Ayah 7:117وحی سے اظہار معجزہ کا حکم :
آیت 117: وَاَوْحَیْنَآ اِلٰی مُوْسٰی اَنْ اَلْقِ عَصَاکَ فَاِذَا ھِیَ تَلْقَفُ (اور ہم نے موسیٰ کو حکم دیا کہ آپ اپنا عصا ڈال دیں۔ پس عصا کا ڈالنا تھا اس نے نگلنا شروع کیا) تلقف نگلنے کو کہتے ہیں۔
قراءت : حفص نے تلقفْ پڑھا۔ مَایَاْفِکُوْنَ (ان کے بنے بنائے کھیل کو) ماؔ موصولہ یا مصدریہ یعنی جو وہ باندھتے تھے یعنی حق سے باطل کو پلٹتے تھے۔ اور جھوٹ کے طور پر پیش کرتے تھے۔ نمبر 2۔ افک سے مافوک بنایا گیا گھڑا ہو امراد ہے۔ روایت میں ہے کہ جب اس نے رسیوں اور لاٹھیوں سے بھری وادی نگل لی۔ موسیٰ ( علیہ السلام) نے اس کو اٹھایا۔ تو پہلے کی طرح لاٹھی بن گئی۔ اور ان بڑے اجسام کو اپنی قدرت سے معدوم کردیا۔ نمبر 3۔ ان کے اجزائے لطیفہ میں منتشر کردیا۔ جادوگر کہنے لگے اگر یہ جادو ہوتا تو ہماری رسیاں اور لاٹھیاں باقی رہتیں۔
Ayah 7:118غلبہ حق :
آیت 118: فَوَ قَعَ الْحَقُّ (پس حق ظاہر ہوگیا) قائم و ثابت ہو اوَبَطَلَ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (وہ سب بیکار ہو کر رہ گیا جو کچھ انہوں نے بنایا تھا) جادو سے۔
Ayah 7:119آیت 119: فَغُلِبُوْا ھُنَالِکَ (پس وہ اس موقعہ پر ہار گئے) یعنی فرعون اور اس کا لشکر اور جادوگر وَانْقَلَبُوْا صٰغِرِیْنَ (اور ذلیل ہو کر واپس چلے گئے) ذلیل اور مبہوت ہوگئے۔
Ayah 7:120مغلوبیت کے بعد جادوگر موسیٰ ( علیہ السلام) کا لشکر بن گئے :
آیت 120: وَاُلْقِیَ السَّحَرَۃُ سٰجِدِیْنَ (اور وہ جو ساحر تھے وہ سجدہ میں گرگئے) نمبر 1۔ وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوگئے۔ گویا ان کو کسی ڈالنے والے نے زبردستی ڈال دیا۔ نمبر 2۔ جو کچھ انہوں نے دیکھا اس کو دیکھ کر وہ اپنے اختیار میں نہ رہے گویا وہ ڈال دیے گئے وہ دن کی ابتداء میں جادوگر کافر تھے اور دن کے آخر میں نیک شہداء بن گئے۔
Ayahs 7:121–122اعلانِ حق :
آیت 121، آیت 122: قَالُوْٓا ٰامَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ (کہنے لگے کہ ہم ایمان لائے رب العالمین پر) رَبِّ مُوْسٰی وَھٰرُوْنَ (جو موسیٰ و ہارون کا بھی رب ہے)
مسئلہ : یہ ماقبل سے بدل ہے۔
Ayah 7:123فرعون کی مکارانہ تقریر و دھمکی :
آیت 123: قَالَ فِرْعَوْنُ ٰامَنْتُمْ بِہٖ (فرعون کہنے لگا کہ ہاں تم موسیٰ پر ایمان لائے ہو) خبر کی صورت میں۔
قراءت : حفص نے پڑھا ہے اس صورت میں یہ فرعون کی طرف سے ان کو تو بیخ ہے۔ دو ہمزہ کیساتھ۔ حفص کے علاوہ کوفی قراء نے پڑھا۔ پہلا ہمزہ استفہام کا ہے اور اس کا معنی استبعاد اور انکار ہے۔ قَبْلَ اَنْ ٰاذَنَ لَـکُمْ (میری اجازت کے بغیر) میرے تمہیں اجازت دینے سے پہلے اِنَّ ھٰذَا لَمَکْرٌ مَّکَرْ تُمُوْہُ فِی الْمَدِیْنَۃِ لِتُخْرِجُوْا مِنْہَآ اَھْلَھَا (حقیقت میں یہ تم سب کی سازش تھی جو تم نے شہر میں اس لئے کی تھی کہ یہاں کے رہنے والوں کو باہر نکال دو ) یہ تمہاری حرکت ایک حیلہ ہے جو تم نے اور موسیٰ ( علیہ السلام) نے مصر میں برپا کیا ہے۔ اس سے قبل کہ تم صحراء کی طرف نکل کر مقابلہ کے لئے جائو۔ اس میں تمہارا مقصد مخفی ہے کہ مصر سے قبطیوں کو نکال باہر کرو۔ اور بنی سرائیل کو وہاں بسائو۔ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ (پس اب تم کو اس کی حقیقت معلوم ہوئی جاتی ہے) یہ وعید ہے پہلے اس کو اس نے اجمالاً ذکر کیا پھر تفصیل اس قول سے کردی۔
Ayah 7:124آیت 124: لَاُ قَطِّعَنَّ اَیْدِیَکُمْ وَاَرْجُلَکُمْ مِّنْ خِلَافٍ (میں تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پائوں کاٹ دونگا) ہر جانب سے ایک ٹکڑاثُمَّ لَاُ صَلِّبَنَّکُمْ اَجْمَعِیْنَ (پھر تم سب کو سولی پر لٹکا دونگا) یہ پہلا شخص ہے جس نے دایاں ہاتھ بایاں پائوں اور بایاں ہاتھ اور دایاں پائوں کاٹا اور سولی پر لٹکایا۔
Ayah 7:125ساحروں کا جواب :
آیت 125: قَالُوْٓا اِنَّآ اِلٰی رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَ (انہوں نے جواب دیا۔ کہ ہم مر کر اپنے مالک ہی کے پاس جائیں گے) پس ہمیں موت کا ڈر نہیں اس لئے کہ ہم اپنے اس ربّ کی رحمت و ملاقات کی طرف پلٹ جائیں گے۔ یا اِنَّا سے وہ اپنے آپ اور فرعون ہر دو مراد لے کر گویا کہہ رہے تھے کہ ہم دونوں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں واپس جائیں گے وہ خود ہمارے مابین فیصلہ فرمائے گا۔
Ayah 7:126جو تیرے ہاں عیب ہے وہ ہمارے ہاں حسن ہے :
آیت 126: وَمَاتَنْقِمُ مِنَّآ اِلَّآ اَنْ ٰامَنَّا بِاٰیٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآ ئَ تْنَا (اور تو نے ہم میں کونسا عیب دیکھا ہے سوائے اس کے کہ ہم اپنے رب کے احکام پر ایمان لے آئے) تو ہمارا یہی عیب نکالتا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان لے آئے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جو تیری نگاہ میں سب سے بڑا عیب ہے وہ اصل میں سب سے بڑی فخر اور منقبت کی بات ہے اور وہ ایمان ہے شاعر نے یہی بات کہی۔ ولا عیب فیہم غیر ان سیوفھم، بہن فلولٌ من قراع الکتائب ٗ ( رَبَّنَآ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا (اے ہمارے رب ہمارے اوپر صبر کا فیضان فرما) یعنی زور سے ہم پر ڈال دے۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں وسیع صبر عنایت فرما یہاں تک کہ وہ ہم پر بہنے لگے اور ہمیں ڈھانپ لے جیسا کہ پانی ڈھانپ لیتا ہے۔ وَّتَوَ فَّنَا مُسْلِمیْنَ (اور ہمیں اس حال میں موت دے کہ ہم اسلام پر ہوں) اسلام پر ثابت قدم رہنے والے۔
Ayah 7:127فرعونی سرداروں کا خطرناک مشورہ :
آیت 127: وَقَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اَتَذَرُ مُوْسٰی وَقَوْمَہٗ لِیُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ (قوم فرعون کے سرداروں نے کہا کہ کیا آپ موسیٰ کو اور ان کی قوم کو یوں ہی رہنے دیں گے کہ وہ ملک میں فساد کرتے پھریں) مصر کی سر زمین میں غلبہ پاکر۔ اور وہاں کے لوگوں کا دین بدل کر۔ کیونکہ جادوگروں کے ایمان لانے پر چھ لاکھ لوگوں نے موافقت کی تھی۔ وَ یَذَرَکَ وَ ٰالِھَتَکَ (اور وہ آپ کو اور آپ کے معبودوں کو ترک کیے رہیں)
نحو : لیفسدوا۔ پر اس کا عطف ہے کہا جاتا ہے کہ فرعون نے اپنی قوم کے لئے اپنے بت بنوائے اور قوم کو حکم دیا کہ وہ اس کا قرب حاصل کرنے کے لیے ان بتوں کی پوجا کریں۔ جیسا کہ بتوں کی پوجا کی جاتی ہے۔ جیسا کہ بتوں کے پجاری پوجا کرتے ہوئے یہی کہتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ تعالیٰ کے نزدیک کردیں گے اس لیے وہ اپنے آپ کو رب کہلواتا تھا۔ انا ربکم الاعلٰی۔ (النّٰزعٰت) فرعون نے سرداروں کو جواب دیتے ہوے کہا :
جوابِ فرعون :
قَالَ سَنُقَتِّلُ اَبْنَآ ئَ ھُمْ وَنَسْتَحْیٖ نِسَآ ئَ ھُمْ وَاِنَّا فَوْقَھُمْ قٰھِرُوْنَ ۔ (فرعون نے کہا ہم ابھی ان کے بیٹوں کو قتل کرنا شروع کردیں اور عورتوں کو زندہ رہنے دیں۔ اور ہم کو ان پر ہر طرح کا زور حاصل ہے)
قراءت : سَنَقْتُلْ حجازی نے پڑھا یعنی ہم ان پر قتل ابناء کا قانون دوبارہ نافذ کر رہے ہیں۔ تاکہ ان کو معلوم ہوجائے کہ ہم ان پر غالب و قاہر ہیں۔ یہ ہمارے مقہور مجبور اور غلام ہیں یہ وہ اسرائیلی بچہ ہے جس کے متعلق ہمارے نجومی پیشینگوئی کرتے تھے۔ کہ سلطنت قبط کو تباہ کرے گا۔ اس سے عامۃ الناس ہماری اطاعت پر قائم رہیں گے اور ان کو بھی اس کی پیروی پر آمادہ کریں گے۔
Ayah 7:128موسیٰ ( علیہ السلام) کی مسلمانوں کو تلقین صبر وتقویٰ :
آیت 128: قَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِہِ اسْتَعِیْنُوْا بِاللّٰہِ وَ اصْبِرُوْا (موسیٰ ( علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا۔ کہ اللہ تعالیٰ سے مدد کی دعا کرو اور صبر کرو) یہ اس وقت کہا جب فرعون کی بات سے انہوں نے گھبراہٹ کا اظہار کیا۔ سنقتل ابناء ھم یہ بطور تسلی فرمایا اور آخرت کا وعدہ ان کو یاد دلایا۔ ان الارض نمبر 1۔ ارض میں الف لام عہد کا ہے اور ارض مصر مراد ہے نمبر 2۔ الف لام جنس کا ہے اور ارض مصر پر اس کا اول اطلاق ہوتا ہے اِنَّ الْاَرْضِ لِلّٰہِ یُوْرِثُھَا مَنْ یَّشَآ ئُ مِنْ عِبَادِہٖ (یہ زمین اللہ تعالیٰ کی ہے جس کو چاہیں اپنے بندوں میں سے مالک بنادیں) اس میں ان کو ارض مصر کی تمنا دلائی وَ الْعَاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ (اور بالآخر کامیابی انہی کو ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں) اس میں بشارت ہے کہ اچھا انجام متقین کے لیے ہے۔ خواہ ان میں سے ہو یا قبط میں سے قال موسٰی سے پہلے وائو نہیں لائے۔ کیونکہ یہ جملہ مستانفہ ہے بخلاف وقال الملاء کے وہ ماقبل و قال الملأ فی قوم فرعون پر معطوف ہے۔
Ayah 7:129وعدئہ آخرت کے متعلق تاخیر کی شکایت :
آیت 129: قَالُوْٓا اُوْذِیْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْ تِیَنَا وَمِنْم بَعْدِ مَاجِئْتَنَا (انہوں نے کہا ہم تو ہمیشہ مصیبت میں ہی رہے۔ آپ کی تشریف آوری سے پہلے اور آپ کی تشریف آوری کے بعد بھی) وہ اس سے قتل ابناء مراد لیتے تھے۔ جو ولادت موسیٰ سے قبل پیش آیا اور اس وقت تک رہا جب تک انہوں نے چاہا اور اب دو بارہ اسی کو نافذ کر رہے تھے۔ ان الفاظ میں فرعون کے متعلق شکوہ اور وعدئہ نصرت کے متعلق دیر ہونے کی شکایات ہیں۔
موسیٰ ( علیہ السلام) کا دلاسہ :
قاَلَ عَسٰی رَبُّکُمْ اَنْ یُّھْلِکَ عَدُوَّکُمْ وَیَسْتَخْلِفَکُمْ فِی الْاَ رْضِ (موسیٰ ( علیہ السلام) نے فرمایا بہت جلد اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کو ہلاک کر دیگا اور بجائے ان کے تمہیں اس سرزمین کا مالک بنا دیگا) جو بشارت پہلے اشارہ سے بیان کی تھی۔ اس میں وضاحت فرما دی اور ان کے سامنے بات کھول دی کہ وہ اللہ تعالیٰ فرعون کو ہلاک کرے گا۔ اس کے بعد سرزمین مصر میں تمہیں نائب بنائے گا۔ فَیَنْظُرَ کَیْفَ تَعْمَلُوْنَ (پھر تمہارا طرز عمل دیکھے گا) پس وہ تمہاری طرف سے اچھے برے عمل کو دیکھے گا۔ نعمت کی ناقدری اور ناشکری کا اندازہ کرے گا۔ تاکہ جو عمل تمہارے سے پایا جائے اس کے مطابق تمہیں بدلہ دیا جائے۔
نکتہ : عمرو بن عبید کہتے ہیں کہ میں خلافت سے قبل منصور کے پاس گیا اس کے دستر خوان پر ایک دو روٹیاں تھی۔ منصور نے عمرو کی خاطر اور منگوائیں۔ مگر میسرنہ ہوئیں تو منصور نے یہ آیت پڑھی۔ پھر خلافت کے بعد اس کے ہاں گیا اور یہ واقعہ یاد دلایا۔ تو منصور کہنے لگا ابھی ایک بات باقی ہے۔ فینظر کیف تعملون ہمارے اعمال سامنے نہیں آئے۔
Ayah 7:130فرعونیوں پر عذاب کی ابتداء :
آیت 130: وَلَقَدْ اَخَذْنَآ ٰالَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِیْنَ (ہم نے فرعونیوں کو قحط سالیوں کے عذاب میں مبتلا کردیا) سنین کا معنی قحط ہے۔ یہ سات سال تھے اور سنۃ یہ دابہ اور نجم کی طرح اسمائے غالبہ میں سے ہے۔ وَنَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ (اور پھلوں کی پیداوار کی کمی میں مبتلا کردیا) قحط دیہاتیوں کے لیے اور نقص اثمار شہریوں کے لیے لَعَلَّھُمْ یَذَّکَّرُوْنَ (تاکہ وہ سمجھ جائیں) تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں اور متنبہ ہوجائیں یہ حال ان کے اصرار کفر کی وجہ سے تھا۔ اور شدت و قحط میں لوگوں کے دلوں میں رقت و نرمی زیادہ ہوتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ فرعون چارسو سال زندہ رہا۔ اس نے تین سو بیس سال تک کوئی تکلیف نہ دیکھی تھی۔ اگر اس کو اس زمانہ میں سردرد بھوک وقحط، بخار پہنچتا تو وہ الوہیت کا مدعی نہ بنتا۔
Ayah 7:131فرعونیوں کا طرز عمل :
آیت 131: فَاِذَا جَآ ئَ تْھُمُ الْحَسَنَۃُ (پس جب ان پر خوشحالی آتی) صحت، سرسبزیقَالُوْا لَنَا ھٰذِہٖ (وہ کہتے کہ یہ تو ہمارے لئے ہونا ہی چاہیے) ہم اس کے مستحق ہیں۔ وَاِنْ تُصِبْھُمْ سَیِّئَۃٌ (اور اگر ان کو کوئی بدحالی پیش آتی) خشک سالی اور بیماری یَّطَّیَّرُوْا (تو نحوست بتاتے) اصل میں یَتَطَیَّرُوْا تھا ‘ تا کو طا میں ادغام کردیا کیونکہ یہ طرف لسان اور اصول ثنایا کے لفظ ہیں۔ بِمُوْسٰی وَمَنْ مَّعَہٗ (موسیٰ ( علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کی) ان کو منحوس قرار دیتے ان سے شگون لیتے اور کہتے کہ یہ ان کی نحوست ہے اگر یہ لوگ نہ ہوتے تو ہمیں یہ مصیبت نہ پہنچتی۔
نکتہ : یہاں اذا، داخل کیا ” حسنۃ “ میں اِنْ ، لائے سَیِئَۃ پر اور سیئۃ کو نکرہ لایا گیا کیونکہ جنس حَسَنَۃ تو کثرت کی وجہ سے واقع ہونے کی طرح ہے۔ اور سیئہ کبھی کبھی اور نادر احوال میں پیش آتی ہے اور اس میں سے بھی معمولی سی آتی ہے اس لیے اس کو نکرہ لائے۔ اَلَآ اِنَّمَا طٰٓپرُھُمْ (یاد رکھو کہ ان کی نحوست) ان کے خیر و شر کا سبب عِنْدَ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے) اللہ تعالیٰ کی حکمت و مشیّت میں ہے اللہ تعالیٰ کی ذات کے ہاتھ میں خیر و شر کا پہنچانا ہے۔ جیسا دوسری آیت میں ہے۔ قل کل من عند اللّٰہ ٗ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَھُمْ لَایَعْلَمُوْنَ ۔ (لیکن ان میں اکثر لوگ نہیں جانتے تھے) اس بات کو میں نہ مانوں کی رٹ۔
Ayah 7:132آیت 132: وَقَالُوْا مَھْمَا تَاْ تِنَا بِہٖ مِنْ ٰایَۃٍ لِّتَسْحَرَنَا بِھَا فَمَا نَحْنُ لَکَ بِمُؤْمِنِیْنَ ۔ (اور یوں کہتے کیسی ہی عجیب بات ہمارے سامنے لائو کہ اس کے ذریعہ سے ہم پر جادو چلائو۔ جب بھی ہم تمہاری بات ہرگز نہ مانیں گے)
نحو : اصل مھما کی ما ما ہے۔ پہلا ” ماؔ“ جزاء کے لیے ہے دوسرا اس کے ساتھ تاکید جزاء کے لیے لایا گیا۔ جیسا کہتے ہیں۔ متی ما تخرج اخرج۔ ارشاد الٰہی : اَ یْنَ مَا تَــکُوْنُوْا ( البقرہ : 148) فَاِمَّا نَذْہَبَنَّ بِکَ (الزخرف : 41) البتہ درمیان والا الف ما کا تکرا رمتجانسین کی وجہ سے ہا سے بدل دیا۔ علمائے بصرہ کا درست مذہب یہی ہے۔ اعراب میں یہ تأتنا کی وجہ سے موضع نصب میں ہے۔ یعنی ایما شئی تو حاضر کرتا ہے اور لاتا ہے مِن اٰیۃ یہ مھما کا بیان ہے بہٖ کی ضمیر اور بھا کی ضمیر مہما کی طرف لوٹتی ہے البتہ پہلا لفظ کا لحاظ کر کے لائے اور دوسری معنی کا کر کے لائی گئی کیونکہ وہ آیت کے معنی میں ہے اس کو آیت موسیٰ ( علیہ السلام) کے نام کا اعتبار کرکے کہا یا ان کا مقصد اس سے استہزاء تھا۔ کہ جس کو تو نشانی کہتا پھرتا ہے یہ بھی کوئی نشانی ہے۔
Ayah 7:133فرعونی عذابوں کے چکر میں :
آیت 133: فَاَرْسَلْنَا عَلَیْھِمُ الطُّوْفَانَ (پھر ہم نے ان پر طوفان بھیجا) نمبر 1۔ جس نے ان کو گھیر لیا اور بارش وغیرہ جس نے ان پر غلبہ کرلیا۔ نمبر 2۔ سیلاب نمبر 3۔ پانی نے ان کے کھیتوں کو ڈبو دیا آٹھ دن مسلسل بارش ہوتی رہی سخت اندھیرا چھایا رہا۔ دن رات سورج چاند کو نہ دیکھا اور کوئی گھر سے باہر نہ نکل سکا۔ نمبر 4: یہ پانی قبطیوں کے گھروں میں داخل ہوگیا۔ یہاں تک کہ پانی ان کے گلے تک پہنچ گیا جو بیٹھتا وہ غرق ہوجاتا۔ بنی سرائیل کے گھروں میں ایک قطرہ بھی داخل نہ ہوا۔
نمبر 5۔ جدری کی بیماری تھی نمبر 6۔ طاعون ان پر مسلط ہوا۔ وَالْجَرَادَ (اور ٹڈیاں) ان کی کھیتیاں کھالیں اور ان کے پھل سڑ گئے اور ان کے گھروں کی چھتوں اور کپڑوں کو دیمک نے چاٹ لیا۔ بنی اسرائیل کے گھروں میں سے کسی کے گھر میں ان میں سے کچھ بھی نہ تھا۔ وَ الْقُمَّلَ (جوں یا گھن کا کیڑا) جوئیں یہ مکڑی کی اولاد ہے۔ اس کے پر نکلنے سے پہلے یا پسو یا بڑے چیچڑ وَالضَّفَادِعَ (مینڈک) ان کے کھانے اور مشروبات میں گرتے تھے۔ یہاں تک کہ جب کوئی بات کرتا تو چھلانگ لگاکر اس کے منہ میں پہنچ جاتا۔ وَالدَّمَ (خون) نکسیر دوسرا قول یہ ہے کہ ان کے پانی خون بن گئے۔ یہاں تک کہ قبطی اور بنی اسرائیلی ایک برتن پر جمع ہوجاتے تو بنی اسرائیلی کے سامنے والا پانی اسی طرح رہتا اور قبطی کے سامنے والا خون بن جاتا تیسرا قول یہ ہے کہ نیل سے خون بہنے لگا۔ ٰایٰتٍ (معجزات) یہ اشیائے مذکورہ سے حال ہے۔ مُّفَصَّلٰتٍ (کھلے) ظاہر واضح اس میں کسی عقل مند کو ذرہ بھر شبہ نہ تھا۔ کہ یہ اٰیات اللہ میں سے ہیں۔ نمبر 2۔ ان نشانات کا آپس میں ایک ایک ماہ کا فاصلہ تھا۔ فَاسْتَکْبَرُوْ ا (پس وہ تکبر کرتے رہے) موسیٰ ( علیہ السلام) پر ایمان لانے سے وَکَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ (اور وہ لوگ کچھ تھے ہی جرائم پیشہ) ۔
Ayah 7:134عذاب کے وقت جھوٹا وعدہ :
آیت 134: وَلَمَّا وَقَعَ عَلَیْھِمُ الرِّجْزُ (جب ان پر کوئی عذاب واقع ہوتا) آخری عذاب اور وہ خون یا یکے بعد دیگرے آنے والا عذاب قَالُوْا یٰمُوْسَی ادْعُ لَنَا رَبَّکَ بِمَا عَھِدَ عِنْدَکَ (اے موسیٰ ہمارے لئے اپنے رب سے اس بات کی دعا کر دیجئے جس کا اس نے آپ سے عہد کر رکھا ہے) ما مصدریہ ہے یعنی جو وعدہ اس نے تیرے ساتھ کیا اور وہ نبوت ہے باؔ، اُدْعُ سے متعلق ہے یعنی ادع اللّٰہ لنا متوسلًا الیہ بعھدہٖ عندک تو اللہ تعالیٰ سے ہمارے لئے اس وعدہ کے توسل سے دعا کر جو اس نے تیرے ساتھ کر رکھا ہے۔ لَپنْ کَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَکَ وَلَنُرْسِلَنَّ مَعَکَ بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ (اگر آپ اس عذاب کو ہم سے ہٹا دیں تو ہم ضرور بالضرور آپ کے کہنے سے ایمان لے آویں گے اور ہم بنی اسرائیل کو بھی رہا کر کے آپ کے ہمراہ کردیں گے) ۔
Ayah 7:135مہلت سے غلط فائدہ :
آیت 135: فَلَمَّا کَشَفْنَا عَنْھُمُ الرِّجْزَ اِلٰٓی اَجَلٍ (پھر جب ہم ان سے عذاب کو ایک مدت تک ہٹا دیتے) ایک زمانہ تک ھُمْ بَالِغُوْہُ (جس مدت تک ان کو پہنچنا تھا) بہر صورت پس ان کو سزا ملے گی ان کو پہلی مہلت کام نہ دے گی۔ اور نہ ہی عذاب کا وقتی طور دور ہونا کام آئے گا۔ اِذَا ھُمْ یَنْکُثُوْنَ (تو وہ اسی وقت عہد شکنی کردیتے تھے) یہ لمّا کا جواب ہے یعنی جب ہم نے ان سے عذاب ہٹالیا تو اسی وقت وعدہ توڑنے لگے اور ذرہ بھی تاخیرنہ کی۔
Ayah 7:136کفر و تکذیب کا نتیجہ غرقابی ہوا :
آیت 136: فَانْتَقَمْنَا مِنْھُمْ (پھر ہم نے ان سے بدلہ لے لیا) انتقام انعام کی ضد ہے جیسا کہ عقاب ثواب کی ضد ہے فَاَغْرَقْنٰھُمْ فِی الْیَمِّ (یعنی ان کو سمندر میں غرق کردیا) یَمّ ، وہ سمندر جس کی گہرائی معلوم نہ ہو۔ نمبر 2۔ سمندر کی موجوں اور کثیر پانی کو کہتے ہیں۔ یہ تیمم سے بنا ہے کیونکہ اس سے فائدہ اٹھانے والے اس کا قصد کرتے ہیں بِاَ نَّھُمْ کَذَّبُوْا بِٰایٰتِنَا وَکَانُوْا عَنْھَا غٰفِلِیْنَ (کیونکہ وہ ہماری آیات کو جھٹلاتے تھے اور ان سے بالکل ہی بےتوجہی کرتے تھے) ان کا غرق ہونا آیات کی تکذیب اور ان سے غفلت اور عدم توجہ کی بناء پر تھا۔
Ayah 7:137غلامی سے آزادی اور ایفائے عہد :
آیت 137: وَاَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِیْنَ کَانُوْا یُسْتَضْعَفُوْنَ (اور ہم نے ان لوگوں کو جو کہ بالکل کمزور شمار کیے جاتے تھے مالک بنادیا) یہ بنی اسرائیل ہیں فرعون ان کو قتل اور غلامی سے کمزور کرتا تھا۔ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَمَغَارِبَھَا (اسی سرزمین کے مشرق و مغرب کا) سرزمین مصر وشام الَّتِیْ بٰرَکْنَا فِیْھَا (جس میں ہم نے برکت رکھی ہے) سرسبزی اور وسعت رزق اور کثرت انہار و اشجار کی بناء پر وَتَمَّتْ کَلِمَتُ رَبِّکَ الْحُسْنٰی عَلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ (اور آپ کے رب کا نیک وعدہ بنی اسرائیل کے حق میں پورا ہوگیا) وہ کلمہ اس آیت میں مذکور ہے : عَسٰی رَبُّکُمْ اَنْ یُّہْلِکَ عَدُوَّکُمْ وَیَسْتَخْلِفَـکُمْ فِی الْاَرْضِ ( الاعراف : 129) یا پھر اس آیت میں : وَنُرِیْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَی الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِی الْاَرْضِ وَنَجْعَلَہُمْ اَئِمَّۃً وَّنَجْعَلَہُمُ الْوٰرِثِیْنَ وَنُمَکِّنَ لَہُمْ فِی الْاَرْضِ وَنُرِیَ فِرْعَوْنَ وَہَامٰنَ وَجُنُوْدَہُمَا مِنْہُمْ مَّا کَانُوْا یَحْذَرُوْنَ ( القصص : 5‘ 6) الحسنٰییہ احسن کی تانیث ہے اور کلمہ کی صفت ہے علیٰ یہ تمت کا صلہ ہے یعنی مضت علیہم واستمرت علیہم ان پر مسلسل رہا۔ جیسا کہ محاورہ ہے تمّ علی الامرجب کہ وہ اس پر چل رہا ہو۔ بِمَا صَبَرُوْا (ان کے صبر کی وجہ سے) یہ آیت صبر پر آمادہ کرنے کے لئے کافی ہے۔ یہ دلالت کر رہی ہے۔ کہ جو تکالیف کا مقابلہ جزع فزع سے کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو اس کی تکلیف کے سپرد کردیتا ہے اور جو صبر کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے کشادگی کا ضامن بن جاتا ہے وَدَمَّرْنَا (اور ہم نے درہم برہم کردیا) ہم نے ہلاک کردیا مَا کَانَ یَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُہٗ وَمَا کَانُوْا یَعْرِشُوْنَ (فرعون اور اس کی قوم کے تیار کردہ کارخانوں کو اور وہ بلند عمارات جو وہ تعمیر کرتے تھے) نمبر 1۔ عمارات اور محلات کی تعمیر وغیرہ۔ نمبر 2۔ باغات میں۔ نمبر 3۔ جو وہ مضبوط محلات بناتے تھے جیسا ہا مانی محل وغیرہ۔
قراءت : شامی اور ابوبکر نے یَعْرُشُوْنَپڑھا ہے۔ راء کے ضمہ سے یہ فرعون اور قبطیوں کا واقعہ اور ان کے تکذیب آیات کے حالات کا اختتام ہے۔ اس کے بعد بنی اسرائیل کا واقعہ ذکر کیا اور جو حالات انہوں نے فرعون کی غلامی سے نجات پانے کے بعد پیدا کیے اللہ تعالیٰ کی عظیم آیات کا معائنہ کرنے اور سمندر پار کرنے کے بعد بھی گائے کی عبادت جیسے قبیح فعل کے ارتکاب کا تذکرہ ہے۔
بنی اسرائیل کے حالات پر نظر :
اصل مقصد یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی کہ بنی اسرائیل کا آپ سے مدینہ میں سلوک کچھ عجیب نہیں بلکہ اس سے بھی عجیب تر حالات ان کی طرف سے پہلے بھی پیش آچکے۔
Ayah 7:138بنی اسرائیل میدان صحرائے سیناء میں :
آیت 138: وَجٰوَزْنَابِبَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ الْبَحْرَ (ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر پار کرا دیا) روایت میں ہے کہ بنی اسرائیل نے جس دن سمندر عبور کیا وہ عاشورہ کا دن تھا۔ فرعون اور قوم فرعون اسی دن غرق ہوئے پس بنی اسرائیل نے عاشورہ کے دن کا بطور شکریہ روزہ رکھا۔ فَاَتَوْا عَلٰی قَوْمٍ (پس ان کا گزرہوا ایک قوم پر) ان کا گزر ایک قوم کے پاس سے ہوا۔
بنی اسرائیل کی پہلی حماقت و جہالت :
یَّعْکُفُوْنَ عَلٰٓی اَصْنَامٍ لَّھُمْ (جو اپنے بتوں کی عبادت پر جمے ہوئے تھے) جو ان کی عبادت پر مواظبت کرنے والے تھے۔ یہ گائے کی مورتیاں تھیں۔
قراءت : حمزہ اور علی نے یعکفون کاف کے کسرہ سے پڑھا۔ قَالُوْا یٰمُوْسَی اجْعَلْ لَّنَآ اِلٰھًا (کہنے لگے اے موسیٰ ہمارے لئے بھی ایک ایسا معبود مقرر کردو) ایک بت بنادو۔ جس پر ہم بھی جھک بیٹھیں۔ کَمَا لَھُمْ ٰالِھَۃٌ (جیسے ان کے معبود ہیں) بت ہیں جن کے پاس آس جمائے بیٹھے ہیں۔
نحو : کما کا ماکافہ ہے اس لیے اس کے بعد جملہ آیا۔
نکتہ : ایک یہودی نے حضرت علی ؓ سے کہا کہ تم نے تو اپنے نبی کی قبر پر چھڑکا جانے والا پانی خشک ہونے سے پہلے ہی اختلاف ڈال دیا۔ تو حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ تم نے سمندر کے پانی سے قدم خشک ہونے سے پہلے ہی کہہ دیا (جبکہ موسیٰ و ہارون ابھی وہیں موجود تھے) یٰموسَی اجعل لنا الٰھا کما لھم ٰالھۃ۔ قَالَ اِنَّکُمْ قَوْمٌ تَجْھَلُوْنَ (موسیٰ ( علیہ السلام) نے فرمایا یقینا تم لوگ جاہل ہو) اللہ تعالیٰ کی قدرت کی عظیم ترین نشانی دیکھنے کے بعد ان کے اس قول پر تعجب کیا۔ آپ نے اس کو جہل مطلق قرار دیا۔ اور اس کو اِنَّ سے مؤکد بھی کیا۔
Ayah 7:139بت پرستی بےبنیاد چیز ہے :
آیت 139: اِنَّ ھٰٓؤُلَآ ئِ (بیشک یہ کام) ان تماثیل کی عبادت کرنے والے مُتَبَّرٌ (بیکار ہیں) ہلاک ہونے والے ہیں۔ یہ تبار سے بنا ہے۔ مَّا ھُمْ فِیْہِ (جس میں وہ مصروف ہیں) اللہ تعالیٰ ہلاک کردیں گے اور ان کے لین دین کو مہندم کردیں گے جس پر وہ چل رہے ہیں میرے ذریعہ یہاں ہٰٓؤُلَآئِ کو اِنّ کا اسم بنانے اور خبر کو مقدم کر کے اس بات کو نشان زدہ کردیا کہ بت پرست دراصل خود ہلاکت کا شکار ہونے والے ہیں۔ اور وہ اس سے بالکل نہیں بچ سکتے۔ وَبٰطِلٌ مَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (اور محض بےبنیاد ہے جو وہ کر رہے ہیں) یعنی جو کچھ وہ بت پرستی کرتے ہیں وہ بےکار اور بےحقیقت ہونے والی ہے۔
Ayah 7:140آیت 140: قَالَ اَغَیْرَ اللّٰہِ اَبْغِیْکُمْ اِلٰھًا (اور فرمایا کیا اللہ تعالیٰ کے سواء اور کسی کو تمہارا معبود تجویز کر دوں) یعنی کیا میں تمہیں ایسا معبود تلاش کرکے دوں جو سرے سے ہی عبادت کا حقدار نہیں۔ وَّ ھُوَ فَضَّلَکُمْ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ (حالانکہ اس نے تم کو تمام جہان والوں پر فضیلت دی ہے) یہ حال ہے مراد اس زمانہ کے لوگ۔
Ayah 7:141انعامات سے تذکیر :
آیت 141: وَاِذْ اَنْجَیْنٰـکُمْ مِّنْ ٰالِ فِرْعَوْنَ ۔ (اور جب ہم نے تمہیں نجات دی آل فرعون سے) ۔ قراءت : اَنْجَاکُمْ شامی نے پڑھا یَسُوْمُوْنَکُمْ سُوْئَ الْعَذَابِ : (جو تمہیں بری تکلیفیں دیتے تھے) وہ تمہارے لیے سخت سزا کے خواہاں تھے۔ یہ سام السلعہ سے لیا گیا ہے جبکہ اس کو طلب کیا جائے۔
نحو : یہ جملہ مستانفہ ہے اس کا کوئی محل اعراب نہیں۔ نمبر 2۔ مخاطبین سے حال ہے۔ نمبر 3۔ آل فرعون سے حال ہے۔ یُقَتِّلُوْنَ اَبْنَآ ئَ کُمْ وَیَسْتَحْیُوْنَ نِسَآ ئَ کُمْ (وہ تمہارے بیٹوں کو بکثرت قتل کر ڈالتے اور تمہاری عورتوں کو زندہ چھوڑ دیتے تھے) قراءت : نافع نے یَقْتُلُوْنَ پڑھا۔ وَفِیْ ذٰلِکُمْ (اور اس میں) یعنی نجات دینے یا سزا دینے میں بَلَآ ئٌ (آزمائش تھی) نعمت یا مشقت مِّنْ رَّبِّکُمْ عَظِیْمٌ۔ (تمہارے رب کی طرف سے بڑی)
Ayah 7:142کتاب ملنے کا وعدہ :
آیت 142: وَوٰعَدْنَا مُوْسٰی ثَلٰثِیْنَ لَیْلَۃً (ہم نے موسیٰ ( علیہ السلام) سے تیس رات کا وعدہ کیا) تو رات دینے کے لیے وَّ اَتْمَمْنٰھَا بِعَشْرٍ (اور مزید دس راتوں سے ان تیس راتوں کو مکمل کردیا) روایت میں ہے کہ موسیٰ ( علیہ السلام) نے بنی اسرائیل سے وعدہ فرمایا جبکہ آپ مصر میں تھے۔ کہ اگر اللہ تعالیٰ نے تمہارے دشمن کو ہلاک کردیا تو تمہیں اپنی طرف سے ایک کتاب دیں گے جب فرعون ہلاک ہوچکا تو موسیٰ ( علیہ السلام) نے بارگاہ خداوندی میں کتاب کا سوال کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے تیس دن کے روزے رکھنے کا حکم فرمایا یہ ذی القعدہ کا مہینہ تھا۔ جب تیس دن پورے ہوگئے آپ نے منہ میں مہک محسوس کی اور مسواک کرلی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے وحی فرمائی کہ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ روز دار کے منہ کی مہک اللہ تعالیٰ کو مشک کی خوشبو سے زیادہ پسند ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے دس دن ذی الحجہ کے بڑھانے کا حکم دیا۔ اسی لیے فرمایا فَتَمَّ مِیْقَاتُ رَبِّہٖٓ (پس ان کے رب کا وقت مقررہ پورا ہوگیا) جو وقت اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے مقرر فرمایا تھا۔ اور بیان فرمایا تھا۔ اَرْبَعِیْنَ لَیْلَۃً (چالیس راتیں)
نحو : یہ حال ہونے کی بناء پر منصوب ہے۔ یعنی پورا ہوا اس حال میں کہ وہ اس گنتی تک پہنچنے والا تھا۔ اجمالاً ، اربعین کا تذکرہ سورة بقرہ میں فرمایا مگر یہاں اس کی تفصیل فرمائی۔
حضرت ہارون ( علیہ السلام) کو ہدایت :
وَقَالَ مُوْسٰی لِاَخِیْہِ ھٰرُوْنَ (موسیٰ ( علیہ السلام) نے اپنے بھائی ہارون سے کہہ دیا) ھٰرُوْنَ ، اَخِیْہِ کا عطف بیان ہے۔ اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ (میرے بعد ان لوگوں کا انتظام رکھنا) ان میں میرا خلیفہ بن کر۔ وَاَصْلِحْ (اور اصلاح کرتے رہنا) اور بنی اسرائیل کے جن معاملات کی درستگی لازم ہے ان کی اصلاح کرتے رہو۔ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِیْلَ الْمُفْسِدِیْنَ (اور بد نظم لوگوں کی رائے پر عمل مت کرنا) جو ان میں سے فساد کا داعی ہو تو اس کی اتباع نہ کرنا اور اس کی اطاعت نہ کرنا۔
Ayah 7:143موسیٰ ( علیہ السلام) کا طورؔ پر ہم کلامی سے مشرف ہونا :
آیت 143: وَلَمَّا جَآ ئَ مُوْسٰی لِمِیْقَاتِنَا (جب آئے موسیٰ ہمارے مقررہ وقت پر) ہمارے اس ٹائم پر جو ہم نے ان کے لیے مقرر کیا تھا اور جس وقت کی حد بندی کردی تھی۔ میقات کی لام، لام تخصیص ہے ہمارے میقات کے لیے ان کی آمد خاص کردی گئی۔ وَکَلَّمَہٗ رَبُّہٗ (اور ان کے رب نے ان سے باتیں کیں) بلا واسطہ اور بلا کیف روایت میں ہے کہ وہ کلام ہر جہت سے سن رہے تھے۔ اور شیخ ابو منصور (رح) نے اپنی کتاب التاویلات میں ذکر کیا کہ موسیٰ ( علیہ السلام) نے ایک آواز سنی جو اللہ تعالیٰ کے کلام پر دلالت کرنے والی تھی۔ اور موسیٰ ( علیہ السلام) کا اس کے ساتھ خاص کرنا اس لحاظ سے تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک ایسی آواز سنائی جس کی تخلیق کا وہ خود والیو ذمہ دار تھا۔ بغیر اس بات کے کہ وہ آواز مخلوق میں سے کسی ایک کے لئے مکتسب ہو۔ اس کے علاوہ دوسرے لوگ بندوں کے لیے مکتسب آواز سنتے ہیں۔ جس سے اللہ تعالیٰ کا کلام سمجھا جاتا ہے۔ جب موسیٰ ( علیہ السلام) نے کلام سنا تو غلبہ شوق میں دیدار کی خواہش ظاہر کی۔ اور رؤیت کے لیے اس طرح سوال کیا۔
غلبہ شوق میں خواہش دیدار :
قَالَ رَبِّ اَرِنِیْٓ اَنْظُرْ اِلَیْکَ (تو عرض کیا اے میرے رب مجھے اپنا دیدار کرا دیجئے کہ میں آپ کو ایک نظر دیکھ لوں) اَرِنِیْ کا دوسرا مفعول محذوف ہے تقدیر عبارت یہ ہے ارنی ذالک انظر الیک یعنی مجھے اپنے دیدار کی اس طرح طاقت عنایت فرما کہ آپ تجلی فرمائیں اور میں آپ کو دیکھ لوں۔
قراءت : مکی نے اَرْنِیپڑھا ہے اور ابو عمرو نے، راء کے اختلاس کے ساتھ۔ راء کے نیچے کسرہ۔ اور دیگر قراء نے راء کے کسرہ اشباع کے ساتھ پڑھا۔
امکان رئویت پر دلائل :
یہ آیت اہلسنّت کی دلیل ہے کہ رئویت باری تعالیٰ جائز و ممکن ہے۔ موسیٰ ( علیہ السلام) نے اعتقاد کیا کہ اللہ تعالیٰ کو دیکھا جاسکتا ہے یہاں تک کہ ان سے سوال بھی کردیا۔ اور ایسی چیز کا اعتقاد رکھنا جو اللہ تعالیٰ کے متعلق جائز نہ ہو یہ کفر ہے۔ قَالَ لَنْ تَرٰنِیْ (ارشاد فرمایا تم ہرگز مجھے نہیں دیکھ سکتے) سوال کر کے نہیں اور نہ اس فانی آنکھ کے ساتھ بلکہ عطاء و نوال کے ساتھ اور باقی رہنے والی آنکھ کے ساتھ۔ یہ بھی اہلسنّت کی دلیل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا لن اُرٰی (کہ مجھے ہرگز دیکھا نہ جائے گا) کہ اس سے جو از رئویت کی نفی ہو۔ اور اگر اس کی ذات دیکھی نہ جاسکتی ہوتی تو اللہ تعالیٰ خبر دیتے کہ انہ لیس بمرئیٍّ جبکہ حالت اور حالت بھی ایسی کہ بیان کی ضرورت ہے۔ وَلٰـکِنِ انْظُرْ اِلَی الْجَبَلِ فَاِنِ اسْتَقَرَّ َمَکَانَہٗ (لیکن تم اس پہاڑ کی طرف دیکھتے رہو۔ اگر یہ اپنی جگہ پر برقرار رہا) وہ اپنی حالت پر باقی رہا۔ فَسَوْفَ تَرٰنِیْ یہ بھی اہلسنّت کی تیسری دلیل ہے کیونکہ رؤیت کو استقرار جبل سے معلق کرنا اور وہ ممکن ہے اور کسی چیز کا ممکن سے معلق کرنا اس کے امکان پر دلالت کرتا ہے۔ جیسا کہ تعلیق بالممتنع اس کے امتناع کی دلیل ہوتی ہے۔ اور ممکن کی دلیل یہ ارشاد ہے۔ جعلہٗ دکًّا یہاں اندک نہیں فرمایا۔ جس کو اللہ تعالیٰ ایجاد کریں اس چیز کے لیے یہ بھی جائز ہے کہ وہ نہ پائی جائے۔ اگر وہ اس کو ایجاد نہ کریں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے فعل میں مختار ہیں۔ اور اس لئے بھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو مایوس نہیں کیا۔ اور نہ اسپر عتاب کیا اور اگر رؤیت محال ہوتی تو ان کو عتاب کیا جاتا۔ جیسا کہ نوح ( علیہ السلام) کو عتاب ہوا۔ اِنِّیْٓ اَعِظُکَ اَنْ تَـکُوْنَ مِنَ الْجٰہِلِیْنَ (ہود : 46) جب کہ انہوں نے اپنے بیٹے کے متعلق غرق سے بچانے کا سوال کیا۔ فَلَمَّا تَجَلّٰی رَبُّہٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَہٗ دَکًّا (پس ان کے رب نے جب پہاڑ پر تجلی فرمائی (تو) تجلی سے اس کے پرخچے اڑا دیئے) یعنی ظہور فرمایا۔ اور بلا کیف ظہور فرمایا شیخ ابو منصور نے فرمایا۔ تجلی للجبل کا معنی وہی ہے جو اشعری نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پہاڑ میں زندگی، علم، رؤیت پیدا فرما دیا۔ یہاں تک کہ پہاڑ نے اپنے رب کو دیکھا یہ نص قطعی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات مرئی ہے۔ ان مذکورہ بالا وجوہ کی بنا پر منکرین رؤیت کی جہالت واضح ہوجاتی ہے۔
اعتراض اور جواب :
اعتراض : موسیٰ ( علیہ السلام) اس بات سے واقف تھے کہ اللہ تعالیٰ کو دیکھا نہیں جاسکتا لیکن ان کی قوم نے یہ مطالبہ پیش کیا کہ وہ اپنا رب انہیں دکھائیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا قول ذکر کیا : نُّؤْمِنَ لَکَ حَتّٰی نَرَی اللّٰہَ جَہْرَۃً ( البقرہ : 55) پس آپ نے اس لیے رؤیت کا مطالبہ کیا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے سامنے ظاہر فرما دیں کہ وہ ذات مرئی نہیں۔
جواب : یہ محض باطل ہے اگر بات اس طرح ہوتی جیسا کہ تم کہتے ہو۔ تو موسیٰ ( علیہ السلام) اس طرح کہتے ارھم ینظروا الیک پھر اللہ تعالیٰ فرما دیتے : لن یرونی۔ مگر ایسا نہیں فرمایا اگر رؤیت جائز نہ ہوتی تو موسیٰ ( علیہ السلام) ان کی تردید کو مؤخر نہ فرماتے۔ بلکہ جونہی ان کا کلام آپ کے کان تک پہنچا تھا، اسی وقت تردید فرما دیتے کیونکہ اسی وقت تردید نہ کرنے سے کفر پر پختہ کرنا لازم آتا ہے۔ حالانکہ انبیاء ( علیہ السلام) کی بعثت تو کفر کی تغییر کے لیے ہے کیا تم نہیں دیکھتے جب بنی اسرائیل نے کہا : یٰموسی اجعل لنا الٰھا کما لھم ٰالھۃ آپ نے ان کو مہلت نہیں دی بلکہ اسی وقت تردید فرمائی انکم قوم تجھلون ؟ جَعَلَہٗ دَکًّا (تو پہاڑ کو چورا کردیا) اس کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا یہ مصدر بمعنی مفعول ہے جیسے ضرب الامیر بمعنی مضروب الا میر الدق اور الدک ہم معنی ہیں یعنی زمین کے برابر کہ اس میں کوئی ٹیلہ نہ تھا کہا جاتا ہے ناقۃ دکّاء جس کی کوہان نہ ہو۔
قراءت : حمزہ اور علی نے دکاء پڑھا ہے۔
موسیٰ ( علیہ السلام) پر بیہوشی :
وَّ خَرَّ مُوْسٰی صَعِقًا (موسیٰ بےہوش ہو کر گرپڑے) یہ حال ہے یعنی موسیٰ ( علیہ السلام) پر غشی طاری ہوگئی جس سے زمین پر گرگئے فَلَمَّآ اَفَاقَ (پھر جب ہوش آیا) اپنی بےہوشی سے قَالَ سُبْحٰنَکَ تُبْتُ اِلَیْکَ (تو عرض کیا بیشک آپ کی ذات پاک ہے میں آپ کی بارگاہ میں معذرت کرتا ہوں) دنیا میں سوال کرنے سے وَاَنَا اَوَّ لُ الْمُؤْمِنِیْنَ (اور میں سب سے پہلے اس پر یقین رکھتا ہوں) یعنی تیری عظمت اور جلال پر اور اس پر کہ تو دنیا میں دیدار نہیں کراتا۔ باوجود جائز ہونے کے (کعبی کے قول کا رد) کعبی اصم کا قول کہ ارنی انظر الیک کا معنی یہ ہے کہ مجھے کوئی نشانی دکھا جس سے میں آ پکو بطریق ضرورت جان لوں کہ گویا میں آپ کو دیکھ رہا ہوں۔ لن ترانی تو میری پہچان اس انداز سے نہیں کرسکتا۔ ولکن انظرالی الجبل میں اس کے لیے نشانی ظاہر کرتا ہوں۔ اگر اس کی تجلی کے لیے پہاڑ قائم رہا اور اپنی جگہ مستقررہا عنقریب تو بھی اس کے لیے ثابت و قائم رہے گا۔ اور اس کی طاقت رکھ سکے گا۔ مگر یہ بات غلط ہے کیونکہ موسیٰ ( علیہ السلام) نے ارنی انظر الیک فرمایا الیھا نہیں فرمایا اور اللہ تعالیٰ نے لن ترانی فرمایا لن تری آیتی نہیں فرمایا۔ پھر اس کا معنی لن ترٰی ٰایتیکس طرح ہوسکتا ہے۔ جبکہ عظیم ترین نشانی دکھائی کہ پہاڑ کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔
Ayah 7:144مشرّفِ ہم کلامی اور تورات کی الواح :
144: قَالَ یٰمُوْسٰٓی اِنِّی اصْطَفَیْتُکَ عَلَی النَّاسِ (ارشاد فرمایا میں نے اے موسیٰ تجھے لوگوں پر امتیاز دیا) میں نے تجھے اہل زمانہ میں سے منتخب کیا۔ بِرِسٰلٰتِیْ (اپنی پیغمبری سے) وہ تورات کے اسفار ہیں۔ قراءت : حجازی نے برسالتی پڑھا ہے۔ وَبِکَلَامِیْ (اور اپنی ہم کلامی سے) خاص تجھ سے کلام کر کے فَخُذْ مَآ ٰاتَیْتُکَ (پس جو کچھ میں نے تم کو دیا ہے اس کو لو) جو میں نے تجھے شرف نبوت اور حکمت عنایت فرمائی وَکُنْ مِّنَ الشّٰکِرِیْنَ (اور شکر کرو) اس نعمت پر پس یہ عظیم نعمتوں میں سے ہے کہا جاتا ہے کہ موسیٰ ( علیہ السلام) عرفہ کے دن بےہوش ہو کر گرے اور دس ذی الحجہ کو تورات ملی۔ اس لیے کہ ہارون ( علیہ السلام) ، موسیٰ ( علیہ السلام) کے تابع تھے تو اصطفاء کو ان کے ساتھ خاص کردیا۔
Ayah 7:145تورات بنی اسرائیل کا قانون :
آیت 145: وَکَتَبْنَا لَـہٗ فِی الْاَ لْوَاحِ (اور ہم نے ان کو چند تختیوں پر لکھ دی) الواح جمع لوح تورات یہ دس تختیاں تھیں بعض نے کہا سات یہ زمرد کی بنی ہوئی تھیں دوسرا قول یہ ہے کہ لکڑی کی بنی ہوئی تھیں آسمان سے اتریں اور ان میں تورات درج تھی۔ مِنْ کُلِّ شَیْ ئٍ (ہر چیز کی) یہ کتبنا کا مفعول ہونے کی وجہ سے محل نصب میں ہے۔ مَّوْعِظَۃً وَّ تَفْصِیْلًا لِّکُلِّ شَیْئٍ (نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل) یہ من کل شئی کا بدل ہے۔ مطلب یہ ہے ہم نے ان کے لیے ہر وہ چیز لکھ دی جس کی بنی اسرائیل کو مواعظ و تفصیل احکام کے سلسلہ میں ضرورت تھی ایک قول یہ بھی ہے کہ تورات ستّر اونٹوں پر لادی جاتی تھی۔ اس کو مکمل چار آدمیوں نے پڑھا موسیٰ ۔ یوشع۔ عزیر۔ عیسیٰ ( علیہ السلام) ۔ فَخُذْھَا (پس تم اس کو عمل میں لائو) پس ہم نے انہیں کہا اس کو پکڑو۔ خذھا کا عطف کتبنا پر ہے۔ اور ہا کی ضمیر الواح کی طرف ہے۔ نمبر 2۔ لکل شیء کی طرف کیونکہ وہ اشیاء کے معنی میں ہے۔ بِقُوَّ ۃٍ (کوشش کے ساتھ) محنت و عزیمت کے ساتھ جس طرح اولوا العزم رسول کرتے ہیں۔ وَّاْمُرْ قَوْمَکَ یَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِھَا (اپنی قوم کو حکم دو کہ اس کے اچھے اچھے احکام پر عمل کرو) یعنی اس میں جو احکام ہیں وہ احسن و حسن پر مشتمل ہیں۔ مثلاً قصاص لینا۔ معاف کرنا۔ بدلہ لینا۔ صبر کرنا۔ ان کو حکم دیں کہ وہ ایسا حکم اپنائیں جو حسن میں زیادہ بہتر اور ثواب میں زیادہ ہو۔ جیسا کہ اس ارشاد میں : وَاتَّبِعُوْٓا اَحْسَنَ مَآ اُنْزِلَ اِلَــیْکُمْ مِّنْ رَّبِّکُمْ ( الزمر : 55) سَاُورِیْکُمْ دَارَ الْفٰسِقِیْنَ (میں بہت جلد تم کو ان نافرمانوں کا مقام دکھلائوں گا) فرعون اور اس کی قوم کا علاقہ یعنی مصر اور عادو ثمود کے مقامات اور ہلاک شدہ اقوام۔ کہ کس طرح یہ علاقے ان سے خالی ہوئے۔ تاکہ عبرت حاصل کریں۔ ان کی طرح فسق اختیار نہ کریں۔ کہیں انہی جیسی دنیوی سزا نہ بھگتنی پڑے یا جہنم ٹھکانہ نہ بن جائے۔
Ayah 7:146متکبر حکمت سے محروم رہتا ہے :
آیت 146: سَاَ صْرِفُ عَنْ ٰایٰتِیَ (اور ایسے لوگوں کو میں اپنی آیات سے برگشتہ ہی رکھوں گا) ان کے سمجھنے سے ذوالنون مصری (رح) نے فرمایا اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتے کہ باطل پسند بےکار لوگوں کو قرآن مجید کی خفیہ حکمتوں سے نوازے۔ الَّذِیْنَ یَتَکَبَّرُوْنَ (جو لوگ تکبر کرتے ہیں) جو مخلوق پر ظلم کرتے اور قبول حق سے نفرت کرتے ہیں تکبر کی اصل حقیقت اس بڑائی کی بتکلف کوشش کرنا جو باری تعالیٰ کے لیے خاص ہے۔ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ (زمین میں ناحق) یہ یتکبرون سے حال ہے ای یتکبرون غیر محقین کیونکہ تکبر تو صرف اللہ تعالیٰ ہی کا حق ہے۔ وَاِنْ یَّرَوْا کُلَّ ٰایَۃٍ لَّا یُؤْ مِنُوْا بِھَا (اور اگر وہ تمام نشان دیکھ لیں تب بھی ان پر ایمان نہ لاویں) جو ان پر آیات اتاری گئیں۔ وَاِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الرُّشْدِ (اور اگر وہ ہدایت کا راستہ دیکھیں) معاملے میں ہدایت، بھلائی کا راستہ رشد ہے۔
قراءت : حمزہ و علی نے الرَّشَدَپڑھا ہے اور یہ دونوں لفظ السُقْم اور السَّقَمَ کی طرح ہیں۔ لَا یَتَّخِذُوْہُ سَبِیْلًا (تو اس کو اپنا طریقہ نہیں بناتے) وَاِنْ یَّرَ وْ ا سَبِیْلَ الْغَیِّ (اور اگر وہ گمراہی کا راستہ دیکھ لیں) الغیّ گمراہی۔ یَتَّخِذُوْہُ سَبِیْلًا (تو اس کو اپنا راستہ بنالیں) ذٰلِکَ (یہ) یہ حق سے پھرنا۔ یہ محل رفع میں ہے بِاَنَّھُمْ کَذَّ بُوْا بِٰایٰـتِنَا (اس وجہ سے ہے۔ کہ انہوں نے ہماری آیات کو جھٹلادیا) ان کی تکذیب کے باعث ہے۔ وَکَانُوْا عَنْھَا غٰفِلِیْنَ (اور وہ ان سے غافل رہے) عناد وا عراض والی غفلت نہ کہ سہو وجہل والی۔
Ayah 7:147آخرت کے منکروں کا حبط اعمال :
آیت 147: وَالَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِٰایٰتِنَا وَلِقَآئِ الْاٰخِرَۃِ (اور جنہوں نے ہماری آیات اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا)
نحو : یہ اضافت مصدر الی المفعول کی قسم میں سے ہے۔ ای لقاء ھم ٰالاخرۃ ان کا آخرت کی ملاقات اور اس کے احوال کا مشاہدہ حَبِطَتْ اَعْمَالُھُمْ (ان کے سب کام تباہ ہوگئے) یہ خبر ہے والذین کی۔ ھَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَاکَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (ان کو وہی سزا دی جائے گی جو کچھ یہ کرتے تھے) وہ رسولوں کی تکذیب کے سبب احوال کی تکذیب ہے۔
Ayah 7:148بنی اسرائیل کی دوسری حماقت :
آیت 148: وَاتَّخَذَ قَوْمُ مُوْسٰی مِنْم بَعْدِہٖ (اور موسیٰ کی قوم نے بنالیا ان کے بعد) ان کے طور پر تشریف لے جانے کے بعد مِنْ حُلِیِّھِمْ (اپنے زیورات میں سے) ان کی طرف زیور کی نسبت کردی گئی۔ حالانکہ وہ ان کے پاس عاریت کے طور پر تھے کیونکہ اضافت ادنیٰ تعلق کی بناء پر بھی ہوسکتی ہے۔
نکتہ : اس میں دلیل ہے کہ جو آدمی قسم اٹھائے کہ وہ فلاں کے گھر میں داخل نہیں ہوگا۔ وہ اگر مستعار گھر میں داخل ہوگیا تو تب بھی حانث ہوجائے گا۔ وہ ان زیورات کے مالک ان کے ہلاک ہونے کے بعد بنے۔ جس طرح ان کی دیگر املاک کے مالک ان کے ہلاک ہونے کے بعد بنے۔
مسئلہ : اس سے ثابت ہوا کہ کفار کے مال میں استیلاء حاصل ہونے سے وہ مال ان کی ملکیت سے نکل جاتے ہیں ان سے وہ زیور لینے والا سامری تھا۔ مگر وہ اس کے فعل پر راضی تھے۔ اس لئے فعل کا اسناد ان کی طرف کردیا گیا الحلیّ جمع حَلْی اس سونے اور چاندی کی چیز کو کہتے ہیں جس سے خوبصورتی حاصل کی جائے۔
قراءت : حمزہ و علی نے اتباع کی وجہ سے حلِّیہم پڑھا ہے۔ عِجْلاً جَسَدًا لَّہٗ خُوَارٌ (ایک بچھڑے کا مجسمہ جس میں ایک آواز تھی)
نحو : عجلاً یہ اتخذ کا مفعول بہٖ ہے۔ جَسدًا اس کا بدل ہے یعنی ایک بدن جو گوشت و خون والا تھا۔ جیسے تمام جسم ہوتے ہیں۔ لہ خوارٌ گائے کی آواز کو خوار کہا جاتا ہے اس کا دوسر امفعول محذوف ہے ای الٰھًا پھر ان کے احمقانہ عقول پر تعجب کرتے ہوئے فرمایا : اَلَمْ یَرَوْا کہ انہوں نے اس کو معبودبنایا۔ اَلَمْ یَرَوْا اَنَّہٗ لَا یُکَلِّمُھُمْ وَلَا یَھْدِیْھِمْ سَبِیْلاً (کیا انہوں نے یہ نہ دیکھا کہ وہ ان سے بات تک نہیں کرتا۔ اور ان کو کوئی راہ نہیں بتلاتا) ان سے کلام کی قدرت بھی نہیں رکھتا اور نہ ہی راستہ کی طرف راہنمائی کرسکتا ہے جبکہ انہوں نے اس کو اس ذات کے مقابلہ میں چنا ہے جس کے کلمات تعریف کو سارے سمندروں کی سیاہی سے بھی رقم نہیں کیا جاسکتا قلم ختم اور سارے سمندروں کی سیاہی ختم ہوجائے گی مگر اس کی حمدو ثنا ختم نہیں ہوگی۔ جس نے مخلوق کو حق کی راہ سجھائی عقلوں میں ایسے دلائل کتابیں اتار کر سمجھا دیئے۔ اِتَّخَذُوْہُ (انہوں نے اس کو معبود قرار دیا) یہ جملہ ابتدائیہ کے طور پر لائے۔ کہ انہوں نے اس کو معبود بنادیا۔ اور اس انتہائی قبیح کام کا اقدام کیا۔ وَکَانُوْا ظٰلِمِیْنَ (اور انہوں نے بڑا بےڈھنگا کام کیا) ۔
Ayah 7:149عبادتِ عمل پر شرمندگی :
آیت 149: وَلَمَّا سُقِطَ فِیْٓ اَیـْدِیْھِمْ (اور جب وہ شرمندہ ہوئے) جب بچھڑے کی پوجا پر ان کی شرمندگی زیادہ ہوگئی۔ اور اس کی اصل اس طرح ہے کہ جو شرمندہ زیادہ ہوجائے وہ غم سے ہاتھ کاٹنے لگ جاتا ہے اور اس کے ہاتھ اس میں گرجاتے ہیں کیونکہ اس کا منہ بھی ہاتھوں میں آپڑتا ہے۔ سقط کی اسناد فی ایدیھم کی طرف کنایات کی قسم میں سے ہے۔ زجاج (رح) نے فرمایا اس کا معنی یہ ہے سقط الندم فی ایدیھم یعنی ان کے دلوں اور جانوں میں غم آپڑا۔ جیسا کہا جاتا ہے : حصل فی یدہ مکروہ حالانکہ یہ ممکن ہے کہ وہ امر مکر وہ اس کے ہاتھ میں آجائے۔ صرف دل و جان میں حاصل ہونے والی چیز کو آنکھوں اور ہاتھ میں حاصل ہونے والی چیز سے تشبیہ مقصود ہوتی ہے۔ وَرَاَوْا اَنَّھُمْ قَدْ ضَلُّوْا (اور انہوں نے جان لیا کہ وہ واقعی گمراہی میں پڑگئے ہیں) ان کی گمراہی اپنے سامنے اس طرح کھل گئی گویا گمراہی کو انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔ قَالُوْا لَپنْ لَّمْ یَرْحََمْنَا رَبُّنَا وَیَغْفِرْلَنَا (تو کہنے لگے اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہ کرے اور ہمارا گناہ معاف نہ کرے)
قراءت : حمزہ اور علی نے لئن لم ترحمنا ربنا و تغفرلنا پڑھا ہے۔ ربنا کا منصوب ہونا نداء کی وجہ سے ہے لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ (تو ہم بالکل گئے گزرے ہوگئے) جو دنیا و آخرت میں نقصان اٹھانے والے ہیں۔
Ayah 7:150موسیٰ ( علیہ السلام) کی طور سے واپسی اور ہارون ( علیہ السلام) پر ناراضگی :
آیت 150: وَلَمَّا رَجَعَ مُوْسٰٓی (اور جب موسیٰ واپس آئے) طور سے اِلٰی قَوْمِہٖ (اپنی قوم کی طرف) بنی اسرائیل غَضْبَانَ (غصے اور) یہ موسیٰ سے حال ہے اَسِفًا (رنج کی حالت میں) یہ بھی حال ہے اس کا معنی غمگین ہونا۔ قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُوْنِیْ (تو انہوں نے کہا تم نے بہت بڑی نامعقول حرکت کی) تم میری جگہ کھڑے ہوئے اور میرے نائب ہوگئے۔ مِنْم بَعْدِیْ (میرے بعد) یہ خطاب بچھڑے کی پوجا کرنے والوں اور سامری وغیرہ کو ہے۔ نمبر 2: ہارون اور ان کے ساتھ مؤمنین کو ہے اور اس پر دوسرا ارشاددلیل ہے۔ اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ (الاعراف : 142) مطلب یہ ہے کہ تم نے میری بہت بری مخالفت کی کہ بچھڑے کی عبادت اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جگہ شروع کردی۔ نمبر 2۔ کہ تم نے غیر اللہ کی عبادت کرنے والوں کو نہیں روکا۔ بئس کا فاعل ضمیر ہے جس کی تفسیر ما خلفتمونی ہے اور مخصوص بالذم محذوف ہے تقدیر عبارت یہ ہے بئس خلافۃ خلفتمونیھا من بعد خلافتکم مطلب یہ فیہا من بعدی یہ خلفتمونی کے قول کے بعد ہے۔ من بعد مارأیتم منی من توحید اللّٰہ و نفی الشرکاء اس کے بعد کہ تم مجھ سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور نفی شرکاء دیکھ چکے یا اس کے بعد کہ میں بنی اسرائیل کو توحید پر آمادہ کرتا تھا۔ اور گائے کی عبادت سے روکتا تھا۔ جبکہ انہوں نے کہا : اجعل لنا الٰـھًا کما لھم ٰالھۃ۔ خلیفہ کا حق یہ ہے کہ وہ اپنے اصل کا راستہ بتائے۔ اور اختیار کرے۔ اَعَجِلْتُمْ (کیا تم نے جلدبازی کرلی) بچھڑے کی عبادت کی طرف تم نے سبقت کی اَمْرَرَبِّکُمْ ۔ (اپنے رب کا حکم آنے سے پہلے) وہ امر میرے تمہارے پاس چالیس راتوں کے بعد تورات لے کر آنا ہے العجلہ کی اصل کسی چیز کو وقت سے پہلے طلب کرنا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ عجلتم بمعنی ترکتم ہے کہ تم نے چھوڑ دیا۔
غضب للہ میں جلالِ موسیٰ d:
وَاَلْقَی الْاَ لْوَاحَ (اور جلدی سے تختیاں ایک طرف رکھ دیں) جب بچھڑے کی عبادت والی بات سنی تو بےقرار ہو کر اللہ تعالیٰ کی خاطر غصہ میں۔ آپ غضب شدید رکھتے تھے۔ ہارون ( علیہ السلام) میں آپکی نسبت نرمی تھی اس لیے بنی اسرائیل موسیٰ ( علیہ السلام) کی بجائے ہارون کو زیادہ چاہتے تھے الواح ٹوٹ گئیں اور اس کے چھ حصے اٹھا لیے گئے باقی ساتواں حصہ رہ گیا اور جو اٹھا لیا گیا اور اس میں تمام ضروریات دین کی تفصیل تھی اور جو باقی رہا اس میں ہدایت و رحمت کے اصول و مبانی تھے۔ وَاَخَذَ بِرَاْسِ اَخِیْہِ (اور اپنے بھائی کا سر پکڑا) بھائی سے ناراض ہو کر اس کے سر کے بالوں کو پکڑ لیا کہ اس نے ان کو بچھڑے کی عبادت سے نہیں روکا۔ یَجُرُّہٗٓ اِلَیْہِ (ان کو اپنی طرف کھینچنے لگے) عتاب کے طور پر نہ کہ تذلیل کے لئے۔
ہارون ( علیہ السلام) کا جواب :
نحو : یہ جملہ موسیٰ سے حال ہے۔ قَالَ ابْنَ اُمَّ (ہارون سے کہا اے میرے ماں جائے) ابن ام یہ خمسۃ عشر کی طرح مبنی علی الفتح ہے مگر حمزہ علی، شامی نے میم کے کسرہ سے پڑھا ہے۔ کیونکہ اس کی اصل امی ہے یا کو حذف کیا کسرہ پر اکتفاء کرتے ہوئے۔ ہارون موسیٰ کے حقیقی بھائی تھے مگر ماں کا تذکرہ مہربانی یا شفقت یادد لوانے کے لیے اور اس لئے بھی کہ وہ مخلصہ ومومنہ تھیں۔ اِنَّ الَْقَوْمَ اسْتَضْعَفُوْنِیْ وَکَادُوْا یَقْتُلُوْنَنِیْ (ان لوگوں نے مجھے بےحقیقت سمجھا اور قریب تھا کہ مجھ کو قتل کر ڈالیں) یعنی میں نے وعظ و نصیحت کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ لیکن انہوں نے مجھے کمزور گردانا اور میرے قتل کے درپے ہوگئے۔ فَـلَا تُشْمِتْ بِیَ الْاَ عْدَآئَ (پس تم مجھ پر مت خوش کرو دشمنوں کو) وہ لوگ جو بچھڑے کی پوجا کرتے رہے۔ یعنی میرے ساتھ کوئی ایسا معاملہ نہ کر جو انکی دلی تمنا کے مطابق ہو کیونکہ وہ میرے متعلق برائی اور توہین کے خواہاں ہیں۔ وَلَا تَجْعَلْنِیْ مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ (اور مجھ کو ظالم قوم کے ساتھ مت شمار کرو) مجھ پر غصہ کے ذریعے مجھے انکا ساتھی مت بنا۔ جب بھائی کا عذر واضح ہوگیا۔ تو موسیٰ ( علیہ السلام) نے کہا۔
Ayah 7:151دعائے موسیٰ d:
آیت 151: قَالَ رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَلِاَخِیْ (موسیٰ نے کہا اے میرے رب میری خطاء معاف فرما اور میرے بھائی کی بھی) بھائی کو راضی کرنے کے لئے اور شماتت کی نفی کرتے ہوئے ان کو دعا میں اپنے ساتھ شریک فرمایا۔ مطلب یہ ہے کہ اے میرے رب مجھے بخش دے جو مجھ سے میرے بھائی کے سلسلہ میں زیادتی ہوئی اور ان کو بخش دے اگر خلافت ونیابت کے سلسلہ میں ان سے کوئی زیادتی ہوئی۔ وَاَدْخِلْنَا فِیْ رَحْمَتِکَ (اور ہم دونوں کو اپنی رحمت میں داخل فرما) دنیا میں اپنی عصمت کے پردہ میں داخل فرما اور آخرت میں جنت جنان میں داخلہ عنایت فرما۔ وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ (اور آپ سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والے ہیں) ۔