Ayah 4:1آیت : 1
یٰٓـاَ ۔ یُّـہَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّخَلَقَ مِنْہَا زَوْجَہَا وَبَثَّ مِنْہُمَا رِجَالاً کَثِیْرًا وَّ نِسَآئً ۔ (اے لوگو ! تم اپنے رب سے ڈرو۔ جس نے تم کو پیدا کیا ایک جان سے اور اسی سے پیدا کیا اس کے جوڑے کو اور آدم و حوا سے پھیلا یا بہت سارے مردوں اور عورتوں کو) یٰٓـاَ ۔ یُّہَا النَّاسُ (اے اولاد آدم ) ۔
صورتِ تخلیق :
اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ (آغاز تخلیق کے زمانہ میں ایک اصل یعنی تمہارے باپ حضرت آدم ( علیہ السلام) سے بنایا) ۔
وَّخَلَقَ مِنْہَا زَوْجَہَا یہ محذوف پر عطف ہے۔ گویا اس طرح فرمایا۔ من نفس واحدۃ انشأہا وخلق منہا زوجہا۔ مطلب یہ ہے ایک ذات سے تمہیں نکالا جس کی صورت یہ تھی۔ کہ اس نفس کو مٹی سے بنایا اور ان کی پسلیوں میں سے کسی پسلی سے (مادہ لے کر) ان کی بیوی حواء کو بنادیا۔ وَبَثَّ مِنْہُمَا (اور ان دونوں یعنی آدم و حو ّاء سے پھیلایا) ۔ رِجَالاً کَثِیْرًا وَّ نِسَآئً (بہت سے مردوں اور بہت سی عورتوں کو) ۔ یعنی جنس انسانی کی دونوں انواع یعنی مرد و عورت کو۔ نفس انسانی کی ایسی صفت بیان کی جو انسانوں کی خلقت کی وضاحت و تفصیل کر رہی ہے۔
یا خلقکم سے متعلق ہے اور یٰٓـاَ ۔ یُّہَا النَّاسُ کا خطاب ان لوگوں سے ہے۔ جو رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے وقت تھے۔ مطلب یہ ہوا کہ تمہیں نفس آدم ( علیہ السلام) سے پیدا کیا۔ اور اسی نفس سے تمہاری ماں حواء کو پیدا کیا اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور بہت سی عورتیں تمہارے علاوہ ہلاک ہوجانے والی امتوں کی پیدا فرمائیں اور یہ حصر کے لئے ہے۔
ایک سوال کا جواب :
سوال : نظم کا انداز تو اس بات کا متقاضی ہے کہ تقویٰ کا حکم دینے کے بعد ایسی چیز لائی جاتی جو تقویٰ کی طرف دعوت دینے والی ہو۔ پھر کس طرح ان کا ایک جان سے پیدا کرنا۔ تقویٰ کی طرف تر غیب دینے والا بنتا ہے۔
جواب : تخلیق آدم و اولادہ، عظیم قدرت پر دلالت کرتا ہے اور جس کو اس جیسی قدرت ہو۔ تو وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ کفار و فجار کو سزا دینا بھی اس کے مقدورات میں سے ہے۔ پس اس میں غور و فکر اس بات کا داعی ہے۔ کہ ایسے قادر مطلق سے ڈرا جائے۔ اور اس کے عقاب کا خطرہ محسوس کیا جائے۔
کامل نعمت کا شکریہ :
اور ایک بات یہ بھی ہے کہ یہ ایک عظیم الشان کامل نعمت ہے۔ پس انسانوں پر لازم ہے کہ اس نعمت کی ناشکری سے گریز کریں۔
رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کے نازل ہونے کے وقت فرمایا۔ عورت کو مرد سے پیدا کیا گیا۔ پس اس کا مقصد مرد میں ہے اور مرد کو مٹی سے پیدا کیا پس اس کا فکر مٹی میں ہے ( البیہقی)
وَاتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیْ تَسَآئَ لُوْنَ بِہٖ (اور تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو) ۔
صَرْف : تساء لون اصل میں تتساء لون تھا۔ تا کو سین کر کے سین میں ادغام کردیا۔ کیونکہ تا کے قریب حرف ہمس سین ہے۔
قراءت : یہ تساء لون۔ تخفیف کے ساتھ ہے عندا لکوفی۔ تَا ثانیہ کو اجتماع تاء ین ثقیل ہونے کی وجہ سے حذف کردیا۔ مطلب یہ ہوا کہ تم ایک دوسرے کو اللہ تعالیٰ اور رحم کا واسطہ دے کر سوال کرتے ہو۔ پس اس طرح کہتے ہیں باللہ و بالرحم افعل کذا اور مقصد اس سے شفقت حاصل کرنا ہوتا ہے۔
نحوی تحقیق :
وَالْاَرْحَامَ (اور رحموں کا) : یہ لفظ اللہ پر معطوف ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ یعنی قطع رحمی سے ڈرو۔ یا جار مجرور کے مقام پر ہے جیسا کہتے ہیں مررت بزیدو عمرًوا۔ یا ضمیر پر عطف کرتے ہوئے مجرور ہے۔ حمزہ کے نزدیک مگر یہ قول ضعیف ہے۔ کیونکہ ضمیر متصل وہ اسم متصل کی طرح ہے۔
اور جار ٗ مجرور ایک شیٔ کی طرح ہے۔ تو یہ بعض کلمہ پر عطف کے مشابہ ہوا۔
اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیْبًا (بیشک اللہ تم پر نگہبان ہے) یا تمہیں جاننے والے ہیں۔
Ayah 4:2آیت 2 :
وَ ٰاتُوا الْیَتٰٓمی اَمْوَالَہُمْ (اور یتیموں کو ان کے اموال دو ) یتامیٰ سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے والد فوت ہوجائیں اور وہ اکیلے رہ جائیں۔
یتیم کا معنی :
الیُتْمُ ۔ انفراد کو کہتے ہیں۔ اسی سے کہتے ہیں الدُرۃ الیتیمۃ۔ یکتا موتی۔ ایک قول یہ ہے کہ یتیم انسانوں میں وہ ہے جس کا باپ مرجائے اور بہائم میں یتیم وہ ہے جس کی ماں مرجائے۔ اس نام کا تقاضہ تو یہی ہے کہ ہر چھوٹے بڑے پر بولا جائے کیونکہ باپ سے منفرد ہونے کا معنی پایا جاتا ہے۔ مگر استعمال میں بلوغ سے قبل تک ہی بولا جاتا ہے جب وہ کسی کفیل و نگران سے مستغنی ہوجاتے ہیں۔ تو یہ نام ختم ہوجاتا ہے۔ نبی ( علیہ السلام) کا ارشاد ہے : لا یتم بعد الحلم۔ (ابو دائود)
شریعت کے حکم کے طور پر نہ کہ لغت کے لحاظ سے۔ یعنی جب وہ بالغ ہوگیا تو اس پر بچوں کے احکام جاری نہ ہونگے۔
آیت کا مطلب :
اب آیت کا مطلب یہ ہے۔ اور تم یتیموں کو ان کے اموال بالغ ہونے کے بعد دے دو ۔ یہاں ان کو یتامیٰ ٗ یتیمی کے زمانہ کے قریب ہونے کی وجہ سے فرمایا گیا جو بچپن تھا۔ (اب تو وہ بالغ ہوچکے) اس میں اشارہ فرمایا کہ اگر ان سے سمجھ بوجھ پائی جائے تو ان کے اموال ان کے حوالے کرنے میں حد بلوغ سے تاخیر نہ کی جائے۔ اور یتیمی اور بچپن کا نام زائل ہونے سے پہلے ہی ان کو وہ اموال سپرد کردیئے جائیں۔
خبث کی مراد :
وَلَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِیْثَ بِالطَّیِّبِ (نہ تبدیل کرو خبیث کو بدلے طیب کے) نمبر 1۔ حرام مال کو لینے کے طلبگار نہ بنو (یعنی یتامیٰ کا مال) حلال مال کے بدلے میں جو کہ تمہارا اپنا مال ہے۔ نمبر 2۔ خبیث بات کو بدلے میں نہ لو اور وہ یتیموں کا مال بلا نگرانی چھوڑنا ہے۔ پاکیزہ بات کے بدلے میں اور وہ اس کی حفاظت کرنا ہے اور اس سے بچنا۔
نحو و صرف :
یہاں باب تفعل بمعنی استفعال ہے اور یہ آتا رہتا ہے۔ اس کی نظیر تعجل بمعنیٰ استعجال۔ وَلَا تَاْکُلُوْٓا اَمْوَالَہُمْ اِلٰٓی اَمْوَالِکُمْ (اور ان کے مال نہ کھائو اپنے مالوں کے ساتھ ملا کر) : اِلٰی کا متعلق محذوف ہے۔ اور یہ حال کے موقع پر ہے۔ یعنی اموالکم کی طرف مضاف ہے۔ مطلب یہ ہوا۔ ان کے اموال کو اپنے مالوں کے ساتھ اس طرح نہ ملائو۔ کہ تمہارے اور ان کے اموال میں تفریق نہ رہے۔ اس چیز کی پرواہ نہ کرتے ہوئے جو تمہارے حق میں حلال نہیں اور برابری کرنے لگو اس میں اور حلال میں۔ اِنَّہٗ کَانَ حُوْبًا کَبِیْرًا۔ بیشک (وہ بہت بڑا گناہ ہے) ہٗ سے مراد اس کا کھانا اور حوبا کبیرًا کا معنی بڑا گناہ ہے۔
Ayah 4:3آیت 3 :
وَاِنْ خِفْتُمْ اَلاَّ تُقْسِطُوْافِی الْیَتٰمٰی (اگر تمہیں خدشہ ہو کہ تم انصاف نہ کرسکو گے یتیموں کے معاملہ میں) اقسط۔ باب افعال بمعنی عدل کرنا۔ لا تقسطوا کا معنی عدل نہ کرنا۔ الیتامیٰ کا لفظ مذکر و مؤنث دونوں کیلئے بولا جاتا ہے۔ جمع یتیمۃ و یتیم ہے۔ باقی ایتام جمع یتیم ہے فقط۔ فَانْکِحُوْا مَاطَابَ لَکُمْ مِّنَ النِّسَآئِ (پھر تم نکاح کرو دوسری عورتوں میں سے جو تم پسند کرو)
طاب کا معنی حلال :
طاب کا معنی حلال ہونا ہے۔ یعنی جو تمہارے لئے حلال ہوں۔ کیونکہ ان میں بعض عورتیں وہ ہیں جو حرام ہیں۔ ان کا تذکرہ آیت تحریم میں ہے۔ مَا کا استعمال ذی عقل کی صفات کیلئے آتا ہے۔ گویا یہاں اس طرح کہا گیا۔ الطیبات من النساء۔ پس تم نکاح کرو عورتوں میں سے پاکیزہ عورتوں سے۔ کیونکہ عقلاء میں طبقہ اناث بمنزلہ غیر عقلاء کے شمار ہوتا ہے۔ اور ارشاد الٰہی اوماملکت ایمانکم میں ما اسی معنی میں ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ وہ زناء میں حرج نہ سمجھتے تھے۔ ولایت یتامٰی میں حرج سمجھتے تھے۔ پس انہیں کہا گیا۔ اگر تمہیں یتیم بچیوں کے متعلق ظلم و زیادتی کا خطرہ ہو اور زنا کا خدشہ ہو تو جو عورتیں تمہارے لئے حلال ہیں ان سے نکاح کرو اور محرمات کے گرد مت گھومو۔
تیسرا قول : وہ لوگ یتامٰی کے اموال میں نگرانی سے تنگی محسوس کرتے۔ اور بہت عورتیں رکھنے میں حرج محسوس نہ کرتے۔ اس کے باوجود کہ ان کے مابین کثرت کی وجہ سے زیادتیاں ہوجاتیں۔ تو ان کو مخاطب کر کے اس طرح فرما دیا جب تم اس میں دشواری محسوس کرتے ہو تو اس میں بھی حرج سمجھو اور اس سے بچو۔ اور کہہ دیا گیا۔ وَاِنْ خِفْتُمْ اَلاَّ تُقْسِطُوْاکہ اگر تمہیں خطرہ ہو کہ یتیم بچیوں کے نکاح کے سلسلہ میں تم انصاف نہ کرسکو گے۔ تو بالغات سے نکاح کرو۔ یہ طاب طابت الثمرۃ سے ہے۔ اپنی میعاد کو پھل پہنچ گیا۔ گویا بالغہ عورتیں ( مگر اس معنی سے لکم بےفائدہ ٹھہرتا ہے۔ فتدبر) مَثْنٰی وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ (دو دو عورتوں سے تین
تین عورتوں سے اور چار چار عورتوں سے) : یہ نکرہ ہیں۔ غیر منصرف ہیں کیونکہ عدل و وصف ان میں پائے جاتے ہیں۔
سیبویہ نے اسی طرح کہا۔ یہ النساء سے محل نصب میں حال ہے۔ یا ما طاب سے حال ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے۔ فانکحوا الطیبات لکم جو اس عدد تک پہنچنے والی ہیں۔ دو ۔ دو اور تین تین اور چار چار۔
ایک سوال نکاح میں اعداد کے تکرار کی حکمت :
سوال : نکاح کرنے والے کیلئے مطلقاً جمع میں دو یا تین یا چار کو جمع کرنا درست ہے تو پھر مثنٰی وَ ثُلاَثَ وَ رُبَاعَ میں تکرار کا کیا مطلب ہے۔
جواب : خطاب تمام لوگوں کو فرمایا گیا۔ پس تکرار ضروری ہوگیا تاکہ ہر نکاح کرنے والا اس گنتی کو پورا کرسکے جو وہ اپنے لئے پسند کرتا ہے۔ جس کو مطلقاً ذکر کیا گیا ہے۔ جیسا کہ تم ایک جماعت کو کہو۔ یہ مال تم تقسیم کرلو۔ دو دو ٗ تین تین ٗ چار چار اور وہ درہم ایک ہزار ہوں۔ اگر تم یہ اعداد ایک مرتبہ ذکر کرتے تو پھر اس کا کوئی مطلب نہ بنتا اور وائو کو لا کر بتلا دیا کہ مختلف گروہوں کو مختلف کا جمع کرنا جائز ہے ٗ کہ کوئی (دو سے کوئی تین سے اور کوئی چار سے نکاح کرسکتا ہے) اگر او لایا جاتا تو اختلاف عدد کا جو از ختم ہوجاتا۔
فَاِنْ خِفْتُمْ اَلاَّ تَعْدِلُوْا (اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم عدل نہ کرسکو گے) اس اعداد میں تو فَوَاحِدَۃً (تو ایک کو لازم کرلو) یا چنائو کرلو۔ اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ ( جن کے مالک تمہارے لونڈی غلام ہوں) مساوات حقوق جو آزاد عورتوں کے مابین لازم ہے وہ باندیوں کے لئے لازم نہیں نہ ان کی کوئی تعداد مقرر ہے۔ ذٰلِکَ اس کا اشارہ ایک کے چنائو اور لونڈیاں رکھنے میں ہے۔ اَدْنٰٓی اَلاَّ تَعُوْلُوْا (اس امر مذکور میں زیادتی نہ ہونے کی توقع قریب تر ہے) یعنی یہ فعل اس سے قریب تر ہے کہ تم ایک طرف مائل نہ ہوجائو اور نہ ظلم کرو۔ عرب کہتے ہیں۔ عال المیزان عولاً کہ جب وہ مائل ہوجائے اور کہتے ہیں عال الحاکم فی حکمہ۔ جبکہ ظلم کرے۔
ایک تفسیر عجیب :
امام شافعی (رح) سے منقول ہے کہ انہوں نے الا تعولوا کی تفسیر میں فرمایا کہ تم زیادہ عیال والے نہ ہو۔ ان کی اس تفسیر پر یہ اعتراض کیا گیا کہ کثرت عیال کا معنی اس وقت ہوتا ہے جب اعال یعیل باب افعال سے ہو۔
اس کا جواب یہ دیا گیا کہ مجرد میں عال الرجل عیالہ یعولہم۔ اس نے عیال کی پرورش کی۔ کہا جاتا ہے اور مان یمون بھی اسی معنی میں آتا ہے جبکہ عیال پر خرچ کیا جائے۔ کیونکہ جس کے عیال زیادہ ہونگے وہ ان پر لازماً خرچ کرے گا۔ اور اس سلسلہ میں اس پر تقویٰ اور کسب حلال کی حدود کا لحاظ مشکل ہوجائے گا۔ اور اسی جیسا کلام علم کے ان ماہرین سے درست رخ پر محمول کیا جائے گا۔ اور یہ بدگمانی نہ کی جائے گی کہ انہوں نے تعیلوا کو تعولوا بنادیا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے اس آیت کی تفسیر میں کنایات کا راستہ اختیار کیا۔
Ayah 4:4آیت 4 :
وَ ٰاتُوا النِّسَآئَ صَدُقٰتِہِنَّ نِحْلَۃً (اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے دے دو ) نحلہ کا لفظ نحلہ کذا سے ماخوذ ہے جبکہ وہ اس کو دے اور ھبہ کرے اپنے دل کی گہرائی سے نحلۃً و نحلا دونوں استعمال ہوتے ہیں۔ منصوب مصدر ہونے کی وجہ سے ہے۔ کیونکہ یہاں لفظ نحلہ اور ایتاء، اعطاء کے معنی میں ہیں۔ گویا کلام اس طرح ہے :
حسن ادائیگی مہر :
وانحلوا النسآء صدقاتھن نحلۃ۔ یعنی ان کو انکے مہر خوشدلی سے دے دو یا مخاطب سے حال ہے۔ انکے مہر انکو دو کہ تم دلوں کی خوشی محسوس کرنے والے ہو مہر دے کر یا الصدقات سے حال ہے یعنی وہ مہر ادا کیے ہوئے ہوں نفسوں کی خوشدلی سے۔
ایک قول یہ ہے کہ یہ مہر عطیہ ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور عنایت ہے ان عورتوں پر ایک اور قول یہ ہے کہ نحلہ بمعنی ملت کے ہے۔ جیسا کہ کہتے ہیں فلان ینتحل کذا ای یدین بہ۔ مطلب یہ ہوا ان کے مہر ان کو دیانۃً دے دو ۔ اس صورت میں یہ مفعول لہٗ بنے گا۔ اور ٰاتوا کا خطاب خاوندوں کو ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ ورثاء کو ہے کیونکہ اس زمانہ میں وہ بیٹیوں کا مہر وصول کرتے تھے۔
طیب نفس لازم :
فَاِنْ طِبْنَ لَکُمْ عَنْ شَیْئٍ مِّنْہُ ۔ (اگر وہ عورتیں خوش دلی کے ساتھ تم کو مہر کا کچھ حصہ دیں) یہ لَکُمْ کا خطاب ازواج کو ہے۔ عَنْ شَیْئٍ مِّنْہُ ۔ یعنی مہر میں سے۔ صداق اور صدقات ہم معنی ہیں۔ نَفْسًایہ مفرد لائے کیونکہ مقصد بیان جنس ہے۔ اور واحد جنسیت پر دلالت کرتا ہے۔ مطلب یہ ہوا،۔ اگر وہ مہر میں سے کچھ عطاء کریں اور ان کے نفوس اسے خوش دلی سے چھوڑ دیں نہ بےدلی سے کہ جس کے لئے تمہاری بد اخلاقی ان کو مجبور کرے اور بدتہذیبی ہبہ کی طرف مجبور کرے۔
فائدہ : اس آیت میں راستہ کی تنگی کی طرف اشارہ کردیا اور احتیاط کو لازم قرار دیا۔ اس لئے کہ شرط کی بنیاد طیب نفس پر رکھی چناچہ فرمایا : ان طبن لکم عن شیٔ منہ نفسا۔ یہ نہیں فرمایا فان وہبن لکم۔ اس بات کو بتلانے کے لئے کہ مہر کے کسی حصہ سے علیحدگی میں طیب نفس کا ہونا بہرحال ضروری ہے۔ فَکُلُوْہُ (پس تم اس کو کھائو) اس میں ہٗ ضمیر شیٔ کی طرف لوٹتی ہے۔ ہَنِیْئًا (مزے سے) یعنی جس میں گناہ نہ ہو۔
اباحت میں مبالغہ :
مَرِیْئًا۔ (خوشگواری سے) جس میں کوئی بیماری نہ ہو۔ آنحضرت ﷺ نے اس کی اسی طرح تفسیر فرمائی۔ یا دنیا میں مزیدار کہ بلا مطالبہ ہو۔ مریئاً فی العقبٰی۔ آخرت میں خوشگوار کہ اس پر احسان نہ جتلائے۔ یہ دونوں کھانے کی صفات ہیں۔ ہنؤ الطعام و مرؤ کہتے ہیں۔ جب کھانا ایسا خوش گوار ہو کہ اس میں کوئی گدلا پن نہ ہو۔ یہ دراصل مصدر کی صفتیں ہیں۔ یعنی اگلا ہَنِیْئًا مَّرِیْئًا یعنی ایسا کھانا جو رچتا پچتا ہو۔ یا ضمیر سے حال ہے۔ تم اس کو اس حال میں کھائو کہ وہ مزیدار و خوشگوار ہو۔ یہ در حقیقت اباحت میں مبالغہ ظاہر کرنے کے لئے ہے۔ اور یہ بتلانے کے لئے کہ اس کے دینے کے بعد پیچھا بھی نہ کیا جائے۔
قراءت : ہنیًا مریًا۔ یزید کے نزدیک بلا ہمزہ ہے۔ اسی طرح وقف کے وقت حمزہ کے نزدیک بھی اسی طرح پڑھیں گے۔ بقیہ تمام قراء نے ہمزہ سے پڑھا ہے۔
ایک لطیف نکتہ : حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جب کوئی بیمار ہو تو اسے چاہیے کہ اپنی بیوی سے مہر کے تین درہم لے کر پھر اس سے شہد خرید لے اور بارش کے پانی سے اس شہد کو ملا کر مریض کو پلائے تو اللہ تعالیٰ اس کو خوشگواری ٗ شفا و برکت عنایت فرما دیں گے۔
Ayah 4:5آیت 5 :
وَلَا تُؤْتُوا السُّفَہَآئَ اَمْوَالَکُمُ (نہ دو اپنے اموال بیوقوفوں کو) سفہاء سے مراد وہ فضول خرچ ہیں۔ جو اپنے اموال کو نامناسب مقام پر لگانے والے ہیں۔ اور ان کو اسکی درستی اور بڑھانے اور اس میں تصرف کرنے کی قدرت نہیں ہے۔ اس میں اولیاء کو خطاب ہے اور کم عقلوں کے اموال کی نسبت اولیاء کی طرف اموالکم کہہ کر کی گئی ہے۔ کیونکہ وہ اس مال کو تھامنے والے اور قریب والے ہیں۔
اموال کی حفاظت کرو :
الَّتِیْ جَعَلَ اللّٰہُ لَکُمْ قِیَامًا (جن کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے مایہ زندگانی بنایا ہے) یعنی تمہارے بدنوں کا قوام اور تمہارے اہل و اولاد کیلئے ذریعہ معاش بنایا ہے۔
قیمًابمعنی قیامًا ہے۔ نافع و شامی کے نزدیک جیسا کہ عوذا بمعنی عیاذاً ہے اور اصل قیام قوام ہے۔ ماقبل کسرہ کی وجہ سے وائو کو یا کردیا۔ سلف (رح) کا مقولہ ہے۔ المال سلاح المؤمن۔ مال مومن کا ہتھیار ہے۔ اگر میں مال چھوڑ جائوں کہ جس پر اللہ تعالیٰ مجھ سے حساب لے۔ یہ اس سے بہتر ہے کہ میں لوگوں کا محتاج بنوں۔ حضرت سفیان (رح) اپنے سامان کو پلٹ رہے تھے اور فرما رہے تھے۔ اے مال اگر تو نہ ہو تو بنو عباس مجھے رومال کی طرح بنا لیتے کہ جیسا اس سے جو چیز چاہتے ہیں پونچھتے ہیں۔ وَارْزُقُوْہُمْ فِیْہَا (اس سے ان کو کھلائو) یعنی اس کو ان کے رزق کی جگہ بنائو۔ کہ اس سے تجارت کرو۔ اور نفع اٹھائو تاکہ خرچہ نفع میں سے نکلتا رہے اصل مال سے نہ ہو۔ کہ خرچہ میں نہ سارا کھالیا جائے۔
معروف و منکر کا فرق :
وَاکْسُوْہُمْ وَقُوْلُوْا لَہُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا (اور ان کو پہنائو اور ان کو طریقے کی بات کہو) ابن جریج (رح) کہتے ہیں۔ قول معروف سے مراد اچھا وعدہ۔ اس طرح کہ تم سمجھ بوجھ پالو تو تمہارا مال تمہارے سپرد کردیں گے۔
ہر ایسی بات یا عمل جس کے عقلی یا شرعی حسن کی وجہ سے نفس کو سکون پہنچے وہ معروف ہے۔ اور جس کی قباحت کی وجہ سے نفس اس کو اوپر اقرار دے وہ منکر ہے۔
Ayah 4:6آیت 6 :
وَابْتَلُوا الْیَتٰمٰی (تم یتیموں کو آزمائو) ان کی عقلوں کا امتحان لو۔ ان کے احوال کی جانچ کرو۔ اور بلوغ سے پہلے تصرف کے ذریعہ پہچان کا اندازہ کرلو۔ اگر ہوشیار ہونگے تو حالت ان کی ظاہر ہوجائے گی۔
عاقل مجاز تجارت ہے :
نحو : اس آیت میں اس بات کی دلیل ہے کہ عاقل بچے کو تجارت کی اجازت ہے۔ حَتّٰی اِذَا بَلَغُوا النِّکَاحَ (یہاں تک کہ وہ نکاح کو پہنچ جائیں) یعنی بالغ ہوجائیں۔ کیونکہ بلوغت کی عمر ہی میں نکاح کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔ اور توالد کا سلسلہ بھی اسی عمر میں قائم ہوتا ہے۔ فَاِنْ ٰانَسْتُمْ مِّنْہُمْ رُشْدًا (اگر بلوغت کے بعد ان سے لین دین میں ہوشیاری دیکھو) معاملات میں درستی نظر آئے اور تصرفات میں درستگی ہو۔ فَادْفَعُوْا اِلَیْہِمْ اَمْوَالَہُمْ (تو ان کو ان کے مال سپرد کردو) حد بلوغ سے تاخیر کی چنداں ضرورت نہیں۔
نحو : فَادفَعُوْٓ ا اِلَیْہِمْ اَمْوَالَہُمْ یہ ابتلاء کی غایت ہے۔ اذا بلغوا ظرف ہے لیکن اس میں شرط کا معنی ہے اور ظرف کا تعلق فادفعوا سے ہے۔ حتّٰی ابتدائیہ ہے اور حتّٰی کا ماقبل مابعد کے لئے سبب ہے۔ یہ حتّی جارہ نہیں کیونکہ اِذَا میں ظرف کا معنی ہے اور حَتّٰیجارہ ظرف پر داخل نہیں ہوتا۔ اذا بلغوا شرط اول ہے اور اس کا جواب فان ٰانستم منہم ہے۔
آیت کا مطلب :
مطلب یہ ہوا کہ یتیموں کی جانچ کرلو بلوغ کے وقت اور مالوں کی سپردگی کے مستحق ہونے کے وقت اس شرط سے کہ ان میں رشدا محسوس ہو۔ رُشْدًا نکرہ ذکر کیا گیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ رشد سے مراد مخصوص رشد ہے اور وہ مال میں تصرف و تجارت کی ہے۔ یا تنوین تقلیل کا فائدہ دیتی ہے۔ یعنی معمولی رشد آجائے کامل رشد آنے تک انتظار نہ کیا جائے گا۔
یہ آیت امام ابوحنیفہ (رح) کی دلیل ہے۔ کہ جب بچہ بالغ ہوجائے تو اس کا مال اسے دے دینا چاہیے۔ اور بلوغ کی انتہائی عمر پچیس سال کی ہے۔
حد اعتدال سے تجاوز نہ کرو :
وَلَا تَاْکُلُوْہَآ اِسْرَافًا وَّبِدَارًا اَنْ یَّکْبَرُوْا (اور نہ یتیم کا مال کھائو حد اعتدال سے زیادہ اور جلدی جلدی اس اندیشہ سے کہ وہ بڑے ہوجائیں گے) یعنی تم یتیموں کا مال نہ کھائو اس حال میں کہ تم حد اعتدال سے تجاوز کرنے والے اور ان کے بڑے ہونے کے خطرہ سے جلدی کرنے والے ہو۔
نحو : اسرافًا و بدارًا یہ دونوں حال ہیں اور ان یکبروا بتاویل مصدر بِدَارًا کا مفعول ہے اور دونوں مصادر کا مفعول بھی بن سکتا ہے۔ مطلب یہ ہے تمہارے فضول خرچی کرنے کے لئے اور ان کے بڑے ہونے سے جلدی کے لئے تم ان کے مال کو زیادہ خرچ کرنے والے ہو اور تم کہنے والے ہو کہ ہم اپنے پسند کے مقام پر اس کو خرچ کرلیں اس سے پہلے کہ یتیم بڑے ہوں اور وہ اس مال کو ہمارے ہاتھوں سے چھین لیں۔
وَمَنْ کَانَ غَنِیًّا فَلْیَسْتَعْفِفْ وَمَنْ کَانَ فَقِیْرًا فَلْیَاْکُلْ بِالْمَعْرُوْفِ (جو مالدار ہو وہ یتیم کے مال سے بچتا رہے اور جو محتاج ہو وہ دستور کے مطابق کھا سکتا ہے)
آیت میں وصی کو دو قسموں میں بانٹ دیا۔ نمبر 1۔ مالدار۔ نمبر 2۔ فقیر۔ غنی کو حکم دیا کہ وہ اس کے استعمال سے اپنے آپ کو محفوظ رکھے۔ اور یتیم کا مال نہ کھائے۔ اور استعف کا لفظ عف سے زیادہ بلیغ ہے۔ گویا کہ وہ کثرت عفت کا طالب ہے۔ رہا فقیر وہ احتیاطی اندازہ کی خوراک کھائے۔ ابراہیم نخعی (رح) کہتے ہیں۔ اس سے مراد جو اس کی بھوک کا ازالہ کر دے اور ستر کو چھپا دے۔ فَاِذَا دَفَعْتُمْ اِلَیْہِمْ اَمْوَالَہُمْ فَاَشْہِدُوْا عَلَیْہِمْ (جب تم ان کے مال ان کو سپرد کرنے لگو تو گواہ بنالو) کیونکہ وہ مال تم ان کے سپرد کر رہے ہو اور وہ اس کو لے رہے ہیں۔ اس سے کل انکار کا دعویٰ ختم ہوجائے گا۔ انکار اور جھگڑے کی صورت میں قسم کی طرف متوجہ نہ ہونا پڑے گا۔ وَکَفٰی بِاللّٰہِ حَسِیْبًا (اللہ تعالیٰ ہی حساب لینے والا کافی ہے) پس تمہیں باہمی سچ بولنا ضروری ہے اور ایک دوسرے پر جھوٹ مت باندھو۔ یا یہ فلیأکل بالمعروف کی طرف راجع ہے۔ کہ وصی اسراف نہ کرے۔ اللہ تعالیٰ خود اس کا محاسبہ فرمائیں گے۔ اور اس کو بدلہ دیں گے۔
نحو : باللہ میں با زائد ہے اور یہ کَفٰی کا فاعل ہے۔ اور کفی کا لفظ متعدی الی المفعولین ہوتا ہے اس کی دلیل اس آیت میں ہے فَسَیَکْفِیْکَہُمُ اللّٰہُ ۔ البقرہ۔ 137۔ ک ٗ ہم دو مفعول ہیں۔
Ayah 4:7آیت 7 :
لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَکَ الْوَالِدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ وَلِلنِّسَآئِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَکَ الْوَالِدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ (مردوں کا حصہ ہے اس میں جو انکے والدین اور اقرباء چھوڑ جائیں اور عورتوں کا حصہ ہے ‘ اس مال میں جو انکے والدین اور اقرباء چھوڑ جائیں) ۔
اقربون سے مراد ذوی القربیٰ میں وراثت کے حصہ والے مراد ہیں۔ دوسرے نہیں۔ مِمَّا قَلَّ مِنْہُ اَوْکَثُرَ (خواہ مال تھوڑا ہو یا زیادہ) یہ مماترک کا بدل ہے۔ اور اس پر عامل کو بھی دوبارہ لایا گیا ہے۔ اور منہ کی ضمیر ماترک کی طرف راجع ہے۔ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا (طے شدہ حصہ) : اعنی کی وجہ سے نصیبًا منصوب ہے۔ مفروضًا کا معنی طے شدہ ہے۔ اس کو الگ کرنا ضروری ہے۔
واقعہ امّ کُحہ :
مسئلہ : روایات میں ہے کہ اوس بن ثابت نے وفات پائی اور اپنے پیچھے بیوی اُمّ کُحَّہ اور تین بیٹیاں وارث چھوڑیں۔ (ابن حبان نے دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ذکر کیا) اوس کے چچا زاد بھائی خالد اور عرفجہ نے ساری جائیداد پر قبضہ کرلیا۔ اہل جاہلیت عورتوں کو وراثت کا حصہ دار قرار نہ دیتے تھے۔ اسی طرح بچوں کو بھی اور کہتے تھے وارث وہ ہوگا جو تیروں سے دفاع کرسکے گا اور غنیمت جمع کرسکے گا۔ ام کحہ نے دربار نبوت میں حاضر ہو کر واقعہ عرض کیا۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا تو واپس جا میں انتظار کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کیا فیصلہ فرماتے ہیں۔ پس یہ آیت اتری۔ تو آپ نے خالدو عرفجہ کو پیغام دیا کہ مال میں سے کچھ بھی الگ نہ کرنا۔ اللہ تعالیٰ نے عورتوں کا حصہ مقرر کردیا۔ اور جب تک وضاحت نہ کی گئی اس وقت تک وضاحت نہ فرمائی۔ پھر یہ آیت اتری یوصیکم اللّٰہ۔ آپ ﷺ نے ام کحہ کو آٹھواں حصہ دیا اور بنات کو دو ثلث اور باقی دونوں چچا زاد بھائیوں کو ( مگر ابن حبان کی روایت کے مطابق آٹھواں بیوی اور بقیہ ٗ بیٹے اور دو بیٹیوں کو) ۔
Ayah 4:8آیت 8 :
وَاِذَاحَضَرَ الْقِسْمَۃَ (جب تقسیم میراث کے وقت آموجود ہوں) اُولُوا الْقُرْبٰی (قرابتدار) جو غیر وارث ہیں۔ وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنُ (یتیم و مساکین) اجنبی۔ فَارْزُقُوْہُمْ (پس ان کو بطور خیرات دے دو ) مِّنْہُ (اس میں سے) جو قرابتداروں اور اقارب نے چھوڑا ہے۔ یہ امر استحباب کے لئے ہے۔ یہ حکم باقی ہے۔ منسوخ نہیں ہوا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ ابتداء میں یہ لازم تھا پھر آیت میراث سے منسوخ ہوا۔
دستور کی بات :
وَقُوْلُوْا لَہُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا (اور ان کو تم دستور کی بات کہو) یعنی مناسب انداز سے معذرت اور مناسب وعدہ کرو۔ دوسرا قول یہ ہے کہ قول معروف یہ ہے خذوا بارک اللہ لکم یہ لے لو اللہ تعالیٰ تمہیں برکت دے۔ اور یہ جو کچھ دیا گیا ہے یہ بالکل تھوڑا ہے۔ اور ہم نے دے کر احسان نہیں کیا۔
Ayah 4:9آیت 9 :
وَلْیَخْشَ الَّذِیْنَ لَوْ تَرَکُوْا مِنْ خَلْفِہِمْ ذُرِّیَّۃً ضِعٰفًا خَافُوْا عَلَیْہِمْ فَلْیَتَّقُوا اللّٰہَ وَلْیَقُوْلُوْا قَوْلاً سَدِیْدًا ( اور ڈریں وہ لوگ اگر وہ چھوڑ جائیں اپنے پیچھے چھوٹے بچے جن کے بارے میں ڈر ہو (تباہ ہوجانے کا) پس ان کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے اور اور کہیں ٹھیک بات) مراد اس سے وصی ہیں۔
اوصیاء کو نصیحت :
ان کو حکم دیا گیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈریں اور ان یتیموں کے متعلق خوف کریں اسی طرح کا جیسا وہ اپنی اولاد کے متعلق رکھتے ہیں کہ اگر ان کو چھوٹی عمر میں چھوڑ جائیں۔ وہ اپنے نفوس میں اس حسرت کا اندازہ کریں اور اس کا تصور کریں تاکہ خلاف شفقت و مہربانی کسی بات کی جسارت نہ کریں۔
نحو : لو ماسمیت الذین کا صلہ ہے۔ یعنی ولیخش الذین صفتہم وحالہم انہم لوشارفوا ان یترکوا خلفہم ذریۃ ضعافاً و ذلک عند احتضارہم خافوا علیہم الضیاع بعدہم للذہاب کا فلہم اور لو کا جواب خافوا ہے۔ قول سدید کا مطلب اوصیاء کی طرف سے یہ ہے۔ کہ وہ ان یتیموں سے اسی حسن و خوبی سے بات کریں جیسا کہ وہ اپنی اولاد سے کرتے ہیں۔ یا بنی اور یا ولدی کے القاب سے آواز دیں۔
Ayah 4:10آیت 10 : اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْکُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰی ظُلْماً ( بیشک جو یتیموں کا مال ظلماً کھاتے ہیں) نمبر 1۔ ظلماً مصدر ہے موضع حال میں واقع ہے۔ نمبر 2۔ اس حال میں کہ وہ ظلم کرنے والے ہیں۔ اِنَّمَا یَاْ کُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِہِمْ نَارًا (بیشک وہ اپنے پیٹوں میں آگ کھاتے ہیں)
آگ کھانے کا مطلب :
یعنی وہ ایسا مال کھا رہے ہیں جو قبر سے دوزخ میں کھینچ کرلے جائے گا۔ پس گویا وہ آگ ہے۔ روایات میں ہے کہ یتیموں کا مال کھانے والا قیامت کے دن اس طرح اٹھے گا کہ دھواں اس کی قبر سے، اور اس کے منہ ٗ ناک اور دونوں کانوں سے بھی اٹھ رہا ہوگا اس سے لوگ پہچان جائیں گے کہ یہ دنیا میں یتیم کا مال کھاتا رہا ہے۔ وَسَیَصْلَوْنَ سَعِیْرًا (وہ عنقریب بھڑکتی آگ میں داخل ہونگے) ۔
قراءت : شامی اور ابوبکر نے سیُصْلَون پڑھا ہے۔ یعنی عنقریب وہ داخل ہونگے۔ سعیر آگ کو کہتے ہیں جس کا وصف مبہم کردیا۔
Ayah 4:11آیت 11 :
یُوْصِیْکُمُ اللّٰہُ (اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے) اور تاکید کرتا ہے۔ فِیْٓ اَوْلَادِکُمْ (تمہاری اولاد کے متعلق) ان کی میراث کے سلسلہ میں۔ یہ تو اجمالاً فرمایا تفصیل آگے ہے۔ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ (ان میں سے مذکر کے لئے حصہ دو عورتوں کے برابر ہوگا) یعنی تمہاری اولاد میں سے ضمیر راجع کو حذف کردیا کیونکہ وہ خود سمجھ آرہا ہے۔ یہ اس طرح ہے : السمن منوان بدرہم۔
لڑکے لڑکی کا حصہ :
مذکر کے حصہ سے شروع فرمایا مگر اس طرح نہیں فرمایا۔ للانثیین مثل حظ الذکر یا للانثٰی نصف حظ الذکر۔ کیونکہ مرد کو فضیلت حاصل ہے۔ جیسا کہ فضیلت کی وجہ سے اس کا حصہ دوگنا کردیا گیا۔ اور یہ وجہ بھی ہوسکتی ہے کہ وہ فقط مذکر کو وارث قرار دیتے عورتوں کو نہیں۔ اور آیت کا شان نزول بھی یہی ہے۔ دوسرا قول یہ بھی ہے کہ مذکر کے لئے یہی فضیلت کافی ہے۔ کہ عورتوں سے ان کے حصہ کو دوگنا کیا گیا ہے۔ لیکن رشتہ میں چونکہ دونوں اصناف برابر ہیں اس لئے محروم کسی کو نہ کیا جائے گا اور یہ اس وقت ہے جبکہ دونوں صنفیں موجود ہوں یعنی جب مذکر و مؤنث دونوں قسم کی اولاد ہو۔ تو مذکر کے دو حصے ہونگے۔ اور دو لڑکیاں ہوں تو دو حصے ان کے ہوجائیں گے۔ اور اگر لڑکا ایک ہی ہو۔ لڑکی کوئی نہ ہو تو وہ کل مال کا وارث ہوگا۔ اور اگر دو لڑکیاں ہوں گی تو دو ثلث لیں گی۔ اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اس کے بعد فقط اولاد مؤنث کا ذکر کیا۔ فَاِنْ کُنَّ نِسَآئً یعنی اگر اولاد میں صرف عورتیں ہوں۔ بیٹا نہ ہو۔ فَوْقَ اثْنَتَیْنِ یہ دوسری خبر ہے یا نساء کی صفت ہے۔ یعنی عورتیں دو سے زائد ہوں۔ فَلَہُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَکَ (تو ان کے لئے متروکہ میت سے دو ثلث ہونگے) کیونکہ یہ آیت بسلسلہ میراث ہے۔ اس لئے تارک سے مراد میت ہی ہے۔ وَاِنْ کَانَتْ وَاحِدَۃً فَلَہَا النِّصْفُاور اگر لڑکی ایک ہی ہو تو اس کو نصف ملے گا۔ (بقیہ عصبات کی طرف چلا جائے گا)
قراءت : مدنی نے کان تامہ قرار دے کر واحدۃٌ پڑھا۔ مگر نصب فان کن نساء سے زیادہ موافق ہے۔
دو لڑکیوں کا حصہ :
اعتراض : یہاں بیٹا اور دو بیٹیوں کا حکم ذکر کیا۔ اور ایک بیٹی فقط اور دو سے زائد فقط بیٹیوں کا حکم ذکر کیا گیا۔ مگر دو بیٹیوں کا حکم ذکر نہیں کیا۔ ان کا کیا حکم ہے ؟
جواب : ان کا حکم مختلف ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں۔ دو لڑکیوں کا وہی ہے جو ایک کا ہے۔ نصف ملے گا۔ دیگر صحابہ ؓ نے ان کو جماعت کا حکم دیا۔ اس آیت کے پیش نظر للذکر مثل حظ الانثیین۔ پس دوتہائی ملے گا۔ اور اس کی وجہ یہ ہے۔ جو فوت ہوا اور اس نے ایک بیٹا۔ ایک بیٹی چھوڑے۔ تو لڑکی کو ثلث اور بقیہ لڑکے کو ملے گا۔ تو ایک لڑکی کو جب ثلث ملا تو دو کو دو ثلث ملنا چاہیے۔ کیونکہ سورت کے آخر میں فرمایا۔ اِن امرؤ ہلک لیس لہ ولدو لہ اخت فلہا نصف ما ترک و ہو یرثہا ان لم یکن لہا ولد فان کانتا اثنتین فلہما الثلثان مما ترک۔
دو ثلث سے کم نہ ہوگا :
آیت سے معلوم ہوا کہ جب دو عورتیں بہنیں ہوں تو ان کا حصہ دو ثلث سے کم نہیں ہوتا تو دو لڑکیاں جو رحم و رشتہ میں میت کے بہنوں کی بنسبت قریب تر ہیں ان کا حصہ دو ثلث سے کم نہ ہونا چاہیے۔ جب دو بہنوں کے حصہ کی صراحت ہے۔ تو ان سے قریب تر کا حصہ ان سے کم نہ ہونا چاہیے۔ اور دوسری دلیل یہ ہے کہ جب ایک لڑکی کا اپنے بھائی کے ہوتے ہوئے ثلث ہے۔ تو پھر زیادہ مناسب ہے کہ اس کے لئے ثلث واجب ہو جبکہ وہ اپنی بہن کے ساتھ ہو۔ جو اس کی مثل ہے۔ اور اس کی بہن کیلئے اس کے ساتھ ہوتے ہوئے اتنا ہی حصہ ہے جتنا اس لڑکی کیلئے واجب ہے۔ اس کے بھائی کی موجودگی میں اگر ایک بہن بھائی ہوں۔ پس دو ثلث ان کے لئے لازم ہے۔ اس آیت میں اشارہ ہے کہ تمام مال مذکر کو مل جائے گا۔ جبکہ اس کے ساتھ مؤنث نہ ہو۔ کیونکہ مذکر کا حصہ دو عورتوں کے برابر برقرار دیا گیا۔ اور مؤنث ایک ہو تو اس کو نصف مال مل جاتا ہے۔ پس اس سے معلوم ہوا کہ مذکر کا حصہ نصف کا دوگنا ہے اور وہ کل مال ہے۔ وَلِاَبَوَیْہِ (اور ماں باپ کیلئے) میں ضمیر میت کی طرف جاتی ہے مراد اس سے ماں ٗ باپ ہیں۔ مذکر کا ذکر تغلیبًا کردیا گیا۔ لِکُلِّ وَاحِدٍ مِّنْہُمَا السُّدُسُ یہ ابویہ سے بدل ہے۔ اور عامل بھی دوبارہ لائے۔
فائدئہ بدل :
یہ ہے کہ اگر کہا جاتا : لا بویہ السدس (دونوں میں سے ہر ایک کیلئے چھٹا حصہ ہے) تو بظاہرمطلب یہ بنتا کہ دونوں چھٹے حصہ میں شریک ہیں اور اگر عبارت لا بویہ السدسان ہوتی تو دوسدس ان کے مابین برابری کی تقسیم اور الٹ تقسیم کا وہم ہوتا۔ اور اگر عبارت لکل واحدٍ من ابویہ السدس ہوتی تو پھر تاکید کا فائدہ نہ حاصل ہوسکتا۔ حالانکہ یہ اجمال کے بعد تفصیل ہے۔
نحو : السدس مبتداء لا بویہ اس کی خبر۔ اور ان کے مابین بدل وضاحت کیلئے ہے۔
قراءت : حسن (رح) نے السُدْس والربْعَ ٗ الثُمْن ٗ الثُلْثُ تمام کو تخفیف کے ساتھ پڑھا۔
بطور فرض حصہ :
مِمَّا تَرَکَ اِنْ کَانَ لَہٗ وَلَدٌ (اس ترکہ میں سے اگر اس کی اولاد ہو) یہ ولد کا لفظ مذکر و مؤنث دونوں کے لئے آتا ہے۔ اگر مذکر اولاد نہ ہو۔ بیٹی ہو تو باپ کو بطور فرض چھٹا ملتا ہے اور ذوی الفروض کے بعد باقی تمام بطور عصبہ اس کو مل جائے گا۔
ماں باپ کا حصہ :
فَاِنْ لَّمْ یَکُنْ لَّہٗ وَلَدٌ وَّوَرِثَہٗ اَبَوٰہُ فَلِاُمِّہِ الثُّلُثُ (اگر میت کی کوئی صلبی اولاد نہ ہو (نہ پوتا ہو) اور ماں باپ اس کے وارث ہوں تو ماں کو ایک تہائی حصہ ملے گا) یہ حصہ متروکہ میں سے ملے گا۔ مطلب ورثہ ابوٰہ کا یہ ہے کہ صرف ماں ٗ باپ ہی وارث ہوں۔ کیونکہ جب ماں ٗ باپ ٗ زوجین میں سے کسی ایک کے ہوتے ہوئے وارث بنیں تو اس صورت میں ماں کو ثلث۔ فرضی حصہ زوج نکالنے کے بعد ملے گا۔ کل متروکہ کا ثلث نہ ملے گا۔ کیونکہ باپ وراثت کے حصہ کے لحاظ سے قوی تر ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ جب فقط ماں باپ وارث ہوں تو باپ کو دو ثلث ملتے ہیں۔ اگر ماں کا حصہ کا مل میں سے ثلث مقرر کیا جائے۔ تو اس کا حصہ باپ کے حصے تک پہنچ جائے گا۔
ایک صورت :
ایک عورت فوت ہوئی اس نے خاوند اور ماں ٗ باپ وارث چھوڑے تو زوج کو نصف اور ماں کو ثلث۔ باقی تمام باپ کو ملے گا۔ ماں نے دو حصے جمع کر لئے اور باپ کو ایک حصہ ملا۔ پس حکم پلٹ گیا کہ مؤنث کو دو مذکر کے برابر حصہ ملا۔
قراءت : فلامہ۔ ہمزہ مکسور۔ کسرہ کے جوار کی وجہ سے حمزہ اور علی رحمہما اللہ نے پڑھا۔
ایک اور صورت :
فَاِنْ کَانَ لَہٗ (اگر میت کے لئے ہوں) اِخْوَۃٌ فَلِاُمِّہِ السُّدُسُ (بھائی تو اس کی ماں کو چھٹا حصہ ملے گا) جب میت کے دو بھائی اور کئی بہنیں ہوں تو ماں کو چھٹا ملے گا۔ اور ایک بھائی وہ ماں کے حصہ کو کم نہ کرے گا۔ (اور نہ ہی ایک بہن بلکہ ماں کا حصہ تہائی ہوگا) عینی ٗ علاتی ٗ اخیافی بھائی جب دو یا زیادہ ہوں تو ماں کا حصہ گھٹا کر چھٹا کردیں گے۔
فرض و وصیت مقدم :
مِنْم بَعْدِ وَصِیَّۃٍ (وصیت کے بعد) یہ میراث کی تمام تقسیم جو گزری اس سے متعلق ہے۔ کہ یہ ورثاء میں تقسیم مال و صیت کے نکالنے کے بعد ہوگی۔ گویا اس طرح فرمایا۔ قسمۃ ہذہ الانصباء۔ کہ یہ تقسیم حصص و صیت کے بعد ہوگی۔ یُوْصِیْ بِہَا (جو میت وصیت کر جائے)
قراءت : یُّوْصِیْ بِہَا کو یُوْصٰی ٗبھا مکی ٗ شامی ٗ اور حماد نے پڑھا۔ اور یحییٰ و اعشیٰ نے یہاں یوصٰی پڑھا۔ اور حفص نے دوسرے میں یوصٰی پڑھا کیونکہ یُوْرَثُ کے قریب ہے اور یہاں یُوصِی پڑھا کیونکہ یوصیکم اللّٰہ کے جوار میں ہے۔ باقی تمام قراء نے دونوں صاد کسرہ کے ساتھ پڑھے ہیں۔ مراد میت کا وصیت کرنا ہے۔
اَوْدَیْنٍ (یا قرض)
تقدیم دین کی حکمت :
سوال : شرع میں دَیْن وصیت پر مقدم ہے۔ مگر یہاں وصیت کو تلاوۃً دین پر مقدم کیا گیا۔
جواب : نمبرا۔ او کا لفظ ترتیب کے لئے نہیں۔ جیسا کہا جائے جاءنی زیدٌ او عمرو۔ تو مطلب یہ ہے۔ جاءنی احد الرجلین پس آیت میں تقدیر عبارت اس طرح ہے۔ من بعد وصیۃ یوصی بھا او دین ای من بعد احد ہذین الشیئین الوصیۃ او الدین۔ جب اَوْ کا لفظ آئے تو ترتیب معلوم نہیں ہوتی بلکہ مقدم کا مؤخر اور مؤخر کا مقدم ہونا جائز ہے۔ باقی قرض کی وصیت پر تقدیم رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد کے پیش نظر ہے۔ الا ان الدین قبل الوصیۃ اور۔ نمبر 2: اس وجہ سے کہ یہ میراث کے مشابہ ہے۔ اور بلا عوض دی جاتی ہے۔ پس اس کا دینا ورثاء پر گراں گزرے گا۔ اور اس کی ادائیگی میں تفریط کا خطرہ ہے کیونکہ اس کا مطالب کوئی نہیں۔ بخلاف قرض کے۔ اس کو قرض سے مقدم کیا گیا تاکہ اس کی ادئیگی میں عجلت کی جائے اور قرض ساتھ ادا کردیا جائے۔ اٰبَآؤُکُمْ وَ اَبْنَآؤُکُمْ لَا تَدْرُوْنَ اَیُّہُمْ اَقْرَبُ لَکُمْ نَفْعًا ( تمہارے باپ اور بیٹوں میں سے تمہیں معلوم نہیں کہ کون ان میں تمہارے لئے نفع میں قریب تر ہے)
نحو : اٰباء کم مبتداء۔ ابناؤکم اس کا معطوف۔ لَا تَدْرُوْنَخبر ہے۔ ایہم مبتداء۔ اقرب لکم خبر ہے۔ اور دونوں موضع نصب میں ہیں۔ عامل تَدْرُوْنَ ہے۔ نفعًا تمیز ہے۔
آیت کا مطلب :
مطلب یہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرائض کو اپنی حکمت کے مطابق لازم کیا۔ اگر یہ تمہارے سپرد ہوتا۔ تو تمہیں معلوم نہ ہوتا کہ کون تمہارے لئے زیادہ فائدہ مند ہے۔ پس تم اموال کو بغیر حکمت کے تقسیم کرتے۔ حصص میں فرق منافع کے فرق کے سبب ہے اور تم ان کا تفاوت نہیں جانتے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اس کی ذمہ داری لی۔ اور تمہارے اجتہاد پر نہیں چھوڑا کیونکہ تم مقداروں کو پہچاننے سے عاجز تھے۔
جملہ معترضہ :
یہ جملہ معترضہ مؤکدہ ہے۔ اس کی اعرابی حیثیت کوئی نہیں۔ فَرِیْضَۃً یہ فعل محذوف کا مصدر مؤکد ہے۔ ای فرض ذٰلک فرضًا۔ مِّنَ اللّٰہِ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیْمًا حَکِیْمًا (یہ اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمایا۔ بیشک اللہ علم والے ‘ حکمت والے ہیں) اشیاء کو پیدا کرنے سے پہلے جانتے ہیں۔ اور جو فرائض مقرر کیے اور میراث کی تقسیم کی اس میں حکمت برتنے والے ہیں۔
Ayah 4:12آیت 12 :
وَلَـکُمْ نِصْفُ مَا تَرَکَ اَزْوَاجُکُمْ (تمہارے لئے نصف ہے جو چھوڑا تمہاری بیویوں نے) اِنْ لَّمْ یَکُنْ لَّہُنَّ وَلَدٌ (اگر ان کی اولاد مذکر یا مؤنث نہ ہو) فَاِنْ کَانَ لَہُنَّ وَلَدٌ (اگر ان بیبیوں کے کچھ اولاد ہو تو) اگر ان کی تم میں سے اولاد ہو یا اور کسی خاوند سے ہو۔
میاں بیوی کی وراثت :
فَلَکُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکْنَ مِنْم بَعْدِ وَصِیَّۃٍ یُّوْصِیْنَ بِہَآ اَوْدَیْنٍ ۔ وَلَہُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکْتُمْ اِنْ لَّمْ یَکُنْ لَّکُمْ وَلَدٌ فَاِنْ کَانَ لَکُمْ وَلَدٌ فَلَہُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَکْتُمْ مِّنْم بَعْدِ وَصِیَّۃٍ تُوْصُوْنَ بِہَآ اَوْ دَیْنٍ ( اور ان کے ترکہ میں تمہارا چوتھائی ہے۔ ان کی وصیت اور قرض ادا کرنے کے بعد اور ان تمام عورتوں کے لئے چوتھائی ہے جو تم نے ترکہ چھوڑا۔ اگر تمہاری اولاد نہ ہو۔ اگر
تمہاری اولاد موجود ہو تو تمہاری بیویوں کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ہے۔ تمہاری وصیت کرنے کے بعد یا قرض ادا کرنے کے بعد) ایک بیوی اور چار بیویاں ربع اور ثمن میں برابر ہونگی۔ خاوند کی میراث کو زوجہ سے دوگنا قرار دیا کیونکہ آیت للذکر مثل حظ الانثیین اس پر دلالت کرتی ہے۔
کلالہ کی میراث :
وَ اِنْ کَانَ رَجُلٌ (اور اگر کوئی آدمی میت) یُّوْرَثُ (جس کی وراثت تقسیم کی جا رہی ہو) یہ وَرِث سے ہے۔ کَلٰلَۃً (کلالہ ہو) کلالہ وہ ہے جس کی نہ اولاد ہو نہ والد۔
نحو : (1) رجلٌ کَانَ کا اسم ہے۔ یورث، رجل کی صفت ہے اور کلالۃ یہ کان کی خبر ہے۔ اگر کوئی آدمی جس کی وراثت تقسیم ہو رہی ہے وہ کلالہ ہو۔ کہ اس کی نہ اولاد ہو نہ والد۔ (2) یا : یُوْرَثُ ۔ کَانَ کی خبر ہے۔ اور کلالہ یورث کی ضمیر سے حال ہے۔ کلالہ جس نے والد و ولد نہ چھوڑا ہو یا پیچھے رہنے والوں میں نہ والد ہو نہ ولد وہ کلالہ کہلاتے ہیں۔ اصل میں یہ لفظ مصدر ہے اور کلال کے معنی میں آتا ہے۔ اور کلال کا معنی ہے تھک کر عاجز آنا۔ اَوِ امْرَاَۃٌ یہ رجل پر عطف ہے۔ وَلَہٗ اَخٌ اَوْ اُخْتٌ (یا عورت کلالہ ہو اور اس کا بھائی یا بہن ہو) یہاں بالاتفاق اخیافی بھائی مراد ہیں۔
ضمیر مفرد کی وجہ :
سوال : مرد عورت دونوں کا تذکرہ ہوا۔ مگر ضمیر مفرد مذکر کی لائی گئی۔
جواب : مفرد ضمیر کی وجہ او ہے جو احد الشیئین کے لئے آتا ہے۔ یا مذکر اس لئے لائے کیونکہ ضمیر رجل کی طرف راجع ہے اور وہ مذکر ہے اور ابتدائے کلام اسی سے ہے۔ یا دونوں میں سے احد ہما کی طرف لوٹے گی اور وہ مذکر ہے۔ فَلِکُلِّ وَاحِدٍ مِّنْہُمَا السُّدُسُ فَاِنْ کَانُوْٓا اَکْثَرَ مِنْ ذٰلِکَ فَہُمْ شُرَکَآئُ فِی الثُّلُثِ (پس ان میں سے ہر ایک کے لئے چھٹا حصہ ہے۔ اگر وہ ایک سے زیادہ ہوں تو وہ ثلث میں شریک ہونگے حصہ میں مرد و عورت برابر ہونگے۔ کیونکہ ان کو قرابت اُمْ کی وجہ سے حصہ ملا ہے اور ماں ایک ثلث سے زیادہ کی وارث نہیں ہوتی۔ اسی لئے مذکر و مؤنث پر فضیلت حصہ میں حاصل نہ ہوگی۔ مِنْ 7 بَعْدِ وَصِیَّۃٍ یُّوْصٰی بِہَآ اَوْ دَیْنٍ (وصیت کے پورا کرنے کے بعد جو میت کی طرف سے کی جائے یا قرض کی ادائیگی کے بعد) یہ وصیت و دین کو دوبارہ لایا گیا۔ کیونکہ موصی مختلف ہیں۔ اول تو اولادو والدین ہیں اور ثانی زوجہ اور ثالث زوج اور چوتھا کلالہ۔ غَیْرَ مُضَآرٍّ (وہ نقصان نہ پہنچانے والا ہو) اپنے ورثاء کو۔ یعنی وصیت کرنے والا زیادتی کرنے والا نہ ہو وہ اس طرح کہ ثلث سے زائد کی وصیت کر جائے۔ یا وارث کے لئے وصیت کر جائے۔ وَصِیَّۃً مِّنَ اللّٰہِ (یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وصیت ہے)
مسئلہ : یہ مصدر مؤکد ہے۔ یعنی وہ تمہیں اس بات کی وصیت کرتا ہے وصیت کرنا۔ غیر مضار۔ یہ حال ہے۔ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ (اور اللہ جاننے والے ہیں) اس شخص کو جو ظلم کرنے والا ہے یا وصیت میں انصاف کرنے والا ہے۔ حَلِیْمٌ (وہ حلم والا ہے) ظالم کو جلد سزا نہیں دیتا۔ یہ وعید ہے۔
سوال : جنہوں نے یوصی بھا پڑھا تو ذوالحال کہاں ہے ؟
جواب : اس کا فاعل مضمر ہوگا۔ کیونکہ جب کہا : یوضٰی بھا تو اس سے خود معلوم ہوگیا کہ وہاں کوئی موصی ہے۔ جس طرح رجال۔ یسبح کا فاعل ہے۔ کیونکہ جب کہا گیا یسبح لہ۔ النور : 36۔ تو خود معلوم ہوگیا کہ وہاں مسبح ہے جو یسبح میں مضمر ہے۔
ورثاء کی اقسام
نمبر 1۔ اصحاب ِفرائض :
یہ وہ ہیں جن کے حصے مقرر ہیں۔ مثلاً بیٹی۔ اس کا نصف ہے اور جب ایک سے زیادہ ہوں تو دو ثلث۔ اور پوتی نیچے تک۔ یہ لڑکا نہ ہونے کی حالت میں بیٹی کے حکم میں ہے اس کا صلبی بیٹی کے ساتھ چھٹا حصہ ہے مگر دو صلبی بیٹیوں اور بیٹے کی موجودگی میں یہ ساقط ہوجائے گی مگر جبکہ اس کے ساتھ لڑکا ہوگا تو وہ اس کو عصبہ بنا دے گا۔ ماںؔ اور باپ کی بہنیں یہ ولد اور ولد الابن کی عدم موجودگی میں بنات کی طرح ہونگی۔ اور باپ کی بہنیں فقط یہ ماں ٗ باپ کی بہنوں کی طرح شمار ہونگی۔ جبکہ وہ موجود نہ ہوں، یہ بنت کے ساتھ مل کر یا بنت الابن کے ساتھ مل کر یہ دونوں قسمیں عصبہ بن جائیں گی۔ اور بیٹے اور پوتے کی موجودگی میں خواہ وہ نیچے جا کر ہو یہ ساقط ہوجائیں گے۔ بلکہ والد اور دادا کی موجودگی میں بھی یہ امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک ساقط ہوجائیں گی۔
ماں کے بیٹے :
ان میں سے ایک کے لئے چھٹا ہوگا اور ایک سے زیادہ کے لئے ثلث ہوگا۔ مذکر و مؤنث کا حصہ برابر ہوگا۔ یہ بیٹے اور پوتے کے ہوتے ہوئے نیچے تک ساقط ہوجائیں گے اسی طرح والد اور دادا کی موجودگی میں بھی ساقط ہونگے۔
باپ : بیٹے کی موجودگی میں اس کا چھٹا حصہ ہوگا۔ اسی طرح پوتے اور نیچے تک بنت کے ساتھ یا بیٹے کی بیٹی نیچے تک ہو تو چھٹا حصہ اس کو ملے گا۔ اور باقی بھی ملے گا۔
دادا :
ماں کی عدم موجودگی میں باپ کی طرح ہے۔ مگر ماں کے ثلث کی طرف لوٹنے میں جب تک کہ باقی رہے۔
ماں :
لڑکے کے ہوتے ہوئے اس کا حصہ چھٹا ہے۔ یا پوتے کے ہوتے ہوئے۔ خواہ نیچے تک ہوں اس کا چھٹا ہے۔ یا دو بہنیں اور کئی بہنوں کی موجودگی خواہ وہ کسی جہت سے ہوں اس کا حصہ چھٹا ہوگا۔ اور جب یہ نہ ہوں تو ماں کو ثلث ملے گا اور باقی کا ثلث ملے گا جب کہ وارث زوج و والدین ہوں اور زوجین میں سے کسی ایک کا حصہ فرض ہو۔ یا زوجہ اور ابوین ہوں۔
دادی :
اس کا چھٹا حصہ ہوگا۔ اگرچہ ایک سے زیادہ ہو خواہ ماں کی طرف سے ہوں یا باپ کی طرف سے۔
قاعدہ :
قرابت والے ہوں تو دور والوں کے لئے حصہ سے روک بن جائیں گے اور ماں کے ہوتے ہوئے تمام اور باپ کے ہوتے ہوئے ابویات کا حصہ نہ ہوگا۔
زوج :
ولد کی موجودگی میں اسکا چوتھائی اور اسی طرح پوتا نیچے تک ہوں تب بھی چوتھائی ہوگا اور جب ولد وغیرہ نہ ہوں تو زوج کو نصف ملے گا۔
زوجہ :
ولد کے ساتھ اس کا آٹھواں اسی طرح پوتا نیچے تک کے ساتھ بھی آٹھواں ہوگا۔ اور جب یہ نہ ہوں تو چوتھائی ہوگا۔
العصبات
یہ وہ لوگ ہیں جو اہل فرائض کے بقیہ کے وارث ہوتے ہیں۔ ان عصبات کی اولاد میں ترتیب اس طرح ہوگی۔ نمبر 1۔ بیٹا پھر بیٹی پھر نیچے تک اسی ترتیب سے۔ نمبر 2۔ پھر باپ پھر دادا پھر اس سے اوپر تک اسی طرح۔ نمبر 3۔ بھائی ماں باپ کی طرف سے۔ پھر باپ سے بھائی۔ نمبر 4۔ پھر حقیقی بھتیجا پھر باپ جائے بھائی کا بیٹا۔ نمبر 5۔ پھر چچا پھر باپ کے چچا ٗ پھر دادا کے چچا۔ نمبر 6۔ آزاد کردہ غلام۔ پھر اس کے عصبہ اوپر والی ترتیب کے مطابق۔
وہ عورتیں جن کا فرضی حصہ نصف اور دو ثلث ہے وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ عصبہ بن جائیں گی۔ ان کے علاوہ دوسروں کے ساتھ نہ بن سکیں گی۔
ذوی الارحام
یہ ایسے اقارب ہیں۔ جو عصبات سے نہیں۔ نہ اہل فرائض سے ہیں۔ ان کی ترتیب عصبات کی طرح ہے۔
(نکتہ ٔ نادرہ : اس آیت میں وصیت و قرض کو عدم ضرر کی قید سے مشروط کیا۔ جبکہ اس سے قبل یہ قید نہیں۔ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ قرابت توالد اور تعلق زوجیت کا تقاضہ ہے کہ وصیت یا اقرار دین پایا جائے۔ مگر اخیافی بھائی قرابت کا رشتہ نہیں رکھتے یہاں ضرر کا اندیشہ قوی ہے۔ اس لئے اس سے بچانے کی خاطر قید لگا دی۔ مترجم)
Ayah 4:13آیت نمبر 13 :
تِلْکَ (یہ) اس کا مشارٌا لیہ وہ احکام ہیں جن کا تذکرہ باب الیتامی والوصا یا وا لمواریث میں ہوچکا۔ حُدُوْدُ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کی حدود ہیں) ان کو حدود کہا۔ کیونکہ احکام شریعت حدود کی طرح ہیں۔ جو کہ مکلفین کے لئے لگائی گئیں۔ ان سے تجاوز ان کے لئے جائز نہیں ہے۔ وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ یُدْخِلْہُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْہَا وَ ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ (جو اللہ اور اس کے رسول کی پوری اطاعت کرے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کو ایسی جنتوں میں لے جائے گا جن کے درختوں کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے یہی بڑی کامیابی ہے)
Ayah 4:14آیت 14 :
وَمَنْ یَّعْصِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَیَتَعَدَّ حُدُوْدَہٗ یُدْخِلْہُ نَارًا خَالِدًا فِیْہَا (اور وہ جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی حدود سے تجاوز کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو آگ میں داخل فرمائیں گے وہ اس میں ہمیشہ رہے گا)
لفظ و معنی کا لحاظ :
نحو : خَالِدِیْنَ ٗ اور خَالِدًا کو نصب حال ہونے کی وجہ سے ہے اوپر والی آیت میں جمع لائے اور اس آیت میں مفرد لایا گیا۔
ایک میں معنی کا لحاظ کیا جبکہ دوسرے میں لفظ کا لحاظ کیا۔
قراءت : ندخلہ دونوں مدنی اور شامی نے پڑھا ہے۔ وَلَہٗ عَذَابٌ مُّہِیْنٌ۔ (اس کے لئے ذلت والا عذاب ہے) کیونکہ وہ ذلیل ہوگا اللہ تعالیٰ کے ہاں۔
تردید ِخوارج :
اس آیت کا معتزلہ و خوارج کے فاسد استدلال سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ آیت کفار کے متعلق ہے۔ کیونکہ کافر ہی نے اللہ تعالیٰ کی تمام حدود کو پھاندا ہے۔
باقی مومن تو ایمان کے سبب مطیع ہے توحید کی حدود سے تعدی کرنے والا نہیں۔ اسی لئے ضحاک (رح) نے معصیت کی تفسیر شرک سے کی ہے۔ کلبی نے کہا من یعص اللّٰہ ورسولہ بکفرہ بقسمۃ المواریث و یتعد حدودہ استحلالاً ۔ کہ جس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی تقسیم میراث میں کفر کے سبب کی اور اللہ تعالیٰ کی حدود کو حلال قرار دے کر توڑا۔
Ayah 4:15آیت 15:
پھر حکام کو خطاب کر کے فرمایا۔ وَالّٰتِیْ یَاْتِیْنَ الْفَاحِشَۃَ (وہ عورتیں جو بےحیائی کا ارتکاب کریں)
نحو : وَالّٰتِیْ یہ الَّتِیْ کی جمع ہے۔ اور بوجہ مبتداء موضع رفع میں ہے الفاحشۃ سے مراد زناء ہے۔ کیونکہ یہ بہت سے قبائح سے بڑھ کر ہے۔ کہا جاتا ہے۔ اتی الفاحشہ وجَآء ہا ٗ رہقہا و غشیہا۔ ان تمام کا معنی ارتکاب فاحشہ ہے۔ مِنْ نِّسَآئِ کُمْ (تمہاری عورتوں میں سے بعض) یہاں مِن تبعیضیہ ہے۔ فَاسْتَشْہِدُوْا عَلَیْہِنَّ (ان کے متعلق گواہی طلب کرو)
نحو : والَّتی سے جملہ صلہ مل کر مبتداء اور فاستشہدوا اس کی خبر ہے۔ اَرْبَعَۃً مِّنْکُمْ (اپنے میں سے چار) مِّنْکُمْسے مراد مؤمن۔ فَاِنْ شَہِدُوْا (پس اگر وہ زناء کی گواہی دیں) فَاَمْسِکُوْہُنَّ فِی الْبُیُوْتِ (تو ان عورتوں کو گھروں میں بند کردو) حَتّٰی یَتَوَفّٰہُنَّ الْمَوْتُ (یہاں تک کہ ان کو موت آجائے) الموت سے قبل مضاف محذوف ملائکۃ الموت جیسا کہ دوسری آیت : الَّذِیْنَ تَتَوَفّٰہُمُ الْمَلٰٓپکَۃُ (النحل : 28) یا دوسرا معنی موت ان کو پکڑ لے۔ اور ان کی ارواح کو پورا پورا لے لے۔
سبیل کی وضاحت :
اَوْیَجْعَلَ اللّٰہُ لَہُنَّ سَبِیْلًا (یا اللہ تعالیٰ ان کے لئے راستہ مقرر کر دے) جو اس کے علاوہ ہو۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ کنواری کے لئے وہ راہ سو کوڑے اور جلاوطنی ہے اور ثیبہ کے لئے سنگسار کرنا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے۔ خذوا عنی خذوا عنی قد جعل اللّٰہ لہن سبیلا۔ البکر بالبکر جلد مائۃ وتغریب عامٍ والثیب بالثیب جلد مائۃ ورجم بالحجارۃ۔ (مسلم 1690 احمد 313 جلد 5 ابودائود 4416 ترمذی 1434)
مجھ سے احکام اچھی طرح سمجھ لو۔ اچھی طرح سمجھ لو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے راستہ متعین کردیا۔ کہ کنواری لڑکی و لڑکا ان کو سو کوڑے مارے جائیں گے اور جلا وطن کیا جائے گا اور شادی شدہ جوڑے کو سو کوڑے اور سنگسار کیا جائے۔
Ayah 4:16آیت 16 :
وَالَّذٰنِ (اور جونسے دو شخص بھی) مراد زانی اور مزنیہ ہے۔ قراءت : والَّذَانِ نون کی تشدید کے ساتھ مکی نے پڑھا ہے۔
یَاْتِیٰنِہَا مِنْکُمْ (بےحیائی کا کام کریں تم میں سے) اس کا یعنی فاحشہ کا ارتکاب کرنے والے ہوں۔ فَاٰذُوْہُمَا (پس ان کو دکھ پہنچائو) ڈانٹ ڈپٹ کرو اور عار دلائو۔ اور ان کو کہو تمہیں شرم نہیں آتی تم اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتے۔ فَاِنْ تَابَا (پس اگر وہ توبہ کرلیں) بےحیائی سے۔ وَاَصْلَحَا (اور اصلاح کرلیں) اور حالت کو بدل لیں۔ فَاَعْرِضُوْا عَنْہُمَا (تو تم ان دونوں سے اعراض کرو) اور توبیخ و مذمت کو منقطع کردو۔ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا (بیشک اللہ توبہ قبول کرنے والے مہربان ہیں) وہ تائب کی توبہ قبول فرماتے ہیں اور اس پر رحم بھی فرماتے ہیں۔
اولی حد زنا :
حضرت حسن (رح) نے فرمایا۔ زنا کی حد میں سے جو پہلی چیز نازل ہوئی وہ ایذاء پہنچانا ہی تھی۔ پھر دوسرے نمبر پر قید کرنا۔ پھر تیسرے نمبر پر کوڑے لگانا اور سنگسار کرنا۔ پس نزول کی ترتیب تلاوت کی ترتیب کے خلاف ہے۔
تین اقسام حد :
خلاصہ کلام یہ ہے۔ کہ اگر دونوں شادی شدہ ہوں تو ان کی حد فقط رجم ہے اور جب کنوارے ہوں تو ان کی حد فقط کوڑے ہیں اور اگر ایک شادی شدہ اور دوسرا کنوارہ ہو تو شادی شدہ پر رجم اور کنوارے پر سو کوڑے۔
اعتراف ابن حجر۔ :
علامہ ابن حجر (رح) نے فرمایا۔ پہلی آیت ان عورتوں کے متعلق ہے جو مساحقہ کرنے والیاں ہیں اور دوسری آیت لواطت کا ارتکاب کرنے والوں کے بارے میں اور سورة النور کی آیت وہ زانی وزانیہ کے متعلق ہے۔ یہ امام ابوحنیفہ (رح) کی واضح دلیل ہے کہ لواطت کی سزا تعزیر ہے۔ حد نہیں ہے۔
حضرت مجاہد (رح) کہتے ہیں۔ الا ذی والی آیت لواطت کے متعلق ہے۔