Ayah 21:1قربِ قیامت اور لوگوں کی غفلت :
1: اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُھُمْ وَھُمْ فِیْ غَفْلَۃٍ مُّعْرِضُوْنَ (لوگوں کا حساب قریب آگیا اور وہ غفلت میں پڑے ہوئے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ ) اِقْتَرَبَ قریب ہوا۔ لِلنَّاسِ (لوگوں کیلئے) ۔
نحو : لام اقترب کا صلہ ہے۔
قول ابن عباس ؓ : اس سے مشرک مراد ہیں۔ کیونکہ بعد والی صفات کا مصداق مشرک ہی ہیں۔ حِسَابُھُمْ (ان کا حساب) اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے محاسبہ کا وقت۔ اور ان کے اعمال پر سزا اور بدلہ کا دن یعنی یوم القیامۃ۔
وجہ : نمبر 1۔ اس لئے کہا کیونکہ گزشتہ کی نسبت باقی رہنے والا وقت تھوڑا ہے۔ نمبر 2۔ ہر آئندہ کو قریب کہا جاتا ہے۔ وَھُمْ فِیْ غَفْلَۃٍ (اور وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں) یعنی اپنے حساب کے متعلق اور اس جگہ جو معاملہ انہیں پیش آنے والا ہے۔ مُّعْرِضُوْنَ (وہ اعراض کرنے والے ہیں) اس دن کی تیاری سے پس قریب آنا یہاں عام ہے۔ اور غفلت واعراض مختلف لوگوں کے حساب سے مختلف ہوتے ہیں نمبر 1۔ بعض حساب سے غافل اس بناء پر ہوتے ہیں کہ وہ اپنی دنیا میں مستغرق ہوتے ہیں اور اپنے آقا سے اعراض کرنے والے ہوتے ہیں۔
نمبر 2۔ بعض اپنے حساب سے اس لئے غافل ہیں کہ انہوں نے اپنے مولیٰ کیلئے اپنے آپ کو ہلاک کرلیا اور دنیا سے منہ موڑ لیا۔ ایسے لوگوں کو تو اس غفلت سے افاقہ دیدار مولیٰ سے ہوگا۔ البتہ پہلی قسم موت کی یلغار کے وقت بیدارہوتے ہیں۔ پس تم پر ضروری ہے کہ محاسبہ سے پہلے اپنے آپ کا محاسبہ کرو۔ خبردار کئے جانے سے پہلے خود خبردار ہو اور غافلین سے کنی کترائو اور خالق ومالک کی یاد میں مگن ہوجائو تاکہ رب العالمین کی ملاقات نصیب ہو۔
Ayah 21:22: مَایاْتِیْہِمْ مِّنْ ذِکْرٍ (ان کے پاس جو نصیحت آتی ہے) ذکر سے قرآن مجید کا منزّل حصہ مراد ہے۔ مِّنْ رَّبِّھِمْ مُّحْدَثٍ (ان کے رب کی طرف سے تازہ) اتار کر اس کی تلاوت شروع کر ادی ہو اور ان کے کانوں پر پڑنے کا زمانہ تھوڑا ہو۔ مراد اس سے حروف منظومہ ہیں اور ان کے حدوث میں اختلاف نہیں (باقی حدوث فی النزول مراد ہے) ۔ اِلَّا اسْتَمَعُوْہُ (مگر یہ اس کو ایسے طور سے سنتے ہیں) نبی اکرم ﷺ سے یا کسی تلاوت کرنے والے سے وَ ھُمْ یَلْعَبُوْنَ (وہ اس سے ہنسی کرنے والے ہیں) مذاق اڑانے والے ہیں۔
Ayah 21:33: لَا ھِیَۃً قُلُوْبُھُمْ (قرآن میں غور کرنے اور انجام کو سوچنے سے ان کے دل غافل ہیں) ۔
نحو : یلعبون کی ضمیر سے لا ھیۃً حال ہے۔ نمبر 2۔ یہ اسمعوہ کی ضمیر سے۔ ہم یلعبون اور لاھیۃ دونوں حال ہیں۔ نمبر 3۔ بعض نے لا ھیۃ کو مرفوع پڑھا ہے اس صورت میں یہ دوسری خبر ہے ہم مبتدا یلعبون خبر اول ہے اور قلوبھم کا رفع لا ھیۃ کی وجہ سے ہے۔
اللغۃ : لا ھیۃؔ کا لفظ لَھَا یَلْھُو عنہ سے لیا گیا ہے جبکہ اس سے غافل ہو مطلب یہ ہے کہ ان کے دل مقصود سے غافل ہیں۔
ابوبکر و راق کا قول غافل دل وہ ہے جو دنیا اور اس کی رونق میں مشغول ہو۔ اور آخرت اور اس کی ہولناکیوں سے کنارہ کش ہو۔
وَاَسَرُّوا النَّجْوَی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا (اور انہوں نے چھپا کر سرگوشیاں کیں اور جنہوں نے ظلم کیا) اَسرَّ کا معنی اخفاء میں مبالغہ کیا۔ النجویٰ تناجی کا اسم ہے پھر اسرّوا کی وائو سے الذین ظلموا بدل ہے۔
پھر اسرّواؔ کو اس لئے لائے تاکہ بتلا دیا جائے کہ جس بات میں انہوں نے راز داری کی اس میں ظلم سے موسوم یہی لوگ ہیں اس طرح یہ اس محاورہ کے مطابق ہے اکلونی البراغیث۔
نمبر 2۔ الناس ؔ کی صفت ہونے کی وجہ سے محلاً مجرور ہے یا بدل ہے۔
نمبر 3۔ ذم کی وجہ سے منصوب المحل ہے۔
نمبر 4۔ یہ مبتدا ہے اور اس کی خبر مقدم اسرّوا النجوٰی ہے ای والذین ظلموا اسروا النجوٰی
نمبر 5۔ اسرّوا سے پہلے ھؤلاء مبتدا محذوف اور الذین ظلموا سے بھی پہلے ھمؔ مبتدا محذوف ہے۔
معجزے کو جادو کہا :
ھَلْ ھٰذَآ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ اَفَتَاْتُوْنَ السِّحْرَ وَاَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ (یہ تو تم ہی جیسا انسان ہے کیا تم پھر بھی دیدہ و دانستہ جادو کی بات سننے جائو گے)
: نمبر 1۔ یہ سارا کلام النجوٰی سے بدل ہونے کی بناء پر محلاً منصوب ہے۔ ای اسرّوا ھذا الحدیث۔ نمبر 2۔ قالوا کو مضمر مان کر اسے متعلق کرنا بھی جائز ہے۔
مطلب یہ ہے کہ انہوں نے اعتقاد رکھا کہ رسول تو فرشتہ ہوسکتا ہے اور جو انسان نبوت کا مدعی ہو اور معجزہ پیش کرے وہ جادوگر ہے اور اس کا معجزہ سحر ہے۔ اسی لئے انہوں نے انکار کے انداز میں کہا کہ تم آنکھوں سے جادو کو دیکھتے ہوئے بھی اندھا دھند جادو کو قبول کرلو گے ؟
Ayah 21:44: قَالَ رَبِّیْ (پیغمبر نے کہا میرے رب) قراءت : حمزہ، علی و حفص نے اس طرح پڑھا ہے۔ قالؔ کا قائل حضرت محمد ﷺ ہیں۔ اور دیگر قراء نے قل رَبِّی پڑھا ہے۔ اے قل یا محمد لِلَّذِیْنَ اَسرّوا النجوٰی (اے محمد ﷺ سرگوشیاں کرنے والوں کو کہہ دیں) ۔ یَعْلَمُ القَوْلَ فِی السَّمَآ ئِ وَالْاَرْضِ (ہر بات کو خواہ وہ آسمان میں ہو یا زمین میں جانتا ہے) وہ ہر قائل کا قول جانتے ہیں خواہ وہ قائل آسمان کے کسی کنارے میں ہو یا زمین کی کسی تہہ میں اور پوشیدہ طور پر کہے یا ببانگ دہل کہے۔
وَھُوَ السَّمِیْعُ (وہی سننے والا ہے) ان کے اقوال کو الْعَلِیْمُ (وہ جاننے والا ہے) ان کے دلوں میں جو چھپا ہوا ہے۔
Ayah 21:5قرآن کو پریشان خیال کہنا :
5: بَلْ قَالُوْا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍم بَلِ افْتَرٰٹہُ بَلْ ھُوَ شَاعِرٌ (بلکہ یوں بھی کہا کہ یہ قرآن پریشان خیالات ہیں بلکہ اس شخص نے خود تراش لیا ہے۔ بلکہ یہ شخص شاعر ہے) اس میں انہوں نے اپنی پہلی بات سحر ؔ سے اعراض کرتے ہوئے قرآن کو پریشان خواب کی باتیں قرار دیا جو اس مدعی نے خواب میں دیکھی ہیں۔ اور پھر اللہ تعالیٰ کی وحی خیال کرلیا۔ پھر اس سے اعراض کر کے کہنے لگے کہ یہ کلام اس نے اپنے پاس سے گھڑ لیا ہے۔ پھر اس سے آگے بڑھ کر کہا کہ یہ شاعرانہ بات ہے۔ اور یہ خود شاعر ہیں۔ اسی طرح باطل متردد اور غیر واضح ہوتا ہے۔ اور باطل پرستوں کا ایک بات پر ثبات و استقلال نہیں پھر کہنے لگے۔ اگر یہ اپنے دعویٔ نبوت میں سچے ہیں۔ حالانکہ بات اس طرح نہیں جیسا کہ انکا گمان ہے۔ پس ان کو کوئی نشانی پیش کرنا چاہیے۔ فَلْیَاْتِنَا بِاٰ یَۃٍ (تو ہمارے سامنے کھلی نشانی لائیں) آیت سے یہاں معجزہ مراد ہے۔ کَمَآ اُرْسِلَ الْاَوَّ لُوْنَ (جیسا کہ پہلے انبیاء کی طرف بھیجی گئیں) جیسے ید بیضاء، عصا، مادر زاد اندھوں کا درست ہونا۔ مردوں کو زندہ کرنا وغیرہ۔
تشبیہ : کما ارسل الاولون میں اس حیثیت سے ہے کہ یہ کما اتی الاوّلون بالآیات کے معنی میں ہے کیونکہ ارسال رسل معجزات و آیات لانے کو متضمن ہے اہل عرب کے ہاں ان دو اقوال میں کوئی فرق نہیں۔ نمبر 1۔ ارسل محمد نمبر 2۔ اتی محمد بالمعجزۃ۔
Ayah 21:6مطلوبہ معجزات کے اظہار کے باوجود ایمان نہ لائے گے :
6: اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کے اقوال کی تردید فرمائی۔ مَآ اٰمَنَتْ قَبْلَھُمْ مِّنْ قَرْیَۃٍ (ان سے پہلے بھی بستیوں والے ایمان نہ لائے) قریۃ سے پہلے مضاف محذوف ہے یعنی اہل قریۃ۔ اَھْلَکْنٰـھَا (جن کو ہم نے ہلاک کیا) یہ قریۃ کی صفت ہے جبکہ ان کے پاس مطلوبہ معجزات آبھی چکے۔ کیونکہ انہوں نے وہ معجزات بطور ضد کے طلب کئے تھے۔
اَفَھُمْ یُؤْمِنُوْنَ (تو کیا یہ لوگ ایمان لائیں گے) یعنی وہ معجزات آجانے کے باوجود ایمان نہ لائے کیا وہ مطالبہ کرنے والے ایمان لائیں گے اگر ہم ان کے مطلوبہ معجزات پورے کردیں۔ حالانکہ یہ تو سرکشی میں ان سے دو ہاتھ آگے ہیں۔
مطلب یہ ہے کہ ہلاک ہونے والی بستیوں نے اپنے انبیاء (علیہم السلام) سے معجزات کا مطالبہ کیا اور ایمان لانے کا وعدہ بھی کرلیا۔ مگر جب وہ معجزات ظاہر کردیئے گے تو انہوں نے وعدہ توڑ دیا اور مخالفت پر ڈٹ گئے۔ پس ہم نے ان کو ہلاک کر ڈالا۔ اگر ان کو بھی مطلوبہ معجزات مہیا کردیے جائیں تو یہ بھی اپنے وعدے سے مکر جائیں گے۔
Ayah 21:7اعتراض بشریت کی تردید :
7: وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَکَ اِلَّا رِجَالًا (ہم نے آپ سے پہلے بھی صرف مردوں کو ہی پیغمبر بنا کر بھیجا) یہ ان کے اس قول کا جواب ہے۔ ھل ھذا الابشر مثلکم الانبیا نُّوْحِیْ اِلَیْھِمْ (جن کے پاس ہم وحی بھیجتے تھے) قراءت : حفص نے اسی طرح پڑھا ہے اور ابن کثیر وابن عامر و نافع وحمزہ وغیرہ نے یوحٰی پڑھا ہے۔ فَسْئَلُوْا اَھْلَ الذِّکْرِ (پس تم اہل ذکر سے پوچھ لو) اہل ذکر سے علمائے کتابیین مراد ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ جن رسولوں کی طرف وحی بھیجی جاتی رہی وہ انسان تھے۔ ملائکہ نہ تھے۔ اہل مکہ کو اہل کتاب پر اعتماد تھا۔
اِنْ کُنْتُمْ لَاتَعْلَمُوْنَ (اگر تم کو اس کا علم نہیں ہے) پھر وضاحت فرمائی کہ آپ پہلے انبیاء (علیہم السلام) کی طرح ہیں۔ فرمایا
Ayah 21:88: وَمَا جَعَلْنٰـھُمْ جَسَدًا (اور ہم نے ان کو ایسا جسم نہیں بنایا) جسد (رنگ دار جسم) اس کو واحد لائے کیونکہ اسم جنس ہے جس کا اطلاق واحد و جمع سب پر ہوتا ہے۔ لَّا یَاْکُلُوْنَ الطَّعَامَ (جو کھانا نہ کھاتے ہوں) یہ جَسَدًاکی صفت ہے یعنی ہم نے آپ سے پہلے والے انبیاء (علیہم السلام) کو کھانا نہ کھانے والے جسم نہیں بنایا۔
وَمَا کَانُوْا خٰلِدِیْنَ (اور وہ ہمیشہ رہنے والے بھی نہ تھے) گویا کہ کفار نے اس طرح کہا وہ فرشتہ کیوں نہیں کہ نہ کھائے اور ہمیشہ رہے چونکہ ان کے اعتقاد میں فرشتوں پر موت نہ آئے گی۔ نمبر 2۔ طویل بقاء اور لمبی زندگی کو خلود کا نام دے دیا گیا۔
Ayah 21:99: ثُمَّ صَدَقْنٰـھُمُ الْوَعْدَ (پھر ہم نے ان سے جو وعدہ کیا تھا وہ سچا کر دکھایا) ان کو نجات دے کر۔ الوعد اصل فی الوعدؔ ہے جیسا اختار موسٰی قومہ ] الاعراف : 155] میں قومؔ من قومہٖ ؔ ہے۔ فَاَنْجَیْنٰھُمْ (پس ہم نے ان کو نجات دی) اس عذاب سے جو ان کی قوم پر اترا۔ وَمَنْ نَّشَآ ئُ (اور جن کو ہم نے چاہا) وہ مومن ہیں۔
وَاَھْلَکْنَا الْمُسْرِفِیْنَ (اور ہم نے اسراف کرنے والوں کو ہلاک کردیا) مسرفؔ جو کفر کی حد سے آگے بڑھنے والے تھے۔ مسرفین کے متعلق ہلاک کرنے کی اخبارات سے پتہ چلتا ہے کہ من نشاء ؔ ان کے علاوہ اور ان سے جدا ہیں۔
Ayah 21:10قرآن میں قریش کیلئے عظمت :
10: لَقَدْ اَنْزَلْنَآ ٰاِلَیْکُمْ (یقینا ہم نے تمہاری طرف اتاری) اے گروہ قریش۔ کِتٰـبًا فِیْہِ ذِکْرُ کُمْ (ایسی کتاب جس میں تمہارا تذکرہ ہے) تمہاری عظمت ہے اگر تم اس کو جانو۔ نمبر 2۔ تمہارا ذکر اس بناء پر کہ وہ تمہاری زبان میں ہے۔ نمبر 3۔ اس میں تمہارے دین کا تذکرہ ہے اور دنیا کا بھی۔
نحو : جملہ فیہ ذِکْرُکُمْ یہ کتابًا کی صفت ہے۔
اَفَـلَا تَعْقِلُوْنَ (کیا تم نہیں سمجھتے) اس کو جو میں نے تمہیں دوسروں پر فضیلت دی تاکہ تم ایمان لائو۔
Ayah 21:1111: وَکَمْ قَصَمْنَا مِنْ قَرْیَۃٍ (اور ہم نے بہت سی بستیوں کو ہلاک کردیا) قصمؔ کا معنی ہلاک کرنا، توڑنا، من قریۃ سے اہل قریہ مراد ہیں کیونکہ اگلے ارشاد میں فرمایا : کَانَتْ ظَالِمَۃً وہ کافر تھیں ( کیونکہ بستی کفر نہیں کرتی وہاں کے رہنے والے کفر کرتے ہیں) ۔
کم یہ قَصَمْنَا کی وجہ سے منصوب ہے۔ القصم کا لفظ غضب شدید کو ظاہر کر رہا ہے اس لئے کہ قصم اس طرح توڑنے کو کہتے ہیں جس میں اجزاء کے جوڑ الگ الگ کردیئے جائیں۔ البتہ الفصمؔ ایسے توڑنے کو کہتے ہیں جس میں اجزاء ظاہر نہ ہوں۔ وَّاَنْشَاْنَا (اور ہم نے پیدا کیا) بَعْدَھَا قَوْمًا ٰاخَرِیْنَ (ان کے بعد دوسرے لوگوں کو) جو ان کے مکانات میں رہائش پذیر ہوئے۔
Ayah 21:12مشاہدئہ عذاب کے وقت حالت :
12: فَلَمَّآ اَحَسُّوْا (جب انہوں نے دیکھ لیا) یعنی ہلاک کئے جانے والوں نے بَاْسَنَـآ (ہمارے عذاب کو) یعنی حس اور مشاہدہ سے جان لیا۔ اِذَا ھُمْ مِّنْھَا (تو یک دم وہ وہاں سے) یعنی بستی سے۔ اذاؔ مفاجات کیلئے آتا ہے اور ھممبتدا اور یَرْکَضُوْنَ خبر ہے۔
یَرْکُضُوْنَ (وہ تیزی سے بھاگنے لگے) الرکض ایڑ لگانا یہ بھی درست ہے کہ وہ اپنے گھوڑوں پر سوار ہو کر اپنی بستی سے بھاگنے لگے جب ان پر عذاب کا ابتدائی مرحلہ آیا۔ نمبر 2۔ ان کے تیزی کے ساتھ پیدل بھاگنے کو ان سواروں سے تشبیہ دی جو اپنے گھوڑوں پر سوار تیزی سے پابہ رکاب ہوں۔ پس ان کو کہا گیا۔
Ayahs 21:13–1413، 14: لَاتَرْکُضُوْا (مت بھاگو) بعض ملائکہ نے یہ بات کہی : وَارْجِعُوْٓا اِلٰی مَآ اُتْرِفْتُمْ فِیْہِ (اپنے سامان عیش کی طرف لوٹ آئو) جس دنیا کی نعمتوں اور خوشحالی سے تم فائدہ اٹھا رہے تھے۔ قول خلیل (رح) المترفؔ خوشحال اور فارغ البال ہو کوئی فکر نہ ہو۔
وَمَسٰکِنِکُمْ لَعَلَّکُمْ تُسْئَلُوْنَ (اور اپنے مکانات کی طرف شاید تم سے کوئی پوچھے پا چھے) یہ بات انہیں بطور استہزاء کہی جائے گی کہ تم اپنی نعمتوں کی طرف لوٹ چلو اور اپنے مکانات کی طرف جائو تاکہ کل تمہارا ماجرہ تم سے پوچھا جائے اور جو تمہارے اموال پر گزری تاکہ تم سائل کو اپنے علم و مشاہدہ سے جواب دو ۔
نمبر 2۔ لوٹ جائو اور اپنی مجالس میں اپنی سابقہ ہیئت کے مطابق بیٹھو۔ تاکہ تمہارے خدام تم سے پوچھیں اور وہ لوگ جو تمہارے معاملات کے ذمہ دار تھے۔ اور تمہیں کہیں جناب کا کیا آرڈر ہے ؟ اور ہم کس کام کو انجام دیں اور کس کو ترک کردیں ؟ جیسا کہ خوشحال، خدم وحشم والے لوگوں کا حال ہوتا ہے۔
نمبر 3۔ لوگ تم سے تمہاری مجالس میں مختلف مصائب و حوادث پر معاونتوں کا سوال کریں۔
نمبر 4۔ تم سے تمہارے پاس آنے والے اور طمع باز سوال کریں۔ اور تمہارے ہاتھوں کی موسلادھار بارش مانگیں۔
نمبر 5۔ وہ ایک دوسرے کو کہنے لگے : لا ترکضوا وارجعوا الی منازلکم و اموالکم لعلکم تسألون۔ شاید تم سے اموال وخراج لے لیا جائے اور قتل و ہلاکت سے بچا لئے جائو۔ پس آسمان سے نداء دی گئی۔ انبیاء کا انتقام۔ تلواروں نے انکا خاتمہ کردیا۔ پس اس وقت قَالُوْا یٰوَیْلَنَـآ اِنَّا کُنَّا ظٰلِمِیْنَ (کہنے لگے ہائے ہماری تباہی ہم بلاشبہ ظالم ہیں) ان لوگوں نے ایسے وقت اعتراف کیا جب اعتراف بےفائدہ ہے۔
Ayah 21:1515: فَمَا زَالَتْ تِّلْکَ دَعْوٰھُمْ حَتّٰی جَعَلْنٰـھُمْ حَصِیْدًا (ان کی یہی پکارر ہی آخر ہم نے ان کو کردیا کٹی ہوئی کھیتی کی طرح) تلکؔ سے یا وَیْلَنَاکی طرف اشارہ ہے۔ دعوھمؔ کا معنی پکار، چیخ۔
نحو : تلک زالت کا اسم ہونے کی بنا پر مرفوع ہے اور دعوٰھم اس کی خبر ہے۔ اور اس کا عکس بھی جائز ہے۔ جعلنا ھم حصیدا کا معنی مثل الحصید کٹی کھیتی کی طرح اور اس کو جمع نہیں لایا گیا جیسا کہ مقدر جمع نہیں آتا۔
خَامِدِیْنَ (مردہ بجھی ہوئی آگ کی طرح) حصیدًا خامدِیْن یہ جعل کا مفعول ثانی ہے۔ اے جعلنا ھم جامعین
لمماثلۃ الحصیدو الخمود ان میں دونوں مماثلتیں پائی جاتی تھیں جیسا کہتے ہیں : جعلتہ حلوًا حامضًا یعنی دونوں ذائقوں کا جامع کھٹا مٹھا بنایا۔
Ayah 21:1616: وَمَا خَلَقْنَا السَّمَآ ئَ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَھُمَا لٰعِبِیْنَ (اور ہم نے آسمان و زمین کو اور جو کچھ ان کے مابین ہے اس کو اس طور پر پیدا نہیں کیا کہ ہم فعل عبث کرنے والے ہوں) اللعبؔ ایسافعل جس کا اول حصہ مناسب ہو مگر وہ فعل قائم رہنے والا نہ ہو۔
نحو : لا عبینؔ یہ خلقناؔ کے فاعل سے حال ہے مطلب یہ ہے کہ ہم نے یہ بلند وبالا چھت اور نرم وسیع بستر ایسے ہی نہیں بنا دیئے کہ انکا کوئی مقصد نہ ہو انکا مقصد ان کے مدبر و خالق کی قدرت پر استدلال کرنا ہے۔ تاکہ نیک کو اس کی نیکی اور برے کو اس کی برائی کی سزا اپنی حکمت کے مطابق عنایت کریں۔
Ayah 21:1717: پھر اپنی ذات کو حدث کی صفات سے پاک قرار دیا۔ لَوْ اَرَدْنَآ اَنْ نَّتَّخِذَ لَہْوًا (اگر ہم کو مشغلہ ہی بنانا ہوتا) لھوًاسے یہاں بیٹا مراد ہے نمبر 2۔ عورت مراد ہے۔ گویا اس میں اہل کتاب کے اس عقیدہ کی تردید ہے کہ عیسیٰ اللہ تعالیٰ کا بیٹا اور مریم خدا کی بیوی ہے۔
لَّا تَّخَذْنَاہُ مِنْ لَّدُنَّآ (تو ہم اپنے ہی پاس کی چیز کو مشغلہ بناتے) ولد ان یا حوران بہشتی سے بناتے۔ اِنْ کُنَّا فٰعِلِیْنَ (اگر ہم کو یہ کرنا پڑتا) یعنی اگر ہم ان میں سے ہوتے جو یہ کرتے ہیں اور ہم ان میں سے نہیں ہیں کیونکہ یہ چیز ہمارے حق میں محال ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ نفی ہے جیسا کہ اس آیت میں : وان ادری [ الانبیاء : 109] ای ماکنا فاعلین ہم ایسا کرنے والے نہیں۔
Ayah 21:1818: بَلْ (بلکہ) اتخاذ لہو سے اعراض اور اس کی ذات کے اس سے منزہ ہونے کو بیان کیا گویا اس طرح فرمایا سبحاننا ان نتخذ اللھو (کھیل بنانے سے تو ہم پاک ہیں۔ ) بلکہ ہمارا طریقہ یہ چلا آرہا ہے کہ نَقْذِفُ (ہم پھینکتے ہیں) اور مسلط کرتے ہیں۔ بِالْحَقِّ (حق کو) قرآن کو عَلَی الْبَاطِلِ (باطل پر) شیطان پر نمبر 2۔ اسلام کو شرک پر نمبر 3۔ حقیقت کو کھیل پر فَیَدْ مَغُہٗ (پس وہ اس کا بھیجا نکال دیتا ہے) وہ اس کو توڑ دیتا۔ حق باطل کو کچل دیتا ہے۔
استعارہ لطیفہ :
الدمغ اور القذف کا استعمال اصل میں اجسام کیلئے ہوتا ہے پھر استعارۃً قذفؔ کو حق کے باطل پر وار کرنے کے لئے لائے۔ اور الدمغ کو باطل کے دور اور ختم کرنے کے لیے استعمال کیا۔ پس مستعار منہ حسی ہے اور مستعار لہ عقلی ہے۔ گویا اس طرح فرمایا بلکہ ہم حق کو جو طاقتور جسم کے مشابہ ہے باطل پر وارد کرتے ہیں وہ باطل جو ایک کمزور و ضعیف جسم کی مانند ہے پس حق باطل کو اسی طرح بیکار کردیتا ہے جیسا طاقتور جسم کمزور کو۔
فَاِذَا ھُوَ (پس یکدم وہ) ھو کی ضمیر باطل کی طرف راجع ہے۔ زَاھِقٌ (ہلاک و تباہ ہونے والا ہے) وَ لَکُمُ الْوَیْلُ مِمَّا تَصِفُوْنَ (اور تمہاری اس بات سے بڑی خرابی ہوگی جو تم بیان کرتے ہو) اللہ تعالیٰ کے متعلق کہ اس نے بیٹا وغیرہ بنا لیا ہے۔
Ayah 21:19اللہ مالک اور کائنات اس کی مملوک ہے :
19: وَلَہٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (اور جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اسی کے ہیں) وَمَنْ عِنْدَہٗ (اور جو بندے اللہ کے نزدیک ہیں) خلقت و ملک کے اعتبار سے پس پھر ان میں سے کونسی چیز اس کا بیٹا بننے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ جبکہ مملوکیت و نبوت میں باہمی منافات ہے والد و ولد میں جنسیت ضروری ہے اور وہ جنسیت سے پاک ہے۔ والد وو لد میں مماثلت ہوتی ہے اور وہ مثلیت سے پاک پھر بیوی بیٹا کیسے بن گئے۔
الارض پر وقف ہے کیونکہ من عندہؔ جو اس کے ہاں ہیں مرتبہ و مقام کے اعتبار سے ہے نہ کہ منزل و مکان کے اعتبار سے۔ مراد اس سے ملائکہ ہیں۔
نحو : یہ مبتدا ہے اور لا یستکبرون خبر ہے۔
لَایَسْتَکْبِرُوْنَ (وہ بڑے نہیں بنتے) عار نہیں کرتے۔ عَنْ عِبَادَتِہٖ وَلَا یَسْتَحْسِرُوْنَ (اس کی بندگی سے اور نہ تھکتے ہیں) استحسار کے معنی، تھکنا، ہارنا۔
Ayah 21:2020: یُسَبِّحُوْنَ الَّیْلَ وَالنَّھَارَلَا یَفْتُرُوْنَ (دن رات اللہ تعالیٰ کی پاکیزگی بیان کرتے اور (اظہارِ تعظیم میں) سست نہیں پڑتے) لا یفترونؔ یہ یسبحون کے فاعل سے حال ہے۔ یعنی ان کی تسبیح مسلسل و دائم ہے۔ تمام اوقات میں جاری وساری ہے۔ فراغت کے ذریعہ تھکاوٹ ان کے تسلسل میں مخل نہیں ہوتی۔ نمبر 2۔ کسی دوسرے کام کی مصروفیت ان کی تسبیح کے تسلسل کو منقطع نہیں کرتی بلکہ ہمارے سانس کی طرح ان کی تسبیح جاری رہتی ہے۔
Ayah 21:21توبیخِ مشرکین :
21: پھر مشرکین کی بات کا انکار کرتے ہوئے اور تو بیخ کرتے ہوئے ان سے اعراض کیا اس لئے امؔ بمعنی بل اور ہمزہ انکار توبیخ کیلئے لائے۔ اور فرمایا : اَمِ اتَّخَذُوْٓا اٰلِھَۃً مِّنَ الْاَرْضِ ھُمْ یُنْشِرُوْنَ (کیا ان لوگوں نے خدا کے سوا اور معبود بنا رکھے ہیں۔ زمین کی چیزوں میں سے وہ معبود مردوں کو زندہ کر کے اٹھائیں گے) ینشرون کا معنی وہ مردوں کو زندہ کریں گے۔
نحو : من الارض یہ اٰلہۃ کی صفت ہے کیونکہ ان کے آلھہ زمین کے جواہر سونا، چاندی، پتھر سے بنے ہوتے تھے۔ اور زمین پر ان کی پوجا کی جاتی تھی۔ اس لئے زمین کی طرف ان کی نسبت کردی کہ یہ تو زمینی معبود ہیں ‘ جیسا کہتے ہیں۔ فلان من المدینۃ ای مدنی۔ وہ مدینہ کا رہنے والا ہے۔ من الارض سے تخصیص نہیں بلکہ تحقیر مقصود ہے۔ نمبر 2۔ من الارض یہ اتخذوا کے متعلق ہے اور اس میں غایت مقصود اتخاد کی ابتداء کا بیان ہے۔
ھم ینشرون میں مشرکین کی انتہائی جہالت بیان کر کے استہزائی انداز سے تو بیخ و ڈانٹ پلائی۔ اگرچہ انکا دعویٰ نہیں تھا کہ ان کے اصنام مردوں کو زندہ کریں گے اور وہ دعویٰ بھی کیسے کرسکتے تھے۔ یہ تو بہت اوپری چیز ہے کہ بعض مردے دوسرے مردوں کو اٹھا کر کھڑا کریں البتہ اصنام کیلئے دعوی الوہیت سے دوبارہ اٹھائے جانے کا دعویٰ خود لازم آتا ہے۔ کیونکہ جو مردوں کو زندہ کرنے سے عاجز ہو وہ الہ نہیں بن سکتا۔ اس لئے کہ یہ کام اس قادر مطلق کا ہے جس کی قدرت ہر مقدور پر ہو۔ اور دوبارہ اٹھانا یہ بھی مقدورات میں سے ہے۔ پس جو اس کی قدرت نہیں رکھتا وہ عاجز بعض مقدرات ہونے کی وجہ سے قادر مطلق نہ رہا پس معبود نہ بن سکا۔
قراءت : حسن ؔ نے یَنشُرون یاء کے فتحہ سے پڑھا۔ اور یہ دونوں لغات ہیں۔ جیسے انشر اللہ الموتٰی و نشرھا اور دونوں کا معنی زندہ کرنا آتا ہے۔
Ayah 21:22دلیل تمالغ :
22: لَوْکَانَ فِیْھِمَآ اٰلِھَۃٌ اِلَّا اللّٰہُ (اگر ان دونوں میں اللہ تعالیٰ کے سوا اور معبود ہوتے) اِلَّا یہاں غیر کے معنی میں ہے۔
نحو : الہۃ کی صفت اِلَّا کے ساتھ لائی گئی جیسا کہ بغیر لوؔ کہا جاتا ہے الہۃ غیر اللّٰہ۔ بدل کی وجہ سے اس کا رفع جائز نہیں کیونکہ لوؔ بمنزلہ اِنَّ کے ہے۔ اس کے ساتھ کلام موجب ہوتی ہے۔ اور بدل تو کلام غیر موجب میں آتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ولا یلتفت منکم احد الا امراتک ] ھود : 81[
نمبر 2۔ استثناء کی وجہ سے نصب بھی درست نہیں کیونکہ جمع جب نکرہ آئے تو اس سے استثناء جائز نہیں۔ محققین کا یہ قول ہے کیونکہ اس میں عموم نہیں۔ اس طرح کہ اگر استثناء نہ ہوتا تو مستثنیٰ اس میں داخل ہوتا۔ مطلب یہ ہے اگر مختلف اٰلہہ اس اکیلے پیدا کرنے والے کے سوا آسمان و زمین کے معاملے کی تدبیر کرتے ہوتے تو یہ تباہ ہوجاتے۔
لَفَسَدَتَا (تو اختلاف مراد و مقصد کی وجہ سے برباد ہوجاتے ہیں۔ ) مطلب یہ ہے کہ دونوں وجود میں ہی نہ آسکتے۔ جیسا کہ اصول کلام میں بار بار آچکا۔ پھر اپنی ذات کو منزہ قرار دیتے ہوئے فرمایا۔
فَسُبْحٰنَ اللّٰہِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُوْنَ (پس عرش کا مالک ان امور سے پاک ہے۔ جو یہ لوگ اس کے متعلق بیان کرتے ہیں) شرکاء اور اولاد کی نسبت وغیرہ۔
Ayah 21:2323: لَایُسْئَلُ عَمَّا یَفْعَلُ (اس سے اس کے فعل کی باز پرس نہیں کی جائے گی) کیونکہ وہ مالک حقیقی خود ہے۔ اگر بادشاہ پر اس کا کوئی غلام اعتراض کرے تو بات انتہائی قبیح شمار ہوتی ہے۔ اور اس کو حماقت گنا جاتا ہے۔ حالانکہ دونوں ہم جنس بھی ہیں۔ اور بادشاہ کا خطاء پر ہونا بالکل ممکن ہے اور بادشاہ اس کا حقیقی مالک بھی نہیں۔ تو پھر تم خود اندازہ کرلو کہ شہنشاہ مطلق اور رب الا رباب پر کس کو اعتراض کا حق و جواز ہے۔ اس کے تمام افعال درست و صواب اور عین حکمت ہیں اور احتمال خطاء محال ہے۔
وَھُمْ یُسْئَلُوْنَ (اور ان سے باز پرس ہوگی۔ ) کیونکہ وہ سب مملوک اور خطا کار ہیں۔ ان کو ہر فعل میں یہ کہنے کا حق ہے کہ یہ تم نے کیونکر کیا ہے ؟ مملوک کی پیدائش اسی لئے ہے۔ نمبر 2۔ ہم یسألون کا مرجع مسیح و ملائکہ ہیں کہ ان سے باز پرس ہوگی پھر یہ معبود کیسے بن گئے جبکہ الوھیت جنسیت و مسؤولیت کے منافی ہے۔
Ayah 21:24ام کو مزید افادہ کے لئے لائے :
24: اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِہٖ اٰلِھَۃً (کیا انہوں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اور معبود بنا رکھے ہیں) دوبارہ لائے تاکہ مزید افادہ حاصل ہو۔ پہلی مرتبہ ذکر کرنے سے اس طرف اشارہ ہے کہ کافروں کے پاس اپنے ان باطل معبودوں کو الٰہ قرار دینے کی کوئی صحیح عقلی دلیل موجود نہیں ہے۔ کیا وہ مردوں کو زندہ کرنے کی قدرت رکھتے ہیں اگر نہیں تو ان کے معبود ہونے کیلئے کوئی عقلی استحقاق نہیں یہاں دوبارہ لائے کہ گزشتہ آسمانی کتابیں بھی اللہ تعالیٰ کا شریک قرار دینے کی اجازت نہیں دیتیں۔ پس شرک کی کوئی نقلی دلیل بھی نہیں۔ پھر حضرت محمد ﷺ کو فرمایا کہ قُلْ ھَاتُوْا بُرْھَا نَکُمْ ( آپ کہہ دیں کہ تم اپنے دعویٰ کی دلیل پیش کرو) خواہ عقلی ہو یا نقلی عقلی بھی ممکن نہیں اور نہ ہی نقلی۔ جو آسمانی کتاب ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی توحید وتنزیہ پائی جاتی ہے۔
ھٰذَا ذِکْرُ مَنْ مَّعِیَ (یہ قرآن ان لوگوں کیلئے نصیحت ہے جو میرے ساتھ ہیں) یعنی میری امت۔ وَذِکْرُ مَنْ قَبْلِیْ (اور ان لوگوں کیلئے بھی نصیحت ہے جو مجھ سے قبل امتیں ہوئیں) منْ قبلی ؔ سے سابقہ انبیاء (علیہم السلام) کی امتیں مراد ہیں۔ قرآن اللہ تعالیٰ کی توحید اور شرکاء کی نفی کر رہا ہے ( اگرچہ کفار عناد وضد سے نہ مانیں)
قراءت : مَعِیَ حفص نے پڑھا۔
جب کفار اپنے کفر سے باز نہ آئے تو قرآن نے ان سے اعراض کرتے ہوئے فرمایا : بَلْ اَکْثَرُھُمْ لَایَعْلَمُوْنَ الْحَقَّ (بلکہ ان کی اکثریت حق کو نہیں جانتی) الحقؔ سے قرآن مراد ہے۔
نحو : الحق کا نصب یعلمون کی وجہ سے ہے۔ ایک قراءت میں الحق ضمہ کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے۔ اس صورت میں مبتدا محذوف ہو کی خبر ہے ای ھو الحق۔ فَھُمْ مُّعْرِضُوْنَ (پس وہ اس وجہ سے اعراض کر رہے ہیں) ہم وہ اسی وجہ سے مُعْرِضُوْن ان آیات پر غور کرنے سے اعراض کرنے والے ہیں۔ جن پر غور سے حق سمجھ آسکتا ہے۔
Ayah 21:2525: وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّانُوْحِیْ اِلَیْہِ (اور ہم نے آپ سے پہلے کوئی ایسا پیغمبر نہیں بھیجا جس کے پاس یہ وحی ہم نے نہ بھیجی ہو) نوحی الیہ ابوبکر و حماد کے علاوہ باقی کوفی قراء نے اسی طرح پڑھا ہے۔
اَنَّہٗ لَا اِلٰـہَ اِلَّا اَنَا فَاعْبُدُوْنِ (کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں پس میری ہی عبادت کرو) فاعبدونؔ سے مراد مجھے وحدہٗ لاشریک مانو۔ اس آیت کو بار بارلائے۔ کیونکہ اس سے پہلے آیات توحید آئی ہیں۔ (پس دعو ٰی کا تکرار بغرض تاکید کردیا گیا )
Ayah 21:2626: وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا سُبْحٰنَہٗ (اور انہوں نے کہا کہ رحمان نے بیٹابنا لیا ہے وہ پاک ہے) یہ آیت بنو خزاعہ کے سلسلہ میں اتری جو ملائکہ کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ کی ذات کو اس سے منزہ قرار دیا اور ان کے متعلق خبر دی کہ جن کو تم نے معبود بنایا وہ تو عباد ہیں۔
بَلْ عِبَادٌ مُّکْرَمُوْنَ (بلکہ وہ اس کے معزز بندے ہیں) یعنی بلکہ وہ اس کے معزز بندے ہیں۔ جن کو قرب کا شرف بخشا اور قرب عنایت کیا گیا۔ وہ اولاد نہیں کیونکہ عبودیت ولادت کے منافی ہے۔
Ayah 21:2727: لَایَسْبِقُوْنَہٗ بِالْقَوْلِ (وہ اس سے آگے بڑھ کر بات نہیں کرسکتے) القولؔ میں الف لام اضافت کے قائم مقام ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ خود اللہ تعالیٰ کے قول کے پیرو ہیں۔ اور ان کا قول اس کے حکم سے سبقت کرنے والا نہیں۔ اور نہ اپنے قول سے اس کے قول کو مقدم کرسکتے ہیں۔
وَھُمْ بِاَمْرِہٖ یَعْمَلُوْنَ (وہ اسی کے حکم پر عمل کرنے والے ہیں) یعنی جس طرح انکا قول اس کے حکم کے تابع ہے اسی طرح انکا فعل بھی اس کے حکم کے مطابق ہے۔ وہ کوئی ایساعمل نہیں کرتے جس کا اس نے حکم نہ دیا ہو۔
Ayah 21:2828: یَعْلَمُ مَابَیْنَ اَیْدِیْھِمْ وَمَا خَلْفَھُمْ (اللہ تعالیٰ ان کے اگلے پچھلے احوال کو جانتا ہے) یعنی جو اعمال انہوں نے پہلے اور بعد کیے ہیں۔ وَلَا یَشْفَعُوْنَ اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰی (اور وہ کسی کی سفارش نہیں کرسکتے مگر اس کی جس کیلئے شفاعت کرنے کی اللہ تعالیٰ کی مرضی ہو) یعنی جس کے لئے وہ پسند کرے۔ نمبر 2۔ جس نے لا الٰہ الا اللہ کا اقرار کیا ہو۔ وَھُمْ مِّنْ خَشْیَتِہٖ مُشْفِقُوْنَ (وہ اس کے ڈر سے ہیبت زدہ ہیں) خائف ہیں۔
Ayah 21:2929: وَمَنْ یَّقُلْ مِنْھُمْ اور (بالفرض اگر) ان میں سے کوئی کہے ملائکہ میں سے اِنِّیْ اِلٰـہٌ مِّنْ دُوْنِہٖ (کہ میں اللہ تعالیٰ کے سوا معبود ہوں) اللہ تعالیٰ کے سوا۔
قراءت : اِنِّیَ مدنی اور ابو عمرو نے پڑھا ہے۔
فَذٰلِکَ نَجْزِیْہِ جَھَنَّمَ (تو ہم اس کو جہنم کی سزا دیں گے۔ )
نحو : ذلکمبتدا ہے نَجْزِیْہؔ جہنم اس کی خبر ہے۔ ذٰلک کا مشار الیہ قائل ہے۔ اور یہ دونوں جواب شرط ہیں۔
کَذٰلِکَ نَجْزِیْ الظّٰلِمِیْنَ (ہم ظالموں کو اسی قسم کی سزادیتے ہیں) ظالم سے کافر مراد ہیں۔ جنہوں نے الوہیت کو غیر مقام پر رکھ دیا۔ اور یہ کلام بر سبیل فرض اور تمثیل ہے کیونکہ فرشتوں کا معصوم ہونا قطعی ہے۔
قول ابن عباس ؓ و قتادۃ (رح) ، و ضحاک (رح) ابلیس کے متعلق وعید یقینی و قطعی ہے اس نے اپنے لئے الوہیت کا دعوٰی کیا۔ اپنی طاعت و عبادت کیلئے مخلوق کو بلایا۔
Ayah 21:3030: اَوَلَمْ یَرَالَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا (کیا ان کافروں کو معلوم نہیں ہوا)
قراءت : مکی نے ألم یَر پڑھا ہے۔
رتق کا معنی اور مطلب :
اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ کَانَتَا (کہ آسمان و زمین بند تھے) مجموعہ سماوات اور مجموعہ ارض مراد ہے اسی لئے کن ؔ نہیں فرمایا۔ رَتْقًا (بند) یہ مصدر ہے جو مفعول کے معنی میں ہے ای کانتا مرتوقتین ہے مصدریت کی وجہ سے جمع کی جگہ لائے ہیں۔ فَفَتَقْنٰـھُمَا (پس ہم نے ان دونوں کو چیر دیا) الفتقؔ دو چیزوں میں جدائی کرنا اور پھاڑنا اور الرتقؔ اس کی ضد ہے باہم ملانا، بند کرنا۔
سوال : کہ اولم ؔ یَر کہہ کر کفار کو آسمان و زمین کا رتق ہونا بتایا جارہا ہے انہوں نے دیکھا ہی کب ہے کہ اس کو اس انداز سے بیان کر کے ان کے ذہنوں میں پختہ کیا جائے ؟
جواب : قرآن میں یہ بات وارد ہے جو کہ معجزہ ہے پس مشاہد ومرئی کے قائم مقام ہوگئی۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ روایت بمعنی علم ہے اور کثرت سے مستعمل ہے۔ باقی عقلاً بھی یہ بالکل ممکن ہے کہ آسمان و زمین اولاً ملے ہوئے ہوں پھر ان کو جدا کردیا جائے۔ یہاں خاص طور پر الگ الگ کرنے کی خصوصیت کو بیان کرنا مقصود ہے۔ تلاصق کو نہیں پس اس کے لئے کوئی مخصص ہونا ضروری ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جو قدیم وازلی ہے۔
قول اول :
آسمان و زمین ملے ہوئے تھے ان کے درمیان فضاء نہ تھی تو ان دونوں کو جدا کردیا۔ ان کے درمیان فضاء بنادی ( یہ ابن عباس ؓ کا قول ہے)
دوسرا قول :
آسمان ایک ہی طبقہ تھے۔ پس ان کو جدا کر کے سات آسمان بنا دیے۔ اسی طرح زمین کے تمام طبقات ملے تھے۔ اس کے طبقات کو الگ تھلگ کردیا۔ اور سات زمینیں بنادیں ( یہ کعب احبار کا قول ہے)
تیسرا قول :
آسمان بند تھا کہ اس سے بارش نہ ہوتی تھی اور زمین بند تھی کہ سبزہ نہ اگاتی تھی۔ آسمان سے بارش برسا کر اس کا منہ کھول دیا اور زمین سے سبزہ اگا کر اس کو پھاڑ دیا۔ ( یہ عطیہ عکرمہ کا قول ہے جو تمام اقوال میں اکثر علماء کے ہاں احسن ہے)
ہر جاندار پانی سے :
وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَآئِ کُلَّ شَیْ ئٍ حَیٍّ ( اور ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز بنائی) یعنی پانی سے ہر حیوان کو بنادیا جیسا کہ دوسرے ارشاد میں فرمایا۔ واللّٰہ خلق کل دابۃ من مائ ] النور : 45 [ نمبر 2۔ گویا ہم نے اس کو پانی سے پیدا کیا جیسا کہ پانی کی انسان کو بہت ضرورت و محبت ہے اور اس سے صبر نہیں کرسکتا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا : خلق الانسان من عجل ] الانبیاء : 37 [ کہ گویا انسان جلد بازی سے بنا ہے۔ اَفَـلَا یُؤْمِنُوْنَ (کیا پھر بھی یہ ایمان نہیں لاتے) یعنی مشاہدات کی تصدیق نہیں کرتے۔
Ayah 21:3131: وَجَعَلْنَا فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ (اور زمین میں ہم نے بوجھ بنا دیئے) قائم رہنے والے پہاڑ۔ یہ رسا یرسو سے ہے جس کا معنی قائم و ثابت رہنا ہے۔ اَنْ تَمِیْدَ بِھِمْ (کہ زمین ان کو لے کر ہلنے نہ لگے) ان کو لیکر مضطرب و بےقرار نہ ہوجائے۔ یہاں لاؔ محذوف ہے اور لام بھی۔ لاؔ کا یہ حذف جائز ہے کیونکہ التباس نہیں جیسا کہ اس ارشاد میں مراد ہے۔ لئلا یعلم اہل الکتاب۔
] الحدید : 29 [
راستوں کی کیفیت
وَجَعَلْنَا فِیْھَا سُبُلاً فِجَاجًا (اور ہم نے اس زمین میں کشادہ راستے بنائے) فجاجًا : وسیع راستے۔ یہ فجٌّ کی جمع ہے۔
نحو : یہ حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ سُبُلاً ذو الحال مقدم ہے۔
اعتراض : اس ارشاد اور دوسری آیت تسلکوا منھا سبلا فجاجًا ] نوح : 20 [ میں کیا فرق ہے۔ کہ وہاں سبل کو مقدم کیا یہاں مؤخر ؟
جواب : پہلی آیت میں یہ بتلایا کہ اس نے زمین میں وسیع راستے بنا دیے اور دوسری میں یہ بیان فرمایا کہ جب ان راستوں کو بنایا تھا
تو اس کیفیت و انداز سے بنایا تھا تو گویا اس جگہ پہلے مبہم ذکر کیا پھر وضاحت کی۔
لَّعَلَّھُمْ یَھْتَدُوْنَ (تاکہ وہ منزل مقصود کو پہنچ جائیں) تاکہ ان راستوں سے بلاد مقصود تک پہنچ سکیں۔
Ayah 21:3232ـ : وَجَعَلْنَا السَّمَآ ئَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا (اور ہم نے آسمان کو ایک محفوظ چھت بنایا) کہ وہ گرنے سے بچی ہوئی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ویمسک السماء ان تقع علی الارض الا باذنہٖ الحج : 65 نمبر 2۔ محفوظ کا مطلب شہابوں کے ذریعہ شیاطین سے ان کی حفاظت کردی جیسا کہ فرمایا : وحفظنٰھا من کل شیطان رجیم ] الحجر : 17 [
وَّھُمْ عَنْ ٰایٰتِھَا (وہ کافر اس کی نشانیوں سے) ہمؔ سے مراد کفار ہیں آیات سے مراد سورج، چاند، ستارے۔ مُعْرِضُوْنَ (اعراض کرنے والے ہیں) ان میں غورو فکر نہیں کرتے کہ ایمان لائیں۔
Ayah 21:3333: وَھُوَ الَّذِیْ خَلَقَ الَّیْلَ (اور وہ ایسا ہے کہ اس نے رات کو بنایا) تاکہ تم سکون حاصل کرو اور وَالنَّھَارَ (اور دن بنائے) تاکہ تم اس میں کام کاج کرسکو۔ وَالشَّمْسَ (اور سورج کو) تاکہ دن کو روشنی کا کام دے۔ وَالْقَمَرَ (اور چاند کو) تاکہ رات کو چاند کرے۔ کُلٌّ (تمام) یعنی ہر ایک ان میں سے۔ اس میں تنوین مضاف کے بدلے میں ہے۔ ای کلہم ضمیر شمس و قمر کی طرف راجع ہے۔ اور مراد اس سے تمام نیرّات کی جنس ہے اور یہاں جمع عقلاء والی لائی گئی ہے ان کے فعل سباحت کو بیان کرنے کیلئے ہے۔
فِیْ فَلَکٍ یَسْبَحُوْنَ (ہر ایک اپنے دائرے میں تیر رہے ہیں) قول ابن عباس ؓ الفلک آسمان کو کہتے ہیں۔ قول جمہور یہ ہے کہ فلک آسمان کے نیچے موج بستہ ہے جس میں سورج، چاند، ستارے چل رہے ہیں۔
نحو : کل مبتدا اور یسبحون اس کی خبر ہے۔
یَّسْبَحُوْنَ وہ چل رہے ہیں۔ نمبر 2۔ گھوم رہے ہیں۔
نحو : یہ جملہ محل نصب میں الشمس و القمر سے حال ہے۔
Ayah 21:3434: وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِکَ الْخُلْدَ (ہم نے آپ سے پہلے بھی کسی بشر کیلئے ہمیشہ رہنا نہیں بنایا) خلد کا معنی بقاء و دوام ہے۔ اَفَاپنْ مِّتَّ (پھر اگر آپ کا انتقال ہوجائے) ۔
قراءت : مِتَّ کی میم کو کسرہ مدنی اور ابوبکر کے علاوہ کوفی قراء نے پڑھا ہے۔
فَھُمُ الْخٰلِدُوْنَ (تو کیا یہ لوگ ہمیشہ رہیں گے) ۔
نحو : اول فاء عطف جملہ علی الجملہ کیلئے ہے اور دوسری جزائے شرط کیلئے ہے۔ کفار کا اندازہ یہ تھا کہ یہ عنقریب مرجائیں گے تو انکا سلسلہ ختم ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی شماتت کی نفی کی ہے کہ فیصلہ الٰہی یہ ہے کہ دنیا میں کوئی انسان ہمیشہ نہ رہے گا اگر آپ فوت ہونگے تو انہوں نے ہمیشہ رہنا ہے ؟
Ayah 21:3535: کُلُّ نَفْسٍ ذَآ ئِقَۃُ الْمَوْتِ وَنَبْلُوْکُمْ (اور ہر جاندار کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے اور ہم تمہیں آزماتے ہیں) ابلاء کا معنی امتحان لینا ہے اس کو ابتلاء کا نام دیا۔ اگرچہ وہ عاملین کے اعمال کو جو آئندہ ہونے والے ہیں ان کے وجود سے قبل ہی جانتے ہیں کیونکہ وہ صورت اختبار میں سے ہے۔
بِالشَّرِّ (برائی سے) فقر و جسمانی ٗتکلیف وَالْخَیْرِ (اور بھلائی سے) مالداری، نفع سے فِتْنَۃً (آزمانا)
نحو : یہ نبلوکم کیلئے مصدر موکد ہے۔ اگرچہ غیر لفظ سے ہے۔
وَّاِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ (اور ہماری بارگارہ کی طرف تمہیں لوٹا یا جائے گا) پس تمہیں بدلہ تمہاری طرف سے پائے جانے والے صبر، شکر کی مقدار سے ہوگا۔
Ayah 21:36قراءت : ابن ذکوان نے تَرجعون پڑھا ہے۔
36: وَاِذَا رَاٰکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِنْ یَّتَّخِذُوْنَکَ اِلَّا ہُزُوًا (اور جب کافر لوگ آپ کو دیکھتے ہیں تو پس آپ کی ہنسی اڑاتے ہیں) اِلَّا ھُزُوًا انؔ نافیہ ہے اور ھزوًا یہ یتخذونک کا مفعول ثانی ہے۔
: آیت 36: یہ آیت ابو جہل کے متعلق اتری۔ اس کا گزر نبی اکرم ﷺ کے پاس سے ہوا تو ہنسنے لگا۔ اور کہنے لگا یہ نبی ہے بنی عبدالمناف کا اَھٰذَا الَّذِیْ یَذْکُرُ (کیا یہ ہے جو تمہارے معبودوں کا تذکرہ برائی سے کرتا ہے) یذکرؔ کا یہاں معنی عیب لگانا ہے۔
ٰالِھَتَکُمْ (تمہارے معبودوں کا) الذکر ؔ خیرو شر دونوں کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ اور ذاکر سچا ہو تو ثناء و مدح بنے گی اور اگر وہ دشمن ہو تو پھر ذکر مذمت کے معنی میں ہوگا۔ وَھُمْ بِذِکْرِ الرَّحْمٰنِ ( اور وہ رحمان کے ذکر سے) اللہ تعالیٰ کی یاد سے اور جس طرح اس کا ذکر وحدانیت کے لئے ضروری ہے اس سے ھُمْ کٰفِرُوْنَ (یہ منکر ہیں) بالکل اس کو مانتے ہی نہیں۔ وہ اس بات کے زیادہ مناسب ہے کہ انکا مذاق اڑایا جائے۔ آپ تو حق پرست ہیں اور وہ باطل پرست ہیں۔
دوسرا قول یہ ہے ذکر رحمان سے آپ پر اتارا جانے والا قرآن مراد ہے۔ اور ھم کافروں سے انکا قرآن سے ضد کی بنا پر انکار مراد ہے۔ اور یہ جملہ موضع حال میں ہے۔ یعنی وہ آپکا مذاق اڑاتے ہیں حالانکہ ان کی حالت قابل استہزاء و تمسخر ہے۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کے انکار والی حالت ہے۔
نحو : ہم کو تاکید کیلئے دوبارہ لائے۔ نمبر 2۔ مبتدا و خبر کے درمیان صلہ حائل ہوگیا اس لئے مبتداکا اعادہ کردیا گیا۔
Ayah 21:37خمیر میں جلد بازی :
37: خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ (انسان جلدی ہی کے خمیر کا بنا ہے) الانسانؔ کی تفسیر جنس سے کی گئی۔
دوسرا قول : یہ نضر بن حارث کے متعلق اتری وہ عذاب کا جلدی مطالبہ کرتا تھا۔ العجلؔ العجلۃ یہ دونوں مصدر ہیں اور اس کا معنی وقت سے کسی چیز کا مقدم ہونا۔ اور ظاہر یہی ہے کہ مراد جنس انسان ہے انسان میں عجلت رکھی گئی ہے۔ اور بےصبری اور جلدی کا ایسا مظاہرہ کرتا ہے گویا کہ اس کی پیدائش ہی مادہ جلدی سے ہوئی ہے۔ محاورہ عرب میں جو کثرت سے سخاوت کرنے والا ہو اس کے متعلق کہتے ہیں : خلق من الکرم۔ کہ یہ تو سخاوت سے بنا ہے۔ عجلت میں افراط پر اولاً انسان کی مذمت کی اور بتلایا کہ اس کی طبع میں پڑی ہے۔ پھر انسان کو منع کیا اور اس پر ڈانٹ پلائی گویا اس طرح فرمایا کہ انسان سے جلدی کرنا نئی بات نہیں وہ اس کی جبلت ہے اور طبیعت ثانیہ اور عادت مالوفہ ہے اور ان کے اجزاء میں رکھ کر جوڑی گئی ہے۔
دوسر اقول العجلؔ حمیری زبان میں مٹی کو کہتے ہیں جیسا کہ انکا شاعر کہتا ہے۔
والنبع فی الصخرۃ الصَّمَّاء مَنْبِتُہ والنَّخْلُ تنبتُ بین الماء و العَجَلِ
نبع درخت کے اگنے کا مقام تو سخت پتھر ہیں اور کھجور پانی اور مٹی میں اگتی ہیں۔
فائدہ : اللہ تعالیٰ نے جلد بازی سے منع کیا حالانکہ یہ انسان کی فطرتی چیز ہے۔ جیسا کہ شہوت کو مٹانے کا حکم دیا جبکہ وہ اس کے ترکیبی اجزاء میں پائی جاتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو قمع شہوت اور ترک عجلت کی طاقت عنایت فرمائی ہے اس کا بےمحل استعمال منع ہے۔
نحو : من عجل یہ حال ہے۔ سَاُورِیْکُمْ اٰیٰتِیْ (میں اپنی آیات دکھائوں گا) آیات سے قہر و غضب والی نشانیاں فَـلَا تَسْتَعْجِلُوْنِ (پس تم مجھے سے وہ جلدی مت مانگو) ان کے لانے کیلئے۔
قراءت : یعقوب اور سہل نے یاء سے یستعجلون پڑھا۔ وصل میں عیاش نے اسی طرح پڑھا۔
Ayah 21:3838: وَیَقُوْلُوْنَ مَتٰی ھٰذَا الْوَعْدُ (اور وہ کہتے ہیں کب ہوگا یہ وعدہ) عذاب کی آمد والا۔ نمبر 2۔ قیامت : اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ (اگر تم سچے ہو) کہا گیا کہ یہ ان کے عذاب کو جلدی مانگنے کی وجوہ میں سے ایک وجہ ہے۔
Ayah 21:3939: لَوْیَعْلَمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا حِیْنَ لَایَکُفُّوْنَ عَنْ وُّجُوْھِھِمُ (اگر کافر جان لیتے اس وقت کو جب کہ وہ آگ کو نہ اپنے چہروں کی طرف سے) النَّارَ وَلَا عَنْ ظُھُوْرِھِمْ وَلَا ھُمْ یُنْصَرُوْنَ (روک سکیں گے اور نہ ہی پشت کی جانب سے اور نہ ہی ان کی مدد کی جائے گی) لوؔ کا جواب محذوف ہے اور حینؔ یہ لیعلم کا مفعول بہٖ ہے۔ ای لو یعلمون الوقت الذی یتعجلونہ بقولھم متی ھذا الو عد الخ یعنی اگر ان کو اس وقت کا علم ہوجائے جس کو اپنے قول متی ھذا الوعد سے جلد طلب کر رہے ہیں تو وہ ایسا وقت ہے کہ آگ ان کو ہر طرف آگے پیچھے سے گھیر لے گی اور اس کو روکنے کی ان کو طاقت نہ ہوگی اور اپنے نفسوں سے اس کو ہٹا سکیں گے اور کوئی مددگار نہ پائیں گے جو ان کی مدد کرے اس لئے کہ ان میں اس درجہ کا کفر، استہزاء اور استعجال پایا جاتا ہے۔ لیکن اس وقت کے ان احوال کی جہالت نے ان کے لئے کفر و استہزاء کو معمولی بنادیا ہے۔
Ayah 21:4040: بَلْ تَاْ تِیْھِمْ (بلکہ ان پر آپڑے گی) قیامت۔ بَغْتَۃً (اچانک) فَتَبْھَتُھُمْ (پس ان کو حیران کر دے گی۔ ) اس کو روک نہ سکیں گے بلکہ اچانک آکر ان پر غلبہ پالے گی۔ فَـلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ رَدَّھَا (وہ اس کو واپس لوٹانے کی طاقت نہ رکھیں گے) اس کے دفع کرنے کی ان میں طاقت نہ ہوگی۔ وَ لَاھُمْ یُنْظَرُوْنَ (اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی۔ )