8. Surah Al-Anfaal

الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsمدارک التنزیل

Ayah 8:1

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْاَنْفَالِ١ؕ قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَصْلِحُوْا ذَاتَ بَیْنِكُمْ١۪ وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 8:1 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ ! مجاہد لوگ) تم سے غنیمت کے مال کے بارے میں دریافت کرتے ہیں (کہ کیا حکم ہے) کہہ دو کہ غنیمت خدا اور اس کے رسول کا مال ہے۔ تو خدا سے ڈرو اور آپس میں صلح رکھو۔ اور اگر ایمان رکھتے ہو تو خدا اور اس کے رسول کے حکم پر چلو۔

تقسیم غنائم فقط اللہ اور اس کے رسول کا حق ہے : آیت 1: یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْاَنْفَالِ قُلِ الْاَ نْفَالُ لِلّٰہِ وَالرَّسُوْلِ (آپ سے یہ لوگ مال غنیمت کا حکم دریافت کرتے ہیں۔ آپ کہہ دیں۔ یہ غنیمتیں تو اللہ کی ہیں اور رسول اللہ کی ہیں) النفل غنیمت کو کہتے ہیں۔ کیونکہ وہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل اور عطیہ ہے۔ الْاَنْفَالُ الغنائم بدر کے غنائم کے متعلق مسلمانوں میں اختلاف ہوا کہ اس کا مستحق کون اور تقسیم کس طرح ہے۔ پس انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے استفسار کیا کہ ہم کس طرح تقسیم کریں۔ اور تقسیم میں مہاجرین و انصار یا دونوں ہی کا حق ہے۔ تو جواب آیا کہ ان سے فرما دیں کہ وہ حق رسول اللہ ﷺ کو ہے۔ اور وہی اس سلسلہ میں حاکم ہیں۔ جو چاہیں حکم دیں۔ ان کے علاوہ کسی کو فیصلہ کا اختیار نہیں۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے تذکرے کو اسلئے اکٹھا کیا کیونکہ غنائم کا حکم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ساتھ خاص ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی تقسیم کا حکمت کے مطابق حکم دیں گے۔ اور اس کا رسول ﷺ اس حکم کو نافذ کرے گا۔ ان کی تقسیم میں قطعاً کسی کی رائے کا دخل نہیں ہے۔ فَاتَّقُوا اللّٰہَ (اختلاف اور باہمی جھگڑوں میں اللہ سے ڈرو) اور اللہ تعالیٰ کی خاطر بھائی بھائی بن جائو۔ وَاَصْلِحُوْا ذَاتَ بَیْنِکُمْ (اور اپنے باہمی تعلقات کی اصلاح کرو) اپنے مابین احوال۔ یعنی تمہارے مابین جو حالات ہیں۔ یہاں تک کہ وہ الفت و محبت اور اتفاق کے حالات ہوں۔ زجاج (رح) کا قول ہے کہ ذات بینکم کا معنی حقیقی ملاپ البین ملنا مطلب یہ ہے اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے جو حکم دیا ہے۔ اسپر اکٹھے ہوجائو حضرت عبادہ بن صامت ؓ کہتے ہیں کہ یہ آیت ہم اصحاب بدر کے متعلق اتری جبکہ ہم نے مال غنیمت کے متعلق اختلاف کیا اور اختلاف شدید ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کو ہمارے ہاتھوں سے چھین لیا اور رسول اللہ ﷺ کے لئے مقرر کردیا۔ آپ ﷺ نے اس کو مسلمانوں کے درمیان برابر تقسیم کردیا۔ وَاَطِیْعُوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ (اور اللہ کی اور اس کے رسول کی اطاعت کرو) جس کا تمہیں غنائم وغیرہ کے سلسلہ میں حکم دیا گیا۔ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ (اگر تم ایمان والے ہو) کامل الایمان۔
Ayah 8:2

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ اِذَا تُلِیَتْ عَلَیْهِمْ اٰیٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِیْمَانًا وَّ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَۚۖ Open ayah 8:2 in the Quran reader

مومن تو وہ ہے مہ جب خدا کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب انہیں اسکی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ان کا ایمان اور بڑھ جاتا ہے اور وہ اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں۔

مومن کے سامنے ذکر اللہ سے اس کے ایمان میں اضافہ : آیت 2: اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ (بےشک ایمان والے) بیشک کامل الایمان الَّذِیْنَ اِذَاذُکِرَ اللّٰہُ وَجِلَتْ قُلُوْبُھُمْ (تو ایسے ہوتے ہیں کہ جب ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کا ذکر آتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں) اللہ تعالیٰ کی عظمت کی خاطر اس کے ذکر سے ان کے دلوں میں خوف پیدا ہوجاتا ہے۔ اور اس کی عزت و دبدبہ اور جلال سے ان پر ہیبت طاری ہوجاتی ہے۔ وَاِذَا تُلِیَتْ عَلَیْھِمْ ٰایٰتُہٗ (جب اللہ کی آیات ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں) یعنی قرآن زَادَ تْھُمْ اِیْمَانًا (تو وہ آیات ان کے ایمان کو اور زیادہ کردیتی ہیں) انکا اطمینان اور یقین بڑھ جاتا ہے۔ کیونکہ ظہور دلائل مدلول علیہ کو زیادہ قوت بخشنے والا اور اس کے قدموں کو اور مضبوط کرنے والا ہے۔ دوسرا قول یہ ہے ان آیات کے ذریعہ ان کے ایمان میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ کیونکہ ان کے نزول سے قبل تو اس کے احکامات پر انکا عمل نہیں تھا۔ (کیونکہ وہ نازل ہی نہ ہوئی تھیں) وَّعَلٰی رَبِّھِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ (اور وہ لوگ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں) وہ اپنے رب پر اعتماد کرتے ہیں اور اپنے رب کے سواء اپنے امور کسی اور کو تفویض نہیں کرتے اور رجاء و خوف بھی صرف اسی سے ہے۔
Ayah 8:3

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَؕ Open ayah 8:3 in the Quran reader

(اور) وہ جو نماز پڑھتے ہیں اور جو مال ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے (نیک کاموں میں) خرچ کرتے ہیں۔

علاماتِ مؤمنین : آیت 3: الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَمِمَّا رَزَقْنٰہُمْ یُنْفِقُوْنَ (جو نماز کو قائم کرتے اور ہم نے ان کو جو کچھ دیا ہے اور وہ اس میں سے خرچ کرتے ہیں) اعمال قلوب نرمی، اخلاص اور توکل اور اعمال جوارح نماز و صدقہ کو جمع کردیا۔
Ayah 8:4

اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا١ؕ لَهُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ مَغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌۚ Open ayah 8:4 in the Quran reader

یہی سچے مومن ہیں۔ اور ان کے لئے پروردگار کے ہاں (بڑے بڑے) درجے اور بخشش اور عزت کی روزی ہے۔

پختہ مومن : آیت 4: اُولٰٓپکَ ھُمُ الْمُؤْ مِنُوْنَ حَقًّا (سچے ایمان والے یہ لوگ ہیں) نمبر 1۔ یہ مصدر محذوف کی صفت ہے۔ یعنی وہی سچا ایمان رکھتے ہیں۔ نمبر 2۔ اولئک ھم المؤمنون جملے کی یہ تاکید ہے جیسا کہا جاتا ہے۔ ہو عبداللہ حقًّا یعنی یہ بالکل پختہ بات ہے۔ نکتہ : حضرت حسن (رح) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے مجھ سے سوال کیا۔ أمؤمن انت ؟ میں نے جواب دیا اگر تم مجھ سے ایمان باللہ، اور ملائکہ اور اس کی کتابوں، اور اس کے رسولوں اور قیامت کے دن اور جنت و دوزخ اور بعث و حساب پر ایمان کے متعلق پوچھتے ہو۔ تو میں مومن ہوں اور اگر تیرا سوال انما المؤمنون الاٰیۃ کے متعلق ہے۔ تو پھر مجھے معلوم نہیں کہ آیا میں ان میں سے ہوں یا نہیں ؟ اقوالِ ائمہ : حضرت سفیان ثوری (رح) کہتے ہیں جس کا یہ گمان ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ پر پختہ ایمان رکھتا ہے پھر اس نے یہ شہادت نہ دی کہ وہ جنتی ہے تو گویا اس کا ایمان آدھی آیت پر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح یہ بات قطعی طور پر نہیں کہی جاسکتی کہ وہ قطعی اور یقینی طور پر ثواب پانے والے مؤمنین میں سے ہے۔ اسی طرح قطعی طور پر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ قطعی طور پر مومن ہے۔ اسی قول کو ان لوگوں نے اختیار کیا ہے۔ جنہوں نے انامؤمن انشاء اللہ کا قول کہا ہے۔ مگر امام ابوحنیفہ (رح) اس بات کے قائل نہیں ہیں۔ ایک دن انہوں نے حضرت قتادہ (رح) کو کہا تم اپنے ایمان میں استثناء کیوں کرتے ہو ؟ قتادہ (رح) نے جواب دیا ابراہیم ( علیہ السلام) کے اس ارشاد کی اتباع کرتے ہوئے۔ وَالَّذِیْٓٓ اَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لِیْ خَطِٓیْئَتِیْ یَوْمَ الدِّیْنِ ( الشعراء : 82) تو امام ابوحنیفہ (رح) نے کہا تم ان کے اس قول کی اقتداء کیوں نہیں کرتے او لم تؤمن قال بلٰی ( البقرہ : 260) ابراہیم تیمی کہتے ہیں یہ کہو : انا مومن حقًّا اگر تمہارا قول سچا ہے تو اس کا ثواب پائو گے اور اگر تم جھوٹ بول رہے ہو کہ دل سے کافر ہو اور ایمان ظاہر کر رہے ہو۔ تو تمہارا کفر اس قول سے زیادہ شدید اور عذاب کا باعث ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا۔ جو منافق نہیں وہ قطعی مومن ہے۔ عبداللہ ؓ نے اس سے استدلال کرتے ہوئے احمد کو فرمایا۔ تیرا کیا نام ہے۔ اس نے کہا احمد ! تو آپ نے فرمایا کیا تم کہو گے۔ انا احمد حقًّا او انا احمد انشاء اللہ تو احمد نے کہا میں انا احمد حقًّا کہوں گا۔ تو عبداللہ فرمانے لگے تیرے والد نے جو تیرا نام رکھا ہے اس سے تو تو استثناء نہیں کرتا اور اس کے ساتھ انشاء اللہ نہیں کہتا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے تمہیں قرآن میں مومن کہا توُ تو اس کے ساتھ انشاء اللہ کہتا ہے۔ پہلے اور دوسرے اقوال میں نزاع لفظی ہے حقیقی نہیں۔ انا مومن حقًّا کا مطلب یہ ہے کہ میرا ایمان شک و شبہ سے پاک ہے۔ اور انامؤمن انشاء اللہ کا مطلب یہ ہے کہ انشاء اللہ ایمان پر خاتمہ کی امید ہے قطعی طور پر نہیں کہا جاسکتا۔ لَھُمْ دَرَجٰتٌ (ان کے لئے بڑے درجات ہیں) اعمال کے مطابق بعض کے مراتب بعض سے بڑھ کر۔ عِنْدَ رَبِّھِمْ وَ مَغْفِرَۃٌ (ان کے رب کے ہاں اور مغفرت ہے) اور ان کی سیئات سے تجاوز وَّرِزْقٌ کَرِیْمٌ (اور عزت کی روزی ہے) کمانے کی مشقت اور حساب کے خطرے سے محفوظ۔
Ayah 8:5

كَمَاۤ اَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْۢ بَیْتِكَ بِالْحَقِّ١۪ وَ اِنَّ فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ لَكٰرِهُوْنَۙ Open ayah 8:5 in the Quran reader

(ان لوگوں کو اپنے گھروں سے اس طرح نکلنا چاہئے تھا) جس طرح تمہارے پروردگار نے تم کو تدبیر کے ساتھ اپنے گھر سے نکالا اور (اس وقت) مومنوں کی ایک جماعت ناخوش تھی۔

آیت 5: کَمَآ اَخْرَجَکَ رَبُّکَ مِنْ 7 بَیْتِکَ (جیسا کہ آپ کے رب نے آپ کو گھر سے روانہ کیا) : کَمَا کا کاف محل نصب میں واقع ہے کیونکہ یہ فعل مقدر کے مصدر کی صفت ہے تقدیرعبارت اس طرح ہے قل الا نفال استقرت للّٰہ والرسول وثبتت مع کر اہتھم ثباتا مثل اخراج ربک ایاک من بیتک و ھم کارھون کہ دیں کہہ غنائم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (ﷺ) کیلئے پختہ ہوچکے اور ان کی ناپسندیدگی کے باوجود ثابت ہوچکے پورے طور پر ثابت ہونا جبکہ آپ کو آپ کے رب نے آپ کے گھر سے نکالا اس حال میں کہ وہ اس کو ناپسند کر رہے تھے۔ مِنْم بَیْتِکَ نمبر 1۔ مدینہ میں حجرات نبوت یا، نمبر 2۔ مدینہ منورہ مراد ہے۔ کیونکہ وہ آپ کا بیت ہجرت و مسکن ہے اور بیتک سے اختصاص اسی طرح ہے جیسا کہ کسی گھر والے کو اس کے گھر سے خاص کیا جائے۔ بِالْحَقِّ (مصلحت کے ساتھ) ایسا نکلنا جو حکمت و صواب پر مبنی تھا۔ وَاِنَّ فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ لَکٰرِھُوْنَ (اور مسلمانوں کی ایک جماعت اس کو گراں سمجھتی تھی) : نمبر 1۔ یہ موضع حال میں ہے تقدیر عبارت یہ ہے۔ اَخْرَجَکَ فی حال کر اہتہم آپ کو نکالا ان کی کراہت کی حالت میں اور اس کا واقعہ اس طرح ہے۔ (نمبر 2۔ جملہ مستانفہ ہونا ظاہر ہے کیونکہ مدینہ میں سے نکلنا تو کسی کو ناگوار نہ تھا) اسبابِ بدر : قریش کا ایک قافلہ بہت بڑے تجارتی مال کیساتھ شام سے واپس لوٹ رہا تھا۔ اس کی حفاظت کیلئے چالیس سواروں کا دستہ تھا۔ قافلہ کی قیادت ابوسفیان بن حرب کے ہاتھ میں تھی۔ حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) نے نبی اکرم ﷺ کو بتلایا آپ نے صحابہ ؓ کو خبر دی۔ قافلہ میں زرکثیر کی بناء پر قافلے کا سامنا مناسب معلوم ہوا (تاکہ جہادی ضرورتوں میں اس مال کو صرف کیا جاسکے) نیز قافلے کی حفاظت پر معمولی دستہ متعین تھا۔ مسلمانوں کا مدینہ سے خروج : مسلمان جب مدینہ منورہ سے نکلے تو قریش کو اسی وقت اطلاع مل گئی۔ ابوجہل تمام اہل مکہ کو لے کر چڑھ دوڑا۔ یہ کوچ تھا۔ مثال مشہور ہے۔ لا فی العیر ولافی النفیر۔ اس کو بتلایا گیا کہ قافلہ تو طریق ساحل پر بچ نکلا تم لوٹ چلو ! اس نے انکار کردیا۔ وہ اپنے ساتھیوں کو لے کر بدر کی طرف چل دیا۔ بدر ایک پانی کا نام ہے۔ جہاں سال میں ایک مرتبہ بازار لگتا تھا۔ جبرئیل ( علیہ السلام) آئے اور آکر بتلایا یارسول اللہ، اللہ تعالیٰ نے آپ سے دو میں سے ایک گروہ پر کامیابی کا وعدہ فرمایا۔ خواہ قافلہ ہو یا لشکر قریش نبی اکرم ﷺ نے صحابہ کرام سے مشورہ کیا اور فرمایا۔ قافلہ پسند ہے یا لشکر ؟ انہوں نے جواب دیا قافلہ زیادہ پسند ہے بہ نسبت لشکر کا سامنا کرنے کے۔ آپ ﷺ کا چہرہ مبارک بدل گیا۔ پھر آپ نے بات لوٹائی کہ قافلہ تو ساحل بحر پر جا چکا اور یہ ابو جہل آرہا ہے۔ انہوں نے کہا یا رسول اللہ آپ قافلے کا پیچھا کریں۔ دشمن کو چھوڑیں۔ صحابہ ؓ کے بیانات : آپ ﷺ کے غصہ کو دیکھ کر ابوبکر و عمر ؓ کھڑے ہوئے اور بہت خوب بیان کیا پھر سعد بن عبادہ ؓ نے کہا آپ اپنے معاملے کو دیکھ کر کر گزریں اللہ کی قسم۔ اگر آپ عدن ابین تک جائیں تب بھی انصارکا ایک آدمی بھی پیچھے نہ رہے گا۔ پھر مقداد بن عمرو ؓ نے کہا اس پر چلئے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا۔ آپ ہمیں جہاں لے جائیں جانے کو تیار ہیں۔ ہم اس طرح نہ کہیں گے جیسا بنی اسرائیل نے موسیٰ ( علیہ السلام) کو کہا : فَاذْہَبْ اَنْتَ وَرَبُّکَ فَقَاتِلَآ اِنَّا ہٰہُنَا قَاعِدُوْنَ ( المائدہ : 24) بلکہ ہم کہتے ہیں : اذھب انت وربک فقاتلا انا معکما مقاتلون ! آپ اپنے رب کی مدد سے چلئے ہم آپ کے ساتھ ملکر لڑیں گے۔ جب تک ایک پلک جھپکنے والی آنکھ باقی ہے۔ اس پر آپ ﷺ بہت خوش ہوئے۔ حضرت سعد بن معاذ ؓ نے کہا آپ اپنے ارادہ کو کر گزریں مجھے اس ذات کی قسم ہے جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے۔ اگر آپ ہمیں اس سمندر پر لے جائیں اور اس میں آپ داخل ہوجائیں تو ہم بھی آپ کے ساتھ داخل ہوجائیں گے۔ ایک آدمی بھی ہم میں سے پیچھے نہ رہے گا۔ اللہ تعالیٰ کی برکت سے ہمیں لے کر چلیں۔ رسول اللہ ﷺ سعد کے قول سے خوش ہو کر نشاط میں آگئے۔ اور فرمایا اللہ تعالیٰ کی برکت کے ساتھ چلو تم خوش ہوجائو۔ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے ایک گروہ پر غلبہ کا وعدہ فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی قسم گویا اب میں کفار کی قتل گاہوں کو آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔ بعض صحابہ کرام ؓ کی طرف سے ناپسندیدگی کی وجہ وَاِنَّ فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ لَکٰرِہُوْنَ سے جھگڑا کر رہے تھے تو وہ قافلے کو لشکر پر ترجیح کی بات تھی۔ بَعْدَمَا تَبَیَّنَ رسول اللہ ﷺ کے بتلا دینے کے باوجود کہ ان کو فتح ہوگی۔ جدال : سے مراد ان کا یہ قول ہے کہ ہم لشکر کے لئے تیار ہو کر نہیں نکلے۔ آپ ہمیں بتلا دیتے کہ ہم تیاری کرلیتے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ لڑائی کو ناپسند کرتے تھے۔
Ayah 8:6

یُجَادِلُوْنَكَ فِی الْحَقِّ بَعْدَ مَا تَبَیَّنَ كَاَنَّمَا یُسَاقُوْنَ اِلَى الْمَوْتِ وَ هُمْ یَنْظُرُوْنَؕ Open ayah 8:6 in the Quran reader

وہ لوگ حق بات میں اس کے ظاہر ہوئے پیچھے تم سے جھگڑنے لگے۔ گویا موت کی طرف ڈھکیلے جاتے ہیں اور اسے دیکھ رہے ہیں۔

گھبراہٹ کی کیفیت : آیت 6: یُجَادِلُوْنَکَ فِی الْحَقِّ (وہ اس مصلحت میں جھگڑ رہے تھے) وہ حق جس کے متعلق وہ رسول اللہ ﷺ سے جھگڑاکر رہے تھے وہ قافلے کو لشکر پر ترجیح کی بات تھی۔ بَعْدَ مَاتَبَیَّنَ (اس کے ظاہر ہوجانے کے بعد) رسول اللہ ﷺ کے بتلا دینے کے باوجود کہ ان کو فتح ہوگی۔ جدال سے مرادان کا یہ قول ہے کہ ہم لشکر کیلئے تیار ہو کر نہیں نکلے۔ آپ ہمیں بتلاد یتے تاکہ ہم تیاری کرلیتے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ لڑائی کو ناپسند کرتے تھے۔ کَاَنَّمَا یُسَاقُوْنَ اِلَی الْمَوْتِ وَھُمْ یَنْظُرُوْنَ (کہ گویا کوئی ان کو موت کی طرف ہانکے لئے جاتا ہے اور وہ دیکھ رہے ہیں) ان کی زیادہ گھبراہٹ کو، باوجود یکہ ان کو کامیابی اور غنیمت کی خوشخبری دی جاچکی تھی۔ اس آدمی کی حالت سے تشبیہ دی جس کو قتل کی طرف کھینچ کرلے جایا جارہا ہو۔ اور ذلت کے ساتھ موت کی طرف دھکیلا جارہا ہو۔ اور وہ موت کے اسباب کا مشاہدہ کررہا ہو۔ اور موت کی طرف اس طرح دیکھ رہا ہو کہ اس میں کوئی شک نہ ہو۔ دوسرا قول یہ ہے کہ انکا خوف قلت تعداد کی وجہ سے تھا۔ وہ تمام پیدل تھے صرف دوسوار تھے۔
Ayah 8:7

وَ اِذْ یَعِدُكُمُ اللّٰهُ اِحْدَى الطَّآئِفَتَیْنِ اَنَّهَا لَكُمْ وَ تَوَدُّوْنَ اَنَّ غَیْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُوْنُ لَكُمْ وَ یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَ یَقْطَعَ دَابِرَ الْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 8:7 in the Quran reader

اور (اس وقت کو یاد کرو) جب خدا تم سے وعدہ کرتا تھا کہ (ابو سفیان اور ابو جہل کے) دو گرہوں میں ایک گردہ تمہارا مسخر) ہوجائے گا۔ اور تم چاہتے تھے کہ جو قافلہ بے (شان و) شوکت (یعنی بےہتھیار) ہے وہ تمہارے ہاتھ آجائے اور خدا چاہتا تھا کہ اپنے فرمان سے حق کو قائم رکھے اور جو کافروں کی جڑ کاٹ کر (پھینک) دے۔

وعدئہ الٰہی اور قافلہ سے ٹکرائو کی خواہش : آیت 7: وَاِذْ یَعِدُ کُمُ اللّٰہُ اِحْدَی الطَّآپفَتَیْنِ (اور تم لوگ اس وقت کو یاد کرو جبکہ اللہ تعالیٰ تم کو ان دو جماعتوں میں سے ایک کا وعدہ کرتے تھے) : اذ۔ اذکر کا مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ احدی مفعول ثانی ہے۔ اَنَّھَا لَکُمْ (کہ وہ تمہارے ہاتھ آجائے گی) احدی الطائفتین سے بدل ہے۔ الطائفتین سے مراد۔ قافلہ اور لشکر تقدیر عبارت یہ ہے واذیعدکم اللّٰہ ان احدی الطائفتین لکم جب اللہ تعالیٰ نے تم سے وعدہ کیا کہ دو گروہوں میں سے ایک تمہارا ہوگا۔ (اس پر کامیابی دی جائے گی) وَتَوَدُّوْنَ اَنَّ غَیْرَ ذَاتِ الشَّوْکَۃِ تَکُوْنُ لَکُمْ (اور تم اس تمنا میں تھے کہ غیر مسلح جماعت تمہارے ہاتھ لگے) یعنی قافلہ۔ ذات الشوکۃ۔ اسلحہ، گروپ۔ شوکت لشکر میں تعداد و تیاری دونوں لحاظ سے تھی۔ یعنی تمہاری تمنا یہ تھی کہ قافلہ تمہارے لئے ہو۔ کیونکہ وہ بےاسلحہ گروہ تھا۔ تم دوسرے گروہ کو نہ چاہتے تھے۔ اللہ کی رضاء : وَیُرِیْدُ اللّٰہُ اَنْ یُّحِقَّ الْحَقَّ (اور اللہ تعالیٰ کو منظور تھا کہ وہ حق کا حق ہونا ثابت کرے) اس کو ثابت اور بلند کریں۔ بِکَلِمٰتِہٖ (اپنے احکام سے) اپنی ان آیات کے ساتھ جو مسلح لشکرکے ساتھ لڑنے کے سلسلہ میں اتاریں اور ان آیات کے ساتھ جن میں فرشتوں کو ان کی مددکیلئے اترنے کا حکم دیا۔ اور اس کے ساتھ جو اس نے ان کو قتل کرنے اور قلیب بدر میں پھینکنے کا حکم دیا۔ وَیَقْطَعَ دَابِرَ الْکٰفِرِیْنَ (اور کافروں کی جڑکاٹ دے) ان کے آخر کو، الدابر آخر کو کہتے ہیں۔ یہ دبر سے فاعل کا صیغہ ہے جبکہ وہ پیٹھ پھیرے قطع دابریہ استیصال کی تعبیر ہے۔ یعنی تم جلد ملنے والا فائدہ چاہتے تھے اور سطحی معاملات۔ اور اللہ تعالیٰ بلند معاملات اور حق کی مدد، کلمہ حق کی برتری چاہتے تھے اور دونوں مقاصد میں بہت فرق ہے۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے مسلح لشکر کو پسند کیا۔ اور تمہارے ضعف کے ذریعہ ان کی قوت کو پارہ پارہ کردیا اور تمہیں عزت بخشی جبکہ ان کو ذلیل کردیا۔
Ayah 8:8

لِیُحِقَّ الْحَقَّ وَ یُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَۚ Open ayah 8:8 in the Quran reader

تاکہ سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کر دے۔ گو مشرک ناخوش ہی ہوں۔

اثباتِ اسلام اور ابطال باطل : آیت 8: لِیُحِقَّ الْحَقَّ (تاکہ حق کا حق ہونا) نمبر 1۔ یہ یقطع سے متعلق ہے نمبر 2۔ فعل محذوف کے متعلق ہے جس کی تقدیر عبارت یہ ہے : لیحقَّ الحقَّ ۔ وَیُبْطِلَ الْبَاطِلَ (اور باطل کا باطل ہونا ثابت کر دے) فعل ذلک تاکہ وہ حق کو ثابت کر دے اور باطل کو بےکار کر دے اس نے ایسا کردیا۔ مقدر کو آخر میں اس لئے ذکر کیا تاکہ اختصاص کا فائدہ حاصل ہو یعنی اس کو انہی دو اغراض کی خاطر کیا اور وہ اظہار و اثبات اسلام اور امحاق و ابطال کفر ہے اس میں تکرار نہیں کیونکہ پہلی مرتبہ دونوں ارادوں میں فرق و امتیاز کیلئے لائے۔ اور یہ دوسری مرتبہ مسلح لشکرکو دوسرے گروہ کے مقابلہ میں ترجیح دینے اور مسلمانوں کو ان پر غلبہ دینے کا کیا مقصد تھا اس کی وضاحت وبیان کیلئے لائے۔ وَلَوْکَرِہَ الْمُجْرِمُوْنَ (اگرچہ مجرم لوگ یہ ناپسند ہی کریں) اس کو مشرک اگرچہ ناپسند کریں۔
Ayah 8:9

اِذْ تَسْتَغِیْثُوْنَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ اَنِّیْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُرْدِفِیْنَ Open ayah 8:9 in the Quran reader

جب تم اپنے پروردگار سے فریاد کرتے تھے تو اس نے تمہاری دعا قبول کرلی (اور فرمایا کہ) (تسلی رکھو) ہم ہزار فرشتوں سے جو ایک دوسرے کے پیچھے آتے جائیں گے تمہاری مدد کریں گے۔

اللہ سے استغاثہ : آیت 9: اِذْ تَسْتَغِیْثُوْنَ رَبَّکُمْ (اور یاد کرو جب تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے) : یہ اذیعدکم سے بدل ہے۔ نمبر 2۔ لیحق الحق و یبطل الباطل کے متعلق ہے۔ جب صحابہ کرام کو یقین ہوگیا کہ لشکر کا سامنا بہرصورت ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کو پکارنے لگے اور کہنے لگے اے ہمارے رب انصرنا علی عدوک تو اپنے دشمن پر ہمیں فتح دے۔ یاغیاث المستغیثینَ اغثنا اے ہمارے فریاد رس ہماری فریاد رسی فرما۔ استغاثہ طلب غوث کو کہتے ہیں۔ اور طلب غوث کا معنی ہے ناپسند حالت سے چھٹکارا پانا۔ فَاسْتَجَابَ لَکُمْ (پھر اللہ تعالیٰ نے تمہاری سن لی) پس اسنے قبول فرمایا۔ اَنِّیْ مُمِدُّکُمْ (کہ میں تم کو مدد دونگا) اصل بِاَنِّیْ مُمِدُّکُمْہے جارکوحذف کردیا اور استجاب کو اس پر مسلط کردیا پس اس نے محل کو نصب دی۔ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰٓپکَۃِِ مُرْدِفِیْنَ (ایک ہزار فرشتوں سے جو سلسلہ وار چلے آئیں گے) قراءت : مدنی نے مرد فین پڑھا ہے جبکہ دوسروں نے مردفین پڑھا ہے۔ کسرہ کی بناء پر معنی انہوں نے دوسروں کا پیچھا کیا۔ اور فتحہ کی صورت میں ہر فرشتہ دوسرے کے پیچھے آیا۔ کہا جاتا ہے ردفہ جبکہ وہ اس کا پیچھا کرے اور اردفتہ ایاہ، میں نے اس کا پیچھا کیا۔
Ayah 8:10

وَ مَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰى وَ لِتَطْمَئِنَّ بِهٖ قُلُوْبُكُمْ١ۚ وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 8:10 in the Quran reader

اور اس مدد کو خدا نے محض بشارت بنایا تھا کہ تمہارے دل اس سے اطمینان حاصل کریں۔ اور مدد تو اللہ ہی کی طرف سے ہے بیشک خدا غالب حکمت والا ہے۔

نصرتِ ملائکہ تو اطمینانِ قلبی کے لئے ہے : آیت 10: وَمَا جَعَلَہُ اللّٰہُ (اور اللہ تعالیٰ نے یہ امداد نہیں عطاء کی) یعنی وہ امداد جس پر ممدکم دلالت کرتا ہے۔ اِلَّا بُشْرٰی (مگر صرف بشارت کیلئے) مگر وہ تمہارے لئے نصرت کی بشارت وَلِتَطْمَپنَّ بِہٖ قُلُوْبُکُمْ (اور تاکہ تمہارے دلوں کو اطمینان ہوجائے) یعنی تم نے فریاد طلب کی اور اپنی قلت کی بناء پر گڑ گڑائے پس ملائکہ کے ذریعہ امدادوہ تمہارے لئے نصرت کی خوشخبری اور تسکین کا باعث تھی۔ اور تمہارے دلوں کیلئے ڈھارس تھی۔ وَمَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ (اور نصرت صرف اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے) یعنی تم وہ مددملائ کہ کی طرف سے مت سمجھو اصل مددگار تمہارے لئے اور فرشتوں کیلئے اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ نمبر 2۔ وَمَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ مددملائ کہ وغیرہ اسباب سے نہیں بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے منصور وہ ہے جس کی اللہ تعالیٰ مدد کرے۔ کیا فرشتے براہ راست لڑے ؟ بدر کے دن فرشتوں کے براہ راست لڑنے کے متعلق اختلاف ہے۔ نمبر 1۔ جبرئیل ( علیہ السلام) پانچ سو فرشتوں کے ساتھ اسلامی لشکر کے میمنہ پر اترے جس میں ابوبکر ؓ تھے۔ اور میکائیل ( علیہ السلام) پانچ سو کے ساتھ میسرہ پر اترے۔ جس میں علی ؓ تھے۔ فرشتے انسانی صورت میں سفید لباس اور سفید عمامے زیب تن کرنے والے تھے۔ اور پگڑیوں کے شملے کندھوں کے درمیان ڈالنے والے تھے۔ اور انہوں نے باقاعدہ لڑائی کی یہاں تک کہ ابو جہل نے عبداللہ بن مسعود کو کہا ہمیں تلوار کی ضرب کہاں سے آتی تھی جبکہ ہم کسی ذات کو نہ دیکھتے تھے۔ تو عبداللہ نے جواب دیاوہ ضرب ملائکہ کی طرف سے تھی۔ اس نے کہا وہ ہم پر غالب آئے نہ کہ تم۔ نمبر 2۔ فرشتے اترے تعداد بڑھانے اور مسلمانوں کو ثابت قدم رکھنے کیلئے انہوں نے قتال نہیں کیا۔ ورنہ ایک فرشتہ پوری دنیا کو ہلاک کرنے کیلے کافی ہے۔ اِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ (بیشک اللہ زبردست) اپنے دوستوں کی مددکیلئے حَکِیْمٌ (حکمت والے ہیں) اپنے دشمنوں کو مغلوب کرتے ہیں۔
Ayah 8:11

اِذْ یُغَشِّیْكُمُ النُّعَاسَ اَمَنَةً مِّنْهُ وَ یُنَزِّلُ عَلَیْكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً لِّیُطَهِّرَكُمْ بِهٖ وَ یُذْهِبَ عَنْكُمْ رِجْزَ الشَّیْطٰنِ وَ لِیَرْبِطَ عَلٰى قُلُوْبِكُمْ وَ یُثَبِّتَ بِهِ الْاَقْدَامَؕ Open ayah 8:11 in the Quran reader

جب اس نے (تمہاری) تسکین کے لئے اپنی طرف سے تمہیں نیند (کی چادر) اڑھا دی اور تم پر آسمان سے پانی برسا دیا تاکہ تم کو اس سے (نہلا کر) پاک کر دے اور شیطانی نجاست کو تم سے دور کر دے۔ اور اس لئے بھی کہ تمہارے دلوں کو مضبوط کر دے اور اس سے تمہارے پاؤں جمائے رکھے۔

غلبہ ٔ اونگھ : آیت 11: اِذْ یُغَشِّیْکُمُ (یاد کرو جب اللہ تعالیٰ تم پر طاری کر رہا تھا) : یہ اذیعدکم سے دوسرابدل ہے۔ نمبر 2۔ النصر کی وجہ سے منصوب ہے۔ نمبر 3۔ اذکر مضمر مان کر منصوب ہے۔ قراءت : مدنی نے یغشیکُمْ پڑھا ہے۔ النُّعَاسَ (اونگھ) نیند۔ دونوں قراءتوں کے مطابق فاعل اللہ ہی ہے۔ مکی اور ابو عمرو نے یغشاکم النعاسُپڑھا ہے۔ اَمَنَۃً (چین دینے کیلئے) نمبر 1۔ یہ مفعول لہ ٗہے۔ جب تم امن کیلئے اونگھ رہے تھے۔ ای لامنکم، نمبر 2۔ مصدر ہے پس تم امن میں ہوگئے امن میں ہونا۔ نیند سے رعب چلا جاتا ہے اور نفس کو آرام ملتا ہے۔ مِّنْہُ (اپنی طرف سے) یہ امنۃ کی صفت ہے یعنی امنۃ حاصلۃ لکم وہ امن جو تمہیں اللہ کی طرف سے حاصل ہونے والا تھا۔ نزول کی مطر : وَیُنَزِّلُ (اور برسا رہا تھا) تمام قراء نے تشدید سے پڑھا جبکہ مکی و بصری نے یُنْزِلُ تخفیف سے پڑھا ہے۔ عَلَیْکُمْ مِّنَ السَّمَآئِ مَآ ئً (تم پر آسمان سے پانی) بارش لِّیُطَھِّرَ کُمْ بِہٖ (تاکہ اس پانی سے تم کو پاک کر دے) پانی کے ذریعہ حدث اور جنابت سے وَ یُذْھِبَ عَنْکُمْ رِجْزَ الشَّیْطٰنِ (اور تم سے شیطان کے وسوسہ کو دور کر دے) نمبر 1۔ ان کی طرف جو وسوسہ ڈالتا اور پیاس سے ڈراتا ہے۔ نمبر 2۔ احتلام کے ذریعے جنابت سے کیونکہ احتلام شیطان کی طرف سے ہوتا ہے۔ اور ان کے دل میں یہ وسوسہ پیدا کیا کہ جنابت کی حالت میں مدد نہیں ہے۔ وَلِیَرْبِطَ عَلٰی قُلُوْبِکُمْ (اور تمہارے دلوں کو مضبوط کر دے) صبر کے ذریعہ وَیُثَبِّتَ بِہِ الْاَقْدَامَ (اور تمہارے پائوں جمادے) پانی کے ساتھ مسلمانوں کے قدم ریت میں دھنس دھنس جاتے تھے۔ نمبر 2۔ ربط کے ذریعہ کیونکہ جب دل میں صبر پختہ ہوجائے تو لڑائی میں قدم خود مضبوط ہوجاتا ہے۔
Ayah 8:12

اِذْ یُوْحِیْ رَبُّكَ اِلَى الْمَلٰٓئِكَةِ اَنِّیْ مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ سَاُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَ اضْرِبُوْا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍؕ Open ayah 8:12 in the Quran reader

جب تمہارا پروردگار فرشتوں کو ارشاد فرماتا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ تم مومنوں کو تسلی دو کہ ثابت قدم رہیں۔ میں ابھی ابھی کافروں کے دلوں میں رعب اور ہیبت ڈالے دیتا ہوں تو ان کے سر مار (کر) اڑا دو اور اس کا پور پور مار (کر توڑ) دو ۔

فرشتوں کو ہمت بڑھانے کے حکم والا : آیت 12: اِذْ یُوْحِیْ (اس وقت کو یاد کرو جب حکم دیتا تھا) : اذیعدکم سے بدل سوم ہے۔ نمبر 2۔ یثبت سے منصوب ہے۔ رَبُّکَ اِلَی الْمَلٰٓپکَۃِ اَنِّیْ مَعَکُمْ (آپ کا رب فرشتوں کو کہ میں تمہارے ساتھ ہوں) مدد کے ساتھ فَثَبِّتُوا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا (تم سب ایمان والوں کی ہمت بڑھائو) بشارت کے ساتھ۔ فرشتہ انسانی صورت میں صف کے آگے چلتا اور کہتا ابشروا فان اللّٰہ ناصرکم۔ خوشخبری ہو اللہ تعالیٰ تمہارا ناصر ہے۔ سَاُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ کَفَرُوا الرُّعْبَ (میں ابھی کفار کے قلوب میں رعب ڈالے دیتا ہوں) خوف سے ان کے دل کو بھرنا۔ قراءت : شامی، علی نے الرعب پڑھا ہے۔ کفار کی گردنیں اڑا دو : فَاضْرِبُوْا (پس تم مارو) مسلمانوں کو حکم دیا نمبر 2۔ ملائکہ کو ‘ اس میں دلیل ہے کہ ملائکہ نے قتال کیا۔ فَوْقَ الْاَ عْنَاقِ (گردنوں پر) نمبر 1۔ یعنی گردنوں کے اوپر والے حصے جو کہ ذبح کے مقامات ہیں تاکہ سر اڑائے جائیں۔ نمبر 2۔ سرمراد ہیں کیونکہ گردنوں پر سر ہی ہوتا ہے۔ مطلب کھوپڑی پر مارنا ہے۔ وَاضْرِبُوْا مِنْھُمْ کُلَّ بَنَانٍ (اور ان کے پور پور پر مارو) وہ انگلیاں ہیں۔ مراد اطراف ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ تم ان کے قتل کے مقامات اور اطراف جسم دونوں پر مارو۔ ضرب مقتل پر پڑے یا غیر مقتل پر ان دونوں اقسام میں ضرب مشتمل ہونی چاہیئے۔
Ayahs 8:13–14

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَآقُّوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ۚ وَ مَنْ یُّشَاقِقِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 8:13 in the Quran reader

یہ (سزا) اس لئے دی گئی کہ انہوں نے خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کی اور جو شخص خدا اور اسکے رسول کی مخالفت کرتا ہے۔ تو خدا بھی سخت عذاب دینے والا ہے۔

ذٰلِكُمْ فَذُوْقُوْهُ وَ اَنَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابَ النَّارِ Open ayah 8:14 in the Quran reader

یہ (مزہ تو یہاں) چکھو اور یہ (جانے رہو) کہ کافروں کے لئے (آخرت میں) دوزخ کا عذاب (بھی تیار ہے)

یہ سزا اللہ اور رسول (ﷺ) کی مخالفت کی وجہ سے ملی : آیت 13، 14: ذٰلِکَ (یہ) یہ ضرب، قتل، جلد پہنچے والی سزا تمام کی طرف اشارہ ہے۔ یہ مبتداء ہے۔ بِاَنَّھُمْ شَآقُّوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ (اس بات کی سزا ہے کہ انہوں نے اللہ کی اور اس کے رسول کی مخالفت کی) اس کی خبر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ عقاب ان پر مخالفت خدا و رسول کی وجہ سے پڑا۔ شاقوا کا لفظ الشق سے ہے۔ ہر دشمنی کرنے والا ایک جانب اور دوسری جانب اس کا مقابل کذا المعاداۃ و المخاصمۃ کیونکہ ایک ایک جانب اور دوسرا دوسری جانب ہوتا ہے۔ وَمَنْ یُّشَاقِقِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ فَاِنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ (اور جو اللہ کی اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ سخت سزا دیتے ہیں) ذلک کا کے کاف میں خطاب رسول سے ہے یا ہر فرد اور ذلکم میں بطور التفات کے کفار کو خطاب ہے۔ ذٰلِکُمْ محل رفع میں ہے۔ نمبر 1۔ ذلکم العقاب نمبر 2۔ العقاب ذٰلکم۔ فَذُوْقُوْہُ وَاَنَّ لِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابَ النَّارِ (سو یہ سزا تم چکھو اور بلاشبہ کافروں کے لئے دوزخ کا عذاب ہے) وائو، مع کے معنی میں ہے۔ یعنی ذوقوا ھٰذا العذاب العاجل مع الآجل الذی لکم فی الآخرۃ اس جلد ملنے والے عذاب کو چکھو اس کے ساتھ مؤجل عذاب آخرت کا تیار ہے۔ گویا ظاہر کو ضمیر کی جگہ لایا گیا۔
Ayah 8:15

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوْهُمُ الْاَدْبَارَۚ Open ayah 8:15 in the Quran reader

اے اہل ایمان ! جب میدان جنگ میں کفار سے تمہارا مقابلہ ہو تو ان سے پیٹھ نہ پھیرنا۔

دوبدو جنگ کے احکامات : آیت 15: یٰٓاَیـُّـھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْٓ ا اِذَا لَقِیتُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا زَحْفًا (اے ایمان والو ! جب تم کافروں سے دوبدو مقابل ہوجائو) یہ الذین کفروا سے حال ہے۔ الزحف وہ لشکر جو کثرت کی وجہ سے اس طرح نظر آئے گو یا وہ رینگ رہا ہے۔ یہ زحف الصبی سے بنا ہے۔ جبکہ وہ اپنے سرینوں پر آہستہ آہستہ سرکنے لگے۔ مصدر سے بطور نام کے استعمال ہوتا ہے۔ فَلاَ تُوَلُّوْھُمُ الْاَدْبَارَ (تو ان سے پشت مت پھیرنا) ان سے شکست کھا کر مت پھرو۔ یعنی جب ان سے لڑائی میں سامنا کرو، ان کی تعداد زیادہ اور تمہاری کم ہو تو پیٹھ پھیر کر نہ بھاگو۔ چہ جائیکہ تم تعداد میں ان سے قریب یا برابر ہو۔ نمبر 2۔ مؤمنین سے حال ہے۔ نمبر 3۔ فریقین سے حال ہے جب تم اور وہ گڈ مڈ ہو کر لڑو۔
Ayah 8:16

وَ مَنْ یُّوَلِّهِمْ یَوْمَئِذٍ دُبُرَهٗۤ اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَیِّزًا اِلٰى فِئَةٍ فَقَدْ بَآءَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ مَاْوٰىهُ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 8:16 in the Quran reader

اور جو شخص جنگ کے روز اس صورت کے سوا کہ لڑائی کے لئے کنارے کنارے چلے (یعنی حکمت عملی سے دشمن کو مارے) یا اپنی فوج میں جا ملنا چاہے۔ ان سے پیٹھ پھیرے گا تو (سمجھو کہ) وہ خدا کے غضب میں گرفتار ہوگیا اور اسکا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے۔

بھاگنے والے کے جرم کی شدت : آیت 16: وَمَنْ یُّوَلِّھِمْ یَوْمَپذٍ دُبُرَہٗٓ اِلَّا مُتَحَرِّفًا (اور جو شخص ان سے اس موقعہ پر پشت پھیرے گا۔ مگر ہاں جو پینترا بدلتا ہو) مائل ہونے والا۔ لِّقِتَالٍ (لڑائی کیلئے) وہ مڑ کر حملہ کرنے کیلے پسپا ہونا ہے دشمن کو خیال ہو کہ بھاگ گیا پھر اس پر مڑ کر حملہ آور ہو۔ یہ ایک جنگی طرز ہے۔ اَوْ مُتَحَیِّزًا (یا ملنے والا ہو) اِلٰی فِئَۃٍ (اپنی جماعت کی طرف) پناہ لینے آتا ہو وہ مستثنیٰ ہے ملنے والا ہو مسلمانوں کی جماعت جو اس کی پشت میں ہو۔ نحو : یہ دونوں یولھم کی ضمیر فاعلی سے حال ہیں۔ فَقَدْ بَآ ئَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰہِ وَمَاْوٰہُ جَھَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِیْرُ (وہ اللہ تعالیٰ کے غضب میں آجائے گا اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہوگا اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے) متحیز کا وزن مُتَفَیْعَل ہے مُتَفِعُّل نہیں کیونکہ وہ حاز، یحوز سے ہے اس سے متحوز، متفعل بنتا ہے نہ کہ متحیز۔
Ayah 8:17

فَلَمْ تَقْتُلُوْهُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ قَتَلَهُمْ١۪ وَ مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى١ۚ وَ لِیُبْلِیَ الْمُؤْمِنِیْنَ مِنْهُ بَلَآءً حَسَنًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 8:17 in the Quran reader

تم لوگوں نے ان (کفار) کو قتل نہیں کیا بلکہ خدا نے انہیں قتل کیا۔ اور (اے محمد ﷺ جس وقت تم نے (کنکریاں) پھینکی تھیں تو وہ تم نے نہیں پھینکی تھیں بلکہ اللہ نے پھینکی تھیں۔ اس سے یہ غرض تھی کہ مومنوں کو اپنے (احسانوں) سے اچھی طرح آزما لے۔ بیشک خدا سنتا جانتا ہے۔

ایک مشت خاک کا اعجاز : آیت 17: جب اہل مکہ کی قوت ٹوٹ گئی اور قتل و قید ہوگئے۔ تو قاتل تفاخر کے طور پر قتلت اور أسرتُ کہنے لگے تو ان کو کہا گیا۔ فَلَمْ تَقْتُلُوْھُمْ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ قَتَلَھُمْ (پس تم نے ان کو قتل نہیں کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو قتل کیا) فَا محذوف شرط کے جواب میں ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے۔ ان افتخرتم بقتلھم فانتم لم تقتلوھم اگر تم ان کے قتل پر فخر کرتے ہو تو تم نے ان کو قتل نہیں کیا۔ جب جبرئیل ( علیہ السلام) نے نبی اکرم ﷺ سے کہا ایک مٹھی مٹی لے کر ان کی طرف پھینکو۔ آپ نے پھینکا اور بددعا فرمائی شاہت الوجوہ کوئی مشرک ایسا نہ رہا مگر وہ اپنی آنکھیں ملنے میں مشغول ہوگیا پس کفار شکست کھا گئے۔ کہا گیا : وَمَا رَمَیْتَ اے محمد (ﷺ) اِذْ رَمَیْتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی (اور آپ نے خاک کی مٹھی نہیں پھینکی لیکن اللہ تعالیٰ نے وہ پھینکی) وہ کنکریاں جو آپ نے پھینکیں، حقیقت میں آپ نے نہیں پھینکیں۔ کیونکہ اگر آپ پھینکتے تو اس کا اثر اتنا ہی ہوتاجتنا انسان کے پھینکنے کا ہوتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے پھینکنے کا اثر بہت بڑا ہوا (ہر کافر کی آنکھ میں کنکری پہنچ گئی اور اس کو بےبس کردیا ) مسئلہ : اس آیت میں اس بات کی وضاحت ہے کہ بندے کے فعل کی نسبت اس کی طرف کسب کی حیثیت سے ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف خلق کی حیثیت سے اس طرح نہیں جیسا کہ جبر یہ اور معتزلہ کہتے ہیں۔ کیونکہ اِذْرَمَیْتَ کہہ کر بندے کے فعل کو ثابت کیا پھر بندے سے اس کی نفی لکن اللہ رمی کہہ کر کردی۔ قراءت : اور لکن اللّٰہ قتلھم اور لکن اللّٰہ رمٰی میں لٰکِنْ کو شامی، حمزہ اور علی نے تخفیف سے پڑھا ہے۔ وَلِیُبْلِیَ الْمُؤْمِنِیْنَ (تاکہ وہ مومنین کو اجر دے) تاکہ وہ مومنوں کو دے مِنْہُ بَلَآ ئً حَسَنًا (خوب اجر) عطائے جمیل۔ مطلب یہ ہے کہ مومنوں پر احسان کیلئے اس نے کیا جو کچھ کیا اور یہ سب کچھ اسی خاطر کیا۔ اِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ (بےشک اللہ سننے والا ہے) ان کی دعائوں کا عَلِیْمٌ (جاننے والا ہے) ان کے حالات کو۔
Ayah 8:18

ذٰلِكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ مُوْهِنُ كَیْدِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 8:18 in the Quran reader

بات یہ (ہے) کہ کچھ شک نہیں کہ خدا کافروں کی تدبیر کو کمزور کردینے والا ہے۔

کافروں کی تدبیر کمزور کردی : آیت 18: ذٰلِکُمْ (ایک بات تو یہ ہوگی) یہ بلائے حسن کی طرف اشارہ ہے۔ نحو : یہ محل رفع میں ہے اور ذٰلکم پر اس کا عطف ہے مراد ابلائے مومنین اور توہین مکائد کافرین ہے۔ وَاَنَّ اللّٰہَ مُوْھِنُ کَیْدِ الْکٰفِرِیْنَ (اور دوسری بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو کافروں کی تدبیر کا کمزور کرنا تھا) قراءت : مُوْھَنُ کَیْدَ شامی و کوفی نے پڑھا ہے۔ جبکہ حفص نے موہِنُ کیدِ پڑھا اور دیگر قراء نے مُوَھِّنُ کَیْدَ پڑھا۔
Ayah 8:19

اِنْ تَسْتَفْتِحُوْا فَقَدْ جَآءَكُمُ الْفَتْحُ١ۚ وَ اِنْ تَنْتَهُوْا فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَعُوْدُوْا نَعُدْ١ۚ وَ لَنْ تُغْنِیَ عَنْكُمْ فِئَتُكُمْ شَیْئًا وَّ لَوْ كَثُرَتْ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 8:19 in the Quran reader

(کافرو) اگر تم (محمد ﷺ پر) فتح چاہتے ہو تو تمہارے پاس فتح آچکی۔ (دیکھو) اگر تم (اپنے افعال سے) باز آجاؤ تو تمہارے حق میں بہتر ہے اور اگر پھر (نافرمانی) کرو گے تو ہم بھی پھر (تمہیں عذاب) کریں گے۔ اور تمہاری جماعت خواہ کتنی ہی کثیر ہو تمہارے کچھ بھی کام نہ آئے گی۔ اور خدا تو مومنوں کے ساتھ ہے۔

آیت 19: اِنْ تَسْتَفْتِحُوْا فَقَدْ جَآئَ کُمُ الْفَتْحُ (اگر تم فیصلہ چاہتے ہو تو وہ فیصلہ تو تمہارے سامنے آموجود ہوا) اگر تم مددطلب کرتے تھے تو مدد آگئی مگر تمہارے خلاف۔ یہ اہل مکہ کو خطاب فرمایا کیونکہ روانہ ہوتے وقت انہوں نے استار کعبہ سے چمٹ کر کہا اللّٰھم ان کان محمد علی الحق فانصرہ و ان کنا علی الحق فانصرنا۔ دوسرا قول ان تستفتحوا یہ مومنوں کو خطاب ہے۔ کہ اگر تم فیصلہ کے طالب تھے تو وہ آگیا۔ وَاِنْ تَنْتَھُوْا (اگر تم باز آجائو) یہ کفار کو خطاب ہے۔ ان تنتہوا کا مطلب عداوت رسول سے باز آنا ہے۔ فَھُوَ (تو یہ) یہ باز آنا۔ خَیْرٌ لَّکُمْ (نہایت خوب ہے) بہت بہتر اور سلامتی والا ہے۔ وَ اِنْ تَعُوْدُوْا (اور اگر تم پھر وہی کام کرو گے) ان کے ساتھ لڑائی کے لیے۔ نَعُدْ (تو ہم بھی پھر یہی کام کریں گے) تمہارے خلاف ان کی مدد کیلئے۔ وَلَنْ تُغْنِیَ عَنْکُمْ فِئَتُکُمْ (اور تمہاری جمعیت تمہارے کام نہ آوے گی) تمہاری پارٹی شَیْئًا وَّ لَوْکَثُرَتْ (ذرا بھی۔ اگرچہ کتنی زیادہ ہو) تعداد میں وَاَنَّ اللّٰہَ مَعَ الْمُؤْ مِنِیْنَ (اور بیشک اللہ تعالیٰ ایمان والوں کے ساتھ ہے) قراءت : مدنی، شامی و حفص نے اللّٰہَ کو فتحہ کیساتھ پڑھا۔ اور اسلئے کہ اللہ تعالیٰ مدد کے ذریعہ مومنین کے ساتھ ہے۔ ایسا ہوا۔ دیگر قراء نے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے اور اس کی تائید عبداللہ کی قراءت سے ہوتی ہے۔ واللّٰہِ مع المؤمنین۔
Ayah 8:20

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَوَلَّوْا عَنْهُ وَ اَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَۚۖ Open ayah 8:20 in the Quran reader

اے ایمان والو ! خدا اور اس کے رسول کے حکم پر چلو اور اس سے رو گردانی نہ کرو اور تم سنتے ہو۔

اطاعت رسول (ﷺ) کا دامن تھامے رکھو : آیت 20: یٰٓاَ یُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْٓا اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَلَا تَوَلَّوْا عَنْہُ (اے ایمان والو اللہ کا کہنا مانو اور اس کے رسول کا اور اس کہنا ماننے سے روگردانی مت کرو) رسول اللہ ﷺ سے کیونکہ اطیعوا الرسول کا معنی اس ارشاد کی طرح ہے : وَاللّٰہُ وَرَسُوْلُہ ٗ اَحَقُّ اَنْ یُّرْضُوْہُ (التوبہ : 62) اور اس لئے بھی کہ اطاعت اللہ اور اطاعت رسول ایک چیز ہے جیسا اس ارشاد میں ہے : مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَج ( النساء : 80) ایک کی طرف ضمیر کا لوٹنا دونوں کی طرف ضمیر لوٹنے کی طرح ہے جیسا کہ کہتے ہیں۔ الاحسان والاجمال لاینفع فی فلان۔ نمبر 2۔ ضمیر کا مرجع اطاعت کا حکم ہے۔ یعنی اس امر اور اس کے ہم مثل اوامر سے منہ نہ موڑو۔ تَوَلَّوْا اصل میں تتولوا ہے ایک تا کو تخفیف کیلئے حذف کردیا۔ وَاَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَ (حالانکہ تم سنتے ہو) یعنی تم اس کو سنتے ہو۔ نمبر 3۔ رسول اللہ ﷺ سے منہ نہ موڑ و اور نہ ہی ان کی مخالفت کرو حالانکہ تم ان کی تصدیق کرتے ہو اس لئے کہ تم مومن ہو۔ تم بہرے جھٹلانے والے کفار کی طرح نہیں ہو۔
Ayah 8:21

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ هُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 8:21 in the Quran reader

اور ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو کہتے ہیں کہ ہم نے (حکم خدا) سن لیا مگز (حقیقت میں) نہیں سنتے۔

منافقین اور اہل کتاب کا طرز مت اپنائو : آیت 21: وَلَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا (اور تم ان لوگوں کی طرح مت ہونا جو دعویٰ تو کرتے ہیں کہ ہم نے سن لیا) یعنی سننے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اور وہ منافقین اور اہل کتاب ہیں۔ وَھُمْ لَایَسْمَعُوْنَ (حالانکہ وہ سنتے کچھ نہیں) کیونکہ وہ اس کی تصدیق کرنے والے نہیں گویا کہ وہ سنتے ہی نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ تم قرآن و نبوت کی تصدیق کرتے ہو۔ جب بعض امور میں اطاعت رسول سے منہ موڑو گے جیسے تقسیم غنا ئم وغیرہ تو تمہارا سننا ان کے مشابہ ہوجائے گا۔ جو ایمان نہیں رکھتے پھر فرمایا۔
Ayah 8:22

اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 8:22 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ خدا کے نزدیک تمام جانداروں سے بدتر بہرے گونگے ہیں جو کچھ نہیں سمجھتے۔

کافر بدترین جانور : آیت 22: اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَاللّٰہِ الصُّمُّ الْبُکْمُ الَّذِیْنَ لَایَعْقِلُوْنَ (بیشک مخلوق میں بدترین وہ لوگ ہیں جو بہرے ہیں گونگے ہیں جو کہ ذرا نہیں سمجھتے) مطلب یہ ہے کہ زمین پر چلنے والوں میں بہائم سب سے بدترین ہیں اور بہائم میں سے بدترین وہ ہیں جو کہ حق سے بہرے بےعقل ہیں۔ اس کو نہیں سمجھتے کفار کو جنس بہائم سے قرار دیا پھر ان کو ان سے بھی زیادہ براقرار دیا کیونکہ انہوں نے مانوس ہونے کے بعد عناد اختیار کیا اور عقل کے ہوتے ہوئے کفر پر ضد اختیار کی۔
Ayah 8:23

وَ لَوْ عَلِمَ اللّٰهُ فِیْهِمْ خَیْرًا لَّاَسْمَعَهُمْ١ؕ وَ لَوْ اَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوْا وَّ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 8:23 in the Quran reader

اور اگر خدا ان میں نیکی (کا مادہ) دیکھتا تو ان کو سننے کی توفیق بخشتا۔ اور اگر (بغیر صلاحیت ہدایت کے) سماعت دیتا تو منہ پھیر کر بھاگ جاتے۔

وہ خوبی سے خالی ہیں : آیت 23: وَ لَوْعَلِمَ اللّٰہُ فِیْھِمْ (اگرا للہ تعالیٰ ان میں دیکھتے) ان گونگے بہرے لوگوں میں خَیْرًا (کوئی خوبی) سچائی اور رغبت لَّاَ سْمَعَھُمْ (تو ان کو سننے کی توفیق دے دیتے) تو ان کو سننے والے بنا دیتا یہاں تک کہ وہ بھی تصدیق کرنے والوں کی طرح سنتے۔ وَلَوْاَسْمَعَھُمْ لَتَوَلَّوْا (اور اگر ان کو اب سنا دیں تو ضرور روگردانی کریں گے) اس سے منہ موڑتے یعنی اگر ان کو سنا دیتا اور وہ تصدیق کردیتے تو اس کے بعد بھی ارتداد اختیار کرلیتے اور استقامت پر نہ رہتے۔ وَّھُمْ مُّعْرِضُوْنَ (بےرخی کرتے ہوئے) ایمان سے۔
Ayah 8:24

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا یُحْیِیْكُمْ١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَحُوْلُ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ قَلْبِهٖ وَ اَنَّهٗۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 8:24 in the Quran reader

مومنو ! خدا اور اس کے رسول کا حکم قبول کرو۔ جبکہ رسول خدا تمہیں ایسے کام کے لئے بلاتے ہیں جو تم کو زندگی (جاوداں) بخشتا ہے۔ اور جان رکھو کہ خدا آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہوجاتا ہے اور یہ بھی کہ تم سب اسکے روبرو جمع کئے جاؤ گے۔

رسول اللہ ﷺ کے حکم کی فوراً تعمیل کرو : آیت 24: یٰٓاَ یُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰہِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاکُمْ (اے ایمان والو ! تم اللہ اور اس کے رسول کے کہنے کو بجالایا کرو جب کہ وہ تم کو بلاتے ہیں) اس میں بھی خبر واحد لائی گئی کیونکہ استجابت رسول استجابت باری تعالیٰ کی طرح ہے اور استجابت کا معنی اطاعت، امتثال ہے۔ امتثال بالدعوۃ۔ مقر ر کرنا اور آمادہ کرنا ہے۔ لِمَا یُحْیِیْکُمْ (جو تمہیں زندہ کرتی ہے) دیانات اور شرائع کے علوم مراد ہیں۔ کیونکہ علم زندگی ہے۔ جیسا کہ جہالت موت ہے۔ جیسا کہ شاعر نے کہا لاتعجبن الجھول حلّتُہ۔ فذاک میت و ثوبہ کفن (جاہل کو اپنے جہالت کے لباس پر فخر نہ کرنا چاہیے کیونکہ وہ مردہ ہے۔ اور اس کا لباس کفن ہے۔ نمبر 2۔ کفار سے جہاد کیلئے کیونکہ اگر وہ اس کا انکار کریں تو مغلوب ہوجائیں اور قتل کردیے جائیں۔ نمبر 3۔ شہادت کے لئے اس لئے کہ ارشاد الٰہی ہے : بَلْ اَحْیَآئٌ عِنْدَ رَبِّہِمْ یُرْزَقُوْنَ (آل عمران : 169) اللہ کے حائل ہونے کا مطلب : وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ یَحُوْلُ بَیْنَ الْمَرْئِ وَقَلْبِہٖ (اور جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ آڑ بن جایا کرتا ہے آدمی کے اور اس کے قلب کے درمیان) یعنی اس کو مار دیتا ہے اور اس سے وہ فرصت فوت ہوجاتی ہے جس کو وہ پانے والا تھا۔ اور وہ فرصت یہ ہے کہ اخلاص قلب سے دین پر جمائو میسر ہو۔ پس تم اس فرصت کو غنیمت سمجھو۔ اور اپنے دلوں کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کیلئے خالص کرو۔ نمبر 2۔ اس کے اور اس کی تمنائوں کے درمیان جو وہ لمبی زندگی کے سلسلہ میں کرتا ہے پس اس کے عزائم کو منسوخ کردیتا ہے وَاَنَّہٗ اِلَیْہِ تُحْشَرُوْنَ (اور تم سب کو اللہ ہی کے پاس جمع ہونا ہے) تم یقین کرلو اسی کی بارگاہ میں تمہیں اکٹھا ہونا ہوگا۔ پس وہ دلوں کی سلامتی اور مخلصانہ اطاعت کی مقدار کے برابر ثواب عنایت کرے گا۔
Ayah 8:25

وَ اتَّقُوْا فِتْنَةً لَّا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْكُمْ خَآصَّةً١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 8:25 in the Quran reader

اور اس فتنے سے ڈرو جو خصوصیت کے ساتھ انہیں لوگوں پر واقع نہ ہوگا جو تم میں گنہگار ہیں۔ اور جان رکھو کہ خدا سخت عذاب دینے والا ہے۔

فتنے کا وبال عام ہے : آیت 25: وَاتَّقُوْا فِتْنَۃً (اور تم ایسے وبال سے بچو) عذاب، لَّا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْکُمْ خَآ صَّۃً (جو خاص انہی لوگوں پر واقع نہ ہوگا جو تم میں ان گناہوں کے مرتکب ہوتے ہیں) یہ جواب امر ہے یعنی اگر وہ عذاب تمہیں پہنچے گا تو فقط ظالموں کو ہی نہیں پہنچے گا بلکہ سبکو عام ہوگا۔ جواب امر میں تاکید کا نون داخل کرنا درست ہے۔ کیونکہ اس میں نہی کا معنی ہے۔ جیسا تم کہو انزل عن الدابۃ لا تطرحک اور لا تطرحنَّک بھی درست ہے منکم میں من تبعیض کیلئے ہے۔ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ (اور جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والا ہے) جب وہ سزا دیتا ہے۔
Ayah 8:26

وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ اَنْتُمْ قَلِیْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِی الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ یَّتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَاٰوٰىكُمْ وَ اَیَّدَكُمْ بِنَصْرِهٖ وَ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 8:26 in the Quran reader

اور (اس وقت کو) یاد کرو جب تم زمین (مکہ) میں قلیل اور ضعیف سمجھے جاتے تھے اور ڈرتے رہتے تھے کہ لوگ تمہیں اڑا (نہ) لے جائیں (یعنی بےخانماں نہ کریں) تو اس نے تم کو جگہ دی اور اپنی مدد سے تم کو تقویت بخشی اور پاکیزہ چیزیں کھانے کو دیں تاکہ (اس کا) شکر کرو۔

سابقہ حالت کو یاد رکھو تاکہ شکریہ کی توفیق ہو : آیت 26: وَاذکُرُوْٓٓا اِذْ اَنْتُمْ قَلِیْلٌ (اور اس حالت کو یاد کرو جبکہ تم قلیل تھے) اذانتم قلیلمفعول بہٖ ہے ظرف نہیں۔ یعنی اذکروا وقت کو نکم اقلۃ اذلۃً اپنی قلت و کمزوری کے وقت کو یاد کرو۔ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِی الْاَرْضِ (زمین میں کمزور شمار کئے جاتے تھے) ہجرت سے قبل سرزمین مکہ میں قریش نے تمہیں کمزور بنا رکھا تھا۔ تَخَافُوْنَ اَنْ یّتَخَطَّفَکُمُ النَّاسُ (اور تم اس اندیشہ میں رہتے تھے کہ کہیں لوگ تمہیں اچک نہ لیں) کیونکہ وہ لوگ مسلمانوں کے مخالف اور دشمن تھے۔ فَاٰ وٰکُمْ (پھر اس نے رہنے کی جگہ دی) مدینہ میں وَ اَیَّدَکُمْ بِنَصْرِہٖ (اور تم کو اپنی نصرت سے قوت دی) انصار کی پشت پناہی کے ذریعہ اور بدر کے دن ملائکہ کو بھیج کر وَرَزَقَکُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ (اور تم کو نفیس نفیس چیزیں عنایت فرمائیں) اموال غنیمت جو تم سے پہلے کسی کے لئے حلال نہ ہوئے تھے۔ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ (تاکہ تم شکر کرو) ان نعمتوں کا۔
Ayah 8:27

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 8:27 in the Quran reader

اے ایمان والو ! نہ تو خدا اور رسول کی امانت میں خیانت کرو اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔ اور تم (ان باتوں کو) جانتے ہو۔

اللہ کے حقوق میں خلل مت ڈالو : آیت 27: یٰٓاَیـُّـھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا لَاتَخُوْنُوا اللّٰہ َ ۔ (اے ایمان والو تم اللہ کے حقوق میں خلل مت ڈالو) اس کے فرائض کو معطل کر کے۔ وَالرَّسُوْلَ (رسول کے) اور رسول کے طریقہ کو نہ اپنا کر۔ وَتَخُوْنُوْٓا اَمٰنٰتِکُمْ (اور اپنی قابل حفاظت چیزوں میں مت خلل ڈالو) نحو : اس پر جزم لا تخونوا پر عطف کی وجہ سے ہے ای لا تخونوا۔ اپنے مابین اس طرح کہ ان کی حفاظت نہ کرو۔ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ (اور تم تو جانتے ہو) نمبر 1۔ اس کا انجام اور وبال نمبر 2۔ حالانکہ تم جانتے ہو کہ تم خیانت کررہے ہو۔ مطلب یہ ہے خیانت تم سے جان بوجھ کر پائی جائے بھول کر نہیں۔ نمبر 3۔ تم علماء ہو اچھی چیز کے حسن اور قبیح کی قباحت سے واقف ہو۔ الخون کمی کرنا۔ جیسا الوفاء کا معنی پورا کرنا۔ اور اسی سے تخونہٗ اذا انتقصہٗ بولتے ہیں۔ پھر یہ امانت و وفاء کے عکس کے طور پر استعمال ہونے لگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی کی خیانت کرنے سے کسی کی چیز میں نقصان داخل کردیا جاتا ہے۔
Ayah 8:28

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 8:28 in the Quran reader

اور جان رکھو کہ تمہارا مال اور اولاد بڑی آزمائش ہے۔ اور یہ کہ خدا کے پاس (نیکیوں) کا بڑا ثواب ہے۔

مال و اولاد باعث آزمائش : آیت 28: وَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَا اَمْوَالُکُمْ وَاَوْلَادُ کُمْ فِتْنَۃٌ (اور تم جان لو کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد فتنہ ہے) یعنی فتنہ میں پڑنے کے اسباب میں سے ہیں۔ فتنہ گناہ اور عذاب دونوں کو کہتے ہیں۔ نمبر 2۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے امتحان تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم کس طرح اس کی حدود کی نگہبانی کرتے ہو۔ وَّاَنَّ اللّٰہَ عِنْدَہٗ اَجْرٌ عَظِیْمٌ (اور اس بات کو بھی جان لو کہ اللہ تعالیٰ کے پاس بڑا بھاری اجر ہے) پس تمہارا فرض بنتا ہے کہ اس کی طلب میں حرص کرو اور دنیا میں زہد اختیار کرو۔ اور حب اولاد اور جمع اموال کی حرص میں نہ پڑو۔
Ayah 8:29

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَتَّقُوا اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا وَّ یُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 8:29 in the Quran reader

مومنو ! اگر تم خدا سے ڈرو گے تو وہ تمہارے لئے امر فارق پیدا کر دے گا (یعنی تم کو ممتاز کر دے گا) اور تمہارے گناہ مٹا دیگا اور تمہیں بخش دے گا۔ اور خدا بڑے فضل والا ہے۔

تقویٰ سے حق و باطل کی پہچان رہے گی : آیت 29: یٰٓاَیـُّـھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا اِنْ تَتَّقُوا اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّکُمْ فُرْقَانًا (اے ایمان والو اگر تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو گے تو اللہ تعالیٰ تم کو ایک فیصلہ کی چیز دیگا) مدد۔ نمبر 1۔ کیونکہ وہ حق و باطل میں فرق کرنے والی ہے۔ باطل پرستوں کو ذلیل کر کے اور اہل اسلام کو عزت دیکر۔ نمبر 2۔ وضاحت اور ظہور ہے جس سے تمہارا معاملہ مشہور ہوجائے گا۔ اور تمہاری شہرت اور آثار زمین کے اطراف میں پھیل جائیں گے۔ جیسا کہا جاتا ہے۔ سطع الفرقان جبکہ فجر طلوع ہو نمبر 3۔ شبہات سے نکلنے کی راہ اور شرح صدر نمبر 3۔ تمہارے اور غیر مسلموں کے درمیان جدائی اور دنیا و آخرت میں مراتب۔ وَّیُکَفِّرْ عَنْکُمْ سَیِّـٰـاتِکُمْ (اور تم سے تمہارے گناہ دور کر دے گا) صغیرہ گناہ وَیَغْفِرْلَکُمْ (اور تم کو بخش دے گا) تمہارے گناہ یعنی کبائر وَاللّٰہُ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِیْمِ (اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل والا ہے) اپنے بندوں پر۔
Ayah 8:30

وَ اِذْ یَمْكُرُ بِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِیُثْبِتُوْكَ اَوْ یَقْتُلُوْكَ اَوْ یُخْرِجُوْكَ١ؕ وَ یَمْكُرُوْنَ وَ یَمْكُرُ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الْمٰكِرِیْنَ Open ayah 8:30 in the Quran reader

اور (اے محمد ﷺ ! اس وقت کو یاد کرو) جب کافر لوگ تمہارے بارے میں چال چل رہے تھے کہ تم کو قید کردیں یا جان سے مار ڈالیں یا (وطن سے) نکال دیں تو (ادھر تو) وہ چال چل رہے تھے اور (ادھر) خدا چال چل رہا تھا اور خدا سب سے بہتر چال چلنے والا ہے۔

کفارِ قریش کی تدابیر : آیت 30: وَاِذْ یَمْکُرُبِکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا (اور اس واقعہ کو یاد کرو جبکہ کافر لوگ آپ کی نسبت تدبیریں سوچ رہے تھے) جب اللہ تعالیٰ نے مکہ کو فتح کروایا تو قریش کی حیلہ بازیوں کا ذکر کیا جو مکہ میں انہوں نے کیں تاکہ انکی فریب کاریوں سے نجات پانے پر آپ شکریہ ادا کریں اور ان پر جو غلبہ عنایت فرمایا اس پر شکر بجا لائیں۔ مطلب یہ ہے اس وقت کو یاد کرو جب تمہارے خلاف وہ خفیہ تدابیر کر رہے تھے۔ معاملہ کچھ اس طرح ہے کہ جب انصار نے اسلام قبول کرلیا۔ تو قریش کو خطرہ ہوا کہ آپ کا معاملہ مضبوط ہوجائیگا۔ دارالندوہ کا اجلاس : چناچہ انہوں نے دارالندوہ میں آپ کے متعلق مشورہ کیلئے میٹنگ بلائی۔ ابلیس ان کے پاس ایک شیخ کی صورت میں آیا اور کہنے لگا میں نجد کا ایک شیخ ہوں۔ جب میں مکہ میں داخل ہوا تو مجھے تمہارے اجتماع کا علم ہوا۔ میں نے اس میں حاضری کا فیصلہ کرلیا، میں رائے اور خیر خواہی میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھوں گا۔ میٹنگ شروع ہوئی ابوالبختری نے کہا اس کو ایک گھر میں بند کر کے بیٹریوں میں جکڑ دو اور روشندان کے علاوہ اس کمرے کے تمام دروازے بند کرو۔ وہاں کھانا پینا دو اور اس کے متعلق حوادث کا انتظار کرو۔ ابلیس ؔ نے کہا یہ بدترین رائے ہے اس کی قوم کے لڑاکے جمع ہو کر تمہارے ہاتھوں سے چھڑوالیں گے۔ ہشام بن عمرو نے کہا اس کو ایک اونٹ پر سوار کر کے مکہ سے نکال دو ۔ باہر جو کرے تمہیں کچھ نقصان نہ ہوگا۔ اور تم آئے روز کی پریشانی سے چھٹکارا پالوگے۔ ابلیس ؔ: یہ بھی بدترین رائے ہے۔ تمہارے علاوہ دوسری قوم کو بگاڑ کر تمہارے خلاف لڑے گا۔ ابو جہل عمرو بن ہشام نے کہا ہر قبیلہ سے ایک نوجوان لو وہ تلوار لے کر اس کا گھیرائو کریں اور یکبارگی وار کر کے اس کا کام تمام کردیں۔ تمام قبائل میں اس کا خون تقسیم ہوجائیگا۔ بنو ہاشم تمام قریش سے لڑائی کی طاقت نہیں رکھتے مجبوراً دیت لینے پر آمادہ ہوجائیں گے۔ اور ہم اس سے چھوٹ بھی جائیں گے۔ ابلیس لعین نے کہا اس نے سچ کہا ہے اس کی رائے سب سے عمدہ ہے۔ ابوجہل کی رائے پر اتفاق ہوگیا۔ آپ کے قتل کی بات طے پاگئی۔ جبرئیل (علیہ السلام) نے آکر رسول ﷺ کو اطلاع دی اور کہا کہ آج رات آپ اپنے بستر پر نہ سوئیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہجرت کی اجازت دی۔ آپ نے علی ؓ کو بستر پر سونے کا حکم دیاوہ آپ کے بستر پر سوگئے اور آپ کے حکم سے آپکی چادر اوپر اوڑھ لی۔ آپ نے ان کو تسلی دی کہ تمہیں کوئی ناگوار معاملہ پیش نہ آئے گا۔ مشرکین نے رات آپکی گھات میں گزار دی۔ صبح آپ کے بستر کو دیکھا تو علی ؓ کو بیدار ہوتے پایا۔ وہ ششد ررہ گئے اللہ تعالیٰ نے ان کی کوشش ناکام کردی۔ پھر انہوں نے آپ کے نشان ہائے قدم کا پیچھا کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس تدبیر کو بھی ناکام بنادیا۔ لِیُثْبِتُوْکَ (کہ آپ کو قید کرلیں) آپ کو قید کر کے باندھ دیں۔ اَوْیَقْتُلُوْکَ (یا آپ کو قتل کر ڈالیں) اپنی تلواروں کے ذریعہ اَوْیُخْرِجُوْکَ (یا آپ کو نکال باہر کریں) مکہ مکرمہ سے وَیَمْکُرُوْنَ (اور وہ تو اپنی تدبیریں کر رہے تھے) خفیہ تدابیر آپ کے متعلق بنا رہے تھے۔ وَیَمْکُرُاللّٰہُ (اور اللہ تعالیٰ اپنی تدبیر کر رہے تھے) اللہ تعالیٰ نے جو ان کے لئے مخفی تیار کیا ہے۔ وہ اچانک ان کو آلے گا۔ وَاللّٰہُ خَیْرُ الْمَاکِرِیْنَ (اور سب سے زیادہ مستحکم تدبیر والا اللہ ہے) اس کی تدبیر دوسروں کی تدبیر سے زیادہ اثر و نفوذ رکھتی ہے۔
Ayah 8:31

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا قَالُوْا قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَآءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هٰذَاۤ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 8:31 in the Quran reader

اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں (یہ کلام) ہم نے سن لیا ہے۔ اگر ہم چاہیں تو اسی طرح کا (کلام) ہم بھی کہہ دیں۔ اور یہ ہے ہی کیا ؟ صرف اگلے لوگوں کی حکایتیں ہیں۔

آیت 31: آپ ﷺ قرآن پڑھتے اور اپنی قراءت میں گزشتہ زمانے کے واقعات ذکر کرتے۔ ایک دن نضر بن حارث کہنے لگا اگر میں چاہوں تو ایسے واقعات بیان کرسکتا ہوں۔ یہ فارس کے سفر میں رستم، اسفند یار اور عجمیوں کے قصے لے کر آتا اور لوگوں کو سناتا اس پر یہ آیت اتری۔ قرآن کے متعلق کفار کا تا ثر : وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْھِمْ ٰایٰتُنَا (اور جب ان کے سامنے ہماری آیات پڑھی جاتی ہیں) یعنی قرآن قَالُوْا قَدْ سَمِعْنَا لَوْنَشَآئُ لَقُلْنَا مِثْلَ ھٰذَآ اِنْ ھٰذَآ اِلَّآ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ (تو وہ کہتے ہیں سن لیا۔ اگر ہم ارادہ کریں تو ایسا ہی ہم بھی کہہ سکتے ہیں یہ تو کچھ بھی نہیں صرف بےسند باتیں ہیں جو پہلوں سے منقول چلی آرہی ہیں) یہ ان کی ڈھٹائی اور بےحیائی تھی کیونکہ انہوں نے ایک سورت قرآن کی مثل لانے کا دعویٰ کیا مگر لا نہ سکے۔
Ayah 8:32

وَ اِذْ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 8:32 in the Quran reader

اور جن انہوں نے کہا کہ اے خدا اگر یہ (قرآن) تیری طرف سے برحق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی اور تکلیف دینے والا عذاب بھیج۔

جو مانگا وہ مل گیا : آیت 32: وَاِذْ قَالُوا اللّٰھُمَّ اِنْ کَانَ ھٰذَا (اور جب ان لوگوں نے کہا اے اللہ اگر یہ) یعنی قرآن ھُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِکَ (آپ کی جانب سے حق ہی ہے) نحو : ہذا۔ کان کا اسم ہے ہو، ضمیر فصل ہے اور الحق خبر کان ہے۔ روایت میں ہے نضر نے جب کہا : ان ھٰذا الا اساطیر الاولین۔ تو نبی اکرم ﷺ نے اس کو فرمایا افسوس ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ نضر نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور کہنے لگا : اِنْ کَانَ ہٰذَا ہُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِکَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَۃً مِّنَ السَّمَآ ئِ (تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دیجئے) یعنی اگر قرآن برحق ہے تو سزا کے طور پر ہم کو پتھروں سے سزا دے جیسا کہ اصحاب فیل کے ساتھ کیا۔ اَوِائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ (یا ہم پر کوئی دردناک عذاب و اقع کر دیجئے) عذاب الیم کی اور کسی جنس سے عذاب دے۔ چناچہ وہ بدر کے روز فی النار والسقرہوا۔ نکتہ : حضرت معاویہ ؓ نے سباء کے رہنے والے ایک شخص کو کہا۔ تمہاری قوم کتنی جاہل ہے کہ انہوں نے عورت کو حکمران بنایا۔ اس نے کہا میری قوم سے تمہاری قوم بڑی جاہل ہے کہ جب رسول ﷺ نے ان کو حق کی طرف بلایا تو جواباً کہنے لگے ان کان ہذا ھوالحق من عندک فامطر علینا حجارۃ من السماء۔ تمہاری قوم نے یہ نہیں کہا ان کان ھذا ہو الحق فاہد نالہ۔
Ayah 8:33

وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیْهِمْ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ Open ayah 8:33 in the Quran reader

اور خدا ایسا نہ تھا کہ جن تک تم ان میں تھے انہیں عذاب دیتا۔ اور نہ ایسا تھا کہ وہ بخش مانگیں اور انہیں عذاب دے۔

ہجرت تک عذاب رکا رہا : آیت 33: وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیُعَذِّ بَھُمْ وَاَنْتَ فِیْھِمْ (اور اللہ ایسا نہیں کریگا کہ ان کے اندر آپ کے موجود ہوتے ہوئے ان کو عذاب دے) اس میں لام نفی تاکید کیلئے ہے۔ اس میں یہ دلالت ہے کہ جب تک آپ ان میں اقامت پذیر ہیں ان کو عذاب نہ دیا جائے گا کیونکہ آپ کو رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا گیا اور اللہ تعالیٰ کا طریقہ سابقہ امم میں یہ چلا آرہا ہے کہ کسی قوم کو استیصال کا عذاب اس وقت نہیں دیا جاتا جب تک انکا پیغمبران میں موجود ہو۔ اس سے یہ اشارہ مل رہا ہے کہ پیغمبر ﷺ کے ہجرت کرنے تک عذاب ان سے رکا ہوا ہے۔ وَمَاکَانَ اللّٰہُ مُعَذِّبَھُمْ وَھُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ (اور اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دینے والا نہیں ایسی حالت میں کہ وہ استغفار بھی کرتے رہتے ہیں) یہ موضع حال میں ہے اس کا معنی ان سے استغفار کی نفی ہے۔ یعنی نمبر 1: کہ اگر یہ ان لوگوں میں سے ہوتے جو ایمان لاتے اور کفر سے استغفار کرتے تو ان کو اللہ تعالیٰ عذاب نہ دیتے۔ نمبر 2۔ اللہ تعالیٰ ان کو اس وقت تک عذاب دینے والے نہیں جب تک ان میں استغفار کرنے والے موجود ہیں۔ اور وہ مسلمان ہیں جو مکہ میں موجود تھے اور کمزوری کی وجہ سے ہجرت نہ کرسکے۔
Ayah 8:34

وَ مَا لَهُمْ اَلَّا یُعَذِّبَهُمُ اللّٰهُ وَ هُمْ یَصُدُّوْنَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ مَا كَانُوْۤا اَوْلِیَآءَهٗ١ؕ اِنْ اَوْلِیَآؤُهٗۤ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 8:34 in the Quran reader

اور (اب) انکے لئے کونسی وجہ ہے کہ وہ انہیں عذاب نہ دے جبکہ وہ مسجد محترم (میں نماز پڑھنے) سے روکتے ہیں ؟ اور وہ اس مسجد کے متولی بھی نہیں۔ اس کے متولی صرف پرہیزگار ہیں۔ لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے۔

قریش مستحق عذاب ہوچکے : آیت 34: وَمَا لَھُمْ اَلَّا یُعَذِّ بَھُمُ اللّٰہُ (اور ان کا کیا استحقاق کہ اللہ تعالیٰ ان کو سزا نہ دے) یعنی اللہ تعالیٰ ان کو آپ کے ہوتے ہوئے عذاب نہ دیں گے۔ بلکہ جب آپ جدا ہوجائیں گے ان کو عذاب دیا جائے گا۔ اور ان کو اللہ تعالیٰ عذاب کیوں نہ دے۔ وَھُمْ یَصُدُّوْنَ عَنِ الْمَسْجِدَ الْحَرَامِ (حالانکہ وہ مسجد حرام سے روکتے ہیں) ان کو کیسے عذاب نہ دیا جائے جبکہ ان کی حالت یہ ہے کہ وہ لوگوں کو مسجد حرام سے روکتے ہیں۔ جیسا انہوں نے حدیبیہ والے سال آپ کو روک لیا اور آپ ﷺ اور مومنوں کو مسجد حرام سے نکال دیا۔ بلکہ وہ تو بڑے فخر سے کہتے ہم بیت اللہ کے متولی ہیں جس کو ہم چاہیں روکیں اور جس کو چاہیں داخل کریں۔ ان کو کہا گیا وَمَا کَانُوْٓا اَوْلِیَآئَ (حالانکہ وہ لوگ اس مسجد کے متولی نہیں) تم بیت اللہ کے متولی کس طرح ہو ایک تو تم مشرک ہو اور دوسری طرف حرم کے متولیوں سے عداوت پر تلے ہوئے ہو۔ اِنْ اَوْلِیَآؤُہٗ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ (اس کے متولّی تو سوائے متقیوں کے اور کوئی لوگ نہیں) نمبر 1: مسلمانوں میں سے نمبر 2۔ دونوں ضمائر اللہ تعالیٰ کی طرف راجع ہیں۔ کہ یہ مشرک اللہ تعالیٰ کے اولیاء نہیں اللہ تعالیٰ کے اولیاء تو متقین ہیں۔ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَھُمْ لَایَعْلَمُوْنَ (لیکن ان میں اکثر لوگ علم نہیں رکھتے) اس کو نہیں جانتے گویا یہ مستثنیٰ کیا اس میں سے جو جانتے اور عناد کرتے ہیں۔ نمبر 2۔ اکثر سے تمام مراد ہیں۔ جیسا کہ کبھی قلت سے عدم مراد لیتے ہیں۔