Ayah 6:1تمام تعریفوں کے لائق وہی ہے :
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں۔ اس نے بندوں کو تعلیم دی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی حمد کریں۔ اور درپردہ اس بات کی تعریف کردی کہ اللہ تعالیٰ کو بندوں کی حمد کی ضرورت نہیں۔ وہ ان کی تعریف سے بےنیاز ہے خواہ اس کی تعریف کوئی کرے یا نہ کرے۔ وہ واقع میں تمام تعریفوں کے لائق ہے۔
سماوات کے جمع اور ارض کے مفرد لانے کی وجہ :
الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ ۔ السمٰوٰت جمع لایا گیا کیونکہ آسمان ایک دوسرے پر طبق کی صورت میں ہیں۔ الگ شکل والے ہیں۔ اور الارض زمینیں بھی اگرچہ جمہور کے نزدیک سات ہیں مگر ان کے لیے لفظ مفرد لائے۔ کیونکہ وہ ایک دوسرے کے اوپر نہیں بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ ہم شکل ہیں۔ اور ایک ماہیت رکھتی ہیں۔ صرف : جعل کا لفظ جب احدث اور انشاء کے معنی میں ہو تو مفعول واحد کی طرف متعدی ہوتا ہے۔ جیسا اس ارشاد میں وَجَعَلَ الظُّلُمٰت وَالنُّوْرَ اور دو مفعولوں کی طرف متعدی ہوتا ہے جب صیّر کے معنی میں ہو۔ جیسا ارشاد باری تعالیٰ ہے : وَجَعَلُوا الْمَلٰٓپکَۃَ الَّذِیْنَ ہُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا 1 (الز خرف : 19) اس میں بت پرستوں کے اس قول کی تردید ہے کہ نور و ظلمت قدیم ہیں۔ النورکو مفرد لائے کیونکہ جنس مراد ہے۔ اور نور ایک ہی قسم ہے جو مختلف نہیں ہوتا۔ جیسا کہ اندھیرے مختلف ہوتے ہیں۔ ظلمات کو جمع لائے کیونکہ ہر ایک چیز کی ظلمت الگ ہے۔ رات کی الگ۔ سمندر کی الگ ٗ اندھیرے مقام کی الگ ہر ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ اور ظلمات کو مقدم لایا گیا اس کی وجہ ترمذی میں مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو تاریکی میں پیدا کیا۔ پھر ان پر اپنے نور کا ایک چھینٹا ڈالا۔ پس جس پر وہ نور کا چھینٹا پڑگیا۔ وہ ہدایت یاب ہوگیا۔ جس پر نہ پڑا وہ گمراہ ہوگیا (رواہ احمد ایضاً فی مسند ہٖ ) ثُمَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا۔ پھر کافر لوگ اس وضاحت کے بعد، بِرَبِّہِمْ یَعْدِلُوْنَ ۔ پھر بتوں کو اللہ تعالیٰ کے برابر قرار دیتے ہیں۔
نحوی تحقیق نمبر 1:
جیسے تم کہو : عدلت بذا ای ساویتہ بہٖ ۔ میں نے اس کو اس کے برابر کردیا سے لیا گیا ہے۔ بربہم میں باء یہ عدل کا صلہ ہے۔ کفروا کا نہیں۔ نمبر 2۔ یعدلون کے بعد اس کا صلہ عن محذوف ہے۔ یہ اعتراض کے معنی میں ہے اس صورت میں باء کفروا کا صلہ ہوگی۔ اور یعدلون کا صلہ عن محذوف ہوگا۔ اگر ثم الذین کفروا کو الحمد للہ پر معطوف کیا جائے تو معنی اس طرح ہوگا۔ بیشک اللہ تعالیٰ حقیقتاً لائق حمد ہے۔ اس طور پر کہ سارے جہان کو پیدا کرنے والے ہیں۔ اور جہان کو پیدا کرنا محض اس کی نعمت ہے۔ لیکن پھر بھی کافر اس کی نعمتوں میں برابر قرار دے کر اس کی نعمتوں کا انکار کرتے ہیں۔ نمبر 3۔ خلق السٰمٰوت پر عطف ہے۔ اس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے تو پیدا کیا جو پیدا کیا۔ جس کی تخلیق میں سوائے اس کے اور کسی کو قدرت نہیں۔ پھر بھی کافر ایسی مخلوق کو اس کے برابر قرار دیتے ہیں۔ جس کو کسی چیز کے پیدا کرنے پر کوئی قدرت نہیں۔ ثم کا لفظ یہاں تعجب کے لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی آیات اس قدر واضح ہونے کے بعد کافروں کا اس کے برابر دوسروں کو قرار دینا قابل تعجب ہے۔ اور بعید از انصاف ہے۔
Ayah 6:2خالق وہی پھر بھی شک میں پڑے ہیں :
آیت 2: ہُوَ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ طِیْنٍ ۔ من یہ ابتدائے غایت کے لیے ہے۔ یعنی ابتداء خلق اصلکم ای ٰادم منہ تمہارے اصل آدم ( علیہ السلام) کی پیدائش اسی سے کی۔ ثُمَّ قَضٰٓی اَجَلاً پھر مدت موت کا فیصلہ کیا۔ وَاَجَلٌ مُّسَمًّی عِنْدَہٗ وقت معین سے قیامت مراد ہے۔ نمبر 2۔ پہلے اجل سے مراد پیدائش سے موت تک اور دوسرے اجل سے موت وبعث کے مابین اور وہ برزخ ہے۔ نمبر 3۔ اول نیند ٗ ثانی موت۔ نمبر 4۔ ثانی سے بھی اول ہی مراد ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے و ہواجل مسمی ای معلوم وہ وقت مقرر یعنی معلوم ہے۔ : اجل مسمی مبتداء اور خبر عندہٗ ہے اور مبتداء کو نکرہ ہونے کے باوجود مقدم کردیا۔ کیونکہ خبر ظرف ہے اور ظرف مؤخر ہی ہوتا ہے۔ اور نکرہ کی صفت آجانے سے وہ معرفہ کے قریب ہوگیا۔ ثُمَّ اَنْتُمْ تَمْتَرُوْنَپھر تم شک میں پڑے ہو۔ تمترون مریۃ سے ہے۔ نمبر 2۔ مراء سے ہے جس کا معنی جھگڑا کرنا۔ ثم استبعاد کے لیے ہے۔ اس بات سے کہ وہ شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ اس کے باوجود کہ ثابت ہوچکا کہ اللہ تعالیٰ ہی ان کو زندہ کرنے والے موت دینے والے اور ان کو اٹھانے والے ہیں۔
Ayah 6:3نحو و صرف :
آیت 3: وَہُوَ اللّٰہُ ۔ : یہ مبتداء فِی السَّمٰوٰتِ وَفِی الْاَرْضِخبر ہے۔ نمبر 1۔ لفظ اللہ کو صیغہ مشتق کہا جائے۔ گویا اس طرح ہوگیا ہو المعبود فیہا۔ جیسا کہ دوسری آیت میں فرمایا۔ وہو الذی فی السماء الٰـہٌ وفی الارض الٰہ۔ الزخرف آیت 84۔ نمبر 2۔ اللہ کے لفظ کو علم کہا جائے تو مشتق کی تاویل سے اس طرح ہوگا۔ ہواللّٰہ المعروف بالالٰہِیۃ فیہا۔ وہی اللہ الوہیت کے ساتھ معروف ہے ان دونوں میں۔ نمبر 3۔ اللہ کے لفظ کو علم مان کر ہو الذی یقال لہ اللّٰہ فیہما وہ وہی ہے جس کو ان دونوں میں اللہ کہا جاتا ہے۔ یَعْلَمُ سِرَّکُمْ وَجَہْرَکُمْ ۔ : یہ دوسری خبر ہے۔ یا ابتدائی کلام ہے۔ یعنی وہ تمہاری باطنی اور ظاہری حالت کو جانتا ہے۔ وَیَعْلَمُ مَا تَکْسِبُوْنَبھلائی ٗ برائی میں سے اور وہ اس پر ثواب و عذاب دے گا۔
Ayah 6:4عدم تدبر انجام کی سوچ نہ ہونے سے ہے :
آیت 4: وَمَا تَاْتِیْہِمْ مِّنْ ٰایَۃٍ ۔ اس میں مِنْ استغراق کے لیے ہے۔ مِّنْ ٰایٰتِ رَبِّہِمْاس میں مِنْ تبعیضیہ ہے۔ یعنی جو کوئی دلیل کبھی ان کے سامنے ظاہر ہوتی ہے جس میں غور و فکر کرنا ضروری ہے۔ اِلاَّ کَانُوْا عَنْہَا مُعْرِضِیْنَان پر غور و تدبر چھوڑنے والے ہیں۔ ان کی طرف توجہ نہیں کرتے۔ کیونکہ ان کو بہت کم خوف اور انجام کی سوچ نہیں ہے۔
Ayah 6:5آیت 5: فَقَدْ کَذَّبُوْا اس کو محذوف کلام کی طرف لوٹایا جائے گا۔ گویا اس طرح کہا گیا۔ ان کَانُوا معرضین عن الاٰیات فقد کذبوا۔ اگر یہ آیات سے منہ موڑ رہے ہیں تو انہوں نے واقعۃً حق کو جھٹلایا۔ بِالْحَقِّ لَمَّا جَآئَ ہُمْ یعنی وہ جو کہ عظیم ترین نشانی اور سب سے بڑا معجزہ ہے اور وہ قرآن ہی تو ہے جس کے ذریعے ان کو چیلنج کیا گیا۔ جس کے جواب میں وہ عاجز رہے۔
قرآنی خبریں حقیقت بن کر سامنے آجائیں گی :
فَسَوْفَ یَاْتِیْہِمْ اَنْچبٰؤُا مَا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَہْزِئُ وْنَ یعنی اس چیز کی خبریں جس کو وہ جھٹلاتے تھے۔ اور وہ قرآن مجید ہے۔ یعنی قرآن کی خبریں اور جو حالات اس نے بیان کیے ہیں۔ مطلب یہ ہوا کہ عنقریب وہ جان لیں گے کہ کس چیز کے ساتھ انہوں نے استہزاء کیا ہے یہ اس وقت پتہ چلے گا جب دنیا میں ان پر عذاب اترے گا۔ یا قیامت کے دن نازل ہوگا یا اسلام کے ظہور و غلبے کے وقت (جیسا کہ دشمن ذلیل ہوئے الحمدللہ علی ذالک)
Ayah 6:6گزشتہ اقوام سے عبرت پکڑ و ‘ ان کی ہلاکت تکذیب کی وجہ سے ہوئی :
آیت 6: اَلَمْ یَرَوْا کیا مکذبین نے نہیں دیکھا۔ کَمْ اَہْلَکْنَا مِنْ قَبْلِہِمْ مِّنْ قَرْنٍ کَمْ خبریہ ہے۔ قرن سے مراد ہر زمانے والوں کے ختم ہونے کی مدت اور وہ اسّی سال یا ستّر سال ہے۔ مَّکَّنّٰہُمْ ۔ : یہ قرن کی صفت ہونے کی وجہ سے موضع جر میں ہے اور معنی کے لحاظ سے جمع لائے۔ فِی الْاَرْضِ مَالَمْ نُمَکِّنْ لَّکُمْ تمکین فی البلاد سے مراد قدرت بخشنا۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے اہل مکہ کو وہ کچھ نہیں دیا جو عاد وثمود کو دیا گیا تھا۔ ان کے اجسام بڑے۔ اموال میں وسعت اور اسباب دنیا کی فراوانی۔ وَاَرْسَلْنَا السَّمَآئَ ۔ السمّاء سے بارش مراد ہے۔ عَلَیْہِمْ مِّدْرَارًابہت زیادہ یہ السمّاء سے حال ہے۔ وَّجَعَلْنَا الْاَنْہٰرَ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہِمْ تحت کا مضاف الیہ اشجارہم مطلب یہ ہے کہ وہ پھلوں اور نہروں میں خوشحالی سے جیے اور بارش کی کثرت سے سیراب کیے گئے۔ فَاَہْلَکْنٰہُمْ بِذُنُوْبِہِمْ اور ان میں سے کوئی چیز ان کے کام نہ آسکی۔ وَاَنْشَاْنَا مِنْم بَعْدِہِمْ قَرْنًا ٰاخَرِیْنَ (اور ان کے بعد ہم نے پیدا کردیں دوسری امتیں) ان کے بدلے۔
Ayah 6:7آیت 7: وَلَوْ نَزَّلْنَا عَلَیْکَ کِتٰبًا لکھی ہوئی تحریر۔ فِیْ قِرْطَاسٍکاغذ پر۔ فَلَمَسُوْہُ بِاَیْدِیْہِمْیہ ماقبل کی تاکید ہے تاکہ وہ یہ نہ کہہ سکیں کہ ہماری تو آنکھوں پر جادو کردیا گیا۔ اور بعض اندھے پن کی حجت بازی بنالیں۔ لَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِنْ ہٰذَا اِلاَّ سِحْرٌ مُّبِیْنٌحق کے ساتھ محض ضد اور عناد کی وجہ سے اس کے باوجود کہ حق ظاہر ہوچکا۔
Ayah 6:8عدم مہلت زیادہ شدید ہے :
آیت 8: وَقَالُوْا لَوْلَآٓ کیوں نہ۔ اُنْزِلَ عَلَیْہِنبی اکرم ﷺ پرمَلَکٌ (فرشتہ) جو ہم سے کلام کرے کہ یہ نبی ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وَلَوْ اَنْزَلْنَا مَلَکًا لَّقُضِیَ الْاَمْرُ (تو ان کی حالت کا معاملہ نبٹا دیا جاتا۔ ثُمَّ لَا یُنْظَرُوْنَپھر اسکے اترنے کے بعد پلک جھپک کیلئے انکو مہلت نہ دی جاتی کیونکہ جب وہ فرشتہ اصل شکل میں دیکھ پائیں گے تو ان کی روحیں خوف نظارہ سے نکل جائیں گی۔ یہاں ثم کا معنی یہ ہے کہ اس کے بعد کہ انہوں نے دو باتوں کو واضح کردیا۔ معاملہ کا فیصلہ اور عدم مہلت۔ آیت میں عدم مہلت کو فیصلہ سے زیادہ شدید قراردیا گیا۔ کیونکہ کسی مصیبت کا اچانک ٹوٹ پڑنا اصل مصیبت سے زیادہ سخت ہے۔
Ayah 6:9فرشتہ لباس انسانی میں اسی اشکال کا باعث ہے :
آیت 9: وَلَوْ جَعَلْنٰہُ مَلَکًا اگر ہم رسول کو فرشتہ کی صورت میں بھیجیں جیسا کہ ان کے خیالات میں ہے کیونکہ وہ کبھی کہا کرتے تھے کہ محمد ﷺ پر فرشتہ کیوں نہیں اترا اور کبھی کہتے یہ تو تم جیسا انسان ہے۔ (نبوت اس کو نہیں دی گئی) اگر اللہ چاہتا تو فرشتہ ضرور اتارتا۔ لَّجَعَلْنٰہُ رَجُلاً اس کو ضرور صورت انسانی میں بھیجتے۔ جیسا کہ جبرئیل رسول اللہ ﷺ کے پاس عمومی حالات میں دحیہ کلبی ؓ کی صورت میں آتے۔ کیونکہ وہ فرشتوں کو ان کی اصلی شکل میں دیکھ کر زندہ نہیں رہ سکتے۔ وَّلَلَبَسْنَا عَلَیْہِمْ مَّا یَلْبِسُوْنَان پر ہم خلط ملط کردیتے۔ اور اس کے معاملے کو ان پر مشتبہ کردیتے۔ اس لئے کہ اس کا راستہ بھی تیرے والا راستہ تھا اے محمد ﷺ پس فرشتوں کو صورت انسانی میں دیکھ کر کہتے کہ یہ انسان ہے فرشتہ تو نہیں۔ کہا جاتا ہے لبست الامر علی القوم۔ والبستہ جبکہ وہ ان پر مشتبہ اور مشکل ہوجائے۔ پھر اپنے پیغمبر ﷺ کو قوم کی طرف سے پہنچنے والے استہزاء پر تسلی دی۔
Ayah 6:10تسلیہ برائے رسول اللہ ﷺ :
آیت 10: وَلَقَدِ اسْتُہْزِیَٔ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِکَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْہُمْ مَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَہْزِئُ وْنَ پس ان کو گھیر لیا اس چیز نے جس کا وہ مذاق کرتے تھے۔ حالانکہ وہ برحق ہے اس لیے ان کو اس کے ساتھ استہزاء کے نتیجے میں ہلاک کردیا گیا۔ مِنْہُمْ یہ سخروا کے متعلق ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ فَیَسْخَرُوْنَ مِنْہُمْ 1 (التوبہ : 79) اور ہم کی ضمیر رسل کی طرف جا رہی ہے۔ قراءت : لقد کا دال ابو عمرو ٗ حفص کے نزدیک مکسور ہے۔ کیونکہ دو ساکن جمع ہیں۔ اور دوسرے قراء نے دال کا ضمہ استہزیٔ کی تاؔ کے ضمہ کی اتباع میں پڑھا ہے۔
Ayah 6:11نکتہ : فا اور ثم لانے کا فرق :
آیت 11: قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ ثُمَّ انْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُکَذِّبِیْنَ ۔ (آپ فرما دیجئے کہ چلو زمین میں پھر دیکھو جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا) فانظروا اور ثم انظروا میں فرق یہ ہے کہ فانظروا میں نظر کو سیر کا مسبب قرار دیا گیا۔ گویا اس طرح کہا گیا سیروا لاجل النظر ولا تسیروا سیرا لغافلین کہ تم عبرت کی خاطر سیر کرو۔ اور چلو پھرو۔ اور غافل لوگوں کی طرح مت چلو۔ سیر وا فی الارض ثم انظروا کا معنی یہ ہے۔ کہ زمین میں تجارت وغیرہ کی غرض سے بھی سیر و سفر مباح ہے۔ اور ہلاک شدہ لوگوں کے آثار پر غور و فکر واجب ہے۔ اس بات پر متنبہ کرنے کے لیے ثم لایا گیا۔ کہ مباح اور واجب میں بہت بڑا فاصلہ ہے۔
Ayah 6:12آیت 12 : قُلْ لِّمَنْ مَّافِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۔ : من استفہامیہ ہے اور ماؔ، الذی کے معنی میں ہے۔ ما موضع مبتداء میں مرفوع ہے۔ اور لمن اس کی خبر ہے۔ قُلْ لِّلّٰہِ میں اس بات کو پختہ کیا گیا۔ کہ یہ اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے۔ اس میں میرے اور تمہارے درمیان کوئی اختلاف نہیں۔ ان میں سے کسی چیز کو اللہ تعالیٰ کے سواء کسی اور طرف منسوب نہیں کرسکتے۔
رحمت اپنے ذمہ رحمت سے کرلی :
کَتَبَ عَلٰی نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ کتب کا اصل معنی واجب کرنا ہے۔ مگر اس کو ظاہر پر محمول نہیں کرسکتے کیونکہ اللہ تعالیٰ پر تو بندے کی کوئی چیز لازم نہیں۔ پس مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اس بات کا پختہ عہد کیا ہے اور وہ اس کو ہر صورت پر پورا فرمانے والے ہیں۔ نفس کا ذکر خاص کرنے اور وسائط ختم کرنے کے لیے کیا۔ پھر ان کو غور و فکر میں غفلت کرنے اور اپنے ساتھ ایسے معبودوں کو شریک ٹھہرانے پر ڈرایا۔ جو کسی چیز کو پیدا کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ اپنے اس ارشاد سے لَیَجْمَعَنَّکُمْ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ ۔ وہ ضرور تمہارے شرک پر تمہیں سزا دے گا۔ لَارَیْبَ فِیْہِ اس دن میں کوئی شبہ نہیں۔ یا جمع کرنے میں کوئی شبہ نہیں۔
دو تراکیب :
اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَہُمْ (جن لوگوں نے اپنی جانوں کو نقصان میں ڈالا) یہ منصوب علی الذم ہے تقدیر کلام یہ ہے ارید الذین خسروا انفسہم باختیارہم الکفر۔ کہ میری مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے نفسوں کو کفر اختیار کر کے نقصان میں مبتلاء کیا۔ فَہُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَوہ ایمان نہ لائیں گے۔ قول اخفش۔ الذین یہ بدل ہے لیجمعنّکم کے کُمْ سے۔ تقدیر عبارت یہ ہے لیجمعن ہؤلاء المشرکین الذین خسروا انفسہم۔ وہ ضرور ان مشرکین کو جمع کرے گا۔ جنہوں نے اپنے آپ کو نقصان میں ڈالا۔ اور بہتر قول پہلا ہے کیونکہ سیبویہ نے کہا۔ اس طرح کہنا درست نہیں۔ مررت بی المسکین ولا بک المسکین۔ کہ تم اس میں مسکین کو یا سے بدل بنائو یا کاف سے بدل بنائو۔ کیونکہ وہ دونوں نہایت واضح ہونے کی بناء پر بدل و تفسیر کے محتاج نہیں۔
Ayah 6:13جب وہ مدبر کائنات ہے تو ہر حرکت و سکون کا مالک بھی وہی ہے :
آیت 13 : وَلَہٗ اس کا عطف للہ پر ہے۔ مَاسَکَنَ فِی الَّیْلِ وَالنَّہَارِنمبر 1۔ یہ السکنٰی سے لیا گیا ہے تاکہ ساکن و متحرک دونوں کو شامل رہے۔ یا نمبر 2۔ السکون سے ہے مطلب اس طرح ہے کہ ماسکن و تحرک فیہما جو دن رات میں سکون و حرکت کرتا ہے ضدین میں ایک کا تذکرہ کافی ہے۔ جیسا فرمایا تقیکم الحر۔ النحل آیت 81۔ توالحر ٗ البرد مراد ہیں۔ اسی طرح سکون کو ذکر کیا کیونکہ یہ حرکت سے زیادہ ہے۔ اس میں مشرکین کے خلاف دلیل دی گئی ہے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کو خالق الکل ہونے کا اقرار کرتے تھے۔ اور اس کو دابر الامور بھی مانتے تھے۔ وَہُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُوہ ہر مسموع کو سنتا اور ہر معلوم کو جانتا ہے۔ پس جس چیز پر لیل و نہار مشتمل ہیں۔ ان میں سے کوئی چیز اس پر مخفی نہیں ہے۔
Ayah 6:14نحو و قراءت۔ میرا کارساز وہی ہے اور میں اس کا فرمانبردار :
آیت 14 : قُلْ اَغَیْرَ اللّٰہِ اَتَّخِذُ وَلِیًّا۔ (ـکیا میں اللہ کے سوا کسی (اور) کو مددگار بنا لوں) ولی کا معنی ناصر و معبود ہے۔ یہ اَتَّخِذُ کا مفعول ثانی ہے اور پہلا مفعول اَغَیْرَ ہے۔ یہاں ہمزہ استفہام کو اتخذ کے مفعول پر داخل کیا گیا ہے۔ خود اتخذ پر نہیں۔ کیونکہ انکار غیر اللہ کو کار ساز بنانے کا ہے۔ ولی بنانے کا انکار نہیں۔ اسلئے اسکو شروع میں لانا زیادہ مناسب تھا۔ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ان میں جو پڑھا جائیگا اللہ تعالیٰ کی صفت ہے۔ یعنی وہ انکا ایجاد کرنے والا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ مجھے فاطر کا معنی اچھی طرح واضح نہ تھا۔ یہاں تک کہ دوا عرابی میرے پاس ایک کنویں کا جھگڑا لائے۔ ان میں سے ایک نے کہا انا فطرتھا کہ میں نے اس کی ابتداء کی۔ وَہُوَ یُطْعِمُ وَلَا یُطْعَمُوہ رزق دیتا ہے اس کو رزق دیا نہیں جاتا۔ یعنی تمام منافع کا اختیار اسی ہی کو ہے۔ اور اسکے حکم کے خلاف انتفاع جائز نہیں۔ قُلْ اِنِّیْٓ اُمِرْتُ اَنْ اَکُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَسْلَمَ (آپ فرما دیجئے مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سب سے پہلے وہ شخص ہوجائوں جو فرمانبردار ہوا) کیونکہ نبی اکرم ﷺ امت سے پہلے اسلام لانے والے تھے۔ جیسا دوسری آیت میں ہے : وبذالک امرت وانا اول المسلمین۔ الانعام آیت 163۔ وَلَا تَکُوْنَنَّ مِنْ الْمُشْرِکِیْنَ تم ہرگز مشرکین سے نہ بنو اور مجھے کہا گیا ہے ولاتکونن من المشرکین۔ نون خفیفہ کے ساتھ اور اگر اسکا عطف ماقبل پر لفظاً ہوتا تو کہا جاتا۔ والا اکون۔ مطلب یہ ہے کہ امرت بالاسلام و نہیت عن الشرک مجھے اسلام کا حکم دیا گیا اور شرک سے روکا گیا ہے۔
Ayah 6:15اگر میں بھی نافرمانی کروں تو عذاب کا خطرہ اتم ہے :
آیت 15 : قُلْ اِنِّیْٓ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ یعنی مجھے خطرہ ہے بڑے دن کے عذاب کا اور وہ قیامت ہے اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں۔ : پس شرط فاعل اور مفعول بہٖ کے درمیان آرہی ہے اور جو اب شرط محذوف ہے۔
Ayah 6:16آیت 16 : مَنْ یُّصْرَفْ عَنْہُ یعنی عذاب یَوْمَپذٍ فَقَدْ رَحِمَہٗرحم کیا اللہ تعالیٰ نے بڑا عظیم رحم اور وہ ظاہری نجات ہے۔
قراءت : من یصرف معروف پڑھا حمزہ علی اور ابوبکر نے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس سے عذاب پھیر دیا۔ وَذٰلِکَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُاور یہ بڑی کامیابی ہے۔
Ayah 6:17نفع و ضرر پر اختیار اسی کو ہے :
آیت 17 : وَاِنْ یَّمْسَسْکَ اللّٰہُ بِضُرٍّ ۔ ضر سے مراد مرض یا فقر یا اور اسی قسم کی آزمائش فَـلَا کَاشِفَ لَہٓٗ اِلاَّ ہُوَکوئی اس کے سوا اس کو دور کرنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ وَاِنْ یَّمْسَسْکَ بِخَیْرٍجیسے عنایت اور صحت۔ فَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌتو وہ اس کے دوام اور ازالہ پر قدرت رکھتا ہے۔
Ayah 6:18نحوی ترکیب :
آیت 18 : وَہُوَ الْقَاہِرُ یہ مبتداء اور خبر ہے۔ یعنی غالب و مقتدر ہے۔ فَوْقَ عِبَادِہٖیہ دوسری خبر ہے یعنی ان پر قدرت سے غالب ہے۔ القہر مراد کو پالینا۔ جبکہ دوسرا اس کو پالینے میں رکاوٹ ہو۔ وَہُوَ الْحَکِیْمُ اپنے مقصد کے نفاذ میں۔ الْخَبِیْرُ اپنے بندوں میں سے اہل قہر کو جاننے والا ہے۔
Ayah 6:19قرآن کے وحی ہونے پر اللہ کی شہادت کافی ہے… نحوی تحقیق :
آیت 19 : قُلْ اَیُّ شَیْئٍ اَکْبَرُ شَہَادَۃً ای شیْ ئٍمبتداء اور اَکْبَرُ اس کی خبر ہے۔ شہادۃ تمییز ہے۔ ایّ یہ ایک ایسا کلمہ ہے کہ اس سے مضاف الیہ کا بعض مراد ہوتا ہے۔ جب یہ استفہام کے لیے ہو تو اس کا جواب مضاف الیہ کے نام سے موسوم ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ قُلِ اللّٰہُیہ ای کا جواب ہے یعنی اللہ اکبر شہادۃ کہ اللہ تعالیٰ کی شہادت سب سے بڑی ہے پس لفظ اللہ مبتداء اور خبر محذوف ہے۔
نکتہ : اس میں دلیل ہے کہ شیٔ کے لفظ کا اطلاق اللہ تعالیٰ کی ذات پر کیا جاسکتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ شیٔ موجود کو کہتے ہیں اور شیٔ معدوم پر بولا ہی نہیں جاسکتا۔ اور اللہ تعالیٰ کی ذات موجود ہے پس شیٔ ہوا۔ اس لیے ہم کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ شیٔ لا کالا شیاء اللہ تعالیٰ شیٔ ہے مگر اشیاء کی طرح نہیں۔ پھر جملہ ابتدائیہ لایا گیا۔ شَہِیْدٌم بَیْنِیْ وَبَیْنَکُمْ یعنی ہو شہید بینی وبینکم۔ وہ گواہ ہے میرے اور تمہارے مابین اور یہ بھی درست ہے کہ جواب اس طرح ہو۔ اللّٰہُ شہید بینی و بینکم۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ آپ کے اور ان کے درمیان شہید ہے۔ تو سب سے بڑی شے شہید کی آپ کے حق میں گواہی ہے۔ وَاُوْحِیَ اِلَیَّ ہٰذَا الْقُرْٰانُ لِاُنْذَرِکُمْ بِہٖ وَمَنْم بَلَغ جن کو قرآن قیامت کی ساعت تک پہنچے گا حدیث پاک میں فرمایا گیا کہ جس کو قرآن پہنچ گیا گویا اس نے محمد ﷺ کو دیکھا (یہ موقوف روایت ہے) اور مَنْ محل نصب میں کُمْ پر معطوف ہے۔ اور ضمیر عائد محذوف ہے۔ ومن بلغ اور بلغ کا فاعل ضمیر ہے جو قرآن کی طرف لوٹتی ہے۔ اَپنَّکُمْ لَتَشْہَدُوْنَ اَنَّ مَعَ اللّٰہِ ٰالِہَۃً اُخْرٰی یہ استفہام انکاری ہے اور تبکیت کفار کے لیے لایا گیا ہے۔ قُلْ لَّآ اَشْہَدُ جس کی تم گواہی دیتے ہو۔ اس کو دوبارہ لائے۔ قُلْ تاکید کے ساتھ۔ اِنَّمَا ہُوَ اِلٰــہٌ وَّاحِدٌ مَانے اِنّ کے عمل کو روک دیا۔ ہومبتداء ہے اور الٰہ اس کی خبر ہے۔ اور واحد اس کی صفت ہے۔ یا ما، الذی کے معنی میں محل نصب میں ہے بوجہ انّ کے اور ہو مبتدا ہے اور الٰہ اس کی خبر ہے۔ اور جملہ الذی کا صلہ ہے اور واحد خبر انّ ہے۔ اور یہ وجہ زیادہ بہتر ہے۔ وَّاِنَّنِیْ بَرِیْٓئٌ مِّمَّا تُشْرِکُوْنَ شریک کرتے ہو اس کے ساتھ۔
Ayah 6:20اہل کتاب پر آپ کی صفات مخفی نہیں :
آیت 20 : اَلَّذِیْنَ ٰاتَیْنٰہُمُ الْکِتٰبَ یعنی یہود و نصاریٰ اور کتاب سے تورات و انجیل مراد ہیں۔ یَعْرِفُوْنَہٗ یعنی رسول اللہ ﷺ کو آپ کے چہرے اور مہرے اور دونوں کتابوں میں ثابت شدہ صفات کے ساتھ۔ کَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآئَ ہُمْ ان کے چہروں اور ان کی صفات کے ساتھ۔ یہ اہل مکہ کے سامنے گواہی اور شہادت پیش کی۔ کہ اہل کتاب آپ ﷺ کو جانتے اور آپ کی نبوت کو بھی جانتے ہیں۔ پھر فرمایا۔ اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَہُمْ یعنی مشرکین میں سے اور عنادی اور ضدی اہل کتاب میں سے۔ فَہُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ وہ اس پر ایمان نہ لائیں گے۔
Ayah 6:21یہ ظالم دو باطل باتیں جمع کرنے والے ہیں :
آیت 21 : وَمَنْ اَظْلَمُ یہ استفہام نفی کے معنی کو متضمن ہے۔ یعنی ان سے بڑھ کر اپنے نفس پر ظلم کرنے والا کوئی نہیں۔ الظلم کسی چیز کو اپنے مقام سے ہٹا کر دوسرے مقام پر رکھنا۔ اور سب سے بدترین ظلم یہ ہے کہ مخلوق کو معبود بنادیا جائے۔ مِمَّنِ افْتَرٰیجس نے جھوٹ باندھا۔ عَلَی اللّٰہِ کَذِبًاوہ اس کی ایسی صفت بیان کرتا ہے جو اس کے لائق نہیں۔ اَوْ کَذَّبَ بِاٰیٰتِہٖقرآن اور معجزات کو۔ اِنَّہٗ ۔ ضمیر شان ہے۔ بیشک معاملہ اور شان یہ ہے کہ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ انہوں نے دو باطل باتیں جمع کرلیں پس اللہ تعالیٰ کے متعلق ایسی بات جھوٹ لگائی جس کی کوئی دلیل نہیں اور اس کو جھٹلایا جو پختہ دلیل سے ثابت ہے۔ جبکہ انہوں نے یہ کہہ دیا کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ اور قرآن مجید اور معجزات کو سحر کا نام دیا۔
Ayah 6:22تمام کا حشر :
آیت 22 : وَیَوْمَ نَحْشُرُہُمْ جَمِیْعًا یوم نحشرہم مفعول بہٖ ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے اذکر یوم نحشرہم اور جمعیًا حال ہے مفعول کی ضمیر سے ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا شریک کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ غیر کو۔ یہ تو بیخ کے طور پر کہا جائے گا۔ قراءت : یعقوب نے نحشرہم اور نقول میں یحشرہم اور یقول یاءؔ سے پڑھا ہے۔ اَیْنَ شُرَکَآؤُ کُمُیعنی تمہارے وہ معبود جن کو تم نے اللہ کا شریک قرار دیا۔ الَّذِیْنَ کُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ جن کو تم اپنے خیال میں شریک سمجھتے ہو۔ : دونوں مفعولوں کو حذف کردیا گیا ہے۔
Ayah 6:23کفر کا بےوقت انکار :
آیت 23 : ثُمَّ لَمْ تَکُنْ : قراءت : حمزہ اور علی نے یکن یا سے پڑھا ہے۔ فِتْنَتُہُمْان کا کفرالَّآ اَنْ قَالُوْا وَاللّٰہِ رَبِّنَا مَا کُنَّا مُشْرِکِیْنَیعنی پھر ان کے اس کفر کا انجام جس کو انہوں نے ساری عمر لازم پکڑا اور اس پر لڑائیاں کیں اور بیزاری ہوگی اور اس کو اختیار کرنے کی نفی ہوگی۔ پھر ان کا یہ جواب ہوگا (واللّٰہ ربنا ماکنا مشرکین) پس اس جواب کو فتنہ اس لیے کہا گیا کیونکہ وہ جھوٹ ہے۔ قراءت : الفتنۃ کو مکی نے مرفوع پڑھا ہے اور اسی طرح شامی اور حفص نے بھی۔ جن قراء نے تکن تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور فتنہ کو رفع دیا۔ تو انہوں نے اس کو لم تکن کا اسم قرار دیا۔ اور ان قالوا کو خبر۔ مطلب یہ ہوا کہ ان کی آزمائش ان کی یہ بات ہوگی۔ جن قراء نے تاء سے پڑھا ہے لیکن الفتنۃ کو منصوب پڑھا تو انہوں نے فتنہ کو مقولہ قرار دیا۔ حمزہ اور علی نے ندا کی وجہ سے ربنا کو منصوب پڑھا ہے۔ یا ربَّنا۔ دوسرے قراء نے اللہ تعالیٰ کے اسم کی صفت قرار دیکر مجرور پڑھا ہے۔
Ayah 6:24اپنے مُنہ اپنی تکذیب :
آیت 24 : اُنْظُرْ یعنی محمد ﷺ کَیْفَ کَذَبُوْا عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْیہ بات کہہ کر کہ ہم مشرک نہ تھے۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ مخلوق کو جمع کرے گا اور مشرکین اللہ تعالیٰ کی وسعت رحمت ملاحظہ کریں گے اور مسلمانوں کے لیے رسول اللہ ﷺ کی شفاعت اور اسی طرح مومنین کی دوسرے مومنوں کے متعلق شفاعت دیکھیں گے تو وہ ایک دوسرے کو کہیں گے۔ آئو شرک چھپائیں شاید کہ ہم بھی اہل توحید کے ساتھ نجات پاجائیں۔ پس اس وقت ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نداء دی جائے گی۔ اَیْنَ شُرَکَآؤُکُمُ الَّذِیْنَ کُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ (انعام : 22) تمہارے وہ شریک کہاں ہیں جن کو تم شریک گمان کرتے تھے۔ مشرک اس وقت کہیں گے : وَاللّٰہِ رَبِّنَا مَا کُنَّا مُشْرِکِیْنَ (انعام : 23) کہ اے اللہ ہمیں آپ کی ربوبیت کی قسم ہم تو مشرک ہی نہ تھے۔ پس اس وقت اللہ تعالیٰ ان کے منہ پر مہر لگا دے گا۔ اور ان کے جوارح ان کے خلاف گواہی دیں گے۔ وَضَلَّ عَنْہُمْاور ان سے غائب ہوجائیں گے۔ مَّا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ جن کی الوہیت اور شفاعت کو جھوٹ باندھتے تھے۔
Ayah 6:25آیت 25 : وَمِنْہُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْکَ جبکہ آپ ﷺ قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہیں۔ روایت میں ہے کہ ابو سفیان ٗ ولید ٗ نضر اور ان کے ہم مثل جمع ہوئے۔ اور رسول اللہ ﷺ کی تلاوت کو سننے لگے۔ ان تمام نے نضر کو کہا محمد ﷺ کیا کہتے ہیں۔ تو اس نے کہا کہ اللہ کی قسم مجھے معلوم نہیں۔ کہ محمد کیا کہتے ہیں۔ مگر یہ کہ وہ اپنی زبان کو حرکت دیتے ہیں۔ اور پہلے لوگوں کی کہانیاں بتلاتے ہیں۔ جیسا کہ میں گزشتہ زمانے کی حکایات تمہیں سناتا ہوں۔ ابو سفیان نے کہا کہ میں اس کو سچا خیال کرتا ہوں۔ اس پر ابوجہل نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ہرگز نہیں پس یہ آیت نازل ہوئی۔
قرآن کو اساطیر الاولین کہنے والوں کے دلوں پر پردے ہیں :
وَجَعَلْنَا عَلٰی قُلُوْبِہِمْ اَکِنَّۃً ۔ اکنہ جمع اکنان کی اس کا معنی پردے۔ اعنہ کی نظر عنان اور اعنہ آئی ہوئی ہے۔ اَنْ یَّفْقَہُوْہُاس کراہت سے کہ وہ اس کو سمجھیں۔ وَفِیْٓ ٰاذَانِہِمْ وَقْرًاوقر کا معنی بوجھ جو سننے سے مانع ہو۔ وقر کو مصدر کی وجہ سے واحد لائے۔ اس کا عطف اکنۃ پر ہے۔ اور مسئلہ اصلح للعبد میں یہ ہمارے لیے حجت ہے معتزلہ کے خلاف۔ وَاِنْ یَّرَوْا کُلَّ ٰایَۃٍ لاَّ یُؤْمِنُوْا بِہَا حَتّٰی اِذَا جَآئُ وْکَ یُجَادِلُوْنَکَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا۔ : حَتّٰی جملہ اذا جاءوک کی طرف مضاف ہے۔ اور یجادلونک موضع حال میں ہے۔ اور حتی جارہ بھی ہوسکتا ہے۔ اور اذا جاءوک موضع جر میں ہو اس وقت حتی کے بعد وقت مجیئہم ہوگا اذا جاؤک مصدر کے معنی میں ہوجائے گا۔ اور یجادلونک حال ہے اور یجادلونک اس کی تفسیر ہے مطلب اس طرح ہوگا انہ بلغ تکذیبہم الاٰیات الٰی انہم یجادلونک وینا کروناک ان کی تکذیب آیات اس حد تک پہنچ گئی کہ وہ آپ سے جھگڑا کرتے اور اس کو اوپر اقرار دیتے ہیں۔ اور ان کے مجادلہ کی تفسیر اس طرح فرمائی کہ وہ کہتے ہیں اِنْ ہٰذا نہیں ہے یہ قرآن اِلَّآ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ مگر پہلے لوگوں کی کہانیاں۔ پس وہ اللہ تعالیٰ کے کلام کو جھوٹوں کا پلندا قرار دیتے ہیں۔ اساطیر کا واحد اسطورہ ہے۔
Ayah 6:26دہرے گناہ کے مرتکب :
آیت 26 : وَہُمْ یعنی مشرکین یَنْہَوْنَ عَنْہُوہ لوگوں کو قرآن سے منع کرتے ہیں یارسول اللہ اسے روکتے ہیں۔ آپ کی اتباع اور ایمان سے روکتے ہیں۔ وَیَنْئَوْنَ عَنْہُ اور اپنے نفوس کو دور کرتے ہیں۔ پس خود گمراہ ہوتے ہیں اور کرتے ہیں۔ وَاِنْ یُّہْلِکُوْنَاس کے ساتھ اِلَّآ اَنْفُسَہُمْ وَمَا یَشْعُرُوْنَ یعنی نقصان ان سے دوسروں کی طرف تعدی نہیں کرے گا۔ اگرچہ ان کے اپنے خیال میں ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد ابو طالب ہے۔ کیونکہ وہ قریش کو آپ ﷺ پر تعرض کرنے سے روکتا۔ مگر وہ آپ پر ایمان نہ لاتا۔ بلکہ ایمان سے دور ہٹتا۔ تفسیر اول زیادہ مناسب ہے۔
Ayah 6:27تکذیب پر قیامت میں افسوس :
آیت 27: وَلَوْ تَرٰٓی اس کا جواب محذوف ہے اگر تم دیکھو۔ تو ایک عظیم چیز کا مشاہدہ کرو۔ اِذ وُقِفُوْا عَلَی النَّارِوہ آگ ان کو دکھائی جائے گی۔ یہاں تک کہ جب اس کا معائنہ کرلیں گے یا ان کو پل صراط پر آگ کے اوپر ہی روک لیا جائے گا۔ فَقَالُوْا یٰلَیْتَنَا نُرَدُّدنیا کی طرف۔ وہ دنیا میں واپسی کی تمنا ایمان لانے کے لئے کریں گے اور اگر ان کی تمنا پوری ہوئی پھر وہ یہ کہتے ہوئے ابتداء کریں گے۔ وَلَا نُکَذِّبَ بِاٰیٰتِ رَبِّنَا وَنَکُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اس حال میں کہ وہ ایمان کا وعدہ کرنے والے ہونگے۔ گویا کہ انہوں نے کہا کہ ہم تکذیب نہ کریں گے۔ بلکہ ایمان لائیں گے ولا نکذب ونکون حمزہ اور حفص نے تمنی کا جواب ہونے کی وجہ سے وائو کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور اَنْ کو مضمر مانا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر ہم لوٹائے گئے تو تکذیب نہ کریں گے اور مومن ہوجائیں گے۔ بلکہ شامی نے ونکون میں ان دونوں قراء کی موافقت کی ہے۔
Ayah 6:28آیت 28 : بَلْ جس چیز کی انہوں نے تمنا کی۔ اس کے پورا کرنے سے اضراب و اعراض کے لیے ہے۔ بَدَالَہُمْان کے لیے ظاہر ہوا۔
دُنیا کی رسوائیاں سامنے آگئیں :
مَّا کَانُوْا یُخْفُوْنَ لوگوں سے مِنْ قَبْلُدنیا میں اپنی برائیاں اور وہ رسوائیاں جو ان کے صحائف میں ہیں۔ بعض نے کہا کہ یہ منافقین کے متعلق ہے۔ اور یہ کہ ان کا وہ نفاق کھل جائے گا جو وہ چھپاتے تھے۔ یا اہل کتاب کے متعلق ہے کہ ان کے سامنے ظاہر ہوجائے گی نبوت محمد رسول اللہ ﷺ کی صحت جو دنیا میں چھپایا کرتے تھے۔ وَلَوْ رُدُّوْا آگ پر کھڑا کرنے کے بعد دنیا کی طرف ان کو لوٹا دیا جائے۔ لَعَادُوْا لِمَا نُہُوْاعَنْہُیعنی کفر وَاِنَّہُمْ لَـکٰذِبُوْنَجو وہ اپنے نفوس کے متعلق وعدہ کرتے ہیں۔ وہ پورا نہیں کریں گے۔
Ayah 6:29آیت 29 : وَقَالُوا اس کا عطف لعادوا پر ہے یعنی اگر ان کو دنیا کی طرف لوٹا دیا جائے تو ضرور کفر اختیار کریں گے اور کہیں گے۔ اِنْ ہِیَ اِلاَّ حَیَاتُنَا الدُّنْیَاجیسا کہ وہ قیامت کا معائنہ کرنے سے پہلے کیا کرتے تھے۔ (یا اس کا عطف وانہم لکاذبون پر ہے یعنی یہ ہر چیز میں وہ جھوٹ بولنے والے لوگ ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو یہ کہا کرتے ہیں کہ ان ہی الاحیاتنا الدنیا کہ صرف ہماری یہی دنیا کی زندگی ہے۔ اور ہی یہ حیاۃ سے کنایہ ہے یا یہ ضمیر قصہ ہے : وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ ۔
Ayah 6:30بعثت کے منکر اقراری بن جائیں گے :
آیت 30 : وَلَوْ تَرٰٓی اِذْ وُقِفُوْْا عَلٰی رَبِّہِمْ یہ سوال اور تو بیخ کے لیے روکنے سے مجاز ہے جیسا کہ مجرم غلام کو آقا کے سامنے سزا کے لیے لایا جائے یا ان کو اپنے رب کی جزاء کے پاس کھڑا کیا جائے گا۔ قَالَیہ سوال مقدر کا جواب ہے گویا اس طرح فرمایا ان کا رب انہیں کیا کہے گا جبکہ ان کو اس کی بارگاہ میں کھڑا کیا جائے گا۔ تو کہا گیا اللہ تعالیٰ فرمائیں گے۔ اَلَیْسَ ہٰذَا کیا یہ بعث نہیں ہے۔ بِالْحَقِّجو واقع میں موجود ہے اور یہ بعث کے جھٹلانے پر ان کو عار دلائی جارہی ہے۔ اور کفار کے اس قول پر عار دلائی جا رہی ہے کہ جب وہ بعث کے متعلق سن پاتے تو یہ کہتے کہ یہ حق نہیں۔ قَالُوْا بَلٰی وَ رَبِّنَاوہ اقرار کریں گے اور اپنے اقرار کو قسم سے پختہ کریں گے۔ قَالَاللہ تعالیٰ فرمائیں گے۔ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا کُنْتُمْ تَکْفُرُوْنَ تمہارے کفر کے سبب۔
Ayah 6:31منکرین قیامت کو اپنے گناہ کا بوجھ اٹھانا ہوگا :
آیت 31 : قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِلِقَآئِ اللّٰہِ آخرت اور اس کے متعلقات پہنچ جانے کے سبب یا اس کا ظاہری مطلب لیا جائے گا۔ کیونکہ منکرین بعث رؤیت باری کے منکر ہیں۔ حَتّٰییہ کذَّبوا کی غایت ہے خَسِرَ کی غایت نہیں کیونکہ ان کے نقصان کی کوئی انتہاء نہیں ہے۔ اِذَا جَآئَ تْہُمُ السَّاعَۃُ ۔ السَّاعۃ سے مراد قیامت ہے کیونکہ اس کے متاخر ہونے کی مدت بعد والے زمانہ سمیت ایک گھڑی کی طرح ہے۔ بَغْتَۃً اچانک یہ حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ یعنی باغتۃً ۔ یا مصدر ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ گویا تقدیر عبارت اس طرح تھی۔ بغتتہم الساعۃ بغتۃ کسی چیز کا کسی شخص پر بغیر اس کے کہ اس کا وقت معلوم ہو آجانا۔ قَالُوْا یٰحَسْرَتَنَا افسوس کی نداء ہے۔ اس کا معنی اے افسوس تو آموجود ہو۔ یہ تیرا وقت ہے۔ عَلٰی مَا فَرَّطْنَاجو ہم نے کوتاہی کی فِیْہَادنیا کی زندگی میں۔ یا قیامت کے متعلق اعتقاد میں۔ یعنی ہم نے اس کی شان کو گھٹایا۔ اور اس پر ایمان لانے میں کوتاہی کی۔ وَہُمْ یَحْمِلُوْنَ اَوْ زَارَہُمْ ۔ اوزارکا معنی گناہ ہے۔ عَلٰی ظُہُوْرِہِمْ پشت کو خاص طور پر ذکر کیا۔ پشت ہی بوجھ کے لیے عموماً مقرر ہے۔ جیسا کہ کمائی عام طور پر ہاتھوں سے کی جاتی ہے اور درحقیقت یہ مجاز ہے اس بات سے کہ وہ ان سے کبھی جدانہ ہوگی۔ اور ایک قول یہ بھی ہے کہ کافر جب قبر سے نکلے گا تو اس کو ایک انتہائی بدترین شکل سامنے آئے گی۔ جس سے تعفن وبدبو اٹھ رہی ہوگی۔ اور وہ صورت پکار رہی ہوگی کہ میں تیرا برا عمل ہوں۔ تو دنیا میں طویل عرصہ مجھ پر سوار رہا آج میں تجھ پر سوار ہونگا۔ (اعاذنا اللہ منھا) اَلاَ سَآئَ مَا یَزِرُوْنَبہت بری چیز وہ اٹھانے والے ہیں۔ اَلَا کا لفظ مابعد کی تعظیم و بڑائی کو ظاہر کرتا ہے۔
Ayah 6:32متقین کے اعمال کے علاوہ بقیہ دنیا ‘ سب کھیل تماشہ ہیں :
آیت 32 : وَمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَآ اِلاَّ لَعِبٌ وَّلَہْوٌ یہ کفار کے اس قول کا جواب ہے۔ ان ہِیَ الا حیٰوتنا الدنیا۔ الانعام آیت 29۔ اللعب نفع مند چیز کو چھوڑ کر بےفائدہ کے پیچھے پڑنا۔ وقار سے مذاق کی طرف جھکائو اختیار کرنا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ دنیا کے تمام اعمال لہو و لعب ہی ہیں۔ کیونکہ ان کے نتیجے میں کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔ جیسا کہ اعمال آخرت کا آخرت میں عظیم بدلہ ملے گا۔ وَلَلدَّارُ الْاٰخِرَۃُ ۔ الدار موصوف آخرت صفت اور خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ 1 یہ خبر ہے۔ قراءت : شامی نے اضافت کے ساتھ پڑھا ہے۔ تقدیر کلام والدار الساعۃ الاٰخرۃ کیونکہ شیٔ اپنے آپ کی طرف مضاف نہیں ہوتی۔ دونوں قراءتوں کے مطابق خبر خیرٌ ہی ہے۔
مسئلہ : اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ متقین کے اعمال کے علاوہ جو کچھ ہے وہ لہو و لعب ہے۔ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ ۔
قراءت : مدنی اور حفص نے تاءؔ سے پڑھا ہے۔
Ayah 6:33اس آیت سے تسلی دی گئی کہ وہ رسول کے نہیں بلکہ مرسل کے مکذب ہیں :
آیت 33 : جب ابوجہل نے کہا کہ اے محمد ﷺ ہم آپ کی تکذیب نہیں کرتے تم ہمارے نزدیک سچے ہو۔ ہم تو اس کی تکذیب کرتے ہیں جو تو تمہارے پاس لے آیا ہے۔ قَدْ نَعْلَمُْ اِنَّہٗ ہٗ ۔ ضمیر شان ہے۔ لَیَحْزُنُکَ الَّذِیْ یَقُوْلُوْنَ فَاِنَّہُمْ لَا یُکَذِّبُوْنَکَوہ تیری نسبت کذب کی طرف نہیں کرتے۔ قراءت : نافع و علی نے تخفیف سے پڑھا ہے اس وقت یہ اَکْذَبَہٗ سے ہے جبکہ اس کو جھوٹا پایا جائے۔ وَلٰکِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ یَجْحَدُوْنَ ضمیر کی جگہ اسم ظاہر لایا گیا اس میں واضح دلیل ہے کہ انہوں نے انکار میں زیادتی کی۔ باؔ، یہ یجحدون کے متعلق ہے یا پھر الظالمین کے متعلق ہے۔ جیسا کہ اس آیت میں فظلموا بہا۔ الاعراف آیت 103۔ مطلب یہ ہے کہ آپ کی تکذیب یہ ایک ایسا معاملہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنے والا ہے۔ کیونکہ آپ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں۔ جن کی معجزات کے ذریعے تصدیق کی گئی۔ حقیقت میں وہ آپ کو نہیں جھٹلا رہے بلکہ اللہ تعالیٰ کو جھٹلا رہے ہیں۔ کیونکہ رسول کی تکذیب خود مرسل کی تکذیب ہے۔
Ayah 6:34تسلی کا دوسرا انداز :
آیت 34 : وَلَقَدْ کُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِکَ اس میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی۔ اس میں دلیل ہے کہ فانہم لا یکذبونک میں آپ کی تکذیب کی نفی نہیں۔ بلکہ یہ بات اس طرح ہے۔ جیسے تمہارے غلام کی لوگ توہین کریں تو تم کہو کہ وہ تو تیری نہیں کرتے بلکہ وہ میری توہین کرتے ہیں۔ فَصَبَرُوْا صبر۔ کسی ناپسند طبع پر نفس کو روکنا۔ عَلٰی مَا کُذِّبُوْا وَاُوْذُوْا اپنی تکذیب پر اور ایذاء پر۔ حَتّٰی اَتٰہُمْ نَصْرُنَا وَلَا مُبَدِّلَ لِکَلِمٰتِ اللّٰہِیعنی اس کے وعدوں کو۔ جیسا کہ دوسری آیت : وَلَقَدْ سَبَقَتْ کَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِیْنَ اِنَّہُمْ لَہُمُ الْمَنْصُوْرُوْنَ (الصافات : 171‘ 172) انا لننصر رسلنا۔ غافر آیت 51۔ تو کلمات سے مراد وعدے ہیں۔ وَلَقَدْ جَآئَ کَ مِنْ نَّبَاِی الْمُرْسَلِیْنَ نبأ سے مراد یعنی خبریں۔ اور بعض واقعات اور جو مشرکین کی طرف سے انہوں نے تکالیف برداشت کیں۔ : اخفش (رح) نے کہا۔ کہ من زائدہ ہے فاعل نَـبَأ المرسلین ہے جبکہ سیبویہ واجب میں اس کو زائدہ ماننے کے لیے تیار نہیں۔
Ayah 6:35آیت 35: : نبی اکرم ﷺ پر اپنی قوم کا انکار و اعراض گراں گزرا اور آپکی چاہت تھی کہ ایسی علامات ظاہر کردی جائیں جس سے وہ اسلام لے آئیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔
آپ کو ان کے ایمان کی اس قدر حرص ہے کہ اگر آپ ان کو ہر نشانی دکھا سکتے تو دکھا دیتے :
وَاِنْ کَانَ کَبُرَ عَلَیْکَ اِعْرَاضُہُمْ کَبُرَ کا معنی گراں اور شاق گزرنا ہے اعراض سے۔ ان کا اسلام سے اعراض کرنا مراد ہے۔ فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ تَبْتَغِیَ نَفَقًا نفق ایسا راستہ جس سے زمین کے اندر جایا جاسکے۔ تاکہ آپ زمین سے ایسی نشانی لے کر ان کے پاس ظاہر ہوں جس سے وہ ایمان لے آئیں۔ : فی الارض یہ نفقًا کی صفت ہے۔ اَوْ سُلَّمًا فِی السَّمَآئِ فَتَاْتِیَہُمْ آسمان سے بِاٰیَۃٍ تو کوئی نشانی تو کر ڈالئے۔ : یہ فان استطعت کا جواب ہے اور یہ دونوں شرط و جواب مل کر اِنَ کَانَ کا جواب ہے معنی یہ ہے کہ آپ اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ اصل مقصد اس سے مکہ والوں کے اسلام لانے کی شدت حرص ہے کہ اگر آپ یہ طاقت رکھتے کہ تحت الثرٰی سے کوئی نشانی لاسکیں یا سمک السماء سے کوئی علامت اتار لائیں جس سے وہ ایمان لائیں تو آپ ضرور اتار لاتے۔ وَلَوْ شَآئَ اللّٰہُ لَجَمَعَہُمْ عَلَی الْہُدٰی یعنی ان کو ایسا بنا دیتے کہ وہ اپنے لیے ہدایت کا چنائو کرتے۔ مگر جبکہ علم الٰہی میں ان کا انتخاب کفر معلوم ہے اور اللہ تعالیٰ کی مشیت میں ان کا ہدایت پر جمع ہونا نہیں ہے شیخ ابو منصور (رح) نے اسی طرح فرمایا۔ فَلَا تَکُوْنَنَّ مِنَ الْجٰہِلِیْنَان لوگوں میں سے جو ان سے ناواقف ہیں۔
Ayah 6:36ان سے حرص ہدایت بےفائدہ ہے :
آیت 36 : پھر اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ اطلاع دی کہ ان کی ہدایت کی حرص فائدہ مند نہیں۔ کیونکہ وہ مردوں کی طرح آپ کی بات کو سنتے ہی نہیں۔ اِنَّمَا یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ یَسْمَعُوْنَآپ کی بات کو بلاشبہ وہ قبول کریں گے جو بات کو دلوں سے سنتے ہیں۔ وَالْمَوْتٰی یعنی کفار۔ یَبْعَثُہُمُ اللّٰہُ ثُمَّ اِلَیْہِ یُرْجَعُوْنَپس اس وقت یہ سنیں گے۔ البتہ اس سے پہلے نہیں۔
Ayah 6:37مُنہ مانگی نشانی کا مطالبہ :
آیت 37 : وَقَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْہِ کیوں نہ اتارا گیا اس پر ٰایَۃٌ مِّنْ رَّبِّہٖجیسا کہ وہ لوگ جو مطالبہ کرتے کہ صفا پہاڑ کو سونا بنادیں اور مکہ کی سرزمین سے پہاڑ ہٹا کر وسیع میدان بنادیں۔ اور چشمے جاری کردیئے جائیں۔ قُلْ اِنَّ اللّٰہَ قَادِرٌ عَلٰٓی اَنْ یُّنَزِّلَ ٰایَۃًجیسا کہ انہوں نے مطالبہ کیا۔ وَّلٰکِنَّ اَکْثَرَہُمْ لَا یَعْمَلُوْنَ لیکن اکثریت ان کی نہیں جانتی کہ اللہ تعالیٰ اس نشانی کو اتارنے کی قدرت رکھتے ہیں۔ یا وہ نہیں جانتے کہ نشانی اتارنے میں کیا آزمائشیں ہیں۔ اگر اس کو اتار دیا جائے۔
Ayah 6:38عظمت قدرت کے کھلے دلائل :
آیت 38 : وَمَا مِنْ دَآبَّۃٍ دابہ ہر رینگنے والے جانور کو کہتے ہیں۔ یہ مذکر و مؤنث دونوں پر بولا جاتا ہے۔ فِی الْاَرْضِ ۔ : یہ موضع جر میں دابہ کی صفت ہے۔ وَلَا طٰٓپرٍ یَّطِیْرُ بِجَنَاحَیْہِپرندے کے ساتھ جناحین کی قید اس لیے بڑھائی گئی تاکہ مجاز کا احتمال نہ رہے۔ کیونکہ کبھی پرندے کے علاوہ پر بھی کہتے ہیں کہ طار فلان جبکہ وہ تیز چلے۔ الَّآ اُمَمٌ اَمْثَالُکُمْ زمین میں مخلوق ہونے وقوع مدت اور بعث میں اور کسی مدبر کی تدبیر کی طرف محتاج ہونے میں جو ان کے مقامات رشد کی طرف ان کی راہنمائی کرے۔ مَافَرَّطْنَا (ہم نے نہیں چھوڑا) ۔ فِی الْکِتٰبِ لوح محفوظ میں۔ مِنْ شَیْئٍاس میں سے جس کو ہم نے نہ لکھا ہو۔ اور اس میں وہ ثبت نہ کیا ہو جس کا ثبت کرنا ضروری تھا۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ الکتاب سے مراد قرآن مجید ہے من شیٔ سے مراد وہ شیٔ احکامات میں سے جن کی طرف ان کی احتیاج ہوسکتی ہے۔ پس یہ کتاب ان تمام چیزوں پر مشتمل ہے۔ جن سے ہماری عبادت کی جاسکتی ہے۔ عبارت النص ٗ اشارۃ النص دلالت النص۔ اقتضاء النص پر۔ ثُمَّ اِلٰی رَبِّہِمْ یُحْشَرُوْنَیعنی تمام جماعتیں جو جانور ہوں یا پرندے ان تمام کا ایک دوسرے سے انصاف کیا جائے گا۔ جیسا کہ روایت میں ہے کہ بےسینگ کا سینگ والے جانور سے بدلہ لیا جائے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ تم مٹی ہوجائو۔ اِلَّآ اُمَمٌ فرمایا گیا ہے حالانکہ دابہ اور طائر مفرد ہے جمع کے معنی کا لحاظ کر کے لائے۔ کیونکہ ان دونوں میں استغراق کا معنی پایا جاتا ہے۔
Ayah 6:39قدرت تو ظاہر مگر یہ غافل و بےبہرے ہیں :
آیت 39 : جب اللہ تعالیٰ کی مخلوقات اور آثار قدرت کا ذکر کیا جو کہ ربوبیت حق تعالیٰ پر دلالت کرتے ہیں اور اس کی عظمت کا کھلا ثبوت ہے۔ تو فرمایا۔ وَالَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا صُمٌّوہ تنبیہ کرنے والے کے کلام کو سنتے ہی نہیں۔ وَّبُکْمٌوہ حق بات کہتے نہیں۔ فِی الظُّلُمٰتِ اور جہالت و حیرت کے اندھیروں میں ہاتھ پائوں مار رہے ہیں اور سوچ و بچار سے غافل ہیں۔ : والذین کذبوا۔ یہ مبتداء ہے اور صمٌ و بکمٌ اس کی خبر ہے۔ وائو کا داخل ہونا اس کیلئے رکاوٹ نہیں۔ اور فِی الظُّلُمٰتِ ، یہ خبرثانی ہے پھر ان کو مطلع کیا کہ اللہ تعالیٰ جو چاہتے ہیں کر گزرتے ہیں۔ مَنْ یَّشَاِ اللّٰہُ یُضْلِلْہُ یعنی اس کی مشیت میں جس کی ضلالت ہوتی ہے اس کو گمراہ کرتے ہیں۔ وَمَنْ یَّشَاْ یَجْعَلْہُ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ۔ اس میں دلالت ہے کہ اللہ تعالیٰ افعال کے خالق ہیں۔ اور ارادہ معاصی اور نفی اصلح کے متعلق بھی دلالت موجود ہے۔
Ayah 6:40کیا مصیبت کے وقت غیر اللہ کو پکارو گے :
آیت 40 : قُلْ اَرَئَ یْتَکُمْ قراءت : مدنی نے ہمزہ کو لین کے ساتھ پڑھا ہے۔ جبکہ علی نے ترک ہمزہ سے پڑھا مطلب یہ ہے کہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ معاملہ اسی طرح ہے جیسا تمہیں کہا جاتا ہے۔ پس جو بات تمہاری طرف سے ہو وہ بتلائو۔ ضمیر ثانی کا کوئی محل اعراب نہیں۔ اور تا ضمیر فاعلی ہے۔ اور استخبار کا متعلق محذوف ہے أرأیتکم۔ اِنْ اَتٰکُمْ عَذَابُ اللّٰہِ اَوْ اَتَتْکُمُ السَّاعَۃُ تو کس کو پکارو گے ؟ پھر یہ کہہ کر لاجواب کردیا۔ اَغَیْرَ اللّٰہِ تَدْعُوْنَیعنی تم اپنے معبودوں کو فقط پکارو گے۔ جیسا کہ تمہاری عادت ثانیہ ہے۔ جب تمہیں کوئی تکلیف پیش آتی ہے یا پھر ان کو چھوڑ کر ایک اللہ تعالیٰ ہی کو پکارو گے۔ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ اس بات میں کہ اصنام معبود ہیں۔ پس ان کو پکارو تاکہ وہ تمہیں چھٹکارا دلائیں۔