Ayah 11:41کشتی میں سواری کی دعا :
41: وَقَالَ ارْکَبُوْا فِیْھَا بِسْمِ اللّٰہِ مَجْرٖھَا وَمُرْسٰھَا (کہا تم اس پر سوار ہوجائو اللہ تعالیٰ کے نام سے اس کا چلنا اور رکنا ہے) بسم اللہ، ارکبوا سے متصل ہے۔ وائو سے حال ہے۔ یعنی تم اس میں سوار ہوجائو اس حال میں کہ اللہ تعالیٰ کا نام لینے والے ہو۔ یا اس حال میں کہ اس کے چلانے اور ٹھہرانے کے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لینے والے ہو۔ اس وجہ سے کہ المجری، المرسٰی اسماء ظروف ہیں اور وقت کا معنی دیتے ہیں یا اس لئے کہ یہ دونوں مصدر میمی ہیں جیسا اجراء وارساء اور ان کا مضاف وقت کا لفظ حذف کردیا جیساکہتے ہیں : خفوق النجم اے وقت خفوق النجم۔
یہ بھی درست ہے کہ بسم اللّٰہ مجرٖھا ومرسٰہابذات خودجملہ ہو ماقبل سے متعلق نہ ہو بلکہ مبتداء خبر ہو۔ مطلب یہ ہے کہ نوح (علیہ السلام) نے ان کو سوار ہونے کا حکم دیا پھر ان کو بتلایا کہ ان کا چلنا اور رکنا اللہ تعالیٰ کا نام لینے سے ہے۔ ای بسم اللہ اجراء ھا وارساؤھا چناچہ جب کشتی چلاتے تو کہتے باسم اللہ کشتی چل پڑتی اور کھڑا کرنا چاہتے تو باسم اللہ کہتے کشتی لنگر انداز ہوجاتی۔
قراءت : مجرٖھَامیم مفتوح اور راء مکسور ہے یہ جرٰی سے ہے یا مصد رہے یا وقت محذوف ہے یہ حمزہ، علی، حفص نے پڑھا ہے۔ اِنَّ رَبِّیْ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (بیشک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے) ان کے لئے جو مخلصانہ ایمان لانے والے ہیں۔
Ayah 11:4242: وَھِیَ تَجْرِیْ بِھِمْ (وہ کشتی ان کو لیکر چل رہی تھی) یہ فعل محذوف سے متصل ہے۔ اس پر ارکبوا فیھا باسم اللّٰہ دلالت کر رہا ہے۔ گویا عبارت اس طرح ہے۔ فرکبوا فیھا یقولون بسم اللہ وھی تجری بہم ای السفینۃ وھم فیھا۔ پس وہ اس میں بسم اللہ کہتے ہوئے سوار ہوگئے وہ کشتی ان کو لیکر چل پڑی اس حال میں کہ وہ کشتی میں تھے۔
فِیْ مَوْجٍ کَالْجِبَالِ (ایسی موجوں میں جو پہاڑوں جیسی تھیں) اس سے مرادطوفان کی موجیں ہیں۔ موج جمع موجہ ہے جیسا تمرجمع تمرۃ۔ موجؔ اس پانی کو کہتے ہیں جو تیز ہوائوں کے پانی کے اندر داخل ہونے سے اضطراب کے وقت بلند ہو۔ بلندی اور تہہ تہہ مل جانے کی وجہ سے ہر موج کو پہاڑ سے تشبیہ دی ہے۔
بیٹے سے گفتگو :
وَنَادٰی نُوْحُ نِابْنَہٗ (اور نوح (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو آواز دی) کنعان بعض نے کہا یام۔ جمہور کے ہاں یہ آپ کا صلبی بیٹا تھا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ ان کی بیوی کا سابقہ خاوند سے بیٹا تھا۔ وَکَانَ فِیْ مَعْزِلٍ (وہ الگ تھلگ مقام میں تھا) اپنے والد اور کشتی سے۔ معزل یہ مفعل کا وزن ہے۔ یہ عزلہ عنہ سے جبکہ دور کردیا جائے اور ہٹا دیا جائے یا اپنے والد کے دین سے الگ تھلگ تھا۔ یّّٰبُنَیَّ (اے میرے بیٹے)
قراءت : یؔ کے فتحہ سے عاصم نے پڑھا ہے۔ یا اضافت سے الف مبدلہ پر اکتفاء کرتے ہوئے جیسے یا بنیًا دیگر قراء نے کسرہ یا سے یا، یؔ اضافت سے اس پر اکتفاء کرتے ہوئے ارْکَبْ مَّعَنَا (تو ہمارے ساتھ سوار ہوجا) کشتی میں یعنی اسلام لا اور کشتی میں بیٹھ وَلَاتَکُنْ مَّعَ الْکٰفِرِیْنَ ( اور تو کافروں کے ساتھ مت ہو)
Ayah 11:4343: قَالَ سَاٰوِیْ (کہا اس نے میں پناہ لونگا) اِلٰی جَبَلٍ یَّعْصِمُنِیْ مِنَ الْمَآئِ (پہاڑ پر جو مجھے پانی سے بچائے گا) ڈوبنے سے محفوظ کر دے گا۔ قَالَ لَاعَاصِمَ ا لْیَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللّٰہِ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ (کہا آج کوئی پناہ دینے والا نہیں اللہ تعالیٰ کے حکم سے مگر جس پر وہ رحم کرے) مگر رحم کرنے والا بچا سکتا ہے، اور وہ اللہ تعالیٰ ہے یا آج کوئی طوفان سے بچنے والا نہیں۔ مگر جس پر اللہ تعالیٰ رحم کرے اور وہ مومنین ہیں۔ اور اسکی وجہ یہ ہے کہ جب اس نے پہاڑ کو طوفان سے بچانے والا بتایاتو آپ نے اس کو فرمایا آج تمہیں کوئی بچنے کی جگہ بچا نہ سکے گی خواہ پہاڑ وغیرہ ہی کیوں نہ ہو۔ سوائے ایک بچنے کی جگہ کے اور وہ جگہ ان لوگوں کا مقام ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے نجات دی اور ان پر رحم فرمایا وہ مقام کشتی ہے یا یہ استثناء منقطع ہے۔ گویا اس طرح فرمایا۔ لکن من رحم اللّٰہ فھو المعصوم۔ لیکن وہ کہ جس پر اللہ تعالیٰ نے رحم کیا وہ بچا ہوا ہے یہ اس طرح ہے جیسے فرمایا : مالھم بہٖ من علم الا اتباع الظن۔ [ النساء : 157]
ابن نوح کی ہلاکت :
وَحَالَ بَیْنَھُمَا الْمَوْجُ (اور حائل ہوگئی ان کے درمیان موج) بیٹے اور پہاڑ کے درمیان یا نوح (علیہ السلام) اور بیٹے کے درمیان فَکَانَ مِنَ الْمُغْرَقِیْنَ (پس وہ ہوگیا ڈوبے ہوئوں میں سے) کانؔ یہاں صارؔ کے معنی میں ہے یا کانؔ اپنے معنی میں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ڈوبنے والوں میں سے تھا۔
Ayah 11:4444: وَقِیْلَ یٰٓاَرْضُ ابْلَعِیْ مَآ ئَ کِ (اور کہا گیا اے زمین تو نگل اپنے پانی کو) تو پھٹ جا اور پانی پی جا۔ البلع کا معنی چوسنا اور جذب کرنا۔ وَیٰسَمَآ ئُ اَقْلِعِیْ (اور اے آسمان تھم جا) پانی برسانا روک لے۔ وَغِیْضَ الْمَآ ئُ (اور پانی کم کردیا گیا) غیض کا معنی کم ہونا اور کرنا۔ یہ غاض بمعنی نقص سے ہے۔ یہاں متعدی آیا ہے۔ وَقُضِیَ اْلاَمْرُ (اور کام تمام کردیا گیا) اور اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کے ساتھ قوم کی ہلاکت کا جو وعدہ فرمایا تھا وہ پورا کردیا۔ وَاسْتَوَتْ (اور کشتی ٹھہری) چھ ماہ تمام زمین کا چکر کاٹنے کے بعد کشتی ٹھہر گئی۔ عَلَی الْجُوْدِیِّ (جو دی پہاڑ پر) یہ موصل کا ایک پہاڑ ہے۔ وَقِیْلَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ (اور کہا گیا کہ ظالم قوم کیلئے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری ہے) دور ہو قوم نوح جن کو ڈبویا گیا کہا جاتا ہے کہ بعد بُعْدَ وبَعْدًا جبکہ انتہائی دور کرنے کا ارادہ ہو جیسے ہلاکت و موت اسی لئے یہ لفظ بددعا کیلئے خاص ہے۔
فائدہ جلیلہ : اس آیت کو چار اطراف سے دیکھو کہ علم بیان کا کتنا شاندار مرقع ہے اس میں مجاز، استعارہ اور کنایہ اور اس کے متعلقات ہم عرض کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جب چاہا کہ اس مطلب کو بیان کیا جائے۔ ہم نے زمین سے پھوٹے ہوئے پانی کو لوٹانے کا ارادہ کیا کہ جو نکلا ہے وہ واپس تہہ زمین میں چلا جائے۔ اور آسمان سے طوفان کو منقطع کرنا چاہا وہ منقطع ہوگیا۔ اترنے والے پانی کو سو کھانا چا ہا تو وہ جذب ہو کر خشک ہوگیا۔ اور نوح (علیہ السلام) کے معاملے کا فیصلہ کردیں اور وہ قوم کے غرق والے فیصلہ کو نافذ کرنا تھا۔ وہ بھی کردیا گیا کشتی کو روکنا چاہا وہ جودی پر رک گئی ظالموں کو غرق کردیا۔
تو کلام کی بنیاد اس پر رکھی کہ مراد کو ایسے امور سے تشبیہ دی جس سے نافرمانی ہو ہی نہیں سکتی ( کیونکہ اللہ تعالیٰ ہیبت ورعب میں کامل ہے) اور تکوین مراد کو ایسے امر قطعی سے تشبیہ دی جو مقصود کے بننے میں بطور تصویر کے نافذ العمل ہے کیونکہ وہ ذات عظیم اقتدار والی ہے۔ اور آسمان زمین میں جو چاہے کرے وہ اس کی تکوین کے مطیع ہیں۔ اس کے ارادے کو کسی تغیر و تبدل سے روکنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ گویا کہ وہ عقلاء ہیں اور امتیاز کرنے والے ہیں اسکی پہچان کا جو حق ہے اسی طرح اس کو پہچانتے ہیں اور اس کے حکم کی اطاعت میں جو چیز ان پر لازم ہے اس کو بخوبی جاننے والے ہیں اور اس کے حکموں پر یقین کرنے والے ہیں۔ اور اسکی مراد کے حصول میں اپنی پوری ہمت صرف کرنے والے ہیں۔ پھر نظم کلام کی بنیاد اسی تشبیہ پر رکھی چناچہ فرمایا وقیلؔ ارادہ سے بطور مجاز استعمال کیا کیونکہ قائل کا قول اسی سے واقع ہوتا ہے۔ مجاز کیلئے قرینہ جماد کو خطاب یا ارض اور یا سماء کو بنایا۔ پھر ان کو خطاب کر کے یا ارض اور یا سماء کہہ کر اس تشبیہ سے استعارہ کردیا۔
پھر زمین میں پانی کی گہرائی کیلئے بطور استعارہ البلع کا استعمال فرمایا بلع ؔ کھائی ہوئی چیز سے پانی کا چوسنا۔ تو پانی بھی مخفی ٹھکانے میں پہنچ گیا۔ تو اس مناسبت سے بلع کو ذکر کردیا۔ پھر الماء کو استعارۃً غذا کیلئے استعمال کیا کیونکہ دونوں کے مابین قوت کی مشابہت پائی جاتی ہے زمین بھی پانی سے طاقت پاتی ہے۔ جیسا کھانے والا طعام سے قوت پاتا ہے۔ پھر فرمایا۔
مَآ ئَ پانی کی نسبت زمین کی طرف فرمائی بطور مجاز کیونکہ پانی زمین سے متصل ہوتا ہے جیسے ملک مالک سے متصل ہوتی ہے۔ پھر احتباس بارش کیلئے اقلاع کا لفظ اختیار کیا۔ اقلاع ترک فعل کو کہتے ہیں کیونکہ عدم تاخیر کی مشابہت دونوں میں پائی جاتی ہے۔ پھر فرمایا وغیض الماء وقضی الامر واستوت علی الجودی وقیل بعداً اس میں تصریح نہیں فرمائی کہ کس نے پانی کو خشک کیا اور نہ اس کا جس نے حکم کو نافذ کیا اور کشتی کو ٹھہرایا آخر میں فرمایا بُعْدًا دور کرنے والے کی تصریح نہیں کی جب کہ یا ارض، یاسماء میں قائل کی تصریح نہیں کی۔ ان میں کنایہ کا راستہ اپنا یا کہ یہ تمام امورعظیمہ کسی فاعل قادر، مکون قاہر کی تکوین سے ہی ممکن ہیں اور ان کا کرنے والا اکیلا ہے اس کے حکم میں کسی دوسرے کی شرکت نہیں ہے۔
وہم و خیال کا کوئی گوشہ یہ نہیں کہتا کہ کوئی دوسرا یہ آرڈر دے سکتا ہو یارض ابلعی ماءک و یاسماء اقلعی۔ اور نہ یہ خیال میں آسکتا ہے کہ غائض ‘ القا ضی، المسوی اس کے سواء کوئی اور ہو۔ پھر کلام کو تعریض سے ختم کیا تاکہ ان مکذبین کو خبردار کردیا جائے جو انبیاء ( علیہ السلام) کی تکذیب کرنے والے ہیں وہ اپنے آپ پر ظلم کررہے ہیں اور یہ سخت عذاب ان کے اپنے ظلم ہی کا نتیجہ تھا۔
نمبر 2۔ علم معانی کے اعتبار سے۔ ہر کلمہ کا فائدہ اور تقدیم و تاخیر جملوں پر غور کریں۔ نمبر 1۔ یا حروف نداء میں سے لایا گیا کیونکہ وہ کثیر الاستعمال ہے اور منادٰی کے بعد پر بھی دلالت کررہا ہے۔ اور یہاں اس سے اظہار عظمت اور ملکوت ابداء عزت و جبروت کا مقصد حاصل کیا گیا اور وہ منادیٰ کے دور ہونے سے ہی حاصل ہوسکتا ہے جس کے معمولی ہونے کو ظاہر کیا گیا اور یَا اَرْضِیْ نہیں کہا کیونکہ اس میں تہاون بڑھتا ہے کیونکہ اضافت قرب کو چاہتی ہے۔ یا ایتہا الارض نہیں کہا تاکہ اختصار ہو۔ اور لفظ ارض اور سماء کے استعمال کئے کیونکہ خفیف اور عام مستعمل ہیں۔ ابلعی کو اختیار کیا ابتلعی نہیں کہا تاکہ اختصار ہو۔ دوسرا اقلعی اور اس کے درمیان صفت تجانس ہے۔ اور اقلعی کہا عن المطر ساتھ نہیں کہا۔ اسی طرح یا ارض ابلعی ماءک فبلعت اور یا سماء اقلعی فاقلعت نہیں کہا بطوراختصار نتائج ذکر نہیں فرمائے۔ غیض الماء کو غیض کی بجائے لائے اور الماء کہا ماء الطوفان نہیں کہا۔ الامر کہا اور امر نوح و قومہٖ نہیں کہا۔ یہ بطور اختصار فرمایا اور الف لام عہدی نے ضرورت پوری کردی۔
اسی طرح سویت علی الجودی نہیں فرمایا جیسا کہ پہلے قیل، غیض مجہول کے صیغے تھے ہی تجری معروف کی رعایت سے استوت فرمایا گیا۔ تاکہ مطابقت ہوجائے پھر بعدًا فرمایا بعدًا للقوم یا یبعد القوم نہیں فرمایا تاکہ اختصار و تاکید دونوں مقصود حاصل ہوں۔ نمبر 3۔ جملوں کا تسلسل : یہ تو کلمات کی ترکیب کو دیکھنے سے ظاہر ہوتا ہے۔ اگر جملوں کی ترتیب پر غور کریں نمبر 1۔ امر سے نداء کو مقدم کیا یا ارض ابلعی ویاسماء اقلعی۔ اسی طرح ابلعی یا ارض، اقلعی یا سماء نہیں فرمایا۔ تاکہ جن کو اصل خطاب کیا ہے وہ مقدم ہوں تاکہ امروارد منادی کے نفس میں خوب جاگزین ہوجائے۔
نمبر 2: پھر زمین کو آسمان سے پہلے لائے۔ کیونکہ طوفان زمین سے شروع ہوا۔ پھر پیچھے و غیض الماء کو لائے۔ تاکہ قصہ ماء سے یہ متصل ہو اور اپنے مقام پر پہنچ جائے۔ نمبر 3۔ واقعہ کا مقصد آخر میں لائے۔ جو قضی الامر ہے کہ نوح (علیہ السلام) سے ہلاکت کفار کا جو وعدہ تھا وہ پورا کردیا گیا اور وہ ہلاکت کفار اور نجات نوح (علیہ السلام) اور مومنین تھی پس اس سے عبرت حاصل کرو۔
نمبر 4: فصاحت لفظیہ پر غور کرو تمام الفاظ فصیح، سہل الاستعمال تنافر سے دور، بشاعت سے دور، انتہائی لذیذ و شیریں، عمدہ چلائو پانی جیسا بہائو، شہد جیسی حلاوت، نسیم سحری جیسی رقت۔
اعجاز قرآنی : اسی لئے تو معاندین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اس جیسی آیات لانے سے طاقت بشر قاصر ہے۔ قرآن مجید کی کیا عجیب شان ہے۔ جب کوئی عالم اسکی کسی آیت میں غور کرے گا تو وہ ایسے بیشمار لطائف پائے گا۔ جن کو شمار میں نہیں لایاجاسکتا۔ جو کچھ ہم نے لکھا وہ تو اس سے بہت کم ہے جو اس آیت میں لطائف ہیں یہ بحرذ خار ہے جس کی تہہ نہیں کلام الملوک، ملوک الکلام۔
Ayah 11:45بیٹے کے متعلق سوال :
45: وَ نَادٰی نُوْحٌ رَّبَّہٗ فَقَالَ رَبِّ (نوح (علیہ السلام) نے پکارا اپنے رب کو اور کہا اے میرے رب) اس میں نوح (علیہ السلام) کی دعا و نداء کا ذکر فرمایا جو ان الفاظ سے تھی۔ رب اے میرے رب اپنے اہل کے متعلق وعدہ پورا کرنے کا تقاضا ہے کہ آپ میرے اہل کو نجات دیں گے۔ اِنَّ ابْنِیْ مِنْ اَھْلِیْ (بیشک میرا بیٹا میرے اہل میں سے ہے) یعنی اہل میں سے کیونکہ وہ آپ کا صلبی بیٹا یاربیب تھا۔ وَاِنَّ وَعْدَکَ الْحَقُّ (اور آپ کا وعدہ بلاشبہ سچا ہے) آپ جو وعدہ فرماتے ہیں وہ برحق و ثابت ہے جس کے پورا ہونے میں کوئی شبہ نہیں، اور پورا کرنے میں اور آپ نے میرے اہل کو نجات دینے کا وعدہ فرمایا پس میرے بیٹے کا کیا معاملہ ہے ؟ وَاَنْتَ اَحْکَمُ الْحٰکِمِیْنَ (حالانکہ آپ تو سب سے بڑے حاکم ہیں) آپ تمام حکام سے زیادہ علم والے اور زیادہ عدل والے ہیں۔ کیونکہ حاکم کو دوسرے حاکم پر علم و عدل ہی کی وجہ سے فضیلت حاصل ہوتی ہے۔ آج کے زمانہ میں بہت سے حکام اعلی حکام کہلانے والے جہل وظلم کا مجسمہ ہیں اور احکم الحاکمین کا یہی معنی ہے۔ پس تم کو اس حال سے عبرت حاصل کرنی چاہیے اور آنسو بہانے چاہئیں۔
Ayah 11:4646: قَالَ یٰنُوْحُ اِنَّہٗ لَیْسَ مِنْ اَھْلِکَ (فرمایا اے نوح وہ تیرے اہل میں سے نہیں ہے) پھر اہل میں نہ ہونے کی تعلیل بیان فرمائی۔ اِنَّہٗ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ (اس کے عمل درست نہیں ہیں)
فائدہ : اس میں اعلان کردیا کہ قرابت دینی قرابت نسبی کو ڈھانپنے والی ہے۔ تیرا ہم نسب وہ جو تیرے دین میں متفق ہے۔ اگرچہ وہ حبشی اور تو قریشی اور جو تیرے دین پر نہ ہو۔ اگرچہ وہ تیرا قریبی رحم کا رشتہ دار ہو۔ وہ تجھ سے بہت ہی دور ہے۔ نمبر 1۔ اس آیت میں خود اس لڑکے کا عمل غیر صالح قراردیا تاکہ مذمت میں مبالغہ ہوجائے۔ جیسا شاعر کا قول ہے۔
ع فانما ہی اقبال و ادبار
کہ زمانہ تو دور ان کا نام ہے۔
نمبر 2: تقدیرعبارت یہ ہو۔ ذو عمل۔ اس میں اشارہ کردیا کہ تیرے اہل میں سے جن کو نجات دی گئی وہ ان کی صلاح و بھلائی کی وجہ سے دی گئی اس بناء پر نہیں کہ وہ تیرے رشتہ دار ہیں۔ اور اس وجہ سے جب اس میں صلاح نہیں پائی جاتی تو ابوت اس کے لئے چنداں نفع رساں نہیں۔
قراءت : عَمِلَ غَیْرُصَالح علی نے پڑھا ہے
شیخ ابو منصور (رح) نے فرمایا، نوح (علیہ السلام) کے ہاں یہ بات تھی کہ وہ آپ کے دین پر ہے۔ کیونکہ وہ منافقت کرنے والا تھا۔ ورنہ نوح (علیہ السلام) سے سوال نجات کا احتمال بھی نہیں ہوسکتا کیونکہ سوال کی ممانعت تو پہلے کی جاچکی تھی۔
منافقت کی وجہ سے اس کو اھل میں شمار کرکے نجات کا سوال کردیا پس اس قسم کی ممانعت ولاتخاطبنی فی الذین ظلموا انہم مغرقون [ ھود : 37] کے بعد آپ کا سوال اس کے اس ظاہر کے لحاظ سے تھا۔ جو آپ کو اس کے متعلق معلوم تھا۔ جیسا کہ بہت سے منافقین نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ظاہری موافقت کا اظہار کرتے رہے اور باطنی طور پر مخالفت کرتے رہے۔ اور آپ کو ان کے متعلق معلوم نہ ہوا یہاں تک اللہ تعالیٰ نے آپ کو مطلع کردیا۔ اور ارشاد الٰہی لیس من اہلک کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں میں سے نہیں ہے جنکے متعلق نجات کا وعدہ کیا تھا اور وہ وہی لوگ ہیں جو ظاہروباطن میں مومن ہیں۔
فَلاَ تَسْئَلْنِ (پس تو مجھ سے سوال نہ کر) قراءت : کوفی نے فلاتَسْئَلْنِ یا کی بجائے کسرہ، بصری نے تسألْنِیْ پڑھا جبکہ مدنی نے تسألَنِیَپڑھا۔ اور شامی نے تَسَاْئَ لَنَّ حذف یاء ونون تاکید کے ساتھ پڑھا مکی نے تَسْأَ لَنَّ پڑھا ہے۔ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ (اس بات کا جس کا تجھے علم نہیں) اس کے متعلق سوال کے جواز کا۔ اِنّیِْ اَعِظُکَ اَنْ تَکُوْنَ مِنَ الْجٰھِلِیْنَ (بیشک میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ نادانوں میں سے مت ہوجائو) یہ اسی طرح ہے جیسا کہ ہمارے رسول ﷺ کو اس قول میں فرمایا فلا تکونن من الجاہلین [ الانعام : 35]
Ayah 11:47استغفارِ نوح۔ :
47: قَالَ رَبِّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ اَنْ اَسْئَلَکَ مَالَیْسَ لِیْ بِہٖ عِلْمٌ (کہا اے میرے رب بیشک میں وہ چیز جس کا مجھے علم نہ ہو اس کے متعلق سوال کرنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں) یعنی کہ مستقبل میں میں وہ چیز طلب کروں جس کے صحیح ہونے کا مجھے علم نہیں تیرے ادب کا پاس کرتے ہوئے اور تیری نصیحت کو قبول کرتے ہوئے وَاِلَّا تَغْفِرْ لِیْ (اور اگر تو نے مجھے نہ بخشا) جو سبقت مجھ سے ہوگئی وَتَرْحَمْنِیْ (اور مجھ پر رحم نہ فرمایا) اس جیسی بات کی طرف لوٹنے سے بچا کر اَکُنْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ (تو میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجاؤں گا)
Ayah 11:4848: قِیْلَ یٰنُوْحُ اھْبِطْ بِسَلٰمٍ مِّنَّا (اے نوح کشتی سے اترو ہماری طرف سے سلامتی لیکر) ہمارے تحفوں اور سلاموں کے ساتھ غرق سے سلامت رہنے کے سبب وَبَرَکٰتٍ عَلَیْکَ (اور برکات لیکر جو تم پر اتریں گی) برکات ان بھلائیوں کو کہا جاتا ہے جو بڑھنے و الی ہوں ان کے حق میں وہ کثرت اولاد اور کثرت متبعین۔ اللہ تعالیٰ نے اکثر انبیاء (علیہم السلام) کو ان کی نسل سے پیدا فرمایا اور دین کی تکمیل ان کی باقی نسل میں فرمائی۔ وَعَلٰٓی اُمَمٍ مِّمَّنْ مَّعَکَ ( اور ان امتوں پر جو تمہارے ساتھ ہیں) من بیانیہ ہے امم سے وہ مراد ہیں جو ان کے ساتھ کشتی میں تھیں کیونکہ وہ جماعتیں تھیں۔ نمبر 2۔ ان کو امم اس لئے کہا گیا کیونکہ ساری امتیں ان سے پھوٹیں۔ نمبر 3۔ من ابتداء غایت کیلئے ہے یعنی ان امتوں پر جو ان لوگوں سے پیدا ہو نگی جو تیرے ساتھ ہیں یہ آخری زمانہ تک امتیں ہیں اور یہ سب سے بہتر قول ہے۔ وَاُمَمٌ یہ مبتداء کی وجہ سے مرفوع ہے۔ سَنُمَتِّعُھُمْ (اور کچھ جماعتوں کو ہم دنیا میں فائدہ دیں گے) دنیا میں وسعت رزق اور زندگی کی سہولیات۔
نحو : یہ صفت ہے خبرمحذوف ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے وممن معک امم سنمتعھم حذف اسلئے کیا کیونکہ ممن معک اس پر دلالت کرتا ہے۔ ثُمَّ یَمَسُّھُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ (پھر ان کو ہماری طرف سے دردناک عذاب پہنچے گا) یعنی آخرت میں مطلب یہ ہے کہ سلام ہماری طرف اور برکات تجھ پر اور ان مومنوں پر جو ان کی نسل سے ہونگے جو تمہارے ساتھ ہیں ان کی نسل میں کچھ جماعتیں دنیا میں نفع اٹھائیں گی پھر آگ کی طرف منتقل کردی جائیں گی۔
حضرت نوح (علیہ السلام) ابو الانبیاء ہیں اور طوفان کے بعد والی ساری مخلوق ان کی نسل سے ہے۔ اور ان کی نسل سے ہے جو ان کے ساتھ کشتی میں تھے۔ محمد بن کعب کہتے ہیں۔ اس سلام میں قیامت تک آنے والا ہر مومن و مومنہ داخل ہے اور جو اس کے بعد تمتع دنیا اور عذاب آخرت ہے اس میں قیامت تک آنے والے کافر شامل و داخل ہیں۔
Ayah 11:49قصہ نوح ( علیہ السلام) من جملہ اخبار غیب سے ہے :
49: تِلْکَ (یہ) مقصد نوح (علیہ السلام) کی طرف اشارہ ہے۔ یہ ابتداء کی وجہ سے مرفوع ہے اور وہ جملے جو اس کے بعد ہیں۔ مِنْ اَنْچبَآئِ الْغَیْبِ نُوْحِیْھَآ اِلَیْکَ مَاکُنْتَ تَعْلَمُھَآ اَنْتَ وَلَاقَوْمُکَ (غیب کی خبریں ہیں جو ہم وحی کر رہے ہیں آپ کی طرف۔ نہ آپ ان کو جانتے تھے اور نہ ہی آپ کی قوم) خبریں یعنی یہ قصہ غیب کے خبروں میں سے کچھ ہے جو آپ کی طرف وحی کیا گیا۔ تمہیں معلوم نہ تھا اور نہ ہی تیری قوم کو۔ مِنْ قَبْلِ ھٰذَا (اس سے پہلے) اس وقت سے پہلے یا میرے وحی بھیجنے سے پہلے اور اسکی اطلاع دینے سے پہلے فَاصْبِرْ (پس تم صبر کرو) تبلیغ رسالت کے سلسلہ میں ان ایذائوں پر جو آپ کو آپ کی قوم کی طرف سے آتی ہیں۔ جیسا کہ نوح (علیہ السلام) نے صبر کیا۔ اور مکذبین کے متعلق اسی طرح کے انجام کی توقع رکھو جو قوم نوح کے ساتھ پیش آیا۔ اور اپنے متعلق اسی طرح کے نتیجہ کی جو نوح (علیہ السلام) کے سامنے آیا۔ اِنَّ الْعَاقِبَۃَ (بیشک انجام) کامیابی ونصرت و غلبہ میں۔ لِلْمُتَّقِیْنَ (متقین کیلئے ہے) جو شرک سے بچنے والے ہیں۔
Ayah 11:50قوم عاد اور ہود۔ :
50: وَاِلٰی عَادٍ اَخَاھُمْ ھُوْدًا ( اور قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود (علیہ السلام) کو بھیجا) اخاھم سے مراد ان کی قوم میں سے ایک۔
نحو : اخاھم کا نصب ارسلنا نوحًا پر عطف کی وجہ سے ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے وارسلنا الی عاد اخاھم ھودًا یہ عطف بیان ہے اخاھم کا قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰہَ (کہا اے میری قوم تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو) اس کو اکیلامانو۔ مَالَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ (تمہارے لئے اس کے سواء کوئی معبود نہیں)
قراءت : نافع نے مرفوع پڑھا جارومجرور کے محل پر عطف قراردیکر۔ مگر علی نے لفظ کے لحاظ سے مکسور غَیْرِہٖ پڑھا۔ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُفْتَرُوْنَ (تم تو افتراء کرنے والے ہو) تم اللہ تعالیٰ پر افتراء کرتے ہو اس طرح کہ تم نے اوثان کو اس کا شریک بنا لیا۔
Ayah 11:5151: یٰـقَوْمِ لَآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْرًاج اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَی الَّذِیْ فَطَرَنِیْ (اے میری قوم میں اس پر تم سے اجر نہیں مانگتا میری مزدوری تو اس اللہ پر ہے جس نے مجھے پیدا کیا) جتنے بھی انبیاء (علیہم السلام) گزرے تمام کو ان کی قوموں نے اسی قسم کی بات کہی۔ کیونکہ وہ نصیحت کرنے آئے تھے۔ نصیحت مخلصانہ وہی کرسکتا ہے جو مطامع کو مٹانیوالا ہو۔ اور جب تک ان میں سے کسی چیز کی طمع رکھتا ہے کامیابی نہیں ہوتی۔ اور نہ فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ اَفَـلَاتَعْقِلُوْنَ (کیا تم سمجھتے نہیں ہو) جبکہ تم اس شخص کی نصیحت مسترد کر رہے ہو جو اس پر تم سے کسی بدلے کا طالب نہیں وہ تو صرف خدائے ذوالجلال سے بدلہ چاہنے والا ہے۔ اور وہ بدلہ ثواب آخرت ہی ہے۔ اور تہمت کو دور کرنے کیلئے اس سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہے۔
Ayah 11:52برکاتِ استغفار :
52: وَیٰقَوْمِ اسْتَغْفِرُ وْا رَبَّکُمْ (اے میری قوم تم اللہ تعالیٰ سے معافی مانگو) اس پر ایمان لائو۔ ثُمَّ تُوْبُوْا اِلَیْہِ (پھراسکی
بارگاہ میں توبہ کرو) غیر اللہ کی عبادت سییُرْسِلِ السَّمَآئَ (وہ آسمان کو مقرر کر دے گا) بارش کیلئے عَلَیْکُمْ مِّدْرَارًا ( تم پر مسلسل) یہ مدرارا حال ہے اس حال میں کہ وہ کثرت سے کوٹنے والی ہو۔ وَیَزِدْکُمْ قُوَّۃً اِلٰی قُوَّتِکُمْ (وہ تمہاری قوت میں مزید ترقی دے گا) انہوں نے کثرت امطار سے ان کو ایمان کی طرف مائل کرنا چاہا۔ اور اس طرح اضافی قوت سے بھی کیونکہ ان لوگوں کو اپنے کھیتوں اور باغات کیلئے پانی کی سخت ضرورت تھی۔ ان کو اپنی قوت و زور پر ناز تھا۔
نمبر 2۔ دوسرا قول یہ ہے کہ قوت سے مال مراد ہے۔ یا نکاح کی قوت نمبر 3۔ ان سے بارش تین سال سے رکی ہوئی تھی اور عورتیں بانجھ پن کا شکار ہوچکی تھیں پس ہود (علیہ السلام) نے ان سے بارش اور اولاد کا وعدہ استغفار کی شرط پر فرمایا۔
حضرت حسن بن علی ؓ سے روایت ہے کہ وہ معاویہ ؓ کے ہاں گئے جب وہ وہاں سے نکلے تو ان کو بعض حاجیوں نے کہا کہ میں مالدار ہوں مگر اولاد نہیں، مجھے کوئی چیز بتلادیں شاید اللہ تعالیٰ مجھے بیٹا دے دیں۔ اس پر حضرت حسن ؓ نے فرمایا استغفار کو لازم پکڑو۔ چناچہ وہ کثرت سے استغفار کرنے لگا۔ یہاں تک کہ ایک دن میں سات سات سو مرتبہ وہ استغفار کر ڈالتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو دس بیٹے عنایت فرمائے۔ حضرت معاویہ ؓ کو یہ بات پہنچی تو انہوں نے کہا تو نے ان سے دریافت کیوں نہ کرلیا۔ جنہوں نے یہ بتلایا ؟ حضرت حسن ؓ دوسری مرتبہ تشریف لائے تو اس آدمی نے سوال کیا۔ اس پر آپ نے فرمایا کیا تم نے ہود (علیہ السلام) کا قول نہیں سنا ویزدکم قوۃ الی قوتکم اور نوح (علیہ السلام) کا قول و یمددکم باموال و بنین [ نوح : 12[ وَلَاتَتَوَلَّوْا ( اور تم منہ نہ موڑو) اعراض نہ کرو اس سے جس کی طرف میں بلاتا ہوں مُجْرِمِیْن (مجرم بنکر) اپنے جرائم اور گناہوں پر اصرار کرنیوالے نہ بنو۔
Ayah 11:5353: قَالُوْا یٰھُوْدُمَا جِئْتَنَا بِبَیِّنَۃٍ (انہوں نے کہا اے ہود تو ہمارے لئے کوئی دلیل لیکر نہیں آیا) یہ کذب و جحود کی وجہ سے انہوں نے کہا جیسا کہ قریش مکہ نے رسول اللہ ﷺ کو کہا اور لولا انزل علیہ اٰیۃ من ربہ [ الرعد : 7[ ان آیات کو فوت کرنے کی وجہ سے (جو ہم مطالبہ کرتے ہیں) وَّمَانَحْنُ بِتَارِکِیْ اٰلِھَتِنَا عَنْ قَوْلِکَ (ہم تیری بات سے اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے نہیں ہیں) یہ تار کی اٰلھتنا کی ضمیر سے حال ہے۔ گویا تقدیر عبارت یہ ہے وما نترک اٰلہتنا صادرین عن قولک۔ ہم اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے نہیں اس حال میں کہ تیری بات سے واپس لوٹنے والے ہیں۔ وَمَا نَحْنُ لَکَ بِمُؤْمِنِیْنَ (اور نہ ہی ہم تجھ پر ایمان لانے والے ہیں) ہمارے لئے یہ درست نہیں کہ تیرے جیسے آدمی کی تصدیق کریں اس بات میں جس کی طرف وہ دعوت دیتا ہے۔ اس سے مقصود آپ کو ایمان سے ناامید کرنا ہے۔
Ayah 11:5454: اِنْ نَّقُوْلُ اِلَّا اعْتَرٰکَ بَعْضُ اٰلِھَتِنَابِسُوْ ئٍ (ہم تو یہی کہتے ہیں کہ تمہیں ہمارے بعض معبودوں کی مار پڑی ہے) اِنْؔ حرف نفی ہے ایک بات کے سواء ہر بات کی نفی کی اور وہ اعتراک پہنچ جانا بعض الہتنا بسوء سوء ؔ سے جنون و بدحواسی مراد ہے تقدیر عبارت یہ ہے۔ مانقول قولا الا ھٰذہ المقالۃ۔ ہم تو صرف یہ بات کہتے ہیں کہ ہمارے معبودوں نے تمہیں برائی سے چھو لیا ہے۔ قَالَ اِنِّیْ اُشْھِدُ اللّٰہَ وَاشْھَدُوْا اَنِّیْ بَرِیْ ئٌ مِّمَّا تُشْرِکُوْنَ (کہا بیشک میں اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا تا ہوں اور تم بھی گواہ ہوجائو کہ میں ان سے بیزار ہوں جن کو تم شریک ٹھہراتے ہو)
Ayah 11:5555: مِنْ دُوْنِہٖ (اس کے سواء) تمہارے اس کے ساتھ اٰلہہ کو شریک ٹھہرانے سے۔ مطلب یہ ہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں تمہارے معبودوں سے جن کو تم شریک ٹھہراتے ہو بری ہوں اور تم گواہ ہوجائو کہ میں اس سے بری ہوں اور شہادت کو لفظ امر سے ذکر کیا جس طرح وہ آدمی کہتا ہے جنکے درمیان ناراضگی ہوجائے۔ مجھے تم سے محبت نہیں اسکی تذلیل اور شرمندہ کرنے کیلئے۔
قوم کو چیلنج :
فَکِیْدُوْنِیْ جَمِیْعًا (پس تم تمام میرے خلاف تدبیر کرلو) تم اور تمہارے معبود ثُمَّ لَاتُنْظِرُوْنِ (پھر تم مجھے مہلت بھی نہ دو ) نہ مہلت دو ۔ مجھے تمہاری اور تمہاری تدبیر کی کوئی پرواہ نہیں اور نہ ہی تمہارے چڑھ دوڑنے کا خطرہ ہے خواہ تم میرے خلاف ایک دوسرے سے تعاون کرو۔ تمہارے معبود مجھے کیسے نقصان دے سکتے ہیں۔ جبکہ وہ جماد ہیں نہ نقصان دے سکتے ہیں نہ نفع اور کس طرح وہ مجھ سے انتقام لے سکتے ہیں جبکہ میں ان کے متعلق یہ باتیں مخالفت میں کہہ رہا ہوں اور ان کی عبادت سے ہٹا اور رکا ہوا ہوں کہ وہ مجھے انتقامًا پاگل کردیں۔ یا عقل دور کردیں۔
Ayah 11:5656: اِنّیْ تَوَکَّلْتُ عَلَی اللّٰہِ رَبِّیْ وَرَبِّکُمْ مَامِنْ دَآبَّۃٍ اِلَّا ھُوَ اٰخِذٌم بِنَاصِیَتِھَا (بیشک میں نے اللہ تعالیٰ پر توکل کیا جو میرا اور تمہارا رب ہے کوئی جاندارایسا نہیں مگر وہ اسکی پیشانی کے بالوں سے پکڑنے والا ہے) اس کا مالک ہے جب ہود (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ پر اپنے توکل اور اسکی حفاظت پر یقین اور ان کے مکر سے حفاظت کا ذکر کیا تو اللہ تعالیٰ کی ایسی صفات کا ذکرلائے جو اسکی ذات پر توکل کو لازم کرتا ہے جیسے اسکی ربوبیت جو اس پر اور ان کو شامل ہے اور ہر جاندار پر اسکاقبضہ اور ملک اور اسکی قوت قاہرہ اور سلطانی کے سامنے ہر ایک کی مغلوبیت الاٰخذبالناصیۃ یہ درحقیقت ایک تمثیل ہے۔ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (بیشک میرا رب سیدھی راہ پر ہے) میرا رب حق پر ہے اس سے عدول نہیں کرتا۔ یا میرا رب صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔
Ayah 11:5757: فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقَدْ اَبْلَغْتُکُمْ مَّآ اُرْسِلْتُ بِہٖٓ اِلَیْکُمْ (اگر تم منہ پھیرو تو وہ پیغام پہنچا چکا جو میں تمہاری طرف دیکر بھیجا گیا ہوں) وہ اس حیثیت میں ہے کہ جس سے تم پر حجت قائم ہوگئی وَیَسْتَخْلِفُ رَبِّیْ قَوْمًا غَیْرَکُمْ ( اور میرا رب تمہارے علاوہ دوسری قوم کو تمہارا نائب بنائے گا) یہ جملہ مستانفہ ہے یعنی وہ اللہ تعالیٰ تمہیں ہلاک کر دے گا اور دوسری قوم کو لے آئے گا جو تمہارے شہروں میں تمہاری جگہ ہونگے اور تمہارے اموال میں بھی۔ وَلَاتَضُرُّوْنَہٗ (تم اس کو نقصان نہ پہنچا سکو گے) تمہارے اعراض کردینے کی وجہ سے شَیْئًا (ذ رّہ بھر) بالکل ذرا سانقصان اس لئے کہ مضار اس کو پہنچایا جاہی نہیں سکتا۔ بلکہ تم اپنے آپ کو نقصان پہنچائو گے۔
اِنَّ رَبِّیْ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ حَفِیْظٌ (بیشک میرا رب ہر چیز پر نگہبان ہے) رقیب و نگہبان ہے۔ تمہارے اعمال اس سے مخفی نہیں رہ سکتے اور وہ تمہارے مؤاخذہ سے بیخبر نہیں۔ یا جو ذات تمام چیزوں پر نگران ہو وہ ان کا محافظ ہوتا ہے اور تمام چیزیں نقصان سے بچنے کیلئے اسکی حفاظت کی محتاج ہوتی ہیں تم جیسے ایسی ذات کو نقصان نہیں پہنچا سکتے۔
Ayah 11:58عذاب کی آمد اور ایمان والوں کی نجات :
58: وَلَمَّا جَآئَ اَمْرُ نَا نَجَّیْنَا ھُوْدًا وَّالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ (جب ہمارا عذاب والا حکم آگیا تو ہم نے ہود (علیہ السلام) اور وہ لوگ جو ان پر ایمان لائے تھے نجات دی) ان کی تعداد چار ہزار تھی۔ بِرَحْمَۃٍ مِّنَّا (اپنی مہربانی سے) نہ کہ ان کے علم کے سبب یا نمبر 2۔ ایمان کے ذریعہ ہم نے ان پر انعام کیا وَنَجَّیْنٰھُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِیْظٍ (ہم نے ان کو سخت عذاب سے نجات دی) نجیناکو دوبارہ تاکید کیلئے لائے۔ نمبر 2۔ آخرت کے عذاب سے اور آخرت کے عذاب سے زیادہ کوئی عذاب سخت نہیں۔
Ayah 11:5959: وَتِلْکَ عَادٌ (یہ قوم عاد) ان کی قبورو آثار کی طرف اشارہ فرمایا گویا کہنے والا کہہ رہا ہے تم زمین میں چلو اور ان کی طرف عبرت کی نگاہ سے دیکھو۔ پھر ان کے حالات کے بیان کو دھرایا اور فرمایا جَحَدُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّھِمْ وَعَصَوْا رُسُلَہٗ (انہوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا اور اس کے رسولوں کی نافرمانی کی) کیونکہ جب انہوں نے اپنی طرف مبعوث رسول کی نافرمانی کی تو گویا تمام رسل اللہ کی نافرمانی کردی۔ ارشاد الٰہی ہے لانفرق بین احد من رسلہ [ البقرہ : 285[ وَاتَّبَعُوْا اَمْرَ کُلِّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ (ہر ظالم ہر سرکش کے حکم کی اتباع کی) مراد اس سے رئو ساء اور تکذیب رسل کی طرف بلانے والے داعی ہیں کیونکہ یہی لوگ تو لوگوں کو مختلف کاموں پر ظلم سے مجبور کرتے اور اپنے رب سے عناد رکھتے ہیں۔ اتباعؔ امر سے ان کی اطاعت مراد ہے۔
Ayah 11:6060: وَاُتْبِعُوْا فِیْ ھٰذِہِ الدُّنْیَا لَعْنَۃً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ( اور ان کے پیچھے اس دنیا کی زندگی میں لعنت اور قیامت کے دن لعنت لگادی گئی) جب وہ رسولوں کے علاوہ دوسروں کی اطاعت کرنے والے تھے تو لعنت کو دونوں جہانوں میں ان کا تابع بنادیا۔ اَلَا اِنَّ عَادًا کَفَرُوْا رَبَّھُمْ اَ لَا بُعْدًا لِّعَادٍ (خبردار عاد نے اپنے رب کا انکار کیا خبردار دوری ہو قوم عاد کیلئے) اَلَا کو دو مرتبہ لائے تاکہ ان کے معاملے کی خوفنا کی ظاہر ہو نیز ان کے کفر کا اعلان اور ان کے متعلق بددعا۔ ان سے عبرت حاصل کرنے پر آمادہ کیا گیا اور ان کی حالت سے بچنے پر آمادہ کیا گیا۔ ہلاکت کے بعد ان کی دوری کی بددعا کی گئی حالانکہ یہ تو دعائے ہلاکت ہے۔ اس پر دلالت یہ ہے کہ وہ اس کے مستحق واہل تھے۔
قَوْمِ ہُوْدٍ (ہود کی قوم) یہ عاد کا عطف بیان ہے۔ اس میں ایک اور فائدہ پیش نظر ہے کیونکہ قوم عاد دو ہیں۔ عاد اولی۔ قدیم عاد یہ حضرت ہود (علیہ السلام) کی قوم ہے۔ اور یہ انہی کا واقعہ ہے۔ نمبر 2 عادارم اس کو عاد ثانیہ کہتے ہیں۔ آئندہ آیات انہی کے واقعہ سے متعلق ہیں) ۔
Ayah 11:61قوم ثمود اور صالح۔ :
61: وَاِلٰی ثَمُوْدَ اَخَاھُمْ صٰلِحًا قَالَ یٰـقَوْمِ اعْبُدُ وا اللّٰہَ مَالَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ ھُوَاَنْشَاَکُمْ مِّنَ الْاَرْضِ (اور ثمو د کی طرف ان کے بھائی صالح (علیہ السلام) کو بھیجا انہوں نے کہا اے میری قوم تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو تمہارے لئے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اس نے تمہیں زمین سے پیدا کیا) نہیں پیدا کیا اس زمین سے مگر اسی نے اَنْشَاَ سے مراد آدم (علیہ السلام) کی مٹی سے تخلیق کی طرف اشارہ ہے۔ پھر آدم (علیہ السلام) کی نسل سے ان کو پیدا کیا۔ وَاسْتَعْمَرَ کُْمْ فِیْھَا (اور تمہیں زمین میں آباد کیا) یعنی زمین کو آباد کرنے والا بنایا۔ اور تمہارے ذریعہ اس کو آباد کروایا۔ یا نمبر 2۔ استعمر یہ عمر سے لیا گیا تمہیں طویل عمریں عنایت کیں۔ ان کی عمرتین سو سے ایک ہزار سال تک ہوتی تھی وہ فارس کے بادشاہ تھے انہوں نے بہت نہریں نکالیں درخت بوئے اور طویل عمریں گزاریں مگر اس کے ساتھ ساتھ ان میں ظلم پایا جاتا تھا۔ ان کے زمانہ کے ایک پیغمبر (علیہ السلام) نے ان کی تعمیر کی وجہ دریافت کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ انہوں نے میرے ملکوں کو آباد کیا پس میرے بندے اسمیں زندگی گزار رہے ہیں۔ فَاسْتَغْفِرُوْہُ (پس اسی ہی سے معافی طلب کرو) ایمان لا کر اسکی بخشش طلب کرو ثُمَّ تُوْبُوْا اِلَیْہِ اِنَّ رَبِّیْ قَرِیْبٌ ( پھر اسکی طرف رجوع کرو بیشک میرا رب قریب ہے) قریب رحمت والا ہے۔ مُّجِیْبٌ (جواب دینے والا ہے) جو اس کو پکارے۔
Ayah 11:6262: قَالُوْا یٰصٰلِحُ قَدْکُنْتَ فِیْنَا (کہنے لگے اے صالح تو ہم میں ہونہار معلوم ہوتا تھا) ہمارے درمیان مَرْجُوًّا قَبْلَ ھٰذَآ (تم پر امیدیں تھیں) نمبر 1۔ سرداری اور معاملات میں مشورہ کی یا نمبر 2۔ ہم امید کرتے تھے کہ تو ہمارے دین میں داخل ہوجائے گا اور اس میں ہماری موافقت کرے گا۔
اَتَنْھٰنَآ اَنْ نَّعْبُدَ مَایَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا (کیا تم منع کرتے ہو ان معبودوں کی پوجا سے جنکی پوجا ہمارے آبائو اجداد کرتے تھے) یہ ماضی کی حکایت حال ہے۔ وَاِنَّنَا لَفِیْ شَکٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَآ اِلَیْہِ (اور ہمیں قطعی طور پر شک ہے اسمیں جس کی طرف تم ہمیں دعوت دیتے ہو) یعنی توحیدباری تعالیٰ مُرِیْبٍ (تردد میں ڈالنے والا) اشتباہ میں ڈالنے والا یہ ارابہ سے لیا گیا جس کا معنی شک میں مبتلا کرنا ہے۔ ریب اضطراب نفس کو کہتے ہیں جس میں طمانیت اٹھ جائے۔
Ayah 11:6363: قَالَ یٰقَوْمِ اَرَ ئَ یْتُمْ اِنْ کُنْتُ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنْ رََّبِّیْ وَاٰتٰنِیْ مِنْہُ رَحْمَۃً (آپ نے فرمایا اے میری قوم اگر میں اپنے رب کی طرف سے دلائل پر ہوں اور اس نے مجھے اپنی خاص رحمت سے نوازا ہے) رحمت سے یہاں نبوت مراد ہے۔ اِن جو شک کا لفظ ہے اس سے ذکر کیا حالانکہ یقینی طور پر وہ دلیل پر تھے۔
فائدہ : آپ شدید منکرین کو خطاب فرماتے ہیں گویا اس طرح فرمایا فرض کرو کہ میں اپنے رب کی طرف سے دلیل پر ہوں اور واقعتا میں نبی برحق ہوں تو غور کرو اگر اس صورت میں میں تمہاری اتباع کروں اور اپنے رب کے حکموں کی نافرمانی کروں تو فَمَنْ یَّنْصُرُ نِیْ مِنَ اللّٰہِ (تو کون میری مدد کرے گا اللہ تعالیٰ کے عذاب سے) پھر مجھے کون بچائے گا اِنْ عَصَیْتُہٗ (اگر میں اسکی نافرمانی کروں) تبلیغ رسالت کے سلسلہ میں اور بتوں کی عبادت سے تمہیں منع کرنے میں) فَمَا تَزِیْدُ وْنَنِیْ (پس تم نہیں بڑھائو گے) اپنی اس بات سے کہ اتنھانا ان نعبدما یعبد اٰبآؤنا۔ غَیْرَ تَخْسِیْرٍ (سوائے نقصان کے اور کوئی چیز) کہ میری نسبت خسارے کی طرف کر رہے ہو، یا میں تمہاری نسبت خسارے کی طرف کروں۔
Ayah 11:64اونٹنی کا معجزہ :
64: وَیٰـقَوْمِ ھٰذِہٖ نَاقَۃُ اللّٰہِ لَکُمْ اٰیَۃً (اے میری قوم یہ اللہ تعالیٰ کی اونٹنی ہے جو تمہارے لئے ایک معجزہ ہے)
نحو : ٰایَۃً یہ حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے اسمیں معنی فعل عامل ہے اسم اشارہ اس پر دلالت کررہا ہے۔ لکم یہ آیۃً حال مقدم کے متعلق ہے اگر اسکومؤخر کردیتے تو صفت بن جاتا جب مقدم کیا تو حال کی وجہ سے منصوب ہوگیا۔ فَذَرُوْھَا تَاْکُلْ فِیْ اَرْضِ اللّٰہِ (اس کو چھوڑدو (گھومتی پھرتی) اللہ تعالیٰ کی زمین میں چرتی پھرے) تمہارے ذمہ اس کے لئے چارہ نہیں۔ اس کے باوجود کہ تمہارا اس میں فائدہ ہے۔ وَلَاتَمَسُّوْھَا بِسُوْئٍ (اسکوبرائی سے ہاتھ مت لگائو) ذبح کرنا یا کونچیں کاٹنا فَیَاْ خُذَ کُمْ عَذَابٌ قَرِیْبٌ (تمہیں قریبی عذاب آئے گا) قریب کا معنی جلد ملنے والا۔
Ayah 11:6565: فَعَقَرُوْھَا (پس انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں) بدھ کے دن فَقَالَ (پس صالح (علیہ السلام) نے کہا) تَمَتَّعُوْا (زندگی سے نفع اٹھائو) فِیْ دَارِکُمْ (اپنے گھروں میں) شہروں میں بلاد کو دیار فرمایا کیونکہ اسی میں گھوما آیا جایا جاتا ہے یعنی اپنی مرضی سے تصرف کیا جاتا ہے۔ یا دنیا کے گھروں میں ثَلٰثَۃَ اَیَّا مٍ (تین دن) پھر تمہیں ہلاک کردیا جائے گا پس وہ ہفتے والے دن ہلاک ہوئے۔ ذٰلِکَ وَعْدٌ غَیْرُ مَکْذُوْبٍ (یہ ایسا وعدہ ہے جسمیں جھوٹ نہیں) اسمیں جھوٹ نہیں حرف کو حذف کر کے ظرف میں وسعت پیدا کردی اور مفعول بہٖ کے قائم مقام لائے یا وعدہ جھوٹ بولنا نہیں اس طرح کہ مکذوب مصد رہے جیسا معقول۔
Ayah 11:6666: فَلَمَّا جَآئَ اَمْرُنَا (جب ہمارا حکم آیا) عذاب والا یا ہمارا عذاب آیا نَجَّیْنَا صٰلِحًا وَّالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ بِرَحْمَۃٍ مِّنَّا (ہم نے بچایا صالح (علیہ السلام) اور ان لوگوں کو جو ان پر ایمان لائے اپنی مہربانی سے) شیخ (رح) نے فرمایا یہ آیت دلالت کر رہی ہے کہ جن کو نجات ملی وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ملی نہ کہ اپنے عمل سے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لا یدخل احد الجنۃ الا برحمۃ اللّٰہ۔ کوئی آدمی جنت میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بغیر داخل نہ ہوگا۔ وَمِنْ خِزْیِ یَوْمِئِذٍ (اور اس دن کی رسوائی سے) اس رسوائی کی نسبت یوم کی طرف کی اور یوم اضافت سے مجرور ہے)
قراءت : مدنی و علی نے یوم کو فتحہ سے پڑھا ہے۔ کیونکہ یہ اذ کی طرف مضاف ہے اور وہ مبنی ہے ظرف زمان کی اضافت جب اسمائے مبہمہ کی طرف اور افعال ماضیہ کی طرف کردی جائے تو مبنی بن جاتے ہیں اور مضاف الیہ سے بناء حاصل کرلیتے ہیں۔ جیسا نابغہ کا شعر، علی حین عاتبت المشیب علی الصبا وائو عاطفہ ہے اور تقدیر عبارت یہ ہے ونجیناہ من خزی یومئذ یعنی ذلت و رسوائی سے بچالیا اور اس سے بڑی رسوائی اور کیا ہوگی کہ غضب الٰہی کا شکار بن جائے اور انتقام خداوندی کا نشانہ بنے۔ یَوْمِئِذٍ سے قیامت کا دن بھی مراد ہوسکتا ہے جیسا کہ عذاب غلیظ کی تفسیر عذاب آخرت سے کی گئی اِنَّ رَبَّکَ ھُوَ الْقَوِیُّ (بیشک آپ کا رب ہی طاقت ور ہے) اپنے اولیاء کو نجات دینے کی قدرت رکھتا ہے۔ الْعَزِیْزُ (زبردست ہے) اپنے دشمنوں کو ہلاک کرنے میں غلبہ پانے والا ہے۔
Ayah 11:67قوم ثمود کی چیخ سے ہلاکت :
67: وَاَخَذَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَۃُ (اور ظالموں کو چیخ نے آلیا) جبرئیل (علیہ السلام) کی چیخ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِھِمْ (وہ صبح کے وقت اپنے گھروں میں) اپنے منازل میں ہی جٰثِمِیْنَ (اوندھے منہ) مردہ ہوگئے مرے کے مرے رہ گئے۔
Ayah 11:6868: کَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْھَا (گویا گھروں میں رہتے ہی نہ تھے) ان میں اقامت ہی اختیار نہ کی۔ اَلَا اِنَّ ثَمُوْدَا ۔ کَفَرُوْا رَبَّھُمْ (خبردار ! قوم ثمودنے اپنے رب کی نافرمانی اختیار کی)
قراءت : حمزہ حفص نے ثمود بغیر الف پڑھا ہے۔ اَلَا بُعْدًا لِّثَمُوْدَ (خوب سن لو قوم ثمود کیلئے دوری ہے) ۔
قراءت : علی نے لثمود ِپڑھا ہے۔ ثمود کو منصرف قبیلہ کی طرف نسبت کرنے یا بڑے جد کی طرف نسبت سے پڑھا گیا ہے اور غیر منصرف خاندان کی نسبت ماننے کی وجہ سے ہے۔
Ayah 11:69ابراہیم ( علیہ السلام) اور بشارت والے فرشتے :
69: وَلَقَدْ جَآئَ تْ رُسُلُنَآ (تحقیق ہمارے قاصد آئے) جبرئیل، میکائیل، اسرافیل (علیہ السلام) یا نمبر 2۔ جبرئیل گیا رہ فرشتوں کے ساتھ (علیہم السلام) اِبْرٰھِیْمَ بِالْبُشْرٰی ( ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس خوشخبری لیکر) لڑکے کی بشارت یا قوم لوط کی ہلاکت کی بشارت مگر اول قول راجح ہے۔ قَالُوْا سَلٰمًا (فرشتوں نے کہا ہم آپ کو سلام کرتے ہیں) ہم آپ کو سلام کرتے ہیں، سلام کرنا۔ قَالَ سَلٰمٌ (آپ نے کہا تم پر سلام ہو) تمہارا کام سلامتی ہے۔
قراءت : حمزہ و علی نے سِلْمٌ پڑھا معنی اس کا بھی سلام ہے۔ فَمَا لَبِثَ اَنْ جَآ ئَ بِعِجْلٍ (وہ زیادہ دیر نہ ٹھہرے کہ ان کے پاس بچھڑا لائے) لانے میں دیر نہ کی بلکہ جلدی کی یا ان کی آمد نہ رکی۔ العجل ؔ بچھڑا، ابراہیم (علیہ السلام) کا مال گائیں تھیں۔ حَنِیْذٍ (بھنا ہوا) ۔ گرم پتھروں کے ذریعہ بھنا ہوا۔
Ayah 11:7070: فَلَمَّا رَآٰ اَیْدِیَھُمْ لَاتَصِلُ اِلَیْہِ نَکِرَھُمْ (جب دیکھا ان کے ہاتھوں کو کہ وہ نہیں پہنچ رہے کھانے کو تو اوپرا محسوس کیا ان کو) نکرو انکر کا معنی ناگوار ہونا۔ ان کی عادت یہ تھی کہ جب کوئی مہمان ان کا کھانا چھو لیتا تو اس سے مطمئن ہوجاتے ورنہ خطرہ محسوس کرتے۔ اور ظاہر یہ ہے کہ انہوں نے محسوس کیا کہ وہ ملائکہ ہیں اور اوپر اس لئے محسوس کیا کیونکہ ان کو خطرہ ہوا کہ ان کا نزول کسی ایسے معاملے کی وجہ سے ہوا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے ناپسند کیا ہے۔ یا میری قوم کو عذاب دینے کیلئے اسکی دلیل ان کا یہ قول ہے وَاَوْجَسَ مِنْہُمْ خِیْفَۃً ان کے متعلق خوف دل میں چھپایا۔ قَالُوْا لَاتَخَفْ اِنَّآ اُرْسِلْنَآ اِلٰی قَوْمِ لُوْطٍ (انہوں نے کہا ڈرو نہیں بیشک ہم تو قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں) عذاب دینے کیلئے اور یہ ان کو کہا جاتا ہے جن کو پہچان تو لیا جائے مگر ان کے آنے کا مقصد معلوم نہ ہو۔ فرشتوں نے لاتخف کہا کیونکہ خوف کے آثار اور تغیر ان کے چہرے پر محسوس کیا۔
Ayah 11:7171: وَامْرَاَتُہٗ قَآ ئِمَۃٌ (ابراہیم (علیہ السلام) کی بیوی کھڑی ہوئی تھی) پردے کے پیچھے جو ان کی گفتگو کو سن رہی تھی یا ان کے سروں پر کھڑی خدمت کر رہی تھی۔ فَضَحِکَتْ (پس وہ ہنس دی) زوال خوف پر خوش ہو کر یا اہل خبائث کی ہلاکت پر یا قرب عذاب کے باوجود قوم لوط کی غفلت پر یا ان کو اسی وقت حیض آگیا (جیسا ضحکت الارنب۔ خرگوش کو حیض آیا)
بشارت اسحاق و یعقوب :
فَبَشَّرْ نٰھَا بِاِسْحٰقَ (ہم نے ان کو اسحاق کی خوشخبری دی) سارہ کو بشارت کے ساتھ خاص اس لئے کیا کیونکہ عورتیں لڑکے کی بشارت پر بہت خوش ہوتی ہیں اور اس وجہ سے بھی کہ اس کے ہاں لڑکا نہ تھا۔ ابراہیم (علیہ السلام) کاد وسرا لڑکا اسماعیل دوسری بیوی سے تھا۔ وَمِنْ وَّرَآ ئِ اِسْحٰقَ یَعْقُوْبَ (اور اسحاق کے بعد یعقوب کی)
قراءت : یعقوب منصوب، شامی، حمزہ، حفص نے فعل مضمر کی وجہ سے پڑھا۔ جس پر دلالت موجود ہے۔ فبشرنٰھا باسحاق ای فبشرنا ہا باسحاق ووھبنا لھا یعقوب من وراء اسحاق ہم نے اس کو اسحاق کی خوشخبری دی اور یعقوب عنایت کیا اسحاق کے بعد۔ دوسرے قراء نے ابتداء کی وجہ سے مرفوع پڑھا ہے۔ اور ظرف من ورآء جو اس سے پہلے ہے اس کو خبر مانا ہے۔ جیسا کہتے ہیں فی الدارزیدٌ۔
Ayah 11:7272: قَالَتْ یٰوَیْلَتٰی ( اس نے کہا کیا خوب بھلا) الف یا اضافت سے تبدیل ہو کر بنی ہے۔
قراءت : حسن نے یٰوَیْلَتٰیٓ اصل پر یا کو پڑھا ہے۔ ئَ اَ لِدُوَاَنَا عَجُوْزٌ (کیا میں بڑھیا بچے جنوں گی) ان کی عمر نوے سال تھی۔ وَّھٰذَا بَعْلِیْ شَیْخًا ( اور یہ میرے خاوند بوڑھے ہیں) ان کی عمر 120 سال تھی۔
نحو : ھٰذامبتداء اور بعلی اسکی خبر ہے۔ شیخًا حال ہے۔ اس میں عامل معنی اشارہ ہے۔ جس پر ذاؔ دلالت کررہا ہے۔ یا تنبیہ کا معنی عامل ہے جس پر ھٰذادلالت کرتا ہے۔ اِنَّ ھٰذَا لَشَیْئٌ عَجِیْبٌ (بیشک یہ عجیب بات ہے) کہ دو بوڑھوں سے اولاد ہو۔ یہ عادت کے لحاظ سے استبعاد کا اظہار ہے
Ayah 11:73تعجب کا جواب :
73: قَالُوْا اَتَعْجَبِیْنَ مِنْ اَمْرِ اللّٰہِ (انہوں نے کہا کیا تم تعجب کرتی ہو اللہ تعالیٰ کے حکم سے) امر سے حکمت وقدرت مراد ہے فرشتوں نے سارہ کے تعجب کو عجیب خیال کیا۔ کیونکہ وہ ایسے گھر میں تھیں جس میں آیات قدرت اور معجزات ظاہر ہوتے رہتے تھے۔ فارق عادت امور کا وہ مہبط تھا۔ پس ان کو مناسب تھا کہ وہ توقیر کرتیں اور اس میں دیگر عورتوں کی طرح اظہار تعجب نہ کرتیں جو کہ بیت نبوت میں نہیں رہتیں اور اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تمجید کرتیں بجائے اس کے تعجب کرنے لگیں۔ اسی طرف فرشتوں نے یہ کہہ کر اشارہ کیا۔ رَحْمَتُ اللّٰہِ وَبَرَکٰتُہٗ عَلَیْکُمْ اَھْلَ الْبَیْتِ (اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور برکتیں تم پر اے گھرو الو ! ) ان کا مقصد یہ تھا کہ یہ اور اسکی نوازشات ایسی چیزیں ہیں کہ جن سے اللہ تعالیٰ تمہیں معزز فرماتے رہتے ہیں۔ اور اس کا انعام کرنے میں اے اہل بیت نبوت تمہیں خاص کرتے ہیں پس یہ تعجب کا مقام نہیں۔ یہ جملہ مستانفہ جو انکار تعجب کا سبب بیان کر رہا ہے۔ گویا اس طرح کہا گیا ایاک والتعجب فانّ امثال ھذہ الرحمۃ والبرکۃ متکاثرۃ من اللّٰہ علیکم تو اپنے آپ کو تعجب سے محفوظ کرو۔ اس رحمت و برکت کی مثالیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت زیادہ ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ رحمت سے نبوت اور البرکات سے اسباط بنی اسرائیل مراد ہیں۔ کیونکہ انبیاء (علیہم السلام) ان میں سے ہوئے اور تمام اولاد ابراہیم (علیہ السلام) سے تھے اور اہل البیت نداء کی وجہ سے منصوب ہے یا فعل تخصیص مقدر کی وجہ سے منصوب ہے۔ اِنَّہٗ حَمِیْدٌ (بیشک وہ تعریفوں والا ہے) تعریف کیا ہوا شان والا جلد انعامات کی وجہ سے مَّجِیْدٌ (مستحق ستائش ہے) ظاہری کرم والا ہے جلد انتقام کے سبب۔
Ayah 11:7474: فَلَمَّا ذَھَبَ عَنْ اِبْرٰھِیْمَ الرَّوْعُ (جب ابراہیم (علیہ السلام) کے دل سے خوف جاتا رہا اور گھبراہٹ دور ہوگئی) الروع وہ گھبراہٹ جو اس خوف کی وجہ سے پید اہوئی جب مہمانوں کو اوپرا خیال کیا۔ وَجَآ ئَ تْہُ الْبُشْرٰی (اور خوشخبری ان کے پاس آگئی) لڑکے کی یُجَادِ لُنَا فِیْ قَوْمِ لُوْطٍ (وہ قوم لوط کے متعلق ہم سے جھگڑنے لگے) جب انکا دل مطمئن ہوگیا اور خوف رفع ہوگیا۔ اور بشارت کی وجہ سے دل خوشی سے لبریزہوگیا تو مجادلہ کیلئے فارغ ہوئے۔
نحو : لَمَّا کا جواب محذوف ہے۔ تقدیرعبارت یہ ہے اقبل یجاد لنا۔ لگے ہم سے جھگڑنے یا خود یجادلنا، لماکا جواب ہے۔ حکایت حال کیلئے مضارع لا یا گیا ہے۔ مطلب یہ ہوگا وہ ہمارے قاصدوں سے جھگڑنے لگے۔ ان کا مجادلہ ان سے اس بات میں تھا کہ انہوں نے کہا انا مھلکوا اہل ہذہ القریۃ ہم ان بستی والوں کو ہلاک کرنے والے ہیں تو ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا کیا خیال ہے تمہارا اگر اس میں پچاس ایمان والے ہوں تو تب بھی ہلاک کرو گے انہوں نے جواب میں کہا۔ نہیں ابراہیم نے کہا چالیس۔ انہوں نے کہا نہیں ابراہیم نے کہا تیس۔ انہوں نے نفی میں جواب دیا۔ یہاں تک کہ دس تک پہنچے تو انہوں نے نفی میں جواب دیا۔ اس وقت ابراہیم کہنے لگے۔ قال ان فیھا لوطا قالوا نحن اعلم بمن فیھا لننجینہ واہلہ [ العنکبوت : 32[
Ayah 11:7575: اِنَّ اِبْرٰھِیْمَ لَحَلِیْمٌ (بیشک ابراہیم بڑے حلیم الطبع) جو سوء ادب سے پیش آتا اس کے ساتھ جلد بازی کرنے والے نہ تھے
یا ایذاء کو بہت برداشت کرنے والے تھے۔ نافرمانوں کو بہت معاف کرنے والے تھے۔ اَوَّاہٌ (رحیم المزاج) اللہ تعالیٰ کے خوف سے بہت آہ بھرنے والے تھے۔ مُّنِیْبٌ (رجوع کرنے والے) توبہ کرنے والے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والے یہ تمام صفات رقت قلبی پر دلالت کرتی ہیں۔ اور رافت و رحمت کا منبع ہیں۔
حاصل : اس سے یہ واضح ہوا کہ یہ وہ صفات تھیں جنہوں نے ان کو مجادلہ پر آمادہ کیا اس امید سے کہ ان سے عذاب کو اٹھا لیا جائے۔ اور ان کو مہلت مل جائے کہ شاید وہ تائب ہوجائیں۔ جیسا کہ اسی چیز نے ان کو باپ کیلئے استغفار پر آمادہ کیا۔ فرشتوں نے یہ سن کر کہا۔
Ayah 11:7676: یٰٓاِبْرٰھِیْمُ اَعْرِضْ عَنْ ھٰذَا (اے ابراہیم اس بات کو چھوڑیے) یعنی یہ جھگڑا، اگرچہ مہربانی آپ کی عادت و طبیعت ہے۔ اِنَّہٗ قَدْ جَآئَ اَمْرُرَبِّکَ (بیشک تیرے رب کا فیصلہ آچکا) اس کا فیصلہ اور حکم وَاِنَّھُمْ ٰاتِیْھِمْ عَذَابٌ غَیْرُ مَرْدُوْدٍ (بیشک ان پر ایسا عذاب آنے والا ہے جو لوٹا یا نہیں جاسکتا) جھگڑے سے لوٹا یا نہ جائے گا۔ عذابٌ یہ اسم فاعل کی وجہ سے مرفوع ہے۔ اور وہ اتیہم ہے تقدیر عبارت یہ ہے وانہم یاتیھم بیشک وہ عذاب ان پر آئے گا۔