علت ہے یعنی عتاب ان کے لئے کوئی فائدہ مند نہیں۔ اور ان کے مناسب نہیں کیونکہ وہ پلیدی ہے جس کی تطہیر کی کوئی صورت نہیں۔ وَّمَاْوٰھُمْ جَھَنَّمُ (اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے) ان کا انجام جہنم ہے ان کی توبیخ و عتاب کیلئے جہنم کافی ہے ان کو ڈانٹ ڈپٹ کی تکلیف نہ کرو۔ جَزَآئً 0 بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ ( ان کاموں کے بدلے میں جو کچھ وہ کیا کرتے تھے) ان کو ان کے کئے کا بدلہ دیا جائے گا۔
Ayah 9:96

یَحْلِفُوْنَ لَكُمْ لِتَرْضَوْا عَنْهُمْ١ۚ فَاِنْ تَرْضَوْا عَنْهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یَرْضٰى عَنِ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 9:96 in the Quran reader

یہ تمہارے آگے قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے خوش ہوجاؤ۔ لیکن اگر تم ان سے خوش ہوجاؤ گے تو خدا تو نافرمان لوگوں سے خوش نہیں ہوتا۔

اگر تم راضی ہو بھی گئے مگر اللہ راضی نہ ہوگا : آیت 96: یَحْلِفُوْنَ لَکُمْ لِتَرْضَوْا عَنْھُمْ (وہ تمہارے سامنے قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے راضی ہوجائو) اللہ تعالیٰ کے نام کی قسم اٹھانے سے ان کا مقصدصرف تمہیں راضی کرنا ہے تاکہ اس سے ان کو دنیوی فائدہ پہنچ جائے۔ فَاِنْ تَرْضَوْا عَنْھُمْ فَاِنَّ اللّٰہَ لَایَرْضٰی عَنِ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ (پس اگر تم ان سے راضی بھی ہوجائو تو اللہ تعالیٰ ایسے شریر لوگوں سے راضی نہ ہوگا) فقط تمہاری رضامندی ان کے لئے کافی نہ ہوگی جبکہ اللہ تعالیٰ ان سے ناراض ہیں اور وہ جلد ملنے والی یا بدیر آنے والی سزا کی زد میں ہیں۔ : مسئلہ یہ اس لئے فرما دیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ مومنین کی رضامندی میں ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی رضامندی نہیں۔ جب انکا عمل اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے مناسب ہو تو اس میں اللہ تعالیٰ کی رضامندی ہے۔
Ayah 9:97

اَلْاَعْرَابُ اَشَدُّ كُفْرًا وَّ نِفَاقًا وَّ اَجْدَرُ اَلَّا یَعْلَمُوْا حُدُوْدَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:97 in the Quran reader

دیہاتی لوگ سخت کافر اور سخت منافق ہیں اور اس قابل ہیں کہ جو احکام (شریعت) خدا نے اپنے رسول پر نازل فرمائے ہیں ان سے واقف (ہی) نہ ہوں اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے۔

دیہاتی کفر و نفاق میں بڑھ کر ہیں : آیت 97: اَلْاَ عْرَابُ اَشَدُّّ کُفْرًا وَّنِفَاقًا (دیہاتی لوگ کفر اور نفاق میں بہت ہی سخت ہیں) شہر یوں کی نسبت کیونکہ ان کی طبیعت میں سختی اور درشتی ہوتی ہے وہ علماء اور علم کی محفل سے دور ہوتے ہیں۔ وَّاَجْدَرُ اَلَّا یَعْلَمُوْا (اور وہ اسی لائق ہیں کہ وہ نہ جانیں) وہ اس بات کے زیادہ حقدار ہیں کہ وہ نہ جانیں حُدُوْدَمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُوْلِہٖ ( ان احکام کو جو اللہ نے اپنے رسول پر نازل فرمائے) یعنی احکام و شرائع جو اللہ تعالیٰ نے اتارے اور دین کی حدود۔ آپ ﷺ کا ارشاد ہے ان الجفاء والقسوۃ فی الفدادین۔ سختی اور جفاء ان لوگوں میں زیادہ ہوتی ہے جو کھیتوں اور مویشیوں میں آوازیں بلند کرتے ہیں۔ الفدید چیخنا اور آواز دینا۔ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ (اور اللہ تعالیٰ بڑے علم والے) ان کے حالات کو حَکِیْمٌ (بڑی حکمت والے ہیں) ان کو مہلت دینے میں حکمت والے ہیں۔