6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsمدارک التنزیل

Ayah 6:158

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ یَاْتِیَ رَبُّكَ اَوْ یَاْتِیَ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّكَ١ؕ یَوْمَ یَاْتِیْ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّكَ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُهَا لَمْ تَكُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْ كَسَبَتْ فِیْۤ اِیْمَانِهَا خَیْرًا١ؕ قُلِ انْتَظِرُوْۤا اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ Open ayah 6:158 in the Quran reader

یہ اس کے سوا اور کس بات کے منتظر ہیں کہ انکے پاس فرشتے آئیں۔ یا خود تمہارا پروردگار آئے یا تمہارے پروردگار کی کچھ نشانیاں آئیں ؟ (مگر) جس روز تمہارے پروردگار کی کچھ نشانیاں آجائیں گی تو جو شخص پہلے ایمان نہیں لایا ہوگا اس وقت اسے ایمان لانا کچھ فائدہ نہیں دے گا۔ یا اپنے ایمان (کی حالت) میں نیک عمل نہیں کئے ہوں گے (تو گناہوں سے توبہ کرنا مفید نہ ہوگا) ۔ (اے پیغمبر ان سے) کہہ دو کہ تم بھی انتظار کرو ہم بھی کرتے ہیں۔

واضح دلائل کے بعد یہ نہیں مانتے گویا قیامت کے منتظر ہیں : آیت 158: ہَلْ یَنْظُرُوْنَ یعنی ہم نے رسالت کے ثبوت اور وحدانیت کے دلائل قائم کردیئے اور اس گمراہی کو جو ان کے اعتقادات میں گھسی ہوئی تھی باطل کردیا۔ اب وہ گمراہی کے چھوڑنے میں کس چیز کے منتظر ہیں۔ اِلَّآ اَنْ تَاْتِیَہُمُ الْمَلٰٓپکَۃُ یعنی موت کے فرشتے ان کی ارواح کو قبض کرنے کے لئے۔ قراءت : حمزہ اور کوفی نے یاتیہم پڑھا ہے۔ اَوْ یَاْتِیَ رَبُّکَ یعنی تیرے رب کا حکم اور وہ عذاب یا قیامت ہے اور اس لیے کہ اتیان متشابہ ہے اور اتیان امر تو منصوص علیہ ہے۔ محکم ہے اسی لیے اس کے معنی کو اس کی طرف لوٹایا جائے گا۔ اَوْ یَاْتِیَ بَعْضُ ٰایٰتِ رَبِّکَ یعنی قیامت کی علامات مثلاً مغرب سے طلوع شمس وغیرہ۔ یَوْمَ یَاْتِیْ بَعْضُ ٰایٰتِ رَبِّکَ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُہَا اس لیے کہ یہ ایمان اختیاری نہیں۔ بلکہ یہ ایمان تو عذاب اور پکڑ کو اپنے سے دور کرنے کی خاطر ہے۔ لَمْ تَکُنْ ٰامَنَتْ مِنْ قَبْلُ یہ نفسًا کی صفت ہے۔ اَوْ کَسَبَتْ فِیْٓ اِیْمَانِہَا خَیْرًا خیر کا معنی اخلاص ہے جیسا کہ طلوع شمس من المغرب کے بعد کافر کا ایمان قابل قبول نہیں ہوگا۔ اسی طرح منافق کا اخلاص بھی قابل قبول نہیں ہوگا۔ یا اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی اور تقدیر عبارت یہ ہے۔ لا ینفع ایمان من لم یؤمن ولا توبۃ من لم یتب قبل جو ایمان نہیں لایا اس کا ایمان لانا فائدہ نہ دے گا اور نہ توبہ قبول ہوگی جس نے توبہ نہیں کی۔ قُلِ انْتَظِرُوْا تین آیات میں سے ایک کا انتظار کرو۔ اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ کہ ایک ان میں سے کب واقع ہوگی۔
Ayah 6:159

اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِیَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِیْ شَیْءٍ١ؕ اِنَّمَاۤ اَمْرُهُمْ اِلَى اللّٰهِ ثُمَّ یُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 6:159 in the Quran reader

جن لوگوں نے اپنے دین میں (بہت سے) راستے نکالے اور کئی کئی فرقے ہوگئے ان سے تم کو کچھ کام نہیں۔ ان کا کام خدا کے حوالے پھر جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں وہ ان کو (سب) بتائے گا۔

فرقہ بندی میں صحیح راہ : آیت 159: اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَہُمْ دین میں اختلاف ڈالا اور فرقے بن گئے جیسے یہود و نصاریٰ مختلف ہوئے۔ حدیث میں ہے کہ یہود اکہتر فرقوں میں بٹ گئے۔ تمام جہنمی ہیں سوائے ایک کے جو نجات پانے والا ہے۔ اور نصاریٰ بہتر فرقوں میں تقسیم ہوئے ایک کے سواء تمام جہنمی ہیں۔ میری امت تہتر فرقوں میں تقسیم ہوگی۔ تمام جہنم میں جائیں گے سوائے ایک کے اور وہ سواد اعظم ہے ایک روایت میں ہے کہ وہ وہ ہے جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں۔ (ابن ماجہ ٗ ابودائود ٗ ابن حبان۔ احمد) کہا جاتا ہے۔ انہوں نے تفرقہ ڈالا اپنے دین میں بعض باتوں پر ایمان لائے اور بعض کا انکار کیا۔ قراءت : حمزہ ٗ علی نے فارقوا پڑھا۔ یعنی انہوں نے اپنے دین کو چھوڑا۔ وَکَانُوْا شِیَعًا شیعًا۔ گروہ، ہر گروہ نے اپنا ایک مقتدیٰ بنا لیا۔ لَّسْتَ مِنْہُمْ فِیْ شَیْئٍ یعنی ان کے متعلق سوال کے آپ ذمہ دار نہیں اور نہ ان کے تفرقہ کے متعلق یا ان کے عذاب کے متعلق اِنَّمَآ اَمْرُہُمْ اِلَی اللّٰہِ ثُمَّ یُنَبِّئُہُمْ بِمَا کَانُوْا یَفْعَلُوْنَ پس وہ ان کو اس پر سزا دے گا۔
Ayah 6:160

مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ عَشْرُ اَمْثَالِهَا١ۚ وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَلَا یُجْزٰۤى اِلَّا مِثْلَهَا وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 6:160 in the Quran reader

جو کوئی (خدا کے حضور) نیکی لے کر آئے گا اس کو ویسی دس نیکیاں ملیں گی اور جو برائی لائے گا اسے سزا ویسی ہی ملے گی۔ اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔

نیکی کا بدلہ کم از کم دس گنا : آیت 160: مَنْ جَآئَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ عَشْرُ اَمْثَالِہَا اس کی تقدیر عبارت یہ ہے عشر حسنات امثالہا۔ کہ دس نیکیاں اس کے مثل دس جنس ممیزہ کی صفت کو موصوف کے قائم مقام قرار دیا جائے۔ وَمَنْ جَآئَ بِالسَّیِّئَۃِ فَـلَا یُجْزٰٓی اِلاَّ مِثْلَہَا وَہُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ ثواب کی کمی اور سزا کے اضافہ کے ساتھ۔
Ayah 6:161

قُلْ اِنَّنِیْ هَدٰىنِیْ رَبِّیْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ١ۚ۬ دِیْنًا قِیَمًا مِّلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًا١ۚ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:161 in the Quran reader

کہہ دو کہ میرے پروردگار نے سیدھا راستہ دکھا دیا ہے۔ (یعنی) دین صحیح مذہب ابراہیم کا جو ایک (خدا) ہی کی طرف کے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے۔

میں ملّت ابراہیم ( علیہ السلام) پر ہوں ‘ آئو مان لو : آیت 161: قُلْ اِنَّنِیْ ہَدٰنِیْ رَبِّیْٓ ۔ قراءت : ابوعمرو اور مدنی نے رَبِّی پڑھا اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ دِیْنًا دیناً منصوب ہے الی صراط مستقیم کے محل کا بدل ہونے کی وجہ سے۔ کیونکہ اس کا معنی یہ ہے ہدانی صراطاً اس کی دلیل یہ ارشاد الٰہی ہے : وَیَہْدِیَکَ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا (الفتح : 2) قِیَمًا قَـیِّمہ فیعل کے وزن پر قام سے ہے یہ قائم سے زیادہ بلیغ ہے۔ قراءت : قیّمًا کوفی شامی نے پڑھا یہ مصدر ہے اور اس کا معنی قیام ہے۔ اس کو بطور صفت کے لایا گیا۔ مِلَّۃَ اِبْرٰہِیْمَ یہ عطف بیان ہے۔ حَنِیْفًا یہ ابراہیم سے حال ہے۔ وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اے گروہ قریش۔
Ayah 6:162

قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُكِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 6:162 in the Quran reader

(یہ بھی) کہہ دو کہ میری نماز اور میری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا سب خدائے رب العالمین ہی کے لئے ہے۔

خلاصہ ملت : عبادت باری اور شرک سے بیزاری : آیت 162: قُلْ اِنَّ صَلَا تِیْ وَنُسُکِیْ یعنی میری عبادت۔ الناسک عبادت گذار۔ یا میرا ذبیحہ یا میرا حج وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ اور وہ اعمال جو میں نے زندگی میں کئے اور اس پر میں مروں گا یعنی ایمان اور اعمال صالحہ وغیرہ۔ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ اسکی ذات کیلئے خالص ہیں۔ ( قراءت) محیای ومماتی میں پہلے یا کا سکون اور دوسرے کا فتحہ مدنی نے پڑھا دوسروں نے اسکا عکس پڑھا ہے۔
Ayah 6:163

لَا شَرِیْكَ لَهٗ١ۚ وَ بِذٰلِكَ اُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 6:163 in the Quran reader

جس کا کوئی شریک نہیں اور مجھ کو اسی بات کا حکم ملا ہے۔ اور میں سب سے اوّل فرماں بردار ہوں۔

آیت 163: لَاشَرِیْکَ لَہٗ ان میں سے کسی چیز میں وَبِذٰلِکَ اخلاص اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ کیونکہ ہر پیغمبر کا اسلام اپنے دین پر امت کے اسلام سے مقدم ہوتا ہے۔
Ayah 6:164

قُلْ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْغِیْ رَبًّا وَّ هُوَ رَبُّ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ وَ لَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ اِلَّا عَلَیْهَا١ۚ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ۚ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 6:164 in the Quran reader

کہو کیا میں خدا کے سوا اور پروردگار تلاش کروں ؟ اور وہی تو ہر چیز کا مالک اور جو کوئی (بُرا) کام کرتا ہے تو اس کا ضرر اسی کو ہوتا ہے۔ اور کوئی شخص کسی (کے گناہ) کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ پھر تم سب کو اپنے پروردگار کیطرف لوٹ کر جانا ہے۔ تو جن جن باتوں میں تم اختلاف کیا کرتے تھے وہ تم کو بتائے گا۔

میں تو حقیقی ربّ کو ماننے والا ہوں : آیت 164: قُلْ اَغَیْرَ اللّٰہِ اَبْغِیْ رَبًّا یہ جواب ہے اس دعوت کا جو وہ اپنے معبودان باطلہ کی طرف دیتے تھے۔ ہمزہ استفہام انکاری کا ہے یعنی میرا اس کے علاوہ کسی اور رب کو تلاش کرنا اوپری بات ہے۔ مفعول کو اس لیے مقدم کیا گیا کیونکہ یہ اہم بات ہے۔ وَہُوَ رَبُّ کُلِّ شَیْئٍ اور اس کے علاوہ تمام مربوب ہیں اور کوئی ایسا موجود نہیں اس کے علاوہ جس کو ربوبیت کا اختیار ہو۔ وَلَا تَکْسِبُ کُلُّ نَفْسٍ اِلاَّ عَلَیْہَا یہ ان کے اس قول کا جواب ہے جس کا تذکرہ دوسری آیت میں فرمایا : اتَّبِعُوْا سَبِیْلَنَا وَلْنَحْمِلْ خَطٰیٰکُمْ 1 (العنکبوت : 12) وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی یعنی کوئی شخص کسی کے گناہ کے بدلے نہ پکڑا جائے گا۔ جو گناہ کسی اور نفس نے کیا ہو۔ ثُمَّ اِلٰی رَبِّکُمْ مَّرْجِعُکُمْ فَیُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ فِیْہِ تَخْتَلِفُوْنَ ان ادیان میں سے جن میں تم نے اختلاف ڈالا ہے۔
Ayah 6:165

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَكُمْ خَلٰٓئِفَ الْاَرْضِ وَ رَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَبْلُوَكُمْ فِیْ مَاۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ سَرِیْعُ الْعِقَابِ١ۖ٘ وَ اِنَّهٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 6:165 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے زمین میں تم کو اپنا نائب بنایا اور ایک دوسرے پر درجے بلند کئے۔ تاکہ جو کچھ اس نے تمہیں بخشا ہے اس میں تمہاری آزمائش کرے۔ بیشک تمہارا پروردگار جلد عذاب دینے والا ہے اور بیشک وہ بخشے والا مہربان (بھی) ہے۔

زمین میں آمد و درجہ بندی آزمائش ہے ‘ آنے والے حساب کو آیا ہوا سمجھو : آیت 165: وَہُوَ الَّذِیْ جَعَلَکُمْ خَلٰپفَ الْاَرْضِ کیونکہ محمد ﷺ خاتم النبیین ہیں اور ان کی امت آخری امت بنائی گئی کیونکہ وہ ایک دوسرے کے بعد آئیں گے یا وہ اس زمین پر اللہ تعالیٰ کے خلیفہ ہونگے۔ اور اس کے مالک بنیں گے اور اس میں تصرف کریں گے۔ وَرَفَعَ بَعْضَکُمْ فَوْقَ بَعْضٍ رتبہ میں اور رزق وغیرہ میں دَرَجٰتٍ یہ مفعول دوم ہے یا تقدیر عبارت یہ ہے اِلٰی دَرَجَاتٍ درجات کی طرف یا یہ مصدر کی جگہ آیا ہے گویا اس طرح کہا بلندی کے بعد بلندی لِّیَبْلُوَکُمْ فِیْ مَآ اٰتَکُمْ اس میں جو تمہیں جاہ و مال کی نعمت دے رکھی ہے تم کس طرح اس نعمت کا شکریہ ادا کرو گے۔ کس طرح شریف کمینے کے ساتھ اور مالدار فقیر کے ساتھ اور مالک مملوک کے ساتھ سلوک کرتا ہے۔ اِنَّ رَبَّکَ سَرِیْعُ الْعِقَابِ بیشک آپ کا ربّ بہت جلدی بدلہ لینے والا ہے جو اس کی نعمتوں کی ناشکری کرے۔ وَاِنَّہٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ جو اس کے شکر کو ادا کرے گا عقاب کے ساتھ سرعت کی صفت لائی گئی۔ کیونکہ آنے والا ہے اس کو آیا سمجھنا چاہیئے وہ قریب ہی ہے۔ جیسا ارشاد فرمایا : وَمَآ اَمْرُ السَّاعَۃِ اِلاَّ کَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ ہُوَ اَقْرَبُ 1 (النحل : 77) کہ قیامت کا معاملہ تو پلک جھپک کی طرح یا اس سے بھی زیادہ قریب تر ہے۔ : نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے جس نے سورة انعام کی تین ابتدائی آیات صبح کے وقت تلاوت کیں اللہ تعالیٰ اس کے لیے ستّر ہزار فرشتے مقرر کردیتے ہیں جو اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ اور اس کے لیے ان کے اعمال کی مثل اعمال قیامت تک لکھے جاتے رہیں گے۔ (فتح القدیر)