Ayah 5:76ذرہ بھر نفع و نقصان پر قدرت نہ رکھنے والا قادر مطلق کیسے بن گیا :
آیت 76 : قُلْ اَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَالَا یَمْلِکُ لَکُمْ ضَرًّا وَّلَا نَفْعًا۔ (کیا تم اللہ کے سواء ان چیزوں کو پوجتے ہو جو ذرہ بھر نفع نقصان کا اختیار نہیں رکھتے) من دون اللّٰہ سے مراد حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ایسی چیزیں جو تمہیں نقصان پہنچانے کی طاقت نہ رکھتی ہوں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ بلاء و مصائب تمہارے انفس و اموال میں اتارتے ہیں۔ اور نہ ہی وہ چیزیں جو تمہیں نفع دے سکیں۔ جیسے اللہ تعالیٰ بدن میں صحت اور وسعت رزق اور خوشحالی عنایت فرماتے ہیں۔ اور اس لیے بھی کہ انسان جس نفع و نقصان کی طاقت رکھتا ہے وہ بھی اللہ تعالیٰ کے پیدا کرنے سے ہے گویا کہ انسان کو اس پر بھی ذرہ بھر اختیار نہیں۔ اور یہ قطعی دلیل ہے کہ ان کا معاملہ ربوبیت کے منافی ہے۔ اس لئے کہ ان کو اس طرح قرار دیا۔ کہ وہ ذرہ بھر نفع و نقصان کی طاقت نہیں رکھتے۔ اور ربوبیت کی صفت تو یہ ہے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ کوئی مقدور اس کی قدرت سے نکل نہیں سکتا۔ وَاللّٰہُ ہُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ یہ اتعبدون سے متعلق ہے مطلب یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک کرتے ہو۔ اور اس سے ڈرتے نہیں ہو۔ حالانکہ وہ تمہاری تمام باتوں کو سننے والا اور تمہارے تمام اعتقادات کا علم رکھنے والا ہے۔
Ayah 5:77اہل کتاب کو غلو کی ممانعت :
آیت 77 : قُلْ یٰٓـاَھْلَ الْکِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِکُمْ ۔ (اے اہل کتاب اپنے دین میں غلو نہ کرو) غلو حد سے تجاوز کو کہتے ہیں۔ نصاریٰ کا غلو یہ تھا کہ ان کو ان کے مرتبے سے اٹھا کر الوہیت کے تخت پر بٹھا دیا تھا۔ اور یہود کا غلو یہ تھا کہ ان کو استحقاق نبوت سے ہی گرا دیا۔ غَیْرَ الْحَقِّیہ مصدر محذوف کی صفت ہے تقدیر عبارت یہ ہے غلوًا غیر الحق یعنی باطل غلو۔ وَلَا تَتَّبِعُوْٓا اَہْوَآئَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُیعنی تمہارے وہ اسلاف اور وہ مقتداء جو بعثت نبوی ﷺ سے پہلے گمراہی پر تھے۔ وَاَضَلُّوْا کَثِیْرًاان کو جو ان کا ساتھ دینے والے تھے۔ وَّضَلُّوْا گمراہ ہوئے جبکہ رسول اللہ ﷺ مبعوث ہوئے۔ عَنْ سَوَآئِ السَّبِیْلِجبکہ انہوں نے حضور ( علیہ السلام) کو جھٹلا دیا۔ آپ ﷺ سے حسد کیا اور آپ ﷺ کے خلاف بغاوت پر اتر آئے۔
Ayah 5:78بنی اسرائیل کا مستحق لعنت ٹھہرنا :
آیت 78 : لُعِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْم بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ عَلٰی لِسَانِ دَاوٗدَ وَعِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ کہا جاتا ہے کہ جب ایلہ کے لوگوں نے ہفتہ کے سلسلہ میں حد سے تجاوز کیا۔ تو دائود ( علیہ السلام) نے فرمایا : اللہم العنہم واجعلہم ٰایۃً اے اللہ تو ان پر لعنت کر اور ان کو عبرت کا نشان بنا دے۔ اس پر ان کو مسخ کر کے بندر بنادیا گیا۔ اور جب عیسیٰ کے ساتھیوں نے مائدہ کے بعد کفر اختیار کیا تو عیسیٰ نے ان الفاظ میں دعا کی اللہم عذب من کفر بعد ما اکل من المائدۃ عذابًا لم تعذبہ احدًا من العالمین۔ والعنہم کما لعنت اصحٰب السبت۔ اے اللہ ان کو عذاب دے جنہوں نے مائدہ کو کھانے کے بعد کفر کیا ہے ایسا عذاب جو جہان میں کسی کو نہیں دیا گیا۔ اور ان پر ایسی لعنت کر جس طرح ہفتہ والوں پر لعنت کی۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خنزیر بنادیا۔ ان کی تعداد پانچ ہزار مرد تھی۔ ذٰلِکَ بِمَا عَصَوْا وَّکَانُوْا یَعتَدُوْنَ لعنت کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے نافرمانی کی۔ اور وہ اس میں حد سے گزرنے والے تھے۔
Ayah 5:79منکر پر ترک ممانعت اعتداء ہے :
آیت 79 : پھر ان کی معصیت اور اعتداء کی وضاحت کی۔ کَانُوْا لَا یَتَنَاہَوْنَ (کہ وہ ایک دوسرے کو روکتے نہ تھے) ۔ عَنْ مُّنْکَرٍ فَعَلُوْہُ (اس برائی سے جو وہ کرتے تھے) ۔ آیت میں منکر کی صفت فعلوہ سے کی ہے۔ حالانکہ فعل کے بعد تو نہی نہیں ہوتی۔ مطلب یہ ہے کہ اس برائی کے باربار کرنے سے وہ باز نہیں رہتے تھے۔ جس کو ایک دفعہ کرلیتے یا اس برائی کی مثل وہ دوسرے کام کرنے سے باز نہیں رہتے تھے۔ جس برائی کو اختیار کرتے یا جس منکر کے کرنے کا ارادہ کرتے اس کے کرنے سے باز نہیں رہتے تھے۔ یا مراد یہ ہے اس منکر سے نہ رکتے تھے جس کو کرلیتے بلکہ ایسی برائی پر اصرار کرتے۔ کہا جاتا ہے فلان تناہی من الامرو انتہی عنہ جبکہ وہ اس سے باز آجائے اور اس کو چھوڑ دے۔ پھر ان کی بد اعمالیوں سے تعجب کیا اور اس کو قسم سے مؤکد کردیا یہ فرما کر لَبِئْسَ مَا کَانُوْا یَفْعَلُوْنَکہ وہ البتہ بہت برے کام کرتے تھے۔ نحو : اس میں دلیل ہے کہ منکر پر ممانعت کو چھوڑنا بڑا گناہ ہے۔ افسوس اس وقت کے مسلمانوں پر جنہوں نے اس بات کو بالکل چھوڑ دیا۔
Ayah 5:80کفار کی دوستی غضب ِالٰہی کا سبب ہے :
آیت 80 : تَرٰی کَثِیْرًا مِّنْہُمْ یَتَوَلَّوْنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا۔ (ان میں اکثریت کو دیکھو گے کہ کافروں سے دوستی اختیار کرنے والے ہیں) مراد منافقین اہل کتاب ہیں جو کہ مشرکین سے دوستی اور میل جول رکھتے تھے۔ لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَہُمْ اَنْفُسُہُمْ اَنْ سَخِطَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ ۔ (بہت بری ہے وہ چیز جس کو انہوں نے اپنے نفسوں کے لئے آگے بھیجا ہے اللہ تعالیٰ ان پر ناراض ہوگئے۔
یعنی وہ چیز اللہ تعالیٰ کے غصے کا سبب بنی۔ ) وَفِی الْعَذَابِ ہُمْ خٰلِدُوْنَوہ جہنم میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔
Ayah 5:81موالاتِ مشرکین علامت نفاق ہے :
آیت 81 : وَلَوْ کَانُوْا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ یعنی خالص ایمان جو نفاق کی ملاوٹ سے پاک ہوتا ہے۔ وَالنَّبِیِّسے مراد حضرت محمد ﷺ ہیں وَمَآ اُنْزِلَ اِلَیْہِیعنی قرآن مَااتَّخَذُوْہُمْ اَوْلِیَآئَ وہ کافروں کو دوست نہ بنائے۔ یعنی مشرکین کی موالات ان کے نفاق پر دلالت کرتی ہے۔ وَلٰکِنَّ کَثِیْرًا مِّنْہُمْ فٰسِقُوْن جو کہ اپنے کفر و نفاق پر ہمیشگی اختیار کرنے والے ہیں۔ یا اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر یہ یہود ایمان لاتے اور موسیٰ ( علیہ السلام) اور تورات پر یقین رکھتے ہوتے تو مشرکین کو دوست نہ بناتے۔ جیسا کہ مسلمان ان سے موالات کرنے والے نہیں ہیں۔ لیکن اکثر ان میں سے فاسق ہیں۔ اپنے دین سے نکلنے والے ہیں۔ ان کا بالکل کوئی دین ہی نہیں۔
Ayah 5:82علماء و رھبان کا وجود عداوت میں کمی کا باعث ہے :
آیت 82 : لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَۃً لِّلَّذِیْنَ ٰامَنُوا الْیَہُوْدَ ۔ (تم ضرور یہود کو ایمان والوں کی دشمنی میں سخت تر پائو گے) ۔
: الیہود یہ تجدن کا مفعول ثانی ہے۔ اور عداوۃً یہ تمیز ہے۔ وَالَّذِیْنَ اَشْرَکُوْایہ یہود پر عطف کیا گیا ہے۔ وَلَتَجِدَنَّ اَقْرَبَہُمْ مَّوَدَّۃً لِّلَّذِیْنَ ٰامَنُوا الَّذِیْنَ قَالُوْٓا اِنَّا نَصٰرٰیلام عداوت ومودت کے متعلق ہے۔ اس میں یہود کی سخت دشمنی کو بیان کیا گیا اور نصاریٰ کی نرمی کو ذکر کیا گیا۔ اور مسلمانوں کے ساتھ دشمنی میں یہود کو مشرکین کا ساتھی قرار دیا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس بات پر متنبہ کردیا کہ ان کا قدم مشرکین سے بھی آگے ہے۔ اس لیے مشرکین سے ان کو مقدم ذکر کیا گیا۔ ذٰلِکَ بِاَنَّ مِنْہُمْ قِسِّیْسِیْنَ وَرُہْبَانًا۔ قسِّیسین سے مراد علماء اور رہبان سے مراد عباد ہیں۔ وَّاَنَّہُمْ لَا یَسْتَکْبِرُوْنَ نصار یٰ کے نرمی والے پہلو کی علت بیان فرمائی۔ اور مسلمانوں کے ساتھ قریبی موافقت کی وجہ بتلائی کہ ان میں علماء اور عباد ہیں ان میں عاجزی ہے اور یہود اس کا الٹ ہیں۔
فائدہ : اس میں دلیل ہے کہ علم انتہائی مفید چیز ہے۔ جو خیر کی طرف راہنما ہے۔ اگرچہ وہ علم علمائے نصاریٰ کا ہی ہو اور اسی طرح آخرت کا علم اگرچہ وہ کسی راہب میں ہو۔ اور تکبر سے برأت کا ذریعہ ہے خواہ وہ کسی نصرانی میں ہو۔
Ayah 5:83رقت قلب میں حضرت نجاشی ؓ اور وفد نجاشی کی تعریف :
آیت 83 : وَاِذَا سَمِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَی الرَّسُوْلِ تَرٰٓی اَعْیُنَہُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوْا مِنَ الْحَقِّ اس میں رقت قلب سے نصاریٰ کی تعریف کی۔ اور یہ بیان کیا کہ وہ قرآن سن کر روتے ہیں۔ جیسا کہ مروی ہے کہ نجاشی ؓ نے حضرت جعفر بن ابی طالب ؓ کو کہا۔ جب اس کی مجلس میں مہاجرین اور مشرکین جمع ہوئے اور مسلمان قرآن پڑھتے تھے۔ کہ تمہاری کتاب میں مریم ( علیہ السلام) کا تذکرہ ہے۔ جعفر ؓ نے کہا اس میں ایک سورت ایسی ہے جس کا نام ان کے نام پر ہے۔ چناچہ حضرت جعفر ؓ نے سورة مریم ذلک عیسیٰ بن مریم آیت 34۔ تک اور سورة طہٰ وہل اتاک حدیث موسٰی آیت 9۔ تک پڑھ کر سنائی۔ تو نجاشی رو پڑا۔ اسی طرح اس کے ان لوگوں کو پیش آیا جو وفد کی صورت میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچے۔ ان کی تعداد ستّر افراد پر مشتمل تھی۔ جب ان پر سورة یٰسین پڑھی گئی تو وہ رو پڑے تفیض من الدمع ان کی آنکھیں آنسوئوں سے پر ہیں یہاں تک کہ بہہ پڑیں۔ کیونکہ برتن کا بہنا اس کے بھر جانے کے بعد ہوتا ہے یا دوسرا معنی یہ تاکہ اس کے جوانب میں جو کچھ ہے اس کا علم ہوجائے۔ پس بہہ جانا جو بھرنے کے بعد ہوتا ہے بہہ جانے کے قائم مقام رکھا۔ یا ان کے رونے کے وصف میں مبالغہ مقصود ہے۔ پس ان کی آنکھوں کو اس طرح قرار دیا گویا بذات خود بہہ رہی ہیں یعنی رونے کی وجہ سے بہہ رہی ہیں۔ مما عرفوا میں من ابتدائے غایت کیلئے ہے۔ کہ یہ آنسو بہانا ابتداء ً ہے۔ اور حق کی پہچان کی وجہ سے پیدا ہوا ہے اور اسی کی وجہ سے ہے۔ اور من الحق میں من۔ ما عرفوا کے موصول ہونے کی وضاحت کے لئے ہے۔ یا یہ بھی تبعیضیہ ہے اس طرح کہ انہوں نے حق کو پہچانا۔ جس نے ان کو رلا دیا۔ پس ان کا کیا حال ہوتا اگر وہ حق کو مکمل پہچان لیتے۔ اور قرآن مجید پڑھتے اور سنت کی پیروی کرتے۔ یَقُوْلُوْنَیہ عرفوا کی ضمیر فاعلی سے حال ہے۔ رَبَّنَآ ٰامَنَّااے ہمارے رب ہم محمد ﷺ پر ایمان لائے۔ مراد اس سے اقرار ایمان اور اس میں داخل ہونا ہے۔ فَاکْتُبْنَا مَعَ الشّٰہِدِیْنَ ۔ شاہدین سے مراد امت محمد ﷺ ہیں جو کہ تمام امتوں پر قیامت کے دن گواہ ہونگے۔ جیسا کہ اس آیت میں ہے لتکونوا شہداء علی الناس (البقرہ۔ آیت 143) انہوں نے یہ بات اس لئے کہی کیونکہ انجیل میں انہوں نے اس امت کا تذکرہ اس طرح پایا۔
Ayah 5:84اللہ کے انعام کی طمع موجبات ایمان سے ہے :
آیت 84 : وَمَا لَنَا لَا نُؤْمِنُ بِاللّٰہِایمان نہ لانے پر انکار اور استبعاد کا اظہار ہے۔ کہ آخر ہم ایمان قبول کیوں نہ کریں جبکہ موجبات ایمان موجود ہیں۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کے انعام کی طمع ہے جو نیک لوگوں کی صحبت سے ان کو میسر آئی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب وہ اپنے علاقے میں لوٹ کر گئے تو ان کی قوم نے ان کو ملامت کی تو انہوں نے یہ جواب دیا۔ ومالنا الآیہ یہ مبتداء اور خبر ہے اور لا نومن اس کا حال ہے یعنی غیر مؤمنین جیسے کہتے ہیں مالک قائما تو کیوں کھڑا ہے۔ وَمَا جَآئَ نَا مِنَ الْحَقِّ اس سبب سے کہ ہمارے پاس حق آچکا۔ یعنی محمد ﷺ اور قرآن کی صورت میں۔ وَنَطْمَعُیہ نؤمن کی ضمیر سے حال ہے تقدیر عبارت یہ ہوگی و نحن نطمع حالانکہ ہم طمع رکھتے ہیں۔ کہ اَنْ یُّدْخِلَنَا رَبُّنَا کہ ہمارا رب ہمیں جنت میں داخل کر دے۔ مَعَ الْقَوْمِ الصّٰلِحِیْنَ انبیاء اور مؤمنوں کے ساتھ۔
Ayah 5:85آیت 85 : فَاَثَابَہُمُ اللّٰہُ بِمَا قَالُوْا قول سے ربنا ٰامنا مراد ہے اور اس کی تصدیق جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَاالْاَنٰہَرُ خٰلِدِیْنَ فِیْہَا وَذٰلِکَ جَزَآئُ الْمُحْسِنِیْنَ ہے۔
مسئلہ : اس میں دلیل ہے کہ اقرار ایمان میں داخل ہے جیسا کہ فقہاء کا مذہب ہے۔
فرقہ کر امیہ کے قول کی تردید :
کر امیہ کہتا ہے کہ ایمان صرف قول کا نام ہے۔ اور دلیل میں بما قالوا کو پیش کیا۔ مگر آنسو بہانے سے جو ایمان کی تعریف کی گئی پہلے اور سیاق میں احسان کے ساتھ وہ ان کے قول کی تردید کر رہی ہے۔ غور تو کرو۔ فقط قول ایمان کیسے بن سکتا ہے۔ جبکہ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ومن الناس من یقول ٰامنا باللّٰہ وبالیوم الاٰخر وماہم بمؤمنین (البقرہ۔ 8) منافقین سے ایمان کی نفی کی گئی حالانکہ ان کا قول ٰامنّا تو موجود تھا۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ تصدیق قلبی نہ تھی۔
اہل معرفت کی علامات :
اہل معرفت نے فرمایا کہ عارف میں تین باتیں پائی جانی چاہئیں نمبر 1۔ سختی پر رونا۔ نمبر 2۔ عطاء پر دعا کرنا۔ نمبر 3۔ قضاء پر راضی ہونا۔ جو معرفت کا مدعی ہو اس میں یہ تین باتیں نہ پائی جائیں تو وہ اپنے دعوے میں جھوٹا ہے۔
Ayah 5:86تردید حق کا اثر :
آیت 86 : وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَکَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَآ اُولٰٓپکَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ یہ دشمن کے حق میں تردید حق کا اثر ذکر فرمایا۔
نحو : پہلی آیت میں اولیائے برحق کے قبول کرنے کا اثر مذکور تھا۔ یہ صحابہ کرام ؓ کی اس جماعت کے سلسلہ میں اتری جنہوں نے حلف اٹھایا کہ وہ رہبانیت اختیار کرلیں اور ٹاٹ پہنیں اور ساری رات قیام کریں اور تمام دن روزے رکھیں اور زمین میں سیاحت کریں اور اپنے مذاکیر کو کاٹ ڈالیں اور گوشت و چربی کو ترک کردیں اور عورتوں سے قربت ترک کردیں اور خوشبو نہ لگائیں تو یہ آیت اتری۔
Ayah 5:87حلال سے حرام جیسا سلوک مت کرو :
آیت 87 : یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَیِّبٰتِ مَآ اَحَلَّ اللّٰہُ لَکُمْ ۔ اَحَلَّ سے مراد جو پسندیدہ اور لذیذ حلال میں سے بنایا گیا ہو۔ اور لا تحرموا کا مطلب یہ ہے کہ ان سے اسی طرح نفع نہ اٹھائو جیسے حرام سے نفع نہیں اٹھایا جاتا۔ یا یہ مت کہو کہ ہم نے ان کو اپنے اوپر حرام کرلیا ہے۔ زہد کے طور پر اس کے ترک پر پختہ عزم میں مبالغہ اختیار کرتے ہوئے اور بہت بےرغبتی ظاہر کرتے ہوئے۔ روایت میں ہے کہ آپ ﷺ مرغی کا گوشت اور فالودہ استعمال فرماتے۔ اور آپ کو حلوہ اور شہد بہت پسند تھے۔ اور آپ کا ارشاد ہے کہ مومن خود میٹھا ہے حلوہ کو پسند کرتا ہے (یہ فردوس دیلمی کی روایت ہے) حضرت حسن (رح) فرماتے ہیں کہ مجھے ایک کھانے میں بلایا گیا جبکہ میرے ساتھ فرقد سبخی اور اس کے ساتھی بھی تھے۔ وہ دستر خوان کے گردا گرد بیٹھ گئے۔ دسترخوان پر مرغ مسلّم ‘ فالودہ وغیرہ تھا۔ فرقد ایک طرف ہوگیا۔ حضرت حسن (رح) نے سوال کیا کہ اے فرقد کیا تو روزہ دار ہے اس کے ساتھیوں نے کہا نہیں لیکن وہ ان رنگا رنگ کھانوں کو ناپسند کرتا ہے۔ حضرت حسن (رح) اس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اے فرقد کیا شہد کی مکھی کا لعاب گندم کے لباب کے ساتھ خالص گھی میں بنایا گیا ہو کیا اس کو کوئی مسلمان عیب لگا سکتا ہے ؟ انہیں سے روایت ہے کہ ان کو بتلایا گیا کہ فلاں شخص فالودہ نہیں کھاتا۔ اور کہتا اس طرح ہے کہ میں اس کا شکریہ ادا نہیں کرسکتا۔ تو آپ نے فرمایا عجیب بات ہے کیا وہ ٹھنڈا پانی پیتا ہے ؟ انہوں نے کہا جی ہاں فرمایا پھر وہ جاہل ہے اللہ تعالیٰ کا انعام ٹھنڈے پانی میں فالودہ سے بڑھ کر ہے۔ وَلَا تَعْتَدُوْا ( تم حد سے تجاوز نہ کرو) جو تمہارے لیے حلال و حرام مقرر کردی گئی ہیں یا جو چیزیں تمہارے لئے اللہ تعالیٰ نے حلال کی ہیں ان کو چھوڑ کر حرام کی طرف تعدّی نہ کرو یا طیبات کے کھانے میں اسراف نہ کرو۔ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ (اللہ تعالیٰ کو وہ لوگ پسند نہیں جو اس کی حدود میں تعدّی کرنے والے ہیں) ۔
Ayah 5:88حلال کا استعمال تقویٰ ہے :
آیت 88: وَکُلُوْا مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّٰہُ حَلٰلاً طَیِّبًا یہ مما رزقکم اللّٰہ سے حال ہے وَاتَّقُوا اللّٰہَ ۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا اس کو لازم پکڑنے کی تاکید ہے۔ اور اس میں مزید تاکید اپنے ارشاد الَّذِیْ اَنْتُمْ بِہٖ مُؤْمِنُوْنَسے کردی کیونکہ ایمان باللہ تقویٰ کو لازم کرنا ان تمام کاموں میں جن کا اللہ نے حکم دیا۔ اور جن کی ممانعت فرمائی۔
Ayah 5:89یمین لغو کی تعریف اور اس پر عدم مواخذہ :
آیت 89: لَا یُؤَاخِذُکُمُ اللّٰہُ بِاللَّغْوِ فِیْ اَیْمَانِکُمْ ۔ (اللہ تعالیٰ تمہاری لغو قسموں پر مؤاخذہ نہیں فرماتا) یمین لغو وہ ہے جو ساقط الاعتبار ہو۔ اس پر کوئی حکم نہ لگے۔ وہ اس طرح ہے کہ کسی چیز پر حلف اٹھائے۔ یہ خیال کر کے کہ وہ اس طرح ہے حالانکہ وہ اس کے گمان کے مطابق نہ تھی۔ بعض صحابہ کرام ؓ نے طیبات کو اپنے اوپر حرام کرنے کی قسم اس بنا پر اٹھائی تھی کہ یہ عبادت ہے جب وہ آیت اتری تو انہوں نے کہا کہ ہماری قسموں کا کیا بنے گا ؟ تو یہ آیت اتری۔ امام شافعی (رح) کے نزدیک یمین لغو وہ ہے جو زبان پر بلا قصد جاری ہو۔ وَلٰکِنْ یُّؤَاخِذُکُمْ بِمَا عَقَّدْتُّمُ الْاَیْمَانَ جو تم نے پکی قسمیں اٹھائی تھیں تعقید توثیق کو ہی کہا جاتا ہے۔
قراءت و نحو :
عقدّتم۔ حفص نے عاصم سے تشدید کے ساتھ اور حمزہ ٗ کسائی ٗ عاصم بروایت شعبہ تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ العقد ؔ موافقت پر پختہ ارادہ کرنا۔ اور اس کا ماضی میں تصور نہیں ہوسکتا۔ یمین غموس میں کفارہ نہیں ہے امام شافعی (رح) کے نزدیک دل سے ارادہ کرنا۔ اور یمین غموس مقصودہ (قصد کی ہوئی) پس وہ منعقد ہوجائے گی۔ پس اس میں کفارہ مشروع ہوگا۔ مطلب یہ ہے کہ جب تم قسم توڑ دو تو اللہ تعالیٰ اس پر مواخذہ نہ کریں گے تمہارے عقد باندھنے کے سبب پس وقت مواخذہ کو حذف کردیا کیونکہ وہ ان کے ہاں جانا پہچانا تھا یا تمہارے عقد کو توڑ دینے کے سبب سے گویا اس صورت میں مضاف محذوف ہے۔
قسم توڑنے کا کفارہ :
فَکَفَّارَتُہٓٗ پس اس کے توڑنے کا کفارہ یا قسم باندھنے کا کفارہ ہے۔ کفارہ یہ ایسا ایک مرتبہ کا کام جس کی حالت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ غلطی کو مٹا دے۔ یعنی چھپا دے۔ اِطْعَامُ عَشَرَۃِ مَسٰکِیْنَصبح شام کا کھانا کھلانا اور یہ بھی درست ہے کہ ان کو بطور تملیک ایک ٹائم ہی دے دیا جائے۔ ہر ایک کو نصف صاع گندم ٗ ایک صاع جو ٗ ایک صاع کھجور ٗ امام شافعی (رح) کے ہاں ایک مسکین کو ایک مد دیا جائے گا۔ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ اَہْلِیْکُمْوہ درمیانہ درجہ کا کھانا جو تم اپنے اہل و عیال کو کھلاتے ہو۔ صبح شام گندم سے اگر وسعت ہو تو تین مرتبہ سالن کے ساتھ۔ اور کم سے کم ایک مرتبہ کھجور میں سے یا جو میں سے اَوْکِسْوَتُہُمْ یہ اطعام پر عطف ہے۔ یا پھر من اوسط کے محل پر عطف ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ من اوسط یہ اطعام سے بدل ہے اور کلام میں مقصود بدل ہوتا ہے کسوہ سے مراد اتنا کپڑا جس سے ستر چھپ جائے۔ حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ ازار ٗ قمیص یا رداء۔ اَوْ تَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ ایک مومنہ یا کافرہ گردن آزاد کرنا۔ کیونکہ نص مطلق ہے۔ امام شافعی (رح) نے کفارئہ قتل پر محمول کرتے ہوئے یہاں بھی رقبہ مومنہ ضروری قرار دی ہے۔ او کا معنی اختیار ہے کہ تین کفارات میں سے جس کو چاہو ادا کردو۔ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ جو ان میں سے کسی ایک کو بھی نہ پائے وہ تین دن روزے رکھے۔ فِصِیَامُ ثَلٰثَۃِ اَیَّامٍ یہ روزے پے درپے رکھے کیونکہ قراءت ابی اور ابن مسعود ؓ میں اسی طرح وارد ہے ذٰلِکَیہ مذکورہ حکم کَفَّارَۃُ اَیْمَانِکُمْ اِذَاحَلَفْتُمْجب تم قسم توڑ دو ۔ حنث کا تذکرہ چھوڑ دیا کیونکہ یہ معلوم ہے کہ کفارہ فقط قسم سے واجب نہیں ہوتا۔ اسلئے قسم ٹوٹنے سے پہلے کفارہ جائز نہیں ہے۔ وَاحْفَظُوْٓا اَیْمَانَکُمْتم اپنی قسموں کو پورا کرو۔ اور ان کو مت توڑو۔ جبکہ توڑنے میں بھلائی نہ ہو۔ یا بالکل قسم نہ اٹھائو۔ (کہ توڑنے کی نوبت آئے) کَذٰلِکَاس وضاحت کی طرح یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمْ ٰایٰٰتِہٖ اللہ تعالیٰ تمہارے لئے اپنی آیات بیان فرماتے ہیں آیات سے مراد شریعت کے نشانات اور احکام شرع ہیں۔ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ تاکہ تم شکریہ ادا کرو۔ اس کی اس نعمت کا جو تمہیں بتلاتے اور اس سے عہدہ برآ ہونا تمہارے لئے آسان کرتے ہیں۔
Ayah 5:90شراب و جوئے کی حرمت کو پختہ کرنے کے پانچ انداز :
آیت 90: یٰٓـاَیُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْٓا اِنَّمَا الْخَمْرُوالْمَیْسِرُ ۔ (اے ایمان والو ! بیشک شراب اور جوا) المیسرکا معنی جوا۔ وَالْاَنْصَابُ : بت کیونکہ ان کو گاڑ کر ان کی پوجا کی جاتی ہے۔ وَالْاَزْلَامُ جوئے کے تیر جن کا شروع سورت میں ذکر ہوا۔ رِجْسٌ پلید ہیں یا خبیث گندگی والے ہیں۔ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ کیونکہ شیطان ان پر آمادہ کرتا ہے۔ گویا یہ اسی کا عمل اور کارروائی ہے۔ اور فَاجْتَنِبُوْہُ میں ضمیر رِجْسٌ کی طرف لوٹ رہی ہے یا عمل شیطان کی طرف راجع ہے۔ یا مذکور کی طرف راجع ہے۔ یا مضاف محذوف ہے گویا اس طرح فرمایا گیا انما تعاطی الخمر والمیسر بیشک شراب و جوا کی مشغولیت سے پرہیز کرو۔ اس لئے تو اس کو رِجْسٌ فرمایا۔ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ تاکہ تم کامیاب ہوجائو۔ شراب اور جوئے کی حرمت کو کئی لحاظ سے پکا کردیا۔ نمبر 1۔ جملے کو انَّما کلمہ حصر سے شروع فرمایا۔ نمبر 2۔ ان کو عبادت اصنام کے ساتھ ملا کر ذکر فرمایا۔ ان ارشادات نبوت میں اسی طرف اشارہ فرمایا شارب الخمر کعا بد الوثن (مسند البزاز) نمبر 3۔ ان کو رجس عمل اعمال شیطانی میں سے قرار دیا کیونکہ شیطان سے شر کے سواء کچھ نہیں ملتا۔ نمبر 4۔ ان سے پرہیز کا حکم دیا۔ نمبر 5۔ ان سے پرہیز کو فلاح قرار دیا جب پرہیز فلاح ہے تو استعمال یقینا خسارہ ہے۔
Ayah 5:91شراب و جوئے کی بنیادی خرابیاں :
آیت 91: اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَکُمُ الْعَدَاوَۃَ وَالْبَغْضَآئَ فِی الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ وَیَصُدَّکُمْ عَنْ ذِکْرِ اللّٰہِ وَعَنِ الصَّلٰوۃِ ۔ (شیطان تمہارے درمیان شراب و جوئے سے دشمنی و بغض ڈالنا چاہتا ہے اور تمہیں اللہ کی یاد و نماز سے روکنا چاہتا ہے) اس آیت میں شراب وجوا سے پیدا ہونے والا فساد ووبال ذکر فرمایا۔ نمبر 1۔ دشمنی اور بغض شرابیوں اور جوا بازوں میں پیدا ہوتا ہے۔ نمبر 2۔ اللہ تعالیٰ کی یاد سے رکاوٹ بنتے ہیں۔ نمبر 3۔ نماز کے اوقات کی رعایت سے باز رکھنے والے ہیں نماز کو خصوصی مقام کی وجہ سے تمام اذکار میں سے ذکر فرمایا گویا اس طرح فرمایا۔ کہ یہ نماز سے خاص طور پر رکاوٹ بنتے ہیں یہاں خمرو میسر کو انصاب واز لام کے ساتھ اولاً جمع فرما کر پھر الگ ان کا ذکر کیا۔ کیونکہ مخاطب ایمان والے ہیں۔ بلاشبہ ان کو اس شراب نوشی کی قبیح عادت سے روکا اور جواء بازی کی عادت جو گھٹی میں پڑی تھی اور انصاب واز لام کا تذکرہ در حقیقت شراب و جوئے کی حرمت کو اور پختہ کرنے کے لئے فرمایا۔ اور یہ ظاہر کرنے کے لئے کہ یہ مشرکین کے اعمال میں سے ہے گویا بتوں کے پجاری اور شراب نوش اور جواء باز کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ پھر ان کو الگ لایا گیا۔ تاکہ واضح کردیا جائے کہ یہاں اصل ان کا تذکرہ کرنا مقصود ہے۔ فَہَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَہُوْنَیہ نہی کا انتہائی بلیغ انداز ہے۔ گویا اس طرح فرمایا۔ کہ تم پر قسم قسم کے زو اجر و صوارف پڑگئے ہیں۔ کیا ان تمام ممانعتوں کے باوجود رکتے ہو یا تم اسی طرز پر ہو۔ جس پر تم تھے۔ گویا تم نے کوئی نصیحت حاصل نہیں کی اور نہ تم ڈرے ؟
Ayah 5:92اللہ اور رسول کی اطاعت سے مت منہ موڑو :
آیت 92: وَاَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَاحْذَرُوْا۔ (اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور محتاط رہو) تم احتیاط کرنے والے اور ڈرنے والے بنو۔ کیونکہ جب وہ احتیاط کرتے تو احتیاط ان کو ہر برائی سے بچا لیتی۔ اور ہر بھلائی پر عمل پیرا کردیتی۔ فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ اگر تم اس سے منہ موڑو گے فَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَا عَلٰی رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ یعنی یقین کرو کہ تم اس کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ رسول اللہ ﷺ سے منہ موڑ کر۔ کیونکہ ان کی ذمہ داری واضح طور پر صرف پہنچانا ہے بیشک تم اپنا نقصان کرو گے۔ جب تم اس سے اعراض کرو گے۔ جس کے تم مکلف بنائے گئے ہو۔
Ayah 5:93آیت 93… تحریم قبل استعمال میں گناہ نہیں جبکہ اس وقت کے احکام پر عمل پیرا ہوں :
: یہ ان لوگوں کے بارے میں اتری جو شراب و جوئے کے تحریم سے قبل کچھ عادی تھے۔ لَیْسَ عَلَی الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِیْمَا طَعِمُوْا۔ (ان لوگوں پر جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے کچھ گناہ نہیں ‘ اس میں انہوں نے کمایا) ۔ یعنی انہوں نے شراب پی اور تحریم سے قبل جوئے کا مال کھایا۔ اِذَا مَااتَّقَوْاجب کہ وہ شرک سے بچتے ہوں۔ وَّ ٰامَنُوْا اور اللہ تعالیٰ پر یقین رکھتے ہوں۔ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰت اور ایمان کے بعد عمل صالح کرنے والے ہوں۔ ثُمَّ اتَّقَوْا پھر تحریم کے بعد شراب اور جوئے سے بچنے والے ہوں وَّ ٰامَنُوْا اور ان کی حرمت پر یقین کرنے والے ہوں ثُمَّ اتَّقَوْا پھر وہ تمام محرمات سے بچتے ہوں۔ یا پہلا اتقوا شرک سے بچنے اور دوسرا محرمات سے بچنے اور تیسرا شبہات سے بچنے کے لیے لایا گیا وَّاَحْسَنُوْا اور وہ لوگوں پر احسان کرنے والے ہوں وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَاللہ تعالیٰ کو مخلص لوگ پسند ہیں۔
Ayah 5:94: آیت 94: جب اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کا حدیبیہ والے سال شکار کے ذریعے امتحان لیا۔ صحابہ کرام ؓ حالت احرام میں تھے۔ شکار کی کثرت تھی۔ یہاں تک کہ کجاو وں کے گرد شکار جمع ہوجاتے۔ جن کو ہاتھ سے پکڑا جاسکتا تھا۔ اور نیزوں کے ذریعے شکار کیا جاسکتا تھا تو یہ آیت اتری :
حدیبیہ والے سال شکار سے آزمائش :
یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا لَیَبْلُوَنَّکُمُ اللّٰہُ بِشَیْئٍ مِّنَ الصَّیْدِ تَنَالُہٗ اَ یْدِیْکُمْ وَرِمَا حُکُمْ یبلو کا معنی امتحان لینا ہے۔ اللہ کی طرف سے جب ہو تو اس کا مطلب اب بندے کے متعلق اللہ تعالیٰ کے علم میں جو ہے اس کو ظاہر کرنے کے لئے (نعوذ باللہ) یہ امتحان غیر معلوم کو معلوم کرنے کے لئے نہیں ہوتا۔ من یہ تبعیضیہ ہے کیونکہ ہر شکار حرام نہیں یا بیان جنس کے لئے ہے۔ لِیَعْلَمَ اللّٰہُ مَنْ یَّخَافُہٗ بِالْغَیْبِتاکہ اللہ تعالیٰ اپنے سے ڈرنے والے کا خوف ظاہر کر دے۔ کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈر کر موجودہ شکار سے رکتا ہے یا نہیں۔ جیسا کہ وہ اس کے وجود سے قبل جانتا ہے کہ ایسا پایا جائے گا۔ یہ اس لیے کہا تاکہ بندے کو اس کے عمل پر ثواب ملے نہ کہ اس علم پر جو وہ اس کے متعلق جانتا ہے۔ فَمَنِ اعْتَدٰی بَعْدَ ذٰلِکَ ۔ ذالک کا مشارٌالیہ ابتلاء ہے۔ فَلَہٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌاس کے لئے دردناک عذاب ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے ارشاد بشیٔ من الصید کہہ کر اس کو قلیل قرار دیا تاکہ معلوم ہوجائے یہ کوئی بڑی آزمائش نہیں۔ اور تنالہ یہ بشیٍٔ کی صفت ہے۔
Ayah 5:95آیت 95: یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا لَا تَقْتُلُوا الصَّیْدَ اے ایمان والو ! تم شکار کو قتل نہ کرو۔ الصید سے مراد مصید بمعنی شکار کیا ہوا ہے کیونکہ قتل اسی میں ہوسکتا ہے۔ وَاَنْتُمْ حُرُمٌجب کہ تم محرم ہو۔ حرم جمع حرام ہے۔ جیسے رُدُوح جمع رداح ہے۔
نحو : تقتلوا کی ضمیر فاعلی سے انتم حرم حال ہے۔
حرام کی حالت کے شکار میں تعمد و خطا برابر ہے :
وَمَنْ قَتَلَہٗ مِنْکُمْ مُّتَعَمِّدًایہ ضمیر فاعلی سے حال ہے۔ یعنی ذاکرًا لا حرامہ۔ یا عالمًا۔ اس کو احرام یاد ہو۔ یا وہ جانتا ہو کہ وہ جس جانور کو قتل کر رہا ہے اس کا قتل اس پر حرام ہے اگر اس نے بھول کر قتل کردیا یا اس نے شکار کو تیر مارا اور اس کا گمان تھا کہ وہ شکار نہیں۔ تو اس صورت میں وہ خطاء کار ہے۔ آیت میں تعمد کی شرط لگائی گئی ہے باوجود یہ کہ محظورات احرام میں خطا و عمد کا ایک ہی حکم ہے۔ کیونکہ آیت اس کے بارے میں اتری تھی جس نے عمداً ایسا کیا تھا۔ روایت میں آیا ہے کہ آپ ﷺ کے سامنے ایک حمار و حشی ظاہر ہوا۔ ابو الیسر ؓ نے اس پر حملہ کر کے اس کو قتل کردیا۔ ان کو کہا گیا کہ تم نے شکار کو قتل کیا ہے حالانکہ تم حالت احرام میں ہو۔ تو یہ آیت اتری اور دوسری بات یہ ہے کہ اصل تو متعمد کا فعل ہے اور خطاء کو اس کے ساتھ تغلیظاً شامل کیا گیا ہے امام زہری سے مروی ہے کہ کتاب اللہ میں حکم عمداً کا اترا اور سنت میں خطاء کا تذکرہ وارد ہے۔ فَجَزَآئٌ مِّثْلُ مَاقَتَلَ یہ حمزہ ٗ کسائی ٗ عاصم کی قراءت ہے پس اس کے ذمہ بدلہ ہے جو مماثل ہوگا۔ اس کے جو اس نے شکار مارا تھا۔ اور وہ شکار کی قیمت ہے۔ اس کی قیمت وہیں لگائی جائیگی۔ جہاں شکار کیا گیا۔ اگر اسکی قیمت ہدی کی قیمت کو پہنچ جائے اسکو ہدی چوپائوں میں سے جس کی قیمت شکار کے برابر ہو دینا پڑے گی اور اسکو اختیار ہے کہ اسکی قیمت کے بدلے کھانا خریدکر ہر مسکین کو نصف صاع گندم یا ایک صاع کھجور وغیرہ دے اور اگر چاہے تو ہر مسکین کے طعام کے بدلے روزہ رکھے۔ پس اگر اس جانور کی نظیر نہ ہو تو اسی طرح حکم ہے جو گزرا ہے۔
شکار والا مثل سے بدلہ دے :
قراءت : دوسرے قراء نے فجزائُ مثلِ پڑھا ہے اور اس کی اصل فجزائُ مثلَ ما قتل یعنی اس پر لازم ہے کہ وہ بدلہ دے اس کی مثل جو اس نے قتل کیا۔ پھر اس کو مضاف کردیا گیا۔ جیسا تم کہو گے عجبت من ضرب زیدًا پھر من ضرب زید۔ مِنَ النَّعَمِیہ قتل میں ضمیر سے حال ہے اس لئے کہ مقتول چوپائوں میں سے ہو۔ یا یہ جزاء کی صفت ہے۔ یَحْکُمُ بِہٖفیصلہ کریں مثل کا جو قتل ہوا۔ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْکُمْ دو مسلمان عادل فیصلہ کرنے والے ہوں۔ اس میں دلیل ہے کہ مثل قیمت ہے کیونکہ قیمت ہی نظر و فکر و اجتہاد کی محتاج ہے۔ مشاہداتی چیزیں اس کی محتاج نہیں۔ کیونکہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ میں تو مثل مطلق کا ذکر ہے اور اجماع مثل صوری اور مثل معنوی کے لئے مفید ہے۔ یا صرف معنوی کے لئے فائدہ مند ہے نہ کہ صورت کے لیے۔ یا صورت کے لئے مفید بلا معنی ہے۔ اور قیمت کو مثل صوری اجماعاً قرار دیا گیا۔ جن کی کوئی مثال نہیں۔ پس اب اس کے علاوہ اور کوئی چیز مراد نہیں ہوسکتی۔ اس لئے کہ مشترک میں عموم کا معنی نہیں پایا جاتا۔
ایک اعتراض اور اس کا جواب :
اعتراض : من النعم کے ارشاد سے مثل بالقیمت کی نفی ہوتی ہے۔ کیونکہ مال تو چوپایہ نہیں۔ جواب : جس نے قیمت کو واجب کیا اس کو اختیار دیا جائے گا کہ وہ اس کے بدلے ہدی خریدے یا طعام یا روزے رکھے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے آیت میں اختیار دیا ہے پس من النعم یہ اس ہدی کے لئے بیان ہوگا۔ جو اس قیمت سے خریدا جائے۔ ان اختیاری صورتوں میں سے ایک صورت میں۔ کیونکہ جس نے شکار کی قیمت لگائی اور قیمت سے ہدی خرید ی۔ پھر ہدی دیدی۔ تو اس نے چوپایوں میں سے جو جانور قتل کیا تھا۔ اس کا بدلہ مثل دے دیا۔ اس طور پر کہ آیت میں ہدی سے کفارہ ادا کرنے کا یا طعام سے کفارہ ادا کرنے یا روزے رکھنے کا اختیار حاصل تھا۔ اور یہ مطلب اسی وقت درست ہوتا ہے کہ جب اس نے قیمت کا اندازہ لگایا اور قیمت میں غور و فکر کیا۔ کہ تینوں میں سے کس کا انتخاب کرے۔ باقی اگر اس نے نظیر کا قصد کیا۔ اور بلا اختیار اس کو لازم قرار دیا تو پھر بھی اگر کوئی ایسی چیز آجائے گی جس کی کوئی مثل نہیں تو اس کی قیمت لگائے گا۔ پھر اس کو طعام و صیام کے درمیان اختیار دیا جائے گا۔ پس اس طرح ماننے سے آیت کے مفہوم سے دوری لازم آتی ہے۔ ذرا آیت کے اس حصہ او کفارۃ طعام مساکین او عدل ذالک صیاماہٖ پر غور کرو تینوں چیزوں میں اختیار کیسے ہوا۔ اور اس کے لئے قیمت کو تسلیم کرنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں۔ ہَدْیًام یہ یحکم بہ کی ضمیر سے حال ہے تقدیر عبارت یہ ہے یحکم بہ فی حال الہدی ٗ ہدی ہونے کی حالت میں وہ اس کا فیصلہ کریں۔ بٰلِغَ الْکَعْبَۃِ یہ ہَدْیًاکی صفت ہے کیونکہ اس کی اضافت غیر حقیقی ہے۔ اور اس کا معنی اس کا کعبہ میں پہنچنا۔ تاکہ حرم میں ذبح کیا جائے۔ باقی صدقہ تو جہاں چاہے کیا جاسکتا ہے اور امام شافعی (رح) کے ہاں صدقہ بھی حرم میں ہی ہوگا۔
نحو و قراءت :
اَوْ کَفَّارَۃٌاس کا عطف جزاء پر ہے۔ طَعَامُ ۔ یہ کَفَّارَۃٌ سے بدل ہے، یا پھر مبتداء محذوف کی خبر سے یعنی۔ ہِیَ طَعَامٌ۔ قراءت او کفارۃ طعامٍ بر طریق اضافت مدنی اور شامی نے پڑھا ہے۔ یہ اضافت تبیین مضاف کیلئے ہے۔ گویا اس طرح کہا گیا او کفارۃ من الطعام۔ مَسٰکِیْنَ جیسا کہا جاتا ہے خاتم فضۃ ای من فضۃ۔ اَوْ عَدْلُاس کو عین کے کسرہ کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے فراء (رح) نے کہا العدل جو کسی چیز کے معادل ہو۔ مگر اس کی جنس سے نہ ہو۔ مثلاً روزہ اور طعام العدل اس کی جنس میں سے اس کا ہم مثل ہو۔ اسی سے عدل الحمل ہے۔ کہا جاتا ہے عندی غلام عدل غلامککسرہ کے ساتھ جب کہ ان کی جنس ایک ہو۔ پس اگر دونوں کی قیمت تو ایک جیسی ہو۔ مگر جنس ایک نہ ہو تو کہا جائے گا۔ ہو عَدْلُ غلامِک عین کے فتح کے ساتھ۔ ذٰلِکَکا مشارٌالیہ طعام ہے۔ صِیَامًایہ تمییز ہے جیسے لی مثلہ رجلاً ۔ اس میں اختیار قاتل کو ہوگا۔ امام محمد (رح) کے نزدیک اختیار حکمین کو ہوگا۔ لِّیَذُوْقَ وَبَالَ اَمْرِہٖیہ فجزاء سے متعلق ہے مطلب یہ ہے اس پر لازم ہے کہ وہ بدلہ دے یا کفارہ ادا کرے تاکہ احرام کی ہتک عزت کا انجام وہ چکھ لے الوبال ناپسندیدگی اور نقصان جو اس برے عمل کے انجام پر اسکو ملا کیونکہ اسکا بوجھ تو اسی پر ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے فاخذناہ اخذًا وَّبیلا (المزمل آیت 16) میں اخذ وبیل کا معنی ثقل شدید ہے۔ اور الطعام الوبیل اس کو کہتے ہیں جو معدہ پر بوجھل ہو۔ جلد ہضم نہ ہو۔ پس چٹی کو وبال فرما دیا گیا۔ عَفَا اللّٰہُ عَمَّا سَلَفَاللہ تعالیٰ نے تمہیں معاف کردیا۔ وہ شکار جو حرمت سے قبل تم سے ہوا تھا۔ وَمَنْ عَادَ جو آدمی تحریم کے بعد پھر قتل صید کا مرتکب ہوا یا اس احرام میں دوبارہ ارتکاب کیا۔ فَیَنْتَقِمُ اللّٰہُ مِنْہُاللہ تعالیٰ اس سے انتقام لیں گے سزا کے ساتھ۔ : یہ خبر ہے اس کا مبتداء محذوف ہے تقدیر عبارت یہ ہے فَہُوَیَنْتَقِمُ اللّٰہُ مِنْہُ ۔ وَاللّٰہُ عَزِیْزٌ اللہ تعالیٰ احکام کو لازم کرنے میں زبردست ہیں۔ ذُوانْتِقَامٍ اس سے انتقام لینے والے ہیں۔ جو حدود اسلام سے تجاوز کرنے والا ہو۔
Ayah 5:96سمندری شکار کی حلّت :
آیت 96: اُحِلَّ لَکُمْ صَیْدُ الْبَحْرِ ۔ (حلال کیا گیا تمہارے لئے سمندری شکار) سمندری شکار جس کا کھانا حلال ہے اور وہ بھی جس کا کھانا حلال نہیں۔ وَطَعَامُہٗاور وہ جو اس کے شکار میں سے کھایا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے تمام سمندری شکاروں سے انتفاع تمہارے لیے حلال ہے اور اس میں سے جو کھایا جاتا ہے اس کا کھانا درست ہے اور وہ فقط مچھلی ہے۔ مَتَاعًا لَّکُمْیہ مفعول لہ ہے یعنی اس کو تمہارے نفع اٹھانے کے لئے حلال کردیا گیا۔ وَلِلسَّیَّارَۃِ اور مسافروں کے لیے مطلب یہ ہے کہ اس کا کھانا تمہارے فائدہ کے لئے حلال کیا گیا۔ تاکہ رہائشی تو تازہ کھائیں اور مسافروں کے لئے بھی۔ تاکہ وہ زاد راہ کے طور پر ٹکڑے بھون کر ساتھ لے جائیں۔ جیسا کہ موسیٰ ( علیہ السلام) نے خضر (علیہ السلام) سے ملاقات کے لئے مچھلی بھون کر بطور توشہ ساتھ لی تھی۔ وَحُرِّمَ عَلَیْکُمْ صَیْدُ الْبَرِّاور خشکی کا شکار حرام کردیا گیا۔ صید بر، وہ ہے جو خشکی پر بچے دے خواہ بعض اوقات پانی میں رہے۔ مثلاً بطخ یہ خشکی کا جانور ہے کیونکہ یہ خشکی پر بچے دیتا ہے اور دریا و سمندر اس کی چراگاہ ہے۔ جیسا کہ لوگوں کے لئے تجارت گاہ ہے۔ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا جب تک احرام میں ہو۔ وَاتَّقُوا اللّٰہَ تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ حرم میں شکار نہ کرو۔ یا احرام کی حالت میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور شکار نہ کرو۔ الَّذِیْٓ اِلَیْہِ تُحْشَرُوْنَ اسی کی طرف تم اٹھائے جائو گے۔ پس وہ تمہارے اعمال کے مطابق بدلہ دے گا۔
Ayah 5:97کعبہ لوگوں کی بقاء کا سبب ہے :
آیت 97: جَعَلَ اللّٰہُ الْکَعْبَۃَ جعل یہاں صیّر کے معنی میں ہے۔ الْبَیْتَ الْحَرَامَ ۔ (اللہ تعالیٰ نے کعبہ کو جو حرمت والا گھر ہے لوگوں کے باقی رہنے کا سبب بنایا) : یہ کعبہ سے بدل ہے یا عطف بیان ہے۔ قیاماً مفعول ثانی ہے یا جَعَلَ ، خَلَقَ کے معنی میں ہے اور قیامًا حال ہے۔ قِیَامًا لِّلنَّاسِان کے دین میں بلندی کا ذریعہ اور معاش اور معاد میں سرفرازی ہے۔ اس لئے کہ اس سے ان کے حج وعمرہ کے معاملات پورے ہوتے اور قسم قسم کے منافع میسر ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ بیت اللہ کو اگر ایک سال چھوڑ دیں تو ان کو مہلت نہ دی جائے اور نہ وہ مؤخر کیے جائیں۔ وَالشَّہْرَ الْحَرَامَوہ مہینہ جس میں افعال حج کرتے ہیں۔ اور وہ ذی الحجہ ہے کیونکہ تمام مہینوں میں حج کے قائم کرنے کا جو اس کو موسم بنایا اس میں ایک عظمت ہے جس کو اللہ تعالیٰ جانتے ہیں۔ یا اس سے جنس اشہر حرم یعنی رجب ‘ ذوالقعدہ ‘ ذوالحجہ ‘ محرم مراد ہیں۔
وَالْہَدْیَوہ جانور جو مکہ کی طرف بطور نیاز کعبہ بھیجا جائے۔ وَالْقَلَآپدَجس جانور کو قلادہ ڈالا گیا ہو۔ اور وہ اونٹ ہے۔ اس میں ثواب زیادہ ہے۔ اور حج کی رونق اس سے زیادہ ہے۔ ذٰلِکَاس کا مشارٌ الیہ کعبہ کا قیام للناس بنانا ہے یا حرمت احرام کی حفاظت شکار کو ترک کر کے وغیرہ لِتَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ وَاَنَّ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمٌ تاکہ تم جان لو کہ اللہ تعالیٰ ان چیزوں کی مصلحتوں سے واقف ہیں۔ جو آسمان و زمین میں پائی جاتی ہیں۔ اور وہ کیسے نہ جانے وہ تو ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔
Ayah 5:98آیت 98:
اِعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ ۔ (تم جانو ! اللہ تعالیٰ سخت بدلہ لینے والے ہیں) اس شخص سے جو حرم یا احرام کی تذلیل کرے۔ وَاَنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌاور اس کے گناہوں کو بخشنے والا ہے جو ان عظیم مشاعر کی توقیر کرتا ہے۔ رَّحِیْمٌ رحم کرنے والے ہیں۔ اس جنایت کرنے والے پناہ گزین پر جو بلد حرام میں پناہ لے۔
Ayah 5:99رسول کا فریضہ پیغام کو مکمل پہنچانا ہے :
آیت 99: مَاعَلَی الرَّسُوْلِ اِلاَّ الْبَلٰغُ ۔ (رسول پر صرف پہنچا دینا ہے) جس بات کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اس کے لزوم پورا پورا کرنے میں تشدید کی گئی ہے۔ کہ رسول تو اپنے ذمہ جو تبلیغ تھی اس سے فارغ ہوچکا اور تم پر حجت تام ہوچکی اور اطاعت فرض ہوگئی اب اس میں کوتاہی کرنے کے لئے تمہارے پاس کوئی عذر نہیں۔
وَاللّٰہُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَمَا تَکْتُمُوْنَ : اور اللہ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو چھپاتے ہو۔
Ayah 5:100اللہ نے خبیث و طیب کو ایک جیسا نہیں بنایا :
آیت 100: قُلْ لاَّ یَسْتَوِی الْخَبِیْثُ وَالطَّیِّبُ ۔ (کہہ دیں خبیث اور طیب برابر نہیں) جب اس بات کی اطلاع دے دی کہ وہ جو کچھ چھپاتے ہیں۔ اور ظاہر کرتے ہیں سب کو جاننے والا ہے تو اب ذکر کردیا کہ ان میں خبیث اور طیب برابر نہیں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ ان کے درمیان امتیاز و فرق کر دے گا۔ پس خبیث (کافر) کو سزا دے گا اور طیب (مسلم) کو بدلہ دے گا۔ وَلَوْ اَعْجَبَکَ کَثْرَۃُالْخَبِیْثِ فَاتَّقُوا اللّٰہَ اگرچہ طیب قلیل ہو مگر اس کو ترجیح دو ۔ خبیث پر خواہ ان کی کثرت ہو۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ ہر حلال و حرام کے متعلق ہے۔ اور لوگوں میں سے رَدّی اور عمدہ کے بارے میں ہے۔ یٰٓاُولِی الْاَلْبَابِاے خالص عقل والو۔ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ تاکہ تم کامیاب ہوجائو۔
Ayah 5:101بیجا سوالات کی ممانعت :
آیت 101: : لوگ امتحاناً رسول اللہ ﷺ سے بعض چیزوں کا سوال کرتے پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا لَا تَسْئَلُوْا عَنْ اَشْیَآئَ ۔ (اے ایمان والو ! مت سوال کرو ان چیزوں کے متعلق اگر وہ ظاہر کردی جائیں تمہیں بری لگیں)
نحو وصرف :
خلیل و سیبویہ اور جمہور بصریین نے کہا کہ اصل اشیاء کی شیئاء دو ہمزہ جن کے درمیان الف ہے اور وہ فعلاء کا وزن بنا۔ لفظ شیٌٔ اس کا ہمزہ تانیث کا ہے۔ اس لئے یہ حمراء کی طرح منصرف نہیں ہے یہ لفظاً مفرد ہے۔ معنی کے لحاظ سے جمع ہے۔ جب دو جمع ہونے والے ہمزہ ثقیل ہوئے تو لام کلمہ والا ہمزہ مقدم کردیا۔ اور شین سے پہلے لائے پس اس کا وزن افعاء بن گیا۔ اور جملہ شرطیہ اور معطوفہ اشیاء کی صفت ہے وہ اِنْ تُبْدَلَکُمْ تَسُؤْکُمْ وَاِنْ تَسْئَلُوْا عَنْہَا حِیْنَ یُنَزَّلُ الْقُرْ ٰانُ تُبْدَلَکُمْ ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے اگر تم ان تکالیف صعبہ کے متعلق وحی کے زمانہ میں سوال کرو گے اور وہ زمانہ جب تک رسول تم میں موجود ہیں تو تمہیں وہ تکالیف ظا ہر کردی جائیں گی۔ اور وہ تمہیں بری لگیں گی۔ اور غم میں مبتلا کریں گی۔ اور وہ تم پر گراں گزرے گی۔ اور تمہیں ان کے اٹھانے کا حکم دیا جائے گا۔ تو تم اعراض کرو گے۔ تو اللہ تعالیٰ اس میں کمی پر ناراض ہونگے۔ عَفَا اللّٰہُ عَنْہَاجواب تک سوال کرلیے وہ معاف کردیئے دوبارہ ایسے سوال نہ کرنا۔ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌاللہ تعالیٰ بخشنے والے حو صلہ والے ہیں۔ وہ انذار کے بعد تم کو سزا دیں گے۔
Ayah 5:102ایسے مسائل انکار پر منتج ہوتے ہیں :
آیت 102: قَدْ سَاَلَہَا اس میں ضمیر اشیاء کی طرف نہیں لوٹتی۔ تاکہ عن سے متعدی کرنا پڑے۔ بلکہ اس مسئلہ کی طرف راجع ہے یعنی اس مسئلہ کا سوال کیا۔ قَوْمٌ مِّنْ قَبْلِکُمْ تم سے پہلوں نے۔ ثُمَّ اَصْبَحُوْابِہَا پھر اس کے سبب سے ہوگئے۔ کٰفِرِیْنَانکاری جیسا کہ بنی اسرائیل کے متعلق معروف ہے۔
Ayah 5:103محرمات جاہلیت کی تردید :
آیت 103: مَاجَعَلَ اللّٰہُ مِنْم بَحِیْرَۃٍ وَّلَاسَآپبَۃٍ وَّلَا وَصِیْلَۃٍ وَّلَاحَامٍ ۔ (اللہ تعالیٰ نے کوئی بحیرہ سائبہ ‘ وصیلہ و حام مقرر نہیں کئے) اہل جاہلیت میں یہ رواج تھا کہ جب کوئی اونٹنی پانچ بچے جن لیتی جن میں آخری نر ہو تو اس اونٹنی کا کان چیر کر اس کو بحیرہ بنا دیتے (بحیرہ کان چیری ہوئی) اور نہ اس کو کسی چراگاہ یا پانی سے ہٹایا جاتا۔ ایسی اونٹنی کا نام بحیرہ تھا۔ ان کا رواج یہ تھا۔ آدمی کہتا کہ اگر میں سفر سے واپس لوٹ آیا یا مرض سے صحت یاب ہوگیا تو میری اونٹنی سائبہ ہے اس کو بحیرہ کی طرح کردیتے۔ نہ سواری کرتے نہ نفع اٹھاتے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب آدمی اپنا غلام آزاد کرتا تو کہتا کہ میرا غلام سائبہ ہے۔ اب اس غلام اور اس کے درمیان نہ میراث نہ عقل ودیت۔ اسی طرح بکری سات بچے جنتی اگر ساتواں بچہ نر ہوتا تو اس کو مرد کھاتے اگر مؤنث ہوتی اس کو بکریوں میں چھوڑ دیتے۔ اگر جوڑا نر ٗ مادہ ہوتا تو کہتے کہ یہ اپنے بھائی سے ملی ہے پس الوصیلہ بمعنی واصلہ ہے جڑواں پیدا ہونے والی بکری اسی طرح اگر کسی نر اونٹ سے دس بطن گابھن ہوتے تو وہ کہتے اس کی پشت گرم ہے اس پر سواری نہ کی جائے اور نہ اس پر بوجھ لادا جائے۔ اور اس کو پانی اور چراگاہ سے نہ روکا جائے۔ اور ماجعل کا معنی اللہ تعالیٰ نے مشروع نہیں قرا ردیا۔ اور نہ اس کا حکم دیا۔ وَّلٰــکِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا (لیکن وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا) اس کی تحریم کر کے جو انہوں نے حرام قرار دیا۔ یَفْتَرُوْنَ عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ (وہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے والے ہیں) ۔ اس لئے کہ اس تحریم کی نسبت اس کی طرف کرتے ہیں۔ وَاَکْثَرُہُمْ لَایَعْقِلُوْنَ (اور ان کی اکثریت بےعقل ہے) ۔ بیشک اللہ تعالیٰ نے ان کو حرام نہیں کیا۔ اکثریت سے مراد عوام ہیں۔
Ayah 5:104آبائی تقلید میں وحی سے انکار :
آیت 104: وَاِذَا قِیْلَ لَہُمْ تَعَالَوْا اِلٰی مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ وَاِلَی الرَّسُوْلِ ۔ (جب ان کو کہا جاتا ہے آئو اس کی طرف جو اللہ نے اتارا اور رسول کی طرف) یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف آئو۔ اس طرح کہ یہ چیزیں حرام نہیں ہیں۔ اور اس کے رسول کی طرف آئو۔ قَالُوْا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَیْہِ ٰابَآئَ نَا یعنی ہمارے لیے یہی کافی ہے۔ : حسبنا مبتداء اور ماوجدنا خبر ہے۔ اور ما، الذی کے معنی میں ہے۔ اور وائو اَوَلَوْکَانَ ٰابَآؤُ ہُمْ میں حال کے لیے ہے۔ لَا یَعْلَمُوْنَ شَیْئًا وَّلَا یَہْتَدُوْنَ اقتداء اس عالم کی درست ہے۔ جو صحیح راہ پانے والا ہو۔ اور اس کی ہدایت حجت و دلیل سے معلوم ہوگی۔
Ayah 5:105اہل عناد کے متعلق خود کو گھلانے (غمگین ہونے) کی ضرورت نہیں :
آیت 105: یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا عَلَیْکُمْ اَنْفُسَکُمْ ۔ (اے ایمان والو ! تم اپنی فکر کرو) انفسکم منصوب ہے علیکم کی وجہ سے اور علیکم اسمائے افعال میں سے ہے یعنی اپنے نفوس کی اصلاح کو لازم پکڑو۔ اس میں کاف اور میم موضع جر میں ہیں۔ کیونکہ اسم فعل وہ جار مجرور ہے۔ فقط عَلٰی اکیلا نہیں۔ لَا یَضُرُّکُمْ یہ جملہ مستانفہ ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے یا جواب او کی وجہ سے مجزوم ہے۔ اور راء کا ضمہ تو ضمہ ضاد کی اتباع میں دیا گیا ہے مَّنْ ضَلَّ اِذَا اہْتَدَیْتُمْ مومن اپنی جانیں اہل عناد کفار پر گھلاتے اور ان کے اسلام میں داخل ہونے کی تمنا کرتے پس ان مسلمانوں کو کہا گیا عَلَیْکُمْ اَنْفُسَکُمْتم اپنے نفوس کو لازم پکڑو۔ جن کی اصلاح کے تم ذمہ دار بنائے گئے ہو۔ لَایَضُرُّکُمْ تمہیں ان کا گمراہ ہونا تمہارے دین سے نقصان نہیں دے گا۔ جبکہ تم ہدایت پر ہو۔ یہاں یہ مراد نہیں کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو ترک کردیا جائے۔ کیونکہ ان کا ترک قدرت کے باوجود جائز نہیں۔ اِلَی اللّٰہِ مَرْجِعُکُمْ جَمِیْعًاتم سب نے اللہ کی طرف لوٹنا ہے۔ فَیُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَپھر وہ تمہارے اعمال پر تمہیں بدلہ دے گا۔