Ayah 5:18آیت 18 : وَقَالَتِ الْیَہُوْدُ وَالنَّصٰرٰی نَحْنُ اَبْنٰٓؤُا اللّٰہِ وَاَحِبَّـآؤُہٗ (کہا یہود اور نصاریٰ نے ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں) یعنی اس کے ہاں اسی طرح معزز ہیں جیسے بیٹا باپ کے ہاں یا اللہ تعالیٰ کے بیٹوں مسیح وعزیر کے حمایتی ہیں۔ جاس کہ عبداللہ بن زبیر ابو خبیب کے پیروکاروں کو الخبیبیون کہا جاتا ہے۔ اور جیسا کہ مسیلمہ کذاب کا گروپ کہتا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ابناء ہیں اور بادشاہ کے اقارب اور خدام کہا کرتے ہیں کہ : نحن ابناء الملوک۔
یا مضاف محذوف ہے نحن ابناء رسل اللہ۔ قُلْ فَلِمَ یُعَذِّبُکُمْ بِذُنُوْبِکُمْ (کہہ دیں کہ پھر وہ تمہیں تمہارے گناہوں کے بدلے سزا کیوں دیتے ہیں) یعنی اگر یہ صحیح ہے کہ تم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہو تو پھر تمہارے گناہوں کی پاداش میں تمہیں مسخ اور کچھ دنوں آگ کا عذاب بقول تمہارے کیوں دیا جائے گا۔ کیا باپ اپنے بیٹے کو مسخ کرتا ہے ؟ کیا والد اپنے بیٹے کو آگ کا عذاب دیتا ہے۔ پھر ان کی تردید کرتے ہوئے فرمایا۔ بَلْ اَنْتُمْ بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَ (بلکہ تم دوسرے آدمیوں کی طرح آدمی ہو) اس کی جملہ مخلوقات میں سے۔ نہ یہ کہ تم اس کے بیٹے ہو۔
یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآئُ (وہ جس کو چاہیں گے بخش دیں گے) جو کہ کفر سے تائب ہوجائے گا۔ محض اپنے فضل سے۔ وَیُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآئُ ( اور جس کو چاہیں گے عذاب دیں گے) جو کہ کفر پر مرگیا۔ بطور عدل کے وَلِلّٰہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَہُمَا وَاِلَیْہِ الْمَصِیْرُ (اور اللہ تعالیٰ ہی کی ملکیت ہے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ اس کے مابین ہے۔ اور اسی ہی کی طرف لوٹنا ہے) اس میں متنبہ کردیا کہ مسیح عبد ہیں کیونکہ مملوک اور بیٹا ہونا باہم منافی ہے۔ (بیٹا مملوک نہیں ہوسکتا)
Ayah 5:19فترت رسل کا زمانہ :
آیت 19 : یٰٓاَہْلَ الْکِتٰبِ قَدْ جَآئَ کُمْ رَسُوْلُنَا (اے اہل کتاب تحقیق تمہارے پاس ہمارے رسول آئے) یعنی محمد ﷺ یُبَیِّنُ لَکُمْ (وہ کھول کھول کر یعنی احکام بیان کرتے ہیں) الشرائع کو ظاہر ہونے کی وجہ سے حذف کردیا۔ یا وہ چیز مراد ہے جن کو تم چھپاتے ہو۔ اور اس کو حذف کیا کیونکہ پہلے گزر چکا۔ یا مبین کو مقدر مانا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ وہ تمہارے سامنے اظہار کر رہے ہیں۔ عَلٰی فَتْرَۃٍ مِّنَ الرُّسُلِ (انقطاع رسل کے زمانہ میں) یہ جاء کم سے متعلق ہے یعنی وہ تمہارے پاس اس وقت میں آئے کہ مدت سے پیغمبر نہ آئے تھے۔ اور وحی کا سلسلہ منقطع ہوچکا تھا۔ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) اور حضرت محمد ﷺ کے درمیان چھ سو سال کا زمانہ یا پانچ سو ساٹھ سال کا زمانہ ہے۔ اَنْ تَقُوْلُوْا (کہ تم کہو) اس بات کو ناپسند کرتے ہوئے کہ تم کہو مَا جَآئَ نَا مِنْم بَشِیْرٍ وَّلَا نَذِیْرٍ (کہ ہمارے پاس کوئی بشیر و نذیر نہیں آیا) فَقَدْ جَآئَ کُمْ میں فامحذوف سے متعلق ہے تقدیر عبارت یہ ہے کہ تعتذروا فقد جاء کم بشیر للمؤمنین وَّ نذیر للکٰفرین۔ تم معذرت کرو کہ تمہارے پاس مؤمنوں کو بشارت اور کافروں کو ڈرانے والے آگئے۔ اس میں اصل احسان جتلایا کہ ہم نے اس زمانہ میں رسول بنا کر بھیجا جب کہ آثار وحی مٹ چکے تھے۔ اور انسانوں کو جس چیز کی ضرورت ہوگی۔
فَقَدْ جَآئَ کُمْ بَشِیْرٌ وَّنَذِیْرٌ (سو تمہارے پاس بشیر و نذیر آچکے) تاکہ اس کی طرف بڑھیں اور اس کو ایک عظیم نعمت خیال کریں اور ان پر حجت تمام ہوجائے۔ پس کل وہ یہ عذر پیش نہ کرسکیں۔ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف کوئی نبی نہیں بھیجا۔ جو ان کو غفلت سے خبردار کرتا۔ وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ (اللہ تعالیٰ کو ہر چیز پر قدرت ہے) پس وہ محمد ﷺ کو بھی ضرورت کے وقت نبی بنا کر بھیجنے پر قادر ہے۔
Ayah 5:20آیت 20 : وَاِذْ قَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِہٖ یٰقَوْمِ اذْکُرُوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْ جَعَلَ فِیْکُمْ اَنْچبِیَآئَ (اور جب کہا موسیٰ نے اپنی قوم کو کہ اے میری قوم ! یاد کرواللہ کی ان نعمتوں کو جو تم پر کیں۔ جب بنائے تم میں انبیائ) جعل فیکم انبیاء اس لیے فرمایا کیونکہ کسی امت میں اتنے نبی مبعوث نہیں کیے گئے جتنے بنی اسرائیل میں آئے۔
خوشحالی کی نعمت :
وَجَعَلَکُمْ مُّلُوْکًا (اور تمہیں بادشاہ بنایا) یہ اس لئے فرمایا کہ ان کو فرعون کے بعد اس کے ملک کا مالک بنایا۔ اور جبابرہ کے بعد سرزمین فلسطین کا مالک بنایا۔ اور ان میں کثرت سے بادشاہ ہوئے۔ جیسے انبیاء کثرت سے ہوئے۔ بعض نے کہا کہ الملک سے مراد وسیع مکان والا جس میں جاری پانی ہو۔ بنی اسرائیل کے وسیع مکانات تھے جن میں جاری پانی تھا۔ گویا خوشحالی کے معنی میں ہے۔ بعض نے کہا کہ ملک وہ ہے جس کے پاس مکان ہو۔ اور خدام ہوں کیونکہ یہ خود قبطیوں کے ہاں غلامانہ زندگی گزارتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سے نجات دی۔ تو نجات دینے کو ہی مَلِک فرمایا۔ وَّاٰتٰکُمْ مَّالَمْ یُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ (اور تمہیں وہ کچھ دیا جو جہان والوں میں سے کسی کو نہیں دیا) جیسے سمندر پھاڑا۔ دشمن کو ڈبویا۔ من وسلوٰی اتارا۔ بادلوں سے سایہ کیا۔ وغیرہ اس طرح کے بڑے بڑے کام یا مراد اس زمانہ کے لوگ ہیں۔ گویا الف لام کا عوض حذف ہے۔
Ayah 5:21قدس و شام کی سرزمین میں داخلے کا حکم :
آیت 21 : یٰقَوْمِ ادْخُلُوا الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَۃَ (اے میری قوم اس متبرک ملک میں داخل ہو) المقدسہ سے مراد پاکیزہ یا مبارکہ اور وہ سرزمین بیت المقدس و شام ہے۔ الَّتِیْ کَتَبَ اللّٰہُ لَکُمْ (کہ اس کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے حصہ میں لکھ دیا ہے) کَتَبَکا معنی ہے قسمت میں کردیا۔ یا تمہارے نام لگا دیا۔ یا لوح محفوظ میں لکھ دیا۔ کہ وہ تمہارا مسکن بنے گی۔
وَلَا تَرْتَدُّوْا عَلٰٓی اَدْبَارِکُمْ (اور تم اپنی پشت پھیر کر مت لوٹو شکست کھا کر) جبابرہ کے خوف سے بزدلی اختیار کر کے یا اپنے دین میں پشت پھیر کر مت لوٹو (یعنی دین کے احکام کی خلاف ورزی نہ کرو) ۔ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِیْنَ (اگر تم لوٹو گے تو پھر دنیا و آخرت کے ثواب سے نامراد ہو کر لوٹو گے)
Ayah 5:22بزدلی کی انتہائ :
آیت 22 : قَالُوْا یٰمُوْسٰٓی اِنَّ فِیْہَا قَوْمًا جَبَّارِیْنَ (کہنے لگے اے موسیٰ وہاں تو بڑے بڑے زبردست آدمی ہیں) اَلْجَبَّار یہ فعال کے وزن پر ہے۔ یہ جبرہ علی الامر سے لیا گیا ہے۔ جس کا معنی اجبرہ علیہ ہے مجبور کرنا۔ جبار اس سرکش کو کہتے ہیں۔ جو لوگوں کو اپنی مرضی پر مجبور کرے۔
وَ اِنَّا لَنْ نَّدْ خُلَہَا (ہم اس میں ہرگز قتال سے داخل نہ ہونگے)
حَتّٰی یَخْرُجُوْا مِنْہَا (یہاں تک کہ وہ بغیر لڑائی کے نکل نہ جائیں)
فَاِنْ یَّخْرُجُوْا مِنْہَا (پس اگر وہ اس سے بلا قتال نکل گئے )
فَاِنَّا دٰخِلُوْنَ (تو ہم پھر اس علاقہ میں داخل ہونگے)
Ayah 5:23آیت 23 : قَالَ رَجُلٰنِ (ان دو شخصوں نے کہا) رجلان سے مراد کالب اور یوشع ہیں۔ مِنَ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ (ان لوگوں میں سے جو اللہ تعالیٰ کا ڈر اور خوف رکھتے تھے) گویا اس طرح کہا کہ دو متقی مردوں نے کہا۔
نحو : یہ محل رفع میں رجلان کی صفت ہے اس طرح انعم اللّٰہ علیہما بھی۔
غلبے کا وعدہ :
اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِمَا (جن پر اللہ تعالیٰ نے (اپنے سے ڈرنے کا) انعام فرمایا تھا۔ ادْخُلُوا عَلَیْہِمُ الْبَابَ (تم ان کے شہر کے دروازہ میں داخل ہوجائو) فَاِذَا دَخَلْتُمُوْہُ فَاِنَّکُمْ غٰلِبُوْنَ (جو نہی تم اس میں داخل ہوگے تم غالب آجائو گے) اور وہ شکست کھا جائیں گے۔ اور غلبہ تمہیں حاصل ہوجائے گا۔ یہ بات انہوں نے موسیٰ ( علیہ السلام) کے اطلاع دینے سے معلوم کی۔ وَعَلَی اللّٰہِ فَتَوَکَّلُوْٓا اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ( اور اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرو اگر تم مومن ہو) اس لئے کہ اس پر ایمان اس پر توکل کا تقاضا کرتا ہے۔ توکل کی حقیقت علائق دنیوی کو قطع کرنا۔ اور مخلوقات سے تعلق کا توڑنا اور اللہ تعالیٰ سے جوڑنا۔
Ayah 5:24جہاد سے پس و پیش :
آیت 24 : قَالُوْا یٰمُوْسٰٓی اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَہَآ (انہوں نے کہا کہ اے موسیٰ ہم ہرگز داخل نہ ہونگے) یہ تاکیدی انداز سے مستقبل میں داخل ہونے کی نفی ہے۔ اَبَدًا (ہمیشہ) یہ لفظ لا کر نفی مؤکد کو طویل زمانے سے معلق کیا گیا۔ مَّادَامُوْا فِیْہَا (جب تک وہ لوگ وہاں موجود ہیں) یہ ابد ًا کا بیان ہے۔ فَاذْہَبْ اَنْتَ وَرَبُّکَ (پس تو اور تیرا رب جائے) علماء کی ایک جماعت نے اس کا ظاہری معنی مراد لیا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ یہ انہوں نے کفر کا ارتکاب کیا۔ مگر ایسا نہیں کیونکہ بطور اعتقادیہ بات ہوتی تو وہ کفر کرتے۔ تو موسیٰ ( علیہ السلام) ان سے جہاد کرتے۔ کیونکہ اس وقت جبارین کی بنسبت یہ جہاد کئے جانے کے زیادہ حقدار تھے۔ مگر اس میں بہتر بات یہ
ہے کہ کہا جائے کہ تم جائو اور تمہارا رب اور وہ لڑائی میں تمہاری امداد فرمائے۔ یا ربک سے مراد یعنی ہارون آپ کے بڑے بھائی مراد ہیں۔ یا اس سے حقیقۃً جانا مراد نہیں بلکہ یہ محاورۃً ایسی بات ہے جیسے کہتے ہیں کلَّمتُہٗ فذہب یجیبنی میں نے اس سے بات کی وہ مجھے جواب دینے لگا۔ یعنی جواب کا ارادہ کیا۔ گویا انہوں نے کہا کہ تم دونوں ان سے قتال کا ارادہ کرو۔ فَقَاتِلَآ اِنَّا ہٰہُنَا قٰعِدُوْنَ (پس لڑو تم دونوں ہم یہیں بیٹھے رہیں گے) قاعدون کا معنی ٹھہرنے والے ہیں تمہارے دین کی مدد میں ہم ان سے نہ لڑیں گے۔ جب انہوں نے نافرمانی اور مخالفت کی۔
Ayah 5:25غم و شکوہ کا اظہار :
آیت 25 : قَالَ رَبِّ اِنِّیْ لَآ اَمْلِکُ (کہا اے میرے رب میں اختیار نہیں رکھتا) تیرے دین کی مدد کے لئے اِلاَّ نَفْسِیْ وَاَخِیْ (مگر اپنے اوپر اور بھائی پر) : اخی کا عطف نفسی پر ہو تو یہ معنی ہے مجھے اپنے نفس پر اور بھائی پر قابو ہے یا اِنّ کے اسم پر عطف ہو تو یہ معنی ہوگا۔ میں اختیار نہیں رکھتا مگر اپنے نفس پر اور میرا بھائی بھی اختیار نہیں رکھتا مگر اپنے نفس پر۔ یا یہ مرفوع ہے جبکہ اس کا عطف اِنّ اور اس کے اسم دونوں کے محل پر ہو۔ یا لا املک کی ضمیر پر اس کا عطف ہو اور فصل کے لیے یہ درست ہے تقدیر عبارت یہ ہوگی ولا یملک اخی الا نفسہ اور میرا بھائی بھی مالک نہیں مگر اپنے نفس کا یا یہ مبتداء ہے اور اس کی خبر محذوف ہے تقدیر عبارت یہ ہوگی واخی کذالک۔ میں اپنے اوپر قابو رکھتا ہوں اور میرا بھائی بھی اسی طرح ہے۔ یہ در حقیقت غم اور شکوہ ہے۔ جو بارگاہ الٰہی میں پیش کیا گیا ہے اور رقت قلب ہے تاکہ رحمت الٰہی کو جوش آئے۔ اور مدد خداوندی کا نزول ہو۔ گویا کہ ان دونوں آدمیوں پر کامل وثوق نہیں فرمایا اور فقط نبی معصوم کا ہی تذکرہ فرمایا۔ یا پھر مراد یہ ہے کہ میں اور جو دین کے سلسلے میں مجھ سے مواخات رکھنے والا ہے۔
فَافْرُقْ بَیْنَنَا وَبَیْنَ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ (ہمارے اور اس نافرمان قوم کے درمیان جدائی ڈال دے) اور ان کے بارے میں وہ فیصلہ فرما جس کے وہ اہل ہیں۔ یہ ان کے متعلق بددعا کے مفہوم میں ہے یا ہمارے اور ان کے درمیان دوری پیدا کر دے اور ان کی معیت سے نجات عنایت فرما۔ جیسا دوسری آیت میں ہے : وَنَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ [ التحریم : 11]
Ayah 5:26آیت 26 : قَالَ فَاِنَّہَامُحَرَّمَۃٌ عَلَیْہِمْ (فرمایا وہ ان پر حرام کردی گئی) ہا کی ضمیر سے الارض المقدسہ مراد ہے۔ محرمۃ کا مطلب روک دینا ہے۔ کہ وہ اس میں داخل نہ ہوسکیں گے۔ یہ حرمت تعبدی نہیں جیسا دوسری آیت میں ہے : وَحَرَّمْنَا عَلَــیْہِ الْمَرَاضِعَ [ القصص : 12]
ایک اعتراض :
پچھلی آیات میں کتب اللّٰہ لکم فرمایا۔ اور یہاں محرمۃ فرما دیا۔
جواب : کتب اللّٰہ کا معنی وہ سرزمین تمہارے لیے لکھ دی۔ اس شرط سے کہ تم وہاں کے رہنے والوں سے جہاد کرو۔ جب انہوں نے جہاد سے انکار کردیا تو فرمایا فانہا محرمۃ علیہم کہ وہ ان پر حرام کردی گئی یہ حرمت چالیس سال کے لیے تھی۔ جب چالیس سال گزر گئے تو جو لکھا تھا وہ ہو کر رہا۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) بقیہ بنی اسرائیل کو لے کر چلے۔ یوشع بن نون مقدمۃ الجیش پر افسر تھے۔ اور اس کو فتح کرلیا اور وہیں مقیم رہے۔ جتنا اللہ نے چاہا پھر آپ وفات پا گئے۔ اَرْبَعِیْنَ سَنَۃً (چالیس برس) اربعین ‘ محرمۃ کا ظرف ہے۔ اور سنۃ پر وقف ہے۔ یا یہ یتیہوں کا ظرف ہے اور وقف علیہم پر ہے۔
فاسق قابل افسوس نہیں :
تقدیر عبارت یہ ہے : یسیرون فیہا متحیرین لا یہتدون طریقًا اربعین سنۃ۔ کہ وہ حیران و پریشان چلتے رہیں گے۔ یَتِیْہُوْنَ فِی الْاَرْضِ (وہ حیران و پریشان چلتے رہیں گے زمین میں) اس سے نکلنے کا راستہ چالیس سال تک نہیں پائیں گے۔ یہ قید کی سزا ان کو اس لیے دی گئی کہ وہ جہاد سے رکے۔ تو ان کو اس جنگل میں روک دیا گیا۔ تیز چلنے کے باوجود صبح کو جہاں سے چلتے شام کو وہیں ہوتے۔ اور شام کو جہاں سے چلتے صبح کو وہیں ہوتے۔ یہ چھ فرسخ کا علاقہ تھا۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) جب اس بددعا سے پریشان ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے تسلی دی فَلَا تَاْسَ عَلَی الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ (ان فاسقوں پر افسوس مت کرو) کیونکہ یہ فاسق ہیں۔
ایک قول یہ بھی ہے کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اور ہارون ( علیہ السلام) ان کے ساتھ تیہ میں نہیں رہے۔ کیونکہ تیہ کی رہائش تو ایک سزا تھی۔ اور موسیٰ ( علیہ السلام) اپنے رب تعالیٰ سے ان سے نجات مانگ چکے تھے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ موسیٰ ( علیہ السلام) ان کے ساتھ رہے مگر وہ ان کے لیے باعث راحت تھا۔ اور باعث سلامتی تھا۔ حضرت ہارون ( علیہ السلام) تیہ میں وفات پا گئے اور ان کے ایک سال بعد موسیٰ ( علیہ السلام) نے بھی وفات پائی۔ اور کالب اور یوشع (علیہما السلام) کے علاوہ تمام نقباء بھی تیہ میں وفات پا گئے۔
Ayah 5:27مناہیلؔ و قابیلؔ کا واقعہ :
آیت 27 : پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو حکم فرمایا کہ اپنے حاسدین کو وہ واقعہ سنائو جو حسد کی وجہ سے پیش آیا۔ تاکہ وہ حسد کو چھوڑ دیں۔ اور آپ پر ایمان لے آئیں۔
وَاتْلُ عَلَیْہِمْ (آپ ان اہل کتاب کو پڑھ کر سنائیں)
نَبَاَ ابْنَیْ ٰادَمَ (آدم کے دو صلبی بیٹے ہابیل و قابیل کا) یا وہ بنی اسرائیل کے دو آدمی تھے۔
بِالْحَقِّ (ایسی اطلاع جو حق سے ملی ہوئی ہے) اور پہلی کتب کے بالکل موافق ہے۔ یا ایسی تلاوت جو حق و صحت سے ملی ہوئی ہے۔ یا آپ ان کو پڑھ کر سنائیں کہ آپ حق بیان کرنے والے سچے ہیں۔ اِذْ قَرَّبَایہ نبأ کی وجہ سے منصوب ہے۔ یعنی قصتہما وحدیثہما فی ذالک الوقت۔ یعنی ان دونوں کا قصہ اور بات جو اس وقت میں پیش آئی یا نبأ سے بدل ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے اتل علیہم النبأ نبأ ذالک الوقت۔ آپ ان پر پڑھیں واقعہ یعنی اس وقت کا واقعہ گویا اس صورت میں مضاف محذوف ہے۔ قُرْبَانًا ایسی قربانی یا صدقہ جس سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیا جائے۔ کہا جاتا ہے قرّب صدقۃ و تقرب بہا کہ اس صدقہ سے تقرب حاصل کیا۔ کیونکہ تقرب کا باب قرب کا مطاوع بن کر آتا ہے۔ مطلب آیت کا یہ ہے کہ جب ان میں سے ہر ایک نے اپنی قربانی سے تقرب حاصل کیا۔ اس کی دلیل آیت کا اگلا حصہ فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدِہِمَا (ان دونوں میں سے ایک کی قربانی قبول کرلی گئی) اور وہ ہابیل تھا۔ وَلَمْ یُتَقَبَّلْ مِنَ الْاٰخَرِ (اور دوسرے کی قبول نہ کی گئی) اور وہ قابیل تھا۔ روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ( علیہ السلام) کی طرف وحی کی کہ ان میں سے ہر ایک دوسرے کے ساتھ پیدا ہونے والی بچی سے شادی کرلے۔ قابیل کے ساتھ پیدا ہونے والی لڑکی خوبصورت تھی۔ اس کا نام آقلیما تھا۔ اس پر اس کے بھائی نے اس لڑکی کے سلسلہ میں حسد کیا۔ اور ناراض ہوا۔ حضرت آدم ( علیہ السلام) نے ان دونوں کو فرمایا کہ تم دونوں قربانی پیش کرو۔ جس کی قربانی قبول ہوگی اسی سے اس کی شادی کردی جائے گی۔ ہابیل کی قربانی قبول ہوئی کہ آگ نے اتر کر اس کو جلا دیا۔ اس پر قابیل کا حسد اور بھڑک اٹھا اور ناراضگی زیادہ ہوئی پس ہابیل کو قتل کرنے کی دھمکی دی۔
قَالَ لَاَقْتُلَنَّکَ (اس نے ہابیل کو کہا کہ میں تمہیں قتل کر دونگا)
قَالَ اِنّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰہُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ (اس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ متقین سے قبول کرتے ہیں) تقدیر عبارت یہ ہے کہ ہابیل نے اسے کہا تو مجھے قتل کیوں کرتا ہے۔ اس نے کہا کہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے تیری قربانی کو قبول کیا ہے۔ اور میری قربانی قبول نہیں کی۔ اس پر اس نے کہا انما یتقبل اللّٰہ من المتقین کہ اللہ تعالیٰ اپنے سے ڈرنے والوں کی قربانی قبول کرتے ہیں۔ اور تو غیر متقی ہے۔ اور یہ تیرے نفس کے قصور سے ہے۔ کہ اس نے تقویٰ کے لباس کو اتار پھینکا ہے۔ اس میں میرا کوئی قصور نہیں۔
ایک لطیفہ :
حضرت عامر بن عبداللہ کی وفات کا وقت آیا تو وہ رونے لگے ان کو کہا گیا کہ تم کیوں رو رہے ہو۔ اور آپ تو بڑی فضیلتوں والے ہیں۔ فرمانے لگے کہ میں نے اللہ تعالیٰ کا یہ قول سنا ہے انما یتقبل اللّٰہ من المتقین۔ (معلوم نہیں کہ ہم ان میں سے ہیں یا نہیں)
Ayah 5:28آیت 28 : لَپنْم بَسَطْتَّ (اگر تو نے دراز کیا) اِلَیَّ یَدَکَ لِتَقْتُلَنِیْ مَآ اَنَا بِبَاسِطٍ یَّدِیَ اِلَیْکَ ( اپنا ہاتھ میری طرف تاکہ تو مجھے قتل کرے تو میں اپنا ہاتھ پھیلانے والا نہیں تیری طرف) قراءت : مدنی ابوعمرو اور حفص نے یَدِیَپڑھا ہے۔
ہابیل کو بیخبر ی میں قتل کیا گیا :
لِاَقْتُلَکَ اِنِّیْٓ اَخَافُ اللّٰہَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ (تاکہ میں تجھے قتل کروں میں بیشک اللہ رب العالمین سے ڈرنے والا ہوں) روایت میں ہے کہ وہ قابیل سے زیادہ طاقتور تھے۔ اور زیادہ مضبوط۔ لیکن اپنے بھائی کے قتل کو گناہ سمجھتے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ کے خوف کی وجہ سے اس کے سامنے ہاتھ نہیں اٹھایا کیونکہ اس زمانہ میں مدافعت جائز و مباح نہ تھی۔ دوسرا قول یہ بھی ہے کہ وہ واجب تھی۔ کیونکہ اس میں اپنے آپ کو خود ہلاک کرنا ہے اور قاتل کے گناہ میں شرکت کرنا ہے۔ البتہ معنی یہ ہے کہ میں ابتداء تیری طرف اپنے ہاتھ کو دراز کرنے والا نہیں۔ جیسا کہ تو میرے بارے میں ارادہ رکھتا ہے ہابیل ارادئہ قتل پر مدافعت کا عزم رکھتے تھے۔ مگر قابیل نے بیخبر ی میں اچانک حملہ کر کے ان کو قتل کردیا۔
قراءت : اِنِّیْٓ کو اِنِّیَ اَخَافُ پڑھا حجازی اور ابو عمرو نے۔
Ayah 5:29آیت 29 : اِنِّیْٓ اُرِیْدُ (میں چاہتا ہوں) قراءت : مدنی نے اِنِّیَ پڑھا ہے۔ اَنْ تَبُوْا تو اٹھائے) یا لوٹے بِاِثْمِیْ (میرے قتل کے گناہ کے ساتھ) اگر تو نے مجھے قتل کردیا وَاِثْمِکَ (اور اپنے گناہوں کے ساتھ) جس کی بنا پر تیری قربانی قبول نہیں کی گئی۔ اور وہ والد کی نافرمانی ٗ حسد ٗ کینہ ہے قابل نے اس بات کا ارادہ کیا کیوں کہ اس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو مسترد کر کے کفر کیا تھا یا وہ ظالم تھا اور ظالم کی سزا یہ مراد لی جاسکتی ہے۔ فَتَکُوْنَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ وَذٰلِکَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیْنَ (تاکہ تو آگ والوں میں سے ہوجائے اور یہی ظالم کی سزا ہے)
Ayah 5:30آیت 30 : (فَطَوَّعَتْ لَہٗ نَفْسُہٗ قَتْلَ اَخِیْہِ ) (اس کے نفس نے اس کو اپنے بھائی کے قتل پر آمادہ کیا) طوعت کا معنی آسان کردیا گنجائش پیدا کردی یہ طالع لہ المرتع کہ چراگاہ آسانی سے اس کو میسر آگئی ٗ سے بنا ہے۔ فَقَتَلَہٗ فَاَصْبَحَ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ ۔ (پس اس نے اس کو قتل کردیا پس وہ ہوگیا خسارہ پانے والوں میں سے) ۔
Ayah 5:31آیت 31 : فَبَعَثَ اللّٰہُ غُرَابًا یَّبْحَثُ فِی الْاَرْضِ لِیُرِیَہٗ (اللہ تعالیٰ نے ایک کوّا بھیجا کہ وہ اللہ تعالیٰ اس کو دکھائے یا وہ کوّا اس کو دکھائے) کَیْفَ یُوَارِیْ سَوْئَ ۃَ اَخِیْہِ (کہ وہ کس طرح بھائی کی لاش چھپائے) سَوْئَ ۃَکا معنی ستر اور وہ چیز جسم میں جس کا کھولنا جائز نہیں۔ روایت میں ہے کہ سب سے پہلا مقتول زمین پر بنی آدم میں یہی تھا۔ جب اس کو قتل کردیا تو چٹیل میدان میں چھوڑ دیا۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اس کا کیا کرے۔ پس اس کو خطرہ ہوا کہ اس کو درندے پھاڑ دیں گے۔ پس ایک تھیلے میں ڈال کر اپنی پشت پر ایک سال تک اٹھائے پھرتا رہا۔ یہاں تک کہ اس سے بدبو پیدا ہوئی۔ اور اس پر درندوں نے ہجوم کیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے دو کوّے بھیجے جو لڑ پڑے ایک نے دوسرے کو مار دیا۔ اور اپنی چونچ اور پنجوں سے دوسرے کوّے کے لئے گڑھا کھودا پھر اس کو اس میں ڈال دیا۔ پس اس وقت قابیل کہہ رہا تھا۔
بےوقت شرمندگی :
قَالَ یٰوَیْلَتٰٓی اَعَجَزْتُ اَنْ اَکُوْنَ مِثْلَ ہٰذَا الْغُرَابِ فَاُوَارِیَ (کہنے لگا افسوس میری حالت پر کیا میں اس سے بھی گیا گذرا کہ اس کوّے ہی کے برابر ہوتا اور چھپا دیتا) فَاُوَارِیَ کا عطف اکون پر ہے سَوْئَ ۃَ اَخِیْ فَاَصْبَحَ مِنَ النّٰدِمِیْنَ (اپنے بھائی کی لاش کو پس وہ شرمندہ ہونے والوں میں سے ہوگیا) اس کے قتل پر کیونکہ اس کے اٹھائے پھرنے نے اس کو تھکا دیا۔ اور وہ اس کے بارے میں شدید پریشانی میں مبتلا ہوا۔ مگر یہ شرمندگی توبہ کرنے والوں جیسی نہیں تھی۔ یا ندامت فقط ہماری شریعت میں توبہ ہے۔ ان کی شریعت میں نہ تھی۔ یا اس کے اٹھائے رہنے پر شرمندہ ہوا نہ کہ اس کے قتل پر۔ (پس توبہ نہ بنی) اور آیت میں کہ جب اس نے اسے قتل کیا اس کا جسم سیاہ ہوگیا حالانکہ اس کا رنگ سفید تھا۔ حضرت آدم ( علیہ السلام) نے اس سے اس کے بھائی کے متعلق دریافت کیا تو کہنے لگا میں اس کا نگران تو نہ تھا۔ حضرت آدم ( علیہ السلام) نے فرمایا کہ تو نے اسے قتل کردیا ہے۔ اسی لئے تو تیرا چہرہ سیاہ ہوگیا۔ پس سیاہ لوگ انہی کی اولاد میں سے ہیں۔
مرثیہ آدم ( علیہ السلام) والی روایت من گھڑت ہے :
اور یہ کسی روایت میں نہیں کہ حضرت آدم ( علیہ السلام) نے کسی شعر میں ہابیل کا مرثیہ کہا ہو۔ جو روایت بیان کی جاتی ہے وہ درست نہیں۔ کیونکہ انبیاء ( علیہ السلام) شعر سے معصوم ہوتے ہیں۔
Ayah 5:32آیت 32 : مِنْ اَجْلِ ذٰلِکَ (اس قتل کی وجہ سے) اجل کا معنی سبب و علت ہے اور ذالک کا مشارٌ الیہ قتل مذکور ہے۔ بعض نے کہا کہ یہ پہلی آیت سے متصل ہے۔ پس اس صورت میں اس پر وقف کریں گے۔ تقدیر عبارت یہ ہوگی فاصبح من النادمین لاجل حملہٖ ولا جل قتلہٖ کہ وہ اس کے اٹھانے اور قتل کرنے کی وجہ سے شرمندگی والوں میں سے ہوگیا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ جملہ مستانفہ ہے۔ اور النادمین پر وقف ہے۔ اور مِنْ کا تعلق کَتَبْنَا سے ہے نادمین سے نہیں ہے۔
بنی اسرائیل کیلئے قانون قصاص :
کَتَـبْنَا عَلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ (ہم نے بنی اسرائیل پر لکھ دیا) بنی اسرائیل کا خصوصیت سے تذکرہ فرمایا۔ حالانکہ تمام ہی اس میں شریک تھے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تورات پہلی ایسی کتاب ہے جس میں احکام اتارے گئے۔ اَنَّہٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًچا (کہ جو شخص کسی کو (ناحق) قتل کریگا) انہ کی ضمیر شان ہے۔ اور من شرطیہ ہے۔
بِغَیْرِ نَفْسٍ (بغیر اس کے کہ وہ کسی نفس کو قتل کرے) اَوْفَسَادٍ فِی الْاَرْضِ (یا وہ زمین پر فساد کرے) یہ نفس پر عطف ہے تقدیر عبارت یہ ہے بغیر فساد فی الارض اور زمین میں فساد کے بغیر۔ فساد سے مراد یہاں شرک ہے۔ یا ڈاکہ زنی یا ہر وہ فساد جس کا نتیجہ قتل کو واجب و لازم کر دے۔ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا (تو گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کیا) یعنی گناہوں میں تمام لوگوں کو قتل کردیا۔ حضرت حسن فرماتے ہیں کیونکہ قاتل نفس کی سزا جہنم ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا اس پر غضب ہوتا ہے اور اس کے لئے عذاب عظیم ہے۔ اگر وہ تمام لوگوں کو قتل کر ڈالتا تو اس سے زیادہ نہ ہوتا۔ وَمَنْ اَحْیَاہَا (جس نے ان کو زندہ کیا) یعنی ان کو ہلاکت کے بعض اسباب سے نکالا۔ مثلاً قتل ٗ غرق ٗ جلنا ٗ گرانا یا اور کوئی دیگر وغیرہ۔
ایک کی زندگی سبکی کی زندگی :
فَکَاَنَّمَآ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًا (اس نے گویا سب کو زندہ کیا) ایک آدمی کے قتل کو تمام آدمیوں کا قتل قرار دیا گیا۔ اسی طرح زندہ کرنا بھی تمام کا زندہ کرنا قرار دیا۔ یہ ترغیب و ترہیب کے لئے ہے۔ کیونکہ جو شخص ایک آدمی کے قتل پر تعرض کرنے والا ہے اگر وہ تصور کرے کہ اس کا قتل تمام انسانوں کا قتل ہے۔ تو اس پر اس کا قتل گراں ہوگا۔ پس وہ اس سے باز آجائے گا۔ اسی طرح وہ شخص جو اس کو زندہ کرتا ہے۔ جب اس کے تصور میں یہ ہے اس ایک آدمی کی زندگی تمام انسانوں کی زندگی کے مترادف ہے تو اس کو سلامت رکھنے اور بچانے کے لئے خوب رغبت اختیار کرے گا۔ وَلَقَدْ جَآئَ تْہُمْ (اور ان لوگوں کے پاس آچکے ہیں) ہُمْ سے مراد بنی اسرائیل ہیں۔ رُسُلُنَا (ہمارے پیغمبر) قراءت : ابوعمر ونے رُسْلُناپڑھا ہے۔ بِالْبَیِّنٰتِ (واضح دلیل کے ساتھ) ثُمَّ اِنَّ کَثِیْرًا مِّنْہُمْ بَعْدَ ذٰلِکَ (پھر اس کے بعد ان میں سے بہت سے لوگ) پھر ان میں سے پہلے سے۔ اس کے بعد کہ جو ہم نے ان پر لکھ دیا۔ یا رسولوں کے دلائل لانے کے بعد فِی الْاَرْضِ لَمُسْرِفُوْنَ (اور زمین میں حد سے بڑھنے والے ہیں) قتل میں اس کی عظمت کی کوئی پرواہ نہیں کرتے۔
Ayah 5:33محاربین کی اقسام اربعہ :
آیت 33 : اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ (بےشک ان لوگوں کی سزا جو اللہ اور اس کے رسول سے محاربہ کرتے ہیں) اللہ تعالیٰ کے محاربہ سے مراد اولیاء اللہ سے محاربہ ہے۔ حدیث میں ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں من اہان لی ولیًا فقد بار زنی بالمحاربۃ۔ جس نے میرے کسی دوست کی توہین کی اس نے محاربہ کے لئے مجھے دعوت دی۔ ابن ماجہ 3989 وَیَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا (وہ زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش کرتے ہیں) یعنی وہ فساد کرنے والے ہیں۔ اور فساد اً مفعول بہ بھی بن سکتا ہے۔ یعنی وہ فساد کی خاطر زمین میں دوڑ دھوپ کرتے ہیں۔ اور جزائُ کی خبر ان یقتّلوا ہے۔
نحو : یقتّلوا میں تا پر تشدید کا فائدہ یہ ہے کہ یکے بعد دیگرے کا قتل۔ اب اَنْ یُّقَتَّلُوْٓا، کا مطلب یہ ہے کہ ان کو قتل کیا جائے سولی نہ دی جائے۔ اگر انہوں نے صرف قتل کیا ہو۔
اَوْ یُصَلَّبُوْٓا (یا ان کو صلیب دی جائے قتل کے ساتھ) اگر انہوں نے قتل بھی کیا اور مال بھی لیا۔ اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْہِمْ وَ اَرْجُلُہُمْ (یا ان کے ہاتھ اور پائوں کاٹ دیئے جائیں) اگر انہوں نے مال لیا ہو تو مِّنْ خِلَافٍ (مخالف جانب سے) یہ ایدی سے حال ہے یعنی ارجل۔ ایک دوسرے کے اُلٹ۔ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ (یا ان کو قید کر کے جلا وطن کردیا جائے) جبکہ انہوں نے فقط ڈرایا دھمکایا ہو) ذٰلٰکَیہ مذکورہ سزائیں۔ لَہُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا (ان کے لئے دنیا میں ذلت و رسوائی کا ذریعہ ہیں) وَلَہُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ (اور ان کے لئے آخرت میں بہت بڑا عذاب ہے)
Ayah 5:34آیت 34 : اِلاَّ الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَقْدِرُوْا عَلَیْہِمْ (مگر وہ لوگ جو تمہارے ان پر قابو پانے سے پہلے توبہ کرلیں) تو ان سے یہ حدود ساقط ہوجائیں گی۔ وہ معاملات جو بندوں کے حقوق کے متعلق ہیں۔ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (پس یقین کرلو کہ اللہ تعالیٰ بخشنے والے ہیں) ان کی توبہ سے ان کو بخش دیں گے اور رحیم ہیں رحم فرما کر ان کو عذاب نہ دیں گے۔
Ayah 5:35آیت 35 : یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ (اے ایمان والو ! اللہ تعالیٰ سے ڈرو) پس اللہ تعالیٰ کے بندوں کو ایذاء نہ پہنچائو۔
قربِ الٰہی کا ذریعہ :
وَابْتَغُوْٓا اِلَیْہِ الْوَسِیْلَۃَ (اس کی طرف سے وسیلہ تلاش کرو) ہر وہ قرابت عبادت، جس سے قرب حاصل کیا جائے۔ یا وہ وابستگی یا دیگر مرتبہ و درجہ یہ دراصل ان چیزوں کے لئے استعارہ کے طور پر استعمال کیا گیا ہے جو طاعات و ترک منہیات کی قسم سے ہے۔ اور ان سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے۔ وَجَاہِدُوْا فِیْ سَبِیْلِہٖ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ (اور اس کی راہ میں جہاد کرو تاکہ تم کامیاب ہوجائو)
Ayah 5:36آیت 36 : اِنَّ الَّذِیْنَ کفَرُوْا لَوْ اَنَّ لَہُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا (یقینا جو لوگ کافر ہیں اگر ان کے پاس تمام دنیا بھر کی چیزیں ہوں) مَافِی الْاَرْضِ سے مراد قسما قسم کے احوال۔ وَّمِثْلَہٗ مَعَہٗ (اور اس کی مثل اس کے ساتھ اور ہو) اور وہ اس کو خرچ بھی کر ڈالے۔ لِیَفْتَدُوْا بِہٖ (تاکہ اس کو اپنے نفس کا فدیہ بنائیں)
قیامت کے دن فدیہ کی نفی :
نحو : لَوْ اپنے ساتھ والے سمیت خبر اِنَّ ہے۔ لیفتدوا بہٖ میں ہٖ ضمیر کو واحد لایا گیا ہے۔ حالانکہ یہاں دو چیزوں کا ذکر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ضمیر یہاں اشارہ کے قائم مقام ہے۔ گویا اس طرح کہا گیا۔ لیفتدوا بذالک اس لئے واحد لانا صحیح ہے۔ مِنْ عَذَابِ یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ مَا تُقُبِّلَ مِنْہُمْ وَلَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ (روز قیامت کے عذاب سے بچنے کے لئے مگر ان سے قبول نہ کیا جائے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے جس سے کسی طرح ان کے لئے چھوٹنے کا راستہ نہیں)
Ayah 5:37آیت 37 : یُرِیْدُوْنَ (وہ چاہیں گے) یعنی تمنا کریں گے یا مطالبہ کریں گے۔ اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنَ النَّارِ وَمَا ہُمْ بِخٰرِجِیْنَ مِنْہَا وَلَہُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ (کہ دوزخ سے نکل آویں اور وہ اس سے کبھی نہ نکلیں گے اور ان کو عذاب دائمی ہوگا) مقیم کا معنی دائمی عذاب۔
Ayah 5:38چوری کی سزا :
آیت 38 : وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَۃُ (اور جو مرد چوری کرے اور جو عورت چوری کرے)
نحو : یہ دونوں مبتداء ہونے کی وجہ سے مرفوع ہیں۔ خبر ان کی محذوف ہے تقدیر عبارت یہ ہے۔ فیما یتلی علیکم السارق والسارقۃ فاقطعوا ایدیہما۔ فَاقْطَعُوْٓا اَیْدِیَہُمَا (سو ان دونوں کے ہاتھ کاٹ ڈالو) ایدی بول کر دونوں دائیں ہاتھ مراد ہیں۔ اس کی دلیل قراءت عبداللہ بن مسعود ؓ ہے فا اس لئے ہے کہ سابقہ کلام میں شرط کا معنی متضمّن تھا۔ کیونکہ مطلب اس طرح ہے والذی سرق والتی سرقت وہ مرد جو چوری کرے اور وہ عورت جو چوری کرے تو ان کے ہاتھ کاٹ دو ۔ اسم موصول میں شرط کا معنی پایا جاتا ہے۔ نکتہ : البتہ سارق کہہ کر مرد سے ابتداء کی گئی۔ کیونکہ سرقہ کا تعلق جرأت سے ہے اور وہ مردوں میں زیادہ پائی جاتی ہے اور دوسری آیت میں الزانی کو مؤخر لائے کیونکہ زنا شہوت سے پیش آتا ہے۔ اور شہوت عورتوں میں کثرت سے پائی جاتی ہے ہاتھ کاٹنے میں حکمت یہ ہے کہ وہ سرقہ و چوری کا آلہ ہے ادھرآلہ زنا کے قطع کا حکم نہیں دیا گیا۔ کیونکہ اس سے نسل انسانی کا انقطاع لازم آتا ہے۔ جَزَآئً م بِمَا کَسَبَا نَکَالاً مِّنَ اللّٰہِ (اس کی سزا میں جو کچھ انہوں نے کمایا) جزاء یہ مفعول لہٗ ہے۔ نَکَالاً مِّنَ اللّٰہِ (سزا کے طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے) نکالاً یہ جزاء کا بدل ہے وَاللّٰہُ عَزِیْزٌ (اللہ تعالیٰ غالب ہیں) اس کے فیصلوں میں معارضہ نہیں کیا جاسکتا حَکِیْمٌ (وہ حکمت والے ہیں) اس میں جو وہ حکم دیں جیسے چور کے لئے قطع ید وغیرہ۔
Ayah 5:39تائبین کا ذکر :
آیت 39 : فَمَنْ تَابَ (جو شخص توبہ کرے) چوری سے مِنْ 0 بَعْدِ ظُلْمِہٖ (اپنے اس ظلم ( یعنی سرقہ) کے بعد) وَاَصْلَحَ (اور اپنی درستگی کرلے) مسروقہ مال واپس کر کے فَاِنَّ اللّٰہَ یَتُوْبُ عَلَیْہِ (اللہ تعالیٰ توبہ قبول کر کے اس کی طرف توجہ فرمائیں گے) اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (بےشک اللہ تعالیٰ بخشنے والے ہیں اس کا گناہ بخش دیں گے اور رحیم ہیں اس پر رحمت فرمائیں گے
Ayah 5:40بخشش مطیع :
آیت 40 : اَلَمْ تَعْلَمْ (کیا تمہیں معلوم نہیں) اے محمد ﷺ یا اے مخاطب اَنَّ اللّٰہَ لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآئُ (کہ آسمانوں اور زمین میں اللہ ہی کی سلطنت ہے جس کو چاہے عذاب دے) عذاب دیں گے جو کفر پر مرجائے گا۔ وَیَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآئُ (اور بخش دیں گے جس کو چاہیں گے) جو کفر سے تائب ہوجائے گا۔ وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ (اللہ تعالیٰ ہر چیز پر) یعنی عذاب و مغفرت وغیرہ پر قَدِیْرٌ (قادر ہیں) نکتہ : یہاں عذاب کو مغفرت سے پہلے اس لیے ذکر کیا۔ کیونکہ چوری توبہ سے قبل کی تھی۔ یہ لف و نشر مرتب کی قبیل سے ہے۔
Ayah 5:41منافقین کے منصوبوں کی پرواہ نہ کریں :
آیت 41 : یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الرَّسُوْلُ لَا یَحْزُنْکَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْکُفْرِ (اے رسول جو لوگ کفر میں دوڑ دوڑ گرتے ہیں آپ کو مغموم نہ کریں) لَایَحْزُنْکَکا معنی اہمیت نہ دیں کفر کی طرف منافقین کے جلد بھاگ جانے کو۔ اور پرواہ نہ کریں یعنی اسلام کے متعلق ان کی خفیہ تدابیر کے ظاہر ہوجانے کو زیادہ اہمیت نہ دیں۔ اور اسی طرح ان کی مشرکین کے ساتھ موالات ظاہر ہونے کی پرواہ نہ کریں۔ میں ان کے خلاف تمہارا مددگار اور ان کے شر کے لیے کافی ہوں۔ کہا جاتا ہے اسرع فیہ الشیب یعنی وہ جلد بوڑھا ہوگیا۔ اس طرح کفر میں ان کی مسارعت سے مراد جلد کفر اختیار کرنا ہے۔ کہ جب بھی وہ فرصت پاتے ہیں تو فوراً کفر میں جا گرتے ہیں۔ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْٓا (خواہ وہ ان لوگوں میں سے ہوں جو کہتے ہیں) یہ الذین یسارعون فی الکفر کا بیان ہے۔ٰامَنَّا (کہ ہم ایمان لائے) یہ قالوا کا مقولہ مفعول ہے۔ بِاَفْوَاہِہِمْ (اپنے منہ سے) یہ قالوا کے متعلق ہے تقدیر عبارت اس طرح ہے قالوا بافواہم ٰامنا انہوں نے اپنے مونہوں سے ٰامنا کہا وَلَمْ تُؤْمِنْ قُلُوْبُہُمْ مگر ان کے دل مومن نہیں۔ : یہ محل نصب میں حال ہے اور ومن الذین ہادوا کا عطف من الذین قالوا پر ہے تقدیر عبارت یہ ہے من المنافقین والیہود وَمِنَ الَّذِیْنَ ہَادُوْا اور وہ لوگ جو یہودی ہوئے ہیں۔ سَمّٰعُوْنَ لِلْکَذِبِ (وہ جھوٹ کو سننے والے ہیں) نحو : ہُمْ مبتداء مضمر اور سمّاعون اس کی خبر ہے ضمیر کا مرجع دونوں جماعتیں ہیں۔ تقدیر عبارت ہم سماعون اس صورت میں وقف علی الذین ہادوا پر ہے۔ یا سماعون مبتداء اور اس کی خبر من الذین ہادوا ہے۔ اس صورت میں قلوبہم پر وقف ہے۔ اور سماعون للکذب کا مطلب یہ ہے کہ تجھ سے سنتے اس لئے ہیں۔ کہ تم پر جھوٹ باندھیں اس طرح کہ جو کچھ آپ سے سنا اس کو مسخ کر کے پیش کریں۔ اضافہ یا کمی یا تبدیلی اور تغیر کے ساتھ۔ سَمّٰعُوْنَ لِقَوْمٍ ٰاخَرِیْنَ لَمْ یَاْتُوْکَ (آپ کی باتیں دوسری قوم کی خاطر سے کان دھر دھر سنتے ہیں جس قوم کے یہ حالات ہیں وہ آپ کے پاس نہیں آئے کلام کو) یعنی وہ آپ سے سننے والے ہیں یہودیوں کی خاطر اور وہ ان کو جاسوس بنا کر بھیجتے ہیں۔ تاکہ جو آپ سے سنا وہ ان کو پہنچا دیں یُحَرِّفُوْنَ الْکَلِمَ مِنْم بَعْدِ مَوَاضِعِہٖ (بعد اس کے کہ وہ اپنے مواقع پر ہوتا ہے بدلتے رہتے ہیں) یحرفونکا معنی اس کو زائل کرتے اور اس کو ان مواقع سے مائل کرتے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے ان کو رکھا ہے۔ ان کو غیر مقام پر جوڑتے ہیں حالانکہ اس کا ایک مقام ہے۔ : یحرفون یہ قوم کی صفت ہے جیسا کہ لم یأ توک یا مبتدائے محذوف کی خبر ہے۔ یعنی ہُمْ یحرفون ضمیر کا مرجع الْکَلِمَہے۔
مقصد پرست یہود کا طرز عمل :
یَقُوْلُوْنَ اِنْ اُوْتِیْتُمْ ہٰذَا (کہتے ہیں اگر تم کو یہ حکم ملے تو) المحرف اس کو کہتے ہیں جس کو اس کے موقع سے ہٹا دیا جائے۔ نحو : یقولون یہ یحرفون کی طرح قوم کی صفت ہے یا یحرفون کی ضمیر سے حال ہے۔ فَخُذُُوْہُ (اس کو اختیار کرلو) اس کو جانو کہ : برحق ہے اور اس پر عمل پیرا ہوجائو۔ وَاِنْ لَّمْ تُؤْتَوْہُ (اور اگر وہ تمہیں نہ دیا جائے) اور محمد ﷺ اس کے برخلاف فتویٰ دیں تو فَاحْذَرُوْا (اس سے بچو) اور اپنے کو بچائو وہ باطل ہے۔ روایت میں ہے کہ ایک سردار یہودی نے ایک سردار عورت سے خیبر میں زنا کیا اور وہ دونوں شادی شدہ تھے۔ اور تورات میں ان کی حد سنگساری تھی۔ یہود نے ان کے اعلی خاندان ہونے کی وجہ سے ان کو رجم کرنا ناپسند کیا۔ انہوں نے اپنا ایک وفد رسول اللہ ﷺ کی طرف بھیجا۔ تاکہ وہ آپ سے اس سلسلہ میں سوال کریں۔ اور کہنے لگے کہ اگر وہ کوڑے لگانے کا حکم کریں اور چہرے کو کالا کرنے کا حکم کریں تو قبول کرلو اگر رجم کا حکم دیں تو مت قبول کرو۔ پس آپ نے جب ان کو رجم کا حکم دیا تو انہوں نے قبول کرنے سے انکار کردیا۔ وَمَنْ یُّرِدِ اللّٰہُ فِتْنَتَہٗ (اور جس کا خراب ہونا اللہ ہی کو منظور ہو تو) یہاں فتنہ سے مراد ضلالت و گمراہی ہے یہ آیت ان لوگوں کے خلاف دلیل ہے یرید اللّٰہ الایمان ولا یرید الکفر۔ فَلَنْ تَمْلِکَ لَہٗ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا (اس کے لئے اللہ سے تیرا کچھ زور نہیں چل سکتا) حضرت محمد ﷺ کی امید کو ان کے ایمان کے سلسلے میں ختم کردیا کہ یہ ایمان نہ لائیں گے۔ اُولٰٓپکَ الَّذِیْنَ لَمْ یُرِدِ اللّٰہُ اَنْ یُّطَہِّرَ قُلُوْبَہُمْ (یہ لوگ ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو ان کے دلوں کا پاک کرنا منظور نہیں ہوا) اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کو کفر سے پاک کرتا نہیں ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ انہوں نے اپنی پسند سے کفر کو اختیار کیا۔
تردید معتزلہ :
یہ آیت بھی ہماری دلیل ہے کہ جو لوگ خیر و شر کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں مانتے۔ لَہُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ (ان لوگوں کے لئے دنیا میں رسوائی ہے) منافقین کی رسوائی اور یہود کے لئے ذلت۔ وَلَہُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ (اور آخرت میں ان کیلئے سزائے عظیم ہے) یعنی ہمیشہ ہمیشہ آگ میں رہنا ہے۔
Ayah 5:42آیت 42 : سَمّٰعُوْنَ لِلْکَذِبِ (یہ جھوٹ کو سننے والے ہیں) یہ دوبارہ تاکید کے لائے ہے یعنی وہ جھوٹ کو سننے والے ہیں اور اس کی مثل۔ اَکّٰلُوْنَ لِلسُّحْتِ ہے (کہ وہ حرام کو کھانے والے ہیں) السحت ہر وہ چیز جس کا کھانا حرام ہو۔ یہ سحتہ سے لیا گیا ہے جس کا معنی جڑ سے اکھاڑنا ہے کیونکہ اس کی برکت ختم ہوجاتی ہے حدیث میں فرمایا گیا فیصلوں میں رشوت لینا اس سے مراد ہے وہ احکام پر رشوت لینے اور حرام کو حلال کرنے کے لئے بھی رشوت لیتے۔ قراءت : للسحت۔ مکی اور بصری اور علی نے ثقیل سے پڑھا ہے۔
فیصلہ کرنے میں اختیار یا لزوم :
فَاِنْ جَآئُ وْکَ فَاحْکُمْ بَیْنَہُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْہُمْ (اگر وہ آپ کے پاس آئیں تو ان کے مابین فیصلہ فرما دیں یا ان سے اعراض فرمائیں) یہ کہا گیا ہے کہ آپ ﷺ کو اختیار تھا۔ کہ جب اہل کتاب آپ کے پاس فیصلہ لے کر آئیں کہ ان میں فیصلہ کردیں یا نہ کریں۔ بعض نے کہا کہ اختیار منسوخ کردیا گیا۔ اس کی دلیل یہ آیت ہے وان احکم بینہم بما انزل اللّٰہ المائدہ 49 کہ ان کے درمیان بما انزل للّٰہ کے مطابق فیصلہ فرمائیں۔ وَاِنْ تُعْرِضْ عَنْہُمْ فَلَنْ یَّضُرُّوْکَ شَیْئًا (اگر تم ان سے اعراض کرو تو وہ تمہیں ہرگز نقصان نہیں دے سکتے) کیونکہ اللہ تعالیٰ آپ کی لوگوں سے حفاظت کرنے والے ہیں۔ وَاِنْ حَکَمْتَ فَاحْکُمْ بَیْنَہُمْ بِالْقِسْطِ (اور اگر آپ فیصلہ کریں تو ان میں عدل کے موافق فیصلہ کیجئے) قسط کا یہاں معنی عدل ہے۔ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ (اللہ تعالیٰ عدل والوں کو پسند کرتے ہیں)
Ayah 5:43آپ کی تحکیم پر ان کی رضامندی قابل تعجب ہے :
آیت 43 : وَکَیْفَ یُحَکِّمُوْنَکَ وَعِنْدَہُمُ التَّوْرٰۃُ فِیْہَا حُکْمُ اللّٰہِ (اور وہ آپ سے کیسے فیصلہ کراتے ہیں حالانکہ ان کے پاس تورات ہے جس میں اللہ کا حکم ہے) اس آیت میں ان کے آپ کی تحکیم پر راضی ہونے پر تعجب کا اظہار کیا گیا۔ حالانکہ وہ آپ کی کتاب پر ایمان نہیں رکھتے۔ اور نہ آپ پر ایمان رکھتے ہیں۔ حالانکہ یہ حکم خود ان کی کتاب میں موجود ہے جس کو ماننے کے وہ دعویدار ہیں۔ فِیْہَا حُکْمُ اللّٰہِ یہ تورات سے حال ہے۔ التورٰۃ مبتداء اور عندہم خبر ہے ثُمَّ یَتَوَلَّوْنَ مِنْم بَعْدِ ذٰلِکَ (پھر اس کے بعد ہٹ جاتے ہیں) اس کا عطف یحکمونک پر ہے تقدیر عبارت یہ ہے : ثم یعرضون بہٖ من بعد تحکیمک الموافق لما فی کتابہم لایرضون بہٖ پھر وہ آپ کے فیصلے کے بعد اعراض کرتے ہیں۔ جو فیصلہ انکی اپنی کتاب کے فیصلے کے مطابق ہے۔ اور وہ فیصلے پر راضی نہیں ہوتے۔ وَمآ اُولٰٓپکَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ (وہ آپ پر ایمان لانے والے نہیں) یا اپنی کتاب پر بھی ایمان لانے والے نہیں۔ جیسا کہ ان کو دعویٰ ہے۔
Ayah 5:44تورات ہدایت ونور ہے :
آیت 44 : اِنَّآ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰٹۃَ فِیْہَا ہُدًی (ہم نے تورات نازل فرمائی تھی جس میں ہدایت تھی) ہُدًی یعنی حق کی طرف راہنما ہے وَّنُوْرٌ (اور روشنی تھی) وہ کھول کر بیان کرتی ہے مبہم احکامات کو۔ یَحْکُمُ بِہَا النَّبِیُّوْنَ الَّذِیْنَ اَسْلَمُوْا (انبیاء جو کہ اللہ تعالیٰ کے مطیع تھے حکم دیا کرتے تھے) اسلموا کا معنی انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کی جو تورات میں تھی یہ النَّبِیُّوْنَ کی صفت ہے جو ان کی مدح و توصیف کے لئے لائی گئی ہے اور اس کو لا کر یہود پر تعریض کی گئی کیونکہ وہ ملت اسلامیہ سے بہت دور تھے۔ جو کہ تمام انبیاء ( علیہ السلام) کا دین ہے۔ لِلَّذِیْنَ ہَادُوْا (اس کے موافق یہود کو) ان لوگوں کے لئے جنہوں نے کفر میں اتباع کی للذین میں لام یحکم سے متعلق ہے۔
اعتقاد کے باوجود فیصلہ حق کے خلاف فسق ہے :
اوروَالرَّبّٰنِیُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ (اور اہل اللہ اور علماء بھی) یہ النبیون کے معطوف ہیں۔ الربانی کا معنی ہے زاہد۔ اور احبار کا معنی علماء ہے۔ بِمَا اسْتُحْفِظُوْا (جس کا ان کو امین بنایا گیا تھا) : یہ بھی جائز ہے کہ یہ یحکم بہا میں ہا ضمیر سے بدل ہے مِنْ کِتٰبِ اللّٰہِ (اللہ کی کتاب کا) یہ من بیانیہ ہے اور استحفظوا کی ضمیر انبیاء اور ربانیین اور احبار تمام کی طرف لوٹتی ہے۔ اور استحفاظ من اللّٰہ کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس کی حفاظت کا مکلف اور ذمہ دار بنایا۔ یا ضمیر صرف الربَّانِیُّوْنَ اور احبار کی طرف لوٹائی جائے اور استحفاظ انبیاء کی طرف سے ہو۔ وَکَانُوْا عَلَیْہِ شُہَدََآئَ (وہ اس پر نگران تھے) تاکہ اس کو بدلہ نہ جائے۔ فَـلَا تَخْشَوُا النَّاسَ (پس تم بھی لوگوں سے مت ڈرنا) حکام کو اس آیت میں منع کیا گیا کہ وہ اپنے فیصلوں میں غیر اللہ سے نہ ڈریں۔ اور اس کے خلاف جاری کریں جیسا ان کو حکم دیا گیا۔ جیسا ظالم بادشاہ سے ڈر کر انصاف سے رک جائیں۔ یا کسی کی اذیت کے خوف سے حق ترک کردیں۔ وَاخْشَوْنِ (اور میرے حکم کی مخالفت میں مجھ سے ڈرو) قراءت : سہل نے دونوں کو یا سے پڑھا ہے۔ خواہ حالت وقف ہو یا وصل دونوں میں۔ ابوعمر ونے وصل میں ان کا ساتھ دیا ہے۔ وَلَا تَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِیْ (اور نہ لو میرے احکام کے بدلہ میں) یعنی اللہ تعالیٰ کے احکام اور آیات کے بدلے میں ثَمَنًا قَلِیْلاً (تھوڑی قیمت) سے مراد رشوت اور مرتبہ چاہنے کے لئے رقم لینا۔ اور لوگوں کو خوش کرنے کیلئے۔ وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ (اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے نازل کئے ہوئے احکام کے موافق حکم نہ کرے) جس نے بما انزل اللّٰہ کے مطابق فیصلہ نہ کیا اس کی تحقیر کرتے ہوئے۔ فَاُولٰٓپکَ ہُمُ الْکٰفِرُوْنَ (وہ وہی کافر ہیں) ۔
قول ابن عباس۔ :
حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جس نے انکار کرتے ہوئے مآ انزل اللّٰہ کے مطابق فیصلہ نہ کیا۔ وہ کافر ہے اگر منکر تو نہ ہو لیکن فیصلہ اس کے مطابق نہ کیا تو وہ فاسق ہے۔ عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں یہ آیت یہود اور غیر یہود تمام کے حق میں عام ہے۔
Ayah 5:45یہود میں قصاص کی اصل نوعیت :
آیت 45 : وَکَتَبْنَا عَلَیْہِمْ فِیْہَآ (ہم نے یہود پر فرض کردیا جو حکم تورات میں تھا) اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ (بیشک نفس قابل مواخذہ ہوگا۔ نفس مقتولہ کے بدلے میں) جو کہ اس نے ناحق قتل کیا ہو۔ وَ الْعَیْنَ (پھوڑی ہوئی آنکھ) بِالْعَیْنِ (بدلے آنکھ کے) وَالْاَنْفَ (ناک کٹا ہوا) بِالْاَنْفِ (بدلے ناک کے) وَالْاُذُنَ (کان کٹا ہوا) بِالْاُذُنِ (بدلے کان کے) وَ السِّنَّ (دانت اکھاڑا ہوا) بِالسِّنِّ (بدلے دانت کے) وَالْجُرُوْحَ قِصَاصٌ (زخموں کا بدلہ جو قصاص والے ہوں) ورنہ حکومت عدل ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ وہ مرد کو عورت کے بدلے میں قتل نہ کرتے تھے پس یہ آیت اتری۔ ان النفس بالنفس۔ یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ مسلمان کو ذمی کے بدلے میں قتل کیا جائیگا اور مرد کو عورت کے بدلے میں قتل کیا جائیگا اور آزاد بدلے غلام کے۔
قراءت : نافع ٗ عاصم ٗ حمزہ نے تمام معطوفات کو اَنْ کی وجہ سے منصوب پڑھا ہے۔ اور علی نے محل ان النفس پر عطف کر کے رفع دیا ہے کیونکہ مطلب یہ ہے کہ ان پر لکھ دیا ہے جان کے بدلے جان۔ اجراء لکتبنا مجری قلنا۔
باقی نے تمام کو نصب اور الجروح کو رفع اور الاذن سکون ذال کے ساتھ پڑھا ہے جبکہ نافع اور باقی نے ضمہ کے ساتھ
پڑھا ہے اور اذن یہ دونوں لغتیں ہیں جیسے السّحْت وَ السُحُت کی طرح فَمَنْ تَصَدَّقَ (جس نے صدقہ کردیا) اصحاب حق میں سے بِہٖ (قصاص کو) اور اس کو معاف کردیا۔ فَہُوَ کَفَّارَۃٌ لَّہٗ ( وہ اس کے لیے کفارہ بن جائے گا) پس صدقہ ‘ صدقہ کرنے والے کے لئے اس کے احسان کے بدلے کفارئہ گناہ بن جائے گا۔ آپ ( علیہ السلام) نے فرمایا من تصدق بدم فما دونہ کان کفارۃ لہ من یوم ولدتہ امہٗ (در منثور) جس نے دم کو یا اس سے کم کو معاف کردیا تو وہ اس کے لئے ان تمام گناہوں کا کفارہ بن جائے گا جو آج تک اس سے ہوئے۔ وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓپکَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ (جس نے ما انزل اللہ کے مطابق فیصلہ نہ کیا پس وہی ظالم ہے) کیونکہ وہ اس کا حکم ماننے سے رک گئے۔
Ayah 5:46انجیل میں بھی ہدایت و روشنی اتاری :
آیت 46 : وَقَفَّیْنَا (اور ہم نے ان کے پیچھے بھیجا) قفیت الشیٔ بالشیٔ کا معنی پیچھے چلانا۔ گویا اس کی گدی میں رکھ دیا قفا یقفوا کہتے ہیں جب وہ اس کا پیچھا کرے۔ عَلٰٓی ٰاثَارِہِمْ (ان کے نشانات پر) انبیاء کے نشانات پر ان لوگوں کو جنہوں نے فرمانبرداری کی۔ بِعِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ مُصَدِّقًا (عیسیٰ ( علیہ السلام) بن مریم کو اس حال میں کہ وہ تصدیق کرنے والے ہیں) یہ عیسیٰ بن مریم سے حال ہے۔ لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ مِنَ التَّوْرٰۃِ وَ ٰاتَیْنَـٰـہُ الْاِنْجِیْلَ ِفیْہِ ہُدًی وَّ نُوْرٌ وَّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ مِنَ التَّوْرٰۃِ (اپنے سے قبل تورات کی تصدیق فرماتے تھے اور ہم نے ان کو انجیل دی جس میں ہدایت تھی اور وضاحت تھی اور وہ اپنے سے قبل کتاب یعنی تورات کی تصدیق کرتی تھی) مطلب یہ ہوا کہ ہم نے ان کو انجیل دی جس میں ہدایت و روشنی ثابت تھی اور وہ مصدق تھی۔ نحو : مصدقا اس ثابت کے متعلق ہے جس کے ساتھ فیہ لگتا ہے۔ اور فیہ اس کے قائم مقام ہے۔ ہدًی ونور۔ مرفوع ہیں بوجہ ثابتًاکے جس کے قائم مقام فیہ ہے۔ وَہُدًی وَّمَوْعِظَۃً (اور وہ سراسر ہدایت اور نصیحت تھی) یہ دونوں حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہیں۔ یعنی ہادیا اور واعظاً کے معنی میں ہیں۔ لِّلْمُتَّقِیْنَ (پرہیز گاروں کے لئے) کیونکہ وہ اس سے نفع اٹھانے والے ہیں۔