6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsمدارک التنزیل

Ayah 6:41

بَلْ اِیَّاهُ تَدْعُوْنَ فَیَكْشِفُ مَا تَدْعُوْنَ اِلَیْهِ اِنْ شَآءَ وَ تَنْسَوْنَ مَا تُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 6:41 in the Quran reader

(نہیں) بلکہ (مصیبت کے وقت تم) اسی کو پکارتے ہو تو جس دکھ کے لئے اسے پکارتے ہو وہ اگر چاہتا ہے تو اس کو دور کردیتا ہے اور جن کو تم شریک بناتے ہو (اس وقت) انھیں بھول جاتے ہو

اس مصیبت میں تو اسی کو پکارتے ہو پھر کیوں بھاگتے ہو : آیت 41 : بَلْ اِیَّاہُ تَدْعُوْنَ بلکہ تم اسی کو ہی خالص پکارتے ہو۔ اپنے آلہہ کو چھوڑ کرفَیَکْشِفُ مَا تَدْعُوْنَ اِلَــیْہِ یعنی جس کو تم پکارتے ہو اس مصیبت کے ازالہ کے لیے۔ اِنْ شَآئَاگر وہ تم پر اپنا فضل فرمانے کا ارادہ رکھتے ہوں۔ وَتَنْسَوْنَ مَا تُشْرِکُوْنَتم اپنے معبودوں کو چھوڑ دیتے ہو۔ یا تم اس وقت اپنے معبودوں کا تذکرہ تک نہیں کرتے۔ کیونکہ تمہارے ذہن تمہارے رب کی یاد میں ڈھکے ہوتے ہیں۔ اس لیے کہ وہی نقصان کو دور کرنے کی قدرت رکھتے ہیں۔ اور کوئی نہیں۔ اور یہ بھی درست ہے کہ استخبار، اغیر اللّٰہ تدعون کے متعلق ہو۔ پھر مطلب اس طرح ہوگا ارایتکم اغیر اللّٰہ تدعون ان اتاکم عذاب اللّٰہ۔ تمہارا کیا خیال ہے کہ تم غیر اللہ کو پکارو گے اگر تم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب اتر پڑے ؟
Ayah 6:42

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰۤى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَخَذْنٰهُمْ بِالْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ یَتَضَرَّعُوْنَ Open ayah 6:42 in the Quran reader

اور ہم نے تم سے پہلے بہت سی امتوں کی طرف پیغمبر بھیجے (پھر انکی طرف نافرمانیوں کے سبب) ہم انھیں سختیوں اور تکلیفوں میں پکڑتے رہے تاکہ عاجزی کریں۔

آیت 42 : وَلَقَدْ اَرْسَلْنَآ اِلٰٓی اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِکَ رسولوں کو۔ یہ مفعول محذوف ہے۔ فکذبوہم۔ پس انہوں نے ان کو جھٹلا دیا۔ سختیاں جھکانے کے لئے اترتی ہیں : فَاَخَذْنٰہُمْ بِالْبَاْسَآئِ وَالضَّرَّآئِ تنگدستی اور جسمانی تکلیف کے ساتھ۔ یا البأساء سے قحط اور بھوک اور الضّراء سے مرض اور جسمانی نقصان اور مالی نقصان مراد ہے۔ لَعَلَّہُمْ یَتَضَرَّعُوْنَتاکہ وہ اپنے رب کے سامنے جھکیں۔ اور خشوع اختیار کریں اور اپنے گناہوں سے تائب ہوجائیں اس لیے کہ جب سختیاں اترتی ہیں تو دل میں خشوع پیدا ہوجاتا ہے۔
Ayah 6:43

فَلَوْ لَاۤ اِذْ جَآءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَ لٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:43 in the Quran reader

تو جب ان پر ہمارا عذاب آتا رہا کیوں نہیں عاجزی کرتے رہے۔ مگر ان کے تو دل ہی سخت ہوگئے تھے۔ اور جو کام وہ کرتے تھے شیطان ان کو (اُنکی نظروں میں) آراستہ کر دکھاتا تھا۔

ترکِ تضرع میں بھی عناد آگیا : آیت 43 : فَلَوْلَآ اِذْ جَآئَ ہُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا یعنی وہ توبہ کے ساتھ کیوں نہیں گڑ گڑاتے۔ معنی اس کا ان سے تضرع کی نفی ہے۔ گویا اس طرح کہا گیا کہ جب ان کے پاس ہماری پکڑ آئی تو انہوں نے تضرع اختیار نہ کی۔ لیکن اسلوب میں لولا لا کر ظاہر کردیا کہ ترک تضرع میں ان کے پاس سوائے عناد کے کوئی عذر نہیں۔ وَلٰکِنْ قَسَتْ قُلُوْبُہُمْ پھر ان ابتلا اءت سے انہوں نے کوئی نصیحت حاصل نہ کی۔ وَزَیَّنَ لَہُمُ الشَّیْطٰنُ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ اور وہ شیطان کے مزین کردہ اعمال کو پسند کرنے لگے۔
Ayah 6:44

فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا فَرِحُوْا بِمَاۤ اُوْتُوْۤا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ Open ayah 6:44 in the Quran reader

پھر جب انہوں نے اس نصیحت کو جو انکو کی گئی تھی فراموش کردیا تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھولدیے۔ یہاں تک کہ جب ان چیزوں سے جو ان کو دی گئی تھیں خوب خوش ہوگئے تو ہم نے انکو ناگہاں پکڑ لیا۔ اور وہ اس وقت مایوس ہو کر رہ گئے۔

آیت 44 : فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُکِّرُوْا بِہٖ یعنی تنگ دستی۔ تکالیف و امراض سے انہوں نے نصیحت حاصل نہ کی۔ اور برائیوں سے باز نہ آئے۔ فَتَحْنَا عَلَیْہِمْ اَبْوَابَ کُلِّ شَیْئٍ یعنی صحت ٗ وسعت مالی ٗ قسم قسم کی نعمتیں۔ قراءت : شامی نے فتَّحنا پڑھا ہے۔ حَتّٰی اِذَا فَرِحُوْا بِمَآ اُوْتُوْْا یعنی مال و نعمت اَخَذْنٰہُمْ بَغْتَۃً فَاِذَاہُمْ مُّبْلِسُوْنَ ناامید حیرت زدہ۔ ابلاس کا اصل معنی غم کی وجہ سے سر جھکانا۔ یا ہاتھ سے نکل جانے والی چیز پر ندامت سے سر جھکانا۔ اِذا ؔ مفاجات کے لیے آتا ہے۔
Ayah 6:45

فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ؕ وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 6:45 in the Quran reader

غرض ظالم لوگوں کی جڑ کاٹ دی گئی۔ اور سب تعریف خدائے رب العالمین ہی کو (سزاوار ہے)

آیت 45 : فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا تمام ظالم ہلاک کردیئے گئے اور ان میں سے کوئی نہ بچا۔ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ اس میں اعلان کیا گیا کہ ظالموں کی ہلاکت پر الحمدللہ کہنا واجب ہے۔ اور ظالموں کی ہلاکت عظیم نعمت ہے اور بہت بڑی قسم ہے دوسری تفسیر یہ ہے کہ تم ان لوگوں کی ہلاکت پر اللہ تعالیٰ کی حمد نہیں کرتے اللہ تعالیٰ کی حمد کرو۔
Ayah 6:46

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَخَذَ اللّٰهُ سَمْعَكُمْ وَ اَبْصَارَكُمْ وَ خَتَمَ عَلٰى قُلُوْبِكُمْ مَّنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِهٖ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ ثُمَّ هُمْ یَصْدِفُوْنَ Open ayah 6:46 in the Quran reader

(ان کافروں سے) کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر خدا تمہارے کان اور آنکھوں چھین لے اور تمہارے دلوں پر مہر لگا دے تو خدا کے سوا کونسا معبود ہے جو تمہیں یہ نعمتیں پھر بخشے ؟ دیکھو ہم کس کس طرح اپنی آیتیں بیان کرتے ہیں پھر بھی یہ لوگ روگردنی کرتے ہیں۔

اگر اللہ اندھا بہرہ کر دے اور عقل چھین لے تو کیا پھر بھی غیروں کی طرف بھاگو گے : آیت 46 : پھر اللہ تعالیٰ کی قدرت اور وحدانیت پر اس طرح استدلال فرمایا۔ قُلْ اَرَ ئَ یْتُمْ اِنْ اَخَذَ اللّٰہُ سَمْعَکُمْ وَاَبْصَارَکُمْ کہ تمہیں اندھا اور بہرہ کر دے۔ وَخَتَمَ عَلٰی قُلُوْبِکُمْپس تمہاری عقول کو چھین لے اور امتیاز کی قوت سلب کرلے۔ مَّنْ اِلٰــہٌ غَیْرُ اللّٰہِ یَاْتِیْکُمْ بِہٖ اس کو جو اس نے لیا۔ اور اس پر مہر لگا دی۔ : مَنْمبتدا ہے اور الٰہ اس کی خبر ہے۔ اور غیر اللہ الٰہ کی صفت ہے اس طرح یاتیکم بھی۔ یہ جملہ ارأیتم کے دو مفعولوں کی جگہ ہے اور جواب شرط محذوف ہے۔ اُنْظُرْ کَیْفَ نُصَرِّفُ ان کیلئے۔ الْاٰیٰتِ بار بار دہراتے ہیں۔ ثُمَّ ہُمْ یَصْدِفُوْنَپھر بھی وہ آیات کے ظاہر ہونے کے بعد اعراض کرنے والے ہیں۔ الصدوف کسی چیز سے منہ موڑنا۔
Ayah 6:47

قُلْ اَرَءَیْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُ اللّٰهِ بَغْتَةً اَوْ جَهْرَةً هَلْ یُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:47 in the Quran reader

کہو کہ بھلا بتاؤ تو اگر تم پر خدا کا عذاب بیخبر ی میں یا خبر آنے کے بعد آئے تو کیا ظالم لوگوں کے سواء کوئی اور بھی ہلاک ہوگا ؟

اگر اچانک کھلے بندوں عذاب آئے تو عذاب کا شکار تم ہی بنو گے : آیت 47 : قُلْ اَرَئَ یْتَکُمْ اِنْ ٰاتٰکُمْ عَذَابُ اللّٰہِ بَغْتَۃً اس طرح کہ اس کی کوئی علامت ظاہر نہ ہو۔ اَوْ جَہْرَۃً اس طرح کہ اس کی علامات ظاہر ہوں۔ حضرت حسن (رح) کہتے ہیں کہ رات کو یا دن کو۔ ہَلْ یُہْلَکُ اِلاَّ الْقَوْمُ الظّٰلِمُوْنَعذاب اور ناراضگی کی ہلاکت کا شکار وہ لوگ ہوتے ہیں۔ جنہوں نے اپنے رب کا انکار کر کے اپنے نفسوں پر ظلم کیا۔
Ayah 6:48

وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ١ۚ فَمَنْ اٰمَنَ وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 6:48 in the Quran reader

اور ہم جو پیغمبروں کو بھیجتے رہے ہیں تو خوش خبری سنانے اور ڈرانے کو۔ پھر جو شخص ایمان لائے اور نیکوکار ہوجائے تو ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ اندوہناک ہوں گے۔

انبیاء ( علیہ السلام) مبشر و منذر ہیں منہ مانگی آیات کے لئے نہیں : آیت 48 : وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلاَّ مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ بشارت دینے والے جنتوں کی اور ڈرانے والے آگ سے ایمان والوں اور کفار کو روشن دلائل اور واضح براہین کے بعد ہم انبیاء کو اس لیے نہیں بھیجتے کہ ان سے آیات کا مطالبہ کیا جائے۔ فَمَنْ ٰامَنَ وَاَصْلَحَپس جو شخص ایمان لایا اور اس نے درستگی کرلی۔ یعنی ایمان لانے پر ہمیشگی اختیار کی۔ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوْنَ ۔ قراءت : یعقوب نے فلا خوف پڑھا ہے۔
Ayah 6:49

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا یَمَسُّهُمُ الْعَذَابُ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 6:49 in the Quran reader

اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ان کی نافرمانیوں کے سبب انھیں عذاب ہوگا۔

فسق و کفر سبب عذاب ہے : آیت 49 : وَالَّذِیْنَ کَذَّبُوْابِاٰیٰتِنَا یَمَسُّہُمُ الْعَذَابُ یہاں چھونے والا فرمایا۔ گویا کہ وہ ایک زندہ چیز ہے جو دکھ ان کو چاہتا ہے پہنچاتا ہے۔ بِمَا کَانُوْا یَفْسُقُوْنَاپنے فسق کے باعث اور کفر کی وجہ سے اطاعت سے خارج ہوجانے کے سبب۔
Ayah 6:50

قُلْ لَّاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِیْ خَزَآئِنُ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَ لَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ اِنِّیْ مَلَكٌ١ۚ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ؕ اَفَلَا تَتَفَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 6:50 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے ہیں اور نہ (یہ کہ) میں غیب جانتا ہوں اور نہ تم سے یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں میں تو صرف اس حکم پر چلتا ہوں جو مجھے (خدا کی طرف سے) آتا ہے کہہ دو کہ بھلا اندھا اور آنکھ والا برابر ہوتے ہیں ؟ تو پھر تم غور کیوں نہیں کرتے ؟

میں نے کسی ایسی چیز کا دعویٰ نہیں کیا جو انسانوں کے لائق نہ ہو اور وہ نبوت ہے : آیت 50 : قُلْ لَّآ اَقُوْلُ لَکُمْ عِنْدِیْ خَزَآپنُ اللّٰہِ یعنی ان کی مخلوق کے مابین تقسیم اور اس کا رزق دینا۔ وَلَآ اَعْلَمُ الْغَیْبَیہ محل نصب میں عندی خزائن اللہ کے محل پر معطوف ہے۔ کیونکہ یہ بھی مقولہ ہے گویا اس طرح فرمایا لا اقول لکم ہذا القول ولا ہذا القول۔ کہ میں نہ تمہیں یہ بات کہتا ہوں اور نہ یہ بات وَلَآ اَقُوْلُ لَکُمْ اِنِّیْ مَلَکٌیعنی میں اس بات کا دعویدار نہیں جو عقلوں سے بعید تر ہے۔ کہ کسی انسان کو خزائن اللہ پر ملک حاصل ہو۔ اور علم غیب میسر آجائے۔ اور نہ فرشتہ ہونے کا دعویدار ہوں۔ اور میں تو اس بات کا دعویٰ کرتا ہوں جو بہت سے انسانوں کو حاصل ہوا اور وہ نبوت ہے۔ اِنْ اَتَّبِعُ اِلاَّ مَا یُوْحٰٓی اِلَیَّیعنی میں تمہیں اس بات ہی کی اطلاع دیتا ہوں جو مجھ پر اتاری جاتی ہے۔ قُلْ ہَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰی وَالْبَصِیْرُیہ ضال اور ہدایت یافتہ کی مثال ہے یا وحی کی اتباع کرنے اور نہ کرنے والوں کی مثال ہے۔ یا یعنی جو درست بات کا دعویدار ہے یعنی نبوت یا جو ناممکن بات الوہیت کا دعویٰ کرنے والے کی مثال ہے۔ اَفَلَا تَتَفَکَّرُوْنَ پس تم اندھوں کی طرح گمراہ نہ بنو۔ نمبر 1۔ یا تم اچھی طرح جانو کہ میں نے کسی ایسی چیز کا دعویٰ نہیں کیا جو انسانوں کے لائق نہ ہو۔ نمبر 2۔ پس تم اچھی طرح سمجھ لو کہ وحی کی اتباع کرنے کے بغیر مجھے کوئی چارئہ کار نہیں۔
Ayah 6:51

وَ اَنْذِرْ بِهِ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْ یُّحْشَرُوْۤا اِلٰى رَبِّهِمْ لَیْسَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیْعٌ لَّعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 6:51 in the Quran reader

اور جو لوگ خوف رکھتے ہیں کہ اپنے پروردگار کے روبرو حاضر کئے جائیں گے (اور جانتے ہیں کہ) اس کے سوا نہ تو ان کا کوئی دوست ہوگا اور نہ سفارش کرنے والا۔ ان کو اس (قرآن) کے ذریعے سے نصیحت کرو تاکہ پرہیزگار بنیں۔

میں تو آخر بلا ڈر والوں کے لئے منذر ہوں : آیت 51 : وَ اَنْذِرْ بِہِ جو آپ کی طرف وحی کی گئی ہے۔ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْ یُّحْشَرُوْٓا اِلٰی رَبِّہِمْوہ مسلمان ہیں جو کہ بعث بعد الموت کے قائل ہیں۔ مگر وہ عمل میں کوتاہی کرنے والے ہیں۔ پس وہ ان کو ڈرائیں وحی کے ذریعے یا نمبر 2۔ اہل کتاب مراد ہیں کیونکہ وہ بھی بعث بعد الموت کے قائل تھے۔ لَیْسَ لَہُمْ مِّنْ دُوْنِہٖ وَلِیٌّ وَّلَا شَفِیْعٌ یہ یحشروا سے موضع حال میں ہے تقدیر عبارت یہ ہے یخافون ان یحشروا غیر منصورین ولا مشفوعاً لہم۔ وہ ڈرتے ہیں کہ ان کو اٹھایا جائے اس حالت میں کہ نہ ان کی مدد کی جائے اور نہ ان کا کوئی سفارشی ہو۔ لَّعَلَّہُمْ یَتَّقُوْنَ زمرئہ متقین میں داخل ہوجائیں۔
Ayah 6:52

وَ لَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ١ؕ مَا عَلَیْكَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّ مَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَیْهِمْ مِّنْ شَیْءٍ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُوْنَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 6:52 in the Quran reader

اور جو لوگ صبح وشام اپنے پروردگار سے دعا کرتے ہیں (اور) اسکی ذات کے طالب ہیں انکو (اپنے پاس سے) مت نکالو۔ ان کے حساب (اعمال) کی جوابدہی تم پر کچھ نہیں اور تمہارے حساب کی جواب دہی ان پر کچھ نہیں (پس ایسا نہ کرنا) اگر انکو نکالو گے تو ظالموں میں ہوجاؤ گے۔

فقراء صحابہ ؓ کو اپنے پاس سے ہٹانے کی ممانعت : آیت 52 : جب نبی اکرم ﷺ کو حکم ملا کہ غیر متقین کو ڈرائیں۔ تاکہ وہ متقین بن جائیں۔ اس کے بعد متقین کو قریب کرنے کا حکم دیا۔ اور دور ہٹانے سے روک دیا گیا۔ ارشاد فرمایا۔ وَلَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ بِالْغَدٰوۃِ وَالْعَشِیِّان کی تعریف فرمائی کہ وہ اپنے رب کی پکار میں تسلسل قائم رکھنے والے ہیں۔ (دعا سے عبادت مراد ہے) اور اس پر مواظبت اختیار کرنے والے ہیں۔ یہاں العشی اور الغداۃ کا ذکر صرف اظہار دوام کے لیے ہے۔ یا اس کا معنی صبح وعصر کی نماز ادا کرنے والے ہیں یا پانچوں نمازیں ادا کرنے والے ہیں۔ قراءت : شامی نے الغُدْوَۃَ پڑھا ہے اور عبادت میں ان کی اخلاص کی نشان دہی اس فرمان سے کی۔ یُرِیْدُوْنَ وَجْہَہٗ الوجہ بول کر ذات شیٔ سے تعبیر کی گئی اور اس کی حقیقت یہ ہے کہ یہ فقیر صحابہ کرام بلال صہیب عمارؓ اور ان جیسے دیگر حضرات کے متعلق اتری۔ جبکہ ان کو رؤسائے مشرکین نے کہا اگر تم ان حقیر لوگوں کو اپنے پاس سے ہٹا دیتے تو ہم آپ کے پاس بیٹھتے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا۔ ما انا بطارد المؤمنین۔ پھر انہوں نے کہا کہ ایک دن ان کا مقرر کردیں اور ایک دن ہمارا۔ اس کے متعلق ایک تحریر لکھ دیں اس پر آپ ﷺ نے حضرت علی ؓ کو بلایا تاکہ وہ لکھیں۔ پس فقراء کھڑے ہوئے اور ایک طرف بیٹھ گئے۔ تو یہ آیت اتری۔ آپ ﷺ نے کاغذ کو پھینک دیا اور فقراء کے پاس تشریف لائے۔ اور ان کو گلے لگایا۔ (اسباب نزول واحدی) مَا عَلَیْکَ مِنْ حِسَابِہِمْ مِّنْ شَیْئٍ یہ اس آیت کی طرح ہے جو سورة شعراء آیت 113 ہے ان حسابہم الاعلی ربی۔ وَّمَا مِنْ حِسَابِکَ عَلَیْہِمْ مِّنْ شَیْئٍ اور اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ کفار نے ان کے دین اور اخلاص میں طعنہ زنی کی تھی۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کا حساب انہیں کو لازم پکڑنے والے ہیں۔ وہ تیری طرف بڑھ کر نہ آئے گا۔ جیسا کہ تمہارا حساب تم پر ہے وہ تمہاری طرف بڑھ کر نہ جائے گا۔ یہ جواب نفی ہے : فَتَطْرُدَہُمْ یہ جواب نفی ہے اور وہ نفی ما علیک من حسابہم ہے۔ فَتَکُوْنَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَیہ نہی کا جواب ہے اور وہ نہی ولا تطرد ہے اور یہ بھی درست ہے کہ فتطردہم پر اس کا عطف ہے بطور تسبب کے۔ کیونکہ ان کا ظالم ہونا ان کے ہٹانے کا مسبب ہے۔ اس صورت میں ترجمہ یہ ہوگا۔ مسلمانوں کو اپنے پاس سے نکالیں اور ظالموں میں سے ہوجائیں۔ مگر نہی کا جواب زیادہ بہتر ہے۔ اس صورت میں ترجمہ یہ ہوگا۔ ان کو اپنے پاس سے نہ نکالو ورنہ ظالموں میں سے ہوجائو گے۔
Ayah 6:53

وَ كَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّیَقُوْلُوْۤا اَهٰۤؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنْۢ بَیْنِنَا١ؕ اَلَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِالشّٰكِرِیْنَ Open ayah 6:53 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے بعض لوگوں کی بعض سے آزمائش کی ہے کہ (جو دولت مند ہیں وہ غریبوں کی نسبت) کہتے ہیں ' کیا یہی لوگ ہیں جن پر خدا نے ہم سے فضل کیا ہے (خدا نے فرمایا) بھلا خدا شکر کرنیوالوں سے واقف نہیں ؟

کثرتِ دنیا علامت خیر نہیں بلکہ آزمائش ہے : آیت 53 : وَکَذٰلِکَ فَتَنَّا بَعْضَہُمْ بِبَعْضٍ اور اس آزمائش کی طرح ہم نے اغنیاء کو فقراء کے ذریعے آز مایا۔ لِّیَقُوْلُوْا یعنی مالدار۔ اَہٰٓؤُلَآئِ مَنَّ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِّنْم بَیْنِنَا یعنی ان پر اللہ تعالیٰ نے ایمان کا انعام کیا۔ حالانکہ ہم ان سے بڑھ کر ایمان والے ہیں۔ اور وہ فقراء ہیں۔ اس میں اس بات سے انکار کیا گیا کہ ایسے لوگ حق پر ہونگے۔ اور ہم میں سے صرف ان پر بھلائی کا احسان کردیا جائے : لَـوْکَانَ خَیْرًا مَّا سَبَقُوْنَآ اِلَــیْہِ 1 (الاحقاف : 11) اگر اس دین میں کوئی بھلائی ہوتی تو پھر یہ لوگ ہم سے پہلے قبول نہ کرتے۔ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِاَعْلَمَ بِالشّٰکِرِیْنَ کہ کون اس کی نعمتوں کا شکریہ ادا کرتا ہے۔
Ayah 6:54

وَ اِذَا جَآءَكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِنَا فَقُلْ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ١ۙ اَنَّهٗ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ سُوْٓءًۢا بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَصْلَحَ فَاَنَّهٗ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 6:54 in the Quran reader

اور جب تمہارے پاس ایسے لوگ آیا کریں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو ( ان سے) سلام علیکم کہا کرو۔ خدا نے اپنی ذات (پاک) پر رحمت کو لازم کرلیا ہے کہ جو کوئی تم میں سے نادانی سے کوئی بری حرکت کر بیٹھے پھر اس کے بعد توبہ کرلے اور نیکوکار ہوجائے تو وہ بخشنے والا مہربان ہے

شانِ فقراء اوّل ان کی خوشدلی کیلئے فرمایا پھر رحمت کی بشارت دی : آیت 54 : وَاِذَا جَآئَ کَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِنَا فَقُلْ سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ اس بات میں خواہ اس بات کا تذکرہ کہ اللہ تعالیٰ کا سلام ان کو پہنچا دیں اور خواہ اس کا کہ ان کے اکرام میں ان کو سلام کہنے میں ابتداء کریں اور ان کے دلوں کی خوشی کے لیے اسی طرح یہ ارشاد۔ کَتَبَ رَبُّکُمْ عَلٰی نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ یہ بھی من جملہ ان باتوں میں سے ہے جو ان کو کہی گئی۔ تاکہ وہ پیغمبر ﷺ ان کو اللہ تعالیٰ کی وسعت رحمت کی خوشخبری دیں۔ اور ان کی قبولیت توبہ کی بشارت دیں۔ اب معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے ساتھ رحمت کا پکا وعدہ فرمایا ہے۔ اَنَّہ ضمیر شان ہے۔ مَنْ عَمِلَ مِنْکُمْ سُوْئً ام کوئی گناہ بِجَہَالَۃٍاس نے اس حالت میں عمل کیا ہے کہ وہ اس کے نقصان سے ناواقف ہے یا اس کو جاہل اس لیے کہا۔ کیونکہ اس نے اطاعت پر معصیت کو ترجیح دی۔ ثُمَّ تَابَ مِنْم بَعْدِہٖاس برائی کے بعد یا عمل کے بعد۔ وَاَصْلَحَاور مخلصانہ توبہ کی۔ قراءت و نحو : فَاِنَّہٗ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌشامی و عاصم نے اَنّہٗ کو فاَنَّہٗ پڑھا ہے۔ نمبر 1۔ اَنّہٗ کی صورت میں یہ الرحمت سے بدل ہے۔ نمبر 2۔ اور دوسری صورت میں مبتدأ محذوف کی خبر ہے پس اسکی شان یہ ہے کہ وہ غفور رحیم ہے۔ اِنّہٗ ، فَاِنّہ مدنی نے پڑھا۔ اول بدل الرحمت ہے اور دوسرا مبتداء اِنَّہٗ فَاِنَّہٗ دوسروں نے مستأنفہ پڑھا ہے۔ گویا رحمت کے متعلق استفسار کیا گیا تو جواب دیا گیا۔ انہ من عمل منکم۔
Ayah 6:55

وَ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَ لِتَسْتَبِیْنَ سَبِیْلُ الْمُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 6:55 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں (تاکہ تم لوگ ان پر عمل کرو) اور اس لئے کہ گناہ گاروں کا راستہ ظاہر ہوجائے

مجرموں کے راستہ کی وضاحت تاکہ ہر ایک دیکھ کر چلے : آیت 55 : وَکَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَلِتَسْتَبِیْنَ یستبین حمزہ اور علی اور ابوبکر نے پڑھا ہے۔ سَبِیْلُ الْمُجْرِمِیْنَسبیل کو نصب کے ساتھ مدنی نے پڑھا۔ جبکہ دوسروں نے رفع کے ساتھ پڑھا ہے۔ رفع کی صورت میں تستبین کو یاءؔ اور تاؔ دونوں سے پڑھا جاسکتا ہے۔ کیونکہ یہ مذکر اور مؤنث دونوں طرح مستعمل ہے۔ اور جب منصوب ہو تو تا سے خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہوگا۔ کہا جاتا ہے استبان الامرو تبین واستبنتہٗ وتبینتہٗ گویا استبان اور تبین ہم معنی ہیں۔ مطلب یہ ہوگا۔ ایسی واضح تفصیل ہم آیات قرآن کی کرتے ہیں اور ان مجرموں کے سلسلہ احوال میں ان کا خلاصہ ذکر کرتے ہیں۔ جن کے دل پر مہر لگ چکی ہے۔ اور ان لوگوں کے سامنے بھی ذکر کرتے ہیں۔ جن کے اسلام قبول کرنے کی امید ہوتی ہے۔ تاکہ ان کا راستہ واضح ہوجائے اور ہر فریق اپنی اپنی مرضی پر عمل پیرا ہوجائے۔ ہم نے یہ تفصیل اسی خاطر کی ہے۔
Ayah 6:56

قُلْ اِنِّیْ نُهِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَتَّبِعُ اَهْوَآءَكُمْ١ۙ قَدْ ضَلَلْتُ اِذًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 6:56 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ کفار سے) کہہ دو کہ جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو مجھے ان کی عبادت سے منع کیا گیا ہے۔ (یہ بھی) کہہ دو کہ میں تمہاری خواہشوں کی پیروی نہیں کروں گا ایسا کرو تو گمراہ ہوجاؤں اور ہدایت یافتہ لوگوں میں سے نہ رہوں۔

میں تمہاری خواہشات پر نہیں چل سکتا ‘ وہ تو گمراہی ہے : آیت 56 : قُلْ اِنِّیْ نُہِیْتُ اَنْ اَعْبُدَالَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ یعنی مجھے عقل اور سمعی دلائل کے ذریعے ان معبودوں کی عبادت سے جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو منع کردیا گیا اور روک دیا گیا۔ قُلْ لَّآ اَتَّبِعُ اَہْوَآئَ کُمْ یعنی میں تمہارے اس طریقہ پر چلنے والا نہیں جس پر تم اپنے دین کے سلسلے میں چل رہے ہو۔ جس میں محض اتباع ہواء ہے۔ نہ کہ اتباع دلیل۔ دراصل اس میں وہ سبب ذکر کردیا جس کی وجہ سے وہ گمراہی میں مبتلاء ہوئے قَدْ ضَلَلْتُ اِذًایعنی میں اگر تمہاری خواہشات پر چلنے لگوں تو پھر میں گمراہ ہوجائوں گا۔ وَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُہْتَدِیْنَ ذرہ بھر بھی۔ یعنی بیشک تم اسی طرح ہو۔
Ayah 6:57

قُلْ اِنِّیْ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ كَذَّبْتُمْ بِهٖ١ؕ مَا عِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِهٖ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ یَقُصُّ الْحَقَّ وَ هُوَ خَیْرُ الْفٰصِلِیْنَ Open ayah 6:57 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں تو اپنے پروردگار کی دلیل روشن پر ہوں اور تم اس کی تکذیب کرتے ہو۔ جس چیز (یعنی عذاب) کیلئے تم جلدی کر رہے ہو وہ میرے پاس نہیں ہے (ایسا) حکم اللہ ہی کے اختیار میں ہے وہ سچی بات بیان فرماتا ہے وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے

آیت 57 : جب اس بات کی پچھلی آیت میں نفی فرما دی۔ کہ خواہشات تو قابل اتباع نہیں۔ تو جس کی اتباع لازم تھی اس کو فرمایا۔ قُلْ اِنِّیْ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنْ رَّبِّیْ یعنی میں اپنے رب کی معرفت کے سلسلہ میں واضح دلیل کے ساتھ کہتا ہوں کہ اس کے سواء کوئی معبود نہیں۔ وَکَذَّبْتُمْ بِہٖ اس طرح کہ تم نے دوسروں کو اس کا شریک بنایا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ میں اپنے رب کی طرف سے دلیل پر ہوں اور وہ قرآن ہے اور تم نے اس بینہ کو جھٹلا دیا ہے۔ یہاں ضمیر مذکر بتاویل برہان بیان یا قرآن مذکر ہونے کی وجہ سے ضمیر مذکر لائے۔ پھر اس کے بعد ایسی بات ذکر کی جو دلالت کر رہی ہے کہ وہ عذاب کے مستحق ہوچکے ہیں فرمایا۔ مَا عِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِہٖیعنی وہ عذاب جو تم اپنی اس طرح کی باتوں میں جلد طلب کرتے ہو۔ جیسا سورة انفال آیت 32۔ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَاحِجَارَۃً مِّنَ السَّمَآئِ ۔ اِنِ الْحُکْمُ اِلاَّ لِلّٰہِ تمہارے عذاب کو مؤخر کرنے کے متعلق یَقُصُّ الْحَقَّحجازی ٗ عاصم نے پڑھا ہے یعنی وہ جو فیصلہ کرتے ہیں اس میں حق و حکمت کا لحاظ رکھتے ہیں۔ اور اس کا اندازہ فرماتے ہیں۔ باقی قراء نے اس کو یَقْص الْحَقَّ وہ حق کا فیصلہ کرتا ہے جس میں وہ جلدی یا تاخیر کرتے ہیں۔ پس الحق سے مراد قضاء ہے پس الحق اس صورت میں یقضی کے مصدر کی صفت ہے۔ وَہُوَ خَیْرُ الْفٰصِلِیْنَ وہ حق فیصلہ کرنے والوں سے ہے۔ الفصل قضاء ہی کو کہتے ہیں۔ اور یا کا گرنا التقائے ساکنین کی وجہ سے اتباع لفظ کی خاطر ہے۔
Ayah 6:58

قُلْ لَّوْ اَنَّ عِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِهٖ لَقُضِیَ الْاَمْرُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 6:58 in the Quran reader

کہہ دو کہ جس چیز کیلئے تم جلدی کر رہے ہو اگر وہ میرے اختیار میں ہوتی تو مجھ میں اور تم میں فیصلہ ہوچکا ہوتا اور خدا ظالموں سے خوب واقف ہے

میری قدرت میں عذاب نہیں وہ جب چاہے اتارے : آیت 58 : قُلْ لَّوْ اَنَّ عِنْدِیْ یعنی میری قدرت و امکان میں مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِہٖیعنی عذاب لَقُضِیَ الْاَمْرُ بَیْنِیْ وَبَیْنَکُمْتو تم جلدی ہلاک ہوجائو غضب الٰہی کی وجہ سے۔ وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِالظّٰلِمِیْنَپس وہ تم پر ایسے وقت عذاب اتارے گا جس میں وہ جانتا ہے کہ وہ زیادہ روکنے والا ہے۔
Ayah 6:59

وَ عِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ وَ مَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَةٍ اِلَّا یَعْلَمُهَا وَ لَا حَبَّةٍ فِیْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَ لَا رَطْبٍ وَّ لَا یَابِسٍ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 6:59 in the Quran reader

اور اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جن کو اس کے سواء کوئی نہیں جانتا اور اسے جنگلوں اور دریاوں کی سب چیزوں کا علم ہے اور کوئی پتا نہیں چھڑتا مگر وہ اس کو جانتا ہے اور زمین کے اندھیروں میں کوئی دانا اور کوئی ہری اور سوکھی چیز نہیں ہے مگر کتاب روشن میں (لکھی ہوئی) ہے

وہ خود مغیبات کا علم رکھنے والا ہے : آیت 59 : وَعِنْدَہٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُہَآ اِلاَّ ہُوَ المفاتح جمع مفتح ہے اور وہ مفتاح کو کہتے ہیں۔ دوسرا قول یہ بھی ہے کہ مفاتیح سے مراد خزائن ٗ عذاب اور رزق ہیں۔ تیسرا قول، لوگوں کی نگاہوں سے جو چیزیں غائب ہیں۔ مثلاً ثواب عقاب ٗ آجال ٗ احوال ان کے خزائن مراد ہیں۔ اور ان پوشیدہ چیزوں کو مفاتیح بطور استعارہ کہا گیا۔ کیونکہ کھولنے والا چابیوں کے ذریعے ہی بند خزانوں کے اندر مخفی اشیاء تک پہنچ سکتا ہے۔ پس جس کو چابیوں کا علم ہوگیا۔ اور ان کے کھولنے کی کیفیت بھی معلوم ہوگئی۔ وہ ان تک پہنچ جائے گا۔ پس مراد یہ ہے کہ وہ خود ہی ان مغیبات کا علم رکھنے والا ہے۔ کوئی دوسرا وہاں تک رسائی نہیں پاسکتا۔ اس شخص کی طرح جس کے پاس خزائن کی چابیاں ہوں اور وہ ان کا کھولنا بھی جانتا ہو۔ وہ ان مخازن میں جو کچھ ہے وہ ان تک پہنچنے والا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے پاس غیب کے خزائن ہیں اور تیرے پاس عیب کے خزائن ہیں پس جو اس کے غیب پر ایمان لے آیا تو اللہ تعالیٰ اس کے عیب پر پردہ ڈال دیں گے۔ وَیَعْلَمُ مَا فِی الْبَرِّ نباتات اور جانور ہیں۔ وَالْبَحْرِیعنی حیوانات اور جواہر وغیرہ۔ وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَۃٍ اِلاَّ یَعْلَمُہَا مَا نفی کے لیے ہے اور مِنْؔ استغراق کے لیے یعنی وہ ان کی تعداد اور احوال گرنے سے پہلے اور گرنے کے بعد جانتا ہے۔ وَلَا حَبَّۃٍ فِیْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَّلَا یَابِسٍ اس کا عطف ورقۃٍ پر ہے اور اس کے حکم میں داخل ہے۔ اِلاَّ فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْنٍیہ جملہ گویا الایعلمہا کے لیے بطور تکریر لائے۔ کیونکہ الایعلمہا اور الافی کتاب مبین کا معنی ایک ہے اور وہ علم الٰہی یا لوح محفوظ ہے۔
Ayah 6:60

وَ هُوَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰىكُمْ بِالَّیْلِ وَ یَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ ثُمَّ یَبْعَثُكُمْ فِیْهِ لِیُقْضٰۤى اَجَلٌ مُّسَمًّى١ۚ ثُمَّ اِلَیْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ یُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 6:60 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جو رات کو (سونے کی حالت میں) تمہاری روح قبض کرلیتا ہے اور جو کچھ تم دن میں کرتے ہو اس سے خبر رکھتا ہے پھر تمہیں دن کو اٹھا دیتا ہے تاکہ (یہی سلسلہ جاری رکھ کر زندگی کی) معین مدت پوری کردی جائے پھر تم (سب) کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے (اس روز) وہ تم کو تمہارے عمل جو کرتے ہو (ایک ایک کرکے) بتائے گا

تم ہر وقت اس کے احاطہ علم وقدرت میں ہو : آیت 60 : پھر کفار کو اس طرح مخاطب فرمایا۔ وَہُوَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰکُمْ بِالَّیْلِ وہ تمہاری روحوں کو نیند میں تصرف سے روک دیتا ہے۔ وَیَعْلَمُ مَاجَرَحْتُمْ بِالنَّہَارِجو تم کماتے ہو دن میں گناہ وغیرہ۔ ثُمَّ یَبْعَثُکُمْ فِیْہِپھر وہ تمہیں دن میں بیدار کرتا ہے۔ یا تقدیر عبارت اس طرح ہے۔ ثم یبعثکم فی النہار ویعلم ماجرحتم فیہ۔ پھر وہ دن میں تم کو اٹھاتا ہے۔ اور جانتا ہے جو تم دن میں کرتے ہو۔ کسب کو مقدم اس لیے کردیا کیونکہ وہ اہم ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ہمارے ان کاموں کو نہیں جانتا جو رات کے دوران کرتے ہیں۔ اور نہ یہ مطلب ہے کہ وہ دن میں ہماری ارواح کو قبض نہیں کرتا۔ نکتہ : کسی چیز کا خاص طور پر ذکر کرنے سے ماسواء کی نفی نہیں ہوجاتی۔ لِیُقْضٰٓی اَجَلٌ مُّسَمًّیتاکہ مدت اعمال کو پورا کیا جائے۔ قوائے حواس کو قبض کر کے واپس کرنے والا ارواح کو قبض کے بعد واپس کرے گا : ثُمَّ اِلَیْہِ مَرْجِعُکُمْبعث بعد الموت یعنی موت کے بعد تمہارا لوٹناثُمَّ یُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ اپنے دن رات میں بعض اہل کلام نے کہا ہے کہ ہر حواس کی ایک خاص روح ہے۔ جو نیند کے وقت قبض کی جاتی ہے۔ باقی۔ وہ روح جس پر زندگی کا دارو مدار ہے۔ وہ صرف اس وقت قبض کی جاتی ہے جب کہ مقرر وقت آتا ہے۔ یہاں ارواح سے مراد وہ قوٰی اور معانی جن سے وہ حواس قائم ہیں۔ جن سے شنوائی ٗ بصارت ٗ اخذ ٗ مشی ٗ سونگھنا وغیرہ ہوتا ہے اور ثم یبعثکم فیہ کا مطلب بیدار کرنا ہے اور حواس کی ارواح کا واپس کرنا ہے۔ اس آیت سے منکرین بعث پر استدلال کیا جاتا ہے۔ کہ جب نیند سے حواس کی ارواح غائب ہوجاتی ہیں ان کو اللہ تعالیٰ لوٹاتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جانوں کی ارواح قبض کرنے کے بعد ان کی طرف ارواح کو لوٹائیں گے۔
Ayah 6:61

وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ وَ یُرْسِلُ عَلَیْكُمْ حَفَظَةً١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَ هُمْ لَا یُفَرِّطُوْنَ Open ayah 6:61 in the Quran reader

اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے اور تم پر نگہبان مقرر کئے رکھتا ہے یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت آتی ہے تو ہمارے فرشتے اس کی روح قبض کرلیتے ہیں اور کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے

صحائف کا لکھنا برائی سے بچنے میں معاون ہے : آیت 61 : وَہُوَ الْقَاہِرُ فَوْقَ عِبَادِہٖ وَیُرْسِلُ عَلَیْکُمْ حَفَظَۃً محافظ فرشتے جو تمہارے اعمال کی نگرانی کرتے ہیں۔ وہ کراماً کاتبین ہیں۔ تاکہ برائی سے بچنے کے لیے یہ چیز زیادہ معاون بنے۔ جب وہ اس بات کو سوچیں۔ کہ ان کے صحائف تمام انسانوں کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔ حَتّٰی اِذَا جَآئَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ حَتّٰی حفظ اعمال کی غایت کو بیان کرنے کے لیے ہے۔ یعنی فرشتوں کی یہ عادت مکلفین کے ساتھ پوری زندگی رہتی ہے۔ یہاں تک کہ موت ان پر آ کر طاری ہوجاتی ہے۔ تَوَفَّتْہُ رُسُلُنَا اس کی روح کو قبض کرلیتے ہیں۔ اور وہ ملک الموت اور اس کے معاون ہیں۔ قراءت : توفیہ واستوفیہ امالہ کے ساتھ حمزہ نے پڑھا ہے۔ رُسْلنا سین کے جزم کے ساتھ ابوعمرو نے پڑھا ہے۔ وَہُمْ لَا یُفَرِّطُوْنَ وہ سستی و تاخیر نہیں کرتے۔
Ayah 6:62

ثُمَّ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ١ؕ اَلَا لَهُ الْحُكْمُ١۫ وَ هُوَ اَسْرَعُ الْحٰسِبِیْنَ Open ayah 6:62 in the Quran reader

پھر (قیامت کے دن تمام) لوگ اپنے مالک برحق خدا تعالیٰ کے پاس واپس بلائے جائیں گے سن لو کہ حکم اسی کا ہے اور وہ نہایت جلد حساب لینے والا ہے

تمام معاملات سچے مولا کے پاس : آیت 62 : ثُمَّ رُدُّوْٓا اِلَی اللّٰہِ اس کے حکم اور اس کے بدلہ کی طرف یعنی مرنے والوں کو ملائکہ کے لوٹانے سے اللہ کی بارگاہ کی طرف لوٹایا جائے گا۔ مَوْلٰـہُمُ جو ان کا ایسا مالک جو ان کے امور کا متولی ہے۔ اَلْحَقِّوہ ایسا عادل ہے کہ سچا ہی فیصلہ کرتا ہے۔ یہ دونوں لفظ اللہ کی صفات ہیں۔ اَلَا لَہُ الْحُکْمُ اس دن کسی دوسرے کا اس میں ذرہ بھر حکم نہ ہوگا۔ وَہُوَ اَسْرَعُ الْحٰسِبِیْنَ اس کو ایک کا حساب دوسرے کے حساب سے مشغول نہیں کرسکتا۔ وہ تمام مخلوق کا حساب بکری دوہنے کے وقت کے برابر لے لے گا۔ محاورہ الرد الی من ربّاک خیر من البقاء مع من اذاک تیرا اس کے پاس لوٹنا جس نے تیری تربیت کی اس سے بہت بہتر ہے کہ تو اس کے ساتھ رہے جس نے تجھے ایذا دی ہو۔
Ayah 6:63

قُلْ مَنْ یُّنَجِّیْكُمْ مِّنْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ تَدْعُوْنَهٗ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةً١ۚ لَئِنْ اَنْجٰىنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 6:63 in the Quran reader

کہو بھلا تم کو جنگلوں اور دریاؤں کے اندھیروں سے کون مخلصی دیتا ہے (جب) کہ تم اس سے عاجزی اور نیاز پنہانی سے پکارتے ہو (اور کہتے ہو) اگر خدا ہم کو اس تنگی سے نجات بخشے تو ہم اسکے بہت شکرگزار ہوں

اندھیروں میں پھنستے ہو تو اسی کو بلاتے ہو : آیت 63 : قُلْ مَنْ یُّنَجِّیْکُمْ ۔ قراءت۔ ابن عباس ؓ نے ینْجیکم بغیر تشدید پڑھا ہے۔ مِّنْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ دونوں کے خوفناک اور ہولناک مواقع سے مجاز ہے دوسرا قول ظلمات البر سے مراد گرجیں اور ظلمات البحر سے امواج بحر مراد ہیں۔ جبکہ دونوں رات اور بادل میں ہوں۔ تَدْعُوْنَہٗ ۔ : ینجیکم کی ضمیر مفعولی سے حال ہے۔ تَضَرُّعًا اس حال میں کہ تم گڑ گڑانے کا اظہار کر رہے ہوتے ہو۔ یہ مصدر ہے حال واقع ہے اسی طرح وَّخُفْیَۃً بھی مصدر و حال ہے یعنی اپنے دلوں میں چھپانے والے قراءت : تمام قرآن میں خُفْیَۃ ً کو خِفْیَۃ ً ابوبکر نے پڑھا ہے۔ دراصل یہ دونوں لغتیں ہیں۔ لَپنْ اَنْجٰنَا۔ قراءت : عاصم نے پڑھا ہے حمزہ وعلی نے امالہ سے پڑھا۔ اور بقیہ قراء نے انجیتنا پڑھا مطلب یہ ہے وہ کہتے ہیں کہ اگر تو نے ہم کو خلاصی دی۔ مِنْ ہٰذِہٖان اندھیروں سے۔ لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الشّٰکِریْنَ اللہ تعالیٰ کے لیے۔
Ayah 6:64

قُلِ اللّٰهُ یُنَجِّیْكُمْ مِّنْهَا وَ مِنْ كُلِّ كَرْبٍ ثُمَّ اَنْتُمْ تُشْرِكُوْنَ Open ayah 6:64 in the Quran reader

کہو کہ خدا ہی تم کو اس (تنگی) سے اور ہر سختی سے نجات بخشتا ہے پھر (تم) اس کے ساتھ شرک کرتے ہو

نجات وہ دے اور شریک بھی اسی کا بنائو۔ تعجب ہے : آیت 64 : قُلِ اللّٰہُ یُنَجِّیْکُمْ تشدید کے ساتھ کوفی نے پڑھا۔ مِّنْہَایعنی اندھیرے وَمِنْ کُلِّ کَرْبٍغم و رنج ثُمَّ اَنْتُمْ تُشْرِکُوْنَتم شکر ادا نہیں کرتے (بلکہ شرک کرتے ہو) ۔
Ayah 6:65

قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلٰۤى اَنْ یَّبْعَثَ عَلَیْكُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِكُمْ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِكُمْ اَوْ یَلْبِسَكُمْ شِیَعًا وَّ یُذِیْقَ بَعْضَكُمْ بَاْسَ بَعْضٍ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّهُمْ یَفْقَهُوْنَ Open ayah 6:65 in the Quran reader

کہ دو کہ وہ (اس پر بھی) قدرت رکھتا یے کہ تم پر اوپر کی طرف سے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے عذاب بھیجے یا تمہیں فرقہ فرقہ کر دے اور ایک کو دوسرے (سے لڑا کر آپس) کی لڑائی کا مزا چکھا دے دیکھو ہم اپنی آیتوں کو کس کس طرح بیان کرتے ہیں تاکہ یہ لوگ سمجھیں

ہر طرح کی پکڑ پھر اسے ہر وقت کامل قدرت ہے : آیت 65 : قُلْ ہُوَ الْقَادِرُ وہ وہی ذات ہے کہ جس کا قادر ہونا تمہیں معلوم ہے یا قادر کا معنی کامل القدرت اس میں لام عہد و جنس دونوں کا احتمال رکھتی ہے۔ عَلٰٓی اَنْ یَّبْعَثَ عَلَیْکُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِکُمْجیسا اس نے قوم لوط پر عذاب کی بارش برسائی اور اصحاب فیل پر پتھروں کی۔ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِکُمْ جیسا اس نے فرعون کو غرق کیا اور قارون کو زمین میں دھنسا دیا۔ یا تمہارے سلاطین اور کمینے لوگوں کی طرف سے یا اس سے مراد بارش کا بند ہونا۔ اور نبات کا نہ اگنا ہے۔ اَوْ یَلْبِسَکُمْ شِیَعًا تمہیں فرقوں میں بانٹ دے جن کی خواہشات مختلف ہوں ہر گروہ اپنے مقتداء کے ساتھ چلنے والا ہو۔ خلطہم کا مطلب ان میں باہمی لڑائی کا پھوٹ پڑنا۔ جس سے وہ لڑائی کے مواقع میں آپس میں گڈ مڈ ہوجائیں۔ وَّیُذِیْقَ بَعْضَکُمْ بَاْسَ بَعْضٍایک دوسرے کو وہ قتل کریں۔ البأس تلوار کو کہتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ سے مروی ہے کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ میری امت پر اوپر سے عذاب نازل نہ فرمائے۔ یا پائوں کے نیچے سے تو اللہ تعالیٰ نے میری یہ دعا قبول فرمائی۔ اور میں نے اللہ تعالیٰ سے یہ بھی سوال کیا کہ وہ آپس میں نہ لڑیں پس اللہ تعالیٰ نے مجھے اس دعا سے روک دیا۔ یعنی قبول نہیں فرمایا۔ اور مجھے جبرائیل ( علیہ السلام) نے اطلاع دی کہ میری امت کی فناء تلوار سے ہوگی۔ اُنْظُرْ کَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ وعدہ اور وعید کے ساتھ لَعَلَّہُمْ یَفْقَہُوْنَ ۔
Ayah 6:66

وَ كَذَّبَ بِهٖ قَوْمُكَ وَ هُوَ الْحَقُّ١ؕ قُلْ لَّسْتُ عَلَیْكُمْ بِوَكِیْلٍؕ Open ayah 6:66 in the Quran reader

اور اس (قرآن) کو تمہاری قوم نے جھٹلایا حالانکہ وہ سراسر حق ہے کہہ دو کہ میں تمہارا داروغہ نہیں ہوں

سچے قرآن کو جھٹلایا ‘ عذاب کا انتظار کرو : آیت 66 : وَکَذَّبَ بِہٖ یعنی قرآن کو یا عذاب الٰہی کو قَوْمُکَ قریش وَہُوَ الْحَقُّ سچا ہے یا اس کا اترنا اس پر ضروری ہے۔ قُلْ لَّسْتُ عَلَیْکُمْ بِوَکِیْلٍ ایسا محافظ جس کے سپرد تمام معاملہ کردیا گیا ہو۔ بیشک میں تو منذر ہوں۔
Ayah 6:67

لِكُلِّ نَبَاٍ مُّسْتَقَرٌّ١٘ وَّ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 6:67 in the Quran reader

ہر خبر کیلئے ایک وقت مقرر ہے اور تم کو عنقریب معلوم ہوجائے گا

وہ اپنے وقت پر آئے گا ‘ پھر خبر ہوگی : آیت 67 : لِکُلِّ نَبَاٍ مُّسْتَقَرٌّ نبأ سے ہر وہ چیز جس سے خبر دی جائے۔ یعنی ان کا مطلع کرنا۔ کہ ان کو عذاب دیا جائے گا اور ان کا اس کے ذریعہ ڈرانا مستقرؔ وقت استقرار و حصول بہر صورت ہے۔ وَّسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ اس میں ان کو ڈرایا گیا ہے۔
Ayah 6:68

وَ اِذَا رَاَیْتَ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتّٰى یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهٖ١ؕ وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 6:68 in the Quran reader

اور جب ایسے لوگوں کو دیکھو جو ہماری آیتوں کے بارے میں بےہودہ بکواس کر رہے ہیں تو ان سے الگ ہوجاؤ یہاں تک کہ اور باتوں میں مصروف ہوجائیں اور اگر (یہ بات) شیطان تمہیں بھلا دے تو یاد آنے پر ظالم لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو

قرآن پر طعن کرنے والوں کے پاس مت بیٹھو : آیت 68 : وَاِذَا رَاَیْتَ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِیْٓ ٰایٰتِنَا یعنی قرآن کے استہزاء اور طعن میں مصروف ہوتے ہیں۔ اور قریش اپنی مجالس میں ایسا کرتے تھے۔ فَاَعْرِضْ عَنْہُمْ ان کے پاس مت بیٹھو۔ اور ان کے پاس سے اٹھ جائو۔ حَتّٰی یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِہٖ قرآن کے علاوہ جو کہ حلال ہے۔ پس اس وقت ان کے پاس بیٹھنا جائز ہے۔ وَاِمَّا یُنْسِیَنَّکَ الشَّیْطٰنُ جس سے تمہیں منع کیا گیا ہے۔ قراءت : شامی نے ینَسِّیَنَّک سین کے تشدید سے پڑھا ہے۔ نسّٰی اور انسٰی کا معنی ایک ہی ہے۔ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکْرٰییاد آنے کے بعد۔ مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ ۔
Ayah 6:69

وَ مَا عَلَى الَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّ لٰكِنْ ذِكْرٰى لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 6:69 in the Quran reader

اور پرہیزگاروں پر ان لوگوں کے حساب کی کچھ بھی جواب دہی نہیں ہاں نصیحت تاکہ وہ بھی پرہیزگار ہوں

ہر ایک اپنے محاسبہ سے دوچار ہوگا : آیت 69 : وَمَا عَلَی الَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ مِنْ حِسَابِہِمْ ان لوگوں کو محاسبہ سے جو قرآن مجید کی تکذیب میں مصروف ہیں۔ اور استہزاء کر رہے ہیں۔ مِّنْ شَیْئٍیعنی ان متقین پر جو ان کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں ان کے محاسبہ میں سے کوئی چیز لازم نہ ہوگی وہ محاسبہ جو ان کے گناہوں پر کیا جائے گا۔ وَّلٰکِنْ ان پر لازم ہے کہ ان کو نصیحت کرتے رہیں۔ ذِکْرٰیجب کہ ان کو سنیں کہ وہ استہزاء میں مصروف ہیں۔ ان کے پاس سے اٹھنے اور ان کے اس فعل سے نفرت کرتے ہوئے اور ان کو نصیحت کرتے ہوئے۔ ذکر ٰی منصوب ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ ان کو نصیحت کریں نصیحت کرنا۔ یا مرفوع ہے تقدیر عبارت یہ ہے لکن علیہم ذکرٰی پس ذکر ٰی مبتداء اور علیہم اس کی خبر ہے۔ لَعَلَّہُمْ یَتَقُوْنَشاید کہ وہ استہزاء میں مصروف ہونے سے بطور حیا باز رہیں یا ان کی برائی کو ناپسند کرتے ہوئے۔
Ayah 6:70

وَ ذَرِ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَهُمْ لَعِبًا وَّ لَهْوًا وَّ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ ذَكِّرْ بِهٖۤ اَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌۢ بِمَا كَسَبَتْ١ۖۗ لَیْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیْعٌ١ۚ وَ اِنْ تَعْدِلْ كُلَّ عَدْلٍ لَّا یُؤْخَذْ مِنْهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اُبْسِلُوْا بِمَا كَسَبُوْا١ۚ لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 6:70 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے اپنے دین کو کھیل اور تماشا بنا رکھا ہے اور دنیا کی زندگی نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے ان سے کچھ کام نہ رکھو ہاں اس (قرآن) کے ذریعے سے نصیحت کرتے رہو تاکہ (قیامت کے دن) کوئی اپنے اعمال کی سزا میں ہلاکت میں نہ ڈالا جائے (اس روز) خدا کے سوا نہ تو کوئی اس کا دوست ہوگا اور نہ سفارش کرنے والا اور اگر وہ ہر چیز (جو روئے زمین پر ہے بطور) معاوضہ دینا چاہے تو وہ اس سے قبول نہ ہو یہی لوگ ہیں کہ اپنے اعمال کے وبال میں ہلاکت میں ڈالے گئے ان کیلئے پینے کو کھولتا ہوا پانی اور دکھ دینے والا عذاب اس لئے کہ کفر کرتے تھے

دین کا مذاق بنانے والے اپنے عمل سے پھنس کر عذاب کا شکار ہوگئے : آیت 70 : وَذَرِ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَہُمْ وہ جس کا ان کو مکلف بنایا گیا اور جس کی طرف ان کو دعوت دی جاتی ہے اور وہ دین اسلام ہے۔ لَعِبًا وَّلَہْوًا اس کے ساتھ تمسخر کیا اور استہزاء کیا۔ ذرہم کا معنی ان سے اعراض کریں اور ان کی تکذیب کی بالکل پرواہ نہ کریں اور استہزاء کو خاطر میں نہ لائیں۔ لہو وہ چیز جو انسان کو مشغول کر دے۔ خواہشات سے ہو یا خوش طبعی سے وَّغَرَّتْہُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا وَ ذَکِّرْبِہٖقرآن کے ذریعہ نصیحت فرمائیں۔ اَنْ تُبْسَل نَفْسٌم بِمَا کَسَبَتْاس خطرہ سے کہ نفس ہلاکت و عذاب کا شکار ہو۔ اور اپنے برے اعمال کا مرہون ہو۔ اِبْسال کا معنی روکنا ہے۔ لَیْسَ لَہَا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَلِیٌّجو اس کی طاقت سے مدد کرے۔ وَّلَا شَفِیْعٌ جو شفاعت سے دفاع کرے۔ صحیح قول کے مطابق کسبت پر وقف نہیں۔ کیونکہ لیس لہا یہ نفس کی صفت ہے اور مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید کے ساتھ نصیحت فرماتے رہیں اس کراہت سے کوئی نفس ہلاک ہو کسی دوست اور شفیع کو نہ پاتے ہوئے۔ اپنی کمائی کے سبب۔ وَاِنْ تَعْدِلْ کُلَّ عَدْلٍمصدر کی بناء پر منصوب ہے ان تفد کل فداء اگرچہ تم فدیہ دو العدل فدیہ کو کہتے ہیں۔ کیونکہ فدیہ دینے والا مفدی کو اس کے مثل سے برابر کرتا ہے۔ لاَّ یُؤْخَذْ مِنْھَا کا فاعل ضمیر عدل نہیں کیونکہ عدل یہاں مصدر ہے۔ اور مصدر اخذ کا اسناد نہیں ہوسکتا۔ باقی لا یؤخذ منہا عدل البقرہ آیت 48 میں عدل بمعنی مفدی بہٖ مفعول کے معنی میں ہے۔ پس اس لیے اس کی طرف یوخذ کی نسبت درست ہے۔ اُولٰٓپکَیہ ان لوگوں کی طرف اشارہ ہے جو اپنے دین کو لہو ولعب بنانے والے ہیں۔ یہ مبتداء اور الَّذِیْنَ اُبْسِلُوْا بِمَا کَسَبُوْا اس کی خبر ہے۔ اور لَہُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ سخت گرم پانی یہ اولئک کی خبر دوم ہے۔ اور تقدیر عبارت یہ ہے اولئک المبسلون ثابت لہم شرابٌ من حمیم۔ ان ہلاک ہونے والوں کے لیے گرم پانی کا مشروب ثابت ہوگا یا جملہ مستانفہ ہے۔ وَّعَذَابٌ اَلِیْمٌم بِمَا کَانُوْا یَکْفُرُوْنَ ان کے کفر کی وجہ سے۔
Ayah 6:71

قُلْ اَنَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُنَا وَ لَا یَضُرُّنَا وَ نُرَدُّ عَلٰۤى اَعْقَابِنَا بَعْدَ اِذْ هَدٰىنَا اللّٰهُ كَالَّذِی اسْتَهْوَتْهُ الشَّیٰطِیْنُ فِی الْاَرْضِ حَیْرَانَ١۪ لَهٗۤ اَصْحٰبٌ یَّدْعُوْنَهٗۤ اِلَى الْهُدَى ائْتِنَا١ؕ قُلْ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْهُدٰى١ؕ وَ اُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 6:71 in the Quran reader

کہو کیا ہم خدا کے سوا ایسی چیز کو پکاریں جو نہ ہمارا بھلا کرسکتے ہیں اور نہ برا اور جب ہم کو خدا نے سیدھا راستہ دکھا دیا تو (کیا) ہم الٹے پاؤں پھرجائیں (پھر ہماری ایسی مثال ہو) جیسے کسی کو جنات نے جنگل میں بھلا دیا ہو (اور وہ) حیران (ہورہا ہو) اور اسکے کچھ رفیق ہوں جو اس کو راستے کی طرف بلائیں کہ ہمارے پاس چلا آ کہہ دو کہ راستہ وہی ہے جو خدا نے بتایا ہے اور ہمیں تو یہ حکم ملا ہے کہ ہم خدا رب العالمین کے فرمابردار ہوں

گمراہ کو غول شیطانی میں پھنسنے والے سے تشبیہ دی : آیت 71 : قُلْ (کہہ دو ) ابوبکر کو کہہ دیں کہ وہ اپنے بیٹے عبدالرحمان کو کہہ دیں جو اپنے باپ کو بتوں کی عبادت کی طرف بلا رہا تھا۔ اَنَدْعُوْا کیا ہم عبادت کریں۔ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِجو نقصان اور نفع کا مالک ہے۔ مَالَا یَنْفَعُنَاان کی جو ہمارے نفع کی قدرت نہیں رکھتے اگر ہم ان کو پکاریں۔ وَلَا یَضُرُّنَااگر ہم ان کو چھوڑ دیں۔ وَنُرَدُّکیا ہم لوٹائے جائیں گے۔ عَلٰٓی اَعْقَابِنَا اس حالت میں کہ شرک کی طرف لوٹنے والے ہوں۔ بَعْدَ اِذْ ہَدٰنَا اللّٰہُاسلام کی طرف اور بتوں کی عبادت سے ہمیں چھوڑایا۔ کَالَّذِی اسْتَہْوَتْہُ الشَّیٰطِیْنُاس شخص کی طرح جس کو شیاطین کا غول اور سرکش شیاطین لے جائیں۔ نرد علی اعقا بنا کی ضمیر سے حال ہونے کی بناء پر یہ منصوب ہے مطلب یہ ہے کہ کیا ہم الٹے پائوں ہٹا دیئے جائیں گے ان لوگوں کی طرح جن کو شیاطین نے ور غلایا ہو۔ اور وہ ہَوٰی فی الارض سے باب استفعال ہے ہوٰی کا معنی زمین میں جانا گویا اس کا معنی طلبت ہویَّہٗ فِی الْاَرْضِجنگل و بیابان میں حیران استہوتہ کے مفعول سے حال ہے۔ یعنی اس حال میں کہ وہ حیران راستہ سے بھٹکا ہوا۔ اس کو معلوم نہیں کہ وہ کیا کرے۔ لَہٗاس بھٹکنے والے کے لئے۔ اَصْحٰبٌدوست یَّدْعُوْنَہْٓ اِلَی الْہُدَی اس طرف کہ وہ اس کو راہ پر لگا دیں صراط مستقیم کو الہدٰی سے تعبیر فرمایا۔ وہ اس کو کہہ رہے ہیں ائْتنَا وہ راستہ سے بھٹکا ہوا۔ جنات کے پیچھے جا رہا ہے اور ان کو جواب نہیں دیتا اور نہ ان کے پاس آتا ہے۔ اور یہ اس بناء پر ہے جو کہا جاتا ہے کہ جنات انسان کو بھٹکا دیتے ہیں۔ اور غول شیطانی انسان پر مسلط ہوجاتا ہے۔ پس طریق اسلام سے گمراہی اختیار کرنے والے کو اس سے تشبیہ دی ہے شیطان کے قدموں کی پیروی کرنے کو تشبیہ دی اور مسلمان اس کو اپنی طرف بلا رہے ہیں۔ مگر وہ ان کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوتا۔ ہدایت صرف اسلام ‘ باقی سب گمراہی : قُلْ اِنَّ ہُدَی اللّٰہِاور وہ اسلام ہے۔ ہُوَالْہُدٰی صرف ہدایت ہے اس کے علاوہ گمراہی ہے۔ وَاُمِرْنَایہ ان ہدی اللّٰہ ہُوَ الہُدی کے محل پر عطف کی وجہ سے منصوب ہے۔ اس وجہ سے کہ دونوں مقولے ہیں۔ گویا اس طرح کہا گیا یہ بات بھی کہو اور یہ کہو امرنا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔
Ayah 6:72

وَ اَنْ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّقُوْهُ١ؕ وَ هُوَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 6:72 in the Quran reader

اور یہ (بھی) کہ نماز پڑھتے رہو اور اس سے ڈرتے رہو اور وہی تو ہے جس کے پاس تم جمع کیے جاو گے

فرمانبرداروں کے طرق : آیت 72 : وَاَنْ اَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ تقدیر عبارت یہ ہے و امرنا لان نسلم ولان اقیموا یعنی اسلام اور اقامت صلوۃ کے لیے وَاتَّقُوْہُ وَہُوَ الَّذِیْٓ اِلَیْہِ تُحْشَرُوْنَقیامت کے دن۔
Ayah 6:73

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ یَوْمَ یَقُوْلُ كُنْ فَیَكُوْنُ١ؕ۬ قَوْلُهُ الْحَقُّ١ؕ وَ لَهُ الْمُلْكُ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ١ؕ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 6:73 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمینوں کو تدبیر سے پیدا کیا ہے اور جس دن وہ فرمائے گا کہ ہوجا تو (حشربرپا) ہوجائے گا۔ اسکا ارشاد برحق ہے۔ اور جس دن صور پھونکا جائے گا (اس دن) اسی کی بادشاہت ہوگی۔ وہی پوشیدہ اور ظاہر (سب) کا جاننے والا ہے اور وہی دانا اور خبردار ہے۔

اللہ خالق اور کامل علم وقدرت والا ہے : آیت 73 : وَہُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ حکمت کے ساتھ۔ یا واقعی برحق۔ وَیَوْمَ یَقُوْلُ کُنْ فَیَکُوْنُیہ خبر ہے جو اب نہیں۔ قَوْلُہُ الْحَقُّیہ مبتدا ہے یوم یقول اس کی خبر مقدم ہے جیسا کہ تم کہو یوم الجمعۃ قولک الصدق یعنی قولک الصدق کائن یوم الجمعۃ تیری سچی بات جمعہ کے دن واقع ہونے والی ہے۔ اور الیوم بمعنی حین ہے مطلب یہ ہے اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو حق و حکمت کے ساتھ پیدا فرمایا۔ جس وقت وہ کسی چیز کو فرماتے ہیں ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے۔ اس کی بات سچی اور حکمت والی ہے۔ یعنی آسمان و زمین اور تمام تکوینات میں جو چیز بھی ہوتی ہے وہ حکمت و صواب پر مبنی ہے۔ وَلَہُ الْمُلْکُیہ مبتدا خبر ہے۔ یَوْمَ یُنْفَخُیہ لہ الملک کا ظرف ہے۔ فِی الصَّوْرِلغت یمن میں صور، سینگ کو کہتے ہیں۔ یا یہ صورۃ کی جمع ہے (مگر قرطبی نے اس کو جمع ماننے سے انکار کر کے تردید کی ہے۔ (صفحہ 20 جلد 7) عٰلِمُ الْغَیْبِوہ عالم الغیب ہے۔ وَالشَّہَادَۃِیعنی پوشیدہ اور علانیہ وَہُوَ الْحَکِیْمُفناء کرنے اور زندہ کرنے میں الْخَبِیْرُحساب و جزا سے۔
Ayah 6:74

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ لِاَبِیْهِ اٰزَرَ اَتَتَّخِذُ اَصْنَامًا اٰلِهَةً١ۚ اِنِّیْۤ اَرٰىكَ وَ قَوْمَكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 6:74 in the Quran reader

اور (وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے) جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ آذر سے کہا کہ تم بتوں کو کیا معبود بناتے ہو۔ میں دیکھتا ہو کہ تم اور تمہاری قوم صریح گمراہی میں ہو۔

ابراہیم ( علیہ السلام) کا باپ کو وعظ و نصیحت کرنا : آیت 74 : وَاِذْ قَالَ اِبْرٰہِیْمُ لِاَبِیْہِ ٰازَرَ یہ ان کے والد کا نام ہے یا لقب ہے کیونکہ نسابین کے مابین اختلاف ہے کہ ان کے والد کا نام تارخ ہے۔ یہ ٰازر، ابیہ کا عطف بیان ہے۔ اور اس کا وزن فاعل ہے۔ اَتَتَّخِذُ اَصْنَامًا ٰالِہَۃًیہ استفہام توبیخی ہے۔ کیا تو ان کو معبود بناتا ہے۔ حالانکہ یہ الوہیت کے مستحق نہیں۔ اِنِّیْٓ اَرٰکَ وَقَوْمَکَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ ۔
Ayah 6:75

وَ كَذٰلِكَ نُرِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ مَلَكُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لِیَكُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ Open ayah 6:75 in the Quran reader

اور ہم اس طرح ابراہیم (علیہ السلام) کو آسمانوں اور زمین کے عجائبات دکھانے لگے تاکہ وہ خوب یقین کرنے والوں میں ہوجائیں

بصیرت روشن کر کے شرک کی قباحت ظاہر کردی : آیت 75 : وَکَذٰلِکَ جیسے ہم نے ان کو شرک کی قباحت دکھائی تھی۔ نُرِیْ اِبْرٰہِیْمَ مَلَکُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِیعنی ہم اس کی بصیرت کو آسمان و زمین کی تخلیق کے لطائف دکھا رہے تھے نُرِیْ ماضی کی حکایت حال میں بیان کی گئی۔ الملکوت یہ الملک سے زیادہ بلیغ ہے۔ کیونکہ اس میں وائو اور تاء مبالغہ کے لیے بڑھائے گئے ہیں۔ مجاہد کہتے ہیں ان کے لیے ساتوں آسمان کھول دیئے گئے آپ نے ان کے مابین جو کچھ تھا وہ دیکھا ٗ حتی کہ ان کی نگاہ عرش الٰہی تک پہنچی۔ اور ساتوں زمینیں کھول دی گئیں۔ یہاں تک کہ جو کچھ ان میں تھا وہ دیکھا۔ وَلِیَکُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَہم نے اسی طرح کیا تاکہ وہ استدلال کرے۔ ولیکون من الموقنین عیانا کما ایقن بیانًا تاکہ وہ آنکھوں سے دیکھ کر اس طرح یقین کرے جیسا کہ وہ بیان سے یقین کرنے والے ہیں۔
Ayah 6:76

فَلَمَّا جَنَّ عَلَیْهِ الَّیْلُ رَاٰ كَوْكَبًا١ۚ قَالَ هٰذَا رَبِّیْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَاۤ اُحِبُّ الْاٰفِلِیْنَ Open ayah 6:76 in the Quran reader

(یعنی) جب رات نے ان کو (پردہ تاریکی سے) ڈھانپ لیا تو (آسمان میں) ایک ستارا نظر پڑا۔ کہنے لگے یہ میرا پروردگار ہے۔ جب وہ غائب ہوگیا تو کہنے لگے کہ مجھے غائب ہوجانیوالے پسند نہیں۔

نظر و استدلال سے قوم کی راہنمائی : آیت 76 : فَلَمَّا جَنَّ عَلَیْہِ الَّیْلُ یعنی چھا گئی اس کا عطف قال ابرہیم لابیہ پر ہے۔ اور کذالک نری ابراہیم یہ جملہ معترضہ ہے۔ جو معطوف اور معطوف علیہ کے درمیان واقع ہے۔ رَ ٰاکَوْکَبًایعنی زہرہ یا مشتری ابراہیم ( علیہ السلام) کے والد اور ان کی قوم بت پرست ٗ سورج ٗ چاند ٗ ستارہ پرست تھی۔ آپ ( علیہ السلام) نے ان کو ان کے مذہب کی غلطی واضح کرنے کا ارادہ فرمایا اور نظر و استدلال کے انداز سے ان کی راہنمائی چاہی۔ اور ان کو یہ بتلانا چاہا۔ کہ صحیح نظر و فکر کا تقاضا یہ ہے کہ ان میں سے کوئی اس قابل نہیں کہ معبود کہلا سکے۔ کیونکہ اس میں حدوث وزوال کی دلیل پائی جاتی ہے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ کوئی تو ان کا موجد ہے جس نے ان کو ایجاد کیا ہے اور ان کا کوئی مدبر ہے۔ جو ان کے طلوع و غروب کا انتظام کرتا ہے۔ اور انتقال و چلائو دیگر تمام احوال کا منظم ہے۔ جب آپ نے اس ستارہ کو دیکھا جس کی وہ عبادت کرتے تھے تو فرمایا۔ قَالَ ہٰذَا رَبِّیْیعنی ان کو فرمایا کہ یہ میرا رب ہے بقول تمہارے۔ یا مراد أہذا ربی جو کہ بطور استہزاء آپ نے فرمایا ان پر انکار کرتے ہوئے یہ بات فرمائی محاورئہ عرب میں حرف استفہام کی بجائے انداز و آواز پر ہی اکتفاء کرلیتے ہیں۔ اور صحیح بات یہ ہے کہ یہ اس کا قول ہے جو اپنے مخالف سے انصاف کا طالب باوجود یہ کہ وہ جانتا ہو کہ وہ باطل پر ہے۔ پس اس کی بات کی حکایت وہ اس انداز سے کرے گا گویا کہ وہ غیر متعصب ہے۔ کیونکہ یہ طرز عمل حق کی طرف سے زیادہ بلانے والا اور شور و شغب سے خالی ہے۔ پھر وہ اس کے اعتقاد کو نقل کر کے اس پر مڑ کر حملہ کرتا ہے اور دلیل سے اس کو باطل کرتا ہے۔ فَلَمَّآ اَفَلَغائب ہوا۔ قَالَ لَآ اُحِبُّ الْاٰفِلِیْنَ یعنی میں ایسے ارباب کی عبادت پسند نہیں کرتا جو ایک حالت سے دوسری حالت میں بدلنے والے ہوں کیونکہ یہ اجسام مرکب کی صفات میں سے ہے۔
Ayah 6:77

فَلَمَّا رَاَ الْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ هٰذَا رَبِّیْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَئِنْ لَّمْ یَهْدِنِیْ رَبِّیْ لَاَكُوْنَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّآلِّیْنَ Open ayah 6:77 in the Quran reader

پھر جب چاند کو دیکھا کہ چمک رہا ہے تو کہنے لگے یہ میرا پروردگار ہے۔ لیکن جب وہ بھی چھپ گیا تو بول اٹھے کہ اگر میرا پروردگار مجھے سیدھا راستہ نہیں دکھائیگا تو میں ان لوگوں میں ہوجاؤں گا جو بھٹک رہے ہیں۔

غروب سے تغیر پذیری پر شاندار استدلال : آیت 77 : فَلَمَّا رَاَ الْقَمَر بَازِغًا طلوع ہوتے ہوئے۔ قَالَ ہٰذَا رَبِّیْ فَلَمَّآ اَفَلَ قَالَ لَپنْ لَّمْ یَہْدِنِیْ رَبِّیْ لَاَکُوْنَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّآلِّیْنَ آپ نے اپنی قوم کو خبردار فرمایا۔ کہ جو شخص چاند کو الٰہ مانتا ہو۔ وہ گمراہ ہے۔ طرز استدلال : آپ نے اس مقام پر غروب سے استدلال فرمایا۔ طلوع سے نہیں۔ حالانکہ دونوں حالتیں تغیر پذیر ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ غروب سے استدلال زیادہ واضح تر ہے۔ کیونکہ یہ انتقال چھپ جانے اور پردے میں اور اوٹ میں آجانے کے ساتھ ہے۔
Ayah 6:78

فَلَمَّا رَاَ الشَّمْسَ بَازِغَةً قَالَ هٰذَا رَبِّیْ هٰذَاۤ اَكْبَرُ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَتْ قَالَ یٰقَوْمِ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَ Open ayah 6:78 in the Quran reader

پھر جب سورج کو دیکھا کہ جگمگا رہا ہے تو کہنے لگے میرا پروردگار یہ ہے۔ یہ سب سے بڑا ہے۔ مگر جب وہ بھی غروب ہوگیا تو کہنے لگے کہ لوگو ! جن چیزوں کو تم (خدا کا ٰ ) شریک بناتے ہو میں ان سے بیزار ہوں۔

مخاصم سے انصاف کی اپیل کی تاکہ اعتراض دلیل بن جائے : آیت 78 : فَلَمَّا رَاَ الشَّمْسَ بَازِغَۃً قَالَ ہٰذَا رَبِّیْ ، ہذا اسم اشارہ ہے مذکر لائے کیونکہ انہوں نے اس سے طلوع ہونے والا مراد لیا۔ یا اس وجہ سے کہ انہوں نے مبتد 1 کو خبر کی طرح بنا لیا۔ کیونکہ وہ معنوی لحاظ سے دونوں ایک چیز ہیں۔ اس میں اصل رب کے لفظ کو تانیث سے محفوظ کرنا مقصود ہے اس لیے تو اہل عرب صفات باری تعالیٰ کے متعلق علامہ اور علام نہیں کہتے۔ اگرچہ ثانی پہلے کی نسبت علامت تانیث سے فقط بچنے کی خاطر۔ ہٰذَآ اَکْبَرُیہ بھی اپنے مخاصم کے ساتھ انصاف کرانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ فَلَمَّآ اَفَلَتْ قَالَ یٰقَوْمِ اِنِّیْ بَرِیْٓ ئٌ مِّمَّا تُشْرِکُوْنَ ان اجرام میں سے ہے جس کو تم ان کے خالق کا شریک قرار دیتے ہو۔ ایک کمزور قول یہ ہے کہ یہ نظر و استدلال ان کا اپنے نفس سے تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان سے نقل کردیا۔ مگر پہلا انتہائی ظاہر ہے اس لئے کہ یہ ارشاد یٰقوم انی بریْٓ ئٌ مما تشرکون اس کی تائید کر رہا ہے۔
Ayah 6:79

اِنِّیْ وَجَّهْتُ وَجْهِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۚ Open ayah 6:79 in the Quran reader

میں نے سب سے یکسو ہو کر اپنے تئیں اسی ذات کی طرف متوجہ کیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔

مثبت انداز میں تذکرئہ توحید : آیت 79 : اِنِّیْ وَجَّہْتُ وَجْہِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ ۔ یعنی اس ذات کے لیے کہ یہ محدثات دلالت کرتے ہیں کہ وہی ان کا بنانے والا ہے۔ حَنِیْفًایہ حال ہے یعنی تمام ادیان سے اسلام کی طرف مائل ہونے والا وَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی بھی چیز کو اس کی مخلوقات میں سے۔
Ayah 6:80

وَ حَآجَّهٗ قَوْمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوْٓنِّیْ فِی اللّٰهِ وَ قَدْ هَدٰىنِ١ؕ وَ لَاۤ اَخَافُ مَا تُشْرِكُوْنَ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ رَبِّیْ شَیْئًا١ؕ وَسِعَ رَبِّیْ كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا١ؕ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 6:80 in the Quran reader

اور انکی قوم ان سے بحث کرنے لگی تو انہوں نے کہا کہ تم مجھ سے خدا کے بارے میں (کیا) بحث کرتے ہو اس نے تو مجھے سیدھا راستہ دکھا دیا ہے اور جن چیزوں کو تم اس کا شریک بناتے ہو میں ان سے نہیں ڈرتا۔ ہاں جو میرا پروردگار اپنے علم سے ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے۔ کیا تم خیال نہیں کرتے ؟

میرا ربّ نفع و نقصان پر قدرت رکھتا ہے جبکہ تمہارے معبود کچھ بھی نہیں ‘ اسلئے میں ان سے نہیں ڈرتا : آیت 80 : وَحَآجَّہٗ قَوْمُہٗ اللہ تعالیٰ کی توحید کے متعلق اور اس سے شرکاء کی نفی کے متعلق قَالَ اَتُحَآجُّوْنِّیْ فِی اللّٰہِاس کی توحید کے متعلق قراءت : اتحا جونی تخفیف نون کے ساتھ مدنی اور ابن ذکوان نے پڑھا ہے۔ وَقَدْ ہَدٰنِاپنی توحید کی طرف ابو عمرو نے یاؔ میں وصل کے ساتھ پڑھا۔ وَقَدْ ہَدٰنِ جب انہوں نے ابراہیم ( علیہ السلام) کو دھمکایا کہ ان کے معبود اس کو تکلیف پہنچائیں گے تو فرمایا۔ وَلَآ اَخَافُ مَا تُشْرِکُوْنَ بِہٖٓ اِلَّآ اَنْ یَّشَآئَ رَبِّیْ شَیْئًاج وَسِعَ رَبِّیْ کُلَّ شَیْئٍ عِلْمًا یعنی میں تمہارے معبودوں سے کسی بھی وقت میں نہیں ڈرتا۔ کیونکہ وہ نفع و نقصان کی ذرہ بھر بھی طاقت نہیں رکھتے۔ مگر جب کہ میرا رب چاہے کہ ان میں سے کوئی تکلیف پہنچے وہ اس پر قدرت رکھتا ہے کہ جس چیز میں چاہے نفع و نقصان پیدا کر دے۔ نہ کہ یہ بت۔ وَسِعَ رَبِّیْ کُلَّ شَیْئٍ عِلْمًاکہ بندے کو کوئی ذرا سا نفع و نقصان اس کے علم کے بغیر نہیں پہنچ سکتا۔ اَفَلَا تَتَذَکَّرُوْنَپس تم فرق کرو قادر اور عاجز کے درمیان۔