Ayah 8:35مشرکین کی نماز :
آیت 35: وَمَا کَانَ صَلَا تُھُمْ عِنْدَ الْبَیْتِ اِلَّا مُکَآئً (ان کی نماز تو خانہ کعبہ کے پاس صرف سیٹیاں تھی) مکاء پر ندے جیسی آواز یہ خوبصورت آواز والا پرندہ ہے اس کا وزن فعال ہے مکا، یمکو سیٹی بجانا۔ وَّ تَصْدِیَۃً (اور تالیاں بجانا) تالی بجانا۔ یہ تفعلۃ کا وزن الصدٰی سے ہے۔ واقعہ اس طرح ہے کہ وہ بیت اللہ کا طواف ننگا کرتے وہ دوران طواف اپنی انگلیوں کو انگلیوں میں ڈال کر آواز نکالتے اور تالیاں بجاتے اور رسول ﷺ جب نماز ادا فرما رہے ہوتے تو اس وقت بھی یہ حرکات کرتے تاکہ نماز میں خلل ڈالیں۔ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ (پس اس عذاب کا مزہ چکھو) قتل اور بدر کے دن قید کا عذاب بِمَا کُنْتُمْ تَکْفُرُوْنَ (لیکن ان میں اکثر لوگ علم نہیں رکھتے) اپنے کفر کے باعث۔
Ayah 8:36صنادید قریش کی شہ خرچی اور اس پر ندامت :
آیت 36: یہ آیت ان کے بارے میں اتری جو بارہ آدمی بدر کے ایام میں یومیہ دس اونٹ ذبح کرتے اور لشکر کو کھلاتے یہ تمام خاندان قریش سے تھے۔ اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ لِیَصُدُّوْاعَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ (بےشک یہ کافر اپنے مالوں کو اس لئے خرچ کر رہے ہیں کہ اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکیں) اس انفاق سے ان کی غرض یہ تھی کہ لوگوں کو اتباع محمد ﷺ جو کہ اللہ تعالیٰ کا راستہ ہے اس سے روکیں۔ فَسَیُنْفِقُوْنَھَا ثُمَّ تَکُوْنُ عَلَیْھِمْ حَسْرَۃً (پس یہ لوگ اپنے مالوں کو خرچ کرتے ہی رہیں گے پھر وہ مال ان کے حق میں باعث حسرت ہوجائیں گے) ان کے انفاق کا انجام حسرت و ندامت کے سواء کچھ نہ ہوگا۔ گویا خود وہ خرچہ بعینہٖ شرمندگی بن جائیگا۔ ثُمَّ یُغْلَبُوْنَ (پھر مغلوب ہوجائیں گے) انجام کار۔ یہ نبوت کی پیشینگوئی ہے۔ کیوں کہ وقوع سے پہلے اطلاع دی اور ایسا ہو کر رہا۔ وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا (اور کافر لوگ) جو ان میں کافر ہیں۔ اِلٰی جَھَنَّمَ یُحْشَرُوْنَ (جہنم کی طرف ہنکا کرلیجائے جائیں گے) کیونکہ ان میں بعض ایمان لائے اور اسلام پر پختہ رہے۔
Ayah 8:37مومن و کافر میں امتیاز ہوگا :
آیت 37: لِیَمِیْزَ اللّٰہُ الْخَبِیْثَ (تاکہ اللہ ناپاک کو الگ کر دے) خبیث کفار کا گروپ مِنَ الطَّیِّبِ (پاک سے) ایمان والوں کی جماعت۔
نحو : لِیَمِیْزَ کا لام یُحْشَرُوْنَ سے متعلق ہے۔
قراءت : حمزہ وعلی نے لِیُمَیِّزَ پڑھا ہے۔ وَیَجْعَلَ الْخَبِیْثَ (اور ملا دے ناپاکوں کو) خبیث گروہ بَعْضَہٗ عَلٰی بَعْضٍ فَیَرْکُمَہٗ جَمِیْعًا ( ایک دوسرے سے ان سب کو جمع کر دے) پس ان کو جمع کرے گا۔ فَیَجْعَلَہٗ فِیْ جَھَنَّمَ (پھر ان سب کو جہنم میں ڈال دے) فریق خبیث کو اُولٰٓپکَ ( ایسے لوگ) یہ اشارہ فریق خبیث کی طرف ہے۔ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ ( وہی پورے خسارے میں ہیں) اپنے نفوس و احوال کو خسارہ میں ڈالنے والے ہیں۔
Ayah 8:38کفار کو عداوت رسول ترک کرنے کی دعوت :
آیت 38: قُلْ لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا (آپ کافروں سے کہہ دیں) یعنی ابو سفیان اور ان کے ساتھی اِنْ یَّنْتَھُوْا (اگر یہ لوگ باز آجائیں) رسول اللہ ﷺ کی عداوت اور آپ کے ساتھ قتال سے باز آکراسلام میں داخل ہوجائیں۔ یُغْفَرْ لَھُمْ مَّا قَدْسَلَفَ (ان کے سارے گناہ جو پہلے ہوچکے ہیں سب معاف کردیئے جائیں گے) ان کی تمام عداوت وَاِنْ یَّعُوْدُوْا (اور اگر اپنی وہی عادت رکھیں گے) آپ کے ساتھ لڑائی کی طرف۔ فَقَدْ مَضَتْ سُنَّتُ الْاَ وَّلِیْنَ ( تو گزشتہ کافروں کے حق میں قانون نافذ ہوچکا ہے) نمبر 1: دنیا میں ہلاک کرکے اور آخرت میں عذاب دیکر نمبر 2۔ جب کفار کفر سے باز آجائیں اور اسلام لے آئیں تو ان کے کفر و معاصی کو بخش دیا جائے گا۔
مسئلہ : امام ابوحنیفہ (رح) نے اس سے استدلال کیا کہ جب مرتد دوبارہ اسلام لے آئے تو متروکہ عبادات کی قضاء اس پر لازم نہیں آتی۔
Ayah 8:39فسادِ اعتقاد تک لڑو :
آیت 39: وَقَاتِلُوْھُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ (اور تم ان سے اس حد تک لڑو کہ ان میں فساد عقیدہ نہ رہے) جس وقت تک ان میں شرک نہ پایا جائے۔ وَّ یَکُوْنَ الدِّیْنُ کُلُّہٗ لِلّٰہِ (اور دین اللہ ہی کا ہوجائے) ہر دین باطل مضمحل ہوجائے اور فقط دین اسلام باقی رہ جائے۔ فَاِنِ انْتَھَوْا (پھر اگر یہ باز آجائیں) کفر سے باز آجائیں اور اسلام لے آئیں۔ فَاِنَّ اللّٰہَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ (تو اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو خوب دیکھتے ہیں) ان کو اسلام پر ثواب دے گا۔
Ayah 8:40اگر وہ روگردانی کریں تو تم اللہ کی کارسازی پر اعتماد کرو :
آیت 40: وَاِنْ تَوَلَّوْا (اور اگر وہ روگردانی کریں) ایمان سے اعراض کریں اور کفر سے باز نہ آئیں فَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ مَوْلٰکُمْ (تو یقین رکھو کہ اللہ تمہارا مددگار ہے) تمہارا مددگار و معین ہے پس اس کی ولایت و نصرت پر پختہ یقین کرو۔ نِعْمَ الْمَوْلٰی (وہ بہت ہی اچھا حامی ہے) جو اس سے دوستی کرتا ہے اس کو وہ ضائع نہیں کرتا وَنِعْمَ النَّصِیْرُ (اور بہت اچھا مددگار ہے) جس کی وہ مدد کرے اس پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔ نعم کا مخصوص بالمدح محذوف ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ ۔
Ayah 8:41تقسیم غنائم :
آیت 41: وَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَا غَنِمْتُمْ (اور اس بات کو جان لو کہ جو بطور غنیمت تم کو حاصل ہو) : ماؔ الذی کے معنی میں ہے اس کو الگ لکھنا ضروری ہے۔ ورنہ ما، کافہ بن جائے گا۔ غنمتم اس کا صلہ ہے اور موصول کی طرف لوٹنے والی ضمیرمحذوف ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے الذی غنمتموہ۔ مِّنْ شَیْئٍ (یعنی کوئی چیز) یہ اس کا بیان ہے۔ کہا گیا کہ دھاگہ اور سوئی تھی۔ فَاَنَّ لِلّٰہِ خُمُسَہٗ (اس کا حکم یہ ہے کہ اس کا پانچواں حصہ اللہ کا ہے) نحو : فاؔ اس لئے لائے کہ الذی میں مجازات کا معنی ہے۔ یہ فقرہ محل رفع میں ہے خواہ مبتدائے محذوف کی خبر مانیں تقدیر عبارت یہ ہے فالحکم ان لِلّٰہ خمسہ پس حکم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کیلئے اس کا پانچواں حصہ ہے۔ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنِ وَابْنِ السَّبِیْلِ (اور رسول کا ہے۔ اور آپ کے قرابت داروں کا ہے اور یتیموں کا ہے اور مسکینوں کا ہے اور مسافروں کا ہے) خمس، رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں پانچ حصوں میں تقسیم کیا جاتا تھا۔ نمبر 1: رسول اللہ ﷺ کا حصہ۔ نمبر 2۔ قرابت والوں کا حصہ جو بنی ہاشم و بنی عبدالمطلب میں سے تھے بنی عبد شمس اور بنی نوفل کو نہیں ملتا تھا۔ وہ نصرت دینی کی وجہ سے اس کے مستحق ہوئے۔ جیسا کہ حضرت عثمان اور جبیربن مطعم کا واقعہ آتا ہے۔ (رواہ البیہقی فی السنن والدلائل) نمبر 3۔ تین حصے یتامیٰ ، مساکین، ابن سبیل کیلئے۔
لِلّٰهِ وَلِلرَّسُوْلِ کا مطلب :
رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد آپ کا حصہ آپ کی وفات سے ساقط ہوگیا۔ اسی طرح قرابت والوں کا حصہ۔ البتہ ان کو فقر کی وجہ سے دیا جائے گا۔ ان کے مالداروں کو نہ دیا جائے گا۔ یتیموں، مساکین اور ابن سبیل میں تقسیم ہوگا۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت ہے کہ اس کے چھے حصے ہونگے۔ نمبر 1۔ 2۔ للہ والرسول دو حصے نمبر 3۔ ایک حصہ اقارب رسول ﷺ آپ ﷺ کی وفات تک اور تین یتامیٰ ، مساکین، ابن سبیل۔ حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ اور بعد والے خلفاء ؓ نے تین حصوں پر تقسیم کیا۔
لِلّٰهِ وَلِلرَّسُوْلِ کا معنی رسول اللہ ﷺ کیلئے جیسا اس ارشاد میں : وَاللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ اَحَقُّ اَنْ یُّرْضُوْہُ (التوبہ : 62) اِنْ کُنْتُمْ ٰامَنْتُمْ بِاللّٰہِ (اگر تم اللہ پر یقین رکھتے ہو) تو اس تقسیم کو جان لو اور اس پر راضی ہوجائو۔ ایمان حکم کے ساتھ رضا مندی کو لازم کرتا اور عمل علم کے ساتھ رضا مندی کو ضروری قرار دیتا ہے۔ وَمَآ اَنْزَلْنَا عَلٰی عَبْدِنَا یَوْمَ الْفُرْقَانِ (اور اس چیز پر جس کو ہم نے اپنے بندہ پر فیصلہ کے دن نازل فرمایا تھا) نحو : یہ باللہ پر معطوف ہے یعنی ان کنتم آمنتم باللّٰہ و بالمنزل۔ اگر تم اللہ تعالیٰ پر اور نازل شدہ وحی پر ایمان رکھتے ہو جو ہم نے اپنے بندے پر بدر کے دن اتاری۔ یَوْمَ الْتَقَی الْجَمْعٰنِ (جس دن دونوں جماعتیں باہم مقابل ہوئیں) مسلمانوں اور کافروں کے لشکر۔ مراد اس سے جو اس دن نشانیاں اتاریں اور فرشتے اور فتح۔
نحو : یہ یوم الفرقان سے بدل ہے۔ وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرٌ (اور اللہ ہر شیٔ پر پوری قدرت رکھنے والا ہے) وہ قدرت رکھتا ہے کہ قلیل کو کثیر پر غلبہ دے جیسا بدر کے دن کیا۔
Ayah 8:42غزوئہ بدر کا ذکر :
آیت 42: اِذْ اَنْتُمْ (اور وہ وقت تھا کہ جب تم) : یہ یوم الفرقان سے بدل ہے۔ یا نمبر 2۔ اذکروا کا مفعول ہے ای اذکروا اذانتم۔ بِالْعُدْوَۃِ (میدان کے کنارے پر تھے) وادی کا کنارہ
قراءت : مکی اور ابو عمرو نے العِدْوَۃِ پڑھا ہے۔ الدُّنْیَا (قریب والے) مدینہ والی جانب۔ یہ ادنی کی مؤنث ہے۔ وَھُمْ بِالْعُدْوَۃِ الْقُصْوٰی (اور وہ لوگ اس میدان کے دور والے کنارہ پر تھے) مدینہ سے دور والا کنارا قصویٰ اقصیٰ کی مؤنث ہے۔ یہ دونوں فُعْلٰیکے وزن پر ہیں قیاس کا تقاضہ یہ تھا کہ وائو کو یا سے بدل دیا جائے جیسا کہ علیا جو اعلیٰ کی مؤنث ہے۔ البتہ یہ القود کی طرح اصل پر ہے۔ وَالرَّکْبُ (اور قافلہ) یہ جمع راکب ہے۔ اَسْفَلَ مِنْکُمْ (تم سے نشیب کی طرف تھا) یہ معنی کے لحاظ سے ظرف ہے۔ ای مکانا اسفل من مکانکم۔ یعنی تین میل اسفل وادی میں۔ یہ محلًا مرفوع ہے کیونکہ مبتداء کی خبر ہے۔ وَلَوْتَوَاعَدْتُّمْ (اور اگر تم اور وہ کوئی بات ٹھہرا لیتے) تم اور اہل مکہ آپس میں لڑائی کا وقت طے کرلیتے لَاخْتَلَفْتُمْ فِی الْمِیْعٰدِ (تو ضرور اس تقرر کے بارے میں تم میں اختلاف ہوتا) ایک دوسرے سے وعدہ میں پس و پیش کرتے تمہاری قلت اور ان کی کثرت، وعدہ پر رہنے سے روک دیتی اور ان کو رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کا رعب لڑائی سے رکاوٹ ڈال دیتا۔ لڑائی کا اتفاق نہ ہوتا۔ جو اللہ کے اسباب جنگ پیدا کرنے سے ہوگیا۔ وَلٰـکِنْ (اور لیکن) اس نے بلا میعاد تمہیں اور انہیں جمع کردیا۔
اعزازِ دین کا فیصلہ :
لِّیَقْضِیَ اللّٰہُ اَمْرًا کَانَ مَفْعُوْلًا (تاکہ جو کام اللہ کو کرنا منظور تھا اس کی تکمیل کر دے) نمبر 1۔ اپنے دین کا اعزاز اور اپنے کلمہ کی بلندی نمبر 2۔ لام کا تعلق محذوف سے ہے یعنی تاکہ اللہ تعالیٰ اس بات کو پورا کرے جس کے لئے ہونا مناسب تھا۔ اور وہ اپنے دوستوں کی مدد اور اس کے بعد دشمنوں کی مغلوبیت شیخ ابو منصور (رح) نے کہا۔ نمبر 1: قضاء کے لفظ میں حکم کا احتمال ہے۔ تاکہ وہ فیصلہ کر دے جس کا ہونا اس کے علم میں تھا۔ نمبر 2۔ تاکہ وہ اس کام کو پوراکرے جس کا ارادہ فرمایا اور جس کا ارادہ اس نے فرمایا وہ یقیناہو کر رہے گا وہ اسلام و مسلمانوں کی عزت اور کفر اور کفار کی ذلت لِّیَھْلِکَ مَنْ ھَلَکَ عَنْم بَیِّنَۃٍ وََّیَحْيٰ مَنْ حَیَّ عَنْم بَیِّنَۃٍ (تاکہ جس کو برباد ہونا ہے واضح دلیل آنے کے بعد برباد ہو۔ اور جس کو زندہ ہونا ہے وہ واضح نشان کے بعد زندہ ہو) یہ لیقضی سے متعلق ہے۔
قراءت : نافع اور ابو عمرو نے حَیّی پڑھا ہے۔ ادغام، التقائے مثلین کی وجہ سے ہے۔ اور اظہار اس لئے ہے کہ حرکت ثانی غیر لازم ہے۔ مضارع اس کا یہ ہے۔ یحیا۔ زیادہ استعمال ادغام کے ساتھ ہے۔ ہلاک اور حیات کے الفاظ کفر و اسلام کے متعلق بطور استعارہ استعمال کئے گئے۔ مطلب یہ ہے تاکہ کافر کا کفر حق کے واضح ہونے کے بعد کسی اشتباہ کی بناء پر نہ ہو۔ کل اللہ تعالیٰ کے متعلق کوئی الزام باقی نہ رہ جائے۔ اور تاکہ اسلام کو سچا دین سمجھ کر یقین سے قبول کریں۔ جو اس کو قبول کرنا اور اس پر قائم رہنا چاہتا ہو۔ واقعہ یہ ہے کہ بدر کا واقعہ ان واضح نشانات میں سے ہے کہ اس کے بعد کفر کرنے والا مکا برہ اور محض مغالطہ میں پڑنے والا ہے۔
اس لئے اس میں فریقین کے مراکز ذکر کردیے۔ کہ قافلہ تم سے پچھلی جانب ساحل سمندر پر جارہا تھا۔ باوجودیکہ ان کے عمل و مشاہدہ میں یہ بات آچکی تھی۔ دوسروں کو اس سے یہ سمجھایا کہ نصرت و غلبہ کثرت و اسباب سے نہیں ہوا کرتا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ دینے والے ہیں۔ وہ اس طرح کہ دور والا کنارہ جہاں مشرکین نے پڑائو ڈالا وہاں پانی میسر، مناسب زمین اور نزدیکی کنارہ کے پاس والی زمین نرم جس میں پائوں دھنس دھنس جاتے تھے۔ اور بڑی مشقت سے اس میں چلا جاتا۔ اُدھرقافلہ کثیر تعداد مسلح دشمن کے عقب میں تھا۔ ادھر مسلمان کمزور، قلیل التعداد۔ پھر ہوا جو کچھ ہوا۔ وَاِنَّ اللّٰہَ لَسَمِیْعٌ (بےشک اللہ سننے والا ہے) ان کے اقوال کو عَلِیْمٌ (جاننے والا ہے) کافروں کے کفر اور ان کی سزا اور مؤمنوں کے ایمان اور بدلے کو۔
Ayah 8:43خواب میں ان کی تعداد کم دکھائی گئی :
آیت 43: اِذ یُرِیْکَھُمُ اللّٰہُ (اور یاد کرو اس وقت کو جب اللہ نے آپ کو دکھائے وہ لوگ) : یہ اذکر محذوف کی وجہ سے منصوب ہے۔ نمبر 2۔ سمیع علیم کے متعلق ہے یعنی وہ مصالح کو جانتے ہیں۔ جبکہ ان کو تمہاری آنکھوں میں کم کردیا۔ فِیْ مَنَامِکَ قَلِیْلاً (آپ کے خواب میں کم تعداد میں) تمہارے خواب میں واقعہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کفار کی تعداد خواب میں بہت کم دکھائی۔ آپ نے اپنے صحابہ کرام کو خبر دی۔ اس سے ان کے دلوں میں دشمن کے خلاف حوصلہ پیدا ہوا۔ وَلَوْ اَرٰکَھُمْ کَثِیْرًالَّفَشِلْتُمْ (اور اگر آپ کو وہ لوگ زیادہ کر کے دکھلا دیتے تو تم ہمت ہار جاتے) تم بزدل ہوجاتے اور تمہارے قدم اکھڑ جاتے وَ لَتَنَا زَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ (اور اس معاملے میں تم میں باہم نزاع ہوجاتا) لڑائی کے معاملہ میں اور ثابت قدمی اور فرار میں متردد ہوجاتے۔ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ سَلَّمَ (اور لیکن اللہ تعالیٰ نے بچالیا) اور بزدلی سے سلامتی کا احسان فرمایا اور تنازع اور اختلاف سے بچا لیا۔ اِنَّہٗ عَلِیْمٌم بِذَاتِ الصُّدُوْرِ (بےشک وہ دلوں کی باتوں کو خوب جانتا ہے) وہ جانتا ہے جس میں عنقریب بزدلی، جرأت اور صبر و گھبراہٹ ظاہر ہوگی۔
Ayah 8:44کفار کو مسلمان قلیل اور کثیر دونوں طرح دکھلائے :
آیت 44: وَاِذْ یُرِیْکُمُوْھُمْ (اور وہ وقت یاد کرو جب اللہ تعالیٰ تمہیں ان لوگوں کو دکھلا رہا تھا) دونوں ضمیریں مفعول کی ہیں یعنی تمہیں وہ دکھا رہا تھا۔ اِذِ الْتَقَیْتُمْ (جب کہ تم مقابل ہوئے) دشمن سے ملاقات کے وقت فِیْٓ اَعْیُنِکُمْ قَلِیْلاً (تمہاری نظر میں تھوڑے) یہ حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے کفار کو مسلمانوں کی آنکھوں میں تھوڑا کر کے دکھایا تاکہ رسول اللہ ﷺ کے خواب کی تصدیق ہوجائے۔ اور صحابہ آنکھوں سے خبر کو دیکھ کر خوب کوشش کریں۔ اور ثابت قدم رہیں اور ان کے یقین میں اضافہ ہوجائے۔ حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں وہ ہماری آنکھوں میں اتنے قلیل نظر آئے کہ میں نے اپنے پہلو میں کھڑے آدمی کو کہا کیا تیرے خیال میں ان کی تعداد ستر ہے۔ اس نے کہا ایک سو ہونگے حالانکہ ان کی تعداد ایک ہزار تھی۔
وَّیُقَلِّلُکُمْ فِیْٓ اَعْیُنِھِمْ (اور تم کو ان کی نگاہ میں کم کر کے دکھلا رہا تھا) یہاں تک کہ ان میں سے ایک نے کہا وہ تو اونٹ کا ایک لقمہ ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ مسلمانوں کو کفار کی آنکھوں میں لڑائی سے پہلے قلیل تعداد میں دکھلایا۔ پھر بعد میں زیادہ تعداد میں دکھایا۔ تاکہ وہ ان پر بےپرواہ ہو کر حملہ آور ہوں۔ پھر اچانک انکو کثرت دکھا دی جائے تاکہ حیران و ششدر رہ جائیں اور خوفزدہ ہوں۔
مسئلہ : یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کثیرکو قلیل دیکھیں دوسروں کو اللہ تعالیٰ کسی پردے سے ڈھانپ دے۔ یا ان کی آنکھوں میں ایسی چیز پیدا کردی جائے جس سے کثیر کو قلیل سمجھیں۔ جیسے بھینگے کی آنکھ میں پیش آتا ہے۔ کہ وہ ایک کی دو دیکھتا ہے۔
نکتہ : ایک آدمی نے بھینگے کو کہا کہ بھینگے کو ایک کی دو چیزیں نظر آتی ہیں۔ اور اس کے سامنے ایک مرغا تھا۔ تو بھینگا صاحب کہنے لگا وہ لوگ غلط کہتے ہیں۔ پھر تو مجھے تو یہ دو مرغ چار نظر آنے چاہئیں۔ کیونکہ
لِیَقْضِیَ اللّٰہُ اَمْرًا کَانَ مَفْعُوْلًاط وَ اِلَی اللّٰہِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ (تاکہ جو کام اللہ کو کرنا منظور تھا اس کی تکمیل کر دے اور تمام معاملات اللہ ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے) پس وہ اس میں فیصلہ کرے گا جو وہ چاہتا ہے۔
قراءت : شامی، حمزہ، علی نے تَرْجِعُ پڑھا ہے۔
Ayah 8:45مسلمانوں کو ثابت قدمی کا حکم :
آیت 45: یٰٓاَیـُّـھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا اِذَا لَقِیْتُمْ فِئَۃً (اے ایمان والو جب تم کو کسی جماعت سے مقابلہ کا اتفاق ہوا کرے) جب کفار کی کسی جماعت سے تمہارا مقابلہ ہو۔ فئۃ کی صفت کو چھوڑ دیا کیونکہ مسلمانوں کی لڑائی ہی کفار سے ہوتی ہے۔ اللقاء یہ تغلبًا لڑائی کا نام ہے۔ فَاثْبُتُوْا ( تو ثابت قدم رہو) ان سے لڑائی کیلئے اور مت بھاگو۔ وَاذْکُرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًا (اور اللہ تعالیٰ کا خوب کثرت سے ذکر کرو) لڑائی کے مقامات میں اس کے ذکر سے پشت پناہی اور مدد طلب کرنے والے ہو۔ اور دشمن کے خلاف اس کو پکارنے والے ہو۔ اللّٰھم اخذلھم اللھم اقطع دابرھم اے اللہ ان کو رسوا کر ان کی جڑ کاٹ دے۔ لَّعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ (امید ہے کہ تم کامیاب ہو) تاکہ تم اپنی مراد پالو۔ یعنی کامیابی اور ثواب۔
مسئلہ : اس میں بتلادیا کہ بندے کیلئے لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی یاد سے کبھی سست نہ پڑے خواہ اس کا دل کتنا مشغول ہو۔ خواہ اس پر کتنا غم سوار ہو۔ اس کی یاد میں اس کا دل جما ہوا ہونا چاہیئے۔ خواہ دوسرے سے پراگندہ ہو۔
Ayah 8:46اللہ اور رسول کی اطاعت کرو اور جھگڑا نہ کرو :
آیت 46: وَاَطِیْعُوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ (اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کیا کرو) جہاد کے حکم اور دشمن کے مقابلے میں ثابت قدمی وغیرہ میں۔ وَلَا تَنَا زَعُوْا فَتَفْشَلُوْا ( اور آپس میں اختلاف نہ کرو ورنہ کم ہمت ہوجائو گے) پس تم بزدل ہوجائوگے۔ یہ اَنْ مضمرہ کی وجہ سے منصوب ہے اور اس کے لئے دلیل وَتَذْھَبَ رِیْحُکُمْ ہے۔ یعنی تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔ رعب جاتا رہے گا جیساکہتے ہیں ہبت ریاح فلان ای دالت لہ الدولۃ ونفذ امرہ۔ اس کا حکم چلتا ہے۔ بزدلی کے اثر و نفوذ کو ہوا اور اس کے چلنے سے تشبیہ دی۔ ایک قول یہ ہے کہ مدد بالکل نہ تھی مگر ایک ہوا کے ذریعے جس کو اللہ تعالیٰ بھیجتے تھے۔ حدیث شریف میں فرمایا۔ نصرت بالصباء واہلکتْ عاد بالدبور۔ میری مدد صبح کی ہوا سے کی گئی اور قوم عاد کو دبور سے ہلاک کیا گیا۔ وَاصْبِرُوْا (اور صبر کرو) دشمن کے ساتھ قتال میں ثابت قدم رہو۔ اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ (بیشک اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہیں) اللہ تعالیٰ انکا مددگار اور معین ہے اور ان کی محافظت کرنے والا ہے۔
Ayah 8:47لشکر ابوجہل کا حال :
آیت 47: وَلَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِھِمْ بَطَرًا وَّرِئَآئَ النَّاسِ (اور ان لوگوں کی طرح مت ہونا جو اپنے گھروں سے اتراتے ہوئے اور لوگوں کو دکھلاتے ہوئے نکلے) وہ اہل مکہ ہیں جو قافلے کی حمایت میں نکل کھڑے ہوئے۔ ابو سفیان کا قاصد ان کو آملا اور کہنے لگا۔ تم واپس لوٹ چلو۔ تمہارا قافلہ صحیح سلامت گزر گیا۔ ابوجہل نے انکار کیا اور کہا ہم تو بدر تک جائیں گے۔ وہاں شراب کے جام انڈیلیں گے اور اونٹ ذبح کر کے انکا گوشت اڑائیں گے۔ اور ناچ رنگ کی محفلیں منعقد کریں گے اور عرب سرداروں کی دعوت کریں گے اسی کو بطر فرمایا اور رِئَآء لوگوں کو کھانا کھلانا تھا۔ مگر اس کی بجائے ان کو موت کا جام پینا پڑا اور راگ رنگ کی محافل کی بجائے ماتم کی محفلیں قائم ہوئیں۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو کفار کی طرح بطر، طرب اور اپنے اعمال میں ریاکاری سے منع کیا۔ ان کو تقویٰ کا دامن ہاتھ میں لینا چاہیے۔ اور اللہ تعالیٰ کے خوف سے غم زدہ اور دکھ زدہ رہ کر اپنے تمام اعمال میں اخلاص برتنا چاہیے۔ البطر کثرت نعمت و مال ‘ شکر سے غافل کر دے۔ وَیَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ (اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے تھے) دین اللہ۔ وَاللّٰہُ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ (اور اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو احاطہ میں لئے ہوئے ہے) جاننے والا ہے۔ اور یہ وعید ہے۔
Ayah 8:48تریین شیطانی :
آیت 48: وَاِذْ زَیَّنَ لَھُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَھُمْ وَقَالَ لَا غَالِبَ لَکُمُ الْیَوْمَ مِنَ النَّاسِ (اور اس وقت کا ان سے ذکر کرو جب کہ شیطان نے ان کو ان کے اعمال خوشنما کر کے دکھائے اور کہا کہ لوگوں میں سے آج تم پر کوئی غالب آنے والا نہیں) اذکروا۔ اس وقت کو یاد کرو جب شیطان نے ان کے لئے اعمال کو مزین کردیا۔ وہ اعمال جو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی دشمنی میں کئے تھے۔ اور ان کے دلوں میں وسوسہ ڈالا کہ وہ بالکل مغلوب نہ ہونگے۔ غالب یہ مبنی بالفتح ہے جیسے لارجل لکم موضع رفع میں لا کی خبر ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے لا غالب کائن لکم کوئی غالب تم پر ہونے والا نہیں۔ وَاِنِّیْ جَارٌ لَّکُمْ (اور میں تمہارا حامی ہوں) میں تمہیں پناہ دینے والا ہوں۔ اس نے ان کے وہم میں بات ڈالی کہ شیطان کی اطاعت ایسی چیز ہے جو ان کو پناہ دے گی۔ فَلَمَّا تَرَآئَ تِ الْفِئَتٰنِ (جب دونوں جماعتیں ایک دوسرے کے مقابل ہوئیں) جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں۔ نَکَصَ (وہ بھاگ گیا) شیطان بھاگ گیا عَلٰی عَقِبَیْہِ (الٹے پائوں) ایڑیوں کے بل۔ وَقَالَ اِنِّیْ بَرِیْٓ ئٌ مِّنْکُمْ (اور کہا کہ میرا تم سے کوئی واسطہ نہیں) میں نے تمہیں جو امان کی ضمانت دی تھی اس سے رجوع کرتا ہوں۔ اور روایت میں ہے کہ ابلیس سراقہ بن مالک کی شکل میں اپنے شیاطین کے ساتھ جھنڈا لے کر آیا۔ جب ملائکہ کو اترتے دیکھا تو الٹے پائوں دم دباکر بھاگا۔ حارث بن ہشام نے اس کو کہا کیا تو ہم سے اس حالت میں علیحدگی اختیار کرتا ہے۔ اس نے جواب دیا اِنِّیْٓ اَرٰی مَالَا تَرَوْنَ (میں ان چیزوں کو دیکھ رہا ہوں جو تم کو نظر نہیں آتیں) یعنی ملائکہ کو۔ کفارکو شکست ہوئی۔ جب مکہ پہنچے تو کہنے لگے لوگوں کو سراقہ نے شکست دلوائی ہے۔ جب سراقہ کو یہ بات پہنچی تو اس نے کہا اللہ کی قسم ! مجھے تمہارے جانے کا بھی علم نہیں۔ البتہ تمہاری شکست کا علم ہوا۔ جب یہ مسلمان ہوگئے تو ان کو علم ہوا کہ وہ شیطان تھا۔ اِ نِّیْٓ اَخَافُ اللّٰہَ (میں تو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں) اس کی سزا سے۔ وَاللّٰہُ شَدِیْدُ الْعِقَابِ (اور اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والا ہے)
Ayah 8:49منافقین کا ڈھنڈورا :
آیت 49: اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ (اور وہ وقت یاد کرو جب منافقین کہتے تھے) مدینہ میں۔ وَالَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَّرَضٌ (اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری تھی) نمبر 1: یہ منافقین کی صفت ہے۔ نمبر 2۔ اس سے وہ لوگ مراد ہیں جو ایک کنارے پر تھے۔ اسلام میں ثابت قدم نہ تھے۔ غَرَّ ھٰٓؤُ لَآئِ دِیْنُھُمْ (ان کو ان کے دین نے بھول میں ڈال رکھا ہے) اس سے مراد وہ مسلمان تھے جنکوان کے دین نے دھوکہ میں مبتلا کیا کہ ایک ہزار کے مقابلہ میں تین سو سے کچھ اوپر مقابلہ کرنے آئے ہیں۔ پھر ان کو جوابًا کہا وَمَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ (اور جو شخص اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہے) اپنا معاملہ اس کے سپرد کردیتا ہے۔ فَاِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ (تو بلاشبہ اللہ تعالیٰ زبردست) غالب ہیں قلیل و کمزور کو طاقتور و کثیر پر مسلط کرسکتا ہے۔ حَکِیْمٌ (حکمت والے ہیں) اپنے دوست و دشمن میں برابری نہیں کرتا۔
Ayah 8:50منافقین کی حالت ِمرگ :
آیت 50: وَلَوْ تَرٰٰٓی (اور اگر دیکھیں) اگر تم مشاہدہ کرتے اور آنکھوں سے دیکھتے۔ لَوْؔ مضارع کو ماضی کی طرف بدل ڈالتا ہے۔ جیسا اِنْ ماضی کو مضارع کے معنی میں کردیتا ہے۔ اذؔ یہ ظرف ہونے کی بناء پر منصوب ہے۔ اِذْ یَتَوَفَّی الَّذِیْنَ کَفَرُوا (جبکہ ان کافروں کی جان قبض کرتے جاتے ہیں) ان کی روحوں کو قبض کرتے ہیں الْمَلٰٓپکَۃُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْھَھُمْ (فرشتے ان کے منہ پر مارتے ہیں) نحو : نمبر 1: ملائکہ فاعل ہے اور یضربون حال ہے۔ وجوہھم ان کے چہروں پر مارتے ہیں۔ جب وہ سامنے آتے ہیں۔ وَ اَدْبَارَھُمْ (اور ان کی پشتوں پر) ان کی پشتوں اور سرینوں پر جب وہ واپس مڑتے ہیں۔ نمبر 2۔ ان کے چہروں پر جب وہ آگے بڑھتے ہیں اور پشتوں پر جب وہ شکست کھا کر بھاگتے ہیں۔
نحو : یہ بھی کہا گیا کہ یتوفی کی ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف راجع ہے اور الملائکہ یہ ابتداء کی وجہ سے مرفوع ہے اور یضربون اسکی خبر ہے۔
مگر پہلی صورت زیادہ بہتر ہے کیونکہ کفار اس بات کے مستحق نہیں کہ بلا واسطہ اللہ تعالیٰ ان کو موت دے۔ اس کی دلیل ابن عامر کی قراءت ہے تتوفّی۔ تاکے ساتھ۔ جب صیغہ مؤنث کا ہوا تو فاعل ملائکہ بنے گا۔ وَذُوْقُوْا (اور تم چکھو) ان کو کہتے ہیں۔ نحو : اس کا عطف یضربون پر ہے۔ لوؔ کا جواب محذوف ہے لرأیت امرًا فظیعًا، عَذَابَ الْحَرِیْقِ (آگ کی سزا) نمبر 1۔ آگ کے عذاب کا مقدمہ (کفر پر موت) نمبر 2۔ ذوقوا سے آخرت کے عذاب کی بشارت ہے۔ نمبر 3۔ قیامت کو انہیں سزا دیتے وقت یہ کہا جائے گا۔ ذوقواؔ۔
Ayah 8:51آیت 51: ذٰلِکَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْکُمْ (یہ عذاب ان اعمال کی وجہ سے ہے جو تم نے اپنے ہاتھوں کئے ہیں) یعنی کمایا اس آیت میں جبریہ فرقہ کی تردید ہے۔ نمبر 1۔ یہ کلام اللہ تعالیٰ کا ہے۔ نمبر 2۔ یہ ملائکہ کا قول ہے۔
نحو : ذٰلک مبتداء، بما قدمت اس کی خبر ہے وَاَنَّ اللّٰہَ (اور بیشک اللہ تعالیٰ ) اس کا معطوف ہے۔ وَاَنَّ اللّٰہَ یعنی یہ عذاب دو وجہ سے ہے۔ نمبر 1۔ کفرو معاصی کی وجہ سے نمبر 2۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ذرہ بھر ظلم کرنے والے نہیں۔ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ (اپنے بندوں پر ظلم کرنے والے نہیں) کیونکہ کفار کو سزا دینا عین عدل ہے۔ ظلاّم : نمبر 1: انواع ظلم کی نفی کے لئے لائے۔ نمبر 2: تکثیر کا صیغہ بندوں کی کثرت کی وجہ سے استعمال فرمایا۔
Ayah 8:52ان کا حال آل فرعون جیسا ہے :
آیت 52: کَدَاْبِ ٰالِ فِرْعَوْنَ (ان کی حالت آل فرعون جیسی ہے) کاف محل رفع میں ہے یعنی دأب ہٰولاء کداب ٰال فرعون۔ دابہم انکا وہ عمل اور عادت جس پر مدا ومت کرنے والے تھے۔ وَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ (اور جیسے ان سے پہلے لوگوں کی حالت تھی) نمبر 1۔ قریش سے پہلے نمبر 2۔ آل فرعون سے پہلے۔ کَفَرُوْا (انہوں نے انکار کیا) یہ داب آل فرعون کی تفسیر ہے۔ بِٰایٰتِ اللّٰہِ فَاَخَذَ ھُمُ اللّٰہُ بِذُنُوْبِھِمْ اِنَّ اللّٰہَ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِ (اللہ کی آیات کا پس اللہ تعالیٰ نے ان کے گناہوں پر ان کو پکڑ لیا بیشک اللہ تعالیٰ بڑی قدرت والے سخت سزا دینے والے ہیں) مطلب یہ ہے یہ لوگ تکذیب میں ان کی عادت پر چلے ہم نے ان کے بعد انکا نمبر لگا دیا۔
Ayah 8:53نعمت ‘ نقمت سے اعمال کے بدلنے پر بدلتی ہے :
آیت 53: ذٰلِکَ (یہ بات) یہ عذاب یا انتقام بِاَنَّ اللّٰہَ لَمْ یَکُ مُغَیِّرًا نِّعْمَۃً اَنْعَمَھَا عَلٰی قَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِھِمْ (اس سبب سے ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی ایسی نعمت کو جو کسی قوم کو عطاء فرمائی ہو، نہیں بدلتے جب تک کہ وہی لوگ اپنے ذاتی اعمال کو نہیں بدل ڈالتے) اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ کی حکمت یہ ہے کہ کسی قوم کے ساتھ نعمت والا معاملہ اس وقت تک تبدیل نہیں کرتا جب تک وہ اپنی حالت کو نہیں بدل لیتے۔ یہ بلاشبہ درست ہے کہ مشرکین مکہ اور آل فرعون کا پہلے بھی طرز عمل ایسا نہ تھا کہ پھر اس کو انہوں نے ناراضگی میں بدلا بلکہ بات یہ ہے کہ ناراضگی والی حالت بھی زیادہ اور شدید ترین ناراضگی کی طرف بدلی جاسکتی ہے اور جاتی ہے۔ چناچہ غور کرو کفار مکہ بعثت سے قبل بت پرست تھے مگر جب اللہ تعالیٰ نے اپنا پیغمبرآیات دیکر بھیج دیا۔ تو انہوں نے اس کی تکذیب ہی نہیں کی بلکہ اس کا خون بہانے کی کوشش کی اس طرح انہوں نے اپنی بری حالت کو بدترین حالت میں بدل دیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کیلئے مہلت کے قانون کو عجلت سے بدل دیا۔ وَاَنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ (اور بیشک اللہ تعالیٰ بڑے سننے والے ہیں) ان باتوں کو جو رسولوں کی تکذیب کرنے والے کہتے ہیں۔ عَلِیْمٌ (بڑے جاننے والے ہیں) ان کے افعال کو جاننے والے ہیں۔
Ayah 8:54ہلاکت میں آل فرعون کی طرح ہیں :
آیت 54: کَدَاْبِ ٰالِ فِرْعَوْنَ (ان کی حالت آل فرعون جیسی ہے) نمبر 1۔ تاکید کیلئے دوبارہ لائے۔ نمبر 2۔ پہلی مرتبہ بلا وضاحت گناہ کی بناء پر پکڑنا ذکر کیا اور یہاں اس کی وضاحت اہلاک و استیصال سے کردی۔ وَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّھِمْ (اور ان سے پہلے والوں جیسی حالت ہے۔ کہ انہوں نے اپنے رب کی آیات کو جھٹلایا) اور بٰایات ربہم لاکر واضح کردیا کہ خاص طور پر اس نعمت کو ٹھکرا یا۔ اور حق کا انکار کیا۔ فَاَھْلَکْنٰھُمْ بِذُنُوْبِھِمْ وَاَغْرَقْنَآ ٰالَ فِرْعَوْنَ (اور اس پر ہم نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب ہلاک کردیا اور ہم نے آل فرعون کو ڈبو دیا) سمندر میں وَکُلٌّ (وہ سب) ڈوبنے والے قبطی اور مقتول قریشی کَانُوْا ظٰلِمِیْنَ (ظالم تھے) اپنے نفسوں پر کفرو معاصی سے ظلم کر رہے تھے۔
Ayah 8:55یہ کفر پر مصر ہیں :
آیت 55: اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰہِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فَھُمْ لَایُؤْمِنُوْنَ (بلاشبہ وہ مخلوق میں بدترین لوگ ہیں اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ کافر لوگ ہیں تو یہ ایمان نہ لائیں گے) انہوں نے کفر پر اصرار کیا ہے ان سے ایمان کی توقع نہیں ہے۔
Ayah 8:56معاہدہ توڑنے والوں کو عبرتناک سزا دو :
آیت 56: اَلَّذِیْنَ عٰھَدْتَّ مِنْھُمْ (جن کی یہ کیفیت ہے کہ آپ ان سے عہد لے چکے ہیں) یہ الذین کفروا سے بدل ہے یعنی الذین عاھد تہم من الذین کفروا وہ کافر لوگ جن سے تم نے معاہدہ کیا۔ کفار کو بدترین جاندار قرار دیا۔ کیونکہ لوگوں میں سب سے بدتر کافر ہیں۔ اور کافروں میں شدید ترین وہ ہیں جو اپنے وعدوں کو توڑنے والے اور کفر پر اصرار کرنے والے ہیں۔ ثُمَّ یَنْقُضُوْنَ عَھْدَھُمْ فِیْ کُلِّ مَرَّۃٍ (پھر وہ ہر بار اپنا عہد توڑ ڈالتے ہیں) ہر معاہدہ میں وَّھُمْ لَا یَتَّقُوْنَ (اور وہ ڈرتے نہیں) دھوکے کے انجام سے نہیں ڈرتے اور اس میں جو عار اور آئندہ نتیجہ میں جو نار ہے اس سے نہیں ڈرتے۔
Ayah 8:57آیت 57: فَاِمَّا تَثْقَفَنَّھُمْ فِی الْحَرْبِ (پس اگر آپ لڑائی میں ان پر قابو پالیں) جب آپ کا ان سے سامنا ہوجائے اور ان پر کامیابی پالو۔ فَشَرِّدْبِھِمْ مَّنْ خَلْفَھُمْ (تو ان کے ذریعہ پچھلے لوگوں کو منتشر کردو) اپنی لڑائی اور قتل سے ان کو اس طرح منتشر کردو کہ ان کے پچھلے کافروں کو بھی عبرت ہو تاکہ وہ آئندہ جرأت نہ کریں اور ان سے عبرت حاصل کرلیں۔ زجاج کہتے ہیں۔ ان سے ایسا سلوک کرو جس سے ان کی اجتماعیت پارہ پارہ ہوجائے اور ان کے علاوہ بھی ان سے منتشر کردو۔ لَعَلَّھُمْ یَذَّکَّرُوْنَ (تاکہ وہ لوگ سمجھ جائیں) شاید کہ منتشر ہونے والے نْصیحت حاصل کرلیں۔
Ayah 8:58خطرئہ خیانت سے معاہدہ واپس کردو :
آیت 58: وَاِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ (اور اگر آپ کو کسی قوم سے) معاہدہ والے۔ خِیَانَۃً (خیانت کا) نشانات سے معاہدہ توڑنا معلوم ہو رہا ہو۔ فَانچْبِذْ اِلَیْھِمْ (تو ان کا عہد ان کو اسی طرح واپس کردیں) انکا عہد ان کی طرف پھینک دو واپس کردو۔ عَلٰی سَوَآئٍ (کہ تم اور وہ برابر ہوجائیں) تاکہ تمہیں اور انہیں برابر نقض عہد کا علم ہوجائے۔ یہ نابذ اور منبوذ سے حال ہے۔ ای حاصلین علی استواء فی العلم دونوں کو برابر علم ہوجائے۔ اِنَّ اللّٰہَ لَایُحِبُّ الْخَآ پنِیْنَ (بیشک اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا) وعدہ توڑنے والے کو۔
Ayah 8:59کافر ہم سے بھاگ نہیں سکتے :
آیت 59: وَلَایَحْسَبَنَّ (اور اپنے متعلق یہ خیال نہ کریں) قراءت : شامی، حمزہ، یزید، حفص نے یَحْسَبَنَّ پڑھا ہے۔ ابوبکر نے تَحْسَبَنَّ پڑھا ہے۔ جبکہ دیگر قراء نے تَحْسِبَنَّ سین کے کسرہ سے پڑھا ہے۔ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا سَبَقُوْا (کافر کہ وہ بچ گئے) نکل گئے اور قابو میں نہیں آئے۔ اِنَّھُمْ لَایُعْجِزُوْنَ (یقینا وہ لوگ عاجز نہیں کرسکتے) وہ بچ کر نہیں نکل سکتے اور ڈھونڈنے والے کو عاجز بھی نہیں کرسکتے۔
قراءت : شامی نے اَنَّھُمْ پڑھا ہے۔ ای لانہم ہمزہ مک سورة ہو یا مفتوحہ دونوں ہی تعلیل کیلئے ہیں فرق صرف یہ ہے کہ مک سورة مستانفہ ہو کر تعلیلیہ ہے اور مفتوحہ صراحۃً تعلیلیہ ہے۔ اور جنہوں نے تا سے پڑھا تو انہوں نے الذین کفروا کو مفعول اول اور سبقواؔ کو مفعول ثانی بنایا ہے اور جنہوں نے یا سے پڑھا انہوں نے الذین کفروا کو فاعل قرار دیا اور سبقوا کو مفعول۔ تقدیر عبارت یہ ہے اَنْ سَبَقُوْا۔ اَنْ کو حذف کردیا اور یہ ان مخففہ من المثقلہ ہے ای انہم سبقوا تو یہ دو مفعولوں کے قائم مقام ہے۔ نمبر 3۔ فاعل مضمر ہے ای ولا یحسبن محمد الکافرین سابقین ہرگز محمد ﷺ کافروں کو ہم سے سبقت کرنے والے گمان نہ کریں۔
بعض لوگوں نے حمزہ کو اس قراءت میں متفرد قرار دیا مگر انکا قول محل نظر ہے۔ جیسا کہ ہم واضح کرچکے۔ زہری سے روایت ہے یہ ان لوگوں کے بارے میں اتری جو شکست کھانے کے بعد بچ گئے۔
Ayah 8:60کفار کے مقابلہ کی پوری تیاری کرو :
آیت 60: وَاَعِدُّوْا (اور تم سامان درست رکھو) اے ایمان والو ! لَھُمْ (ان کافروں کیلئے) وعدہ خلافوں کیلئے یا تمام کفار کیلئے مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّۃٍ (جس قدر تم سے ہوسکے ہتھیار سے) ہر وہ چیز جس سے لڑائی میں مدد مل سکتی ہے۔ حدیث میں ہے الا ان القوۃ الرمی آپ نے منبر پر یہ بات فرمائی۔ دوسرا قول یہ ہے کہ مراد قلعے ہیں۔ وَّمِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ (اور پلے ہوئے گھوڑوں سے) یہ ان گھوڑوں کا نام ہے جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں باندھے جاتے ہیں۔ نمبر 2۔ رباط جمع ہے ربیط کی جیسے فصیل و فصال۔ گھوڑوں کو قوت کیلئے اسی طرح خاص کیا۔ جیسے جبرائیل اور میکائیل کو ملائکہ میں سے وَجِبْرِیْلَ وَمِیْکٰلَ (البقرہ : 98) تُرْھِبُوْنَ بہٖ (اس کے ذریعہ تم رعب جمائے رکھو) جس حد تک تم طاقت رکھتے ہو۔ عَدُوَّ اللّٰہِ وَعَدُوَّکُمْ (اللہ کے دشمن اور اپنے دشمن پر) یعنی اہل مکہ وَ ٰاخَرِیْنَ مِنْ دُوْنِہِمْ (اور ان کے علاوہ دوسرے دشمنوں پر بھی) ان کے علاوہ اور وہ یہود یا منافقین یا اہل فارس یا کفارجن کا ذکر حدیث میں ہے ان الشیطان لا یقرب صاحب فرس۔ شیطان صاحب فرس کے قریب نہیں آتا۔ ولا دارًا فیھا فرس عتیق نہ وہ گھر جس میں آزاد گھوڑا ہو۔ ( قال ابن حجرلم اجدہ) روایت میں ہے کہ گھوڑے کا ہنہنانا جنات کو ڈراتا ہے۔ (اس کی بھی اصل نہیں ملی) لَاتَعْلَمُوْ نَہُمْ (جن کو تم نہیں جانتے) تم ان کو معین طور پر نہیں پہچانتے ہو۔ اَللّٰہُ یَعْلَمُھُمْ (اللہ تعالیٰ ہی ان کو جانتا ہے) وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْئٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ یُوَفَّ اِلَیْکُمْ (اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں جو کچھ بھی خرچ کرو گے وہ تم کو پورا پورا دے دیا جائے گا) اس کی وافر جزاء تمہیں ملے گی۔ وَاَنْتُمُ لَاتُظْلَمُوْنَ (اور تم پر ظلم نہ کیا جائے گا) جزاء میں کمی نہ کی جائے گی بلکہ پوری دے دی جائے گی۔
Ayah 8:61آیت 61: وَاِنْ جَنَحُوْا (اگر وہ صلح کی طرف جھکیں) مائل ہوں۔ جنح کا صلہ لام ہو یا الیٰ اسکا معنی مائل ہونا آتا ہے۔ لِلسَّلْمِ صلح کیلئے
قراءت : ابوبکر نے سین کے کسرہ سے پڑھا ہے۔ سِلم یہ مؤنث ہے اس کی ضد بھی تانیث ہے اور وہ الحرب کا لفظ ہے۔ فَاجْنَحْ لَھَا (تو آپ بھی جھک جائیں) تو ان کی طرف مائل ہو۔ وَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ (اور اللہ پر بھروسہ کریں) اور ان کے باطن میں مکر ہو کہ مائل ہو کر دھوکہ کریں گے تو پرواہ نہ کریں اس لئے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے لئے کافی ہے اور ان کے مکر سے بچانے والا ہے۔
اِنَّہٗ ھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ (بلاشبہ وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے) وہ آپ کے اقوال کو سننے والا اور آپ کے احوال کو جاننے والا ہے۔
Ayah 8:62آیت 62: وَاِنْ یُّرِیْدُوْٓا اَنْ یَّخْدَعُوْکَ (اگر وہ آپ کو دھوکہ دینا چاہیں) وہ مکر کریں گے اور دھوکہ دیں گے۔ فَاِنَّ حَسْبَکَ اللّٰہُ ، (اللہ آپ کو کافی ہے) اللہ تعالیٰ آپ کے لئے کافی ہے۔ ھُوَالّذِیْ اَیَّدَکَ (وہ وہی ہے جس نے آپ کو قوت دی) بِنَصْرِہٖ وَبِالْمُؤْمِنِیْنَ (اپنی امداد سے اور مسلمانوں سے) تمام ایمان والوں سے یا انصار کے ذریعہ۔
Ayah 8:63اوس و خزرج میں الفت کا امتنان :
آیت 63: وَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِھِمْ (اور ان کے قلوب میں اتفاق پیدا کردیا) ایک سو بیس سال سے جنگی دشمنی تھی ان اوسؔ و خزرجؔ کے دلوں میں الفت ڈال دی۔ لَوْ اَنْفَقْتَ مَافِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مَّآ اَلَّفْتَ بَیْنَ قُلُوْبِھِمْ (اگر آپ دنیا بھر کا مال خرچ کرتے تب بھی ان کے دلوں میں اتفاق پیدا نہ کرسکتے) ان کی عداوت اس مقام تک پہنچ چکی تھی۔ اگر کوئی خرچ کرنے والا ان کی عداوت کو مٹانے کیلئے زمین کے تمام مال بھی خرچ کر ڈالتا پھر بھی عداوت کو الفت سے نہ بدل سکتا تھا۔ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ اَلَّفَ بَیْنَھُمْ (لیکن اللہ تعالیٰ ہی نے ان میں باہم الفت ڈال دی) اپنے فضل و رحمت سے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ان کی قوت جمع کردی۔ ان میں محبت و الفت پیدا کردی اور باہمی بغض و عداوت دور کردی۔ اِنَّہٗ عَزِیْزٌ (بیشک وہ زبردست ہیں) آپ کو دھوکہ دینے والوں کو مغلوب کر دے گا۔ حَکِیْمٌ (حکمت والے ہیں) آپ کے پیرو کی مدد کرے گا۔
Ayah 8:64اللہ کی مدد اور مؤمنوں کا تعاون کافی ہے :
آیت 64: یٰٓاَیـُّـھَا النَّبِیُّ حَسْبُکَ اللّٰہُ وَمَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ (اے نبی (ﷺ) آپ کیلئے اللہ کافی ہے اور جن مؤمنین نے آپ کا اتباع کیا وہ کافی ہیں) وائو بمعنی مع ہے۔ نمبر 1۔ اور اس کا مابعد منصوب ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ اور آپ کے پیرو کار مؤمنین کی مدد کیلئے کافی ہے۔ نمبر 2۔ اور محل رفع میں بھی جائز ہے۔ ای کفاک اللہ و کفاک المؤمنون تمہیں اللہ تعالیٰ کافی ہے مددگار ہونے کے لحاظ سے اور مومن کافی معاون ہونے کے اعتبار سے۔ روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر تینتیس مرد اور چھ عورتیں ایمان لائے پھر حضرت عمر ؓ اسلام لائے تو یہ آیت اتری۔
Ayah 8:65ترغیب قتال کا حکم :
آیت 65: یٰٓاَیـُّـھَا النَّبِیُّ حَرِّ ضِ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلَی الْقِتَالِ (اے پیغمبر ! آپ مؤمنین کو قتال کی ترغیب دیں) التحریض لڑائی کے معاملے پر آمادگی میں مبالغہ کرنا۔ الحرض جس کو مرض اتنا کمزور بنا دے کہ وہ موت کو جھانکنے لگے۔ اِنْ یَّکُنْ مِّنْکُمْ عِشْرُوْنَ صٰبِرُوْنَ یَغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ ۔ وَاِنْ یَّکُنْ مِّنْکُمْ مِّائَۃٌ یَّغْلِبُوْٓا اَلْفًا مِّنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا (اگر تم میں سے بیس آدمی ثابت قدم رہنے والے ہونگے تو وہ دو سو پر غالب آجائیں گے اور اگر تم میں سے سو آدمی ہونگے تو ایک ہزار کفار پر غالب آجائیں گے) یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وعدہ اور بشارت ہے۔ کہ اگر مومنوں کی جماعت لڑائی میں جمی رہے گی تو اپنے سے دس گنا کفار پر غالب ہونگے۔ اللہ تعالیٰ کی مدد اور تائید سے۔ بِاَ نَّھُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَھُوْنَ (اس وجہ سے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو کچھ نہیں سمجھتے) اس وجہ سے کہ کفار جاہل ہیں بغیر ثواب اور طلب ثواب کے وہ حیوانات کی طرح لڑتے ہیں۔ اس سے ان کی ثابت قدمی کم ہے جہالت کی وجہ سے وہ نصرت الٰہی سے محروم ہیں۔ برخلاف اس کے جو بصیرت کے ساتھ لڑنے والا ہو وہ خالص اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصرت کا امیدوار ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ ان پر لازم تھا کہ وہ نہ بھاگیں گے اور ایک دس کے مقابلہ میں ثابت قدم رہے گا۔ جب یہ گراں گزرا تو اس حکم کو منسوخ کر کے تخفیف کردی کہ دو کے مقابلہ میں ایک کو ثابت قدم رہنا ضروری ہے۔
Ayah 8:66تخفیف حکم :
آیت 66: اَلْئٰنَ خَفَّفَ اللّٰہُ عَنْکُمْ وَعَلِمَ اَنَّ فِیْکُمْ ضَعْفًا (اب اللہ تعالیٰ نے تم سے بوجھ ہلکا کردیا اور اس کو معلوم ہوگیا کہ تمہارے اندر طاقت کم ہے) ضعفا حمزہ و عاصم نے پڑھا۔ فَاِنْ یَّکُنْ مِّنْکُمْ مِّائَۃٌ صَابِرَۃٌ (پس اب اگر تم میں سے جم کر لڑنے والے سو ہونگے) کوفی نے یَکُنْ ، یا کے ساتھ پڑھا ہے۔ بصری نے پہلے میں اس کی موافقت کی۔ مراد اس سے ضعف فی البدن ہے۔ یَّغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ وَاِنْ یَّکُنْ مِّنْکُمْ اَلْفٌ یَّغْلِبُوْٓا اَلْفَیْنِ بِاِذْنِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ (تو وہ دو سو دشمنوں پر غالب آئیں گے اور اگر تم میں سے ایک ہزار صابر ہونگے تو وہ دو ہزار دشمنوں پر غالب آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اور اللہ تعالیٰ صابرین کے ساتھ ہیں) اپنے سے دوگنا جماعت کے ساتھ مقابلہ کو تخفیف سے قبل اور بعد دوبارہ ذکر کیا تاکہ یہ بتلا دیا جائے کہ قلت و کثرت کے باوجود حالت میں فرق نہیں ہوتا کیونکہ حالت کبھی بیس اور دو سو اور سو اور ہزار کے مقابلے میں مختلف ہوتی ہے۔ اسی طرح سو اور دو سو اور ایک ہزار اور دو ہزار کے مابین مقابلہ میں بھی مختلف ہوتی ہے۔
Ayah 8:67اسیرانِ بدر کا مسئلہ اور اختلاف رائے :
آیت 67: مَاکَانَ لِنَبِیٍّ (نبی (ﷺ) کی شان کے لائق نہیں) نہ صحیح ہے اور نہ منا سب ہے۔ اَنْ یَّکُوْنَ لَہٗ اَسْرٰٰی (کہ ان کے قیدی باقی رہیں)
قراءت : بصری نے ان تکون پڑھا ہے۔ حَتّٰی یُثْخِنَ فِی الْاَ رْضِ (جب تک کہ وہ زمین میں اچھی طرح خونریزی نہ کرلے) اثخان، کثرت قتل اور مبالغہ فی القتل یہ ثخا نۃ سے ہے جس کا معنی غلظت اور کثافت ہے یہاں تک کہ کافروں میں قتل کی اشاعت سے کفر جھک جائے اور اسلام کا غلبہ اور زور ثابت ہوجائے پھر جو ملے اس کو قید کرلیا جائے۔
روایت میں ہے آپ ﷺ کے پاس ستر قیدی لائے گئے۔ جن میں عم رسول ‘ عباس اور برادر علی ‘ عقیل بھی تھے۔ نبی اکرم ﷺ نے ابوبکر صدیق ؓ سے مشورہ کیا انہوں نے کہا کہ یہ آپکی قوم و خاندان کے لوگ ہیں۔ ان کو فدیہ لے کر چھوڑیں شاید اللہ تعالیٰ توبہ کی توفیق دے دے اور فدیہ سے ہم قوت حاصل کریں گے۔ عمر ؓ نے کہا انہوں نے آپ کو مکہ سے باہر نکالا، جھٹلایا۔ ان کی گردنیں اڑا دیں یہ کفر کے مقتداء ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ آپ کو فدیہ سے بےنیاز کردیں گے۔ عقیل علی کے سپرد کریں۔ حمزہ کے حوالہ عباس کریں۔ مجھے فلاں عنایت کریں پھر حکم دیں تاکہ ہم ان کی گردنیں مار دیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے ابوبکر تمہاری مثال ابراہیم ( علیہ السلام) کی ہے جب انہوں نے کہا : وَمَنْ عَصَانِیْ فَاِنَّکَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (ابراہیم : 36) اور اے عمر تیری مثال نوح ( علیہ السلام) جیسی ہے جبکہ انہوں نے کہا : رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَی الْاَرْضِ مِنَ الْکٰفِرِیْنَ دَیَّارًا۔ (نوح : 26) پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ اگر تم چاہتے ہو تو انہیں قتل کردو۔ اور اگر چاہو انکا فدیہ لے لو۔ لیکن اتنی تعداد تم میں سے شہید ہوگی۔ انہوں نے کہا ہم ان سے فدیہ لیتے ہیں۔ چناچہ احد میں ستر صحابہ شہید ہوئے۔ جب فدیہ لے لیا تو یہ آیت اتری : تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَا (تم دنیا کا مال واسباب چاہتے ہو) عرض کا معنی دنیا کا سامان یعنی فدیہ۔ عرض اس لئے کہا کیونکہ جلد زائل ہونے والا اور کم باقی رہنے والا ہے۔
وَاللّٰہُ یُرِیْدُ الْاٰخِرَۃَ (اور اللہ تعالیٰ آخرت کو چاہتا ہے) جو کہ جنت کا سبب ہے۔ جس سے اسلام کی عظمت و عزت بڑھتی ہے اور وہ اساطین کفر کا قتل کرتا ہے۔ (تاکہ اسلام کے راستہ میں رکاوٹ نہ رہے) وَاللّٰہُ عَزِیْزٌ (اللہ زبردست قوت والا ہے) اپنے دشمنوں پر غالب ہے۔ حَکِیْمٌ (بڑی حکمت والا ہے) اپنے دوستوں پر عتاب میں۔
Ayah 8:68نوشتہ تقدیر میں فدیہ کی حلّت :
آیت 68: لَوْلَا کِتٰبٌ مِّنَ اللّٰہِ (اگر اللہ تعالیٰ کا ایک نوشتہ مقدر نہ ہوچکتا) اگر اللہ تعالیٰ کا حکم نہ ہوتا۔ سَبَقَ کسی اجتہاد کرنے والے کو سزا نہ دی جائے۔ اور یہ بات ان سے بطور اجتہاد ہوئی کیونکہ۔ نمبر 1: انہوں نے اس بات کی طرف نگاہ کی کہ انکا چھوڑدینا ان کے اسلام کا سبب بن جائے گا۔ اور فدیہ سے جہاد پر قوت حاصل کی جائے گی۔ مگر دوسرا پہلو ان سے مخفی رہا کہ ان کے قتل میں اسلام کی عزت و شان ہے اور پچھلوں پر اس سے رعب طاری ہوگا۔ نمبر 2۔ اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں لکھ دیا کہ اہل بدر کو عذاب نہ دیا جائے گا۔ نمبر 3۔ بیان و معذرت سے پہلے مؤاخذہ نہیں۔
آپ کا مشورہ اس بات کی دلیل ہے کہ اجتہاد جائز ہے یہ منکرین قیاس کے خلاف دلیل ہے۔ کتاب مبتداء، من اللہ صفت اول سبق صفت دوم، خبرمحذوف ہے تقدیر عبارت یہ ہے لولا کتاب ثابت من اللہ ای لولا کتاب بھذہ الصفۃ فی الوجود۔
سبق یہ خبر نہیں ہے کیونکہ لولا کی خبر کبھی ظاہر نہیں ہوتی۔ لَمَسَّکُمْ (تو تم پر واقع ہوتی) تمہیں ملتا اور پہنچتا فِیْمَآ اَخَذْتُمْ (جو امر تم نے اختیار کیا) یعنی قیدیوں کا فدیہ عَذَابٌ عَظِیْمٌ (بڑی سزا) روایت میں ہے کہ عمر ؓ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ تو آپ ﷺ اور ابوبکر ؓ کو روتا ہوا پایا۔ انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ ! مجھے بتلائیں اگر میں بھی رو سکوں تو رئو وں۔ اور اگر رونا نہ آئے تو رونے والی صورت بنا لوں گا۔ آپ نے فرمایا مجھے تمہارے ان ساتھیوں پر رونا آرہا ہے۔ جنہوں نے فدیہ لیا۔ میرے سامنے انکا عذاب اس درخت سے زیادہ قریب تردکھایا گیا۔ وہ درخت آپ کے نزدیک ہی تھا۔ (مسلم 1763) اور دوسری روایت میں ہے کہ اگر وہ عذاب آسمان سے اترتا تو اس سے عمر اور سعد بن معاذ کے سواء کوئی نہ بچ سکتا اس لئے کہ انہوں نے اثخان کو پسند کیا تھا۔ ( ابن جریر)
Ayah 8:69اموالِ غنائم کے استعمال کی اجازت :
آیت 69: فَکُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ (پس تم کھائو اس کو جو کچھ تم نے لیا ہے) روایت میں ہے کہ صحابہ کرام غنائم سے رک گئے اور انہوں نے اس کو ہاتھ بھی نہ لگایا۔ پس یہ آیات اتریں۔ دوسرا قول یہ ہے کہ اس میں فدیہ کو مباح کیا گیا کیونکہ یہ بھی غنائم میں سے ہے۔ فا، سببیہ ہے اور سبب محذوف ہے۔ مطلب یہ ہے قد احللت لکم الغنائم کہ میں نے غنائم تمہارے لیے حلال کردیے۔ پس تم کھائو۔ حَلٰلاً (حلال) عتاب و عقاب سے آزاد ہو کر۔ حلال یہ حل العقال سے ہے۔
اونٹ کا عقال کھول دیا۔ نمبر 1۔ یہ مغنوم (غنیمت کے طور پر حاصل شدہ مال) سے حال ہونے کی بناء پر منصوب ہے۔ نمبر 2۔ مصدر کی صفت ہے یعنی اکلا ً حلالاً کھائو حال کھانا۔ طَیِّبًا (پاک سمجھ کر) لذیذو خوشگوار نمبر 3۔ شرعاً حلال، طبعاً پاکیزہ و مرغوب وَّاتَّقُوا اللّٰہَ (اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو) ایسی چیز کی طرف اقدام نہ کرو۔ جس کی اجازت نہیں دی گئی۔ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ (بیشک اللہ تعالیٰ بڑے بخشنے والے) جو کچھ پہلے تم کرچکے رَّحِیْمٌ (رحمت والے ہیں) غنیمت کو حلال قرار دے کر۔
Ayah 8:70اگر دل میں ایمان ہوگا تو دوگنا ملے گا :
آیت 70: یٰٓاَیـُّـھَا النَّبِیُّ قُلْ لِّمَنْ فِیْٓ اَیْدِیْکُمْ (اے پیغمبر کہہ دیجئے اس سے جو آپ کے قبضہ میں) تمہاری ملکیت میں گویا تمہارے ہاتھ ان کو پکڑنے والے ہیں۔ مِّنَ الْاَسْرٰ ی (قیدی ہیں) جمع اسیر
قراءت : ابو عمرونے اسارٰی پڑھا جو اُسرٰی کی جمع ہے۔ اِنْ یَّعْلَمِ اللّٰہُ فِیْ قُلُوْبِکُمْ خَیْرًا (اگر اللہ تعالیٰ کو تمہارے دل میں ایمان معلوم ہوگا) خلوص ایمان اور صحت نیت یُّؤْتِکُمْ خَیْرًا مِّمَّآ اُخِذَمِنْکُمْ (تو جو کچھ تم سے لیا گیا ہے۔ اس سے بہتر تم کو دے دے گا) یعنی فدیہ۔ نمبر 1۔ خواہ دنیا میں دوگنا دے۔ نمبر 2۔ آخرت میں ثواب دے وَیَغْفِرْلَکُمْ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (اور تم کو بخش دے گا۔ اور اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت والے ہیں بڑی رحمت والے ہیں) ۔
بحرین کا مال روایت میں ہے کہ آپ ﷺ کے پاس بحرین کا مال آیا۔ جس کی مقدار اسّی ہزار تھی۔ آپ نے نماز ظہر کیلئے وضو کیا۔ اور تقسیم کر کے نماز ادا فرمائی۔ عباس کو حکم دیا کہ وہ اس میں سے لے لیں انہوں نے اپنے اٹھانے کی مقدار اس میں سے لیا۔ اور وہ کہا کرتے تھے یہ اس سے بہتر ہے جو ہم سے لیا گیا اور مجھے مغفرت کی امید ہے ان کے بیس غلام تھے ان میں سے سب سے کم مال کی تجارت کرنے والا بیس ہزار میں تجارت کرتا تھا۔ عباس کہا کرتے اللہ تعالیٰ نے ایک وعدہ پورا کردیا اور مجھے دوسرے کا یقین ہے۔ ( ابن جریر)