Ayah 7:1آیت 1: الٓمٓصٓٓ (اللہ تعالیٰ اس کی مراد جانتے ہیں) زجاج (رح) نے فرمایا کہ اس کی تفسیر میں حضرت ابن عباس ؓ کا قول پسندیدہ ہے۔ انا اللّٰہ اعلم و افضل۔ میں ہی اللہ سب کچھ جاننے والا اور سب سے زیادہ عظمت والا ہوں۔
Ayah 7:2آیت 2: کِتٰبٌ (یہ ایک کتاب ہے) یہ مبتدا محذوف کی خبر ہے یعنی ھُوَ کِتَابٌوہ کتاب۔ اُنْزِلَ اِلَیْکَ (جو آپ کے اوپر اتاری گئی ہے) یہ کتاب کی صفت ہے کتاب سے مراد سورت ہے۔
تسلیہ رسول اللہ ﷺ کفار کے انکار سے تنگ دل نہ ہوں :
فَلاَ یَکُنْ فِیْ صَدْرِکَ حَرَجٌ مِّنْہُ (آپ کے دل میں اس سے بالکل تنگی نہ ہونی چاہیے) حرج کا معنی شک ہے اور شک کو حرج سے تعبیر اس لیے فرمایا کہ شک کرنے والے کا دل تنگ ہوتا ہے جیسا کہ یقین کرنے والے کے دل میں کشائش ہوتی ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہوا کہ اس کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتارے جانے میں شک نہ کر۔ یا اس کی تبلیغ کے سلسلہ میں تنگی نہیں ہونی چاہیے آپ ﷺ اپنی قوم کی تکذیب اعراض و ایذاء کا خدشہ پا کر ان کے ایذاء سے دل میں تنگی محسوس کرتے تھے۔ اور دل میں اس کے متعلق نشاط پیدا نہیں ہورہی تھی۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو مطمئن فرما کر اس بات کی بالکل پرواہ نہ کرنے کا حکم دیا۔ فلا یکن میں حرج ہی کی نفی فرمائی گئی۔ کیا خوب بلاغت کے ساتھ فرمایا اس کتاب کو ہم نے آپ کی طرف نازل کیا ہے اس کے اتارے جانے کے بعد آپ دل میں تنگی محسوس نہ کریں لِتُنْذِرَبِہٖ (تاکہ اس کے ذریعہ (منکروں) کو ڈرائیں) اس میں لام انزل کے متعلق ہے تقدیر عبارت یہ ہے انزل الیک لانذارک بہ اس کتاب کو آپکی طرف اتارا گیا تاکہ آپ اس کے ذریعہ ڈرائیں۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ لام جو تنذر کا ہے اس کا تعلق لایکن کی نہی سے ہے کیونکہ جب آپ ان سے نہ ڈرائیں گے تو ان کو ڈرائیں گے۔ اور اسی طرح جب ان کو یقین ہوجائے گا کہ یہ کتاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے تو یقین آپ کو نافرمانی سے ڈرانے کے لیے جرأت مند بنا دے گا کیونکہ صاحب یقین بہادر و جراءت مند اور اپنے رب پر توکل کرنیوالا ہوتا ہے۔
نحوی تحقیق :
وَذِکْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ (اور اہل ایمان کیلئے یہ ایک نصیحت ہے) یہ فعل مضمر کا مفعول ہونے کی بناء پر منصوب ہے یعنی تنذربہ و تذکر تذکیرًا تاکہ تم اس کے ذریعہ ڈرائو اور نصیحت کرو خوب نصیحت کرنا۔ اَلذِکْرٰی یہ اسم ہے اور تذکیر مصدر کے معنی میں ہے۔ نمبر 2۔ کتاب پر عطف کی وجہ سے مرفوع ہے۔ یعنی ہو کتابٌ و ذکری للمؤمنین وہ کتاب اور نصیحت ہے ایمان والوں کے لئے۔ نمبر 3۔ مبتداء محذوف کی خبر ہے یعنی وہ مؤمنوں کے لئے نصیحت ہے۔ نمبر 4۔ محل جر میں واقع ہے تنذر کے محل پر عطف کی وجہ سے تقدیر عبارت یہ ہے : للانذار وللذکرٰی انذار کے لئے اور نصیحت کے لئے۔
Ayah 7:3آیت 3: اِتَّبِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ مِّنْ رَّبِّکُمْ (اس پر چلو۔ جو ہدایت تم پر تمہارے رب کی طرف سے اتاری گئی ہے) انزل الیکم سے مراد قرآن و سنت ہے۔ وَلَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ (اور اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر دوسرے رفیقوں کا اتباع مت کرو) ہٖ کی ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹتی ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے سواء۔ اَوْلِیَآئَ یعنی تم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جن و انس شیاطین کی دوستی مت اختیار کرو۔ وہ تمہیں اصنام پرستی، خواہشات پرستی اور بدعات پر آمادہ کریں گے۔ قَلِیْلًا مَّا تَذَکَّرُوْنَ (تم لوگ بہت ہی کم نصیحت مانتے ہو) اس طرح کہ اللہ تعالیٰ کے دین کو تم چھوڑتے ہو اور دوسروں کی اتباع کرتے ہو۔
نحو : قلیلًا پر نصب تذکرون کی وجہ سے ہے یعنی تذکرون تذکرا قلیلًا۔ تم بالکل تھوڑی سی نصیحت مانتے ہو۔ ماؔ قلت کی تاکید کے لیے بڑھایا گیا۔ قراءت : شامی نے تتذکرون پڑھا ہے۔
Ayah 7:4نحوی تحقیق :
آیت 4: وَکَمْ مِّنْ قَرْیَۃٍ اَھْلَکْنٰھَا (اور بہت بستیوں کو ہم نے تباہ کردیا) کَمْ مبتداء ہے اَھْلَکْنٰھَا اس کی خبر ہے مِّنْ قَرْیَۃٍ ۔ من بیانیہ کم خبریہ کی تمییز پر لایا گیا۔ اھلکنٰھا سے ارادئہ ہلاک مراد ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام میں ارشاد ہے : اِذَا قُمْتُمْ اِلَی الصّلٰوۃِ فَاغْسِلُوْا ( المائدہ : 6) میں ارادئہ قیام کو قیام فرمایا گیا۔ فَجَآ ئَ ھَا اس کے رہنے والوں پر آیا۔ بَاْسُنَا ہمارا عذاب بَیَاتًایہ مصدر ہے جو حال کی جگہ واقع ہوا ہے۔ اس کا معنی بائتین ہے۔ جیسے کہا جاتا ہے بات بیاتا حسناً اس نے خوب رات گزاری اَوْ ھُمْ قَآپلُوْنَیہ بیاتًا پر عطف کی وجہ سے حال ہے گویا تقدیر عبارت یہ ہے فجاء ھم باسنا بائتین اوقائلین (ان پر ہمارا عذاب رات کے وقت پہنچایا ایسی حالت میں کہ دوپہر کے وقت وہ آرام میں تھے) پس ان پر ہمارا عذاب اس حالت میں آیا کہ وہ سو رہے تھے یا قیلولہ کر رہے تھے۔
ایک سوال کا جواب :
سوال : ھُمْ قَآپلُوْنَکو بغیر وائو کے ذکر کیا گیا۔ جبکہ اہل عرب کے ہاں جاءنی زید ہو فارس بغیر وائو کے نہیں لائے۔
جواب : جب پہلے حال پر عطف کیا جائے تو وائو کو حذف کردیا جاتا ہے تاکہ دو حروف عطف کا اجتماع لازم نہ آئے۔ کیونکہ وائو حالیہ وہ حقیقۃً وائو عاطفہ ہے جو وصل کے لئے عاریۃً استعمال کی گئی ہے۔
ایک اور سوال :
سوال : ان دو اوقات کو عذاب کے ساتھ خاص کرنے کی وجہ کیا ہے ؟
جواب : یہ غفلت کے وقت ہیں پس ان میں عذاب کا نزول زیادہ شدید و سخت ہوتا ہے۔ جیسا کہ قوم لوط کو رات سحری کے وقت ہلاک کیا گیا۔ اسی طرح قوم شعیب کو دوپہر کے وقت قیلولہ کی حالت میں ہلاک کیا گیا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ بیاتاً کا معنی رات کو سونے کی حالت ہے۔ یا دن کو قیلولہ کی حالت۔
Ayah 7:5مقدماتِ عذاب کے وقت اعتراف جرم :
آیت 5: فَمَاکَانَ دَعْوٰھُمْ ان کی گڑگڑاہٹ اور پکار اِذْجَآ ئَ ھُمْ بَاْسُنَآ (پس جس وقت ان پر ہمارا عذاب آیا۔ اس وقت ان کے منہ سے کوئی بات نہ نکلی تھی) جب ان پر مقدمات عذاب اترے۔ اِلَّآ اَنْ قَالُوْٓا اِنَّا کُنَّا ظٰلِمِیْنَ (سوائے اس کے کہ بیشک ہم ظالم تھے) انہوں نے اپنے نفسوں پر ظلم و شرک کا اعتراف کیا۔ جبکہ اس کا کوئی فائدہ نہ تھا۔
نحو : دَعْوٰھُمْ یہ کَانَ کا اسم ہے اور اَنْ قَالُوْٓا اس کی خبر ہے اور اس کا عکس بھی جائز ہے۔
Ayah 7:6قیامت کی مسئولیت برائے توبیخ :
آیت 6: فَلَنَسْئَلَنَّ الَّذِیْنَ اُرْسِلَ اِلَیْھِمْ (پھر ہم ان لوگوں سے ضرور پوچھیں گے جن کے پاس پیغمبروں کو بھیجا گیا تھا) اُرْسِلَ کا اسناد اِلَیْہِمْ کی طرف ہے مطلب یہ ہوا فلنسألن المرسل الیھم وھم الامم۔ ہم ضرور امتوں سے سوال کریں گے کہ انہوں نے رسولوں کو کیا جواب دیا۔ وَ لَنَسْئَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَ (اور پیغمبروں سے بھی ضرور پوچھیں گے کہ) ان کو کیا جواب ملا۔
Ayah 7:7آیت 7: فَلَنَقُصَّنَّ عَلَیْھِمْ (پھر چونکہ ہم پوری خبر رکھتے ہیں۔ ان کے سامنے بیان کردیں گے) رسولوں اور امتوں پر جو ان کی طرف سے پیش آیا۔ بِعِلْمٍ ہم ان کے احوال ظاہرہ و باطنہ اور اقوال و افعال سے بخوبی واقف ہیں۔ وَّ مَاکُنَّا غَآپبِیْنَ (اور ہم بیخبر نہ تھے) ان سے جو ان کی طرف سے پایا گیا۔ یہ سوال صرف تو بیخ و خبر دار کرنے اور پختہ کرنے کیلئے ہوگا۔ جبکہ وہ زبانوں سے خوداقرار کرلیں گے۔ اور انبیاء ان کے متعلق گواہی دے دیں گے۔
Ayah 7:8وزن اعمال اظہار انصاف اور قطع معذرت کیلئے ہے :
آیت 8: وَالْوَزْنُ یَوْمَپذِ ڑ (اور ٹھیک ٹھیک تول اس روز ہوگی) وزن اعمال اور ہلکے بھاری کا فرق۔
نحو : یہ مبتدا ہے اور یومپذ اس کی خبر ہے مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس دن امتوں اور رسولوں سے پوچھیں گے جملہ کو حذف کر کے اس کی جگہ تنوین لائے۔ الْحَقُّ عدل یہ وزن کی صفت ہے۔ اقوال نمبر 1۔ ایک ایسے میزان کے ساتھ جس کی زبان اور دو پلڑے ہونگے اظہار انصاف اور قطع معذرت کے لئے صحائف اعمال کا وزن کیا جائے گا۔ نمبر 2۔ یہ برابر فیصلے اور عادلانہ حکم کی تعبیر ہے اللہ تعالیٰ کو اس کی کیفیت کا علم ہے۔ فَمَنْ ثَقُلتْ مَوَازِیْنُہٗ (پس جن لوگوں کے پلڑے بھاری ہونگے) جمع میزان یا موزون ہے یعنی جس کے تولے جانے والے اعمال بھاری اور قدر والے ہیں اور ایسے اعمال تو اعمال صالحہ ہی ہیں۔ فَاُولٰٓپکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ (تو ایسے لوگ ہی کامیاب ہونگے) پس یہی لوگ فلاح پائیں گے۔
Ayah 7:9خفت وزن :
آیت 9: وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُہٗ (اور جن کے پلڑے ہلکے ہونگے) وہ کفار ہیں ان میں ایمان ہی نہیں۔ کہ جس کے ساتھ عمل معتبر ہوتا۔ ان کے میزان میں خیر نہ ہوگی۔ پس ان کے میزان ہلکے ہونگے۔ فَاُولٰٓپکَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَھُمْ بِمَا کَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَظْلِمُوْنَ ۔ (پس وہ لوگ وہی ہونگے جنہوں نے خود اپنا نقصان کرلیا۔ ہماری آیات کی حق تلفی کرنے کے سبب) یظلمون کا معنی زور سے انکار کرنا۔ آیات سے دلائل مراد ہیں اور آیات سے ظلم کا مطلب ان کو ان کے مقامات سے ہٹانا یعنی انکار کرنا اور ان کو تسلیم نہ کرنا۔
Ayah 7:10انعامات معیشت کا تذکرہ :
آیت 10: وَلَقَدْ مَکَّنّٰکُمْ فِی الْاَرْضِ (اور بیشک ہم نے تم کو زمین پر جمایا) ہم نے اس زمین میں تمہارے لئے جگہ اور ٹھہرنے کا مقام بنایا ہم نے تمہیں اس میں اقتدار دیا اور تصرف پر قدرت دی۔ وَجَعَلْنَا لَکُمْ فِیْھَا مَعَایِشَ (اور ہم نے تمہارے لئے اس میں سامان زندگی پیدا کیا) جمع معیشۃ ہے اس سے مراد وہ چیزیں ہیں جن پر انسانی گزر اوقات ہے مثلاً مطعومات و مشروبات وغیرہ۔
قراءت : معایش میں یا کا ظاہر کرنا اصل ہے کیونکہ یا اصل ہے اس کو صحائف پر قیاس نہیں کرسکتے کیونکہ یا اس میں زائدہ ہے نافع نے ہمزہ پڑھا ہے۔ جیسا کہ صحائف میں پڑھا جاتا ہے۔
قَلِیْلاً مَّا تَشْکُرُوْنَ (تم لوگ بہت ہی کم شکر کرتے ہو) یہ قلیلاً ماتذکرون (الاعراف 3) کی طرح ہے۔
Ayah 7:11تخلیق انسانی کا ذکر :
آیت 11: وَلَقَدْ خَلَقْنٰکُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰکُمْ (اور ہم نے تمہارا اندازہ کیا۔ پھر تمہاری صورت بنائی) ہم نے تمہارے باپ آدم کو پیدا کیا۔ ایسی مٹی سے جس پر تصویر نہ تھی پھر ہم نے ان کی تصویر بنادی۔ اس کی دلیل یہ آیت ہے۔ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلٰٓپکَۃِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْٓ ا اِلَّآ اِبْلِیْسَ لَمْ یَکُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْن (پھر ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو پس سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس کہ وہ سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا) ان میں سے نہ ہوا جو سجدہ کرنے والے تھے۔
Ayah 7:12سوالِ توبیخ :
آیت 12: قَالَ مَا مَنَعَکَ اَلَّا تَسْجُدَ (اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ تو جو سجدہ نہیں کرتا تجھ کو اس سے کونسی بات مانع ہے) مَا، مرفوع ہے اور اَیُّ شَیْئٍ کے معنی میں ہے یعنی تمہیں کس چیز نے سجدہ سے منع کیا ہے اور لا زائدہ ہے اسکی دلیل یہ آیت ہے : مَا مَنَعَکَ اَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِیَدَیَّ 1 (ص : 75) اور اسکی نظیر یہ آیت ہے : لِّئَــلَّا یَعْلَمَ اَہْلُ الْکِتٰبِ (الحدید : 29) ای لیعلم۔ اِذْ اَمَرْتُکَ (جبکہ میں تجھ کو حکم دے چکا) یہ حصہ آیت دلیل ہے کہ امر و جوب کیلئے آتا ہے علم کے باوجود سجدہ نہ کرنے والے سے یہ سوال توبیخ کیلئے ہے اور اس بات کو واضح کرنے کیلئے کہ اس نے معاندت و کفر، تکبر اور اپنے اصل پر فخر اور اصل آدم کی تحقیر کرتے ہوئے یہ حرکت کی تھی۔
شیطانی قیاس اور اس کی غلطی :
قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْہُ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ (کہنے لگا میں اس سے بہتر ہوں۔ آپ نے مجھ کو آگ سے پیدا کیا ہے) وہ نار جو ہر نورانی ہے وَّخَلَقْتَہٗ مِنْ طِیْنٍ (اور اس کو آپ نے خاک سے پیدا کیا ہے) اور وہ ظلماتی ہے اس خبیث نے اس قیاس میں غلطی کی کیونکہ مٹی میں سنجیدگی، وقار ہے اسی سے انسان میں حلم وحیا اور صبر پایا جاتا ہے۔ جو کہ توبہ و استغفار کی طرف لے جانے والا ہے اور آگ میں اضطراب، تیزی، بلند طلبی ہے اور یہی چیز تکبر کی طرف لے جانے والی ہے۔ مٹی ممالک کو پیدا کرنے والی ہے جبکہ آگ ہلاکتوں کو پیدا کرنے والی ہے آگ خیانت کا مرکز اور فناء کا محرک اور مٹی اس کے بالمقابل امانت کی معاون اور نشونما کی معین ہے مٹی آگ کو بجھاتی ہے جبکہ آگ اس کو تلف و ضائع کردیتی ہے۔ یہ مٹی کی فضیلتیں ابلیس کی نگاہ سے اوجھل رہیں۔ یہاں تک کہ اپنے غلط قیاسات کی وجہ سے پھسل گیا۔
تنبیہ : قیاس کی نفی کرنے والوں کا یہ کہنا کہ سب سے پہلا شخص جس نے قیاس کیا وہ ابلیس تھا۔ یہ محض قیاس ہے کیونکہ قیاس کو ثابت کرنے والوں کے ہاں بھی ایسا قیاس جو نص کے مقابلہ میں ہو وہ مردود ہے جبکہ ابلیس کا قیاس امر منصوص کے ساتھ محض عناد تھا۔ مامنعک کا جواب اتنا ہی تھا کہ وہ کہتا مجھے اس چیز نے روکا۔ اس نے کہا میں اس سے بہتر ہوں اس لیے کہ اس نے قصہ دہرایا۔ اور اس میں اپنے بارے میں خبر دی کہ وہ آدم سے افضل ہے اور اپنی فضیلت کے سبب میں اس سے بہتر ہے پس اس ساری بات سے یہ جواب حاصل ہوا۔ گویا اس نے کہا منعنی من السجود فضلی علیہ کہ سجدہ سے مجھے میری فضیلت نے روکا اور اس پر بڑائی نے روکا۔ اور یہ تو حکم الٰہی کا انکار ہے مزید یہ کہ مجھ جیسے کو اس جیسے کیلئے سجدہ کرنا بعید ازعقل ہے کیونکہ فاضل مفضول کو سجدہ نہیں کرتا۔
Ayah 7:13آیت 13: قَالَ فَاھْبِطْ مِنْھَا (اللہ تعالیٰ نے فرمایا تو یہاں سے اترجا) جنت سے یا آسمان سے کیونکہ وہ آسمان میں تھا اور وہ متواضع اور مطیع لوگوں کا مقام ہے فاھبط کی فاؔ، انا خیر کے جواب میں ہے ای ان کنت تتکبر فاھبط۔ اگر تو تکبر کرتا ہے تو اتر جا۔ فَمَا یَکُوْنُ لَکَ (تجھ کو حق نہیں) تیرے لیے صحیح نہیں۔
ذلت لازمہ تکبر ہے :
اَنْ تَتَکَبَّرَ فِیْھَا (کہ تو یہاں رہ کر تکبر کرے) کہ تو نافرمانی کرے۔ فَاخْرُجْ اِنَّکَ مِنَ الصّٰغِرِیْنَ (پس نکل بیشک تو ذلیلوں میں شمار ہونے لگا) اہل ذلت تو اللہ تعالیٰ اور ان کے دوستوں کے ہاں ذلت و رسوائی والوں میں سے ہے۔ ہر انسان تیری مذمت کرے گا۔ اور تکبر کی بنیاد پر ہر زبان تجھے لعنت کرے گی۔
مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ ذلت تکبر کا لازمہ ہے۔
Ayah 7:14مطالبہ مہلت :
آیت 14: قَالَ اَنْظِرْنِیْٓ اِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ (اس نے کہا مجھے اس دن تک چھوٹ دو ۔ جس دن اٹھایا جائیگا) مجھے بعث کے دن تک مہلت دو یہ نفخہ ثانیہ کا وقت ہے۔
Ayah 7:15مہلت کا ملنا :
آیت 15: قَالَ اِنَّکَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَ ۔ (اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تجھ کو مہلت دی گئی) نفخہ اولیٰ تک۔ اس تک اسلئے قبول کرلی گئی کیونکہ اس میں ابتلاء و امتحان ہے اور احباب کے دلوں کو اور قریب کرنے کیلئے ہے کہ یہ میرا سلوک اس سے ہے جو مجھے گالیاں دیتا ہے پس تم اندازہ کرو۔ اس سے کیا سلوک ہوگا۔ جو مجھ سے محبت کرتا ہے شیطان نے سوال کی جسارت اسلئے کی کہ وہ حلم خداوندی سے واقف تھا۔
Ayah 7:16مہلت کے بعد بڑا بول :
آیت 16: قَالَ فَبِمَآ اَغْوَیْتَنِیْ (وہ کہنے لگا اب چونکہ تو نے مجھے گمراہ کر ہی دیا ہے) تو نے مجھے گمراہ کر ہی دیا یعنی تیرے مجھے اغواء کرنے کے سبب سے۔ بِمَا کی باء قسم کے محذوف فعل سے متعلق ہے یا باقسم کے لیے ہے تقدیر عبارت یہ ہے فاقسم باغوائک۔ لَاَ قْعُدَنَّ لَھُمْ صِرَاطَکَ الْمُسْتَقِیمَ (تو میں بھی قسم کھاتا ہوں کہ میں ان کو گمراہ کرنے کیلئے تیرے سیدھے راستہ پر بیٹھوں گا) پس اسلام کے راستہ پر گھات لگا کر واپس لوٹانے کے لیے اور رکاوٹ ڈالنے کیلئے سامنے آئوں گا۔ جیسا کہ دشمن راستہ پر اس لئے بیٹھ جاتے ہیں تاکہ چلنے کے لئے اس کو بند کردیا جائے۔
نحو : صِرَاطَکَ ظرف کی وجہ سے منصوب ہے جیساکہتے ہیں ضرب زیدٌ الظہر۔ ای علی الظہر
لطیفہ : حضرت طائوس مسجد حرام میں تھے ان کے پاس ایک قدری آدمی آیا اور طائوس نے اسے کہا تو خود کھڑا ہوگا یا تمہیں کھڑا کیا جائے ؟ آدمی کھڑا ہوا اس کو کہا گیا تو ایک فقیہ کو اس طرح کہتا ہے تو اس نے کہا ابلیس اس سے بڑا فقیہ تھا۔ اس نے کہا رب بما اغویتنی۔ اور یہ فقیہ کہتا ہے انا اغوی نفسی میرا نفس خود گمراہ ہوتا ہے۔
Ayah 7:17آیت 17: ثُمَّ لَاٰ تِیَنَّھُمْ مِّنْ بَیْنِ اَیْدِیْھِمْ (پھر ان پر حملہ کروں گا ان کے سامنے سے بھی) آخرت کے متعلق ان کو شک میں مبتلا کروں گاوَمِنْ خَلْفِھِمْ (اور ان کے پیچھے سے بھی) میں ان کو دنیا کی رغبت دلائوں گا۔ وَعَنْ اَیْمَانِھِمْ (اور ان کے داہنی جانب سے بھی) نیکیوں کی جانب سے وَعَنْ شَمَآپلِھِمْ (اور ان کے بائیں جانب سے بھی) برائیوں کی طرف سے شمائل جمع شمال ہے۔ مطلب یہ ہے کہ میں ان پر چاروں طرف سے حملہ کروں گا۔ جن سے عموماً دشمن حملہ آور ہوتے ہیں۔ شقیق (رح) کہتے ہیں کہ ہر صبح شیطان چاروں رستوں پر گھات لگا کر بیٹھ جاتا ہے سامنے سے کہتا ہے کہ تو ڈر نہیں اللہ تعالیٰ بخشنے والے ہیں۔ پس میں پڑھ دیتا ہوں وانی لغفار لمن تاب و ٰامن وعمل صالحًا ( طہ۔ 82) نمبر 2۔ پیچھے سے آکر مجھے ڈراتا ہے کہ تیری بیوی بچے ضائع ہوجائیں گے تو میں جواب دیتا ہوں ومامن دابۃ فی الارض الاعلی اللّٰہ رزقھا ( ھود۔ 6) دائیں طرف سے آکر میری تعریف کرتا ہے تو میں کہتا ہوں والعاقبۃ للمتقین ( الاعراف 128) پھر بائیں طرف سے آکر شہوات کی طرف متوجہ کرتا ہے تو میں یہ آیت پڑھتا ہوں وحیل بینھم و بین ما یشتہوں۔ (سبا۔ 54) آیت میں من فوقھم نہیں کہا اور نہ ہی من تحتھم کہا گیا اس لیے کہ اوپر سے اللہ تعالیٰ کی رحمت آتی ہے اور نیچے انسان کو سجدہ میسر ہوتا ہے۔
نحو : اول دونوں میں مِنْ ہے جو ابتدائے غایت کیلئے ہے اور اخیر میں عَنْ ہے جو انحراف کیلئے آتا ہے۔ وَلَا تَجِدُ اَکْثَرَھُمْ شَاکِریْنَ (اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہیں پائیگا) شاکرین سے مراد مومنین ہیں یہ اس نے گمان کے طور پر کہا جیسا ارشاد ہے : ولقد صدق علیھم ابلیس ظنہٗ (سبا : 20) نمبر 2۔ اس نے فرشتوں کی زبان سے سنا۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو مطلع فرمایا۔
Ayah 7:18آیت 18: قَالَ فَاخْرُجْ مِنْھَا (اللہ تعالیٰ نے فرمایا تو یہاں سے نکل جا) جنت سے یا آسمان سے مَذْئُ وْ مًا (عیب دار قرار دیا
ہوا) عیب دار اور برا قرار دیا ہوا۔ یہ ذام سے ہے جو مذمت کے معنی میں ہے حقیر قرار دینا۔ مَّدْحُوْرًا (دھتکارا ہوا) اللہ تعالیٰ کی رحمت سیلَمَنْ تَبِعَکَ مِنْھُمْ (جو شخص ان میں سے تیرا کہنا مانے گا) اس میں لام تمہید قسم کے لیے لائی گئی اور اس کا جواب لَاَمْلَئَنَّ جَھَنَّمَ (میں ضرور تم سے جہنم کو بھر دوں گا) یہ جواب قسم ہے اور جواب شرط کے قائم مقام ہے مِنْکُمْ یعنی منک ومنھم تجھ سے اور ان سے ضمیر مخاطب کو تغلیبًا ذکر کردیا۔ اَجْمَعِیْنَ (یہ تاکید ہے)
Ayah 7:19آدم ( علیہ السلام) کی جنت میں رہائش :
آیت 19: وَیٰٓاٰدَمُ (اور اے آدم) اور ہم نے کہا اے آدم، ابلیس کو جنت سے خارج کردینے کے بعد اسْکُنْ اَنْتَ وَزَوْجُکَ الْجَنَّۃَ (تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو) تم دونوں اس کو اپنا مسکن بنائو۔ فَکُلَا مِنْ حَیْثُ شِئْتُمَا وَلَا تَقْرَ بَاھٰذِہِ الشَّجَرَۃَ فَتَکُوْنَا (پھر جس جگہ سے تم چاہو کھائو مگر دونوں اس درخت کے پاس نہ جانا۔ ورنہ ان لوگوں کے شمار میں آجائو گے) پس تم ہوجائوگے مِنَ الظّٰلِمِیْنَ (جن سے نامناسب کام ہوجایا کرتا ہے)
Ayah 7:20شیطان کی وسوسہ اندازی :
آیت 20: فَوَسْوَسَ لَھُمَا الشَّیْطٰنُ (پھر شیطان نے ان دونوں کے دل میں وسوسہ ڈ الا) وسوسہ خفیہ کلام کو کہتے ہیں۔ اس کو دھرانا۔ یہ وسوس کا لفظ لازم ہے کہتے ہیں رجل موسوس اس کا مفعول موسوس نہیں آتا۔ البتہ لام یا الیٰ کے صلہ کے ساتھ استعمال ہوتا ہے۔ موسوس لہ موسوس الیہ اس شخص کو کہا جاتا ہے۔ جس کی طرف وسوسہ ڈالا جائے۔ وسوس لہ کا مطلب یہ ہوا فعل الوسوسۃ لاجلہٖ ان کی خاطر خفیہ کلام کیا۔ اور وسوس الیہ کا مطلب وہ کلام ان کی طرف ڈالا۔ لِیُبْدِیَ لَھُمَامَا وٗرِیَ عَنْھُمَا مِنْ سَوْٰاتِھِمَا (تاکہ ان کے پردہ کا بدن جو ان دونوں سے اب تک پوشیدہ تھا دونوں کے سامنے ظاہر کر دے) تاکہ ان کے سامنے ان کے وہ ستر ظاہر کر دے جو ان سے چھپے ہوئے تھے۔
: اس سے معلوم ہوا کہ ستر کھولنا بڑا گناہ ہے اور طباع اور عقول صحیحہ میں یہ قبیح سمجھا جاتا رہا ہے۔
سوال : مَاوٗرِیَ کی وائو ھمزہ سے کیوں نہیں بدلی جیسا کہ اویصل جو واصل کی تصغیر ہے اس کی اصل وویصل ہے۔ وائو اول کو ہمزہ سے بدل دیا کیونکہ دو وائو کا اجتماع ناپسند ہے۔
جواب : دوسری وائو مدہ ہے جیسا کہ واری کی الف پس جس طرح واعد میں اس کا ہمزہ گرنا لازم نہیں اسی طرح ووری میں بھی لازم نہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جب دو وائو متحرک ہوں تو ان میں ثقل پیدا ہوجاتا ہے جو اس وقت نہیں ہوتا جبکہ دوسرا ساکن ہو اور یہ ضرورت کا تقاضا ہوتا ہے۔ چناچہ ثقل کے موقع پر اس کا بدلنا لازم کردیا۔ دوسرے موقعہ پر نہیں۔ عبداللہ نے تو اور یقلب سے پڑھا ہے۔ وَقَالَ مَانھٰکُمَا رَبُّکُمَا عَنْ ھٰذِہِ الشَّجَرَۃِ اِلَّآ اَنْ تَکُوْنَا مَلَکَیْنِ (اور کہنے لگا تمہارے رب نے تم دونوں کو اس درخت سے اور کسی سبب سے منع نہیں فرمایا مگر صرف اس وجہ سے کہ دونوں کہیں فرشتے نہ ہوجائو) مگر اس کراہت سے کہ تم دونوں فرشتے بن کر خیر و شر کو جان لو۔ اور غذاء سے مستغنی ہوجائو۔
قراءت : ملِکین پڑھا گیا ہے۔ اس ارشاد کے پیش نظر مُلْکٍ لَّا یَبْلٰی ( طہ : 130) اَوْتَکُوْنَا مِنَ الْخٰلِدِیْنَ (یا کہیں ہمیشہ رہنے والوں میں سے نہ ہوجائو) ان لوگوں میں سے جن پر موت نہیں آئے گی اور جنت میں مقیم رہیں گے۔
Ayah 7:21طریق وسوسہ :
آیت 21: وَقَاسَمَھُمَآ اِنِّیْ لَکُمَا لَمِنَ النّٰصِحِیْنَ (اور ان دونوں کے سامنے قسم کھائی کہ یقین جانئے میں آپ دونوں کا خیر خواہ ہوں) وقاسمہما۔ یعنی ان دونوں کے سامنے قسم کھائی۔ اور کہنے لگا اِنِّی لکما (الایۃ) کہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں۔ یہاں ابلیس کی قسم کو باب مفاعلہ سے ذکر کیا کیونکر اگر وہ قسم اٹھانے والا تھا تو وہ اس کی تصدیق کرنے والے تھے۔ گویا قسم دو طرفہ ہوئی۔
Ayah 7:22اللہ کا نام لے کر دھوکے سے پھل کھلایا :
آیت 22: فَدَلّٰھُمَا (پس وہ ان دونوں کو نیچے لے آیا) درخت سے کھانے کی وجہ ان کو نیچے اتار لایا۔ بِغُرُوْرٍ (دھوکے سے) اس وجہ سے کہ ان کو اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھاکر دھوکہ دیا۔ اور مومن اللہ تعالیٰ کے نام پر دھوکہ کھا جاتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ جو اللہ کے نام سے ہمیں دھوکہ دے گا ہم اس کے دھوکے میں آجائیں گے۔ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَۃَ (جب دونوں نے اس درخت کا مزہ چکھ لیا) دونوں نے اس کا ذائقہ پایا جبکہ اس کو کھانا شروع کیا وہ گندم یا انگور کا خوشہ تھا۔
اعضائے مستورہ کا ظہور :
بَدَتْ لَھُمَا سَوْ ٰاتُھُمَا (تو دونوں کے پوشیدہ اعضاء ایک دوسرے پر بےپردہ ہوگئے) ان دونوں کا ستر ان کے سامنے ظاہر ہوگیا کیونکہ ان کا لباس اچانک اتر گیا۔ وہ اپنے اعضائے مستورہ کو نہ دیکھے ہوئے تھے اور نہ ایک دوسرے کے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ ان کا لباس ناخنوں کی جنس سے تھا۔ یعنی سفیدی ناخنوں جیسی تھی اور انتہائی نرم اور لطیف تھا صرف ناخنوں کے پاس وہ لباس رہ گیا تاکہ نعمت یاد آتی رہے اور احساس شرمندگی تازہ ہوتا رہے۔ وَطَفِقَا (اور دونوں لگے) طفق کا لفظ جب اصل فعل پر داخل ہوتا ہے تو جعل کا معنی دیتا ہے۔ جیسا کہ یہاں ہے یَخْصِفٰنِ عَلَیْھِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّۃِ (اپنے اوپر جنت کے پتے چپکانے) وہ اپنے اعضائے مستورہ پر انجیریا کیلے کے پتے رکھنے لگے اور پتے پر پتہ جوڑنے لگے تاکہ ان سے اعضاء چھپا سکیں جیسا کہ جوتا سیا جاتا ہے۔
عتابِ باری تعالیٰ :
وَنَادٰھُمَا رَبُّھُمَآ اَلَمْ اَنْھَکُمَا عَنْ تِلْکُمَا الشَّجَرَۃِ (اور ان کے رب نے ان کو پکارا، کیا میں تم دونوں کو اس درخت سے منع نہ کرچکا تھا) یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے اور خطاء پر متنبہ کیا گیا روایت میں ہے کہ آدم ( علیہ السلام) کو کہا گیا اے آدم اس درخت کو چھوڑ کر تیرے لیے جنت کے شاندار درخت کافی نہ تھے۔ جو میں نے تجھے عنایت کیے تھے۔ تو آدم ( علیہ السلام) نے جواب دیا کیوں نہیں لیکن اے میرے اللہ مجھے تو گمان تک نہ تھا۔ تیرا جھوٹا نام لے کر کوئی قسم اٹھائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا مجھے اپنی عزت کی قسم میں تجھے زمین پر ضرور اتاروں گا۔ پھر وہاں تجھے گزران زندگی، ہاتھ کی کمائی اور خون پسینے کی محنت سے میسر آئے گی پس تم زمین پر اتر جائو۔ حضرت آدم ( علیہ السلام) کو لوہے کی صنعت سکھلا دی گئی۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین میں فصل بونے کا حکم دیا۔ پس انہوں نے کھیتی بوئی اس کو پانی دیا کاٹا، گا ھیا اور اڑایا پیسا آٹا گوندھا اور روٹی بنائی۔ وَاَقُلْ لَّکُمَآ اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَکُمَا عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ (اور یہ نہ کہہ چکا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے)
Ayah 7:23دُعائے آدم۔ :
آیت 23: قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْلَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ (دونوں کہنے لگے اے ہمارے رب ہم نے اپنا بڑا نقصان کیا۔ اور اگر آپ ہماری مغفرت نہ کریں گے اور ہم پر رحم نہ کریں گے۔ تو واقعی ہمارا بڑا نقصان ہوجائے گا) ۔
مسئلہ : اس میں دلیل ہے کہ اگر صغیرہ گناہ معاف نہ کئے گئے تو سزا ان کی ہوسکتی ہے اور معتزلہ کی تردید ہے کہ ان کے ہاں صغیرہ گناہ معاف نہ بھی ہوں تب بھی ان پر سزا نہیں دی جاسکتی۔
Ayah 7:24آیت 24: قَالَ اھْبِطُوْا (اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم نیچے جائو) یہ جمع کے لفظ سے آدم و حواء کو خطاب ہے کیونکہ ابلیس اتارا گیا اور یہ بھی احتمال ہے کہ وہ آسمان میں اتارا گیا ہو پھر زمین میں تمام اکٹھے اتارے گئے ہوں۔ بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ (ایسی حالت میں کہ تم ایک دوسرے کے دشمن ہوگے) یہ موضع حال ہے یعنی تم دونوں ایک دوسرے سے دشمنی کرنے والے ہوگے اور دونوں سے ابلیس دشمنی کرے گا اور وہ دونوں اس سے دشمنی کریں گے۔ وَلَکُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ (اور تمہارے لئے زمین میں رہنے کی جگہ ہے) ٹھہرنا یا ٹھہرنے کی جگہ وَّمَتَا عٌ زندگی سے نفع اٹھانااِلٰی حِیْنٍ (ایک وقت تک) وقت مقررہ کے اختتام تک۔ ثابت بنانی (رح) سے مروی ہے جب آدم ( علیہ السلام) کو اتارا گیا اور ان کی موت کا وقت آیا تو فرشتوں نے ان کو گھیر لیا۔ حوا ان کے گرد چکر لگانے لگیں تو آدم نے ( علیہ السلام) اسے فرمایا تو مجھے اور میرے رب کے فرشتوں کو چھوڑ دے۔ درمیان سے ہٹ جا۔ بیشک مجھے تیری وجہ سے پہنچا جو پہنچا۔ ( اس سے دنیا کے مصائب مراد لیے جائیں تو مفسر پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا) جب آدم ( علیہ السلام) کی وفات ہوگئی تو فرشتوں نے ان کو بیری کے پتوں والے پانی سے غسل دیا۔ اور ان کو خوشبو لگائی اور طاق عدد کپڑوں میں کفن دیا اور قبر کھود کر ان کے لیے لحد بنائی اور ہند کی سرزمین سرا ندیپ میں ان کو دفن کیا اور ان کے بیٹوں کو خطاب کر کے کہا کہ آئندہ تمہارا یہی طریقہ ہے۔
Ayah 7:25آیت 25: قَالَ فِیْھَا تَحْیَوْنَ (اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم کو وہاں ہی زندگی بسر کرنی ہے) زمین میں وَ فِیْھَا تَمُوْتُوْنَ وَمِنْھَا تُخْرَجُوْنَ ۔ (اور وہاں ہی مرنا ہے اور اسی میں سے پھر پیدا ہونا ہے) ثو اب و عقاب کے لیے۔ قراءت : حمزہ و علی نے تَخْرُجون معروف پڑھا ہے۔
Ayah 7:26سبب لباس پانی آسمان سے اتارا :
آیت 26: یٰبَنِیْٓٓ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَیْکُمْ لِبَاسًا (اے اولاد آدم ہم نے تمہارے لئے لباس پیدا کیا) زمین میں جو کچھ بھی ہے تمام کو منزل من السماء فرمایا کیونکہ ہر چیز کی اصل پانی ہے اور پانی آسمان سے اترتا ہے۔ یُّوَارِیْ سَوْٰاتِکُمْ (جو کہ تمہارے پردہ دار بدن کو بھی چھپاتا ہے) وہ تمہارے ستروں کو چھپاتا ہے۔ وَرِیْشًا (اور زینت کا سبب بھی ہے) لباس زینت۔ یہ ریش الطائر سے بطور استعارہ لیا گیا۔ کیونکہ پر ندے کے پر اس کے لئے زینت اور لباس ہوتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ہم نے تم پر دو لباس اتارے ایک وہ لباس جو تمہارے ستروں کو چھپاتے ہیں دوسرا وہ جو زینت دیتے ہیں۔ وَلِبَاسُ التَّقْوٰی (اور تقویٰ کا لباس) نیکی کا وہ لباس جو عقاب الٰہی سے بچائے۔
نحو و قراءت :
یہ مبتداء ہے اور اس کی خبر ذالک خیر پورا جملہ ہے گویا اس طرح فرمایا : لباس التقوٰی ہو خیر۔ کہ لباس تقویٰ ہی بہتر ہے کیونکہ اسمائے اشارہ ضمائر سے ان چیزوں کو دور کردیتے ہیں جن کا تذکرہ دوبارہ کرنا ہوتا ہے۔ نمبر 2: یا ذلک یہ مبتدا کی صفت ہے اور خیر یہ مبتدا کی خبر ہے پھر عبارت اس طرح ہے لباس التقوی المشار الیہ خیر کہ تقویٰ کا لباس جس کی طرف اشارہ کیا گیا وہ بہت بہتر ہے یا۔ نمبر 3: لباس التقویٰ مبتدا محذوف کی خبر ہے یعنی ہولباس التقوٰی۔ مطلب یہ ہے ستر عورت یہ متقین کا لباس ہے پھر فرمایا یہ بہت بہتر ہے تفسیر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اہل تقویٰ کا لباس اون اور کھردرے کپڑے ہیں۔
قراءت : لباس التقوٰیسین کو فتحہ کے ساتھ لباساً اور ریشاً پر عطف کر کے پڑھا ہے۔ یہ شامی، مدنی، علی قراء کا قول ہے۔ ای وانزلنا علیکم لباس التقوٰی ہم نے تم پر لباس تقویٰ اتارا۔
تخلیق لباس کا ذکر استطراداً ہے :
ذٰلِکَ خَیْرٌ ذٰلِکَ مِنْ ٰایٰتِ اللّٰہِ (یہ اس سے بہتر ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہے) جو کہ اس کے فضل اور اپنے بندوں پر رحمت پر دلالت کرنے والی ہے یعنی لباس کا اتارنا۔ لَعَلَّھُمْ یَذَّکَّرُوْنَ (تاکہ یہ لوگ یاد رکھیں) تاکہ وہ اس میں اس کی عظیم نعمتیں پہچانیں۔ یہ آیت بطور استطراد لائی گئی کیونکہ پہلے ستر کے ظاہر ہوجانے کا تذکرہ اور جنت کے پتے جسم پر لپیٹ لینے کا بیان تھا اس پر اظہار احسان کے لیے تخلیق لباس کا ذکر فرمایا اور اس لیے بھی کہ ننگا ہونا رسوائی ہے اور یہ بتلا دیا کہ ستر تقویٰ ہے۔
Ayah 7:27شیطان تمہارا لباس نہ چھین لے :
آیت 27: یٰبَنِیْٓ اٰدَمَ لَا یَفْتِنَنَّکُمُ الشَّیْطٰنُ کَمَآ اَخْرَجَ اَبَوَیْکُمْ مِّنَ الْجَنَّۃِ (اے اولاد آدم، شیطان تم کو کسی خرابی میں نہ ڈال دے۔ جیسا اس نے تمہارے دادا دادی کو جنت سے باہر کرادیا) ہرگز تم کو دھوکا میں مبتلا نہ کرے اور تمہیں گمراہ نہ کردے۔ تاکہ تم پھر جنت میں نہ جاسکو۔ جیسا کہ تمہارے باپ کو فتنہ میں ڈال کر وہاں سے نکالا تھا۔ یَنْزِعُ عَنْھُمَا لِبَاسَھُمَا (ایسی حالت سے کہ ان کا لباس بھی ان سے اتروا دیا) یہ حال ہے یعنی ان دونوں کو نکلوایا اس حال میں کہ ان کا لباس چھیننے والا تھا۔ وہ اس طرح کہ لباس اتارنے کا یہ سبب بنا۔ اس میں بظاہر نہی شیطان کو ہے مگر حقیقت میں اولاد آدم کو ہے کہ تم شیطان کی اتباع نہ کرنا وہ تمہیں فتنہ میں مبتلا کر دے گا۔ لِیُرِیَھُمَا سَوْٰاتِھِمَا (تاکہ ان کے پردہ کا بدن دکھلائی دینے لگے) ان کے ستر اِنَّہٗ (بیشک وہ) ہٗ ضمیر شان و حدیث ہییَرٰکُمْ ھُوَ (تم کو دیکھتا ہے) یہ نہی کی علت ہے اور اس بات سے ڈرانا مقصود ہے کہ یہ تمہارا دشمنی چھپانے والا دشمن ہے اس کے فتنہ سے بچو۔ وہ ایسا حیلہ کرے گا کہ تم سمجھ بھی نہ سکو گے۔ وَقَبِیْلُہٗ (اور اس کا لشکر) اور اس کی اولاد یا اس کا لشکر جو شیاطین پر مشتمل ہے۔
نحو : اسکا عطف یرٰکم کی ضمیر پر ہے۔ ہو سے اس کی تاکید آرہی ہے۔ اس پر عطف کرنا مقصود نہیں کیونکہ فعل کا معمول ضمیر مستتر ہے۔ نہ کہ یہ بارز۔ اور عطف اسی پر ہے جو فعل کا معمول ہے۔ مِنْ حَیْثُ لَا تَرَوْنَہُمْ (ایسے طور پر کہ تم ان کو نہیں دیکھتے) ۔
مقولہ ذوالنون مصری m :
ذوالنون مصری (رح) فرماتے ہیں کہ اگر وہ تمہیں دیکھتا ہے ایسی جگہ سے جہاں سے تم اس کو نہیں دیکھ سکتے۔ تو اس ذات باری تعالیٰ سے مدد طلب کرو جو اس کو دیکھتا ہے ایسی جگہ سے جہاں سے وہ شیطان نہیں دیکھ سکتا۔ اور ایسی ذات اللہ کریم، ستار، رحیم، و غفار ہی کی ہوسکتی ہے۔ اِنَّا جَعَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآ ئَ لِلَّذِیْنَ لَایُؤْمِنُوْنَ (ہم شیاطین کو انہیں لوگوں کا دوست ہونے دیتے ہیں جو ایمان نہیں لاتے) اس میں دلالت ہے کہ خالق الافعال اللہ تعالیٰ ہی ہیں۔
Ayah 7:28بےحیائی کے کام اشارئہ شیطانی سے ہیں :
آیت 28: وَاِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَۃً (اور وہ لوگ جب کوئی فحش کام کرتے ہیں) فاحشہ سے مراد انتہائی سخت گناہ ہے اور وہ انکا شرک کرنا اور بیت اللہ کا ننگا طواف کرنا ہے۔ قَالُوْا وَجَدْنَا عَلَیْھَآ ٰابَآ ئَ نَا وَ اللّٰہُ اَمَرَنَا بِھَا (تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی راستہ پر پایا ہے اور اللہ تعالیٰ نے بھی ہم کو یہی بتلایا ہے) یعنی جب وہ کرتے ہیں تو اس کا یہ عذر لنگ پیش کرتے ہیں کہ ان کے آبائواجداد ایسا کرتے چلے آئے۔ اور وہ ان کی اقتداء میں کر رہے ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دے رکھا ہے۔ ہمیں اس پر برقرار رکھا ہوا ہے اگر وہ ان کو ناپسند کرتا تو ہم اس کو چھوڑ دیتے۔ اور یہ دونوں باتیں محض باطل ہیں۔ کیونکہ جُہّال کی تقلید بھی جہالت ہے۔ اللہ تعالیٰ ذی الجلال والاکرام پر افتراء ہے۔ قُلْ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآ ئِ (آپ کہہ دیجئے کہ اللہ تعالیٰ فحش بات کی تعلیم نہیں دیتا) اس لے کہ ما موربہ کا حسن ہونا ضروری ہے۔ (جبکہ آمر حکیم ہو) اگرچہ اس میں مراتب ہیں جیسا کہ اصول فقہ میں ہے۔ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَی اللّٰہِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ (کیا تم اللہ تعالیٰ کے ذمے ایسی بات لگاتے ہو جس کی تم دلیل نہیں رکھتے) یہ استفہام انکار اور توبیخ ہے۔
Ayah 7:29مخلصانہ عبادت کرو وہ اعادہ کر کے بدلہ دے گا :
آیت 29: قُلْ اَمَرَ رَبِّیْ بِالْقِسْطِ (آپ کہہ دیجئے کہ میرے رب نے مجھے انصاف کا حکم دیا ہے) قسط کا معنی انصاف ہے۔ انصاف کا اور ہر اس چیز کا جو صحیح عقل والے کے ہاں مستحسن ہے۔ پس وہ کیونکر فحشاء کا حکم دے سکتے ہیں۔ وَاَقِیْمُوْا وُجُوْھَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ (اور یہ کہ تم ہر سجدہ کے وقت اپنا رخ سیدھا رکھا کرو) کہہ دو اقیموا وجوھکم یعنی استقامت کے ساتھ اس کی عبادت کا قصد کرو۔ اور ہر وقت سجود میں اس کے علاوہ کسی اور کی طرف مائل ہونے والے مت بنو۔ یا مسجد سے مکان سجود مراد ہے۔ وَّ ادْعُوْہُ (اور اللہ تعالیٰ ہی کو پکارو) اور اسی ہی کی عبادت کرو۔ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ (اسی طور پر کہ خالص کرنے والے ہو اس کے لئے عبادت کو) یعنی اطاعت کو اس حال میں کہ خالص اس کی رضا مندی چاہنے والے ہو۔ کَمَا بَدَاَکُمْ تَعُوْدُوْنَ (اللہ تعالیٰ نے جس طرح شروع میں پیدا کیا تھا۔ اسی طرح تم دوبارہ پیدا ہوگے) جیسا اس نے پہلی مرتبہ تمہیں پیدا کیا۔ وہ تمہیں لوٹائے گا ابتدائے خلق سے ان کے انکار بعث پر حجت پیش کی گئی مطلب یہ ہے کہ وہ تمہارا اعادہ کر کے تمہارے اعمال کا بدلہ دے گا۔ پس اس کی مخلصانہ عبادت کرو۔
Ayah 7:30ہدایت واضلال اللہ کے پاس ہے :
آیت 30: فَرِیْقًا ھَدٰی (بعض لوگوں کو تو اللہ تعالیٰ نے ہدایت کی ہے) وہ مسلمان ہیں وَفَرِیْقًا (اور بعض پر) یعنی ایک فریق کو گمراہ کیا حَقَّ عَلَیِْھمُ الضَّلٰلَۃُ (گمراہی کا ثبوت ہوچکا ہے) وہ کافر ہیں اِنَّھُمُ (ان لوگوں نے) وہ گروہ جس کے متعلق گمراہی ثابت ہوگئی۔ اتَّخَذُوا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآ ئَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ (شیطانوں کو دوست بنایا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر) یعنی مددگار وََیحْسَبُوْنَ اَنَّھُمْ مُّھْتَدُوْنَ (اور خیال رکھتے ہیں کہ وہ راہ پر ہیں) یہ آیت بھی ہدایت واضلال کے سلسلہ میں معتزلہ کے رد میں ہماری دلیل ہے۔
Ayah 7:31زینت میں اسراف وتکبر سے بچو :
آیت 31: یٰبَنِیْٓ ٰادَمَ خُذُوْا زِیْنَتَکُمْ (اے اولاد آدم تم اپنا لباس پہن لیا کرو) اپنی زینت کا لباس عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ (مسجد کی ہر حاضری کے وقت) جب بھی تم نماز ادا کرو۔ دوسرا قول زینت سے مراد کنگھی، خوشبو ہے مسنون یہ ہے کہ آدمی نماز کے لیے بہت اچھی حالت بنائے۔ کیونکہ نماز رب سے مناجات کا نام ہے پس زینت مستحب ہے اور عطر لگانا بھی جیسا کہ ستر و طہارت فرض ہے۔ وَّ کُلُوْا (اور خوب کھائو) گوشت اور چکناہٹ وَاشْرَبُوْا وَلَا تُسْرِفُوْا (اور پیو۔ اور حد سے مت نکلو) حرام میں شروع ہو کر یا پیٹ بھرنے سے تجاوز نہ کرو۔ اِنَّہٗ لَایُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ (بیشک اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتے حد سے نکلنے والوں کو) حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جو چاہو پیو، جو چاہو کھائو، اور جو چاہو پہنو مگر دو باتوں سے بچو، اسراف اور تکبر سے۔
نکتہ : ہارون الرشید خلیفہ عباسی کا ایک نصرانی طبیب تھا۔ اس نے ایک دن علی بن حسین بن واقد کو کہا تمہاری کتاب میں علم طب کی کوئی چیز نہیں حالانکہ علم دوہی ہیں۔ علم الابدان اور علم الادیان۔ تو علی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ساری طب اپنی کتاب کی آدھی آیت میں جمع کردی اور وہ یہ ارشاد وکلوا واشربوا ولاتسرفوا ہے نصرانی طبیب کہنے لگا تمہارے رسول ﷺ سے طب کی کوئی چیز مروی نہیں تو علی نے جواب دیا ہمارے رسول انے چند الفاظ میں ساری طب جمع کردی اور وہ آپ کا ارشاد ہے المعدۃ بیت الداء والحمیۃ راس کل دواء واعط کل بدن ما عوّدتہ۔ (ابن حجر کہتے ہیں کہ میں نے یہ روایت نہیں پائی (المقاصد 389) تو نصرانی طبیب نے کہا پھر تو تمہاری کتاب اور تمہارے رسول نے جالینوس کے لیے طب نہیں چھوڑی۔
Ayah 7:32تمام حلال زینت مسلمان کے لئے ہے کافر کو تبعاً ملتی ہے :
آیت 32: پھر استفہام انکاری کے طور پر حلال کو حرام قرار دینے پر فرمایا قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَۃَ اللّٰہِ (کہہ دیجئے۔ کس شخص نے حرام کیا ہے اللہ تعالیٰ کی اس زینت کو) یعنی کپڑے اور وہ تمام چیزیں جن سے آدمی خوبصورتی حاصل کرتا ہے۔ الَّتِیْٓ اَخْرَجَ لِعِبَادہٖ (جو اس نے اپنے بندوں کیلئے پیدا کی ہے) یعنی اس کی اصل جیسے روئی زمین سے اور ریشم کیڑوں سے وَالطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ (اور کھانے پینے کی حلال چیزیں) لذیذ کھانے اور پینے کی اشیاء ایک قول یہ بھی ہے کہ جب وہ احرام باندھتے تو بکری اور جو بھی اس کے گوشت سے چربی اور دودھ نکلتا اس کو حرام قرار دیتے تھے۔ قُلْ ھِیَ لِلَّذِیْنَ ٰامَنُوْا فِی الحَیٰوۃِ الدُّنْیَا (آپ کہہ دیجئے۔ یہ چیزیں دنیوی زندگی میں ایمان والوں کے لئے ہیں) ان کے لیے خالص نہیں کیونکہ مشرکین ان چیزوں میں ان کے ساتھ شریک ہیں۔ خَالِصَۃً یَّوْمَ الْقِیٰمَۃِ (خالص ہونگی قیامت کے دن) ان کے ساتھ اور کوئی شریک نہ ہوگا۔ یہاں اس لئے یہ نہیں فرمایا لِلَّذِیْنَ ٰامنوا ولِغَیْرہِمتاکہ بتلادیا جائے کہ یہ اصل میں ایمان والوں کے لیے پیدا کی گئی ہیں اور کفار کو بطور تابع مل رہی ہیں۔
نحوی تراکیب :
نحو : نمبر 1: خالصۃٌ یہ مرفوع ہے نافع نے اسی طرح پڑھا اس صورت میں مبتداء ہے اور اس کی خبر للذین ٰامنوا ہے اور
فی الحیٰوۃ الدنیا خبر کا ظرف ہے۔ یا نمبر 2: خالصۃ یہ خبر ثانی ہے۔ نمبر 3۔ مبتداء محذوف کی خبر ہے۔ دیگر قراء نے حال کی وجہ سے اس کو منصوب پڑھا ہے یہ اس ظرف کی ضمیر سے حال ہے جو ظرف کی خبر ہے ایھی ثابتۃ للذین ٰامنوا فی الحیٰوۃ الدنیا فی حال خلوصھا یوم القیامۃ یعنی وہ ان لوگوں کے لئے ثابت ہے جو ایمان لائے اور دنیا کی زندگی میں اس حال میں کہ وہ خالص ہونگی قیامت کے دن کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الْاٰ یٰتِ (اسی طرح ہم آیات کو صاف صاف بیان کرتے ہیں) ہم حلال و حرام کی تمیز کرتے ہیں۔ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ (سمجھ داروں کیلئے) کہ اس کا کوئی شریک نہیں۔
Ayah 7:33تمام محرمات کی جڑ شرک و فواحش :
آیت 33: قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ (آپ فرما دیں کہ میرے رب نے صرف فحش باتوں کو حرام کیا ہے) حمزہ نے رَبِّی پڑھا ہے۔ الفواحش جس کی قباحت بہت زیادہ ہو۔ مَا ظَھَرَ مِنْھَا وَمَا بَطَنَ (جو ان میں علانیہ ہیں اور وہ بھی جو پوشیدہ ہیں) ان میں جو پوشیدہ وعلانیہ ہیں۔ وَالْاِثْمَ یعنی شرب خمر یا ہر گناہ وَالْبَغْیَ ظلم وتکبر بِغَیْرِ الْحَقِّّ یہ بَغْیِ سے متعلق ہے۔ اور وَاَنْ تُشْرِکُوْا بِاللّٰہِ مَالَمْ یُنَزِّلْ بہٖ سُلْطٰنًا نصب کی دلیل ہے گویا اس طرح فرمایا حرم الفواحش و حرم الشرک کہ اس نے حرام کیا فواحش اور حرام کیا شرک کو۔ یُنْزِل کو تخفیف کے ساتھ مکی، بصری نے پڑھا۔ اس میں تہکم ہے اس لئے کہ یہ بات جائز نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کے ہونے کی کوئی دلیل اتاری جائے۔ وَّ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَی اللّٰہِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ اور یہ کہ اللہ تعالیٰ کے متعلق باتیں بنائو اور تحریم کے جھوٹے افتراء ات باندھو وغیرہ۔
Ayah 7:34کفارِ مکہ کو وعید :
34: وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ اَجَلٌ (ہر گروہ کیلئے ایک میعاد معین ہے) وقت معین ہے جس میں ان پر استیصال والا عذاب آئے گا۔ اگر وہ ایمان نہ لائے اس میں اہل مکہ کیلئے مقرر وقت میں عذاب کے اترنے کی وعید ہے۔ جیسا کہ پہلی امتوں پر اترا۔ فَاِذَا جَآء اَجَلُھُمْ لَایَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَۃً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ (جب ان کی میعاد معین پہنچے گی۔ اس وقت ایک ساعت نہ پیچھے ہٹ سکیں گے اور نہ آگے بڑھ سکیں گے) اس کو ساعت سے مقید کیا گیا۔ مہلت میں سب سے قلیل وقت یہی استعمال کیا جاتا ہے۔
Ayah 7:35متقی اور اصلاح والے کو کوئی غم نہیں :
آیت 35: یٰـبَنِیْٓ ٰادَمَ اِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ (اے اولاد آدم اگر تمہارے پاس آئیں) امّا یہ اصل میں اِنْ مَا ہے اِنْ شرطیہ کے ساتھ ما ملایا گیا تاکہ شرط کے معنی میں تاکید پیدا ہوجائے۔ کیونکہ مابھی شرط کے لیے ہے اس لیے کہ اس کے فعل پر نون ثقیلہ یا نون خفیفہ لازم کیا جاتا ہے۔ رُسُلٌ مِّنْکُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْکُمْ ٰایٰتِیْ (پیغمبر جو کہ تم ہی میں سے ہونگے۔ جو میرے احکام تم سے بیان کریں گے) میری کتابیں تم پر پڑھیں گے۔ یہ جملہ یقصُّون موضع رفع میں رسل کی صفت ہے اور فَمَنِ اتَّقٰی (پس جو شخص پرہیز رکھے) یہ جواب شرط ہے اتقٰی کا معنی شرک سے بچنا ہے۔ وَاَصْلَحَ (اور اصلاح و درستی کرے) عمل کی تم میں سے فَـلَاخَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَاھُمْ یَحْزَنُوْنَ (پس ان پر نہ کچھ اندیشہ ہے اور نہ وہ غمگین ہونگے) بالکل۔ قراءت : یعقوب نے فَلَا خَوْفَ پڑھا ہے۔
Ayah 7:36مکذب و متکبر کا انجام :
آیت 36: وََالَّذِیْنَ کَذَّبُوْا (اور جو لوگ جھوٹا بتلاویں گے) تم میں سے بِاٰیٰتِنَا وَاسْتَکْبَرُوْا عَنْھَآ (ہمارے ان احکام کو اور ان سے تکبر کریں گے) ان پر ایمان لانے سے بڑے بنے اُولٰٓپکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ (وہ لوگ دوزخ والے ہونگے وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے)
Ayah 7:37مفتری و مکذب دوزخ کا ایندھن بنے گا :
آیت 37: فَمَنْ اَظْلَمُ (پس ظلم میں اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہوگا) جس نے بہت زیادہ ظلم کیا۔ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوْکَذَّبَ بِاٰیٰتِہٖ (جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھے یا اس کی آیات کو جھوٹا بتائے) ان میں سے جو منسوب کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے متعلق جو اس نے نہیں کیا یا اس نے اللہ تعالیٰ کی کہی ہوئی بات کو جھٹلادیا۔ اُولٰٓپکَ یَنَا لُھُمْ نَصِیْبُھُمْ مِّنَ الْکِتٰبِ (ان لوگوں کے نصیب کا جو کچھ ہے وہ ان کو مل جائے گا) جو ان کے لیے رزق و عمر لکھے گئے حَتّٰی اِذَا جَآئَ تْھُمْ رُسُلُنَا (یہاں تک کہ جب ان کے پاس ہمارے فرشتے آئیں گے) موت کا فرشتہ اور اس کے معاونین حَتّٰی یہ انکا اپنا حصہ پانے اور پورا پورا حصہ پانے کی غایت کے لیے لایا گیا یہی وہ حتی ہے جس کے بعد والا کلام ابتدائیہ ہوتا ہے۔ اور یہاں کلام جملہ شرطیہ ہے اور وہ : اذاجآء تھم رسلنا ہے یَتَوَ فَّوْنَھُمْ (ان کی جان قبض کرنے) وہ ان کی روحوں کو قبض کرینگے یہ رسل سے حال ہے۔ ای متوفیھم اس حال میں کہ وہ ان کی روحوں کو قبض کرنے والے ہونگے۔ قَالُوْٓا اَیْنَ مَاکُنْتُمْ تَدْعُوْنَ (تو کہیں گے وہ جن کی تم عبادت کرتے تھے) اس میں ما قرآنی رسم الخط میں این سے مل کر لکھا ہوا ہے مگر حق یہ ہے کہ اس کو جدا لکھا جائے۔ کیونکہ یہ موصولہ ہے اور معنی یہ ہے کہاں ہیں وہ معبود جن کی تم عبادت کرتے تھے ؟ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر) وہ کہاں گئے تاکہ تمہارا دفاع کرسکیں۔ قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا (وہ کہیں گے ہم سے سب غائب ہوگئے) وہ ہم سے غائب ہوگئے ہم انہیں دیکھ نہیں رہے۔ وَشَھِدُوْا عَلٰٓی اَنْفُسِھِمْ اَنَّھُمْ کَانُوْا کٰفِرِیْنَ (اور وہ اپنے کافر ہونے کا اقرار کرنے لگیں) وہ اپنے کفر کے سبب لفظ شہادت سے اعتراف کریں گے اور یہ لفظ شہادت قطعی خبر کے لیے آتا ہے۔
Ayah 7:38آیت 38: قَالَ ادْخُلُوْا (اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تم داخل ہوجائو) اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کفارکو فرمائیں گے کہ تم داخل ہوجائو۔ فِیْٓ اُمَمٍ (ان جماعتوں کے ساتھ) یہ موضع حال میں ہے یعنی اس حال میں کہ وہ بھی منجملہ ان امتوں میں سے ہونیوالے ہوجائیں جو ان کے مصاحب ہیں۔ قَدْ خَلَتْ (جو ہوئیں) گزریں مِنْ قَبلِکُمْ مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ (تم سے پہلے جنات اور انسانوں کی) جن وانس میں سے جو کافر ہوئے فِی النَّارِ (دوزخ میں) یہ ادْخُلُوا سے متعلق ہے۔ کُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّۃٌ (جب بھی کوئی جماعت داخل ہوگی) آگ میں لَّعَنَتْ اُخْتَہَا (اپنی جیسی دوسری جماعت کو لعنت کرے گی) دین میں ان کے ہمشکل یعنی جو ان کی اقتداء میں گمراہ ہوئے۔ حَتّٰی اِذَا ادَّا رَ کُوْا فِیْھَا (یہاں تک کہ جب سب اس میں جمع ہوجائیں گے) یہ اصل میں تَدَارَکُوْا ہے آگ میں مل جائو اور جمع ہوجائو تاکو دال سے بدلا اور ادغام کے لیے ساکن کردیا پھر ہمزئہ وصل اس پر داخل کردیا۔ جَمِیْعًا یہ حال ہے قَالَتْ اُخْرٰھُمْ (پچھلے لوگ کہیں گے) مرتبہ کے لحاظ سے اور اس سے مراد پیروکار اور نیچے درجہ کے لوگ لِاُ وْلٰھُمْ مرتبہ کے لحاظ سے اولی، سردار، سربراہ ہیں۔ لا و لاھم کا معنی لاجلہم ان کی خاطر ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے بات کر رہے ہونگے نہ کہ ان لوگوں سے۔ رَبَّنَا (اے ہمارے رب) اے ہمارے پروردگار ھٰٓؤُ لَآئِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِھِمْ عَذَابًا ضِعْفًا (ہم کو ان لوگوں نے گمراہ کیا تھا۔ پس ان کو عذاب دوگنا دو ) کئی گنا مِّنَ النَّارِ (دوزخ کا) قَالَ لِکُلٍّ ضِعْفٌ (اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ سب ہی کو دوگنا ہے) قائدین کو گمراہ کرنے اور اغوا کرنے کا اور پیروکاروں کو کفر اور اقتدائے کفر کا وَّلٰکِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ (لیکن تم کو خبر نہیں) کہ ہر فریق کے لیے کیا عذاب ہوگا۔
قراءت : ابوبکر نے لا یعلمون پڑھا یعنی ہر فریق دوسرے فریق کے عذاب کی مقدارنہ جان سکے گا۔
Ayah 7:39داخلہ جہنم کا ایک منظر :
آیت 39: وَقَالَتْ اُوْلٰھُمْ لِاُخْرٰ ہُم فَمَا کَانَ لَکُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضلٍ (اور پہلے لوگ پچھلے لوگوں سے کہیں گے کہ پھر تم کو ہم پر کوئی فوقیت نہیں) نچلے درجہ کے لوگوں کو جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لِکُلٍّ ضِعْفٌ (الاعراف۔ 38) اس کے بعد یہ کلام لائے یعنی یہ بات ثابت ہوچکی کہ ہم عذاب کے بڑھائے جانے میں برابر کے حقدار ہیں۔ فَذُوْقُوا الْعَذابَ بِمَا کُنْتُمْ تَکْسِبُوْنَ (پس تم بھی اپنے کردار کے بدلے میں عذاب کا مزا چکھتے رہو) تمہاری کمائی اور کفر کی وجہ سے اور یہ قائدین کا قول ہے جو نیچے درجہ والے لوگوں کو کہیں گے اس لیے فضل پر وقف نہیں یا ان تمام کو یہ کہا اس صورت میں فضل پر وقف ہے۔