Ayah 5:47آیت 47 : وَلْیَحْکُمْ اَہْلُ الْاِنْجِیْلِ بِمَآ اَنْزَل اللّٰہُ فِیْہِ (اور انجیل والوں کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ اس میں نازل فرمایا ہے اسکے موافق حکم کیا کریں) ہم نے انکو کہا کہ تم اسکے حکم کے موافق فیصلہ کرو۔ لیحکم میں لام امر ہے اور اصل میں مکسور ہے۔
قراءت : حمزہ نے لام کے کسرہ اور میم کے فتح کے ساتھ پڑھا ہے اس بناء پر کہ یہ لام کَیْ ہے تقدیر عبارت یہ ہوئی۔ وقفینا لیؤمنوا ولیحکم ہم نے ان کے پیچھے بھیجاتا کہ وہ ایمان لائیں۔ اور تاکہ وہ فیصلہ کریں۔ وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓپکَ ہُمُ الْفٰسِقُوْنَ (اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے نازل کئے ہوئے کے موافق حکم نہ کرے تو ایسے لوگ بالکل نافرمانی کرنے والے ہیں) فاسق کا معنی اطاعت سے نکلنے والا۔
ظالم ‘ فاسق ‘ کافر کی وضاحت :
شیخ ابو منصور (رح) نے فرمایا۔ کہ تینوں میں شدید انکار پر محمول کیا جائے۔ پس وہ کافر ٗ ظالم ٗ فاسق ہوگا۔ کیونکہ مطلق فاسق اور مطلق ظالم تو کافر ہی ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ جس نے بھی بما انزل اللّٰہ کے مطابق فصلہل نہ کیا وہ اللہ تعالیٰ کی نعمت کا منکر ہے اور اس کے حکم میں ظلم و زیادتی کرنے والا اور اپنے قول میں شرع سے نکلنے والا ہے۔
Ayah 5:48آیت 48 : وَاَنْزَلْنآ اِلَیْکَ الْکِتٰبَ (اور ہم نے آپ کی طرف کتاب اتاری) یعنی قرآن کو اتارا ہے الکتاب میں الف لام عہد خارجی کئےِ ہے بِالْحَقِّ (حق کے سبب) اور اس کے اثبات کی وجہ سے اور درست کو خطاء سے واضح کرنے کے لئے مُصَدِّقًا (تصدیق کرتی ہے) یہ کتاب سے حال ہے۔
بین یدیہ کا استعمال :
لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ (اس سے پہلے جو ہیں) بین یدیہ سے مراد جو اس سے پہلے اتری ہے اور جو کسی چز سے قبل ہوتی ہے اس کو بین یدی کہہ دیتے ہیں کیونکہ جو کسی چیز سے مؤخر ہو اس کو خلف و وراء بولتے ہیں پس جو اس سے پہلے ہوتی تو وہ قدام اور بین یدی کہلائے گی مِنَ الْکِتٰبِ (کتابیں) یہاں کتاب سے مراد جنس کتب منزلہ ہیں کیونکہ قرآن مجید تمام کتابوں کا مصدق ہے پس حرف تعریف اس میں جنس کے لیے ہے اور تصدیق کتب کا مطلب یہ ہے توحید و عبادت میں موافقت جیسا کہ اس آیت میں ہے وما ارسلنا من قبلک من رسول الا نوحی الیہ انہ لا الٰہ الا انا فاعبدون۔ الانبیائ 25۔ وَمُہَیْمِنًا عَلَیْہِ (اور اس پر نگہبان ہے) شاہد ہے کیونکہ وہ اس کی صحت و ثبات کی گواہی دیتا ہے۔
قرآن پر فیصلہ کے حکم کے بعد فاتبع کا فائدہ :
فَاحْکُمْ بَیْنَہُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ (پس تم ان کے درمیان بما انزل اللّٰہ کے مطابق فیصلہ کرو) بما انزل اللہ سے مراد قرآن ہے۔ وَلَا تَتَّبِعْ اَہْوَآئَ ہُمْ عَمَّا جَآئَ کَ مِنَ الْحَقِّ (اور ان کی خواہشات کی اتباع نہ کرو۔ اس کو چھوڑ کر جو آپ کے پاس حق آچکا) اس میں ان کی تحریفات کے مطابق فیصلہ کرنے سے منع کیا اور جو انہوں نے بدلا تھا ان کی بات پر اعتماد کر کے اور لا تتبع اپنے اندر لا تنحرف کا معنی بھی رکھتا ہے۔ اس لیے تو اس کو عن سے متعدی کیا گیا گویا اس طرح فرمایا کہ لا تنحرف عما جاءک من الحق متبعًا اہو ائہم آپ اس حق سے جو آپ کے پاس آچکا انحراف نہ کریں۔ ان کی خواہشات کی اتباع کرتے ہوئے یا پھر تقدیر عبارت یہ ہو عادلا عما جاءک اس سے عدول کرتے ہوئے جو آپ کے پاس آچکا۔ لِکُلٍّ جَعَلْنَا مِنْکُمْ ہر ایک کے لئے تم میں سے اے لوگو ہم نے بنائی شِرْعَۃً (ایک شریعت) وَّمِنْہَاجًا (اور واضح طریق) ۔
شرائع فاسق کا حکم :
اس آیت سے ان لوگوں نے دلیل پیش کی جو کہتے ہیں کہ ہم سے قبل شرائع ہمارے لئے قابل عمل نہیں۔ کذا فی البیضاوی۔ مگر اس کا جواب یہ ہے کہ جو احکام عام ہیں اور ان کے نسخ کا اعلان ہماری شریعت نہیں کرتی بلکہ نقل کردیتی ہے اس پر عمل بوجہ عموم ہم پر بھی لازم ہے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ( علیہ السلام) پر تورات اتارنے کا ذکر کیا اور پھر عیسیٰ ( علیہ السلام) پر انجیل اتارنے کا ذکر کیا۔ پھر حضرت محمد ﷺ پر قرآن مجید اتارنے کا ذکر کیا۔ اور واضح کردیا کہ فقط اس کا سننا ہی کافی نہیں۔ بلکہ اس کے مطابق فیصلہ کرنے کا حکم ہے۔ چناچہ شروع میں فرمایا یحکم بہا النبیون اور ثانی میں فرمایا ولیحکم اہل الانجیل اور تیسرے میں فرمایا فاحکم بینہم بما انزل اللّٰہ۔ وَلَوْشَآئَ اللّٰہُ لَجَعَلَکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً (اور اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا تو تم سب کو ایک ہی امت میں کردیتے) یعنی ایک متفق جماعت جو ایک ہی شریعت پر ہو۔ وَّلٰکِنْ لیکن اس نے ارادہ فرمایا۔ لِّیَبْلُوَکُمْ (تاکہ تم سب کا امتحان کرلے) تاکہ تمہارے ساتھ آزمائش کرنے والا معاملہ کریفِیْ مَآ ٰاتٰکُمْ (اس میں جو تمہیں مختلف شرائع ملی ہیں) پس ہر امت عبادت کرے جو حکمت تقاضا کرے۔
بھلائی فوت ہونے سے پہلے اپنائو :
فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ (تو مفید باتوں کی طرف دوڑو) تم بھلائی کے ماحول میں بڑھ کر حصہ لو۔ اس میں جلدی کرو اور ان کو فوت ہونے سے قبل انجام دو ۔ الخیرات سے مراد ہر وہ کام جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے۔ اِلَی اللّٰہِ مَرْجِعُکُمْ (تم نے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹنا ہے) یہ جملہ مستانفہ ہے استباق خیرات کی علت کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ جَمِیْعًا یہ ضمیر کم جو کہ مجرور ہے، اس سے حال ہے اور اس کا عامل مصدر مضاف ہے کیونکہ وہ مصدر الیہ ترجعون کے حکم میں ہے۔ فَیُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ فِیْہِ تَخْتَلِفُوْنَ (پھر وہ تم سب کو جتلا دے گا جس میں تم اختلاف کرتے تھے) اور وہ مطلع فرمائیں گے جس کے ہوتے ہوئے تم اس جزا میں سامنا کرسکو گے۔ جو سچے اور جھوٹے عامل اور عمل میں کوتاہی کرنے والے کے درمیان فرق کرنے والی ہے۔
Ayah 5:49فتنہ پردازوں سے محتاط رہیں :
آیت 49 : وَاَنِ احْکُمْ (اور آپ فیصلہ فرمائیں) یہ بالحق پر معطوف ہے یعنی و انزلنا الیک الکتاب بالحق وبان احکم اور ہم نے تمہاری طرف کتاب کو حق کے ساتھ اتارا اور اس کے ساتھ اتارا کہ تم ان کے درمیان فیصلہ کرو۔ بَیْنَہُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ وَلَا تَتَّبِعْ اَہْوَآئَ ہُمْ وَاحْذَرْہُمْ اَنْ یَّفْتِنُوْکَ (ان کے مابین اس بھیجی ہوئی کتاب کے موافق جو اللہ تعالیٰ نے اتاری۔ اور ان کی خواہشات پر عمل نہ کریں اور محتاط رہیں ان کے فتنہ میں مبتلا کرنے سے) یفتنوک کا معنی وہ تمہیں پھیر دیں یہ مفعول لہ ہے یعنی مخافۃ ان یفتنوک اس خطرے کے پیش نظر کہ وہ آپ کو فتنے میں نہ ڈال دیں۔
فائدہ : اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو ان سے محتاط کیا حالانکہ رسول ﷺ مامون و محفوظ ہیں۔ یہود کی طمع کو ختم کرنے کے لئے عَنْم بَعْضِ مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ اِلَیْکَ فَاِنْ تَوَلَّوْا (کسی حکم کے متعلق جو اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف نازل فرمایا ہے۔ پھر اگر یہ لوگ اعراض کریں) اگر وہ بما انزل اللہ کے مطابق فیصلہ سے منہ موڑیں اور بات کا ارادہ کریں۔
بعض گناہ شدید مہلک :
فَاعْلَمْ اَنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ اَنْ یُّصِیْبَہُمْ بِبَعْضِ ذُنُوْبِہِمْ (تو یقین کرلیں کہ اللہ تعالیٰ ہی کو منظور ہے کہ ان کے بعض جرموں پر ان کو سزا دیں) ذنوب سے مرد اللہ تعالیٰ کے حکم سے منہ موڑنے کا گناہ اور اس کی مخالفت کا ارادہ کرنے کا گناہ پس یہاں بعض ذنوبہم کو اس جگہ لائے۔ یہ ابہام منہ موڑنے کی بڑائی ظاہر کرنے کے لئے ہے اور گناہ کا بڑا ہونا معلوم ہو اور یہ کہ بعض گناہ انتہائی ہلاک کن ہیں تو تمام گناہوں کا کیا حال ہوگا۔ وَاِنَّ کَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ لَفٰسِقُوْنَ (بہت لوگ اللہ تعالیٰ کے حکم سے نکلنے والے ہیں)
Ayah 5:50تمام کفر ایک ملّت ہے :
آیت 50 : اَفَحُکْمَ الْجَاہِلِیَّۃِ یَبْغُوْنَ (یہ لوگ کیا زمانہ جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں) یبغون یہ یطلبون کے معنی میں ہے۔
قراءت : شامی نے تبغون پڑھا ہے اس میں بنی نضیر کو خطاب کیا گیا کیونکہ وہ بنو قریظہ پر اپنی فضیلت جتلاتے تھے حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو فرمایا القتلی سوائ۔ مقتول برابر ہیں تو بنی نضیر کہنے لگے ہم اس پر رضا مند نہیں اس پر یہ آیت اتری حضرت طائوس (رح) سے پوچھا گیا کہ اگر کوئی آدمی اپنے بعض لڑکوں کو بعض پر فضیلت دے (تقسمر وغیرہ میں) تو انہوں نے یہ آیت پڑھی۔
نحوی تحقیق :
نحو : یبغون کی وجہ سے افحکم الجاہلیۃ منصوب ہے۔ وَمَنْ اَحْسَنُ (اور کون اچھا ہوگا) یہ مبتداء اور خبر ہے یہ
استفہام ہے جو نفی کے معنی میں ہے تقدیر عبارت یہ ہے لا احدٌ احسن۔ مِنَ اللّٰہِ حُکْمًا (اللہ تعالیٰ سے فیصلہ میں) یہ تمیز ہے۔ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ (یقین رکھنے والے لوگوں کیلئے) اس میں لام بیانیہ ہے جیسا کہ ہیت لک۔ سورة یوسف آیت 23 میں لام۔ یعنی یہ خطاب اور استفہام یقین کرنے والی قوم کے لئے ہے۔ اس لئے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو کہ واضح کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی عدل والا نہیں اور نہ اس سے بہتر کوئی حکم دینے والا ہے ابوعلی نے کہا کہ لام۔ یہاں عند کے معنی میں ہے کیونکہ یہ دونوں قریب المعنی ہیں۔
Ayah 5:51قرآن فقط سننا کافی نہیں اس پر عمل لازم ہے :
آیت 51 : دین کے دشمنوں سے موالات کی ممانعت اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی۔ یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْٓا لَا تَتَّخِذُوا الْیَہُوْدَ وَالنَّصٰرٰٓی اَوْلِیَآئَ (اے ایمان والو ! تم یہود و نصاریٰ کو دوست مت بنائو) ان کو دوست نہ بنائو کہ تم ان کے مددگار و معاون ہو۔ اور ان سے نصرت و معاونت طلب کرنے والے اور ان سے مواخات اور ایمان والوں جیسا میل جول اختیار کرنے والے ہو۔ پھر نہی کی وجہ اس ارشاد سے بتلائی بَعْضُہُمْ اَوْلِیَآئُ بَعْضٍ ( کہ وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں) اور سارے مل کر ایمان والوں کے دشمن ہیں اس میں دلیل ہے کہ تمام کفار ملت واحدہ ہیں۔ وَمَنْ یَّتَوَلَّہُمْ مِّنْکُمْ فَاِنَّہٗ مِنْہُمْ (جو ان سے دوستی اختیار کرنے والا ہے وہ انہیں میں سے ہے) اور اس کا حکم انہی جیسا ہے یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے سختی کی گئی ہے اور دین کے مخالفین سے علیحدگی اختیار کرنے کو انتہائی ضروری و لازم قرار دیا گیا۔ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ (ان ظالموں کی اللہ تعالیٰ راہنمائی نہیں فرماتے) جو کفار سے دوستی کر کے اپنے نفوس پر ظلم کرچکے ہوتے ہیں۔
Ayah 5:52منافق موالات کفار میں تیز ہیں :
آیت 52 : فَتَرَی الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ (تم ان کے دلوں میں نفاق کی بیماری دیکھو گے) یُّسَارِعُوْنَ (جلدی کرنے والے ہیں) نحو : یہ حال یا مفعول دوم ہے کیونکہ تَرٰی سے آنکھ سے دیکھنا بھی مراد ہوسکتا ہے اور دل سے دیکھنا بھی۔ فِیْہِمْ ان میں یعنی ان کفار کی مسلمانوں کے خلاف معاونت میں اور موالات میں جلدی کرنے والے ہیں۔ یَقُوْلُوْنَ وہ اپنے نفسوں میں کہتے ہیں یہ دل میں کہنا اس لئے مراد لیا کیونکہ علی ما اسروا اسی آیت کے آخر میں آرہا ہے ما اسروا قول نفس ہی ہے۔ نَخْشٰٓی اَنْ تُصِیْبَنَا دَآپرَۃٌ (ہمیں خطرہ ہے کہ کوئی حادثہ حالات کو گھما دے جس پر وہ ہیں) فَعَسَی اللّٰہُ اَنْ یَّاْتِیَ بِالْفَتْحِ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فتح دے دے اپنے رسول ﷺ کو ان کے دشمنوں پر اور ایمان والوں کو غلبہ دے دے۔ اَوْ اَمْرٍ مِّنْ عِنْدِہٖ یا وہ نبی ﷺ کو منافقین کے اسرار ظاہر کرنے کا حکم دے اور ان کے قتل کا آرڈر دے دے۔ فَیُصْبِحُوْا پھر منافق اس پر عَلٰی مَآ اَسَرُّوْا فِیْٓ اَنْفُسِہِمْ جو اپنے دلوں میں نفاق چھپائے ہوئے ہیں۔ نٰدِمِیْنَشرمندہ ہونے والے ہیں یہ فتصبحوا کی خبر ہے۔
Ayah 5:53منافقین کی بدحالی :
آیت 53 : وَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْٓا یعنی ایمان والے۔ اس وقت ایک دوسرے کو کہیں گے۔
قراءت : بصری نے ان یاتی پر عطف کے طور پر یقول پڑھا ہے اور شامی اور حجازی نے یقول کو وائو کے بغیر پڑھا ہے اسی لئے کہ کہنے والے کا جواب ہے کہ مومن اس وقت کیا کہیں گے۔ تو جواب دیا یقول الذین ٰامنوا ایمان والے اس وقت یہ کہیں گے۔ اَہٰٓؤُلَآئِ الَّذِیْنَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰہِ جَہْدَ اَیْمَانِہِمْ اِنَّہُمْ لََمَعَکُمْ (یعنی وہ پکی قسمیں کھاتے ہیں کہ وہ تمہارے دوست ہیں اور کفار کے خلاف تمہارے معاون ہیں)
نحو : جہد ایمانہم یہ مصدر ہے جو حال کے معنی میں ہے۔ یعنی وہ اس حال میں کہ وہ تمہاری قسموں کی پختگی میں خوب کوشش کرنے والے ہیں۔ حَبِطَتْ اَعْمَالُہُمْ (ان کے وہ اعمال ضائع ہوگئے) جو انہوں نے ریا کاری اور شہرت کی خاطر کیے۔ یقین و وعدہ کی بنیاد پر نہیں کیے تھے اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انکے اعمال حبط ہونے کی شہادت ہے اور انکی بری حالت پر تعجب کا اظہار کیا گیا ہے فَاَصْبَحُوْا خٰسِرِیْنَ وہ دنیا و آخرت میں اعانت کے فوت ہونے اور دائمی سزا کی وجہ سے نقصان میں پڑگئے۔
Ayah 5:54قتال مرتدین کی پیشینگوئی خلافت شیخین ؓ کی حقانیت :
یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْٓا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْکُمْ عَنْ دِیْنِہٖ ۔ (جو تم میں سے دین اسلام سے اسی کفر کی طرف پھر جائیگا جس پر وہ پہلے تھا۔ )
قراءت : مدنی اور شامی نے یرتدد پڑھا ہے۔ فَسَوْفَ یَاْتِی اللّٰہُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّہُمْ وَیُحِبُّوْنََہٗ محبت سے مراد ان کے اعمال سے راضی ہونا اور ان کے ان اعمال پر ان کی تعریف کرنا ہے یحبونہ سے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنا اور اس کی رضا مندی کو ہر چیز پر ترجحا دینا ہے اس میں حضور ( علیہ السلام) کی نبوت کی دلیل ہے کہ آپ ﷺ نے ان کو اس چیز کی اطلاع دی جو ہوا نہ تھا وہ ہو کر رہا۔ نیز خلافت صدیقی کا ثبوت ہے۔ کیونکہ انہوں نے مرتدین سے جہاد کیا۔ اور ان کی خلافت کے برحق ہونے اور خلافت فاروقی ؓ کی حقانیت کی دلیل ہے۔ نبی اکرم ﷺ سے ان کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ ﷺ نے حضرت سلمان ؓ کے کندھے پر ہاتھ مارا اور فرمایا کہ اس کے ساتھ والے اگر ایمان ثریا میں معلق ہو تو ابنائے فارس اس کو پالیں گے اور جزاء کی ضمیر اس اسم کی طرف لوٹ رہی ہے جو شرط محذوف کے معنی میں متضمن ہے۔ مطلب یہ ہے کہ عنقریب ان کی جگہ ایک قوم لائیں گے جو اَذِلَّۃٍ یہ ذلیل کی جمع ہے۔ رہا لفظ ذلولٌ اس کی جمع ذللٌآتی ہے۔ جن لوگوں نے اس کو الذل سے کہا ہے جو کہ صعوبت بمعنی مشکل کی ضد ہے ان سے بھول ہوئی ہے کیونکہ ذلول کی جمع اذلۃ نہیں آتی۔ بقول جوہری الذل یہ العز عزت کے بالمقابل ہے کہتے ہیں رجل ذلیل جس کی ذلت واضح ہوچکے ٗ کہا جاتا ہے۔ قوم اذلاء و اذلہ۔ الذل کسرئہ ذال کے ساتھ نرمی کو کہتے ہیں اور یہ صعوبۃ کی ضد ہے۔ جیسے کہتے ہیں دابۃ ذلولٌ و دواب ذلل (مصنف۔ بیضاوی کا قول نقل کیا مگر صاحب قاموس نے لکھا ہے کہ ذلیل کی جمع ذلال اور اذلاء اور اذلۃ اور ذلول کی جمع ذلل اور اذِلۃ ہے پس اذلۃ ذلیل اور ذلول دونوں کی جمع ہے دراصل دونوں لفظ قریب المعنی ہیں۔ (فتدبر) عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَیہاں للمؤمنین نہیں فرمایا کیونکہ ذلل کا لفظ مہربانی و شفقت کو متضمن ہے گویا اس طرح فرمایا عاطفین علی وجہ التذلل والتواضع وہ ان پر تواضع و عاجزی کے طور پر شفقت کرنے والے ہیں۔ اَعِزَّۃٍ عَلَی الْکٰفِرِیْنَکافروں پر سخت ہیں۔ العزاز : ا صل میں سخت زمین کو کہا جاتا ہے پس وہ ایمان والوں کے ساتھ تو اس طرح سلوک کرنے والے ہیں۔ جیسا والد اپنے بیٹے پر اور آقا اپنے غلام پر اور کافروں کے ساتھ جیسے چیتا اپنے شکار پر جھپٹتا ہے۔ یُجَاہِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وہ کفار سے لڑائی کرنے والے ہیں۔ یہ بھی اسی طرح قوم کی صفت ہے جیسے یحبہم اور اعزۃ اور اذلۃ۔ وَلَا یَخَافُوْنَ لَوْمَۃَ لَآپمٍ وائو اس میں ممکن ہے حالیہ ہو یعنی وہ جہاد کرتے ہیں اور ان کا حال جہاد میں منافقین سے الگ ہے۔ اس لئے کہ وہ یہود کے ساتھ دوستی کرنے والے ہیں۔ جب وہ ایمان والوں کے ساتھ جہاد میں نکلتے ہیں۔ تو یہودی دوستوں کا اسی طرح خیال رکھتے ہیں کہ کوئی ایسا عمل نہیں کرتے جس میں خدشہ ہو کہ یہود کی طرف سے ان کو ملامت پہنچے گی۔ رہے مومن ان کا جہاد فقط اللہ تعالیٰ کی خاطر ہے جس میں وہ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خیال نہیں کرتے یا وائو ممکن ہے کہ عطف کے لئے ہو پھر مطلب یہ ہوگا ان کی خصوصیت جہاد فی سبیل اللہ ہے اور وہ اپنے دین میں مضبوط ہیں۔ جبکہ وہ دین کے کاموں میں سے کوئی کام شروع کرتے ہیں تو کسی ملامت کرنے والے کی ملامت ان کو روک نہیں سکتی۔ اللومۃ ایک مرتبہ ملامت کرنا۔ اس لفظ کو نکرہ اور ایک مرتبہ لانے سے مبالغہ مقصود ہے گویا اس طرح کہا گیا وہ کبھی ذرہ بھر ملامتوں میں سے کسی ملامت سے نہیں ڈرتے۔ ذٰلِکَکا مشارٌ الہی قوم کے جو اوصاف بیان ہوئے وہ ہیں جیسے اللہ تعالیٰ کی محبت ٗ عاجزی ٗ سختی ٗ مجاہدہ ٗ ملامت کے خوف کی نفی۔ ذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُ (یہ اللہ کا فضل ہے وہ دیتا ہے جس کو چاہتا ہے) وَاللّٰہُ وَاسِعٌ (بہت زیادہ فضل والے ہیں) عَلِیْمٌ (اس کو جاننے والے ہیں) جو اس فضل کا حق دار ہے۔
Ayah 5:55ولایت کے حقدار لوگ :
آیت 55 : جن لوگوں سے دشمنی لازم ہے ان کی موالات سے ممانعت کرنے کے بعد ان کا تذکرہ کیا جن سے موالات لازم ہے۔ فرمایا۔ اِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ انما کا کلمہ ظاہر کر رہا ہے کہ موالات کے ساتھ یہ لوگ خاص ہیں۔ الولی کا لفظ جمع نہیں لائے۔ کیونکہ جس سے موالات کا حکم دیا وہ ایک جماعت ہے اس بات پر متنبہ کرنے کیلئے کہ اصل ولایت اللہ ہی کی ہے دوسروں کی ولایت و دوستی تو تبعاً ہے۔ اگر اس طرح کہا جاتا انما اولیاؤکم اللّٰہ ورسولہ تو کلام میں اصل و تبع کوئی نہ بنتا۔ : وَالَّذِیْنَ ٰامَنُوا الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ محلاً مرفوع ہے کیونکہ یہ الذین سے بدل ہے۔ یا ہم الذین سے مرفوع ہے یا منصوب ہے مدح کی وجہ سے وَیُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَاس کی وائو اور وَہُمْ رَاکِعُوْنَ کی وائو حالیہ ہے یعنی وہ زکوٰۃ ادا کرتے ہیں جبکہ وہ نماز میں رکوع کی حالت میں ہوتے ہیں۔ بعض نے کہا کہ یہ حضرت علی ؓ کے متعلق اتری ان سے ایک سائل نے سوال کیا جبکہ وہ اپنی نماز میں حالت رکوع میں تھے۔ آپ نے اپنی انگوٹھی اس کی طرف پھینک دی گویا وہ خنصر کے متعلق بےتاب تھے۔ پس انہوں نے اس کے اتارنے میں عمل کثیر نہیں کیا جس سے نماز فاسد ہو۔ (مگر باہر کی بات سن کر جوابی عمل سے نماز کیسے قائم رہتی ہے فافہم روایت خود محتاج ثبوت ہے مجہول الاسناد روایت ہے) جمع کا لفظ لایا گیا اگرچہ سبب ایک ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ ان کے فعل کی اتباع کریں۔ تاکہ ان جیسا ثواب حاصل ہو۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں صدقہ درست ہے اور فعل قلیل مفسد نماز نہیں ہے۔
Ayah 5:56آیت 56 : وَمَنْ یَّتَوَلَّ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَالَّذِیْنَ ٰامَنُوْٓا یتولّی کا معنی دوست بنانا۔ یا دوست ہونا۔ فَاِنَّ حِزْبَ اللّٰہِ ہُمُ الْغٰلِبُوْنَ ظاہر کو ضمیر کی جگہ لایا گیا ہے۔ یعنی فانہم ہم الغالبون کی بجائے ان حزب اللّٰہ فرمایا۔ یا حزب سے رسول اللہ ﷺ اور مومن مراد ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جس نے ان سے دوستی اختیار کی تو اس نے اللہ کے لشکر سے دوستی کی۔ اور اس سے بھائی بندی کرلی جو مغلوب نہیں ہوتا۔ الحزب کا معنی کسی پیش آنے والے کام کے لئے جو لوگ جمع ہوتے ہیں۔
Ayah 5:57موالاتِ کفار سے ممانعت :
آیت 57 : روایت میں ہے کہ رفاعہ بن یزید اور سوید بن الحارث نے کھلے طور پر اسلام قبول کیا۔ پھر منافقت اختیار کی۔ بعض مسلمانوں کی ان سے دوستی تھی تو یہ آیت اتری۔ یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْٓا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَکُمْ ہُزُوًا وَّ لَعِبًایعنی وہ تمہارے دین کا مذاق اڑاتے ہیں اور تماشہ بناتے ہیں۔ اور تم ان سے دوستی اختیار کرتے ہو۔ یہ کہاں تک درست ہے وہ تو اس قابل ہیں کہ ان کا سامنا بغض اور علیحدگی سے کیا جائے۔ مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَیہ من بیانیہ ہے۔ مِنْ قَبْلِکُمْ وَالْکُفَّارَپہلے کفار سے مراد مشرکین ہیں۔ اس کا عطف الذین پر ہے۔ جو کہ منصوب ہے۔
قراءت : بصری ٗ علی نے الکفارِ پڑھا ہے۔ اور الذین مجرور پر اس کا عطف قرار دیا۔ مطلب اس طرح ہے کہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی۔ اور کفار میں سے۔ اَوْلِیَآئَ وَاتَّقُوا اللّٰہَ ۔ تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو کفار سے موالات کے سلسلے میں اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَاگر تم سچے مومن ہو۔ کیونکہ سچا ایمان دشمنان دین کے ساتھ موالات سے روکتا ہے۔
Ayah 5:58اذان دلالت النص سے ثابت ہے :
آیت 58 : وَاِذَا نَادَیْتُمْ اِلَی الصَّلٰوۃِ اتَّخَذُوْہَا وہ نماز یا اذان کا مذاق اڑاتے ہیں۔ ہُزُوًا وَّلَعِبًا ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ قَوْمٌ لاَّیَعْقِلُوْنَ کیونکہ ان کا استہزاء اور کھیل بنانا یہ بیوقوف اور جہلاء کے افعال میں سے ہے۔ گویا یہ لوگ عقل سے خالی ہیں۔
فائدہ : اس آیت میں دلیل ہے کہ اذان کتاب کی نص سے ثابت ہے۔
Ayah 5:59کیا اللہ پر ایمان باعث انتقام شے ہے :
آیت 59 : قُلْ یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الْکِتٰبِ ہَلْ تَنْقِمُوْنَ مِنَّآ اِلَّآ اَنْ ٰامَنَّا بِاللّٰہِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَمآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلُ یعنی کیا تم ہمارا یہی عیب نکالتے اور ہماری اس بات کو عجیب قرار دیتے ہو۔ کہ ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے ہیں ا۔ اور تمام نازل شدہ کتابوں کو ہم نے مانا ہے ؟ وَاَنَّ اَکْثَرَکُمْ فٰسِقُوْنَاس کا عطف مجرور پر ہے تقدیر عبارت یہ ہے ماتنقمون منّاالا الایمان باللّٰہ وما انزل وبان اکثرکم فاسقون۔ مطلب یہ ہے کہ کیا تم ہم سے اس لئے دشمنی کرتے ہو کیونکہ ہمارا اعتقاد اللہ تعالیٰ کی توحید ٗ انبیاء کی صداقت پر ہے اور تمہارا فسق ان باتوں میں ہماری مخالفت کی بنیاد پر ہے ؟ اور یہ بھی درست ہے کہ وائو مع کے معنی میں ہو۔ مطلب یہ ہوگا تم ہم سے انتقام نہیں لیتے مگر صرف اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کا۔ حالانکہ تمہاری اکثریت فاسقوں کی ہے۔
Ayah 5:60سزا کا حقدار وہ جو ملعون ہے :
آیت 60 : قُلْ ہَلْ اُنَبِّئُکُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِکَ مَثُوْبَۃً عِنْدَ اللّٰہِ مثوبۃ کا معنی ثواب ہے۔ اور یہ تمییز کی وجہ سے منصوب ہے۔ اگرچہ ثواب احسان کے ساتھ خاص ہے۔ لیکن اس کو عقوبت کے لئے بھی استعمال کیا گیا ہے۔ جیسا فرمایا فبشرہم بعذاب الیم (آل عمران۔ آیت 21) کہ بشارت کو عذاب کے سلسلے میں بطور استہزاء استعمال کیا گیا ہے۔ یہود کا گمان تھا کہ مسلمان سزا پائیں گے تو ان کو جواباً کہا گیا۔ مَنْ لَّعَنَہُ اللّٰہُ جس پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہو وہ حقیقت میں سزا کا زیادہ مستحق ہے اس سزا کا جو تمہارے خیال کے مطابق اہل ایمان کو ملے گی۔ ذٰلِکَیہ ماقبل کی طرف اشارہ ہے یعنی ایسے ایمان سے زیادہ برابدلے کے لحاظ سے جس پر تم ناراض ہوتے ہو مضاف کا حذف من سے پہلے یا بعد ضروری ہے تقدیر عبارت یہ ہے بشر من اہل ذالک یا دین من لعنہ اللّٰہ اس سے بھی زیادہ برا وہ ہے جو اس لعنت والا ہے یا اس کا دین برا ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی۔ وَ غَضِبَ عَلَیْہِ وَجَعَلَ مِنْہُمُ الْقِرَدَۃَ وَالْخَنَازِیْرَالقردہ بندر بننے والے اصحاب سبت تھے۔ جبکہ خنازیر اہل مائدہ جو عیسیٰ ( علیہ السلام) کے زمانے میں کافر ہوئے وہ تھے یا دونوں مسخ اصحاب سبت ہی کو پیش آئے۔ ان کے نوجوان بندر بنا دیئے گئے اور بوڑھے خنازیر بنا دیئے گئے۔ وَعَبَدَ الطَّاغُوْتَ الطاغوت سے یہاں بچھڑا مراد ہے یا شیطان کیونکہ بچھڑے کی عبادت شیطانی تزیین سے تھی۔ اور اس کا عطف بھی منکے صلہ پر ہے۔ گویا عبارت اس طرح ہے۔ ومن عبدالطاغوت اور وہ جنہوں نے شیطان کی عبادت کی۔
قراءت : حمزہ نے عَبُدَ الطاغوت پڑھا ہے اس کو اسم قرار دیا ہے جو مبالغہ کے لئے وضع کیا گیا۔ جیسے کہتے ہیں : رجل حذر وفطن وہ آدمی جو انتہائی محتاط اور فطین ہے۔ اس کا عطف القردہ اور خنازیر پر ہے یعنی جعل اللّٰہ منہم عبدالطاغوت اللہ تعالیٰ نے ان میں شیطان کے پیروکار بنا دیئے۔ اُولٰٓپکَ مسخ شدہ ٗ ملعون شَرٌّ مَّکَانًا مکان کے لحاظ سے بدترین ہیں۔ یہاں شرارت کے لئے مکان ثابت کیا گیا۔ اس سے اہل شرارت کے لئے مبالغہ مقصود ہے۔ وَّ اَضَلُّ عَنْ سَوَآئِ السَّبِیْلِ وہ سیدھے راستے سے جو جنت کی طرف جانے والا ہے۔ بہت زیادہ دور ہٹنے والے ہیں۔
Ayah 5:61منافقانہ اسلام :
آیت 61 : یہ آیت یہود کے اس گروہ کے متعلق اتری جو آپ ﷺ کے پاس داخل ہوتا تومنافقت سے اسلام کا اظہار کرتا۔ وَاِذَا جَآئُ وْکُمْ قَالُوْٓا ٰامَنَّا وَقَدْدَّ خَلُوْا بِالْکُفْرِوَہُمْ قَدْ خَرَجُوْا بِہٖ باحال کے لیے ہے مطلب یہ ہے وہ داخل ہوئے اس حال میں کہ وہ کافر تھے اور وہ نکل کر گئے تو اس حال میں کہ وہ کافر تھے۔ تقدیر عبارت ملتبسین بالکفر ہے کہ وہ داخل ہوئے اور نکلتے ہوئے متلبس بالکفر تھے اسی لئے قد ماضی پر لایا گیا۔ تاکہ اس کو حال کے قریب کیا جاسکے۔ یہ قالوا ٰامنا سے متعلق ہے۔ کہ کہتے زبان سے وہ ہیں اور حالت ان کی یہ ہے۔ وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا کَانُوْا یَکْتُمُوْنَ ۔ اور اللہ جانتا ہے جو نفاق وہ چھپاتے ہیں۔
Ayah 5:62قبائح یہود :
آیت 62 : وَتَرٰی کَثِیْرًا مِّنْہُمْ منہم سے مراد یہود ہیں۔ یُسَارِعُوْنَ فِی الْاِثْمِاثم سے مراد یہاں جھوٹ ہے۔ وَالْعُدْوَانِظلم یا گناہ جو ان کے ساتھ خاص ہو۔ عدوان وہ گناہ جو ان سے دوسروں کی طرف تجاوز کر جائے۔ المسارعۃ فی الشیٔ جلدی سے کسی چیز کو کر گزرنا۔ وَاَکْلِہِمُ السُّحْتَ سخت حرام کو کہتے ہیں۔ لَبِئْسَ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَالبتہ وہ بہت بری چیز ہے جو انہوں نے اختیار کی ہے۔
Ayah 5:63سب سے سخت آیت :
آیت 63 : لَوْلَا یہ حرف تحضیض ہے بمعنی کیوں نہیں۔ یَنْہٰہُمُ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِہِمُ الْاِثْمَ وَاَکْلِہِمُ السُّحْتَ
لَبِئْسَ مَا کَانُوْا یَصْنَعُوْنَاس میں علماء کی مذمت فرمائی گئی ہے۔ جبکہ پہلی آیت عام لوگوں کے لئے ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ یہ قرآن مجید میں سب سے زیادہ سخت آیت ہے اس لئے کہ نہی عن المنکرکے چھوڑنے والے کو منکرات کے مرتکب کے درجہ میں رکھ کر وعید سنائی گئی ہے۔
Ayah 5:64بخیل کہہ کر اللہ کی توہین کا مرتکب یہودی :
آیت 64 : وَقَالَتِ الْیَہُوْدُ یَدُ اللّٰہِ مَغْلُوْلَۃٌ غُلَّتْ اَیْدِیْہِمْ وَلُعِنُوْا بِمَا قَالُوْا بَلْ یَدٰہُ مَبْسُوْطَتٰنِروایت میں ہے کہ یہودیوں نے آپ ﷺ کی توہین کی تو اللہ تعالیٰ نے جو ان پر وسعت کی تھی روک دی اور یہود سب سے زیادہ مالدار تھے۔ اس پر فخاص یہودی نے کہا ید اللہ مغلولۃ کہ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ بندھا ہوا ہے۔ اس کی اس بات کو باقی یہود نے پسند کیا۔ اور اس کے ساتھ شرکت کی۔ غل الید و بسط الید یہ بخل و سخاوت سے مجاز ہیں جیسا دوسرے مقام پر فرمایا ولا تجعل یدک مغلولۃ الی عنقک ولا تبسطہا کل البسط (الاسرائ۔ 29) اس سے متکلم کا مقصد ہاتھ کا ثابت کرنا نہیں ہوتا۔ اور نہ باندھا جانا اور کھلنا مقصود ہوتا ہے۔ بلکہ اس کو اس بادشاہ کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔ جو اشارہ سے دیتا ہے اور روکتا ہے اور اگر کندھے تک ہاتھ کٹنے والا کثیر عطیہ دے تو کہتے ہیں ما ابسط یدہ بالنوال اس کا ہاتھ عطیہ میں کتنا کھلا ہے (حالانکہ اس کا ظاہری ہاتھ تو کٹا ہوا ہے) اور ایسے مقام پر بھی استعمال ہوا۔ جہاں ہاتھ درست نہیں۔ کہا جاتا ہے بسط البأس کفیہ فی صدری کہ خوف نے میری دونوں ہتھیلیاں میرے سینے میں کھول دیں۔ جو کہ ایک معنوی چیز ہے۔ دو ہتھیلیاں ثابت کیں۔ جو شخص علم باہن سے واقف نہ ہو وہ اس جیسی آیات کی تاویل میں حیران رہ جاتا ہے۔ غُلَّتْ اَیْدِیْہِمْ یہ ان کے متعلق بخل کی بددعا ہے اسی وجہ سے یہود مخلوق خدا میں سب سے زیادہ بخیل ہیں۔ یا دوسری تفسیر یہ ہے کہ جہنم میں ان کو طوق پہنائے جائیں گے۔ پس گویا وہ ابھی سے بیڑیوں والے بن گئے۔
دونوں ہاتھ کا ذکر تردید بلیغ کیلئے :
سوال : یداللّٰہ مغلولۃ میں ایک ہاتھ کا ذکر کیا گیا تھا مگر بل یداہ مبسوطتان میں دو کا ذکر کیا گیا۔
جواب : تاکہ ان کے قول کی تردید انتہائی بلیغ انداز میں ہوجائے۔ اور جود و سخائے باری تعالیٰ میں زیادہ سے زیادہ دلالت کرے۔ اور اس کی ذات سے پورے طور پر بخل کی نفی ہوجائے پس سخی اپنی سخاوت میں دونوں ہاتھوں سے سخاوت کرتا ہے۔ یُنْفِقُ کَیْفَ یَشَآئُ جیسے چاہتا ہے خرچ کرتا ہے اس میں سخاوت کے وصف کی تاکید کی گئی۔ اور اس بات پر دلالت ہے کہ وہ جو بھی خرچ فرماتے ہیں وہ حکمت کا مقتضا ہے۔ وَلَیَزِیْدَنَّ کَثِیْرًا مِّنْہُمْ ہم سے مراد یہود ہیں۔ مَّآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ طُغْیَانًا وَّکُفْرًایعنی حسد کی وجہ سے جب قرآن نازل ہوتا ہے تو ان کا انکار شدت اختیار کرلیتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی آیات سے انکار ترقی کرلیتا ہے۔ اس آیت میں فعل کی اضافت سبب کی طرف کی گئی جیسا کہ اس آیت میں ہے فزادتہم رجساً الی رجسہم ( التوبۃ۔ 125)
یہود اسلام کو مٹانے کے لئے کوشاں ہیں :
وَاَلْقَیْنَا بَیْنَہُمُ الْعَدَاوَۃَ وَالْبَغْضَآئَ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ ان کی بات ہمیشہ مختلف اور ان کے دل منتشر ہوتے ہیں۔ ان کے درمیان اتفاق اور موافقت نہیں ہوتی۔ کُلَّمَآ اَوْقَدُوْا نَارًا لِّلْحَرْبِ اَطْفَاَہَا اللّٰہُجب کبھی وہ کسی سے جنگ کا ارادہ کرتے ہیں تو مغلوب و مقہور کردیئے جاتے ہیں۔ اور ان کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی مدد قائم نہیں ہوتی۔ جب اسلام آیا تو وہ اس وقت مجوسیوں کی حکومت کے ماتحت تھے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ جب بھی وہ رسول اللہ ﷺ سے جنگ کرتے ہیں تو مغلوب ہوجاتے ہیں۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ تم کسی شہر میں جس یہودی کو پائو گے وہ لوگوں میں سب سے زیادہ ذلیل وخسیس ہوگا۔ وَیَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًاوہ اسلام کو شکست دینے کے لئے کوشاں ہیں۔ اور آپ ﷺ کا تذکرہ اپنی کتابوں سے مٹانے کے لئے دن رات سرگرداں ہیں۔ وَاللّٰہُ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ اور اللہ تعالیٰ مفسدوں کو نہیں چاہتے۔
Ayah 5:65ایمان وتقویٰ سے سب گناہ دھل سکتے ہیں :
آیت 65 : وَلَوْ اَنَّ اَہْلَ الْکِتٰبِ ٰامَنُوْٓا اگر اہل کتاب رسول اللہ ﷺ پر ایمان لے آئیں اور جو کچھ آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے لائے ہیں۔ اس کو مان لیں باوجود ان تمام برائیوں کے جو ہم نے شمار کی ہیں۔ وَاتَّقَوْا اور اپنے ایمان کو تقویٰ سے ملاتے لَکَفَّرْنَا عَنْہُمْ سَیِّاٰتِہِمْتو ان کی برائیوں پر مواخذہ نہ کرتے وَلَاَدْ خَلْنٰہُمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِاور ان کو نعمتوں والے باغات میں مسلمانوں کے ساتھ داخل کرتے۔
Ayah 5:66وَلَوْ اَنَّہُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰۃَ وَالْاِنْجِیْلَاور اگر وہ تورات و انجیل کے احکام کو قائم کرتے اور ان کی حدود کی پابندی کرتے اور اس میں جو رسول اللہ ﷺ کی تعریف ہے اس کو تھامتے۔ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَیْہِمْ مِّنْ رَّبِّہِمْاور تمام منزلہ کتب کو تھامتے کیونکہ ان کو ان تمام کتابوں پر ایمان لانے کا مکلف بنایا گیا تھا گویا وہ خود انہی کی طرف اتری تھیں۔ بعض نے کہا کہ ما انزل سے مراد قرآن پاک ہے لَاَکَلُوْا مِنْ فَوْقِہِمْتو وہ پھل کھاتے اپنے سروں کے اوپر سے۔ وَمِنْ تَحْتِ اَرْجُلِہِمْکھیتیاں پائوں کے نیچے سے۔ یہ دراصل وسعت کی دلیل ہے جیسے کہتے ہیں فلان فی النعمۃ مما فوقہ الی قدمہ یعنی وہ کشائش رزق و خوشحالی میں ہے اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت وسعت رزق کا سبب ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وَلَـوْ اَنَّ اَہْلَ الْقُرٰٓی ٰامَنُوْٓا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْہِمْ بَرَکٰتٍ مِّنَ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ (الاعراف : 96) ایک اور آیت میں فرمایا : وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا وَّیَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ 1 [ الطلاق۔ 2‘ 3] سورة نوح میں فرمایا : فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ اِنَّہٗ کَانَ غَفَّارًا [ نوح : 10] ۔ وما بعدہا من الاٰیات سورة جن میں فرمایا : وَّاَنْ لَّوِ اسْتَقَامُوْا عَلَی الطَّرِیْقَۃِ لَاَسْقَیْنٰہُمْ مَّآئً غَدَقًا (الجن : 16) مِنْہُمْ اُمَّۃٌ مُّقْتَصِدَۃٌ۔ ان میں سے ایک میانہ رو جماعت ہے جو عداوت رسول اللہ ﷺ میں میانہ روی اختیار کرنے والی ہے ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ مومن گروہ ہے جو عبداللہ بن سلام ؓ اور ان کے ساتھیوں پر مشتمل تھا۔ اور اڑتالیس 48 عیسائی بھی ان کے ساتھ تھے۔ وَکَثِیْرٌ مِّنْہُمْ سَآئَ مَا یَعْمَلُوْنَاس میں تعجب کا معنی ہے گویا اس طرح فرمایا۔ کہ ان کی اکثریت کا عمل کس قدر برا ہے دوسرا قول یہ بھی ہے کہ اس سے کعب بن اشرف اور اس کی پارٹی والے مراد ہیں۔
Ayah 5:67بےخطر ہو کر اللہ کا پیغام پہنچائیں :
آیت 67 : یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ ما انزل سے مراد وہ تمام جو آپ کی طرف اتارا گیا۔ اور جو آپ کی طرف اتار دی گئی ہے اس کو دوسری طرف پہنچانے میں کسی کی حفاظت کی ضرورت نہیں۔ اور نہ کسی خطرہ کی ضرورت ہے۔ کہ آپ کو اس سلسلے میں تکلیف پہنچے گی۔ وَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْاگر وہ تمام آپ نے نہ پہنچایا جیسا میں نے آپ کو حکم دیا ہے۔ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہٗ تو آپ نے اس وقت نہ پہنچایا اس چیز کو جس کا آپ کو ادائے رسالت کے سلسلے میں مکلف بنایا گیا اور آپ نے گویا اس میں سے کوئی چیز کبھی بھی ادا نہیں کی اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا بعض حصہ ادائیگی میں دوسرے سے افضل واولیٰ نہیں (بلکہ سب یکساں ہیں) تو جب بعض کو ادا نہیں کیا تو گویا تمام کی ادائیگی میں غفلت برتی۔ اس کی مثال اس طرح ہے جیسا کہ جو آدمی اس کے بعض حصہ پر ایمان نہیں رکھتا ہے تو وہ اس شخص کی طرح ہے جو تمام پر ایمان نہیں رکھتا۔ کیونکہ تمام وحی ایک ہی حکم میں ہے۔ کیونکہ وہ ساری ایک خطاب میں داخل ہے۔ اور ایک چیز پہنچائی ہوئی نہ پہنچائی ہوئی نہیں بن سکتی اس پر ایمان والا بھی ہو اور ایمان نہ لانے والا بھی ہو۔
ملحدین کا قول :
یہ کلام بےفائدہ ہے۔ یہ کلام اس طرح ہے جیسے تم اپنے غلام کو کہو کل ہذا الطعام فان لم تاکلہ فانک ما اکلتہٗ یہ کھانا کھائو اگر تو نے نہ کھایا تو گویا تو نے اس میں سے کچھ نہ کھایا۔
پیغام پہنچانے کا مطلب :
جواب : یہ مستقبل میں پیغام رسالت کے پہنچانے کا حکم ہے یعنی تم مستقبل میں اس چیز کو پہنچائو جو آپ کی طرف اتاری گئی آپ ﷺ کے رب کی طرف سے اگر آپ نے مستقبل میں نہ پہنچایا تو گویا آپ نے رسالت کو بالکل نہیں پہنچایا۔ دوسرا قول یہ ہے اگر تم نے نہ پہنچایا تو آپ اس شخص کی طرح ہیں جس نے بالکل نہ پہنچایا۔ تیسرا قول یہ ہے آپ اس پیغام کو پہنچائیں کسی کا خوف کئے بغیر۔ اگر آپ نے اس وصف کے ساتھ نہ پہنچایا تو گویا آپ نے رسالت کو بالکل نہیں پہنچایا۔ پھر آپ کو حوصلہ دلانے کے لئے فرمایا۔ وَاللّٰہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِاللہ تعالیٰ قتل سے آپ کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ وہ اس پر قدرت نہ پائیں گے۔ اگرچہ آپ ﷺ کا چہرہ مبارک احد کے دن زخمی ہوا اور آپ کا نچلا سامنے والا دایاں دانت شہید ہوا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ آیات ان تکالیف کے پہنچنے کے بعد اتریں۔ الناس سے مراد کفار ہیں۔ اس کی دلیل یہ ارشاد خداوندی ہے۔ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہْدِی الْقَوْمَ الْکٰفِرِیْنَ یعنی ان کے لئے ممکن نہ ہوسکے گا۔ جن کا وہ آپ کی ہلاکت کے سلسلے میں ارادہ باندھ رہے ہیں۔
Ayah 5:68یہود جب تک تورات پر نہ چلیں تو وہ کسی دین پر نہیں ہیں :
آیت 68: قُلْ یٰٓـاَ ۔ ہْلَ الْکِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰی شَیْئٍتم کسی دین پر نہیں جو کسی شمار میں ہو۔ کہ اس کا نام چیز رکھا جاسکے۔ کیونکہ وہ باطل ہے (اس قابل نہیں کہ اس کو دین تو کجا ‘ شے کا نام بھی دے سکیں) حَتّٰی تُقِیْمُوا التَّوْرٰۃَ وَالْاِنْجِیْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ مِّنْ رَّبِّکُمْ وما انزل الیکم سے مراد قرآن ہے۔ وَلَیَزِیْدَنَّ کَثِیْرًا مِّنْہُمْ مَّآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ طُغْیَانًا وَّکُفْرًا اس میں قرآن کی طرف اضافت طغیان وکفر کے اضافے کی بطور سببیت کے ہے (کیونکہ وہ قرآن سن کر کفر و سرکشی میں پختہ ہوتے ہیں تو گویا بڑھانے کا سبب ہے) فَـلَا تَاْسَ عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَپس آپ ان پر افسوس نہ کریں۔ اس کا نقصان ان کی طرف لوٹے گا آپ کی طرف نہیں۔
Ayah 5:69آیت 69 : اِنَّ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْٓا بیشک جو لوگ ایمان لائے اپنی زبانوں سے حالانکہ وہ منافق ہیں۔ اور اس زبانی ایمان پر دوسری آیت دلالت کر رہی ہے۔ ولا یحزنک الذین یسارعون فی الکفر من الذین قالوا ٰامنا بافواہہم ولم تؤمن قلوبہم۔ وَالَّذِیْنَ ہَادُوْا وَالصّٰبِئُوْنَ وَالنَّصٰرٰی اور وہ لوگ جو یہودی اور صابی اور نصاریٰ ہوئے۔ سیبویہ کہتے ہیں کہ الصابئونکا رفع ابتداء کی وجہ سے ہے اور اس کی خبر محذوف ہے۔ اور مقصد اس سے یہ ہے ان اور جو اس کے متعلق اسم و خبر ہے اس سے یہ مؤخر ہے گویا عبارت اس طرح ہے ان الذین ٰامنوا والذین ہادوا والنصاری مَنْ ٰامَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَاہُمْ یَحْزَنُوْنَ والصابئون کذلک۔ مطلب یہ ہے کہ من ٰامن باللّٰہ والیوم الٰاخر فلا خوف علیہم کو مقدم کیا اور الصابئون کی خبر حذف کردی۔ جیسا کہ اس شعر میں فمن یک امسٰی بالمدینۃ رحلہ۔ فاننی و قیّارٌ بہا لغریبٌ مطلب یہ ہے فانی غریبٌ و قیارٌ کذالک غریبٌ۔ لغریبٌکی لام دلالت کرتی ہے کہ یہ اِنَّ کی خبر ہے۔ ان اور اس کے اسم کے محل پر عطف کی وجہ سے مرفوع نہیں ہوسکتا۔ تم اس طرح نہیں کہہ سکتے۔ ان زیدًا و عمروا منطلقان البتہ یہ بلاشبہ جائز ہے ان زیدًا منطلق و عمرو۔
پس والصابئون اپنی محذوف خبر کے ساتھ جملہ معطوفہ ہے۔ جملہ ان الذین ٰامنوا الخ۔ اور اس کا کوئی محل اعراب نہیں ہے۔ جیسا کہ اس جملے کا کوئی محل اعراب نہیں جس پر اس کا عطف ہے۔
ایک سوال کا جواب :
سوال : یہ ہے کہ اس کو مقدم کیوں کیا ؟
جواب : یہ ہے کہ اس بات پر متنبہ کرنا مقصود ہے۔ کہ صائب لوگوں کی توبہ قبول کرلی جائے گی اگر وہ صحیح طریقہ سے ایمان لے آئیں۔ حالانکہ وہ ان تمام سے بڑھ کر گمراہ ہیں تو پھر ان کے علاوہ کی توبہ کے بارے میں تیرا کیا گمان ہے ؟ مَنْ ٰامَنَ یہ مبتداء کی وجہ سے مرفوع ہے۔ اور اس کی خبر فلا خوف علیہم ہے۔ اور خبر پر فا اس لئے لائی گئی کیونکہ مبتداء میں شرط کا معنی پایا جاتا ہے۔ پھر یہ مکمل جملہ جس طرح اِنَّکی خبر ہے اور ضمیر جو اِنَّ کے اسم کی طرف لوٹتی ہے وہ محذوف ہے تقدیر عبارت اس طرح من ٰامن منہم۔
Ayah 5:70آیت 70 : لَقَدْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ ہم نے بنی اسرائیل سے توحید کا وعدہ لیا۔ وَاَرْسَلْنَآ اِلَیْہِمْ رُسُلاً ان کی طرف رسول بھیجے تاکہ وہ ان کو ان چیزوں پر جو انہوں نے کرنی ہیں اور جو چھوڑنی ہیں ان کو واقف کرا سکیں۔ کُلَّمَا جَآئَ ہُمْ رَسُوْلٌم یہ جملہ شرطیہ ہے اور رسلاً کی صفت کے طور پر لائے اور ضمیر محذوف ہے تقدیر عبارت یہ ہے رسول منہم۔ رسول ان میں سے بِمَا لَا تَہْوٰٓی اَنْفُسُہُمْجو کام ان کی خواہشات کے مخالف تھا اور شہوات سے متضاد تھا۔ جیسے سخت تکالیف اور شرائع پر عمل۔ جواب شرط محذوف ہے جس پر فَرِیْقًا کَذَّبُوْا وَفَرِیْقًا یَّقْتُلُوْنَ دلالت کر رہا ہے گویا اس طرح کہا گیا کلما جاء ہم رسول منہم ناصبوہ کہ جب بھی کوئی رسول ان کے پاس ان میں سے آیا تو انہوں نے اس کی مخالفت کی۔ فَرِیْقًا کَذَّبُوْا۔
ایک سوال کا جواب :
جواب : یہ جملہ مستانفہ ہے جو قائل کے قول کا جواب ہے کہ انہوں نے اپنے رسولوں کے ساتھ کیا سلوک کیا ؟ تو جواب دیا وہ قتل کرتے رہے۔ ماضی کی حالت کو مضارع سے تعبیر کیا۔ ان کے قتل کی شناعت کو بیان کرنے کے لئے۔ اور اس بات پر خبر دار کرنے کے لئے کہ قتل ان کی عادت ِثانیہ بن چکی تھی۔ فریقًا اور وفریقًا دونوں منصوب ہیں۔ اس لئے کہ یہ کذبوا کے مفعول ہیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ تکذیب یہود و نصاریٰ میں مشترک پائی جاتی تھی۔ مگر قتل والا فعل یہود کے ساتھ خاص تھا۔ انہوں نے حضرت زکریّا ویحییٰ (علیہما السلام) کو قتل کیا۔
Ayah 5:71بنی اسرائیل کا شدید اندھا پن کہ قتل انبیاء جیسے جرم پر عذاب نہ ہونے کا یقین کرلیا :
آیت 71 : وَحَسِبُوْٓا اَلاَّ تَکُوْنَ ۔ قراءت : حمزہ اور علی اور ابوعمرو نے کہا ہے کہ یہ اَنْ مخففہ من المثقلہ ہے اس کی اصل انہ لا تکون ہے پس انّ کو أن تخفیف سے بدل دیا۔ اور ضمیر شان کو حذف کردیا حسبان کو بمنزلہ علم کے رکھا گیا۔ کیونکہ وہ گمان ان کے دلوں میں نہایت پختہ تھا۔ اس وجہ سے حسبان کے فعل کو ان جو تحقیق کے لئے آتا ہے ‘ اس پر داخل کیا گیا۔ فِتْنَۃٌبلاء و عذاب مطلب یہ ہے کہ بنو اسرائیل نے گمان کیا کہ ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے قتل انبیاء پر کوئی عذاب نہیں دیا جائے گا۔ اسی طرح تکذیب رسل پر ان کو سزا نہ ملے گی۔ اور انّ اور اَن کے صلہ کو جو کہ مسند اور مسند الیہ ہے حسب کے دو مفعولوں کی جگہ رکھ دیا۔ فَعَمُوْا وَصَمُّوْاوہ اندھے اور بہرے ہوگئے۔ پس انہوں نے جو دیکھا اس پر عمل نہ کیا۔ اور جو سنا اس پر نہ چلے دوسرا قول یہ ہے وہ سیدھے راستے سے اندھے ہوگئے اور وعظ و نصیحت سے بہرے ہوگئے۔ ثُمَّ تَابَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ پھر اللہ نے ان کو توبہ کی توفیق دی۔ ثُمَّ عَمُوْا وَصَمُّوْا کَثِیْرٌ مِّنْہُمْمگر پھر وہ اندھے اور بہرے ہوگئے۔ اکثر ان میں سے۔ نحو : یہ ضمیر سے بدل ہے یعنی وائو سے اور یہ بدل البعض ہے یا مبتداء محذوف کی خبر ہے۔ یعنی اولٰئک کثیر منہم ایسے ان میں بہت ہیں۔ وَاللّٰہُ بَصِیْرٌم بِمَا یَعْمَلُوْنَ اللہ تعالیٰ کو ان کے اعمال معلوم ہیں۔ پس وہ ان کو ان کے اعمال کے مطابق بدلہ دے گا۔
Ayah 5:72عیسیٰ ( علیہ السلام) نے اپنے اور ان کے مربوب ہونے میں فرق نہیں کیا :
آیت 72 : لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ وَقَالَ الْمَسِیْحُ یٰبَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ اعْبُدُوا اللّٰہَ رَبِّیْ وَرَبَّکُمْ حضرت عیسیٰ نے اپنے اور ان کے درمیان اس بات میں کوئی فرق نہیں کیا۔ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مربوب بندے ہیں تاکہ یہ نصاریٰ کے خلاف دلیل بن جائے۔ اِنَّہٗ مَنْ یُّشْرِکْ بِاللّٰہِ بیشک جو شخص اس کی عبادت میں غیر اللہ کو شریک کرے گا۔ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت کو حرام کردیا۔ کیونکہ وہ موحدین کا گھر ہے۔ یین اس میں ان کا داخلہ حرام ہے اور اس سے ان کو روک دیا۔ وَمَأوٰٹہُ النَّارُ ان کا ٹھکانا آگ ہے۔ وَمَا لِلظّٰلِمِیْنَظالم سے کافر مراد ہیں۔ مِنْ اَنْصَارٍکوئی مددگار نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے (یعنی ادخال الٰہی) یہ عیسیٰ ( علیہ السلام) کے کلام کا حصہ ہے۔
Ayah 5:73الوہیت عیسیٰ کا عقیدہ بہرحال کفر ہے :
آیت 73 : لَقَدْ کَفَرَالَّذِیْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰہَ ثَالِثُ ثَلٰثَۃٍ تینوں الہٰوں میں تیسرا ہے۔
اشکال کا جواب :
ایک اشکال : اللہ تعالیٰ نے پہلی آیت میں فرمایا : لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ 1 (المائدہ : 17) اور دوسری آیت میں لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْٓ ا اِنَّ اللّٰہَ ثَالِثُ ثَلٰثَۃٍ دونوں آیتوں کا مفہوم مختلف معلوم ہوتا ہے۔ جواب : بعض نصاریٰ کہتے ہیں کہ مسیح بعینہٖ اللہ ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ بعض اوقات کسی شخص پر تجلی ڈالتے ہیں۔ پس وہ اس وقت عیسیٰ کی صورت میں روشن ہوتا ہے۔ اسی لئے تو عیسیٰ کی شخصیت سے ایسے افعال ہوتے ہیں۔ جن پر اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی قدرت نہیں رکھتا اور دوسرا گروہ نصاریٰ اس طرف گیا کہ الٰہ تین ہیں۔ اللہ ٗ مریم ٗ اور مسیح۔ اور یہ مسیح اللہ تعالیٰ کا بیٹا ہے مریم سے (معاذ اللہ) وَمَا مِنْ اِلٰہٍ اِلاَّ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ میں من استغراق کے لئے ہے۔ کہ کوئی کبھی بھی وجود میں نہیں آیا مگر وہ الٰہ جو وحد انیت سے موصوف سے۔ اور اس کا کوئی ثانی نہیں۔ اور وہ وحدہٗ لاشریک ہے اور اس ارشاد میں۔ وَاِنْ لَّمْ یَنْتَہُوْا عَمَّا یَقُوْلُوْنَ لَیَمَسَّنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْہُمْ میں اس کی وضاحت کے لئے ہے جو فاجتنبوا الرجس من الاوثان (حج آیت 30) میں ہے یہاں لیمسنہم نہیں فرمایا۔ بلکہ مضمر کی بجائے ظاہر کو لاکر ان کے متعلق کفر کی گواہی کو مزید پختہ کردیا۔ یا من تبعیض کے لئے ہے یعنی ضرور ان لوگوں کو عذاب چھوئے گا۔ جو ان میں سے کفر پر باقی رہیں گے۔ کیونکہ بہت سے ان میں سے نصرانیت سے تائب ہوگئے۔ عَذَابٌ اَلِیْمٌ ان کے لئے عذاب کی شدید قسم ہوگی۔
Ayah 5:74اصرار کفر پر تعجب :
آیت 74 : اَفَلَا یَتُوْبُوْنَ اِلَی اللّٰہِ وَیَسْتَغْفِرُوْنَہٗ وہ کیوں توبہ نہیں کرتے اس کے بعد کہ ان کے متعلق کفر پر دوہری گواہی مل چکی۔ در حقیقت یہ سخت وعید ہے۔ ان کی اس حالت پر جس پر وہ تھے۔ اور اس میں ان کے اپنے کفر پر اصرار کرنے پر تعجب کیا گیا۔ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌاللہ تعالیٰ ان لوگوں کو توبہ کرنے پر بخش دیں گے۔ اور دوسروں کو بھی۔
Ayah 5:75آیت 75 : مَاالْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ اِلاَّ رَسُوْلٌ اس میں مسیح (علیہ السلام) سے الوہیت کی نفی ہے۔ قَدْخَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ ان سے پہلے رسول گزرے۔ یہ رسول کی صفت ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ وہ نہیں ہیں مگر ایک رسول ان رسولوں کی جنس سے جو اس سے پہلے ہو گزرے۔ اور باقی رہا ان کا اندھے اور ابرص کو درست کرنا اور مردوں کو زندہ کرنا۔ وہ خود ان کی اپنی جانب سے نہ تھا۔
مسیح رسول ہیں ان کے معجزات اللہ جل شانہ کی طرف سے ہیں :
کیونکہ وہ خود معبود نہ تھے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ پر اندھوں کو ڑھیوں کو درست کیا اور مردوں کو زندہ کیا۔ جیسا کہ لاٹھی کو زندہ کر کے موسیٰ کے ہاتھ پر دوڑتا ہوا سانپ بنادیا گیا۔ اور بغیر باپ کے ان کی پیدائش وہ آدم ( علیہ السلام) کی طرح ہے۔ جن کو بغیر ماں باپ کے پیدا کیا گیا۔ وَاُمُّہٗ صِدِّیْقَۃٌیعنی ان کی ماں ایک عورت ہی تھی۔ جو دوسری عورتوں کی طرح انبیاء کی تصدیق کرنے والی اور ان پر ایمان لانے والی تھی۔
صدیقہ کی وجہ ان کو صدیقہ اس لئے فرمایا کیونکہ دوسرے مقام پر فرمایا۔ و صدّقت بکلمات ربہا و کتبہ (التحریم۔ آیت 12) پھر ان کو اللہ تعالیٰ نے اس (معبودیت والی) بات سے دور قرار دیتے ہوئے فرمایا :
بطلان الوہیت مسیح کی عام عقلی دلیل :
کَانَا یَاْکُلٰنِ الطَّعَامَ کہ وہ دونوں کھانا کھاتے تھے۔ کیونکہ جو کھانے سے غذا کا محتاج ہے اور پھر جو کھانے کے بعد ہضم اور ان کا فضلہ بنا کر پھینکنا وہ اس جسم کا کام ہے جو گوشت اور ہڈیوں اور اعصاب و عروق وغیر ذلک سب چیزوں پر مشتمل ہے۔ جو اس بات پر کھلی دلالت ہے کہ وہ بنائے گئے اور مختلف چیزوں کا مجموعہ ہیں۔ جیسا کہ دوسرے اجسام۔ اُنْظُرْ کَیْفَ نُبَیِّنُ لَہُمُ الْاٰیٰتِ غور تو فرمائیں کہ ہم کس طرح کھول کر آیات بیان کر رہے ہیں۔ یعنی ان کے قول کے باطل ہونے پر ظاہر دلائل دے رہے ہیں۔ ثُمَّ انْظُرْ اَنّٰی یُؤْفَکُوْنَ پھر دیکھو اس حق کے سننے سے کس طرح پھرتے ہیں۔ اور اس پر غور سے کس طرح ہٹتے ہیں۔ اس میں ان پر تعجب کا اظہار کیا گیا۔ کہ وہ رب اور مربوب کے درمیان فرق کرنے سے بھی گئے گزرے ہیں۔