Ayah 9:31انہوں نے حلال و حرام اپنے علماء و عابدوں کے حوالہ کردیا ہے :
آیت 31: اِتَّخَذوْٓا (انہوں نے بنا رکھا ہے) اہل کتاب نے اَحْبَارَھُمْ (اپنے علماء کو) اپنے علماء وَرُھْبَانَھُمْ (اپنے عابدوں کو) اَرْبَابًا (معبود) مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ (اللہ کو چھوڑ کر) اس طرح کہ ان کی اطاعت اس چیز کو حلال کرنے میں جو اللہ تعالیٰ نے حرام کی ہے اور اس چیز کو حرام کرنے میں جس کو اللہ تعالیٰ نے حلال کیا۔ اسی طرح کرتے جیسے ارباب کی اطاعت اوامر ونواہی میں کی جاتی ہے۔ وَالْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ (اور مسیح ابن مریم کو بھی) یہ احبار پر عطف ہے انہوں نے مسیح کو رب یعنی ابن اللہ بنایا۔ وَمَآاُمِرُوْٓا اِلَّا لِیَعْبُدُوْٓا اِلٰھًا وَّاحِدًا ( اور ان کو صرف یہ حکم کیا گیا ہے کہ فقط ایک معبود کی عبادت کریں) اس پر وقف بھی جائز ہے۔ کیونکہ اس کا مابعد مبتداء بننے کی صلاحیت رکھتا ہے اور واحد کی صفت بن سکتا ہے۔ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ سُبْحٰنَہٗ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ (جس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں وہ پاک ہے ان کے شرک سے) شرک سے اس کا پاک قرار دینا۔
Ayah 9:32پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا :
آیت 32: یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰہِ بِاَفْوَاھِھِمْ وَیَاْبَی اللّٰہُ اِلَّآ اَنْ یُّتِمَّ نُوْرَہٗ وَلَوْکَرِہَ الْکٰفِرُوْنَ (وہ لوگ اس طرح چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنی پھونکوں سے بجھا دیں مگر اللہ بغیر اس کے کہ اپنے نور کو پورا کمال تک پہنچا دے مانے گا نہیں اگرچہ کافر لوگوں کو یہ بات ناگوار ہو) ان کی مثال نبوت محمد ﷺ کو ناکام کرنے میں اور تکذیب میں اس طرح ہے جیسے کوئی شخص کسی عظیم روشنی کو پھونک ماررہا ہو جو روشنی آفاق میں پھیلنے والی ہو۔ اللہ تعالیٰ اس روشنی کو بڑھانے والے ہوں اور اس کو چمکا کر انتہاء تک پہنچانے والے ہوں۔ پھونک کا مقصد اس روشنی کو بجھانا ہو ( تو جس طرح اس کی پھونک سے وہ روشنی بجھ نہیں سکتی اسی طرح نوراسلام بھی ان کی باطل تدبیروں سے ختم نہیں ہوسکتا۔ وَیَاْبَی اللّٰہُ کو لایرید کی بجائے لایا گیا۔ اسی لئے کہ وہ یریدون کے مقابلہ میں آرہا ہے۔ ورنہ تو یہ نہیں کہا جاسکتا۔ کرھت او ابغضت الا زیدًا۔
Ayah 9:33اللہ تعالیٰ نے دین کو بہرصورت تمام ادیان پر غلبہ دینا ہے :
آیت 33: ھُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی (وہ اللہ ایسا ہے کہ جس نے اپنے رسول کو ہدایت دیکر بھیجا) محمد ﷺ بِالْہُدٰی قرآن کے ساتھ وَدِیْنِ الحَقِّ (اور سچا دین) اسلام لِیُظْھِرَہٗ (تاکہ وہ غالب کر دے) وہ بلندو غالب کرے عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ (تمام دینوں پر) تمام اہل ادیان پر نمبر 2۔ دین حق کو ہر دین پر غالب کرے۔ وَلَوْکَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ (اگرچہ مشرک کیسے ہی ناخوش ہوں) ۔
Ayah 9:34حرام خور احبارو رہبان :
آیت 34: یٰٓاَیـُّـھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْٓا اِنَّ کَثِیْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَالرُّھْبَانِ لََیَاْکُلُوْنَ اَمْوَالَ النَّاسِ (اے ایمان والو اکثر احبار اور درویش لوگوں کے مال کھاتے ہیں) لینے کو کھانے کے لفظ سے بطور استعارہ کے لائے بِالْبَاطِلِ (ناجائز طریقے سے) احکام میں رشوت کے ذریعہ وَیَصُدُّوْنَ (اور وہ روکتے ہیں) اپنے ماتحتوں کو عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ (اللہ کی راہ سے) اس کے دین سے۔
جس مال سے اللہ کا حق نہ دیا جائے وہ کنز ہے اس کی یہ سزا ہے :
وَالَّذِیْنَ یَکْنِزُوْنَ الذَّھَبَ وَالْفِضَّۃَ (اور جو لوگ سونا چاندی جمع کر کے رکھتے ہیں) جائز ہے کہ اکثریت نمبر 1۔ احبارو رہبان کی طرف اشارہ ہو۔ کیونکہ ان میں یہ دونوں مذموم خصلتیں جمع تھیں مثلاً رشوت خوری، جمع اموال اور انفاق سے بخل وغیرہ۔
نمبر 2۔ اس سے وہ مسلمان جو مال جمع کرتے ہیں اور اس کو ابواب خیر میں صرف نہیں کرتے گویا اہل کتاب کے رشوت خور اور مسلمان غیر منفق مالدار ایک شمار وقطار میں رکھے گئے تاکہ مذمت میں مبالغہ ہو۔ نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے۔ جس مال کی زکوٰۃ دے دی جائے وہ کنز نہیں۔ اگرچہ وہ خفیہ رکھا ہو۔ اور جو مال زکوٰۃ کی حد تک پہنچے مگر اس کی زکوٰۃ ادانہ کی جائے وہ کنز ہے۔ اگرچہ وہ ظاہر ہو۔ (رواہ الطبرانی فی الاوسط و مجمع الزوائد)
بہت سے صحابہ ؓ جیسے عبدالرحمان بن عوف، طلحہ، عثمان بن عفان ؓ مال جمع کرتے اور اس میں تصرف کرتے مگر ان کو کسی نے معیوب نہیں سمجھا۔ خاص کر ان حضرات نے کہ جو جمع کرنے سے اعراض کرنے والے تھے۔ کیونکہ جمع مال سے اعراض یہ افضل ہے جمع کرنا مباح ہے اس کی مذمت نہیں کی جاسکتی۔ وَلَا یُنْفِقُوْنَھَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ (اور اس کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے)
ضمیر معنی کی طرف لوٹتی ہے اسی لئے مؤنث ہے کیونکہ سونا و چاندی ہر ایک دراہم و دنانیر ہے اور یہ اسی طرح ہے جیسا فرمایا وان طائفتان من المؤمنین اقتتلوا ( الحجرات : 9) ضمیر جمع کی مرجع تثنیہ افراد کا لحاظ کرکے لائی گئی۔
نمبر 2۔ مراد کنوز واموال ہیں۔ پس ضمیر مؤنث ہے۔
نمبر 3۔ اور وہ چاندی کو خرچ نہیں کرتے اور سونے کو جیسا کہ شاعر کا یہ قول
فانی وقیّارٌ بھا لغریبٌگویا ہر ایک کی طرف ضمیر الگ الگ لوٹ رہی ہے۔
یعنی انی لغریب بھا وقیار غریب بہا
تمام اموال میں خاص کر ذھب و فضہ کو ذکر کیا گیا کیونکہ یہ دونوں مالداری کا قانون اور اشیاء کی اثمان کا ذریعہ ہیں اور ان دونوں کے اکتناز کا ذکر دوسرے اموال کے تذکرے کی دلیل ہے۔ فَبَشِّرْھُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ (پس ان کو آپ ایک بڑی درد ناک سزا کی خبر سنا دیں)
Ayah 9:35قیامت کے دن یہی مال آلہ سزا ہوگا :
آیت 35: اور اس ارشاد کا معنی یَّوْمَ یُحْمٰٰی عَلَیْھَا فِیْ نَارِ جَھَنَّمَ (جو کہ اس روز واقع ہوگی جبکہ ان کو دوزخ کی آگ میں تپایا جائے گا) آگ ان پر بھڑکائی جائے گی۔
نحو : فعل کا ذکر کردیا کیونکہ اس کا اسناد جار مجرور کی طرف ہے۔ اس کی اصل یہ ہے : یوم تحمی النار علیھا۔ جس دن
آگ اس پر بھڑکائی جائے گی۔ جب النار کا لفظ حذف کیا اور کہا : یحمٰی کیونکہ اسناد سے منتقل ہو کر علیہا کی طرف منتقل ہوگیا۔ جیسا کہا جاتا ہے رفعت القصۃ الی الامیر اگر قصہ کا ذکر نہ کریں اور کہہ دیں رفع الی الامیر۔ تو تب بھی درست ہے۔
فَتُکْوٰی بِھَا جِبَا ھُھُمْ وَجُنُوْبُھُمْ وَظُھُوْرُھُمْ (پھر اس سے ان کی پیشانیوں کو اور ان کے پہلوئوں اور پشتوں کو داغ دیا جائے گا) ان اعضاء کو خاص کرنے کی حکمت یہ ہے کہ جب وہ فقیر کو دیکھتے تو پہلے چہرے پر بل ڈال لیتے۔ جب فقیر اور وہ ایک مجلس میں جمع ہوجاتے تو اس سے پہلو تہی اختیار کرتے اور پشت پھیر کر چلتے بنتے۔ نمبر 2۔ ان کے چاروں اطراف سے داغ دیئے جائیں گے آگے پیچھے دائیں، بائیں۔ ھٰذَامَاکَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِکُمْ (یہ وہ ہے جس کو تم نے اپنے واسطے جمع کر کے رکھا تھا) ان کو کہا جائے گا۔ یہ وہ ہے جو تم نے جمع کیا تاکہ اس سے اپنے آپ کو فائدہ پہنچائو۔ تمہیں معلوم نہیں تھا کہ تم اس کو جمع کر رہے ہو تاکہ اس سے تمہیں نقصان پہنچے یہ درحقیقت تو بیخ ہے۔ فَذُوْقُوْا مَاکُنْتُمْ تَکْنِزُوْنَ (پس اب اپنے جمع کرنے کا مزہ چکھو) یعنی نمبر 1۔ اس مال کا وبال جو تم جمع کرتے رہے۔ نمبر 2۔ اس بات کا وبال کہ تم جمع کرنے والے تھے۔
Ayah 9:36تخلیق ارض و سماء کے وقت سے مہینے بارہ ہیں :
آیت 36: اِنَّ عِدَّۃَ الشُّھُوْرِ عِنْدَ اللّٰہِ اثْنَا عَشَرَشَھْرًا (یقینا مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک بارہ مہینے ہے) بغیر اضافہ کے۔ اس سے یہ وضاحت کی گئی ہے کہ احکام شرع کا دار و مدار قمری مہینوں پر ہے۔ جو چاند سے گنے جاتے ہیں۔ شمسیہ سے نہیں۔ فِیْ کِتٰبِ اللّٰہِ (کتاب الٰہی میں) نمبر 1: جو اپنی حکمت سے واجب کردیا اور اس میں قائم و ثابت کردیا۔ نمبر 2۔ یا اس سے مراد لوح محفوظ ہے۔ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ مِنْھَآ اَرْبَعَۃٌ حُرُمٌ (جس روز اللہ نے آسمان و زمین پیدا کئے تھے ان میں چار مہینے خاص ادب کے ہیں) تین مسلسل ذوالقعدہ لڑائی سے باز رہنے کا، ذوالحجہ حج کیلئے اور محرم حرمت قتال کیلئے اور ایک اکیلا ہے اور وہ رجب ہے کیونکہ عرب اس کی تعظیم کرتے تھے ترجیب تعظیم کو کہتے ہیں۔ ذٰلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ (یہی دین مستقیم ہے) یہ مضبوط و سیدھا دین ہے وہ نہیں جو اہل جاہلیت میں رواج ہے۔ مطلب یہ کہ چار مہینوں کی حرمت یہ صراط مستقیم ہے۔ اور ابراہیم و اسماعیل (علیہما السلام) کا دین ہے۔ عربوں نے اس بات کو مضبوطی سے قائم رکھا۔ وہ ان میں قتال کو حرام قرار دیتے اور ان کی تعظیم کرتے رہے یہاں تک کہ ایک نئی رسم ایجاد ہوئی جس سے اس میں تبدیلی آگئی۔ فَلَا تَظْلِمُوْْا فِیْھِنَّ (پس تم ان مہینوں کے بارے میں نقصان مت کرنا) حرم میں یا بارہ مہینوں میں۔ اَنْفُسَکُمْ (اپنا) گناہوں کا ارتکاب کر کے وَقَاتِلُوا الْمُشْرِکِیْنَ کَآ فَّۃً (اور ان تمام مشرکین سے جنگ کرو)
نحو : کافۃً یہ فاعل یا مفعول سے حال ہے۔
کَمَا یُقَاتِلُوْنَکُمْ کَآفَّۃً (جیسا کہ وہ تم سے لڑتے ہیں) اکٹھے وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ (اور یہ جان لو کہ اللہ تعالیٰ تقویٰ والوں کے ساتھ ہے) یعنی انکا مددگار ہے۔ اس میں متقین کو تقویٰ کی ضمانت دیکر تقویٰ پر آمادہ کیا۔
Ayah 9:37رسم نسی کی تردید :
آیت 37: اِنَّمَا النَّسِیْئُ (بےشک مؤخر کردینا) یہ ہمزہ کے ساتھ نسأہ کا مصدر ہے۔ مؤخر کرنے کے معنی میں آتا ہے۔ یہاں نسیء کا معنی ہے ان کے ہاں مہینہ کی حرمت کو دوسرے مہینے میں مؤخر کردینا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ لوٹ مار اور لڑائی بھڑائی والے لوگ تھے۔ جب حرمت والے مہینے آجاتے اور وہ لڑائی میں مصروف ہوتے تو لڑائی کا اسی حالت میں چھوڑنا ان پر گراں گزرتا پس اس مہینے کو لڑائی کیلئے حلال کرلیتے اور دوسرا مہینہ اس کی جگہ حرام کرلیتے۔ یہاں تک کہ اشھرحرم کی حرمت کے ساتھ تخصیص کا بھی انکار کردیتے۔ پھر وہ سال میں مطلق چار مہینوں کو حرام قرار دیکر گنتی مکمل کرتے۔
زِیَادَۃٌ فِی الْکُفْرِ (کفر میں ترقی ہے) انکا یہ فعل کفر میں ایک اور اضافہ تھا۔ یُضَلُّ (گمراہ کئے جاتے ہیں) ابوبکر کے علاوہ دوسرے کو فی قراء نے پڑھا ہے۔ بِہِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا (جس سے کافر) نسیء کے ذریعہ اور یُحِلُّوْنَہٗ عَامًا وَّ یُحَرِّمُوْنَہٗ عَامًا (وہ اس حرام مہینے کو کسی سال حلال کرلیتے ہیں اور کسی سال حرام سمجھتے ہیں) میں ضمیر نسیء کی طرف راجع ہے یعنی جب وہ ایک مہینے کو اشھر حرام میں سے حلال کرلیتے تو اگلے سال رجوع کر کے دوبارہ اس کو حرام کردیتے۔ لِّیُوَاطِئُوْا عِدَّۃَمَاحَرَّمَ اللّٰہُ (تاکہ اللہ تعالیٰ نے جو مہینے حرام کئے ہیں ان کی گنتی پوری کرلیں) تاکہ وہ اس گنتی کی موافقت ثابت کریں اور وہ چار مہینے ہیں وہ اس کی مخالفت نہ کرتے تھے البتہ اس تخصیص کے مخالف تھے جو کہ واجبات میں سے ایک ہے اور لام یحلونہ ویحرمونہ سے متعلق ہے یا یحرمونہ کافی ہے اور یہ ظاہر ہے۔
فَیُحِلُّوْا مَاحَرَّ مَ اللّٰہُ (پھر اللہ کے حرام کئے ہوئے مہینے کو حلال کرلیتے ہیں) یعنی فیحلوا بمواطأۃ العدۃ وحد ھا من غیرتخصیص ماحرم اللہ من القتال وہ گنتی کی موافقت کیلئے بغیر تخصیص کے اس چیز کو حلال کرلیں۔ جو قتال اللہ تعالیٰ نے حرام کیا۔ نمبر 2۔ جو چیز اللہ تعالیٰ نے حرام کیں یعنی مہینہ کو معین طور پر حرام کرنا اس کو انہوں نے حلال کرلیا اور اس کی تخصیص ختم کردی۔ زُیِّنَ لَھُمْ سُوْٓئُ اَعْمَالِھِمْ (ان کی بداعمالیاں ان کی نظر میں مرغوب معلوم ہوتی ہیں) شیطان نے ان کے لئے یہ مزین کیا کہ برے اعمال کو انہوں نے اچھا سمجھا۔ وَاللّٰہُ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الْکٰفِرِیْنَ (اور اللہ تعالیٰ اس سے کافروں کو ہدایت نہیں دیتے) جب تک وہ باطل پر پختگی اختیار کرنے والے ہیں۔
Ayah 9:38ترغیب جہاد :
آیت 38: یٰٓاَیـُّـھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا مَا لَکُمْ اِذَاقِیْلَ لَکُمُ انْفِرُوْا (اے ایمان والو تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ نکلو) فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اثَّا قَلْتُمْ (اللہ کی راہ میں تو تم لگے جاتے ہو) تم بوجھل بنتے ہو۔ اس کی اصل تثاقلتم ہے۔ تا کو ثا کر کے اس میں ادغام کردیا پھر ہمزئہ وصل ابتداء بالسکون کی وجہ سے بڑھا دیا۔ مطلب یہ ہے کہ تم سستی کرتے ہو۔ اِلَی الْاَرْضِ (زمین کو) اِلٰٰی کے ساتھ متعدی کر کے میل و اخلاد کا معنی شامل کیا۔ نمبر 1: یعنی تم دنیا اور اس کی شہوات کی طرف مائل ہو۔ اور سفر کی صعوبتیں اور تھکاوٹیں ناپسند کرتے ہو۔
نمبر 2۔ تم اپنے گھروں اور زمینوں میں رہنے کی طرف مائل ہو۔ یہ غزوئہ تبوک کا موقع تھا جب تنگدستی کے زمانہ میں سفر جہاد کا حکم دیا گیا سفر دوردراز علاقے کا، سخت گرمی، حالت قحط، مسلح کثیر تعداد میں دشمن پس ایسے حالات میں بعض مسلمانوں پر گراں گزرا۔ آپ جس غزوہ میں نکلے کسی دوسری طرف کا بتلایا۔ صرف غزوئہ تبوک میں صاف بتلا دیا تاکہ پوری تیاری کرسکیں۔ اَرَضِیْتُمْ بِالْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا مِنَ الْاٰخِرَۃِ (کیا تم نے آخرت کے بدلے دنیاوی زندگی کو پسند کرلیا) آخرت کے بدلے فَمَا مَتَاعُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَۃِ (پس دنیوی زندگی کا نفع آخرت کے مقابلے میں) آخرت کے مقابلہ میں اِلَّا قَلِیْلٌ (مگر بہت قلیل ہے) ۔
Ayah 9:39بوجھل پن پر اظہار ناراضی :
آیت 39: اِلَّا تَنْفِرُوْا (اگر تم نہ نکلو گے) لڑائی کی طرف یُعَذِّبْکُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا وَّ یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَکُمْ وَلَا تَضُرُّوْہُ شَیْئًا (تو اللہ تم کو درد ناک سزا دے گا اور تمہارے بدلے دوسری قوم پیدا کر دے گا اور تم اللہ کو کچھ ضرر نہ پہنچا سکو گے) اس میں بوجھل پن پر ناراضی کا اظہار کیا گیا ہے ان کو دردناک عذاب کی دھمکی دی گئی اور اس کو مطلق ذکر کر کے دونوں جہانوں کے سلسلہ میں عام کردیا کہ اللہ تعالیٰ ان کو ہلاک کر دے گا اور ان کی بجائے اور لے آئے گا۔ جو ان سے بہتر اور زیادہ مطیع ہونگے اور اس کو اپنے دین کی امداد کیلئے انکی محتاجی نہیں اور انکا یہ بوجھل پن دین کو قطعاً متاثر نہ کرسکے گا۔
ایک قول یہ بھی ہے لَا تَضُرُّوْہُ کی ضمیر رسول اللہ ﷺ کیلئے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی حفاظت کا وعدہ فرمایا آپکی نصرت کا وعدہ بہر صورت پورا ہو کر رہے گا۔ وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ (اور اللہ رکھتا ہے ہر چیز پر) سزا دینے اور ان کی جگہ دوسرا لانے میں قَدِیْرٌ ( قابو)
Ayah 9:40نصرت دین کرو ورنہ اللہ تمہاری نصرت کا محتاج نہیں :
آیت 40: اِلَّا تَنْصُرُوْہُ (اگر تم لوگ رسول اللہ ﷺ کی مدد نہ کرو گے) پس عنقریب اس کی وہ مدد کرے گا۔ جس نے اس کی اس وقت مدد کی جبکہ ان کے ساتھ ایک آدمی تھا۔ پس اپنے اس ارشاد فَقَدْ نَصَرَہُ اللّٰہُ (تو اللہ آپ کی مدد کرچکا ہے) اس سے ظاہر کردیا کہ وہ مستقبل میں امداد کرے گا۔ جیسا اس وقت میں امداد کی۔ اِذْ اَخْرَجَہُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا (اس وقت جبکہ کافروں نے آپ کو جلاوطن کردیا تھا) اس میں اخراج کی نسبت کفار کی طرف کی گئی کیونکہ کفار نے جب نکالنے کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو نکلنے کا حکم دیا گویا کہ انہوں نے نکالا۔ واقعہ ہجرت :
ثَانِیَ اثْنَیْنِ (جبکہ دو آدمیوں میں سے ایک آپ تھے) دو میں سے ایک جیسا کہ کہا جاتا ہے۔ ثالث ثلا ثۃ (المائدہ : 73) اور وہ دونوں رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر ؓ تھے۔
نحو : حال کی وجہ سے منصوب ہے۔ اِذْھُمَا (جس وقت کہ دونوں) یہ اذ اخرجہ سے بدل ہے۔ فِی الْغَارِ (غار میں تھے) ثور کے بلند حصہ میں غا رہے مکہ سے ایک گھنٹہ کے سفر پر مکہ سے دائیں جانب ثور پہاڑ ہے۔ اسی میں تین دن قیام رہا۔ اِذْ یَقُوْلُ (جبکہ آپ فرما رہے تھے) یہ دوسرا بدل ہے۔ لِصَاحِبِہٖ لَاتَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا (اپنے ساتھی سے تم غم نہ کرو یقینا اللہ تعالیٰ ہمارے ہمراہ ہے) نصرت و حفاظت کے ساتھ۔
یہ بھی کہا گیا کہ مشرکین نے غار کے اوپر پہنچ کر جھانکا۔ حضرت ابوبکر ؓ کو رسول اللہ ﷺ کے بارے میں خطرہ محسوس ہوا۔ تو عرض کی اگر آج پکڑے گئے تو اللہ تعالیٰ کا دین ختم ہوجائے گا۔ آپ ( علیہ السلام) نے فرمایا۔ ماظنک باثنین اللّٰہ ثالثھما (بخاری و مسلم کے الفاظ اس سے کچھ مختلف ہیں۔ ) ایک قول یہ ہے کہ جب آپ غار میں داخل ہوچکے تو دو کبوتر اللہ تعالیٰ نے بھیجے۔ انہوں نے اس کے نچلی جانب انڈے دے دیئے اور مکڑی کو بھیج دیا۔ اس نے جالابن دیا۔ (بزار) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللّٰھم أعم ابصارھم (اس کی سند نہیں) وہ غار کے اردگرد پھرنے لگے مگر ان کو سمجھ نہیں آرہی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھوں سے آپ کی حفاظت فرمائی۔
علماء کا قول :
جو شخص ابوبکر صدیق ؓ کی صحبت کا منکر ہے۔ وہ کافر ہے کیونکہ اس سے کلام اللہ کا انکار لازم آتا ہے۔ اور بقیہ صحابہ کیلئے یہ نہیں (مگر وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ بھی ظاہر ہے فافہم)
نزولِ سکینہ :
فَاَنْزَلَ اللّٰہُ سَکِیْنَتَہٗ (پس اللہ تعالیٰ نے اپنی تسلی نازل فرمائی) جو آپ کے قلب اطہر میں امن ڈالا گیا جس سے اس موقع پر سکون حاصل ہوا اور آپ نے جانا کہ دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکتے۔ عَلَیْہِ (آپ پر) نبی اکرم ﷺ یا ابوبکر صدیق ؓ پر کیونکہ وہی آپ کے متعلق ڈر رہے تھے۔ اور آپ تو پر سکون تھے۔ وَاَیَّدَہٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْھَا (اور آپ کو ایسے لشکروں سے قوت دی جن کو تم لوگوں نے نہیں دیکھا) نمبر 1۔ وہ فرشتے تھے جنہوں نے کفار کے چہروں اور آنکھوں کو آپ کی طرف دیکھنے سے پھیر دیا۔ نمبر 2۔ بدر اور احزاب میں فرشتوں سے امداد فرمائی اور اسی طرح حنین کے دن۔ وَجَعَلَ کَلِمَۃَ الَّذِیْنَ کَفَرُوا (اور کافروں کی بات کو کردیا) یعنی کفر کی طرف ان کی دعوت کو السُّفْلٰی (نیچا) وَکَلِمَۃُ اللّٰہِ (اور اللہ ہی کا بول) اسلام کی طرف دعوت ھِیَ الْعُلْیَا (رہا اونچا) ہِیَ ضمیر فاصل ہے۔ یعقوب نے کلمۃَ اللّٰہ نصب سے پڑھا عطف کی بناء پر اور رفع کی صورت میں جملہ مستانفہ ہے اور یہ بہتر وجہ ہے کیونکہ وہ اس وقت سے لے کر اب تک بلند ہے۔
وَاللّٰہُ عَزِیْزٌ (اور اللہ تعالیٰ زبردست) وہ اپنی مدد سے اہل حق کو عزت دیتا ہے۔ حَکِیْمٌ (حکمت والا ہے) اہل شرک کو اپنی حکمت سے ذلیل کرتا ہے۔
Ayah 9:41سامان (اسلحہ ‘ اسباب) خواہ تھوڑا ہو یا زیادہ اللہ کی راہ میں نکلو :
آیت 41: اِنْفِرُوْا خِفَا فًا (اور تم نکل پڑو تھوڑے سامان سے) اس کی طرف نشاط سے جائو وَّ ثِقَالًا (زیادہ سامان سے) اس کے متعلق مشقت محسوس کرتے ہوئے۔ نمبر 2۔ خفاف جب تمہارے اہل و عیال تھوڑے ہوں اور ثقال اہل و عیال زیادہ ہوں۔ نمبر 3۔ کم مقدار میں اسلحہ ہو یا خوب اسلحہ ہو۔ نمبر 4۔ سوار اور پیدل نمبر 5۔ جو انی و بڑھاپے میں نمبر 6۔ کمزور اونٹوں پر اور موٹے تازے اونٹوں پر نمبر 7۔ صحت مندی اور مرض کی حالت میں۔
وَّ جَاھِدُوْا بِاَمْوَالِکُمْ وَاَنْفُسِکُمْ (اور جہاد کرو اپنے مال اور جان سے) ان دونوں کے ساتھ جہاد ممکن ہو۔ تو دونوں کے ذریعہ۔ اور اگر ایک سے ممکن ہو تو ایک کے ساتھ جس طرح حالت و ضرورت ہو۔ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ذٰلِکُمْ (اللہ کی راہ میں) جہاد خَیْرٌ لَّکُمْ (تمہارے لئے بہتر ہے) اس کے چھوڑنے سے اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ (اگر تم یقین رکھتے ہو) اس کا بہتر ہونا تو پھر اسکی طرف سبقت کرو۔
Ayah 9:42آیت 42: شان نزول : جو منافقین غزوئہ تبوک میں پیچھے چھوڑ دیئے گئے ان کے متعلق اتری۔
تذکرئہ تبوک اور بہانہ باز منافقین :
لَوْکَانَ عَرَضًا (اگر وہ ہوتا سامان) دنیا کے جو منافع سامنے آئیں کہا جاتا ہے الدنیا عرض حاضر یا کل منہ البر والفاجر۔ یعنی اگر ان کو غنیمت کی طرف دعوت دی جاتی۔ قَرِیْبًا (جلد ہاتھ لگنے والا) آسانی سے میسر ہونے والی۔ وَّ سَفَرًا قَاصِدًا (اور سفر بھی معمولی سا ہوتا) درمیانہ قریبی سفر، القاصد اور القصد معتدل کو کہتے ہیں۔ لَّا تَّبَعُوْکَ (تو یہ لوگ ضرور آپ کے ساتھ ہولیتے) وہ نکلنے میں آپکی موافقت کرتے۔ وَلٰکِنْم بَعُدَتْ عَلَیْھِمُ الشُّقَّۃُ (لیکن ان کو مسافت ہی دور دراز معلوم ہونے لگی) دور کی پر مشقت مسافت وَسَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰہِ لَوِاسْتَطَعْنَا لَخَرَجْنَا مَعَکُمْ (یہ ابھی اللہ کی قسمیں کھا جائیں گے کہ اگر ہمارے بس کی بات ہوتی تو ہم ضرور تمہارے ساتھ چلتے) یہ نبوت کے نشانات میں سے ہے کہ آئندہ پیش آنے والی بات کی خبر دی جو منافقین کی طرف سے لوٹنے کے وقت پیش آنے والی تھی۔ چناچہ جیسا کہا اسی طرح پیش آیا۔ باللّٰہ، سَیَحْلِفُوْنَ کے متعلق ہے یا یہ بھی ان کے من جملہ کلام میں سے ہے۔ اور دونوں صورتوں میں قول مراد ہے یعنی سیحلفون المتخلفین عند رجوعک من غزوۃ تبوک معتذرین یقولون باللّٰہ لو استطعنا لخرجنا معکم۔ مختلف لوگ آپ کو غزوئہ تبوک سے رجوع کے وقت معذرت کرتے ہوئے قسمیں اٹھائیں گے۔ کہ اللہ کی قسم اگر ہم میں استطاعت ہوتی تو ضرور تمہارے ساتھ نکل کر جاتے۔
نمبر 2۔ سیحلفون باللّٰہ یقولون لو استطعنا۔ عنقریب اللہ تعالیٰ کی قسمیں لو استطعنا کہتے ہوئے اٹھائیں گے اور لخرجناکو جواب قسم کے قائم مقام لائے اور لو کے جواب میں بھی۔ اور استطاعت کا مطلب۔ تیاری کی استطاعت یا بدنی استطاعت گو یا انہوں نے اپنے آپ کو بتکلف بیمار ظاہر کیا۔ یُھْلِکُوْنَ اَنْفُسَھُمْ (وہ لوگ اپنے آپ کو تباہ کر رہے ہیں) یہ سیحلفون سے بدل ہے یا اس سے حال ہے۔ یعنی مھلکین انفسہم مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے نفوس کو جھوٹی قسموں سے ہلاک کرنے والے ہیں یالخرجنا سے حال ہے یعنی ہم ضرور تمہارے ساتھ نکلتے خواہ ہماری جانیں گرمی میں جانے کی وجہ سے ہلاک ہوجائیں اور ہمیں اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا پڑتاوَاللّٰہُ یَعْلَمُ اِنَّھُمْ لَکٰـذِبُوْنَ (اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ یہ لوگ یقینا جھوٹے ہیں) اس بات میں جو وہ کہتے ہیں۔
Ayah 9:43لطیف عتاب :
آیت 43: عَفَا اللّٰہُ عَنْکَ (اللہ تعالیٰ نے آپ کو معاف کردیا) یہ لغزش سے کنایہ ہے کیونکہ عفو اس کے بعد لائے۔ اور یہ لطیف عتاب ہے۔ خطاب میں عفو کو صدر کلام میں لائے۔ اس میں آپ ﷺ کی تمام انبیاء (علیہم السلام) پر فضیلت ظاہر ہوتی ہے اس لئے کہ اور کسی پیغمبر کے لئے اس طرح مذکور نہیں۔
آپ ان کو اجازت نہ دیتے تاکہ ان کا سچ جھوٹ سامنے آتا :
لِمَ اَذِنْتَ لَھُمْ (آپ نے ان کو اجازت کیوں دیدی تھی) یہ اس کا بیان ہے جس کو عفو کے ساتھ کنایۃً ذکر کیا گیا تھا۔ مطلب یہ ہے آپ کو کیا ہوا کہ آپ نے ان کو غزوہ سے بیٹھ رہنے کی اجازت دیدی جبکہ وہ آپ سے اجازت طلب کرنے آئے اور آپ کے سامنے اپنے بہانے پیش کئے۔ آپ نے اذن میں تاخیر کیوں نہ فرمائی ؟ حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَتَعْلَمَ الْکٰذِبِیْنَ (جب تک کہ آپ کے سامنے سچے لوگ ظاہر نہ ہوجاتے اور جھوٹوں کو معلوم نہ کرلیتے) آپ کے سامنے سچا معذور اور جھوٹا عذر خواہ واضح ہوجاتے۔ ایک قول یہ ہے کہ دو باتیں تھیں جنکا آپ کو حکم ابھی نہ ملا تھا مگر آپ نے ان کو کیا نمبر 1۔ منافقین کو اجازت نمبر 2۔ فدیہ اسار ٰیٔ بدر۔ اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہوا۔
مسئلہ : انبیاء (علیہم السلام) کو اجتہاد جائز ہے۔ کیونکہ آپ ﷺ نے یہ اجتہاد سے کیا۔ اور عتاب کی وجہ ترک افضل تھی۔ انبیاء (علیہم السلام) کو ترک افضل پر بھی عتاب کیا جاتا کیونکہ ان کے مراتب اعلیٰ ہوتے ہیں۔
Ayah 9:44مومن پیچھے رہنے کی اجازت نہیں مانگتے :
آیت 44: لَایَسْتَاْذِنُکَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰ خِرِ اَنْ یُّجَاھِدُوْا (جو لوگ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں وہ آپ سے اجازت نہیں مانگیں گے۔ جہاد کرنے میں) مسلمانوں کی یہ عادت نہیں کہ وہ جہاد سے اعراض کرتے ہوئے آپ سے اجازت طلب کریں۔ بِاَمْوَالِھِمْ وَاَنْفُسِھِمْ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌم بِالْمُتَّقِیْنَ (اپنے مال اور جان کے ساتھ اور اللہ تعالیٰ ان متقیوں کو خوب جانتا ہے) ان کے لئے بہت بڑے ثواب کا وعدہ ہے۔
Ayah 9:45طالبین اجازت منکر آخرت ہیں :
آیت 45: اِنَّمَا یَسْتَاْذِنُکَ الَّذِیْنَ لَایُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ (آپ سے وہ لوگ رخصت مانگتے ہیں جو اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے) یعنی منافقین ان کی تعداد انتالیس 39 تھی۔ وَارْتاَبَتْ قُلُوْبُھُمْ ۔ (اور ان کے دل شک میں پڑے ہوئے ہیں) ان کو اپنے دین میں اشتباہ ہے۔ اور اپنے عقیدہ میں وہ مضطرب ہیں۔ فَہُمْ فِیْ رَیْبِھِمْ یَتَرَدَّدُوْنَ (پس وہ اپنے شکوک میں پڑے ہوئے حیران ہیں) وہ حیران ہیں کیونکہ تردد کا معنی شک و شبہ میں پڑنا۔ الثبات کا معنی دلیل سے کسی چیز کا ماننا۔
Ayah 9:46اگر بول سچے ہیں تو کچھ تیاری کرتے :
آیت 46: وَلَوْ اَرَادُوا الْخُرُوْجَ لَاَ عَدُّوْا لَہٗ (اگر وہ چلنے کا ارادہ کرتے تو اس کا سامان درست کرتے) خروج یا جہاد کیلئے
عُدَّۃً (کسی قدر) تیاری، کیونکہ وہ خوشحال تھے۔ لوارادوا الخروج کیونکہ خروج اور غزوہ کیلئے تیاری کرنے کی نفی کا معنی دے رہا تھا۔ تو فرمایا : وَّلٰکِنْ کَرِہَ اللّٰہُ انْچبِعَاثَھُمْ (لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے جانے کو پسند نہیں کیا) انکا خروج کیلئے اٹھنا اللہ تعالیٰ نے ناپسند کیا۔ گویا اس طرح فرمایا ماخرجوا ولکن تثبطوا عن الخروج لکراہۃ انبعاثہم۔ وہ نہیں نکلے لیکن خروج سے باز رہے۔ کیونکہ وہ اٹھنا پسند نہیں کرتے۔ فَثَبَّطَھُمْ (اس لئے ان کو توفیق نہیں دی) پس ان کو سست کردیا اور جانے کیلئے رغبت کمزور کردی۔ التثبیط ؔ کسی معاملے سے بےرغبتی کرتے ہوئے رکنا۔ وَقِیْلَ اقْعُدُوْا (اور یوں کہہ دیا گیا کہ تم یہاں بیٹھے رہو) انہوں نے ایک دوسرے کو کہا یا نمبر 2۔ رسول اللہ ﷺ نے ان پر ناراض ہو کر کہا۔ نمبر 3۔ شیطان نے بطور وسوسہ کہا۔ مَعَ الْقٰعِدِیْنَ (اپاہج لوگوں کے ساتھ) اس میں ان کی مذمت ہے۔ اور ان کو عورتوں اور بچوں اور مزمن امراض والوں کے ساتھ شامل کیا گیا۔ جنکا کام ہی گھروں میں رہنا ہے۔
Ayah 9:47منافقین کے نکلنے میں فتنہ پردازی کا نقصان ہے :
آیت 47: لَوْخَرَجُوْا فِیْکُمْ مَّا زَادُوْکُمْ (اگر وہ لوگ تمہارے ساتھ شامل ہوجاتے تو نہ اضافہ کرتے) تمہارے ساتھ نکل کر اِلَّا خَبَالًا (مگر شرو فساد)
نحو : نمبر 1 یہ استثناء متصل ہے۔ کیونکہ معنی یہ ہے۔ وہ اور کسی چیز میں اضافہ نہ کرتے سوائے فساد کے۔ نمبر 2۔ استثناء منقطع یہ
ہے کہ مستثنیٰ اور مستثنیٰ منہ کی جنس الگ ہو جیسا کہتے ہیں ما زادوکم خیرًا الا خبالًا وہ تمہاری بھلائی میں اضافہ نہ کریں گے مگر فساد کا۔ اس کلام میں مستثنیٰ منہ مذکور نہیں ہے۔ جب مذکور نہ ہو۔ تو اس وقت استثناء کسی بھی چیز سے ہوتا ہے۔ پس استثناء متصل ہے۔ کیونکہ خبال اس کا بعض حصہ ہے۔ وَّلَا اَوْضَعُوْا خِلٰلَکُمْ (تو وہ تمہارے درمیان دوڑے دوڑے پھرتے) وہ تمہارے درمیان لڑائی جھگڑے اور چغل خوری کی کوشش کرتے اور باہمی معاملات کو بگاڑتے۔ کہا جاتا ہے وضع البعیر و ضعًا جبکہ اونٹ تیز چلے اور اوضعتہ انا مطلب یہ ہے کہ تمہارے درمیان اپنی سواریاں دوڑاتے اور اس سے مراد چغل خوری میں تیزی کرنا ہے۔ کیونکہ سوار پیدل سے زیادہ تیز ہوتا ہے۔
رسم الخط : ولاَ اوضعوا الف زائدہ کے ساتھ۔ عربی خط سے قبل فتحہ کو الف کی صورت میں لکھا جاتا تھا اور عربی رسم الخط نزول قرآن کے قریبی زمانہ میں ایجاد ہوا۔ اور طبائع میں اس الف کا اثر باقی تھا۔ پس انہوں نے ہمزہ کو الف کی صورت میں لکھ دیا۔ اور دوسرے الف سے اس کو فتحہ دیا اور اس کی دوسری نظیر اَوْلَاَ اذْبَحَنَّہٗ ( النمل : پ/21) ہے۔
یَبْغُوْنَـکُمُ (تمہارے درمیان) یہ اوضعوا کی ضمیر سے حال ہے۔ الْفِتْنَۃَ (فتنہ پردازی کی فکر میں) وہ خواہش مند ہیں کہ تمہیں فتنے میں مبتلا کریں اس طرح کہ تمہارے درمیان اختلاف ڈالیں اور غزوہ کے متعلق تمہاری نیات میں بگاڑو فساد پیدا کردیں۔ وَفِیْکُمْ سَمّٰعُوْنَ لَھُمْ (اور تم میں ان کے کچھ جاسوس موجود ہیں) جاسوس ہیں جو تمہاری باتیں سنکر ان کو منتقل کرتے ہیں۔ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌم بِالظّٰلِمِیْنَ (اور اللہ تعالیٰ ان ظالموں کو خوب سمجھے گا) مراد منافقین کو۔
Ayah 9:48منافقین کی ایک بڑی سازش :
آیت 48: لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَۃَ (انہوں نے فتنہ پردازی کی فکر کی تھی) نمبر 1۔ لوگوں کو منع کر کے۔ نمبر 2۔ تبوک سے واپسی پر گھاٹی کی رات آپ پر اچانک حملہ کرنا چاہا۔ نمبر 3۔ احد کے دن واپس لوٹ کر۔ مِنْ قَبْلُ (اس سے پہلے) غزوئہ تبوک سے پہلے وَقَلَّبُوْا لَکَ الْاُمُوْرَ (اور آپ کے لئے کارروائیوں کی الٹ پھیر کرتے ہی رہے) آپ کے متعلق مختلف حیلے بہانے کئے اور آپ کا معاملہ خراب کرنے کیلئے اپنی آراء سے دامن تزویر پھیلا یا۔ حَتّٰی جَآئَ الْحَقُّ (یہاں تک کہ سچا وعدہ آگیا) وہ آپکی تائید و مدد ہے۔ وَظَھَرَ اَمْرُ اللّٰہِ (اور اللہ کا حکم غالب رہا) اللہ تعالیٰ کا دین غالب ہوا اور شریعت کا جھنڈا لہرانے لگا۔ وَھُمْ کٰرِھُوْنَ (اور ان کو ناگوار ہی گزرتا رہا) ان کی ناپسندیدگی کے باوجود۔
Ayah 9:49بعض منافقین کا عذر برتر از گناہ :
آیت 49: وَمِنْھُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ ائْذَنْ لِّیْ وَلَا تَفْتِنِّیْ (ان میں بعض لوگ وہ ہیں جو کہتے ہیں کہ مجھ کو اجازت دے دو اور مجھ کو خرابی میں نہ ڈالو) تو مجھے فتنہ میں نہ ڈال۔ یعنی گناہ میں۔ اس طرح کہ تم مجھے اجازت دے دو تاکہ تیری اجازت کے بغیر پیچھے رہ جانے سے میں گناہ میں مبتلا نہ جائوں۔ نمبر 2۔ تم مجھے ہلاکت میں مت ڈالو کیونکہ میرے چلے جانے سے میرے مال و اہل ہلاک ہوجائیں گے۔
ایک قول یہ ہے کہ جدبن قیس منافق نے یہ بات کہی۔ کہنے لگا انصارکو معلوم ہے کہ میں عورتوں کا بڑا شوق مندہوں۔ تم رومیوں کی عورتوں میں لے جا کر مجھے فتنہ میں نہ ڈالو۔ کہیں ان کے عشق میں نہ مبتلا ہوجائوں۔ البتہ مال سے معاونت کرسکتا ہوں۔ مجھے یہیں رہنے دیں۔ اَلَاَ فِی الْفِتْنَۃِ سَقَطُوْا (خوب سمجھ لو کہ یہ لوگ خرابی میں تو پڑ ہی چکے) فتنہ تو اصل وہی ہے جس میں وہ مبتلا ہیں اور وہ جہاد سے تخلف ہے۔ وَ اِنَّ جَھَنَّمَ لَمُحِیْطَۃٌم بِالْکٰفِرِیْنَ (اور یقینا دوزخ ان کافروں کو گھیرے گی) ابھی کیونکہ احاطہ کے اسباب ان میں موجود ہیں۔ نمبر 2۔ قیامت کے دن ان کو گھیرے گی۔
Ayah 9:50منافقین بیدار مغزی کے چیمپین :
آیت 50: اِنْ تُصِبْکَ (اگر آپ کو پیش آتی ہے) بعض غزوات میں حَسَنَۃٌ (کوئی اچھی حالت) کامیابی اور غنیمت تَسُؤْھُمْ وَاِنْ تُصِبْکَ مُصِیْبَۃٌ (تو وہ ان کے لئے باعث غم ہوتی ہے۔ اور اگر آپ پر کوئی حادثہ آپڑتا ہے) تکلیف اور بعض غزوات میں سختی جیسا احد کے دن ہوا۔ یَّقُوْلُوْا قَدْ اَخَذْ نَآ اَمْرَنَا (تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو اپنا احتیاط کا پہلو اختیار کرچکے تھے) وہ احتیاط، بیدار مغزی اور محتاط عمل جس کی ہم نشاندہی کرتے تھے۔ مِنْ قَبْلُ (پہلے سے) اس واقعہ سے پہلے۔ وَیَتَوَلَّوْا (اور وہ چلے جاتے ہیں) وہ واقعہ کے مقام سے اپنے اہل کی طرف لوٹتے ہیں۔ وَّھُمْ فَرِحُوْنَ (خوش ہوتے ہوئے) وہ خوش و خرم ہیں۔
Ayah 9:51آیت 51: قُلْ لَّنْ یُّصِیْبَنَآ اِلَّا مَاکَتَبَ اللّٰہُ لَنَا (آپ فرما دیں ہم پر کوئی حادثہ نہیں پڑ سکتا مگر وہی جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے مقدر فرمایا ہے) جو خیر و شر تقدیر میں تھا۔ ھُوَمَوْلٰنَا (وہ ہمارا مالک ہے) جو ہمارا نگہبان ہے اور ہم اس کی راہ میں چلنے والے ہیں۔ وَعَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ (سب مسلمانوں کو اپنے سب کام اللہ تعالیٰ ہی کے سپرد کرنے چاہئیں) مومنوں کا حق یہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سواء اور کسی پر بھروسہ نہ کریں۔
Ayah 9:52دو دو باتوں کے منتظر مومن مدد الٰہی و شہادت کے اور کافر عذاب اور کفر پر قتل کے :
آیت 52: قُلْ ھَلْ تَرَبَّصُوْنَ بِنَآ (آپ فرما دیں تم تو ہمارے بارے میں منتظر رہتے ہو) ہمارے متعلق منتظر ہو۔ اِلَّا اِحْدَی الْحُسْنَیَیْنِ (مگر دو بہتریوں میں سے ایک بہتری ہی کے منتظر رہتے ہو) وہ مدد الٰہی اور شہادت ہے۔ وَنَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِکُمْ (اور ہم تمہارے بارے میں اس کے منتظر رہا کرتے ہیں) دو میں سے ایک برائی کے حاصل ہونے کے یا تو اَنْ یُّصِیْبَکُمُ اللّٰہُ بِعَذَابٍ مِّنْ عِنْدِہٖ ( کہ اللہ تعالیٰ تم پر کوئی عذاب واقع کرے گا اپنی طرف سے) وہ آسمان سے اترنے والا عذاب جیسا عادو ثمود پر اترا۔ اَوْ بِاَیْدِیْنَا (یا ہمارے ہاتھ سے) عذاب، کفر میں قتل کیا جانا۔ فَتَرَبَّصُوْا (پس تم انتظار کرو) تم ہمارے بارے میں منتظر رہو۔ جب ہم نے ذکر کردیا۔ اِنَّا مَعَکُمْ مُّتَرَبِّصُوْنَ (ہم تمہارے ساتھ انتظار کرنے والے ہیں) کہ تمہار انجام کیا ہوتا ہے۔
Ayah 9:53آیت 53: قُلْ اَنْفِقُوْا (آپ فرما دیں تم خرچ کرو) نیکی کے راستہ میں طَوْعًا اَوْکَرْھًا (خوشی و ناخوشی) پسند و ناپسند۔
نحو : یہ حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہیں۔
قراءت : حمزہ، علی نے کُرْھًا۔ کاف کی پیش سے پڑھا ہے۔ یہ امر ہے جو خبر کے معنی میں ہے۔
تمہاری کوئی بات قابل قبول نہیں :
مطلب یہ ہے۔ لَّنْ یُّتَقَبَّلَ مِنْکُمْ (تم سے کسی طرح قبول نہ ہوگا) ای انفقتم طوعًا اوکرھا تم پسند و ناپسند جس صورت میں بھی خرچ کرو ہرگز قابل قبول نہ ہوگا۔ اور دوسری آیت میں اسی طرح فرمایا۔ استغفرلھم اولاتستغفر لھم ( التوبہ : 80) ان کے حق میں استغفار کرنا نہ کرنا برابر ہے۔
اور ایک شاعر کا یہ قول
؎ اَبینی بنا اواحسنی لا ملومۃً ٭ لدینا ولا مقلیّۃ ان تقلّت
ہم تمہیں ملامت نہ کریں گے تو ہمارے ساتھ بد سلوکی کرے یا احسان سے پیش آئے اور اس کا عکس بھی جائز ہے جیسا اس قول میں۔ رحم اللہ زیدًا اور اس کا معنی ان کی بات قبول نہ کرنا ہے۔ کہ آپ ﷺ ان کی بات قبول نہ کریں۔ بلکہ رد کردیں۔ یا اللہ اس کو ثواب و بہتری نہ دے (گویا بددعا ہے) طوعًا کا مطلب اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے لازم کرنے کے بغیر۔ کرھًا کا مطلب لازم کرنے والے ہیں۔ الزام کو اکراہ اسلئے کہا کیونکہ وہ منافق تھے۔ انکا الزام انفاق تھا جو اکراہ کی طرح ان پر بھاری تھا۔ اِنَّکُمْ (بلاشبہ تم) انفاق کو رد کرنے کی علت ذکر کی۔ کُنْتُمْ قَوْمًا فٰسِقِیْنَ (بلاشبہ تم عدولی حکم کرنے والے لوگ ہو) سرکشی کرنے والے اور حدود کو توڑ نے والے۔
Ayah 9:54صدقہ قبول نہ کرنے کی وجہ کفر ہے :
آیت 54: وَمَا مَنَعَہُمْ اَنْ تُقْبَلَ مِنْھُمْ نَفَقٰتُھُمْ (اور ان کے خیر خیرات قبول ہونے میں اور کوئی چیز مانع نہیں) حمزہ و علی نے یُقْبَلُیا سے پڑھا ہے۔ اِلَّآ اَ نَّھُمْ کَفَرُوْا (مگر یہ کہ انہوں نے کفر کیا) منع کا فاعل ہم ہے۔ اور ان تقبل مفعول ہے۔ مطلب یہ ہے ان کے نفقات کو قبول نہ کرنے کی وجہ انکا کفر ہے۔ بِاللّٰہِ وَبِرَسُوْلہٖ وَلَا یَاْتُوْنَ الصَّلٰوۃَ اِلَّا وَھُمْ کُسَالٰی (اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ اور وہ نماز نہیں پڑھتے مگر ناگواری سے) کسالیٰ جمع کسلان اور وہ ناپسندیدگی سے خرچ کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ اس سے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے طالب نہیں ہیں۔ نکتہ : پہلی آیت میں طوعاً سے ان کی تعریف کی گئی اور یہاں اس کی نفی کردی۔ کیونکہ طوع سے مراد یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے لازم کرنے کے بغیر اس کو خرچ کرتے ہیں۔ یا اپنے روسا کی مرضی کے بغیر اور یہ اطاعت بھی اضطراری ہے رغبت و اختیار سے قطعًا نہیں۔ وَلَایُنْفِقُوْنَ اِلَّا وَھُمْ کٰرِھُوْنَ (اور خرچ نہیں کرتے مگر ناپسندیدگی کے ساتھ)
Ayah 9:55منافقین کے لئے ان کے اموال باعث عذاب ہیں :
آیت 55: فَـلَا تُعْجِبْکَ اَمْوَالُھُمْ وَلَآ اَوْلَا دُھُمْ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُعَذِّبَھُمْ بِھَا فِی الْحَیٰـوۃِ الدُّنْیَا (پس ان کے مال اور اولاد آپ کو تعجب میں نہ ڈالیں اللہ تعالیٰ کو صرف یہ منظور ہے کہ ان چیزوں کی وجہ سے ان کو دنیوی زندگی میں عذاب میں گرفتار رکھے) الا عجاب بالشیء۔ کسی چیز پر رضا مندی والی خوشی ہو اور اس کے حسن پر تعجب ہو۔ مطلب یہ ہے کہ۔ نمبر 1۔ ان کو جو دنیا کی زینت ملی ہے اس کو مستحسن مت قرار دو ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو جو کچھ دیا ہے اس سے ان کو مصائب کے ساتھ سزا دینا مقصود ہے۔ نمبر 2۔ یا خیر کے راستوں پر خرچ کرو اکر جبکہ اندرونی طور پر یہ نہیں چاہتے۔ نمبر 3۔ ان کے اموال لوٹ کر اور ان کی اولاد کو قید کر کے۔ نمبر 4۔ مال کو جمع کر کے۔ اس سے محبت کر کے اور اس کے متعلق بخل اختیار کر کے اور اس پر خوف ڈال کر ان کو عذاب دیا۔
وَتَزْھَقَ اَنْفُسُھُمْ وَھُمْ کٰفِرُوْنَ (اور ان کی جانیں کفر ہی کی حالت میں نکل جائیں) ان کی روحیں نکلتے وقت، الزھوق ؔ مشقت سے نکلنا۔ نکتہ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ بندے کیلئے اصلح اللہ تعالیٰ پر لازم والا معتزلہ کا عقیدہ باطل ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہاں اطلاع دی ہے کہ منافقین کو مال واولاد تعذیب اور اماتت علی الکفر کیلئے دیا ہے۔ معاصی بھی اس کے ارادہ سے ہوتے ہیں کیونکہ ارادہ عذاب خود اس چیز کا ارادہ ہے جس پر اسے سز ادی جارہی ہے۔ اسی طرح کفر پر مارنے کا ارادہ۔
Ayah 9:56منافقین کا دعویٔ مسلمانی ڈر کی وجہ سے :
آیت 56: وَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰہِ اِنَّھُمْ لَمِنْکُمْ (یہ لوگ اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ وہ تم میں سے ہیں) وہ من جملہ مسلمانوں میں سے ہیں وَمَاھُمْ مِّنْکُمْ وَلٰکِنَّھُمْ قَوْمٌ یَّفْرَقُوْنَ (حالانکہ وہ تم میں سے نہیں لیکن وہ ڈر پوک لوگ ہیں) وہ قتل سے ڈرتے ہیں اور اس سے ڈرتے ہیں جو مشرکین سے کیا جانے والا ہے۔ پس تقیہ کے طور پر اسلام کو ظاہر کرتے ہیں۔
Ayah 9:57وہ پناہ گاہ کے متلاشی ہیں :
آیت 57: لَوْیَجِدُوْنَ مَلْجَاً (اگر ان لوگوں کو کوئی پناہ کی جگہ مل جاتی) بچنے کیلئے پناہ کی جگہ خواہ پہاڑ کی چوٹی ہو یا قلعہ یا جزیرہ۔ اَوْمَغٰرٰتٍ (یا غار) غاریں اَوْمُدَّ خَلًا (یا کوئی گھس بیٹھنے کی جگہ) سرنگ جس میں گھس سکیں۔ یہ دخل باب سے مفتعل کا وزن ہے۔ لَّوَ لَّوْا اِلَیْہِ (تو یہ ضرور اس کی طرف تیزی سے چل دیتے) وہ ضرور اس کی طرف متوجہ ہونگے۔ وَھُمْ یَجْمَحُوْنَ (اس حال میں کہ منہ اٹھائے ہوئے) وہ اتنی تیزی سے اس کی طرف جائیں گے کہ کوئی چیز ان کو واپس نہ کرسکے گی یہ الفرس الجموح منہ زور گھوڑے سے لیا گیا ہے۔
Ayah 9:58صدقات میں طعنہ زنی :
آیت 58: وَمِنْھُمْ (اور ان میں سے بعض وہ لوگ ہیں) منافقین میں سے مَّنْ یَّلْمِزُکَ فِی الصَّدَقٰتِ (جو صدقات کے بارے میں آپ پر طعن کرتے ہیں) صدقات کی تقسیم میں آپ پر طعنہ زنی کرتے ہیں۔ فَاِنْ اُعْطُوْا مِنْھَا رَضُوْا وَاِنْ لَّمْ یُعْطَوْا مِنْھَآ اِذَا ھُمْ یَسْخَطُوْنَ (پس اگر ان صدقات میں سے ان کو مل جاتا ہے تو وہ راضی ہوجاتے ہیں اور اگر ان کو نہیں ملتا تو وہ ناراض ہوجاتے ہیں) اِذَا، مفاجات کیلئے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر ان کو نہ ملے تو اچانک ناراض ہوجاتے ہیں۔ منافقین کی یہ حالت بیان کی کہ ان کی ناراضگی یا رضا مندی ذاتی ہے۔ دینی نہیں اور نہ ہی اہل اسلام کیلئے ہے۔
آپ ﷺ نے غزوئہ حنین کے موقعہ پر اہل مکہ کی دلجوئی کیلئے ان کو غنائم میں سے کثرت سے مال عنایت فرمایا۔ اس پر منافقین کو تنگی اور اکتاہٹ محسوس ہوئی۔
Ayah 9:59ان کو تقسیم رسول دل سے پسند کرنی چاہیے :
آیت 59: وَلَوْاَنَّھُمْ رَضُوْا مَآ ٰاتٰہُمُ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ وَقَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰہُ سَیُؤْتِیْنَا اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ وَرَسُوْلُہٗ اِنَّآ اِلَی اللّٰہِ رٰغِبُوْنَ (اور اگر وہ اس پر راضی رہتے جو کچھ ان کو اللہ نے اور اس کے رسول نے دیا تھا تو ان کے لئے بہتر ہوتا اور یوں کہتے کہ ہم کو اللہ کافی ہے اور آئندہ اللہ اپنے فضل سے ہم کو اور دیگا اور اس کے رسول دینگے ہم اللہ ہی کی طرف راغب ہیں) لَو،ؔ کا جواب محذوف ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے : ولو انہم رضوا لکان خیرًا لہم۔ مطلب یہ ہے اگر وہ اس مال غنیمت پر راضی ہوجاتے جو اللہ کے رسول نے ان کو دیا اور دل سے پسند کرتے خواہ انکا حصہ قلیل ہی کیوں نہ ہو بلکہ وہ اس طرح کہتے کہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہمارے لئے کفایت کرنے والا ہے۔ اور اس کی مرضی ہمارے لئے کافی ہے اور جو ہمیں تقسیم کر کے دے دیا۔ وہ مناسب ہے۔ عنقریب اللہ تعالیٰ اور مال غنیمت ہمیں عنایت فرما دیں گے اور اس کا رسول ﷺ اس سے بڑھ کر عنایت فرمائے گا جتنا آج ہمیں ملا۔ بیشک ہم اللہ تعالیٰ کی طرف رغبت کرنے والے ہیں اس بات میں کہ وہ اپنے فضل سے ہمیں غنیمت عنایت فرمائے گا۔
اگلی آیت میں مال صدقات کو خرچ کرنے کے مواقع ذکر فرما دیئے۔
Ayah 9:60مواقع صدقات کی تفصیل :
آیت 60: اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآئِ وَالْمَسٰکِیْنِ (صدقات تو صرف حق ہے غریبوں کا اور محتاجوں کا) اللہ تعالیٰ نے جنس صدقات کو ان محدود اقسام پر خرچ کرنے کا حکم فرمایا کہ یہ افراد اس کے ساتھ خاص ہیں۔ ان کو چھوڑکر کسی اور کی طرف نہ جائیں گے گویا اس طرح فرمایا۔ انماھی لہم لا لغیرھم۔ یہ انہی کے لئے ہیں نہ کہ اوروں کیلئے۔ جیسا کہا جاتا ہے انما الخلافۃ لقریش اس سے مراد ان سے تجاوز نہ کرے گی اور نہ غیر کو ملے گی۔
البتہ یہ احتمال ہے کہ تمام اصناف میں خرچ کیا جائے یا بعض اصناف میں خرچ کردینا کافی ہے۔ جیسا کہ احناف کا قول ہے۔ حضرت حذیفہ۔ ابن عباس و غیرہما صحابہ ؓ اور تابعین سے مروی ہے۔ جس قسم میں بھی تم نے خرچ کردیا تمہارے لئے کافی ہے۔ امام شافعی (رح) کے نزدیک تمام اصناف میں صرف کرنا ضروری ہے۔ اور یہ عکرمہ (رح) سے مروی ہے۔
فقیر وہ ہے جو سوال نہ کرے کیونکہ اس کے پاس اپنی موجودہ حالت کیلئے کافی ہے۔
مسکین وہ ہے جو سوال کرے کیونکہ اس کے پاس کچھ نہیں یہ پہلے سے حالت میں کمزور تر ہے۔
امام شافعی (رح) کے نزدیک اس کے برعکس تعریف ہے۔
وَالْعٰمِلِیْنَ عَلَیْھَا (اور وہ کارکن جو ان صدقات پر متعین ہیں) وہ لوگ جو صدقات کے جمع کرنے پر مامور ہوں۔ وَالْمُؤَلَّفَۃِ قُلُوْبُہُمْ (اور ان لوگوں کے لئے جن کی دل جوئی منظور ہو) اشراف عرب جن کے دلوں کی تالیف کیلئے تاکہ اسلام لے آئیں یا جو اسلام لے آئے ہیں وہ اس پر پختہ ہوجائیں۔ آپ ﷺ نے ان کو عنایت فرمایا۔ وَفِی الرِّقَابِ (اور غلاموں کی گردنیں چھڑانے کے لئے) وہ مکاتب جن کو بدل کتابت کی ادائیگی کیلئے رقم درکار ہے تاکہ وہ آزاد ہوجائیں۔ وَالْغٰرِمِیْنَ (اور قرض داروں کے قرضہ کیلئے) جو قرض میں دبے ہوئے ہیں۔ وَفِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ (اور اللہ کی راہ میں) فقراء غازی یا وہ حاجی جو راستہ میں لٹ پٹ جائیں۔ وَابْنِ السَّبِیْلِ (اور مسافروں کیلئے) وہ مسافر جو اپنے مال سے دور پڑا ہے۔
نکتہ : آخری چار میں لام کی بجائے فیؔ لایا گیا ہے۔ تاکہ یہ بتلایا جائے کہ یہ لوگ پہلے لوگوں کی نسبت صدقہ کے زیادہ مستحق ہیں۔ فی ظرفیت کے لئے ہے۔ اس پر دینے والوں کو متنبہ کیا کہ یہ ایسے برتن ہیں جو اس بات کے زیادہ حقدار ہیں کہ ان میں ـصدقہ ڈالا جائے اور صدقہ کا مقام ان کو قرار دیا جائے۔ اور فی ؔ کو فی سبیل اللہ اور ابن سبیل میں دوبارہ لا کر اشارہ کردیا کہ ان کو رقاب اور غارمین کے مقابلہ میں ترجیح و فضل حاصل ہے ان کو صدقہ دو ۔ منافقین کے تذکرہ کے دوران۔ اس آیت کو لاکریہ دلالت کرنا مقصود ہے کہ مصارف صدقات یہی ہیں۔ اور نہیں، اور جب منافقین ان میں سے کسی قسم میں داخل نہیں۔ تو ان کو صدقات سے طمع ہٹا لینی چاہیے جب وہ صدقات کا مصرف نہیں تو ان کو اس مال سے کیا اور مال کو ان سے کیا تعلق۔ اور جس کو اللہ تعالیٰ اس مال پر مسلط کرے ان کو اس پر اعتراض کرنے کا قطعًا کوئی حق نہیں ہے۔ مولفۃ القلوب کا حصہ خلافت ابوبکر ؓ کی ابتداء میں اجماع صحابہ ؓ سے ساقط مانا گیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کو عزت عنایت فرمائی اور اس بات سے مستغنی و بےنیاز کردیا۔
قاعدہ : جب حکم کسی خاص مقصد کی وجہ سے لگا ہو تو اس مقصد کے حاصل ہونے اور ختم ہونے سے خود اٹھ جائے گا۔
فَرِیْضَۃً مِّنَ اللّٰہِ (یہ حکم اللہ کی طرف سے مقرر ہے) یہ فریضۃ کا لفظ مصدر موکد کے معنی میں ہے۔ کیونکہ انما الصدقات کا معنی فرض اللہ الصدقات لھم۔ اب فریضۃ ؔ اسی کا مصدر لایا گیا۔ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ (اور اللہ بڑے علم والے) مصلحت کو حَکِیْمٌ (بڑی حکمت والے ہیں) تقسیم میں حکمت والے ہیں۔
Ayah 9:61پیغمبر ﷺ کو یہ کہہ کر ایذا دینے والے کہ یہ ” کان “ ہے :
آیت 61: وَمِنْھُمُ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ النَّبِیَّ وَ یَقُوْلُوْنَ ھُوَ اُذُنٌ (اور ان میں سے بعض وہ ہیں جو نبی کو ایذائیں پہنچاتے ہیں اور کہتے ہیں آپ تو ہر بات کان دے کر سن لیتے ہیں) الاذنؔ سے مراد ایسا آدمی جو ہر سنی سنائی بات کی تصدیق کر دے۔ اور ہر ایک کی بات کو قبول کرلے اور اس ظاہری عضو کو بولتے ہیں جو سننے کا آلہ ہے۔ گویا کہ یہ آدمی صرف کان ہی کان ہے۔ دراصل اس سے آپ کو تکلیف دینا مقصود تھا۔ اس سے وہ آپکی مذمت کرنا چاہتے تھے کہ آپ عقل و قلب کے اعتبار سے فرزانہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی بات کا وہ مطلب بیان فرمایا جس میں آپکی مدح اور ثناء تھی۔ ( اور منافقین کے مقصد کی کنایۃً مذمت کردی) قُلْ اُذُنُ خَیْرٍ لَّکُمْ (آپ فرما دیں وہ نبی کان لگا کر تو وہی بات سنتے ہیں جو تمہارے حق میں خیر ہے) یہ اسی طرح ہے جیسا محاورہ ہے رجل صدق مراد اس سے اس کی کثرت جو دو صلاح ہے گویا کہ خود مجسمہ صدق بن گیا۔ اس طرح ان کو فرمایا ہاں وہ کان ہیں لیکن وہ بہت خوب کان ہیں اور یہ مطلب بھی درست ہے وہ خیروحق میں کان ہیں۔ اور اس میں جس کا سننا اور قبول کرنا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ وہ کسی بات میں کان نہیں ان کو بری بات سننا گوارا ہی نہیں۔ پھر خیر کے کان ہونے کی خود تفسیر فرمائی۔
یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ (کہ وہ اللہ پر ایمان لاتے ہیں) وہ اللہ تعالیٰ کی بات مانتے ہیں جس پر اس کی طرف سے دلائل قائم ہیں۔ وَیُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ (اور مومنین پر اعتماد کرتے ہیں) اور مخلص مومن مہاجرین و انصار کی بات کو قبول کرنے والے ہیں۔
فرق : ایمان باللہ کو با ؔ کے صلہ سے ذکر کیا اور کیونکہ اس سے وہ تصدیق مراد تھی جو کفر کی ضد ہے اور مومنین کیلئے لام کو استعمال کیا کیونکہ اس سے مقصود ان کی باتوں کا سننا ہے۔ اور جو وہ کہیں اس کو تسلیم کرنا۔ اور جو وہ کہیں اس میں ان کو سچا جاننا کیونکہ وہ سچے ہیں۔ یہ مراد ہے دوسرے ارشاد میں ہے وما انت بمومن لنا ( یوسف : 17) با سے یہ خبر کس طرح دی جاسکتی ہے۔
وَرَحْمَۃٌ (اور مہربانی کرتے ہیں) اس کو اذن پر عطف کیا۔
قراءت : حمزہ نے ورحمۃٍ کسرہ سے پڑھا اور خیر پر عطف کیا ہے۔ یعنی وہ خیر کا کان ہیں۔ اور رحمت کا کان ہیں ان دو کے علاوہ وہ اور کچھ نہیں سنتے اور نہ قبول کرتے ہیں۔
لِّلَّذِیْنَ ٰامَنُوْا مِنْکُمْ (ان لوگوں کے حق میں جو تم میں سے ایمان کا اظہار کرتے ہیں) یعنی وہ رحمت ہیں ان لوگوں کیلئے جو تم میں ایمان لانے والے ہیں یعنی ایمان کو ظاہر کرنے والے ہیں۔ اے منافقو ! وہ تو تمہارا ظاہری ایمان قبول کرنے والے ہیں۔ تمہارے اسرار کو نہیں کھولتے اور نہ تم سے وہ سلوک کرتے ہیں جو مشرکین سے کیا جاتا ہے۔ نمبر 2۔ وہ ایمان والوں کے لیے رحمت ہیں اس طرح کہ ان کو کفر سے نکال کر ایمان کی طرف لائے۔ اور آخرت میں ان کی شفاعت اسی دنیا میں قبول کئے ہوئے ایمان کی وجہ سے ہوگی۔ وَالَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰہِ لَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ (اور جو لوگ رسول اللہ کو ایذائیں پہنچاتے ہیں ان کے لئے درد ناک سزا ہوگی) دونوں جہانوں میں۔