Ayah 11:77لوط ( علیہ السلام) اور فرشتے :
77: پھر وہ ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس سے نکل کر قوم لوط کی طرف متوجہ ہوئے، ابراہیم (علیہ السلام) اور قوم لوط کے مابین چارفرسخ کا فاصلہ تھا۔ وَلَمَّا جَآئَ تْ رُسُلُنَا لُوْطًا (اور جب ہمارے قاصد لوط (علیہ السلام) کے پاس آئے) ان کے پاس آئے اور آپ نے ان کی ہیئت اور خوبصورتی کو دیکھا۔ سِیْ ئَ بِھِمْ (تو ان کو ناگوار ہوا) ان کو غمزدہ کردیا، کیونکہ انہوں نے گمان کیا کہ وہ انسان ہیں۔ پس ان کے متعلق اپنی قوم کی خباثت کا خطرہ محسوس کیا اور اس وجہ سے بھی کہ وہ ان کی مدافعت اور قوم کے مقابلے سے عاجز تھے۔ وَ ضَاقَ بِھِمْ ذَرْعًا (ان کا دل تنگ ہوا) ذرعًا یہ تمیز ہے۔ یعنی ان کی آمد سے آپ کا دل تنگ ہوا وَّ قَالَ ھٰذَایَوْمٌ عَصِیْبٌ (اور کہنے لگے یہ دن بڑا سخت ہے) ۔ روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ان کو ہلاک نہ کرو جب تک لوط چار مرتبہ گواہی نہ دیں۔ چناچہ ان کو گھر لیکر چلے تو انہیں فرمایا کیا تمہیں اس شہر والوں کا رویہ معلوم نہیں۔ انہوں نے کہا ان کا معاملہ کیا ہے۔ آپ نے فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ سطح زمین پر عمل کے لحاظ سے یہ بدترین بستی ہے۔ آپ نے یہ بات چار مرتبہ دہرائی۔ فرشتوں کے ساتھ مکان میں داخل ہوئے اور کسی کو کان و کان خبر تک نہ ہوئی۔ لوط (علیہ السلام) کی بیوی نکلی اور اپنی قوم کو ان کی اطلاع دی۔
Ayah 11:78قوم کا کردار اور لوط ( علیہ السلام) کا طرز عمل :
78: وَجَآ ئَ ہٗ قَوْمُہٗ یُھْرَعُوْنَ اِلَیْہِ (اور لوط (علیہ السلام) کے پاس ان کی قوم تیز تیز آئی) تیزی کرتے ہوئے گویا ان کو کوئی پیچھے سے دھکیل کر لا رہا ہے۔ وَمِنْ قَبْلُ کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ (اس سے پہلے وہ برے کام کرتے تھے) اسوقت سے پہلے وہ بےحیائی کے کام کرتے تھے۔ یہاں تک وہ اس کے عادی ہوچکے اور اسکی برائی ان کے ہاں سے اڑ چکی۔ اسی لئے سرعام دوڑتے ہوئے آئے ان کو حیاء مانع نہ ہوا۔ قَالَ یٰـقَوْمِ ھٰٓؤُلَآئِ بََنَاتِیْ (کہا اے میری قوم یہ میری بیٹیاں ہیں) پس تم ان سے نکاح کرلو انہوں نے اپنے مہمانوں کو اپنی بیٹیوں کے ذریعہ بچانا چاہا اور یہ انتہائی مہربانی کی بات ہے۔ مسلمان عورتوں کا نکاح اس وقت کفار کے ساتھ جائز تھا۔ جس طرح کہ ابتدائے اسلام میں اس امت میں بھی جائز تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی دونوں بیٹیوں کا نکاح عتبہ بن ابی لہب اور ابو العاص سے کردیا تھا حالانکہ وہ دونوں کافر تھے۔
ایک قول یہ ہے کہ ان کے دو بڑے سردار تھے آپ نے چاہا کہ اپنی دونوں بیٹیوں کا نکاح ان سے کر والیں۔ ھُنَّ اَطْھَرُ لَکُمْ (وہ زیادہ پاک ہیں تمہارے لیئے) میں حلال کردیتا ہوں۔
نحو : ھٰٓؤُ لَآئِ مبتداء اور بَنَاتِیْ اس کا عطف بیان۔ ھن ضمیر فصل اور اطہر خبر ہے۔ یا نمبر 2۔ بناتیؔ خبر ہے۔ اور ھنؔ مبتداء اور اطہر اسکی خبر۔ فَاتَّقُوا اللّٰہَ (تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو) ان کے نکاح کو ان پر ترجیح دیکر وَلَا تُخْزُوْنِ ( اور تم مجھے رسوا نہ کرو) میری توہین نہ کرو اور نہ رسوا کرو۔ یہ الخزی سے بنا ہے۔ نمبر 2۔ مجھے شرمندہ نہ کرو۔ یہ الخزایۃ سے ہے جس کا معنی الحیاء ہے۔
قراءت : ابو عمرو نے وصل میں یا سے پڑھا۔ فِیْ ضَیْفِیْ (میرے مہمانوں کے حق میں) کیونکہ جب کسی کا مہمان رسوا ہوجائے یا اس کا پڑوسی تو وہ رسوا ہوجاتا ہے اور یہ شرفاء کا طرز عمل ہے۔ اور اصل جواں مردی ہے۔ اَلَیْسَ مِنْکُمْ رَجُلٌ رَّشِیْدٌ (کیا تم میں کوئی سمجھ دار آدمی نہیں) یعنی کوئی ایک ایسا آدمی جو سیدھا راستہ بتائے اور اچھے کام سکھائے اور برائی سے روکے۔
Ayah 11:7979: قَالُوْا لَقَدْ عَلِمْتَ مَالَنَا فِیْ بَنٰتِکَ مِنْ حَقٍّ (انہوں نے کہا تو جانتا ہے کہ ہمیں تمہاری بیٹیوں میں کوئی حق نہیں) حق کا معنی حاجت ہے کیونکہ عورتوں سے نکاح کرنا یہ ہمارے مذہب سے خارج ہے۔ ہمارا مذہب تو مذکروں سے بدفعلی ہے۔ وَاِنَّکَ لَتَعْلَمُ مَانُرِیْدُ (اور تم ہمارا رادہ جانتے ہو) مراد انہوں نے مذکروں سے بدفعلی لی۔ حالانکہ ان کیلئے اس میں کوئی شہوت نہ تھی۔
Ayah 11:8080: قَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِکُمْ قُوَّۃً اَوْ ٰاوِیْ اِلٰی رُکْنٍ شَدِیْدٍ (کہا اگر میرے اندر تمہیں دفع کرنے کی قوت ہوتی (تو تمہیں دفع کردیتا) یا میں مضبوط رکن کی طرف سہارا لیتا) لَوْ کا جواب محذوف ہے۔ یعنی تو میں ایسا کر گزرتا اور ضرور کرتا۔ مطلب یہ ہے اگر میں ذاتی طور پر تمہارے خلاف طاقت پاتا یا ایسے مضبوط کی پناہ لیتا جس سے میں اپنی پشت کو سہارا دیتا اور اس کے ذریعہ تمہیں روکتا۔ وہ اپنے دست وبازو کے ساتھ تم سے حفاظت کرتا طاقتور زبردست کو پہاڑ کے ستون سے مضبوطی میں تشبیہ دی اور حفاظت میں مشابہت دی۔
Ayah 11:8181: روایت میں ہے کہ جب وہ مہمان آئے تو آپ نے دروازہ بند کرلیا اور کفار کو لوٹانے کی کوشش کرنے لگے۔ جیسا اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور ان سے جھگڑ رہے تھے کہ وہ دیوار پھاند کر اندر آگئے۔ جب ملائکہ نے لوط (علیہ السلام) کی تکلیف دیکھی تو انہوں نے کہا قَالُوْا یٰلُوْطُ (کہا اے لوط) بیشک تمہارا ستون تو بڑا مضبوط ہے۔ اِنَّا رُسُلُ رَبِّکَ (بیشک ہم تیرے رب کے قاصد ہیں) پس دروازہ کھول دیں۔ اور ان سے ہم نپٹ لیں گے۔ آپ نے دروازہ کھولا جوں ہی وہ داخل ہوئے۔ جبرئیل (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے ان کی سزا کی اجازت چاہی اللہ تعالیٰ نے اجازت دے دی۔ آپ نے اپنا پر ان کے مونہوں پر مارا جس سے ان کی آنکھوں کا نشان مٹ گیا۔ اور وہ اندھے ہوگئے جیسا فرمایا فطمسنا اعینھم [ القمر : 37[ اب ان کو بھاگنے کا راستہ نظر ہی نہ آتا تھا۔ یہ ہجوم یہ کہتے ہوئے نکلا کہ بچا ئو بچائو ! لوط کے گھر میں جادو گر رہتے ہیں۔ لَنْ یَّصِلُوْا اِلَیْکَ (وہ ہرگز آپ تک پہنچ نہیں سکتے) ۔
نحو : یہ جملہ موضحہ ہے جو ماقبل کی وضاحت کررہا ہے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے قاصد ہیں اس لئے یہ ہرگز آپ تک پہنچ نہیں سکتے۔ اور نہ آپ کو نقصان پہنچاسکتے ہیں۔
ہدایات برائے عذاب :
فَاَسْرِ (پس تم رات کو لے چلو)
قراءت : حجازی نے وصل کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ سرٰی سے ہے۔ بِاَھْلِکَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ (اپنے اہل کے ساتھ رات کے حصے میں) کچھ رات گزرنے پر یا نصف رات ہونے پر وَلَا یَلْتَفِتْ مِنْکُمْ اَحَدٌ (اور تم میں سے کوئی مڑ کر نہ دیکھے) پیچھے کی طرف پلٹ کر۔ یا نمبر 2۔ وہ اس چیز کی طرف نہ دیکھے جو اس کے پیچھے ہے۔ نمبر 3۔ تم میں سے کوئی پیچھے نہ رہے۔ اِلَّا امْرَاَتَکَ (مگر تمہاری بیوی) یہ فاسر باھلک سے مستثنیٰ ہے۔
قراءت : مکی، ابو عمرو نے احد کا بدل قرار دے کر مرفوع پڑھا ہے۔
بیوی کے آپ کے اہل کے ساتھ نکالنے کی دو روایتیں ہیں۔ نمبر 1۔ اپنے ساتھ اس کو نکالا اور حکم دیا کہ کوئی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے مگر وہ۔ جب اس نے اس عذاب کا سنا تو مڑکر پیچھے دیکھا اور کہہ اٹھی ہائے۔ میری قوم ! ایک پتھر اس کے آلگا جس سے وہ ہلاک ہوگئی۔ نمبر 2۔ اس کو حکم دیا کہ وہ اپنی قوم کے ساتھ پیچھے رہے۔ ان کی محبت اس کے دل میں تھی اس کو رات ساتھ لیکر نہ چلے۔ قراءتوں کا اختلاف دونوں روایتوں کے اختلاف کی وجہ سے ہے۔ اِنَّہٗ مُصِیْبُھَا مَآ اَصَابَھُمْ (اس عورت پر وہ عذاب آئے گا جو ان پر آئے گا) یعنی بیشک معاملہ یہ ہے روایت میں ہے کہ حضرت لوط علیہ اسلام نے ان کو کہا متی موعد ھلاکہم۔ ان کی ہلاکت کا وعدہ کب ہے ؟ تو انہوں نے جواب دیا۔ اِنَّ مَوْعِدَ ھُمُ الصُّبْحُ (بیشک ان کے وعدہ کا وقت صبح ہے) حضرت لوط (علیہ السلام) نے فرمایا میں اس سے جلد چاہتا ہوں۔ تو فرشتوں نے کہا اَلَیْسَ الصُّبْحُ بِقَرِیْبٍ (کیا صبح قریب نہیں)
Ayah 11:82انجام قوم :
82: فَلَمَّا جَآئَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَھَا سَافِلَھَا (جب ہمارا حکم آیا تو ہم نے ان کے اوپر کو نیچے کردیا) جبرئیل (علیہ السلام) نے اپنے پر کو اس کے نیچے رکھا پھر آسمان کی طرف اٹھا کر بلند کیا یہاں تک کہ آسمان والوں نے کتوں کے بھونکنے اور مرغوں کی بانگ کو سنا۔ پھر اس کو الٹ دیا اور اوپر سے پتھروں کی بارش کی اور اس کا تذکرہ اس ارشاد میں ہے۔ وَاَمْطَرْنَا عَلَیْھَا حِجَارَۃً مِّنْ سِجِّیْلٍ (ہم نے ان پر کھنگر کے پتھر برسائے) سجیل کا لفظ معرب ہے ( سنگ گل) سے دوسرے مقام میں اس طرح فرمایا حجارۃ من طین [ الذاریات : 33[ مَّنْضُوْدٍ (مسلسل) یہ سجیل کی صفت ہے نمبر 1۔ پہ در پہ نمبر 2۔ جمع شدہ جو عذاب کیلئے تیار کئے گئے تھے۔
Ayah 11:8383: مُّسَوَّمَۃً (نشان زدہ) یہ حجارۃ کی صفت ہے یعنی عذاب کیلئے ان پر نشان کیا گیا تھا۔ ایک قول یہ ہے کہ ہر ایک پر اس ظالم کا نام لکھا تھا۔ عِنْدَ رَبِّکَ (تمہارے رب کی طرف سے) نمبر 1۔ اس کے خزانوں سے نمبر 2۔ اس کے حکم سے وَمَاھِیَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ بِبَعِیْدٍ ( اور وہ بستیاں ان ظالموں سے کچھ دور نہیں) نمبر 1۔ کوئی بعید چیز نہیں۔ اسمیں اہل مکہ کو وعید ہے۔ جبرئیل (علیہ السلام) نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا آپ کی امت کے ظالم ان میں کوئی ظالم ایسا نہیں جو پتھر کے نشانے پر نہ ہو۔ اور وہ کسی بھی گھڑی اس پر گرسکتا ہے۔ نمبر 2۔ ضمیر کامر جمع بسیتوں والوں کی طرف ہے۔ کہ یہ بستیاں مکہ کے ظالموں سے کچھ دور نہیں اپنے سفروں میں ان کا آتے جاتے ان پر گزر ہوتا ہے۔
Ayah 11:84قوم شعیب۔ :
84: وَاِلٰی مَدْیَنَ اَخَاھُمْ شُعَیْبًا (مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا) مدین ان کے شہر کا نام ہے یا ان کے جد امجد مدین بن ابراہیم کا نام ہے۔ مطلب یہ ہے ہم نے شعیب (علیہ السلام) کو ساکنین مدین کی طرف بھیجا یا مدین کی اولاد کی طرف بھیجا۔ قَالَ یٰـقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰہَ مَالَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ وَلَا تَنقُصُوا الْمِکْیَالَ وَالْمِیْزَانَ (کہا اے میری قوم تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو۔ تمہارے لئے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور ماپ تول میں کمی نہ کرو) مکیلی چیز مکیال کے ساتھ موزونی چیز میزان کے ساتھ اِنِّیْ اَرٰکُمْ بِخَیْرٍ (میں تمہیں مالدار پاتا ہوں) دولت وو سعت والاجو ماپ تول میں کمی سے تمہیں بےنیاز کرنے والی ہے یا میں تمہیں دیکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں نعمتوں سے نوازا ہے۔ ان کا حق یہ ہے کہ تم وہ کام نہ کرو۔ جو تم کر رہے ہو۔ وَّ اِنِّیْ اَخَافُ عَلَیْکُمْ عَذَابَ یَوْمٍ مُّحِیْطٍ (مجھے تمہارے متعلق گھیرائو کرنے والے عذاب کا خطرہ ہے) محیط کا معنی مہلک جیسا دوسری آیات میں ہے واحیط بثمرہٖ [ الکہف : 42 [ اور اصل میں یہ احاطۃ العدو سے بنا ہے مراد اس سے ایسا عذاب ہے جو دنیا میں تہس نہس کر دے یا آخرت کا عذاب۔
Ayah 11:85ایک معاشرتی مرض :
85: وَیٰقَوْمِ اَوْفُوا الْمِکْیَالَ وَالْمِیْزَانَ (اے میری قوم تم ماپ تول اور وزن کو پورا کرو) پوراکر کے دو بِالْقِسْطِ (انصاف سے) عدل کے ساتھ
نکتہ : پہلے انہیں اس قباحت سے بچنے کا حکم دیا جس میں وہ مبتلا تھے۔ ماپ تول میں ڈنڈی مارنا پھر اس کو جو عقل میں بھی خوب ہے پورا کرنے کا حکم دیا۔ تاکہ اسکی طرف ان کی رغبت بڑھے اسی لئے بالقسط کے لفظ کا اضافہ کیا کہ تمہیں انصاف کے ساتھ برابر تول، ماپ کردینا چاہیئے کہ نہ کمی رہے نہ زیادتی ہو۔
وَلَاتَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآ ئَ ھُمْ (لوگوں کو ان کی چیزیں کم کر کے نہ دو ) البخسؔ۔ کمی کو کہتے ہیں۔ وہ جو چیزیں خریدتے ان کی چیزوں میں کمی کرتے۔ پس اس سے ان کو روک دیا گیا۔ وَلَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ (اور زمین میں فساد مچاتے مت پھرو) العثی اور العیث سخت قسم کے فساد کو کہتے ہیں، مثلًا سرقہ، لوٹ مار ڈاکہ زنی وغیرہ اور یہ بھی درست ہے کہ البخس و تطفیف کو العثی (شدید فساد) ان کے حق میں قرار دیا ہو۔
Ayah 11:8686: بَقِیَّتُ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا جو بچ جائے) جو حلال مال حرام سے پرہیز کے بعد بچ جائے۔ خَیْرٌ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ (وہ تمہارے لیئے بہت بہتر ہے۔ اگر تم مومن ہو) اس شرط پر کہ تم ایمان لائو۔ اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا بہت بہتر ہے کفار کیلئے بھی کیونکہ وہ اسکی وجہ اسلام لا کر بخس و تطفیف کی مصیبت سے چھوٹ جائیں گے۔ البتہ ایمان کے ساتھ تو اس کا فائدہ حصول ثواب، عقاب سے نجات کی صورت میں ظاہر ہوگا۔ ایمان کے بغیر یہ فائدہ ظاہر نہ ہوگا۔ کیونکہ وہ مالدار اس صورت میں کفر کے گہرے پانی میں ڈبکیاں کھا رہا ہے۔ اس میں ایمان کی عظمت ذکر کردی اور اللہ تعالیٰ کی جلالت شان کے متعلق خبردار کردیا۔ یا نمبر 2۔ مطلب یہ ہے اگر تم میری باتوں میں میری تصدیق کرو اس حال میں کہ میں مخلصانہ نصیحتیں تمہیں کر رہا ہوں۔ وَمَآاَنَاعَلَیْکُمْ بِحَفِیْظٍ (میں تم پر پہرہ دار نہیں ہوں) اسکی ان نعمتوں کے سلسلہ میں جو اس نے تم پر کررکھی ہیں پس تم خود ان کی حفاظت ماپ تول کی کمی کو ترک کر کے کرو۔
Ayah 11:8787: قَالُوْا یٰشُعَیْبُ اَصَلٰوتُکَ (کہنے لگے اے شعیب کیا تمہاری نماز) تَاْ مُرُکَ اَنْ نَّتْرُکَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآ ؤُنَآ اَوْ اَنْ نَّفْعَلَ فِیْ اَمْوَالِنَا مَانَشٰٓؤُا (تمہیں حکم دیتی ہے کہ چھوڑ دیں ان معبودوں کو جنکی پوجا ہمارے آباء و اجداد کرتے تھے۔ یا ہم اپنے اموال میں
جو ہم کرتے ہیں وہ چھوڑ دیں) حضرت شعیب (علیہ السلام) بہت زیادہ نفلی نماز پڑھتے تھے۔ ان کی قوم ان کو کہتی اس نماز کا کیا فائدہ آپ جواب میں فرماتے نماز محاسن و خوبیوں کا حکم دیتی ہے اور قبائح سے باز رکھتی ہے۔ اس پر بطور تمسخر کہنے لگے۔ اصلٰوتک تامرک کیا تمہاری نماز تمہیں حکم دیتی ہے کہ تو ہمیں ان کی عبادت کے ترک کا حکم دیتا ہے۔ مَایَعْبُدُ اٰبَاٰؤُنَا اَوْاَنْ نَّفْعَلَ (جن کی پوجا ہمارے آبائو اجداد کرتے تھے یا ہم کرنا چھوڑدیں) ہم وسعت و پھیلائو کرنا۔ فی اموالنا مانشؤا (اپنے اموال میں اپنی مرضی استعمال کرنا) پور ادینا اور کم کرنا یا یہ بھی درست ہے کہ نمازوں کو مجازًا امر بنایا جائے جیسا اللہ تعالیٰ نے مجاز اً ان کو ناہی قرار دیا ہے۔ اِنَّکَ لَاَنْتَ الْحَلِیْمُ الرَّشِیْدُ (بیشک تو حوصلے والا سمجھدار بنا پھرتا ہے) یعنی تو بیوقوف و گمراہ ہے۔ یہ استہزاء ً الٹ نام انہوں نے استعمال کیا۔ نمبر 2۔ تو ہمارے نزدیک حوصلہ مند سمجھدار ہے۔ مگر تو ہمارے ساتھ وہ سلوک نہیں کررہا جو تیرے حال کے مناسب ہے۔
Ayah 11:88جواب شعیب۔ :
88: قَالَ یٰـقَوْمِ اَرَئَ یْتُمْ اِنْ کُنْتُ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَرَزَقَنِیْ مِنْہُ (کہا اے میری قوم ! دیکھوتو ! اگر میں اپنے رب کی طرف سے دلیل پر قائم ہوں اور اس نے مجھے اپنی طرف سے اچھا رزق عنایت فرمایا ہے۔ رِزْقًا حَسَنًا (اچھا رزق) یعنی نبوت و رسالت یا حلال مال بغیر بخس و تطفیف کے اَرَئَ یْتُمْ کا جواب محذوف ہے۔ یعنی تم مجھے بتلائو اگر میں اپنے رب کی طرف سے واضح دلیل پر ہوں۔ اور حقیقت میں اسکاسچا پیغمبر ہوں۔ کیا میرے لئے یہ صحیح نہیں کہ بتوں کی عبادت کے چھوڑنے اور گناہوں سے رکنے کا تمہیں حکم دوں۔ جبکہ انبیاء (علیہم السلام) کی بعثت ہی اسی مقصد کیلئے ہوتی ہے۔ محاورہ میں کہا جاتا ہے خالفنی فلان الی کذا جب وہ قصد کرے اور تم اس سے منہ موڑنے والے ہو۔ اور خالفنی عنہ کہتے ہیں وہ منہ موڑنے والا اور تم اس چیز کا قصد کرنے والے ہو۔
مثلاً تمہیں کوئی آدمی پانی کے گھاٹ سے لوٹتے ہوئے ملے اور تم اس سے اس کے دوست کے متعلق دریافت کرو کہ وہ کہاں ہے وہ جواب میں کہے خالفنی الی الماء تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ پانی کی طرف جاتے ہوئے تو میرے ساتھ تھا۔ اور اب میں گھاٹ سے لوٹ کر جارہا ہوں (اسکو وہیں چھوڑکر) حضرت شعیب (علیہ السلام) کا قول اسی قسم میں سے ہے۔ وَمَآاُرِیْدُ اَنْ اُخَالِفَکُمْ اِلٰی مَآ اَنْھٰکُمْ عَنْہُ (یعنی میرا یہ ہرگز مقصود نہیں کہ تمہاری خواہشات و شہوات کی طرف تم سے سبقت کروں جن شہوات سے میں تمہیں منع کرتا ہوں۔ ) تاکہ تمہاری بجائے میں خودان پر قبضہ جما لوں اِنْ اُرِیْدُ اِلَّا الْاِصْلاَحَ (بلکہ میرا مقصود فقط اصلاح ہے) میں اپنے و عظ و نصیحت سے تمہاری اصلاح کرنا چاہتا ہوں۔ میرے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا بھی مقصود یہی ہے۔ مَااسْتَطَعْتُ (جتنی میں طاقت رکھتا ہوں) یہ ظرف ہے اصلاح کیلئے میری طاقت و امکان کی مدت تک یعنی جب تک میری استطاعت ہے اصلاح کو چھوڑ نہیں سکتا۔ اور اس کے لئے کوشش میں کوئی کمی نہ کرونگا۔
وَمَا تَوْفِیْقیْ اِلَّا بِاللّٰہِ (اور عمل صالح کی توفیق مجھے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ملی ہے۔ جو کچھ میں کرتا اور چھوڑتا ہوں وہ اسکی اعانت و تائید سے ہے۔ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ (اسی ہی پر میں نے توکل کیا) اعتماد کیا وَاِلَیْہِ اُنِیْبُ (اسی ہی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں) میں خوشحالی اور تنگدستی میں اسی ہی کیطرف رجوع کرتا ہوں۔
Ayah 11:8989: وَیٰقَوْمِ لَایَجْرِ مَنَّکُمْ شِقَاقِیْ اَنْ یُّصِیْبَکُمْ (اے میری قوم میری مخالفت تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے۔ کہ کہیں تمہیں پہنچ جائے) میری مخالفت اس نتیجہ پر نہ پہنچا دے کہ تم عذاب تک پہنچ جائو۔ جرم کا لفظ یہ کسب کی طرح ایک اور دو مفعولوں کی طرف متعدی ہوتا ہے۔ مِّثْلُ مَآ اَصَابَ قَوْمَ نُوْحٍ اَوْقَوْمَ ھُوْدٍ اَوْقَوْمَ صٰلِحٍ (جو عذاب پہنچا قوم نوح یا قوم ہود یا قوم صالح کو) غرق، آندھی اور زلزلے کے عذاب بالترتیب ان اقوام پر آئے۔ وَمَا قَوْمُ لُوْطٍ مِّنْکُمْ بِبَعِیْدٍ (اور قوم لوط تم سے دور نہیں) ان کا زمانہ قریب ہے۔ نمبر 1۔ وہ ہلاک شدہ لوگوں میں زمانہ کے لحاظ سے قریب تر ہیں۔ نمبر 2۔ یا جگہ کے لحاظ سے نزدیک ہیں ان کے تباہ شدہ مکانات تمہارے قریب ہیں۔ نمبر 3۔ جن اعمال سے وہ ہلاکت کے مستحق ہوئے۔ کفر، گناہ۔ ان میں تمہارے اور ان کے درمیان کوئی خاص فرق نہیں۔
نحو : قریب اور بعید اسی طرح قلیل و کثیر میں مذکرو مؤنث کا فرق نہیں ہے۔ کیونکہ یہ ایسے مصادر کے اوزان پر ہیں جن میں تذکیر وتانیث میں برابری ہے مثلا الصھیل النھیق وغیرہ۔
Ayah 11:9090: وَاسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ ثُمَّ تُوْبُوْا اِلَـیْہِ اِنَّ رَبِّیْ رَحِیْمٌ (تم اپنے رب سے شرک و معاصی کی معافی مانگو پھر اسکی طرف رجوع
کرو بیشک میرا رب مہربان ہے) رحیم ہے کہ اہل جفاء کو ایمان والوں میں سے بخش دیتا ہے وَّدُوْدٌ (محبت کرنے والا ہے) اہل وفاء صالحین سے محبت کرتا ہے۔
Ayah 11:91قوم کا آخری جواب :
91: قَالُوْا یٰشُعَیْبُ مَانَفْقَہُ کَثِیْرًا مِّمَّا تَقُوْلُ (کہنے لگے اے شعیب ہماری سمجھ میں تیری بہت باتیں نہیں آتیں) ہم تیرے اقوال کی صحت کو نہیں سمجھتے ذراغور تو کرو کس طرح وہ ان کے کلام کو نہ سمجھتے ہونگے حالانکہ وہ تو خطیب الانبیاء تھے ؟ وَاِنَّا لَنَرٰکَ فِیْنَا ضَعِیْفًا (اور بیشک ہم تمہیں اپنے میں کمزور پاتے ہیں) ہمارے درمیان نہ تمہاری عزت ہے اور نہ قوت اور اگر ہم تمہیں نقصان پہنچانا چاہیں تو تو اس کو روکنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ وَلَوْ لَارَھْطُکَ لَرَجَمْنٰـکَ (اگرتیرا گروہ نہ ہوتا تو ہم تمہیں سنگسار کردیتے) اگر تیرا خاندان نہ ہو تو ہم سنگساری سے تمہیں ہلاک کردیتے اور یہ بدترین قسم کا قتل ہے۔ آپ کے خاندان والے ان کے ہم مذہب تھے اسی لئے انہوں نے ان کی طرف میلان ظاہر کیا اور ان کا اکرام کیا۔ وَمَآ اَنْتَ عَلَیْنَا بِعَزِیْزٍ (تو ہمارے ہاں معزز نہیں ہے) تو ہم پر زبردست نہیں اور نہ ہی قابل اکرام ہے کہ قتل سے تمہیں بچا سکے اور نہ ہی بلند ہو کہ ہم سنگباری سے بالاتر خیال کریں البتہ تیرا خاندان ہماری نگاہ میں معزز ہے۔ کیونکہ وہ ہمارے دین والے ہیں۔ حرف نفی کو ضمیر پر داخل کر کے بتلایا کہ کلام فاعل میں واقع ہو رہا ہے فعل میں نہیں گویا اسطرح کہا گیا۔ وما انت علینا بعزیز بل رھطک ھم الاعزۃ علینا اسی لئے ان کے جواب میں آپ نے فرمایا۔
Ayah 11:9292: قَالَ یٰـقَوْمِ اَرَھْطِیْ اَعَزُّ عَلَیْکُمْ مِّنَ اللّٰہِ (اے میری قوم کیا میرا خاندان وہ اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں تمہارے ہاں زیادہ عزت والا ہے) اگر ماعززت علینا کہا جاتا تو یہ جواب صحیح نہ بنتا۔ بلکہ اس طرح فرمایا ارھطی اعزعلیکم من اللہ اور کلام ان کے اور خاندان کے متعلق کیا جارہا ہے۔ کہ وہ خاندان ان کے ہاں معزز ہے نہ کہ شعیب، ان کا شعیب (علیہ السلام) کی توہین کرنا حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کے نبی تھے۔ درحقیقت اللہ تعالیٰ کی توہین تھی اور جب ان کے ہاں ان کا خاندان زیادہ عزت والا تھا نہ کہ شعیب تو گویا انکا گروہ ان کے نزدیک اللہ تعالیٰ سے زیادہ عزت والا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد پر نظر ڈالیں تو یہ بات بخوبی ذہن نشین ہوجائے گی من یطع الرسول فقداطاع اللّٰہ [ النساء : 80[ وَاتَّخَذْ تُمُوْہُ وَرَآئَ کُمْ ظِھْرِیًّا (تم نے اس کو پس پشت ڈال دیا) اور اس کو بھلا دیا اور تم نے اس کو پشت پیچھے ڈالی ہوئی چیز کی طرح نسیاً منسیا کردیا کہ اسکی ذرہ بھرپرواہ نہیں کرتے۔
نحو : الظہری یہ الظہر سے اسم منسوب ہے اور کسرہ اسم منسوب کی وجہ سے ہے۔ جیسا کہ امس سے امسی اسم منسوب میں تغیرات بہت ہیں۔ اِنَّ رَبِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ (بےشک میرا رب تمہارے اعمال کا احاطہ کرنے والا ہے) وہ علم کے اعتبار سے تمہارے اعمال کا احاطہ کرنے والا ہے اس پر کائنات کی کوئی چیز مخفی نہیں۔
Ayah 11:9393: وَیٰـقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰی مَکَانَتِکُمْ (اے میری قوم تم اپنی جگہ کام کرو)
فائدہ : یہ مکانۃ بمعنی مکان ہے۔ کہا جاتا ہے۔ مکان و مکانۃ و مقام و مقامۃ۔ یا نمبر 2۔ مکن کا مصد رہے فھو مکین جب کسی چیز پر قابو پالے۔ مطلب یہ ہوگا تم کام کرو۔ اس حال میں کہ تم اپنی جانب سے ٹھہرنے اور جمنے والے ہو اس جانب جو کہ شرک اور میری دشمنی والی ہے۔ نمبر 3۔ اپنی طاقت بھرمیری عداوت و دشمنی کرلو۔
اِنِّیْ عَامِلٌ (بیشک میں کام کرنے والا ہوں) اس کے مطابق جو اللہ تعالیٰ مجھے نصرت و تائید عنایت فرماتے ہیں اور مجھے ٹھکانہ دینے والے ہیں۔ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ مَنْ یَّاْ تِیْہِ عَذَابٌ یُّخْزِیْہِ وَمَنْ ھُوَ کَاذِبٌ (جلدی تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ کون ہے۔ جس پر ایسا عذاب آتا ہے جو اس کو رسوا کر دے گا اور وہ کون شخص ہے جو جھوٹا ہے) ۔
نحو : من استفہامیہ ہے اور فعل علم سے معلق ہے۔
گویا اس طرح کہا گیا سوف تعلمون ایّنا یأتیہ عذاب یخزیہ (رسوا کرتا ہے) واینا ھو کاذب۔ تم عنقریب جان لوگے کہ ہم میں سے کون ہے جس پر عذاب اتر کر اس کو رسوا کرتا ہے۔ اور ہم میں سے کون جھوٹا ہے میں یا تم۔ یاء موصولہ ہے گویا اسطرح کلام ہے۔ سوف تعلمون الشقی الذی یأتیہ عذاب یخزیہ والذی ھو کاذب فی زعمکم ودعواکم۔ تم عنقریب اس بدبخت کو جان لوگے جس پر وہ عذاب آتا ہے جو اس کو رسوا کر دے گا۔ اور وہ جو کہ تمہارے خیال اور دعوے میں جھوٹا ہے۔ فا ؔ کو سوف پر داخل کیا تاکہ ایسے حرف سے وصل ظاہرہو جو وصل کیلئے بنایا گیا ہے اور فا ؔ کو ہٹانے کی صورت میں وصل تقدیری ہے اور جملہ مستانفہ ہے اور سوال مقدر کا جواب ہے گویا اس طرح کہا گیا پھر کیا ہوگا اگر ہم اسی کیفیت سے کام کرتے رہیں اور تم اپنا کام کرتے رہے ؟ تو جواب دیا۔ سوف تعلمون، تفنن فی البلاغۃ کیلئے تو دونوں صورتیں درست ہیں مگر جملہ مستانفہ زیادہ بلیغ ہے۔ وَارْتَقِبُوْا (تم انتظار کرو) تم انجام کا انتظار کرو۔ اور میں نہیں کہتا اِنِّیْ مَعَکُمْ رَقِیْبٌ (بیشک میں تمہارے ساتھ منتظر ہوں) الرقیب الراقب کے معنی میں ہے (نگران) یہ رقبہ سے نکلا ہے جیسے ضریب بمعنی الضارب۔ نمبر 2۔ رقیب بمعنی مراقب (ایک دوسرے کا نگران) جیساعشیر بمعنی معاشر نمبر 3۔ رقیب بمعنی مرتقب جیسے رفیع بمعنی مرتفع (منتظر)
Ayah 11:94نفاذِ عذاب :
94: وَلَمَّا جَآ ئَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَاشُعَیْبًا وَّالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ بِرَحْمَۃٍ مِّنَّا وَاَخَذَتِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَۃُ (جب ہمارا عذاب والا حکم آیا تو ہم نے بچا لیا شعیب کو اور ان کے ساتھ والے مومنوں کو اپنی رحمت سے اور ظالموں کو پکڑ لیا ایک چیخ نے۔ ) جبرئیل (علیہ السلام) نے چیخ ماری تو وہ تمام ہلاک ہوگئے۔ یہ عاد اور مدین کے واقعہ کے آخر میں مذکور ہوا ہے۔
نکتہ : ثمود و لوط کے واقعہ کے آخر میں لما جاء فرمایا جبکہ آیت 66 میں فلما جاء فرمایا گیا اسکی وجہ یہ ہے کہ یہ دونوں واقعات اس موعد کے بعد ذکر ہوئے جو ان موعد ھم الصبح [ ھود : 81[ ذلک وعدغیر مکذوب [ ہود : 65[ پس فاؔ لائے جو سببیت کو ظاہر کرتی ہے جیسا تم کہو وعد تہ فلماجاء المیعاد کان کیت و کیت اور دوسرے دونوں واقعات ابتدائی طور پر لائے گئے۔ اس لئے ان کا حق یہ تھا کہ وائو جمع لا کرماقبل پر عطف کیا جاتا جیسا ایک قصہ دوسرے پر عطف کیا جاتا ہے۔ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِھِمْ جٰثِِمِیْنَ (وہ اپنے گھروں میں مرے کے مرے رہ گئے) الجاثم اس شخص کو کہتے ہیں جو اپنی جگہ کو لازم پکڑے اور ادھرادھر نہ سرکے۔ جبرئیل (علیہ السلام) نے زور سے چیخ ماری۔ اس اچانک چیخ سے تمام کی روحیں قبض ہوگئیں اور وہ اپنی جگہوں پر مرگئے (اعاذنا اللہ من عاقبتہم)
Ayah 11:9595: کَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْھَا (گویا وہ گھروں میں بستے ہی نہ تھے) گویا زندگی میں انہوں نے ان گھروں میں رہائش اختیار ہی نہیں کی نہ تو پورے اختیار سے اور نہ آتے جاتے۔ اَ لَا بُعْدًا لِّمَدْیَنَ (خبردار مدین والوں کیلئے دوری ہو) البُعد۔ البَعَد کے معنی میں ہے۔ اور اس کا معنی ہلاکت ہے۔ جیسے الرشد بمعنی الرَشَد ہے کیا قرآن مجید کی اس آیت کی طرف نہیں دیکھتے۔ کَمَا بَعِدَتْ ثَمُوْدُ (جیسے قوم ثمود دور ہوئی ) ۔
نحو، قراءت : بَعِدَت کو بَعُدتْ پڑھا گیا ہے معنی ہر دو صورت میں ایک ہے۔ یہ قرب کی ضد ہے۔ مگر انہوں نے بُعْد بمعنی ہلاکت) کے درمیان اور دوسرے کے درمیان فرق کیا پس بناء کو بدل دیا جیسا کہ خیر و شر کے زمانوں میں تفریق کرتے ہوئے کہتے ہیں وعد و اَوْعَد پہلا وعدہ کرنا اور دوسرا ڈرانا۔
Ayah 11:96موسیٰ ( علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ :
96: وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰی بِاٰیٰتِنَا وَسُلْطٰنٍِ مُّبِیْنٍ (تحقیق ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی آیات دے کر اور واضح دلائل کے ساتھ بھیجا) مراد سلطان مبین سے عصا ہے کیونکہ یہ تمام سے زیادہ واضح ترین نشانی تھی۔
Ayah 11:9797: اِلٰی فِرْعَوْنَ وَملَائِہٖ فَاتَّبَعُوْا (فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف پس انہوں نے اتباع کی) سرداروں نے اتباع کی اَمْرَ فِرْعَوْنَ وَمَآ اَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِیْدٍ (فرعون کے حکم کی اور فرعون کا حکم صحیح نہ تھا) اس میں متبعین فرعون کی جہالت ظاہر کی گئی ہے کہ انہوں نے فرعون کا کھلاگمراہ کن عمل قبول کرلیا اور وہ یہ تھا کہ اس نے الوہیت کا دعو ٰی کیا تھا حالانکہ وہ ان جیسا انسان تھا۔ اور سرعام ظلم و شرارت پھیلانے والا تھا جو کہ شیطان ہی کا کارنامہ ہوسکتا ہے۔ چہ جائیکہ اس کو الوہیت کے منصب پر بٹھا دیا جائے۔ (نعوذباللہ من الحمقاء والحماقۃ) اور اس میں یہ بتلایا کہ قبطیوں نے ان آیات کا معائنہ کیا اور سلطان مبین بھی دیکھی اور ان کو یقین ہوگیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) ہدایت و حق پر ہیں۔ پھر بھی ان کی اتباع سے اعراض کر کے اسکی اتباع کی جس کی اتباع میں رشد و ہدایت کا نشان تک نہ تھا۔ نمبر 2۔ یا مراد یہ ہے کہ اس کا کام نیک نہ تھا۔ اچھے انجام والا نہ تھا۔
Ayah 11:9898: یَقْدُمُ قَوْمَہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ( وہ قیامت کے دن اپنی قوم کے آگے آگے ہوگا) وہ مقتداء ہوگا اور وہ اس کے پیچھے ہونگے۔ یہ ماقبل کی تفسیر و ایضاح ہے۔ کہ اس کا کام رشد و ہدایت والا کس طرح ہوسکتا ہے۔ جس کا انجام یہ ہو ؟ الرشد کا لفظ ہر اس چیز میں استعمال ہوتا ہے جو پسندیدہ اور قابل تعریف ہوجیسا کہ الغی کا لفظ ہر قابل مذمت چیز پر بولا جاتا ہے۔ اور قدمہ بمعنی تقدمہ کے ہے آگے آگے ہونا۔ فَاَوْرَدَھُمُ النَّارَ پس ان کو آگ میں داخل کرے گا۔ یہ لفظ ماضی لایا گیا کیونکہ ماضی امر موجود پر دلالت کرتا ہے اور قطعیت ظاہر کرتا ہے گویا اس طرح کہا گیا یقدمھم فیوردھم النار لا محالۃ وہ ان سے آگے ہوگا اور ان کو بہر صورت آگ میں داخل کرے گا۔ یعنی جس طرح وہ گمراہی میں نمونہ تھا۔ اس طرح آگ کی طرف بھی ان کے آگے جائیگا اور وہ اس کے پیچھے ہوں گے۔ وَبِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُوْدُ (بہت برا ہے وہ گھاٹ جس پر وہ وارد ہوئے) الورد بمعنی مورد ہے۔ المورود جس پر وہ وارد ہوئے۔ اس میں اس کو فارط (سابق) سے تشبیہ دی جو کہ وارد سے پہلے گھاٹ پر پہنچتا ہے اور اس کے متبعین کو واردہ سے تشبیہ دی پھر فرمایا یہ بدترین گھاٹ ہے۔ جس پر وہ اترے ہیں یعنی جہنم کی آگ کیونکہ گھاٹ پر پیاس کی تسکین کیلئے جاتے ہیں اور وہ آگ میں اترے ہیں جو پانی کی ضد ہے۔
Ayah 11:99فرعونیوں کا انجام :
99: وَاُتْبِعُوْا فِیْ ھٰذِہٖ (ان کے پیچھے لگادی گئی اس دنیا کی زندگی میں) ہٰذِہٖ سے دنیامراد ہے۔ لَعْنَۃً وَّیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ (لعنت کو اور قیامت کے دن) ان پر دنیا میں بھی لعنت کی جائے گی اور آخرت میں بھی ملعون ہونگے۔ بِئْسَ الرِّفْدُ الْمَرْفُوْدُ (بہت برا انعام ہے جو ان کو دیا گیا) یعنی بدترین مدد اور بدترین وہ جن کو یہ امداد ملی۔ نمبر 2۔ جس کو یہ عطاء ملی بدترین عطاء ملی۔
Ayah 11:100100: ذٰلِکَ (یہ) یہ مبتداء ہے مِنْ اَنْچبَآ ئِ الْقُرٰی (بستیوں والے کے واقعات و خبریں ہیں) یہ خبر ہے۔ نَقُصُّہٗ عَلَیْکَ (جو ہم تمہیں بیان کررہے ہیں) یہ دوسری خبر ہے یعنی یہ خبر ان بعض اخبار میں سے ہے۔ جو ہلاک شدہ شہروں کی ہم نے بیان کیں۔ مِنْہَا (ان میں سے) ان بستیوں میں سیقآ ئِمٌ وَّ حَصِیْدٌ (بعض کھڑی اور بعض کٹ کر فنا کے گھاٹ اتر چکیں) یعنی بعض کے آثار باقی ہیں۔ اور بعض کے نشانات بھی مٹ چکے جیسا کہ وہ کھیتی جو اپنی پوری پر کھڑی ہو اور وہ کھیتی جو کٹ کر ریزہ ریزہ ہوجائے۔
نحو : یہ جملہ مستانفہ ہے۔ اس کا کوئی محل اعراب نہیں۔
Ayah 11:101عذاب کے وقت کسی معبود نے کام نہ دیا :
101: وَمَا ظَلَمْنٰھُمْ (اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا) ان کو ہلاک کر کے وَلٰکِنْ ظَلَمُوْا اَنْفُسَھُمْ (لیکن انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا) ان چیزوں کا ارتکاب کر کے جنکی وجہ سے ہلاک کئے گئے۔ فَمَآ اَغْنَتْ عَنْھُمْ اٰلِھَتُھُمُ (ان کو کچھ فائدہ نہ دیا ان کے معبودوں نے) اللہ تعالیٰ کی پکڑ کو ان سے ہٹا نہ سکے۔ الَّتِیْ یَدْعُوْنَ (وہ معبود جن کو وہ پکارتے تھے) ان کی عبادت کرتے تھے گزشتہ حالت کی حکایت ہے۔ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مِنْ شَیْئٍ لَّمَّا جَآ ئَ اَمْرُ رَبِّکَ (اللہ تعالیٰ کے سواء جبکہ تیرے رب کا عذاب والا حکم آیا) امر سے عذاب مراد ہے۔
نحو : لماؔ یہ ما اغنت کی وجہ سے منصوب ہے۔ وَمَا زَادُوْھُمْ غَیْرَ تَتْبِیْبٍ (اور نہ اضافہ کیا سوائے بربادی کے اور کسی چیز کا)
نقصان کہا جاتا ہے تبّ جبکہ وہ نقصان میں پڑے۔ اور تبّبہ غیرہ جبکہ کسی دوسرے کو نقصان میں ڈالے یعنی غیر اللہ کی عبادت نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا بلکہ ان کو ہلاک کیا۔
Ayah 11:102102: وَکَذٰلِکَ (اور اسی طرح) کاف ؔ محلًا مرفوع ہے ای مثل ذلک الاخذ اس جیسا پکڑنا۔ اَخْذُ رَبِّکَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰی (تیرے رب کا پکڑنا ہے جبکہ اس نے بستیوں والوں کو پکڑا) القرٰی سے اہل القرٰی مراد ہیں۔ وَھِیَ ظَالِمَۃٌ (جبکہ وہ ظالم تھے) یہ القر ٰی سے حال ہے۔ اِنَّ اَخْذَہٗ اَلِیْمٌ شَدِیْدٌ (بیشک اسکی پکڑ بڑی سخت دردناک ہوتی ہے) الیم مولم کے معنی میں ہے دردناک اور شدید۔ پکڑے ہوئے پر سخت ہوتی ہے۔ یہ ہر ظالم بستی کیلئے ڈرا وا ہے خواہ مکہ والے ہوں یا کوئی اور۔ ظالم کو چاہیے کہ وہ جلد توبہ کرے اور مہلت کے دھوکے میں مبتلا نہ ہو۔
Ayah 11:103تذکرئہ آخرت اور استدراج مجرم :
103: اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ (بیشک اس میں) جو کچھ کہ ہلاک ہونے والی امتوں کے متعلق بیان کیا لَاٰ یَۃً ( البتہ عبرت ہے) لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْاٰخِرَۃِ (اس کے لئے جو ڈرا آخرت کے عذاب سے) یعنی اس عذاب کے وجود اور صحیح ہونے کا اعتقاد رکھا۔ ذٰلِک (یہ) کا مشار الیہ یوم القیامۃ ہے کیونکہ عذاب آخرت اس پر دلالت کر رہا ہے۔ یَوْمٌ مَّجْمُوْعٌٌ لَّہُ النَّاسُ (جس دن میں لوگ جمع کئے جائیں گے) الناسؔ یہ مرفوع ہے مجموع کی وجہ سے جیسا کہ اس کا فعل رفع دیتا ہے یہاں فعل کے بجائے اسم مفعول کو اس لئے ترجیح دی گئی تاکہ جمع کا معنی اس دن کیلئے اچھی طرح ثابت ہوجائے اور جمع کی نسبت لوگوں کی طرف کر کے اس بات کو مزید پختہ کردیا کہ لوگ اس سے جدا نہ ہونگے بلکہ حساب و کتاب کیلئے اکٹھے ہونگے اور ثواب و عقاب کو پائیں گے۔
وَذٰلِکَ یَوْمٌ مَّشْھُوْدٌ (اور یہ ایسا دن ہے کہ جس دن شہادت دینے والے شہادت دیں گے) یعنی اس دن میں حاضر ہونگے۔ مفعول بہٖکی جمع ظرف لائے تاکہ وسعت پیدا ہو۔ مطلب اس طرح ہوا کہ تمام مخلوق موقف حساب میں حاضر ہوگی ان میں سے کوئی غائب نہ ہوگا۔
Ayah 11:104104: وَمَا نُؤَ خِّرُہٗ (اور ہم نہیں اس کو مؤخر کر رہے) یعنی مذکورہ دن کو، الاجلؔ، تمام مہلت کی مدت پر بولا جاتا ہے اور اسکی انتہاء کو بھی کہتے ہیں اور گننا اور شمار کرنا تو اسکی مدت کو بیان کرنے کیلئے غایت ومنتہا کیلئے نہیں۔ پس اس ارشاد کا معنی اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍ (مگر ایک مقررہ مدت کیلئے) نمبر 1۔ مگر اس لئے کہ گنی ہوئی مدت پوری ہوجائے۔ مضاف مدۃ حذف کردیا یا نمبر 2۔ ہم اس دن کو مؤخر نہیں کر رہے مگر اسلئے تاکہ وہ مدت ختم ہوجائے جو ہم نے بقائے دنیا کیلئے مقرر کی ہے۔
Ayah 11:105105: یَوْمَ یَاْتِ (جس دن آئے گا) قراءت : مکی نے یا سے پڑھا اور ابو عمرو، نافع، علی نے وصل میں اسکی موافقت کی ہے۔ اور اصل یاؔ کا اثبات ہے کیونکہ حذف کی کوئی وجہ نہیں یا ؔ کا حذف اور کسرہ پر اکتفاء لغت ہذیل میں کثرت سے ملتا ہے اور اسکی مثال ماکنا نبغ [ الکہف : 64[ اور یأت کا فاعل ضمیر ہے جو اس قول کی طرف لوٹ رہی ہے۔ یوم مجموع لہ الناس ۔ [ ھود : 103[ اس یوم کی طرف جو یأت سے پہلے آرہا ہے یوم یہ اذکر کی وجہ سے منصوب ہے۔ یا لَا تَکَلَّمُ کی وجہ سے یہ لاتتکلم ہے (نہ کلام کرے گا) ۔ نَفْسٌ اِلَّا بِاِذْنِہٖ (کوئی نفس مگر اس کے حکم سے) یعنی کسی کی کوئی سفارش نہ کرسکے گا مگر اللہ تعالیٰ کی اجازت سے جیسا فرمایا من ذا الذی یشفع عندہٗ الاباذنہٖ [ البقرہ : 255[
دو قسمیں ‘ شقی و خوش نصیب اور انجام :
فَمِنْھُمْ (پس ان میں سے) ہم کی ضمیر اہل موقف کی طرف راجع ہے کیونکہ لا تکلم نفس اس پر دلالت کر رہا ہے اور لوگوں کا تذکرہ مجموع لہ الناس میں گزرا ہے [ ھود : 103[ شَقِیٌّ (بد بخت) معذب وَّسَعِیْدٌ (خوش نصیب) اور ان میں خوش نصیب ہونگے نعمتوں والے۔
Ayah 11:106106: فَاَمَّا الَّذِیْنَ شَقُوْا فَفِی النَّارِ لَھُمْ فِیْہَا زَفِیْرٌ وَّ شَھِیْقٌ (پس پھر وہ لوگ جو بدبخت ہوئے وہ آگ میں جائیں گے ان کے لئے اس میں چیخیں اور پکاریں ہونگی) ۔ زفیرؔ گدھے کی آواز کی ابتدائی کیفیت اور شہیقؔ۔ گدھے کی آواز کی انتہاء نمبر 2۔ سانس کا نکالنا اور لوٹانا۔ یہ جملہ حال ہے اور اسمیں عامل استقرار ہے جو نار میں ہے۔
Ayah 11:107107: خٰلِدِیْنَ فِیْھَا (وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہونگے) یہ حال مقدرہ ہے۔ مَادَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَ رْضُ جب تک رہیں آسمان اور زمین) یہ موضع نصب میں ہے یعنی مدۃ دوام السموت والارض۔ آسمانوں و زمین کے دوام کی مدت اور آسمان و زمین سے آخرت کے آسمان و زمین مراد ہیں۔ وہ دوامی ہونگے اور ابد کیلئے بنائے جائیں گے۔ اور آخرت میں آسمان و زمین کے وجود کیلئے یہ آیت دلیل ہے۔ یوم تبدل الارض غیر الارض والسٰمٰوت ] ابراہیم : 48 [ نمبر 2۔ جب تک فوق و تحت باقی ہے کیونکہ آخرت والوں کیلئے ایسی چیز ہوگی جو ان کو اٹھائے اور ان پر سایہ کرے گی خواہ سایہ کرنے والا آسمان ہو یا عرش اور ہر چیز جو سایہ کرے وہ سماء ہے۔ نمبر 3۔ یہ ہمیشگی کی تعبیر ہے اور انقطاع کی نفی ہے جیسے کہتے ہیں مالاح کو کب وغیرہ تابید کے کلمات بولے جاتے ہیں۔ اِلَّا مَا شَآ ئَ رَبُّکَ (مگر جو چاہے تیرا رب) نمبر 1۔ یہ خلود فی النار سے استثناء ہے۔ اور اسکی وجہ یہ ہے کہ اہل نار عذاب نار میں اکیلے ہمیشہ نہ رہیں گے بلکہ ان کو زمھریر (شدید سردی) اور کئی اقسام کے عذابوں سے جو آگ کے علاوہ ہونگے سزا دی جائے گی۔ نمبر 2۔ ماشاء کا معنی من شاء ہے اور اس سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کردیا جائے گا ان کو الجہنمیین کہا جائیگا۔ یہ اہل جنت سے الگ بیان کئے کیونکہ عرصہ دراز تک اہل جنت سے جدا رہے۔ اور یہ بدبخت کامل طور پر نہیں کیونکہ (تابید فی النار) آگ میں ہمیشگی سے بچا لئے گئے اور ابتداء ًسعادت مند نہ بنے کہ بغیر آگ کے چھونے کے جنت میں پہنچ جاتے۔ (انتہاء ًسعادت مند بن گئے کیونکہ آگ سے نکل گئے) یہ تفسیر ابن عباس ؓ اور ضحاک و قتادہ رحمہما اللہ سے مروی ہے۔ اِنَّ رَبَّکَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ (بیشک آپ کا رب کر گزرنے والا ہے جو وہ ارادہ کرتا ہے) شقی اور سعید کے متعلق۔
Ayah 11:108108: وَاَمَّا الَّذِیْنَ سُعِدُوْا ( اور پھر جو لوگ خوش نصیب ہونگے) قراءت : حمزہ، علی، حفص نے سُعِدُوْاپڑھا ہے۔ سَعِدَ لازم ہے۔ اور سَعَدَ یَسْعَد متعدی ہے۔ فَفِی الْجَنَّۃِ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا مَادَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآ ئَ رَبُّکَ (پس وہ جنت میں جائیں گے اسمیں ہمیشہ رہنے والے ہونگے جب تک رہیں آسمان و زمین مگر جو چاہے تمہار ارب) نمبر 1۔ یہ خلود فی الجنۃ سے استثناء ہے اور اسکی وجہ یہ ہے کہ جنت کے علاوہ ان کو جنت سے بڑی چیزیں بھی دی جائیں گی۔ اور وہ رؤیت باری تعالیٰ اور اسکی رضا مندی ہے۔ نمبر 2۔ اسکامعنی یہ ہے کہ ما ؔ بمعنٰی من ہو کہ جس کو اللہ تعالیٰ چاہے کہ اس کو جنت میں داخلے سے پہلے عذاب دے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا یہ استثناء دونوں آیات میں اہل جنت کیلئے ہے۔ (رواہ ابن مردویہ الدرالمنثور) اس کا معنی وہی ہے جو ہم نے ذکر کردیا کہ گناہ گار مومن کیلئے خلود فی النار نہیں ہے کیونکہ اس کو بالآخر نکال لیا جائے گا اور اس کا جنت میں خلو دنہ ہوا کیونکہ وہ ابتداء میں جنت میں داخل نہ ہوا۔
معتزلہ کی عبرتناک حرکت :
جب انہوں نے دیکھا کہ اس آیت سے گناہ گاروں کے خلود فی النار والا مسئلہ باطل ہوتا ہے تو ان تمام احادیث کا انکار کردیا جو اس سلسلہ میں وارد ہیں۔ اور یہ بدترین گناہ ہے۔
عَطَآ ئً غَیْرَ مَجْذُوْذٍ (ایسا عطیہ جو منقطع نہ ہوگا) غیرمنقطع مگر ایسے زمانہ تک جائیگا جس کی انتہاء نہیں جیسا کہ فرمایا لھم اجر غیر ممنون ] فصلت : 8[ یہ عَطَآء ًیہ اعطوا محذوف کا مفعول ہونے کی بناء پر منصوب ہے ای اعطواعطائً ۔
نکتہ : فرقہ جہمیہ نے چارآیات کا انکار کیا۔ نمبر 1۔ عَطَآئً غَیْرَ مَجْذُوْذٍ ۔ ھود نمبر 2۔ اکلھا دائمٌ ] الرعد : 35[ نمبر 3۔ وما عند اللّٰہ باق ] النحل : 96[ نمبر 4۔ لا مقطوعۃ ولا ممنوعۃ ] الواقعہ : 33[
Ayah 11:109مشرکوں کو ضرور سزا ملے گی :
109: جب اللہ تعالیٰ نے بتوں کے بچاریوں کے واقعات کو بیان کیا اور ان پر اترنے والے عذاب کو ذکر فرما دیا تو جو عذاب تیار شدہ ہے اس کا ذکر فرمایا۔ فَـلَا تَکُ فِیْ مِرْیَۃٍ مِّمَّا یَعْبُدُ ھٰٓؤُلَآ ئِ (پس تم اے مخاطب ! جس چیز کی یہ عبادت کرتے ہیں اس کے متعلق شک میں نہ پڑو) یعنی تم ہرگز شک نہ کرو اس کے بعد کہ تمہاری طرف یہ واقعات اتار دیئے کہ غیر اللہ کی عبادت کا برا انجام ہوگا جیسا کہ ان کے ہم مثلوں کو ان سے پہلے پہنچا۔
اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی اور کفار سے انتقام کا وعدہ فرمایا۔ اور کفار کو خبردار کیا۔ پھر فرمایا مَایَعْبُدُوْنَ اِلَّا کَمَا یَعْبُدُ اٰبَآ ؤُھُمْ مِّنْ قَبْلُ (یہ عبادت نہیں کرتے مگر کہ جس طرح ان کے آبائواجداد اس سے پہلے ان بتوں کی عبادت کرتے تھے) مقصد یہ ہے کہ شرک میں ان کی حالت اپنے آبائواجداد سے مختلف نہیں ہے۔ اور آپ کو بتلا دیا کہ ان کے آباء کا حشر کیا ہوا پس ان پر بھی اسی طرح کا عذاب اترے گا۔
نحو : یہ جملہ مستانفہ ہے اس کا مقصد شک کے متعلق نہی کی علت بیان کرنا ہے۔ ان کی عبادت ویسی مشرکانہ ہے جیسی ان کی تھی مِمَّا میں ماؔ اوکَمَا میں مامصدر یہ ہے۔ یہ ان کی پوجا کرتے ہیں جن کے ان کے اسلاف کرتے تھے۔ نمبر 2۔ موصولہ ہے۔ اس صورت میں من عبادتہم کعبادتہم جن کی عبادت ان کی عبادت کی طرح معنی ہوگا۔ نمبر 3۔ جن بتوں کی وہ عبادت کرتے اور اسی کی مثل جنکی وہ عبادت ان میں سے کرتے تھے۔ وَاِنَّا لَمُوَ فُّوْھُمْ نَصِیْبَھُمْ (ہم ان کو ان کا حصہ پورا پورا دیں گے) عذاب کا حصہ جیسا کہ ان کے آباء کو ہم نے پورا پورا دیا۔ غَیْرَ مَنْقُوْصٍ (بغیر کمی کے) یہ نصیبہم سے حال ہے یعنی پورا۔
Ayah 11:110110: وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ (اور تحقیق ہم نے دی موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب) یعنی تورات فَاخْتُلِفَ فِیْہِ (پھر اس میں اختلاف ڈالا گیا) بعض لوگ ایمان لائے اور ایک قوم نے انکار کردیا۔ جیسا کہ قرآن میں اختلاف کر رہے ہیں اس میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی۔ وَلَوْلَا کَلِمَۃٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّکَ (اگر ایک بات آپ کے رب کی طرف سے نہ ہوچکی ہوتی) کہ وہ ان کو جلدی سزا نہ دے گا۔ لَقُضِیَ بَیْنَھُمْ (تو ان کا قطعی فیصلہ ہوچکا ہوتا) نمبر 1۔ قوم موسیٰ (علیہ السلام) اور موسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان نمبر 2۔ آپ کا اور آپ کی قوم کا ایسے عذاب سے جو ان کو جڑ سے اکھاڑ دیتا۔ وَاِنَّھُمْ لَفِیْ شَکٍّ مِّنْہُ (اور بلاشبہ وہ اس کے متعلق شک میں مبتلا ہیں) نمبر 1۔ قرآن کے متعلق۔ نمبر 2۔ عذاب کے متعلق مُرِیْبٍ (جو ان کو متردد کرنے والا ہے) یہ اراب الرجل سے ہے جبکہ وہ شک والا ہو۔ یہ اسناد مجازی ہے۔
Ayah 11:111111: وَاِنَّ کُلًّا (اور بالیقین تمام کے تمام) کُلاًّ کی تنوین مضاف الیہ کے عوض ہے۔ یعنی اِنَّ کُلَّہُمْ یعنی بیشک تمام اختلاف کرنے والے ہیں اس میں۔
لَّمَّا لَیُوَفِّیَنَّہُمْ رَبُّکَ اَعْمَالَہُمْ ۔ (آپ کا رب انہیں ان کے اعمال کا بدلہ پورا پورا دے گا)
قراءت : اِنَّ مشددہ اور لَمَّا تخفیف کے ساتھ بصری، علی نے پڑھا۔ اور ما زائدہ ہے اِنَّ اور لَیُوَفِّیَنَّھُمْ کی لام میں فاصلہ کیلئے لایا گیا ہے۔ لَیُوَ فِّیَنَّھُمْ یہ قسم محذوف کا جواب ہے۔ لَّمَّا میں لام قسم کی تمہید کیلئے لائی گئی ہے۔ مطلب اس طرح ہے۔ وان جمیعہم واللّٰہ لیوفینھم ربک اعمالہم بیشک تمام کو اللہ تعالیٰ کی قسم ضرور تیرا رب ان کے اعمال کا بدلہ دے گا یعنی ان کے اعمال خواہ ایمان ہو یا انکار وکفر حسن ہو یا قبح۔
قراءت : ابوبکر نے پہلے کے برعکس اِنْ کو مخففہ پڑھا ہے اور مکی ونافع نے مخففہ ماننے کے باوجود ثقیلہ والا عمل اصل کا لحاظ کر کے دیا کیونکہ اصل تثقیل ہے۔ کیونکہ اِنَّ ثقیلہ فعل کے مشابہ ہے۔ اور فعل حذف سے پہلے اور بعد یکساں عمل کرتا ہے۔ جیسے لم یکن اور لم یک بالکل اسی طرح مشبہ بہ بھی۔ باقی قراء نے دونوں کو مشدد پڑھا ہے مگر یہ مشکل ہے اس میں سب سے بہتر قول یہ ہے کہ لممت الشیٔ سے لیا جائے ای جمعتہٗ لمّا پھر وقف کیا تولمَّابن گیا۔ پھر وقف کی بجائے اس پر وصل کو لائے۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ الدعوٰی اور الثروٰی کی طرح ہو اور جن مصادر میں الف تانیث ہو۔
قول زہری m :
واِنَّ کُلاًّ لَّمًّا تنوین کے ساتھ پڑھا ہے جیسا کہ اس آیت میں اَکْلاً لَّمًّاَّ ] الفجر : 19[ اور یہ اس کی تائید کرتا ہے جو ہم نے کہا ہے مطلب یہ ہوگا۔ ان کلًّا ملمومین ای مجموعین گویا اسطرح فرمایا اِنَّ کلاًّ جمیعًا۔ (بیشک تمام نے جمع ہونا ہے) جیسا کہ اس ارشاد میں فسجد الملائکۃ کلھم اجمعون ] الحجر : 30[
صاحب ایجازکا قول :
لَمَّاؔ میں ظرفیت کا معنی ہے اور کلام میں اختصار ہے۔ گویا اس طرح فرمایا وان کلا لما بعثوا لیوفینھم رَبُّکَ اَعْمَالَھُمْ ۔ جب ہر شخص کو قیامت کے دن اٹھایا جائے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو اس کے اعمال کا ضرور بدلہ دے گا۔
کسائی کا قول :
لَمَّاؔ کی تشدید میرے علم میں نہیں ہے۔
اِنَّہٗ بِمَا یَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ (بیشک وہ جو عمل کرتے ہیں ان سے خبردار ہے)
Ayah 11:112استقامت کا حکم :
112: فَاسْتَقِمْ کَمَآ اُمِرْتَ (پس جو حکم آپ کو دیا گیا ہے اس پر قائم رہو) تم اس طرح قائم رہو۔ جس طرح استقامت کا آپ کو حکم ہوا۔ اس سے عدول کرنے والے نہ ہو۔ وَمَنْ تَابَ مَعَکَ (اور وہ لوگ جو آپ کے ساتھ ایمان لانے والے ہیں) اسکا عطف مستتر پر ہے۔ جو استقم میں ہے اور فصل کیلئے ایساجائز ہے۔ تقدیر اس طرح ہے۔ فاستقم انت ولیستقم من تاب عن الکفر ورجع الی اللّٰہ مخلصًا پس تم استقامت اختیار کرو اور وہ بھی استقامت اختیار کریں جو آپ کے ساتھ ایمان لائے اور اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کیطرف رجوع کیا۔ وَلَا تَطْغَوْا (اور تجاوز نہ کرو ( حد ود شرع سے) یعنی اللہ تعالیٰ کی حدود سے نہ نکلو اِنَّہٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ (وہ تمہارے تمام کاموں کے دیکھنے والے ہیں) وہ تمہیں بدلہ دے گا پس اس سے ڈرو۔ کہا گیا کہ رسول اللہ ﷺ پر اس سے زیادہ اشق آیت کوئی نازل نہیں ہوئی اسی لئے آپ نے فرمایا۔ شَیَّبتْنِیْ ھُوْد (ترمذی) مجھے سورة ہود نے بوڑھا کردیا۔
Ayah 11:113ظالموں کی طرف جھکنے کی سزا آگ :
113: وَلَا تَرْکَنُوْا اِلَی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا (اور ظالموں کی طرف مت جھکو) نہ مائل ہو۔ بقول شیخ (رح) ! یہ کافر سرداروں کے متعلق خطاب ہے کہ کفار قائدین اور سرداروں کی طرف ان کے ظلم میں ذرا بھر بھی جھکائو مت اختیار کریں۔ اور ان باتوں میں جن میں وہ تمہیں اپنی طرف بلاتے ہیں۔ فَتَمَسَّکُمُ النَّارُ (پس تمہیں عذاب چھولے گا) ایک قول یہ ہے کہ الرکون الیھم سے مراد ان کے کفر پر رضا ہے۔ قتادہ نے کہا مشرکین سے مت ملو۔
نکتہ : موفق کہتے ہیں کہ میں نے امام کے پیچھے نماز پڑھی۔ جب اس نے یہ آیت پڑھی تو اس پر بےہوشی طاری ہوگئی۔ جب افاقہ ہوا تو ان سے پوچھا، کیا ہوا تو اس نے کہا یہ تو ان لوگوں کے بارے میں ہے جو ظالموں کی طرف جھکنے والے ہیں۔ ظالم کا کیا حال ہوگا ؟
اقوالِ علماء n :
حضرت حسن (رح) کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے دین کو دو ۔ لا میں بند کردیا۔ نمبر 1۔ لاتطغوا۔ نمبر 2۔ لاترکنوا (خوب نکتہ بینی ہے) حضرت سفیان (رح) نے کہا جہنم میں ایک وادی ہے جس میں وہ قراء جو بادشاہوں کی زیارت کیلئے جانے والے ہیں وہ رکھے جائیں گے۔ قول حضرت اوزاعی (رح) ! اللہ تعالیٰ کو سب سے ناپسند یہ بات ہے کہ کوئی عالم کسی عامل (وزیر، امیر) کے پاس جائے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے ظالم کے متعلق دعا کی کہ وہ باقی رہے تو اس نے گویا پسند کیا کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اسکی زمین میں ہوتی رہے۔ (بیہقی فی شعب الایمان) سفیان (رح) سے سوال کیا گیا کہ اگر ظالم جنگل میں قریب المرگ ہو۔ کیا اسکو پانی کا گھونٹ دیا جائے گا۔ آپ نے فرمایا نہیں آپ سے سوال کیا گیا وہ مرجائیگا۔ تو فرمایا۔ اس کو موت کے حوالہ کردو۔
وَمَا لَکُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ مِنْ اَوْلِیَآئَ (اور تمہارے لئے اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں کوئی دوست نہ ہوگا) یہ فتمسکم النار سے حال ہے تقدیر عبارت یہ ہے فتمسکم النار وانتم علی ھذہ الحالۃ۔ پس تمہیں آگ چھولے گی اس حال میں کہ تم اس حالت میں ہوگے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں تمہارا کوئی کار ساز نہ ہوگا جو اس کے عذاب سے بچا سکے اور نہ ہی اس کے سواء کوئی تم سے اس کے عذاب کو روک سکے گا۔ ثُمَّ لَاتُنْصَرُوْنَ (پھر تمہاری امداد نہ کی جائیگی) پھر وہ اللہ تعالیٰ تو تمہاری امداد نہ کرے گا کیونکہ تمہیں سزا کا خود اس نے حکم دیا۔ ثم ؔ استبعاد کیلئے ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسے آدمی کی مدد بہت ہی بعید ہے۔ (یعنی بالکل نہ ہوگی)