7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsمدارک التنزیل

Ayah 7:185

اَوَ لَمْ یَنْظُرُوْا فِیْ مَلَكُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ١ۙ وَّ اَنْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ قَدِ اقْتَرَبَ اَجَلُهُمْ١ۚ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَهٗ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:185 in the Quran reader

کیا انہوں نے آسمان اور زمین کی بادشاہت میں اور جو چیز خدا نے پیدا کی ہیں ان پر نظر نہیں کی ؟ اور (اس بات پر خیال نہیں کیا) کہ عجب نہیں کہ ان (کی موت) کا وقت نزدیک پہنچ گیا ہو ؟ تو اس کے بعد وہ اور کس بات پر ایمان لائیں گے ؟

غور کر کے انہیں حق کی تلاش اور اچانک عذاب سے بچائو تلاش کرنا چاہیے : آیت 185 : اَوَلَمْ یَنْظُرُوْا (کیا انہوں نے غور نہیں کیا) دلیل حاصل کرنے کی نظر سے فِیْ مَلَکُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (آسمان و زمین کی حکومت میں) ملکوت عظیم بادشاہی وَمَا خَلَقَ اللّٰہُ مِنْ شَیْئٍ (اور دوسری چیزوں میں جو اللہ نے پیدا کی ہیں) اور جو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی ہیں۔ اور جس پر شئی کا لفظ بولا جاسکتا ہے۔ اپنی ان گنت اجناس و اعداد کے ساتھ وَّاَنْ عَسٰٓی (کہ ممکن ہے) یہ اَنْ محفّفہ من المثقلہ ہے اور اصل اس طرح ہے اِنَّہٗ عسٰی، ہٗ ضمیر شان ہے اور ملکوت پر عطف کی وجہ سے موضع جر میں واقع ہے مطلب یہ ہے کیا وہ غور نہیں کرتے اس بات میں کہ حالت و بات یہ ہے کہ ہوسکتا ہے اَنْ یَّکُوْنَ قَدِ اقْتَرَبَ اَجَلُھُمْ (کہ ان کا وقت مقررہ قریب آپہنچا ہو) شاید کہ وہ جلدی مرجائیں پس ان کو غور میں جلدی کرنی چاہیے اور حق کی تلاش اور اس چیز کو جوا نکو اچانک موت اور عذاب کے نازل ہونے سے پہلے بچا سکتی ہو۔ جلد ڈھونڈنا چاہے۔ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍم بَعْدَہٗ یُؤْمِنُوْنَ (پھر قرآن کے بعد کس بات پر یہ لوگ ایمان لائیں گے) ہٗ کی ضمیر قرآن کی طرف راجع ہے۔ یؤمنون جب کہ وہ ایمان نہ لائیں یہ عسٰی ان یکون قد اقترب اجلھم کے متعلق ہے۔ گویا اس طرح کہا گیا کہ لعل اجلھم قد اقترب فما لھم لایبا درون الایمان بالقرٰان قبل الموت و ماذا ینظرون بعد وضوح الحق۔ وبایّ حدیث احق منہ یریدون ان یؤمنوا۔ شاید کہ انکا وقت مقررہ قریب ہو پس انہیں کیا ہوگیا کہ پھر قرآن پر موت سے پہلے ایمان لانے میں جلدی نہیں کرتے ؟ حق ظاہر ہوجانے کے بعد اب یہ کس چیز کے منتظر ہیں۔ اس سے زیادہ اور کون سی بات ہے جس پر وہ ایمان لانا چاہتے ہیں۔
Ayah 7:186

مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِیَ لَهٗ١ؕ وَ یَذَرُهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 7:186 in the Quran reader

جس شخص کو خدا گمراہ کرے اسکو کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ اور وہ ان (گمراہوں) کو چھوڑے رکھتا ہے کہ اپنی سرکشی میں پڑے بہکتے رہیں۔

گمراہ راہ پر نہیں آسکتا : آیت 186: مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ فَـلَا ھَادِیَ لَہٗ (جس کو اللہ گمراہ کرے اس کو کوئی راہ پر نہیں لاسکتا) یعنی اللہ تعالیٰ اس کو گمراہ کر دے۔ وَیَذَرُھُمْ (اور وہ ان کو چھوڑ دیتا ہے) قراءت : عراقی نے یا سے پڑھا ہے اور حمزہ وعلی نے محل فلا ھادی لہ پر عطف کر کے یذرھم جزم سے پڑھا ہے۔ گویا عبارت اس طرح ہے من یضلل اللّٰہ لایھدہ احد ویذرھم رفع کی صورت میں جملہ مستانفہ ہے اور وہ یذرھم ہے باقی قراء نے نذرھم پڑھا ہے۔ فِیْ طُغْیَانِھِمْ (ان کی گمراہی میں) اپنے کفر میں یَعْمَھُوْنَ (وہ بھٹکتے پھریں) حیران ہیں۔
Ayah 7:187

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَیَّانَ مُرْسٰىهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْ١ۚ لَا یُجَلِّیْهَا لِوَقْتِهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؔۘؕ ثَقُلَتْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَا تَاْتِیْكُمْ اِلَّا بَغْتَةً١ؕ یَسْئَلُوْنَكَ كَاَنَّكَ حَفِیٌّ عَنْهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:187 in the Quran reader

(یہ لوگ) تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کے واقع ہونے کا وقت کب ہے ؟ کہہ دو اس کا علم تو میرے پروردگار ہی کو ہے۔ وہی اسے اس کے وقت پر ظاہر کر دے گا۔ وہ آسمان اور زمین میں ایک بھاری بات ہوگی۔ اور ناگہاں تم پر آجائے گی۔ یہ تم سے اس طرح دریافت کرتے ہیں کہ گویا تم اس سے بخوبی واقف ہو۔ کہو کہ اس کا علم تو خدا ہی کو ہے لیکن اکثر لوگ یہ نہیں جانتے۔

وقوعِ قیامت کا سوال : آیت 187: جب یہود یا قریش نے سوال کیا کہ قیامت کب آئے گی تو یہ آیت اتری۔ یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ السَّاعَۃِ (یہ لوگ آپ سے قیامت کے متعلق پوچھتے ہیں) یہ قیامت کے اسمائے غالبہ میں سے ہے جیسے ثریا کو نجم کہتے ہیں۔ نمبر 1۔ قیامت کو ساعۃ کہنے کی وجہ اس کا اچانک آنا ہے۔ نمبر 2۔ اس میں بہت جلد حساب ہوگا۔ نمبر 3۔ قیامت اپنی طوالت کے باوجود اللہ تعالیٰ کے ہاں مخلوق کی ایک ساعت کی طرح ہے۔ اَیَّانَ (کہ کب ہوگا) کب یہ ای سے اشتقاق کیا گیا ہے اس کا وزن فعلان ہے کیونکہ اس کا معنی اس وقت ؟ ہے مُرْسٰھَا (اس کا وقوع) اس کا لنگر انداز ہونا۔ آنا یہ المدخل کی طرح مصدر میمی ہے۔ ادخال کے معنی میں ہے۔ مراد وقت ارسائھا ای اثباتھا اس کے ثابت و قائم ہونے کا وقت مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو کب قائم فرمائیں گے۔ وقوعِ قیامت کا علم فقط اللہ کو ہے : قُلْ اِنَّمَا عِلْمُھَا عِنْدَ رَبِّیْ (آپ فرمادیں کہ اس کا علم صرف میرے رب ہی کے پاس ہے) یعنی اس کی آمد کا وقت اس نے اپنے ہاں رکھا ہے۔ کسی ملک مقرب یا نبی مرسل کو بھی خبر نہیں دی تاکہ یہ بات اطاعت کی طرف زیادہ رجحان کا سبب بنے۔ اور معصیت سے زیادہ رکاوٹ لائے جیسا کہ خاص وقت مقررہ موت بالکل مخفی ہے۔ اسی لیے لَا یُجَلِّیْھَا لِوَ قْتِھَآ اِلَّا ھُوَ (اس کے وقت پر اس کو اللہ کے سوا کوئی ظاہر نہیں کریگا) اللہ تعالیٰ جو وحدہٗ لا شریک ہے وہی اس کے معاملے کو ظاہر کرے گا۔ اور اس کے مخفی علم کو منکشف کرے گا۔ ثَقُلَتْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (وہ آسمان و زمین کا سب سے بھاری حادثہ ہوگا) آسمان و زمین کے رہنے والے خواہ ملائکہ ہوں یا ثقلین ان کے لیے قیامت کا معاملہ بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ ہر ایک ان میں سے اس بات کا متمنی ہے کہ اس کو اس کا علم ہوجائے۔ اس کا مخفی رہنا ان پر بڑا گراں اور بھاری ہورہا ہے۔ نمبر 2۔ آسمان و زمین میں قیامت بھاری ہے کیونکہ آسمان و زمین کے رہائشی اس کے احوال و شدائد سے ترساں و لرزاں ہیں۔ لَا تَاْ تِیْکُمْ اِلَّا بَغْتَۃً (وہ تم پر اچانک ہی آپڑے گی) اچانک تمہاری غفلت کی حالت میں یَسْئَلُوْنَکَ کَانَّکَ حَفِیٌّ عَنْھَا (وہ آپ سے اس طرح پوچھتے ہیں گویا کہ آپ اس کی تحقیقات کرچکے ہیں) گویا کہ آپ اس کو جانتے ہیں اس کی حقیقت یہ ہے گویا آپ اس کے متعلق مبالغہ سے دریافت کرنے والے ہیں۔ جو کسی مسئلہ کے متعلق سوال میں مبالغہ کرتا ہے اور اس کے متعلق کھود کرید کرتا ہے اس چیز کے متعلق اس کا علم مستحکم ہوجاتا ہے۔ اس ترکیب کا مقصد مبالغہ ہے اسی سے احفاء الشارب ہے نمبر 2۔ عنھا یہ یسألونک کے متعلق ہے یسألونک عنھا کانک حفیّ عالم بھا وہ آپ سے قیامت کے متعلق پوچھتے ہیں گویا کہ آپ اس کا علم رکھنے والے ہیں۔ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُھَا عِنْدَ اللّٰہِ (آپ فرمادیں کہ اس کا علم تو صرف اللہ ہی کو ہے) یسألونککو دوبارہ لائے اور انما علمھا ‘ کانک حفی عنھا کے لئے تاکید واضافہ کے لیے ہے۔ اسی لیے علماء کے اپنی کتابوں میں مکررات فائدہ سے خالی نہیں۔ جیسا محمد بن الحسن کی مکررات وَلٰـکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ (اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے) اسی ہی کو خاص طور پر اس کا علم ہے۔
Ayah 7:188

قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَیْبَ لَا سْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِ١ۛۖۚ وَ مَا مَسَّنِیَ السُّوْٓءُ١ۛۚ اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ وَّ بَشِیْرٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 7:188 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں اپنے فائدے اور نقصان کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا مگر جو خدا چاہے۔ اور اگر میں غیب کی باتیں جانتا ہوتا تو بہت سے فائدے جمع کرلیتا۔ اور مجھ کو کوئی تکلیف نہ پہنچتی۔ میں تو مومنوں کو ڈر اور خوشخبری سنانے والا ہوں۔

علم و اختیار کی نفی کا اعلان : آیت 188: قُلْ لَّآ اَمْْلِکُ لِنَفْسِیْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّ ا اِلاَّ مَاشَآ ئَ اللّٰہُ (آپ کہہ دیں کہ میں خود اپنی ذات خاص کیلئے کسی نفع کا اختیار نہیں رکھتا اور نہ نقصان کا مگر اتنا جتنا اللہ نے چاہا) اس میں اظہار عبودیت ہے اور اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے جو علم خاص ہے اس سے براءت کا اظہار ہے۔ یعنی میں تو ایک کمزور بندہ ہوں اپنے نفس کے لیے جلب منفعت اور دفع مضرت کا ذرہ بھر اختیار غلاموں کی طرح نہیں رکھتا۔ مگر جو میرے لئے نفع دینا اور نقصان دور کرنا چاہے۔ وَلَوْ کُنْتُ اَعَلْمُ الْغَیْبَ لاَسْتَکْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِ وَمَا مَسَّنِیَ السُّوْٓئُ (اور اگر میں غیب کی باتیں جانتا ہوتا تو میں بہت سے منافع حاصل کرلیا کرتا اور کوئی دکھ بھی مجھ کو نہ پہنچتا) خیر کی کثرت چاہنے اور تکلیف و نقصان سے بچنے میں میری حالت موجودہ حالت سے بہتر ہوتی۔ یہاں تک کہ ان تکالیف میں سے کوئی چیز مجھے نہ پہنچتی اور نہ ہی لڑائیوں میں ایک مرتبہ غالب اور دوسری مرتبہ مغلوب ہوتا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ الغیب سے مراد مقرر وقت اور الخیر سے مراد عمل اور السوء سے پریشانی و خوف مراد ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ لاستکثرت کے معنی میں قحط کے لئے خوشحالی تیار کرلیتا۔ السوء سے فقر مراد ہے اور تردید فرمائی۔ اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ وَّبَشِیْرٌ (میں تو صرف ڈرانے والا اور بشارت دینے والا ہوں) میں تو ایک بندہ ہوں جس کو بشیر و نذیر بنا کر بھیجا گیا ہے۔ میری شان نہیں کہ میں غیب کو جانوں۔ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ (ان لوگوں کو جو ایمان رکھتے ہیں) اس میں لام نذیر و بشیر کے متعلق ہے کیونکہ انذار اور بشارت ایمان والوں کو ہی فائدہ پہنچانے والی ہے۔ یا صرف بشیر کے متعلق ہے اور نذیر کا متعلق محذوف ہے یعنی الا نذیر للکافرین۔ کافروں کے لیے ڈرانے والے و بشیر لقوم یؤمنون اور مؤمنوں کو بشارت سنانے والے۔
Ayah 7:189

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِیَسْكُنَ اِلَیْهَا١ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِیْفًا فَمَرَّتْ بِهٖ١ۚ فَلَمَّاۤ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَئِنْ اٰتَیْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 7:189 in the Quran reader

وہ خدا ہی تو ہے جس نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا۔ اور اس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس سے راحت حاصل کرے۔ سو جب وہ اسکے پاس جاتا ہے تو اسے ہلکا کا حمل رہ جاتا ہے اور وہ اسکے ساتھ چلتی پھرتی ہے۔ پھر کچھ بوجھ معلوم کرتی (یعنی بچہ پیٹ میں بڑا ہوتا) ہے تو دونوں (میاں بیوی) اپنے پروردگار خدائے عزوجل سے التجا کرتے ہیں کہ اگر تو ہمیں صحیح وسالم (بچہ) دیگا تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے۔

آدم ( علیہ السلام) و حو ّا ( علیہ السلام) کی پیدائش : آیت 189: ھُوَ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ (وہی ہے جس نے تم کو ایک جسم سے پیدا کیا) وہ آدم کی ذات ہے وَّجَعَلَ مِنْھَا زَوْجَھَا (اور اسی سے اس کا جوڑا بنایا) حواء۔ ان کو آدم کے جسم کی پسلیوں میں سے کسی پسلی سے پیدا فرمایا لِیَسْکُنَ اِلَیْھَا (تاکہ وہ اپنے اس جوڑے سے انس حاصل کرے) تاکہ وہ مطمئن اور مائل ہوں کیونکہ جنس جنس کی طرف زیادہ مائل ہوتی ہے۔ خاص طور پر جبکہ وہ اس کا ایک حصہ ہو جیسا کہ انسان اپنے بیٹے سے مانوس ہوتا ہے اور اس سے اس طرح محبت کرتا ہے جیسا اپنی جان سے محبت کرتا ہے کیونکہ وہ اس کا ٹکڑا ہے۔ مسئلہ : لیسکن الیھا کو مذکر لائے۔ جبکہ دوسری آیت میں مؤنث لائے واحدۃ و خلق منھا زوجھا معنی کا لحاظ کر کے تاکہ واضح ہوجائے کہ مراد اس سے آدم کی ذات ہے۔ فَلَمَّا تَغَشّٰھَا (پھر جب خاوند نے اپنی بیوی سے قربت کی) اس سے قربت کی حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِیْفًا (تو اس کو حمل رہ گیا ہلکا سا) وہ اس پر آسان ہے اور اس کو وہ کرب واذٰی کی صورت پیش نہیں آئی۔ جو بعض حوامل کو پیش آتی ہیں۔ اور اس کو بوجھل کیا۔ جیسا دوسری عورتیں بوجھل ہوتی ہیں۔ فَمَرَّتْ بِہٖ (پس وہ اس کو لئے ہوئے چلتی پھرتی رہی) ولادت کے وقت تک اس کو لے کر چلتی رہی بغیر کسی کمی اور ناتمام گرنے کے نمبر 2۔ حملت حملاً خفیفًا سے حالت نطفہ مراد ہے مرّت بہٖ سے اٹھنا بیٹھنا مراد ہے۔ فَلَمَّآ اَثْقَلَتْ (پھر جب وہ بوجھل ہوگئی) جب اس کے حمل کے بوجھ کا وقت قریب آیا۔ دَّعَوَا اللّٰہَ رَبَّھُمَا (دونوں میاں بیوی اللہ تعالیٰ سے جو انکا رب تھا دعا کرنے لگے) آدم و حواء نے اپنے رب کو پکارا۔ وہ مالک جس کو ان پر پورا اختیار ہے۔ اور وہ پکارے جانے کے لائق ہے۔ اور اسی سے پناہ مانگی جاتی ہے تو دونوں نے کہا : لَپنْ ٰاتَیْتَنَا صَالِحًا (اگر آپ نے ہم کو صحیح سالم بچہ دیا) اگر اللہ نے ہمیں صحیح سالم بچہ عنایت فرمایا۔ نمبر 2۔ بیٹا دیا کیونکہ نرینہ اولاد بھی صلاح میں داخل ہے لَّنَکُوْنَنَّ مِنَ الشّٰکِرِیْنَ (تو ہم بڑے شکر گزارہوں گے) تیرے شکر گزار ٰاتَیْتَنَا اور لَنَکُوْنَنَّ کی ضمیر ان دونوں کی طرف راجع ہے اور ہر اولاد والے کی طرف راجع ہے۔
Ayah 7:190

فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهٗ شُرَكَآءَ فِیْمَاۤ اٰتٰىهُمَا١ۚ فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 7:190 in the Quran reader

جب وہ ان کو صحیح وسالم (بچہ) دیتا ہے تو اس (بچے) میں جو وہ ان کو دیتا ہے اسکا شریک مقرر کرتے ہیں جو وہ شرک کرتے ہیں خدا (کا رتبہ) اس سے بلند ہے۔

فرد سے جنس کی طرف التفات : آیت 190: فَلَمَّآ ٰاتَاھُمَا صَالِحًا (پھر جب اللہ نے ان کو صحیح سالم اولاد دے دی) ان کو دے دیا جو انہوں نے تندرست وسالم بچہ مانگا۔ جَعَلَالَہٗ شُرَکَآ ئَ (تو دونوں اللہ کا شریک قرار دینے لگے) یعنی ان کی اولاد نے اس کے لیے شریک بنائے۔ : گویا مضاف محذوف ہے۔ اور مضاف الیہ کو اس کا قائم مقام بنادیا۔ فِیْمَآ ٰاتٰہُمَا (اللہ کی دی ہوئی چیز میں) یعنی ان کی اولاد کو جو دیا اس کی دلیل آیت کا یہ حصہ۔ فَتَعٰلَی اللّٰہُ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ (پس اللہ تعالیٰ پاک ہے ان کے شرک سے) ہے اس لئے کہ ضمیر جمع کی لائی گی اور اس لیے بھی کہ آدم و حوا (علیہما السلام) شرک سے بری ہیں۔۔ اور اشرکہم فیھا ٰاتاھم اللّٰہ سے مراد اولاد کے نام عبدالعزیٰ ، عبدمناف، عبد شمس وغیرہ رکھ لیے حالانکہ اس کی بجائے عبداللہ عبدالرحمن، عبدالرحیم ہونے چاہیے تھے۔ نمبر 2۔ یہ خطاب قریش کو ہے جو عہد رسول اللہ ﷺ میں تھے وہ اور آل قصی ہیں۔ مطلب یہ ہوا کہ وہ ذات جس نے ایک نفس (قصی) سے پیدا کیا اور اس کی جنس سے عربی قریشی بیوی اس کو دی تاکہ اس کو سکون حاصل ہو۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو مطلوبہ صحیح سالم بیٹا عنایت کردیا تو اس اولاد میں اللہ تعالیٰ کا شریک بنانے لگے۔ اپنی ساری اولاد کے نام مشرکانہ رکھ دیئے۔ عبدالعزیٰ ، عبدمناف، عبد قصی، عبدالدار۔ اَ یُشْرِکُوْنَ میں ضمیر ان دونوں کی طرف راجع ہے کیونکہ ان دونوں کے پیچھے ان کی اولاد نے شرک میں ان کی اتباع کی۔ قراءت : شِرکًا مدنی وابو بکر نے پڑھا ہے یعنی ذوی شرکٍ اور وہ شرکاء ہیں۔
Ayah 7:191

اَیُشْرِكُوْنَ مَا لَا یَخْلُقُ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَ٘ۖ Open ayah 7:191 in the Quran reader

کیا وہ ایسوں کو شریک بناتے ہیں جو کچھ بھی پیدا نہیں کرسکتے اور خود پیدا کئے جاتے ہیں ؟

خالق کے ساتھ مخلوق کو شریک کرلیا : آیت 191: اَیُشْرِکُوْنَ مَالَا یَخْلُقُ شَیْئًا (کیا وہ ان کو شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی چیز کو بنانہ سکیں) یعنی بت وَّھُمْ یُخْلَقُوْنَ (اور وہ خود ہی بنائے جاتے ہیں) یہاں اصنام کو اہل علم کے قائم مقام رکھا گیا کیونکہ انکا اعتقاد بتوں کے متعلق اسی طرح تھا۔ مطلب یہ ہے کیا وہ ان کو شریک کر رہے ہیں۔ جو کسی چیز کو پیدا کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ حالانکہ وہ پیدا کئے گئے ہیں کیونکہ ان کا خالق تو اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ نمبر 2۔ ہم یخلقون کی ضمیر عابدین کی طرف لوٹتی ہے یعنی کیا ان کو شریک کرتے ہیں جو ذرہ بھر پیدا نہیں کرسکتے۔ اور وہ خود اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں۔ پس ان کے لیے مناسب ہے کہ اپنے خالق کی عبادت کریں۔ نمبر 3۔ عابدین معبودین دونوں کی طرف راجع ہے اور عابدین کو غلبہ دے کر تمام کو اولوا العلم قرار دیا۔
Ayah 7:192

وَ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ لَهُمْ نَصْرًا وَّ لَاۤ اَنْفُسَهُمْ یَنْصُرُوْنَ Open ayah 7:192 in the Quran reader

اور نہ ان کی مدد کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ اپنی ہی مدد کرسکتے ہیں۔

اپنا بچائو نہیں کرسکتے : آیت 192: وَلَایَسْتَطِیْعُوْنَ لَھُمْ نَصْرًا (اور وہ ان کو کسی قسم کی مدد نہیں دے سکتے) اپنے عابدین کے لیے وَّ لَآ اَنْفُسَھُمْ یَنْصُرُوْنَ (اور وہ خود اپنی بھی مدد نہیں کرسکتے) کہ جس سے اپنے اوپر آنیوالے حوادث توڑ پھوڑ کا بچائو کرلیں بلکہ ان کے پجاری ان سے یہ حوادث دور کرتے ہیں۔
Ayah 7:193

وَ اِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا یَتَّبِعُوْكُمْ١ؕ سَوَآءٌ عَلَیْكُمْ اَدَعَوْتُمُوْهُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ Open ayah 7:193 in the Quran reader

اگر تم ان کو سیدھے راستے کی طرف بلاؤ تو تمہارا کہا نہ مانیں تمہارے لئے برابر ہے کہ تم ان کو بلاؤ یا چپکے رہو۔

اگر بتوں کو پکارو و ُ ہ اس پکار تک نہ نہ پہنچ سکیں : آیت 193: وَاِنْ تَدْعُوْھُمْ (اور اگر تم ان کو پکارو) اگر تم ان بتوں کو بلائو اِلَی الْھُدٰی (بات بتلانے کیلئے) جو کہ ہدایت ورشد ہے نمبر 2۔ اس بات کے لیے کہ تمہاری راہنمائی کردیں یعنی تم ان سے خیر و ہدایت اسی طرح طلب کرو۔ جیسا اللہ تعالیٰ سے طلب کرتے ہو۔ لَا یَتَّبِعُوْکُمْ (وہ تمہارے کہنے پر نہ چلیں گے) یعنی تمہاری مراد اور طلب کی طرف وہ تمہیں جواب نہیں دے سکتے۔ جیسے اللہ تعالیٰ تمہیں جواب دیتے ہیں۔ قراءت : لایتبعوکم نافع نے پڑھا ہے۔ سَوَآ ئٌ عَلَیْکُمْ اَدَعَوْ تُمُوْھُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ (تمہارے لحاظ سے دونوں امر برابر ہیں خواہ تم ان کو پکارو یا تم خاموش رہو) ان کی پکار سے نہ ان کے ساتھ کامیابی ہے اور نہ وہ تمہیں جو اب دیں گے۔ جملہ فعلیہ سے جملہ اسمیہ کی طرف عدول آیات کے سروں کی رعایت کے لئے ہے۔
Ayah 7:194

اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ فَادْعُوْهُمْ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 7:194 in the Quran reader

(مشرکو) جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو تمہاری طرح کے بندے ہی ہیں (اچھا) تم ان کو پکارو اگر سچے ہو تو چاہئے کہ وہ تم کو جواب بھی دیں۔

جن کو پکارا جاتا ہے وہ مملوک ہیں : آیت 194: اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ (بےشک تم خدا کو چھوڑ کر جن کی عبادت کرتے ہو) یعنی جن کی تم عبادت کرتے اور جن کو تم الٰہ مانتے ہو۔ عِبَادٌ اَمْثَالُکُمْ (وہ بھی تم ہی جیسے بندے ہیں) یعنی وہ تمہاری طرح مخلوق و مملوک ہیں۔ فَادْ عُوْھُمْ (پس تم ان کو پکارو) حصول نفع یا دفع ضرر کے لیے فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لَکُمْ (پھر ان کو چاہیے کہ تمہارا کہنا مانیں) پس چاہیے کہ وہ جواب دیں اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ (اگر تم سچے ہو) اس بات میں کہ وہ اٰلہہ ہیں۔ پھر اسی بات کا ابطال کیا کہ وہ تم جیسے بھی ہوں۔
Ayah 7:195

اَلَهُمْ اَرْجُلٌ یَّمْشُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اَیْدٍ یَّبْطِشُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اَعْیُنٌ یُّبْصِرُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِهَا١ؕ قُلِ ادْعُوْا شُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ كِیْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 7:195 in the Quran reader

بھلا ان کے پاؤں ہیں جن سے چلیں یا ہاتھ ہیں جن سے پکڑیں یا آنکھیں ہیں جن سے دیکھیں یا کان ہیں جن سے سنیں ؟ کہہ دو کہ اپنے شریکوں کو بلا لو اور میرے بارے میں جو تدبیر کرنی ہو کرلو اور مجھے کچھ مہلت بھی نہ دو پھر دیکھو کہ وہ میرا کیا کرسکتے ہیں۔

بےبسوں کی عبادت کیوں ؟ آیت 195: اَلَھُمْ اَرْجُلٌ یَّمْشُوْنَ بِھَآ (کیا ان کے پائوں ہیں جن سے وہ چلتے ہیں) تمہاری طرح چلنا۔ اَمْ لَھُمْ اَیْدٍ یَّبْطِشُوْنَ بِہَا (یا ان کے ہاتھ ہیں جن سے کسی چیز کو پکڑتے ہیں) جن سے وہ چیزیں لیں۔ پکڑیں اَمْ لَھُمْ اَعُیْنٌ یُّبْصِرُوْنَ بِھَا (یا ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے ہوں) اَمْ لَھُمْ ٰاذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِھَا (یا ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے ہوں) پس پھر تم ان کی کیوں عبادت کرتے ہو جو تم سے کم تر ہیں۔ میرے خلاف زور لگالو : قُلِ ادْعُوْا شُرَکَآئَ کُمْ (آپ کہہ دیں کہ تم اپنے سب شرکاء کو بلالو) میری دشمنی میں ان سے مدد حاصل کرو۔ ثُمَّ کِیْدُوْنِ (پھر تدبیر کرو میرے متعلق) تم اور تمہارے شرکاء مل کر۔ قراءت : کیدونی۔ یعقوب نے پڑھا ابو عمرو نے وصل میں اس کی موافقت کی۔ فَـلَا تُنْظِرُوْنِ (پھر مجھ کو ذرا مہلت نہ دو ) مجھے تمہاری کوئی پرواہ نہیں مشرکین آپ کو اپنے شرکاء سے ڈراتے تھے پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا ان کو اس طرح خطاب فرمائیں۔ قراءت : فلا تنظرون یعقوب نے پڑھا۔
Ayah 7:196

اِنَّ وَلِیَِّۧ اللّٰهُ الَّذِیْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ١ۖ٘ وَ هُوَ یَتَوَلَّى الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 7:196 in the Quran reader

اور میرا پروردگار تو خدا ہی ہے جس نے کتاب (بر حق) نازل کی اور نیک لوگوں کا وہی دوست دار ہے۔

میرا کارساز اللہ ہے اس کا یہ حکم نامہ ہے : آیت 196: اِنَّ وَلِیِّ یَ (یقینا میرا مددگار اللہ تعالیٰ ہے) تمہارے خلاف میرا مددگار اللّٰہُ الَّذِیْ نَزَّلَ الْکِتٰبَ (جس نے یہ کتاب اتاری) جس نے میری طرف وحی بھیجی اور رسالت کے اعزاز سے نوازا۔ وَھُوَ یَتَوَلَّی الصّٰلِحِیْنَ (اور وہ نیکوں کی مدد کیا کرتا ہے) اس کا طریقہ یہی ہے کہ وہ اپنے بندوں میں سے صالحین کی مدد کرتا ہے اور ان کو رسوا نہیں کرتا۔
Ayah 7:197

وَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَ لَاۤ اَنْفُسَهُمْ یَنْصُرُوْنَ Open ayah 7:197 in the Quran reader

اور جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو وہ نہ تمہاری ہی مدد کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ خود اپنی ہی مدد کرسکتے ہیں۔

جو اپنی مدد نہ کرسکے تمہاری کیا مدد کرے گا : آیت 197: وَالَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ (اور تم جن لوگوں کی اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو) اللہ تعالیٰ کے سواء۔ لَایَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَکُمْ وَلَآ اَنْفُسَھُمْ یَنْصُرُوْنَ (وہ تمہاری کچھ مدد نہیں کرسکتے نہ وہ اپنی مدد کرسکتے ہیں)
Ayah 7:198

وَ اِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا یَسْمَعُوْا١ؕ وَ تَرٰىهُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ وَ هُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 7:198 in the Quran reader

اور اگر تم انہیں سیدھے راستے کی طرف بلاؤ تو سن نہ سکیں۔ اور تم انہیں دیکھتے ہو کہ (بظاہر) آنکھیں کھلے تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر (فی الواقع) کچھ نہیں دیکھتے۔

198: وَاِنْ تَدْ عُوْھُمْ اِلَی الْھُدٰی لَایَسْمَعُوْا وَتَرٰ ھُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْکَ (اور اگر تم انکو کوئی بات بتلانے کیلئے پکارو تو نہیں سنتے اور آپ دیکھتے ہیں کہ گویا وہ آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں) وہ تمہاری طرف دیکھنے والوں کے مشابہ ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے بتوں کی تصاویر ایسی بنا رکھی تھیں جیسے کوئی کسی چیز کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھ رہا ہو۔ وَھُمْ لَایُبْصِرُوْنَ (حالانکہ وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے) دیکھی ہوئی چیز۔
Ayah 7:199

خُذِ الْعَفْوَ وَ اْمُرْ بِالْعُرْفِ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 7:199 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ عفو اختیار کرو اور نیک کام کرنے کا حکم دو اور جاہلوں سے کنارہ کرلو۔

عفو و درگزر سے کام لیں اور جاہلوں کو منہ نہ لگائیں : آیت 199: خُذِ الْعَفْوََ (سرسری برتائو کو آپ قبول کریں) یہ جہد کی ضد ہے۔ یعنی لوگوں کے اخلاق و افعال میں سے جو آپ معاف فرمائیں اور ان سے ایسی مشقت نہ لیں جو ان پر گراں گزرے جس سے وہ متنفر ہوجائیں۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے خود ارشاد فرمایا یَسِّرُوْا وَلَا تُعَسِّرُوْا ( بخاری و مسلم) آسانی کرو۔ تنگی نہ کرو۔ وَامُرْ بِالْعُرْفِ (اور نیک بات کی تعلیم کردیا کریں) عمدہ افعال یا ہر وہ خصلت جو عقل کی نگاہ میں درست ہو اور شرع بھی اس کو قبول کرے۔ وَاَعْرِضْ عَنِ الْجٰھِلِیْنَ (اور جاہلوں سے کنارہ کش ہوجایا کریں) بیوقوفوں سے انکے افعال کا بدلہ اسی طرح کے افعال سے نہ چکائو اور نہ ان سے جھگڑے میں پڑو بلکہ انکے ساتھ حوصلہ سے پیش آئو۔ حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) نے اسکی تفسیر اسی ارشاد سے کی۔ صل من قطعک واعط من حرمک واعف عمن ظلمکتو قاطع رحم سے صلہ رحمی کر اور محروم کو دے۔ اور جس نے زیادتی کی اس کو معاف کر دے۔ ( طبری) جعفر صادق (رح) سے مروی ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو مکارم اخلاق کا حکم دیا اور یہ آیت قرآن مجید میں مکارم اخلاق کو سب سے زیادہ جمع کرنے والی ہے۔
Ayah 7:200

وَ اِمَّا یَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 7:200 in the Quran reader

اور اگر شیطان کی طرف سے تمہارے دل میں کسی طرح کا وسوسہ پیدا ہو تو خدا سے پناہ مانگو بیشک وہ سننے والا (اور) سب کچھ جاننے والا ہے

وسوسہ کے ازالہ کے لئے استعاذہ ضروری : آیت 200: وَاِمَّا یَنْزَغَنَّکَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ (اور اگر کوئی وسوسہ شیطان کی طرف سے آنے لگے) اگر شیطان کی طرف سے پہنچے اس طرح کہ وہ وسوسہ اندازی سے اس کے خلاف آمادہ کرنے کو کوشش کرے۔ جس کا آپ کو حکم ملا ہے۔ فَاسْتَعِذْبِاللّٰہِ (تو اللہ کی پناہ مانگ لیا کریں) اس کی بات مت مانیں۔ نمبر 1۔ النزغ اور النخس کا معنی چوکا لگانا۔ گویا وہ لوگوں کو انگلیوں سے کچو کا لگاتا ہے جب کہ ان کو گنا ہوں پر آمادہ کرتا ہے۔ یہاں النزغ کو النازغ قرار دیا۔ کہا جاتا ہے جَدّ جِدّہ اس نے پورا زور لگایا۔ نمبر 2۔ نزغ شیطان سے مراد غصہ بھڑکانا۔ جیسا کہ ابوبکر صدیق ؓ کا قول ان لی شیطان یعترینی میرا شیطان مجھے غصہ دلاتا ہے۔ اِنَّہٗ سَمِیْعٌ (بےشک وہ خوب سننے والا) اس کے کچو کے کو عَلِیْمٌ (خوب جاننے والا ہے) اس کے دفاع کو جانتا ہے۔
Ayah 7:201

اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّهُمْ طٰٓئِفٌ مِّنَ الشَّیْطٰنِ تَذَكَّرُوْا فَاِذَاهُمْ مُّبْصِرُوْنَۚ Open ayah 7:201 in the Quran reader

جو لوگ پرہیزگار ہیں جب ان کو شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ پیدا ہوتا ہے تو چونک پڑتے ہیں اور (دل کی آنکھیں کھول کر) دیکھنے لگتے ہیں۔

متقین کا وسوسہ میں طریق : آیت 201: اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّھُمْ طٰٓپفٌ مِّنَ الشَّیْطٰنِ (یقینا جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں جب ان کو کوئی شیطانی وسوسہ آجاتا ہے) قراءت : طَیْف مکی بصری، علی نے پڑھا۔ طائف کا معنی لمّہ، وسوسہ، اثر۔ یہ طاف بہ الخیال یطیف طیفا سے اس میں ایک تصویر خیالی آگئی۔ بقول ابو عمرو یہ دونوں ایک ہیں اور یہ وسوسہ ہے یہ دراصل اس کی تاکید ہے۔ جو اس سے قبل شیطان سے استعاذہ کو لازم قرار دیا گیا۔ جبکہ وہ کچو کا لگائے۔ متقین کی عادت ہے کہ جب ان کو معمولی سا شیطانی وسوسہ آتا ہے۔ یا آنے لگتا ہے۔ تَذَکَّرُوْا (وہ یاد میں لگ جاتے ہیں) اس کو یاد کرلیتے ہیں۔ جو اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق حکم دیا۔ اور جس سے روکا۔ فَاِذَا ھُمْ مُّبْصِرُوْنَ (پس یکایک ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں) اسی وقت وہ سیدھا راستہ دیکھ لیتے ہیں۔ اور اپنے وسوسے کو دور کرلیتے ہیں۔ اس کی حقیقت یہ ہے کہ وہ شیطان سے اللہ تعالیٰ کی طرف بھاگتے ہیں تو ان کی بصیرت اللہ تعالیٰ کے متعلق اللہ تعالیٰ کی طرف سے بڑھا دی جاتی ہے۔
Ayah 7:202

وَ اِخْوَانُهُمْ یَمُدُّوْنَهُمْ فِی الْغَیِّ ثُمَّ لَا یُقْصِرُوْنَ Open ayah 7:202 in the Quran reader

اور ان (کفار) کے بھائی انہیں گمراہی میں کھینچے جاتے ہیں (پھر اس میں کسی طرح کی) کوتاہی نہیں کرتے۔

اخوانِ شیاطین گمراہی کا شکار رہتے ہیں : آیت 202: وَاِخْوَانُھُمْ (اور جو شیاطین کے تابع ہیں) باقی شیطان انس میں سے جو شیاطین کے بھائی ہیں۔ تو شیاطین یَمُدُّوْنَھُمْ فِی الْغَیِّ (وہ ان کو گمراہی میں کھینچتے ہیں) ان کو گمراہی میں مدد دیتے ہیں اور ان کے دست وبازو بنتے ہیں۔ قراءت : یُمِدُّوْنَھُمْ امداد سے مدنی نے پڑھا ہے۔ ثُمَّ لَایُقْصِرُوْنَ (پھر وہ باز نہیں آتے) پھر وہ اپنے اغوا سے باز نہیں رہتے بلکہ اس پر اصرار کرتے ہیں۔ اور اس سے رجوع نہیں کرتے اور یہ بھی درست ہے کہ اخوان سے مراد شیاطین لیے جائیں اور متعلق بِہٖ کی ضمیر جاہلوں کی طرف راجع ہو مگر پہلی تفسیر زیادہ بہتر ہے۔ کیونکہ اخوانھم کا لفظ یہ الذین اتقوا کے مقابلہ میں لایا گیا ہے۔ اور اخوانھم میں ضمیر کو جمع جنس کی وجہ سے لایا گیا۔ اگرچہ شیطان کا لفظ مفرد لا یا گیا ہے۔
Ayah 7:203

وَ اِذَا لَمْ تَاْتِهِمْ بِاٰیَةٍ قَالُوْا لَوْ لَا اجْتَبَیْتَهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَاۤ اَتَّبِعُ مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ مِنْ رَّبِّیْ١ۚ هٰذَا بَصَآئِرُ مِنْ رَّبِّكُمْ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:203 in the Quran reader

اور جب تم ان کے پاس (کچھ دنوں تک) کوئی آیت نہیں لاتے تو کہتے ہیں کہ تم نے (اپنی طرف سے) کیوں نہیں بنا لی ؟ کہہ دو کہ میں تو اسی حکم کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پروردگار کی طرف سے میرے پاس آتا ہے۔ یہ (قرآن) تمہارے پروردگار کی جانب سے دانش و بصیرت اور مومنوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے۔

مُنہ مانگی نشانی طلب کرنے والوں کو جواب : آیت 203: وَاِذَا لَمْ تَاْتِھِمْ بِٰایَۃٍ (اور جب آپ کوئی معجزہ ان کے سامنے ظاہر نہیں کرتے) جو وہ منہ سے مانگتے تھے۔ قَالُوْا لَوْلَا اجْتَبَیْتَھَا (تو وہ لوگ کہتے ہیں کہ آپ یہ معجزہ کیوں نہ لائے) تم کیوں نہ گھڑ لائے جیسا کہ پہلے گھڑ کر لائے۔ ( نعوذ باللہ) قُلْ اِنَّمَآ اَتَّبِعُ مَایُوْحـٰٓی اِلَیَّ مِنْ رَّبِیْ (تو آپ کہہ دیں کہ میں اس کا اتباع کرتا ہوں جو میرے رب کی طرف سے میرے پاس وحی کے ذریعے پہنچتا ہے) میں ان کو اپنی طرف سے ایجاد کرنے والا نہیں ہوں۔ ھٰذَا بَصَآپرُ مِنْ رَّبِّکُمْ (یہ تمہارے رب کی طرف سے حکمتوں کا مجموعہ ہے) یہ قرآن تمہارے لیے بصیرت کے دلائل ہیں۔ جس سے وجوہ حق سامنے آتی ہیں۔ وَ ھُدًی وَّرحْمَۃٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ (اور ہدایت اور رحمت ہے ان لوگوں کیلئے جو ایمان رکھتے ہیں) اس پر۔
Ayah 7:204

وَ اِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَ اَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 7:204 in the Quran reader

اور جب قرآن پڑھا جائے تو توجہ سے سنا کرو اور خاموش رہا کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

قراءت ِ قرآن کے وقت استماع وانصات : آیت 204: وَاِذَا قُرِیَٔ الْقُرْٰانُ فَاسْتَمِعُوْا لَہٗ وَاَنْصِتُوْا لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ (اور جب قرآن پڑھا جایا کرے تو اس کی طرف کان لگا دیا کرو اور خاموش رہا کرو اس امید پر کہ تم پر رحمت ہوگی) آیت کا ظاہر استماع اور انصات کو نماز میں قراءت قرآن کے وقت واجب کررہا ہے۔ اور نماز سے باہر بھی یہی حکم معلوم ہوتا ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ اس کا معنی ہے کہ جب تم پر اللہ تعالیٰ کے رسول نزول کے وقت قرآن کی تلاوت کریں تو غور سے سنو۔ جمہور صحابہ ؓ اس بات کے قائل ہیں کہ یہ آیت مقتدی کے استماع کے لئے ہے دوسرا قول خطبہ کے استماع کے لئے۔ تیسرا قول خطبہ اور نماز دونوں سے متعلق ہے یہ زیادہ درست ہے۔
Ayah 7:205

وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ فِیْ نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَّ خِیْفَةً وَّ دُوْنَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ وَ لَا تَكُنْ مِّنَ الْغٰفِلِیْنَ Open ayah 7:205 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کو دل ہی دل میں عاجزی اور خوف سے اور پست آواز سے صبح و شام یاد کرتے رہو اور دیکھنا غافل نہ ہونا۔

پست آواز اور عاجزی سے اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کا حکم : آیت 205: وَاذْکُرْ رَّبَّکَ فِیْ نَفْسِکَ (اور اپنے رب کو یاد کرو اپنے دل میں) یہ آیت اذکار کے متعلق عام ہے۔ خواہ قراءت قرآنی، دعا، تسبیح، تہلیل وغیرہ ذ ٰلک جو بھی ہو۔ تَضَرُّعًا وَّخِیْفَۃً (عاجزی کے ساتھ اور خوف کے ساتھ) اس حال میں کہ تم گڑگڑانے والے ہو۔ اور ڈرنے والے ہو۔ وَّدُوْنَ الْجَھْرِ مِنَ الْقَوْلِ (اور زور کی آواز کی نسبت کم آواز کے ساتھ) جہر سے کم کلام کرنے والے ہو کیونکہ اخفاء میں زیادہ اخلاص ہے اور تفکرو تدبر کے لیے زیادہ خوب ہے۔ بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ (صبح اور شام) اس لیے کہ یہ دونوں وقت فضیلت والے ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ استقامت فکر کیساتھ ہمیشہ ذکر کرنا۔ الغدو کا معنی اوقات الغدو ہے اور وہ صبح کے تمام اوقات ہیں۔ الاٰصال جمع اُصُل اور اصل جمع اصیل اور وہ سورج ڈھلنے کے بعد کا وقت ہے۔ وَلَا تَکُنْ مِّنَ الْغٰفِلِیْنَ (اور اہل غفلت میں شامل نہ ہوجائو) ان لوگوں میں سے جو اللہ تعالیٰ کی یاد سے غفلت برتتے ہیں۔
Ayah 7:206

اِنَّ الَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّكَ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ یُسَبِّحُوْنَهٗ وَ لَهٗ یَسْجُدُوْنَ۠۩ Open ayah 7:206 in the Quran reader

جو لوگ تمہارے پروردگار کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے گردن کشی نہیں کرتے اور اس پاک ذات کو یاد کرتے اور سجدہ کرتے رہتے ہیں۔

مقربین بارگاہ نہ تو متکبر ہیں اور نہ عبادت میں کسی کو شریک بناتے ہیں : آیت 206: اِنَّ الَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّکَ (بےشک وہ لوگ جو تیرے رب کے پاس ہیں) معز ّزو مکرم ہیں۔ مکان و جگہ کا قرب مراد نہیں مراد اس سے فرشتے ہیں۔ لَا یَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِہٖ (وہ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے) اس سے تکبر نہیں کرتے۔ بڑے نہیں بنتے وَیُسَبِحُّوْنَہٗ (اور اس کی پاکی بیان کرتے ہیں) اس کو پاک سمجھتے ہیں۔ ان باتوں سے پاک قرار دیتے ہیں جو اس کے لائق نہیں۔ وَلَہٗ یَسْجُدُوْنَ (اور اسی کو سجدہ کرتے ہیں) اور اسی کو عبادت کے ساتھ خاص قرار دیتے ہیں۔ اور دوسروں کو اس کا شریک نہیں ٹھہراتے۔