7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsمدارک التنزیل

Ayah 7:77

فَعَقَرُوا النَّاقَةَ وَ عَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ وَ قَالُوْا یٰصٰلِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 7:77 in the Quran reader

آخر انہوں نے اونٹی کی کونچوں کو کاٹ ڈالا اور اپنے پروردگار کے حکم کی سرکشی کی اور کہنے لگے کہ صالح جس چیز سے تم ہمیں ڈراتے ہو اگر تم خدا کے پیغمبر ہو تو اسے ہم پر لے آؤ۔

77: فَعَقَرُ وا النَّاقَۃَ (غرض اس اونٹنی کو مار ڈالا) عقر کی نسبت پوری قوم کی طرف کی اگرچہ عاقر تو قد اربن سالفؔ تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ پوری قوم اس پر رضامند تھی۔ یہ قدار سرخ نیلگوں بونا تھا۔ جیسا کہ فرعون بھی اسی طرح تھا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے علی ؓ پہلوں میں بڑا بدبخت صالح کی اونٹنی کو ذبح کرنے والا تھا۔ اور پچھلوں میں بڑا بدبخت تیرا قاتل ہوگا۔ ( مجمع الزوائد : 299) وَعَتَوْا عَنْ اَمْرِرَبِّھِمْ (اور اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی) انہوں نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی اور اس سے منہ موڑا اور تکبر کیا۔ امر ربھم سے مراد وہ حکم ہے جو ان کو صالح ( علیہ السلام) کی زبان پر دیا گیا : فَذَرُوْہَا تَاْکُلْ فِیْٓ اَرْضِ اللّٰہِ (الاعراف : 73) یا شان رب مراد ہے۔ اور وہ دین ہے۔ وَقَالُوْا یٰصٰلِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ (اور کہنے لگے اے صالح جس کی آپ ہم کو دھمکی دیتے تھے اسکو منگوائیں) یعنی عذاب اِنْ کُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ ۔ (اگر تم پیغمبروں میں سے ہو)
Ayah 7:78

فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ Open ayah 7:78 in the Quran reader

تو ان کو بھونجال نے پکڑ لیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہے

عذاب کی آمد : آیت 78: فَاَخَذَتْھُمُ الرَّجْفَۃُ وہ چیخ جس سے زمین ہلادی گئی۔ اور وہ اس سے بےقرار ہوگئے۔ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِہِمْ اپنے شہروں میں یا مکانات میں جَاثِمِیْنَ (اوندھے) بیٹھنے کی حالت میں مردار ہوئے کہا جاتا ہے الناس جثم یعنی بیٹھے ہیں کہ ان میں حس و حرکت نہیں اور نہ وہ کلام کرتے ہیں۔
Ayah 7:79

فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ وَ لٰكِنْ لَّا تُحِبُّوْنَ النّٰصِحِیْنَ Open ayah 7:79 in the Quran reader

پھر صالح ان سے نامید ہو کر پھرے اور کہا اے میری قوم میں نے تم کو خدا کا پیغام پہنچادیا اور تمہاری خیر خواہی کی اور تم ایسے ہو خیرخواہوں کو دوست نہیں رکھتے۔

تحسر صالح۔ : آیت 79: فَتَوَلّٰی عَنْھُمْ (صالح ( علیہ السلام) ان سے منہ موڑ کر چلے) جب انہوں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹیں وَقَالَ یٰـقَوْمِ (اور فرمایا اے میری قوم) ان سے جدائی کے وقت لَقَدْ اَبْلَغْتُکُمْ رِسَالَۃَ رَبِّیْ وَنَصَحْتُ لَکُمْ وَلٰـکِنَ لَّا تُحِبُّوْنَ النّٰصِحِیْنَ (میں نے تو تم کو اپنے پروردگار کا حکم پہنچا دیا تھا اور میں نے تمہاری خیر خواہی کی لیکن تم لوگ خیر خواہوں کو پسند ہی نہیں کرتے تھے) جو کہ ہدایت کا حکم دینے والے تھے۔ خواہشات کی تزیین کی بناء پر نصیحت کے بارے میں معروف ہے کہ رسواء کن دودھ دینے والی اونٹنی ہے۔ لیکن وہ بدمزہ ہے جس سے غصہ جنم لیتا ہے۔ روایت میں ہے کہ انہوں نے بدھ کو اونٹنی کی کونچیں کاٹیں۔ صالح ( علیہ السلام) نے فرمایا کہ تم اس کے بعد تین دن زندہ رہو گے۔ پہلے دن تمہارے چہرے زرد پڑجائیں گے۔ جبکہ دوسرے دن سرخ ہوجائیں گے۔ اور تیسرے دن سیاہ پڑجائیں گے۔ چوتھے دن عذاب تمہیں دبوچ لے گا۔ بالکل ایسا ہی ہوا آپ ایک سو دس مسلمانوں کو لے کر نکلے۔ اس حال میں کہ آپ پر گریہ طاری تھی۔ جب انکی ہلاکت ہوچکی تو پھر لوٹ کر اسی علاقے میں رہے (مگر واپس وہیں رہائش کی بات محل نظر ہے۔ دیگر مفسرین مکہ مکرمہ ہجرت کا قول نقل کرتے ہیں) ۔
Ayah 7:80

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:80 in the Quran reader

اور جب ہم نے لوط کو پیغمبر بنا کر بھیجا تو اس وقت انہوں نے اپنی قوم سے کہا تم ایسی بےحیائی کا کام کیوں کرتے ہو کہ تم سے پہلے اہل عالم میں سے کسی نے اس طرح کا کام نہیں کیا ؟

تذکرہ قوم لوط۔ : آیت 80: وَلُوْطًا اِذْقَالَ لِقَوْمِہٖٓ (ہم نے لوط ( علیہ السلام) کو بھیجا جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا) یعنی اذکروا لوطا کہ تذکرہ کرو لوط ( علیہ السلام) کا اِذْیہ اس محذوف فعل کا بدل ہے۔ اَتَاْ تُوْنَ الْفَاحِشَۃَ (کیا تم ایسا فحش کام کرتے ہو) کیا تم انتہائی شدید برائی میں مبتلاء ہو۔ انوکھا جرم : مَاسَبَقَکُمْ بِھَا (جس کو تم سے پہلے نہیں کیا) جس کو تم سے پہلوں نے نہیں کیا۔ باتعدیہ کیلئے ہے اور رسول اللہ ﷺ کے ارشاد کا یہی مطلب ہے۔ سبقک بھا عکاشۃ۔ عکاشہ تم سے پہل کر گیا۔ ( احمد ‘ ج 1‘ ص : 453) مِنْ اَحَدٍ (کسی نے) من زائدہ ہے جو تاکید نفی کیلئے لائے اور یہاں استغراق کا معنی دے رہا ہے۔ مِنْ الْعٰلَمِیْنَ (دنیا جہاں والوں میں سے) اس میں من تبعیض کیلئے ہے۔ یہ جملہ مستانفہ ہے۔ اول ان پر یہ کہہ کر انکار کیا۔ اتاتون الفاحشۃ پھر ان کو ڈانٹ پلاتے ہوئے کہا کہ جہان میں اس عمل کے بانی تم ہو۔
Ayah 7:81

اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ Open ayah 7:81 in the Quran reader

یعنی خوایش نفسانی کو پورا کرنے کیلئے عورتوں کو چھوڑ کر لونڈوں پر گرتے ہو۔ حقیت یہ کہ تم حد سے گزرنے والے ہو

شہوات میں اندھا پن : آیت 81: اِنَّکُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ (تم مردوں کے ساتھ کرتے ہو) یہ اتاتون الفاحشۃ کا بیان ہے۔ اِنَّکُمْ کو مدنی اور حفص نے خبر مانا ہے۔ اور اتی المراۃ کا معنی جماع کرنا ہے شَھْوَۃً (شہوت رانی) یہ مفعول لہ ہے یعنی شہوت کی خاطر۔ تمہیں اس بات پر صرف شہوت آمادہ کرنے والی ہے اور یہ سب سے زیادہ قابل مذمت حرکت ہے۔ کیونکہ بہیمہ والی صفت ہے۔ مِّنْ دُوْنِ النِّسَآئِ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ (بلکہ تم حد ہی سے گزر گئے ہو) انکار سے اعراض کر کے اس حالت کی خبر دی جو ارتکاب قبائح کو لازم کرنے والی ہے۔ اور وہ اس قوم کی عادت اسراف اور ہر چیز میں تجاوز عن الحدود تھی۔ اس لئے انہوں نے قضائے شہوت میں اسراف کرتے ہوئے معتاد راستے سے غیر معتاد کی طرف تجاوز کیا۔
Ayah 7:82

وَ مَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ قَرْیَتِكُمْ١ۚ اِنَّهُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَهَّرُوْنَ Open ayah 7:82 in the Quran reader

تو ان سے اس کا جواب کچھ نہ بن پڑا بولے سو یہ بولے کہ لوط اور ان کے گھر والوں کو گاؤں سے نکال دو کہ یہ لوگ پاک بننا چاہتے ہیں

قوم کا جواب ‘ خیر کو عیب کہا : آیت 82: وَمَاکَانَ جَوَابَ قَوْمِہٖٓ اِلَّآ اَنْ قَالُوْٓا اَخْرِجُوْھُمْ مِّنْ قَرْیَتِکُمْ (ان کی قوم سے کوئی جواب نہ بن پڑا ٗ سوائے اس کے کہ آپس میں کہنے لگے کہ ان لوگوں کو تم اپنی بستی سے نکال دو ) یعنی لوط اور جو لوگ ان پر ایمان لائے تھے۔ مطلب یہ ہوا کہ لوط ( علیہ السلام) نے ان سے انکار فاحشہ کے سلسلے میں جو جواب مانگا اس کا انہوں نے کوئی جواب نہ دیا۔ جس شرارت کی جڑ کے متعلق لوط نے ان کی نشاندہی کی۔ کہ وہ صرف لوگ ہیں۔ انہوں نے انکا کوئی جواب نہ دیا۔ بلکہ ایسی چیز پیش کی جو ان کے کلام سے بالکل متعلق نہ تھی۔ انہوں نے حکم دیا کہ لوط اور ان پر ایمان لانے والوں کو بستی سے نکال دو ۔ اِنَّہُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَھَّرُوْنَ (یہ لوگ بڑے پاک صاف بنتے ہیں) یہ طہارت و پاکیزگی کے دعویدار ہیں اور ایسی بات کے مدعی ہیں کہ ہم خبیث فعل کے مرتکب ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ انہوں نے مسلمانوں کی بات کو بطور عیب ذکر کیا۔ جو قابل مدح تھی۔
Ayah 7:83

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١ۖ٘ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 7:83 in the Quran reader

تو ہم نے ان کو اور ان کے گھر والوں کو بچالیا۔ مگر ان کی بیوی نہ بچی کہ وہ پیچھیے رہنے والوں میں سے تھی۔

نتیجہ آمد عذاب : آیت 83: فَاَنْجَیْنٰہُ وَاَھْلَہٗٓ(پس ہم نے لوط ( علیہ السلام) اور ان کے متعلقین کو بچا لیا) جو بھی ان کے ساتھ خاص طور پر رشتہ دار متعلق تھے یا مومنین اِلَّا امْرَاَتَہٗ کَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ ( سوائے ان کی بیوی کے کہ وہ انہی لوگوں میں رہی جو عذاب میں رہ گئے تھے) عذاب میں باقی رہنے والے لوگوں میں سے تھی۔ مذکر کو مؤنث پر غلبہ دے کر مذکر صیغہ لایا گیا۔ یہ اہل سدوم میں سے کافرہ تھی۔ روایت میں مذکور ہے کہ اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو ایک پتھر اس کو آلگا۔ جس سے وہ ہلاک ہوگئی۔
Ayah 7:84

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ؕ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 7:84 in the Quran reader

اور ہم نے ان پر پتھروں کا مینہ برسایا۔ سو دیکھ لو کے گناہ گاروں کا کیسا انجام ہوا۔

خاص قسم کی بارش : آیت 84: وَاَمْطَرْنَا عَلَیْھِمْ مَّطَرًا (اور ہم نے ان پر ایک نئی طرح کی بارش برسائی) ہم نے ان پر ایک عجیب قسم کی بارش کی کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر آگ اور فاسفورس کی بارش کی۔ ایک قول یہ ہے کہ مقیم لوگوں کو زمین میں دھنسا دیا اور چلنے پھرنے والوں پر پتھروں کی بارش کی۔ ابوعبیدہ کا قول ہے لفظ اَمْطِرْعذاب کیلئے اور مَطَرْ کا لفظ رحمت کے لیے آتا ہے۔ فَانْظُرْ کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُجْرِمِیْنَ ۔ (پس دیکھ تو سہی ان مجرموں کا انجام کیسا ہوا) مجرمین سے کافر مراد ہیں۔
Ayah 7:85

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 7:85 in the Quran reader

اور مدین کی طرف ان کے بھائی شیعب کو بھیجا تو انہوں نے کہا اے قوم ! خدا کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک نشانی آچکی ہے۔ تو تم ناپ اور تول پورا کیا کرو اور لوگوں کی چیزیں پوری دیا کرو اور زمین میں اصلاح کے بعد خرابی نہ کرو۔ اگر تم صاحب ایمان ہو تو سمجھ لو کہ یہ بات تمہارے حق میں بہتر ہے

قوم شعیب ( علیہ السلام) کا تذکرہ : آیت 85: وَاِلٰی مَدْیَنَ (اور ہم نے مدین کی طرف بھیجا) اور ہم نے بھیجا مدین کی طرف۔ مدین یہ ایک قبیلہ کا نام ہے۔ اَخَاھُمْ شُعَیْبًا (ان کے بھائی شعیب ( علیہ السلام) کو) ان کو خطیب الانبیاء کہا جاتا ہے اس لئے کہ قوم کو انہوں نے خوب جواب دئیے اور عمدہ انداز سے سمجھایا وہ ماپ تول میں کمی کرنے والے تھے۔ خطیب الانبیاء کی شاندار تقریر : قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُ وا اللّٰہَ مَالَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ قَدْ جَآئَ تْکُمْ بِیِّنَۃٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ (انہوں نے فرمایا اے میری قوم تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں۔ تمہارے پاس تمہارے معبود کی طرف سے واضح دلیل آچکی ہے) یعنی معجزہ اگرچہ وہ قرآن میں موجود نہیں۔ فَاَوْفُوا الْکَیْلَ وَالْمِیْزَانَ (تو تم ماپ تول پوری پوری کیا کرو) ان کو پورا کرو۔ مراد یہ ہے کہ پورا کرو ماپ کو اور میزان کا وزن پورا دو ۔ یا میزان میعاد کی طرح بمعنی مصد رہے۔ وزن کرنے میں۔ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآ ئَ ھُمْ (اور لوگوں کا ان کی چیزوں میں نقصان مت کرو) ان کے حقوق مال میں کمی کر کے اور وزن میں نقص کر کے نہ توڑو۔ وہ فروخت کرتے وقت ہر چیز کم دیتے۔ بخس کا لفظ دو مفعول کی طرف متعدی ہے اور وہ الناس و اشیاء ہم ہے جیسے کہتے ہیں۔ بخست زیدًا حقہ یعنی میں نے اس کو کم کر کے دیا۔ وَلَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَ رْضِ بَعْدَ اِصْلَا حِھَا (اور زمین کی درستی کردیئے جانے کے بعد فساد مت پھیلائو) اس میں اصلاح کرنے کے بعد یعنی اس میں بگاڑ نہ پیدا کرو۔ اس کے بعد کہ نیک انبیاء اور اولیاء نے اس میں اصلاح کی ہے اور اصلاحھا کی اضافت اسی طرح ہے۔ جیسے : بَلْ مَکْرُ الَّیْلِ وَالنَّہَارِ ( سبا : 33) یعنی بل مکر کم فی الیل و النھار تمہارا دن رات تدابیر شر کرنا۔ ذٰلِکُمْ (یہ) اس سے اشارہ وفاء کیل و میزان، ترک بخس اور ترک فساد فی الارض کی طرف ہے۔ خَیْرٌ لَّکُمْ (تمہارے لئے بہتر ہے) انسانیت کے لحاظ سے اور اچھے کروکردار کے اعتبار سے اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْ مِنِیْنَ (اگر تم مومن ہو) اگر میری بات میں تم میری تصدیق کرنے والے ہو۔
Ayah 7:86

وَ لَا تَقْعُدُوْا بِكُلِّ صِرَاطٍ تُوْعِدُوْنَ وَ تَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِهٖ وَ تَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ۚ وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ كُنْتُمْ قَلِیْلًا فَكَثَّرَكُمْ١۪ وَ انْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:86 in the Quran reader

اور ہر راستے پر مت بیٹھا کرو کہ جو شخص خدا پر ایمان لاتا ہے اسے تم ڈراتے اور راہ خدا سے روکتے ہو اور اسمیں کجی ڈھونڈتے ہو اس وقت کو یاد کرو جب تم تھوڑے سے تھے تو خدا نے تم کو جماعت کثیر بنادیا۔ اور دیکھ کہ خرابی کرنے والوں کا انجام کیسا ہوا ؟

قوم کا مزاج ڈاکہ زنی : آیت 86: وَلَا تَقْعُدُ وْا بِکُلِّ صِرَاطٍ (اور تم سڑکوں پر اس غرض سے مت بیٹھا کرو) ہر راستے پر تُوْعِدُوْنَ (کہ دھمکیاں دو ) ان کو جو شعیب ( علیہ السلام) پر ایمان لاتے ہیں سزا کے ساتھ۔ وَتَصُدُّّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ مَنْ ٰامَنَ بِہٖ (اور ایمان والوں کو اللہ کی راہ سے روکو) عبادت سے مومنوں کو اور یہ بھی قول ہے کہ وہ راستے پر ڈاکے ڈالتے دوسرا قول یہ ہے کہ چنگی وصول کرتے۔ وَتَبْغُوْنَھَا عِوَجًا (اور اس میں کجی کی تلاش میں لگے رہو) اللہ تعالیٰ کی راہ کے لیے تم ڈھونڈتے ہو۔ یعنی اس کے متعلق لوگوں کو کہتے ہو کہ یہ ٹیٹرھا راستہ ہے درست و سیدھا نہیں ہے تاکہ لوگ اس پر چلنے سے رک جائیں۔ نحو : تو عدون اور اس کا معطوف یہ حال ہونے کی بناء پر منصوب ہے۔ یعنی نہ تم راستوں پر بیٹھو اس حال میں کہ تم لوگوں کو ڈرانے والے ہو۔ اور اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکنے والے اور اس میں ٹیڑھا پن تلاش کرنے والے ہو۔ وَاذْکُرُوْٓا اِذْکُنْتُمْ قَلِیلًا (اور اس حالت کو یاد کرو جب تم تھوڑے تھے) نحو : اذمفعول بہ ہے ظرف نہیں ہے۔ یعنی تم شکریہ کے طور پر اس وقت کو یاد کرو۔ جب تمہاری تعداد بہت کم تھی۔ فَکَثَّرَکُمْ (سو اللہ نے تمہیں زیادہ کردیا) اللہ تعالیٰ نے تمہاری تعداد بڑھا دی۔ اور گنتی میں بہت زیادہ کردیا۔ کہا جاتا ہے کہ مدین بن ابراہیم نے لوط ( علیہ السلام) کی بیٹی سے شادی کی پس اس سے اولاد پیدا ہوئی۔ جس میں اللہ تعالیٰ نے برکت ڈالی اور بہت زیادہ ہوگئے۔ وَانْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُفْسِدِیْنَ (اور دیکھو کیا انجام ہوا فساد کرنے والوں کا) آخر انجام ان لوگوں کا جنہوں نے تم سے پہلے فساد برپا کیا جیسے قوم نوح، قوم صالح، لوط، ہود علیہم السلام۔
Ayah 7:87

وَ اِنْ كَانَ طَآئِفَةٌ مِّنْكُمْ اٰمَنُوْا بِالَّذِیْۤ اُرْسِلْتُ بِهٖ وَ طَآئِفَةٌ لَّمْ یُؤْمِنُوْا فَاصْبِرُوْا حَتّٰى یَحْكُمَ اللّٰهُ بَیْنَنَا١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 7:87 in the Quran reader

اور اگر تم میں سے ایک جماعت میری رسالت پر ایمان لے آئی اور ایک جماعت ایمان نہیں لائی تو صبر کئے رہو یہاں تک کہ خدا ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ کردے۔ اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔

دونوں فریقوں کو خطاب : آیت 87: وَاِنْ کَانَ طَآپفَۃٌ مِّنْکُمْ ٰامَنُوْا بِالَّذِیْٓ اُرْسِلْتُ بِہٖ وَطَآپفَۃٌ لَّمْ یُؤْمِنُوْا فَاصْبِرُوْا (اور اگر تم میں سے بعض اس حکم پر جس کو مجھے دیکر بھیجا گیا ہے۔ ایمان لائے ہیں اور بعض ایمان نہیں لائے تو ذرا ٹھہر جائو) پس تم انتظار کرو۔ حَتّٰی یَحْکُمَ اللّٰہُ بَیْنَنَا (یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ہمارے درمیان میں فیصلہ کیے دیتے ہیں) یعنی دونوں فریقوں کے درمیان کہ حق پرستوں کو باطل پرستوں پر غلبہ دیا جائے۔ نمبر 1۔ یہ دراصل وعید ہے کہ اللہ تعالیٰ کافروں سے انتقام لیں گے۔ یا پھر ایمان والوں کو صبر پر آمادہ کیا گیا۔ کہ وہ مشرکین کی طرف سے پہنچنے والی ایذائوں کو برداشت کریں۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان کے اور کفار کے درمیان فیصلہ فرما دیں اور انتقام لیں۔ نمبر 3۔ دونوں فریقوں کو مخاطب کیا تاکہ مسلمان ایذائے کفار پر صبر کریں۔ اور کافروں کو ایمان والوں کا ایمان اگر برا معلوم ہوتا ہے تو وہ اس پر صبر کریں۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان کے مابین فیصلہ فرما دیں اور پلید اور پاک کو الگ کردیں۔ وَھُوَ خَیْرُ الْحٰکِمِیْنَ (اور وہ سب فیصلہ کرنے والوں سے بہتر ہے) کیونکہ اس کا حکم برحق اور عاد لانہ ہے۔ اس میں ظلم و جور کا شائبہ بھی نہیں۔
Ayah 7:88

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لَنُخْرِجَنَّكَ یٰشُعَیْبُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَكَ مِنْ قَرْیَتِنَاۤ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا١ؕ قَالَ اَوَ لَوْ كُنَّا كٰرِهِیْنَ۫ Open ayah 7:88 in the Quran reader

تو ان کی قوم میں جو لوگ سردار اور بڑے آدمی تھے وہ کہنے لگے کہ شعیب ! یا تو تم کو اور جو لوگ تمہارے ساتھ ایمان لائیں ہیں ان کو اپنے شہر سے نکال دیں گے یا تم ہمارے مذہب میں آجاؤ انہوں نے کہا خواہ ہم تمہارے دین سے بیزار ہی ہوں !

سرداروں کا جواب : آیت 88: قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْا مِنْ قَوْمِہٖ لَنُخْرِ جَنَّکَ یٰشُعَیْبُ وَالَّذِیْنَ ٰامَنُوْا مَعَکَ مِنْ قَرْیَتِنَآ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا (ان کو اپنی بستی سے نکال دیں گے۔ یا یہ ہو کہ تم ہمارے مذہب میں واپس آجائو) یعنی دونوں میں سے ایک بات ضرور تسلیم کرنا ہوگی یا نکلنا یا کفر کی طرف لوٹنا۔ قَالَ اَوَلَوْ کُنَّا کٰرِھِیْنَ (شعیب ( علیہ السلام) نے جواب دیا کہ کیا ہم تمہارے مذہب میں آجاویں اگرچہ ہم اس کو ناپسندہی سمجھتے ہوں) نحو : اس میں ہمزہ استفہام انکاری کے لیے ہے۔ اور وائو حالیہ ہے تقدیر عبارت یہ ہے۔ اتعید و ننافی ملتکم فی حال کر اھتنا و مع کو ننا کارہین قالوا نعم کیا تم ہمیں اپنے مذہب کی طرف لوٹائو گے باوجود یہ کہ ہم اس کو ناپسند کرتے ہیں انہوں نے کہا ہاں۔
Ayah 7:89

قَدِ افْتَرَیْنَا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اِنْ عُدْنَا فِیْ مِلَّتِكُمْ بَعْدَ اِذْ نَجّٰىنَا اللّٰهُ مِنْهَا١ؕ وَ مَا یَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّعُوْدَ فِیْهَاۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّنَا١ؕ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا١ؕ عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا١ؕ رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَ اَنْتَ خَیْرُ الْفٰتِحِیْنَ Open ayah 7:89 in the Quran reader

اگر ہم اس کے بعد کہ خدا ہمیں اس سے نجات بخش چکا ہے تمہارے مذہب میں لوٹ جائیں تو ہم نے بیشک خدا پر جھوٹ کس طرح باندھا اور ہم شایان نہیں کہ ہم اس میں لوٹ جائیں ہاں خدا جو ہمارا پروردگار ہے وہ چاہے تو ہم مجبور ہیں ہمارے پروردگار کا علم ہر چیز پر احاطہ کے ہوئے ہے ہمارا خدا ہی پر بھروسا ہے اے ہمارے پروردگار ہم میں اور ہماری قوم میں انصاف کے ساتھ فیصلہ فرما دیں اور تو سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔

شعیب ( علیہ السلام) کی جوابی تقریر : آیت 89: پھر ان کو شعیب ( علیہ السلام) نے فرمایا قَدِافْتَرَیْنَا عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اِنْ عُدْنَا فِیْ مِلَّتِکُمْ (ہم تو اللہ تعالیٰ پر بڑی جھوٹی تہمت لگانے والے ہوجاویں اگر ہم تمہارے مذہب میں آجائیں) یہ قسم ہے تقدیر عبارت یہ ہے واللّٰہ لقد افترینا علی اللّٰہ کذبا ان عد نافی ملتکم۔ اللہ کی قسم ہم نے اس وقت اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا اگر ہم تمہاری ملت کی طرف لوٹ کر گئے۔ بَعْدَ اِذْ نَجّٰنَا اللّٰہُ مِنْھَا (اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو اس سے نجات دی ہو) ہمیں اللہ تعالیٰ نے چھٹکارا دیا۔ سوال : ان عدنا فی ملتکم شعیب ( علیہ السلام) نے کس طرح کہہ دیا۔ حالانکہ کفر انبیاء تو محال ہے۔ جواب : اس سے قوم کے ان مومنین کا لوٹنا مراد ہے اگرچہ نظم کلام میں تمام شامل ہیں۔ اور بلاشبہ وہ اس سے بری ہیں۔ کلام کو تغلیب کے انداز میں چلایا ہے۔ وَمَا یَکُوَنُ لَنَآ (اور ہم سے یہ ممکن نہیں) نہ یہ ہمارے لیے مناسب ہے اور نہ صحیح ہے۔ اَنْ نَّعُوْدَ فِیْھَآ اِلَّآ اَنْ یَّشَآئَ اللّٰہُ رَبُّنَا (کہ ہم تمہارے مذہب میں پھر آجائیں لیکن ہاں یہ کہ اللہ ہی نے مقدر کیا ہو جو ہمارا مالک ہے) مگر یہ کہ ہماری تقدیر میں لوٹنا لکھا ہو۔ تو اس کو موڑا نہیں جاسکتا۔ کیونکہ ساری کائنات کے خیرو شر اللہ تعالیٰ کی مشیت سے ہیں۔ وَسِعَ رَبُّنَا کُلَّ شَیْئٍ عِلْمًا (ہمارے رب کا علم ہر چیز کو محیط ہے) علمًا، تمییز ہے یعنی وہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ اپنے بندوں کے پلٹنے والے حالات سے بخوبی واقف ہیں اور ان کے دل کس طرح پلٹتے ہیں اس سے بھی واقف ہے۔ عَلَی اللّٰہِ تَوَکَّلْنَا (ہم اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں) اس پر کہ وہ ہمیں ایمان پر ثابت قدم رکھے۔ اور یقین میں وہ اضافہ کی ہمت دے۔ رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَبَیْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ (اے ہمارے رب ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان حق کے موافق فیصلہ کر دیجئے) یعنی تو فیصلہ کر۔ الفتاحۃ فیصلہ کرنا۔ حق فیصلہ بند کام کو کھول دیتا ہے۔ اسی لیے اس کو فتح فرمایا۔ اہل عمان کی لغت میں قاضی کو فتاّح کہتے ہیں۔ وَ اَنْتَ خَیْرُ الْفٰتِحِیْنَ (اور آپ سب سے اچھا فیصلہ کرنے والے ہیں)
Ayah 7:90

وَ قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لَئِنِ اتَّبَعْتُمْ شُعَیْبًا اِنَّكُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ Open ayah 7:90 in the Quran reader

اور ان کی قوم میں سے سردار لوگ جو کافر تھے کہنے لگے بھائیوں اگر تم نے شعیب کی پیروی کی تو بیشک تم خسارے میں پڑگئے

سرداروں کا قوم کو ان کے خلاف بھڑکانا : آیت 90: وَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ قَوْمِہٖ لَپنِ اتَّبَعْتُمْ شُعَیْبًااِنَّکُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ (اور ان کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا اگر تم شعیب کی راہ پر چلنے لگو گے تو بیشک تم بڑا نقصان اٹھائو گے) اس کی اتباع سے بخس و تطفیف کے فوائد سے محروم ہوجائو گے۔ کیونکہ وہ ان سے روکتا ہے۔ اور تمہیں ایفاء اور برابری پر آمادہ کرتا ہے۔ نحو : لئن اتبعتم یہ لام شرط سے شروع ہونے والا قسم کا جواب ہے۔ اور شرط کا جواب انکم اذا لخاسرون ہے۔ اور وہ دونوں جوابوں کے قائم مقام ہے۔
Ayah 7:91

فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۚۖۛ Open ayah 7:91 in the Quran reader

تو ان کو بھونجال نے آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے

انکار کا نتیجہ ‘ دنیا میں زلزلہ اور آخرت میں تباہی : آیت 91: فَاخَذَ تْھُمُ الرَّجْفَۃُ (پس ان کو زلزلے نے آپکڑا) زلزلہ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِھِمْ جٰثِمِیْنَ (وہ اپنے گھروں میں اوندھے کے اوندھے پڑے رہ گئے) مردہ۔
Ayah 7:92

الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا شُعَیْبًا كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ۛۚ اَلَّذِیْنَ كَذَّبُوْا شُعَیْبًا كَانُوْا هُمُ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 7:92 in the Quran reader

یہ لوگ جنہوں نے شعیب کی تکذیب کی تھی ایسے برباد ہوئے تھے گویا کبھی آباد ہی نہ تھے غرض جنہوں نے شعیب کو چھٹلایا وہ خسارے میں پڑگئے۔

آیت 92: الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا شُعَیْبًا (جنہوں نے شعیب کی تکذیب کی تھی) : یہ مبتداء اور اس کی خبر کَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْھَا (ان کی یہ حالت ہوگئی گویا وہ ان گھروں میں کبھی بسے بھی نہ تھے) ہے۔ غنی بالمکان کا معنی اقامت اختیار کرنا ہے۔ گویا وہ مقیم ہی نہیں ہوئے۔ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا شُعَیْبًا (جنہوں نے شعیب کی تکذیب کی تھی) یہ مبتدا ہے اور اس کی خبر کَانُوْا ھُمُ الْخٰسِرِیْنَ (وہ خسارہ میں پڑگئے) ہے۔ اس مبتدا میں خصوصیت والا معنی پایا جاتا ہے۔ گویا اس طرح کہا گیا۔ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا شُعَیْبًا ہم المخصوصون بأن اہلکوا کأن لم یقیموا فی دارہم لان الذین اتبعوا شعیبًا قد انجاہم اللّٰہ۔ الذین کذبوا شعیبًا ہم المخصوصون بالخسران العظیم دون اتباعہ فہم الرابحون۔ اس مبتداء میں خصوصیت کا معنی ہے گویا اس طرح کہا گیا جنہوں نے شعیب ( علیہ السلام) کو جھٹلایا وہ ہلاکت کے ساتھ خاص ہیں۔ کہ ان کو ہلاک کردیا گیا۔ گویا وہ اپنے گھروں میں رہائش پذیر بھی نہ ہوئے۔ کیونکہ جنہوں نے شعیب ( علیہ السلام) کی اتباع کی اللہ تعالیٰ نے ان کو نجات اور جنہوں نے شعیب ( علیہ السلام) کو جھٹلایا وہ عظیم نقصان کے ساتھ مخصوص تھے۔ شعیب اس تکرار میں مبالغہ ہے اور ان کی تکذیب اور جو ان کے نتیجے میں ان پر گزری اس کو بہت بڑا کر کے پیش کیا گیا (تاکہ عبرت و نصیحت خوب ہو)
Ayah 7:93

فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ١ۚ فَكَیْفَ اٰسٰى عَلٰى قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ۠ Open ayah 7:93 in the Quran reader

تو شعیب ان میں سے نکل آئے اور کہا کہ بھائیوں ! میں نے تم کو پروردگار کے پیغام پہنچا دئے ہیں اور تمہاری خہر خواہی کی تھی تو میں کافروں پر عذاب نازل ہونے سے رنج و غم کیوں کروں ؟

تحسر کے کلمات : آیت 93: فَتَوَلّٰی عَنْھُمْ (اس وقت شعیب ان سے منہ موڑ کر چلے) عذاب نازل ہونے کے بعد۔ وَقَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُکُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَنَصَحْتُ لَکُمْ فَکَیْفَ ٰاسٰی (اور فرمانے لگے اے میری قوم میں نے تم کو اپنے پروردگار کے احکام پہنچا دیئے تھے اور میں نے تمہاری خیر خواہی کی پھر میں کیوں رنج کروں) غم کروں ؟ عَلٰی قَوْمٍ کٰفِرِیْنَ (کافر لوگوں پر) ان کا غم قوم پر سخت ہوا۔ پھر انہی کی طرف توجہ فرما کر فرمانے لگے۔ میں ایسی قوم پر کیوں غم کروں جب کہ وہ غم کے حقدار ہی نہیں۔ کیونکہ وہ کفر کرنے والے تھے اور اس عذاب کے حقدار تھے جو ان پر نازل ہوا۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ انہوں نے ارادہ کیا کہ میں اس عذاب سے بچانے میں جو تم پر اترا اور تبلیغ میں بہت عذر داری پیش کی مگر تم نے میری ایک نہ سنی۔ اب میں کیسے تم پر افسوس کروں۔
Ayah 7:94

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلَّاۤ اَخَذْنَاۤ اَهْلَهَا بِالْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ یَضَّرَّعُوْنَ Open ayah 7:94 in the Quran reader

اور ہم نے کسی شہر میں کوئی پیغمبر نہیں بھیجا مگر وہاں کے رہنے والوں کو جو ایمان نہ لائے دکھوں اور مصیبتوں میں مبتلا کیا تاکہ وہ عاجزی اور زاری کریں۔

قوموں کا عمومی طرز عمل : آیت 94: وَمَآ اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَۃٍ مِّنْ نَّبِیٍّ (اور ہم نے کسی بستی میں کوئی نبی نہیں بھیجا) ہر شہر کو قریہ کہتے ہیں۔ اس میں حذف ہے۔ یعنی انہوں نے ان کو جھٹلادیا۔ اِلَّآ اَخَذْنَآ اَھْلَھَا بِالْبَاْسَآئِ (کہ وہاں کے رہنے والوں کو محتاجی میں نہ پکڑا ہو) تنگدستی اور فقروَالضَّرَّآئِ (اور بیماری میں) اتباع پیغمبر سے تکبر کرنے کی بناء پر جسمانی تکالیف اور مرض یا دونوں کا یعنی نفس کا نقصان اور مال کا نقصان لَعَلَّہُمْ یَضَّرَّعُوْنَ (تاکہ وہ ڈھیلے پڑجائیں) تاکہ وہ گڑ گڑائیں اور عاجزی اختیار کریں تکبر کی چادر اتار پھینکیں۔
Ayah 7:95

ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ السَّیِّئَةِ الْحَسَنَةَ حَتّٰى عَفَوْا وَّ قَالُوْا قَدْ مَسَّ اٰبَآءَنَا الضَّرَّآءُ وَ السَّرَّآءُ فَاَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 7:95 in the Quran reader

پھر ہم نے تکلیف کو آسودگی سے بدل دیا یہاں تک کہ مال اولاد میں زیادہ ہوگئے تو کہنے لگے اس طرح کا رنج ہمارے بڑوں کو بھی پہنچتا رہا ہے تو ہم ان کو ناگہاں پکڑ لیا اور وہ اپنے حال میں بیخبر تھے

استدراجِ الٰہی : آیت 95: ثُمَّ بَدَّلْنَا مَکَانَ السَّیِّئَۃِ الْحَسَنَۃَ (پھر ہم نے اس بدحالی کی جگہ خوش حالی بدل دی) یعنی پھر ہم نے ان کو ان چیزوں کے بدلہ میں جن میں بلاء و محنت تھی نرمی، وسعت اور صحت دے دی۔ حَتّٰی عَفَوْا (یہاں تک کہ ان کو خوب ترقی ہوئی) وہ زیادہ ہوئے اور مال وانفس کے لحاظ سے ترقی کر گئے یہ عفا النبات سے لیا گیا جبکہ وہ کثرت سے ہو۔ اسی سے آپ ﷺ کا ارشاد ہے۔ اعفوا اللحٰی (نسائی ‘ ترمذی) وَّقَالُوْا قَدْمَسَّ ٰابَآ ئَ نَا الضَّرَّآئُ وَالسَّرَّآ ئُ (اور وہ کہنے لگے کہ ہمارے آبائو اجداد کو بھی تنگی اور راحت پیش آتیں تھیں) یعنی وہ کہنے لگے کہ یہ زمانہ کا چکر ہے کہ لوگوں میں دکھ سکھ آتا ہے۔ یہ گناہوں کی سزا نہیں اسی لیے جس بات پر قائم ہو اسی پر قائم رہو۔ فَاَخَذْ نٰھُمْ بَغْتَۃً وَّ ھُمْ لَایَشْعُرُوْنَ ۔ (تو ہم نے ان کو اچانک پکڑ لیا اور ان کو خبر بھی نہ تھی) عذاب کے نازل ہونے کی۔
Ayah 7:96

وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰۤى اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ وَ لٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 7:96 in the Quran reader

اگر ان بستیوں کے لوگ ایمان لے آتے اور پرہیزگار ہوجاتے تو ان پر آسمان اور زمین کی برکات کے خزانے کھول دیتے مگر انہوں نے تو تکذیب کی تو ان کے اعمال کی سزا میں ہم نے ان کو پکڑ لیا۔

اگر کفر و شرک سے بچتے تو ہمیں ان سے بیر نہ تھا : آیت 96: وَلَوْ اَنَّ اَھْلَ الْقُرٰٓی (اور اگر ان بستیوں والے) القرٰی میں الف لام اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ القرٰی سے وہی بستی مراد ہے جو اس آیت میں مراد ہے۔ وما ارسلنا فی قریۃ من نبی گویا عبارت اس طرح ہے ولو ان اہل تلک القری الذین کذبوا و اھلکوا اگر وہ بستی والے جنہوں نے تکذیب کی اور ہلاکت کا شکار ہوئے۔ ٰامَنُوْا (ایمان لے آتے) کفر کے بدلے ایمان لاتے۔ وَاتَّقَوْا (اور پرہیزگاری اختیار کرتے) شرک سے بچتے ‘ بجائے اس کے ارتکاب کے لَفَتَحْنَا عَلَیْھِمْ (تو ہم ان پر کھول دیتے) قراءت : شامی نے لَفَتَّحْنَاپڑھا۔ بَرَکٰتٍ مِّنَ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ (آسمان و زمین کی برکتیں) مراد اس سے نباتات اور بارش یا مطلب یہ ہے کہ ہم ان کو ہر اعتبار سے بھلائی عنایت فرماتے۔ وَلٰکِنْ کَذَّبُوْا (لیکن انہوں نے تکذیب کی) انبیاء کو انہوں نے جھٹلایا۔ فَاَخَذْ نٰھُمْ بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ (تو ہم نے ان کے اعمال کی وجہ سے ان کو پکڑ لیا) ان کے کفر کے سبب اور ان کی بداعمالیوں کے باعث اور جائز ہے کہ لام جنس کا ہو۔
Ayah 7:97

اَفَاَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰۤى اَنْ یَّاْتِیَهُمْ بَاْسُنَا بَیَاتًا وَّ هُمْ نَآئِمُوْنَؕ Open ayah 7:97 in the Quran reader

کیا بستیوں کے رہنے والے اس سے بےخوف ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب رات کو واقع ہو اور وہ بیخبر سو رہے ہوں ؟

آیت 97: اَفَاَمِنَ اَھْلُ الْقُرٰٓی (کیا ان بستیوں والے اس بات سے بےفکر ہوگئے) مراد اس سے ان کے کفار ہیں۔ اَنْ یَّاْتِیَھُمْ بَاْسُنَا (کہ ان پر ہمارا عذاب آپڑے) ہمارا عذاب بَیَاتًا (رات کے وقت) رات کو یعنی سونے کے وقت کہا جاتا ہے بات بیاتا۔ وَّھُمْ نَآپمُوْنَ (اور وہ سو رہے ہوں)
Ayah 7:98

اَوَ اَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰۤى اَنْ یَّاْتِیَهُمْ بَاْسُنَا ضُحًى وَّ هُمْ یَلْعَبُوْنَ Open ayah 7:98 in the Quran reader

اور کیا اہل شہر اس سے نڈر ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب دن چڑھے آ نازل ہو اور وہ کھیل رہے ہوں ؟

اہل قریٰ کی بےخوفی : آیت 98: اَوَاَمِنَ اَھْلُ الْقُرٰٓی اَنْ یَّاْ تِیَھُمْ بَاْسُنَا ضُحًی۔ (یا بستیوں والے اس سے بےخوف ہیں کہ ہمارا عذاب ان پر دن چڑھے آجائے) ۔ دن کو الضحیٰ اصل میں سورج کی روشنی جب خوب چمکنے لگے وائو اور فاء اَوَاَمِنَ اور اَفَاَمِنَ میں یہ دونوں حرف عطف ہیں ان پر ہمزہ انکار کا داخل ہوا اور معطوف علیہ فاخذھم ہے۔ یعنی ہم نے انکو پکڑ لیا اور ولو ان اہل القری سے یکسبون تک جملہ معترضہ ہے۔ جو معطوف اور معطوف علیہ کے درمیان واقع ہے۔ البتہ پہلے جملے کا عطف فاء سے ہے کیونکہ معنی یہ ہے پس انہوں نے تکبر کیا اور یہ حرکت کی پس ہم نے انکو اچانک پکڑ لیا۔ اہل قر ٰی کی بےخوفی سے اسی بات کو بعید قرار دیا کہ ان پر ہماری پکڑ رات کو آسکتی اور اس سے بےخوف ہوگئے کہ ہماری پکڑ ان پر چاشت کے وقت آجائے۔ وَّھُمْ یَلْعَبُوْنَ (جس وقت وہ کھیل میں لگے ہوں) قراءت : یہ شامی اور حجازی نے اوکے ساتھ عطف کی بناء پر پڑھا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان دو صورتوں میں عذاب کے رات کو آنے یا چاشت کے وقت آجانے سے بےخوف ہوجانے کا انکار کیا گیا۔ سوال : حرف عطف پر ہمزہ استفہام کا کس طرح داخل ہوا۔ حالانکہ وہ استفہام کے منافی ہے۔ جواب : ان میں منافات اس وقت ہے کہ جب مفرد کا عطف مفرد پر ہو۔ جب جملہ کا عطف جملہ پر ہو تو کوئی منافات نہیں۔ کیونکہ اس صورت میں جملہ کا دوسرے جملہ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ وَّھُمْ یَلْعَبُوْنَ ۔ وہ ایسی چیزوں میں مشغول تھے جو بےفائدہ تھیں۔
Ayah 7:99

اَفَاَمِنُوْا مَكْرَ اللّٰهِ١ۚ فَلَا یَاْمَنُ مَكْرَ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 7:99 in the Quran reader

کیا یہ لوگ خدا کے داؤ کا ڈر نہیں رکھتے ؟ سو خدا کے داؤ سے وہی لوگ نڈر ہوتے ہیں جو خسارہ پانے والے ہوں

اللہ کی خفیہ پکڑ سے بےخوف شخص مکمل خسارے والا ہے : آیت 99: اَفَاَمِنُوْا (ہاں تو کیا وہ بےفکر ہوگئے) یہ افامن اہل القرٰی کی تکریر کے لئے لایا گیا مَکْرَ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے) بندے کو اس طرح پکڑنا کہ اس کو شعور بھی نہ ہو۔ حضرت شبلی (رح) سے روایت ہے کہ کفار کے ساتھ اس کی خفیہ تدبیر یہ ہے کہ ان کو اس حالت میں چھوڑ دیا جس میں وہ تھے۔ ربیع بن خیثم کی بیٹی نے اپنے والد کو کہا کہ میں لوگوں کو دیکھتی ہوں کہ وہ سوتے ہیں اور تم نہیں سوتے۔ تو وہ کہنے لگے اے بیٹی تمہارا باپ اس بات سے خوف زدہ ہے کہ اس پر بیات نہ آجائے۔ گویا تو اس آیت کی طرف اشارہ کیا ان یاتیھم بأسنا بیاتًا۔ فَلاَ یَاْمَنُ مَکْرَ اللّٰہِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰسِرُوْنَ (پس اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے کوئی بےفکر نہیں ہوتا سو ائے ان کے جن کی شامت ہی آگئی ہو) مگر کافر جنہوں نے اپنے آپ کو نقصان میں ڈالایہاں تک کہ وہ جہنم میں پہنچ گئے۔
Ayah 7:100

اَوَ لَمْ یَهْدِ لِلَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ اَهْلِهَاۤ اَنْ لَّوْ نَشَآءُ اَصَبْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ١ۚ وَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 7:100 in the Quran reader

کیا ان لوگوں کو جو اہل زمین کے مرجانے کے بعد زمین کے مالک ہوتے ہیں یہ امر موجب ہدایت نہیں ہوا کہ اگر ہم چاہیں ان کے گناہوں کے سبب ان پر مصیبت ڈال دیں ؟ اور ان کے دلوں پر مہر لگا دیں کہ کچھ سن ہی نہ سکیں۔

ہم نے بعد میں آنے والوں کو بتلایا کہ گناہوں پر پکڑ ہوسکتی ہے : آیت 100: اَوَلَمْ یَھْدِ (کیا یہ بات نہیں بتلائی) وہ کھول کر بیان کرتا ہے لِلَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْاَرْضَ مِنْم بَعْدِ اَھْلِھَآ اَنْ لَّوْنَشَآ ئُ اَصَبْنٰھُمْ بِذُنُوْبِھِمْ (ان لوگوں کو جو ان کے بعد زمین پر ان کی جگہ رہتے ہیں کہ اگر ہم چاہتے تو ان کو ان کے جرائم کی پاداش میں ہلاک کر ڈالتے) فائدہ : ان لو نشاء یہ اولم یھد کا فاعل ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے اور ان مخففہ من المثقلہ ہے یعنی کیا نہیں بتائی ان لوگوں کو یہ بات جو ان کے پیچھے آئے۔ ان لوگوں نے جواُن سے پہلے گزرے انہی علاقوں میں۔ اور وہ ان کی زمین کے اس شان سے وراث ہوئے کہ اگر ہم چاہیں تو ان کو ان کے گناہوں کے بدلے عذاب میں مبتلا کردیں۔ جس طرح پہلوں کو مبتلا کیا پھر ہم ان وارثوں کو بھی ہلاک کردیں جس طرح مورثین کو ہلاک کیا۔ ہدایت کا مفعول لام سے متعدی بنایا گیا ہے کیونکہ یہ تبیین کے معنی میں ہے وَ نَطْبَعُ (اور ہم بند لگا دیتے ہیں) یہ جملہ مستانفہ ہے یعنی ہم مہر لگا دیتے ہیں عَلٰی قُلُوْبِھِمْ فَھُمْ لَایَسْمَعُوْنَ (ان کے دلوں پر پس وہ سنتے نہیں) نصیحت کو۔
Ayah 7:101

تِلْكَ الْقُرٰى نَقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآئِهَا١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ۚ فَمَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 7:101 in the Quran reader

یہ بستیاں ہیں جن کے کچھ حالات ہم تم کو سناتے ہیں اور ان کے پاس ان کے پیغمبر نشانیاں لیکر آئے۔ مگر وہ ایسے نہیں تھے کہ جس چیز کو پہلے جھٹلا چکے ہوں اسے مان لیں اسی طرح خدا کافروں کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے۔

اہل قریٰ نے انبیاء کی نصیحت کو پہلی مرتبہ جھٹلا دیا ‘ پھر کبھی تصدیق نہیں کی : آیت 101: تِلْکَ الْقُرٰی نَقُصُّ عَلَیْکَ مِنْ اَنْچبَآپھَا (ان بستیوں کے کچھ واقعات ہم آپ سے بیان کر رہے ہیں) فائدہ : یہ اس آیت کی طرح ہے : وَّہٰذَا بَعْلِیْ شَیْخًا 1 (ہود : 72) کہ وہ مبتداء اور خبر اور حال ہے۔ نمبر 2۔ القرٰی صفت تلک موصوف اور نقص اس کی خبر ہے مطلب یہ ہوا کہ وہ بستیاں جن کا اوپر ذکر ہوا یعنی قوم نوح سے شعیب ( علیہ السلام) تک اس کی بعض خبریں تم پر بیان کرتے ہیں۔ اور ان کی کچھ خبریں جو ہم نے تم پر بیان نہیں کیں۔ وَلَقَدْ جَآئَ تْھُمْ رُسُلُھُمْ بِالْبَیِّنٰتِ (اور ان سب کے پاس ان کے پیغمبر معجزات لے لے کر آئے تھے) معجزات کے ساتھ فَمَا کَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا (پس وہ ماننے والے نہ تھے) جب رسول دلائل لے کر آئے۔ بِمَا کَذَّبُوْا مِنْ قَبْلُ (جس چیز کو انہوں نے اول میں جھوٹا کہہ دیا) نمبر 1۔ جو اللہ تعالیٰ کی نشانیاں رسولوں کے آنے سے پہلے جھٹلا چکے وہ آخری عمر تک اس پر ایمان نہ لائے جس کو پہلی مرتبہ رسولوں کی آمد پر جھٹلایا۔ یعنی آیات مسلسل آتی رہیں مگر انہوں نے تکذیب پر اصرار کیا اور اسی پر ان کی موت واقع ہوئی۔ لا یہ تاکید نفی کے لئے ہے کَذٰلِکَ (اسی طرح) اس شدید مہر کی طرح یَطْبَعُ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِ الْکٰفِریْنَ (ہم کافروں کے دلوں پر بند لگا دیتے ہیں) جبکہ ان کی طرف سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کفر پر ثابت قدمی کو ترجیح دیں گے۔
Ayah 7:102

وَ مَا وَجَدْنَا لِاَكْثَرِهِمْ مِّنْ عَهْدٍ١ۚ وَ اِنْ وَّجَدْنَاۤ اَكْثَرَهُمْ لَفٰسِقِیْنَ Open ayah 7:102 in the Quran reader

اور ہم نے ان میں اکثروں میں عہد کا نباہ نہیں دیکھا۔ اور ان میں اکثروں کو دیکھا تو بدکار ہی دیکھا

اکثریت عہد و پیمان کو توڑنے والے تھے : آیت 102: وَمَا وَجَدْنَا لِاَکْثَرِھِمْ مِّنْ عَھْدٍ (اور اکثر لوگوں میں ہم نے وفائے عہد نہ دیکھا) اس میں ہم کی ضمیر مطلقاً لوگوں کی طرف راجح ہے۔ یعنی اکثریت نے اللہ تعالیٰ کے عہد و میثاق کو ایمان کے سلسلے میں توڑدیا۔ نحو : یہ آیت جملہ معترضہ ہے یا اس سے مراد امم مذکورہ ہیں کہ جب یہ لوگ کسی تکلیف و خوف میں اللہ تعالیٰ سے اس طرح عہد کرلیتے لئن انجیتنا لنؤمنن پھر وہ ان کو نجات دے دیتا تو وہ اپنے وعدے سے پھرجاتے وَاِنْ اور حالت اور بات یہ ہے وَّجَدْنَآ اَکْثَرَھُمْ لَفٰسِقِیْنَ (اور ہم نے اکثر لوگوں کو بےحکم ہی پایا) اطاعت سے نکلنے والے تھے۔ مسئلہ : وجدنا یہاں علمنا کے معنی میں ہے کیونکہ اس میں ان مخففہ اور لام جواب موجود ہے۔ اور یہ دونوں مبتدا اور خبر پر آسکتے ہیں۔ اور ان افعال پر جو مبتدا اور خبر پر داخل ہوسکتے ہیں۔
Ayah 7:103

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَظَلَمُوْا بِهَا١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:103 in the Quran reader

پھر ان پیغمبروں کے بعد ہم نے موسیٰ کو نشانیاں دے کر فرعون اور اسکے اعیان سلطنت کے پاس بھیجا تو انہوں نے ان کے ساتھ کفر کیا سو دیکھ لو کہ خرابی کرنے والوں کا کیا انجام ہوا۔

واقعہ موسیٰ ( علیہ السلام) و فرعون : آیت 103: ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْم بَعْدِھِمْ (پھر ان کے بعد ہم نے بھیجا) ہمؔ کی ضمیر لقد جاء تھم رسلھم میں رسل کی طرف راجع ہے یا امم کی طرف راجع ہے مُّوْسٰی بِٰایٰتِنَآ (موسیٰ ( علیہ السلام) کو اپنے دلائل دیکر) واضح معجزات کے ساتھ۔ اِلٰی فِرعَوْنَ وَمَلاَہٖ فَظَلَمُوْا بِھَا (فرعون اور اس کے امراء کے پاس بھیجا۔ پس ان لوگوں نے انکا بالکل حق ادا نہ کیا) انہوں نے ہماری آیات کا انکار کیا۔ یہاں ظلم کو کفر کی جگہ لا کر بتلادیا کہ یہ دونوں ایک وادی کے درخت ہیں۔ اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ ( لقمان : 3 1) نمبر 1 : یا انہوں نے اس کے سبب لوگوں پر ظلم ڈھائے۔ خصوصًا ایمان والوں کو نشانہ بنایا۔ نمبر 2۔ جب ان آیات پر ایمان لازم تھا تو انہوں نے انکار کردیا۔ پس ان کا انکار سراسر ظلم تھا۔ اس لئے کہ انہوں نے کفر کو ایمان کی جگہ پر رکھا جو مناسب نہ تھا۔ فَانْظُرْ کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُفْسِدِیْنَ (پس دیکھئے ان مفسدوں کا کیا انجام ہوا) جب کہ اس میں مستغرق ہوگئے۔
Ayah 7:104

وَ قَالَ مُوْسٰى یٰفِرْعَوْنُ اِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 7:104 in the Quran reader

اور موسیٰ نے کہا کہ اے فرعون میں رب العالمین کا پیغمبر ہوں۔

تقریر موسیٰ ( علیہ السلام) ( علیہ السلام) ( علیہ السلام) : آیت 104: وَقَالَ مُوْسٰی یٰـفَرْعَوْنُ (اور موسیٰ ( علیہ السلام) نے فرمایا اے فرعون) اس زمانہ میں ملوک مصر کو فرعون کہا جاتا تھا جس طرح فارس کے بادشاہوں کو کسر ٰی۔ گویا اس کا معنی یہ ہوا۔ اے ملک مصر اس کا نام قابوس یا ولید بن مصعب بن الرّیان تھا۔ اِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ (میں رب العالمین کی طرف سے پیغمبر ہوں) تیری طرف۔ فرعون نے کہا تو جھوٹ بولتا ہے اس پر موسیٰ ( علیہ السلام) نے فرمایا۔
Ayah 7:105

حَقِیْقٌ عَلٰۤى اَنْ لَّاۤ اَقُوْلَ عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ١ؕ قَدْ جِئْتُكُمْ بِبَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَرْسِلْ مَعِیَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 7:105 in the Quran reader

مجھ پر واجب ہے کہ خدا کی طرف سے جو کچھ کہوں سچ ہی کہوں میں تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے نشانی لیکر آیا ہوں سو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ جانے کی اجازت دے دی جائے۔

آیت 105: حَقِیْقٌ عَلٰٓی اَنْ لَّآ اَقُوْلَ عَلَی اللّٰہِ اِلَّا الْحَقَّ (میرے لئے یہی مناسب ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سچ کے سواء اور کوئی بات منسوب نہ کروں) میں سچی بات کے زیادہ لائق ہوں یعنی سچی بات کہنا مجھ پر لازم ہے اور اس پر قائم رہنا بھی ضروری ہے۔ قراءت : نافع نے حقیق علیّ پڑھا ہے یعنی مجھ پر لازم ہے کہ حق بات کے سواء اللہ تعالیٰ پر ہر بات چھوڑ دوں۔ یعنی سچائی اس قراءت کی صورت میں رب العالمین پر وقف ہے۔ اور پہلی قراءت کی صورت میں وصل جائز ہے کیونکہ حَقِیْقٌ۔ رسولوں کی صفت ہے اور علی باء کے معنی میں ہے جیسا کہ ابی بن کعب کی روایت میں ہے یعنی بیشک میں رسول اس بات کے لائق ہوں کہ میں نہ کہوں۔ نمبر 2۔ علیٰ کو رسول میں پائے جانے والے معنی فعل سے معلق کیا جائے۔ یعنی بیشک میں رسول برحق ہوں رسالت کے لائق ہوں میں اس لئے بھیجا گیا ہوں کہ میں اللہ تعالیٰ کے متعلق حق بات کہوں۔ قَدْ جِئْتُکُمْ بِبَیِّنَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ جو میری رسالت کو واضح کر دے۔ بنی اسرائیل کی مصر آمد : فَاَرْسِلْ مَعِیَ بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ (سو تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دے) ان کو آزاد کر دے تاکہ وہ ارض مقدس کی طرف واپس لوٹ جائیں۔ جو ان کا اصلی وطن ہے اور یہ اس طرح کہ جب یوسف ( علیہ السلام) فوت ہوگئے۔ تو فرعون نسل اسباط پر غالب آگیا۔ اور ان کو غلام بنا لیا اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ( علیہ السلام) کے ذریعہ ان کو غلامی سے نجات دی۔ مصر میں داخلے اور نجات کے دن میں چار سو سال کا فاصلہ تھا۔ قراءت : مَعِیحفص کی قراءت میں ہے۔
Ayah 7:106

قَالَ اِنْ كُنْتَ جِئْتَ بِاٰیَةٍ فَاْتِ بِهَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 7:106 in the Quran reader

فرعون نے کہا اگر تم نشانی لیکر آئے ہو تو اگر سچے ہو تو لے آؤ دیکھاؤ

فرعون کا جواب : آیت 106: قاَلَ اِنْ کُنْتَ جِئْتَ بِٰایَۃٍ (فرعون نے کہا اگر تو کوئی معجزہ لے کر آیا ہے) اس کی طرف سے جس نے تمہیں رسول بنا کر بھیجا۔ فَاْتِ بِھَآ اِنْ کُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ (تو اس کو پیش کرو اگر تم سچے ہو) تو میرے پاس لے آتا کہ تیرا دعویٰ درست ثابت ہوسکے اور اس میں تیری سچائی ظاہر ہو۔
Ayah 7:107

فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌۚۖ Open ayah 7:107 in the Quran reader

موسیٰ نے اپنی لاٹھی زمین پر ڈالی تو وہ اسی وقت صریح اژدھا ہوگیا

عصائے موسوی کا اعجاز : آیت 107: فَاَلْقٰی (پس آپ نے ڈال دیا) موسیٰ ( علیہ السلام) نے عَصَاہُ (اپنا عصا) اپنے ہاتھ سے فَاِذَا ھِیَ (تو اچانک) اذا مفاجات کے لیے ہے یہ ظرف مکان ہے یہ ثمہ اور ھناک کی طرح ہے۔ ثُعْبَانٌ بہت بڑا سانپ مُّبِیْنٌ (ایک اژدہا بن گیا) جس کا معاملہ ظاہر ہونے والا تھا۔ روایت میں ہے کہ وہ نر سانپ تھا جو منہ کھولنے والا تھا۔ اس کے جبڑوں کا فاصلہ 80 ہاتھ تھا۔ اس نے اپنا نچلا جبڑا زمین پر اور اوپر والا محل کی بالائی دیوار پر رکھا۔ پھر فرعون کی طرف متوجہ ہوا تو فرعون بھاگ نکلا اور پاخانہ کردیا۔ اور اس سے قبل اس نے پاخانہ نہ کیا تھا۔ اس نے لوگوں پر حملہ کردیا جس سے پچیس ہزار آدمی مرگئے۔ لوگوں نے ایک دوسرے کو قتل کر ڈالا فرعون چیخ اٹھا اے موسیٰ اس کو پکڑو میں تجھ پر ایمان لاتا ہوں موسیٰ ( علیہ السلام) نے پکڑا تو وہ عصابن گیا۔
Ayah 7:108

وَّ نَزَعَ یَدَهٗ فَاِذَا هِیَ بَیْضَآءُ لِلنّٰظِرِیْنَ۠ Open ayah 7:108 in the Quran reader

اور اپنا ہاتھ باہر نکالا تو اسی وقت دیکھنے والوں کی نظر میں سفید براق تھا

ید بیضاء کا معجزہ : آیت 108: وَّنَزَعَ یَدَہٗ (اور اپنا ہاتھ باہر نکال لیا) اپنے گریبان سے فَاِذَا ھِیَ بَیْضَآئُ لِلنّٰظِرِیْنَ (پس وہ اچانک سب دیکھنے والوں کیلئے بہت ہی چمکتا ہوا ہوگیا) یعنی وہ سفید تھا دیکھنے کے لیے اور دیکھنے کے لیے سفیدی وہی ہوتی ہے۔ جو سفیدی عجیب اور عام عادت کے خلاف ہو۔ لوگ اس کو دیکھنے کیلئے جمع ہوتے تھے۔ روایت میں ہے کہ موسیٰ ( علیہ السلام) نے فرعون کو اپنا ہاتھ دکھا کر فرمایا یہ کیا ہے ؟ اس نے کہا یہ تیر اہاتھ ہے۔ پھر اس کو اپنے گریبان میں ڈال کر کھینچا اچانک وہ سفید تھا۔ اس کی شعاعیں سورج کی شعاعوں پر غالب آگئیں۔ حالانکہ موسیٰ ( علیہ السلام) کا رنگ شدید گندمی تھا۔
Ayah 7:109

قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 7:109 in the Quran reader

تو قوم فرعون میں جو سردار تھے وہ کہنے لگے یہ بڑا علامہ جادوگر ہے۔

آیت 109: قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اِنَّ ھٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌ (قوم فرعون کے سرداروں نے کہا بیشک یہ شخص بڑا ماہر جادوگر ہے) سحرجاننے والا اور اس کا ماہر اس نے لوگوں کے تخیل میں لاٹھی کو سانپ اور گندمی رنگ سپید بنادیا ہے۔ اس کلام کی نسبت سورة شعراء میں فرعون کی طرف کی گئی۔ کہ اس نے اپنے سرداروں کو یہ بات کہی۔ یہاں سرداروں کی طرف کی گئی پس احتمال ہے کہ فرعون نے بھی کہی اور سرداروں نے بھی کہی۔ فرعون کا وہاں نقل فرمایا جبکہ سرداروں کی بات یہاں نقل کی۔ نمبر 2۔ فرعون نے پہلے کہی اور سرداروں نے اس کے منہ سے سن کر کہنی شروع کی۔ اور انہوں نے اپنے ماتحتوں کے لیے یہی بات کہی۔
Ayah 7:110

یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ١ۚ فَمَا ذَا تَاْمُرُوْنَ Open ayah 7:110 in the Quran reader

اس کا ارادہ یہ ہے کہ تم کو تمہارے ملک سے نکال دے بھلا تمہاری کیا صلاح ہے ؟

فرعون کا کلام : آیت 110: یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَکُمْ مِّنْ اَرْضِکُمْ (وہ یہ چاہتا ہے کہ تم کو تمہاری سرزمین سے نکال باہر کرے) یعنی ارض مصر فَمَاذَا تَاْ مُرُوْنَ (پس تم لوگ کیا مشورہ دیتے ہو) تم کیا مشورہ دیتے ہو۔ یہ ٰامرتہٗ فامرنی بکذا سے لیا گیا۔ جب تم مشورہ کرو اور وہ تمہیں اپنی رائے دے۔ یہ فرعون کا کلام ہے۔ جو اس نے اپنے سرداروں کو اس وقت کہا جب سرداروں نے فرعون سے کہا ان ھذا لساحر علیم یر ید ان یخر جکم یہ پڑھا لکھا جادو گر تمہیں تمہاری سرزمین سے نکالنا چاہتا ہے۔
Ayah 7:111

قَالُوْۤا اَرْجِهْ وَ اَخَاهُ وَ اَرْسِلْ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۙ Open ayah 7:111 in the Quran reader

انہوں نے فرعون سے کہا کہ فی الحال موسیٰ اور اس کے بھائی کے معاملے کو موقوف رکھئے اور شہروں میں نقیب روانہ کردئجے

سرداروں کا مشورہ : آیت 111: قَالُوْٓا اَرْجِہْ (انہوں نے کہا آپ اس کو مہلت دیں) قراءت : عاصم حمزہ نے اس کو سکون ھا سے پڑھا ہے معنی یہ ہے اس کو مؤخر کر اور اس کو روک۔ یعنی اس کے معاملے کو ملتوی کر۔ اور جلد بازی مت کر۔ یا اس نے قتل کا ارادہ کیا تو وہ کہنے لگے کہ اس کے قتل کو مؤخر کرو۔ اور اس کو قید کرو۔ اور اس کو قتل نہ کرو تاکہ لوگوں کے سامنے اس کا سحر ظاہر ہو۔ وَاَخَاہُ (اور اس کے بھائی کو) ہارون کو وَاَرْسِلْ فِی الْمَدَآپنِ حٰشِرِیْنَ (اور شہروں میں جمع کرنے والے کارندوں کو بھیج دو ) جمع کرنے والے۔
Ayah 7:112

یَاْتُوْكَ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِیْمٍ Open ayah 7:112 in the Quran reader

کہ تمام ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں

آیت 112: یَاْتُوْکَ بِکُلِّ سٰحِرٍ عَلِیْمٍ ۔ (کہ وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس حاضر کردیں) قراءت : حمزہ و علی نے ساحر کو سحّار پڑھا ہے۔ یعنی وہ تیرے پاس اس جیسے پڑھے لکھے جادو گر لائیں یا اس سے بھی بہتر۔
Ayah 7:113

وَ جَآءَ السَّحَرَةُ فِرْعَوْنَ قَالُوْۤا اِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ Open ayah 7:113 in the Quran reader

چناچہ ایسا ہی کیا گیا اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے اور کہنے لگے کہ اگر ہم جیت گئے تو ہمیں صلہ عطا کیا جائے

ساحروں کی آمد اور معرکہ : آیت 113: وَجَآ ئَ السَّحَرَۃُ فِرْعَوْنَ (اور جادوگر فرعون کے پاس حاضر ہوئے) مراد یہ ہے کہ فرعون نے ان کی طرف پیغام بھیجا وہ حاضر خدمت ہوگئے۔ قَالُوْٓا اِنَّ لَنَا لَاَجْرًا (کہنے لگے کہ اگر ہم غالب ہوئے) خبر پر اور عظیم اجر کے اثبات کے ساتھ یہ حجازی اور حفص کے ہاں ہے ٗیہاں فقالوا کی بجائے قالوا فرمایا گیا۔ کیونکہ یہ ایک سائل کا گویا جواب ہے کہ وہ جب آگئے۔ تو انہوں نے کیا کہا۔ تو اس کا جواب دیا گیا : ان لنا لا جرًا یعنی غلبہ پر انعام ملے گا۔ اجرًا کو نکرہ تعظیم کے لئے لائے۔ گویا کہ انہوں نے کہا کہ ہم کو بہت بڑا بدلہ چاہیے۔ اِنْ کُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ (اگر ہم غالب آگئے) ۔
Ayah 7:114

قَالَ نَعَمْ وَ اِنَّكُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ Open ayah 7:114 in the Quran reader

فرعون نے کہا ہاں ضرور اور اس کے علاوہ تم مقربوں میں داخل کئے جاؤ گے

آیت 114: قَالَ نَعَمْ (فرعون نے کہا ہاں) بیشک تمہیں ضرور بدلہ ملے گا۔ وَاِنَّکُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ (اور تم مقرب لوگوں میں داخل ہوجائو گے) میرے ہاں تم سب سے اول داخل ہونے والے اور سب سے آخر نکلنے والے ہو گے ان کی تعداد 80 ہزار یا 70 ہزار یا 34، 35 ہزار تھی۔
Ayah 7:115

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ نَحْنُ الْمُلْقِیْنَ Open ayah 7:115 in the Quran reader

جب فریقین روز مقرر پر جمع ہوئے تو جادوگروں نے کہا کہ موسیٰ یا تم جادو کی چیز ڈالو یا ہم ڈالتے ہیں

ساحروں کا موسیٰ ( علیہ السلام) سے کلام : آیت 115: قَالُوْا یٰمُوْسٰٰٓی اِمَّآ اَنْ تُلْقِیَ (ان جادوگروں نے کہا کہ اے موسیٰ ! یا تو آپ ڈالیں اپنی لاٹھی) وَاِمَّآ اَنْ نَّکُوْنَ نَحْنُ الْمُلْقِیْنَ (یا ہم ڈالنے والے ہوجائیں اس کو جو ہمارے پاس ہے) اس میں دلالت ہے کہ ان کی رغبت اس بات کی طرف تھی۔ کہ وہ پہلے ڈالیں۔ اس لیے متصل کی تاکید ضمیر منفصل سے لائے اور خبر کو بھی معرفہ لائے۔
Ayah 7:116

قَالَ اَلْقُوْا١ۚ فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا سَحَرُوْۤا اَعْیُنَ النَّاسِ وَ اسْتَرْهَبُوْهُمْ وَ جَآءُوْ بِسِحْرٍ عَظِیْمٍ Open ayah 7:116 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا تم ہی ڈالو جب انہوں نے جادو کی چیزیں ڈالی تو لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا یعنی نظر بندی کردی اور لاٹھیوں اور رسیوں کے ساتھ بنا بنا کر انہیں ڈرا ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دیکھایا

جواب موسیٰ d: آیت 116: قَالَ (کہا) موسیٰ ( علیہ السلام) نے ان کو کہا اَلْقُوْا (تم ہی ڈالو) ان کو اختیار دینا تقاضا ادب حسن ہے جس کی رعایت ان کے ساتھ برتی گئی۔ جیسا کہ مناظرہ وجدال میں شروع ہونے سے پہلے کرتے ہیں۔ موسیٰ ( علیہ السلام) نے ان کے لئے وہ بات خاص کردی جس کی ان کو رغبت تھی۔ ان کی شان کو گھٹانے اور ان کی طرف بےتوجہی اختیار کرتے ہوئے اور اس بات پر اعتماد کرتے ہوئے۔ کہ معجزہ پر کبھی جادو غالب نہیں آسکتا۔ اثراتِ سحر : فَلَمَّآ اَلْقَوْا سَحَرُوْٓا اَعْیُنَ النَّاسِ (پس جب انہوں نے ڈالا تو لوگوں کی نظر بندی کردی) حیلوں سے لوگوں کو دکھلائیں اور شعبدہ بازی کے انداز سے لوگوں کے خیال میں یہ بات ڈالی حقیقت میں اس کے خلاف تھی۔ روایت میں ہے کہ انہوں نے موٹی موٹی رسیاں ڈالیں اور لمبے لمبے بانس پس انہوں نے سانپوں کی طرح زمین کو بھر دیا اور وہ ایک دوسرے کے اوپر سوار ہوگئے۔ وَاسْتَرْھَبُوْھُمْ (اور ان پر ہیبت غالب کردی) اور لوگوں کو سخت ڈرایا۔ گو یا انہوں نے اپنے ڈر کو حیلہ سے طلب کیا۔ وَجَآ ئُ وْبِسِحْرٍ عَظِیْمٍ (اور ایک قسم کا بڑا جادو دکھلایا) سلسلہ سحر میں یا دیکھنے والوں کی نگاہ میں۔