Ayah 8:71اگر فدیہ میں چاپلوسی مقصود تھی تو دوبارہ پکڑے جائیں گے :
آیت 71: وَاِنْ یُّرِیْدُ وْا (اور اگر یہ لوگ ارادہ رکھتے ہیں) قیدی خِیَانَتَکَ (آپ کے ساتھ خیانت کا) نمبر 1۔ ارتداد اختیار کر کے آپ کے ساتھ کیا ہوا وعدہ توڑ دیا۔ نمبر 2۔ جس فدیہ کی ضمان دی تھی وہ روک لیا۔ فَقَدْ خَانُوا اللّٰہَ مِنْ قَبْلُ (تو اس سے پہلے انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ خیانت کی تھی) اس کا انکار کر کے اور ہر عاقل سے جو وعدہ لیا گیا اس کی خلاف ورزی کر کے۔
فَاَمْکَنَ مِنْھُمْ (پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو گرفتار کرا دیا) اللہ تعالیٰ نے ان پر تمہیں اختیار دیا۔ یعنی ان پر غلبہ دیا۔ جیسا کہ بدر کے دن اور اگر وہ غداری کی طرف گئے تو ان پر تمہیں دوبارہ قابو دیں گے۔ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ (اور اللہ تعالیٰ خوب جاننے والے ہیں) مآل کو حَکِیْمٌ (بڑی حکمت والے ہیں) اس بات میں جس کا فی الحال ان کو حکم دیا۔
Ayah 8:72مہاجرین و انصار کا تذکرہ :
آیت 72: اِنَّ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَہَاجَرُوْا (بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت کی) اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی محبت میں مکہ سے ہجرت کی وَجٰھَدُوْا بِاَ مْوَالِھِمْ وَاَنْفُسِھِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ (اور اپنے مال اور جان سے اللہ کی راہ میں جہاد بھی کیا) وہ مہاجرین ہیں۔ وَالَّذِیْنَ ٰاوَوْ ا وَّنَصَرُوْٓا (اور وہ لوگ جنہوں نے رہنے کو جگہ دی اور مدد کی) یعنی انہوں نے اپنے گھروں میں ٹھکانہ دیا اور ان کی اعانت کی۔ یہ جماعت انصا رہے۔ اُولٰٓپکَ بَعْضُھُمْ اَوْلِیَآئُ بَعْضٍ (یہ لوگ ایک دوسرے کے وارث ہیں) میراث میں وہ ایک دوسرے کے ولی ہیں۔ ابتداء ًہجرت و نصرت کی وجہ سے انصار و مہاجرین وارث بنتے تھے۔ قرابات کی وجہ سے نہیں یہاں تک کہ یہ حکم اس ارشاد سے منسوخ ہوگیا۔ واولوا الارحام بعضہم اولٰی ببعض ( الا حزاب : 6) دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے نصرت و معاونت مراد ہے۔ وَالَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَلَمْ یُھَاجِرُوْا (اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت نہیں کی) مکہ سے مَالَکُمْ مِّنْ وَّلَا یَتِھِمْ (تمہارا نہیں ان سے میراث میں) میراث میں تولیت۔
قراءت : حمزہ نے ولا یتہم وائو کے کسرہ سے پڑھا ہے۔ بعض نے کہا یہ دونوں ایک لفظ ہیں۔
ہجرت فرض تھی :
مِّنْ شَیْ ئٍ حَتّٰی یُھَاجِرُوْا (کوئی تعلق نہیں یہاں تک کہ وہ ہجرت کریں) وہ مسلمان جس نے ہجرت نہ کی ہو وہ وارث نہ بنتا تھا۔ ان مسلمانوں کا جو ایمان لانے کے بعد ہجرت کرنے والے تھے۔
مسئلہ : اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کیلئے جنہوں نے ہجرت نہیں کی تھی ایمان کا لفظ باقی رکھا۔ حالانکہ ہجرت فرض تھی۔ اس کے ترک سے وہ مرتکب کبیرہ بن گئے۔ اس سے ثابت ہوا کہ کبیرہ گناہ والا ایمان سے خارج نہیں ہوتا۔ جیسا کہ خوارج و معتزلہ کا مسلک ہے۔
کفار کے خلاف ان کی مدد کرو :
وَاِنِ اسْتَنْصَرُوْکُمْ (اور اگر وہ تم سے مدد چاہیں) جو اسلام لایا اور ہجرت نہ کی۔ فِی الدِّیْنِ فَعَلَیْکُمُ النَّصْرُ (دین کے کام میں تو تم پر مدد کرنا واجب ہے) اگر ان کے اور کفار کے درمیان لڑائی ہوجائے اور وہ تم سے امداد طلب کریں تو کفار کے خلاف ان کی مدد ضروری ہے۔ اِلَّا عَلٰی قَوْمٍم بَیْنَکُمْ وَبَیْنَھُمْ مِّیْثَاقٌ (مگر اس قوم کے مقابلہ میں نہیں کہ تم میں اور ان میں عہد ہو) ان کے خلاف مدد کرنا جائز نہیں۔ کیونکہ انہوں نے تمہارے خلاف لڑائی میں ابتداء نہیں کی۔ معاہدہ اس بات سے مانع ہے کہ تم ابتداء کرو۔ وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ (اللہ تعالیٰ تمہارے سب کاموں کو دیکھتے ہیں) حد شرع سے تجاوز کرنے کی ممانعت فرمائی۔
Ayah 8:73کفار میں باہمی موالات :
آیت 73: وَالَّذیْنَ کَفَرُوْا بَعْضُھُمْْ اَوْلِیَآ ئُ بَعْضٍ (اور جو لوگ کافر ہیں وہ باہم ایک دوسرے کے وارث ہیں) اس آیت کا ظاہر ان میں موالات کو ثابت کر رہا ہے۔ مطلب و مقصد یہ ہے کہ مسلمان موالات کفار سے باز رہیں۔ اور ان سے دور رہنا ضروری ہے۔ اور قطع تعلقی لازم ہے۔ اگرچہ وہ اقارب ہی ہوں۔ اور ایک دوسرے کا وارث بننا ترک کردیں۔ پھر فرمایا اِلَّا تَفْعَلُوْہُ (اور اگر تم اس پر عمل نہ کرو گے) اگر تم نے وہ نہ کیا جو میں نے حکم دیا ہے کہ مسلمان سے مواصلت کرو اور وہی تمہارے وارثو متولی ہیں۔ اسلام کی نسبت قرابت نسبی سے بڑھ کر ہے۔ تم قرابت کفار کو دو قرابتیں مت بنائو۔
تَکُنْ فِتْنَۃٌ فِی الْاَرْضِ وَفَسَادٌ کَبِیْرٌ (تو دنیا میں بڑا فتنہ اور بڑا فساد پھیلے گا) زمین میں فتنہ پھیل جائیگا۔ اور بہت بگاڑ پیدا ہوگا۔ کیونکہ مسلمان کفر کے خلاف ایک دست وبازو نہ بن سکیں گے۔ شرک غالب آئے گا اور فساد تو اس سے زائد ہے۔
Ayah 8:74مہاجرین و انصار سے عہد ہائے مغفرت :
آیت 74: وَ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَھَاجَرُوْا وَجَاھَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَالَّذیْنَ ٰاوَوْا وَّنَصَرُوْٓا اُولٰٓپکَ ھُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا (اور جو لوگ مسلمان ہوئے اور انہوں نے ہجرت کی اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کیا اور جن لوگوں نے اپنے ہاں ٹھہرایا اور ان کی مدد کی یہ لوگ ایمان کا پورا حق ادا کرنے والے ہیں) کیونکہ انہوں نے اپنے ایمان کو سچا کردیا۔ اور اس کے مقتضیات کو حاصل کرکے ثابت کردیا۔ جیسے وطن چھوڑنا اہل و عیال چھوڑنا۔ گھر کو خیر باد کہنا۔ مال و دنیا سے علیحدگی اختیار کرنا۔ جس میں سوائے دین اور آخرت کے اور کوئی مقصد نہ تھا۔ لَھُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَّ رِزْقٌ کَرِیْمٌ (ان کیلئے بڑی مغفرت اور بڑی معزز روزی ہے) جس میں احسان جتلانا نہیں اور نہ گدلا پن اور اس آیت میں تکرار نہیں کیونکہ یہ دوسری آیت میں وعدہ کریم کے ساتھ ان کی مدح کر رہی ہے۔ اور پہلی آیت میں باہم امداد کرنے اور تعلقات مضبوط کرنے کا حکم تھا۔ گویا مقصد الگ ہونے کی وجہ سے تکرار نہیں۔
Ayah 8:75سابقین کے بعد والوں کا حکم :
آیت 75: وَالَّذِیْنَ ٰامَنُوْا مِنْم بَعْدُ (اور جو لوگ بعد کے زمانہ میں ایمان لائے) سابقین بالہجرۃ کے ساتھ لاحق ہونے والے مراد ہیں۔ وَ ھَاجَرُوْا وَجَاھَدُوْا مَعَکُمْ فَاُولٰٓپکَ مِنْکُمْ (اور انہوں نے ہجرت کی اور تمہارے ساتھ جہاد کیا پس یہ لوگ تمہارے ہی شمار میں ہیں) ان کو انہیں سے بطور فضل اور برائے ترغیب قرار دیا۔ وَاُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُہُمْ اَوْلٰی بِبَعْضٍ (اور جو لوگ رشتہ دار ہیں ایک دوسرے کے) قرابت والے وراثت میں زیادہ حقدار ہیں۔ یہ آیت توارث بالہجرت والنصرۃ کی ناسخ ہے۔ فِیْ کِتٰبِ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کی کتاب میں وہ زیادہ حقدار ہیں) نمبر 1۔ اس کے حکم اور تقسیم میں نمبر 2۔ لوح محفوظ میں نمبر 3۔ قرآن مجید میں وہ آیت میراث ہے۔ ہم احناف کیلئے وہ توریث ذوی الارحام کی دلیل ہے۔
اِنَّ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیْ ئٍ عَلِیْمٌ (بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتے ہیں) پس وہ اپنے بندوں میں جو چاہتا ہے فیصلہ کرتا ہے۔ لوگوں کی چار قسمیں ہیں نمبر 1۔ مومن مہاجر نمبر 2۔ مومن انصار نمبر 3۔ مومن مگر ہجرت نہ کی۔ نمبر 4۔ کافر رہے ایمان نہ لائے۔