20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsمدارک التنزیل

Ayah 20:121

فَاَكَلَا مِنْهَا فَبَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ١٘ وَ عَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى۪ۖ Open ayah 20:121 in the Quran reader

تو دونوں نے اس درخت کا پھل کھالیا تو ان پر انکی شرمگاہیں ظاہر ہوگئیں اور وہ اپنے (بدنوں پر) بہشت کے پتے چپکانے لگے اور آدم نے اپنے پروردگار کے حکم کے خلاف کیا تو وہ اپنے مطلوب سے بےراہ ہوگئے

121: فَاَ کََلاَ (پس ان دونوں نے اس درخت سے کھالیا) دونوں سے آدم و حواء مراد ہیں۔ مِنْہَا فَبَدَتْ لَھُمَا سَوْاٰتُھُمَا (فورًا دونوں کے ستر ایک دوسرے کے سامنے کھل گئے) سواٰۃ، سترو عورت۔ وَطَفِقَا (اور لگے) طَفِقَ اور جَعَلَ دونوں کادؔ کی طرح ہیں خبر مضارع آتی ہے البتہ یہ دونوں شروع استمرار کا معنی پیدا کرنے کیلئے آتے ہیں اور کادؔ قرب کو ظاہر کرتا ہے۔ عصیان کا معنی : یَخْصِفٰنِ عَلَیْھِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّۃِ (چپکائے اپنے اور جنت کے پتے) ستر کیلئے دونوں جنت کے درختوں کے پتوں کو چپکانے لگے اور درخت سے یہاں انجیر مراد لیا گیا ہے۔ وَعَصٰٓی اٰدَمُ رَبَّہٗ فَغَوٰی (اور آدم سے اپنے رب کا قصور ہوگیا وہ غلطی میں پڑگئے) رائے سے بھٹک گئے۔ ابن عیسیٰ کہتے ہیں ناکام ہوگئے۔ حاصل یہ ہے کہ العصیانؔ امرو نہی کے خلاف کام کا واقعہ ہونے کو کہا جاتا ہے۔ یہ دو قسم پر ہے۔ نمبر 1۔ جان بوجھ کر ہوتا ہے اس سورت میں ذنب کہلاتا ہے۔ نمبر 2۔ جان بوجھ کر نہیں ہوتا تو لغزش کہلاتا ہے۔ جب آپ کے فعل کو عصیان سے تعبیر کیا تو رشد سے وہ فعل نکل گیا اور غیّ میں شامل ہوا کیونکہ نام ہی خلاف رشد کا ہے۔ البتہ عصیؔ آدم رَبَّہَ فَغَوٰی کی تصریح میں جو زل آدم کو چھوڑ کر اختیار کی گئی ہے اس میں انتہائی بلیغ انداز میں زجر اور تمام مکلفین کیلئے نصیحت ہے۔ گویا اس طرح فرمایا غور کرو اور عبرت حاصل کرو۔ کہ کس طرح معصوم اور اللہ تعالیٰ کے محبوب پیغمبر کی لغزش کی اطلاع اس سخت انداز سے دی گئی پس تم صغائر کے سلسلہ میں بیخبر مت بنوچہ جائیکہ کبائر کا ارتکاب کرنے لگو۔
Ayah 20:122

ثُمَّ اجْتَبٰهُ رَبُّهٗ فَتَابَ عَلَیْهِ وَ هَدٰى Open ayah 20:122 in the Quran reader

پھر ان کے پروردگار نے ان کو نوازا تو ان پر مہربانی سے توجہ فرمائی اور سیدھی راہ بتائی

122: ثُمَّ اجْتَبٰہُ رَبُّہٗ (پھر ان کے رب نے ان کو چن لیا) اپنا مقرب بنایا۔ نمبر 2۔ منتخب کیا چن لیا۔ اجتبی کا اصل معنی جمع کرنا ہے جیسے جبی الخراج۔ اس نے خراج جمع کیا۔ جبی الیّ میرے پاس جمع کیا گیا۔ فاجتبیتہٗ میں اس کو اپنے پاس جمع کرلیا۔ اپنے قرب میں لے آیا۔ فَتَابَ عَلَیْہِ (پس ان پر توجہ فرمائی) توبہ سے قبل وَھَدٰی (اور راہ راست پر قائم رکھا) معذرت و استغفار کی طرف ان کی راہنمائی کر کے راہ راست پر قائم رکھا۔
Ayah 20:123

قَالَ اهْبِطَا مِنْهَا جَمِیْعًۢا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى١ۙ۬ فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَایَ فَلَا یَضِلُّ وَ لَا یَشْقٰى Open ayah 20:123 in the Quran reader

فرمایا کہ تم دونوں یہاں سے اتر جاؤ تم میں بعض بعض کے دشمن ہوں گے پھر اگر میری طرف سے تمہارے پاس ہدایت آئے تو جو شخص میری ہدایت کی پیروی کرے گا وہ نہ گمراہ ہوگا اور نہ تکلیف میں پڑے گا

123: قَالَ اھْبِطَا مِنْھَا جَمِیْعًا 0 (اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم دونوں ساتھ ساتھ اس حالت میں جنت سے اترو) یعنی آدم و حواء۔ بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ (تم ایک دوسرے کے دشمن ہوگے) باہمی حسد کی وجہ سے تمہاری اولاد۔ نمبر 2۔ دین میں اختلاف کی وجہ سے فَاِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ مِّنِّیْ ھُدًی (پس اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت پہنچے) ہدایت سے کتاب و شرعیت مراد ہے۔ فَمَنِ اتَّبَعَ ھُدَایَ فَـلَا یَضِلُّ (پس جس شخص نے میری ہدایت کی اتباع کی وہ نہ گمراہ ہوگا) دنیا میں وَلَا یَشْقٰی (اور نہ نامراد ہوگا) آخرت میں۔ قول ابن عباس ؓ : اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اس شخص کو جو قرآن کی اتباع کرے دنیا میں گمراہ نہ ہونے اور آخرت میں نامراد ناکام نہ ہونے کی ضمانت عنایت فرمائی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو شخص دنیا میں دین کے راستہ سے گمراہ ہوگیا اس کی سزا آخرت کی بدبختی ہے پس جو کتاب اللہ تعالیٰ کے راستہ کو اختیار کرنے والا ہے اور اللہ تعالیٰ کے اوامرو نواہی کا پابند ہے۔ وہ جس طرح گمراہی سے نجات پانے والا ہے اسی طرح اس کی سزا سے بھی رہائی پانے والا ہے۔
Ayah 20:124

وَ مَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِیْ فَاِنَّ لَهٗ مَعِیْشَةً ضَنْكًا وَّ نَحْشُرُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اَعْمٰى Open ayah 20:124 in the Quran reader

اور جو میری نصیحت سے منہ پھیرے گا اس کی زندگی تنگ ہوجائے گی اور قیامت کو ہم اسے اندھا کر کے اڑھائیں گے

تنگی کا جینا : 124: وَمَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِکْرِیْ (اور جس نے میری نصیحت سے اعراض کیا) ذکر سے یہاں قرآن مراد ہے۔ فَاِنَّ لَہٗ مَعِیْشَۃً ضَنْکًا (اس کے لئے تنگی کا جینا ہوگا) ضنکًاکا معنی تنگی ہے۔ یہ مصدر ہے۔ اس کو جب وصف کے طور پر استعمال کریں تو اس میں تذکیر و تانیث برابر ہے۔ ابن جبیر (رح) کا قول : معیشت میں تنگی سے مراد قناعت کا چھین لینا ہے یہاں تک کہ وہ سیر ہی نہیں ہوتا۔ دین میں تو تسلیم قناعت اور توکل ہے پس دین والے کی زندگی پاکیزگی ہوگی اور دین سے اعراض کی صورت میں حرص، بخل کی وجہ سے اس کی زندگی تنگ ہوگی اور اس کی حالت اندھیر ہوگی۔ جیسا کہ بعض متصوفہ نے کہا کہ جس نے اپنے رب کی یاد سے اعراض کیا اس نے اپنے وقت کو اندھیر کردیا اور اپنے رزق کو تشویشناک کردیا۔ وَّ نَحْشُرُہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اَعْمٰی (اور ہم اس کو قیامت کے دن اندھا اٹھائیں گے) حجت و دلیل سے اندھا۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول وہ آنکھوں سے اندھا ہوگا جیسا کہ دوسری آیت میں فرمایا ونحشر ھم یوم القیامۃ علی وجوھہم عمیًا ] الاسراء 97[ اور یہ زیادہ صحیح ہے۔
Ayah 20:125

قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِیْۤ اَعْمٰى وَ قَدْ كُنْتُ بَصِیْرًا Open ayah 20:125 in the Quran reader

وہ کہے گا میرے پر ورگار تو نے مجھے اندھا کر کے کیوں اٹھایا ؟ میں تو دیکھتا بھالتا تھا

دین سے اندھا پن آخرت کا اندھا پن : 125: قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِیْ اَعْمٰی وَقَدْ کُنْتُ بَصِیْرًا (کہے گا اے میرے رب آپ نے مجھے اندھا کیوں اٹھایا حالانکہ میں تو آنکھوں والا تھا) دنیا میں۔
Ayah 20:126

قَالَ كَذٰلِكَ اَتَتْكَ اٰیٰتُنَا فَنَسِیْتَهَا١ۚ وَ كَذٰلِكَ الْیَوْمَ تُنْسٰى Open ayah 20:126 in the Quran reader

(خدا) فرمائے گا کہ ایسا ہی (چاہئے تھا) تیرے پاس ہماری آیتیں آئیں تو تو نے ان کو بھلا دیا اسی طرح آج ہم تجھ کو بھلادیں گے

126: قَالَ کَذٰلِکَ (اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا اسی طرح) یعنی اس فعل کی طرح جو تو نے کیا پھر اس کی وضاحت فرمائی اَتَتْکَ اٰیٰتُنَا فَنَسِیْتَہَا وَکَذٰلِکَ الْیَوْمَ تُنْسٰی (تیرے پاس ہمارے احکام آئے تھے پھر تو نے انکا خیال نہ کیا اور ویسا ہی آج تیرا کچھ خیال نہ کیا جائے گا) تیرے پاس ہماری واضح آیات پہنچیں تو نے ان کی طرف عبرت کی نگاہ سے نہ دیکھا اور ان کو چھوڑ دیا بےپروائی اختیار کی۔ ان سے اندھا بنا رہا۔ پس اسی طرح آج ہم تیرے اندھے پن میں تجھے چھوڑ رہے ہیں۔ اور اندھے پن کا پردہ تیری آنکھوں سے زائل نہ کریں گے۔
Ayah 20:127

وَ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ مَنْ اَسْرَفَ وَ لَمْ یُؤْمِنْۢ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَدُّ وَ اَبْقٰى Open ayah 20:127 in the Quran reader

اور جو شخص حد سے نکل جائے اور اپنے پروردگار کی آیتوں پر ایمان نہ لائے ہم اسکو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں اور آخرت کا عذاب بہت سخت اور بہت دیر رہنے والا ہے

127: وَکَذٰلِکَ نَجْزِیْ مَنْ اَسْرَفَ وَلَمْ یُؤْمِنْ (اور اسی طرح ہم پر اس شخص کو جو حد سے گزر جائے اور اپنے) مبِاٰیٰتِ رَبِّہٖ وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَۃِ اَشَدُّ وَاَبْقٰی (رب کی آیات پر ایمان نہ لائے، سزا دیں گے۔ البتہ آخرت کا عذاب بڑا سخت اور بہت دیرپا ہے) جب ذکر و یاد سے اعراض کرنے والے کو دو سزائوں سے ڈرایا۔ نمبر 2۔ دنیا میں تنگ گزر۔ نمبر 3۔ آخرت میں اندھا اٹھایا جانا تو اس کے بعد آیات کا اختتام وعید کے الفاظ ولعذاب الاٰخرۃ اشد وابقٰی سے فرمایا۔ یعنی اندھا اٹھایا جانا جو کہ کبھی زائل نہ ہوگا۔ وہ ختم ہونے والی زندگی سے جس میں تنگی تھی بہت ہی سخت ہے۔
Ayah 20:128

اَفَلَمْ یَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰكِنِهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّهٰى۠ Open ayah 20:128 in the Quran reader

کیا یہ بات ان لوگوں کے لئے موجب ہدایت نہ ہوئی کہ ہم ان سے پہلے بہت سے لوگوں کو ہلاک کرچکے ہیں جن کے رہنے کے مقامات میں یہ چلتے پھرتے ہیں ؟ عقل والوں کے لئے اس میں (بہت ہی نشانیاں ہیں)

128: اَفَلَمْ یَھْدِ لَہُمْ (کیا ان لوگوں کو اس سے بھی ہدایت نہیں ہوئی) یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔ اس کی دلیل زید کی قراءت جو یعقوب کی روایت سے ہے نون کے ساتھ۔ نھد لھم۔ کَمْ اَھْلَکْنَا قَبْلَھُمْ مِّنَ القُرُوْنِ یَمْشُوْنَ (ہم ان سے پہلے بہت سے لوگوں کو ہلاک کرچکے یہ لوگ چلتے ہیں) یمشون یہ لھمؔ کی ضمیر مجرور سے حال ہے۔ فِیْ مَسٰکِنِھِمْ (ان کے رہنے کے مقامات میں) مراد یہ ہے کہ قریش مکہ عاد، ثمود، قوم لوط کے مقامات و مساکن میں آتے جاتے گزر تے ہیں اور ان کی بربادی کے آثار کو آنکھوں سے ملاحظہ کرتے ہیں۔ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّھٰی (اس میں عقل والوں کیلئے کھلی دلیلیں موجود ہیں) اُولِی النُھی عقل والے۔ اگر وہ سوچیں تو ان کو معلوم ہوجائے گا کہ ان کو کفر کی وجہ سے تہس نہس کردیا گیا۔ پس انہیں ان جیسی حرکات نہ کرنی چاہئیں۔
Ayah 20:129

وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَكَانَ لِزَامًا وَّ اَجَلٌ مُّسَمًّىؕ Open ayah 20:129 in the Quran reader

اور اگر ایک بات تمہارے پروردگار کی طرف سے پہلے صادر اور (جزائے اعمال کے لئے) ایک میعاد مقرر نہ ہوچکی ہوتی تو (نزول) عذاب لازم ہوچکا ہوتا

129: وَلَوْلَا کَلِمَۃٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّکَ ( اگر آپ کے رب کی طرف ایک بات پہلے طے شدہ نہ ہوتی) کہ امت محمد یہ ﷺ سے عذاب کو موخر کرنے کا حکم دیا گیا۔ لَکَانَ لِزَامًا (تو عذاب لازمی ہوتا) لِزَاماً ۔ لازمًا کے معنی میں ہے۔ لزام یہ لازم کا مصدر ہے۔ جس کو بطور صفت لائے۔ وَّ اَجَلٌ مُّسَمًّی (اور میعاد معین نہ ہوتی) اور وہ قیامت ہے تو دنیا میں ہی عذاب ان کو آچمٹتا۔ جیسا کہ گزشتہ کفار کو لازم ہوا۔
Ayah 20:130

فَاصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ غُرُوْبِهَا١ۚ وَ مِنْ اٰنَآئِ الَّیْلِ فَسَبِّحْ وَ اَطْرَافَ النَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضٰى Open ayah 20:130 in the Quran reader

پس جو کچھ یہ بکواس کرتے ہیں اس پر صبر کرو اور سورج کے نکلنے سے پہلے اور اسکے غروب ہونے سے پہلے اپنے پروردگار کی تسبیح وتحمید کیا کرو اور رات کی ساعات (اوّلین) میں بھی اس کی تسبیح کیا کرو اور دن کے اطراف (یعنی دوپہر کے قریب ظہر کے وقت بھی) تاکہ تم خوش ہوجاؤ

صبر و نماز کی تلقین : 130: فَاصْبِرْ عَلٰی مَا یَقُوْلُوْنَ (آپ ان کی باتوں پر صبر کریں) جو آپ کے متعلق کرتے ہیں۔ وَسَبِّحْ (اور تسبیح کرو) یعنی نماز ادا کرو۔ بِحَمْدِ رَبِّکَ (اپنے رب کی حمد کے ساتھ) یہ موضع حال میں ہے معنی یہ ہے وانت حامد لربک علی ان وفقک للتسبیح واعانک علیہ اس حال میں کہ آپ اپنے رب کی اس بات پر تعریف کرنے والے ہیں۔ کہ اس نے آپ کو تسبیح کی توفیق دی اور اسیر اعانت خاص فرمائی قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ (سورج کے طلوع سے قبل) اس سے صلاۃِ فجر مراد ہے۔ وَقَبْلَ غُرُوْبِھَا (اور اس کے غروب سے پہلے) اس سے ظہر و عصر مراد ہیں کیونکہ یہ دونوں نمازیں دن کے آخری نصف میں پائی جاتی ہیں جو زوال اور غروب کے مابین ہے۔ وَمِنْ اٰنَآیِٔ الَّیْلِ فَسَبِّحْ وَاَطْرَافَ النَّہَارِ (اور اوقات شب میں پس اس کی پاکی بیان کرو اور دن کے اطراف میں) اور رات کی ساعات کی پابندی کرو۔ اور دن کے اطراف کو خاص کر اپنی نماز کیلئے اور رات کے اوقات میں صلاۃِ عشاء تسبیح کو شامل ہے۔ اور اطراف نہار میں صلاۃِ مغرب اور نماز فجر آتی ہیں۔ تکرار سے ذکر کرنے کا مقصد ان کی خصوصیت کو ظاہر کرنا مقصود ہے جیسا کہ اس ارشاد میں موجود ہے۔ والصلوۃ الوسطی ] البقرہ : 238[ بعض کے نزدیک اطراف النھار کو جمع لایا گیا۔ حالانکہ یہ تو دو طرفین ہیں۔ تاکہ التباس سے امن رہے۔ اس کا عطف قبل پر ہے۔ لَعَلَّکَ تَرْضٰی (تاکہ تم راضی ہوجائو) لعلَّ مخاطبت کیلئے ہے۔ ان اوقات میں اللہ تعالیٰ کو یاد کرو اس امید سے کہ تم اللہ تعالیٰ کے ہاں وہ ثواب پالو جس سے آپکا نفس خوش ہوجائے اور دل راضی ہو۔ قراءت : علی و ابوبکر نے ترضی پڑھا۔ تاکہ تمہارا رب تمہیں خوش کر دے۔
Ayah 20:131

وَ لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ۬ لِنَفْتِنَهُمْ فِیْهِ١ؕ وَ رِزْقُ رَبِّكَ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى Open ayah 20:131 in the Quran reader

اور کئی طرح کے لوگوں کو جو ہم نے دنیا کی زندگی میں آرائش کی چیزوں سے بہرہ مند کیا ہے تاکہ ان کی آزمائش کریں ان پر نگاہ نہ کرنا اور تمہارے پروردگار کی (عطا فرمائی ہوئی) روزی بہت اور باقی رہنے والی ہے

ٹھاٹھ باٹھ کو دیکھنے کی ممانعت : 131: وَلَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْکَ ( ہرگز ان چیزوں کی طرف آپ اپنی آنکھیں اٹھا کر نہ دیکھیں) اپنی نگاہوں کی نظر اور درازی نظر سے اس کا لمبا کرنا مراد ہے۔ کہ دیکھی جانے والی چیز کی پسندیدگی و خوبصورتی کی بنا پر نگاہ اس سے نہ ہٹائی جائے۔ نحو : جو نظر طویل نہ ہو وہ معاف ہے اور وہ اس طرح ہے کہ نظر اچانک پڑے پھر نگاہ کو نیچا کرلے۔ متقی لوگوں نے ظالموں کے مکانات پر نگاہ ڈالنے اور فساق کے ٹھاٹ والے لباسوں اور ان کی سواریوں پر نگاہ سے بھی روکا ہے۔ یہاں تک کہ حضرت حسن (رح) نے فرمایا۔ فساق کے گھوڑوں کی جھنکار کی طرف بھی نگاہ نہ کرو۔ بلکہ یہ دیکھو کس طرح ان کے سواروں پر گناہ کی ذلت چھائی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے یہ چیزیں دیکھنے والوں کیلئے ہی سجائی ہیں۔ پس ان کو دیکھنے والا گویا ان کی غرض پوری کر رہا ہے۔ اور ان کے اختیار کرنے پر ابھار نے والا ہے۔ اِلٰی مَامَتَّعْنَابِہٖ اَزْوَاجًا مِّنْھُمْ (جو ہم نے ان میں سے مختلف گروہوں کو دیا ہے) ازواجًاکا معنی یہاں اقسام ہے۔ مختلف قسم کے کفار کو۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ ہاء ضمیر سے حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہو۔ اور فعل منہم پر واقع ہونے والا ہو۔ گویا اس طرح کہا گیا۔ اس چیز کی طرف جس سے ہم نے ان کو فائدہ پہنچایا ہے۔ اور مختلف ہیں۔ بعض دوسرے اور کچھ ان میں سے۔ زَھْرَۃَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا (دنیا کی رونق و بہار کی خاطر۔ ) نحو : یہ منصوب علی الذم ہے یا یہ بہ کے محل کا بدل ہے۔ یا ازواجًا کا بدل ہے جس کی تقدیر عبارت یہ ہے ذوی زھرۃ۔ لِنَفْتِنَھُمْ فِیْہِ (تاکہ ہم ان کی اس میں آزمائش کریں) تاکہ ہم ان کو آزمائیں اور ان کے کفر کی وجہ سے عذاب ان پر لازم ہوجائے۔ یا اس کے سبب ان کو آخرت میں عذاب دیں۔ وَرِزْقُ رَبِّکَ (اور تیرے رب کا دیا ہوا) ثواب اور وہ جنت ہے یا رزق حلال۔ خَیْرٌوَّ اَبْقٰی (وہ بہت بہتر اور باقی رہنے والا ہے) اس حرام سے جو ان کے پاس ہے۔
Ayah 20:132

وَ اْمُرْ اَهْلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَ اصْطَبِرْ عَلَیْهَا١ؕ لَا نَسْئَلُكَ رِزْقًا١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُكَ١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوٰى Open ayah 20:132 in the Quran reader

اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم کرو اور اس پر قائم رہو ہم تم سے روزی کے خواستگار نہیں بلکہ تمہیں ہم روزی دیتے ہیں اور (نیک) انجام (اہل تقویٰ ) کا ہے

ماتحتوں کو نماز کا حکم : 132: وَاْمُرْ اَھْلَکَ (اور تم اپنے متعلقین کو نماز کا حکم دیتے رہو) اپنی امت کو یا تمہارے گھر والے۔ بِالصَّلٰوۃِ وَاصْطَبِرْ (نماز کا اور خود اس کے پابند رہو) تم اس پر ہمیشگی اختیار کرو۔ عَلَیْھَا لَا نَسْئَلُکَ رِزْقًا (اس پر ہم آپ سے رزق کے طالب نہیں) ہم آپ سے نہیں کہتے کہ آپ اپنے آپ کو رزق دیں اور نہ اپنے اہل کو۔ نَحْنُ نَرْزُقُکَ ) ہم ہی آپ کو رزق دینے والے ہیں) اور انہیں بھی پس رزق کے معاملے میں شدت سے اہتمام مت کریں۔ بلکہ اپنے دل کو آخرت کے معاملات کیلئے فارغ کردیں اس لئے کہ جس کا طرز عمل یہ ہو کہ وہ اپنے کو اللہ تعالیٰ کے کام میں مصروف کر دے۔ اللہ تعالیٰ اس کا کام پورا فرما دیتے ہیں۔ حضرت عروہ بن زبیر (رح) کے متعلق مروی ہے کہ جب وہ بادشاہوں کے ہاں مختلف اشیاء دیکھتے تو یہ آیت پڑھتے وَلاَ تَمُدُنَّ عَیْنَیْکَ…۔ پھر آواز دیتے الصلاۃ، الصلاۃ، رحمکم اللّٰہ۔ بکربن عبد اللہ المزنی رحمۃ اللہ کے گھر میں جب فاقہ آجاتا تو فرماتے نماز کیلئے اٹھو ! اسی بات کا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے حکم فرمایا۔ مالک بن دینا ررحمۃ اللہ علیہ سے بھی اسی طرح کے اقوال منقول ہیں۔ بعض تفا سیر میں روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے گھر میں کوئی جسمانی پریشانی ہوتی تو آپ گھر والوں کو نماز کا حکم فرماتے اور یہ آیت تلاوت فرماتے۔ وَالْعَاقِبَۃُ لِلتَّقْوٰی (اور اچھا انجام تقویٰ والوں کا ہے۔ ) یعنی اچھا انجام اہل تقویٰ ہی کا ہے۔ نحو : مضاف محذوف ہے۔ ای اھل التقوٰی۔
Ayah 20:133

وَ قَالُوْا لَوْ لَا یَاْتِیْنَا بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ اَوَ لَمْ تَاْتِهِمْ بَیِّنَةُ مَا فِی الصُّحُفِ الْاُوْلٰى Open ayah 20:133 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ یہ (پیغمبر ﷺ اپنے پروردگار کی طرف سے ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں لاتے ؟ کیا ان کے پاس پہلی کتابوں کی نشانی نہیں آئی ؟

133: وَقَالُوْا اور انہوں نے کہا۔ کفار نے لَوْ لَا یَاْتِیْنَا بِاٰیَۃٍ مِّنْ رَّبِّہٖ (کہ یہ ہمارے پاس اپنے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں لاتے۔ ) لَوْلَا یہ ھلاَّ کے معنی میں ہے یَاْتِیْنَا وہ محمد کیوں نہیں لاتے۔ بِٰایَۃٍ مِّنْ رَّبِّہٖ کوئی نشانی ان کے رب کی طرف سے جو آپ کی صحت نبوت پر دلالت کرنے والی ہو۔ قراءت : اَوَلَمْ تَاْتِھِمْ ۔ مدنی، بصری اور حفص نے اسی طرح پڑھا ( کیا ان کے پاس نہیں آئی) بَیِّنَۃُ مَا فِی الصُّحُفِ الْاُولٰی (واضح دلیل جو پہلے صحیفوں میں ہے) یعنی پہلی کتابیں مطلب یہ ہے کہ انہوں نے اپنی سابقہ عادت کے مطابق ضد کی بنا پر نبوت کی نشانی مانگی۔ ان کے جواب میں فرمایا گیا کیا تمہارے پاس سب سے بڑی نشانی جو اعجاز میں بےمثل ہے وہ نہیں آئی ؟ یعنی قرآن۔ من قبل (اس سے پہلے) یعنی قرآن دلیل ہے ان تمام مضامین کیلئے جو پہلے صحائف میں آچکا اور ان کے صحیح ہونے کی دلیل ہے کیونکہ یہ معجزہ ہے اور وہ معجزات نہیں بلکہ ان میں جو کچھ موجود ہے وہ اپنی صحت و تندرستی میں مستقل شہادت کا محتاج ہے۔
Ayah 20:134

وَ لَوْ اَنَّاۤ اَهْلَكْنٰهُمْ بِعَذَابٍ مِّنْ قَبْلِهٖ لَقَالُوْا رَبَّنَا لَوْ لَاۤ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّذِلَّ وَ نَخْزٰى Open ayah 20:134 in the Quran reader

اور اگر ہم انکو پیغمبر (کے بھیجنے) سے پیشتر کسی عذاب سے ہلاک کردیتے تو وہ کہتے کہ اے ہمارے پروردگار تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم ذلیل اور رسوا ہونے سے پہلے تیرے کلام (واحکام) کی پیروی کرتے

134: وَلَوْ اَ نَّآ اَھْلَکْنٰـھُمْ بِعَذَابٍ مِّنْ قَبْلِہٖ (اور اگر ہم ان کو اس قرآن سے پہلے کسی عذاب سے ہلاک کردیتے) رسول سے قبل نمبر 2۔ قرآن سے قبل لَقَالُوْا رَبَّنَا لَوْلَآ ( تو یہ ضرور کہتے اے ہمارے رب کیوں نہ) ۔ اَرْسَلْتَ اِلیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ (آپ نے ہماری طرف کوئی رسول بھیجا تاکہ ہم تیرے احکام پر چلتے۔ ) نحو : نتبع منصوب ہے کیونکہ یہ استفہام کا جواب ہے فاء کے ساتھ۔ اٰیٰتِکَ مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّذِلَّ (آپ کی آیات پر اس سے پہلے کہ ہم ذلیل و رسوا ہوتے) نزول عذاب کے سبب۔ وَنَخْزٰی (اور رسوا ہوتے) آخرت میں۔
Ayah 20:135

قُلْ كُلٌّ مُّتَرَبِّصٌ فَتَرَبَّصُوْا١ۚ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ اَصْحٰبُ الصِّرَاطِ السَّوِیِّ وَ مَنِ اهْتَدٰى۠ Open ayah 20:135 in the Quran reader

کہہ دو کہ سب (نتائج اعمال کے) منتظر ہیں سو تم بھی رہو عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا کہ (دین کے) سیدھے راستے پر چلنے والے کون ہیں اور (جنت کی طرف) راہ پانے والے کون ہیں (ہم یا تم)

135: قُلْ کُلٌّ (کہہ دیں) ہر ایک ہر ایک ہم میں سے ہم بھی اور تم بھی مُّتَرَبِّصٌ (انتظار کرتے ہیں) انجام کے منتظر ہیں۔ کہ ہمارا اور تمہارا معاملہ کس انجام تک پہنچتا ہے۔ فَتَرَ بَّصُوْا (پس تم بھی انتظار کرو۔ ) فَسَتَعْلَمُوْنَ (پس عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا۔ ) جب قیامت آن پہنچے گی۔ من اَصْحٰبُ الصِّرَاطِ السَّوِیِّ (کہ کون درست راستے والے ہیں) ۔ السَّویِّ کا معنی مستقیم ہے۔ نحو : من مبتدا اصحاب خبر ہے۔ اور محلاً منصوب ہے۔ وَمَنِ اھْتَدٰی (اور کون منزل مقصود کی راہ پانے والا ہے) یعنی ہمیشہ ہمیشہ کی نعمتیں۔ فضیلت : رسول (علیہ السلام) نے ارشاد فرمایا اہل جنت سورة طہ اور یٰسین پڑھیں گے۔ رواہ ابن مردویہ عن ابی امامۃ ؓ ایضًا عن ابی بن کعب ؓ ۔ ترجمہ سورة طہٰ بحمد اللہ تعالیٰ آج بروز جمعہ 23 رمضان المبارک 1423؁ ھ بعد العصر اختتام پذیر ہوا۔