Ayah 7:185غور کر کے انہیں حق کی تلاش اور اچانک عذاب سے بچائو تلاش کرنا چاہیے :
آیت 185 : اَوَلَمْ یَنْظُرُوْا (کیا انہوں نے غور نہیں کیا) دلیل حاصل کرنے کی نظر سے فِیْ مَلَکُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (آسمان و زمین کی حکومت میں) ملکوت عظیم بادشاہی وَمَا خَلَقَ اللّٰہُ مِنْ شَیْئٍ (اور دوسری چیزوں میں جو اللہ نے پیدا کی ہیں) اور جو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی ہیں۔ اور جس پر شئی کا لفظ بولا جاسکتا ہے۔ اپنی ان گنت اجناس و اعداد کے ساتھ وَّاَنْ عَسٰٓی (کہ ممکن ہے) یہ اَنْ محفّفہ من المثقلہ ہے اور اصل اس طرح ہے اِنَّہٗ عسٰی، ہٗ ضمیر شان ہے اور ملکوت پر عطف کی وجہ سے
موضع جر میں واقع ہے مطلب یہ ہے کیا وہ غور نہیں کرتے اس بات میں کہ حالت و بات یہ ہے کہ ہوسکتا ہے اَنْ یَّکُوْنَ قَدِ اقْتَرَبَ اَجَلُھُمْ (کہ ان کا وقت مقررہ قریب آپہنچا ہو) شاید کہ وہ جلدی مرجائیں پس ان کو غور میں جلدی کرنی چاہیے اور حق کی تلاش اور اس چیز کو جوا نکو اچانک موت اور عذاب کے نازل ہونے سے پہلے بچا سکتی ہو۔ جلد ڈھونڈنا چاہے۔ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍم بَعْدَہٗ یُؤْمِنُوْنَ (پھر قرآن کے بعد کس بات پر یہ لوگ ایمان لائیں گے) ہٗ کی ضمیر قرآن کی طرف راجع ہے۔ یؤمنون جب کہ وہ ایمان نہ لائیں یہ عسٰی ان یکون قد اقترب اجلھم کے متعلق ہے۔ گویا اس طرح کہا گیا کہ لعل اجلھم قد اقترب فما لھم لایبا درون الایمان بالقرٰان قبل الموت و ماذا ینظرون بعد وضوح الحق۔ وبایّ حدیث احق منہ یریدون ان یؤمنوا۔ شاید کہ انکا وقت مقررہ قریب ہو پس انہیں کیا ہوگیا کہ پھر قرآن پر موت سے پہلے ایمان لانے میں جلدی نہیں کرتے ؟ حق ظاہر ہوجانے کے بعد اب یہ کس چیز کے منتظر ہیں۔ اس سے زیادہ اور کون سی بات ہے جس پر وہ ایمان لانا چاہتے ہیں۔
Ayah 7:186گمراہ راہ پر نہیں آسکتا :
آیت 186: مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ فَـلَا ھَادِیَ لَہٗ (جس کو اللہ گمراہ کرے اس کو کوئی راہ پر نہیں لاسکتا) یعنی اللہ تعالیٰ اس کو گمراہ کر دے۔ وَیَذَرُھُمْ (اور وہ ان کو چھوڑ دیتا ہے) قراءت : عراقی نے یا سے پڑھا ہے اور حمزہ وعلی نے محل فلا ھادی لہ پر عطف کر کے یذرھم جزم سے پڑھا ہے۔ گویا عبارت اس طرح ہے من یضلل اللّٰہ لایھدہ احد ویذرھم رفع کی صورت میں جملہ مستانفہ ہے اور وہ یذرھم ہے باقی قراء نے نذرھم پڑھا ہے۔ فِیْ طُغْیَانِھِمْ (ان کی گمراہی میں) اپنے کفر میں یَعْمَھُوْنَ (وہ بھٹکتے پھریں) حیران ہیں۔
Ayah 7:187وقوعِ قیامت کا سوال :
آیت 187: جب یہود یا قریش نے سوال کیا کہ قیامت کب آئے گی تو یہ آیت اتری۔ یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ السَّاعَۃِ (یہ لوگ آپ سے قیامت کے متعلق پوچھتے ہیں) یہ قیامت کے اسمائے غالبہ میں سے ہے جیسے ثریا کو نجم کہتے ہیں۔ نمبر 1۔ قیامت کو ساعۃ کہنے کی وجہ اس کا اچانک آنا ہے۔ نمبر 2۔ اس میں بہت جلد حساب ہوگا۔ نمبر 3۔ قیامت اپنی طوالت کے باوجود اللہ تعالیٰ کے ہاں مخلوق کی ایک ساعت کی طرح ہے۔ اَیَّانَ (کہ کب ہوگا) کب یہ ای سے اشتقاق کیا گیا ہے اس کا وزن فعلان ہے کیونکہ اس کا معنی اس وقت ؟ ہے مُرْسٰھَا (اس کا وقوع) اس کا لنگر انداز ہونا۔ آنا یہ المدخل کی طرح مصدر میمی ہے۔ ادخال کے معنی میں ہے۔ مراد وقت ارسائھا ای اثباتھا اس کے ثابت و قائم ہونے کا وقت مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو کب قائم فرمائیں گے۔
وقوعِ قیامت کا علم فقط اللہ کو ہے :
قُلْ اِنَّمَا عِلْمُھَا عِنْدَ رَبِّیْ (آپ فرمادیں کہ اس کا علم صرف میرے رب ہی کے پاس ہے) یعنی اس کی آمد کا وقت اس نے اپنے ہاں رکھا ہے۔ کسی ملک مقرب یا نبی مرسل کو بھی خبر نہیں دی تاکہ یہ بات اطاعت کی طرف زیادہ رجحان کا سبب بنے۔ اور معصیت سے زیادہ رکاوٹ لائے جیسا کہ خاص وقت مقررہ موت بالکل مخفی ہے۔ اسی لیے لَا یُجَلِّیْھَا لِوَ قْتِھَآ اِلَّا ھُوَ (اس کے وقت پر اس کو اللہ کے سوا کوئی ظاہر نہیں کریگا) اللہ تعالیٰ جو وحدہٗ لا شریک ہے وہی اس کے معاملے کو ظاہر کرے گا۔ اور اس کے مخفی علم کو منکشف کرے گا۔ ثَقُلَتْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (وہ آسمان و زمین کا سب سے بھاری حادثہ ہوگا) آسمان و زمین کے رہنے والے خواہ ملائکہ ہوں یا ثقلین ان کے لیے قیامت کا معاملہ بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ ہر ایک ان میں سے اس بات کا متمنی ہے کہ اس کو اس کا علم ہوجائے۔ اس کا مخفی رہنا ان پر بڑا گراں اور بھاری ہورہا ہے۔ نمبر 2۔ آسمان و زمین میں قیامت بھاری ہے کیونکہ آسمان و زمین کے رہائشی اس کے احوال و شدائد سے ترساں و لرزاں ہیں۔ لَا تَاْ تِیْکُمْ اِلَّا بَغْتَۃً (وہ تم پر اچانک ہی آپڑے گی) اچانک تمہاری غفلت کی حالت میں یَسْئَلُوْنَکَ کَانَّکَ حَفِیٌّ عَنْھَا (وہ آپ سے اس طرح پوچھتے ہیں گویا کہ آپ اس کی تحقیقات کرچکے ہیں) گویا کہ آپ اس کو جانتے ہیں اس کی حقیقت یہ ہے گویا آپ اس کے متعلق مبالغہ سے دریافت کرنے والے ہیں۔ جو کسی مسئلہ کے متعلق سوال میں مبالغہ کرتا ہے اور اس کے متعلق کھود کرید کرتا ہے اس چیز کے متعلق اس کا علم مستحکم ہوجاتا ہے۔ اس ترکیب کا مقصد مبالغہ ہے اسی سے احفاء الشارب ہے نمبر 2۔ عنھا یہ یسألونک کے متعلق ہے یسألونک عنھا کانک حفیّ عالم بھا وہ آپ سے قیامت کے متعلق پوچھتے ہیں گویا کہ آپ اس کا علم رکھنے والے ہیں۔ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُھَا عِنْدَ اللّٰہِ (آپ فرمادیں کہ اس کا علم تو صرف اللہ ہی کو ہے) یسألونککو دوبارہ لائے اور انما علمھا ‘ کانک حفی عنھا کے لئے تاکید واضافہ کے لیے ہے۔ اسی لیے علماء کے اپنی کتابوں میں مکررات فائدہ سے خالی نہیں۔ جیسا محمد بن الحسن کی مکررات وَلٰـکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ (اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے) اسی ہی کو خاص طور پر اس کا علم ہے۔
Ayah 7:188علم و اختیار کی نفی کا اعلان :
آیت 188: قُلْ لَّآ اَمْْلِکُ لِنَفْسِیْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّ ا اِلاَّ مَاشَآ ئَ اللّٰہُ (آپ کہہ دیں کہ میں خود اپنی ذات خاص کیلئے کسی نفع کا اختیار نہیں رکھتا اور نہ نقصان کا مگر اتنا جتنا اللہ نے چاہا) اس میں اظہار عبودیت ہے اور اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے جو علم خاص ہے اس سے براءت کا اظہار ہے۔ یعنی میں تو ایک کمزور بندہ ہوں اپنے نفس کے لیے جلب منفعت اور دفع مضرت کا ذرہ بھر اختیار غلاموں کی طرح نہیں رکھتا۔ مگر جو میرے لئے نفع دینا اور نقصان دور کرنا چاہے۔ وَلَوْ کُنْتُ اَعَلْمُ الْغَیْبَ لاَسْتَکْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِ وَمَا مَسَّنِیَ السُّوْٓئُ (اور اگر میں غیب کی باتیں جانتا ہوتا تو میں بہت سے منافع حاصل کرلیا کرتا اور کوئی دکھ بھی مجھ کو نہ پہنچتا) خیر کی کثرت چاہنے اور تکلیف و نقصان سے بچنے میں میری حالت موجودہ حالت سے بہتر ہوتی۔ یہاں تک کہ ان تکالیف میں سے کوئی چیز مجھے نہ پہنچتی اور نہ ہی لڑائیوں میں ایک مرتبہ غالب اور دوسری مرتبہ مغلوب ہوتا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ الغیب سے مراد مقرر وقت اور الخیر سے مراد عمل اور السوء سے پریشانی و خوف مراد ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ لاستکثرت کے معنی میں قحط کے لئے خوشحالی تیار کرلیتا۔ السوء سے فقر مراد ہے اور تردید فرمائی۔ اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ وَّبَشِیْرٌ (میں تو صرف ڈرانے والا اور بشارت دینے والا ہوں) میں تو ایک بندہ ہوں جس کو بشیر و نذیر بنا کر بھیجا گیا ہے۔ میری شان نہیں کہ میں غیب کو جانوں۔ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ (ان لوگوں کو جو ایمان رکھتے ہیں) اس میں لام نذیر و بشیر کے متعلق ہے کیونکہ انذار اور بشارت ایمان والوں کو ہی فائدہ پہنچانے والی ہے۔ یا صرف بشیر کے متعلق ہے اور نذیر کا متعلق محذوف ہے یعنی الا نذیر للکافرین۔ کافروں کے لیے ڈرانے والے و بشیر لقوم یؤمنون اور مؤمنوں کو بشارت سنانے والے۔
Ayah 7:189آدم ( علیہ السلام) و حو ّا ( علیہ السلام) کی پیدائش :
آیت 189: ھُوَ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ (وہی ہے جس نے تم کو ایک جسم سے پیدا کیا) وہ آدم کی ذات ہے وَّجَعَلَ مِنْھَا زَوْجَھَا (اور اسی سے اس کا جوڑا بنایا) حواء۔ ان کو آدم کے جسم کی پسلیوں میں سے کسی پسلی سے پیدا فرمایا لِیَسْکُنَ اِلَیْھَا (تاکہ وہ اپنے اس جوڑے سے انس حاصل کرے) تاکہ وہ مطمئن اور مائل ہوں کیونکہ جنس جنس کی طرف زیادہ مائل ہوتی ہے۔ خاص طور پر جبکہ وہ اس کا ایک حصہ ہو جیسا کہ انسان اپنے بیٹے سے مانوس ہوتا ہے اور اس سے اس طرح محبت کرتا ہے جیسا اپنی جان سے محبت کرتا ہے کیونکہ وہ اس کا ٹکڑا ہے۔
مسئلہ : لیسکن الیھا کو مذکر لائے۔ جبکہ دوسری آیت میں مؤنث لائے واحدۃ و خلق منھا زوجھا معنی کا لحاظ کر کے
تاکہ واضح ہوجائے کہ مراد اس سے آدم کی ذات ہے۔ فَلَمَّا تَغَشّٰھَا (پھر جب خاوند نے اپنی بیوی سے قربت کی) اس سے قربت کی حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِیْفًا (تو اس کو حمل رہ گیا ہلکا سا) وہ اس پر آسان ہے اور اس کو وہ کرب واذٰی کی صورت پیش نہیں آئی۔ جو بعض حوامل کو پیش آتی ہیں۔ اور اس کو بوجھل کیا۔ جیسا دوسری عورتیں بوجھل ہوتی ہیں۔ فَمَرَّتْ بِہٖ (پس وہ اس کو لئے ہوئے چلتی پھرتی رہی) ولادت کے وقت تک اس کو لے کر چلتی رہی بغیر کسی کمی اور ناتمام گرنے کے نمبر 2۔ حملت حملاً خفیفًا سے حالت نطفہ مراد ہے مرّت بہٖ سے اٹھنا بیٹھنا مراد ہے۔ فَلَمَّآ اَثْقَلَتْ (پھر جب وہ بوجھل ہوگئی) جب اس کے حمل کے بوجھ کا وقت قریب آیا۔ دَّعَوَا اللّٰہَ رَبَّھُمَا (دونوں میاں بیوی اللہ تعالیٰ سے جو انکا رب تھا دعا کرنے لگے) آدم و حواء نے اپنے رب کو پکارا۔ وہ مالک جس کو ان پر پورا اختیار ہے۔ اور وہ پکارے جانے کے لائق ہے۔ اور اسی سے پناہ مانگی جاتی ہے تو دونوں نے کہا : لَپنْ ٰاتَیْتَنَا صَالِحًا (اگر آپ نے ہم کو صحیح سالم بچہ دیا) اگر اللہ نے ہمیں صحیح سالم بچہ عنایت فرمایا۔ نمبر 2۔ بیٹا دیا کیونکہ نرینہ اولاد بھی صلاح میں داخل ہے لَّنَکُوْنَنَّ مِنَ الشّٰکِرِیْنَ (تو ہم بڑے شکر گزارہوں گے) تیرے شکر گزار ٰاتَیْتَنَا اور لَنَکُوْنَنَّ کی ضمیر ان دونوں کی طرف راجع ہے اور ہر اولاد والے کی طرف راجع ہے۔
Ayah 7:190فرد سے جنس کی طرف التفات :
آیت 190: فَلَمَّآ ٰاتَاھُمَا صَالِحًا (پھر جب اللہ نے ان کو صحیح سالم اولاد دے دی) ان کو دے دیا جو انہوں نے تندرست وسالم بچہ مانگا۔ جَعَلَالَہٗ شُرَکَآ ئَ (تو دونوں اللہ کا شریک قرار دینے لگے) یعنی ان کی اولاد نے اس کے لیے شریک بنائے۔
: گویا مضاف محذوف ہے۔ اور مضاف الیہ کو اس کا قائم مقام بنادیا۔ فِیْمَآ ٰاتٰہُمَا (اللہ کی دی ہوئی چیز میں) یعنی ان کی اولاد کو جو دیا اس کی دلیل آیت کا یہ حصہ۔ فَتَعٰلَی اللّٰہُ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ (پس اللہ تعالیٰ پاک ہے ان کے شرک سے) ہے اس لئے کہ ضمیر جمع کی لائی گی اور اس لیے بھی کہ آدم و حوا (علیہما السلام) شرک سے بری ہیں۔۔ اور اشرکہم فیھا ٰاتاھم اللّٰہ سے مراد اولاد کے نام عبدالعزیٰ ، عبدمناف، عبد شمس وغیرہ رکھ لیے حالانکہ اس کی بجائے عبداللہ عبدالرحمن، عبدالرحیم ہونے چاہیے تھے۔ نمبر 2۔ یہ خطاب قریش کو ہے جو عہد رسول اللہ ﷺ میں تھے وہ اور آل قصی ہیں۔ مطلب یہ ہوا کہ وہ ذات جس نے ایک نفس (قصی) سے پیدا کیا اور اس کی جنس سے عربی قریشی بیوی اس کو دی تاکہ اس کو سکون حاصل ہو۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو مطلوبہ صحیح سالم بیٹا عنایت کردیا تو اس اولاد میں اللہ تعالیٰ کا شریک بنانے لگے۔ اپنی ساری اولاد کے نام مشرکانہ رکھ دیئے۔ عبدالعزیٰ ، عبدمناف، عبد قصی، عبدالدار۔ اَ یُشْرِکُوْنَ میں ضمیر ان دونوں کی طرف راجع ہے کیونکہ ان دونوں کے پیچھے ان کی اولاد نے شرک میں ان کی اتباع کی۔
قراءت : شِرکًا مدنی وابو بکر نے پڑھا ہے یعنی ذوی شرکٍ اور وہ شرکاء ہیں۔
Ayah 7:191خالق کے ساتھ مخلوق کو شریک کرلیا :
آیت 191: اَیُشْرِکُوْنَ مَالَا یَخْلُقُ شَیْئًا (کیا وہ ان کو شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی چیز کو بنانہ سکیں) یعنی بت وَّھُمْ یُخْلَقُوْنَ (اور وہ خود ہی بنائے جاتے ہیں) یہاں اصنام کو اہل علم کے قائم مقام رکھا گیا کیونکہ انکا اعتقاد بتوں کے متعلق اسی طرح تھا۔ مطلب یہ ہے کیا وہ ان کو شریک کر رہے ہیں۔ جو کسی چیز کو پیدا کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ حالانکہ وہ پیدا کئے گئے ہیں کیونکہ ان کا خالق تو اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ نمبر 2۔ ہم یخلقون کی ضمیر عابدین کی طرف لوٹتی ہے یعنی کیا ان کو شریک کرتے ہیں جو ذرہ بھر پیدا نہیں کرسکتے۔ اور وہ خود اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں۔ پس ان کے لیے مناسب ہے کہ اپنے خالق کی عبادت کریں۔ نمبر 3۔ عابدین معبودین دونوں کی طرف راجع ہے اور عابدین کو غلبہ دے کر تمام کو اولوا العلم قرار دیا۔
Ayah 7:192اپنا بچائو نہیں کرسکتے :
آیت 192: وَلَایَسْتَطِیْعُوْنَ لَھُمْ نَصْرًا (اور وہ ان کو کسی قسم کی مدد نہیں دے سکتے) اپنے عابدین کے لیے وَّ لَآ اَنْفُسَھُمْ یَنْصُرُوْنَ (اور وہ خود اپنی بھی مدد نہیں کرسکتے) کہ جس سے اپنے اوپر آنیوالے حوادث توڑ پھوڑ کا بچائو کرلیں بلکہ ان کے پجاری ان سے یہ حوادث دور کرتے ہیں۔
Ayah 7:193اگر بتوں کو پکارو و ُ ہ اس پکار تک نہ نہ پہنچ سکیں :
آیت 193: وَاِنْ تَدْعُوْھُمْ (اور اگر تم ان کو پکارو) اگر تم ان بتوں کو بلائو اِلَی الْھُدٰی (بات بتلانے کیلئے) جو کہ ہدایت ورشد ہے نمبر 2۔ اس بات کے لیے کہ تمہاری راہنمائی کردیں یعنی تم ان سے خیر و ہدایت اسی طرح طلب کرو۔ جیسا اللہ تعالیٰ سے طلب کرتے ہو۔ لَا یَتَّبِعُوْکُمْ (وہ تمہارے کہنے پر نہ چلیں گے) یعنی تمہاری مراد اور طلب کی طرف وہ تمہیں جواب نہیں دے سکتے۔ جیسے اللہ تعالیٰ تمہیں جواب دیتے ہیں۔
قراءت : لایتبعوکم نافع نے پڑھا ہے۔ سَوَآ ئٌ عَلَیْکُمْ اَدَعَوْ تُمُوْھُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ (تمہارے لحاظ سے دونوں امر برابر ہیں خواہ تم ان کو پکارو یا تم خاموش رہو) ان کی پکار سے نہ ان کے ساتھ کامیابی ہے اور نہ وہ تمہیں جو اب دیں گے۔ جملہ فعلیہ سے جملہ اسمیہ کی طرف عدول آیات کے سروں کی رعایت کے لئے ہے۔
Ayah 7:194جن کو پکارا جاتا ہے وہ مملوک ہیں :
آیت 194: اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ (بےشک تم خدا کو چھوڑ کر جن کی عبادت کرتے ہو) یعنی جن کی تم عبادت کرتے اور جن کو تم الٰہ مانتے ہو۔ عِبَادٌ اَمْثَالُکُمْ (وہ بھی تم ہی جیسے بندے ہیں) یعنی وہ تمہاری طرح مخلوق و مملوک ہیں۔ فَادْ عُوْھُمْ (پس تم ان کو پکارو) حصول نفع یا دفع ضرر کے لیے فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لَکُمْ (پھر ان کو چاہیے کہ تمہارا کہنا مانیں) پس چاہیے کہ وہ جواب دیں اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ (اگر تم سچے ہو) اس بات میں کہ وہ اٰلہہ ہیں۔ پھر اسی بات کا ابطال کیا کہ وہ تم جیسے بھی ہوں۔
Ayah 7:195بےبسوں کی عبادت کیوں ؟
آیت 195: اَلَھُمْ اَرْجُلٌ یَّمْشُوْنَ بِھَآ (کیا ان کے پائوں ہیں جن سے وہ چلتے ہیں) تمہاری طرح چلنا۔ اَمْ لَھُمْ اَیْدٍ یَّبْطِشُوْنَ بِہَا (یا ان کے ہاتھ ہیں جن سے کسی چیز کو پکڑتے ہیں) جن سے وہ چیزیں لیں۔ پکڑیں اَمْ لَھُمْ اَعُیْنٌ یُّبْصِرُوْنَ بِھَا (یا ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے ہوں) اَمْ لَھُمْ ٰاذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِھَا (یا ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے ہوں) پس پھر تم ان کی کیوں عبادت کرتے ہو جو تم سے کم تر ہیں۔
میرے خلاف زور لگالو :
قُلِ ادْعُوْا شُرَکَآئَ کُمْ (آپ کہہ دیں کہ تم اپنے سب شرکاء کو بلالو) میری دشمنی میں ان سے مدد حاصل کرو۔ ثُمَّ کِیْدُوْنِ (پھر تدبیر کرو میرے متعلق) تم اور تمہارے شرکاء مل کر۔
قراءت : کیدونی۔ یعقوب نے پڑھا ابو عمرو نے وصل میں اس کی موافقت کی۔ فَـلَا تُنْظِرُوْنِ (پھر مجھ کو ذرا مہلت نہ دو ) مجھے تمہاری کوئی پرواہ نہیں مشرکین آپ کو اپنے شرکاء سے ڈراتے تھے پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا ان کو اس طرح خطاب فرمائیں۔
قراءت : فلا تنظرون یعقوب نے پڑھا۔
Ayah 7:196میرا کارساز اللہ ہے اس کا یہ حکم نامہ ہے :
آیت 196: اِنَّ وَلِیِّ یَ (یقینا میرا مددگار اللہ تعالیٰ ہے) تمہارے خلاف میرا مددگار اللّٰہُ الَّذِیْ نَزَّلَ الْکِتٰبَ (جس نے یہ کتاب اتاری) جس نے میری طرف وحی بھیجی اور رسالت کے اعزاز سے نوازا۔ وَھُوَ یَتَوَلَّی الصّٰلِحِیْنَ (اور وہ نیکوں کی مدد کیا کرتا ہے) اس کا طریقہ یہی ہے کہ وہ اپنے بندوں میں سے صالحین کی مدد کرتا ہے اور ان کو رسوا نہیں کرتا۔
Ayah 7:197جو اپنی مدد نہ کرسکے تمہاری کیا مدد کرے گا :
آیت 197: وَالَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ (اور تم جن لوگوں کی اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو) اللہ تعالیٰ کے سواء۔ لَایَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَکُمْ وَلَآ اَنْفُسَھُمْ یَنْصُرُوْنَ (وہ تمہاری کچھ مدد نہیں کرسکتے نہ وہ اپنی مدد کرسکتے ہیں)
Ayah 7:198198: وَاِنْ تَدْ عُوْھُمْ اِلَی الْھُدٰی لَایَسْمَعُوْا وَتَرٰ ھُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْکَ (اور اگر تم انکو کوئی بات بتلانے کیلئے پکارو تو نہیں سنتے اور آپ دیکھتے ہیں کہ گویا وہ آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں) وہ تمہاری طرف دیکھنے والوں کے مشابہ ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے بتوں کی تصاویر ایسی بنا رکھی تھیں جیسے کوئی کسی چیز کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھ رہا ہو۔ وَھُمْ لَایُبْصِرُوْنَ (حالانکہ وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے) دیکھی ہوئی چیز۔
Ayah 7:199عفو و درگزر سے کام لیں اور جاہلوں کو منہ نہ لگائیں :
آیت 199: خُذِ الْعَفْوََ (سرسری برتائو کو آپ قبول کریں) یہ جہد کی ضد ہے۔ یعنی لوگوں کے اخلاق و افعال میں سے جو آپ معاف فرمائیں اور ان سے ایسی مشقت نہ لیں جو ان پر گراں گزرے جس سے وہ متنفر ہوجائیں۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے خود ارشاد فرمایا یَسِّرُوْا وَلَا تُعَسِّرُوْا ( بخاری و مسلم) آسانی کرو۔ تنگی نہ کرو۔ وَامُرْ بِالْعُرْفِ (اور نیک بات کی تعلیم کردیا کریں) عمدہ افعال یا ہر وہ خصلت جو عقل کی نگاہ میں درست ہو اور شرع بھی اس کو قبول کرے۔ وَاَعْرِضْ عَنِ الْجٰھِلِیْنَ (اور جاہلوں سے کنارہ کش ہوجایا کریں) بیوقوفوں سے انکے افعال کا بدلہ اسی طرح کے افعال سے نہ چکائو اور نہ ان سے جھگڑے میں پڑو بلکہ انکے ساتھ حوصلہ سے پیش آئو۔ حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) نے اسکی تفسیر اسی ارشاد سے کی۔ صل من قطعک واعط من حرمک واعف عمن ظلمکتو قاطع رحم سے صلہ رحمی کر اور محروم کو دے۔ اور جس نے زیادتی کی اس کو معاف کر دے۔ ( طبری) جعفر صادق (رح) سے مروی ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو مکارم اخلاق کا حکم دیا اور یہ آیت قرآن مجید میں مکارم اخلاق کو سب سے زیادہ جمع کرنے والی ہے۔
Ayah 7:200وسوسہ کے ازالہ کے لئے استعاذہ ضروری :
آیت 200: وَاِمَّا یَنْزَغَنَّکَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ (اور اگر کوئی وسوسہ شیطان کی طرف سے آنے لگے) اگر شیطان کی طرف سے پہنچے اس طرح کہ وہ وسوسہ اندازی سے اس کے خلاف آمادہ کرنے کو کوشش کرے۔ جس کا آپ کو حکم ملا ہے۔ فَاسْتَعِذْبِاللّٰہِ (تو اللہ کی پناہ مانگ لیا کریں) اس کی بات مت مانیں۔ نمبر 1۔ النزغ اور النخس کا معنی چوکا لگانا۔ گویا وہ لوگوں کو انگلیوں سے کچو کا لگاتا ہے جب کہ ان کو گنا ہوں پر آمادہ کرتا ہے۔ یہاں النزغ کو النازغ قرار دیا۔ کہا جاتا ہے جَدّ جِدّہ اس نے پورا زور لگایا۔ نمبر 2۔ نزغ شیطان سے مراد غصہ بھڑکانا۔ جیسا کہ ابوبکر صدیق ؓ کا قول ان لی شیطان یعترینی میرا شیطان مجھے غصہ دلاتا ہے۔ اِنَّہٗ سَمِیْعٌ (بےشک وہ خوب سننے والا) اس کے کچو کے کو عَلِیْمٌ (خوب جاننے والا ہے) اس کے دفاع کو جانتا ہے۔
Ayah 7:201متقین کا وسوسہ میں طریق :
آیت 201: اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّھُمْ طٰٓپفٌ مِّنَ الشَّیْطٰنِ (یقینا جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں جب ان کو کوئی شیطانی وسوسہ آجاتا ہے) قراءت : طَیْف مکی بصری، علی نے پڑھا۔ طائف کا معنی لمّہ، وسوسہ، اثر۔ یہ طاف بہ الخیال یطیف طیفا سے اس میں ایک تصویر خیالی آگئی۔ بقول ابو عمرو یہ دونوں ایک ہیں اور یہ وسوسہ ہے یہ دراصل اس کی تاکید ہے۔ جو اس سے قبل شیطان سے استعاذہ کو لازم قرار دیا گیا۔ جبکہ وہ کچو کا لگائے۔ متقین کی عادت ہے کہ جب ان کو معمولی سا شیطانی وسوسہ آتا ہے۔ یا آنے لگتا ہے۔ تَذَکَّرُوْا (وہ یاد میں لگ جاتے ہیں) اس کو یاد کرلیتے ہیں۔ جو اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق حکم دیا۔ اور جس سے روکا۔ فَاِذَا ھُمْ مُّبْصِرُوْنَ (پس یکایک ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں) اسی وقت وہ سیدھا راستہ دیکھ لیتے ہیں۔ اور اپنے وسوسے کو دور کرلیتے ہیں۔ اس کی حقیقت یہ ہے کہ وہ شیطان سے اللہ تعالیٰ کی طرف بھاگتے ہیں تو ان کی بصیرت اللہ تعالیٰ کے متعلق اللہ تعالیٰ کی طرف سے بڑھا دی جاتی ہے۔
Ayah 7:202اخوانِ شیاطین گمراہی کا شکار رہتے ہیں :
آیت 202: وَاِخْوَانُھُمْ (اور جو شیاطین کے تابع ہیں) باقی شیطان انس میں سے جو شیاطین کے بھائی ہیں۔ تو شیاطین یَمُدُّوْنَھُمْ فِی الْغَیِّ (وہ ان کو گمراہی میں کھینچتے ہیں) ان کو گمراہی میں مدد دیتے ہیں اور ان کے دست وبازو بنتے ہیں۔
قراءت : یُمِدُّوْنَھُمْ امداد سے مدنی نے پڑھا ہے۔ ثُمَّ لَایُقْصِرُوْنَ (پھر وہ باز نہیں آتے) پھر وہ اپنے اغوا سے باز نہیں رہتے بلکہ اس پر اصرار کرتے ہیں۔ اور اس سے رجوع نہیں کرتے اور یہ بھی درست ہے کہ اخوان سے مراد شیاطین لیے جائیں اور متعلق بِہٖ کی ضمیر جاہلوں کی طرف راجع ہو مگر پہلی تفسیر زیادہ بہتر ہے۔ کیونکہ اخوانھم کا لفظ یہ الذین اتقوا کے مقابلہ میں لایا گیا ہے۔ اور اخوانھم میں ضمیر کو جمع جنس کی وجہ سے لایا گیا۔ اگرچہ شیطان کا لفظ مفرد لا یا گیا ہے۔
Ayah 7:203مُنہ مانگی نشانی طلب کرنے والوں کو جواب :
آیت 203: وَاِذَا لَمْ تَاْتِھِمْ بِٰایَۃٍ (اور جب آپ کوئی معجزہ ان کے سامنے ظاہر نہیں کرتے) جو وہ منہ سے مانگتے تھے۔ قَالُوْا لَوْلَا اجْتَبَیْتَھَا (تو وہ لوگ کہتے ہیں کہ آپ یہ معجزہ کیوں نہ لائے) تم کیوں نہ گھڑ لائے جیسا کہ پہلے گھڑ کر لائے۔ ( نعوذ باللہ) قُلْ اِنَّمَآ اَتَّبِعُ مَایُوْحـٰٓی اِلَیَّ مِنْ رَّبِیْ (تو آپ کہہ دیں کہ میں اس کا اتباع کرتا ہوں جو میرے رب کی طرف سے میرے پاس وحی کے ذریعے پہنچتا ہے) میں ان کو اپنی طرف سے ایجاد کرنے والا نہیں ہوں۔ ھٰذَا بَصَآپرُ مِنْ رَّبِّکُمْ (یہ تمہارے رب کی طرف سے حکمتوں کا مجموعہ ہے) یہ قرآن تمہارے لیے بصیرت کے دلائل ہیں۔ جس سے وجوہ حق سامنے آتی ہیں۔ وَ ھُدًی وَّرحْمَۃٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ (اور ہدایت اور رحمت ہے ان لوگوں کیلئے جو ایمان رکھتے ہیں) اس پر۔
Ayah 7:204قراءت ِ قرآن کے وقت استماع وانصات :
آیت 204: وَاِذَا قُرِیَٔ الْقُرْٰانُ فَاسْتَمِعُوْا لَہٗ وَاَنْصِتُوْا لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ (اور جب قرآن پڑھا جایا کرے تو اس کی طرف کان لگا دیا کرو اور خاموش رہا کرو اس امید پر کہ تم پر رحمت ہوگی) آیت کا ظاہر استماع اور انصات کو نماز میں قراءت قرآن کے وقت واجب کررہا ہے۔ اور نماز سے باہر بھی یہی حکم معلوم ہوتا ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ اس کا معنی ہے کہ جب تم پر اللہ تعالیٰ کے رسول نزول کے وقت قرآن کی تلاوت کریں تو غور سے سنو۔ جمہور صحابہ ؓ اس بات کے قائل ہیں کہ یہ آیت مقتدی کے استماع کے لئے ہے دوسرا قول خطبہ کے استماع کے لئے۔
تیسرا قول خطبہ اور نماز دونوں سے متعلق ہے یہ زیادہ درست ہے۔
Ayah 7:205پست آواز اور عاجزی سے اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کا حکم :
آیت 205: وَاذْکُرْ رَّبَّکَ فِیْ نَفْسِکَ (اور اپنے رب کو یاد کرو اپنے دل میں) یہ آیت اذکار کے متعلق عام ہے۔ خواہ قراءت قرآنی، دعا، تسبیح، تہلیل وغیرہ ذ ٰلک جو بھی ہو۔ تَضَرُّعًا وَّخِیْفَۃً (عاجزی کے ساتھ اور خوف کے ساتھ) اس حال میں کہ تم گڑگڑانے والے ہو۔ اور ڈرنے والے ہو۔ وَّدُوْنَ الْجَھْرِ مِنَ الْقَوْلِ (اور زور کی آواز کی نسبت کم آواز کے ساتھ) جہر سے کم کلام کرنے والے ہو کیونکہ اخفاء میں زیادہ اخلاص ہے اور تفکرو تدبر کے لیے زیادہ خوب ہے۔ بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ (صبح اور شام) اس لیے کہ یہ دونوں وقت فضیلت والے ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ استقامت فکر کیساتھ ہمیشہ ذکر کرنا۔ الغدو کا معنی اوقات الغدو ہے اور وہ صبح کے تمام اوقات ہیں۔ الاٰصال جمع اُصُل اور اصل جمع اصیل اور وہ سورج ڈھلنے کے بعد کا وقت ہے۔ وَلَا تَکُنْ مِّنَ الْغٰفِلِیْنَ (اور اہل غفلت میں شامل نہ ہوجائو) ان لوگوں میں سے جو اللہ تعالیٰ کی یاد سے غفلت برتتے ہیں۔
Ayah 7:206مقربین بارگاہ نہ تو متکبر ہیں اور نہ عبادت میں کسی کو شریک بناتے ہیں :
آیت 206: اِنَّ الَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّکَ (بےشک وہ لوگ جو تیرے رب کے پاس ہیں) معز ّزو مکرم ہیں۔ مکان و جگہ کا قرب مراد نہیں مراد اس سے فرشتے ہیں۔ لَا یَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِہٖ (وہ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے) اس سے تکبر نہیں کرتے۔ بڑے نہیں بنتے وَیُسَبِحُّوْنَہٗ (اور اس کی پاکی بیان کرتے ہیں) اس کو پاک سمجھتے ہیں۔ ان باتوں سے پاک قرار دیتے ہیں جو اس کے لائق نہیں۔ وَلَہٗ یَسْجُدُوْنَ (اور اسی کو سجدہ کرتے ہیں) اور اسی کو عبادت کے ساتھ خاص قرار دیتے ہیں۔ اور دوسروں کو اس کا شریک نہیں ٹھہراتے۔