Ayah 13:33اللہ کی مثال کوئی نہیں :
33: اَفَمَنْ ھُوَ قَآپمٌ (کیا پس وہ ذات جو ہر شخص کے تمام اعمال کا نگران ہے) انکے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانے کے خلاف حجت پیش کی گئی ہے۔ کیا پس وہ اللہ تعالیٰ کی ذات جو نگران ہے عَلٰی کُلِّ نَفْسٍ 0 (ہر ہر نفس پر) خواہ وہ صالح ہو یا بدکار بِمَا کَسَبَتْ (جو کچھ کہ وہ کررہا ہے) وہ اسکے شر اور خیر کو جانتا ہے اور ہر ایک کا بدلہ دیتا ہے کیا وہ اسکی طرح ہوسکتا ہے جو اس طرح کا نہ ہو۔ پھر جملہ مستانفہ لائے اور فرمایا۔ وَجَعَلُوْا لِلّٰہِ شُرَکَآ ئَ (اور بنا رکھے ہیں انہوں نے اللہ تعالیٰ کے شریک) یعنی اصنام قُلْ سَمُّوْ ھُمْ (آپ ان سے کہیں انکے اوصاف تو بتلائو) تم اسکے سامنے انکے نام لو کہ وہ کون ہیں اور ان ناموں کی تفصیل اسکے سامنے ذکر کرو۔ پھر فرمایا۔ اَمْ تُنَبِّئُوْ نَہٗ بِمَا لَایَعْلَمُ فِی الْاَرْضِ (یا تم اللہ تعالیٰ کو ایسی بات بتلا رہے ہو جس سے وہ ساری زمین میں واقف نہیں) امؔ منقطعہ بمعنی بل ہے۔ بلکہ تم اسکو بتلا رہے ہو اسکے شرکاء جن کو وہ زمین میں نہیں جانتا حالانکہ وہ تو آسمان و زمین کے ہر ذرہ سے واقف ہے۔ جب اللہ تعالیٰ انکو نہیں جانتا تو اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ یہ کوئی چیز نہیں یعنی انکی کچھ اصلیت نہیں مقصد اس کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک ہے ہی نہیں۔ اَمْ بِظَاہرٍ مِّنَ الْقَوْلِ (یا تم انکو اللہ تعالیٰ کا شریک ظاہری وسرسری طور پر کہتے ہو) بلکہ کیا تم نے انکا نام سرسری طور پر رکھا ہوا ہے۔ بغیر اس بات کے کہ اسکے پیچھے کوئی حقیقت ہو۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا ذٰلک قولہم بافواھھم ] التوبہ : 30[ ماتعبدون من دونہٖ اِلاَّ اسمآء سمیتموہا (یوسف : 40) بَلْ زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ کَفَرُوْا مَکْرُھُمْ (بلکہ کافروں کیلئے انکی تدبیر کو مزین کردیا گیا) مکر سے انکا اسلام کیلئے فریب کاری کرنا مراد ہے جو شرک کی وجہ سے کرتے رہتے تھے۔ وَصُدُّوْا عَنِ السَّبِیْلِ (اور انکو صحیح راہ سے روک دیا گیا) اللہ تعالیٰ کی راہ سے قراءت صُدُّوا کو صادؔ کے ضمہ سے کوفی نے پڑھا اور دیگر قراء نے فتحہ کے ساتھ اور اسکا معنی پھر یہ ہوگا۔ صدوا المسلمین عن سبیل اللہ انہوں نے مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکا۔ وَمَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ فَمَالَہٗ مِنْ ھَادٍ (جسکو اللہ تعالیٰ گمراہ کر دے اسکو کوئی راہ پر ڈالنے والا نہیں) کوئی نہیں جسکو انکی ہدایت پر قدرت ہو۔
Ayah 13:3434: لَھُمْ عَذَابٌ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا (دنیوی زندگی میں ان پر عذاب مسلط ہے) جو قتل، قید، مختلف مشقتوں کی صورت میں ہوگا۔ وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَۃِ اَشَقُّ (اور آخرت کا عذاب تو بہت سخت ہے) اس لئے سخت ہے کیونکہ وہ دائمی ہے۔ وَمَا لَھُمْ مِّنَ اللّٰہِ مِنْ وَّاقٍ (اور انکو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں) جو اسکے عذاب سے انکی حفاظت کرے۔
Ayah 13:35جنت کا حال :
35: مَثَلُ الْجَنَّۃِالَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ (اس جنت کی حالت جسکا متقین سے وعدہ کیا گیا) اسکی وہ حالت تو مثال میں عجیب و غریب ہے۔ نحو : مبتداء ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے اور خبر محذوف ہے۔ ای مثل الجنۃ مبتداء، فیما یتلٰی علیکم خبر محذوف ہے۔ یا نمبر 2۔ خبر موجودتجری من تحتھا الانھار ہے۔ جیسا کہتے ہیں صفت زید اسمرتَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَاالْاَنْھٰرُ ( وہ ایسی جنت ہے جسکے (درختوں کے) نیچے نہریں جاری ہیں) اُکُلُھَا دَآئِمٌ (اسکے پھل ہمیشہ ہمیشہ ہوں گے) اسکے پھل ہمیشہ پائے جانے والے ہیں منقطع نہ ہونگے۔ وَّظِلُّہَا (اور اسکے سائے) ہمیشہ کے ہیں ختم نہیں ہوں گے۔ جیسا سورج کی وجہ سے معدوم ہوجاتے ہیں۔ تِلْکَ عُقْبَی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا (وہ انجام ان لوگوں کا ہے جو متقی ہیں) یعنی ان صفات والی جنت انکے تقویٰ کا نتیجہ ہے یعنی اسکا انجام ہے۔ وَّعُقْبَی الْکٰفِرِیْنَ النَّارُ ( اور کافروں کا انجام آگ ہے)
Ayah 13:3636: وَ الَّذَِیْنَ اٰتَیْنٰھُمُ الْکِتٰبَ (اور وہ لوگ جنکو ہم نے کتاب دی) اس سے مراد عبداللہ بن سلام اور انکے ساتھی ہیں جنکو اہل کتاب میں اسلام نصیب ہوا۔ اور اس طرح وہ حبشہ کے لوگ جو نصارٰی میں سے اسلام لائے۔ یَفْرَحُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَمِنَ الْاَ حْزَابِ (وہ اس قرآن سے خوش ہوتے ہیں جو آپ پر اتارا گیا اور ان گروہوں میں سے) اور انکے گروہوں میں سے اور اس سے مراد وہ کفار ہیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے خلاف عداوت میں جتھہ بندی کی جیسے کعب بن اشرف یہودی اور اسکی پارٹی اور اسید، عاقب اور انکے ساتھ والے لوگ جو عیسائی تھے۔ مَنْ یُّنْکِرُ بَعْضَہٗ (وہ لوگ ہیں جو قرآن کے کچھ حصہ کا انکار کرتے ہیں) کیونکہ یہ لوگ قصص و واقعات اور بعض احکام دین اور معانی و مفاہیم کا انکارنہ کرتے تھے جو کہ انکی کتابوں میں بھی پائے جاتے تھے۔ بلکہ فقط نبوت محمد ﷺ اور اپنی کتاب میں تحریف کردہ باتوں میں قرآن کی مخالفت کرتے تھے ( توحید باری تعالیٰ ، بعض صفات باری تعالیٰ کا انکار کرتے) ۔
نبوت محمدی کا انکار اللہ تعالیٰ کی توحید کا انکار ہے :
قُلْ اِنَّمَآ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰہَ وَلَآ اُشْرِکَ بِہٖ (مجھے تو حکم ملا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کروں اور اسکے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائوں) پس تمہارا نبوت محمدیہ علیٰ صاحبھا الصلٰوۃ والسلام سے انکار یہ اللہ تعالیٰ کی عبادت و توحید کا انکار ہے۔ پس دیکھ لو تم کس بات کا انکار کر رہے ہو۔ حالانکہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لازم ہونے کے دعوے دار ہو۔ اور اسکے بھی دعوے دار ہو کہ اسکا کوئی شریک نہیں۔ اِلَیْہِ اَدْعُوْا (میں اسی ہی کی طرف دعوت دیتا ہوں) خاص طور پر، میں اسکے علاوہ اور کسی کی طرف دعوت نہیں دیتا۔ وَاِلَیْہِ مَاٰ بِ (اور اسی کی طرف میرا لوٹنا ہے) والیہ کا لفظ لا کر بتلا دیا کہ اسی ہی کی طرف دعوت دیتا ہوں نہ کہ غیر کی طرف مَاٰبؔ لوٹنے کی جگہ۔ اے یہود و نصارٰی تم بھی اسی طرح کہتے ہو۔ پھر میری نبوت کا انکار چہ معنی دارد۔
Ayah 13:3737: وَکَذٰلِکَ اَنْزَلْنٰہُ (اور اسی طرح ہم نے اس کو اتارا) جس طرح ہم نے گزشتہ کتابیں اتاریں جن میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیا گیا۔ اور اسکی وحدانیت کا سبق پڑھایا گیا اور اسکی طرف بلانے کا امر ہوا۔ اور اسکے دین کی طرف اور دارالجزاء سے ڈرنے کا کہا گیا۔ حُکْمًا عَرَبِیًّا ( عربی زبان میں فیصلہ والا) یہ حکمت ہے جسکی ترجمانی عربی زبان سے کی گئی۔
نحو : یہ منصوب ہیں حال کی وجہ سے وہ رسول اللہ ﷺ کو ان امور کی طرف دعوت دیتے جو دین اسلام اور انکے ایک جیسے تھے تو اس سلسلہ میں آپکو ہدایت فرمائی۔ وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ اَھْوَآئَ ھُمْ بَعْدَ مَا جَآ ئَ کَ مِنَ الْعِلْمِ (اگر آپ نے انکی خواہشات کی اتباع کی اسکے بعد کہ آپ کے پاس (وحی سے) علم آچکا) قطعی دلائل کے ذریعہ علم کے ثبوت اور روشن برا ھین کے بعد۔ مَالَکَ مِنَ اللّٰہِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا وَاقٍ (آپ کے لئے اللہ تعالیٰ سے بچانے والا کوئی دوست نہ ہوگا) یعنی کوئی مددگار آپکی مدد نہ کرسکے گا اور کوئی بچانے والا بچانہ سکے گا۔ یہ طرز عمل درحقیقت سامعین و مخاطبین کو دین پر ثابت قدم رکھنے کیلئے ہے تاکہ کسی شبہ میں پڑ کر کوئی آدمی پھسل نہ جائے۔ ورنہ رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی تو مضبوطی سے اپنے موقف پر جمنے والی تھی۔ ان میں ڈگمگانے کا سوال ہی نہ تھا۔
Ayah 13:38انبیاء ( علیہ السلام) کی اولاد و ازواج تھیں :
38: وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِکَ وَجَعَلْنَا لَھُمْ اَزْوَاجًا وَّ ذُرِّیَّۃً (تحقیق ہم نے آپ سے پہلے جو رسول بھیجے اور انکے لئے بیویاں اور اولاد بنائی) کفار مکہ آپکو عیب لگاتے کہ اسکی بیوی ہے اولاد ہے یہ کیسا پیغمبر ہے۔ من مانی آیات کا مطالبہ کرتے۔ اور نسخ کا انکار کرتے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات اتار کر جواب دیا۔ کہ رسالت کا سلسلہ اسی طرح چلا آرہا ہے۔ انکی بیویاں اور اولاد تھی۔ وَمَا کَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَۃٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰہِ (کسی پیغمبر کو یہ مناسب نہیں کہ وہ کوئی نشانی بغیر اللہ تعالیٰ کی اجازت کے پیش کرے) اسکی حدود وسعت میں نہیں کہ قوم کی منہ مانگی نشانیاں لے آئے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے قبضہ و اختیار میں ہے۔ لِکُلِّ اَجَلٍ
کِتَابٌ (ہر کتاب کیلئے ایک وقت مقررہ ہے) ہر کتاب کا ایک حکم ہے جو بندوں پر ایک وقت پر فرض کیا جاتا ہے جو اس وقت حکمت کے مطابق ہوتا ہے۔
Ayah 13:3939: یَمْحُوا اللّٰہُ مَایَشَآئُ (اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے مٹاتا ہے) جس چیز کا منسوخ کرنا منظور ہوتا ہے اسکو منسوخ کرتا ہے۔ وَیُثْبِتُ (اور قائم رکھتا ہے) اسکے بدلے میں جو چاہتا ہے۔ نمبر 2۔ غیر منسوخ چھوڑ دیتا ہے اور نافذ العمل رہتا ہے۔ نمبر 3۔ حفاظتی فرشتوں کے دفتروں سے جو چاہتا ہے مٹاتا ہے اور دوسرے کو قائم رکھتا ہے۔ نمبر 3۔ تائبین کے کفر کو مٹاتا اور انکے ایمان کو اس جگہ لکھ دیتا قائم
کردیتا ہے۔ نمبر 4۔ وفات دیتا ہے جسکا وقت مقرر آجاتا ہے اور قائم و زندہ چھوڑ تا ہے جسکا وقت باقی ہوتا ہے۔ قراءت وَیُثْبِتُمدنی، شامی، حمزہ اور علی نے پڑھا ہے۔ وَعِنْدَہٗ اُمُّ الْکِتٰبِ (اور اصل کتاب اسی ہی کے پاس ہے) یعنی ہر کتاب کی اصل اسی ہی کے پاس ہے اور وہ لوح محفوظ ہے کیونکہ کا ئنات میں ہر وقوع پذیر ہونے والی چیز اس میں درج ہے۔
Ayah 13:4040: وَاِنْ مَّا نُرِیَنَّکَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُھُمْ اَوْنَتَوَ فَّیَنَّکَ (اگر آپ کو وفات سے پہلے) اس بات کا کچھ حصہ دکھادیں جسکا ہم ان سے وعدہ کر رہے ہیں یا آپکو وفات دے دیں (اور آپکی زندگی میں انکو شکست نہ ہو) جس طرح حالات کا تقاضا ہو۔ ہم انکا پچھڑنا دکھادیں اور ان سے جو عذاب اتارنے کا وعدہ کیا ہے وہ عذاب ان پر اتار دیں۔ یا اس سے قبل آپکو وفات دے دیں۔ فَاِنَّمَا عَلَیْکَ الْبَلٰغُ (پس بیشک آپکے ذمہ پہنچا دینا ہے) پس آپکے ذمہ اتنا ضروری ہے کہ پیغام رسالت پہنچا دیں۔ یہ کافی ہے۔ وَعَلََیْنَا الْحِسَابُ (اور ہمارے ذمہ حساب لینا ہے) ہمارے ذمہ ان سے حساب لینا اور بدلہ دینا ہے۔ جو انکے اعمال کے مناسب ہوگا۔ آپکے ذمہ نہیں۔ آپ انکے اعراض کو کچھ اہمیت نہ دیں اور نہ انکے لئے جلد عذاب مانگیں۔
Ayah 13:4141: اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّانَاْتِی الْاَرْضَ (کیا انہوں نے (مکہ کے کافروں نے) نہیں دیکھا کہ ہم زمین کو ہر چہار جہت سے کم کرتے چلے آرہے ہیں) مراد ارض کفر ہے۔ نَنْقُصُہَا مِنْ اَطْرَافِھَا (اسکو ہم اطراف سے کم کرتے جارہے ہیں) انکا علاقہ مسلمان فتح پر فتح کرتے جارہے ہیں۔ دارالحرب کو گھٹا رہے ہیں۔ اور دارالاسلام کو پھیلا رہے ہیں یہ غلبہ اور نصرت کی علامت ہے۔ مطلب یہ ہے آپ کے ذمہ اس چیز کا پہنچانا ہے جو ذمہ داری آپ پر ڈال دی گئی ہے۔ اسکے نتیجہ کا آپ اہتمام نہ فرمائیں ہم جانیں ہمارا کام۔ ہم نے جو نصرت و کامیابی کا وعدہ کیا وہ پورا کرکے رہیں گے۔
وَاللّٰہُ یَحْکُمُ لَامُعَقِّبَ لِحُکْمِہٖ (اللہ تعالیٰ فیصلہ فرمانے والے ہیں اسکے فیصلوں کو کوئی موڑ نہیں سکتا) اسکے فیصلوں کو کوئی واپس نہیں کرسکتا۔ المعقبؔ جو کسی چیز پر بار بار حملہ آور ہو کر اسکو باطل و ہلاک کر دے۔ اور اسکی حقیقت وہ شخص جو کسی چیز کو لوٹانے اور اسکو باطل کرنے کیلئے اس کے پیچھے پڑجاتا ہے۔ اسی لئے حق والے کو معقب کہا جاتا ہے کیونکہ وہ اپنے مقروض کا پیچھا پورے تقاضے اور طلب سے کرتا ہے اب مطلب یہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسلام کے غلبہ کا فیصلہ کیا ہوا ہے۔ اور اسکو اقبال مند کرنا طے ہوچکا ہے۔ اور کفر پر زوال مقرر ہوچکا اور اس کا پیچھے ہٹنا قطعی ہے۔
نحو : لا معقب لحکمہ حال کی وجہ سے محل نصب میں ہے۔ گویا اس طرح فرمایا۔ واللّٰہ یحکم نافذاً حکمہ اللہ فیصلہ کرنے والے ہیں اس حال میں کہ وہ اپنے حکم کو نافذ کریں گے جیسا تم کہو۔ جاءنی زید لا عمامۃ علی رأسہ ولا قلنسوۃ لہ۔ مقصد صرف اسکا ننگے سر اور ننگے پائوں بیان کرنا ہے۔ وَھُوَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ (اور وہ جلد حساب لینے والے ہیں) دنیا کے عذاب کے بعد آخرت میں ان سے معمولی مدت میں حساب لے لیں گے۔
Ayah 13:4242: وَقَدْ مَکَرَ الَّذِیْنَ مِنْ قَٓبْلِھِمْ (تحقیق ان لوگوں نے تدابیر کیں جو ان سے پہلے ہوئے) گذشتہ امتوں کے کفار نے اپنے انبیاء کے ساتھ المکر ارادۃ المکروہ فی خفیۃ۔ خفیہ بری تدبیر کرنا۔ پھر انکے مکر کو پوری خفیہ، تدبیرقرار دیا۔ اپنی تدبیر کے تقابل میں ذکر فرما کر۔ فرمایا فَلِلّٰہِ الْمَکْرُ جَمِیْعًا (تمام تدابیر تو اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہیں) ۔ پھر اسکی اس طرح وضاحت فرمائی یَعْلَمُ مَاتَکْسِبُ کُلُّ نَفْسٍط وَسَیَعْلَمُ الْکُفّٰرُ لِمَنْ عُقْبَی الدَّارِ (وہ جانتا ہے جو ہر نفس کرتا ہے اور عنقریب کفارجان لیں گے کہ آخرت کا انجام کس کا ہے) یعنی اچھا انجام کس کا ہے۔ کیونکہ جو ذات ہر نفس کی ہر بات کو جانتی ہے اور اسکا بدلہ تیار کر رکھا ہے۔
یہی تمام اسکی تدبیر ہے۔ کیونکہ اسکی تدبیرایسی طرف سے آتی ہے جہاں سے ان کو علم بھی نہیں ہوتا۔ اس حال میں کہ وہ اپنے انجام سے بیخبر ہوتے ہیں۔ قراءت الکافرؔ سے مراد کافر ہیں۔ جبکہ الف لام جنس کا ہو۔ حجازی اور ابو عمرو نے اسی طرح پڑھا ہے۔
Ayah 13:43آپ کی رسالت کا اللہ گواہ کافی ہے :
43: وَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَسْتَ مُرْسَلًا (کافر کہتے ہیں کہ آپ رسول نہیں ہیں) اس سے مراد خاص کافر کعب بن اشرف اور رؤساء یہود مراد ہیں۔ وہ کہتے تھے لست مرسلًا۔ اسی لئے عطاء (رح) نے کہا کہ یہ سورت مکیہ ہے سوائے اس آیت کے۔ قُلْ کَفٰی بِاللّٰہِ شَھِیْدًام بَیْنِیْ وَبَیْنَکُمْ (کہہ دیں اللہ تعالیٰ کی گواہی میرے اور تمہارے درمیان کافی ہے) اس وجہ سے کہ میری رسالت پر دلائل واضح کردیئے گئے باؔ فاعل پر داخل ہوئی ہے۔ اور شہیدا یہ تمیز ہے۔ وَمَنْ عِنْدہٗ عِلْمُ الْکِتٰبِ (اور وہ جنکے پاس کتاب کا علم ہے) نمبر 1۔ ہٗ کا مرجع اللہ تعالیٰ کی ذات اور الکتاب سے لوح محفوظ اسکی دلیل وہ قراءت ہے جو بعض قراء نے ومن عندہٖ علم الکتاب پڑھا ہے۔ یعنی اور اسی ہی کی طرف سے کتاب کا علم ہے۔ کیونکہ جن کو اس سے علم دیا انکا علم اللہ تعالیٰ کے فضل و مہربانی سے ہے۔ نمبر 2۔ منؔ سے مراد علمائے اہل کتاب جو اسلام لائے کیونکہ وہ قرآن و رسول ا کی صفت اپنی کتابوں میں پاتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن سلام ؓ فرماتے ہیں یہ آیت میرے بارے میں اتری۔ نمبر 3۔ منؔ سے مراد جبرئیل (علیہ السلام) ہیں۔
نحو : مَنْ نمبر 1۔ یہ موضع جر میں ہے اسکا لفظ اللہ پر عطف ہے۔ نمبر 2۔ موضع رفع میں ہے جارومجرور کے محل پر اسکا عطف ہے کیونکہ تقدیر عبارت یہ ہے کفی اللّٰہ وعلم الکتاب۔ ظرف میں مقدر کی وجہ سے رفع دیا جاتا ہے۔ پس وہ فاعل ہوگا کیونکہ ظرف منؔ کا صلہ ہے۔ اور منؔ یہاں الذی کے معنی میں ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے۔ من ثبت عندہٗ علم الکتاب اور اسکی وجہ یہ ہے کہ جب ظرف صلہ بن جائے تو فعل جیسا عمل کرتا ہے۔ جیسے مررت بالذی فی الدار اخوہ پس یہاں اخوہ فاعل ہے۔ جیسا کہ تم کہو الذی استقر فی الدار اخوہ اگر قراءت کسرہ میم والی لی جائے تو پھر یہ ابتداء کی وجہ سے مرفوع ہوگا۔
الحمد للہ سورة الرعد کا تفسیری ترجمہ مکمل ہوا۔