5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsمدارک التنزیل

Ayah 5:1

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ١ؕ۬ اُحِلَّتْ لَكُمْ بَهِیْمَةُ الْاَنْعَامِ اِلَّا مَا یُتْلٰى عَلَیْكُمْ غَیْرَ مُحِلِّی الصَّیْدِ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَحْكُمُ مَا یُرِیْدُ Open ayah 5:1 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اپنے اقراروں کو پورا کرو۔ تمہارے لئے چار پائے جانور ( جو چرنے والے ہیں) حلال کردیے گئے بجز انکے جو تمہیں پڑھ کر سنائے جاتے ہیں۔ مگر احرام (حج) میں شکار کو حلال نہ جاننا۔ خدا جیسا چاہتا ہے حکم دیتا ہے۔

عہد کی پابندی کا حکم : تفسیر آیت 1 : یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْٓا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ اُحِلَّتْ لَکُمْ بَہِیْمَۃُ الْاَنْعَامِ اِلاَّ مَا یُتْلٰی عَلَیْکُمْ غَیْرَ مُحِلِّی الصَّیْدِ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ 1 اِنَّ اللّٰہَ یَحْکُمُ مَا یُرِیْدُ ۔ (اے ایمان والو ! تم وعدوں کو پورا کرو۔ حلال کردیئے گئے تمہارے لئے چوپائے۔ سوائے ان کے جو تمہارے سامنے تلاوت کی جا رہی ہے۔ ( لیکن) شکار کو حلال نہ سمجھنا اس حالت میں کہ تم احرام میں ہو۔ بیشک اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے حکم دیتا ہے) کہا جاتا ہے : وفٰی بالعہد۔ وا وفٰی بہ۔ کہ فلاں نے وعدہ پورا کیا۔ اس کے تقاضے کو ادا کیا۔ العقد۔ مضبوط عہد کو رسّی کی گرہ سے تشبیہ دی۔ مراد اس سے وہ معاہدے ہیں۔ جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں سے لیے۔ اور ان کا مکلف بنا کر ان پر لازم کیے۔ یا وہ معاہدے جو محمد ﷺ پر ایمان لانے والوں سے لیے۔ یا پھر وہ معاہدے جو تم باہمی باندھتے ہو۔ اور ظاہر آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد وہ معاہدے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے دین میں حرام و حلال کے سلسلے میں باندھے ہیں۔ البتہ یہ کلام اجمالی ہے جس کو پہلے لایا گیا ہے پھر تفصیل اسی طرح کی اُحِلَّتْ لَکُمْ بَہِیْمَۃُ الْاَنْعَامِ ۔ البہیمۃ۔ خشکی و سمندری چوپایا۔ انعام کی طرف اس کی نسبت بیانی ہے۔ اور یہ اضافت من کے معنی میں ہے۔ جیسے خاتم فضۃ۔ اب مطلب یہ ہوا کہ چوپایا جو پالتو جانوروں میں سے ہے ان کی آٹھ اقسام ہیں اونٹ ٗ گائے ٗ بھیڑ ٗ بکریاں وغیرہ۔ بعض کا قول یہ ہے کہ بہیمۃ الانعام سے مراد ہرنی اور جنگلی گائے ہے۔ اِلاَّ مَا یُتْلٰی عَلَیْکُمْ سوائے ان کے جو تم پر تلاوت کی جائیں گی۔ اس سے مراد یہ جو آیت حرمت علیکم میں بیان کیے گئے ہیں۔ : غیر محلی الصید (شکار کو حلال مت سمجھنا) یہ لکم کی ضمیر سے حال ہے اور وانتم حرم یہ محلی الصید سے حال ہے گویا عبارت اس طرح ہے۔ ہم نے تمہارے لیے بعض چوپائے حلال کئے جبکہ تم احرام کی حالت میں شکار کو حلال کرنے والے نہ ہو۔ یہ اس لیے تاکہ تم پر تنگی نہ ہو۔ الحُرُم جمع حرام ہے اور مراد اس سے محرم ہے۔ اِنَّ اللّٰہَ یَحْکُمُ مَا یُرِیْدُ : بیشک اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے جو چاہتا ہے یا حکم دیتا ہے حلال و حرام میں سے جس کے بارے میں چاہتا ہے۔
Ayah 5:2

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحِلُّوْا شَعَآئِرَ اللّٰهِ وَ لَا الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَ لَا الْهَدْیَ وَ لَا الْقَلَآئِدَ وَ لَاۤ آٰمِّیْنَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رِضْوَانًا١ؕ وَ اِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوْا١ؕ وَ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ اَنْ صَدُّوْكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اَنْ تَعْتَدُوْا١ۘ وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى١۪ وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 5:2 in the Quran reader

مومنو ! خدا کے نام کی چیزوں کی بےحرمتی نہ کرنا اور نہ ادب کے مہینے کی اور نہ قربانی کے جانوروں کی اور نہ ان جانوروں کی (جو خدا کی نذر کریئے گئے ہوں اور) جن کے گلوں میں پٹّے بندھے ہوں اور نہ ان لوگوں کی جو عزت کے گھر (یعنی بیت اللہ) کو جا رہے ہوں (اور) اپنے پروردگار کے فضل اور اسکی خوشنودی کے طلبگار ہوں۔ اور جب احرام اتار دو تو (پھر اختیار ہے کہ) شکار کرو۔ اور لوگوں کی دشمنی اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے تم کو عزت والی مسجد سے روکا تھا تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم ان پر زیادتی کرنے لگو۔ اور (دیکھو) نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرو اور گناہ اور ظلم کی باتوں میں مدد نہ کیا کرو اور خدا سے ڈرتے رہو۔ کچھ شک نہیں کہ خدا کا عذاب سخت ہے۔

آیت 2 : یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْٓا لَا تُحِلُّوْا شَعَآپرَ اللّٰہِ (اے ایمان والو ! بےحرمتی نہ کرو اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کی) شعائر جمع شعیرۃ ہے۔ اس چیز کو کہتے ہیں جن کو بطور علامت مقرر کیا جائے۔ یعنی حج کے مقامات پر عبادات کی علامات۔ رمی کے مقامات۔ مطاف۔ سعی اور وہ افعال جو حجاج کی علامات ہوں۔ جن سے وہ پہچانے جائیں۔ جیسے احرام ٗ طواف ٗ سعی ٗ حلق ونحر وغیرہ۔ وَلَا الشَّہْرَ الْحَرَامَ (اور نہ ماہ حرام کی) اس سے مراد حج کے مہینے ہیں وَلَا الْہَدْیَ (اور نہ ہدی) اس سے مراد وہ جانور جو بیت اللہ کی طرف بطور ہدیہ بھیجا جاتا ہے۔ اور اس سے حج کے احکام میں قرب الٰہی حاصل کیا جاتا ہے۔ اور یہ ہدیہ کی جمع ہے۔ وَلَا الْقَلَآپدَ (اور نہ قلادہ والے جانور) یہ قلادہ کی جمع ہے یہ اس چیز کو کہا جاتا ہے جو ہدی کے جانور کے گلے میں نعل یا درخت کا چھلکا اور لوٹے کا منہ وغیرہ ڈال دیا جائے۔ وَلَآ ٰٓ امِّیْنَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ (اور نہ بیت اللہ کا قصد کرنے والوں کی) یعنی تم ان لوگوں کی توہین نہ کرو۔ جو مسجد حرام کا قصد کر کے حج وعمرہ کے لئے آئے۔ ان چیزوں کو حلال قرار دینے کا مطلب یہ ہے کہ شعائر کی تعظیم میں سستی ہوگی۔ اور عبادت گزاروں اور شعائر کے درمیان رکاوٹ بن جائے گا۔ اور حج کے ایام میں ایسی چیزوں کا ارتکاب کریں گے۔ جس سے وہ لوگوں کو حج کرنے میں رکاوٹ بن جائیں گے۔ اور ہدی اور اس کے غصب کی ٹھان لیں گے۔ یا ہدی کو اپنے مقام پر پہنچنے میں رکاوٹ بنیں گے۔ ہدایا پر تعرض سے بطور مبالغہ ممانعت : القلائد : سے مراد ممکن ہے کہ قلائد والے جانور مراد ہوں اور وہ اونٹ ہیں۔ اور ہدی پر اس کا عطف خصوصیت ظاہر کرنے کے لئے ہے۔ کیونکہ ہدایا میں یہ سب سے اعلیٰ ہے۔ جیسے فرشتوں کا ذکر کر کے جبرئیل اور میکائیل کو اس آیت میں ذکر فرمایا و جبریل و میکال البقرہ 98 گویا عبارت اس طرح ہے۔ القلائد منہا خصوصًا کہ ہدایا میں سے خاص طور پر قلادہ والے جانور۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ ہدایا کے قلائد پر ہاتھ ڈالنے سے روک کر ہدایا پر تعرض کرنے میں مبالغہ کرنا مقصود ہو۔ مطلب یہ ہوگا کہ ان کے قلائد کی بھی بےحرمتی نہ کرو۔ چہ جائیکہ تم خود ان ہدایا کی بےحرمتی کرو۔ یہ اس طرح ہے کہ جس طرح اس آیت میں : وَلَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَہُنَّ (النور : 31) زینت کے ظاہر کرنے کی ممانعت کی گئی ہے تاکہ مواقع زینت کے ظاہر کرنے کی ممانعت میں مبالغہ ہوجائے۔ یَبْتَغُوْنَ (وہ چاہنے والے ہیں) : آمین کی ضمیر سے حال ہے۔ فَضْلاً مِّنْ رَّبِّہِمْ وَرِضْوَانًا (اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رضا مندی تاکہ وہ راضی ہوجائے) تم ایسی قوم پر جو ان صفات والی ہو۔ تعرض نہ کرو ان کی عظمت کی بناء پر وَاِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوْا (جب تم احرام سے نکل جائو تو شکار کرو) پہلے غیر محلی الصید وانتم حرم فرما کر شکار کی ممانعت فرمائی گئی تھی فاصطادوا سے اس کو مباح قرار دیا۔ دشمنی برائے دشمنی مت کرو : وَلَا یَجْرِ مَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ اَنْ صَدُّوْکُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اَنْ تَعْتَدُوْا (اور نہ تم کو آمادہ کرے کسی قوم کی دشمنی کہ تم حد سے بڑھو اس لئے کہ انہوں نے تمہیں مسجد حرام سے روکا) : جرم کا لفظ کسب کی طرح ہے کہ کبھی ایک مفعول کی طرف متعدی ہوتا ہے کبھی دو کی طرف جیسے کہتے ہیں۔ جرم ذنبًا جیسے کسبہ۔ جرمتہ ذنبًا جیسے کسبتہ ایاہ۔ یہاں پہلا مفعول ضمیر مخاطب ہے اور دوسرا ان تعتدوا ہے۔ اَنْ صَدُّوْکُمْ یہ شَنَاٰنُ سے متعلق ہے۔ اور علت کے معنی میں ہے۔ شنا ٰن سخت بغض کو کہتے ہیں۔ قراءت : شامی اور ابوبکر نے شناٰن کو نون کے سکون سے پڑھا ہے۔ مطلب یہ ہوا کسی قوم کا بغض تمہیں حد سے نہ بڑھائے اور نہ اس پر آمادہ کرے اس لیے کہ انہوں نے تمہیں روکا ہے۔ اَنْ صَدُّوْکُمْ شرط ہے مکی اور ابوعمرو نے اسی طرح قرار دیا۔ مطلب یہ ہے کہ ان کو مسجد سے اس طرح روکو جیسے اہل مکہ نے رسول اللہ ﷺ اور مؤمنین کو حدیبیہ کے دن عمرہ سے روک دیا۔ اعتداء کا معنی کسی ناپسندیدہ چیز کو ملا کر ان سے انتقام لینا۔ وَتَعَاوَنُوْا عَلَی الْبِرِّ وَ التَّقْوٰی (اور تم نیکی اور تقویٰ پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو) بر اور تقویٰ سے یہاں مراد عفو و چشم پوشی ہے۔ وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَی الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ (گناہ اور دشمنی میں ایک دوسرے سے تعاون نہ کرو) یعنی انتقام اور غصے کو شفاء دینے کے لئے۔ یابرّ مامور کو ادا کرنا۔ تقویٰ ۔ ممنوع کو ترک کرنا۔ اثم مامور کو چھوڑنا۔ العُدْوَانِ ممنوع کو ادا کرنا۔ اور یہ بھی جائز ہے۔ ہر بر وتقویٰ عام مانیں۔ اور اثم ٗ عدوان کو تمام گناہوں کے لئے عام مانیں۔ پس اپنے عموم کے لحاظ سے معافی اور بدلے دونوں کو شامل ہے۔ وَاتَّقُوا اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ (اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو بیشک اللہ تعالیٰ سخت بدلہ لینے والے ہیں) اس شخص سے جو اس کی نافرمانی کرے اور تقویٰ اختیار نہ کرے۔
Ayah 5:3

حُرِّمَتْ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةُ وَ الدَّمُ وَ لَحْمُ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ وَ الْمُنْخَنِقَةُ وَ الْمَوْقُوْذَةُ وَ الْمُتَرَدِّیَةُ وَ النَّطِیْحَةُ وَ مَاۤ اَكَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَكَّیْتُمْ١۫ وَ مَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ وَ اَنْ تَسْتَقْسِمُوْا بِالْاَزْلَامِ١ؕ ذٰلِكُمْ فِسْقٌ١ؕ اَلْیَوْمَ یَئِسَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ دِیْنِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَ اخْشَوْنِ١ؕ اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا١ؕ فَمَنِ اضْطُرَّ فِیْ مَخْمَصَةٍ غَیْرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثْمٍ١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 5:3 in the Quran reader

تم پر مرا ہوا جانور اور (بہتا ہوا) لہو اور سُؤر کا گوشت اور جس چیز پر خدا کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے اور جو جانور گلاگھٹ کر مرجائے اور چوٹ لگ کر مرجائے اور جو گر کر مرجائے اور جو سینگ لگ کر مرجائے یہ سب حرام ہیں اور وہ جانور بھی جس کو درندے پھاڑ کر کھائیں۔ مگر جس کو تم (مرنے سے پہلے) ذبح کرلو۔ اور وہ جانور بھی جو تھان پر ذبح کیا جائے۔ اور یہ بھی کہ پانسوں سے قسمت معلوم کرو۔ یہ سب گناہ (کے کام) رہیں۔ آج کافر تمہارے دین سے ناامید ہوگئے ہیں تو ان سے مت ڈرو اور مجھی سے ڈرتے رہو۔ (اور) آج ہم نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کردیا اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کردیں اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا۔ ہاں جو شخص بھوک میں ناچار ہوجائے (بشرطیکہ) گناہ کی طرف مائل نہ ہو۔ تو خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

اہلِ جاہلیت کے ماکولات : آیت 3 : پھر اہل جاہلیت کے ماکولات کو بیان فرمایا۔ حُرِّمَتْ عَلَیْکُمُ الْمَیْتَۃُ (تم پر مردار کو حرام کیا گیا) یعنی ایسے چوپائے جو اپنی موت مرجائیں۔ وَالدَّمُ (اور خون) یعنی بہنے والا خون جو بوقت ذبح نکلتا ہے۔ وَ لَحْمُ الْخِنْزِیْرِ (اور خنزیر کا گوشت) خنزیر تمام نجس ہے گوشت کو اس لیے خاص کیا۔ کیونکہ اصل مقصود وہی ہے۔ وَمَآ اُہِلَّ لِغَیْرِ اللّٰہِ بِہٖ (اور وہ جانور جس پر اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کا نام پکارا گیا ہو) اور وہ اہل جاہلیت کا قول ہے کہ بوقت ذبح کہتے تھے باسم اللات والعزّٰی۔ وَالْمُنْخَنِقَۃُ (اور وہ جس کا گلادبایا گیا ہو) یعنی اس قدر اس کا گلا دبایا کہ وہ مرگیا۔ یا جال وغیرہ میں اس کا گلا دب کر مرگیا۔ وَالْمَوْقُوْذَۃُ (اور چوٹ کھا کرمرا ہوا جانور) لاٹھی و پتھر سے اس کو چوٹ لگائی۔ یہاں تک کہ وہ مرگیا۔ وَالْمُتَرَدِّیَۃُ (اوپر سے نیچے گر کر مرنے والا جانور) خواہ پہاڑ سے گرا ہو یا کنویں میں گر کر مرگیا ہو۔ وَالنَّطِیْحَۃُ (اور سینگ کی ٹکر سے مرا ہوا جانور) نطیحۃ ایسے جانور کو کہتے ہیں جس کو دوسرے جانور نے سینگ مار کر مار دیا ہو۔ وَمَآ اَکَلَ السَّبُعُ ( اور وہ جانور بھی جس کو درندے پھاڑ کھائیں) اور جس جانور کا کسی درندہ نے بعض حصہ کھالیا اور وہ اپنے زخم کی وجہ سے مرگیا۔ اِلاَّ مَا ذَکَّیْتُمْ (مگر وہ جو تم ذبح کر پائو) یعنی وہ مذبوح کی طرح مضطرب تھا اور تم اس کو ذبح کرو۔ : استثناء کا تعلق منخنقۃ اور جو اس کے مابعد ہے اس کے متعلق ہے۔ پس اگر جانور کو زندہ پا کر بسم اللہ کہہ کر ذبح کرلیا گیا تو وہ پاک ہے۔ وَ مَا ذُبِحَ عَلَی النُّصُبِ (اور جو جانور تھانوں پر ذبح کیا گیا ہو) اہل جاہلیت کے کچھ پتھر تھے جو کعبہ شریف کے اردگرد گاڑے گئے تھے۔ ان پر بطور تعظیم کے مشرکین ذبح کرتے تھے۔ اور اس سے ان کا قرب حاصل کرنا مقصود ہوتا تھا۔ ان کو انصاب کہتے تھے۔ اس کا واحد نُصُب ہے یا نُصُب جمع اور واحد نصاب ہے۔ پانسے کے تیروں کی ممانعت : وَاَنْ تَسْتَقْسِمُوْا بِالْاَزْلَامِ (اور جوئے کے تیروں سے تمہارا فال نکالنا) : میتۃ پر عطف کی وجہ سے یہ موضع رفع میں ہے عبارت اس طرح ہوگی حرمت علیکم المیتۃ…… والاستقسام بالازلام اَزْلَامجمع زَلَمْ و زُلَمْ کی ہے یہ نشان زدہ تیر تھے۔ جب کوئی سفر یا لڑائی یا تجارت یا نکاح وغیرہ کا ارادہ کرتا تو تین تیروں کا قصد کرتا۔ جن میں سے ایک پر لکھا تھا امرنی ربی۔ دوسرے پر نہانی ربی اور تیسرے پر غفل لکھا تھا اگر امر والا تیر نکلتا تو اپنے کام پر روا نہ ہوجاتا۔ اور منع والا نکل آتا تو کام سے رک جاتا۔ اور اگر غفل والا تیر نکلتا تو اس کو دوبارہ لوٹاتے۔ پس استقسام بالازلام کا معنی۔ ازلام کے ذریعے کسی چیز کی تقسیم کا مطالبہ کرنا۔ زجاج کہتے ہیں کہ مشرکین کی اس حرکت اور نجومیوں کے اس معاملے میں کوئی فرق نہیں جو کہتے ہیں کہ فلاں ستارے کی وجہ سے مت سفر کرو اور فلاں ستارے کا طلوع ہے تم سفر پر جائو۔ شرح تاویلات۔ میں اس کی تردید کی گئی ہے۔ انہوں نے وجہ فرق یہ ظاہر کی کہ نجومی یہ نہیں کہتا کہ فلاں ستارہ تمہیں اس بات سے روکتا ہے۔ اور فلاں ستارہ تمہیں فلاں کام کا حکم دیتا ہے جیسا کہ مشرکین نے کر رکھا تھا۔ لیکن نجومیوں نے اپنی طرف سے احکام الٰہی کے لئے مختلف دلالتیں اور علامتیں مقرر کی ہیں۔ اور یہ درست ہے کہ اللہ تعالیٰ نجوم میں ایسے معانی اور علامتیں پیدا کر دے جس سے احکام معلوم ہوجائیں اور اس سے کئی چیزوں کا استخراج کیا جاسکے۔ اس میں کوئی حرج نہیں۔ حرج اس بات میں ہے کہ حکم اللہ تعالیٰ کے ذمہ لگائے اور اس پر اس کو گواہ بنائے۔ دوسراقول یہ بھی ہے کہ یہ جوا ہے جس سے وہ اونٹ کو مختلف حصوں پر تقسیم کرتے تھے۔ ذٰلِکُمْ فِسْقٌ (یہ استقسام بالازلام اطاعت سے نکلنا ہے) اور ایک احتمال یہ بھی ہے کہ اس سے مراد وہ تمام مندرجہ بالا محرمات مراد ہوں جو آیت میں مذکور ہیں۔ اَلْیَوْمَ یہ یَپسَ فعل کا ظرف ہے اس سے کوئی معین دن مراد نہیں اس کا معنی ” اب “ ہے جیسے کہتے ہیں انا الیوم کبرت۔ میں اب بوڑھا ہوگیا۔ دوسرا قول یہ ہے الیوم سے آیت کے اترنے کا دن مراد ہے۔ اور یہ جمعہ کے دن نازل ہوئی اور عرفات کے دن نماز عصر کے بعد حجۃ الوداع کے موقعہ پر اتری۔ اَلْیَوْمَ یَپسَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ دِیْنِکُمْ (آج کے دن کافر تمہارے دین سے مایوس ہوگئے) یعنی تمہارے دین کو باطل کرنے سے مایوس ہوگئے یا اس بات سے ناامید ہوگئے۔ کہ وہ تمہارے دین پر غالب ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام ادیان پر غلبہ کا وعدہ پورا کردیا۔ فَـلَا تَخْشَوْہُمْ (پس تم ان سے نہ ڈرو) دین کے غالب آنے کے بعد اور کفار کے خوف کے زائل ہونے کے بعد اور ان کے غالب سے مغلوب بن جانے کے بعدو اخْشَوْنِ (اور مجھ ہی سے ڈرو) یعنی خشیت کو میرے لیے خالص کردو۔ قراءت : وصل و وقف میں بغیر یا کے آتا ہے۔ اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَـکُمْ دِیْنَکُمْ (آج میں نے تمہارا دین تمہارے لیے مکمل کردیا ) ۔ تکمیل دین کا اعلان : اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ ۔ الیوم۔ یہ اکملت کا ظرف ہے آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کردیا۔ اس طرح کہ تمہارا حال یہ تھا کہ ہر وقت دشمنوں کا خوف تم پر چھایا ہوا تھا۔ میں نے ان پر تم کو غالب کردیا۔ یہ ارشاد اس طرح ہے کہ بادشاہ کہا کرتے ہیں الیوم کمل لنا الملک۔ یعنی جن دشمنوں سے ہم ڈرتے تھے ان کی طرف سے محفوظ کردیئے گئے۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ میں نے تمہارے تکلیفی معاملات حرام و حلال کی تعلیم اور شرائع اسلام جن پر موقوف ہے اور قیاس کے قوانین مکمل کردیئے۔ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ (اور اپنی نعمت تم پر مکمل کردی) مکہ کو فتح کر کے اور اس میں امن و غلبہ کے ساتھ داخلے کے ذریعے اور جاہلیت اور اسکے طور طریقے مٹا دیئے۔ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا (اور تمہارے لیے دین اسلام کو تمام دینوں میں سے منتخب کرلیا) اور تمہیں بتلا دیا کہ یہی اکیلا دین اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔ جیسا دوسری آیت میں فرمایا : وَمَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلاَمِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہُ 5 (آل عمران : 85) فَمَنِ اضْطُرَّ (جو آدمی مجبور ہو) محرمات کے تذکرہ سے متصل اسکا ذکر کیا اور اسی طرح ذٰلکم فسق بھی۔ یہ جملے معترضے ہیں جن کو لانے کا مقصد تحریم کے معنی کی تاکید ہے۔ اور اسی طرح اسکا مابعد بھی۔ کیونکہ ان خبائث کی حرمت منجملہ دین کی تکمیل اور اتمام نعمت کا حصہ ہیں اور اسلام کی صفت اللہ تعالیٰ نے پسندیدہ دین سے فرمائی ہے نہ کہ دوسری ملتیں۔ پس آیت کا یہ مطلب ہوا کہ جو آدمی میتہ کے استعمال پر مجبور ہوجائے یا اسکے علاوہ کسی اور محرمہ کے استعمال پر۔ فِیْ مَخْمَصَۃٍ غَیْرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثْمٍ (بھوک کی وجہ سے بشرطیکہ وہ گناہ کی طرف مائل ہونے والا نہ ہو) یعنی جان بچانے والی مقدار سے تجاوز کرنے والا نہ ہو۔ فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ (پس بیشک اللہ تعالیٰ اس کو بخشنے والے ہیں) مواخذہ نہ فرمائیں گے۔ رَّحِیْمٌ (مہربان ہیں) اس لئے معذور کو محظور کے استعمال کی اجازت مرحمت فرما دی۔ : رضیت لکم الاسلام دینًا یہ حال ہے۔ اسی طرح غیر متنجانف یہ بھی حال ہے۔
Ayah 5:4

یَسْئَلُوْنَكَ مَا ذَاۤ اُحِلَّ لَهُمْ١ؕ قُلْ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّیِّبٰتُ١ۙ وَ مَا عَلَّمْتُمْ مِّنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِیْنَ تُعَلِّمُوْنَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللّٰهُ١٘ فَكُلُوْا مِمَّاۤ اَمْسَكْنَ عَلَیْكُمْ وَ اذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهِ١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 5:4 in the Quran reader

تم سے پوچھتے ہیں کہ کون کون سی چیزیں ان کے لئے حلال ہیں (ان سے) کہہ دو کہ سب پاکیزہ چیزیں تم کو حلال ہیں۔ اور وہ (شکار) بھی حلال ہے جو تمہارے لئے ان شکاری جانوروں نے پکڑا ہو جن کو تم نے سدھا رکھا ہو۔ اور جس (طریق) سے خدا نے تمہیں (شکار کرنا) سکھایا ہے۔ (اس طریق سے) تم نے انکو سکھایا ہو تو جو شکار وہ تمہارے لئے پکڑ رکھیں اس کو کھالیا کرو اور (شکاری جانوروں کے چھوڑنے وقت) خدا کا نام لیا کرو۔ اور خدا سے ڈرتے رہو۔ بیشک خدا جلد حساب لینے والا ہے۔

حلال شکار کا بیان : آیت 4 : یَسْئَلُوْنَکَ مَاذَآ اُحِلَّ لَہُمْ قُلْ اُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبٰتُ وَمَا عَلَّمْتُمْ مِّنَ الْجَوَارِحِ مُکَلِّبِیْنَ تُعَلِّمُوْنَہُنَّ مِمَّا عَلَّمَکُمُ اللّٰہُ فَکُلُوْا مِمَّآ اَمْسَکْنَ عَلَیْکُمْ وَاذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ عَلَیْہِ وَاتَّقُوا اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ ۔ یَسْئَلُوْنَکَ (اس میں قول کا معنی پایا جاتا ہے۔ اس لیے اس کے بعد ماذا احل لہم وارد ہوا ہے۔ گویا اس طرح فرمایا۔ (وہ آپ کو کہتے ہیں کہ ہمارے لیے کیا کیا چیزیں حلال ہیں) مَاذَآ اُحِلَّ لَہُمْ ۔ ماذا احل لنا نہیں کہا۔ کہ ان کے قول کی حکایت بنے۔ کیونکہ یسئلونک خود غائب کے صیغہ کے ساتھ لایا گیا ہے۔ یہ اسی طرح ہے جیسے کہتے ہیں۔ اقسم زید لیفعلن اور اگر لیفعلن کی بجائے لافعلن کہتے تو تب بھی درست تھا۔ اسی طرح احل لنا کہتے تو درست تھا۔ نحو : ماذا، مبتداء اور احل لہم یہ اس کی خبر ہے یہ اس طرح ہے کہ جیسے تم کہو ایّ شیٔ احل لہم ؟ مطلب یہ ہوا کہ ان کے لئے کون سی کھانے والی چیزیں حلال ہیں گویا کہ جب آپ نے ان پر حرام و خبیث ماکولات پڑھیں تو انہوں نے سوال کیا ان چیزوں کے متعلق جو ماکولات میں سے ان کے لیے حلال ہیں۔ پس فرمایا۔ قُلْ اُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبٰتُ (فرما دیں تمہارے لئے تمام وہ پاکیزہ چیزیں حلال ہیں) جو کہ خبیث نہیں۔ یا وہ تمام چیزیں حلال ہیں جن کی حرمت کتاب اللہ اور سنت و اجماع اور قیاس سے ثابت نہیں ہے وَمَا عَلَّمْتُمْ مِّنَ الْجَوَارِحِ (اور جن شکاری جانوروں کو تم نے سکھایا ہے) (ان کا کیا ہوا شکار حلال ہے) : وما علمتم کا عطف الطیبات پر ہے تقدیر عبارت یہ ہے احل لکم الطیبات وصید ما علمتم پس مضاف کو حذف کیا گیا ہے۔ یا ما شرطیہ ہے اور اس کا جواب فکلوا ہے۔ شکار کے متعلق ہدایات : الجوارح جو جانور یا پرندے شکار کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔ مثلاً کتا ٗ چیتا ٗ باز ٗ شکرہ ٗ بحری ٗ شاہین وغیرہ۔ بعض نے کہا کہ یہ جراحت سے ہے۔ پس حلال وہ تب ہوگا جب وہ زخم لگائے۔ مُکَلِّبِیْنَ (ٹریننگ دیئے ہوئے) یہ علمتم سے حال ہے۔ اور اس حال کا فائدہ باوجود یکہ علمتم کی وجہ سے خاص ضرورت نہ تھی۔ یہ ہے کہ جو آدمی ان جانوروں کو تعلیم دے وہ ٹریننگ کا ماہر ہونا چاہیے۔ مُکَلِّبْمکلب اس آدمی کو کہتے ہیں جو جانوروں کو تعلیم دے۔ یہ لفظ الکلب سے مشتق ہے اور کلاب میں عام طور پر یہ سلسلہ ہوتا ہے اور عام پائے جاتے ہیں۔ اس لئے اس کی جنس کو سیکھنے میں بقیہ پر غلبہ دے کر اسی سے لفظ ٗ مشتق کر کے تمام کے لئے استعمال کرلیا۔ دوسرا یہ قول بھی ہے کہ ہر درندے کو کلب کہتے ہیں۔ جیسا کہ حاکم کی روایت میں اللّٰہم سلط علیہ کلبًا من کلابک ہے تو اس میں شیر کو کلب کہا گیا۔ کیونکہ عتیبہ کو شیر نے کھایا تھا۔ تُعَلِّمُوْنَہُنَّ مِمَّا عَلَّمَکُمُ اللّٰہُ (اس طریقہ سے تم نے ان کو تعلیم دی جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں سکھایا) اس میں یہ واضح کردیا گیا۔ کہ ہر شکار پکڑنے والا یہ جان لے کہ وہ شکار اس وقت پکڑے جب اس کو ایسے جانور نے قتل کیا ہو جو سکھایا ہوا ہو۔ اور سمجھ بوجھ سے ذبح کیا ہو۔ کیونکہ بہت سے پکڑنے والے اپنے فن میں ناپختہ ہیں کہ انہوں نے اپنے اوقات کو ضائع کیا۔ اور جب علماء و ماہرین سے ملاقات ہوئی تو انگلیاں کاٹنے لگے۔ مما علمکم اللّٰہ سے مراد ٹریننگ ہے۔ فَکُلُوْا مِمَّآ اَمْسَکْنَ عَلَیْکُمْ (پس تم اس شکار میں سے کھالو جو وہ تمہارے لیے روک کر رکھیں) امساک علی صاحبہ کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس میں سے خود نہ کھائیں۔ اگر وہ خود کھا لیں تو ایسے شکار استعمال کے قابل نہیں۔ جبکہ کتے وغیرہ کا شکار ہو۔ البتہ باز وغیرہ کا شکار ہو تو کھا لینے سے حرام نہیں ہوگا۔ اور یہ مسئلہ اپنے مقام پر بیان کردیا گیا ہے۔ وَاذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ عَلَیْہِ (اور ان پر اللہ کا نام لو) اذکروا کی ضمیرما امسکن کی طرف لوٹتی ہے۔ مطلب یہ ہوگا کہ جب تم کو ان کے ذبح کا موقع مل جائے تو ان پر اللہ تعالیٰ کا نام لو۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ ضمیر ما علمتم کی طرف لوٹتی ہے۔ کہ جب تم ان کو چھوڑنے لگو تو اس وقت اللہ کا نام لے کر چھوڑو۔ وَاتَّقُوا اللّٰہَ (اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو) اور اس کے حکم کی مخالفت کرنے سے ان تمام معاملات میں بچو۔ اِنَّ اللّٰہَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ (بیشک اللہ تعالیٰ جلد حساب لینے والے ہیں) وہ تمہارے اعمال کا خود محاسبہ کریں گے۔ اور محاسبہ کرنے میں اس کو انتظار کی بھی ضرورت نہیں۔
Ayah 5:5

اَلْیَوْمَ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّیِّبٰتُ١ؕ وَ طَعَامُ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حِلٌّ لَّكُمْ١۪ وَ طَعَامُكُمْ حِلٌّ لَّهُمْ١٘ وَ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ اِذَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ مُحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ وَ لَا مُتَّخِذِیْۤ اَخْدَانٍ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِالْاِیْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهٗ١٘ وَ هُوَ فِی الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ۠ Open ayah 5:5 in the Quran reader

آج تمہارے لئے سب پاکیزہ چیزیں حلال کردی گئیں۔ اور اہل کتاب کا کھانا بھی تم کو حلال ہے اور تمہارا کھانا انکو حلال ہے اور پاک دامن مومن عورتیں اور پاک دامن اہل کتاب عورتیں بھی (حلال ہیں) جب کہ ان کا مہر دیدو اور ان کے عفت قائم رکھنی مقصود ہو کھلی بدکاری کرنی اور نہ چھپی دوستی کرنی۔ اور جو شخص ایمان سے منکر ہوا اس کے عمل ضائع ہوگئے اور وہ آخرت میں نقصان پانے والوں میں ہوگا۔

آیت 5 : اَلْیَوْمَ اُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبٰتُ وَطَعَامُ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ حِلٌّ لَّکُمْ وَطَعَامُکُمْ حِلٌّ لَّہُمْ وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ الْمُؤْمِنٰتِ وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکُْمْ اِذَآ ٰاتَیْتُمُوْہُنَّ اُجُوْرَہُنَّ مُحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ وَلَا مُتَّخِذِیْٓ اَخْدَانٍ ج وَمَنْ یَّکْفُرْ بِالْاِیْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُہٗ وَہُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ ۔ اَلْیَوْمَ (سے مراد سو ‘ اب) اُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبٰتُ (تمہارے لیے تمام پاکیزہ چیزیں حلال کردی گئیں) احسان کی خاطر دوبارہ ذکر فرمایا۔ وَطَعَامُ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ حِلٌّ لَّکُمْ (اور اہل کتاب کا کھانا تمہارے لئے حلال ہے) طعام سے یہاں مراد ذبائح ہیں۔ کیونکہ دوسرے کھانوں کی حلت کسی ملت کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔ وَطَعَامُکُمْ حِلٌّ لَّہُمْ (اور تمہارے کھانے ان کے لیے حلال) یعنی انکو کھلانے میں کوئی گناہ نہیں ہے۔ کیونکہ اگر ایمان والوں کا کھانا ان کیلئے حرام ہوتا تو انکا کھانا کھلانا جائز نہ ہوتا۔ یہ قید استحبابی ہے : وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ الْمُؤْمِنٰتِ ( اور ایمان والیوں میں سے پاک دامن عورتیں) المحصنات سے مراد یہاں آزاد عورتیں جو باندیاں نہ ہوں یا پاک دامن عورتیں۔ مسئلہ : یہ صحت نکاح کے لیے شرط نہیں بلکہ مستحب ہے۔ کیونکہ مسلمان باندیوں سے نکاح حلال ہے اور غیر عفیفہ سے بھی نکاح حلال ہے۔ اس تخصیص سے مقصود یہ ہے کہ مؤمنین اپنے فراش کے لیے پاک دامن عورتیں منتخب کریں۔ تاکہ پاکیزہ گھریلو زندگی میسر ہو۔ مسئلہ : اس کا عطف الطّیبات پر ہے۔ یا یہ مبتدا ہے اور اس کی خبر محذوف ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے والمحصنات من المؤمنات حل لکم۔ وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکُْمْ (اور پاک دامن عورتیں اہل کتاب کی جو تم سے پہلے ہیں) المحصنات سے یہاں مراد پاک دامن کتابیہ عورتیں۔ یا آزاد کتابیہ عورتیں۔ اِذَآ ٰاتَیْتُمُوْہُنَّ اُجُوْرَہُنَّ (جب تم ان کے مہر ان کو دے دو ) ۔ مُحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ (اس طرح کہ تم بیوی بنانے والے ہو، نہ کہ علانیہ بدکاری کرنے والے ہو) وَلَا مُتَّخِذِیْٓ اَخْدَانٍ (اور خفہ آشنائی کرنے والیاں نہ ہوں) ال خدان مذکر ومؤنث دونوں پر بولا جاتا ہے۔ وَمَنْ یَّکْفُرْ بِالْاِیْمَانِ (جو ایمان کا انکار کرے گا) یعنی شرائع و احکام اسلام۔ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُہٗ (اس کے اعمال اکارت و ضائع ہوجائیں گے) وَہُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنَ الْخٰسِرِیْن (اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا)
Ayah 5:6

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قُمْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَكُمْ وَ اَیْدِیَكُمْ اِلَى الْمَرَافِقِ وَ امْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَیْنِ١ؕ وَ اِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوْا١ؕ وَ اِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَوْ عَلٰى سَفَرٍ اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَآئِطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَ اَیْدِیْكُمْ مِّنْهُ١ؕ مَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیَجْعَلَ عَلَیْكُمْ مِّنْ حَرَجٍ وَّ لٰكِنْ یُّرِیْدُ لِیُطَهِّرَكُمْ وَ لِیُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 5:6 in the Quran reader

مومنو ! جب تم نماز پڑھنے کا قصد کیا کرو تو منہ اور کہنیوں تک ہاتھ دھو لیا کرو۔ اور سر کا مسح کرلیا کرو۔ اور ٹخنوں تک پاؤں (دھولیا کرو) اور اگر نہانے کی حاجت ہو تو (نہاکر) پاک ہوجایا کرو اور اگر بیمار ہو یا سفر میں ہو یا کوئی تم میں سے بیت الخلا سے آیا ہو یا تم عورتوں سے ہمبستر ہوئے ہو، اور تمہیں پانی نہ مل سکے تو پاک مِٹّی لو اور اس منہ اور ہاتھو کا مسح (یعنی تیمم) کرلو۔ خدا تم پر کسی طرح کی تنگی نہیں کرنی چاہتا بلکہ یہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کرے اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کرے۔ تاکہ تم شکر کرو۔

ارادہ فعل فعل ہے : آیت 6 : یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْٓا اِذَا قُمْتُمْ اِلَی الصَّلٰوۃِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْہَکُمْ (اے ایمان والو جب تم نماز کے لئے اٹھنے لگو تم اپنے چہروں کو دھوئو) قُمْتُمْ سے مراد ارادہ کرنا ہے جیسا کہ دوسری آیت اذا قرأت القرٰان النحل آیت 98۔ میں ہے کہ جب تم قراءت قرآن کا ارادہ کرو۔ گویا ارادئہ فعل کو فعل سے تعبیر فرمایا گیا۔ کیونکہ فعل ارادے کا مسبب ہے پس مسبب کو قائم مقام سبب کے ذکر کردیا۔ کیونکہ ان کے درمیان ملابست پائی جاتی ہے اور کلام میں اختصار کے لیے ایسا کیا گیا۔ جیسا کہتے ہیں کما تدین تدان۔ فعل ابتدائی جو جزاء کا سبب ہے اس کو لفظ جزاء سے تعبیر کردیا۔ جو کہ مسبب عنہ ہے۔ اور تقدیر عبارت انتم محدثون ہے۔ یہ عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے۔ یا من النوم مقدر ہے کیونکہ نوم دلیل حدث ہے۔ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ؓ ہر نماز کے لئے وضو کرتے تھے۔ دوسرا قول یہ بھی ہے کہ پہلے ہر نماز کے لئے وضوء واجب تھا۔ جبکہ پہلے پہل فرض ہوا پھر منسوخ کردیا گیا۔ وَاَیْدِیَکُمْ اِلَی الْمَرَافِقِ (اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت) اِلٰی یہاں مطلق غایت کا فائدہ دے رہا ہے۔ باقی غایت کے حکم میں داخل یا خارج ہونا یہ دلیل کا محتاج ہے۔ یہاں خروج کی دلیل ندارد ہے جیسا کہ آیت فنظرۃ الٰی میسرۃ۔ البقرہ 280۔ تم مہلت دو آسانی آنے تک اس آیت میں تنگ دستی ہی مہلت کی علت ہے۔ اور آسانی آنے سے یہ علت دور ہوجائے گی۔ اگر آسانی اس میں داخل مانی جائے تو انتظار دونوں حالتوں عسرو یسر میں لازم آتا ہے۔ اور اسی طرح آیت واتموا الصیام الی الیل۔ البقرہ۔ 187۔ کہ تم رات تک روزہ پورا کرو۔ اگر رات کو روزے میں داخل مانا جائے تو روزے میں وصال لازم آتا ہے پس غایت داخل مغیانہ ہوئی۔ اور جہاں داخل ہونے کی دلیل ہو مثلاً تم کہو۔ حفظت القرٰان من اولہ الٰی ٰاخرہٖ ۔ یہاں تمام قرآن کے حفظ کے لیے لایا گیا۔ اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں یہی مراد ہے۔ من المسجد الحرام الی المسجد الاقصٰی۔ الاسرائ۔ 1۔ یہ بات علم میں آچکی کہ اب آپ کو بیت المقدس میں داخل کرنے کے لئے لایا گیا تھا۔ اِلَی الْمَرَافِقِ میں کوئی دلیل بھی مغیا میں غایت کے داخل ہونے یا نہ ہونے کی نہیں پائی جاتی۔ جمہور کا قول : اس لیے جمہور نے احتیاط کو اختیار کیا۔ پس غسل میں شامل مان کر دھونے کا حکم دیا۔ اور زفر (رح) اور دائود (رح) نے یقینی کو اختیار کر کے داخل نہ مانا اور حدیث میں وارد ہے کہ آپ ﷺ پانی کو کہنیوں پر گھماتے تھے۔ (دارقطنی 83‘ جلد 1) مقدارِ مسح کا مسئلہ : وَامْسَحُوْا بِرُئُ وْسِکُمْ (اور تم اپنے سروں کا مسح کرو) مقصود مسح کو سر کے ساتھ ملصق کرنا ہے۔ سر کے بعض حصے پر مسح کرنے والا اور تمام سر پر مسح کرنے والا دونوں ہی مسح کو سر کے ساتھ ملصق کرنے والے ہیں۔ پس امام مالک (رح) نے احتیاط کا پہلو اختیار کرتے ہوئے کل مسح کو لازم قرار دیا۔ اور امام شافعی (رح) نے یقین کو سامنے رکھتے ہوئے سب سے قلیل حصہ جس پر مسح کا اطلاق ہوسکتا ہے اس کو لازم قرار دیا۔ اور ہم احناف نے آپ ﷺ کا ارشاد لیا۔ کہ آپ ﷺ نے اپنی پیشانی پر مسح فرمایا۔ مسلم صفحہ 274۔ جلد 1 اور ناصیہ کا اندازہ چوتھائی سر سے لگایا گیا ہے۔ وَاَرْجُلَکُمْ اِلَی الْکَعْبَیْنِ (اور اپنے پائوں کو ٹخنوں سمیت ) قراءت : شامی ٗ نافع ٗ علی ٗ حفص رحمہم اللہ نے اَرْجُلَکُمْ نصب سے پڑھا۔ مطلب یہ ہوا تم اپنے چہروں کو اور ہاتھوں کو کہنیوں سمیت اور پائوں کو ٹخنوں سمیت دھوئو۔ اور اپنے سروں پر مسح کرو۔ تقدیم و تاخیر کے قائل ہوتے کہ مغسولات کے درمیان ایک ممسوحہ کو بیان فرمایا گیا۔ دیگر قراء نے ارجلِکم کی لام کو کسرہ سے پڑھا۔ اور رؤس پر عطف کیا۔ کیونکہ ارجل تین مغسولہ اعضاء کے درمیان واقع ہے۔ ان کو خوب پانی بہا کر دھویا جائے گا۔ اس لیے خطرہ تھا کہ ممنوعہ اسراف کی حد تک نہ پہنچ جائیں۔ پس ممسوح پر عطف کردیا گیا۔ مسح کی خاطر عطف نہیں کیا۔ بلکہ اس بات پر متنبہ کرنے کے لئے کہ پانی بہانے میں میانہ روی اختیار کرنا ہوگی۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ الی الکعبین کی غایت کو اسی لیے ذکر کیا گیا تاکہ کوئی آدمی اس کو عضو ممسوحہ نہ سمجھے کیونکہ ممسوحہ عضو کی شریعت میں کوئی غایت مقرر نہیں کی گئی۔ جامع العلوم میں یہ بات مندرج ہے کہ یہ جر جوار کی وجہ سے ہے۔ حالانکہ آپ ﷺ نے کچھ لوگوں کو پائوں پر مسح کرتے دیکھا تو فرمایا۔ ویل للاعقاب من النار بخاری صفحہ 60 و مسلم صفحہ 241 مشہور تابعی عطاء (رح) کا قول ہے کہ میں نے اصحاب رسول اللہ ﷺ میں سے کسی کو نہیں دیکھا کہ وہ قدمین پر مسح کرتا ہو۔ ان اعضاء کے دھونے کا حکم دیا گیا۔ تاکہ پائوں کو میل سے پاک کیا جائے۔ جو ان پر لگ جاتی ہے۔ کیونکہ پائوں اکثر کھلے رہتے ہیں۔ اور نماز بارگاہ الٰہی میں میل کچیل سے پاک ہو کر تعظیم کی متقاضی ہے۔ پس اس سے بندگی کامل انداز سے ظاہر ہوگی۔ جیسا کہ مشاہدہ میں ہے کہ جب بادشاہ کے سامنے کھڑے ہونے کا ارادہ ہو تو صاف ستھرے کپڑے استعمال کیے جاتے ہیں۔ اسی لے ہ تو کہا گیا ہے کہ بہتر یہ ہے کہ آدمی بہترین کپڑوں میں نماز ادا کرے۔ عمامہ پہن کر نماز کھلے سر نماز سے افضل ہے۔ اس لئے کہ اس میں تعظیم زیادہ ہے۔ وَاِنْ کُنْتُمْ جُنُباً فَاطَّہَّرُوْا (اگر تم جنابت کی حالت میں ہو تو خوب طہارت حاصل کرو) یعنی اپنے ابدان کو دھوئو۔ رازی کا قول : وَاِنْ کُنْتُمْ مَّرْضٰٓی اَوْ عَلٰی سَفَرٍ اَوْ جَآئَ اَحَدٌ مِّنْکُمْ مِّنَ الْغَآپطِ (اگر تم بیمار ہو یا سفر کی حالت میں ہو یا تم میں سے کسی نے قضائے حاجت کی ہو) رازی (رح) فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اَوْ وائو کے معنی میں ہے تاکہ مریض و مسافر پر تیمم بلا حدث لازم نہ آئے۔ مِّنَ الْغَآپطِسے اطمینان والی جگہ یہ قضائے حاجت سے کنایہ ہے۔ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآئَ (یا تم نے چھوا ہو عورتوں کو) لمس سے جماع مراد ہے۔ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآئً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّباً فَامْسَحُوْا بِوُجُوْہِکُمْ وَ اَیْدِیْکُمْ مِّنْہُ مَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیَجْعَلَ عَلَیْکُمْ مِّنْ حَرَجٍ (پس تم پانی نہ پائو تو پاک زمین سے اس طرح تیمم کرلو کہ اس سے اپنے ہاتھوں اور چہروں کا مسح کرلو۔ اللہ تعالیٰ تم پر تنگی ڈالنا نہیں چاہتا) یعنی طہارت کے سلسلے میں کہ تم کو تیمم کی رخصت نہ دی جائے۔ وَّلٰکِنْ یُّرِیْدُ لِیُطَہِّرَکُمْ (لیکن اللہ تعالیٰ تم کو پاک کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں) مٹی کے ذریعہ۔ جب کہ تم پانی کے ساتھ طہارت سے عاجز ہو۔ وَلِیُتِمَّ نِعْمَتَہٗ عَلَیْکُمْ (اور تاکہ اللہ تعالیٰ اپنی نعمت کی تکمیل تم پر کرے) اور تاکہ وہ اپنی رخصتوں سے اپنے انعام کو تم پر مکمل کرے اپنے عزائم کے ذریعہ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ (تاکہ تم ادا کرو شکریہ) اس کی نعمتوں کا اور وہ تمہیں ثواب دے۔
Ayah 5:7

وَ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ مِیْثَاقَهُ الَّذِیْ وَاثَقَكُمْ بِهٖۤ١ۙ اِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١٘ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 5:7 in the Quran reader

اور خدا نے جو تم پر احسان کئے ہیں انکو یاد کرو اور اس عہد کو بھی جس کا تم سے قول لیا تھا (یعنی) جب تم نے کہا تھا کہ تم نے (خدا کا حکم) سُن لیا اور قبول کیا۔ اور خدا سے ڈرو۔ کچھ شک نہیں کہ خدا دلوں کی باتوں (تک) سے واقف ہے۔

میثاق سے مراد : آیت 7 : وَاذْکُرُوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ ( اور اللہ تعالیٰ کے انعام کو یاد کرو جو تم پر اسلام کے ذریعہ کیا) وَمِیْثَاقَہُ الَّذِیْ وَاثَقَکُمْ بِہٖٓ اِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا (اور اس کا وہ پختہ وعدہ جو اس نے تم سے لیا جبکہ تم نے کہا تھا ہم نے سنا اور اطاعت کی) یعنی تم نے پکا وعدہ کیا اور اس سے مراد وہ میثاق ہے جو مسلمان سے لیا گیا جب کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی بیعت کی۔ کہ آپ کی ہر بات سنیں گے۔ اور عسرویُسر میں آپ کی اطاعت کریں گے۔ اور ہر خوشی اور غمی میں آپ کا حکم مانیں گے۔ تو صحابہ کرام ؓ نے قبول کیا اور کہا کہ ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی۔ بعض نے کہا کہ اس سے لیلہ عقبہ اور بیعت رضوان والا میثاق مراد ہے۔ وَاتَّقُوا اللّٰہَ (اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو کہ میثاق کو توڑو) اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌم بِذَاتِ الصُّدُوْرِ (بیشک اللہ تعالیٰ سینے کی باتیں خواہ خیر ہوں یا شر تمام کو جاننے والے ہیں) اور وہ وعدہ اور وعید دونوں ہی ہیں۔
Ayah 5:8

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰهِ شُهَدَآءَ بِالْقِسْطِ١٘ وَ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰۤى اَلَّا تَعْدِلُوْا١ؕ اِعْدِلُوْا١۫ هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى١٘ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:8 in the Quran reader

اے ایمان والو ! خدا کے لئے انصاف کی گواہی دینے کے لئے کھڑے ہوجایا کرو اور لوگوں کی دشمنی تمکو اس بات ہر آمادہ نہ کرے کہ انصاف چھوڑ دو ۔ انصاف کیا کرو کہ یہی پرہیزگاری کی بات ہے۔ اور خدا سے ڈرتے رہو۔ کچھ شک نہیں کہ خدا تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے۔

کفار سے بھی عدل کرو : آیت 8 : یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْٓا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰہِ شُہَدَآئَ بِالْقِسْطِ (اے ایمان والو ! تم اللہ کے لیے پوری پابندی کرنے والے اور شہادت ادا کرنے والے ہوجائو انصاف کے ساتھ) وَلَا یَجْرِ مَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓی اَلاَّ تَعْدِلُوْا (اور تمہیں کسی قوم کی دشمنی اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو) یہاں یجرمنکم کو عَلٰی سے متعدی بنایا گیا۔ حالانکہ یہ حمل کا صلہ ہے۔ جو یجرمنکم کا معنی ہے۔ تاکہ بتلا دیا جائے کہ کسی قوم کا بغض و عداوت تمہیں د اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم عدل کو چھوڑ بیٹھو۔ اِعْدِلُوْا ہُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی (تم انصاف کرو۔ یہی تقویٰ کے قریب ہے) پہلے تو ان کو اس سے منع کیا گیا تھا کہ بغض ان کو ترک عدل پر آمادہ نہ کرے۔ پھر جملہ مستانفہ لا کر ان کو صراحت کے ساتھ عدل کی سخت تاکید کردی۔ پھر جملہ مستانفہ لا کر عدل کے حکم دینے کی وجہ بیان کی اور وہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوا قرب للتقوٰی ہے۔ فائدہ : جب کفار کے ساتھ عدل کرنے کا یہ انداز ہے پھر ایمان والوں کے ساتھ عدل کا لزوم کس قدر شدید ہوگا۔ جبکہ وہ اللہ تعالیٰ کے دوست ہیں۔ وَاتَّقُوا اللّٰہَ ( اور تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو) اس کے اوامرو نواہی میں۔ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌم بِمَا تَعْمَلُوْنَ (بےشک اللہ تعالیٰ کو تمہارے اعمال کی اطلاع ہے) یہ وعدہ اور وعید دونوں پر مشتمل ہے۔ اسی لئے تو اس کے بعد وعدے کی آیت ذکر فرمائی۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے وعداللّٰہ الذین الخ
Ayah 5:9

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 5:9 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان سے خدا نے وعدہ فرمایا ہے کہ ان کے لئے بخشش اور اجر عظیم ہے۔

آیت 9: وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْٓا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ (اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے وعدہ کیا جو ایمان لائے اور نیک اعمال کیے) وعد کا لفظ دو مفعولوں کی طرف متعدی ہے۔ پہلا مفعول الذین ٰامنوا۔ اور دوسرا محذوف ہے اور اس مفعول سے استغناء اس لیے اختیار کیا گیا کیونکہ لہم مغفرۃ واجر عظیم کا جملہ موجود ہے۔ جس کے ہوتے ہوئے اس مفعول کی ضرورت نہیں۔ لَہُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ (ان کے لیے مغفرت اور بڑا اجر ہے) اور وعید اللہ تعالیٰ کے اس قول میں آرہی ہے۔
Ayah 5:10

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ Open ayah 5:10 in the Quran reader

اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ جہنمی ہیں۔

آیت 10 : وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَکَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَآ اُولٰٓپکَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ (اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ہماری آیات کو وہ جہنم کے ساتھی ہیں) یعنی اس سے جدانہ ہونگے۔
Ayah 5:11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ هَمَّ قَوْمٌ اَنْ یَّبْسُطُوْۤا اِلَیْكُمْ اَیْدِیَهُمْ فَكَفَّ اَیْدِیَهُمْ عَنْكُمْ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 5:11 in the Quran reader

اے ایمان والو ! خدا نے جو تم پر احسان کیا ہے اس کو یاد کرو جب ایک جماعت نے ارادہ کیا کہ تم پر دست درازی کریں تو اس نے ان کے ہاتھ روک دیئے اور خدا سے ڈرتے رہو اور مومنوں کو خدا ہی پر بھروسا رکھنا چاہئے۔

بنو قریظہ کی غداری : آیت 11 : یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوا اذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْہَمَّ قَوْمٌ (اے ایمان والو اللہ تعالیٰ نے جو تم پر احسان کیا ہے اس کو یاد کرو جب ایک جماعت نے ارادہ کیا) روایات میں وارد ہے کہ رسول اللہ ﷺ بنو قریظہ کے ہاں تشریف لے گئے۔ اور آپ کے ساتھ شیخین ابوبکر و عمر اور دونوں داماد علی و عثمان ؓ تھے۔ اور ان سے دو مسلمانوں کے قتل کی دیت میں مدد لیں یہ مسلمان قبیلہ بنو سلیم سے تھے۔ جو مسلمانوں کا معاہد تھا۔ اور حضرت عمرو بن امیہ الضمری سے خطاً قتل ہوئے تھے۔ انہوں نے ان کو مشرکین میں سے سمجھا تھا۔ جب یہود کے ہاں تشریف لے گئے تو یہود نے کہا ! ہاں اے ابوالقاسم (ﷺ) آپ بیٹھیں آپ کو کھانا کھلائیں گے۔ اور پھر آپ کو قرض بھی دیں گے۔ اور آپ کو ایک چبوترے میں بٹھا دیا۔ اور آپ کو اچانک قتل کرنے کا ارادہ کیا۔ عمرو بن جحاش یہودی چکی کے پاٹ کے متعلق ارادہ کر کے گیا کہ وہ آپ پر گرادیں مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو بچا لیا۔ جبرئیل ( علیہ السلام) اترے اور آپ ﷺ کو اس کی اطلاع دی۔ آپ ﷺ وہاں سے نکلے یہ آیت اتری۔ اِذْ یہ نعمت کا ظرف ہے۔ اَنْ یَّبْسُطُوْٓا (کہ وہ کھولیں) اِلَیْکُمْ اَیْدِیَہُمْ (اپنے ہاتھ تمہاری طرف قتل کے ساتھ) جیسے محاورہ میں کہا جاتا ہے بسط لسانہ الیہ جب کہ وہ اس کو گالی دے۔ اور کہتے ہیں بسط الیہ یدہ جب وہ اس سے دو دو ہاتھ کرے۔ جیسا کہ اس آیت : وَّیَبْسُطُوْٓ ا اِلَیْکُمْ اَیـْدِیَہُمْ وَاَلْسِنَتَہُمْ بِالسُّوْٓئِ (الممتحنہ : 2) میں مذکور ہے۔ اور بسط الید کا مطلب یہ ہوا کہ جس کو پکڑنا چاہا اس کو پکڑنے کے لئے ہاتھ کو اس کی طرف دراز کرنا۔ فَکَفَّ اَیْدِیَہُمْ عَنْکُمْ (پس اس نے ان کے ہاتھوں کو تم سے روک لیا) کہ وہ تمہاری طرف دراز ہوں۔ وَاتَّقُوا اللّٰہَ وَعَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ ( اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اللہ ہی پر مؤمنوں کو توکل کرنا چاہیے) اس کی ذات کافی ‘ دافع اور مانع ہونے میں بس ہے۔
Ayah 5:12

وَ لَقَدْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۚ وَ بَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَیْ عَشَرَ نَقِیْبًا١ؕ وَ قَالَ اللّٰهُ اِنِّیْ مَعَكُمْ١ؕ لَئِنْ اَقَمْتُمُ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَیْتُمُ الزَّكٰوةَ وَ اٰمَنْتُمْ بِرُسُلِیْ وَ عَزَّرْتُمُوْهُمْ وَ اَقْرَضْتُمُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا لَّاُكَفِّرَنَّ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ لَاُدْخِلَنَّكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۚ فَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 5:12 in the Quran reader

اور خدا نے نبی اسرائیل سے اقرار لیا۔ اور ان میں ہم نے بارہ سردار مقرر کئے۔ پھر خدا نے فرمایا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ اگر تم نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے رہو گے اور میرے پیغمبروں پر ایمان لاؤ گے اور ان کی مدد کرو گے اور خدا کو قرض حسنہ دو گے تو میں تم سے تمہارے گناہ دور کردوں گا اور تم کو بہشتوں میں داخل کرونگا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں پھر جس نے اس کے بعد تم میں سے کفر کیا وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔

آیت 12 : وَلَقَدْ اَخَذَ اللّٰہُ مِیْثَاقَ بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ وَبَعَثْنَا مِنْہُمُ اثْنَیْ عَشَرَ نَقِیْبًا (اور اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے اقرار لیا اور ان میں ہم نے بارہ سردار مقرر کئے) نقیب اس شخص کو کہتے ہیں جو قوم کے حالات کی نگہبانی اور جانچ پڑتال کرے۔ جب بنی اسرائیل مصر میں مضبوط ہوگئے اس کے بعد کہ فرعون ہلاک ہوچکا۔ (مگر یہ بات محل نظر ہے کیونکہ بنی اسرائیل تو عرصہ دراز کے بعد مصر گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو سرزمین شام کے مقام اریحا کی طرف جانے کا حکم دیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے اس کو تمہارے لئے رہائش وقرار کی جگہ قرار دیا ہے پس نکل کر تم ان کنعانیوں سے جہاد کرو۔ میں تمہارا مددگار ہوں گا۔ اور اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ( علیہ السلام) کو حکم دیا کہ ہر قبیلہ میں ایک نقیب مقرر کریں۔ جو اس معاملے کو پورا کرانے کا ذمہ دار ہو جو ان سے لیا گیا ہے پس نقباء مقرر ہوئے اور بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا گیا۔ نقباء نے ان کی طرف سے کفالت کی ذمہ داری لی۔ موسیٰ ( علیہ السلام) لے کر ان کو روانہ ہوئے۔ جب سر زمین کنعان کے قریب پہنچے تو چند افراد کو علاقہ کی جاسوسی کے لیے روانہ فرمایا۔ انہوں نے ان کے بڑے بڑے ڈیل ڈول اور نہایت درجہ قوت و شان و شوکت دیکھی۔ وہ ان سے ڈر گئے اور واپس لوٹے اور اپنی قوم کو یہ حالات ذکر کیے۔ حالانکہ ان کو صیغہ راز میں رکھنے کا حکم تھا۔ انہوں نے عہد توڑ کر ان کو بتادیا۔ صرف کالب بن یوقنا اور یوشع بن نون عہد پر قائم رہے یہ دونوں بھی نقباء میں سے تھے۔ وَقَالَ اللّٰہُ اِنِّیْ مَعَکُمْ (اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں) یعنی تمہارا مددگار اور معاون ہوں۔ قراءت : یہاں وقف ہے کیونکہ آگے جملہ ابتدائیہ ہے۔ جس پر لام داخل ہے۔ جو تمہید قسم کے لئے آتی ہے اور وہ یہ آیت ہے : لَپنْ اَقَمْتُمُ الصَّلٰوۃَ وَ ٰ اتَیْتُمُ الزَّکٰوۃَ (اگر تم نماز ادا کرتے رہے اور زکوٰۃ ادا کرتے رہے) اس سے معلوم ہوا کہ بنی اسرائیل پر بھی زکوٰۃ اور نماز دونوں فرض تھے۔ وَٰامَنْتُمْ بِرُسُلِیْ (اور میرے رسولوں پر ایمان لائے) بغیر اس کے کہ ان کے مابین کسی پر ایمان لانے میں تفریق کرو۔ یعنی ایک کو مانو اور دوسرے کو نہ مانو۔ وَعَزَّرْتُمُوْہُمْ (اور تم نے ان کی تعظیم کی) یا ان کی اس طرح مدد کی کہ ان کے دشمن کا ان سے دفاع کیا۔ العزر لغت میں لوٹانے کو کہتے ہیں۔ محاورہ ہے عزرت فلاناً یعنی میں نے اس کو ادب سکھایا۔ یعنی اس کے ساتھ وہ کام کیا جو اس کو قبائح سے روکنے والا تھا۔ یہ زجاج (رح) کا قول ہے۔ وَاَقْرَضْتُمُ اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا (تم نے اللہ تعالیٰ کو اچھا قرض دیا) یعنی بغیر احسان جتلانے کے۔ بعض نے کہا کہ قرض حسن سے ہر خیر و بھلائی مراد ہے۔ نیک اعمال پر کفارئہ سیئات کا وعدہ : لَّاُکَفِّرَنَّ عَنْکُمْ سَیِّاٰتِکُمْ (تم سے تمہاری غلطیاں مٹادوں گا) لام جواب قسم میں لائی گئی ہے۔ اور یہ جواب دراصل شرط اور جواب قسم دونوں کے قائم مقام ہے۔ وَلَاُدْخِلَنَّکُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ فَمَنْ کَفَرَ بَعْدَ ذٰلِکَ مِنْکُمْ (اور البتہ ضرور داخل کرونگا تم کو ایسے باغات میں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی تم میں سے جو کفر اختیار کرے گا) یعنی اس تاکید والی شرط جو کہ عظیم وعدہ سے متعلق ہے۔ تم میں سے جو کفر اختیار کرے گا۔ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآئَ السَّبِیْلِ (وہ سیدھی راہ سے ہٹ گیا) یعنی اس نے حق کے راستہ سے خطاء کی۔ ہاں جس نے اس سے قبل بھی کفر کیا وہ بھی سیدھی راہ سے ہٹ گیا۔ لیکن اس حالت کے بعد ضلال و گمراہی تو ظاہر اور بڑی ہے۔
Ayah 5:13

فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَ جَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِیَةً١ۚ یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ١ۙ وَ نَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ١ۚ وَ لَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰى خَآئِنَةٍ مِّنْهُمْ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اصْفَحْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 5:13 in the Quran reader

تو ان لوگوں کے عہد توڑ دینے کے سبب ہم نے ان پر لعنت کی اور ان کے دلوں کو سخت کردیا۔ یہ لوگ کلمات (کتاب) کو اپنے مقامات سے بدل دیتے ہیں۔ اور جن باتوں کی ان کو نصیحت کی گئی تھی ان کا بھی ایک حصہ فراموش کر بیٹھے اور تھوڑے آدمیوں کے سوا ہمیشہ تم انکی (ایک نہ ایک) خیانت کی خبر پاتے رہتے ہو۔ تو ان کی خطائیں معاف کردو اور ( ان سے) درگزر کرو کہ خدا احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔

فَبِمَا نَقْضِہِمْ مِّیْثَاقَہُمْ (پس ان کے وعدہ توڑ دینے کی وجہ سے) ما زائدہ ہے۔ معاملے کی عظمت کو بڑھانے کے لئے لایا گیا۔ لَعَنّٰہُمْ (ہم نے انکو ہانک دیا اور اپنی رحمت سے نکال دیا) یا ہم نے اسکو مسخ کردیا یا ان پر جزیہ مقرر کردیا۔ وَجَعَلْنَا قُلُوْبَہُمْ قٰسِیَۃً (اور ہم نے انکے دلوں کو سخت کردیا) قاسیہ کا مطلب ہے ایسے سخت جن میں ذرا رحمت نہ تھی۔ اور نہ نرمی پائی جاتی تھی۔ قراءت : حمزہ اور علی نے اس کو قسیَّۃ پڑھا ہے۔ اس کا معنی ردی ہے۔ جیسا کہتے ہیں درہم قسی۔ ردی درہم۔ دِلوں کی قساوت : یُحَرِّفُوْنَ الْکَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِہٖ (وہ کلمات کو ان کے مقام سے بدلتے ہیں) یعنی ان کی تفسیر اس کے خلاف کرتے ہیں۔ جو اللہ تعالیٰ نے اتاری۔ یہ ان کے دلوں کی سختی کا بیان ہے۔ کیونکہ افتراء علی اللہ سے بڑھ کر اور کونسی سختی ہوسکتی ہے۔ اور اس کی وحی کو تبدیل کرنے سے بڑھ کر اور کیا سختی ہوسکتی ہے۔ وَنَسُوْا حَظًّا (وہ بہت بڑا حصہ اور پورا حصہ بھول گئے) مِّمَّا ذُکِّرُوْا بِہٖ (ان نصائح کا جس کی ان کو نصیحت کی گئی تھی) یعنی تورات سے ان کا اعراض اور ترک در حقیقت بڑے نصیب سے غفلت کرنا ہے یا ان کے دل سخت ہوگئے اور بگڑ گئے پس انہوں نے تورات کو بدل ڈالا اور اپنے حافظہ سے اس کی بہت سی چیزوں سے پھسل گئے۔ گناہ سے علم بھولتا ہے : حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے کبھی تو آدمی علم کا کچھ حصہ گناہ کی وجہ سے بھولتا ہے۔ اور پھر آپ نے دلیل و استشہاد کے لئے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ انہوں نے اپنے نفسوں کا حصہ بھلا دیا۔ جس کا ان کو حکم دیا گیا تھا۔ کہ وہ آپ ﷺ پر ایمان لائیں اور ان کی صفات کی جو وضاحت کی گئی تھی اس کو بھلا دیا۔ وَلَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰی خَآپنَۃٍ مِّنْہُمْ (اور اے محمد ﷺ آپ ان کی کسی نہ کسی خیانت پر اطلاع پاتے رہیں گے) گویا یہ ان کی عادت ثانیہ ہے۔ جس پر ان کے سلف گزرے۔ کہ وہ انبیاء ( علیہ السلام) سے خیانت کرتے تھے۔ اور یہ آپ سے خیانت کرتے ہیں۔ اور آپ ﷺ پر اچانک حملہ آور ہونا چاہتے ہیں۔ عَلٰی خَآپنَۃٍ سے خیانت مراد ہے۔ خائنۃ بمعنی خیانۃ ہے یا مراد ایسا فعل جو خیانت والا ہو۔ یا ایسا نفس جو خیانت والا ہو۔ یا ایسا گروہ جو خیانت والا ہو۔ محاورہ ہے رجل خائنۃٌ۔ جیسا کہ رجل راویۃٌ للشعر کہتے ہیں گویا تا مبالغہ کی ہے، تانیث کی نہیں ہے۔ اِلاَّ قَلِیْلاً مِّنْہُمْ (مگر تھوڑے ان میں سے) اور وہ وہی لوگ ہیں جو ان میں سے ایمان لے آئے۔ فَاعْفُ عَنْہُمْ (آپ ان کو معاف کریں) اس میں ان کی مخالفت پر ابھارا گیا ہے۔ یا ان میں سے جو مومن ہیں ان سے درگزر فرمائیں اور ان سے جو کچھ ہوا اس پر مواخذہ نہ فرمائیں۔ وَاصْفَحْ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ (اور ان سے درگزر فرمائیں۔ بیشک اللہ تعالیٰ مخلصوں کو پسند کرتے ہیں)
Ayah 5:14

وَ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّا نَصٰرٰۤى اَخَذْنَا مِیْثَاقَهُمْ فَنَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ١۪ فَاَغْرَیْنَا بَیْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ سَوْفَ یُنَبِّئُهُمُ اللّٰهُ بِمَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 5:14 in the Quran reader

اور جو لوگ (اپنے تئیں) کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں۔ ہم نے ان سے بھی عہد لیا تھا مگر انہوں نے بھی اس نصیحت کا جو ان کو کی گئی تھی ایک حصہ فراموش کردیا تو ہم نے ان کے باہم قیامت تک کے لئے دشمنی اور کینہ ڈال دیا۔ اور جو کچھ وہ کرتے رہے خدا عنقریب ان کو اس سے آگاہ کرے گا۔

آیت 14 : وَمِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْٓ ا اِنَّا نَصٰرٰٓی اَخَذْنَا مِیْثَاقَہُمْ (اور بعض نصاریٰ نے کہا کہ بیشک ہم نصاری ہیں ہم نے ان سے پختہ عہد لیا) یہاں مِن، اخذنا کے متعلق ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے اخذنا من الذین قالوا انا نصاری میثاقہم۔ میثاق سے مراد ایمان باللہ والرسل اور افعال خیر کا عہد ہے۔ جار مجرور کو فعل سے مقدم کیا گیا ہے اور اس طرح نہیں فرمایا من النصاری کیونکہ انہوں نے یہ نام اللہ تعالیٰ کی مدد کے دعوے دار بن کرلیا تھا۔ اور یہ وہی لوگ تھے جنہوں نے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کو نحن انصار اللہ کہا تھا پھر انہوں نے بعد میں اختلاف کیا اور یعقوبیہ ٗ نسطوریہ اور ملکانیہ۔ شیطان کے انصاری بن گئے۔ فَنَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُکِّرُوْا بِہٖ (پس انہوں نے نصیحت کو جو انہیں کی گئی تھی بھلا دیا) فَاَغْرَیْنَا (پس ہم نے چمٹا دی لازم کردی) یہ غری بالشیٔ سے بنایا گیا ہے جس کا معنی لازم کرنا۔ اور چمٹانا آتا ہے۔ اور الغری اسی سے ہے۔ جو چمٹ جائے۔ بَیْنَہُمُ سے مراد نصاریٰ کے وہ فرقے جو باہمی اختلاف کرنے والے تھے۔ الْعَدَاوَۃَ وَالْبَغْضَآئَ اِلٰی یَومِ الْقِیٰمَۃِ (ان کے درمیان بغض اور عداوت قیامت کے دن تک) ان کی خواہشات کے مختلف ہونے کی وجہ سے وَسَوْفَ یُنَبِّئُہُمُ اللّٰہُ بِمَا کَانُوْا یَصْنَعُوْنَ ( عنقریب اللہ تعالیٰ ان کو متنبہ کرے گا۔ ان کے ان اعمال کے متعلق جو کچھ وہ کرتے تھے) یعنی قیامت کے دن ان کو بدلہ و سزا دے کرمطلع کرے گا جو وہ کرتے تھے۔
Ayah 5:15

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَكُمْ كَثِیْرًا مِّمَّا كُنْتُمْ تُخْفُوْنَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍ١ؕ۬ قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّ كِتٰبٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 5:15 in the Quran reader

اے اہل کتاب تمہارے پاس ہمارے پیغمبر (آخرالزّماں) آگئے ہیں کہ جو کچھ تم کتاب (الہٰی) میں سے چھپاتے تھے وہ اس میں سے بہت کچھ تمہیں کھول کھول کر بتا دیتے ہیں اور تمہارے بہت سے قصور معاف کردیتے ہیں۔ بیشک تمہارے پاس خدا کی طرف سے نور اور روشن کتاب آچکی ہے۔

آیت 15 : یٰٓاَہْلَ الْکِتٰبِ (اے اہل کتاب) یہ یہود و نصاریٰ کو خطاب ہے۔ اور الکتاب جنس ہے اس لیے واحد لائے۔ قَدْ جَآئَ کُمْ رَسُوْلُنَا (تحقیق آیا تمہارے پاس ہمارے رسول) سول سے مراد محمد ﷺ ہیں یُبَیِّنُ لَکُمْ کَثِیْرًا مِّمَّا کُنْتُمْ تُخْفُوْنَ مِنَ الْکِتٰبِ (وہ کھول کھول کر بیان کرتے ہیں تمہارے سامنے وہ بہت سی باتیں جو تم کتاب میں سے چھپاتے تھے) جیسے رسول اللہ ﷺ کی صفات اور حکم رجم وغیرہ۔ وَیَعْفُوْا عَنْ کَثِیْرٍ (اور وہ بہت سے امور سے اعراض کرلیتا ہے) ان میں سے جن کو تم چھپالیتے ہو۔ وہ بیان نہیں کرتے یا تم میں سے بہت سے لوگوں سے درگزر کرتے ہیں مواخذہ نہیں کرتے۔ نور کی مراد : قَدْ جَآئَ کُمْ مِّنَ اللّٰہِ نُوْرٌ وَّکِتٰبٌ مُّبِیْنٌ (تحقیق تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے روشنی اور واضح کتاب آئی) نور سے مراد قرآن مجید ہے کیونکہ وہ شرک و شک کی ظلمتوں کو کھولتا ہے۔ جو حق لوگوں پر میف تھا اس کو واضح کرتا ہے۔ یا اس لئے نور کہا کہ اس کا معجزہ ہونا ظاہر ہے۔ یا نور سے مراد حضرت محمد ﷺ ہیں۔ کیونکہ ہدایت آپ ﷺ سے حاصل کی جاتی ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر آپ کو سراج فرمایا گیا۔
Ayah 5:16

یَّهْدِیْ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهٗ سُبُلَ السَّلٰمِ وَ یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ بِاِذْنِهٖ وَ یَهْدِیْهِمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 5:16 in the Quran reader

جس سے خدا اپنی رضا پر جلنے والوں کو نجات کے راستے دکھاتا ہے اور اپنے حکم سے اندھیرے میں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا ہے اور ان کو سیدھے راستے پر چلاتا ہے

سبل سلام کیا ہے ؟ آیت 16 : یَّہْدِیْ بِہِ اللّٰہُ (اللہ تعالیٰ اس قرآن سے راہنمائی فرماتے ہیں) مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَہٗ (جنہوں نے اس کی رضا مندی کی اتباع کی) جو ان میں سے ایمان لائے۔ سُبُلَ السَّلٰمِ (سلامتی کے راستوں کی طرف) اور عذاب الٰہی سے بچانے والے راستوں کی طرف۔ یا اللہ تعالیٰ کے راستوں کی طرف۔ اس صورت میں السلام اللہ تعالیٰ کا اسم صفت ہے۔ پس السلام سے مراد سلامتی یا اللہ تعالیٰ ۔ وَیُخْرِجُہُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ (اور ان کو وہ اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالتے ہیں) یعنی کفر کے اندھیروں سے نور اسلام کی طرف۔ بِاِذْنِہٖ (اپنے حکم) یعنی ارادہ و توفیق سے۔ وَیَہْدِیْہِمْ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (ان کی راہنمائی صراط مستقیم کی طرف کرتے ہیں)
Ayah 5:17

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ١ؕ قُلْ فَمَنْ یَّمْلِكُ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا اِنْ اَرَادَ اَنْ یُّهْلِكَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ وَ اُمَّهٗ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ؕ وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 5:17 in the Quran reader

جو لوگ اس بات کے قائل ہے کہ عیسیٰ بن مریم خدا ہے تو بیشک کافر ہیں ( ان سے) کہہ دو کہ اگر خدا عیسیٰ بن مریم اور ان کی والدہ کو اور جتنے لوگ زمین میں ہیں سب کو ہلاک کرنا چاہے تو اس کے آگے کس کی پیش چل سکتی ہے ؟ اور آسمان اور اور جو کچھ ان دونوں میں ہیں سب پر خدا ہی کی بادشاہی ہے۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور خدا ہر چیز پر قادر ہے۔

مذہب نصاریٰ آیت 17 : لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الْمسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ (جو لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ عیسیٰ بن مریم اللہ ہیں وہ بیشک کافر ہیں) اس کا مطلب یہ ہے کہ بات کو پختہ کیا کہ بیشک اللہ تعالیٰ وہی مسیح ہے نہ کہ کوئی دوسرا، ایسا کہنے والے پکے کافر ہوگئے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ نصاریٰ میں ایک فرقہ ایسا تھا جو ایسا کہتے تھے۔ یا یہ کہ ان کا مذہب اس حد تک پہنچا دیتا ہے جہاں انہوں نے اعتقاد کیا۔ کہ وہ (مسیح) پیدا کرتے ٗ زندہ کرتے اور مارتے ہیں (اس سے خود لازم آتا ہے کہ جب وہ مسیح میں خدائی صفات مانتے ہیں تو گویا خود ان کو خدا مانتے ہیں۔ خواہ زبان سے نہ کہیں) قُلْ فَمَنْ یَّمْلِکُ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا (ان سے) کہہ دو اگر ایسا ہے تو یہ بتلائو کہ کون شخص ایسا ہے جو اللہ تعالیٰ سے ان کو ذرا بھی بچا سکے) یعنی کون اس کی قدرت اور مشیت سے ذرہ بھر بھی روک سکتا ہے۔ (یعنی کوئی روک نہیں سکتا۔ ) حادث لقب ربوبیت کا مستحق نہیں : اِنْ اَرَادَ اَنْ یُّہْلِکَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ وَ اُمَّہٗ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا (اگر اللہ تعالیٰ حضرت مسیح ابن مریم کو اور ان کی والدہ کو اور جتنے زمین میں ہیں ان سب کو ہلاک کرنا چاہیں) یعنی اگر وہ ہلاک کرنے کا ارادہ فرمائیں کہ جس مسیح اور اس کی والدہ کو وہ الٰہ کہتے ہیں مطلب یہ ہوا کہ مسیح ایک مخلوق بندہ ہے دوسرے بندوں کی طرح۔ آیت میں ومن فی الارض جمیعاً کا مسیح اور امّہ پر عطف یہ ظاہر کرنے کی خاطر ہے کہ یہ دونوں ان کی جنس سے ہیں۔ ان کے اور ان کے مابین کچھ فرق نہیں۔ معنی یہ ہے کہ جس میں امومیت والا رحم جس کو اپنے اندر رکھنے والا ہو۔ اس سے نقص بشریت کیسے جدا ہوسکتا ہے ؟ اور جس پر حدوث کے شواہد روشن ہوں وہ ربوبیت کے لقب کا کب حق دار ہے۔ اور اگر وہ تمام موجودات سے صفت بقاء کو چھین لے تو اس کی حمدیت میں ذرہ بھر بھی نقص نہیں آئے گا۔ وَلِلّٰہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَہُمَا یَخْلُقُ مَایَشَآئُ (اور اللہ تعالیٰ ہی کیلئے خاص ہے حکومت آسمانوں پر اور زمین پر اور جتنی چیزیں ان دونوں کے درمیان ہیں اور وہ جس چیز کو چاہیں پیدا کردیں) یعنی مذکر بنائے یا مؤنث اور وہ تو مؤنث سے بغیر مرد کے پیدا کرتا ہے۔ جیسا کہ عیسیٰ ( علیہ السلام) کو بنایا۔ اور مذکر سے بغیر مؤنث کے پیدا کرتا ہے۔ جیسا کہ حو ّا ( علیہ السلام) کو آدم ( علیہ السلام) سے بنایا۔ اور بغیر مذکر اور مؤنث سے بناتا ہے جیسا آدم ( علیہ السلام) کو پیدا فرمایا۔ یا جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ جیسا کہ پرندوں کو بطور معجزہ عیسیٰ کے ہاتھ سے پیدا فرمایا۔ اس پر کوئی اعتراض کی مجال نہیں۔ کیوں کہ وہ جو چاہے کر گزرنے والا ہے۔ وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ (اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتے ہیں)