7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsمدارک التنزیل

Ayah 7:152

اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ سَیَنَالُهُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ ذِلَّةٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُفْتَرِیْنَ Open ayah 7:152 in the Quran reader

(خدا نے فرمایا کہ) جن لوگوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا تھا ان پر پروردگار کا غضب واقع ہوگا اور دنیا کی زندگی میں ذلت (نصیب ہوگی) اور ہم افتراء پردازوں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔

ارشادِ موسیٰ d: آیت 152: اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ (بیشک جن لوگوں نے بچھڑے کی پوجا کی) معبود بنا کر۔ سَیَنَالُھُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّھِمْ (بہت جلد ان پر ان کے رب کا غضب آئے گا) یہ وہی حکم ہے جو توبہ کے سلسلہ میں ان کو اپنے نفسوں کے قتل کرنے کا کہا گیا۔ وَذِلَّۃٌ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا (اور ذلت پڑے گی دنیا کی زندگی میں ہی) ان کو گھروں سے نکالنا۔ کیونکہ مسافری گردن جھکا دیتی ہے۔ یا جز یہ مقرر ہونا۔ وَکَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُفْتَرِیْنَ (اور ہم افترا کرنے والوں کو ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں) اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے والے۔ اور سامری کے اس قول سے بڑھ کر اور افتراء کیا ہوسکتا ہے۔ ہٰذَآ اِلٰـہُکُمْ وَاِلٰـہُ مُوْسٰی ( طہٰ : 88)
Ayah 7:153

وَ الَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ ثُمَّ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِهَا وَ اٰمَنُوْۤا١٘ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 7:153 in the Quran reader

اور جنہوں نے برے کام کئے پھر اس کے بعد توبہ کرلی اور ایمان لے آئے تو کچھ شک نہیں کہ تمہارا پروردگار اس کے بعد (بخش دیگا کہ وہ) بخشنے والا مہربان ہے۔

آیت 153: وَالَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّئَاتِ (اور وہ لوگ جنہوں نے گناہ کے کام کئے) کفر و معاصی ثُمَّ تَابُوْا (پھر توبہ کرلی) پھر اللہ تعالیٰ کی طرف تو بہ سے لوٹ آئے۔ مِنْم بَعْدِھَا وَ ٰامَنُوْا (اس کے بعد اور ایمان لے آئے) اور انہوں نے اپنے ایمان کو خالص کرلیا۔ اِنَّ رَبَّکَ مِنْم بَعْدِھَا (بےشک تمہارا رب اس توبہ کے بعد) یعنی سیئات یا تو بہ لَغَفُوْرٌ (گناہ کو معاف کرنے والا) ان کی ستر پوشی کرنے والا ہے۔ رَّحِیْمٌ (رحم کرنے والا ہے) جنت کے ذریعے ان پر انعام فرمائے گا۔ نحو : اِنّ اپنے خبر و اسم سمیت الذین کی خبر ہے۔ یہ حکم عام ہے جس میں بچھڑے کی پوجا کرنے والے اور دیگر تمام شامل ہیں اول ان کے گناہ کو بڑا کر کے اصل شکل میں پیش کیا۔ پھر اس کے بعد اپنی عظیم رحمت کا ذکر کیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ گناہ خواہ کتنا ہی بڑا ہو۔ مگر اس کی معافی تو اس سے بھی بڑی ہے۔
Ayah 7:154

وَ لَمَّا سَكَتَ عَنْ مُّوْسَى الْغَضَبُ اَخَذَ الْاَلْوَاحَ١ۖۚ وَ فِیْ نُسْخَتِهَا هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلَّذِیْنَ هُمْ لِرَبِّهِمْ یَرْهَبُوْنَ Open ayah 7:154 in the Quran reader

اور جب موسیٰ کا غصہ فرو ہوا تو (تورات کی) تختیاں اٹھا لیں اور جو کچھ ان میں لکھا تھا وہ ان لوگوں کے لئے جو اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ہدایت اور رحمت تھی۔

آیت 154: جبکہ غصہ اس شدت کی بناء پر تھا گویا اللہ تعالیٰ ہی موسیٰ کو اس غصے کا حکم دینے والے تھے تو کہا گیا : زوالِ غصہ کے بعد حالات : وَلَمَّا سَکَتَ عَنْ مُّوْسَی الْغَضَبُ (اور جب موسیٰ کا غصہ دور ہوا) زجاج کہتے ہیں کہ سکت کا معنی سکن ہے اور یہ بھی پڑھا گیا ہے اَخَذَ الْاَلْوَاحَ (تو ان تختیوں کو اٹھا لیا) جن کو جلدی سے ڈال دیا تھا۔ وَفِیْ نُسْخَتِھَا (اور ان کے مضامین میں) نُسْخَہیہ فُعلہ کا وزن ہے خطبہ کی طرح بمعنی مفعول ہے۔ اس کی کتابت میں ھُدًی وَّرَّحَمَۃٌ لِّلَّذِیْنَ ھُمْ لِرَبِّھِمْ یَرْھَبُوْنَ (ان لوگوں کیلئے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے ہدایت اور رحمت تھی) نحو : لام مفعول پر داخل کردیا کیونکہ وہ مقدم ہے اور فعل کا عمل اس میں کمزور پڑگیا تو ازالہ کے لیے لام لائے۔
Ayah 7:155

وَ اخْتَارَ مُوْسٰى قَوْمَهٗ سَبْعِیْنَ رَجُلًا لِّمِیْقَاتِنَا١ۚ فَلَمَّاۤ اَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ قَالَ رَبِّ لَوْ شِئْتَ اَهْلَكْتَهُمْ مِّنْ قَبْلُ وَ اِیَّایَ١ؕ اَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا١ۚ اِنْ هِیَ اِلَّا فِتْنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنْ تَشَآءُ وَ تَهْدِیْ مَنْ تَشَآءُ١ؕ اَنْتَ وَلِیُّنَا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الْغٰفِرِیْنَ Open ayah 7:155 in the Quran reader

اور موسیٰ نے (اس میعاد پر جو ہم نے مقرر کی تھی) اپنی قوم کے ستر آدمی منتخب (کر کے کوہ طور پر حاضر) کئے جب ان کو زلزلے نے پکڑا تو (موسی نے) کہا کہ اے پروردگار ! اگر تو چاہتا تو ان کو اور مجھ کو پہلے ہی سے ہلاک کردیتا۔ کیا تو اس فعل کی سزا میں جو ہم میں سے بےعقل لوگوں نے کیا ہے ہمیں ہلاک کر دے گا ؟ یہ تو تیری آزمائش ہے۔ اس سے تو جس کو چاہے گمراہ کرے اور جسے چاہے ہدایت بخشے۔ تو ہی ہمارا کار ساز ہے۔ تو ہمیں (ہمارے گناہ) بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے۔

بنی اسرائیل کے منتخب افراد کا بےتکا سوال : آیت 155: وَاخْتَارَ مُوْسٰی قَوْمَہٗ (اور موسیٰ نے اپنی قوم میں سے منتخب کئے) اپنی قوم میں سے۔ نحو : اس میں حرف جار کو حذف کردیا گیا اور فعل کو ساتھ ملا دیا۔ سَبْعِیْنَ رَجُلًا (ستر آدمی) کہا گیا ہے کہ بارہ قبیلوں میں سے ہر قبیلہ کے چھ آدمی کل تعداد بہتر ہوگئی۔ پھر فرمایا تم میں سے دو پیچھے رہیں۔ کالب ویوشع بیٹھ گئے۔ لِّمِیْقَاتِنَا (ہمارے وقت مقررہ کیلئے) تاکہ وہ عبادت عجل کے سلسلہ میں معذرت پیش کریں۔ فَلَمَّآ اَخَذَتْھُمُ الرَّجْفَۃُ (پس جب ان کو زلزلہ نے آپکڑا) زلزلہ شدیدہ نے۔ عرضِ موسوی : قَالَ رَبِّ لَوْ شِئْتَ اَھْلَکْتَھُمْ مِّنْ قَبْلُ (تو موسیٰ نے عرض کیا اے میرے رب اگر تو چاہتا تو اس سے پہلے ہی ان کو ہلاک کردیتا) جو ان کی طرف سے بچھڑے کی عبادت والا معاملہ پیش آیا۔ وَاِیَّایَ (اور مجھ کو بھی) میرے قبطی کو قتل کرنے کی وجہ سے اَتُھْلِکُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَھَآ ئُ مِنَّا (کیا تو ہم میں سے چند بیوقوفوں کی حرکت پر سب کو ہلاک کر دے گا) کیا آپ ہمیں اس بات کی سزا میں ہلاک کرتے ہیں۔ جو ہم میں سے جاہلوں نے کہا ہے اور وہ بچھڑے کی پوجا کرنے والے ہیں۔ اِنْ ھِیَ اِلَّا فِتْنَتُکَ (یہ واقعہ تو صرف تیری طرف سے محض ایک امتحان ہے) یہ آپکی آزمائش ہے یہ اس قول کی طرف لوٹتا ہے۔ فَاِنَّا قد فتنّا قومک من بعدک ( طہٰ : 85) پس موسیٰ نے کہا کہ نمبر 1۔ یہ آزمائش وہی ہے جس کی آپ نے مجھے خبر دی۔ نمبر 2۔ یہ اللہ تعالیٰ کی آزمائش ہے۔ جس سے وہ اپنے بندوں کو جس طرح چاہتا ہے آزماتا ہے۔ جیسے و نبلوھم بالشر والخیر فتنۃ (الانبیاء : 35) تُضِلُّ بِھَا (جس کے ذریعے تو گمراہی میں ڈال دیتا ہے) ابتلاء کے ساتھ مَنْ تَشَآئُ (جس کو تو چاہتا ہے) جن کے متعلق تو جانتا ہے کہ انہوں نے گمراہی کا چنائو کرلیا۔ وَ تَھْدِیْ (اور سیدھی راہ پر چلاتا ہے) اس ابتلاء کے ساتھ مَنْ تَشَآئُ (جس کو تو چاہتا ہے) جن کے متعلق تو جانتا ہے کہ وہ ہدایت کو اختیار کریں گے۔ اَنْتَ وَلِیُّنَا (تو ہمارا کارساز ہے) جو ہمارے کا موں کا متولی ہے۔ فَاغْفِرْلَنَا وَارْحَمْنَا وَاَنْتَ خَیْرُ الْغٰفِرِیْنَ (پس تو ہم پر مغفرت اور رحمت فرما اور آپ سب معاف کرنے والوں سے زیادہ معاف کرنے والے ہیں)
Ayah 7:156

وَ اكْتُبْ لَنَا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ اِنَّا هُدْنَاۤ اِلَیْكَ١ؕ قَالَ عَذَابِیْۤ اُصِیْبُ بِهٖ مَنْ اَشَآءُ١ۚ وَ رَحْمَتِیْ وَ سِعَتْ كُلَّ شَیْءٍ١ؕ فَسَاَكْتُبُهَا لِلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِاٰیٰتِنَا یُؤْمِنُوْنَۚ Open ayah 7:156 in the Quran reader

اور ہمارے لئے اس دنیا میں بھی بھلائی لکھ دے اور آخرت میں بھی۔ ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔ فرمایا کہ جو میرا عذاب ہے اسے تو جس پر چاہتا ہوں نازل کرتا ہوں اور جو میری رحمت ہے وہ ہر چیز کو شامل ہے۔ میں اس کو ان لوگوں کے لیے لکھ دوں گا جو پرہیزگاری کرتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں۔

دوسری دعا : آیت 156: وَاکْتُبْ لَنَا (اور ہمارے نام لکھ دے) تو قائم فرما اور قسمت میں کردے۔ فِیْ ھٰذِہِ الدُّنْیَا حَسَنَۃً (اس دنیا میں نیک حالت) عافیت، حیات طیبہ، اطاعت کی توفیق وَّ فِی الْاٰخِرَۃِ (اور آخرت میں بھی) جنت اِنَّا ھُدْنَآ اِلَیْکَ (بےشک ہم آپ کی طرف رجوع کرتے ہیں) تیری طرف تو بہ و رجوع کیا۔ ھاد یھود الیہ کا معنی لوٹنا تو بہ کرنا الھود جمع ھائد تائب کو کہتے ہیں۔ جوابِ باری تعالیٰ : قَالَ عَذَابِیْٓ (اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں اپنا عذاب تو) اس کا معاملہ یہ ہے کہ میں اُصِیْبُ بِہٖ مَنْ اَشَآئُ (اسی کو دیتا ہوں جس کو چاہتا ہوں) یعنی میں جس کو معاف نہیں کرتا وَرَحْمَتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْ ئٍ (اور میری رحمت تمام اشیاء کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے) یعنی میری رحمت کا حال یہ ہے کہ وہ ہر چیز کو اپنی وسعت میں لے لیتی ہے۔ دنیا میں کوئی مسلمان اور کافر ایسا نہیں جس پر میری رحمت کا چھینٹا نہ پڑرہا ہو۔ فَسَاَکْتُبُھَا (سو میں اس کو ان لوگوں کے لئے لکھ دوں گا) یعنی اس رحمت کو لِلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ (جو کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں) شرک سے بچنے والی امت محمد ﷺ میں سے وَیُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ (اور وہ زکوٰۃ دیتے ہیں) فرض زکوٰۃ وَالَّذِیْنَ ھُمْ بِٰایٰتِنَا (اور وہ جو کہ ہماری آیات پر) ہماری تمام کتابوں پر یُؤْمِنُوْنَ (ایمان لاتے ہیں) ان میں سے کسی چیز کا انکار نہیں کرتے۔
Ayah 7:157

اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْاُمِّیَّ الَّذِیْ یَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِیْلِ١٘ یَاْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهٰىهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُحِلُّ لَهُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیْهِمُ الْخَبٰٓئِثَ وَ یَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَ الْاَغْلٰلَ الَّتِیْ كَانَتْ عَلَیْهِمْ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ وَ عَزَّرُوْهُ وَ نَصَرُوْهُ وَ اتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ مَعَهٗۤ١ۙ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 7:157 in the Quran reader

وہ جو (محمد رسول اللہ ﷺ کی جو نبی امی ہیں پیروی کرتے ہیں۔ جن (کے اوصاف) کو وہ اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔ وہ انہیں نیک کام کا حکم دیتے ہیں اور برے کام سے روکتے ہیں اور پاک چیزوں کو ان کے لئے حلال کرتے ہیں اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام تھیراتے ہیں اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان (کے سے) پر (اور گلے میں) تھے اتار تے ہیں۔ تو جو لوگ ان پر ایمان لائے اور ان کی رفاقت کی اور انہیں مدد دی اور جو نور ان کے ساتھ نازل ہوا ہے اس کی پیروی کی وہی مراد پانے والے ہیں۔

رُوئے سخن امت محمدیہ کی طرف اور رسالت مآب ﷺ کی تعریف : آیت 157: اَ لَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ (جو لوگ کہ ایسے رسول کی اتباع کرتے ہیں) وہ جو ہم اسکی طرف وحی کرینگے اس کتاب کی صورت میں جو اس کے ساتھ خاص ہوگی اور وہ قرآن ہے۔ النَّبِیَّ (جو نبی) معجزات والے الْاُمِّیَّ الَّذِیْ یَجِدُوْنَہٗ (جن کو یہ لوگ پاتے ہیں) اسکی تعریف وہ لوگ پائیں گے جو بنی اسرائیل میں سے انکی اتباع کریں گے۔ مَکْتُوْبًا عِنْدَھُمْ فِی التَّوْرٰٹۃِ وَالْاِنْجِیْلِ یَاْمُرُھُمْ بِالْمَعْرُوْفِ (لکھا ہوا اپنے پاس تورات اور انجیل میں وہ ان کو نیک باتوں کا حکم فرماتے ہیں) شرکاء سے علیحدگی اور بندوں سے انصاف کاوَیَنْھٰھُمْ عَنِ الْمُنْکَرِ (اور بری باتوں سے منع کرتے ہیں) عبادت اصنام اور قطع ارحام وَ یُحِلُّ لَھُمُ الطَّیِّبٰتِ (اور وہ پاکیزہ چیزوں کو ان کیلئے حلال بتاتے ہیں) جو پاکیزہ چیزیں ان پر حرام کی گئیں۔ مثلاً چربی وغیرہ۔ یا جو شریعت کے اعتبار سے اچھی ہیں۔ جن پر بوقت ذبح اللہ تعالیٰ کا نام لیا گیا ہے اور جس میں حرام کی کمائی شامل نہیں۔ وَیُحَرِّمُ عَلَیْھِمُ الْخَبٰٓپثَ (اور گندی چیزوں کو ان پر حرام قرار دیتے ہیں) جو ان میں سے خبیث ہیں۔ جیسے خون، مردار، لحم خنزیر غیر اللہ کی نیازات یا جو حکم کے لحاظ سے خبیث ہیں مثلاً سود، رشوت وغیرہ برے کمائی کے ذرائع وَیَضَعُ عَنْھُمْ اِصْرَھُمْ (اور ان پر سے ان کے بوجھ دور کرتے ہیں) اِصْراس بوجھ کو کہتے ہیں جو اٹھانے والوں کو بوجھ کی وجہ سے حرکت سے روک دے۔ مراد اس سے شدید تکالیف جو ان پر ڈالی گئیں مثلاً توبہ کے لیے قتل نفس ‘ خطاء کرنے والے اعضاء کو کاٹ ڈالنا۔ قراءت : ٰاصارھمشامی نے پڑھا ہے۔ وَالْاَغْلٰلَ الَّتِیْ کَانَتْ عَلَیْھِمْ (اور وہ طوق جو ان پر تھے) وہ مشکل احکام مثلاً قصاص میں قتل خواہ قتل عمد ہو یا خطاء دیت جائز نہ تھی۔ کپڑے اور چمڑے میں سے نجاست والی جگہ کو کاٹنا۔ غنائم کا جلا دینا۔ گھروں کے دروازوں پر گناہوں کا ظاہر ہوجانا۔ ان احکام کو غل (طوق) سے تشبیہ دی کیونکہ وہ اسی طرح لازم تھے۔ جیسے طوق۔ فَالَّذِیْنَ ٰامَنُوْبِہٖ (پس جو لوگ ایمان لاتے ہیں اس نبی پر) حضرت محمد ﷺ پر وَعَزَّرُوْہُ (اور ان کی حمایت کرتے ہیں) اور ان کی تعظیم کی نمبر 2 دشمن سے انکا دفاع کیا۔ یہاں تک کہ دشمن کو ان پر قوت نہ ہوسکے۔ العذر کی اصل روکنا ہے اور تعزیر اسی سے ہے۔ کیونکہ یہ بھی برائی اسی طرح روکتی ہے جس طرح حد روکتی ہے۔ وَنَصَرُوْہُ وَاتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِیْٓ اُنْزِلَ مَعَہٗ (اور انکی مدد کرتے ہیں اور اس نور کی پیروی کرتے ہیں جو ان کے ساتھ بھیجا گیا ہے) یعنی نور سے قرآن مراد ہے۔ مع کا تعلق اتبعوا سے ہے یعنی واتبعوا القرٰان المنزّل مع اتباع النبی والعمل بسنّتہٖانہوں نے قرآن منزل کی اتباع نبی اکرم ﷺ کی اتباع اور آپ ﷺ کی سنت پر عمل کے ساتھ ساتھ کی۔ اُولٰٓپکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ (ایسے لوگ ہی پوری فلاح پانے والے ہیں) ہر خیر کو پانے والے اور ہر شر سے نجات پانے والے ہیں۔
Ayah 7:158

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ جَمِیْعَا اِ۟لَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١۪ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ الَّذِیْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ كَلِمٰتِهٖ وَ اتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ Open ayah 7:158 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ کہہ دو کہ لوگوں ! میں تم سب کی طرف خدا کا بھیجا ہوا ہوں (یعنی اس کا رسول) (وہ) جو آسمانوں اور زمین کا بادشاہ ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہی زندگانی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے تو خدا پر اور اسے رسول ﷺ پیغمبر امی ﷺ پر جو خدا پر اور اسکے (تمام) کلام پر ایمان رکھتے ہیں ایمان لاؤ اور ان کی پیروی کرو تاکہ ہدایت پاؤ۔

آیت 158: قُلْ یٰٓاَیـُّـھَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعًا (کہہ دیں اے لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں) تمام رسول اپنی اقوام خاص کی طرف مبعوث ہوئے اور حضرت محمد ﷺ تمام جن و انس کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے۔ نحو : یہ الیکم سے حال ہے۔ الَّذِیْ لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (جس کی بادشاہی تمام آسمانوں اور زمین میں ہے) اعنی مضمر کی وجہ سے یہ محل نصب میں ہے اور یہ نصب مدح کہلاتا ہے۔ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ (اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں) مسئلہ : یہ الّذی کا صلہٗ لہ ملک السٰمٰوت سے بدل ہے اور اسی طرح یحی و یمیت بدل ہے۔ لا الٰہ الا ہو یہ ماقبل جملہ کا بیان ہے کیونکہ جو ذات تمام عالم کی بادشاہ ہے۔ وہی حقیقی الٰہ ہے۔ یُحْیٖ وَیُمِیْتُ (وہ زندگی دیتا ہے اور وہی موت دیتا ہے) میں الوہیت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے خاص ہونے کی وضاحت کی۔ کہ زندگی اور موت اسی کے اختیار میں ہے۔ جب احیاء و اماتت پر اور کسی کو قدرت نہیں تو الوہیت بھی اور کسی کے لائق نہیں۔ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ الَّذِیْ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَکَلِمٰتِہٖ (پس تم اللہ پر ایمان لائو اور اس کے رسول پر جو نبی امی ہے جو کہ اللہ پر اور اس کے احکام پر ایمان رکھتے ہوں) کلمات سے مراد کتب منزلہ ہیں۔ وَاتَّبِعُوْہُ لَعَلَّکُمْ تَھْتَدُوْنَ (اور ان کا اتباع کرو تاکہ تم راہ پر آجائو) سوال : یہاں انی رسول اللّٰہ الیکم کے بعد اس طرح نہیں فرمایا : فٰامنوا باللّٰہ وبی کہ اللہ تعالیٰ اور مجھ پر ایمان لائو۔ جواب : تاکہ جو صفات آپ کی بیان کی گئیں وہ آپ پر جاری کی جائیں۔ اور التفات میں بلاغت کلام ملحوظ ہے۔ تاکہ یہ بھی ظاہر ہوجائے کہ جس پر ایمان لانا واجب ہے وہ یہ شخص ہے جو نبی الامی الذی یومن باللہ و کلماتہ سے متصف ہوا جو بھی ہو میں یا میرے علاوہ۔ دیگر اس میں منصف مزاج کے لیے انصاف کی دعوت دی گئی اور عصبیت سے الگ کر کے اپنی ذات کو پیش کیا گیا۔
Ayah 7:159

وَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰۤى اُمَّةٌ یَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَ بِهٖ یَعْدِلُوْنَ Open ayah 7:159 in the Quran reader

اور قوم موسیٰ میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو حق کا راستہ بتاتے اور اسی کے ساتھ انصاف کرتے ہیں۔

بنی اسرائیل میں حق پرست طبقہ : آیت 159: وَمِنْ قَوْمِ مُوْسٰٓی اُمَّۃٌ یَّھْدُوْنَ بِالْحَقِّ (اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ایسی بھی ہے جو حق کے موافق ہدایت کرتے ہیں) وہ لوگوں کی راہنمائی کرنے والے ہیں اس حال میں کہ وہ حق پرست ہیں۔ نمبر 2۔ اس حق کے سبب جس پر وہ قائم ہیں۔ دوسروں کو حق کی طرف راہنمائی کرنے والے ہیں۔ وَبِہٖ یَعْدِلُوْنَ (اور اسی کے موافق انصاف بھی کرتے ہیں) حق کے ساتھ اپنے مابین حکم میں عدل و انصاف کرتے ہیں۔ اور ظلم نہیں کرتے بعض نے کہا یہ ایک قوم ہے جو چین سے آگے رہتی ہے۔ جو لیلۃ المعراج میں مسلمان ہوئے۔ (مگر یہ روایت خود پا یہ ثبوت کو نہیں پہنچتی) نمبر 2۔ یہ عبداللہ بن سلام ؓ اور اسکے ساتھی ہیں۔
Ayah 7:160

وَ قَطَّعْنٰهُمُ اثْنَتَیْ عَشْرَةَ اَسْبَاطًا اُمَمًا١ؕ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اِذِ اسْتَسْقٰىهُ قَوْمُهٗۤ اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ١ۚ فَانْۢبَجَسَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَیْنًا١ؕ قَدْ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ١ؕ وَ ظَلَّلْنَا عَلَیْهِمُ الْغَمَامَ وَ اَنْزَلْنَا عَلَیْهِمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى١ؕ كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ١ؕ وَ مَا ظَلَمُوْنَا وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 7:160 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو (یعنی بنی اسرائیل کو) الگ الگ کر کے بارہ قبیلے (اور) بڑی بڑی جماعتیں بنادیا۔ اور جب موسیٰ سے ان کی قوم نے پانی طلب کیا تو ہم نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ اپنی لاٹھی پتھر پر مار دو ۔ تو اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے اور سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔ اور ہم نے ان (کے سروں) پر بادل کو سائبان بنائے رکھا اور ان پر من وسلوی اتارتے رہے۔ (اور ان کے کہا کہ) جو پاکیزہ چیزیں ہم تمہیں دیتے ہیں انہیں کھاؤ اور ان لوگوں نے ہمارا کچھ نقصان نہیں کیا بلکہ (جو) نقصان (کیا) اپنا ہی کیا۔

بنی اسرائیل کے بارہ قبائل اور ان پر انعامات : آیت 160: وَقَطَّعْنٰہُمُ (ہم نے ان کو ٹکڑوں میں بانٹ دیا) یعنی گروہوں میں اور ایک دوسرے سے ممتاز کردیا۔ اثْنَتَیْ عَشْرَۃَ اَسْبَاطًا (بارہ خاندانوں میں) جیسا کہتے ہیں اثنتی عشرۃ قبیلۃ۔ الاسباط بیٹے کی اولاد جمع سبط۔ یہ یعقوب ( علیہ السلام) کے بارہ بیٹوں کی اولاد میں بارہ قبائل تھے۔ مسئلہ : عشرہ تک کے علاوہ کی تمیز مفرد آتی ہے اور یہاں اسباط جمع ہے مگر یہاں مراد اثنتی عشرہ قبیلہ ہے اور ہر قبیلہ سبط ہے نہ کہ اسباط پس یہاں قبیلہ کی جگہ اسباط کہہ دیا۔ معنی کا لحاظ کرتے ہوئے۔ اُمَمًا (جماعتوں کی صورت میں) یہ اثنتی عشرہ سے بدل ہے یعنی قطعنا ہم اممًا ہم نے ان کو جماعتوں میں بانٹ دیا کیونکہ ہر اسباط ایک عظیم امت تھی اور ہر ایک کا قصد کیا جاتا تھا۔ برخلاف اس کے کہ دوسری اس کی اقتداء اور قصد کرے۔ وَ اَوْحَیْنَآ اِلٰی مُوْسٰٓی اِذِا سْتَسْقٰہُ قَوْمُہٗٓ اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاکَ الْحَجَرَ (اور موسیٰ کو ہم نے حکم دیا جب ان کی قوم نے ان سے پانی مانگا کہ اپنے اس عصا کو فلاں پتھر پر مارو) پس انہوں نے مارا۔ فَانْـچبَجَسَتْ (پس پھوٹ نکلے) پس اس سے پھوٹ نکلے۔ مِنْہُ اثْنَتَا عَشْرَۃَ عَیْنًا (اس سے بارہ چشمے) قَدْ عَلِمَ کُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَھُمْ (ہر ہر شخص نے اپنے پانی پینے کا مقام جان لیا) اناس جمع مکسر نہیں بلکہ اسم جمع ہے۔ وَظَلَّلْنَا عَلَیْھِمُ الْغَمَامَ (اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا) تیہ میں ان پر بادلوں کا سایہ کردیا۔ وَاَنْزَلْنَا عَلَیْھِمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰی (اور ان کو ترنجبین اور بٹیریں پہنچائیں) اور ہم نے ان کو کہا کُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَارَزَقْنٰکُمْ وَمَا ظَلَمُوْنَا (تم کھائو نفیس چیزوں سے جو کہ ہم نے تم کو دی ہیں اور انہوں نے ہمارا کوئی نقصان نہیں کیا) ان کے ظلم کا ضرر و نقصان جو ان کے کفران نعمت کے باعث پہنچنے والا تھا۔ وہ ہم پر اثر انداز نہ تھا۔ وَلٰکِنْ کَانُوْٓا اَنْفُسَھُمْ یَظْلِمُوْنَ (اور لیکن اپنا ہی نقصان کرتے تھے) لیکن وہ اپنے نفوس کو خود نقصان پہنچانے والے تھے۔ اور ان کے ظلم کا وبال انہی کو ملنے والا تھا۔
Ayah 7:161

وَ اِذْ قِیْلَ لَهُمُ اسْكُنُوْا هٰذِهِ الْقَرْیَةَ وَ كُلُوْا مِنْهَا حَیْثُ شِئْتُمْ وَ قُوْلُوْا حِطَّةٌ وَّ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطِیْٓئٰتِكُمْ١ؕ سَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 7:161 in the Quran reader

اور (یاد کرو) جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرلو اور اس میں جہاں سے جی چاہے کھانا (پینا) اور (ہاں شہر میں جانا تو) حِطَّۃٌ کہنا اور دروازے میں داخل ہونا تو سجدہ کرنا۔ ہم تمہارے گناہ معاف کردیں گے۔ اور نیکی کر نیوالوں کو اور زیادہ دیں گے۔

بیت المقدس میں داخلے کا حکم : آیت 161: وَاِذْ قِیْلَ لَھُمُ اسْکُنُوْاہٰذِہِ الْقَرْیَۃَ (اور جب ان کو حکم دیا گیا کہ تم اس آبادی میں جا کر رہو) اذکروااِذْ قِیْلَ لَھُمُ اس وقت کو یاد کرو جب ان سے کہا گیا اسْکُنُوْا ہٰذِہِ الْقَرْیَۃَبیت المقدس میں وَکُلُوْا مِنْھَا حَیْثُ شِئْتُمْ وَقُوْلُوْا حِطَّۃٌ وَّ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا نَّغْفِرْ لَکُمْ خَطِٓیْئٰتِکُمْ (اور کھائو اس سے جس جگہ تم رغبت کرو اور زبان سے یہ کہتے جانا توبہ ہے توبہ اور جھکے جھکے دروازے میں داخل ہونا ہم تمہاری خطائیں معاف کردیں گے) قراءت : مدنی اور شامی نے تغفرلکم پڑھا خطیئاتکم مدنی اور خطایا کم ابو عمرو نے خطیئتکم شامی نے پڑھا ہے۔ سَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ (اور نیک کام کرنے والوں کو مزید عنایت کریں گے)
Ayah 7:162

فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ قَوْلًا غَیْرَ الَّذِیْ قِیْلَ لَهُمْ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَظْلِمُوْنَ۠ Open ayah 7:162 in the Quran reader

مگر جو ان میں ظالم تھے انہوں نے اس لفظ کو جس کا ان کو حکم دیا گیا تھا بدل کر اسکی جگہ اور لفظ کہنا شروع کیا تو ہم نے ان پر آسمان سے عذاب بھیجا اس لئے کہ ظلم کرتے تھے۔

ظالموں نے الٹ بات بنائی : آیت 162: فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْھُمْ قَوْلًا غَیْرَ الَّذِیْ قِیْلَ لَھُمْ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْھِمْ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآ ئِ بِمَا کَانُوْا یَظْلِمُوْنَ (پس بدل ڈالا ان ظالموں نے ایک اور کلمہ جو خلاف تھا اس کلمہ کے جس کا ان کو حکم دیا گیا تھا اس پر ہم نے ایک آفت آسمان سے ان پر بھیجی اس وجہ سے کہ وہ حکم کو ضائع کرتے تھے) اس میں اور دوسری آیات میں کوئی تناقض نہیں۔ اسْکُنُوْا ہٰذِہِ الْقَرْیَۃَ وَکُلُوْا مِنْہَا جو اسی سورت میں ہے۔ اور اس قول میں جو سورة البقرہ میں ہے۔ ادْخُلُوْا ہٰذِہِ الْقَرْیَۃَ فَکُلُوْا مِنْہَا (البقرۃ : 58) کیونکہ داخلہ اور سکونت پائی گئی۔ حِطَّۃ کو دروازہ میں داخلہ سے پہلے کہا ہو۔ یا بعد میں کہا ہو مقصد یہ ہے کہ وہ دونوں باتوں کو جمع کرنے والے تھے۔ اور پچھلی دونوں آیات میں رعد کا ذکر چھوڑ دینا اس کے دوسری آیات میں ذکر کردینے کے مخالف نہیں۔ اور اس ارشاد الٰہی میں : نغفرلکم خطایا کم سنزید المحسنین میں دو چیزوں کا وعدہ ہے۔ نمبر 1۔ غفران۔ اضافہ اور وائو کا چھوڑ دینا اس میں مخل نہیں۔ کیونکہ یہ جملہ مستانفہ ہے جو کسی سائل کے اس قول پر مرتب ہوتا ہے۔ کہ ماذا بعد الغفران ؟ مغفرت کے بعد کیا ہوگا۔ تو جواب دیا۔ سنزید المحسنین کہ ہم مخلصین کو اور زیادہ دیں گے۔ اس طرح منھم کا اضافہ اور ارسلنا اور انزلنا اور یظلمون اور یفسقون کے الفاظ کا تبادلہ تناقض کو ظاہر نہیں کرتا بلکہ یہ الفاظ قریب المعنی ہیں۔
Ayah 7:163

وَ سْئَلْهُمْ عَنِ الْقَرْیَةِ الَّتِیْ كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ١ۘ اِذْ یَعْدُوْنَ فِی السَّبْتِ اِذْ تَاْتِیْهِمْ حِیْتَانُهُمْ یَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا وَّ یَوْمَ لَا یَسْبِتُوْنَ١ۙ لَا تَاْتِیْهِمْ١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبْلُوْهُمْ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 7:163 in the Quran reader

اور ان سے اس گاؤں کا حال تو پوچھو جو لب دریا واقع تھا۔ جب یہ لوگ ہفتے کے دن کے بارے میں حد سے تجاوز کرنے لگے (یعنی) اس وقت کہ ان ہفتے کے دن مچھلیاں ان کے سامنے پانی کے اوپر آتیں اور جب ہفتہ نہ ہوتا تو نہ آتیں۔ اسی طرح ہم ان لوگوں کو انکی نافرمانیوں کے سبب آزمائش میں ڈالنے لگے۔

بنی اسرائیل کا شکاری گروہ اور ان کی حرکات : آیت 163: وَسْئَلْھُمْ (اور آپ ان سے حال پوچھیں) ان یہود سے سوال کریں عَنِ الْقَرْیَۃِ (اس بستی والوں کا) نمبر 1۔ ایلہ، نمبر 2۔ مدین۔ ان کے کفروناشکری کو مقدم کر کے یہ سوال درحقیقت ان کے کان کھولنے کے لئے ہے۔ الَّتِیْ کَانَتْ حَاضِرَۃَ الْبَحْرِ (جو سمندر کے قریب آباد تھے) سمندر کے قریب اِذْ یَعْدُوْنَ فِی السَّبْتِ (جبکہ وہ ہفتہ کے بارے میں حد سے نکل رہے تھے) جبکہ وہاں وہ اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کرنے والے تھے۔ اور وہ ہفتہ کے دن مچھلیوں کا شکار تھا۔ نحو : اذیعدون یہ قریہ سے بدل ہونے کی وجہ سے محل جر میں ہے۔ یہاں قریہ سے اہل قریہ مراد ہیں۔ گویا اس طرح فرمایا واسئلھم عن اہل القریۃ وقت عدوانھم فی السبت یہ بدل اشتمال ہے۔ اِذْ تَاْتِیْہِمْ (جبکہ ان کے سامنے آتیں تھیں) نمبر 1۔ یہ یعدون کی وجہ سے منصوب ہے۔ نمبر 2۔ دوسرا بدل ہے۔ حِیْتَانُھُمْ (ان کی مچھلیاں) جمع حوت واو کے ماقبل کسرہ ہونے کی وجہ سے یا سے بدل ہے۔ یَوْمَ سَبْتِہِمْ شُرَّعًا (ان کے ہفتہ کے دن ظاہر ہو کر) اس حال میں کہ وہ پانی کی سطح پر ظاہر ہونے والی تھیں۔ شرّعًا جمع شارع یہ حیتانھم سے بدل دیا۔ السبت یہ مصدر ہے۔ سبتت الیہود کہا جاتا ہے جبکہ مچھلی کا شکارہفتہ والا دن چھوڑ کر اس کی تعظیم کریں۔ اور عبادت میں مشغول رہیں اور مطلب یہ ہے جبکہ وہ اس دن کی تعظیم کے معاملہ میں حد سے گزر رہے تھے اور اسی طرح یوم سبتھم کا معنی ہفتہ کے معاملہ میں ان کی تعظیم کا دن اور اس پر دلالت یہ آیت کر رہی ہے۔ وَّیَوْمَ لَا یَسْبِتُوْنَ لَا تَاْ تِیْھِمْ (اور جب ہفتہ کا دن نہ ہوتا تو ان کے سامنے نہ آتی تھیں) ہے یہاں یوم ‘ لا تاتیھمکا ظرف ہے کَذٰلِکَ نَبْلُوْھُمْ بِمَا کَانُوْا یَفْسُقُوْنَ (اسی طرح ہم ان کی آزمائش کرتے تھے اس وجہ سے کہ وہ نافرمانی کیا کرتے تھے) ان کے فسق کے سبب ہم نے ان کو اس سخت آزمائش میں ڈالا۔
Ayah 7:164

وَ اِذْ قَالَتْ اُمَّةٌ مِّنْهُمْ لِمَ تَعِظُوْنَ قَوْمَا١ۙ اِ۟للّٰهُ مُهْلِكُهُمْ اَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ قَالُوْا مَعْذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمْ وَ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 7:164 in the Quran reader

اور جب ان میں سے ایک جماعت نے کہا کہ تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جن کو خدا ہلاک کرنے والا یا سخت عذاب دینے والا ہے ؟ تو انہوں نے کہا اس لیے کہ تمہارے پروردگار کے سامنے معذرت کرسکیں اور عجب نہیں کہ وہ پرہیزگاری اختیار کریں۔

ثابت قدم لوگوں کی فہمائش : آیت 164: وَاِذْ قَالَتْ اُمَّۃٌ مِّنْھُمْ (اور جبکہ ان کی ایک جماعت نے اس طرح کہا) اس کا اذیعدون پر عطف ہے اور جو اعراب اس کا ہے وہی اس کا ہے۔ صلحائے قریہ کی وہ جماعت جو ان کو نصیحت کر کے مایوسی کی حد تک پہنچ چکی تھی۔ اور ان کی طرف سے بہت تکالیف اور مشکلات بھی اٹھا چکی تھی دوسری جماعت کو کہنے لگی جو کسی صورت نصیحت سے علیحدگی اختیار کرنے کو تیار نہ تھی۔ لِمَ تَعِظُوْنَ قَوْمَانِ اللّٰہُ مُھْلِکُھُمْ اَوْمُعَذِّبُھُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا (کہ تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کیے جاتے ہو جن کو اللہ تعالیٰ بالکل ہلاک کرنے والے ہیں یا ان کو سخت سزا دینے والے ہیں) انہوں نے یہ بات اس لئے نہیں کہی کہ وہ جانتے تھے کہ ان لوگوں کو وعظ فائدہ نہ دے گا۔ قَالُوْا مَعْذِرَۃً اِلٰی رَبِّکُمْ (انہوں نے جواب دیا کہ تمہارے رب کے سامنے عذر کرنے کیلئے) یعنی ہماری نصیحت تو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں معذرت کے لئے ہے تاکہ نہی عن المنکر میں ہماری نسبت تفریط کی طرف نہ کی جائے۔ معذرۃً کو حفص نے نصب کے ساتھ مفعول لہٗ ہونے کی بناء پر پڑھا ہے۔ یعنی وعظناھم لمعذرۃٍ ٗ وَلَعَلَّھُمْ یَتَّقُوْنَ (اور اس لئے کہ شاید یہ ڈر جائیں) اس طمع میں کہ شاید وہ بچ جائیں۔
Ayah 7:165

فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖۤ اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ یَنْهَوْنَ عَنِ السُّوْٓءِ وَ اَخَذْنَا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا بِعَذَابٍۭ بَئِیْسٍۭ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 7:165 in the Quran reader

جب انہوں نے ان باتوں کو فراموش کردیا جن کی ان کو نصیحت کی گئی تھی تو جو لوگ برائی سے منع کرتے تھے ان کو ہم نے نجات دی اور جو ظلم کرتے تھے ان کو برے عذاب میں پکڑ لیا۔ کہ نافرمانی کئے جاتے تھے۔

ترکِ نصیحت پر عذاب : آیت 165: فَلَمَّا نَسُوْا (سو جب وہ بھول گئے) یعنی جب اہل قریہ نے چھوڑ دیا مَاذُکِّرُوْ ا بِہٖٓ (اس بات کو جس کے ذریعے ان کو نصیحت کی گئی تھی) جو صالحین نے ان کو نصیحت کی تھی۔ جیسا کہ بھولنے والا بھلائی ہوئی چیز کو چھوڑتا ہے۔ اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ یَنْھَوْنَ عَنِ السُّوْٓئِ (نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو برائی سے روکتے تھے) سخت عذاب سے وَاَخَذْنَا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا (تو ہم نے پکڑ لیا ان لوگوں کو جنہوں نے ظلم کیا) منکر کا ارتکاب کرنے والے اور وہ لوگ جو لم تعظون کہنے والے تھے وہ بھی نجات پانے والے تھے۔ حضرت حسن (رح) سے مروی ہے کہ دو جماعتیں عذاب سے بچ سکیں اور ایک گروہ ہلاک ہوا جنہوں نے مچھلیوں کا شکار کیا تھا۔ بِعَذابٍم بَپیْسٍ سخت۔ کہا جاتا ہے کہ بؤس یبؤس بأسًا جبکہ وہ زیادہ سخت ہوجائے تو بئیسکہلاتا ہے۔ قراءت : شامی نے بئس پڑھا مدنی نے بیس پڑھا۔ بیئس فیعل کے وزن پر۔ ابوبکر نے حماد کے علاوہ پڑھا : بِمَا کَانُوْا یَفْسُقُوْنَ ۔ (کیونکہ وہ حکم عدولی کرتے تھے)
Ayah 7:166

فَلَمَّا عَتَوْا عَنْ مَّا نُهُوْا عَنْهُ قُلْنَا لَهُمْ كُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِئِیْنَ Open ayah 7:166 in the Quran reader

غرض جن اعمال (بد) سے انکو منع کیا گیا تھا جب وہ ان (پر اصرار اور ہمارے حکم) سے گردن کشی کرنے لگے تو ہم نے ان کو حکم دیا کہ ذلیل بندر ہوجاؤ۔

حد توڑنے پر سزائے مسخ : آیت 166: فَلَمَّا عَتَوْا عَنْ مَّا نُھُوْا عَنْہُ (جب وہ اس کام میں حد سے نکل گئے جس سے ان کو روکا گیا تھا) اسکو چھوڑنے سے جو ممنوع تھی۔ قُلْنَا لَھُمْ کُوْنُوْا قِرَدَۃً خٰسِپیْنَ ( تو ہم نے ان کو کہہ دیا کہ ذلیل بندر ہوجائو) یعنی ہم نے ان کو ذلیل بندربنا دیا۔ اس حال میں کہ وہ ذلیل اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہونے والے تھے۔ فلما عتوا یہ فلما نسوا کی تکریر ہے۔ اور عذاب بئیس مسخ کا عذاب تھا۔ ایک قول یہ ہے کہ نوجوان بندر بن گئے اور بوڑھوں کو خنزیر بنادیا گیا تھا۔ وہ اپنے اقارب کو پہچانتے تھے اور روتے تھے۔ مگر کلام نہ کرسکتے تھے۔ جمہور کا مسلک یہی ہے کہ وہ تین دن بعد مرگئے بعض نے کہا کہ وہ باقی رہے اور ان کی نسل چلی۔
Ayah 7:167

وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكَ لَیَبْعَثَنَّ عَلَیْهِمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ یَّسُوْمُهُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِیْعُ الْعِقَابِ١ۖۚ وَ اِنَّهٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 7:167 in the Quran reader

اور (اس وقت کو یاد کرو) جب تمہارے پروردگار نے (یہود کو) آگاہ کردیا تھا کہ وہ ان پر قیامت تک ایسے شخص کو مسلط رکھے گا جو انکو بری بری تکلیفیں دیتا رہے۔ بیشک تمہارا پروردگار جلد عذاب کرنے والا ہے۔ اور وہ بخشنے والا مہربان بھی ہے۔

سزا یافتہ یہود : آیت 167: وَاِذْتَاَذَّنَ رَبُّکَ (اور وہ وقت یاد کرنا چاہیے جب آپ کے رب نے یہ بات بتلا دی) جب تمہارے رب نے اعلان کردیا۔ اس کو فعل قسم کی جگہ لایا گیا اس لیے جواب میں قسم والا معاملہ کیا گیا۔ کہ لام تاکید اور نون ثقیلہ لائے۔ لَیَبْعَثَنَّ عَلَیْھِمْ (وہ ضرور ان پر مسلط کرتا رہے گا) یعنی اس نے اپنے ذمہ لے لیا کہ وہ یہود پر ضرور دوسروں کو مسلط کریں گے۔ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ مَنْ یَّسُوْمُھُمْ (جو ان کو قیامت کے دن تک تکلیف دیتا رہے گا) جو ان پر ذمہ دار ہو۔ سُوْٓ ئَ الْعَذَابِ (سخت سزا کی) وہ مجوس کو جزیہ دیتے تھے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو بھیجا۔ آپ نے بھی ان پر جزیہ مقرر فرمایا۔ اور آخری زمانے تک لگا یا جائے گا۔ اِنَّ رَبَّکَ لَسَرِیْعُ الْعِقَابِ (بیشک آپ کا رب جلدی ہی سزا دے دیتا ہے) کفار کو وَ اِنَّہٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (اور بلاشبہ وہ بڑی مغفرت اور بڑی رحمت والا ہے) ایمان والوں کیلئے۔
Ayah 7:168

وَ قَطَّعْنٰهُمْ فِی الْاَرْضِ اُمَمًا١ۚ مِنْهُمُ الصّٰلِحُوْنَ وَ مِنْهُمْ دُوْنَ ذٰلِكَ١٘ وَ بَلَوْنٰهُمْ بِالْحَسَنٰتِ وَ السَّیِّاٰتِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 7:168 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو جماعت جماعت کر کے ملک میں منتشر کردیا۔ بعض ان میں سے نیکو کار ہیں اور بعض اور طرح کے (یعنی بدکار) اور ہم آسائشوں اور تکلیفوں (دونوں) سے ان کی آزمائش کرتے رہے تاکہ (ہماری طرف) رجوع کریں۔

زمین میں منتشر کردیا : آیت 168: وَقَطَّعْنٰھُمْ فِی الْاَرْضِ اُمَمًا (اور ہم نے متفرق کردیں زمین میں ان کی جماعتیں) ہم نے ان کو زمین میں متفرق کردیا۔ کوئی ملک اس فرقہ سے خالی نہیں۔ مِنْھُمُ الصّٰلِحُوْنَ (بعضے ان میں سے نیک تھے) نمبر 1۔ وہ جو ‘ ان میں سے مدینہ میں ایمان لائے۔ نمبر 2۔ جو چین کے پیچھے ہیں وَمِنْہُمْ دُوْنَ ذٰلِکَ (بعضے ان میں اور طرح کے تھے) ان میں کچھ لوگ جو اس وصف سے خالی ہیں وہ فاسق ہیں۔ نحو : دون ذٰلک محل رفع میں ہے یہ موصوف محذوف کی صفت ہے۔ یعنی ان میں سے ایک گروہ بھلائی سے گرا ہوا ہے۔ تقدیر عبارت منھم ناس دون ذلک منحطون عن الصلاح وَبَلَوْنٰـھُمْ بِالْحَسَنٰتِ وَالسَّیِّاٰتِ (اور ہم ان کو آزماتے رہے خوشحالیوں اور بدحالیوں سے) وہ متنبہ ہوئے پس ان کو ثواب دیا جائے گا۔ لَعَلَّھُمْ یَرْجِعُوْنَ (شاید کہ وہ باز آجائیں)
Ayah 7:169

فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ وَّرِثُوا الْكِتٰبَ یَاْخُذُوْنَ عَرَضَ هٰذَا الْاَدْنٰى وَ یَقُوْلُوْنَ سَیُغْفَرُ لَنَا١ۚ وَ اِنْ یَّاْتِهِمْ عَرَضٌ مِّثْلُهٗ یَاْخُذُوْهُ١ؕ اَلَمْ یُؤْخَذْ عَلَیْهِمْ مِّیْثَاقُ الْكِتٰبِ اَنْ لَّا یَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ وَ دَرَسُوْا مَا فِیْهِ١ؕ وَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 7:169 in the Quran reader

پھر ان کے بعد ناخلف ان کے قائم مقام ہوئے جو کتاب کے وارث بنے۔ یہ (بےتامل) اس دنیائے دنی کا مال و متاع لے لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بخش دے جائیں گے۔ اور (لوگ ایسوں پر طعن کرتے ہیں) اگر ان کے سامنے بھی ویسا ہی مال آجاتا ہے تو وہ بھی اسے لے لیتے ہیں۔ کیا ان سے کتاب کی نسبت عہد نہیں لیا گیا کہ خدا پر سچ کے سوا اور کچھ نہیں کہیں گے ؟ اور جو کچھ اس (کتاب) میں ہے اسکو انہوں نے پڑھ بھی لیا ہے۔ اور آخرت کا گھر پر ہیزگاروں کے لئے بہتر ہے۔ کیا تم سمجھتے نہیں ؟

نالائقوں کی آمد : آیت 169: فَخَلَفَ مِنْم بَعْدِھِمْ (پھر ان کے بعد جانشین ہوئے) ان مذکورین کے بعد خَلْفٌ (نالائق لوگ) یہ وہ لوگ ہیں جو رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں تھے۔ خلْف نالائق اور خلف لام کے فتحہ کے ساتھ لائق جانشین کو کہتے ہیں۔ وَّرِثُوا الْکِتٰبَ (جنہوں نے ان سے کتاب کو حاصل کیا) تو رات اور اس کے اوامرو نواہی کی اطلاع پائی اور حلال و حرام کو جانامگر اس پر عمل نہ کیا۔ یَاْ خُذُوْنَ عَرَضَ ھٰذَا الْاَدْنٰی (یہ لوگ دنیا کے حقیر مال کو لے لیتے ہیں) یہ ورثوا کی ضمیر سے حال ہے۔ العرض۔ سامان بدلہ اس چیز کا حقیر ہے مراد اس سے دنیا اور اس کی اشیاء ہیں۔ یہ الدنو سے ہے جس کا معنی قرب ہے کیونکہ وہ جلد آنے والی قریب ہے۔ اور اس سے مراد احکام کے سلسلہ میں لے جانے والی رقوم اور اسی طرح کلمات کی تحریف پر جانے والا کل مال مراد ہے۔ ھذا الادنٰی کہہ کر اس چیز کی خست اور تحقیر ظاہر فرمائی۔ وَیَقُوْلُوْنَ سَیُغْفَرُلَنَا (اور کہتے ہیں ہماری مغفرت ہوجائے گی) جو ہم لیں اللہ تعالیٰ اس پر مؤاخذہ نہ فرمائے گا۔ نمبر 1۔ فعل کی اسناد الاخذ کی طرف ہے۔ نمبر 2۔ جار مجرور کی طرف یعنی لنا وَاِنْ یَّاْ تِھِمْ عَرَضٌ مِّثْلُہٗ یَاْ خُذُوْہُ (حالانکہ اگر ان کے پاس ویساہی سامان دنیا آنے لگے تو اس کو لے لیتے ہیں) وائو حالیہ ہے۔ کہ ایک طرف مغفرت کے مدعی اور دوسری طرف قبیح افعال پر اصرار کرنے والے اور ان کو بار بار لوٹانے والے۔ اور اس سے توبہ نہ کرنیوالے۔ اَلَمْ یُؤْخَذْ عَلَیْھِمْ مِّیْثَاقُ الْکِتٰبِ (کیا ان سے اس کتاب کے اس مضمون کا پکا وعدہ نہیں لیا گیا) یعنی وہ میثاق جو کتاب میں مذکور ہے۔ اَنْ لَّا یَقُوْلُوْا عَلَی اللّٰہِ اِلَّا الْحَقَّ (کہ اللہ کی طرف سچی بات کے سوا اور کسی بات کی نسبت نہ کریں) یعنی ان سے یہ میثاق لیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے متعلق سچی بات کہنا۔ یہ میثاق کتاب کا عطف بیان ہے۔ وَدَرَسُوْا مَافِیْہِ (اور انہوں نے اس کتاب میں جو کچھ تھا اس کو پڑھ لیا) انہوں نے کتاب میں جو کچھ ہے وہ پڑھا اس کا عطف الم یوخذ علیھم پر ہے کیونکہ یہ تقدیر ہے گویا تقدیر عبارت یہ ہے اخذ علیھم میثاق الکتاب و درسوا مافیہ ان سے کتاب میں میثاق لیا گیا اور انہوں نے جو کچھ اس کتاب میں تھا وہ پڑھا۔ وَالدَّارُ الْاٰخِرَۃُ خَیْرٌ (اور آخرت والا گھر بہت بہتر ہے) اس حقیر سامان سے لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ (ان لوگوں کیلئے جو پرہیز کرتے ہیں) رشوت اور حرام کاموں کے ارتکاب سے بچتے ہیں اَفَلاَ تَعْقِلُوْنَ (پھر کیا تم نہیں سمجھتے) کیا وہ یہ نہیں سمجھتے کہ یہ بات اسی طرح ہے۔ قراءت : مدنی و حفص نے تعقلون تاء سے پڑھا ہے۔
Ayah 7:170

وَ الَّذِیْنَ یُمَسِّكُوْنَ بِالْكِتٰبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١ؕ اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُصْلِحِیْنَ Open ayah 7:170 in the Quran reader

اور جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں اور نماز کا التزام رکھتے ہیں (انکو ہم اجر دیں گے کہ) ہم نیکو کاروں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔

حاملین کتاب قابل بدلہ ہیں : آیت 170: وَالَّذِیْنَ یُمَسِّکُوْنَ بِالْکِتٰبِ (اور جو لوگ کتاب کے پابند ہیں) قراءت : ابوبکر نے یُمْسِکون پڑھا ہے اور الا مساک اور التمسک کسی چیز کو مضبوطی سے تھامنا۔ اور اس سے چمٹنا۔ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ (اور نماز کی پابندی کرتے ہیں) یہاں نماز کو خاص کر ذکر کیا۔ باجود اس کے کہ تمسک بالکتاب تو ہر عبادت کو شامل ہے۔ کیونکہ نماز دین کا ستون ہے۔ نحو : نمبر 1۔ الذین مبتداء ہے اور انالا نضیع اس کی خبر ہے۔ اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُصْلِحِیْنَ (ہم ان اصلاح والوں کا ثواب ضائع نہیں کریں گے) یعنی ہم ان کا اجر ضائع نہیں کریں گے۔ نمبر 2۔ جائز ہے کہ یہ مجرور ہو اس صورت میں اس کا عطف الذین یتقون پر ہوگا۔ اور انالا نضیع جملہ معترضہ ہوگا۔
Ayah 7:171

وَ اِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّ ظَنُّوْۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمْ١ۚ خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اذْكُرُوْا مَا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 7:171 in the Quran reader

اور جب ہم نے ان (کے سروں) پر پہاڑ اٹھا کھڑا کیا گویا وہ سائبان تھا۔ اور انہوں نے خیال کیا کہ وہ ان پر گرتا ہے تو (ہم نے کہا) جو ہم نے تمہیں دیا ہے اسے زور سے پکڑے رہو اور جو اس میں (لکھا) ہے اس پر عمل کرو تاکہ بچ جاؤ۔

بنی اسرائیل کی تیسری حماقت اور سزا : آیت 171ـ: وَاِذْنَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَھُمْ (اور وہ وقت یاد کرو جب ہم نے پہاڑ کو ان کے اوپر معلق کردیا) اس وقت کو یاد کرو جب ہم نے اس کو اکھاڑا اور ان پر بلند کیا جیسا کہ ارشاد ہے ورفعنا فوقھم الطور ( النساء : 54) کَاَنَّہٗ ظُلَّۃٌ (چھت کی طرح) ظلہ ہر وہ چیز جو تم پر سایہ کرے۔ جیسے چھپریابادل۔ وَّظَنُّوْٓٓا اَنَّہٗ وَاقِعٌم بِھِمْ (اور ان کو یقین ہوا کہ اب وہ ان پر گرا چاہتا ہے) انہوں نے گرنے کا یقین کرلیا اور یہ اس وجہ سے پیش آیا کہ انہوں نے تورات کے احکام سخت ہونے کی بناء پر ماننے سے انکار کردیا۔ اور ان کو بوجھل سمجھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے طور پہاڑ کو ان پر لشکر کی مقدار کے مطابق بلند کردیا۔ اور وہ ایک فرسخ 3×3 میل تھا۔ اور انہیں کہہ دیا گیا کہ اگر تم تورات کے احکام قبول کرتے ہو تو ٹھیک ورنہ طور تم پر گرا دیا جائے گا۔ جب انہوں نے پہاڑ کو دیکھا تو ہر آدمی بائیں ابرو پر گرپڑا اور دائیں آنکھ سے پہاڑ کو دیکھ رہے تھے اور ڈر رہے تھے کہ کہیں ان پر آگرے اس لیے تو یہودی بائیں ابرو پر سجدہ کرتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ یہ وہی سجدہ ہے جس کی وجہ سے ہم سے سزا کو ہٹایا گیا۔ اور ہم نے انہیں کہا کہ خُذُوْا مَآ ٰاتَیْنٰکُمْ (قبول کرو جو احکام اس میں ہیں) یعنی کتاب بِقُوَّۃٍ (مضبوطی کے ساتھ) اس کی تکالیف اور مشقتوں کو برداشت کرنے کا عزم کرتے ہوئے۔ وَّاذْکُرُوْا مَا فِیْہِ (اور اس میں جو کچھ ہے یاد کرو) اوامرونواہی اور ان کو مت بھلائو لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ (تاکہ تم متقی بن جائو) جس پر تم ہو۔
Ayah 7:172

وَ اِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْۢ بَنِیْۤ اٰدَمَ مِنْ ظُهُوْرِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ وَ اَشْهَدَهُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ١ؕ قَالُوْا بَلٰى١ۛۚ شَهِدْنَا١ۛۚ اَنْ تَقُوْلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اِنَّا كُنَّا عَنْ هٰذَا غٰفِلِیْنَۙ Open ayah 7:172 in the Quran reader

اور جب تمہارے پروردگار نے بنی آدم سے یعنی ان کی پیٹھوں سے انکی اولاد نکالی تو ان سے خود ان کے مقابلے میں اقرار کرا لیا (یعنی ان سے پوچھا کہ) کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں ؟ وہ کہنے لگے کیوں نہیں ؟ ہم گواہ ہیں (کہ تو ہمارا پروردگار ہے) یہ اقرار اس لیے کرایا تھا کہ قیامت کے دن کہنے لگو کہ ہم کو تو اس کی خبر ہی نہ تھی۔

میثاقِ بنی آدم اور عہد الست : آیت 172 : وَاِذْاَخَذَرَبُّکَ مِنْ 7 بَنِیْٓ ٰادَمَ (اور جبکہ آپ کے رب نے اولاد آدم کو نکالا) ای واذکر اذ اخذیہاں اذکر محذوف ہیمِنْ ظُہُوْرِھِمْ (ان کی پشتوں سے) یہ بنی آدم سے بدل ہے۔ اور تقدیر عبارت یہ ہے واذخذ ربک من ظہوربنی ٰادم جب اللہ تعالیٰ نے ظہور بنی آدم سے میثاق لیا۔ ذُرِّیَّتَھُمْ اور اخذ ذریت کا معنی باپوں کی اصلاب سے انکا نکالنا ہے۔ وَاَشْھَدَھُمْ عَلٰٓی اَنْفُسِھِمْ اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ قَالُوْا بَلٰی شَھِدْنَا (اور ان سے ان کے متعلق اقرار لیا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں سب نے جواب دیا کیوں نہیں ؟ ہم سب گواہ بنتے ہیں) یہ باب تمثیل سے ہے اور اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ربوبیت اور وحدانیت پر دلائل قائم کیے اور اس پر ان کی عقول کو گواہ بنایا۔ اور جو عقول ان میں رکھی گئی تھیں۔ اور جن عقلوں کو ہدایت و ضلالت میں تمیز کرنیوالا بنایا تھا گویا کہ خود ان کو ان کی ذات پر گواہ بنایا۔ اور اس کو پختہ کیا اور انہیں فرمایا۔ الست بربکم گویا کہ انہوں نے کہا بلی انت ربنا شھدنا علی انفسنا واقررنا بوحدانیتککیوں نہیں تو ہمارا رب ہے ہم نے اپنے نفسوں پر گواہی دی اور تیری وحدانیت کا اقرار کیا۔ اَنْ تَقُوْلُوْا (تاکہ تم لوگ نہ کہنے لگو) یہ مفعول لہٗ ہے یعنی ہم نے ایسے دلائل قائم کئے کہ جن کی صحت پر عقول شاہد ہیں اس خطرے کے پیش نظر کہ وہ قیامت کو کہنے لگیں۔ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اِنَّا کُنَّا عَنْ ھٰذَا غٰفِلِیْنَ (قیامت کے روز کہ ہم تو اس سے بالکل بیخبر تھے) ہم ان پر متنبہ نہ ہوسکے۔
Ayah 7:173

اَوْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اَشْرَكَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَ كُنَّا ذُرِّیَّةً مِّنْۢ بَعْدِهِمْ١ۚ اَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 7:173 in the Quran reader

یا یہ (نہ) کہو کہ شرک تو پہلے ہمارے بڑوں نے کیا تھا اور ہم تو (انکی) اولاد تھے (جو) ان کے بعد (پیدا ہوئے) تو کیا جو کام اہل باطل کرتے رہے اس کے بدلے تو ہمیں ہلاک کرتا ہے ؟

انقطاع اعذار : آیت 173: اَوْتَقُوْلُوْٓ ا (یا یوں نہ کہنے لگو) اوکراہۃ یا اس خطرے سے کہ تم کہنے لگو اِنَّمَآ اَشْرَکَ ٰابَآ ؤُنَامِنْ قَبْلُ وَکُنَّا ذُرِّیَّۃً مِّنْم بَعْدِھِمْ (کہ ہمارے بڑوں نے شرک کیا تھا اور ہم تو ان کے بعد ان کی نسل میں ہوئے) ہم نے ان کی اقتداء کی کیونکہ توحید پر دلائل کا قائم کرنا اور جس سے وہ متنبہ ہوں وہ ان کے ساتھ قائم کیے پس ان کے پاس ان سے اعراض کرنے کے لیے کوئی عذر نہیں۔ اور رہی آباء کی اقتداء جس طرح آباء کا کوئی عذر شرک کے سلسلے میں قابل سماعت نہیں اس کے دلائل توحید ان کے لئے بھی قائم تھے۔ اَفَتُھْلِکُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُوْنَ (کیا ان غلط راہ والوں کے فعل پر آپ ہم کو ہلاکت میں ڈال رہے ہیں) وہ ہمارے لیے شرک کا باعث تھے کیونکہ انہوں نے شرک کی بنیاد رکھی اور ہمارے لیے طریقہ چھوڑا۔
Ayah 7:174

وَ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 7:174 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم (اپنی) آیتیں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں تاکہ یہ رجوع کریں۔

آیت 174: وَکَذٰلِکَ (اور اسی طرح) اس بلیغ تفصیل کے بعد نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ (ہم آیات کو صاف صاف بیان کرتے ہیں) ان کے لیے وَلَعَلَّھُمْ یَرْجِعُوْنَ (اور تاکہ وہ باز آجائیں) اپنے شرک سے ہم ان کی تفصیل کرتے ہیں۔ اہل تفسیر میں سے محقق علمائے تفسیر نے یہی تفسیر کی ہے جن میں شیخ ابومنصور الزجاج، زمخشری ہیں۔ جمہور مفسرین کی رائے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ذریت آدم کو آدم ( علیہ السلام) کی پشت سے چیونٹیوں جیسی چھوٹی شکلیں دے کر نکالا اور ان سے میثاق ربوبیت اس قول سے لیا۔ ألست بربکم پس انہوں نے بَلٰی سے جواب دیا۔ علماء نے فرمایا یہی وہ فطرت ہے جس پر لوگوں کو پیدا کیا گیا۔ قول ابن عباس : حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آدم ( علیہ السلام) کی پشت سے ان کی اولاد کو نکالا اور آدم کو انہیں چیونٹیوں جیسی چھوٹی شکل میں دکھایا۔ اور ان کو عقل عنایت فرمائی اور فرمایا یہ تمہاری اولاد ہے۔ میں ان سے عہد لوں گا کہ وہ میری عبادت کریں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ دخول جنت سے قبل مکہ و طائف کے مابین پیش آیا ایک اور قول یہ ہے کہ جنت سے اتارے جانے کے بعد۔ ایک قول یہ ہے کہ جنت میں پیش آیا۔ پہلے علماء کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا من بنی ٰادم من ظہورھم جمع فرمایا من ظہر آدم نہیں فرمایا اور دوسری بات یہ ہے کہ جب ہمیں یہ یاد نہیں تو پھر ہماری دلیل کیسے بنے گی۔ قراءت : ذرّیاتھم مدنی، بصری، شامی نے پڑھا ہے۔ اور ابو عمرو نے اوتقولوا کو اویقولوا پڑھا ہے۔
Ayah 7:175

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ الَّذِیْۤ اٰتَیْنٰهُ اٰیٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَاَتْبَعَهُ الشَّیْطٰنُ فَكَانَ مِنَ الْغٰوِیْنَ Open ayah 7:175 in the Quran reader

اور ان کو اس شخص کا حال پڑھ کر سنا دو جس کو ہم نے اپنی آیتیں عطا فرمائیں (اور ہفت پارچہ علم شرائع سے مزین کیا) تو اس نے ان کو اتار دیا پھر شیطان اسکے پیچھے لگا تو وہ گمراہوں میں ہوگیا۔

بنی اسرائیل کے ایک عالم کا قصہ : آیت 175: وَاتْلُ عَلَیْھِمْ (اور ان کو پڑھ کر سنائیں) یہود پر نَبَاَ الَّذِیْٓ ٰاتَیْنٰہُ ٰایٰتِنَا (اس کا حال جس کو ہم نے اپنی آیات دیں) یہ بنی اسرائیل کا ایک عالم تھا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ بلعم بن باعوراء تھا جس کو اللہ تعالیٰ کی کسی کتاب کا علم ملا۔ فَانْسَلَخَ مِنْھَا (پھر وہ ان سے بالکل ہی نکل گیا) وہ ان آیات سے اس طرح نکل گیا کہ اس نے انکا انکار کردیا۔ اور ان آیات کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا۔ فَاَ تْبَعَہُ الشَّیْطٰنُ (پھر شیطان اس کے پیچھے لگ گیا) شیطان اس کو پیچھے سے ملا اور اس کو آلیا اور اس کا ساتھی بن گیا۔ فَکَانَ مِنَ الْغٰوِیْنَ (پس وہ گمراہ لوگوں میں سے ہوگیا) وہ گمراہ کفار میں سے ہوگیا۔ روایت میں ہے کہ اس کی قوم نے اس سے مطالبہ کیا کہ موسیٰ ( علیہ السلام) کے خلاف بددعا کرے۔ مگر اس نے انکار کردیا لیکن وہ اس کو چمٹے رہے۔ یہاں تک کہ اس نے بددعا کردی اس کے پاس اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم تھا۔
Ayah 7:176

وَ لَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰهُ بِهَا وَ لٰكِنَّهٗۤ اَخْلَدَ اِلَى الْاَرْضِ وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ١ۚ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ الْكَلْبِ١ۚ اِنْ تَحْمِلْ عَلَیْهِ یَلْهَثْ اَوْ تَتْرُكْهُ یَلْهَثْ١ؕ ذٰلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 7:176 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو ان آیتوں سے اس (کے درجے) کو بلند کردیتے مگر وہ تو پستی کی طرف مائل ہوگیا اور اپنی خواہش کے پیچھے چل پڑا تو اس کی مثال کتے کی سی ہوگئی۔ کہ اگر سختی کرو تو زبان نکا لے رہے اور یونہی چھوڑ دو تو بھی زبان نکالے رہے۔ یہی مثال ان لوگوں کی ہے جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا۔ تو (ان سے) یہ قصہ بیان کردو تاکہ وہ فکر کریں۔

آیت 176: وَلَوْشِئْنَا لَرَفَعْنٰـہُ (اور اگر ہم چاہتے تو اس کو بلند کردیتے) علمائے ابرار کے مقامات کی طرف بِھَا (ان آیات کی وجہ سے) ان آیات کے ساتھ وَلٰکِنَّہٓٗ اَخْلَدَاِلَی الْاَرْضِ (لیکن وہ دنیا کی طرف مائل ہوگیا) وہ دنیا کی طرف مائل ہوا اور اس میں خوب رغبت ظاہر کی۔ وَاتَّبَعَ ھَوٰہُ (اور اپنی نفسانی خواہش کی پیروی کرنے لگا) دنیا اور اس کی لذات کو آخرت اور اس کی نعمتوں کے مقابلہ میں ترجیح دینے میں۔ خواہش پرستی میں کتے کی مثال : فَمَثَلُہٗ کَمَثَلِ الْکَلْبِ اِنْ تَحْمِلْ عَلَیْہِ (اس کی حالت کتے کی سی ہوگئی اگر تو اس پر حملہ کرے) ڈانٹے اور دھتکارے یَلْھَثْ اَوْ تَتْرُکْہُ (تب بھی ہانپے یا اس کو چھوڑ دے) بغیر دھتکارے یَلْھَثْ (تب بھی ہانپے) مطلب یہ ہے کہ یہ اپنی خست اور کمینگی میں کتے کی طرح ہے جو اپنی انتہائی قبیح حالت و صورت میں ہو۔ اور وہ حالت اس کا ہمیشہ ھانپنا ہے اس پر حملہ آور ہوں اور بھڑکا کر اس کو دھتکاریں یا بلا تعرض اس کو چھوڑ دیں اور یہ اس طرح ہے تمام حیوانات اس وقت ہانپتے ہیں جب وہ حرکت کریں مگر کتا سب سے مختلف ہے کہ دونوں حالتوں میں ہانپتا ہے کلام کا تقاضا یہ تھا کہ کہا جاتا : لٰکنہ اخلد الی الارض فحططناہ ووضعناہ منزلتہ لیکن وہ زمین کی طرف مائل رہا پس ہم نے ان کو گرا دیا اور اس کے مرتبے کو گرا دیا اللہ تعالیٰ نے اس کی بجائے یہ تمثیل رکھ دی۔ جو کہ اس مقصد کو زیادہ بلیغ انداز میں پیش کر کے اور دیگر کئی فوائد پر مشتمل ہے۔ نحو : جملہ شرطیہ حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے گویا اس طرح کہا گیا کمثل الکلب ذلیلاً دائم الذلۃ لاھثا فی الحالین کتے کی طرح ہمیشہ ذلیل اور دونوں حالتوں میں ہانپنے والا ہے۔ کہا گیا ہے کہ جب بلعم نے موسیٰ ( علیہ السلام) کے لیے بددعا کی تو اس کی زبان نکل آئی اور اس کے سینے پر لٹکنے لگی اور وہ اسی طرح ہانپنے لگا جس طرح کتا ہانپتا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ گمراہ ہے اس کو نصیحت کرو یا چھوڑ دو فائدہ ندارد۔ عطاء کہتے ہیں کہ جس نے علم سیکھا اور اس پر عمل نہ کیا وہ کتے کی طرح ہے اس کو دھتکارویا چھوڑو بھونکتا ہے۔ ذٰلِکَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِٰایٰتِنَا (یہی حالت ان لوگوں کی ہے جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا) یہود میں سے اس کے باوجود کہ انہوں نے تورات میں رسول اللہ ﷺ کی نشانیاں پڑھ لیں۔ اور قرآن مجید کا تذکرہ اور جو کچھ اس میں ہے اور انہوں نے آپ ﷺ کی بعثت کے قرب کی لوگوں کو بشارتیں دیں۔ فَاقْصُصِ الْقَصَصَ (پس آپ اس حالت کو بیان کردیں) یعنی بلعم کا واقعہ جو ان کے واقعات کی طرح ہے۔ لَعَلَّھُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ (شاید کہ وہ لوگ کچھ سوچیں) پس اس انجام سے محتاط ہوجائیں جبکہ وہ اس جیسی سیرت اختیار کریں۔
Ayah 7:177

سَآءَ مَثَلَا اِ۟لْقَوْمُ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اَنْفُسَهُمْ كَانُوْا یَظْلِمُوْنَ Open ayah 7:177 in the Quran reader

جن لوگوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی ان کی مثال بری ہے اور انہوں نے نقصان (کیا تو) اپنا ہی کیا۔

جھٹلانے والوں کا برا انجام : آیت 177: سَآ ئَ مَثَلَا نِالْقَوْمُ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا (ان لوگوں کی حالت بھی بری حالت ہے جو ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں) یعنی قوم کی مثال۔ مضاف کو حذف کردیا۔ ساء کا فاعل ضمیر ہے یعنی ساء المثل مثلاً اور مثلا ً تمیز کی وجہ سے منصوب ہے۔ وَانْفُسَھُمْ کَانُوْا یَظْلِمُوْنَ (اور وہ اپنا نقصان کرتے ہیں) اس کا عطف کذبوا پر ہے۔ نمبر 1: پس یہ صلہ کی جگہ میں داخل ہوجائے گی۔ یعنی الذین جمعوا بین التکذیب باٰیات اللّٰہ و ظلم انفسھم وہ لوگ جنہوں نے تکذیب آیات اور ظلم انفس کو جمع کیا نمبر 2۔ صلہ سے منقطع ہو تو وما ظلموا الا انفسھم بالتکذیب انہوں نے تکذیب سے اپنے ہی نفسوں پر ظلم کیا۔ مفعول کو مقدم، اختصاص کے لیے کیا۔ یعنی خصوا انفسھم بالظلم ولم یتعد الٰی غیر ھا انہوں نے اپنے نفسوں کو ظلم کے ساتھ خاص کرلیا اور ظلم ان سے آگے دوسروں کی طرف نہ بڑھا۔
Ayah 7:178

مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِیْ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 7:178 in the Quran reader

جس کو خدا ہدایت دے وہی راہ یاب ہے۔ اور جس کو گمراہ کرے تو ایسے ہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔

طالبین ہدایت کو ہدایت ملتی ہے : آیت 178: مَنْ یَّھْدِ اللّٰہُ فَھُوَ الْمُھْتَدِیْ (جس کو اللہ تعالیٰ ہدایت کرتا ہے پس ہدایت پانے والا وہی ہوتا ہے) لفظ پر محمول کیا وَمَنْ یُّضْلِلْ (اور جس کو وہ گمراہ کر دے) جس کو وہ گمراہ کرے فَاُولٰٓپکَ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ (پس ایسے ہی لوگ خسارہ میں رہتے ہیں) اس کو معنی پر محمول کیا جائے اگر بقول معتزلہ ہدایت اللہ تعالیٰ کی طرف سے صرف بیان کا نام ہوتا تو کافر و مومن برابرہوتے۔ کیونکہ بیان دونوں کے حق میں ثابت ہونے والا ہے۔ پس اس سے ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تو فیق اور معونت اور عصمت ہوتی ہے اگر یہ کافر کو حاصل ہوجائے تو وہ راہ ہدایت پائے جیسا مومن پاتا ہے۔
Ayah 7:179

وَ لَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِیْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ۖ٘ لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ بِهَا١٘ وَ لَهُمْ اَعْیُنٌ لَّا یُبْصِرُوْنَ بِهَا١٘ وَ لَهُمْ اٰذَانٌ لَّا یَسْمَعُوْنَ بِهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ Open ayah 7:179 in the Quran reader

اور ہم نے بہت سے جن اور انسان دوزخ کے لئے پیدا کئے ہیں۔ ان کے دل ہیں لیکن ان سے سمجھے نہیں اور اور ان کی آنکھیں ہیں مگر ان سے دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں پر ان سے سنتے نہیں۔ یہ لوگ (بالکل) چارپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی بھٹکے ہوئے۔ یہی وہ ہیں جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔

دوزخی لوگوں کا مزاج ‘ دِل ‘ آنکھ ‘ کان کو صحیح استعمال نہیں کرتے : آیت 179: وَلَقَدْ ذَرَاْنَالِجَھَنَّمَ کَثِیْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ (اور ہم نے بہت سے جن وانس کو دوزخ کیلئے پیدا کیا ہے) وہ دونوں فریق کفار ہیں جو اللہ کی آیات میں تدبر سے اعراض کرنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو ان کا اختیار کفر معلوم ہے۔ پس ان سے کفر کو چاہا اور ان میں اس کو پیدا کیا اور اسی وجہ سے انکاٹھکانہ جہنم بنادیا اس آیت اور دوسری آیت میں کوئی منافات نہیں : وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ ( الذاریات : 56) کیونکہ ان میں سے عبادت کے لیے ان کو پیدا کیا جن کے متعلق جانا کہ وہ اس کی عبادت کریں گے اور جن کے بارے میں جانا کہ وہ کفر کریں گے پس ان کو اس کے لیے پیدا کردیا جس کے متعلق جانا۔ پس خلاصہ کلام یہ ہوا کہ جن کے متعلق ازل میں علم الٰہی ٹھہراچکا کہ اس سے عبادت ہوگی اس کو عبادت کے لئے پیدا کردیا اور جس کے بارے میں ازل میں جانا کہ اس سے کفر ہوگا اس کو اس کے لئے پیدا کردیا بہت سے ایسے عام ہیں جن سے خاص مراد لیا جاتا ہے۔ باقی رہا معتزلہ کا یہ قول کہ لام یہاں عاقبت کا ہے۔ یعنی جن کا انجام جہنم تھا اسی طرح کردیا گویا ان کی خلقت جہنم کے لیے کی گئی یہ قول صرف ارادہ معاصی سے فرار اختیار کرنے اور آیت کو ظاہر سے موڑنے کا راستہ ہے۔ لَھُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَھُوْنَ بِھَا (ان کے دل ایسے ہیں جن سے نہیں سمجھتے) حق کو اور نہ ہی اس میں سوچ بچار کرتے ہیں۔ وَلَھُمْ اَعْیُنٌ لَّا یُبْصِرُوْنَ بِھَا (اور ان کی آنکھیں ایسی ہیں جن سے نہیں دیکھتے) رشد کو وَلَھُمْ ٰاذَانٌ لَّا یَسْمَعُوْنَ بِھَا (اور ان کے کان ایسے ہیں جن سے وہ نہیں سنتے) وعظ و نصیحت کو اُولٰٓپکَ کَا لْاَ نْعَامِ (یہ لوگ چوپایوں کی طرح ہیں) عدم تفقہ اور عبرت حاصل نہ کرنے میں اور تفکر کی خاطر کان نہ لگانے میں بَلْ ھُمْ اَضَلُّ (بلکہ یہ لوگ زیادہ بےراہ ہیں) چوپایوں سے۔ کیونکہ انہوں نے عقول صحیحہ کی مخالفت کی اور رسول سے معاندت کی اور فضولیات کے پیچھے پڑے رہے۔ پس چو پایوں کے منافع طلب کیے جاتے ہیں اور ان کے نقصانات سے بچا جاتا ہے اور یہ اپنے نقصان ہی سے واقف نہیں۔ اس لئے انہوں نے آگ کو پسند کرلیا اور ذرا سوچو مکلف ذمہ دار اور معذور قرار دے کر چھوڑا ہوا کیونکر برابر ہوسکتے ہیں۔ انسان کی چار اقسام : انسان کی چار اقسام ہیں۔ نمبر 1۔ انسان روحانی۔ نمبر 2۔ شھوانی نمبر 3۔ سماوی نمبر 4۔ ارضی۔ نمبر 1۔ انسان روحانی اگر روح خواہش پر غالب آجائے تو ملائکہ سے بھی بڑھ جائے۔ نمبر 2۔ شہوانی خواہش روح پر غالب آجائے تو بہائم سے بھی نیچے اتر جائے۔ نمبر 3۔ سماوی اگر روح غلبہ پاکر آسمان کی طرف پرواز کرنے کے قابل ہوجائے۔ نمبر 4۔ ارضی۔۔ شہوات غلبہ پاکر زمین ہی کا بن کر رہ گیا۔ اُولٰٓپکَ ھُمُ الْغٰفِلُوْنَ (یہ لوگ غافل ہیں) وہ غفلت میں کامل ہیں۔
Ayah 7:180

وَ لِلّٰهِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا١۪ وَ ذَرُوا الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اَسْمَآئِهٖ١ؕ سَیُجْزَوْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 7:180 in the Quran reader

اور خدا کے سب نام اچھے ہی ہیں تو اس کو اس کے ناموں سے پکار کرو۔ اور جو لوگ اس کے ناموں میں کجی (اختیار) کرتے ہیں ان کو چھوڑ دو ۔ وہ جو کچھ کر رہے ہیں عنقریب اسکی سزا پائیں گے۔

آیت 180: وَلِلّٰہِ الْاَسْمَآ ئُ الْحُسْنٰی (اور اچھے اچھے نام اللہ تعالیٰ ہی کیلئے ہیں) اللہ تعالیٰ کے نام سب سے اچھے ہیں کیونکہ وہ اچھے معانی پر دلالت کرتے ہیں ان میں سے بعض نام وہ ہیں۔ نمبر 1۔ جن کا وہ حقدار ان کے حقائق کی وجہ سے ہے مثلاً القدیم ہر چیز سے پہلے الباقی ہر چیز کے بعد القادر ؔ ہر چیز پر قابو پانے والا۔ العالم ہر چیز کو جاننے والا۔ الواحد وہ اکیلا جس کی مثل کوئی چیز نہیں۔ نمبر 2۔ دوسری قسم وہ نام جنکے نفوس آثار کی و جہ سے مستحسن قرار دیتے ہیں۔ مثلاً الغفور الرحیم، الشکور، الحلیم، نمبر 3۔ ایسے اسماء جن کو اپنا ناواجب ہے مثلا الفضل العفو۔ نمبر 4۔ ایسے نام جو احوال کی نگہبانی کو لازم کرتے ہیں۔ مثلاً السمیع، البصیر، المقتدر نمبر 5۔ وہ نام جو اجلال کو لازم کرتے ہیں۔ مثلاً العظیم، الجبار، المتکبر۔ فَادْعُوْہُ بِھَا (پس انہی ناموں سے اللہ تعالیٰ کو پکارا کرو) پس اس کے یہی نام لو وَذَرُوا الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْٓ اَسْمَآپہٖ (اور ایسے لوگوں سے تعلق نہ رکھو جو اس کے ناموں میں کجروی کرتے ہیں) اور ان لوگوں کے بنائے ہوئے ناموں کو چھوڑ دو ۔ جو ان ناموں کے سلسلہ میں حق و صواب سے مائل ہوتے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ کے علاوہ نام رکھتے ہیں۔ ایسا نام رکھنا جائز نہیں مثلاً اس طرح کہیں یا سخی۔ یا رفیق، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نام یہ نہیں بتلائے اور الحاد یہی ہے کہ اس کے ایسے نام رکھنا جس میں جسمیت، جوہر، عقل، علّت پائی جائے۔ قراءت : ہمزہ نے یَلْحَدُوْنَ پڑھا ہے لحد اور الحد کا معنی ایک ہے یعنی مائل ہونا۔ سَیُجْزَوْنَ مَاکَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (ان کو ان کے کیے کی ضرور سزا ملے گی)
Ayah 7:181

وَ مِمَّنْ خَلَقْنَاۤ اُمَّةٌ یَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَ بِهٖ یَعْدِلُوْنَ۠ Open ayah 7:181 in the Quran reader

اور ہماری مخلوقات میں سے ایک وہ لوگ ہیں جو حق کا راستہ بتاتے ہیں اور اسی کے ساتھ انصاف کرتے ہیں۔

داعیانِ حق : آیت 181: وَمِمَّنْ خَلَقْنَآ (اور ہماری مخلوق میں) جنت کے لئے کیونکہ یہ ولقد ذراْ نالجھنم کے مقا بلہ کے لئے ہے۔ اُمَّۃٌ یَّھْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَبِہٖ یَعْدِلُوْنَ (ایک گروہ ایسا بھی ہے جو حق کے مطابق ہدایت کرتا ہے اور حق کے موافق عدل کرتا ہے) اپنے احکام میں۔ کہا گیا ہے کہ اس سے علماء اور داعیان دین مراد ہیں۔ حجیت اجماع : اس میں دلالت ہے کہ ہر زمانہ کے اہل حق کا اجماع حجت ہے۔
Ayah 7:182

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَۚۖ Open ayah 7:182 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہم ان کو بتدریج اس طریق سے پکڑیں گے کہ ان کو معلوم ہی نہ ہوگا۔

مکذبین کو موقعہ بموقعہ پکڑیں گے : آیت 182: وَالَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِٰایٰتِنَا سَنَسْتَدْرِجُھُمْ (جو لوگ ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں ہم ان کو آہستہ آہستہ لئے جا رہے ہیں) ان کو عنقریب آہستہ آہستہ اتاریں گے۔ ایسی چیز کی طرف جو ان کو ہلاک کر دے گی۔ مِّنْ حَیْثُ لَایَعْلَمُوْنَ (اس طور پر کہ ان کو خبر بھی نہیں) کیا مقصود اس سے ہے اور وہ اس طرح کہ گمراہی میں انہماک کے باوجود ان پر متواتر انعامات کرے۔ جب نئی نعمت آئے توانکا تکبر بڑھ جائے۔ اور ان کی معصیتیں جدید ہوجائیں۔ پھر وہ معاصی میں درجہ بدرجہ اترتے جائیں۔ پے درپے انعام کی وجہ سے یہ گمان کر کے کہ متواتر انعامات اللہ تعالیٰ کی طرف سے ترجیح اور قرب کی بناء پر ہیں حالانکہ وہ رسوائی اور رحمتوں سے دور ہٹانا ہے۔ یہ درجہ سے باب استفعال ہے۔ استصعاد یا استنزال درجۃ بعد درجۃ درجہ بدرجہ چڑھانا یا اتارنا کہ خبر بھی نہ ہو۔
Ayah 7:183

وَ اُمْلِیْ لَهُمْ١۫ؕ اِنَّ كَیْدِیْ مَتِیْنٌ Open ayah 7:183 in the Quran reader

اور میں ان کو مہت دیے جاتا ہوں۔ میری تدبیر (بڑی) مضبوط ہے۔

امہال مجرمین : آیت 183: وَاُمْلِیْ لَھُمْ (اور میں ان کو ڈھیل دیتا ہوں) اس کا سنستدرجہم پر عطف ہے مگر یہ سین کے حکم میں داخل نہیں۔ اس لیے اس کا معنی امھلھم میں ان کو مہلت دیتا ہوں۔ اِنَّ کَیْدِیْ مَتِیْنٌ (بےشک میری تدبیر بڑی مضبوط ہے) میری پکڑ سخت ہے۔ اس کو کید سے تعبیر کیا کیونکہ یہ کید کے مشابہ ہے کہ ظاہر میں یہ احسان اور حقیقت میں خسران اور ندمان ہے۔
Ayah 7:184

اَوَ لَمْ یَتَفَكَّرُوْا١ٚ مَا بِصَاحِبِهِمْ مِّنْ جِنَّةٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 7:184 in the Quran reader

کیا انہوں نے غور نہیں کیا ؟ کہ ان کے رفیق محمد ﷺ کو (کسی طرح کا بھی) جنون نہیں ہے۔ تو وہ ظاہر ظہور ڈر سنانے والے ہیں۔

آیت 184: جب کفار نے نبی اکرم ﷺ کی نسبت جنون کی طرف کی تو یہ آیت اتری۔ کفار کے اعتراض جنون کا جواب : اَوَلَمْ یَتَفَکَّرُوْا مَابِصَاحِبِھِمْ (کیا انہوں نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ ان کے ساتھی کو نہیں ہے) محمد ﷺ ۔ ما نافیہ ہے وقف کے بعد یعنی کیا وہ اپنی بات کو نہیں سوچتے۔ پھر جنون کی آپ ﷺ سے نفی فرمائی۔ مِّنْ جِنَّۃٍ (ذرا بھر جنون) جِنَّۃ کا معنی جنون ہے۔ اِنْ ھُوَ اِلاَّ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ (وہ تو صرف ایک صاف ڈرانے والے ہیں) آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کی طرف سے منذر اور اس کے انذار کو واضح کرنے والے ہیں۔