Ayah 6:41اس مصیبت میں تو اسی کو پکارتے ہو پھر کیوں بھاگتے ہو :
آیت 41 : بَلْ اِیَّاہُ تَدْعُوْنَ بلکہ تم اسی کو ہی خالص پکارتے ہو۔ اپنے آلہہ کو چھوڑ کرفَیَکْشِفُ مَا تَدْعُوْنَ اِلَــیْہِ یعنی جس کو تم پکارتے ہو اس مصیبت کے ازالہ کے لیے۔ اِنْ شَآئَاگر وہ تم پر اپنا فضل فرمانے کا ارادہ رکھتے ہوں۔ وَتَنْسَوْنَ مَا تُشْرِکُوْنَتم اپنے معبودوں کو چھوڑ دیتے ہو۔ یا تم اس وقت اپنے معبودوں کا تذکرہ تک نہیں کرتے۔ کیونکہ تمہارے ذہن تمہارے رب کی یاد میں ڈھکے ہوتے ہیں۔ اس لیے کہ وہی نقصان کو دور کرنے کی قدرت رکھتے ہیں۔ اور کوئی نہیں۔ اور یہ بھی درست ہے کہ استخبار، اغیر اللّٰہ تدعون کے متعلق ہو۔ پھر مطلب اس طرح ہوگا ارایتکم اغیر اللّٰہ تدعون ان اتاکم عذاب اللّٰہ۔ تمہارا کیا خیال ہے کہ تم غیر اللہ کو پکارو گے اگر تم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب اتر پڑے ؟
Ayah 6:42آیت 42 : وَلَقَدْ اَرْسَلْنَآ اِلٰٓی اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِکَ رسولوں کو۔ یہ مفعول محذوف ہے۔ فکذبوہم۔ پس انہوں نے ان کو جھٹلا دیا۔
سختیاں جھکانے کے لئے اترتی ہیں :
فَاَخَذْنٰہُمْ بِالْبَاْسَآئِ وَالضَّرَّآئِ تنگدستی اور جسمانی تکلیف کے ساتھ۔ یا البأساء سے قحط اور بھوک اور الضّراء سے مرض اور جسمانی نقصان اور مالی نقصان مراد ہے۔ لَعَلَّہُمْ یَتَضَرَّعُوْنَتاکہ وہ اپنے رب کے سامنے جھکیں۔ اور خشوع اختیار کریں اور اپنے گناہوں سے تائب ہوجائیں اس لیے کہ جب سختیاں اترتی ہیں تو دل میں خشوع پیدا ہوجاتا ہے۔
Ayah 6:43ترکِ تضرع میں بھی عناد آگیا :
آیت 43 : فَلَوْلَآ اِذْ جَآئَ ہُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا یعنی وہ توبہ کے ساتھ کیوں نہیں گڑ گڑاتے۔ معنی اس کا ان سے تضرع کی نفی ہے۔ گویا اس طرح کہا گیا کہ جب ان کے پاس ہماری پکڑ آئی تو انہوں نے تضرع اختیار نہ کی۔ لیکن اسلوب میں لولا لا کر ظاہر کردیا کہ ترک تضرع میں ان کے پاس سوائے عناد کے کوئی عذر نہیں۔ وَلٰکِنْ قَسَتْ قُلُوْبُہُمْ پھر ان ابتلا اءت سے انہوں نے کوئی نصیحت حاصل نہ کی۔ وَزَیَّنَ لَہُمُ الشَّیْطٰنُ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ اور وہ شیطان کے مزین کردہ اعمال کو پسند کرنے لگے۔
Ayah 6:44آیت 44 : فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُکِّرُوْا بِہٖ یعنی تنگ دستی۔ تکالیف و امراض سے انہوں نے نصیحت حاصل نہ کی۔ اور برائیوں سے باز نہ آئے۔ فَتَحْنَا عَلَیْہِمْ اَبْوَابَ کُلِّ شَیْئٍ یعنی صحت ٗ وسعت مالی ٗ قسم قسم کی نعمتیں۔ قراءت : شامی نے فتَّحنا پڑھا ہے۔ حَتّٰی اِذَا فَرِحُوْا بِمَآ اُوْتُوْْا یعنی مال و نعمت اَخَذْنٰہُمْ بَغْتَۃً فَاِذَاہُمْ مُّبْلِسُوْنَ ناامید حیرت زدہ۔ ابلاس کا اصل معنی غم کی وجہ سے سر جھکانا۔ یا ہاتھ سے نکل جانے والی چیز پر ندامت سے سر جھکانا۔ اِذا ؔ مفاجات کے لیے آتا ہے۔
Ayah 6:45آیت 45 : فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا تمام ظالم ہلاک کردیئے گئے اور ان میں سے کوئی نہ بچا۔ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ اس میں اعلان کیا گیا کہ ظالموں کی ہلاکت پر الحمدللہ کہنا واجب ہے۔ اور ظالموں کی ہلاکت عظیم نعمت ہے اور بہت بڑی قسم ہے دوسری تفسیر یہ ہے کہ تم ان لوگوں کی ہلاکت پر اللہ تعالیٰ کی حمد نہیں کرتے اللہ تعالیٰ کی حمد کرو۔
Ayah 6:46اگر اللہ اندھا بہرہ کر دے اور عقل چھین لے تو کیا پھر بھی غیروں کی طرف بھاگو گے :
آیت 46 : پھر اللہ تعالیٰ کی قدرت اور وحدانیت پر اس طرح استدلال فرمایا۔ قُلْ اَرَ ئَ یْتُمْ اِنْ اَخَذَ اللّٰہُ سَمْعَکُمْ وَاَبْصَارَکُمْ کہ تمہیں اندھا اور بہرہ کر دے۔ وَخَتَمَ عَلٰی قُلُوْبِکُمْپس تمہاری عقول کو چھین لے اور امتیاز کی قوت سلب کرلے۔ مَّنْ اِلٰــہٌ غَیْرُ اللّٰہِ یَاْتِیْکُمْ بِہٖ اس کو جو اس نے لیا۔ اور اس پر مہر لگا دی۔ : مَنْمبتدا ہے اور الٰہ اس کی خبر ہے۔ اور غیر اللہ الٰہ کی صفت ہے اس طرح یاتیکم بھی۔ یہ جملہ ارأیتم کے دو مفعولوں کی جگہ ہے اور جواب شرط محذوف ہے۔
اُنْظُرْ کَیْفَ نُصَرِّفُ ان کیلئے۔ الْاٰیٰتِ بار بار دہراتے ہیں۔ ثُمَّ ہُمْ یَصْدِفُوْنَپھر بھی وہ آیات کے ظاہر ہونے کے بعد اعراض کرنے والے ہیں۔ الصدوف کسی چیز سے منہ موڑنا۔
Ayah 6:47اگر اچانک کھلے بندوں عذاب آئے تو عذاب کا شکار تم ہی بنو گے :
آیت 47 : قُلْ اَرَئَ یْتَکُمْ اِنْ ٰاتٰکُمْ عَذَابُ اللّٰہِ بَغْتَۃً اس طرح کہ اس کی کوئی علامت ظاہر نہ ہو۔ اَوْ جَہْرَۃً اس طرح کہ اس کی علامات ظاہر ہوں۔ حضرت حسن (رح) کہتے ہیں کہ رات کو یا دن کو۔ ہَلْ یُہْلَکُ اِلاَّ الْقَوْمُ الظّٰلِمُوْنَعذاب اور ناراضگی کی ہلاکت کا شکار وہ لوگ ہوتے ہیں۔ جنہوں نے اپنے رب کا انکار کر کے اپنے نفسوں پر ظلم کیا۔
Ayah 6:48انبیاء ( علیہ السلام) مبشر و منذر ہیں منہ مانگی آیات کے لئے نہیں :
آیت 48 : وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلاَّ مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ بشارت دینے والے جنتوں کی اور ڈرانے والے آگ سے ایمان والوں اور کفار کو روشن دلائل اور واضح براہین کے بعد ہم انبیاء کو اس لیے نہیں بھیجتے کہ ان سے آیات کا مطالبہ کیا جائے۔ فَمَنْ ٰامَنَ وَاَصْلَحَپس جو شخص ایمان لایا اور اس نے درستگی کرلی۔ یعنی ایمان لانے پر ہمیشگی اختیار کی۔ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوْنَ ۔ قراءت : یعقوب نے فلا خوف پڑھا ہے۔
Ayah 6:49فسق و کفر سبب عذاب ہے :
آیت 49 : وَالَّذِیْنَ کَذَّبُوْابِاٰیٰتِنَا یَمَسُّہُمُ الْعَذَابُ یہاں چھونے والا فرمایا۔ گویا کہ وہ ایک زندہ چیز ہے جو دکھ ان کو چاہتا ہے پہنچاتا ہے۔ بِمَا کَانُوْا یَفْسُقُوْنَاپنے فسق کے باعث اور کفر کی وجہ سے اطاعت سے خارج ہوجانے کے سبب۔
Ayah 6:50میں نے کسی ایسی چیز کا دعویٰ نہیں کیا جو انسانوں کے لائق نہ ہو اور وہ نبوت ہے :
آیت 50 : قُلْ لَّآ اَقُوْلُ لَکُمْ عِنْدِیْ خَزَآپنُ اللّٰہِ یعنی ان کی مخلوق کے مابین تقسیم اور اس کا رزق دینا۔ وَلَآ اَعْلَمُ الْغَیْبَیہ محل نصب میں عندی خزائن اللہ کے محل پر معطوف ہے۔ کیونکہ یہ بھی مقولہ ہے گویا اس طرح فرمایا لا اقول لکم ہذا القول ولا ہذا القول۔ کہ میں نہ تمہیں یہ بات کہتا ہوں اور نہ یہ بات وَلَآ اَقُوْلُ لَکُمْ اِنِّیْ مَلَکٌیعنی میں اس بات کا دعویدار نہیں جو عقلوں سے بعید تر ہے۔ کہ کسی انسان کو خزائن اللہ پر ملک حاصل ہو۔ اور علم غیب میسر آجائے۔ اور نہ فرشتہ ہونے کا دعویدار ہوں۔ اور میں تو اس بات کا دعویٰ کرتا ہوں جو بہت سے انسانوں کو حاصل ہوا اور وہ نبوت ہے۔ اِنْ اَتَّبِعُ اِلاَّ مَا یُوْحٰٓی اِلَیَّیعنی میں تمہیں اس بات ہی کی اطلاع دیتا ہوں جو مجھ پر اتاری جاتی ہے۔ قُلْ ہَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰی وَالْبَصِیْرُیہ ضال اور ہدایت یافتہ کی مثال ہے یا وحی کی اتباع کرنے اور نہ کرنے والوں کی مثال ہے۔ یا یعنی جو درست بات کا دعویدار ہے یعنی نبوت یا جو ناممکن بات الوہیت کا دعویٰ کرنے والے کی مثال ہے۔ اَفَلَا تَتَفَکَّرُوْنَ پس تم اندھوں کی طرح گمراہ نہ بنو۔ نمبر 1۔ یا تم اچھی طرح جانو کہ میں نے کسی ایسی چیز کا دعویٰ نہیں کیا جو انسانوں کے لائق نہ ہو۔ نمبر 2۔ پس تم اچھی طرح سمجھ لو کہ وحی کی اتباع کرنے کے بغیر مجھے کوئی چارئہ کار نہیں۔
Ayah 6:51میں تو آخر بلا ڈر والوں کے لئے منذر ہوں :
آیت 51 : وَ اَنْذِرْ بِہِ جو آپ کی طرف وحی کی گئی ہے۔ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْ یُّحْشَرُوْٓا اِلٰی رَبِّہِمْوہ مسلمان ہیں جو کہ بعث بعد الموت کے قائل ہیں۔ مگر وہ عمل میں کوتاہی کرنے والے ہیں۔ پس وہ ان کو ڈرائیں وحی کے ذریعے یا نمبر 2۔ اہل کتاب مراد ہیں کیونکہ وہ بھی بعث بعد الموت کے قائل تھے۔ لَیْسَ لَہُمْ مِّنْ دُوْنِہٖ وَلِیٌّ وَّلَا شَفِیْعٌ یہ یحشروا سے موضع حال میں ہے تقدیر عبارت یہ ہے یخافون ان یحشروا غیر منصورین ولا مشفوعاً لہم۔ وہ ڈرتے ہیں کہ ان کو اٹھایا جائے اس حالت میں کہ نہ ان کی مدد کی جائے اور نہ ان کا کوئی سفارشی ہو۔ لَّعَلَّہُمْ یَتَّقُوْنَ زمرئہ متقین میں داخل ہوجائیں۔
Ayah 6:52فقراء صحابہ ؓ کو اپنے پاس سے ہٹانے کی ممانعت :
آیت 52 : جب نبی اکرم ﷺ کو حکم ملا کہ غیر متقین کو ڈرائیں۔ تاکہ وہ متقین بن جائیں۔ اس کے بعد متقین کو قریب کرنے کا حکم دیا۔ اور دور ہٹانے سے روک دیا گیا۔ ارشاد فرمایا۔ وَلَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ بِالْغَدٰوۃِ وَالْعَشِیِّان کی تعریف فرمائی کہ وہ اپنے رب کی پکار میں تسلسل قائم رکھنے والے ہیں۔ (دعا سے عبادت مراد ہے) اور اس پر مواظبت اختیار کرنے والے ہیں۔ یہاں العشی اور الغداۃ کا ذکر صرف اظہار دوام کے لیے ہے۔ یا اس کا معنی صبح وعصر کی نماز ادا کرنے والے ہیں یا پانچوں نمازیں ادا کرنے والے ہیں۔ قراءت : شامی نے الغُدْوَۃَ پڑھا ہے اور عبادت میں ان کی اخلاص کی نشان دہی اس فرمان سے کی۔ یُرِیْدُوْنَ وَجْہَہٗ الوجہ بول کر ذات شیٔ سے تعبیر کی گئی اور اس کی حقیقت یہ ہے کہ یہ فقیر صحابہ کرام بلال صہیب عمارؓ اور ان جیسے دیگر حضرات کے متعلق اتری۔ جبکہ ان کو رؤسائے مشرکین نے کہا اگر تم ان حقیر لوگوں کو اپنے پاس سے ہٹا دیتے تو ہم آپ کے پاس بیٹھتے۔
تو آپ ﷺ نے فرمایا۔ ما انا بطارد المؤمنین۔ پھر انہوں نے کہا کہ ایک دن ان کا مقرر کردیں اور ایک دن ہمارا۔ اس کے متعلق ایک تحریر لکھ دیں اس پر آپ ﷺ نے حضرت علی ؓ کو بلایا تاکہ وہ لکھیں۔ پس فقراء کھڑے ہوئے اور ایک طرف بیٹھ گئے۔ تو یہ آیت اتری۔ آپ ﷺ نے کاغذ کو پھینک دیا اور فقراء کے پاس تشریف لائے۔ اور ان کو گلے لگایا۔ (اسباب نزول واحدی) مَا عَلَیْکَ مِنْ حِسَابِہِمْ مِّنْ شَیْئٍ یہ اس آیت کی طرح ہے جو سورة شعراء آیت 113 ہے ان حسابہم الاعلی ربی۔ وَّمَا مِنْ حِسَابِکَ عَلَیْہِمْ مِّنْ شَیْئٍ اور اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ کفار نے ان کے دین اور اخلاص میں طعنہ زنی کی تھی۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کا حساب انہیں کو لازم پکڑنے والے ہیں۔ وہ تیری طرف بڑھ کر نہ آئے گا۔ جیسا کہ تمہارا حساب تم پر ہے وہ تمہاری طرف بڑھ کر نہ جائے گا۔
یہ جواب نفی ہے :
فَتَطْرُدَہُمْ یہ جواب نفی ہے اور وہ نفی ما علیک من حسابہم ہے۔ فَتَکُوْنَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَیہ نہی کا جواب ہے اور وہ نہی ولا تطرد ہے اور یہ بھی درست ہے کہ فتطردہم پر اس کا عطف ہے بطور تسبب کے۔ کیونکہ ان کا ظالم ہونا ان کے ہٹانے کا مسبب ہے۔ اس صورت میں ترجمہ یہ ہوگا۔ مسلمانوں کو اپنے پاس سے نکالیں اور ظالموں میں سے ہوجائیں۔ مگر نہی کا جواب زیادہ بہتر ہے۔ اس صورت میں ترجمہ یہ ہوگا۔ ان کو اپنے پاس سے نہ نکالو ورنہ ظالموں میں سے ہوجائو گے۔
Ayah 6:53کثرتِ دنیا علامت خیر نہیں بلکہ آزمائش ہے :
آیت 53 : وَکَذٰلِکَ فَتَنَّا بَعْضَہُمْ بِبَعْضٍ اور اس آزمائش کی طرح ہم نے اغنیاء کو فقراء کے ذریعے آز مایا۔ لِّیَقُوْلُوْا یعنی مالدار۔ اَہٰٓؤُلَآئِ مَنَّ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِّنْم بَیْنِنَا یعنی ان پر اللہ تعالیٰ نے ایمان کا انعام کیا۔ حالانکہ ہم ان سے بڑھ کر ایمان والے ہیں۔ اور وہ فقراء ہیں۔ اس میں اس بات سے انکار کیا گیا کہ ایسے لوگ حق پر ہونگے۔ اور ہم میں سے صرف ان پر بھلائی کا احسان کردیا جائے : لَـوْکَانَ خَیْرًا مَّا سَبَقُوْنَآ اِلَــیْہِ 1 (الاحقاف : 11) اگر اس دین میں کوئی بھلائی ہوتی تو پھر یہ لوگ ہم سے پہلے قبول نہ کرتے۔ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِاَعْلَمَ بِالشّٰکِرِیْنَ کہ کون اس کی نعمتوں کا شکریہ ادا کرتا ہے۔
Ayah 6:54شانِ فقراء اوّل ان کی خوشدلی کیلئے فرمایا پھر رحمت کی بشارت دی :
آیت 54 : وَاِذَا جَآئَ کَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِنَا فَقُلْ سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ اس بات میں خواہ اس بات کا تذکرہ کہ اللہ تعالیٰ کا سلام ان کو پہنچا دیں اور خواہ اس کا کہ ان کے اکرام میں ان کو سلام کہنے میں ابتداء کریں اور ان کے دلوں کی خوشی کے لیے اسی طرح یہ ارشاد۔ کَتَبَ رَبُّکُمْ عَلٰی نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ یہ بھی من جملہ ان باتوں میں سے ہے جو ان کو کہی گئی۔ تاکہ وہ پیغمبر ﷺ ان کو اللہ تعالیٰ کی وسعت رحمت کی خوشخبری دیں۔ اور ان کی قبولیت توبہ کی بشارت دیں۔ اب معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے ساتھ رحمت کا پکا وعدہ فرمایا ہے۔ اَنَّہ ضمیر شان ہے۔ مَنْ عَمِلَ مِنْکُمْ سُوْئً ام کوئی گناہ بِجَہَالَۃٍاس نے اس حالت میں عمل کیا ہے کہ وہ اس کے نقصان سے ناواقف ہے یا اس کو جاہل اس لیے کہا۔ کیونکہ اس نے اطاعت پر معصیت کو ترجیح دی۔ ثُمَّ تَابَ مِنْم بَعْدِہٖاس برائی کے بعد یا عمل کے بعد۔ وَاَصْلَحَاور مخلصانہ توبہ کی۔
قراءت و نحو :
فَاِنَّہٗ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌشامی و عاصم نے اَنّہٗ کو فاَنَّہٗ پڑھا ہے۔ نمبر 1۔ اَنّہٗ کی صورت میں یہ الرحمت سے بدل ہے۔ نمبر 2۔ اور دوسری صورت میں مبتدأ محذوف کی خبر ہے پس اسکی شان یہ ہے کہ وہ غفور رحیم ہے۔ اِنّہٗ ، فَاِنّہ مدنی نے پڑھا۔ اول بدل الرحمت ہے اور دوسرا مبتداء اِنَّہٗ فَاِنَّہٗ دوسروں نے مستأنفہ پڑھا ہے۔ گویا رحمت کے متعلق استفسار کیا گیا تو جواب دیا گیا۔ انہ من عمل منکم۔
Ayah 6:55مجرموں کے راستہ کی وضاحت تاکہ ہر ایک دیکھ کر چلے :
آیت 55 : وَکَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَلِتَسْتَبِیْنَ یستبین حمزہ اور علی اور ابوبکر نے پڑھا ہے۔ سَبِیْلُ الْمُجْرِمِیْنَسبیل کو نصب کے ساتھ مدنی نے پڑھا۔ جبکہ دوسروں نے رفع کے ساتھ پڑھا ہے۔ رفع کی صورت میں تستبین کو یاءؔ اور تاؔ دونوں سے پڑھا جاسکتا ہے۔ کیونکہ یہ مذکر اور مؤنث دونوں طرح مستعمل ہے۔ اور جب منصوب ہو تو تا سے خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہوگا۔ کہا جاتا ہے استبان الامرو تبین واستبنتہٗ وتبینتہٗ گویا استبان اور تبین ہم معنی ہیں۔ مطلب یہ ہوگا۔ ایسی واضح تفصیل ہم آیات قرآن کی کرتے ہیں اور ان مجرموں کے سلسلہ احوال میں ان کا خلاصہ ذکر کرتے ہیں۔ جن کے دل پر مہر لگ چکی ہے۔ اور ان لوگوں کے سامنے بھی ذکر کرتے ہیں۔ جن کے اسلام قبول کرنے کی امید ہوتی ہے۔ تاکہ ان کا راستہ واضح ہوجائے اور ہر فریق اپنی اپنی مرضی پر عمل پیرا ہوجائے۔ ہم نے یہ تفصیل اسی خاطر کی ہے۔
Ayah 6:56میں تمہاری خواہشات پر نہیں چل سکتا ‘ وہ تو گمراہی ہے :
آیت 56 : قُلْ اِنِّیْ نُہِیْتُ اَنْ اَعْبُدَالَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ یعنی مجھے عقل اور سمعی دلائل کے ذریعے ان معبودوں کی عبادت سے جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو منع کردیا گیا اور روک دیا گیا۔ قُلْ لَّآ اَتَّبِعُ اَہْوَآئَ کُمْ یعنی میں تمہارے اس طریقہ پر چلنے والا نہیں جس پر تم اپنے دین کے سلسلے میں چل رہے ہو۔ جس میں محض اتباع ہواء ہے۔ نہ کہ اتباع دلیل۔ دراصل اس میں وہ سبب ذکر کردیا جس کی وجہ سے وہ گمراہی میں مبتلاء ہوئے قَدْ ضَلَلْتُ اِذًایعنی میں اگر تمہاری خواہشات پر چلنے لگوں تو پھر میں گمراہ ہوجائوں گا۔ وَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُہْتَدِیْنَ ذرہ بھر بھی۔ یعنی بیشک تم اسی طرح ہو۔
Ayah 6:57آیت 57 : جب اس بات کی پچھلی آیت میں نفی فرما دی۔ کہ خواہشات تو قابل اتباع نہیں۔ تو جس کی اتباع لازم تھی اس کو فرمایا۔ قُلْ اِنِّیْ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنْ رَّبِّیْ یعنی میں اپنے رب کی معرفت کے سلسلہ میں واضح دلیل کے ساتھ کہتا ہوں کہ اس کے سواء کوئی معبود نہیں۔ وَکَذَّبْتُمْ بِہٖ اس طرح کہ تم نے دوسروں کو اس کا شریک بنایا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ میں اپنے رب کی طرف سے دلیل پر ہوں اور وہ قرآن ہے اور تم نے اس بینہ کو جھٹلا دیا ہے۔ یہاں ضمیر مذکر بتاویل برہان بیان یا قرآن مذکر ہونے کی وجہ سے ضمیر مذکر لائے۔ پھر اس کے بعد ایسی بات ذکر کی جو دلالت کر رہی ہے کہ وہ عذاب کے مستحق ہوچکے ہیں فرمایا۔ مَا عِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِہٖیعنی وہ عذاب جو تم اپنی اس طرح کی باتوں میں جلد طلب کرتے ہو۔ جیسا سورة انفال آیت 32۔ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَاحِجَارَۃً مِّنَ السَّمَآئِ ۔ اِنِ الْحُکْمُ اِلاَّ لِلّٰہِ تمہارے عذاب کو مؤخر کرنے کے متعلق یَقُصُّ الْحَقَّحجازی ٗ عاصم نے پڑھا ہے یعنی وہ جو فیصلہ کرتے ہیں اس میں حق و حکمت کا لحاظ رکھتے ہیں۔ اور اس کا اندازہ فرماتے ہیں۔
باقی قراء نے اس کو یَقْص الْحَقَّ وہ حق کا فیصلہ کرتا ہے جس میں وہ جلدی یا تاخیر کرتے ہیں۔ پس الحق سے مراد قضاء ہے پس الحق اس صورت میں یقضی کے مصدر کی صفت ہے۔ وَہُوَ خَیْرُ الْفٰصِلِیْنَ وہ حق فیصلہ کرنے والوں سے ہے۔ الفصل قضاء ہی کو کہتے ہیں۔ اور یا کا گرنا التقائے ساکنین کی وجہ سے اتباع لفظ کی خاطر ہے۔
Ayah 6:58میری قدرت میں عذاب نہیں وہ جب چاہے اتارے :
آیت 58 : قُلْ لَّوْ اَنَّ عِنْدِیْ یعنی میری قدرت و امکان میں مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِہٖیعنی عذاب لَقُضِیَ الْاَمْرُ بَیْنِیْ وَبَیْنَکُمْتو تم جلدی ہلاک ہوجائو غضب الٰہی کی وجہ سے۔ وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِالظّٰلِمِیْنَپس وہ تم پر ایسے وقت عذاب اتارے گا جس میں وہ جانتا ہے کہ وہ زیادہ روکنے والا ہے۔
Ayah 6:59وہ خود مغیبات کا علم رکھنے والا ہے :
آیت 59 : وَعِنْدَہٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُہَآ اِلاَّ ہُوَ المفاتح جمع مفتح ہے اور وہ مفتاح کو کہتے ہیں۔ دوسرا قول یہ بھی ہے کہ مفاتیح سے مراد خزائن ٗ عذاب اور رزق ہیں۔ تیسرا قول، لوگوں کی نگاہوں سے جو چیزیں غائب ہیں۔ مثلاً ثواب عقاب ٗ آجال ٗ احوال ان کے خزائن مراد ہیں۔ اور ان پوشیدہ چیزوں کو مفاتیح بطور استعارہ کہا گیا۔ کیونکہ کھولنے والا چابیوں کے ذریعے ہی بند خزانوں کے اندر مخفی اشیاء تک پہنچ سکتا ہے۔ پس جس کو چابیوں کا علم ہوگیا۔ اور ان کے کھولنے کی کیفیت بھی معلوم ہوگئی۔ وہ ان تک پہنچ جائے گا۔ پس مراد یہ ہے کہ وہ خود ہی ان مغیبات کا علم رکھنے والا ہے۔ کوئی دوسرا وہاں تک رسائی نہیں پاسکتا۔ اس شخص کی طرح جس کے پاس خزائن کی چابیاں ہوں اور وہ ان کا کھولنا بھی جانتا ہو۔ وہ ان مخازن میں جو کچھ ہے وہ ان تک پہنچنے والا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے پاس غیب کے خزائن ہیں اور تیرے پاس عیب کے خزائن ہیں پس جو اس کے غیب پر ایمان لے آیا تو اللہ تعالیٰ اس کے عیب پر پردہ ڈال دیں گے۔ وَیَعْلَمُ مَا فِی الْبَرِّ نباتات اور جانور ہیں۔ وَالْبَحْرِیعنی حیوانات اور جواہر وغیرہ۔ وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَۃٍ اِلاَّ یَعْلَمُہَا مَا نفی کے لیے ہے اور مِنْؔ استغراق کے لیے یعنی وہ ان کی تعداد اور احوال گرنے سے پہلے اور گرنے کے بعد جانتا ہے۔ وَلَا حَبَّۃٍ فِیْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَّلَا یَابِسٍ اس کا عطف ورقۃٍ پر ہے اور اس کے حکم میں داخل ہے۔ اِلاَّ فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْنٍیہ جملہ گویا الایعلمہا کے لیے بطور تکریر لائے۔ کیونکہ الایعلمہا اور الافی کتاب مبین کا معنی ایک ہے اور وہ علم الٰہی یا لوح محفوظ ہے۔
Ayah 6:60تم ہر وقت اس کے احاطہ علم وقدرت میں ہو :
آیت 60 : پھر کفار کو اس طرح مخاطب فرمایا۔ وَہُوَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰکُمْ بِالَّیْلِ وہ تمہاری روحوں کو نیند میں تصرف سے روک دیتا ہے۔ وَیَعْلَمُ مَاجَرَحْتُمْ بِالنَّہَارِجو تم کماتے ہو دن میں گناہ وغیرہ۔ ثُمَّ یَبْعَثُکُمْ فِیْہِپھر وہ تمہیں دن میں بیدار کرتا ہے۔ یا تقدیر عبارت اس طرح ہے۔ ثم یبعثکم فی النہار ویعلم ماجرحتم فیہ۔ پھر وہ دن میں تم کو اٹھاتا ہے۔ اور جانتا ہے جو تم دن میں کرتے ہو۔ کسب کو مقدم اس لیے کردیا کیونکہ وہ اہم ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ہمارے ان کاموں کو نہیں جانتا جو رات کے دوران کرتے ہیں۔ اور نہ یہ مطلب ہے کہ وہ دن میں ہماری ارواح کو قبض نہیں کرتا۔
نکتہ : کسی چیز کا خاص طور پر ذکر کرنے سے ماسواء کی نفی نہیں ہوجاتی۔ لِیُقْضٰٓی اَجَلٌ مُّسَمًّیتاکہ مدت اعمال کو پورا کیا جائے۔
قوائے حواس کو قبض کر کے واپس کرنے والا ارواح کو قبض کے بعد واپس کرے گا :
ثُمَّ اِلَیْہِ مَرْجِعُکُمْبعث بعد الموت یعنی موت کے بعد تمہارا لوٹناثُمَّ یُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ اپنے دن رات میں بعض اہل کلام نے کہا ہے کہ ہر حواس کی ایک خاص روح ہے۔ جو نیند کے وقت قبض کی جاتی ہے۔ باقی۔ وہ روح جس پر زندگی کا دارو مدار ہے۔ وہ صرف اس وقت قبض کی جاتی ہے جب کہ مقرر وقت آتا ہے۔ یہاں ارواح سے مراد وہ قوٰی اور معانی جن سے وہ حواس قائم ہیں۔ جن سے شنوائی ٗ بصارت ٗ اخذ ٗ مشی ٗ سونگھنا وغیرہ ہوتا ہے اور ثم یبعثکم فیہ کا مطلب بیدار کرنا ہے اور حواس کی ارواح کا واپس کرنا ہے۔ اس آیت سے منکرین بعث پر استدلال کیا جاتا ہے۔ کہ جب نیند سے حواس کی ارواح غائب ہوجاتی ہیں ان کو اللہ تعالیٰ لوٹاتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جانوں کی ارواح قبض کرنے کے بعد ان کی طرف ارواح کو لوٹائیں گے۔
Ayah 6:61صحائف کا لکھنا برائی سے بچنے میں معاون ہے :
آیت 61 : وَہُوَ الْقَاہِرُ فَوْقَ عِبَادِہٖ وَیُرْسِلُ عَلَیْکُمْ حَفَظَۃً محافظ فرشتے جو تمہارے اعمال کی نگرانی کرتے ہیں۔ وہ کراماً کاتبین ہیں۔ تاکہ برائی سے بچنے کے لیے یہ چیز زیادہ معاون بنے۔ جب وہ اس بات کو سوچیں۔ کہ ان کے صحائف تمام انسانوں کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔ حَتّٰی اِذَا جَآئَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ حَتّٰی حفظ اعمال کی غایت کو بیان کرنے کے لیے ہے۔ یعنی فرشتوں کی یہ عادت مکلفین کے ساتھ پوری زندگی رہتی ہے۔ یہاں تک کہ موت ان پر آ کر طاری ہوجاتی ہے۔ تَوَفَّتْہُ رُسُلُنَا اس کی روح کو قبض کرلیتے ہیں۔ اور وہ ملک الموت اور اس کے معاون ہیں۔ قراءت : توفیہ واستوفیہ امالہ کے ساتھ حمزہ نے پڑھا ہے۔ رُسْلنا سین کے جزم کے ساتھ ابوعمرو نے پڑھا ہے۔ وَہُمْ لَا یُفَرِّطُوْنَ وہ سستی و تاخیر نہیں کرتے۔
Ayah 6:62تمام معاملات سچے مولا کے پاس :
آیت 62 : ثُمَّ رُدُّوْٓا اِلَی اللّٰہِ اس کے حکم اور اس کے بدلہ کی طرف یعنی مرنے والوں کو ملائکہ کے لوٹانے سے اللہ کی بارگاہ کی طرف لوٹایا جائے گا۔ مَوْلٰـہُمُ جو ان کا ایسا مالک جو ان کے امور کا متولی ہے۔ اَلْحَقِّوہ ایسا عادل ہے کہ سچا ہی فیصلہ کرتا ہے۔ یہ دونوں لفظ اللہ کی صفات ہیں۔ اَلَا لَہُ الْحُکْمُ اس دن کسی دوسرے کا اس میں ذرہ بھر حکم نہ ہوگا۔ وَہُوَ اَسْرَعُ الْحٰسِبِیْنَ اس کو ایک کا حساب دوسرے کے حساب سے مشغول نہیں کرسکتا۔ وہ تمام مخلوق کا حساب بکری دوہنے کے وقت کے برابر لے لے گا۔ محاورہ الرد الی من ربّاک خیر من البقاء مع من اذاک تیرا اس کے پاس لوٹنا جس نے تیری تربیت کی اس سے بہت بہتر ہے کہ تو اس کے ساتھ رہے جس نے تجھے ایذا دی ہو۔
Ayah 6:63اندھیروں میں پھنستے ہو تو اسی کو بلاتے ہو :
آیت 63 : قُلْ مَنْ یُّنَجِّیْکُمْ ۔ قراءت۔ ابن عباس ؓ نے ینْجیکم بغیر تشدید پڑھا ہے۔ مِّنْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ دونوں کے خوفناک اور ہولناک مواقع سے مجاز ہے دوسرا قول ظلمات البر سے مراد گرجیں اور ظلمات البحر سے امواج بحر مراد ہیں۔ جبکہ دونوں رات اور بادل میں ہوں۔ تَدْعُوْنَہٗ ۔ : ینجیکم کی ضمیر مفعولی سے حال ہے۔ تَضَرُّعًا اس حال میں کہ تم گڑ گڑانے کا اظہار کر رہے ہوتے ہو۔ یہ مصدر ہے حال واقع ہے اسی طرح وَّخُفْیَۃً بھی مصدر و حال ہے یعنی اپنے دلوں میں چھپانے والے قراءت : تمام قرآن میں خُفْیَۃ ً کو خِفْیَۃ ً ابوبکر نے پڑھا ہے۔ دراصل یہ دونوں لغتیں ہیں۔ لَپنْ اَنْجٰنَا۔ قراءت : عاصم نے پڑھا ہے حمزہ وعلی نے امالہ سے پڑھا۔ اور بقیہ قراء نے انجیتنا پڑھا مطلب یہ ہے وہ کہتے ہیں کہ اگر تو نے ہم کو خلاصی دی۔ مِنْ ہٰذِہٖان اندھیروں سے۔ لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الشّٰکِریْنَ اللہ تعالیٰ کے لیے۔
Ayah 6:64نجات وہ دے اور شریک بھی اسی کا بنائو۔ تعجب ہے :
آیت 64 : قُلِ اللّٰہُ یُنَجِّیْکُمْ تشدید کے ساتھ کوفی نے پڑھا۔ مِّنْہَایعنی اندھیرے وَمِنْ کُلِّ کَرْبٍغم و رنج ثُمَّ اَنْتُمْ تُشْرِکُوْنَتم شکر ادا نہیں کرتے (بلکہ شرک کرتے ہو) ۔
Ayah 6:65ہر طرح کی پکڑ پھر اسے ہر وقت کامل قدرت ہے :
آیت 65 : قُلْ ہُوَ الْقَادِرُ وہ وہی ذات ہے کہ جس کا قادر ہونا تمہیں معلوم ہے یا قادر کا معنی کامل القدرت اس میں لام عہد و جنس دونوں کا احتمال رکھتی ہے۔ عَلٰٓی اَنْ یَّبْعَثَ عَلَیْکُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِکُمْجیسا اس نے قوم لوط پر عذاب کی بارش برسائی اور اصحاب فیل پر پتھروں کی۔ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِکُمْ جیسا اس نے فرعون کو غرق کیا اور قارون کو زمین میں دھنسا دیا۔ یا تمہارے سلاطین اور کمینے لوگوں کی طرف سے یا اس سے مراد بارش کا بند ہونا۔ اور نبات کا نہ اگنا ہے۔ اَوْ یَلْبِسَکُمْ شِیَعًا تمہیں فرقوں میں بانٹ دے جن کی خواہشات مختلف ہوں ہر گروہ اپنے مقتداء کے ساتھ چلنے والا ہو۔ خلطہم کا مطلب ان میں باہمی لڑائی کا پھوٹ پڑنا۔ جس سے وہ لڑائی کے مواقع میں آپس میں گڈ مڈ ہوجائیں۔ وَّیُذِیْقَ بَعْضَکُمْ بَاْسَ بَعْضٍایک دوسرے کو وہ قتل کریں۔ البأس تلوار کو کہتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ سے مروی ہے کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ میری امت پر اوپر سے عذاب نازل نہ فرمائے۔ یا پائوں کے نیچے سے تو اللہ تعالیٰ نے میری یہ دعا قبول فرمائی۔ اور میں نے اللہ تعالیٰ سے یہ بھی سوال کیا کہ وہ آپس میں نہ لڑیں پس اللہ تعالیٰ نے مجھے اس دعا سے روک دیا۔ یعنی قبول نہیں فرمایا۔ اور مجھے جبرائیل ( علیہ السلام) نے اطلاع دی کہ میری امت کی فناء تلوار سے ہوگی۔ اُنْظُرْ کَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ وعدہ اور وعید کے ساتھ لَعَلَّہُمْ یَفْقَہُوْنَ ۔
Ayah 6:66سچے قرآن کو جھٹلایا ‘ عذاب کا انتظار کرو :
آیت 66 : وَکَذَّبَ بِہٖ یعنی قرآن کو یا عذاب الٰہی کو قَوْمُکَ قریش وَہُوَ الْحَقُّ سچا ہے یا اس کا اترنا اس پر ضروری ہے۔ قُلْ لَّسْتُ عَلَیْکُمْ بِوَکِیْلٍ ایسا محافظ جس کے سپرد تمام معاملہ کردیا گیا ہو۔ بیشک میں تو منذر ہوں۔
Ayah 6:67وہ اپنے وقت پر آئے گا ‘ پھر خبر ہوگی :
آیت 67 : لِکُلِّ نَبَاٍ مُّسْتَقَرٌّ نبأ سے ہر وہ چیز جس سے خبر دی جائے۔ یعنی ان کا مطلع کرنا۔ کہ ان کو عذاب دیا جائے گا اور ان کا اس کے ذریعہ ڈرانا مستقرؔ وقت استقرار و حصول بہر صورت ہے۔ وَّسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ اس میں ان کو ڈرایا گیا ہے۔
Ayah 6:68قرآن پر طعن کرنے والوں کے پاس مت بیٹھو :
آیت 68 : وَاِذَا رَاَیْتَ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِیْٓ ٰایٰتِنَا یعنی قرآن کے استہزاء اور طعن میں مصروف ہوتے ہیں۔ اور قریش اپنی مجالس میں ایسا کرتے تھے۔ فَاَعْرِضْ عَنْہُمْ ان کے پاس مت بیٹھو۔ اور ان کے پاس سے اٹھ جائو۔ حَتّٰی یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِہٖ قرآن کے علاوہ جو کہ حلال ہے۔ پس اس وقت ان کے پاس بیٹھنا جائز ہے۔ وَاِمَّا یُنْسِیَنَّکَ الشَّیْطٰنُ جس سے تمہیں منع کیا گیا ہے۔ قراءت : شامی نے ینَسِّیَنَّک سین کے تشدید سے پڑھا ہے۔ نسّٰی اور انسٰی کا معنی ایک ہی ہے۔ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکْرٰییاد آنے کے بعد۔ مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ ۔
Ayah 6:69ہر ایک اپنے محاسبہ سے دوچار ہوگا :
آیت 69 : وَمَا عَلَی الَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ مِنْ حِسَابِہِمْ ان لوگوں کو محاسبہ سے جو قرآن مجید کی تکذیب میں مصروف ہیں۔ اور استہزاء کر رہے ہیں۔ مِّنْ شَیْئٍیعنی ان متقین پر جو ان کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں ان کے محاسبہ میں سے کوئی چیز لازم نہ ہوگی وہ محاسبہ جو ان کے گناہوں پر کیا جائے گا۔ وَّلٰکِنْ ان پر لازم ہے کہ ان کو نصیحت کرتے رہیں۔ ذِکْرٰیجب کہ ان کو سنیں کہ وہ استہزاء میں مصروف ہیں۔ ان کے پاس سے اٹھنے اور ان کے اس فعل سے نفرت کرتے ہوئے اور ان کو نصیحت کرتے ہوئے۔ ذکر ٰی منصوب ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ ان کو نصیحت کریں نصیحت کرنا۔ یا مرفوع ہے تقدیر عبارت یہ ہے لکن علیہم ذکرٰی پس ذکر ٰی مبتداء اور علیہم اس کی خبر ہے۔ لَعَلَّہُمْ یَتَقُوْنَشاید کہ وہ استہزاء میں مصروف ہونے سے بطور حیا باز رہیں یا ان کی برائی کو ناپسند کرتے ہوئے۔
Ayah 6:70دین کا مذاق بنانے والے اپنے عمل سے پھنس کر عذاب کا شکار ہوگئے :
آیت 70 : وَذَرِ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَہُمْ وہ جس کا ان کو مکلف بنایا گیا اور جس کی طرف ان کو دعوت دی جاتی ہے اور وہ دین اسلام ہے۔ لَعِبًا وَّلَہْوًا اس کے ساتھ تمسخر کیا اور استہزاء کیا۔ ذرہم کا معنی ان سے اعراض کریں اور ان کی تکذیب کی بالکل پرواہ نہ کریں اور استہزاء کو خاطر میں نہ لائیں۔ لہو وہ چیز جو انسان کو مشغول کر دے۔ خواہشات سے ہو یا خوش طبعی سے وَّغَرَّتْہُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا وَ ذَکِّرْبِہٖقرآن کے ذریعہ نصیحت فرمائیں۔ اَنْ تُبْسَل نَفْسٌم بِمَا کَسَبَتْاس خطرہ سے کہ نفس ہلاکت و عذاب کا شکار ہو۔ اور اپنے برے اعمال کا مرہون ہو۔ اِبْسال کا معنی روکنا ہے۔ لَیْسَ لَہَا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَلِیٌّجو اس کی طاقت سے مدد کرے۔ وَّلَا شَفِیْعٌ جو شفاعت سے دفاع کرے۔ صحیح قول کے مطابق کسبت پر وقف نہیں۔ کیونکہ لیس لہا یہ نفس کی صفت ہے اور مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید کے ساتھ نصیحت فرماتے رہیں اس کراہت سے کوئی نفس ہلاک ہو کسی دوست اور شفیع کو نہ پاتے ہوئے۔ اپنی کمائی کے سبب۔ وَاِنْ تَعْدِلْ کُلَّ عَدْلٍمصدر کی بناء پر منصوب ہے ان تفد کل فداء اگرچہ تم فدیہ دو العدل فدیہ کو کہتے ہیں۔ کیونکہ فدیہ دینے والا مفدی کو اس کے مثل سے برابر کرتا ہے۔ لاَّ یُؤْخَذْ مِنْھَا کا فاعل ضمیر عدل نہیں کیونکہ عدل یہاں مصدر ہے۔ اور مصدر اخذ کا اسناد نہیں ہوسکتا۔ باقی لا یؤخذ منہا عدل البقرہ آیت 48 میں عدل بمعنی مفدی بہٖ مفعول کے معنی میں ہے۔ پس اس لیے اس کی طرف یوخذ کی نسبت درست ہے۔ اُولٰٓپکَیہ ان لوگوں کی طرف اشارہ ہے جو اپنے دین کو لہو ولعب بنانے والے ہیں۔ یہ مبتداء اور الَّذِیْنَ اُبْسِلُوْا بِمَا کَسَبُوْا اس کی خبر ہے۔ اور لَہُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ سخت گرم پانی یہ اولئک کی خبر دوم ہے۔ اور تقدیر عبارت یہ ہے اولئک المبسلون ثابت لہم شرابٌ من حمیم۔ ان ہلاک ہونے والوں کے لیے گرم پانی کا مشروب ثابت ہوگا یا جملہ مستانفہ ہے۔ وَّعَذَابٌ اَلِیْمٌم بِمَا کَانُوْا یَکْفُرُوْنَ ان کے کفر کی وجہ سے۔
Ayah 6:71گمراہ کو غول شیطانی میں پھنسنے والے سے تشبیہ دی :
آیت 71 : قُلْ (کہہ دو ) ابوبکر کو کہہ دیں کہ وہ اپنے بیٹے عبدالرحمان کو کہہ دیں جو اپنے باپ کو بتوں کی عبادت کی طرف بلا رہا تھا۔ اَنَدْعُوْا کیا ہم عبادت کریں۔ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِجو نقصان اور نفع کا مالک ہے۔ مَالَا یَنْفَعُنَاان کی جو ہمارے نفع کی قدرت نہیں رکھتے اگر ہم ان کو پکاریں۔ وَلَا یَضُرُّنَااگر ہم ان کو چھوڑ دیں۔ وَنُرَدُّکیا ہم لوٹائے جائیں گے۔ عَلٰٓی اَعْقَابِنَا اس حالت میں کہ شرک کی طرف لوٹنے والے ہوں۔ بَعْدَ اِذْ ہَدٰنَا اللّٰہُاسلام کی طرف اور بتوں کی عبادت سے ہمیں چھوڑایا۔ کَالَّذِی اسْتَہْوَتْہُ الشَّیٰطِیْنُاس شخص کی طرح جس کو شیاطین کا غول اور سرکش شیاطین لے جائیں۔ نرد علی اعقا بنا کی ضمیر سے حال ہونے کی بناء پر یہ منصوب ہے مطلب یہ ہے کہ کیا ہم الٹے پائوں ہٹا دیئے جائیں گے ان لوگوں کی طرح جن کو شیاطین نے ور غلایا ہو۔ اور وہ ہَوٰی فی الارض سے باب استفعال ہے ہوٰی کا معنی زمین میں جانا گویا اس کا معنی طلبت ہویَّہٗ فِی الْاَرْضِجنگل و بیابان میں حیران استہوتہ کے مفعول سے حال ہے۔ یعنی اس حال میں کہ وہ حیران راستہ سے بھٹکا ہوا۔ اس کو معلوم نہیں کہ وہ کیا کرے۔ لَہٗاس بھٹکنے والے کے لئے۔
اَصْحٰبٌدوست یَّدْعُوْنَہْٓ اِلَی الْہُدَی اس طرف کہ وہ اس کو راہ پر لگا دیں صراط مستقیم کو الہدٰی سے تعبیر فرمایا۔ وہ اس کو کہہ رہے ہیں ائْتنَا وہ راستہ سے بھٹکا ہوا۔ جنات کے پیچھے جا رہا ہے اور ان کو جواب نہیں دیتا اور نہ ان کے پاس آتا ہے۔ اور یہ اس بناء پر ہے جو کہا جاتا ہے کہ جنات انسان کو بھٹکا دیتے ہیں۔ اور غول شیطانی انسان پر مسلط ہوجاتا ہے۔ پس طریق اسلام سے گمراہی اختیار کرنے والے کو اس سے تشبیہ دی ہے شیطان کے قدموں کی پیروی کرنے کو تشبیہ دی اور مسلمان اس کو اپنی طرف بلا رہے ہیں۔ مگر وہ ان کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوتا۔
ہدایت صرف اسلام ‘ باقی سب گمراہی :
قُلْ اِنَّ ہُدَی اللّٰہِاور وہ اسلام ہے۔ ہُوَالْہُدٰی صرف ہدایت ہے اس کے علاوہ گمراہی ہے۔ وَاُمِرْنَایہ ان ہدی اللّٰہ ہُوَ الہُدی کے محل پر عطف کی وجہ سے منصوب ہے۔ اس وجہ سے کہ دونوں مقولے ہیں۔ گویا اس طرح کہا گیا یہ بات بھی کہو اور یہ کہو امرنا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔
Ayah 6:72فرمانبرداروں کے طرق :
آیت 72 : وَاَنْ اَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ تقدیر عبارت یہ ہے و امرنا لان نسلم ولان اقیموا یعنی اسلام اور اقامت صلوۃ کے لیے وَاتَّقُوْہُ وَہُوَ الَّذِیْٓ اِلَیْہِ تُحْشَرُوْنَقیامت کے دن۔
Ayah 6:73اللہ خالق اور کامل علم وقدرت والا ہے :
آیت 73 : وَہُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ حکمت کے ساتھ۔ یا واقعی برحق۔ وَیَوْمَ یَقُوْلُ کُنْ فَیَکُوْنُیہ خبر ہے جو اب نہیں۔ قَوْلُہُ الْحَقُّیہ مبتدا ہے یوم یقول اس کی خبر مقدم ہے جیسا کہ تم کہو یوم الجمعۃ قولک الصدق یعنی قولک الصدق کائن یوم الجمعۃ تیری سچی بات جمعہ کے دن واقع ہونے والی ہے۔ اور الیوم بمعنی حین ہے مطلب یہ ہے اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو حق و حکمت کے ساتھ پیدا فرمایا۔ جس وقت وہ کسی چیز کو فرماتے ہیں ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے۔ اس کی بات سچی اور حکمت والی ہے۔ یعنی آسمان و زمین اور تمام تکوینات میں جو چیز بھی ہوتی ہے وہ حکمت و صواب پر مبنی ہے۔ وَلَہُ الْمُلْکُیہ مبتدا خبر ہے۔ یَوْمَ یُنْفَخُیہ لہ الملک کا ظرف ہے۔ فِی الصَّوْرِلغت یمن میں صور، سینگ کو کہتے ہیں۔ یا یہ صورۃ کی جمع ہے (مگر قرطبی نے اس کو جمع ماننے سے انکار کر کے تردید کی ہے۔ (صفحہ 20 جلد 7) عٰلِمُ الْغَیْبِوہ عالم الغیب ہے۔ وَالشَّہَادَۃِیعنی پوشیدہ اور علانیہ وَہُوَ الْحَکِیْمُفناء کرنے اور زندہ کرنے میں الْخَبِیْرُحساب و جزا سے۔
Ayah 6:74ابراہیم ( علیہ السلام) کا باپ کو وعظ و نصیحت کرنا :
آیت 74 : وَاِذْ قَالَ اِبْرٰہِیْمُ لِاَبِیْہِ ٰازَرَ یہ ان کے والد کا نام ہے یا لقب ہے کیونکہ نسابین کے مابین اختلاف ہے کہ ان کے والد کا نام تارخ ہے۔ یہ ٰازر، ابیہ کا عطف بیان ہے۔ اور اس کا وزن فاعل ہے۔ اَتَتَّخِذُ اَصْنَامًا ٰالِہَۃًیہ استفہام توبیخی ہے۔ کیا تو ان کو معبود بناتا ہے۔ حالانکہ یہ الوہیت کے مستحق نہیں۔ اِنِّیْٓ اَرٰکَ وَقَوْمَکَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ ۔
Ayah 6:75بصیرت روشن کر کے شرک کی قباحت ظاہر کردی :
آیت 75 : وَکَذٰلِکَ جیسے ہم نے ان کو شرک کی قباحت دکھائی تھی۔ نُرِیْ اِبْرٰہِیْمَ مَلَکُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِیعنی ہم اس کی بصیرت کو آسمان و زمین کی تخلیق کے لطائف دکھا رہے تھے نُرِیْ ماضی کی حکایت حال میں بیان کی گئی۔ الملکوت یہ الملک سے زیادہ بلیغ ہے۔ کیونکہ اس میں وائو اور تاء مبالغہ کے لیے بڑھائے گئے ہیں۔ مجاہد کہتے ہیں ان کے لیے ساتوں آسمان کھول دیئے گئے آپ نے ان کے مابین جو کچھ تھا وہ دیکھا ٗ حتی کہ ان کی نگاہ عرش الٰہی تک پہنچی۔ اور ساتوں زمینیں کھول دی گئیں۔ یہاں تک کہ جو کچھ ان میں تھا وہ دیکھا۔ وَلِیَکُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَہم نے اسی طرح کیا تاکہ وہ استدلال کرے۔ ولیکون من الموقنین عیانا کما ایقن بیانًا تاکہ وہ آنکھوں سے دیکھ کر اس طرح یقین کرے جیسا کہ وہ بیان سے یقین کرنے والے ہیں۔
Ayah 6:76نظر و استدلال سے قوم کی راہنمائی :
آیت 76 : فَلَمَّا جَنَّ عَلَیْہِ الَّیْلُ یعنی چھا گئی اس کا عطف قال ابرہیم لابیہ پر ہے۔ اور کذالک نری ابراہیم یہ جملہ معترضہ ہے۔ جو معطوف اور معطوف علیہ کے درمیان واقع ہے۔ رَ ٰاکَوْکَبًایعنی زہرہ یا مشتری ابراہیم ( علیہ السلام) کے والد اور ان کی قوم بت پرست ٗ سورج ٗ چاند ٗ ستارہ پرست تھی۔ آپ ( علیہ السلام) نے ان کو ان کے مذہب کی غلطی واضح کرنے کا ارادہ فرمایا اور نظر و استدلال کے انداز سے ان کی راہنمائی چاہی۔ اور ان کو یہ بتلانا چاہا۔ کہ صحیح نظر و فکر کا تقاضا یہ ہے کہ ان میں سے کوئی اس قابل نہیں کہ معبود کہلا سکے۔ کیونکہ اس میں حدوث وزوال کی دلیل پائی جاتی ہے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ کوئی تو ان کا موجد ہے جس نے ان کو ایجاد کیا ہے اور ان کا کوئی مدبر ہے۔ جو ان کے طلوع و غروب کا انتظام کرتا ہے۔ اور انتقال و چلائو دیگر تمام احوال کا منظم ہے۔ جب آپ نے اس ستارہ کو دیکھا جس کی وہ عبادت کرتے تھے تو فرمایا۔ قَالَ ہٰذَا رَبِّیْیعنی ان کو فرمایا کہ یہ میرا رب ہے بقول تمہارے۔ یا مراد أہذا ربی جو کہ بطور استہزاء آپ نے فرمایا ان پر انکار کرتے ہوئے یہ بات فرمائی محاورئہ عرب میں حرف استفہام کی بجائے انداز و آواز پر ہی اکتفاء کرلیتے ہیں۔ اور صحیح بات یہ ہے کہ یہ اس کا قول ہے جو اپنے مخالف سے انصاف کا طالب باوجود یہ کہ وہ جانتا ہو کہ وہ باطل پر ہے۔ پس اس کی بات کی حکایت وہ اس انداز سے کرے گا گویا کہ وہ غیر متعصب ہے۔ کیونکہ یہ طرز عمل حق کی طرف سے زیادہ بلانے والا اور شور و شغب سے خالی ہے۔ پھر وہ اس کے اعتقاد کو نقل کر کے اس پر مڑ کر حملہ کرتا ہے اور دلیل سے اس کو باطل کرتا ہے۔ فَلَمَّآ اَفَلَغائب ہوا۔ قَالَ لَآ اُحِبُّ الْاٰفِلِیْنَ یعنی میں ایسے ارباب کی عبادت پسند نہیں کرتا جو ایک حالت سے دوسری حالت میں بدلنے والے ہوں کیونکہ یہ اجسام مرکب کی صفات میں سے ہے۔
Ayah 6:77غروب سے تغیر پذیری پر شاندار استدلال :
آیت 77 : فَلَمَّا رَاَ الْقَمَر بَازِغًا طلوع ہوتے ہوئے۔ قَالَ ہٰذَا رَبِّیْ فَلَمَّآ اَفَلَ قَالَ لَپنْ لَّمْ یَہْدِنِیْ رَبِّیْ لَاَکُوْنَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّآلِّیْنَ آپ نے اپنی قوم کو خبردار فرمایا۔ کہ جو شخص چاند کو الٰہ مانتا ہو۔ وہ گمراہ ہے۔ طرز استدلال : آپ نے اس مقام پر غروب سے استدلال فرمایا۔ طلوع سے نہیں۔ حالانکہ دونوں حالتیں تغیر پذیر ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ غروب سے استدلال زیادہ واضح تر ہے۔ کیونکہ یہ انتقال چھپ جانے اور پردے میں اور اوٹ میں آجانے کے ساتھ ہے۔
Ayah 6:78مخاصم سے انصاف کی اپیل کی تاکہ اعتراض دلیل بن جائے :
آیت 78 : فَلَمَّا رَاَ الشَّمْسَ بَازِغَۃً قَالَ ہٰذَا رَبِّیْ ، ہذا اسم اشارہ ہے مذکر لائے کیونکہ انہوں نے اس سے طلوع ہونے والا مراد لیا۔ یا اس وجہ سے کہ انہوں نے مبتد 1 کو خبر کی طرح بنا لیا۔ کیونکہ وہ معنوی لحاظ سے دونوں ایک چیز ہیں۔ اس میں اصل رب کے لفظ کو تانیث سے محفوظ کرنا مقصود ہے اس لیے تو اہل عرب صفات باری تعالیٰ کے متعلق علامہ اور علام نہیں کہتے۔ اگرچہ ثانی پہلے کی نسبت علامت تانیث سے فقط بچنے کی خاطر۔ ہٰذَآ اَکْبَرُیہ بھی اپنے مخاصم کے ساتھ انصاف کرانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ فَلَمَّآ اَفَلَتْ قَالَ یٰقَوْمِ اِنِّیْ بَرِیْٓ ئٌ مِّمَّا تُشْرِکُوْنَ ان اجرام میں سے ہے جس کو تم ان کے خالق کا شریک قرار دیتے ہو۔ ایک کمزور قول یہ ہے کہ یہ نظر و استدلال ان کا اپنے نفس سے تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان سے نقل کردیا۔ مگر پہلا انتہائی ظاہر ہے اس لئے کہ یہ ارشاد یٰقوم انی بریْٓ ئٌ مما تشرکون اس کی تائید کر رہا ہے۔
Ayah 6:79مثبت انداز میں تذکرئہ توحید :
آیت 79 : اِنِّیْ وَجَّہْتُ وَجْہِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ ۔ یعنی اس ذات کے لیے کہ یہ محدثات دلالت کرتے ہیں کہ وہی ان کا بنانے والا ہے۔ حَنِیْفًایہ حال ہے یعنی تمام ادیان سے اسلام کی طرف مائل ہونے والا وَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی بھی چیز کو اس کی مخلوقات میں سے۔
Ayah 6:80میرا ربّ نفع و نقصان پر قدرت رکھتا ہے جبکہ تمہارے معبود کچھ بھی نہیں ‘ اسلئے میں ان سے نہیں ڈرتا :
آیت 80 : وَحَآجَّہٗ قَوْمُہٗ اللہ تعالیٰ کی توحید کے متعلق اور اس سے شرکاء کی نفی کے متعلق قَالَ اَتُحَآجُّوْنِّیْ فِی اللّٰہِاس کی توحید کے متعلق قراءت : اتحا جونی تخفیف نون کے ساتھ مدنی اور ابن ذکوان نے پڑھا ہے۔ وَقَدْ ہَدٰنِاپنی توحید کی طرف ابو عمرو نے یاؔ میں وصل کے ساتھ پڑھا۔ وَقَدْ ہَدٰنِ جب انہوں نے ابراہیم ( علیہ السلام) کو دھمکایا کہ ان کے معبود اس کو تکلیف پہنچائیں گے تو فرمایا۔ وَلَآ اَخَافُ مَا تُشْرِکُوْنَ بِہٖٓ اِلَّآ اَنْ یَّشَآئَ رَبِّیْ شَیْئًاج وَسِعَ رَبِّیْ کُلَّ شَیْئٍ عِلْمًا یعنی میں تمہارے معبودوں سے کسی بھی وقت میں نہیں ڈرتا۔ کیونکہ وہ نفع و نقصان کی ذرہ بھر بھی طاقت نہیں رکھتے۔ مگر جب کہ میرا رب چاہے کہ ان میں سے کوئی تکلیف پہنچے وہ اس پر قدرت رکھتا ہے کہ جس چیز میں چاہے نفع و نقصان پیدا کر دے۔ نہ کہ یہ بت۔ وَسِعَ رَبِّیْ کُلَّ شَیْئٍ عِلْمًاکہ بندے کو کوئی ذرا سا نفع و نقصان اس کے علم کے بغیر نہیں پہنچ سکتا۔ اَفَلَا تَتَذَکَّرُوْنَپس تم فرق کرو قادر اور عاجز کے درمیان۔