Ayah 9:98انفاق کو چٹی کہنے والا ٹولہ :
آیت 98: وَمِنَ الْاَ عْرَابِ مَنْ یَّتَّخِذُمَایُنْفِقُ (اور بعض بدو ایسے ہیں جو قرار دیتے ہیں اس چیز کو جو کچھ وہ خرچ کرتے ہیں) صدقہ کرتا ہے مَغْرَمًا (جرمانا) چٹی سمجھ کر اور نقصان قرار دیکر کیونکہ وہ مسلمانوں سے تقیہ کرتے ہوئے خرچ کرتا ہے اور محض دکھانے کی خاطر کرتا ہے اللہ تعالیٰ کی رضا اس کو مقصود نہیں ہوتی اور نہ ہی ثواب حاصل کرنا مطلوب ہوتا ہے۔ وَّ یَتَرَبَّصُ بِکُمُ الدَّوَآپرَ (اور تمہارے متعلق گردشوں کے منتظر ہیں) وہ حوادث زمانہ اور تبدل احوال کے منتظر ہیں کہ تمہارا غلبہ ختم ہوجائے، صدقہ دینے سے ان کی جان چھوٹ جائے۔ عَلَیْھِمْ دَآپرَۃُ السَّوْئِ (برا وقت انہی پر پڑنے والا ہے) ان پر مصائب و لڑائیوں کے اثرات پہنچیں گے۔ جنکے پہنچنے کی وہ مسلمانوں کے متعلق توقع رکھے ہوئے ہیں۔
قراءت : مکی، ابوعمرو، نے السُّوْء پڑھا۔ اس کا معنی عذاب ہے اور حفص نے فتحہ سے پڑھا ہے اس کا معنی مطلق برائی ہے مذلت ایام جیسا کہتے ہیں رجل سوء رجل صدق کے مقابلہ میں وَاللّٰہُ سَمِیْعٌ (اور اللہ تعالیٰ سنتے ہیں) جب صدقہ کے لیے ان کو کہا جاتا ہے۔ تو جو کچھ وہ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ ان تمام باتوں کو سننے والے ہیں۔ عَلِیْمٌ (جانتے ہیں) ان باتوں کو جو وہ چھپانے والے ہیں۔
Ayah 9:99آیت 99: وَمِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰ خِرِ وَیَتَّخِذُمَا یُنْفِقُ (اور بعض دیہاتی ایسے بھی ہیں جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں اور قرار دیتے ہیں اس چیز کو جو وہ خرچ کرتے ہیں) جہاد و صدقات میں قُرُبٰتٍ (قرب کا ذریعہ) قربت الٰہی کے اسباب عِنْدَ اللّٰہِ (اللہ کے ہاں) یہ یَتَّخِذُ کا دوسرا مفعول ہے۔ وَصَلَوٰتِ الرَّسُوْلِ (اور رسول کی دعائوں کا ذریعہ) رسول اللہ ﷺ کی دعائیں لینا مقصود ہے کیونکہ آپ ﷺ ان کیلئے دعائیں فرماتے کہ اللہ تعالیٰ برکت دے۔ اور تمہارے گناہ معاف فرمائے جیسا کہ اس ارشاد میں اللّٰھم صل علی اٰل ابی اوفٰی (بخاری، 1497۔ مسلم 1078) اَلَآ اِنَّھَا (یاد رکھو بیشک ان کا یہ خرچ کرنا) یہ خرچ کرنا یا رسول اللہ ﷺ کی دعائیں لینا قُرْبَۃٌ لَّھُمْ (ان کے لئے قرب کا ذریعہ ہے)
قراءت : نافع نے قُرُ بَۃٌ پڑھا۔
مسئلہ : جس نے صحیح طور پر اللہ تعالیٰ کی رضا مندیوں اور رسول اللہ ﷺ کی دعائیں حاصل کرنے کیلئے صدقہ کیا یہ اس کے متعلق اللہ تعالیٰ کی طرف سے قبولیت کی گواہی اور تصدیق ہے کہ اس کی امید بار آور ہوگی اس کو جملہ مستانفہ کے طور پر ذکر کیا اور اَلَا، حرف تنبیہ اور حرف تحقیق ساتھ ساتھ لائے تاکہ بات کی پختگی اور اس پر پورے اختیار کا اظہار کردیا جائے کہ ان کی یہ امیدیں ضرور بار آور ہونگی) اور اسی طرح سَیُدْ خِلُھُمُ اللّٰہُ فِیْ رَحْمَتِہٖ (ضرور اللہ تعالیٰ ان کو اپنی رحمت میں داخل کریں گے) رحمت سے مراد جنت ہے سین کو مضارع پر وعدہ کی پختگی کیلئے داخل کیا۔
مسئلہ : اس کلام میں صدقہ کرنے والوں کیلئے کیا خوب انداز سے رضامندی کا اظہار کیا گیا اور جب صدقہ کرنے والے کی نیت مخلصانہ ہو تو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس کا کیا کچھ مرتبہ اور مقام ہے اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ (اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت والے) خلل والوں کے عیوب کو چھپانے والے رَّحِیْمٌ (بڑی رحمت والے ہیں) قلیل محنت کرنے والے کی کوشش کو بھی قبول فرما لیتے ہیں۔
Ayah 9:100سابقون الاولون کا تذکرہ :
آیت 100: وَالسّٰبِقُوْنَ (اور سبقت کرنے والے) یہ مبتداء ہے۔ الْاَوَّلُوْنَ (پہلے) یہ مبتداء کی صفت ہے مِنَ الْمُھٰجِرِیْنَ (جو مہاجر) من بیانیہ ہے۔ نمبر 1۔ اس سے مراد وہ لوگ جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی۔ نمبر 2۔ جو بدر میں میں حاضر ہوئے۔ نمبر 3۔ بیعت رضوان میں جو موجود تھے۔ وَالْاَ نْصَارِ (اور انصار ہیں) اس کا عطف المہاجرین پر ہے ای ومن الانصاریہ بیعت عقبہ اولیٰ والے ہیں جنکی تعداد سات تھی اور بیعت عقبہ ثانیہ والے جنکی تعداد ستر 70 تھی۔ وَالَّذِیْنَ اتَّبَعُوْھُمْ بِاِحْسَانٍ (اور جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیرو ہیں) مہاجرین انصار میں سے نمبر 1۔ اس سے تمام صحابہ کرام مراد ہیں۔ نمبر 2۔ اس سے قیامت تک آنے والے لوگ مراد ہیں جنہوں نے اطاعت و ایمان کے ساتھ ان کی اتباع و پیروی کی رَّضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ (اللہ ان سب سے راضی ہوگیا) یہ خبر ہے ان کے اعمال حسنہ کی وجہ سے وَرَضُوْاعَنْہُ (اور وہ سب اس سے راضی ہوگئے) ان دنیوی اور اخروی انعامات کی وجہ سے جو اللہ تعالیٰ نے ان کو عطاء فرمائے وَاَعَدَّ لَھُمْ (اور ان کے لئے مہیا کردیئے) اس کا عطف رَضِیَ پر ہے۔ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَھَا الْاَنْھٰرُ (ایسے باغات جن کے نیچے نہریں جاری ہونگی)
قراءت : مکی نے تَحْتِھَا پڑھا ہے۔ خٰلِدِیْنَ فِیْھَآ اَبَدًا ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ (جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے یہ بڑی کامیابی ہے)
Ayah 9:101مدینہ کے گرد و پیش کے منافق :
آیت 101: وَ مِمَّنْ حَوْلَکُمْ (اور ان لوگوں میں سے جو تمہارے گردوپیش ہیں) یعنی مدینہ کے اردگرد مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ (یعنی بددوں میں سے کچھ منافق ہیں) وہ جہینہ، اسلم، اشجع، غفار، کے منافق لوگ ہیں۔ یہی مدینہ کے اطراف میں آباد تھے۔ وَمِنْ اَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ (اور مدینہ کے رہنے والوں میں سے بھی) اس کا عطف مِمَّن حَوْلَکُمْپر ہے جو مبتداء کی خبر ہے۔ جبکہ تقدیر عبارت یہ مانیں ومن اہل المدینۃ قوم مَرَدُوْا عَلَی النِّفَاقِ (وہ نفاق کی حد کمال پر پہنچے ہوئے ہیں) اسمیں ماہر ہیں یہ اس صورت میں معنی ہے جبکہ مردوا کو محذوف کی صفت مانا جائے اور پہلی صورت میں۔ نمبر 1۔ یہ جملہ ابتدائیہ ہے نمبر 2۔ منافقین کی صفت ہے اور ان کے مابین خبر پر عطف ڈال کر فاصلہ کردیا اور ان کی مہارت پر دلالت اس قول سے ہے۔
آپ ان کو نہیں جانتے ‘ ہم جانتے ہیں :
لَا تَعْلَمُھُمْ (آپ ان کو نہیں جانتے) آپ کی فطانت اور ذہانت کے باوجود وہ آپ پر مخفی ہیں۔ اور فراست کا ملہ کے باجود آپ ان کو نہیں پہچان سکتے کیونکہ وہ ایسے کاموں سے ہوشیاری کے ساتھ بہت محتاط رہتے ہیں جن کی وجہ سے آپ ان کے متعلق شک میں پڑیں۔ پھر فرمایا نَحْنُ نَعْلَمُھُمْ (ہم ان کو جانتے ہیں) ان کو اللہ تعالیٰ کے سواء کوئی نہیں جانتا۔ اور ان کی پوشیدہ حالت پر کوئی مطلع نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ اپنے دلوں کے پردوں میں کفر چھپانے والے ہیں اور تمہارے سامنے اسی طرح ظاہر ہوتے ہیں جیسا کہ مخلص مسلمان ظاہر ہوتے ہیں۔ سَنُعَذِّبُہُمْ مَّرَّتَیْنِ (ہم ان کو دو بار عذاب دینگے) نمبر 1۔ قتل اور عذاب قبر۔ نمبر 2۔ ذلت و رسوائی اور عذاب قبر۔ نمبر 3۔ اموال سے صدقات کی وصولی اور ابدان پر پھوڑے ثُمَّ یُرَدُّوْنَ اِلٰی عَذَابٍ عَظِیْمٍ (پھر ان کو بڑے عذاب کی طرف لوٹایا جائے گا) یعنی عذاب نار۔
Ayah 9:102معترف گناہ مومن :
آیت 102: وَاٰخَرُوْنَ (اور کچھ اور لوگ ہیں) ان مذکورہ لوگوں کے علاوہ اور لوگ اعْتَرَفُوْا بِذُنُوْبِھِمْ (جو اپنی خطا کے معترف ہوگئے) اپنے پیچھے رہ جانے پر جھوٹے عذر پیش نہیں کئے بلکہ انہوں نے ندامت سے اس فعل کا اعتراف و اقرار کرلیا کہ انہوں نے بہت بڑی غلطی کی ہے ان کی تعداد دس تھی۔ ان میں سے سات نے ان آیات کو سنکر جو متخلفین کے متعلق اتری تھیں اپنے آپ کو مسجد نبوی کے ستون سے باندھ دیا۔ آپ ﷺ تشریف لائے اور عادت مبارکہ کے مطابق سب سے پہلے مسجد میں داخل ہو کردو رکعت نماز ادا فرمائی۔ آپ نے جب ان کو بند ھا ہوا دیکھا تو ان سے سوال کیا انہوں نے ذکر کیا کہ ہم نے قسم اٹھائی ہے کہ اپنے آپ کو نہیں کھولیں گے بلکہ اللہ کے رسول ﷺ خود کھولیں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا میں بھی قسم اٹھاتا ہوں کہ جب تک اللہ تعالیٰ کا حکم نہ ہوگا تمہیں نہیں کھولوں گا پس یہ آیت اتری آپ نے ان کو آزاد فرما دیا۔
پھر انہوں نے عرض کی یارسول اللہ ! یہ ہمارے اموال ہیں جو آپ سے پیچھے رہنے کا باعث بنے۔ آپ ان کو صدقہ کردیں اور ہمیں پاک کریں۔ آپ نے فرمایا مجھے تمہارے اموال میں سے کسی چیز کے لینے کا حکم نہیں ہوا۔ اس وقت یہ آیت اتری۔ خُذُ مِنْ اَمْوَالِھِمْ صَدَقَۃً ( 103: التوبہ)
خَلَطُوْا عَمَلاً صَالِحًا (انہوں نے ملایا بھلے عمل کو) جہاد کی طرف جانا وَّ ٰاخَرَ سَیِّئًا (اور کچھ برے عمل کو) ۔ نمبر 1۔ جہاد تبوک سے پیچھے رہ جانا۔ نمبر 2۔ توبہ اور گناہ پھر یہ اس قول کی طرح ہے بعت الشاۃ شاۃ ودرھمًا ای شاۃ بدرہم۔ میں نے بکری کو ایک درہم کے بدلے فروخت کردیا۔ پس وائو بمعنی با ہے کیونکہ وائو جمع کیلئے ہے اور با الصاق کا معنی دیتی ہے پس دونوں میں مناسبت واضح ہے۔ نمبر 3۔ مطلب یہ ہے کہ ہر ایک دوسرے سے مل گیا پس ہر ایک ان میں سے مخلوط اور مخلوط بہٖ ہے جیسا کہتے ہیں خلطت الماء واللبن اس سے مراد یہ ہے کہ ہر ایک کو دوسرے سے ملا دیا۔ البتہ اگر خلطت الماء باللبن کہا جائے تو اس میں پانی کو تم نے مخلوط اور دودھ کو مخلوط بہ قرار دے دیا اور جب وائو سے کہا جائے گا تو پانی اور دودھ میں سے ہر ایک مخلوط اور مخلوط بہ ہوگا۔ گویا اس طرح کہا خلطت الماء باللبن واللبن بالماء کہ میں نے پانی کو دودھ اور دودھ کو پانی سے ملادیا۔ حاصل یہ ہوا کہ انکے اچھے برے اعمال گڈ مڈ ہوگئے۔
قبولیت توبہ :
عَسَی اللّٰہُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْھِمْ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (اللہ سے امید ہے کہ وہ ان پر توجہ فرمائینگے بیشک اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت والے بڑی رحمت والے ہیں) اس میں انکی توبہ کا تذکرہ نہیں کیا کیونکہ اعتراف ذنوب کا تذکرہ پہلے کردیا گیا تھا یہی بات انکی توبہ کی قبولیت کی دلیل ہے۔
Ayah 9:103تکمیل توبہ کے لئے صدقہ و دعا :
آیت 103: خُذُ مِنْ اَمْوَالِھِمْ صَدَقَۃً (آپ ان کے مالوں میں سے صدقہ لے لیں) نمبر 1۔ ان کے گناہوں کا کفارہ نمبر 2 بعض کے بقول زکوٰۃ مراد ہے تُطَھِّرُھُمْ ( آپ ان کو پاک کردیں گے) گناہوں سے۔ یہ صدقہ کی صفت ہے۔ اور تاؔ۔ نمبر 1۔ خطاب کی ہے۔ نمبر 2۔ واحد مونث غائب کا صیغہ ہے وَتُزَکِّیْھِمْ (اور ان کو صاف کردیں گے) اس میں تاؔ یقینا خطاب ہی کیلئے ہے۔ بِھَا (جس کے ذریعہ) صدقہ کے ذریعہ التزکیہ، نمبر 1: تطہیر و پاکیزگی میں مبالغہ اور اضافہ نمبر 2۔ مال میں برکت و نمو وَصَلِّ عَلَیْھِمْ (اور ان کے لئے دعا کریں) دعا کے ساتھ ان پر مہربانی فرما کر۔ رحم کر کے۔
مسئلہ : صدقہ لینے والے کو چاہیے کہ صدقہ دینے والے کو دعا دے۔ یہی سنت ہے۔ اِنَّ صَلٰوتَکَ (بلاشبہ آپ کی دعا)
قراءت : کوفی قراء ابوبکر کے علاوہ صَلَوَاتَکَ پڑھتے ہیں بعض نے کہا الصلاۃ، الصلوات سے زیادہ مناسب ہے کیونکہ جنس کا معنی دیتا ہے۔
سَکَنٌ لَّھُمْ (ان کیلئے سکون کا باعث ہے) ان کو سکون خاطر حاصل ہوتا ہے اور انکے دل مطمئن ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انکی توبہ کو قبول کرلیا۔ وَاللّٰہُ سَمِیْعٌ (اور اللہ تعالیٰ خوب سنتے) نمبر 1۔ اللہ تعالیٰ آپ کی دعا کو سننے والے نمبر 2۔ ان کی دعائوں اور گناہوں کے اعتراف کو جاننے والے ہیں عَلِیْمٌ (جانتے ہیں) جو انکے دلوں میں غم، شرمندگی پائی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں جو کہ ان سے سرزد ہوا۔
Ayah 9:104مالک قبولیت اللہ ہی ہے :
آیت 104: اَلَمْ یَعْلَمُوْا (کیا انکو یہ خبر نہیں) اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنکی توبہ قبول کی گئی یعنی کیا انکو قبول توبہ اور قبول صدقات سے قبل معلوم نہیں۔ اَنَّ اللّٰہَ ھُوَ یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہٖ (کہ اللہ تعالیٰ ہی توبہ کو قبول کرتا ہے اپنے بندوں سے) بشرطیکہ وہ صحیح طریق سے ہو وَیَاْخُذُ الصَّدَقٰتِ (اور وہی صدقات کو قبول کرتا ہے) اور انکو قبول فرماتے ہیں جبکہ خلوص نیت سے دیئے جائیں۔
نکتہ : ھُوَ ،ؔ کا لفظ تخصیص کو بتلا رہا ہے کہ یہ کام رسول اللہ ﷺ کے حوالے نہیں بیشک اللہ تعالیٰ ہی توبہ کو قبول کرنے والے اور مسترد کرنے والے ہیں پس توبہ میں اسی ہی کا قصد کرو اور اسی ہی کی طرف اسکی نسبت کرو۔ وَاَنَّ اللّٰہَ ھُوَ التَّوَّابُ (اور بیشک اللہ ہی توبہ کو قبول کرنے والے ہیں) بہت زیادہ توبہ قبول فرمانیوالے ہیں۔ الرَّحِیْمُ (رحمت کرنے والے ہیں) اور گناہ کو معاف کردیتے ہیں۔
Ayah 9:105وعید برائے مستقبل :
آیت 105: وَقُلِ (اور آپ کہہ دیں) ان توبہ کرنے والوں کو اعْمَلُوْا فَسَیَرَی اللّٰہُ عَمَلَکُمْ وَرَسُوْلُہٗ وَالْمُؤْمِنُوْنَ (عمل کئے جائو پس اللہ دیکھ لیگا تمہارے عمل کو اور اسکا رسول اور مؤمنین بھی ) ۔ نمبر 1۔ تمہارا کوئی عمل مخفی نہیں خواہ خیر ہو یا شر اللہ تعالیٰ پر اور نہ اسکے بندوں پر جیسا کہ تم نے دیکھ لیا اور تمہارے سامنے ظاہر ہوگیا۔ نمبر 2۔ غیر تائبین کو توبہ کی ترغیب کیلئے یہ فرمایا۔ روایت میں وارد ہے جب انکی توبہ قبول کرلی گئی تو ان لوگوں نے کہا جنہوں نے توبہ نہ کی تھی کہ یہ وہ لوگ ہیں جو کل گزشتہ ہمارے ساتھ نہ کلام کرتے اور نہ بیٹھتے تھے۔ انکو کیا ہوگیا پس یہ آیت اتری اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد فسیری اللّٰہ یہ انکے حق میں وعید ہے اور اصرار کے انجام سے ڈرایا گیا ہے۔ اور توبہ کے متعلق غفلت برتنے سے خوف دلایا گیا۔ وَ سَتُرَدُّوْنَ اِلٰی عٰلِمِ الْغَیْبِ (اور ضرور تم کو اس ذات کے پاس جانا ہے جو تمام چھپی) جو لوگوں سے پوشیدہ ہے وَالشَّہَادَۃِ (اور کھلی چیزوں کو جاننے والا ہے) جس کا وہ مشاہدہ کرتے ہیں فَیُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ (پس وہ تم کو تمہارا سب کیا ہوا بتلا دے گا) یہ تنبیہ و تذکیر اور اس پر مجازات کا ذکر ہے۔
Ayah 9:106التواء والے لوگ :
آیت 106: وَ ٰاخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللّٰہِ (اور کچھ اور لوگ ہیں جن کا معاملہ اللہ کے حکم آنے تک ملتوی کردیا گیا ہے) مدنی، کوفی قراء سوائے ابوبکر نے بلا ھمزہ پڑھا ہے۔ دوسرے قراء نے مُرْجُؤُوْنَ پڑھا ہے یہ ارجیتہ ارجأتہٗ سے ہے۔ جب کہ اس کو مؤخر کیا جائے۔ اور اسی سے المرجئہ ہے۔ مطلب اس طرح ہے واٰخرون من المتخلفین موقوفون الی ان یظھر امراللّٰہ فیھم۔ متخلفین میں سے دوسرے روک دیئے گئے یہاں تک کہ ان کے متعلق اللہ تعالیٰ کا حکم ظاہر ہو۔
اِمَّا یُعَذِّ بُھُمْ (خواہ وہ ان کو سزا دے) اگر وہ اصرار کریں اور توبہ نہ کریں۔ وَاِمَّا یَتُوْبُ عَلَیْھِمْ (یا ان کی توبہ قبول کرلے) اگر وہ توبہ کرلیں ان کی تعداد تین تھی نمبر 1۔ کعب بن مالک نمبر 2۔ ہلال بن امیہ نمبر 3۔ مرارہ بن الربیع۔ یہ غزوئہ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے یہی وہ لوگ ہیں جنکا تذکرہ اس آیت میں ہے وعلی الثلا ثۃ الذین خُلّفوا۔ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ ( اور اللہ خوب جاننے والا) ان کے مؤخر کرنے کو حَکِیْمٌ (بڑا حکمت والا ہے) اور ان کو مؤخر کرنے میں امّاؔ کا لفظ شک و تردد کے لئے آتا ہے۔ بندوں کا لحاظ کرکے امّاؔ کا استعمال کیا گیا یعنی ان کو عذاب کا خطرہ ہے اور مجھے ان پر رحمت کی امید ہے روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے اپنے صحابہ کو ان کے ساتھ سلام و کلام سے منع فرمادیا ان حضرات نے اپنے آپ کو ستونوں سے بھی نہ باندھا اور نہ ہی گھبراہٹ و غم کا اظہار کیا۔ جب انہیں بائیکاٹ کا علم ہوا تو اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کیا اور اپنی نیتوں کو خالص کرلیا۔ ان کی توبہ مخلصانہ تھی ان کو اللہ تعالیٰ نے خوش کردیا۔ (واقعہ روایت کعب سے بخاری و مسلم میں مذکور ہے)
Ayah 9:107مسجد ضرار کے بانی منافقین :
آیت 107: وَالَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا (اور بعض ایسے لوگ ہیں جنہوں نے مسجد بنائی) تقدیر عبارت اس طرح ہے ومنھم الذین اتخذوا۔ مدنی اور شامی قراء نے والذین کو بغیر وائو پڑھا ہے وہ مبتداء جس کی خبر محذوف ہے ای جازیناھم جن کو ہم نے بدلہ دیا۔ روایت میں ہے کہ بنی عمرو بن عوف نے مسجد قباء مکمل کرلی تو رسول اللہ ﷺ کی طرف پیغام بھیجا۔ آپ تشریف لائے اور اسمیں دو رکعت نماز ادا فرمائی۔ (اور ہجرت کے وقت آپ نے پہلا قیام قباء میں فرمایا اور 14 روز قیام فرما کر اس مسجد کی بنیاد خود دست اقدس سے رکھی اور وہاں نمازیں ادا فرمائیں) ان کے بھائی بند بنو غنم بن عوف کو حسد پیدا ہوا کہنے لگے ہم بھی مسجد بنائیں گے اور رسول ﷺ کو نماز کی اس میں دعوت دیں گے اور ابو عامر راہب جب شام سے آئے گا تو وہ بھی اس میں نماز پڑھا کرے گا یہ ابو عامر وہ شخص ہے جس نے رسول اللہ ﷺ کو احد کے دن کہا آپ کے مقابلہ میں جو بھی لڑے گا میں اس کا ساتھ دونگا حنین تک مختلف لڑائیوں میں شریک رہا۔ چناچہ مسجد قباء کے قریب انہوں نے ایک مسجد بنائی۔ اور رسول ﷺ کو کہا ہم نے بیمار اور حاجت مند لوگوں کی خاطر ایک مسجد بنائی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ آپ اس میں نماز پڑھیں آپ ﷺ نے فرمایا اسوقت میں سفر پر جارہا ہوں۔ تبوک سے واپسی پر انشاء اللہ ہم اس میں نماز ادا کریں گے۔
جب تبوک سے آپ واپس لوٹ آئے انہوں نے مسجد میں آنے کا سوال کیا اس پر یہ آیات اتریں۔ آپ ﷺ نے وحشی اور معن بن عدی وغیرہ کو حکم دیا اس مسجد کی طرف جائو جس کے بنانے والے ظالم ہیں اور اس کو جلا دو ۔ پس ایسا کردیا گیا اس جگہ کوڑا کرکٹ مردار اور فضلات ڈالنے کا حکم فرمایا۔ ابو عامرفاسق شام میں اپنی موت مرگیا۔ ضِرَارًا (ضرر پہنچانے) یہ مفعول لہٗ ہے۔ اسی طرح اس کا مابعد بھی۔ تقدیر عبارت یہ ہے مضارۃ لا خوانہم اصحاب مسجد قباء مسجد قباء کے ساتھیوں کو نقصان پہنچانے کیلئے۔ وَّکُفْرًا (اور کفر کی باتیں کرنے کے لئے) منافقت کو مضبوط کرنے کیلئیوَّتَفْرِیْقًام بَیْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ (اور ایمان والوں میں تفریق ڈالنے کیلئے) کیونکہ وہ اکٹھے مسجد قباء میں نماز ادا کرتے انہوں نے چاہا کہ ان میں انتشار پیدا ہوجائے۔ وَاِرْصَادًا لِّمَنْ (اور اس شخص کے قیام کا سامان کرنے کیلئے) اس شخص کے قیام کا سامان بنانے کیلئے حَارَبَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ (جو اللہ اور اس کے رسول کا مخالف رہا ہے) وہ ابو عامر راہب تھا جس کے نماز ادا کرنے اور رسول اللہ ﷺ پر غلبہ پانے کیلئے یہ مرکز بنایا گیا تھا۔
بعض کا قول یہ ہے کہ فخرو مباہات اور ریاکاری یا شہرت کیلے بنائی جانے والی مسجد اسی حکم میں ہے۔ یا اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے علاوہ کسی بھی غرض کیلئے بنائی جانے والی مسجد یا ناپاک مال سے بنائی جانے والی مسجد بھی مسجد ضرار کے حکم میں ہے۔ مِنْ قَبْلُ (پہلے سے) یہ حَارَبَ ؔ کے متعلق ہے یعنی اس مسجد کی تعمیر سے پہلے خندق کے دن وَلَیحْلِفُنَّ (اور یہ ضرور قسمیں کھائیں گے) جھوٹے اِنْ اَرَدْنَآ اِلَّا الْحُسْنٰی (کہ ہم نے تو صرف بھلائی ہی کا ارادہ کیا تھا) ہم اس مسجد کی تعمیر سے اچھی غرض ہی رکھتے تھے مثلاً نماز، ذکر اللہ، نمازیوں کی آسانی وَاللّٰہُ یَشْھَدُ اِنَّھُمْ لَکٰذِبُوْنَ (اور اللہ گواہ ہے کہ وہ بالکل جھوٹے ہیں) اپنے اس حلف میں۔
Ayah 9:108ایسی مسجد میں قیام کی ممانعت :
آیت 108: لَاتَقُمْ فِیْہِ اَبَدًا (آپ اس میں کبھی کھڑے نہ ہوں) نماز کیلئے لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَی التَّقْوٰی۔ (البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہے)
مسجد قباء میں قیام کا حکم اور ان کے بانیوں کی تعریف :
لام ابتدائیہ ہے اسس یہ مسجد کی صفت ہے نمبر 1۔ مراد اس سے مسجد قباء ہے جس کی بنیاد رسول اللہ ﷺ نے قباء کے زمانہ قیام میں اپنے دست اقدس سے رکھی۔ نمبر 2۔ مسجد نبوی جو مدینہ میں ہے وہ مراد ہو۔ مِنْ اَوَّلِ یَومٍ (اول دن سے) اس کی تعمیر کے پہلے دن سے۔ ایک قول یہ ہے کہ تقاضہ قیاس تو یہ ہے کہ یہاں مُذْ ؔ آتا کیونکہ وہ ابتداء غایت فی الزمان کیلئے آتا ہے اور یہاں منؔ لائے جو کہ ابتداء غایت فی المکان کیلئے ہے۔ الجواب ؔ منؔ کا لفظ زمان و مکان دونوں کیلئے آتا ہے۔
اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِیْہِ (وہ اس لائق ہے کہ آپ اس میں کھڑے ہوں) نماز کیلئے فِیْہِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَھَّرُوْا وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُطَّھِّرِیْنَ (اس میں ایسے آدمی ہیں کہ وہ خوب پاک ہونے کو پسند کرتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ خوب پاک ہونے والوں کو پسند کرتا ہے) جب یہ آیت اتری تو رسول اللہ ﷺ مہاجرین کی جماعت کے ساتھ قباء میں تشریف لائے اور مسجد قباء کے دروازے پر کھڑے ہوگئے انصارمسجد میں بیٹھے تھے۔ آپ نے آواز دیکر فرمایا۔ أمؤمنون انتم ؟ کیا تم ایمان والے ہو ؟ تمام خاموش رہے پھر آپ نے اس بات کو دھرایا اس پر حضرت عمر ؓ نے کہا یارسول اللہ ﷺ ! بلاشبہ وہ مومن ہیں اور میں بھی ان کے ساتھ۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم فیصلے پر راضی ہو ؟ انہوں کہا ہاں ! فرمایا کیا تم آزمائش پر صبر کرنے والے ہو ؟ انہوں نے کہا جی ہاں ! فرمایا کیا تم خوشحالی میں شکر گزار ہو۔ انہوں نے جواب دیا جی ہاں حضور ! آپ نے فرمایا رب کعبہ کی قسم تم مومن ہو۔ پھر آپ بیٹھ گئے اور فرمایا اے گروہ انصار ! اللہ تعالیٰ نے تمہاری تعریف فرمائی ہے تم بوقت وضو کیا عمل کرتے ہو اور پاخانے کے وقت تمہارا کیا عمل ہے ؟ انہوں نے کہا یارسول اللہ ﷺ ہم پاخانہ سے فارغ ہو کر تین ڈھیلے استعمال کرتے ہیں پھر پتھروں کے استعمال کے بعد پانی استعمال کرتے ہیں آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی فیہ رجال یحبون ان یتطھروا۔
دوسرا قول یہ ہے کہ تمام نجاسات سے تطہیر کیلئے یہ آیت عام ہے۔ تیسرا قول اس تطہیر سے گناہوں کی توبہ کے ذریعہ تطہیر مراد ہے یحبون ان یتطہروا میں محبت سے مراد طہارت کو ترجیح دینا اور اس کی اس طرح حرص کرنا جیسا کہ محب کسی محبوب چیز کی حرص کرتا ہو۔ اور اللہ تعالیٰ کی محبت کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان پر راضی ہے اور ان پر احسان فرمانے والے ہیں جیسا محب محبوب کے ساتھ کرتا ہے۔
Ayah 9:109دونوں میں تقابلی فرق :
آیت 109: اَفَمَنْ اَسَّسَ بُنْیَا نَہٗ (کیا وہ شخص جس نے اپنی عمارت کی بنیاد رکھی) تعمیر کی بنیاد رکھتا ہے۔ عَلٰی تَقْوٰی مِنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانٍ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ اَسَّسَ بُنْیَانَہٗ عَلٰی شَفَا جُرُفٍ ھَارٍ (تقویٰ پر اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی پر وہ زیادہ بہتر ہے یا وہ شخص جس نے اپنی عمارت کی بنیاد کسی کھائی کے گرنے والے کنارے پر رکھی ہو) یہ استفہام تقریری ہے اور واضح ہونے کی وجہ سے جواب ذکر نہیں کیا گیا، مطلب یہ ہے۔ جس نے اپنے دین کی بنیاد مضبوط اساس پر رکھی ہو۔ وہ اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اور رضا مندی ہے۔ خیرام من جس نے اپنی عمارت کی تعمیر کمزور بنیادوں پر رکھی ہو۔ وہ بنیادیں باطل اور منافقت ہے جس کی مثال قلت ثبات اور استمساک میں، گرنے والے گڑھے کے گرنے والے کنارے کی ہے گرنے والا گڑھے کا کنارہ تقویٰ کے مقابلہ میں ذکر کیا گیا کیونکہ گرنے والے گڑھے کے کنارے کو اس چیز سے مجاز قرار دیا جو تقویٰ کے مخالف ہے۔
الشفاء ؔ کنارہ، جرف ؔ الواردی وادی کی وہ جانب جس کو پانی نے نیچے سے کھود ڈالا ہو۔ سیلاب اس کو کھود ڈالیں جس سے وہ کمزور ہوجائے الھار ؔ گرنے والا، پھٹنے والا جو گرا چاہتا ہو۔ اس کا وزنفَعلٌ ہے جو فاعل سے قصر کر کے پڑھا جیسا کہ خلف ٌ کو خالف سے پڑھا ہے۔ اس کا الف فاعل کا الف نہیں بلکہ اصلی ہے یہ اصل ھَوَرٌ ما قبل فتحہ کی وجہ سے وائو کو الف سے بدل دیا۔ یہ انتہائی بلیغ کلام ہے۔ جو باطل کی حقیقت و اصلیت کو طشت ازبام کررہا ہے۔
قراءت : شامی، نافع، نے افمن اسس بنیانہ کو اَمَّنْ اُسس بنیانہ پڑھا ہے۔ شامی، حمزہ اور یحییٰ نے جُرُف کو جُرْف راء کے سکون سے پڑھا۔ ابو عمرو نے ھارؔ کو امالہ سے پڑھا جبکہ حمزہ نے ایک روایت کے مطابق اور یحییٰ نے امالہ کیا ہے۔
فَانْھَارَ بِہٖ فِیْ نَارِ جَھَنَّمَ (پھر وہ اس کو لے کر دوزخ کی آگ میں گرپڑے) باطل اس کو لیکر جہنم میں گرپڑا۔ جب آیت میں جرف ھائر کو باطل کیلئے بطور مجاز استعمال کیا گیا تو جرف کیلئے انہار کا لفظ لائے جو اس کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ نیز یہ تصور دیا کہ باطل پرست نے اپنی تعمیر کی بنیاد جہنم کی وادی کے گرنے والے گڑھے کے کنارہ پر رکھی ہے وہ کنارہ اس کو لیکر جہنم کی گہرائی میں جا گرا ہے۔
جابر کہتے ہیں میں نے مسجد ضرار سے اس وقت دھواں نکلتا ہوا دیکھا جب وہ جہنم میں گری۔ وَاللّٰہُ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ (اور اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو سمجھ ہی نہیں دیتا) ان کو نفاق کی سزا کے طور پر خیر کی توفیق نہ دے گا۔
Ayah 9:110منافقین کے خبیث مقاصد کی نشاندہی :
آیت 110: لَایَزَالُ بُنْیَانُھُمُ الَّذِیْ بَنَوْارِیْبَۃً فِیْ قُلُوْبِھِمْ (یہ عمارت جو انہوں نے بنائی ہے۔ ہمیشہ ان کے دلوں میں کھٹکتی رہے گی) اس کا گرانا ان کے نفاق و شک میں اضافہ کا باعث بنا رہے گا کیونکہ اس سے ان کو مزید غصہ آئے گا اور وہ ان پر گراں گزرے گی۔ اِلَّآ اَنْ تَقَطَّعَ قُلُوْبُھُمْ (مگر یہ کہ ان کے دل ہی فنا ہوجائیں) شامی، و حمزہ اور حفص نے تَقطَّع پڑھا جو اصل میں تَتقَطَّعَ ہے۔ دیگر قراء نے تُقَطَّع۔ پڑھا ہے جس کا معنی ان تُقطَّع قلُوبہم قطعا و تفرق اجزائً انکے دلوں کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ کر اجزاء الگ کردیئے جائیں اس وقت ان کو تسلی ہوگی البتہ جب تک ان کے دل صحیح سالم اور اکٹھے ہیں ان میں شک باقی رہے گا اور مضبوطی سے جما رہے گا۔ پھر یہ درست ہے کہ شک کے زائل کرنے کی تصویر بٹھانے کیلئے کیا گیا ہو اور یہ بھی جائز ہے کہ حقیقۃً کٹنا مراد ہو۔ جو کہ ان کے قتل سے ممکن ہے۔ یا قبور میں پہنچ کر یا آگ میں داخل ہوکر۔
ایک مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کے دل توبہ و ندامت سے اپنی اس زیادتی پر کٹ جائیں نڈھال ہوجائیں۔ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ (اور اللہ تعالیٰ بڑے علم والے) ان کے عزائم سے حَکِیْمٌ (بڑی حکمت والے ہیں) ان کے جرائم کی سزا میں حکمت والے ہیں۔
Ayah 9:111نفع بخش تجارت جس میں اقالہ نہیں :
آیت 111: اِنَّ اللّٰہَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَھُمْ وَاَمْوَالَھُمْ بِاَنَّ لَھُمُ الْجَنَّۃَ (بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے ان کی جانوں کو اور ان کے مالوں کو اس بات کے عوض خرید لیا ہے۔ کہ ان کو جنت ملے گی) اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کی ثابت قدمی اور اس کی راہ میں مال خرچ کرنے کو جنت کے بدلے خریدنے سے تشبیہ دی اور روایت میں آیا ہے کہ ان سے تجارت کا معاملہ کیا مگر ثمن کو بہت مہنگاکر دیا۔
حضرت حسن (رح) فرماتے ہیں ہمارے نفوس کا خالق اللہ تعالیٰ ہے اور اموال عنایت کرنے والے بھی وہی ہیں۔ ایک اعرابی کا گزر رسول اللہ ﷺ کے پاس سے ایسی حالت میں ہوا جبکہ آپ یہ تلاوت فرما رہے تھے تو وہ سنکر کہنے لگا اللہ کی قسم بڑی نفع بخش بیع ہے ہم اس میں نہ اقالہ کرتے اور نہ اقالے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ وہ ایک غزوہ میں نکلا اور شہید ہوگیا۔ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ (وہ لوگ اللہ تعالیٰ کی راہ میں لڑتے ہیں) سپردگی کا محل بیان فرمایا فَیَقْتُلُوْنَ وَیُقْتَلُوْنَ (وہ جس میں قتل کرتے ہیں اور قتل کئے جاتے ہیں) یعنی کبھی وہ دشمن سے لڑتے ہیں کبھی تو دشمن ان کو قتل کردیتا ہے۔
قراءت : فیُقْتَلُوْنَ ویَقْتُلوْن حمزہ اور علی نے پڑھا۔ وَعْدًا عَلَیْہِ (اس پر وعدہ کیا گیا ہے) یہ مصدر ہے یعنی وعدھم بذلک وعداً ان سے وعدہ کیا وعدہ کرنا۔ حَقًّا (سچا) یہ وعدًاکی صفت ہے اس میں اطلاع دی کہ مجاہدین سے کیا جانے والا وعدہ پختہ وعدہ ہے جس کو میں نے لکھ دیا ہے۔ فِی التَّوْرٰٹۃِ وَالْاِنْجِیْلِ وَالْقُرْاٰنِ (توریت میں اور انجیل میں اور قرآن میں)
مسئلہ : یہ دلیل ہے کہ ہر ملت والوں کو قتال کا حکم دیا گیا اور اس پر ان سے وعدے کئے گئے پھر فرمایا وَمَنْ اَوْفٰی بِعَھْدِ ہٖ مِنَ اللّٰہِ (اور اللہ تعالیٰ سے زیادہ کون وعدے کو پورا کرنے والا ہے) کیونکہ وعدہ خلافی قبیح چیز ہے۔ جب اس کا ارتکاب کوئی شریف آدمی نہیں کرتا تو اکرم الاکرمین کیونکر وعدہ کی خلاف ورزی فرمانے والے ہیں۔ اس سے زیادہ بہتر اور بلیغ انداز میں جہاد کی ترغیب نہیں دی جاسکتی۔ فَاسْتَبْشِرُوْا بِبَیْعِکُمُ الَّذِیْ بَایَعْتُمْ بِہٖ (تم لوگ اپنی اس بیع پر جس کا معاملہ تم نے ٹھہرایا ہے خوشی منائو) تمہیں انتہائی خوش ہونا چاہیئے کہ تم فانی دیکر باقی کا سودا کر رہے ہو۔ وَذٰلِکَ ھُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ (اور یہ بڑی کامیابی ہے) صادق (رح) کا فرمان ہے کہ تمہارے ابدان کی قیمت صرف جنت ہے
Ayah 9:112۔ پس ان کو صرف اسی کے بدلے میں فروخت کرو۔
آیت 112: اَلتَّآپبُوْنَ (وہ ایسے ہیں جو توبہ کرنے والے ہیں) نمبر 1۔ یہ مدح کی بناء پر مرفوع ہے ای ھم التائبون یعنی یہ مذکور مومنین ہی تائب ہیں یا۔ نمبر 2۔ یہ مبتداء ہے اور اس کی خبر العابدون ہے۔ الْعٰبِدُوْنَ (عبادت کرنے والے) وہ لوگ جو فقط اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کرنے والے ہیں اور عبادت اسی کے لئے خالص کرنے والے ہیں اس کا مابعد خبر کے بعد خبر ہے۔ یعنی التائبون من الکفر علی الحقیقۃ الجامعون لھٰذہ الخصال۔ کہ حقیقۃً کفر سے توبہ کرنے والے وہ ان خصال کے جامع ہیں۔
حضرت حسن (رح) سے مروی ہے اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے شرک سے توبہ کی۔ اور نفاق سے براءت کا اظہار کیا۔ الْحٰمِدُوْنَ (حمد کرنے والے) اسلام کی نعمت پر السَّآپحُوْنَ ( روزہ رکھنے والے) نمبر 1۔ روزہ رکھنے والے ہیں۔ آپ ( علیہ السلام) کا ارشاد ہے۔ سیاحۃ امتی الصیام (رواہ ابن جریر) نمبر 2۔ طلباء علم مراد ہیں کیونکہ وہ زمین میں سفر کرتے ہیں اور مناہل علم سے علم حاصل کرتے ہیں نمبر 3۔ عبرت کیلئے زمین میں سفر کرنے والے ہیں۔ الرّٰ کِعُوْنَ السّٰجِدُوْنَ (اور رکوع اور سجدہ کرنے والے) نمازوں کی حفاظت کرنیوالے ہیں۔ الْاٰ مِرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ (اور نیک باتوں کی تعلیم کرنے والے) ایمان اور معرفت و اطاعت کے ذریعہ وَالنَّاھُوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ (اور بری باتوں سے باز رکھنے والے) شرک و معاصی سے وائو کو درمیان میں لا کر بتلایا کہ یہ سات پوری لڑی ہے جو پروئی ہوئی ہے۔ نمبر 2۔ امرو نہی کے مابین تضاد ظاہر کرنے کے لئے وائو لایا گیا جیسا کہ اس ارشاد میں ثیباتٍ وابکارًا (التحریم : 5) وَالْحٰفِظُوْنَ لِحُدُوْدِ اللّٰہِ (اور اللہ تعالیٰ کی حدوں کا خیال رکھنے والے) اللہ تعالیٰ کے اوامرونواہی۔ نمبر 2۔ شریعت کے نشانات وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ (اور آپ ایسے مؤمنین کو خوشخبری سنا دیں) جو ان صفات کے ساتھ متصف ہیں۔
Ayah 9:113مشرکین کے لئے استغفار کی ممانعت :
آیت 113: آپ ﷺ نے ارادہ فرمایا کہ ابو طالب کیلئے استغفار کریں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتار دی : مَاکَانَ لِلنَّبِیِّ وَ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا اَنْ یَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِکِیْنَ وَلَوْ کَانُوا اُولِیْ قُرْبٰی (پیغمبر کو اور دوسرے مسلمانوں کو جائز نہیں کہ وہ مشرکین کیلئے مغفرت کی دعا مانگیں اگرچہ وہ رشتہ دار ہی ہوں) اللہ تعالیٰ کے قانون اور حکمت کے مطابق استغفار اس کے لئے حلال نہیں مِنْم بَعْدِ مَاتَبَیَّنَ لَھُمْ اَنَّہُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ (اس بات کے ظاہرہو جانے کے بعد کہ یہ لوگ دوزخی ہیں) اس بات کے ظاہر ہوچکنے کے بعد کہ ان کی موت شرک پر واقع ہوئی۔ پھر اگلی آیت میں ابراہیم ( علیہ السلام) کا عذر ذکر فرمایا۔
Ayah 9:114استغفار ابراہیم ( علیہ السلام) کا جواب :
آیت 114: وَمَاکَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰھِیْمَ لِاَ بِیْہِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَۃٍ وَّ عَدَھَآ اِیَّاہُ (اور ابراہیم کا اپنے باپ کیلئے دعائے مغفرت مانگنا وہ صرف وعدہ کے سبب سے تھا جو انہوں نے اسی سے وعدہ کرلیا تھا) ۔ نمبر 1۔ ان کے والد نے ان سے وعدہ کیا کہ وہ اسلام لے آئیگا۔ نمبر 2۔ ابراہیم ( علیہ السلام) نے والد سے وعدہ کیا کہ وہ اس کے لئے استغفار کرے گا۔ جیسا اس ارشاد میں ہے لاستغفرن لک ( الممتحنہ : 4) اس کی دلیل حسن (رح) کی قراءت ہے۔ وعدھا ایاہ ۔ استغفار کا معنی مغفرت کا سوال کرنا اسلام لانے کے بعد نمبر 2۔ اللہ تعالیٰ سے ان کے اسلام لانے کی دعا کرنا جو کہ مغفرت کا سبب ہے۔ فَلَمَّا تَبَیَّنَ (پھر جب ان پر یہ بات ظاہر ہوگئی) وحی کے ذریعہ لَہٗ ابراہیم ( علیہ السلام) کو اَنَّہٗ (کہ وہ) کہ ان کا والد عَدُوٌّ لِّلّٰہِ (اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے) کافر مرے گا تو ان کی امید منقطع ہوگئی تَبَرَّا مِنْہُ (تو وہ اس سے بالکل بےتعلق ہوگئے) استغفار منقطع کردیا۔ اِنَّ اِبْرٰھِیْمَ لَاَ وَّاہٌ (بیشک ابراہیم بڑے رحیم المزاج) وہ شفقت اور اللہ تعالیٰ کے خوف سے بہت آہیں کھینچنے والے تھے۔ مطلب یہ ہوا کہ وہ شدیدرحمت ورقت سے اپنے باپ کافر پر مہربانی کرتے حَلِیْمٌ (حلیم الطبع تھے) تکالیف پر صبر کرنے والے۔ تکلیف پر درگزر کرنے والے تھے۔ وہ باپ کے لئے ہدایت و استغفار کے طالب تھے۔ اور باپ لارجمنک کا پیغام سناتا تھا۔
Ayah 9:115گناہ کو جان بوجھ کر کرنے سے مواخذہ ہوگا :
آیت 115: وَمَاکَانَ اللّٰہُ لِیُضِلَّ قَوْمًام بَعْدَ اِذْھَدٰھُمْ حَتّٰی یُبَیِّنَ لَہُمْ مَّا یَتَّقُوْنَ (اور اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کرتا کہ کسی قوم کو اللہ تعالیٰ ہدایت کرنے کے بعد گمراہ کر دے جب تک کہ ان چیزوں کو صاف صاف نہ بتلا دے جن سے وہ بچتے رہیں) جس سے بچنے اور پرہیز کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے جیسا کہ مشرکین کیلئے استغفاروغیرہ اور دیگر منہیات اور وہ چیزیں جن کا محظور ہونا واضح کردیا۔ اور اس پر وہ اپنے ان بندوں سے جن کی راہنمائی اسلام کی طرف کردی مؤاخذہ بھی نہیں فرماتا۔ اور نہ رسوا کرتا ہے مگر جبکہ اس کا اقدام جان بوجھ کر کریں اور وہ جانتے ہوں کہ اس کا ماننا ضروری ہے۔ باقی وضاحت و اطلاع سے پہلے مؤاخذہ نہیں۔ دراصل اس آیت میں ان صحابہ کے عذر کا بیان ہے جن کو خدشہ ہوا کہ استغفار مشرکین کے سلسلہ میں کہیں مؤاخذہ نہ ہوجائے۔ مایتقون ؔ سے مراد وہ چیز ہے کہ ممانعت کی بناء پر جس سے بچنا ضروری ہے باقی عقل سے معلوم ہونے والی چیز کا دارو مدار اس پر نہیں ہے۔ اِنَّ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیْ ئٍ عَلِیْمٌ (بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتے ہیں)
Ayah 9:116مالک وہی ہے ‘ اس کی کارسازی کے بغیر چارہ نہیں :
آیت 116: اِنَّ اللّٰہَ لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ یُحْیٖ وَیُمِیْتُ وَمَا لَکُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّلَانَصِیْرٍ (بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہی کی سلطنت ہے۔ آسمانوں اور زمین میں اور وہی زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اور تمہارا اللہ تعالیٰ کے سواء کوئی نہ یار ہے اور نہ مددگار ہے)
Ayah 9:117آیت 117: لَقَدْ تَّابَ اللّٰہُ عَلَی النَّبِیِّ (اللہ تعالیٰ نے پیغمبر کے حال پر توجہ فرمائی) یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر ﷺ پر منافقین کو پیچھے رہنے کی اجازت دینے پر رجوع فرمایا۔ جیسا دوسرے ارشاد میں ہے۔ عفا اللّٰہ عنک لم اذنت لھم (التوبہ : 43) وَالْمُھٰجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِ (اور مہاجرین وانصار کے حال پر بھی) اس میں مسلمانوں کو توبہ پر آمادہ کیا گیا۔ ہر مومن توبہ و استغفار کا محتاج ہے یہاں تک کہ نبی ﷺ اور مہاجرین وانصار بھی۔
الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُ فِیْ سَاعَۃِ الْعُسْرَۃِ (جنہوں نے ایسی تنگی کے وقت میں پیغمبر کا ساتھ دیا) غزوئہ تبوک کے موقع پر۔ اس کا معنی وقت العسرۃ ہے۔ الساعۃؔ کا لفظ مطلق وقت کے لئے استعمال ہوتا ہے صحابہ کرام ؓ کو سواریوں کی تنگی تھی دس دس صحابہ ایک ایک اونٹ پر سوار ہوتے تھے۔ سفرکازادِراہ ردی قسم کی کھجور بھوسی دارجو، مہک والی چربی تھی۔ بھوک اس حد تک پہنچ گئی کہ دو دو کو ایک کھجور ملنے لگی اور بعض اوقات ایک جماعت اس ایک کھجور کو چوس کر پانی پی لیتی اور پانی کی قلت کا حال یہ تھا کہ اونٹوں کو ذبح کر کے ان کی اوجریاں بعض اوقات نچوڑ کر پینی پڑیں۔ ادھر موسم شدید گرمی اور تمازت والا۔ اور قحط و خشک سالی اپنے جوش میں۔
مِنْم بَعْدِ مَاکَادَ یَزِیْغُ قُلُوْبُ فَرِیْقٍ مِّنْہُمْ (اس کے بعد کہ ان میں سے ایک جماعت کے دل میں کچھ تزلزل پیدا ہو چلا تھا) نمبر 1۔ ایمان پر ثابت قدمی میں۔ نمبر 2۔ اس غزوہ میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ جانے میں۔
نحو۔ کاد ؔ میں ضمیر شان ہے اور اس کے بعد والا جملہ منصوب ہے یہ اسی طرح ہے جیسا کہا جاتا ہے لیس خلق اللّٰہ مثلہ ای لیس الشان خلق اللّٰہ مثلہ اللہ تعالیٰ نے اس جیسا بنایا نہیں۔
قراءت : حمزہ اور حفص نے یزیغ پڑھا ہے۔
ثُمَّ تَابَ عَلَیْھِمْ (پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے حال پر توجہ فرمائی) دوبارہ تاکید کیلئے لائے۔ اِنَّہٗ بِھِمْ رَئُ وْفٌ رَّحِیْمٌ (بلاشبہ اللہ تعالیٰ ان سب پر بہت ہی شفیق و مہربان ہے)
Ayah 9:118تین صحابہ ؓ پر بھی توجہ رحمت کا چھینٹا پڑا :
آیت 118: وَّعَلَی الثَّلٰثَۃِ (اور ان تین شخصوں کے حال پر بھی) ای وتاب علی الثلاثۃ۔ اس کا عطف النبی پر ہے۔ اور تینوں پر رجوع فرمایا۔ الَّذِیْنَ خُلِّفُوْا (جن کا معاملہ ملتوی کردیا گیا تھا) غزوہ سے پیچھے رہ گئے۔ حَتّٰی اِذَا ضَاقَتْ عَلَیْھِمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ (یہاں تک کہ جب زمین باوجود اپنی فراخی کے ان پر تنگی کرنے لگی) مارحبت ؔ میں ماؔ مصدر یہ ہے برحبھا۔ وسعت کے باوجود۔ دراصل یہ حیرانی کو تمثیل سے ذکر فرمایا۔ گویا وہ زمین میں کوئی جگہ ہی نہیں پا رہے تھے کہ جہاں قلق اضطراب اور گھبراہٹ سے بھاگ کر چلے جائیں۔ وَضَاقَتْ عَلَیْھِمْ اَنْفُسُھُمْ (وہ خود اپنی جان سے تنگ آگئے)
انفس سے مراد قلوب ہیں ان کے دلوں میں انس و سرور نہ رہا گویا وہ فرط و حشت وغم سے نکل نکل گئے۔ وَظَنُّوْا اَنْ لَّا مَلْجَاَ مِنَ اللّٰہِ اِلَّا اِلَیْہِ (اور انہوں نے یقین کرلیا کہ اللہ تعالیٰ سے کہیں پناہ نہیں مل سکتی مگر اس کے ہاں) انہیں یقین ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی سے نکلنے کا راستہ معافی و استغفار کے علاوہ کوئی نہیں ہے۔ ثُمَّ تَابَ عَلَیْھِمْ (پھر ان کے حال پر توجہ فرمائی) پچاس ایام کے بعد لِیَتُوْبُوْا (تاکہ وہ آئندہ بھی رجوع رہا کریں) تاکہ وہ بھی توابین میں شامل ہوجائیں۔ اِنَّ اللّٰہَ ھُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ (بیشک اللہ تعالیٰ بہت توجہ فرمانے والے بڑے رحم کرنے والے ہیں) ابوبکر وراق کہتے تھے خالص توبہ یہ ہے کہ تائب کو زمین باوجود وسعت کے تنگ نظر آئے اور خود اس کا اپنا نفس بھی اس پر تنگ ہو۔ جیسا کہ یہ تین صحابہ کرام۔
Ayah 9:119سچوں کا ساتھ دو :
آیت 119: یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَکُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ (اے ایمان والو ! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ رہو) نمبر 1۔ ایمان والوں کے ساتھ نہ کہ منافقین کے ساتھ۔ نمبر 2۔ ان ایمان والوں کے ساتھ جو پیچھے نہیں رہے۔ نمبر 3۔ ان لوگوں کے ساتھ جو اللہ تعالیٰ کے دین میں اور قول و نیت و عمل میں سچ اختیار کرنے والے ہیں۔
مسئلہ : یہ آیت اجماع کی حجیت پر دلیل ہے کیونکہ صادقین کا ساتھ دینے کا حکم دیا گیا پس ان کا قول قبول کرنا ضروری ہوا۔
Ayah 9:120اپنی جان کو عزیز سمجھ کر جہاد سے پیچھے نہ رہنا چاہیے :
آیت 120: مَا کَانَ لِاَھْلِ الْمَدِیْنَۃِوَمَنْ حَوْلَھُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ اَنْ یَّتْخَلَّفُوْا عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ (مدینہ کے رہنے والوں کو اور جو دیہاتی ان کے گردو پیش ہیں یہ مناسب نہیں تھا کہ وہ رسول اللہ کا ساتھ نہ دیں) یہاں نفی بمعنی نہی ہے ان لوگوں کو خصوصًا ذکر کیا اگرچہ تمام لوگ اس معاملے میں برابر ہیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ آنحضرت ﷺ کے بالکل قریب رہتے تھے۔ اور آپ کا نکلنا ان کے سامنے واضح تھا۔
وَلَا یَرْغَبُوْا (اور نہ اپنی جان کو عزیز سمجھیں) اور نہ یہ چاہیئے کہ وہ بخل کریں بِاَنْفُسِھِمْ عَنْ نَّفْسِہٖ ( ان کی جان کے مقابلہ میں) جو کچھ بھی پہنچتا رہے آپ کو۔ یعنی ان کو نہ چاہیئے کہ وہ اپنے آپ کو حضور ﷺ کی ذات کے مقابلے میں ترجیح دیں بلکہ پریشانی اور تکلیف میں آپ کا ساتھ دیں اور ساتھ رہیں اور ہر سختی میں اپنے کو آپ کی خدمت میں پیش کردیں۔ ذٰلِکَ (یہ) پیچھے رہنے کی ممانعت بِاَنَّھُمْ (اس سبب سے) اس وجہ سے ہے لَایُصِیْبُھُمْ ظَمَاٌ (ان کو جو پیاس لگتی ہے) پیاس وَّ لَانَصَبٌ (اور جو تھکاوٹ پیش آتی ہے) تھکاوٹ وَّلَا مَخْمَصَۃٌ (اور جو بھوک لگتی ہے) بھوک فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ (اللہ کی راہ میں) جہاد میں وَلَا یَطَئُوْنَ مَوْطِئًا (اور جو چلنا وہ چلے) اپنے گھوڑوں کے سموں سے کفار کی جس زمین کو وہ روندتے ہیں اور اپنے اونٹوں کے قدموں اور پائوں سے لتاڑتے ہیں۔ یَّغِیْظُ الْکُفَّارَ ( جو کفار کیلئے غصہ کا باعث ہوا) ان کو ناراض کرے اور ان کے سینوں کو تنگ کرے۔ وَلَایَنَالُوْنَ مِنْ عَدُوٍّنَّیْلًا ( اور انہوں نے دشمن کی جو کچھ خبر لی) ان کو قتل کی جو مصیبت پہنچتی ہے نمبر 2۔ قید و بند نمبر 3۔ زخم نمبر 4۔ ہڈی ٹوٹنا نمبر 5۔ شکست وغیرہ اِلَّا کُتِبَ لَھُمْ بِہٖ عَمَلٌ صَالِحٌ ( ان سب پر ان کے نام ایک ایک نیک عمل لکھا گیا) ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ہر گھبراہٹ کے بدلے ستر ہزار نیکیاں ملتی ہیں کہا جاتا ہے نال منہ جب اس کو تکلیف پہنچائے اور اس کو کم کرے۔ یہ ہر ایسی چیز کے متعلق عام ہے جو پریشانی کا باعث بنے۔
مسئلہ : نمبر 1۔ جو آدمی کسی کام کا قصد کرتا ہے تو اس کے لئے اس کی نقل و حرکت، قیام و قعود، کلام، مشی، رکوب وغیرہ تمام قابل بدلہ اور صلہ ہیں۔ نمبر 2۔ لڑائی ختم ہونے کے بعد مدد لشکر کے ساتھ مال غنیمت میں برابر کی شریک ہے کیونکہ کفار کے علاقوں کو روندنے سے ان کو غصہ آتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے عامر کے دونوں بیٹوں کو حصہ عنایت فرمایا۔ حالانکہ وہ دونوں لڑائی کے ختم ہونے کے بعد پہنچے تھے۔
الموطی نمبر 1 یہ مورد کی طرح مصدر ہے نمبر 2۔ ظرف مکان ہے۔ اگر ظرف مکان مانیں تو پھر یغِیْظُ الْکُفَّارَ کا معنی (اس کا روندنا کفار کو غصہ دلانے والا ہے، یہ مصدری معنی ہے) روندنے کی جگہ کفار کو غصہ دلانے والی ہے۔ اِنَّ اللّٰہَ لَایُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ ( یقینا اللہ تعالیٰ مخلصین کا اجر ضائع نہیں کرتے) یعنی بیشک وہ مخلص ہیں اللہ تعالیٰ انکاثواب باطل نہ کریں گے۔
Ayah 9:121اخلاص والے ہر چھوٹے بڑے عمل کا بدلہ ہے :
آیت 121: وَلَا یُنْفِقُوْنَ نَفَقَۃً ( اور جو کچھ انہوں نے خرچ کیا) اللہ تعالیٰ کی راہ میں صَغِیْرَۃً (چھوٹا) خواہ ایک کھجور ہی کیوں نہ ہو وَّلَا کَبِیْرَۃً (بڑا) جیسا کہ عثمان غنی ؓ نے جیش عسرہ میں دیا۔ وَّلَا یَقْطَعُوْنَ وَادِیًا ( جتنے میدان ان کو طے کرنے پڑے) آنے جانے میں جس زمین سے ان کا گزر ہوا۔ وادی ؔ پہاڑوں کے درمیان کھلی جگہ۔ اور ٹیلوں کے مابین وسیع جگہ۔ جس میں ٹیلوں سے اترنے والا پانی بہتا ہو۔ یہ اصل میں فاعل ہے اصل ودیؔ جبکہ بہنے لگے اسی سے الوادی ہے اور الودی بھی اسی سے ہے اب وادی مطلق زمین کیلئے بولاجانے لگا۔ اِلَّا کُتِبَ لَھُمْ (یہ سب بھی ان کے نام لکھا گیا) وہ خرچ کرنا اور وادی عبور کرنا لِیَجْزِ یَھُمُ اللّٰہُ (تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو بدلہ دے) یہکُتِبَ سے متعلق ہے یعنی ان کے نامہ عمل میں بدلے کیلئے لکھ دیا گیا۔ اَحْسَنَ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ( ان کے کاموں کا اچھے سے اچھا) یعنی ان کے ہر عمل پر بہترین جزاء عنائیت فرمائیں گے اور احسن سے کم درجہ عمل کو بھی احسن کے ساتھ کثرت اجر کیلئے شامل کرلیا جائے گا۔
Ayah 9:122کچھ جہاد میں جائیں تو دوسرے دین کا فہم حاصل کریں :
آیت 122: وَمَا کَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا کَآ فَّۃً ( مؤمنوں کو یہ نہ چاہیے کہ سب کے سب نکل کھڑے ہوں) لام تاکید نفی کیلئے ہے تمام مسلمانوں کا طلب علم کیلئے اپنے وطنوں سے کوچ کرنا صحیح نہیں کیونکہ اس سے بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔ فَلَوْلَا نَفَرَ (کیوں نہ نکلی چھوٹی جماعت) جب تمام کا کوچ نہیں تو پھر ایک گروہ کیونکر ایسا نہیں مِنْ کُلِّ فِرْقَۃٍ مِّنْھُمْ طَآپفَۃٌ ( ہر ہر بڑی جماعت میں سے ایک چھوٹی جماعت) ہر بڑی جماعت میں سے چھوٹی جماعت تاکہ ان کا کوچ کر ناکفایت کر جائے۔ لِّیَتَفَقَّھُوْا فِی الدِّیْنِ (تاکہ باقی ماندہ لوگ دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرتے رہیں) تاکہ وہ اسمیں خوب گہرائی کو بتکلف حاصل کریں اور اس کے حصول میں مشقت اٹھائیں۔
وَ لِیُنْذِ رُوْا قَوْمَھُمْ (تاکہ یہ لوگ اپنی قوم کو ڈرائیں) ان کو اپنی ہمتوں کا مقصود دعوت و ارشاد دین اور انذار بنانا چاہیئے۔ اِذَا رَجَعُوْا اِلَیْھِمْ (جبکہ وہ ان کے پاس آویں) اور کوئی خسیس اغراض جیسے سردار ی، صدارت حاصل کرنا اور لباس اور سواریوں میں ظالموں سے مشابہت نہ ہونی چاہیئے۔ لَعَلَّھُمْ یَحْذَرُوْنَ (تاکہ وہ احتیاط رکھیں) جس سے بچنا ضروری ہے کہا گیا ہے کہ غزوئہ تبوک کے بعد جب آپ ﷺ کسی لشکر کو روانہ فرماتے جبکہ متخلفین کے بارے میں سخت عذاب کی آیات اتر چکیں تو تمام مومن اس لشکر میں جانے کیلئے سبقت کرتے۔ اور تفقہ فی الدین سے منقطع رہتے اس پر حکم ہوا کہ ایک گروہ کو جہاد کی طرف بھیجا جائے۔ اور باقی تمام تفقہ فی الدین میں مصروف رہیں۔ تاکہ اس جہاد اکبر سے منقطع نہ رہیں۔ اسلئے کہ قصد کرنے والوں کے ساتھ جہاد و کوشش جہاد بالنبل سے (ایک اعتبار سے) بڑھ کر ہے لیتفقہوا میں ضمیر ان باقی گروہوں کیلئے ہے جو کوچ کرنیوالوں کے بعد رہ جائیں۔ اور لینذروا قومہم تاکہ وہ باقی جماعتوں اور کوچ کرنے والوں کو جب وہ لوٹ کر آئیں وہ علوم سکھائیں جو ان کی غیر موجودگی میں حاصل کئے ہیں۔ اور پہلی صورت میں مدینہ کی طرف دین کی سمجھ حاصل کرنے کیلئے آنے والی جماعتیں مراد ہیں (کہ وہ لوٹ کر اپنے اپنے شہروں اور اقوام کو دین کی باتیں سکھائیں) ۔
Ayah 9:123کفار کے ساتھ اقرب فالاقرب کے لحاظ سے قتال کیا جائے :
آیت 123: یٰٓاَیَّھُاَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَاتِلُوا الَّذِیْنَ یَلُوْنَکُمْ (اے ایمان والو ان سے لڑو جو تمہارے آس پاس ہیں) تم سے جو قریب ہیں مِّنَ الْکُفَّارِ ( کفار سے) قتال تمام کفار کے خلاف خواہ وہ قریب ہوں یا بعید واجب ہے لیکن وجوب اقرب فالاقرب کے لحاظ سے ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنی قوم سے لڑائی کی پھر حجاز کے دیگر کفار سے۔ پھر شام۔ کیونکہ شام عراق کی نسبت مدینہ سے زیادہ قریب ہے اسی طرح ہر طرف میں لازم یہ ہے کہ قریب تر سے لڑیں۔ وَلْیَجِدُوْا فِیْکُمْ غِلْظَۃً (اور ان کو تمہارے اندر سختی پانی چاہیے) تم میں قتال سے قبل ان کے ساتھ بات میں سختی و درشتی ہونی چاہیے۔ وَاعْلَمُوْا اَنَّ اللّٰہَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ (اور یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ متقی لوگوں کے ساتھ ہے) نصرت و غلبہ کے ذریعہ۔
Ayah 9:124منافقین کا قرآن سے استہزاء اور اس کا جواب :
آیت 124: وَاِذَ ا مَآاُنْزِلَتْ سُوْرَۃٌ (اور جب کوئی سورت نازل کی جاتی ہے) ماؔ موصولہ ہے جو تاکید کیلئے ہے فَمِنْھُمْ (تو بعض منافقین) منافقین میں سے مَّنْ یَّقُوْلُ ( کہتے ہیں) ایک دوسرے کو کہتے ہیں اَیُّکُمْ زَادَتْہُ ھٰذِہٖ (اس سورت نے تم میں سے کس کے ترقی دی ہے) اس سورت نے اِیْمَانًا (ایمان میں) ایمان والوں کا استہزاء اور سورت کا انکار کرتے ہوئے اَیُّکُمْ ؔ یہ مبتداء کی وجہ سے مرفوع ہے۔ فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَزَادَتْھُمْ اِیْمَانًا وَّ ھُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ (سو جو لوگ ایماندار ہیں اس سورت نے ان کے ایمان میں ترقی دی ہے)
Ayah 9:125آیت 125: وَاَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَّرَضٌ (اور جن کے دلوں میں بیماری ہے) شک و نفاق۔ یہ ایسا بگاڑ ہے جو بدن کی بیماری کی طرح علاج کے لائق ہے۔ فَزَادَتْھُمْ رِجْسًا اِلٰی رِجْسِھِمْ (تو ان کی گندگی کے ساتھ اور گندگی بڑھا دی) ایسا کفر جو ان کے کفر کے ساتھ ملاہوا ہے۔ وَمَاتُوْا وَھُمْ کٰفِرُوْنَ (اور وہ حالت کفر ہی میں مرگئے) اس میں ان کے کفر پر اصرار کرنے کی اطلاع دی گئی ہے۔ (جو کہ یقینا سچی ثابت ہوئی )
Ayah 9:126منافق سال بسال آفات میں ڈالتے جاتے تاکہ توبہ کرلیں مگر کہاں…:
آیت 126: اَوَلَا یَرَوْنَ (کیا ان کو دکھائی نہیں دیتا) منافقین کو
قراءت : حمزہ نے تَرَوْنَپڑھا ہے اور خطاب ایمان والوں کو ہے۔ اَنَّھُمْ یُفْتَنُوْنَ (کہ یہ آفت میں پھنستے رہتے ہیں) قحط امراض وغیرہ میں مبتلا کیے جاتے ہیں۔ فِیْ کُلِّ عَامٍ مَّرَّۃً اَوْمَرَّتَیْنِ ثُمَّ لَایَتُوْبُوْنَ (ہر سال میں ایک بار یا دو بار پھر بھی باز نہیں آتے) اپنی منافقت سے وَلَاھُمْ یَذَّکَّرُوْنَ (اور نہ وہ کچھ سمجھتے ہیں) نمبر 1۔ نہ عبرت حاصل کرتے ہیں۔ نمبر 2۔ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ملکر جہاد کے ذریعہ نہ تو وہ توبہ کرتے ہیں حالانکہ اسلام کا دبدبہ دیکھتے بھی ہیں۔ اور نہ صدمات سے نصیحت حاصل کرتے ہیں۔