Ayah 6:81تم میرے امن پر تعجب کرتے ہو حالانکہ خود مقام خوف میں ہو :
آیت 81 : وَکَیْفَ اَخَافُ مَآ اَشْرَکْتُمْ تمہارے معبود حالانکہ وہ خوف کی جگہ ہیں۔ وَلَا تَخَافُوْنَ اَنَّکُمْ اَشْرَکْتُمْ بِاللّٰہِ مَالَمْ یُنَزِّلْ بِہٖاپنے شرک کے باعث عَلَیْکُمْ سُلْطٰنًا دلیل اس لیے کہ شرک پر تو کوئی صحیح دلیل موجود ہی نہیں۔ مطلب
یہ ہے کہ کیا ہوگیا کہ میرے متعلق امن و سلامتی کو انوکھا خیال کرتے ہو حالانکہ میں تو امن کی جگہ میں ہوں۔ اور اپنے متعلق امن کو عجیب نہیں سمجھتے حالانکہ تم خوف کے مقام پر ہو۔ فَاَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ یعنی موحدین اور مشرکین دونوں گروہ اَحَقُّ بِالْاَمْنِعذاب سے اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَاس طرح نہیں فرمایا فایُّنا تاکہ تزکیہ نفس کا شبہ نہ ہو۔ پھر سوال کے جواب کو دوبارہ لوٹایا اپنے اس ارشاد سے۔
Ayah 6:82شرک سے بچنے والا مامون ہے :
آیت 82 : اَلَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَلَمْ یَلْبِسُوْٓا اِیْمَانَہُمْ بِظُلْمٍ شرک کے ساتھ یہ صدیق اکبر ؓ نے تفسیر فرمائی۔ اُولٰٓپکَ لَہُمُ الْاَمْنُ وَہُمْ مُّہْتَدُوْنَابراہیم ( علیہ السلام) کا کلام مکمل ہوا۔
Ayah 6:83ابراہیم ( علیہ السلام) کو دلائلِ قاہرہ ہم نے دیئے :
آیت 83 : وَتِلْکَ حُجَّتُنَا اس سے ان تمام دلائل کی طرف اشارہ ہے جن سے ابراہیم ( علیہ السلام) نے حجت پکڑی۔ اپنی قوم کے خلاف فلما جن علیہ الّیل سے وہم مہتدون تک۔ ٰاتَیْنٰہَآ اِبْرٰہِیْمَ عَلٰی قَوْمِہٖ یہ خبر کے بعد خبر ہے۔ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآئُعلم و حکمت میں۔
قراءت : درجات کو کوفی نے تنوین سے پڑھا ہے۔ اس میں معتزلہ کے اس قول کی تردید ہے کہ جو اصلح کے سلسلہ میں وہ کہتے ہیں۔ اِنَّ رَبَّکَ حَکِیْمٌ رفع کے ساتھ عَلِیْمٌ اہلیت کو جانتے ہیں۔
Ayah 6:84آیت 84 : وَوَہَبْنَا لـَہٗ یعنی ابراہیم ( علیہ السلام) کو۔ اِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ کُلاًّ ہَدَیْنَایعنی تمام کو۔ کلاًّ پر نصب ہدینا کی وجہ سے ہے یعنی ہدینا نوحاً کہ ہم نے نوح کو ہدایت دی۔ مِنْ قَبْلُابراہیم ( علیہ السلام) سے پہلے۔ وَمِنْ ذُرِّیَّتِہٖ ہٖ ضمیر نوح ( علیہ السلام) کی طرف جاتی ہے۔ یا ابراہیم ( علیہ السلام) کی طرف۔ پہلا قول زیادہ واضح ہے کیونکہ یونس و لوط ابراہیم ( علیہ السلام) کی اولاد میں سے نہ تھے۔ دَاوٗدَ وَسُلَیْمٰنَ وَ اَیُّوْبَ وَیُوْسُفَ وَ مُوْسٰی وَ ہٰرُوْنَتقدیر عبارت یہ ہے و ہدینا من ذریتہٖ ہؤلاء کہ اس کی اولاد میں سے ان کو ہم نے ہدایت دی۔ وَکَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَہم محسنین کو اس جیسا بدلہ دیتے ہیں۔ کاف موضع نصب میں مصدر محذوف کی صفت ہے۔
Ayah 6:85ایک استدلال :
آیت 85 : وَزَکَرِیَّا وَیَحْیٰی وَعِیْسٰی وَاِلْیَاسَ کُلٌّ یہ تمام مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ ۔ عیسیٰ ( علیہ السلام) کا ذکر ان کے ساتھ کر کے ثابت کردیا کہ نسب ماں سے بھی ثابت ہوتا ہے کیونکہ ان کو نوح ( علیہ السلام) کی اولاد سے قرار دیا۔ حالانکہ عیسیٰ ( علیہ السلام) کا ان کے ساتھ اتصال صرف ماں کی طرف سے ہے۔ اسی دلیل کے ساتھ حجاج کو جواب دیا گیا تھا۔ جب اس نے بنو فاطمہ کے بارے میں انکار کیا کہ وہ اولاد النبی ( علیہ السلام) ہیں۔
Ayah 6:86آیت 86 : وَاِسْمٰعِیْلَ وَالْیَسَعَ للَّیْسع جہاں بھی قرآن میں آتا ہے دو لاموں سے حمزہ اور علی نے پڑھا ہے۔ وَیُوْنُسَ وَلُوْطًا ط وَکُلًّا فَضَّلْنَا عَلَی الْعٰلَمِیْنَ نبوت اور رسالت کے ساتھ۔
Ayah 6:87آیت 87 : وَمِنْ ٰابَآپہِمْ یہ کُلًّا پر عطف کی وجہ سے محل نصب میں واقع ہے یعنی و فضلنا بعض ٰابآء ہم ان کے بعض آباء کو فضیلت دی۔ وَذُرِّیّٰتِہِمْ وَاِخْوَانِہِمْ وَاجْتَبَیْنٰہُمْ وَہَدَیْنٰہُمْ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ۔
Ayah 6:88آیت 88 : ذٰلِکَ وہ جس کو اختیار کیا ان مذکورہ بالا حضرات نے ہُدَی اللّٰہِ اللہ کا دین یَہْدِیْ بِہٖ مَنْ یَّشَآئُ مِنْ عِبَادِہٖاس میں معتزلہ کی تردید ہے کیونکہ ان کا قول ہے ان اللہ شاء ہدایۃ الخلق کلہم۔ لکنہم لم یہتدوا کہ اللہ تعالیٰ نے تو تمام مخلوق کو ہدایت دینا چاہا مگر انہوں نے ہدایت نہ پائی۔
مذمت شرک کیا انوکھا انداز :
وَلَوْ اَشْرَکُوْاباوجود اپنے فضل و کمال اور بلند درجات کے لَحَبِطَ عَنْہُمْ مَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ تو ان کے اعمال باطل ہوجائیں۔ جیسا کہ دوسرے موقع پر فرمایا لئن اشرکت لیحبطن عملک (الزمر 65)
Ayah 6:89آیت 89 : اُولٰٓپکَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰہُمُ الْکِتٰبَ الکتاب سے جنس مراد ہے۔ وَالْحُکْمَاور حکمت یا فہم الکتاب وَالنُّبُوَّۃَوہ انسان کے اعلی ترین مناصب میں سے ہے۔ فَاِنْ یَّکْفُرْبِھَا۔ کتاب اور حکمت و نبوت کے ساتھ یا آیات قرآن کے ساتھ ہٰؤُلَآئِ ۔
ہٰؤُلَآئِکی مراد :
یعنی اہل مکہ فَقَدْ وَکَّلْنَا بِہَا قَوْمًا وہ مذکورہ انبیاء اور ان کے سچے پیروکار ہیں۔ اس کی دلیل اگلی آیت اولئک الذین ہدی اللّٰہ فبہذہم اقتدہ۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی پس تم ان کی ہدایت کی اقتداء کرو۔ دوسرا قول اصحاب النبی ﷺ ہیں تیسرا قول جو آپ پر ایمان لائے وہ سب مراد ہیں۔ چوتھا قول عجم جو ایمان لائے وہ مراد ہیں۔ اور توکیل کا مطلب یہ ہے کہ ان کو اس پر ایمان کی توفیق ملی اور ان کے حقوق کی ادائیگی میسر ہوئی جیسا کہ آدمی کو کوئی چیز سپرد کی جاتی ہے تاکہ وہ اس کی نگرانی کرے اور اس کا خیال کرے۔ اور نگہبانی کرے۔ لَّیْسُوْا بِہَا میں بآء کافرین کے صلہ کے طور پر لائی گئی ہے۔ بِکٰفِرِیْنَمیں با نفی کی تاکید ظاہر کرنے کے لیے لائے۔
Ayah 6:90تمام انبیاء ( علیہ السلام) کے اصول دین ایک ہیں :
آیت 90 : اُولٰٓپکَ الَّذِیْنَ ہَدَی اللّٰہُ یعنی وہ انبیاء جن کا تذکرہ گزرا۔ فَبِہُدٰہُمُ اقْتَدِہْ اقتداء کیلئے انکی ہدایت کو خاص کیا کہ انکے علاوہ کسی کی اقتداء نہ کرو۔ یہ مفعول کو مقدم کرنے کا مطلب ہے اور ہدٰہم سے مراد ان کا طریقہ جو ایمان باللہ اور توحید باری تعالیٰ اور اصول دین کے سلسلہ میں ہے شریعت نہیں کیونکہ شرائع تو مختلف ہیں اقتدہ۔ میں ہ پر وقف ہے وصل میں ساقط ہوجاتی ہے۔ یہاں وقف کو ترجیح دینا بہتر ہے تاکہ مصحف میں ہا قائم رہے۔ البتہ قراء حمزہ ٗ علی وصل میں اس کو حذف کرتے ہیں اور شامی اختلاف کرتے ہیں۔ قُلْ لَّآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ وحی پر یا تبلیغ رسالت پر توحید کی طرف دعوت دینے پر اَجْرًا۔ انعام
: اس میں دلیل ہے کہ تعلیم قرآن اور روایت حدیث پر اجرت لینا جائز نہیں۔
اِنْ ہُوَ اِلاَّ ذِکْرٰی لِلْعٰلَمِیْنَ قرآن جن و انسان کے لیے نصیحت ہے۔
Ayah 6:91یہود کا ضد کی وجہ سے تمام وحیوں سے انکار :
آیت 91 : وَمَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہٖٓ اِذْ قَالُوْا مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ عَلٰی بَشَرٍ مِّنْ شَیْئٍ انہوں نے بعثت رسول اللہ ﷺ کا انکار کر کے بندوں پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کو اچھی طرح نہیں پہچانا۔ اسی طرح وحی جیسی رحمت کو نہ جانا۔ حالانکہ یہ تو عظیم ترین رحمت ہے جیسا کہ دوسری آیت میں فرمایا وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین (الانبیاء 107) روایات میں ہے کہ یہود کی ایک جماعت جس میں مالک بن صیف بھی تھا۔ پیغمبر ﷺ سے جھگڑنے لگے آپ ﷺ نے مالک کو کہا کہ کیا تورات میں یہ لکھا نہیں کہ اللہ تعالیٰ موٹے عالم کو ناپسند کرتے ہیں۔ تو اس نے کہا ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا تو الحبرالسّمین ہے اس پر وہ غضب ناک ہوا اور کہنے لگے ما انزل اللّٰہ علی بشرٍ من شیٍٔ کہ اللہ تعالیٰ نے کسی بشر پر کوئی چیز اتاری نہیں۔ حَقَّ قَدْرِہٖٓیہ مصدر کی وجہ سے منصوب ہے۔ قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْکِتٰبَ الَّذِیْ جَآئَ بِہٖ مُوْسٰی نُوْرًایہ بہٖ کی ضمیر سے حال ہے۔ یا الکتاب سے حال ہے۔ وَّہُدًی لِّلنَّاسِ تَجْعَلُوْنَہٗ قَرَاطِیْسَ تُبْدُوْنَہَا وَتُخْفُوْنَ کَثِیْرًاجس میں رسول اللہ ﷺ کی تعریف ہے یعنی اس کے حصے کردیئے اور الگ الگ اوراق میں رکھا۔ اور جدا جدا کاغذوں میں کردیا۔ تاکہ ایجاد و اخفاء پر قدرت پاسکیں۔
قراءت : مکی اور ابو عمرو نے تینوں کو یا سے پڑھا ہے۔ وَعُلِّمْتُمْاے اہل کتاب سکھائی گئیں کتاب کی وہ باتیں مَالَمْ تَعْلَمُوْٓا اَنْتُمْ وَلَآ ٰابَآؤُکُمْ تمہارے دین کے سلسلہ میں اور دنیا کے معاملہ میں قُلِ اللّٰہُیہ جواب ہے کہ اس کو اللہ تعالیٰ نے ہی اتارا ہے۔ انکو انکار کی قدرت نہیں۔ ثُمَّ ذَرْہُمْ فِیْ خَوْضِہِمْوہ اپنے اس باطل میں جس میں وہ مصروف ہیں۔ یَلْعَبُوْنَیہ ذرہم سے حال ہے۔ یا خوضہم سے حال ہے۔ (اس حال میں کہ بےہودگی میں ہیں)
Ayah 6:92آیت 92 : وَہٰذَا کِتٰبٌ اَنْزَلْنٰہُ اپنے پیغمبر ﷺ پر۔ مُبَارَک منافع اور فوائد سے بھرپور۔ مُّصَدِّقُ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْہِیعنی کتاب وَلِتُنْذِرَ ابوبکر نے یا سے پڑھا ہے یعنی کتاب۔ اس کا عطف اس پر ہے جس پر کتاب کی صفت دلالت کرتی ہے گویا اس طرح فرمایا انزلناہ لبرکات و تصدیق ما تقدمہ من الکتاب ولا نذار۔ ہم نے اس کو برکات کے ساتھ اتارا اور یہ تصدیق کے لئے اس کتاب کی جو پہلے گزریں اور ڈرانے کے لئے۔
امّ القریٰ کا لقب :
اُمَّ الْقُرٰی، مکۃ المکرمہ۔ اس کو ام القری اس لیے کہتے ہیں کیونکہ یہ زمین کی ناف ہے اہل قرٰی کے لیے قبلہ ہے۔ اور شان میں سب سے بڑھ کر ہے۔ اس لیے کہ لوگ اس کا قصد کر کے جاتے ہیں۔ وَمَنْ حَوْلَہَااہل مشرق و مغرب وَالَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ ۔ انجام کی تصدیق کرتے اور آخرت سے ڈرتے ہیں۔ یُؤْمِنُوْنَ بِہٖ ، ہٖ سے کتاب مراد ہے۔ دین کی جڑ خوف عاقبت ہے۔ جو اس سے ڈرا اس پر خوف ہمیشہ رہتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ ایمان لے آتا ہے۔ وَہُمْ عَلٰی صَلَا تِہِمْ یُحَافِظُوْنَ نماز کا خاص طور پر ذکر کیا۔ کیونکہ وہ علامت ایمان اور دین کا ستون ہے۔ جس نے اس کی محافظت کی تو وہ اس کے ہم مثل دیگر اعمال کی بھی حفاظت کرے گا۔
Ayah 6:93تمام افتراء والے شامل ہیں ‘ مدعیان نبوت ہوں یا اور :
آیت 93 : وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا وہ مالک بن صیف یہودی حبر ہے۔ اَوْ قَالَ اُوْحِیَ اِلَیَّ وَلَمْ یُوْحَ اِلَیْہِ شَیْئٌوہ مسیلمہ کذاب ہے۔ وَّمَنْ قَالَیہ موقع جر میں ہے اس کا عطف ممن افترٰی پر ہے یعنی وممّن قال۔ سَاُنْزِلُ مِثْلَ مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُیعنی عنقریب میں کہوں اور املاء کروائوں گا یہ عبداللہ بن سعد بن ابی سرح ہے جو کاتب وحی تھا نبی اکرم ﷺ نے اس کو لکھوایا ولقد خلقنا الانسان سے خلقًا ٰاخر تک۔ تو اس کی زبان پر فتبارک اللّٰہ احسن الخالقین کا کلمہ آیا۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا اس کو اسی طرح لکھو۔ یہ اسی طرح اتری ہے۔ پس اس کو شک ہوا اور کہنے لگا کہ اگر محمد (ﷺ) سچے ہیں تو میری طرف بھی اسی طرح وحی آتی ہے جیسا کہ اس کی طرف۔ اور اگر وہ جھوٹا ہے تو میں نے بھی اسی طرح کہہ دیا جس طرح وہ کہتا ہے۔ اور وہ ارتداد اختیار کر کے مکہ چلا گیا۔ یا نضر بن حارث مراد ہے جو کہا کرتا تھا۔ والطاحنات طحنًا فالعاجنات عجنا فالخابزات خبزًا۔ (اب اس بڑ کی قرآن کے مقابلے میں کیا حیثیت ہے) گویا وہ قرآن کا معارضہ کرتا ہے۔ وَلَوْ تَرٰیاس کا جواب محذوف ہے لرأیت امرًا عظیمًا۔ اِذِ الظّٰلِمُوْنَ مراد وہ لوگ ہیں جن کا تذکرہ ہوا۔ خواہ یہود سے تھے یا مدعیان نبوت اس میں الف لام عہد کا ہے جنس کے لیے بھی درست ہے۔ اس میں یہ بھی بطور بدل اشتمال شامل ہونگے کیونکہ وہ لام ان تمام لوگوں پر مشتمل ہے۔ فِیْ غَمَرٰتِ الْمَوْتِموت کی سختیاں اور موت کے سکرات۔
روح کو بلا مہلت نکالنے کی تعبیر :
وَالْمَلٰٓپکَۃُ بَاسِطُوْٓا اَیْدِیْہِمْ اَخْرِجُوْٓٓا اَنْفُسَکُمْ ان کی طرف یہ کہتے ہوئے اپنے ہاتھ پھیلانے والے ہونگے۔ لا ئو اپنی روحوں کو ان کو اپنے جسموں سے نکال کر ہمارے سامنے پیش کرو۔ یہ در حقیقت روح کو سختی اور بلا مہلت نکالنے کی تعبیر ہے۔ اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْہُوْنِاس سے موت کا وقت مراد لیا گیا ہے اور وہ شدت نزع جس کا ان کو عذاب دیا جائے گا الہون ذلت اور اس میں جم جانا۔ بِمَا کُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَی اللّٰہِ غَیْرَ الْحَقِّ کہ اس کا شریک اور بیوی اور اولاد ہے۔ : غیر الحق یہ تقولون کا مفعول ہے۔ یا مصدر مضاف کی صفت ہے۔ یعنی قَوْلاً غَیْرَ الْحَقِّ ۔ وَکُنْتُمْ عَنْ ٰایٰتِہِ تَسْتَکْبِرُوْنَپس تم ان پر ایمان نہیں لاتے ہو۔
Ayah 6:94آیت 94 : وَلَقَدْ جِئْتُمُوْنَا حساب اور جزاء کے لئے فُرَادٰیاکیلے بغیر مال ومعاون کے۔ یہ فَرِیْدٌ کی جمع ہے۔ جیسے اسیرٌ جمع اسارٰی۔ کَمَا خَلَقْنٰکُمْ یہ جئتمونا کے مصدر کی صفت ہے یعنی اس طرح کی آمد جیسے ہم نے تمہیں پیدا کیا۔ اَوَّلَ مَرَّۃٍاس ہیٔت کے مطابق جس پر پہلے پیدا ہوئے۔ وَّتَرَکْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰکُمْ ۔ ہم نے تمہیں مالک بنایا۔ وَرَآئَ ظُہُوْرِکُمْتم اس میں سے ایک ذرہ اٹھائے ہوئے نہیں ہو۔ وَمَا نَرٰی مَعَکُمْ شُفَعَآئَ کُمُ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ اَنَّہُمْ فِیْکُمْ شُرَکٰٓؤُا تمہارے غلام بنانے میں۔ لَقَدْ تَّقَطَّعَ بَیْنَکُمْزجاج نے بینکم پڑھا وصل ٗ ملاقات ٗ بینکا لفظ وصل و ہجر دونوں کے لیے بولا جاتا ہے جیسا کہ شاعر کے اس شعر میں۔ فواللّٰہ لولا البین لم یکن الہوٰی ولولا الہوٰی حن للبین آلف اللہ کی قسم اگر وصل نہ ہوتا تو محبت نہ ہوتی۔ اگر محبت نہ ہوتی تو جدائی پر کوئی انس والا شوق مند نہ ہوتا۔ قراءت : مدنی ٗ علی ٗ حفص نے بینکم پڑھا یعنی تمہارے درمیان انقطاع واقع ہو۔ وَضَلَّ عَنْکُمْضائع اور باطل ہوگئے۔ مَّا کُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَکہ وہ قیامت کو تمہارے سفارشی بنیں گے۔
Ayah 6:95منکرین بعث کے لئے مشاہداتی دلائل :
آیت 95 : اِنَّ اللّٰہَ فٰلِقُ الْحَبِّ وَالنَّوٰی نبات اور درخت یعنی اس نے سٹے سے دانے کو اور گٹھلی سے کھجور کو پھاڑ نکالا۔ اَلْفَلَقُ مجاہد کہتے ہیں اس سے وہ شگاف مراد ہے جو گٹھلی اور دانے میں پائے جاتے ہیں۔ یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِبڑھنے والی ترو تازہ نبات خشک دانے سے وَ مُخْرِجُ الْمَیِّتِ مِنَ الْحَیِّ خشک دانہ ترو تازہ نبات میں سے یا انسان نطفہ سے اور نطفہ انسان سے۔ یا مومن سے کافر اور کافر سے مومن۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے خلاف اس مخلوق سے دلیل پیش کی جو ان کے مشاہدہ میں تھی۔ کیونکہ وہ بعث بعد الموت کے منکر تھے۔ پس ان کو بتلایا کہ اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جس نے ان اشیاء کو پیدا کیا پس وہ ان کو دوبارہ اٹھانے کی بھی طاقت رکھتے ہیں۔
نکتہ : البتہ یہاں مخرج المیت لفظ اسم فاعل سے استعمال فرمایا اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا عطف فالق الحب پر ہے۔ فعل پر نہیں ہے۔ اور اوپر یخرج الحیی من المیت میں مضارع کا استعمال اس لیے ہے کہ وہ جملہ مبینہ کے طور پر آرہا ہے اور فالق الحب والنوی ہی کی وضاحت ہے۔ کیونکہ حب اور نویٰ سے نباتات و اشجار نامیہ کا خروج زندہ کو مردہ سے نکالنے کی جنس سے ہے۔ کیونکہ نمو والی چیز بمنزلہ حیوان کے ہے اس کی دلیل اس ارشاد میں پائی جاتی ہے ویحیی الارض بعد موتہا۔ ذلِکُمُ اللّٰہُیہ موت اور زندگی بخشنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ ربوبیت اسی کا حق ہے نہ کہ بتوں کا فَاَنّٰی تُؤْفَکُوْنَتم کس طرح اس سے پھرے جا رہے ہو۔ جو معاملہ ہم نے بیان کیا اس کے بعد بھی اس سے رخ پھیرنے والے ہو۔
Ayah 6:96مزید دلائل :
آیت 96 : فَالِقُ الْاِصْبَاحِ یہ مصدر ہے جس کا نام الصبح ہے۔ یعنی صبح کے ستون کو رات کی سیاہی میں سے پھاڑ کر نکالنے والا ہے۔ وَجَعَلَ الَّیْلَ کوفی کی قراءت میں ہے کیونکہ اس سے قبل اسم فاعل المضی کے معنی میں ہے جب فالق، فلق کے معنی میں ہے تو جعل کا اس پر عطف کر کے ظاہر کیا کہ ان میں معنوی موافقت ہے۔ سَکَنًا اس میں سکون حاصل کریں جیسا کہ دوسری آیت میں ہے : لِتَسْکُنُوْا فِیْہِ (یونس : 67) تاکہ مخلوق کام کاج کی مشقت سے غفلت کی نیند کے ذریعہ سکون حاصل کرے۔
مزید دلائل ‘ سورج و چاند ذریعہ حساب :
دوسری تفسیر یہ ہے کہ مخلوق کی وحشت سے ہٹ کر حق کے ساتھ انس حاصل کرو۔ وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَیہ دونوں جَعَلَ فعل کی وجہ سے منصوب اور اس پر دلیل جاعل اللیل ہے۔ حُسْبَانًاان دونوں کو حساب کی علامت بنادیا۔ کیونکہ اوقات کے دوران اور چلنے سے معلوم ہوتے ہیں۔ اور الحسبان ضمہ کے ساتھ یہ حسب کا مصدر ہے جیسا کہ حسبان کسرہ کے ساتھ حسب کا مصدر ہے۔ ذٰلِکَان کا حسبان بنانا یعنی یہ چلانا ایک مقررہ حساب سے ہے۔ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِجس نے ان کو مغلوب کیا اور مسخر کیا۔ الْعَلِیْمِان کی تدبیر اور تدویر جانتا ہے۔
Ayah 6:97رات کے اندھیرے اور سمندر کے اندھیروں میں ملابست ہے :
آیت 97 : وَہُوَ الَّذِیْْ جَعَلَ لَکُمُ النُّجُوْمَ ان کو پیدا کیا۔ لِتَہْتَدُوْا بِہَا فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِیعنی خشکی و سمندر میں اور رات کے اندھیروں میں ظلمات کی اضافت بروبحر کی طرف ملا بست کی وجہ سے کی گئی ہے یا مشتبہ راستوں کو ظلمات سے تشبیہ دی قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَہم نے علم والوں کے لیے توحید پر دلالت کرنے والے دلائل واضح کردیئے۔
Ayah 6:98مستقر و مستودع کی تفسیر :
آیت 98 : وَہُوَ الَّذِیْٓ اَنْشَاَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وہ آدم ہیں۔ فَمُسْتَقَرٌّ وَّ مُسْتَوْدَعٌ۔ قراءت : مکی اور بصری نے مستقر کسرہ قاف سے پڑھا ہے جنہوں نے قاف کو فتح دیا تو ان کے ہاں وہ اسم مفعول وظرف بن گیا۔ جیسا مستودع اسم مفعول و ظرف ہے جنہوں نے کسرہ دیا انہوں نے اسم فاعل بنایا اور مستودع کو اسم مفعول بنایا۔ یعنی تمہارا مستقررحم مادر، مستودع صلب پدر یا مستقر زمین پر رہائش اور مستودع قبر یا بعض تم میں قرار پکڑنے والے ہیں اور بعض امانت رکھے جا چکے۔ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّفْقَہُوْنَ پہلے یعملون اور یہاں یفقہون فرمایا کیونکہ وہاں دلالت بالکل ظاہر تھی اور یہاں دقیق ہے۔ کیونکہ انسانوں کا ایک جان سے پیدا کرنا اور مختلف حالات میں ان کا بدلنا یہ دقیق بات ہے پس سمجھ کا ذکر کرنا جو کہ دقت نظر پر دلالت کرتا ہے زیادہ مناسب ہے۔
Ayah 6:99آسمان سے پانی ایک ہی اتارا اور اس سے نباتات بیشمار اُگائیں :
آیت 99 : وَہُوَ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآئِ مَآئً بادلوں سے بارش فَاَخْرَجْنَا بِہٖپانی کے ذریعہ نَبَاتَ کُلِّ شَیْئٍبڑھنے والی نبات میں سے ہر قسم اگی۔ مراد سبب ہے اور وہ پانی ہے۔ جو کہ ایک ہے مگر اگنے والی اشیاء بیشمار قسم کی ہیں۔ فَاَخْرَجْنَا مِنْہُ نباتات سے خَضِرًا، ترو تازہ سبزہ ٗ محاورہ میں اخضر اور خضر کہا جاتا ہے اور اصل میں اس کو کہتے ہیں جو دانے سے نکلنے والی نبات سے پھوٹ کر نکلے ٗ نُّخْرِجُ مِنْہُیعنی سبزے سے حَبًّا مُّتَرَاکِبًاوہ سٹہ ہے جس کے دانے پے درپے جڑے ہوئے ہیں۔ وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِھَا قِنْوَانٌیہ مبتداء ہونے کی بناء پر مرفوع ہے اور ومن النخل اس کی خبر مقدم ہے اور من طلعہا اسکا بدل ہے عبارت اس طرح ہے و حاصلۃ من طلع النخل قنوانٌ اور نکلنے والے ہیں کھجور کے گابھے سے خوشے یہ قنوان جمع قنو ہے جیسا صنوان جمع صنو۔ مراد گچھے ہیں۔ دَانِیَۃٌ پھل کے بوجھ کی وجہ سے چننے کیلئے جھکنے والے ہیں۔ یا پوری کے چھوٹا ہونے کی وجہ سے قریب ہیں۔ اس میں اکتفاء ہے یعنی وہ طوالت کی وجہ سے جھکنے والے نہیں جیسا کہ اس ارشاد میں : سَرَابِیْلَ تَقِیْکُمُ الْحَرَّ (النحل : 81) وَّجَنّٰتٍیہ منصوب ہے نبات کل شئی پر عطف کی وجہ سے یعنی اخرجنا بہ جنات کہ ہم نے اسکے ذریعہ باغات پیدا کیے۔ مِّنْ اَعْنَابٍیعنی کھجور کے ساتھ اور اسی طرح وَّالزَّیْتُوْنَ وَالرُّمَّانَ اعشی نے جنات کو رفع کے ساتھ پڑھا ہے یعنی وثَمَّ جنات من اعناب یعنی مع النخل اس جگہ انگور کے باغات کھجور کے ساتھ ہیں۔ مُشْتَبِہًا وَّ غَیْرَ مُتَشَابِہٍ ۔ محاورہ میں اشتبہ الشیأن وتشابہا۔ جیسا کہ استویا و تساویا۔ اور عام طور پر دونوں بہت باتوں میں شریک ہوتے ہیں۔ تقدیر عبارت یہ ہے۔
والزیتون متشابہًا وغیر متشابہٖ ۔ اسی طرح انار بھی بعض متشابہ اور بعض غیر متشابہ ہیں۔ مقدار اور رنگت اور ذائقے میں۔ اُنْظُرُوْٓٓا اِلٰی ثَمَرِہٖٓ اِذَآ اَثْمَرَجب وہ اپنا پھل نکالتا ہے تو کس طرح کمزور نکالتا ہے کہ اس سے فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا۔ ثُمُرہ۔ حمزہ اور علی نے پڑھا جمع ثمار اور یہ جمع الجمع ہے۔ ثمرۃ و ثمر۔ ثمار و ثُمر۔ وَیَنْعِہٖاور اس کے پکنے کو یعنی اس کے پکنے کی حالت کو دیکھو کس طرح بہت سے منافع کی جامع شیٔ بن کر آئی۔ عبرت کی نگاہ ڈالو اسکے بنانے والے کی قدرت اور تدبیر کرنے والے کی تدبیر اور ایک حالت سے دوسری حالت میں تبدیل کرنے والے کی تقدیر پر اِنَّ فِیْ ذٰلِکُمْ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْن۔
Ayah 6:100کفار کی حماقت کہ جنات کو اللہ جل شانہٗ کا شریک بنایا حالانکہ وہ شرکت سے منز ّہ ہے :
آیت 100 : وَجَعَلُوْا لِلّٰہِ شُرَکَآئَ الْجِنَّ اگر تم للّٰہ شرکاء کو جعل کے دو مفعول قرار دو تو الجن شرکاء سے بدل ہے۔ ورنہ شرکاء الجن دونوں مفعول ہیں۔ دوسرے کو پہلے سے مقدم کیا اور تقدیم کا فائدہ یہ ہے۔ یہ بات بعید تر ہے کہ کسی فرشتہ یا جن یا کسی اور کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنایا جائے۔ مطلب یہ ہے کہ انہوں نے جنات کی اتباع ان کاموں میں کی جن کو انہوں نے مزین کر کے ان کے سامنے پیش کیا۔ نتیجتاً ان کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنا ڈالا۔ وَخَلَقَہُمْحالانکہ اس نے جنات کو پیدا کیا۔ پس مخلوق اپنے خالق کی شریک وسہیم کیونکر ہوسکتی ہے۔ : یہ جملہ حالیہ ہے۔ ایک دوسری تفسیر۔ اس نے ان کو پیدا کیا جو اللہ تعالیٰ کا شریک بنانے والے ہیں۔ پھر یہ کس طرح اوروں کی عبادت کرتے ہیں۔ وَخَرَقُوْا لَہٗ یعنی انہوں نے گھڑا کہا جاتا ہے۔ خلق الافک و خرقہ واختلقہ و اخترقہ تمام کا معنی ایک ہے۔ دوسری تفسیر یہ خرق الثوب سے ہے جبکہ اس کو پھاڑا جائے۔ یعنی انہوں نے نکالے اس کے لئے بَنِیْنَ جیسے اہل کتاب مسیح اور عزیر (علیہما السلام) کے متعلق مانتے ہیں۔ وَبَنٰتٍ جیسے بعض اہل عرب فرشتوں کے متعلق کہتے تھے۔ قراءت : وخرقوا تشدید کے ساتھ کثرت کا معنی پیدا کرتا ہے۔ مدنی نے اسی طرح پڑھا ہے۔ بنین اور بنات جمع کی وجہ سے کثرت کو ظاہر کرتے ہیں۔ بِغَیْرِ عِلْمٍبغیر اس بات کے کہ وہ اس کی حقیقت کو جانیں۔ جو انہوں نے کہا غلط ہے یا درست ہے۔ لیکن جہالت سے انہوں نے ایک بات نکالی ہے۔ : یہ خرقوا کی ضمیر فاعلی سے حال ہے۔ یعنی وہ اس حال میں کہ اپنے مقولے سے ناواقف ہیں۔ سُبْحٰنَہٗ وَتَعٰلٰی عَمَّا یَصِفُوْنَیعنی شریک و اولاد۔
Ayah 6:101اجسام کو بلا نمو نہ وجود دینے والا :
آیت 101 : بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ کہا جاتا ہے بدع الشیٔ فہو بدیع۔ یہ اضافت صفت مشبہ الی فاعلہا کی قسم سے ہے یعنی وہ اپنے آسمانوں و زمین کو نوایجاد کرنے والا ہے دوسرا معنی بدیع بمعنی مبدع یعنی اس کا نو ایجاد کرنے والا ہے۔ : مبتداء محذوف کی خبر ہے یا مبتداء ہے اور اس کی خبرانی یکون لہ ولد ہے یا تعالیٰ کا فاعل ہے۔ اَنّٰی یَکُوْنُ لَہٗ وَلَدٌیہ مبتدأ کی خبر ہے۔ وَلَمْ تَکُنْ لَّہٗ صَاحِبَۃٌیعنی کہاں سے اس کے ہاں بیٹا ہوگا۔ ولد تو بیوی سے ہوتا ہے حالانکہ اس کی تو بیوی ہی نہیں۔ یعنی ولادت اجسام کی صفات سے ہے اور اجسام کو بلانمونہ ایجاد کرنے والا جسم نہیں ہوسکتا کہ اس کا بیٹا ہو۔ وَخَلَقَ کُلَّ شَیْئٍج وَہُوَ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمٌیعنی کوئی چیز ایسی نہیں مگر وہ اس کا خالق و عالم ہے اور جو ایسا ہو وہ ہر شیٔ سے مستغنی ہے اور لڑکے کا طالب تو محتاج ہوتا ہے۔
Ayah 6:102ان جامع صفات والا ہی معبود ہے :
آیت 102 : ذٰلِکُمُ یہ اشارہ ما قبل مذکور کی طرف ہے۔ یہ مبتداء ہے اور اس کے مابعد اخبار مترادفہ ہیں۔ اللّٰہُ رَبُّکُمْ لَآ اِلٰہَ اِلاَّ ہُوَ خَالِقُ کُلِّ شَیْئٍ اور فَاعْبُدُوْہُیہ مضمون جملہ کا مسبب ہے۔ یعنی جس میں یہ تمام صفات جمع ہوں وہی عبادت کے لائق ہے۔ پس تم اس ہی کی عبادت کرو اور اس کے علاوہ اس کی بعض مخلوق کی عبادت مت کرو۔ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ وَّکِیْلٌیعنی وہ ان تمام صفات کے ساتھ ساتھ اشیاء کے ارزاق ٗ ٰاجال کا مالک اور اعمال کا نگہبان ہے۔
Ayah 6:103معتزلہ کے بیجا استدلال اور اس کا جواب اور یہ کہ رئویت برحق ہے :
آیت 103 : لَا تُدْرِکُہُ الْاَبْصَارُ آنکھیں اس کا احاطہ نہیں کرسکتیں یا ان کی آنکھیں جن کا تذکرہ پہلے ہوا جنات و ملائکہ معتزلہ نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ دیدار محال ہے مگر ان کا یہ استدلال محض باطل ہے۔ کیونکہ نفی ادراک کی ہے رؤیت کی نہیں۔ ادراک کا معنی کسی چیز کی حقیقت پالینا۔ اور اس کو ہر طرف سے گھیر لینا۔ اور کامل طور پر کسی چیز کی تہ تک پہنچ جانا۔ اور جس کی حدود و جہات محال ہوں تو اس کا ادراک محال ہے نہ کہ رؤیت۔ پس ادراک رؤیت کے مقابلے میں اس طرح ہے جیسا احاطہ بمقابلہ علم پس رؤیت بھی اس طرح ہے۔ کیونکہ وہ بھی علم کا ایک حصہ ہے۔ اس طور پر کہ آیت کا مورد تو تمدح (تعریف چاہتا ہے) ہے جو ثبوت رؤیت کو لازم کر رہا ہے اس لیے کہ ایسی نفی ادراک جس سے رؤیت کا محال ہونا نکلے اس میں تمدح پایا ہی نہیں جاتا۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ جو دیکھا نہیں جاسکتا اس کا ادراک نہیں ہوسکتا۔ بلاشبہ نفی ادراک میں تمدح کے پانے کی صورت ثبوت رؤیت ہے رؤیت کے ثبوت کے ساتھ ادراک کی نفی تو ذات باری تعالیٰ سے متناہی و محدود ہونے کا نقص زائل کرتی ہے۔ پس اس لحاظ سے آیت ہماری دلیل بن گئی۔ جو معتزلہ کے خلاف ہے۔ اگر وہ گہری نگاہ ڈالتے تو اس ذمہ سے علیحدگی کو غنیمت شمار کرتے۔ جو آدمی رؤیت کی نفی کرتا ہے اس کو اس بات کی نفی کرنا پڑے گی کہ وہ معلوم و موجود ہے۔ ورنہ وہ جب موجود کو بلا کیفیت و جہت کے جانتا ہے ہر موجود کے بر خلاف تو پھر یہ کیونکر درست نہیں کہ وہ ہر مرئی کے بر خلاف ہر چیز کو بلا کیفیت و جہت کے دیکھے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ رؤیت نام ہی اس بات کا ہے کہ آنکھ سے کسی چیز کا اسی طرح ثابت ہونا جس طرح وہ ہے پس اگر وہ شیٔ جہت میں ہوگی تو وہ اس جہت میں دیکھے گا اگر وہ جہت نہ ہوگی تو وہ اس جہت میں نہیں دیکھے گا۔
مسئلہ : یہ ہے کہ اگر رؤیت و ادراک کے معنی کو مان بھی لیں تب بھی نفس رؤیت کی صراحت ہے رؤیت کے محال ہونے کی صراحت نہیں۔ یعنی یہ مطلب نہیں کہ کوئی آنکھ اس کو دیکھ ہی نہیں سکتی۔
وَہُوَ لطیف ادراک سے یُدْرِکُ الْاَبْصَارَ وَہُوَ اللَّطِیْفُیعنی دقیق امور کو جاننے والا اور ان کی مشکلات سے واقف ہے۔ الْخَبِیْرُ وہ اشیاء کے ظواہر و بواطن سے واقف ہے۔ یہ لف ونشر مرتب کے قبیل سے ہے۔
Ayah 6:104بصائر سے بصیرت والے کو ہی فائدہ ہے :
آیت 104 : قَدْ جَآئَ کُمْ بَصَآپرُ مِنْ رَّبِّکُمْ بصیرت۔ دل کی وہ روشنی جس سے دل دیکھتا ہے۔ جس طرح بصر اس آنکھ کی روشنی کو کہتے ہیں جس سے آنکھ دیکھتی ہے۔ یعنی تمہارے پاس جو وحی و تشبیہ آتی ہے وہ دلوں کے لئے آنکھوں کی طرح ہے۔ فَمَنْ اَبْصَرَجس نے حق کو دیکھا اور ایمان لایا۔ فَلِنَفْسِہٖاس نے دیکھا اور اس کا نفع بھی وہ اٹھائے گا۔ وَمَنْ عَمِیَاس سے اور گمراہ ہوا۔ فَعَلَیْہَا اس کے اندھے پن کا و بال اس پر پڑے گا اور خود اسی کو اس کا ضرر پہنچے گا۔ وَمَآ اَنَا عَلَیْکُمْ بِحَفِیْظٍ کہ میں تمہارے اعمال کی حفاظت کروں اور تمہیں اس پر بدلہ دوں۔ بلاشبہ میں تو ڈرانے والا ہوں۔ اور اللہ تعالیٰ ہی تم پر نگہبان ہے۔
Ayah 6:105آیات سمجھانے کیلئے مختلف پہلوئوں سے لائے مگر یہ کہنے لگے کہ انکو اہل کتاب سے پڑھ کر بیان کردیتا ہے :
آیت 105 : وَکَذٰلِکَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ ۔ کذلک میں کاف موضع نصب میں ہے کیونکہ یہ مصدر محذوف کی صفت ہے۔ یعنی ہم آیات کو بار بار بیان کرتے ہیں۔ جیسا کہ ہم نے تم پر پڑھی ہیں۔ وَلِیَقُوْلُوْا اس کا جواب محذوف ہے یعنی وَلِیَقُوْلُوْا دَرَسْتَ تاکہ وہ کہیں تو نے پڑھ لیا ہے۔ نصرف کا معنی درست۔ قرأ ت کتب اہل الکتاب تو نے اہل کتاب کی کتابوں کو پڑھ لیا ہے۔ قراءت : مکی اور ابوعمرو نے درست پڑھا ہے یعنی اہل کتاب سے پڑھ پڑھا لیا ہے۔ شامی نے دَرَسَتْ یعنی یہ آیت پہلے گزر چکی اور ہوچکی جیسا کہ انہوں نے کہا کہ یہ پہلے لوگوں کی قصے کہانیاں ہیں۔ وَلِنُبَیِّنَہٗیعنی قرآن۔ اگرچہ اس کا تذکرہ گزرا نہیں۔ کیونکہ وہ تو معلوم و معروف ہے یا آیات مراد ہیں کیونکہ وہ معنی قرآن ہیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ دوسری لام حقیقی ہے اور پہلی لام عاقبت و صیرورت کی ہے یعنی تاکہ ان کے معاملہ کا انجام یہاں تک پہنچے کہ وہ کہنے لگیں کہ تو نے پڑھ لیا ہے اور یہ اسی طرح ہے جیسا کہ اس آیت میں فالتقطہ ٰال فرعون لیکون لہم عدواً وحزناً القصص۔ 8۔ فرعونیوں نے عداوت کی خاطر نہ اٹھایا۔ انہوں نے آنکھوں کی ٹھنڈک بنانے کے لئے اٹھایا تھا۔ لیکن ان کے معاملے کا انجام دشمنی تک پہنچا۔ پس اسی طرح آیات تو بار بار وضاحت کے لئے لائی گئیں اس بات کے کہنے کے لئے نہیں لوٹائی گئیں۔ کہ تو نے کسی سے پڑھ لیا ہے۔ لیکن تصریف آیات سے کفار یہی کہنے لگ گئے۔ جیسا کہ تبین و ضاحت حاصل ہو تو اس سے تشبیہ دی اور کہا و لیقولوا جیسا کہ کہا جاتا ہے لنبینہ ٗ اور ہمارے نزدیک اس طرح نہیں جیسا پہچانا جا چکا ہے۔ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ حق کو باطل سے۔
Ayah 6:106وحی پر چلتے رہیں :
آیت 106 : اِتَّبِعْ مَآ اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَان کی خواہشات کی اتباع نہ کر۔ لَآ اِلٰہَ اِلاَّ ہُوَیہ جملہ معترضہ لا کر اتباع وحی کو واجب کردیا۔ اس کا کوئی محل اعراب نہیں۔ دوسری تفسیر من ربک سے حال مؤکد ہے۔ وَاَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِکِیْنَفی الحال یہاں تک کہ قتال کا حکم وارد ہو۔
Ayah 6:107اگر زبردستی ایمان دینا ہوتا تو یہ شرک نہ کرتے مگر…:
آیت 107 : وَلَوْ شَآئَ اللّٰہُ مَآ اَشْرَکُوْا ان کا ایمان یہاں مفعول محذوف ہے۔ مَآ اَشْرَکُوْا اس سے واضح کردیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مشیّت کے بغیر شرک نہیں کرتے۔ اگر اللہ ان میں ایمان اختیار کرنا جانتے تو ان کو ہدایت دیتے۔ لیکن ان کا شرک اختیار کرنا اس کو معلوم ہے پس ان کا شرک پھیل گیا۔ پس اس کی مشیّت سے انہوں نے شرک کیا۔ وَمَا جَعَلْنٰکَ عَلَیْہِمْ حَفِیْظًاہم نے آپ کو ان پر ان کے اعمال کی نگرانی کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا۔ کہ کل ان کے جرائم میں آپ کو پکڑا جائے۔ وَمَآ اَنْتَ عَلَیْہِمْ بِوَکِیْلٍنہ ہی آپ ان پر مسلّط ہیں۔
Ayah 6:108آیت 108 : مسلمان ان کے معبودوں کو گالیاں دیتے تھے پس اس سے ان کو روک دیا گیا۔ تاکہ ان کا گالی گلوچ اللہ تعالیٰ کو گالی دینے کا سبب نہ ہو۔
جواب کفار کا ڈھنگ سکھایا :
وَلَا تَسُبُّوا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَیَسُبُّوا اللّٰہَ جو اب نہی کی وجہ سے منصوب ہے۔ عَدْوًم ظلم اور دشمنی کی بناء پر۔ بِغَیْرِ عِلْمٍ اللہ تعالیٰ کے متعلق جہالت کے سبب اور ان صفات سے جہالت کے سبب جن کے ساتھ اس کا تذکرہ ضروری ہے۔ کَذٰلِکَ اس تزیین کی طرح زَیَّنَّا لِکُلِّ اُمَّۃٍامم کفار سے عَمَلَہُمْ وہ اسی طرح جب یہ ارشاد افمن زین لہ سوء عملہ فرٰاہ حسناً فان اللّٰہ یضل من یشآء و یہدی من یشاء (فاطر 8) یہ آیت اصلح کے سلسلے میں ہماری دلیل ہے۔ ثُمَّ اِلٰی رَبِّہِمْ مَّرْجِعُہُمْان کا لوٹنا فَیُنَبِّئُہُمْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَوہ ان کو ان کے اعمال کی خبر دے گا اور اس پر ان کو جزاء دے گا۔
Ayah 6:109معاندین نشانی کے باوجود ایمان نہ لائیں گے :
آیت 109 : وَاَقْسَمُوْا بِاللّٰہِ جَہْدَ اَیْمَانِہِمْ جہد مصدر ہے اور حال کے مقام پر واقع ہے۔ یعنی جاہدین فی الاتیان باوکد الایمان۔ اس حال میں کہ وہ پکی قسمیں اٹھانے والے ہیں۔ لَپنْ جَآئَ تْہُمْ ٰایَۃٌ ان کی منہ مانگی آیات سے لَّـیُؤْمِنُنَّ بِہَا قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰہِوہ اس پر قدرت رکھتے ہیں۔ میں نہیں۔ پس کس طرح میں تمہارے پاس لائوں۔ وَمَا یُشْعِرُکُمْاور تمہیں معلوم نہیں۔ اَنَّہَامانگی تجویز کردہ نشانی۔ اِذَا جَآئَ تْ لَا یُؤْمِنُوْنَان پر یعنی میں جانتا ہوں کہ جب وہ آئے گی وہ ایمان نہیں لائیں گے اور تم اس کو جانتے نہیں۔ مسلمان ان کے ایمان کی طمع رکھتے تھے جبکہ وہ نشانی آجائے چناچہ وہ بھی اس کی آمد کی توقع رکھتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تمہیں کیا معلوم کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہیں معلوم نہیں کہ جو میرا علم ان کے بارے میں سبقت کرچکا کہ وہ ایمان نہ لائیں گے۔ اِنَّہَایہ کسرہ کے ساتھ ہے مکی بصری اور ابوبکر نے پڑھا اس طور پر کہ کلام اس سے پہلے تمام ہوچکا یعنی وما یشعرکم مایکون منہم۔ تمہیں کیا معلوم کہ ان سے کیا ہوگا۔ پھر اپنے علم سے ان کے بارے میں خبر دی پس فرمایا جب وہ نشانی آجائے گی تو وہ بالکل ایمان نہیں لائیں گے۔ بعض نے فتحہ والی قراءت میں لا کا اضافہ کیا جیسا اس ارشاد میں ہے : وَحَرٰمٌ عَلٰی قَرْیَۃٍ اَہْلَـکْنٰہَآ اَ نَّہُمْ لَا یَرْجِعُوْنَ (الانبیاء : 95) لَا تُؤْمِنُوْنَشامی اور حمزہ نے پڑھا ہے۔
Ayah 6:110یہ قبول حق سے عاری ہیں :
آیت 110 : وَنُقَلِّبُ اَفْپدَتَہُمْ قبولیت حق سے وَاَبْصَارَہُمْ حق کے دیکھنے سے اس نشانی کے اترنے کے وقت جس کو وہ تجویز کر رہے ہیں۔ پس وہ اس پر ایمان نہ لائیں گے۔ کہا گیا کہ اس کا عطف لا یؤمنون اور وما یشعرکم پر کر کے حکم میں داخل ہے یعنی اور تمہیں کیا معلوم کہ وہ ایمان نہ لائیں گے۔ اور تمہیں کیا معلوم کہ ہم ان کے دل اور آنکھیں پلٹ دیں گے۔ پس وہ نہ سمجھیں گے اور نہ ہی حق کو دیکھیں گے۔ کَمَا لَمْ یُؤْمِنُوْا بِہٖٓ اَوَّلَ مَرَّۃٍ جیسا کہ وہ ہماری آیات اترنے کے وقت اولاً ایمان نہ لائے تھے۔ وَنَذَرُہُمْ فِیْ طُغْیَانِہِمْ یَعْمَہُوْنَکہا گیا تمہیں کیا معلوم کہ ہم ان کو ان کی سرکشی میں چھوڑ دیں گے۔ وہ حیران و ششدررہ جائیں گے۔
Ayah 6:111ایمان والوں کے شاید کے جواب :
آیت 111: وَلَوْ اَنَّنَا نَزَّلْنَآ اِلَیْہِمُ الْمَلٰٓپکَۃَ ۔ جیسا کے وہ مطالبہ کرتے ہیں۔ لَوْ لَآ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْمَلٰٓپکَۃُ ۔ وَکَلَّمَہُمُ الْمَوْتٰی جیسا کہ وہ کہتے ہیں فأتوا باٰبائنا۔ وَحَشَرْنَا عَلَیْہِمْہم جمع کردیں۔ کُلَّ شَیْئٍ قُبُلًاجو ہم نے ان کو بشارت دی اس کی ذمہ دار اور جس سے ڈرایا اس کی کفیل۔ قبلا جمع قبیل بمعنی کفیل۔ قراءت : قبلا مصدر شامی اور مدنی نے پڑھا۔ اس کا معنی سامنے دونوں صورتوں میں حال کی وجہ سے منصوب ہے۔ مَّا کَانُوْا لِیُؤْمِنُوْٓا اِلَّآ اَنْ یَّشَآئَ اللّٰہُ ۔ ان کا ایمان پس وہ ایمان لائیں یہ ایمان والوں کی بات کا جواب ہے جو کہتے تھے کہ شاید وہ اس نشانی کے آنے پر اسلام قبول کرلیں۔ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَہُمْ یَجْہَلُوْنَیہ لوگ ایمان نہ لائیں گے جب ان کو مطلوبہ نشانی بھی مل جائے۔
Ayah 6:112وہ شیاطین کو روک سکتا ہے مگر یہ آزمائش ہے :
آیت 112 : وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا جس طرح مشرکین تمہارے دشمن بنے ہیں اسی طرح پہلے انبیاء ( علیہ السلام) کے بھی دشمن بنے ہوئے تھے۔ اس لئے کہ اس میں آزمائش ہے جس کی وجہ سے ثبات و استقلال اور صبر و آخرت کا ثواب و اجر ظاہر ہوتا ہے۔ شَیٰطِیْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ ۔ : یہ عدواً سے بدل ہونے کی بناء پر منصوب ہے۔ یا یہ مفعول اول ہے اور عدواً مفعول ثانی ہے۔ یُوْحِیْ بَعْضُہُمْ اِلٰی بَعْضٍشیاطین جن، شیاطین انس کے دلوں میں وسوسہ پیدا کرتے ہیں۔ اسی طرح جنات ایک دوسرے کے دلوں میں وسوسہ اندازی کرتے ہیں مالک بن دینار (رح) فرماتے ہیں انسانی شیطان مجھ پر جنی شیطان کی نسبت زیادہ بھاری ہے کیونکہ تعوذ سے جنی شیطان فرار اختیار کرتا ہے اور انسانی شیطان میرے پاس آکر مجھے سرعام گناہوں کی طرف کھینچ کرلے جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قرناء السوء شر من شیاطین الجن کہ برے ساتھی شیاطین جن سے بدتر ہیں۔ (ابن کثیر بنحوہٖ ) زُخْرُفَ الْقَوْلِمزین شدہ بات۔ وسوسہ اور گناہ پر ابھارنا۔ غُرُوْرًا دھوکہ فریب۔ یہ مفعول لہٗ ہے۔ وَلَوْشَآئَ رَبُّکَ مَا فَعَلُوْہُیعنی اشارہ کرنا۔ مطلب یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ شیاطین کو وسوسہ سے روکنا چاہتا تو روک سکتا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس سے امتحان لیا جو ثواب کے لحاظ سے کثیر اور عظیم تر ہے۔ فَذَرْہُمْ وَمَا یَفْتَرُوْنَ آپ پر اور اللہ تعالیٰ پر پس اللہ تعالیٰ ان کو رسوا فرمائیں گے۔ اور تمہیں بدلہ دیں گے اور نصرت فرمائیں گے۔
Ayah 6:113وسوسہ اندازی کے نتیجہ میں کافر ادھر جھکیں :
آیت 113 : وَلِتَصْغٰٓی اِلَـیْہِ اَفْپدَۃُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ تاکہ ملمع سازی والی بات کی طرف کفار کے دل مائل ہوں۔ اس کا عطف غُرُوْرًا پر ہے۔ یعنی تاکہ وہ دھوکہ میں مبتلاء ہوں اور اس کی طرف مائل ہوں۔ وَلِیَرْضَوْہُتاکہ وہ اسے اپنے نفسوں کے لئے پسند کریں۔ وَلِیَقْتَرِفُوْا مَاہُمْ مُّقْتَرِفُوْنَیعنی گناہ۔
Ayah 6:114قرآن کی حقانیت کے لئے اللہ کا فیصلہ کافی ہے :
آیت 114 : اَفَغَیْرَ اللّٰہِ اَبْتَغِیْ حَکَمًا یعنی کہہ دیں اے محمد ﷺ کیا میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی حکم و فیصل تلاش کروں جو میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ کرے۔ اور حق پرست اور باطل پرست کو الگ کر دے۔ وَّہُوَ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ اِلَیْکُمُ الْکِتٰبَ مُفَصَّلًا یہ کتاب سے حال ہے اس میں حق و باطل کا الگ الگ امتیاز کیا گیا۔ اور میری صداقت کی گواہی دی گئی اور تمہارے متعلق افتراء کی گواہی موجود ہے۔ پھر اس کی مزید تاکید اس طرح کی کہ قرآن کی حقانیت کا علم تو اہل کتاب کو بھی ہے کیونکہ قرآن تورات و انجیل کی تصدیق کر رہا ہے۔ اور بنیادی مضامین میں ان کے موافق ہے۔ (پس قرآن کی سچائی واضح ہوگئی) وَالَّذِیْنَ ٰاتَیْنٰہُمُ الْکِتٰبَیعنی عبداللہ بن سلام ؓ اور ان کے ساتھی یَعْلَمُوْنَ اَنَّہٗ مُنَزَّلٌ مِّنْ رَّبِّکَ بِالْحَقِّ (بتشدید الزاء) شامی اور حفص نے پڑھا۔ فَلَا تَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَاے سامع اس کے متعلق شک کرنے والوں میں دوسری تفسیر یہ کہ تم ہرگز اس میں شک نہ کرو۔ کہ اہل کتاب جانتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتارا ہوا برحق کلام ہے۔ ان کی اکثریت اگر انکار کرتی ہے تو ان کے انکار کی وجہ سے تم شک میں نہ پڑو۔
Ayah 6:115قرآن صدق و عدل میں کامل ہے :
آیت 115 : وَتَمَّتْ کَلِمَتُ رَبِّکَ جو اس نے کلام فرمایا۔ قراءت : حجازی ٗ شامی اور ابوعمرو نے کلمات ربک پڑھا ہے۔ کامل ہے جو اس نے خبر دی اور امر و نہی میں سے جو احکام جاری فرمائے اور جو وعدہ اور وعید دی صِدْقًا سچائی کے اعتبار سے وعدہ اور وعید میں۔ وَّعَدْلًاعدل پر مبنی ہے اس کا امر و نہی۔ : یہ دونوں تمییز کی وجہ سے منصوب ہیں۔ یا حال کی بناء پر لَا مُبَدِّلَ لِکَلِمٰتِہٖکوئی ایسا نہیں جو ان میں سے کسی چیز کو ذرہ بھر بدل سکے۔ وَہُوَ السَّمِیْعُ ان کے اقرار کو جو اقرار کریں۔ الْعَلِیْمُان کے اصرار کو جو اصرار کرتے رہیں۔ دوسری تفسیر یہ ہے ان کے اقوال کو سننے والا اور ان کے ضمائرمخفیہ کو جاننے والا۔
Ayah 6:116کفار گمان کے پیرو ہیں :
آیت 116 : وَاِنْ تُطِعْ اَکْثَرَ مَنْ فِی الْاَرْضِ یعنی کفار کو کیونکہ وہ زیادہ ہیں۔ یُضِلُّوْکَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِاس کے دین سے اِنْ یََّتَّبِعُوْنَ اِلاَّ الظَّنَّ انکا یہ گمان کہ ان کے آباء حق پر تھے سو یہ ان کی تقلید کرتے ہیں۔ وَاِنْ ہُمْ اِلاَّ یَخْرُصُوْنَوہ جھوٹ بولتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر فلاں چیز حلال اور فلاں چیز حرام کی۔
Ayah 6:117اللہ سچے مومن اور کافر کو جانتا ہے :
آیت 117 : اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ اَعْلَمُ مَنْ یَّضِلُّ عَنْ سَبِیْلِہٖ وَہُوَ اَعْلَمُ بِالْمُہْتَدِیْنَیعنی وہ کفار اور مومنین کو جانتا ہے۔ : مَنْ یہ ابتداء ً مرفوع ہے لفظاً استفہام ہے اور اس کی خبر یضل ہے۔ اور جملہ یعلم مقدر کی وجہ سے محل نصب میں ہے۔ اعلم مقدر نہیں۔ کیونکہ افعل کا صیغہ ظاہراً منصوب اسم کو نصب نہیں دیتا مجرور کردیتا ہے ایک دوسرا قول یہ ہے کہ تقدیر اعلم بمن یضل وہ گمراہوں کو اچھی طرح جانتا ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ باءؔ اس کے بعد لایا گیا ہے بالمہتدین۔
Ayah 6:118حلت تو حکم خدا اور نام خدا میں ہے :
آیت 118 : فَکُلُوْا مِمَّا ذُکِرَاسْمُ اللّٰہِ عَلَیْہِ اِنْ کُنْتُمْ بِاٰیٰتِہٖ مُؤْمِنِیْنَ اس آیت میں ان گمراہ لوگوں کی اتباع کے انکار کا سبب ذکر کیا گیا۔ جو خود حلال کو حرام اور حرام کو حلال کرتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو کہا کرتے تھے اے مسلمانوتم زعم رکھتے ہو کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہو۔ حالانکہ جس کو اللہ تعالیٰ مارے وہ اس کی بنسبت زیادہ حق دار ہے جس کو تم مارو۔ پس اس آیت میں مسلمانوں کو کہا گیا اگر تم سچا ایمان رکھتے ہو تو جس پر اللہ تعالیٰ کا نام بوقت ذبح لیا گیا اس کو کھائو۔ اور جس پر غیر اللہ کا نام لیا گیا ہے اس کو مت کھائو۔ یا اپنی موت مرے ہوئے جانور کو مت کھائو۔
Ayah 6:119جو خواہشات سے حلال و حرام کرتے ہیں شریعت کا اس سے کوئی تعلق نہیں :
آیت 119 : وَمَا لَکُمْ اَلاَّ تَاْکُلُوْا اس میں ما مبتداء اور لکم اس کی خبر ہے یعنی نہ کھانے میں تمہاری کیا غرض ہے۔ مِمَّا ذُکِرَاسْمُ اللّٰہِ عَلَیْہِ وَقَدْ فَصَّلَ لَکُمْاس نے تمہیں بیان کردیا۔ مَّا حَرَّمَ عََلَیْکُمْاس سے جو اس نے حرام نہیں کیا۔ اپنے اس ارشاد سے حرمت علیکم المیتۃ (المائدہ 3)
قراءت : کوفی قراء حفص کے علاوہ فُصّل ٗ حُرّم پڑھتے ہیں۔ مدنی اور حفص نے دونوں کا فتحہ پڑھا ہے۔ اور دیگر قراء نے ضمہ پڑھا ہے۔ اِلاَّ مَا اضْطُرِرْتُمْ اِلَیْہِاس میں سے جو تم پر حرام کیا گیا۔ وہ ضرورت کے وقت تم پر حلال ہے جبکہ سخت بھوک میں کھانے کی ضرورت پڑجائے۔ وَاِنَّ کَثِیْرًا لَّیُضِلُّوْنَ ۔ قراءت : کوفی قراء نے یضلون پڑھا۔ بِاَہْوَآپہِمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ یعنی گمراہ ہوتے ہیں پس اپنی خواہشات ٗ شہوات سے حرام کرتے ہیں اور حلال کرتے ہیں۔ شریعت کا اس میں کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ اَعْلَمُ بِالْمُْعْتَدِیْنَجو حق سے باطل کی طرف تجاوز کرنے والے ہیں۔
Ayah 6:120علانیہ و پوشیدہ ہر گناہ چھوڑ دو :
آیت 120 : وَذَرُوْا ظَاہِرَ الْاِثْمِ وَبَاطِنَہٗ جو علانیہ اور پوشیدہ ہیں دوسری تفسیر دو کانوں میں زنا اور خفیہ سہیلیاں تیسری تفسیر شرک جلی و خفی۔ اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْسِبُوْنَ الْاِثْمَ سَیُجْزَوْنَ یوم قیامت میں بِمَا کَانُوْا یَقْتَرِفُوْنَجو دنیا میں کماتے ہیں۔