Ayah 6:121حرمت متروک التسمیہ عمداً :
آیت 121 : وَلَا تَاْکُلُوْا مِمَّا لَمْ یُذْکَرِ اسْمُ اللّٰہِ عَلَیْہِ ذبح کے وقت۔ وَاِنَّہٗ اور اس کا کھانا لَفِسْقٌط وَاِنَّ الشَّیٰطِیْنَ لَیُوْحُوْنَوہ وسوسہ ڈالتے ہیں۔ اِلٰٓی اَوْلِیٰٓپہِمْ یعنی مشرکین۔ لِیُجَادِلُوْکُمْاپنے قول سے۔ نہ کھائو اس کو جس کو اللہ نے ہلاک کیا ہو۔ اور اس کو کھائو جس کو اپنے ہاتھوں سے تم ذبح کرتے ہو یہ آیت متروک تسمیہ کی حرمت کو ثابت کرتی ہے۔ البتہ نسیان والی حالت حدیث کی وجہ سے اس میں خاص کرلی گئی ہے یا بھولنے والے کو تقدیراً ذاکر کہہ کر حکم بیان کیا گیا۔ وَاِنْ اَطَعْتُمُوْہُمْان کو حلال کرنے میں جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے۔ اِنَّکُمْ لَمُشْرِکُوْنَ ۔ کیونکہ جس نے غیر اللہ کی پیروی اللہ تعالیٰ کے دین کے مقابلے میں کی گویا اس نے شرک کیا۔ دین دار کا حق یہ ہے کہ جس پر بوقت ذبح اللہ تعالیٰ کا نام نہ لیا گیا ہو اس کو نہ کھائے۔ اس لئے کہ آیت میں انتہائی شدت سے یہ حکم بیان کیا گیا ہے۔ آیت کی ابتداء میتہ اور جس پر غیر اللہ کا نام لیا ہو جیسا فرمایا : اَوْ فِسْقًا اُہِلَّ لِغَیْرِ اللّٰہِ بِہٖ 5 (الانعام : 145) واؤ، و انہ لفسق میں حال کے لئے ہے۔ کیونکہ جملہ اسمیہ کا جملہ فعلیہ پر عطف مستحسن نہیں ہے پس تقدیر عبارت یہ ہے ولا تاکلوا منہ حال کونہ فسقا اور تم اس سے مت کھائو اس حال میں کہ وہ فسق ہے۔ الفسق کا لفظ مجمل ہے۔ پس اس ارشاد سے وضاحت فرمائی : اَوْ فِسْقًا اُہِلَّ لِغَیْرِ اللّٰہِ بِہٖ 5 (الانعام : 145) اب تقدیر عبارت اس طرح ہوگئی۔
ولا تا کلوا منہ حال کونہ مہلًا لغیر اللّٰہ بہٖ نہ کھائو اس سے اس حال میں کہ اس پر غیر اللہ کا نام بلند کیا گیا ہو۔ پس اس کے علاوہ عمومی آیات سے حلال قرار پائیں گے۔ ان میں سے ایک ارشاد یہ ہے قل لا اجدُ (الاٰیۃ الانعام 145) پس ظاہری لفظ سے عدول ہوا۔
Ayah 6:122مومن تو نور ایمان و حکمت سے اور کافر اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے :
آیت 122: اَوَ مَنْ کَانَ مَیْتًا فَاَحْیَیْنٰـہُ کافر تھا ہم نے اس کو ہدایت دی کیونکہ ایمان دلوں کی زندگی ہے۔ مَیِّتًا مدنی نے پڑھا۔ وَجَعَلْنَا لَہ نُوْرًا یَّمْشِیْ بِہٖ فِی النَّاسِ وہ اس سے روشنی حاصل کرنے والا ہے۔ اس سے مراد یقین ہے۔ یعنی اس کی حالت فِی الظُّلُمٰتِ ان میں ٹامک ٹوئیاں مار رہا ہے۔ لَیْسَ بِخَارِجٍ مِّنْہَا۔ ان سے جدا ہونے والا نہ ہو اور نہ چھوٹنے والا ہو۔ : یہ حال ہے بعض نے کہا۔ اس سے مراد حمزہ اور ابوجہل ہیں۔ مگر صحیح تربات یہ ہے کہ آیت ہر اس شخص کے لئے ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی ہو اور ہر ایسے شخص کے لئے ہے جس کے حصہ میں گمراہی آئی ہو۔ عام اور شامل ہے پس اس سے واضح کردیا ہدایت یافتہ کی مثال اس مردہ کی ہے جو زندہ کردیا جائے اور روشن ہو کر لوگوں میں اپنے نور حکمت و ایمان سے چل پھر رہا ہو۔ اور کافر کی مثال اس شخص جیسی ہے جو ایسے اندھیروں میں پھنس چکا جن سے چھٹکارا میسر نہ ہو۔ کَذٰلِکَ یعنی جس طرح مومن کے لئے اس کا ایمان مزین کیا گیا زُیِّنَ لِلْکٰفِرِیْنَ اللہ تعالیٰ کی تزیین سے جیسا کہ دوسرے ارشاد میں ہے زینا لہم اعمالہم (النمل 4) مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ یعنی ان کے اعمال
Ayah 6:123اقتدار و مالی وسعت والے زیادہ کفر کرتے ہیں :
آیت 123: وَکَذٰلِکَ یعنی جیسا ہم نے سردار ان مکہ کے سلسلہ میں کہا کہ وہ اس میں تدابیر کرلیں۔ جَعَلْنَا ہم نے بنادیا۔ فِیْ
کُلِّ قَرْیَۃٍ اَکٰبِرَ مُجْرِمِیْہَا لِیَمْکُرُوْا فِیْہَا تاکہ وہ اس میں لوگوں پر زبردستی کریں اور معاصی پھیلائیں۔ اہلسنّت کے ہاں یہ لام اپنے ظاہری معنی پر ہے۔ لام عاقبت نہیں۔ اکابر کو خاص کیا گیا مراد اس سے رؤساء ہیں۔ کیونکہ جن کے پاس اقتدار اور وسعت مالی ہوتی ہے وہ دوسروں کی بنسبت زیادہ کفر و مکر کی دعوت دینے والا ہوتا ہے۔ اس کی دلیل یہ آیت ہے ولو بسط اللّٰہ الرزق لعبادہ لبغوا فی الارض (الشورٰی 27) پھر رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی اور ان سے نصرت کا وعدہ فرمایا۔ وَمَا یَمْکُرُوْنَ اِلاَّ بِاَنْفُسِہِمْکیونکہ ان کا مکر انہی پر الٹ دیا جائے گا۔ وَمَا یَشْعُرُوْنَ کہ وہ ان کا مکر ان پر واپس کرنے والا ہے۔
نحو : یہ مفعول اول ہے اور فی کل قریۃ دوسرا مفعول ہے اور مجرمیہا یہ اَکٰبِرَ سے بدل ہے یا اول مفعول مجرمیہا مفعول دوم اَکٰبِرَتقدیر عبارت اس طرح ہے مجرمیہا اَکٰبِرَ ۔
Ayah 6:124آیت 124: جب ابوجہل نے یہ بات کہی کہ ہم نے بنو عبد مناف کے ساتھ شرف و مرتبہ میں مقابلہ کیا۔ یہاں تک کہ ہم گھوڑ دوڑ کے دو گھوڑوں کی طرح بن گئے۔ اب انہوں نے یہ کہنا شروع کردیا۔ کہ ہم میں ایک پیغمبر ہے جس کی طرف وحی کی جاتی ہے اللہ تعالیٰ کی قسم ہم اس وقت تک راضی نہ ہونگے اور نہ مانیں گے جب تک ہمارے پاس بھی اس طرح وحی آجائے جس طرح ان پر اترتی ہے۔ تو یہ آیت اتری۔ وَاِذَا جَآئَ تْہُمْ یعنی اکابر ٰایَۃٌ معجزہ یا قرآن مجید کی آیت جس میں ان کو ایمان کا حکم دیا گیا۔
احتجاجِ کفار کہ ہمیں بھی نبوت ملنی چاہیے :
قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ حَتّٰی نُؤْتٰی مِثْلَ مَآ اُوْتِیَ رُسُلُ اللّٰہِوہ نشانیاں دی جائیں۔ جو انبیاء کو دی گئیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جتلا دیا کہ اللہ تعالیٰ ان کو خوب جانتے ہیں۔ جو نبوت کے لائق ہیں۔ اَللّٰہُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجَعَلُ رِسَالَتَہٗ مکی اور حفص نے اسی طرح پڑھا اور دیگر قراء نے رسالاتہٖ پڑھا ہے۔ : حیث مفعول بہٖ اور عامل محذوف ہے تقدیر عبارت یہ ہے یعلم موضع رسالتہ وہ اپنے پیام کی جگہ جانتا ہے۔ سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا ان کے اکابر میں سے صَغَارٌ ذلت و رسوائی عِنْدَ اللّٰہِ قیامت کے دن وَعَذَابٌ شَدِیْدٌ دونوں جہانوں میں جیسے قتل و قید عذاب ٗ نار بِمَا کَانُوْا یَمْکُرُوْنَ دنیا میں۔
Ayah 6:125ہر دل نور ایمان و نبوت کے قابل نہیں :
آیت 125: فَمَنْ یُّرِدِ اللّٰہُ اَنْ یَّہْدِیَہٗ یَشْرَحْ صَدْرَہٗ لِلْاِسْلَامِ اس کو وسعت دیتا ہے اور اس کے دل کو منور کردیتا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اذا دخل النور فی القلب انشرح وانفتح (جب نور ایمان دل میں داخل ہوجاتا ہے تو وہ کھل جاتا ہے) آپ سے عرض کی گئی قیل ما علامتہ ذلک ؟ اس کی علامت کیا ہے قال الا نابۃ الی دارالخلود والتجافی عن دار الغرور والا ستعداد للموت قبل نزول الموت۔ کہ ہمیشگی کے گھر کی طرف رجوع اور دھوکہ کے گھر سے لا تعلقی اور موت کی آمد سے قبل اس کی تیاری (ابن جریر ج : 8) بیہقی فی شعب الایمان عن ابن مسعودؓ) وَمَنْ یُّرِدْیعنی اللہ تعالیٰاَنْ یُّضِلَّہٗٗ یَجْعَلْ صَدْرَہٗ ضَیِّقًا۔
قراءت ونحو :
مکی نے ضیقًا اور حرجا کو حرجاً ضیقًا کی صفت قرار دیکر مدنی و ابوبکر نے پڑھا معنی انتہائی تنگ۔ دوسرے قراء نے حَرَجًا پڑھا مصدر کی صفت قرار دیا۔ کَاَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِی السَّمَآئِ گویا اس کو آسمان میں چڑھنے کی تکلیف دی گئی ہے جبکہ اس کو اسلام کی دعوت دی ہے یہ ضیق صدرہ عنہ سے لیا گیا ہے تنگ آجانا۔ دوسری تفسیر ضاقت علیہ الارض اس پر زمین تنگ ہوگئی۔ پس اس نے آسمان کی طرف چڑھنے والی سیڑھی منگوائی۔ تیسری تفسیر بےرائے آدمی کی طرح اور ہوا میں اس کا دل اڑنے والا پرندہ ہے۔
قراءت : مکی نے یصاعد پڑھا اس کا اصل یتصاعد ہے۔ باقی قراء نے یصّعّد پڑھا۔ اور اس کا اصل یتصعَّدُ ہے۔ کَذٰلِکَ یَجْعَلُ اللّٰہُ الرِّجْسَ عذاب آخرت اور دنیا میں لعنت۔ عَلَی الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ یہ آیت معتزلہ کے خلاف ہماری دلیل ہے۔ ارادئہ معاصی کے سلسلہ میں۔
Ayah 6:126یہ سیدھی راہ ہے ‘ شرح صدر والا اس کو قبول کرتا ہے :
آیت 126: وَہٰذَا صِرَاطُ رَبِّکَ یعنی وہ طریقہ جس کا حکمت تقاضا کرتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اس کے لئے شرح صدر فرما دیتے ہیں جس کی وہ ہدایت کا ارادہ فرمائیں اور جس کی گمراہی کا ارادہ کریں اس کے لئے تنگ کردیتا ہے۔ مُسْتَقِیْمًا عدل والا، چلتا ہوا راہ یہ حال مؤکد ہے۔ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّذَّکَّرُوْنَ نصیحت حاصل کرتے ہیں۔
Ayah 6:127ایسے لوگ دارالاسلام کے حقدار ہیں :
آیت 127: لَہُمْ : اس نصیحت کو قبول کرنے والے لوگوں کے لئے دَارُالسَّلٰمِ اللہ کا گھر ہے یعنی جنت اپنی ذات کی طرف اضافت اس کی عظمت بتانے کے لئے ہے۔ دوسری تفسیر یہ ہے ہر آفت اور گدلے پن سے محفوظ۔ تیسری تفسیر۔ سلامتی والا گھر۔ اس کا نام دارالسلام اس ارشاد کی وجہ سے ہے : وتحیتہم فیہا سلام (یونس) الا قیلا سلٰما سلٰمًا (الواقعۃ 24) عِنْدَ رَبِّہِمْ اس کی ضمان میں۔ وَہُوَ وَلِیُّہُمْ ان کے محب یا دشمنوں کے خلاف مددگار۔ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ان کے اعمال کے بدلے۔ دوسری تفسیر ان کے اعمال کی جزاء کا متولی ہے۔ قول دیگر وہ دنیا میں ہمارا ولی توفیق اعمال کے سبب ہے اور آخرت میں امید پوری کردینے کے سبب۔
Ayah 6:128قیامت کا ایک حسرتناک منظر اور اعتراف مجرمین :
آیت 128: وَیَوْمَ یَحْشُرُہُمْ جَمِیْعًاحفص نے یاء کے ساتھ پڑھا۔ اور نافع ابن کثیر ابو عمرو ابن حمزہ نے نحشرہم پڑھا ہے یعنی اذ کر یوم نحشرہم یا ویوم نحشرہم قلنا یٰمعشرا لجن اس دن ہم ان کو جمع کر کے کہیں گے اے گروہ جن۔ یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتکْثَرْتُمْ مِّنَ الْاِنْسِ تم نے ان میں سے بہت سے انسانوں کو گمراہ کیا اور ان کو اپنا پیرو بنایا۔ جیسا کہ تم کہتے ہو۔ استکثر الامیر من الجنود۔ امیر نے لشکروں کو تابع بنایا۔ وَقَالَ اَوْلِیٰٓؤُہُمْ مِّنَ الْاِنْسِ وہ جنہوں نے ان جنات کی اطاعت کی اور ان کے وسوسہ کی طرف کان لگایا۔ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ یعنی انسانوں نے شیاطین سے نفع اٹھایا۔ اس طرح کہ ان کی راہنمائی شہوات اور اس کی طرف پہنچنے والے اسباب کی طرف کی اور جنات سے انسانوں نے یہ فائدہ اٹھایا۔ کہ انسانوں کو اپنا مطیع بنایا۔ اغواء کے مقصد کو حاصل کرنے کے لئے ان کو اپنا معاون و دست وبازو بنایا۔ وَّبَلَغْنَآ اَجَلَنَا الَّذِیْٓ اَجََّلْتَ لَنَا وہ اس سے یوم بعث مراد لے رہے ہیں اور اس کلام میں ان سے جو شیاطین کی اطاعت اور خواہشات کی اتباع اور تکذیب بعث اور اپنی حالت پر افسوس وغیرہ پایا گیا۔ اس کا اعتراف ہے۔ قَالَ النَّارُ مَثْوٰکُمْ تمہارا ٹھکانہ خٰلِدِیْنَ فِیْہَآ۔ : یہ حال ہے اور اضافت کا معنی اس میں عامل ہے۔ جیسا اس ارشاد میں ان دابر ہٰؤلاء مقطوع مصبحین (الحجر : 66) پس مصبحین ہؤلاء سے حال ہے۔ اور حال میں اضافت کا معنی عامل ہے۔ اس لئے کہ اس کا معنی مخالطت اور ملانا ہے۔ مثوٰی عامل نہیں ہے۔ کیونکہ مکان کسی چیز میں عامل نہیں ہوتا۔ اِلاَّ مَاشَآئَ اللّٰہُ وہ ابد الآباد تک آگ میں رہیں گے۔ مگر جو چاہے اللہ یعنی وہ اوقات جس میں وہ سعیر کے عذاب سے زمہریر کے عذاب میں منتقل ہونگے۔ اِنَّ رَبَّکَ حَکِیْمٌ اس معاملہ میں جو وہ اپنے اولیاء اور اعداء سے کرتا ہے۔ عَلِیْمُ جاننے والا ہے ان کے اعمال کو پس تمام کو ان کے عمل کے موافق بدلہ دے گا۔
Ayah 6:129کند ہم جنس باہم جنس پرواز :
آیت 129: وَکَذٰلِکَ نُوَلِّیْ بَعْضَ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضًا آگ میں ان کو ایک دوسرے کے پیچھے لگا دیں گے۔ دوسری تفسیر ایک دوسرے پر مسلط کردیں گے۔ تفسیر دیگر۔ ایک دوسرے کا دوست بنادیں گے۔ بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ اس وجہ سے کہ انہوں نے کفر و معاصی کمائے۔ پھر ان کو قیامت کے دن توبیخ کے طور پر کہا جائے گا۔
Ayah 6:130رسول فقط انسانوں میں سے ہیں یا جنات میں سے بھی :
آیت 130: یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اَلَمْ یَاْتِکُمْ رُسُلٌ مِّنْکُمْ ضحاک سے منقول ہے جنات کی طرف ان میں سے رسول بھیجے جس طرح انسانوں کی طرف ان میں سے کیونکہ وہ انہیں سے مانوس ہیں۔ اور ظاہری نص اسی کی مؤید ہے۔
دوسرے علماء کا قول یہ ہے رسول فقط انسانوں میں آئے۔ باقی یہاں رُسُلٌ مِّنْکُمْ کا لفظ اس لئے بولا کہ خطاب میں جن و انس دونوں کو جمع کیا گیا ہے اور ایسے مواقع پر درست ہے اگرچہ رسول ایک میں سے ہوں۔ جیسا کہ دوسرے ارشاد میں ہے یخرج منہما اللؤلؤ والمرجان (الرحمان 22) ایک اور قول یہ ہے کہ ان کے رسل سے ہمارے پیغمبر ﷺ کے نمائندے مراد ہیں۔ جیسا دوسرے ارشاد میں ولَّوا الی قومہم منذرین (الاحقاف 46) یَقُصُّوْنَ عَلَیْکُمْ ٰایٰتِیْ میری کتابیں تم پر پڑھتے۔ وَیُنْذِرُوْنَکُمْ لِقَآئَ یَوْمِکُمْ ہٰذَا یعنی قیامت کا دن قَالُوْا شَہِدْنَا عَلٰٓی اَنْفُسِنَا ہم پر حجت کے لازم ہونے اور انبیاء کے پیغامات پہنچ جانے سے وَغَرَّتْہُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا وَشَہِدُوْا عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ اَنَّہُمْ کَانُوْا کٰفِرِیْنَ رسل کے ساتھ۔
Ayah 6:131خبردار کئے بغیر عذاب نہیں آتا :
آیت 131: ذٰلِکَ یہ اشارہ اس طرف ہے جو پہلے گزرا کہ ان کی طرف بعثت رسل ہوئی یہ محذوف مبتداء کی خبر ہے۔ یعنی الامر ذلک۔ اَنْ لَّمْ یَکُنْ رَّبُّکَ مُہْلِکَ الْقُرٰی بِظُلْمٍ وَّ اَہْلُہَا غٰفِلُوْنَ یہ تعلیل ہے یعنی بات اسی طرح ہے جو ہم نے تم پر بیان کردی اس لئے کہ یہ نہیں ہوسکتا ہے کہ تیرا رب کسی بستی کو ظلم کے سبب ہلاک کر دے۔ اس طور پر کہ اَن مصدر یہ ہو۔ دوسرا قول ان محففہ من المثقلہ بھی ہوسکتا ہے۔ مطلب یہ ہے کیونکہ حالت اور بات یہ ہے۔ کہ تیرا رب ظلم سے کسی بستی کو ہلاک کرنے والا نہیں اس ظلم کے سبب جس کا انہوں نے ارتکاب کیا یا اس حال میں وہ ظلم کرنے والا ہوتا اگر رسول اور کتاب کے ذریعہ خبر دار کرنے کے بغیر غفلت کی حالت میں ان کو ہلاک کردیتا۔ حالانکہ اس کی ذات ظلم سے پاک ہے۔
Ayah 6:132ائمہ کا استدلال :
آیت 132: وَلِکُلٍّ تمام مکلفین کے لئے دَرَجٰتٌ مراتب مِّمَّا عَمِلُوْا ان کے اعمال کے بدلے میں سے۔ آیت سے استدلال ہے امام ابو یوسف و امام محمد رحمہما اللہ جنات کو بھی ان کی اطاعت پر ثواب ہے۔ کیونکہ ثقلین کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا ہے وَمَا رَبُّکَ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ اس کو بھولنے والا۔ شامی قراء نے تعملون پڑھا ہے۔
Ayah 6:133وہ بےنیاز رحیم ہے :
آیت 133: وَرَبُّکَ الْغَنِیُّ بندوں اور ان کی عبادت سے ذوالرَّحْمَۃِ ان پر تکالیف کے ذریعہ تاکہ دائمی منافع کے لئے ان کو تعریض کیا جائے۔ اِنْ یَّشَاْ یُذْہِبْکُمْ اے ظالمو وَیَسْتَخْلِفْ مِنْم بَعْدِکُمْ مَّایَشَآئُ مطیع مخلوقات سے کَمَآ اَنْشَاَکُمْ مِّنْ ذُرِّیَّۃِ قَوْمٍ ٰاخَرِیْنَ دوسری قوم کی اولاد سے جو تمہاری حالت پر نہ تھے اور وہ کشتی نوح ( علیہ السلام) والے لوگ تھے۔
Ayah 6:134بعث ہوگا مر کر چھوٹ نہیں سکتے :
آیت 134: اِنَّمَا ما بمعنی الذی ہے۔ تُوْعَدُوْنَ یعنی بعث اور حساب اور ثواب و عقاب لَاٰتٍ یہ انّ کی خبر ہے۔ یعنی
لَکَاپنٌ ضروری ہونے والی ہے۔ وَّمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ آگے بڑھ جانے والے۔ یہ ان کے اس قول کی تردید ہے جو زبان زدعام تھا من مات فقد فات جو مرگیا وہ گزر گیا۔
Ayah 6:135انذار کا لطیف انداز :
آیت 135: المکانۃ مصدر ہوتا ہے۔ محاورہ مَکُنَ مَکَانَۃًجب وہ اس پر پورا قابو پالے اور مکان کے معنی میں آتا ہے کہا جاتا ہے مکان و مکانۃً ٗ مقام و مقامۃ اور ارشاد الٰہی قُلْ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰی مَکَانَتِکُمْ اس میں احتمال یہ ہے کہ مطلب یہ ہو تم کام کرو اپنے معاملہ میں قدرت کی حد تک اور اپنی انتہائی استطاعت اور امکان کی حد تک اور تم اپنے انداز اور اس حال کے مطابق عمل کرو۔ جس پر تم ہو۔ آدمی کو کہا جاتا ہے جبکہ اس کو اپنی حالت پر ثابت قدمی کا حکم دیا جائے۔ علٰی مکانتک یافلان یعنی تو ثابت قدم رہ جس پر تو ہے۔ اِنِّیْ عَامِلٌ اپنے اس مرتبے پر جس پر ہوں یعنی تم اپنے کفر اور میرے متعلق عداوت پر قائم رہو۔ پس میں اسلام پر ثابت اور قائم ہوں اور تمہاری ایذائوں پر یہ تہدید اور وعید ہے اس کی دلیل یہ ارشاد ہے۔ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ مَنْ تَکُوْنُ لَہٗ عَاقِبَۃُ الدَّارِ یعنی عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ ہم میں سے کس کے لئے اچھا انجام ہے۔ یہ انذار کا لطیف طریقہ ہے۔ اِنَّہٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ یعنی کافر۔ قراءت۔ ابوبکر نے ہر جگہ مکاناتکم پڑھا حمزہ وعلی نے یکون پڑھا مَن جب التی کے معنی میں ہوگا تو محل رفع میں ہوگا اور فعل علم کو اس کے معلق فرمایا یا یہ منصوب ہوتا ہے جب یہ الذی کے معنی میں ہو۔
Ayah 6:136کفار کی من مانی تحریمات کی مذمت :
آیت 136: وَجَعَلُوْا لِلّٰہِ مِمَّا ذَرَاَمِنَ الْحَرْثِ وَالْاَنْعَامِ نَصِیْبًا یعنی بتوں کے لئے حصہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی دلالت پر اکتفا کیا گیا۔ فَقَالُوْا ہٰذَا لِلّٰہِ بِزَعْمِہِمْ وَ ہٰذَا لِشُرَکَآپنَا۔ قراءت : علی نے بزعمہم پڑھا اور اسی طرح مابعد بھی۔ یعنی زعموا انہ للّٰہ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تو ان کو حکم نہیں دیا اور نہ ان کے لئے وہ تقسیم جائز تھی۔ فَمَا کَانَ لِشُرَکَآپہِمْ فَلَا یَصِلُ اِلَی اللّٰہِ یعنی ان مصارف میں نہ مل سکتا جن میں وہ اس کو صرف کرتے تھے۔ یعنی مہمانوں کی میزبانی اور مساکین پر صدقہ۔ وَمَاکَانَ لِلّٰہِ فَہُوَ یَصِلُ اِلٰی شُرَکَآپہِمْ ان کے خرچہ جات میں صرف کرلیتے اور ان کے سادھوئوں کو جاری کردیتے روایت میں مذکور ہے کہ وہ بعض چیزوں جیسے کھیتی اور جانوروں کے بچے اور ان دونوں میں سے کچھ اشیاء اپنے معبودوں کے لئے جب وہ دیکھتے کہ جو اللہ کا حصہ ہے وہ عمدہ اور بڑھنے والا ہے تو رجوع کر کے اصنام کے لئے مقرر کردیتے اور جب بتوں والا حصہ بڑھا ہوا ہوتا تو اس کو ان کے لئے ہی چھوڑ دیتے۔ اور زبان سے کہہ دیتے کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ تو غنی ہے۔ حالانکہ یہ حرکت اپنے معبودوں سے محبت کی بناء پر تھی۔ اور ان کو ترجیح اور اہمیت دینے کی وجہ سے تھی۔
اس میں اشارہ کردیا گیا کہ اللہ تعالیٰ اس کے زیادہ حقدار ہیں کہ اضافے والا حصہ ان کے نام پر مقرر کیا جائے۔ کیونکہ اسی نے تو وہ پیدا کیا۔ پھر ان کی اس قبیح حرکت کی اس طرح مذمت فرمائی۔ سَآئَ مَا یَحْکُمُوْنَ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں اپنے معبودوں کو ترجیح دیکر۔ اور ان کا عمل غیر مشروع چیزوں پر ہے۔ ماؔ موضع رفع میں ہے یعنی ساء الحکم حکمھم ان کا فیصلہ بدترین ہے۔ یا منصوب ہے یعنی ساء حکمًا حکمہم حکم کے لحاظ سے برا ہے ان کا حکم۔
Ayah 6:137مشرکین کے قبائح میں ایک قبیح فعل کا اضافہ :
آیت 137: وَکَذٰلِکَ زَیَّنَ لِکَثِیْرٍمِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ یعنی جس طرح ان کے لئے مزین کیا۔ اموال کے حصے بنانا مزین کیا گیا اسی طرح لڑکیوں کا زندہ در گور کرنا بھی مزین کیا گیا۔ قَتْلَ یہ زیّن کا مفعول ہے۔ اَوْلَادِہِمْ شُرَکَآؤُہُمْ یہ زیّنکا فاعل ہے۔
قراءت : زُیّن زاء کا ضمہ قتل کی لام پر ضمہ۔ اولادَہم کی دال پر نصب شرکاپہم کی ہمزہ مکسور پڑھی شامی نے قتل کی اضافت شرکاء کی طرف کی مراد اس سے شیاطین ہیں اور ان کے درمیان فاصلہ بغیر ظرف کے ہے اور وہ مفعول ہے۔ تقدیر عبارت اس طرح ہے زین لکثیر من المشرکین قتل شرکائہم اولادہم۔ بہت سے مشرکین کے لئے ان کے شرکاء کا ان کی اولاد کو قتل کرنا مزین کیا گیا۔ شرکاء سے مراد شیاطین ہیں۔ لِیُرْدُوْہُمْ تاکہ وہ ان کو اغواء سے ہلاک کریں۔ وَلِیَلْبِسُوْا عَلَیْہِمْ دِیْنَہُمْ تاکہ وہ ان پر ان کا دین خلط ملط کردیں اور ان کا اصل دین تو اسماعیل ( علیہ السلام) کا تھا یہاں تک کہ وہ اس سے پھسل گئے اور شرک میں جا پڑے۔ وَلَوْ شَآئَ اللّٰہُ مَا فَعَلُوْہُ اس میں واضح دلیل ہے کہ ساری کائنات اللہ تعالیٰ کی مشیت سے ہے۔
فَذَرْہُمْ وَمَا یَفْتَرُوْنَ جو وہ افتراء باندھتے تھے یا مصدر کا معنی ان کے افتراء کو کیونکہ اس افتراء کا ضرر ان کو پہنچے گا نہ کہ ہمیں۔
Ayah 6:138افتراء پردازی کے مزید نمونے :
آیت 138: وَقَالُوْا ہٰذِہٖٓ اَنْعَامٌ وَّحَرْثٌ بتوں کے لئے حِجْرٌ حرام ہے۔ یہ فعل بمعنی مفعول ہے۔ جیسا ذبح بمعنی مذبوح ٗ طحن بمعنی مطحون اور اس صفت میں تذکیر و تانیث اور واحد وجمع برابر ہیں کیونکہ اس کا حکم اسماء کا ہے جو صفت نہیں ان کا طرز عمل یہ تھا کہ جب وہ بعض اشیاء اپنی کھیتی اور چوپائوں میں اپنے الٰہ کے نام معین کرلیتے تو وہ کہتے لاَّیَطْعَمُہَآ اِلاَّ مَنْ نَّشَآئُ بِزَعْمِہِمْ من نشاء سے وہ بتوں کے خدام اور فقط مرد عورتیں مراد لیتے تھے۔ الزعم گمان سے کوئی بات کہنا جس میں جھوٹ کی ملاوٹ ہو۔ وَاَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُہُوْرُہَا وہ بحیرہ ٗ سائبہ ٗ حام تھے۔ وَاَنْعَامٌ لاَّ یَذْکُرُوْنَ اسْمَ اللّٰہِ عَلَیْہَا ذبح کی حالت میں وہ ان پر بتوں کا نام لیتے۔ افْتِرَآئً عَلَیْہِ یہ مفعول لہ ہے یا حال ہے یعنی انہوں نے اپنے چوپائوں کی تقسیم اس طرح کی۔ نمبر 1۔ حجر۔ نمبر 2۔ جن پر سواری نہ کی جائے۔ نمبر 3۔ جن پر اللہ تعالیٰ کا نام نہ لیا جائے۔ ان تمام کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف بطور افتراء پر دازی کے کردی۔ سَیَجْزِیْہِمْ بِمَا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ یہ وعید ہے۔
Ayah 6:139ایجاد کردہ مصنوعی شرائط :
آیت 139: وَقَالُوْا مَا فِیْ بُطُوْنِ ہٰذِہِ الْاَنْعَامِ خَالِصَۃٌ لِّذُکُوْرِنَا وَ مُحَرَّمٌ عَلٰٓی اَزْوَاجِنَا وہ بحائر اور سوائب کے بچوں کے متعلق کہا کرتے تھے جو زندہ پیدا ہو وہ مرد کھائیں عورتیں نہ کھائیں اور جو مردہ پیدا ہو اس میں مرد و عورتیں شریک ہوتے۔ : خالصۃٌ کا لفظ مؤنث ہے حالانکہ وہ ماؔ کی خبر ہے۔ معنی کا لحاظ کر کے ایسا کہا گیا کیونکہ ماؔ یہ اجنۃ کے معنی میں ہے۔ لفظ کا لحاظ کرتے ہوئے محرم کو مذکر لائے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ خالصۃ کی تاء نسابۃ کی طرح مبالغہ کیلئے ہے۔ وَاِنْ یَّکُنْ مَّیْتَۃً یعنی اگر وہ بچہ جو اسکے پیٹ میں ہو مردہ ہو : قراءت : ابوبکر وان تکن میتۃ پڑھا یعنی ان تکن الاجنۃ میتۃ اور شامی نے ان تکن میتۃ کان تامّہ قرار دیکر پڑھا مکی نے ان یکن میتۃ فعل کے مقدم ہونے کی بناء پر پڑھا۔ فَہُمْ فِیْہِ شُرَکَآئُ میں ضمیر کو مذکر لایا گیا۔ کیونکہ میتہ ہر مردہ کو کہا جاتا ہے۔ خواہ مذکر ہو یا مؤنث گویا اس طرح کہا گیا وان یکن میت فہم شرکاء۔ سَیَجْزِیْہِمْ وَصْفَہُمْ انکے حلال و حرام میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹی بات کہنے کی سزا۔ اِنَّہٗ حَکِیْمٌ انکے سزا دینے میں عَلِیْمٌ انکے اعتقاد کو۔
Ayah 6:140یہ تمام حماقت کے چکر ہیں :
آیت 140: قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ قَتَلُوْٓ ا اَوْلَادَہُمْ وہ قید و فقر کے خوف سے اپنی اولاد کو قتل کرتے۔ قراءت : مکی اور شامی نے قتّلوا پڑھا ہے۔ سَفَہًام بِغَیْرِ عِلْمٍ عقل کی کمی کی وجہ سے اور اس بات سے ناواقفی کی وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ ان کی اولاد کا رازق ہے وہ نہیں۔ وَّحَرَّمُوْا مَا رَزَقَہُمُ اللّٰہُبحائر و سوائب وغیرہ کے ذریعے افْتِرَآئً عَلَی اللّٰہِ یہ مفعول لہ ہے۔ قَدْ ضَلُّوْا وَمَا کَانُوْا مُہْتَدِیْنَ سیدھی راہ کی طرف۔
Ayah 6:141حلال نعمتیں کھائو اور ان کا حق دو اور اسراف سے بچو :
آیت 141: وَہُوَ الَّذِیْٓٓ اَنْشَأَ پیدا کیا جَنّٰتٍ انگوروں کے مَّعْرُوْشٰتٍ بلند چھپروں والے وَّغَیْرَ مَعْرُوْشٰتٍ زمین پر چھوڑے ہوئے جن کے لئے چھپر نہیں بنائے گئے۔ کہا جاتا ہے عرشت الکرم جب کہ اس کیلئے بلندیاں اور ٹیکیں بنادی جائیں اور شاخوں کو ان پر موڑ دیا جائے۔ وَّالنَّخْلَ وَالزَّرْعَ مُخْتَلِفًا رنگ ٗ ذائقہ ٗ حجم ٗ خوشبو وغیرہ میں وہ حال مقدرہ ہے۔ کیونکہ کھجور میں نکلنے کے وقت ذائقہ نہیں ہوتا۔ جب تک کہ وہ مختلف نہ ہوجائے۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی طرح ہے۔ فادخلوہا خالدین (الزمر 73) اُکُلُہٗٗ حجازی نے اُکْلُہ پڑھا ہے۔ کھائے جانے والے پھل کو کہتے ہیں۔ اس کی ضمیر نخل کی طرف جا رہی ہے اور الزرع بھی اس کے حکم میں شامل ہے۔ کیونکہ وہ معطوف علیہ ہے۔ یا ہر ایک کی طرف لوٹتی ہے۔ وَالزَّیْتُوْنَ وَالرُّمَّانَ مُتَشَابِہًا رنگ میں۔ وَّغَیْرَ مُتَشَابِہٍ ذائقہ میں۔ کُلُوْا مِنْ ثَمَرِہٖٓ ہر ایک کا پھل کھائو۔ اِذَآ اَثْمَرَ کہنے کا فائدہ ہے کہ جب درخت پر پھل ظاہر ہوجائے تو کھانا مباح ہے اور یہ وہم نہ ہو کہ اس وقت کھانا صرف مباح ہے جب وہ اس کو پائے۔ (ادائے حق شرعی سے پہلے مالک کو پھل کھانے کی اجازت معلوم ہو رہی ہے) وَ ٰاتُوْا حَقَّہٗٗ اس کا عشر۔ یہ امام ابوحنیفہ (رح) کی عشر کے عام ہونے کی دلیل ہے۔ یَوْمَ حَصَادِہٖ حصادہ حاء کے فتحہ کے ساتھ۔ بصری شامی اور عاصم نے پڑھا۔ باقی قراء نے حاء کے کسرہ سے پڑھا اور یہ دونوں لغتیں ہیں۔ وَلَا تُسْرِفُوْا تمام دیکر اور عیال کو ضائع کر کے۔ اِنَّہٗ لاَ یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ ۔
نحو : کُلُوْا سے لے کر اِنَّہٗ لاَ یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ تک جملہ معترضہ ہے۔
Ayah 6:142آیت 142: وَمِنَ الْاَنْعَامِ حَمُوْلَۃً وَّفَرْشًا اس کا عطف جنات پر ہے۔ یعنی انشأمن الانعام ما یحمل الاثقال۔ اس نے ایسے چوپائے بنائے جو بوجھ اٹھاتے ہیں اور وہ بھی جو ذبح کے لئے لٹائے جاتے ہیں۔ یا بڑے بوجھ بردار جانور اور الفرش سے چھوٹے جیسے بھیڑ ٗ بکری ٗ اونٹ گائے کے بچے کیونکہ وہ قد کے لحاظ سے زمین سے قریب ہوتے ہیں۔ جیسے فرش جو زمین پر بچھا ہوا ہو۔ کُلُوْا مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّٰہُ جو اللہ تعالیٰ نے ان میں سے تمہارے لئے حلال کیے ہیں ان کو زمانہ جاہلیت کی طرح حرام مت قرار دو ۔ وَلاَ تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِحرام و حلال میں اس کے طریقوں کی۔ جیسا اہل جاہلیت کرتے تھے۔ اِنَّہٗ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ اپنے دین کے متعلق اس کو متہم سمجھو۔
Ayah 6:143پالتوں جانوروں کی اقسام ثمانیہ اور رسمی تحریمات کی تردید :
آیت 143: ثَمٰنِیَۃَ اَزْوَاجٍ یہ حمولۃً و فرشا سے بدل ہے۔ مِنَ الضَّاْنِ اثْنَیْنِ وَمِنَ الْمَعْزِ اثْنَیْنِ دو جوڑے مراد مذکر و مؤنث ہیں۔ واحد کا لفظ جب اکیلا ہو تو ایک مراد ہے اور جب اس کے ساتھ اس کی جنس میں سے ہو تو پھر ان میں سے ہر ایک کو زوج کہتے ہیں۔ دونوں زوجان کہلاتے ہیں۔ اس کی دلیل یہ ارشاد الٰہی ہے خلق الزوجین الذکر والانثٰی (النجم 45) اور اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بھی اس پر دال ہے ثمانیۃ ازواج پھر بطور تفسیر من الضأن اثنین ومن المعزاثنین۔ وَمِنَ الْاِبِلِ اثْنَیْنِ وَمِنَ الْبَقَرِ اثْنَیْنِ الضأن اور المعزجمع ضائن اور ماعز ہیں۔ جیسا کہ تاجر اور تجر۔ قراءت : مکی شامی اور ابوعمرو نے مَعَزعین کے فتحہ کے ساتھ پڑھا اور یہ دونوں لغات ہیں۔ قُلْ ئٰٓ الذَّکَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْہِ اَرْحَامُ
الْاُنْثَیَیْنِ اس میں ہمزہ انکار کے لئے ہے۔ الذکرین سے مراد الضأن اور المعز کے مذکر ہیں۔ اور الانثین سے الضأن اور المعز کی مؤنث مراد ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اس بات سے انکار مقصود ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ نے ضأن اور معز دونوں نوع میں سے مذکر اور مؤنث کو حرام کیا ہو۔ اور نہ ہی جو حاملات کے پیٹ میں ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ کبھی تو مذکر چوپایوں کو حرام کرتے اور کبھی مؤنث کو اور ان کی اولاد میں جیسا کہ مذکر و مؤنث دونوں ہوتے یا کبھی ملے جلے ہوتے تو کہتے ان کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے۔ ان کی اس بات کا انکار کیا گیا۔
نحو : الذکرین یہ منصوب حُرّم کی وجہ سے ہے۔ اسی طرح ام الانثیین یعنی ام حُرِّم الانثیین اسی طرح جو اما اشتملت میں ہے۔ نَبِّئُوْنِیْ بِعِلْمٍ تم مجھے کسی معروف بات کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے حوالہ دے کر ثابت کرو جو اس چیز کا حرام ہونا ثابت کرے جو تم نے حرام ٹھہرائی ہے۔ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ اس بات میں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو حرام کیا۔
Ayah 6:144چوپائوں کی حلّت کی تاکید اور من گھڑت تحریم کی تردید :
آیت 144: وَمِنَ الْاِبِلِ اثْنَیْنِ وَمِنَ الْبَقَرِ اثْنَیْنِ ۔ قُلْ ئٰٓ الذَّکَرَیْنِ ان دونوں میں سے حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ ان میں سے اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْہِ اَرْحَامُ الْاُنْثَیَیْنِ یا جو ان کی مؤنثوں کے پیٹ میں ہے۔ اَمْ کُنْتُمْ شُہَدَآئَ اِذْ وَصّٰکُمُ اللّٰہُ بِہٰذَاج یا تم نے اپنے رب کو دیکھا جس وقت وہ تمہیں ان کی تحریم کا حکم دے رہے تھے۔ جب کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو نہ مانتے تھے ادھر وہ کہا کرتے تھے کہ جس کو ہم حرام کر رہے ہیں اس کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے۔ تو ام کنتم شہدائکہہ کر ان پر تہکم کیا گیا کہ کیا تمہیں مشاہداتی صورت میں یہ بات معلوم ہوئی ہے جبکہ تم سرے سے رسول پر ایمان ہی نہیں رکھتے۔ (تو پھر تمہاری یہ بات کیونکر ممکن ہے) فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا پس اس کی طرف ایسی چیز کی حرمت منسوب کی گئی جو اس نے حرام نہیں کی۔ لِّیُضِلَّ النَّاسَ بِغَیْرِ عِلْمٍ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ یعنی وہ لوگ جن کے کفر پر خاتمہ کا اللہ تعالیٰ کو علم ہے۔ یہاں جو چیزیں شمار کی جا رہی تھیں ان میں بعض کو شمار کیا اور بعض آئندہ مذکور ہیں۔ درمیان میں جملہ معترضہ لائے۔ جو معدود سے غیر اجنبی تو نہیں۔ اور وہ اس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر چوپائے بنا کر اور ان میں منفعتیں رکھ کر احسان فرمایا جملہ معترضہ سے ان چوپائوں کی حلت کی تاکید مقصود ہے اور وہ لائے بھی اسی لئے جاتے ہیں۔
Ayah 6:145تحریم صرف وحی سے ہے :
آیت 145: قُلْ لَّآ اَجِدُ فِیْ مَآ اُوْحِیَ اِلَیَّاس وقت میں یا وحی قرآن میں کیونکہ وحی سنت میں اور بھی حرام کیے گئے۔ یا چوپائے مراد ہیں کیونکہ یہ آیت بحیرہ وغیرہ کی تردید کے سلسلہ میں ہے۔ باقی موقوذہ ٗ متردّیہٗ اور نطیحہ یہ میتہ کی ہی اقسام ہیں (جن کا تذکرہ سورة مائدہ میں ہے) اس آیت میں خبردار کردیا کہ تحریم اللہ تعالیٰ کی وحی اور تشریع سے ثابت ہوتی ہے۔ خواہش نفس سے نہیں۔ مُحَرَّمًا وہ حیوان جس کا کھانا حرام ہو۔ عَلٰی طَاعِمٍ یَّطْعَمُہٗ کسی کھانے والے پر جو اس کو کھائے الَّآ اَنْ یَّکُوْنَ مَیْتَۃً مگر یہ کہ وہ حرام شئی مردار ہو۔ قراءت : ان تکون شامی ٗ مکی ٗ حمزہ نے تاؔ سے پڑھا میتۃٌ شامی نے پڑھا۔ اَوْدَمًا مَّسْفُوْحًا بہتا ہوا خون۔
مسئلہ : جو خون گوشت یا جگر یا تلی میں ہوتا ہے وہ حرام نہیں۔ اَوْ لَحْمَ خِنْزِیْرٍ فَاِنَّہٗ رِجْسٌ پلید ہے۔
فسق کہنے کی وجہ :
اَوْ فِسْقًا یہ ماقبل منصوب پر عطف ہے۔ فانہ رجس یہ معطوف اور معطوف علیہ کے درمیان جملہ معترضہ ہے۔ اُہِلَّ لِغَیْرِ اللّٰہِ بِہٖ یہ محلاً منصوب ہے اور فسقًا کی صفت ہے۔ یعنی رفع الصوت علی ذبحہ باسم غیر اللّٰہ۔ اس کو فسق اس لیے کہا کہ یہ باب فسق میں انتہاء پسندی ہے۔ فَمَنِ اضْطُرَّ جب ان محرمات میں سے کسی چیز کے کھانے کی ضرورت پیش آجائے۔ غَیْرَ بَاغٍ کسی مجبوری پر جو اس جیسا ہو اس کی ہمدردی کو ترک کرنے والا ہو۔ وَّلَاعَادٍ اس کے کھانے میں قدر حاجت سے تجاوز کرنے والا ہو۔ فَاِنَّ رَبَّکَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ اس سے مؤاخذہ نہ فرمائے گا۔
Ayah 6:146یہود کی مخصوص محرمات کا بیان اور اس کا سبب :
آیت 146: وَعَلَی الَّذِیْنَ ہَادُوْا حَرَّمْنَا کُلَّ ذِیْ ظُفُرٍیعنی جن کی انگلیاں ہوتی ہیں یا پرندہ اس میں اونٹ اور شترمرغ بھی شامل ہے، وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَیْہِمْ شُحُوْمَہُمَآ۔ یعنی ہم نے ہر ناخن والے جانور کا گوشت اور چربی حرام کردی اور اس کی ہر چیز۔ اور گائے اور بکری کی صرف چربی حرام کی گئی اور وہ پردے اور گردے کی چربی ہے۔ اِلاَّمَا حَمَلَتْ ظُہُوْرُہُمَآ مگر جو پشت پر ہو اور پہلو کے چھلکے کے ساتھ ہو۔ اَوِِ الْحَوَایَآ یا جو انتڑیوں پر لگی ہو حوایا کی جمع حاویا یا حویہ ہے۔ اَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ وہ دنبہ کی چکی۔ یا حرام مغز ہے۔ : ذَالِکَ یہ جَزَیْنَاہُمْ کا مفعول ثانی ہے تقدیر عبارت یہ ہے جزیناہم ذٰلک۔ بِبَغْیِہِمْ ان کے ظلم کے باعث۔ وَاِنَّا لَصٰدِقُوْنَ اس میں جو ہم نے خبر دی اور ہم کس طرح ان کی قدر دانی کریں۔ جنہوں نے اپنی معصیت کو حلال کے حرام کرنے کا ذریعہ بنایا اور ادھر ہمارے سلف کی معصیت جو تحلیل حرام کے سلسلہ میں تھی اس کے بارے میں فرمایا وعفا عنکم فالئٰن باشروہن (البقرہ 187)
Ayah 6:147ان کو تکذیب کی سزا ذرا ٹھہر کر ملے گی :
آیت 147: فَاِنْ کَذَّبُوْکَ اس میں جو آپ کی طرف قرآن کی وحی کی گئی۔ فَقُلْ رَّبُّکُمْ ذُوْ رَحْمَۃٍ وَّاسِعۃٍ اس لئے کہ تکذیب کرنے والوں کو مہلت دیتا ہے اور ان کو جلد سزا نہیں دیتا۔ وَلَا یُرَدُّ بَاْسُہٗٗ اس کا عذاب اور اس کی وسعت رحمت کے ساتھ ساتھ ہیں۔ عَنِ الْقَومِْ الْمُجْرِمِیْنَ جب آجائے پس اس کی وسعت رحمت کو دیکھ کر عذاب سے بےخوف نہ ہونا چاہیئے۔
Ayah 6:148جوازِ شرک کی مشرکانہ دلیل کہ یہ اللہ کی مشیت سے ہے :
آیت 148: سَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا یہ اس کی اطلاع ہے جس کو وہ عنقریب کہیں گے۔ لَوْشَآئَ اللّٰہُ یہ کہ ہم شرک نہ کریں۔ مَآ اَشْرَکْنَا وَلَآ ٰابَآؤُنَا وَلَا حَرَّمْنَا مِنْ شَیْئٍ لیکن اس نے چاہا۔ پس یہ ہمارا عذر ہے۔ مقصد اس سے یہ تھا کہ ان کا اور ان کے آبائو اجداد کا شرک اور ان کی وہ تحریمات جو ان چیزوں میں انہوں نے کیں۔ جن کو اللہ تعالیٰ نے حلال کیا۔ یہ تمام اللہ تعالیٰ کی مشیّت سے ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت نہ ہوتی تو ان میں سے کوئی چیز نہ ہوتی۔
یہ جواب دیا کہ یہ عذر لنگ ہے :
کَذٰلِکَ کَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ ۔ جس طرح یہ آپکی تکذیب کر رہے ہیں۔ متقدمین کی تکذیب ایسی ہی تھی اور وہ بھی اس قسم کے بہانے کرنے والے تھے۔ انکو اس بات نے کوئی فائدہ نہ دیا کیونکہ یہ بات بطور اعتقاد کے انہوں نے نہیں کہی بلکہ استہزاء کے طور پر کہی۔ اور اسلئے بھی کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی مشیت کو اپنی معذوری کیلئے حجت بنایا۔ حالانکہ یہ صریحاً مردود ہے۔ یہ مشیت کا اقرار نہیں۔
مشیت کا معنی :
مشیت کا معنی یہاں رضاء ہے جیسا کہ حسن بصری (رح) نے کہا۔ مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اور ہمارے آبائو اجداد کے شرک پر راضی ہے۔ شرک مراد (ارادہ سے ہوتا ہے) ہے مگر وہ پسندیدہ نہیں۔ کیا تم اس آیت کو نہیں دیکھتے کہ فرمایا فلوشاء اللّٰہ لہداکم اجمعین۔ اس میں خبر دی کہ اگر وہ ان کی ہدایت چاہتا تو وہ تمام ایمان لے آتے لیکن تمام کا ایمان نہ چاہا۔ بلکہ بعض کا ایمان چاہا اور بعض کا کفر چاہا۔ پس لازم ہے کہ مشیّت کو اس پر محمول کیا جائے جو ہم نے ذکر کیا تاکہ تناقض دور ہو۔ حَتّٰی ذَا قُوْا بَاْسنَا یہاں تک کہ ہم نے ان پر عذاب اتارا۔ قُلْ ہَلْ عِنْدَکُمْ مِّنْ عِلْمٍ ایسی کوئی معروف بات جس سے تمہاری اس بات کی دلیل بن سکے۔ فَتُخْرِجُوْہُ لَنَا پس اس کو ظاہر کرو۔ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلاَّ الظَّنَّ وَاِنْ اَنْتُمْ اِلاَّ تَخْرُصُوْنَ تم جھوٹ بولتے ہو۔
Ayah 6:149اللہ کی دلیل کامل ہے :
آیت 149: قُلْ فَلِلّٰہِ الْحُجَّۃُ الْبَالِغَۃُ جو تم پر اسکی طرف سے لازم ہے اسکے اوامرو نواہی کی وجہ سے اور تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی مشیّت کی کوئی (صحیح) دلیل موجود نہیں۔ فَلَوْ شَآئَ لَہَدٰکُمْ اَجْمَعِیْنَ یعنی اگر اللہ تعالیٰ تمہاری ہدایت چاہتا اس آیت سے معتزلہ کا دبدبہ محض باطل ٹھہرا۔
Ayah 6:150کفار سے تحریمات پر ثبوت کا مطالبہ :
آیت 150: قُلْ ہَلُمَّ شُہَدَآئَ کُمُ لائو تم اپنے شہداء کو۔ اور نزدیک کرو۔ ہَلُمَّ کے کلمہ میں واحد ٗ جمع ٗ تذکیر ٗ و تانیث اہل حجاز کے نزدیک برابر ہے۔ البتہ بنوتمیم اس کی مؤنث اور جمع بناتے ہیں۔ الَّذِیْنَ یَشْہَدُوْنَ اَنَّ اللّٰہَ حَرَّمَ ہٰذَا یعنی وہ جو اپنے خیال میں حرام سمجھتے ہیں۔ فَاِنْ شَہِدُوْا فَـلَا تَشْہَدْ مَعَہُمْ تو انکی گواہی تسلیم نہ کر اور نہ انکی تصدیق کر۔ کیونکہ جب اسکو تسلیم کرلیا گیا تو گویا انکی گواہی کی طرح وہ گواہی ہوگئی اور انہی میں سے بن گیا۔ وَلَا تَتَّبِعْ اَہْوَآئَ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا۔ یہاں ضمیر کی جگہ اسم ظاہر لائے۔ تاکہ اس سے ثابت ہوجائے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کرتا ہے وہ خواہش پرست ہے۔ اسلئے کہ وہ اگر دلیل کا پیرو ہوتا تو اللہ تعالیٰ کی آیات کی تصدیق ضرور کرتا اور اسکو وحدہٗ لاشریک جانتا۔ وَالَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ وہ مشرک ہیں۔ وَہُمْ بِرَبِّہِمْ یَعْدِلُوْنَ وہ بتوں کو برابر قرار دیتے ہیں۔
Ayah 6:151نبوت کے بلند مقام پر کھڑے ہونے والے کا بنیادی تحریمات کا مسودہ آیت 151 تا 153:
آیت 151: قُلْ ان لوگوں سے جنہوں نے کھیتی اور چوپائے حرام کیے۔ تَعَالَوْا یہ خاص فعل تھا۔ پھر عام استعمال ہونے لگا۔ اس کی اصل یہ ہے کہ بلند مقام پر کھڑا شخص وادی میں کھڑے شخص کو کہے پھر اس کا استعمال زیادہ ہوگیا۔ یہاں تک کہ مطلق بلانے کے لئے استعمال ہونے لگا۔ اَتْلُ مَاحَرَّمَ رَبُّکُمْ وہ جس کو تمہارے رب نے تمہارے اوپر حرام کیا ہے۔ عَلَیْکُمْ یہ حَرَّمَ کا صلہ ہے۔ اَلاَّ تُشْرِکُوْا بِہٖ شَیْئًا یہ اَنْ مفسرہ ہے۔ فعل تلاوت کی تفسیر کی جا رہی ہے اور لا نہی کا ہے۔ وَّبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا اور تم والدین کے ساتھ احسان کرواحسان کرنا۔ والدین کے ساتھ اچھا سلوک نہ کرنا بجائے خود برا سلوک و گناہ ہے۔ اور بد سلوکی تو بدترین گناہ ہے۔ اس لیے اس کو محرمات میں ذکر کیا۔ اور یہی حکم بعد والے اوامر کا بھی ہے۔ وَلَا تَقْتُلُوْٓا اَوْلَادَکُمْ مِّنْ اِمْلَاقٍفقر کی وجہ سے اور فقر کے خوف سے جیسا دوسری جگہ فرمایا خشیۃ املاق ( الاسراء 31) نَحْنُ نَرْزُقُکُمْ وَاِیَّاہُمْ کیونکہ بندوں کا رزق ان کے آقا کے ذمہ ہوتا ہے۔ وَلَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَاظَہَرَ مِنْہَا جو تیرے اور مخلوق کے درمیان ہو۔ یہ الفواحش کا بدل ہے۔ وَمَا بَطَنَ اور جو اللہ اور تیرے مابین ہے۔ وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلاَّ باِلْحَقِّ مثلاً قصاص وار تداد پر قتل اور رجم زانی۔
ذٰلِکُمْ وَصّٰکُمْ بِہٖ : یعنی یہ مذکورہ تفصیلی احکامات ہیں جن کی نگہبانی کا تمہارے ربّ نے تمہیں تاکیدی حکم کیا ہے۔ لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ : تاکہ تمہیں ان احکام کی عظمت اللہ تعالیٰ کے ہاں معلوم ہو۔
Ayah 6:152آیت 152 : وَلاَ تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلاَّ بِالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ : مگر اس طریقہ سے جو کہ اچھا ہو اور وہ اس کی حفاظت کرنے اور اس کو بار آور کرنے والا طریقہ ہے۔ حَتّٰی یَبْلُغَ اَشُدَّہٗج : یعنی بلوغت کو پہنچ جائے تو اس کا مال اس کے سپرد کردو۔ اَشُدَّ : یہ شَدٌّ کی جمع ہے جیسے : فلس وافلس۔ وَاَوْفُوا الْکَیْلَ وَالْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِج : قسط کا معنی برابری اور عدل ہے۔ یعنی تم ماپ تول میں برابری کرو۔ لاَ نُکَلِّفُ نَفْسًا اِلاَّ وُسْعَہَاج سے مراد جن سے انسان عاجز نہ رہے ‘ اس کو کرنے کی طاقت رکھتا ہو۔
ایک حکمت :
ماپ تول میں انصاف کا حکم دینے کے بعد اس کو اس لئے لائے کیونکہ ماپ تول میں حد کی پوری رعایت کو جس میں ذرّہ بھر کمی بیشی نہ ہو انصاف کہلاتا ہے اور اس میں تھوڑی بہت کمی بیشی ہونا عین ممکن ہے۔ اس تنگی کو اٹھاتے ہوئے اِلاَّ وُسْعَہَاج لائے کہ اپنی طاقت کی حد تک اس میں کمی نہ ہونے پائے اور جو طاقت سے زائد ہے وہ معاف کردی جائے گی۔ وَاِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوْا کا معنی سچ بولنا ہے۔ یعنی جب تم بات کرو تو سچائی کا دامن تھامے رہو۔ وَلَوْ کَانَ ذَا قُرْبٰیج۔ اگرچہ جس کے متعلق بات کہی گئی یا جس کے خلاف گواہی وغیرہ دی گئی وہ کہنے والے کے قرابت داروں میں سے ہو جیسا کہ اس قول باری تعالیٰ میں ہے : وَلَوْ عَلٰٓی اَنْفُسِکُمْ اَوِالْوَالِدَیْنِ وَالْاَقْرَبِیْنَج [ النساء : 135] ۔
وَبِعَہْدِ اللّٰہِ اَوْفُوْا 1 ذٰلِکُمْ وَصّٰکُمْ بِہٖ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ عہد اللہ عام ہے۔ یوم میثاق والا ہو یا امر و نہی اور وعدہ ‘ وعید اور نذر و قسم والا ہو سب ہی مراد ہیں۔ ذٰلِکُمْ کا مشارٌ الیہ گزشتہ تمام چیزیں۔
قراءت : حمزہ ‘ علی ‘ حفص کے ہاں قرآن مجید میں جہاں بھی آئے گا ایک تاؔ کے حذف اور تخفیف کے ساتھ پڑھا جائے گا۔ دیگر قراء نے تشدید سے پڑھا ہے۔ یہ اصل میں تتذکرون تھا دوسری تا کو ذالؔ میں ادغام کردیا۔ تذکرون بن گیا۔ معنی یہ ہے : یعنی تمہیں اس لئے حکم دیا تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔
Ayah 6:153آیت 153 : وَاَنَّ ہٰذَا صِرَاطِیْ ۔ اس سے پہلے لام مقدر ہے کیونکہ یہ اتباع کی علت ہے۔ یعنی تم اتباع کرو اس لئے کہ یہ میرا راستہ ہے۔
قراءت : شامی نے انَّ کو تخفیف کے ساتھ انْ پڑھا ہے۔ یہ اصل میں وانہ ہے۔ ہٗ ضمیر شان والحدیث ہے۔ (2) حمزہ اور علی رحمہما اللہ نے جملہ ابتدائیہ قرار دے کر اِنَّ پڑھا ہے۔ مُسْتَقِیْمًا۔ سیدھا۔
نحو : یہ حال ہے۔ یعنی بیشک یہ میرا راستہ ہے۔ اس حال میں کہ وہ سیدھا ہے۔ فَاتَّبِعُوْہُج وَلاَ تَتَّبِعُوا السُّبُلَ ۔
السُّبُلسے مختلف راستے یعنی یہودیت ‘ نصرانیت ‘ مجوسیت اور تمام بدعات و ضلال کی راہیں مراد ہیں یعنی کیونکہ یہ میرا راستہ سیدھا ہے پس تم اس کی اتباع کرو اور متفرق راستوں ‘ یہودیت وغیرہ کی اتباع نہ کرو۔ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیْلِہٖ 1 پھاڑنے والے درندوں کے ہاتھ تمہیں اللہ تعالیٰ کی سیدھی راہ یعنی دین اسلام سے جدا کردیں گے۔
روایت میں وارد ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک سیدھا خط کھینچا پھر فرمایا۔ یہ ہدایت کی راہ ہے اور اللہ تعالیٰ کا راستہ ہے پس ‘ اس پر چلو ‘ پھر اس کی ہر جانب چھ چھ خط ادھر ادھر ٹیڑھے جانے والے کھینچے۔ پھر فرمایا یہ راستے ہیں جن میں سے ہر ایک پر شیطان ہے۔ جو اس راستہ کی طرف بلا رہا ہے۔ پس تم ان راستوں سے بچو اور یہ آیت تلاوت فرمائی۔ (الحدیث) وَاَنَّ ہٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا … پھر ان بارہ راستوں میں سے ہر ایک سے چھ چھ راستے نکلے۔ پس یہ بہتّر بن گئے۔
ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ یہ آیات محکمات ہیں ‘ ان میں سے کوئی چیز کسی آسمانی کتاب میں منسوخ نہیں ہوئی اور کعب کہتے ہیں یہ آیات میں سب سے پہلے لکھی گئی ہیں۔ ذٰلِکُمْ وَصّٰکُمْ بِہٖ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ تاکہ تم بھی تقویٰ کے امیدوار بن سکو۔
لطیف نکتہ :
پہلی آیت میں تعقلون پھر دوسری میں تذکرون اور تیسری میں تتقون فرمایا۔ کیونکہ جب وہ سمجھیں گے تو سوچیں گے پھر اس کو یاد رکھیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ نصیحت حاصل کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں سے بچو۔
Ayah 6:154حوالہ تورات سے ان احکامات کی تصدیق :
آیت 154: ثُمَّ ٰاتَیْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ تَمَامًا یعنی تم کو خبر دی ہے کہ ہم نے دی یا اس کا عطف قل پر ہے کہ پھر کہو ہم نے دی یا ثُمَّ جملہ کے ساتھ وائو کے معنی میں ہے جیسا اس آیت میں ثم اللّٰہ شہید (یونس 46) عَلَی الَّذِیْٓ اَحْسَنَ اس پر جو محسن اور صالح ہو۔ مراد اس سے جنس محسن ہے اس کی دلیل قراءت عبداللہ ؓ علی الذین احسنوا۔ یا اس سے موسیٰ ( علیہ السلام) مراد ہیں۔ یعنی تکمیل کرامت کے لئے اس بندے پر جس نے تبلیغ میں خوب اطاعت اختیار کی اور ہر حکم میں اچھی تابعداری کی۔ وَتَفْصِیْلًا لِّکُلِّ شَیْئٍ دین میں جس چیز کی ان کو ضرورت تھی۔ اس کی بالتفصیل وضاحت وَہُدًی وَّرَحْمَۃً لَّعَلَّہُمْ یعنی ہم سے مراد بنی اسرائیل ہیں۔ بِلِقَآئِ رَبِّہِمْ یُؤْمِنُوْنَ تصدیق کرتے ہیں۔
Ayah 6:155کسے مزید تصدیق :
آیت 155: وَہٰذَا قرآن کِتٰبٌ اَنْزَلْنٰہُ مُبٰرَکٌ کثرت خیر والی فَاتَّبِعُوْہُ وَاتَّقُوْا اس کی مخالفت سے لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔
Ayah 6:156ناخواندگی کے عذر کا خاتمہ :
آیت 156: اَنْ تَقُوْلُوْا اس کراہت سے کہ تم کہو یا تاکہ تم یہ نہ کہو۔ اِنَّمَآ اُنْزِلَ الْکِتٰبُ عَلٰی طَآپفَتَیْنِ مِنْ قَبْلِنَا یعنی اہل تورات اور اہل انجیل۔ اس سے ثابت ہو رہا ہے کہ مجوس اہل کتاب نہیں ہیں۔ وَاِنْ کُنَّا عَنْ دِرَاسَتِہِمْ ان کتابوں کی تلاوت سے لَغٰفِلِیْنَ ۔ اس میں سے کسی چیز کا ہمیں علم نہ تھا۔ اِنْ مخففہ من المثقلہ ہے۔ اور لام اس لیے لائی گئی کہ اِنْ نافیہ سے یہ الگ معلوم ہو۔ اصل عبارت یہ ہے : انہ کنا عن دراستہم غافلین۔ ہٗ ضمیر شان ہے۔ خطاب اہل مکہ کو ہے اور مراد اس سے یہ ہے کہ ان پر کتاب اتار کر حجت تام کی گئی۔ تاکہ قیامت کے دن یہ عذر نہ کریں کہ تورات و انجیل تو ہم سے پہلے لوگوں کو دی گئی اور ہمیں تو ان کے مضامین کی خبر نہ تھی۔ (پس کس طرح ہم ایمان لاتے)
Ayah 6:157اُتار کر حجت تمام کردی :
آیت 157: اَوْ تَقُوْلُوْا اس خطرے سے کہ تم کہنے لگو۔ لَوْ اَنَّآ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْکِتٰبُ لَکُنَّآ اَہْدٰی مِنْہُمْ ایام عرب کو خوب یاد کرنے اور فہم کی مضبوطی کی بناء پر فَقَدْ جَآئَ کُمْ بَیِّنَۃٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ یعنی اگر تم اس بات میں سچے ہو جس کا تم اپنے نفوس کو وعدہ دیتے ہو۔ تو تمہارے پاس روشن بیان اور قطعی حجت و دلیل آچکی پس شرط حذف کردی یہ حذف بہت خوب ہے۔ وَہُدًی وَّرَحْمَۃٌ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ کَذَّبَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ اس کے بعد کہ وہ ان کی صحت و صداقت کو پہچان چکا۔ وَصَدَفَ عَنْہَا یعنی اس سے اعراض کیا۔ سَنَجْزِی الَّذِیْنَ یَصْدِفُوْنَ عَنْ ٰایٰتِنَا سُوْٓئَ الْعَذَابِ ۔ وہ مغلوبیت کی انتہاء ہے۔ بِمَا کَانُوْا یَصْدِفُوْنَ ان کے اعراض کی وجہ سے۔