Ayah 7:40کافروں کا جنت میں داخلہ اسی طرح ناممکن ہے جیسا سوئی کے ناکے سے اونٹ کا گزرنا ناممکن ہے :
آیت 40: اِنَّ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَاسْتَکْبَرُوْا عَنْھَا لَاتُفَتَّحُ لَھُمْ اَبْوَابُ السَّمَآ ئِ (جو لوگ ہماری آیات کو جھوٹا بتلاتے ہیں اور ان سے تکبر کرتے ہیں ان کے لئے آسمانوں کے دروازے نہ کھولے جائیں گے) ان کو آسمانوں کی طرف چڑھنے کی اجازت نہ دی جائے گی تاکہ جنت میں وہ داخل ہوسکیں۔ کیونکہ جنت تو آسمانوں سے اوپر ہے۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ ان کا کوئی عمل صالح اوپر نہ چڑھے گا اور نہ ان پر برکت اترے گی ایک اور تفسیر یہ ہے کہ موت کے بعد ان کی ارواح آسمان کی طرف صعود نہ کریں گی۔
قراءت : تُفَتَّحُ کو تخفیف کے ساتھ ابو عمرو نے پڑھا ہے اور یا اور تخفیف کے ساتھ حمزہ اور علی نے پڑھا ہے۔ وَلَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ حَتّٰی یَلِجَ الْجَمَلُ فِیْ سَمِّ الْخِیَاطِ (اور وہ لوگ کبھی جنت میں نہ جائیں گے جب تک کہ اونٹ سوئی کے ناکہ کے اندر سے نہ چلا جائے) یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں سے گزر جائے یعنی وہ جنت میں کبھی داخل نہ ہوسکیں گے کیونکہ اس بات کو ناممکن سے معلق فرمایا۔ خیاط، مخیط سوئی کو کہتے ہیں۔ وَکَذٰلِکَ (ایسی ہی) اس رسوا کن بدلے کی طرح جو ہم نے بیان کیا۔ نَجْزِی الْمُجْرِمِیْنَ (ہم مجرمین کو سزا دیتے ہیں) یعنی کفار۔ اس کی دلیل تکذیب آیات اللہ اور استکبار آیات اللہ۔
Ayah 7:41جہنم کا حال :
آیت 41: لَھُمْ مِّنْ جَھَنَّمَ مِھَادٌ (ان کے لئے آتش دوزخ کا بچھونا ہوگا) یعنی بستر وَّمِنْ فَوْقِھِمْ غَوَاشٍ (اور ان کے اوپر اسی کا اوڑھنا ہوگا) جمع غاشیۃ اوڑھناوَکَذٰلِکَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ (اور ہم ایسے ظالموں کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں) انہیں کو ان کے کفر کی۔
Ayah 7:42ایمان والوں کا صلہ :
آیت 42: وَالَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَا نُکَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَھَآ (اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے ہم کسی شخص کو اس کی وسعت سے زائد کوئی کام نہیں بتلاتے) اس کی طاقت کے مطابق۔ التکلیفؔ ایسی چیز کو لازم کرنا جس میں مشقت ہواولٰٓپکَ یہ مبتداء ہے اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ ۔ (ایسے لوگ جنت والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے) یہ خبر ہے۔ یہ سب مل کر الذین کی خبر ہے اور لانکلف جملہ معترضہ ہے
Ayah 7:43آیت 43: وَنَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِھِمْ مِّنْ غِلٍّ (اور جو کچھ ان کے دلوں میں غبار تھا ہم اس کو دور کردیں گے) وہ کینہ جو دنیا میں انکے مابین تھا انکے مابین محبت و الفت باقی رہ جائے گی حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ مجھے امید ہے کہ میں عثمان ‘ طلحہ، زبیر ؓ انہیں میں سے ہونگے۔ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھِمُ الْاَنْھٰرُ (ان کے نیچے نہریں جاری ہونگی) یہ ہم ضمیر سے حال ہے جو صدورہم میں ہے اور اس میں اضافت کا معنی عامل ہے۔
وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ ھَدٰنَا لِھٰذَا (اور وہ لوگ کہیں گے اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ احسان ہے جس نے ہم کو اس مقام تک پہنچایا) اس لئے کہ اس میں عظیم کامیابی کا ذریعہ ہے اور وہ ایمان ہے وَمَا کُنَّا (مَاکُنَّا) شامی نے بغیر وائو کے پڑھا ہے اس طور پر کہ یہ ماقبل کے لیے جملہ موضحہ ہے۔ لِنَھْتَدِیَ لَوْلَآ اَنْ ھَدٰنَا اللّٰہُ (اور ہماری کبھی پہنچ نہ ہوتی اگر اللہ تعالیٰ ہم کو نہ پہنچاتے) لِنَھْتَدِیْکا لام تاکید نفی کے لیے لایا گیا ہے یعنی اگر اللہ تعالیٰ کی ہدایت نہ ہوتی تو ہمارا ہدایت یافتہ ہونا صحیح نہ ہوتا لولا کا جواب محذوف ہے اس پر اس کا ماقبل دلالت کر رہا ہے۔ لَقَدْ جَآئَ تْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ (ہمارے رب کے پیغمبر سچی باتیں لے کر آئے تھے) پس ہم پر مہربانی ہوئی اور راہ کے بارے میں انہوں نے خبردار کیا تو ہم نے راہ پالی یہ بات جو کچھ انہوں نے پایا اس پر خوش ہو کر اور جو ان کے دل میں تھا ظاہر کرنے کے لئے کہیں گے وَنُوْدُوْٓا اَنْ تِلْکُمُ الْجَنَّۃُ (اور ان کو پکار کر کہا جائے گا کہ یہ جنت ہے)
نحو : یہ ان مخففہ من المثقلہ ہے اور اس کا اسم محذوف ہے اور اس کے بعد والا جملہ اس کی خبر ہے تقدیر عبارت یہ ہے نودوا انہ تلکم الجنۃ ان کو آواز دی جائے گی شان یہ ہے کہ یہ وہی جنت ہے ہٗ ضمیر شان ہے یا پھر ان کے معنی میں ہے گویا ان کو کہا جائے گا یہ جنت ہے اُوْرِثْتُمُوْھَا (تم کو دی گئی ہے) جو تمہیں عطا کی گئی یہ اور ثتم جنت سے حال ہے اور اس میں عامل تلک اسم اشارہ کا معنی ہے بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ (تمہارے اعمال کے بدلے)
نکتہ : جنت کو میراث کہا اس لئے کہ جنت عمل سے نہیں ملتی بلکہ وہ محض فضل ہے جس کا وعدہ اس نے طاعات پر فرمایا جیسا کہ میت کی میراث کسی شیٔ کا بدلہ نہیں۔ بلکہ وہ خالص صلہ رحمی کا تقاضا ہے۔
شیخ ابومنصور کا فرمان :
شیخ ابو منصور (رح) کا فرمان ہے معتزلہ نے اللہ تعالیٰ کی مخالفت کی جو اس نے خبردی اور اس کی بھی مخالفت کی جو نوح ( علیہ السلام) اور اہل جنت نے اطلاع دی اور اہل نار نے جہنم میں پہنچ جانے کے بعد اطلاع دی اور جو ابلیس نے دربار الٰہی میں کہا۔ نمبر 1۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یُضِلُّ اللّٰہُ مَنْ یَّشَآئُ وَیَہْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ 1 ( المدثر : 31) نمبر 2۔ فرمان نوح ( علیہ السلام) : وَلاَ یَنْفَعُکُمْ نُصْحِیْٓ اِنْ اَرَدْتُّ اَنْ اَ نْصَحَ لَــکُمْ اِنْ کَانَ اللّٰہُ یُرِیْدُ اَنْ یُّغْوِیَکُمْ 1 (ہود : 34) نمبر 3۔ اہل جنت کا قول : وَمَا کُنَّا لِنَہْتَدِیَ لَوْلَآ اَنْ ہَدٰنَا اللّٰہُ 5 ( اعراف : 43) نمبر 4۔ اہل نار کا قول : لَوْ ہَدٰنَا اللّٰہُ لَہَدَیْنٰکُمْ (ابراہیم : 21) نمبر 5۔ فَبِمَآ اَغْوَیْتَنِیْ (الاعراف :۔ 16)
Ayah 7:44اہل جنت و اہل نار کی گفتگو :
آیت 44: وَنَادٰٓی اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَن قَدْ وَجَدْنَا (اور اہل جنت اہل دوزخ کو پکاریں گے کہ ہم سے جو ہمارے رب نے وعدہ فرمایا تھا ہم نے اس کو واقع کے مطابق پایا) اَنْ مخففہ من المثقلہ ہے یا اَنْ مفسرہ ہے اسی طرح ان لعنۃ اللّٰہ علی الظلمین میں اَنْہے مَا وَعَدَنَا رَبُّنَایعنی ثواب کا حَقًّایہ حال ہے فَھَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَرَبُّکُمْ (پس کیا تم سے جو تمہارے رب نے وعدہ کیا تھا تم نے بھی اس کو پایا) یعنی عذاب حَقًّا (واقع کے مطابق) تقدیر عبارت وعد کم ربکم ہے کم کو سابقہ دلالت کی وجہ سے حذف کردیا جو کہ وعد نا ربنا میں پائی جاتی ہے یہ بات اہل جنت اہل نارکو بطور شماتت کہیں گے اور اللہ کی نعمتوں کے اعتراف کے طور پر ذکر کریں گے قَالُوْا نَعَمْ (وہ کہیں گے ٗ ہاں)
قراءت : علی نے قرآن میں جہاں بھی آیا ہے نِعَمْ پڑھا ہے۔ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌم بَیْنَھُمْ (پھر ایک منادی دونوں کے درمیان پکارے گا) ایک منادی آواز دے گا اور جس آواز کو اہل جنت اور اہل نار تمام سنیں گے اور وہ منادی فرشتہ ہوگا اَنْ لَّعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الظّٰلِمِیْنَ (کہ اللہ تعالیٰ کی مار ہو ان ظالموں پر)
قراءت : مکی، شامی، حمزہ، علی نے انّ لعنۃ پڑھا ہے۔
Ayah 7:45اسبابِ لعنت کا تذکرہ کردیا :
آیت 45: اَلَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ (جو اعراض کیا کرتے تھے) وہ منع کرتے ہیں عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ (اللہ کی راہ سے) اس کے دین سے وَیَبْغُوْنَھَا عِوَجًا (اور اس میں کجی تلاش کرتے رہتے تھے) یہ یَبْغُوْنَ کا مفعول دوم ہے یعنی وہ اس لئے کجی تلاش کرتے ہیں اور اس میں تناقض ڈھونڈتے ہیں وَھُمْ بِالْاٰخِرَۃِ (اور وہ آخرت کے بھی) آخرت کے گھرکے کٰفِرُوْنَ (منکر تھے)
Ayah 7:46اہل اعراف کمزور مومن :
آیت 46: وَبَیْنَھُمَا (اور ان دونوں کے درمیان) جنت و دوزخ کے درمیان یا فریقین کے درمیانحِجَابٌ (ایک آڑ ہوگی) یہ وہ دیوار ہے جس کا تذکرہ اس ارشاد میں ہے فضُرب بینہم بسور ( الحدید 13) وَعَلَی الْاَعْرَافِ (اور اعراف کے اوپر) حجاب کی دیوار پر یہ جنت و دوزخ کے درمیان والی دیوار ہے وہ ان دونوں سے بلند ہے اعراف جمع عرف یہ دراصل عرف الفرس اور عرف الدیک سے بطور استعارہ لیا گیا ہے۔ رِجَالٌ (بہت سے آدمی ہونگے) یہ بچے کھچے مسلمان ہونگے یا جنت میں آخر میں داخل ہونے والے مسلمان جن کے گناہ اور نیکیاں برابر ہونگی۔ یا وہ جن کے ماں باپ ان سے راضی نہ ہونگے۔ یا مشرکین کے نابالغ بچے یَّعْرِفُوْنَ کُلًّا (وہ لوگ ہر ایک کو پہچانیں گے) یعنی جو سعداء اور اشقیاء کے گروہ سے ہونگے بِسِیْمٰھُمْ (ان کی علامات سے) ان کی علامت سے ایک قول یہ بھی ہے کہ مومنین کی علامت چہرے کی سفیدی اور تروتازگی اور کفار کی علامت چہرے کی سیاہی اور آنکھوں کی نیل گونی وَنَادَوْا (وہ پکار کر کہیں گے) یعنی اعراف والے اَصْحٰبَ الْجَنَّۃِ اَنْ سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ (اہل جنت کو سلام علیکم) تم پر سلام ہو یا اَنْبمعنی ای سلام گویا یہ ان کی طرف سے اہل جنت کو مبارک باد دی جائے گی لَمْ یَدْخُلُوْھَا (ابھی یہ اہل اعراف جنت میں داخل نہیں ہوئے ہونگے) یعنی صاحب اعراف یا یہ جملہ مستانفہ ہے اس کا محل اعراب نہیں گویا کسی نے اصحاب اعراف کے بارے میں سوال کیا تو اس کو جواب دیا گیا لم یدخلوھا وہ اس میں داخل نہیں ہوئے وَھُمْ یَطْمَعُوْنَ (وہ اس کے امیدوار ہونگے) اس میں داخلے کے۔ نمبر 2۔ اس جملہ کا محل اعراب ہے اس صورت میں یہ رجال کی صفت ہے اور مرفوع ہے۔
Ayah 7:47آیت 47: وَاِذَا صُرِفَتْ اَبْصَارُ ھُمْ (اور جب ان کی نگاہیں جا پڑیں گی) اصحاب اعراف کی آنکھیں اور اس میں یہ بھی ہے کہ کوئی پھیرنے والا ان کی آنکھوں کو ادھر ادھر پھیردے تاکہ وہ جہنم کو دیکھ کر استعاذہ کریں۔ تِلْقَآئَ (کی طرف) طرف۔ یہ ظرف ہے اَصْحٰبِ النَّارِ (اہل دوزخ) وہ اس میں جو عذاب ہونگے اس کا ملاحظہ کریں گے۔ قَالُوْا رَبَّنَا لَاتَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ (تو کہیں گے اے ہمارے رب ہم کو ان ظالم لوگوں کے ساتھ شامل نہ کیجئے) وہ اللہ تعالیٰ سے پناہ طلب کریں گے اور اس کی رحمت کی طرف رجوع کریں گے کہ وہ ان کو اہل نار کے ساتھ نہ کرے بلکہ ان کے ساتھ سے بچائے۔
Ayah 7:48اہل اعراف کا کفار سے کلام :
آیت 48: وَنَادٰٓ ی اَصْحٰبُ الْاَعْرَافِ رِجَالًا (اور اصحاب اعراف بہت سے آدمیوں کو پکاریں گے) رجال سے سرداران کفار مراد ہیں۔ یَّعْرِفُوْنَھُمْ بِسِیْمٰھُم قَالُوْا مَآ اَغْنٰی عَنْکُمْ جَمْعُکُمْ (جن کو علامات سے پہچانیں گے۔ کہیں گے تمہاری جماعت تمہارے کچھ کام نہ آئی) مال۔ کثرت اجتماع مانافیہ ہے۔ وَمَا کُنْتُمْ تَسْتَکْبِرُوْنَ (اور نہ تمہارا اپنے کو بڑا سمجھنا) حق کے سلسلہ میں تمہارا تکبر اور لوگوں کے سلسلے میں تمہارا تکبر۔ پھر وہ انہیں کہیں گے۔
Ayah 7:49آیت 49: اَھٰٓؤُلَآ ئِ الَّذِیْنَ (کیا یہ وہی ہیں جن کے متعلق) یہ مبتداء ہے الّذِیْنَ ، یہ مبتداء مضمر کی خبر ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے اھؤلاء ھم الذین اقسمتم کیا یہی وہ لوگ ہیں جن کے متعلق قسمیں اٹھاتے تھے۔ اَقْسَمْتُمْ (تم قسمیں کھا کھا کر کہا کرتے تھے) تم نے دنیا میں قسمیں اٹھائیں۔ ھٰٓؤلٓاء کا مشارٌ الیہ فقراء مؤمنین ہیں۔ جیسے صہیب و سلمان ؓ لَایَنَالُھُمُ اللّٰہُ بِرَحْمَۃٍ (کہ ان پر اللہ تعالیٰ رحمت نہ کرے گا) یہ اقسمتم کا جواب ہے یہ الذین کے صلہ میں داخل ہے تقدیر عبارت یہ ہے تم ان کے متعلق قسمیں اٹھاتے تھے کہ ان کو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے نہ نوازیں گے۔ یعنی ان کو جنت میں داخل نہ کریں گے ان کے فقر کی وجہ سے ان کو حقیر قرار دیتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ اصحاب اعراف کو فرمائیں گے۔ اُدْخُلُوا الْجَنَّۃَ (ان کو یوں حکم ہوگا کہ تم جنت جائو) یہ فریقین کو ملاحظہ کرنے اور ان کے نشانات سے ان کو پہچاننے کے بعد ہوگا۔ اور ان تمام مکالموں کے بعد جو ان کے مابین ہونگے۔ لَا خَوْفٌ عَلَیْکُمْ وَلَآ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ (تم کو نہ کچھ اندیشہ ہے اور نہ تم مغموم ہوگے)
Ayah 7:50اہل جنت و اہل نار کا مکالمہ :
آیت 50: وَنَادٰٰٓی اَصْحٰبُ النَّارِ اَصْحٰبَ الْجَنَّۃِ اَنْ اَفِیْضُوْا عَلَیْنَا مِنَ الْمَآئِ (اور دوزخ والے جنت والوں کو پکاریں گے۔ کہ ہمارے اوپر تھوڑا پانی ہی ڈال دو ) اَنْ مفسرہ ہے اس میں یہ بھی دلیل ہے کہ جنت آگ سے بلند ہے۔ اَوْمِمَّا رَزَقَکُمُ اللّٰہُ (یا اور ہی کچھ دے دو جو اللہ تعالیٰ نے تم کو دے رکھا ہے) ان کے علاوہ مشروبات کیونکہ اضافت کے حکم میں یہ بھی داخل ہے یا ہم پر ڈالو جو کچھ اللہ تعالیٰ نے تمہیں رزق طعام و پھلوں کی اقسام میں سے دیا ہے پھر یہ علفتھا تبنًا ومائً باردًا کی قسم میں سے ہے۔ یعنی ماء سے سقیتھا کا فعل محذوف ہے۔
سوال : قبولیت سے ناامیدی کے باوجود یہ سوال کیوں کریں گے ؟
جواب : حیران و پریشان وہ بات کرتا ہے جس میں اس کا فائدہ ہو اور ایسی بات بھی اس کے منہ سے نکلتی ہے جو بےفائدہ ہو۔
قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰہَ حَرَّمَھُمَا عَلَی الْکٰفِرِیْنَ (جنت والے کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے دونوں چیزوں کو کافروں کیلئے منع کر رکھا ہے) اس تحریم کا معنی منع کرنا اور روکنا ہے جیسا کہ اس آیت میں ہے۔ وحرمنا علیہ المراضع (القصص۔ 12)
نحو : یہاں وقف ہوگا اگر اس کے مابعد الذین کو مرفوع یا منصوب بطور مذمت کے مانا جائے۔ اگر الذین کو مجرور مانیں تو الکافرین پر وقف نہیں ہوگا۔ بلکہ اگلا جملہ اس کی صفت بن جائے گا۔
Ayah 7:51بڑے اسباب دوزخ ‘ دین کا مذاق اڑانا اور طول بقاء کا دھوکا :
آیت 51: اَلَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَہُمْ لَھْوًا وَّلَعِبًا (جنہوں نے دنیا میں اپنے دین کو لہو ولعب بنا رکھا تھا) پس انہوں نے جو چاہا حرام و حلال کیا یا ان کا دین ان کی عید تھی۔ وَّغَرَّتْھُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا (اور جن کو دنیوی زندگی نے دھوکہ میں ڈال رکھا تھا) وہ طول بقاء سے دھوکہ میں رہے۔ فَالْیَوْمَ نَنْسٰھُمْ (پس ہم بھی آج کے روز ان کا نام نہ لیں گے) ہم ان کو عذاب میں چھوڑیں گے۔ کَمَا نَسُوْا لِقَآ ئَ یَوْمِھِمْ ھٰذَا وَمَا کَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ (جیسا انہوں نے اس دن کا نام نہ لیا اور جیسا ہی ہماری آیات کا انکار کیا کرتے تھے) یعنی ان کے بھلانے اور شدید انکار کی طرح۔
Ayah 7:52موجودین کی طرف روئے سخن :
آیت 52: وَلَقَدْ جِئْنٰھُمْ بِکِتٰبٍ فَصَّلْنٰہُ (اور ہم نے ان کے پاس ایک ایسی کتاب پہنچا دی جس کو ہم نے بہت ہی واضح کر کے بیان کردیا ہے) ہم نے اس کے حلال و حرام اور مواعظ وقصص کو الگ الگ بیان کیا۔ عَلٰی عِلْمٍ ھُدًی وَّرَحْمَۃً (اپنے علم کامل سے جو ذریعہ ہدایت و رحمت ہے) یہ فَصَّلْنَاہُ ۔ کی ضمیر سے حال ہے جس طرح عَلٰی عِلْمٍاس کی ضمیر مرفوع سے حال ہے۔ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ (ایمان والوں کیلئے)
Ayah 7:53یہ ضد کی وجہ سے آخری نتیجہ کے منتظر ہیں :
آیت 53: ھَلْ یَنْظُرُوْنَ (ان کو کسی چیز کا انتظار نہیں) وہ صرف انتظار کرتے ہیں۔ اِلَّا تَاْوِیْلَہٗ (صرف اس کے اخیر نتیجہ کا انتظار ہے) مگر اس کے معاملہ کا انجام و نتیجہ اور وہ باتیں جن سے ان کا صدق واضح ہو اور جو وعد و عید کئے گئے ان کا صحیح طور پر ظہور ہو۔ یَوْمَ یَاْتِیْ تَاْوِیْلُہٗ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ نَسُوْہُ مِنْ قَبْلُ (جس دن اس کا آخری نتیجہ سامنے آئے گا اس روز جو لوگ اس کو پہلے سے بھولے ہوئے تھے) اس کو چھوڑا اور اس سے اعراض اختیار کیا۔ قَدْجَآئَ تْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ (یوں کہنے لگیں گے کہ واقعی ہمارے رب کے پیغمبر سچی سچی باتیں لاتے تھے) یعنی واضح ہوا اور سچ ثابت ہوا کہ وہ حق لے کر آئے تھے مگر انہوں نے اقرار ایسے وقت کیا جب کہ ان کو اقرار کا فائدہ نہیں۔
اہل نار کی بیکار تمنائیں :
فَھَلْ لَّنَا مِنْ شُفَعَآ ئَ فَیَشْفَعُوْا لَنَآ (پس اب کیا ہمارا کوئی سفارشی ہے جو ہماری سفارش کر دے) ۔
نحو : یہ استفہام کا جواب ہے۔ اَوْنُرَدُّ (کیا ہم پھر واپس بھیجے جاسکتے ہیں) یہ جملہ ماقبل پر عطف ہے اور استفہام کے تحت داخل ہے گویا اس طرح کہا گیا فھل لنامن شفعاء اوہل نرد ؟ کیا ہمارا کوئی سفارشی ہے کیا ہمیں واپس کیا جاسکتا ہے۔ نُرَدُّ مرفوع ہے کیونکہ ایسے موقع پر واقع ہے جو اسم بننے کی صلاحیت رکھتا ہے جیسے کہو ہل یضرب زیدٌ ؟ یا اس کا عطف اس تقدیر پر ہے۔ ھل یشفع لنا شا فع اوھل نرد ؟ فَنَعْمَلَ (تاکہ ہم ان اعمال کے جن کو ہم کیا کرتے تھے) یہ بھی استفہام کا جواب ہے۔ غَیْرَ الَّذِیْ کُنَّا نَعْمَلُ قَدْ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَھُمْ وَضََلَّ عَنھُمْ مَّا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ (بیشک ان لوگوں نے اپنے کو خسارہ میں ڈال دیا اور یہ جو جو باتیں تراشتے تھے سب گم ہوگیا) یعنی جن بتوں کی وہ عبادت کرتے تھے۔
Ayah 7:54تخلیق ارض و سماء :
آیت 54: اِنَّ رَبَّکُمُ اللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ (بیشک تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے سب آسمانوں اور زمین کو چھ روز میں پیدا کیا) اس کی مراد آسمان و زمین اور ان کے مابین جو کچھ ہے اس کی تفصیل سورة حم سجدہ میں فرمائی۔ یعنی نمبر 1: اتوار سے جمعہ تک۔ نمبر 2: ملائکہ کے اعتبار سے آہستہ آہستہ۔ نمبر 3: یہ بتلانے کے لیے کہ معاملات میں تدریج ہے۔ نمبر 4: اور اس لئے بھی کہ ہر کام کے لیے ایک دن ہے۔ نمبر 5: اور اس لئے بھی کہ ایک چیز کا دوسری چیز کے بعد بنانا یہ زیادہ دلالت کرتا ہے کہ اس کا بنانے والا عالم۔ مدبر، اور متصرف و مختارِکل ہے۔ اور وہ ان چیزوں کو اپنی مرضی سے چلاتا ہے۔ ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ (پھر عرش پر قائم ہوا) متمکن ہوا۔ استیلاء کی اضافت عرش کی طرف کی اگرچہ اللہ تعالیٰ تمام مخلوق پر مستولی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عرش تمام مخلوقات میں سب سے بڑی مخلوق ہے اور سب سے بلند ہے۔ فرقہ مشبہ کی تفسیر عرش کے متعلق چار پائی اور تخت سے اور الاستواء کی تفسیر استقرار سے محض باطل ہے کیونکہ ذات باری تعالیٰ عرش سے قبل بھی لا مکان تھے اور اب بھی لا مکان ہیں جیسے پہلے تھے۔ اس لیے کہ تغیرو تبدل تو اکو ان کی صفات میں سے ہے۔
استواء کے متعلق فرمان اتم :
امام جعفر، حسن بصری، امام ابوحنیفہ ‘ امام مالک (رح) سے منقول ہے : ان الاستواء معلوم۔ والکیف فیہ مجہول والایمان بہ واجب والجحود بہ کفر والسئوال عنہ بدعۃ ان ائمہ سے مروی ہے کہ استواء معلوم ہے کیفیت مجہول ہے اور اس پر ایمان لانا واجب اور اس کا انکار کفر اور اس کے متعلق سوال بدعت ہے۔ یُغْشِی الَّیْلَ النَّھَارَ (وہ چھپا دیتا ہے رات سے دن کو) ۔
قراءت : حمزہ، علی، ابوبکر نے یغشی پڑھا ہے۔ یعنی رات دن کو آملتی ہے اور دن رات کو جاملتا ہے۔ یَطْلُبُہٗ حَثِیْثًا (اس طور پر کہ وہ رات دن کو جلدی سے آلیتی ہے) یہ لیل سے حال ہے یعنی جلدی۔ طالب اصل میں لیل ہے۔ گویا وہ اپنی تیز روی کی وجہ سے دن کو ڈھونڈ رہی ہے۔ وَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُوْمَ (اور سورج اور چاند اور دوسرے ستاروں کو پیدا کیا) یعنی اس نے سورج چاند ستاروں کو بنایا۔ مُسَخَّرٰتٍم بِاَمْرِہٖ (اس طرح کہ وہ اس کے حکم کے تابع ہیں) یہ حال ہے یعنی اس حال میں کہ وہ تابع ہیں قراءت شامی نے مسخراتٌ کو ضمہ سے پڑھا ہے اور الشمس بجمیع معطوفات مبتداء اور یہ اس کی خبر ہے۔ بِاَمْرِہٖ وہ تکوینی حکم ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا ہی اپنے حکم کے تابع کیا تو فرمایا : اَلاَ لَہُ الْخَلْقُ وَ الْاَمْرُ (یاد رکھو اللہ تعالیٰ ہی کیلئے خالق ہونا اور حکم ہونا ہے) یعنی وہی ذات ہے جس نے چیزوں کو پیدا کیا اور اختیار بھی اس کا ان پر چلتا ہے۔
تَبٰرَکَ اللّٰہُ (اللہ تعالیٰ بڑی خوبیوں والے ہیں) اس کی مہربانیوں کی کثرت ہے یا بھلائیاں دائمی ہیں۔ یہ برکت سے لفظ بنا ہے۔ نمو کو کہتے ہیں۔ یا البروک سے ہے جس کا معنی قائم و ثابت رہنا ہے البرکۃ اسی سے ہے رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ (جو تمام عالم کے پروردگار ہیں)
Ayah 7:55پکارنے کا حکم ‘ مگر حد سے تجاوز کی ممانعت :
آیت 55: اُدْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّ عًا وَّ خُفْیَۃً (تم اپنے رب سے دعا کیا کرو گڑ گڑا کر اور چپکے چپکے بھی) یہ دونوں حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہیں یعنی عاجزی والا اور پوشیدگی والا۔ التضرع یہ تفعُّل کا وزن ہے الضرعہ سے بنا ہے اور وہ عجزو ذلت کو کہتے ہیں یعنی گڑگڑا کر اور مسکینی ظاہر کر کے حضور ( علیہ السلام) نے فرمایا تم کسی بہرے اور غائب کو نہیں پکار رہے ہو۔ بلکہ تم سمیع و قریب کو پکار رہے ہو۔ وہ تمہارے ساتھ ہے تم جہاں بھی ہو۔ ( بخاری 4384، مسلم 2704) حسن بصری (رح) سے روایت ہے کہ پوشیدہ اور علانیہ پکار نے میں ستر گنا کا فرق ہے۔ اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ (بیشک وہ ان کو ناپسند کرتے ہیں جو حد سے نکل جائیں) ہر وہ چیز جس کا حکم دیا گیا دعا وغیرہ اس میں تجاوز کرنے والے۔ ابن جریج کا قول ہے کہ دعا کے لئے آواز بلند کرنے والے اور ابن جریج کا قول ہے دعا میں چیخنا مکروہ اور بدعت ہے اور یہ بھی قول ہے اعتداء فی الدعا سے مراد دعا کو لمبا کرنا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے کہ عنقریب کچھ لوگ ہونگے جو دعا میں حد سے تجاوز کریں گے حالانکہ آدمی کو اس طرح کہنا کافی ہے۔ اللّٰھم انی اسئلک الجنۃ و ما قرّب الیھا من قول و عمل۔ واعوذ بک من النار و ما قرب الیھا من قول و عملٍ پھر آپ نے یہ آیت۔ انہٗ لایحب المعتدینتک تلاوت فرمائی۔ ( ابو دائود۔ 1480)
Ayah 7:56شرک و معصیت فساد ہے :
آیت 56: وَلَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَا حِھَا (اور دنیا میں درستی کے بعد فساد مت پھیلائو) نمبر 1: اطاعت کے بعد معصیت کر کے۔ نمبر 2: توحید مان کر شرک کر کے نمبر 3۔ عدل کے بعد ظلم کر کے۔ وَادْعُوْہُ خَوْفًا وَّ طَمَعًا (اور تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے اور امید رکھتے ہوئے) یہ دونوں حال ہیں۔ نمبر 1۔ یعنی عمل کے رد ہوجانے کا خوف اور قبولیت کی طمع ہو۔ نمبر 2۔ آگ کا خوف اور جنت کی طمع ہو۔ نمبر 3۔ فراق کا ڈر اور ملاقات کی طمع۔ نمبر 4۔ عاقبت کے غائب ہونے کا خوف اور ہدایت کے ظاہر ہونے کی طمع۔ نمبر 5۔ اللہ تعالیٰ کے عدل سے خوف اور اس کے فضل کی طمع ہو۔
اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰہِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ (بیشک اللہ تعالیٰ کی رحمت کام کرنے والوں کے نزدیک ہے) نمبر 1۔ قریب کا ذکر رحمت کی تاویل سے ہے خواہ رحم سے ہو یا ترحم سے۔ نمبر 2۔ موصوف محذوف کی صفت ہے یعنی شی قریب۔ نمبر 3۔ اس فعل سے تشبیہ دی جو مفعول کے معنی میں ہے۔ نمبر : 4 یہ اس لیے کہ رحمت کی تا تانیث غیر حقیقی کی ہے۔ نمبر 5۔ مذکر کی طرف اضافت کا لحاظ کر کے لائے۔
Ayah 7:57قدرت کے دلائلِ عقلیہ :
آیت 57: وَھُوَ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ (اور وہ ایسا ہے کہ ہوائوں کو بھیجتا ہے)
قراءت : مکی حمزہ، علی نے الرِّیْحَ پڑھا۔ بُشْرًا (کہ وہ خوش کردیتی ہیں) حمزہ و علی نے نشر کا مصدر نشرًا پڑھا اور اس کے نصب کی وجہ نمبر 1۔ یہ ہے کہ ارسل اور نشر قریب قریب ہیں۔ گویا اس طرح کہا۔ نشرھا نشرًا۔ نمبر 2۔ حال کی وجہ سے منصوب ہے۔ یعنی منشورات پھیلائی ہوئی۔ عاصم نے اس کو بُشْرًا پڑھا ہے۔ بُشْرًا تخفیف کے ساتھ ہو تو یہ بشیر کی جمع ہے۔ کیونکہ ریاح یہ بارش کی خوشخبری دیتی ہیں۔ شامی نے نشرا پڑھا اور نشر کی تخفیف نشر رُسُل اور رُسْلٌ کی طرح ہے۔ اور بقیہ قراء کی قراءت تخفیف والی ہے۔ نُشُر جمع نشور یعنی ناشرۃ للمطربارش کو پھیلانے والیاں بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِہٖ (اپنی باران رحمت سے پہلے) اس کی نعمت سے پہلے اور وہ بارش ہے جو کہ بڑی نعمتوں میں سے ہے۔ حَتّٰی اِذَآ اَقَلَّتْ (یہاں تک کہ جب وہ ہوائیں اٹھا لیتی ہیں) اٹھاتی اور بلند کرتی ہے اقلال یہ قلت سے مشتق ہے کیونکہ طاقتور اٹھانے والا جس چیز کو اٹھا لیتا ہے اس کو قلیل خیال کرتا ہے۔ سَحَابًا ثِقَالًا (بھاری بادلوں کو) یعنی بھاری پانی کے ساتھ۔ یہ سحابۃ کی جمع ہے سُقْنٰہُ (تو اس کو چلا کرلے جاتے ہیں) ضمیر مذکر کی لفظ سحاب کا لحاظ کر کے لائی گئی اور اگر اس کو معنی پر محمول کیا جائے جیسا کہ ثقال ہے تو ضمیر مؤنث چاہیے جیسا کہ وصف کو لفظ پر محمول کیا جائے تو ثقیلا کہنا چاہیے۔ لِبَلَدٍ مَّیِّتٍ (کسی خشک سرزمین کی طرف) ایسے شہر کے لئے جس میں بارش نہیں ہوئی اور اس کو سیراب کرنے کے لئے۔
قراءت : مدنی، حمزہ، علی، حفص نے مَیْتٍ پڑھا ہے۔ فَاَنْزَلْنَا بِہِ الْمَآ ئَ (پھر اس بادل سے پانی برساتے ہیں) نمبر 1: بادلوں کے ذریعے۔ نمبر 2۔ چلانے کے ذریعے اور اسی طرح فَاَخْرَجْنَا بِہٖ مِنْ کُلِّ الثَّمَرٰتِ (پھر اس پانی سے ہر قسم کے پھل نکالتے ہیں) کَذٰلِکَ (یوں ہی) اس نکالنے کی طرح اور وہ پھلوں کا نکالنا ہے۔ نُخْرِجُ الْمَوْتٰی لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ (ہم مردوں کو نکال کھڑا کریں گے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو) پس یہ تذکیر تمہیں ایمان بالبعث تک لے جائے گی۔ کیونکہ دونوں اخراجوں میں کوئی فرق نہیں۔ اس لئے کہ ہر ایک میں چیز کو بنانے کے بعد لوٹانا ہے۔
Ayah 7:58مومن و کافر کی تمثیل :
آیت 58: وَالْبَلَدُ الطَّیِّبُ (اور جو زمین ستھری ہوتی ہے) یہ زرخیز مٹی والی زمین یَخْرُجُ نَبَا تُہٗ بِاِذْنِ رَبِّہٖ (اس کی پیداوار تو خدا کے حکم سے خوب نکلتی ہے) آسانی کے ساتھ بِاِذْنِ رَبِّہٖ یہ موضع حال میں ہے گویا عبارت اس طرح ہے یخرج نباتہٗ حسناً وافیا اس کی نباتات اچھی اور شاندار نکلتی ہے کیونکہ یہ نکدا کے مقابلے میں مذکور ہے۔ وَالَّذِیْ خَبُثَ (اور جو زمین خراب ہے) یہ بلد کی صفت ہے ای البلد الخبیث، شوریلہ خطہ لَا یَخْرُجُ (اس کی پیداوار نہیں نکلتی) یعنی اس کی نباتات اس کو حذف کردیا اول تذکرہ پر اکتفاء کرتے ہوئے اِلَّا نَکِدًا (مگر بہت کم) وہ جس میں کوئی غلہ نہ ہو یہ دراصل مثال اس شخص کی جس کو وعظ فائدہ دے اور وہ مومن ہے اور اس کی مثال جس میں کوئی چیزبالکل اثر نہ کرے اور وہ کافر ہے اور یہ تمثیل بارش کے اثر کے سلسلے میں واقع ہونے والی ہے بارش کا بلد میت پر اترنا اور اس سے پھلوں کا نکالنا بطور استطراد کے ہے۔ کَذٰلِکَ (یوں ہی) ایسا تصرف نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ (ہم دلائل طرح طرح سے بیان کرتے ہیں) ہم بار بار اور مکررآیات کو لاتے ہیں۔ لِقَوْمٍ یَّشْکُرُوْنَ (ان لوگوں کیلئے جو قدر کرتے ہیں) اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی اور وہ مومن ہیں۔ تاکہ وہ اس میں سوچ بچا ر کریں اور اس سے عبرت حاصل کریں۔
Ayah 7:59دعوتِ نوح ( علیہ السلام) کا تذکرہ :
آیت 59: لَقَدْ اَرْسَلْنَا یہ قسم محذوف کا جواب ای واللّٰہ لَقَدْ اَرْسَلْنَا۔ نُوْحًا اِلٰی قَوْمِہٖ (ہم نے نوح ( علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا) ان کو رسول بنایا جبکہ ان کی عمر پچاس سال تھی اور انکا سلسلہ نسب یہ ہے۔ نوح بن لمک بن متوشلخ بن اخنوخ اور یہ ادریس ( علیہ السلام) کا نام ہے۔ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُ وا اللّٰہَ مَا لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ (پس انہوں نے فرمایا کہ اے میری قوم تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں) ۔
قراءت : علی نے غیرہٖ پڑھا ہے۔
نحو : رفع تو محل کی وجہ سے ہے گویا عبارت اس طرح ہے مالکم الٰہ غیرہ فلا تعبدوا معہ غیرہ تمہارے لئے اس کے سواء کوئی معبود نہیں پس تم اس کے ساتھ کسی اور کی عبادت مت کرو اور جر لفظ کی رعایت کی وجہ سے ہے۔ اِنّیِْٓ اَخَافُ عَلَیْکُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ (مجھ کو تمہارے لئے ایک بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے) نمبر 1۔ قیامت کا دن۔ نمبر 2۔ ان پر عذاب اترنے کا دن۔ اور وہ عذاب طوفان تھا۔
Ayah 7:60نوح ( علیہ السلام) کو سرداروں کا جواب :
آیت 60: قَالَ الْمَلَاُ (عزت والے لوگوں نے کہا) اشراف و سادات مِنْ قَوْمِہٖٓ اِنَّا لَنَرٰکَ فِیْْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ (ان کی قوم میں سے۔ کہ ہم تم کو صریح غلطی میں دیکھتے ہیں) طریق صواب سے جانے کو واضح کردیا اور رؤیت سے رؤیت قلب مراد ہے۔
Ayah 7:61نوح ( علیہ السلام) کی تقریر اوّل :
آیت 61: قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ ضَلاَلَۃٌ (انہوں نے فرمایا اے میری قوم مجھ میں تو ذرا غلطی نہیں) یہاں ضلال نہیں کہا جیسا کہ انہوں نے کہا کیونکہ ضلالت ضلال میں سے خاص ہے۔ پس یہ لفظ اپنی ذات سے ضلال کی نفی کے لئے زیادہ بلیغ ہے گویا اس طرح کہا لیس بی شیء من الضلال مجھ میں ضلال نام کی کوئی چیز نہیں۔ پھر نفی ضلالۃ کی تاکید کے لئے استدراک کیا اور فرمایا وَّلٰکِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ (لیکن میں پروردگار عالم کا رسول ہوں) کیونکہ ان کا اللہ کی طرف سے رسول ہونا یہ ان کی رسالت کا مقصود ہے اور اس معنی میں ہے کہ وہ سیدھے راستے پر ہے پس وہ ہدایت کے اعلیٰ درجہ پر تھے۔
Ayah 7:62تقریر دوم :
آیت 62: اُبَلِّغُکُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ (میں تم کو اپنے رب کے پیغامات پہنچاتا ہوں) نمبر 1 جو میری طرف وحی کی گئی مختلف اوقات میں نمبر 2۔ مختلف مقاصد جیسے اوامر ونواہی، مواعظ، بشائر، نظائر اُبْلِغُکُمْ ابو عمرو نے اس طرح پڑھا یہ کلام مستانفہ ہے رسول رب العالمین ہونے کا بیان ہے۔ وَاَنْصَحُ لَکُمْ (اور تمہاری خیر خواہی کرتا ہوں) میں اخلاص کے ساتھ تمہاری بھلائی کا قصد کرنے والا ہوں۔ کہا جاتا ہے نصحتہٗ و نصحت بہٖ ۔ لام لا کر مبالغہ میں اضافہ کردیا۔ اور نصیحت کے اخلاص پر دلالت کرتا ہے۔ نصح کی حقیقت۔ نمبر 1۔ غیر کے لئے اس بھلائی کا ارادہ کرنا جو تم اپنے لیے چاہتے ہو نمبر 2۔ سچی عنائیت میں انتہاء کرنا۔ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰہِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ (اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان امور کی خبر رکھتا ہوں جو تم نہیں جانتے) یعنی اس کی صفات سے یعنی عظیم قدرت دشمنوں پر اس کی سخت پکڑ اور اس کی پکڑ دشمنوں سے واپس نہیں کی جاسکتی۔
Ayah 7:63تقریر سوم :
آیت 63: اَوَعَجِبْتُمْ (کیا تم تعجب کرتے ہو) ہمزہ انکار کے لئے ہے وائو عاطفہ ہے معطوف علیہ محذوف ہے۔ گویا کہا گیا اکذبتم و عجبتم کیا تم جھٹلاتے ہو اور تعجب کرتے ہو اَنْ جَآئَ کُمْ ۔ مِنْ اَنْ جَآئَ کُمْ ۔ اس لیے کہ تمہارے پاس آیا۔ ذِکْرٌ نصیحت مِّنْ رَّبِّکُمْ عَلٰی رَجُلٍ مِّنْکُمْتم میں سے ایک آدمی کی زبان سے یعنی تمہاری جنس سے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ نبوت نوح ( علیہ السلام) پر تعجب کرتے تھے اور کہا کرتے تھے : مَّا سَمِعْنَا بِہٰذَا فِیْٓ ٰابَـآپنَا الْاَوَّلِیْنَ ( المومنون : 24) اس سے ارسال بشر مراد لیتے ہیں۔ ، وَلَوْ شَآئَ اللّٰہُ لَاَ نْزَلَ مَلٰٓپکَۃًجصلے ( المؤمنون : 24) لِیُنْذِرَکُمْ (تاکہ وہ شخص تم کو ڈرائے) تاکہ وہ تمہیں کفر کے انجام سے ڈرائیں وَلِتَتَّقُوْا (اور تاکہ تم ڈرجائو) تاکہ تقویٰ تم سے پایا جائے اور وہ خشیت ہے جو انذار کے سبب سے ہو۔ وَلَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ (اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے) تاکہ تقویٰ کے سبب تم پر رحم ہو۔ اگر وہ تم میں پا یا جائے۔
Ayah 7:64تکذیب اور نتیجہ :
آیت 64: فَکَذَّبُوْہُ (پس وہ لوگ اس کی تکذیب ہی کرتے رہے) پس انہوں نے ان کی نسبت کذب کی طرف کی۔ فَاَنْجَیْنٰہُ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ (تو ہم نے نوح ( علیہ السلام) اور جو لوگ ان کے ساتھ کشتی میں تھے بچا لیا) وہ چالیس آدمی تھے اور چالیس عورتیں دوسراقول یہ ہے نو آدمی تین ان کے بیٹے سام، حام ‘ یا فث اور چھ ان میں سے جو آپ پر ایمان لائے۔ فِی الْفُلْکِ اس کا تعلق معہ کے ساتھ ہے۔ گویا اس طرح کہا گیا والذین صحبوا فی الفلک اور وہ لوگ جنہوں نے انکا ساتھ دیا کشتی میں۔ وَاَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا۔ اِنَّھُمْ کَا نُوْا قَوْ مًا عَمِیْنَ (اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا ان کو ہم نے غرق کردیا۔ بیشک وہ لوگ اندھے ہو رہے تھے) حق سے۔ کہا جاتا۔ اعمیٰ کا لفظ بصر میں اندھے پن کے لئے آتا ہے۔ اور عم کا لفظ بصیرت میں اندھے پن کے لئے آتا ہے۔
Ayah 7:65دعوت ہود۔ :
آیت 65: وَاِلٰی عَادٍ (اور ہم نے قوم عاد کی طرف بھیجا) اور ہم نے بھیجا عاد کی طرف۔ اس کا عطف نوح پر ہے اَخَاھُمْ (ان کے بھائی) ان میں سے ایک۔ جیسا تم کہو اخا العرب مراد اس سے ان عربوں میں سے ایک ہوتا ہے۔ ان میں سے ایک قرار دیا گیا کیونکہ وہ ان میں فہیم ترین انسان تھے۔ پس حجت ان پر خوب لازم ثابت ہوگئی۔ (گنجائش انکار نہ رہی) ھُوْدًا (ہود ( علیہ السلام) کو) یہ اخاھمکا عطف بیان ہے۔ ان کا سلسلہ نسب یہ ہے : ہود بن شالخ بن ارفخشد بن سام بن نوح۔ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰہَ مَا لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ اَفَلاَ تَتَّقُوْنَ (انہوں نے فرمایا اے میری قوم تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو۔ اس کے سواء تمہارا کوئی معبود نہیں۔ پس کیا تم نہیں ڈرتے) یہاں فقال نہیں فرمایا جیسا کہ قصہ نوح میں فرمایا تھا کیونکہ وہ فاءؔ ایک سائل کے سوال کے جواب میں لایا گیا۔ کہ ان کو نوح ( علیہ السلام) نے کیا کہا تو جواب دیا گیا۔ فقال یٰقوم اعبدوا اللّٰہ یہاں سوال مقدر کے بغیر ہے۔ اس لئے قال یٰقوم اعبدوا اللّٰہ فرمایا اور اسی طرح۔
Ayah 7:66سرداروں کا جواب :
آیت 66: قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ قَوْمِہٖ (قوم کے سردار کافروں نے کہا) یہاں الملاء کی صفت الذین کفروا سے کی۔ مگر قوم نوح کے ملاء کے تذکرہ الملأ من قومہ کہہ کر کردیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ھود ( علیہ السلام) کی قوم کے اشراف میں سے کچھ ایمان لائے تھے جن میں مرثد بن سعد تھے۔ اس وصف کو لا کر ان مسلمان سرداروں کو الگ کرنا مقصود تھا۔ جبکہ قوم نوح کے اشراف میں سے کوئی بھی ایمان نہ لایا۔ اِنَّا لَنَرٰکَ فِیْ سَفَاھَۃٍ (ہم تم کو کم عقلی میں دیکھتے ہیں) کہ تجھ میں حلم کی کمی ہے۔ اور عقل کی کمزوری ہے اس لئے کہ تم نے قوم کا دین چھوڑ کر دوسرا دین اپنا لیا ہے۔ یہاں سفاہت کو مجازًا ظرف قرار دیا۔ مطلب یہ ہے کہ وہ سفاہت اس میں جمی ہوئی ہے اس سے نکل نہیں سکتی۔ وَّ اِنَّا لَنَظُنُّکَ مِنَ الْکٰذِبِیْنَ (ہم بیشک تم کو جھوٹے لوگوں میں سے کہتے ہیں) تمہارے دعویٔ رسالت میں۔
Ayahs 7:67–68ہود ( علیہ السلام) کی جوابی تقریر نمبر 1:
آیت 67، آیت 68: قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ سَفَاہَۃٌ وَّ لٰکِنّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ اُبَلِّغُکُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَاَنَا لَکُمْ نَاصِحٌ اَمیْنٌ (انہوں نے فرمایا اے میری قوم مجھ میں کم عقلی نہیں۔ لیکن میں پروردگار عالم کا بھیجا ہوا پیغمبر ہوں۔ تم کو اپنے رب کے پیغام پہنچاتا ہوں اور میں تمہارا سچا خیرخواہ ہوں)
اس چیز میں جس میں میں تمہیں اس کی طرف بلاتا ہوں۔ امین اس پر جو میں تمہیں کہتا ہوں۔ یہاں وانا لکم ناصح امین فرمایا۔ ان کے قول وانالنظنک من الکاذبین کے مقابلہ میں تاکہ اسم کے مقابلہ میں اسم ہو۔ جملہ اسمیہ استمرار پر دلالت کرتا ہے۔ حسن ادب : جن لوگوں نے انبیاء کو ضلالت و سفاہت کی طرف منسوب کیا ان کے جواب میں انبیاء نے حلم ‘ چشم پوشی اور ان کے اقوال کا عدم مقابلہ ظاہر فرمایا۔ باوجود یہ کہ وہ جانتے تھے کہ ان کے مخالفین لوگوں میں گمراہ ترین اور احمق ترین لوگ ہیں۔ اس میں حسن ادب، اعلیٰ اخلاق کا شاندار نمونہ ہے اس سے اللہ تعالیٰ اپنے دوسروں بندوں کو یہ تعلیم دے رہے ہیں کہ بیوقوفوں سے کس طرح بات کریں اور ان سے کس طرح چشم پوشی اختیار کریں۔ اور ان سے ہونے والی غلطیوں پر کس طرح دامن رحمت ڈالیں۔ (سبحان اللّٰہ)
Ayah 7:69تقریر نمبر : 2
آیت 69: اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآئَ کُمْ ذِکْرٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ عَلٰی رَجُلٍ مِّنْکُمْ لِیُنْذِرَکُمْ وَاذْکُرُوْٓا اِذْ جَعَلَکُمْ خُلَفَآئَ مِنْم بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ (اور کیا تم اس بات سے تعجب کرتے ہو کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس ایک ایسے شخص کی معرفت جو تمہاری ہی جنس کا ہے کوئی نصیحت کی بات آگئی تاکہ وہ شخص تم کو ڈرائے۔ اور تم یہ حالت یاد کرو کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو قوم نوح کے بعد آباد کیا) یعنی تم زمین میں ان کے نائب ہو۔ یا اپنے مکانات میں اِذْیہاں مفعول بہ ہے۔ ظرف نہیں۔ یعنی اذکروا وقت استخلا فکم اپنے نائب بننے کا وقت یاد کرو۔ وَّ زَادَ کُمْ فِی الْخَلْقِ بَصْطَۃً (اور ڈیل ڈول میں تم کو پھیلائو زیادہ دیا) لمبائی اور درازی ( ان میں چھوٹا ساٹھ ہاتھ ہوتا اور لمبا سو ہاتھ ہوتا تھا) یہ اسرائیلی روایات سے ماخوذ ہے بصطۃ حجازی، عاصم، علی نے صاد پڑھا نہ کہ سینفَاذْکُرُوْٓا اٰلَآئَ اللّٰہِ (پس اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد کرو) اپنے نائب بننے میں اور اجسام کے بڑے ہونے میں اور اس کے علاوہ اس کے دیگر عطیات میں ٰالآء کا واحد اِلیٌ ہے جیسے انی وٰاناء۔ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ (تاکہ تم کو فلاح ہو)
Ayah 7:70قوم کا اعتراض :
آیت 70: قَالُوْٓا اَجِئْتَنَا (وہ کہنے لگے کیا آپ ہمارے پاس اس لئے آئے ہونگے) اس میں آنے کا یہ معنی ہے کہ ھود ( علیہ السلام) کا قوم سے الگ تھلگ مکان تھا جس میں عبادت کرتے تھے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ بعثت سے قبل حراء میں کرتے تھے۔ جب ان کی طرف وحی آئی تو قوم کی طرف دعوت دینے کے لئے آئے۔ لِنَعْبُدَ اللّٰہَ وَحْدَہٗ وَنَذَرَ مَاکَانَ یَعْبُدُ ٰابَآ ؤُنَا (کہ ہم صرف اللہ ہی کی عبادت کیا کریں اور چھوڑ دیں جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے تھے) انہوں نے اس بات کو عجیب خیال کیا اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کے ساتھ خاص ہونا بعید خیال کیا۔ دین آباء کو ترک کرنا جو کہ بت پرستی تھا اور اسی میں نشونما ہوئی تھی انہوں نے بہت بعید سمجھا۔ فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ یعنی عذاب اِنْ کُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ (اگر تم سچے ہو) کہ عذاب ہم پر اترنے والا ہے۔
Ayah 7:71جواب ھود۔ :
آیت 71: قَالَ قَدْ وَقَعَ (انہوں نے فرمایا بس اب آیا چاہتا ہے) یعنی اترا چاہتا ہے عَلَیْکُمْ (تم پر) آپ نے متوقع عذاب جس کا اترنا ان پر ضروری تھا۔ واقع ہونے والے عذاب کی طرح قرار دیا۔ جیسا کہ وہ آدمی جو تم سے بعض مطالبے کرلے تو تم اسے کہو۔ قد کان کہ تمہارا مطالبہ تو ابھی پورا ہوا۔ مِّنْ رَّبِّکُمْ رِجْسٌ (عذاب) وَّ غَضَبٌ (تمہارے رب کا عذاب اور غضب) ناراضگی۔ اَتُجَادِ لُوْنَنِیْ فِیْٓ اَسْمَآئٍ سَمَّیْتُمُوْھَآ (کیا تم مجھ سے ایسے ناموں کے بارے میں جھگڑے ہو) ان چیزوں کے متعلق جو کہ محض نام ہیں جن کے نیچے کوئی حقیقت نہیں کیونکہ تم نے اصنام کا نام اٰلھہ رکھا۔ حالانکہ الوہیت کے معنی سے وہ خالی ہیں۔ اَنْتُمْ وَ ٰابَآؤُ کُمْ مَّا نَزَّلَ اللّٰہُ بِھَا مِنْ سُلْطٰنٍ فَانْتَظِرُوْا اِنِّیْ مَعَکُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ (تم نے اور تمہارے آباء نے۔ ان کے معبود ہونے کی اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نہیں بھیجی۔ پس تم منتظر رہو۔ میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کر رہا ہوں)
Ayah 7:72نتیجتاً کفار کی جڑ کاٹ دی :
آیت 72: فَاَنْجَیْنٰہُ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ (غرض ہم نے ان کو اور ان کے ساتھیوں کو بچالیا) یعنی جو ان پر ایمان لائے بِرَحْمَۃٍ مِّنَّا وَقَطَعْنَا دَ ابِرَ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰ یٰتِنَا (اپنی رحمت سے۔ اور ان لوگوں کی جڑکاٹ دی جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا) ۔
الدابرجڑ یا جو کسی چیز کے بعد ہو۔ اور قطع دا بر سے مراد مکمل استیصال اور ملیامیٹ ہونا ہے۔ وَ مَا کَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ (اور وہ ایمان لانے والے نہ تھے) : ان سے ایمان کی نفی کی اس کے باوجود کہ تکذیب آیات کا ان کے لئے اثبات کیا۔ تو اس سے یہ بتلانا مقصود ہے کہ ہلاکت مکذبین کے ساتھ خاص ہے۔
علاقہ قوم عاد اور مختصر حالات :
قوم عاد، عمان اور حضرموت کے درمیان تمام علاقے میں پھیلے ہوئے تھے۔ ان کے ہاں بت تھے جن کی وہ پرستش کرتے تھے۔ بتوں کے معروف نام یہ تھے۔ نمبر 1۔ صداء۔ نمبر 2۔ صمود۔ نمبر 3۔ ھباء۔ ان کی طرف اللہ تعالیٰ نے ھود ( علیہ السلام) کو بھیجا مگر انہوں نے جھٹلا دیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے تین سال کے لئے ان سے بارش کو روک دیا۔ جب ان پر کوئی مصیبت آتی تو اللہ تعالیٰ سے کشادگی طلب کرتے اور دعا کے لئے بیت الحرام مکہ مکرمہ جاتے چناچہ اس قحط کے لئے قیل بن عنز اور لقیم بن ہزال اور مرثد بن سعد، یہ ھود ( علیہ السلام) پر خفیہ ایمان رکھتا تھا۔ اس وقت ان پر عمالقہ کی حکومت تھی۔ جو کہ عملیق بن لاوذبن سام بن نوح کی اولاد تھے۔ اور ان کا سردار معاویہ بن بکر تھا۔ یہ وفد اس کے ہاں مکہ کے بالائی علاقے پر اترے۔ ان کو مرثد نے کہا جب تک تم ھود ( علیہ السلام) پر ایمان نہ لائو گے بارش نہ ہوگی۔ انہوں نے مرثد کو پیچھے چھوڑا اور خود نکل کر بیت اللہ کے پاس گئے اور یہ دعا کی۔ اللّٰھم اسق عادًا ماکنت تسقیھمٗ اللہ تعالیٰ نے تین بادل سامنے کر دئے۔ سفید، سرخ، سیاہ پھر آسمان کے ایک منادی نے کہا یاقیل اختر لنفسک ولقومک اے قیل ان میں سے اپنی قوم اور اپنے لئے ایک بادل چن لو اس نے سیاہ بادل کا چنائو کیا کیونکہ اس میں پانی زیادہ ہوتا ہے۔ پھر قوم کی طرف وادی کے قریبی راستہ سے لوٹ گئے اور ان کو خوشخبری سنائی وہ خوش ہوئے اور کہنے لگے ھذا عارض ممطرنا۔ مگر اس سے سخت ہوا نکلی جس نے ان کو ہلاک کردیا۔ ھود ( علیہ السلام) اور ایمان والوں نے نجات پائی وہ مکہ مکرمہ میں آب سے اور مدت تک وہیں رہے۔
Ayah 7:73قوم صالح ( علیہ السلام) کا تذکرہ :
آیت 73: وَاِلٰی ثَمُوْدَ ۔ (ہم نے بھیجا ثمود کی طرف) ایک قراءت میں ثمود بھی پڑھا گیا ہے کیونکہ قبیلہ کا نام ہے۔ یا اصل کے لحاظ سے کیونکہ ان کے بڑے دادا کا نام ہے۔ غیر منصرف تو قبیلہ کا نام ماننے کی وجہ سے ہے ایک قول یہ ہے کہ ان کو ثمود اس لئے کہا جاتا ہے کہ ان کے ہاں پانی کم تھا۔ یہ ثمد سے ماخوذ ہے۔ وہ تھوڑے پانی کو کہتے ہیں۔ ان کے مکانات پتھروں کے تھے۔ حجاز و شام کے مابین واقع تھے۔ اَخَاھُمْ صٰلِحًا قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰہَ مَالَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ قَدْ جَآئَ تْکُمْ بَیِّنَۃٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ یہ ظاہر نشانی ہے جو میری نبوت کے صحیح ہونے کی دلیل ہے گویا اس طرح کہا ما ھذہ البینۃ ؟ کہ یہ دلیل کیا ہے ؟ تو انہوں نے کہا ھٰذِہٖ نَاقَۃُ اللّٰہِ اللہ تعالیٰ کی طرف اس کی اضافت تعظیم و تخصیص کے لئے ہے۔ کیونکہ وہ محض قدرت الٰہی سے بلا صلب و رحم کے پہاڑ سے نکلی تھی۔ لَـکُمْ ٰایَۃً یہ ناقۃ سے حال ہے اس میں ہذہٖ کا اشارہ والا معنی عامل ہے۔ گویا اس طرح کہا گیا۔ اشیر الیھا ٰایۃً میں اس کی طرف اشارہ کرتا ہوں۔ اس حال میں کہ یہ نشانی ہے۔ ولکم یہ بیان ہے اس بات کا کہ یہ کس کے لئے نشانی ہے۔ کم سے مراد قوم ثمود ہے۔ جنہوں نے اس کو آنکھوں سے دیکھا تھا۔ فَذَرُوْھَا تَاْکُلْ فِیْٓ اَرْضِ اللّٰہِ یعنی زمین تو اللہ تعالیٰ کی زمین ہے اور اونٹنی اللہ کی اونٹنی ہے۔ اس کو چھوڑ دو ۔ اس کے رب کی زمین میں تاکہ اپنے رب کی نباتات کھائے پیئے تمہارے ذمہ اس کے چارہ کی مشقت نہیں۔ وَلَا تَمَسُّوْھَا بِسُوْٓئٍ اس کو مت مارو اور نہ کونچیں کاٹو۔ اللہ تعالیٰ کے احترام کا تقاضا یہ ہیفَیَاْ خُذَکُمْ یہ نہی کا جواب ہے۔ عَذَابٌ اَلِیْمٌ (درد ناک عذاب ) ۔
Ayah 7:74تقریر صالح۔ ‘ انعامات کی یاد دہانی :
آیت 74: وَاذْکُرُوْٓا اِذْ جَعَلَکُمْ خُلَفَآئَ مِنْم بَعْدِ عَادٍ وَّ بَوَّاَکُمْ (اور تم یہ حالت یاد کرو کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو عاد کے بعد آباد کیا اور تم کو ٹھکانا دیا) اور تمہیں ٹھہرایا۔ المباء ۃ منزل کو کہتے ہیں۔ فِی الْاَرْضِ (زمین میں تراش) ارض حجر جو شام و حجاز کے درمیان ہے تَتَّخِذُوْنَ مِنْ سُھُوْلِھَا قُصُوْرًا (کہ تم نرم زمین پر محل بناتے ہو) بالا خانے گرمیوں کے آرام کے لئے وَّ تَنْحِتُوْنَ الْجِبَالَ بُیُوْتًا (اور پہاڑوں کو تراش کر ان میں گھر بناتے ہو) سردیوں کے لئے بیوتاً یہ حال مقدرہ ہے۔ جیسے خط ھذا الثوب قمیصا اس کپڑے کی قمیص بنائو اس لئے کہ پہاڑ گھڑنے کے دوران تو گھر نہیں بن سکتا اور نہ ہی کپڑا سلائی کے دوران قمیص ہوتا ہے۔ فَاذْکُرُوْا ٰالَآ ئَ اللّٰہِ وَلَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ (پس اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فساد مت پھیلائو) روایت میں ہے کہ قوم عاد ہلاک ہوگئی تو ان کے علاقہ کی زمین کو قوم ثمود نے آباد کیا اور اس سر زمین میں ان کے نائب ہوگئے۔ ان کی طویل عمریں تھیں اور انہوں نے پہاڑ کھود کھود کر گھر بنائے۔ تاکہ موت سے قبل منہدم نہ ہوں۔ ان کو وسعت مالی میسر تھی پس وہ اللہ تعالیٰ کی سرکشی پر اتر آئے اور زمین میں فساد مچایا اور بت پرستی پر لگ گئے اللہ نے ان کی طرف صالح ( علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا یہ عرب لوگ تھے صالح ( علیہ السلام) ان کے متوسط طبقے میں سے تھے انہوں نے ثمود کو اللہ کی طرف بلایامگر تھوڑے لوگوں کے علاوہ ان کی کسی نے اتباع نہ کی وہ بھی کمزور طبقہ کے لوگ تھے آپ نے مسلسل ان کو ڈرایا۔
بالآخر انہوں نے معینہ پہاڑ سے دس ماہ کی گابھن اونٹنی نکالنے کا مطالبہ کیا آپ نے نماز پڑھ کر دعا فرمائی۔ پہاڑ سے گابھن اونٹنی جیسی آواز نکلی اور ایک قوی ہیکل اونٹنی نکلی اس پر جندع اور ان کی قوم کا ایک گروہ ایمان لے آیا۔
Ayah 7:75آیت 75: قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْا مِنْ قَوْمِہٖ (ان کی قوم میں جو متکبر سردار تھے انہوں نے کہا) قراءت : شامی نے وقال پڑھا ہے۔ لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا (غریب لوگوں سے) کفار سرداروں نے جن کو کمزور بنا رکھا تھا۔ لِمَنْ ٰامَنَ مِنْھُمْ ۔
نحو : یہ الذین استضعفوا سے بدل ہے اور اس میں جاء کا اعادہ کیا گیا ہے۔ اس میں دلیل ہے کہ بدل جہاں بھی آئے گا۔
وہاں عامل کا اعادہ مقدر ضرور ہوگا۔ منھم کی ضمیر کا مرجع قوم ہے۔ اس میں دلیل ہے کہ انہوں نے فقط ایمان والوں کو کمزور بنا رکھا تھا۔ یا ضمیر مستضعفین کی طرف لوٹتی ہے اور اس میں یہ اشارہ ملتا ہے کہ مستضعفین مومن و کافر دونوں طرح کے لوگ تھے۔
اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ صٰلِحًا مُّرْسَلٌ مِّنْ رَّبِّہٖ (کیا تم کو اس بات کا یقین ہے کہ صالح اپنے رب کی طرف سے بھیجے ہوئے ہیں) یہ بات انہوں نے بطور تمسخر کہی۔ قَالُوْٓٓا اِنَّا بِمَآ اُرْسِلَ بِہٖ مُؤْمِنُوْنَ (انہوں نے کہا ہم تو بیشک اس پر پورا یقین رکھتے ہیں جو ان کو دیکر بھیجا گیا ہے) یہ ان کا جواب ہوا۔ کیونکہ انہوں نے آپ کے رسول بنائے جانے کے متعلق سوال کیا پس انہوں نے آپکی رسالت کو ایک مسلمہ بات قرار دیا۔ گویا انہوں نے اس طرح کہا کہ مرسل ہونے کا علم اور جو کچھ وہ دیکر بھیجے گئے اس کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے میں کوئی اشتباہ نہیں کلام اس پر ہے کہ آیا ان پر ایمان لانا واجب ہے پس ہم تمہیں خبر دے رہے ہیں کہ ہم ان پر ایمان لانے والے ہیں۔
Ayah 7:76متکبرین کا جوابی رویہ :
آیت 76: قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْٓ ا اِنَّا بِالَّذِیْ ٰامَنْتُمْ بِہٖ کٰفِرُوْنَ (متکبر سرداروں نے کہا کہ اس میں شک نہیں کہ تم جس پر ایمان لائے ہو ہم اس کے منکر ہیں) انہوں نے ٰامنتم بہٖ کو ارسل بہٖ کی جگہ ذکر کرکے کفار اس بات کی تردید کر رہے ہیں۔ کہ جس ایمان کو تم مسلّم کہتے ہو ہم اسی کا انکار کرتے ہیں