21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsمدارک التنزیل

Ayah 21:81

وَ لِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ عَاصِفَةً تَجْرِیْ بِاَمْرِهٖۤ اِلَى الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا١ؕ وَ كُنَّا بِكُلِّ شَیْءٍ عٰلِمِیْنَ Open ayah 21:81 in the Quran reader

اور ہم نے تیز ہوا سلیمان کے تابع (فرمان) کردی تھی جو ان کے حکم سے اس ملک میں چلتی تھی جس میں ہم نے برکت دی تھی (یعنی شام) اور ہم ہر چیز سے خبردار ہیں

تسخیرِ ریح اور تسخیر شیاطین : 81: وَلِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ (اور سلیمان (علیہ السلام) کیلئے ریح کو) یعنی ہم نے ان کے لئے ریح کو مسخر کیا۔ عَاصِفَۃً (تیز ) ۔ نحو : یہ حال ہے بہت تیز چلنا۔ دوسرے مقام پر اس کی صفت الرؔ خاء سے کی گئی ہے۔ کیونکہ وہ ہوا آپ کے اختیار سے چلی تھی۔ کسی وقت تیز اور دوسرے وقت نرم۔ آندھی کی طرح نہ ہوتی تھی بلکہ نرم و خو شگوار۔ تَجْرِیْ بِاَمْرِہٖ (وہ سلیمان (علیہ السلام) کے حکم سے چلتی) ہٗ کی ضمیر سلیمان (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے۔ اِلَی الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰرَکْنَا فِیْھَا (اس زمین کی طرف جس میں ہم نے برکت دی ہے) برکت نہروں کی کثرت، درختوں اور پھلوں کی کثرت سے۔ اس سے مراد شام کی سرزمین ہے اور آپ کی رہائش شام کی سرزمین میں تھی دیگر اطراف سلطنت سے ہوا آپ کے تخت کو اٹھا کر وہاں پہنچاتی تھی۔ وَکُنَّا بِکُلِّ شَیْ ئٍ عٰلِمِیْن (اور ہم ہر چیز سے واقف تھے) ہر چیز کو ہمارا علم محیط ہے۔ اشیائے مختلفہ ہمارے تقاضائے علمی کے مطابق ہی چلتی ہیں۔
Ayah 21:82

وَ مِنَ الشَّیٰطِیْنِ مَنْ یَّغُوْصُوْنَ لَهٗ وَ یَعْمَلُوْنَ عَمَلًا دُوْنَ ذٰلِكَ١ۚ وَ كُنَّا لَهُمْ حٰفِظِیْنَۙ Open ayah 21:82 in the Quran reader

اور دیووں (کی جماعت کو بھی ان کے تابع کردیا تھا کہ ان) میں سے بعض ان کے لئے غوطہ مارتے تھے اور اس کے سوا اور کام بھی کرتے تھے اور ہم ان کے نگہبان تھے

82: وَ مِنَ الشَّیٰطِیْنِ (اور کچھ شیاطین ایسے تھے) اور ہم نے بعض سرکش شیاطین کو آپ کے تابع کردیا۔ مَنْ یَّغُوْصُوْنَ لَہٗ (جو آپ کے لئے غوطہ لگاتے) سمندروں میں تاکہ ان میں سے آپ کے حکم کے مطابق موتی نکالیں اور دیگر جو اشیاء سمندر کی تہہ میں ہوتی ہیں ان کو نکال لائیں۔ وَیَعْمَلُوْنَ عَمَلًا دُوْنَ ذٰلِکَ (اور اس کے علاوہ دیگر کام بھی کرتے تھے) غوطہ خوری کے علاوہ جن کا تذکرہ دوسرے مقام پر فرمایا۔ مثلاً قلعے، بےجان مورتیاں، محلات، بڑی بڑی دیگیں، اور لگن وغیرہ۔ وَکُنَّا لَھُمْ حٰفِظِیْنَ (اور ہم ہی ان کو سنبھالنے والے تھے) کہ وہ ان کے حکم سے ٹیڑھا پن اختیار کریں۔ نمبر 2۔ اس حکم کو تبدیل کریں نمبر 2۔ جس کام کیلئے ان کو مسخر کیا گیا اس میں ان کی طرف سے بگاڑ پایا جائے۔
Ayah 21:83

وَ اَیُّوْبَ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَۚۖ Open ayah 21:83 in the Quran reader

اور ایوب (کو یاد کرو) جب انہوں نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ مجھے ایذا ہو رہی ہے اور تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے ولا ہے

واقعہ ایوب۔ : 83: وَاَیُّوْبَ (اور تم ایوب کا تذکرہ کرو) یہ اذکر فعل محذوف کا مفعول ہے۔ اِذْ نَادیٰ رَبَّہٗ ٓ اَنِّیْ (جب انہوں نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے) انہوں نے دعا کی کہ مجھے مَسَّنِیَ الضُّرُّ ۔ (تکلیف نے چھو لیا ہے۔ ) الضُر : جان میں مرض کے اثرات الضَرَّ : چیز میں تکلیف کے اثرات (نقصان مال و اولاد، بیماری وغیرہ) یا الضر بمعنی کمزوری۔ وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ (اور آپ سب سے زیادہ رحم کرنے والے ہیں۔ ) سوال میں نرمی کا ایسا انداز اختیار کیا جس سے رحمت الٰہی کو جوش آئے اور رب تعالیٰ کی صفت غایت رحمت سے یاد کیا اور اپنا مطلوب الفاظ میں ذکر نہ کیا۔ گویا اس طرح فرمایا آپ اس لائق ہیں کہ رحمت فرمائیں اور ایوب اس بات کا مستحق ہے کہ اس پر رحمت کا باب کھولدیا جائے پس آپ رحمت فرما دیجئے اور اس سے اس تکلیف کا ازالہ فرما دیں جس نے اس کو چھو لیا ہے۔ حضرت انس ؓ کا قول : آپ نے اپنے ضعف کی اس وقت خبر دی جب نماز کیلئے اٹھنے سے عاجز ہوئے۔ مگر شکوہ نہیں کیا وہ کیونکر شکوہ کرسکتا ہے جس کے متعلق اعلان الٰہی تھا۔ اِنَّ وجدناہ صابراً نعم العبد ] ص : 44 [ دوسرا قول انہوں نے شکوہ سرگوشی میں تلذذ کے طور پر کیا۔ اس کی طرف سے تضرر کے اظہار کیلئے نہیں کیا۔ اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شکایت تو انتہائی قرب کی علامت ہے جیسا کہ اس کے متعلق شکوہ اور کسی اور سے شکایت انتہائی دوری کی علامت ہے۔
Ayah 21:84

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ فَكَشَفْنَا مَا بِهٖ مِنْ ضُرٍّ وَّ اٰتَیْنٰهُ اَهْلَهٗ وَ مِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا وَ ذِكْرٰى لِلْعٰبِدِیْنَ Open ayah 21:84 in the Quran reader

تو ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور جو ان کو تکلیف تھی وہ دور کردی اور ان کو بال بچے عطا فرمائے اور اپنی مہربانی سے ان کے ساتھ اتنے ہی اور (بخشے) اور عبادت کرنے والوں کے لئے یہ نصیحت ہے

قبولیت ِدُعا : 84: فَاسْتَجَبْنَا لَہٗ (پس ہم نے ان کی دعا کو قبول کیا) ہم نے ان کی نداء کا جواب دیا۔ فَکَشَفْنَا مَابِہٖ مِنْ ضُرٍّ (پس ہم نے جو کچھ رکھا تھا اس کو دور کردیا) یعنی اس پر انعام کرتے ہوئے ان کی تکلیف کو کھول دیا۔ وَّاٰتَیْنٰہُ اَھْلَہٗ وَمِثْلَھُمْ مَّعَھُمْ (اور ہم نے ان کو ان کے بیوی بچے اور اتنے ہی اور بھی عطاء کردیئے) روایت تفسیریہ میں ہے کہ ایوب (علیہ السلام) رومی تھے۔ آپ اسحاق بن ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے۔ آپ کے سات بیٹے اور سات بیٹیاں اور تین ہزار اونٹ، سات ہزار بکریاں، پانچ سو بیلوں کی جوڑیاں جن کے پیچھے پانچ غلام ہر غلام کی بیوی بیٹے اور کھجور کے باغات تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انکا امتحان لیا۔ ان کے بیٹے اور مال مرگئے اور اور بدن پر اٹھارہ سال بیماری کا حملہ رہا یا تیرہ سال یا تین سال ایک دن ان کو ان کی بیوی نے کہا اگر تم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے تو اچھا ہوتا ؟ آپ نے فرمایا خوشحالی کا زمانہ کتنا تھا اس نے کہا اسّی سال۔ آپ نے فرمایا مجھے اللہ تعالیٰ سے حیاء آتی ہے۔ کہ میں اس تکلیف کے متعلق اس سے دعا کروں جبکہ ابھی میری آزمائش خوشحالی کی مدت کے برابر بھی نہیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان سے تکلیف کو دور فرمایا تو ان کے بیٹوں کو بعینہٖ زندہ کردیا اور اتنے بیٹے اور عنایت فرما دیئے۔ رَحْمَۃً مِّنْ عِنْدِنَا (اپنی رحمت کی وجہ سے) رحمۃً یہ مفعول لہ ہے۔ وَذِکْرٰی لِلْعٰبِدِیْنَ (اور عبادت گزاروں کو نصیحت کرنے کیلئے) یعنی ایوب پر رحمت کی خاطر اور دوسرے عابدین کی نصیحت کرنے کیلئے تاکہ وہ ان کی طرح صبر کریں اور انہی کی طرح ثواب پائیں۔
Ayah 21:85

وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِدْرِیْسَ وَ ذَا الْكِفْلِ١ؕ كُلٌّ مِّنَ الصّٰبِرِیْنَۚۖ Open ayah 21:85 in the Quran reader

اور اسماعیل اور ادریس اور ذوالکفل کو (بھی یاد کرو) یہ سب صبر کرنے والے تھے

تذکرٗہ اسماعیل ( علیہ السلام) و ادریس۔ : 85: وَاِسْمٰعِیْلَ (اور اسماعیل بن ابراہیم علیہما السلام) وَاِدْرِیْسَ (اور ادریس بن شیث بن آدم علیھم السلام) وَذَا الْکِفْلِ (اور ذوالکفل) یہ تمام اذکر کے مفعول ہیں کہ انکان ذکر کرو۔ ذوالکفل یہ الیاس (علیہ السلام) ہیں۔ نمبر 2۔ زکریا۔ نمبر 3۔ یوشع بن نون۔ اور ان کا نام یہ اسلئے رکھا کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصیب والے تھے۔ الکفل حصے اور نصیب کو کہتے ہیں کُلٌ مِّنَ الصّٰبِرِیْنَ (تمام صبر کرنے والوں میں سے تھے) یہ جن کا تذکرہ ہوا یہ تمام صفت صبر سے متصف تھے۔
Ayah 21:86

وَ اَدْخَلْنٰهُمْ فِیْ رَحْمَتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 21:86 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو اپنی رحمت میں داخل کیا، بلاشبہ وہ نیکوکار تھے۔

86: وَاَدْخَلْنٰھُمْ فِیْ رَحْمَتِنَا (اور ہم نے ان کو اپنی رحمت میں داخل کیا) رحمت سے نبوت مراد ہے یا آخرت کی نعمت اِنَّھُمْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ (بیشک وہ نیکوں میں سے تھے) یعنی یہ وہ لوگ تھے جن کی صلاح و فلاح میں فساد کی ملاوٹ نہ تھی۔
Ayah 21:87

وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ١ۖۗ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ Open ayah 21:87 in the Quran reader

اور ذو النون کو (یاد کرو) جب وہ (اپنی قوم سے ناراض ہو کر) غصے کی حالت میں چل دیئے اور خیال کیا کہ ہم ان پر قابو نہیں پاسکیں گے، آخر اندھیرے میں (خدا کو) پکارنے لگے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے (اور) بیشک میں قصوروار ہوں

مچھلی والا پیغمبر : 87: وَذَالنُّوْنِ (اور تم تذکرہ کرو مچھلی والے پیغمبر کا) النونؔ مچھلی کو کہتے ہیں۔ مچھلی کے پیٹ میں رہے۔ اس لئے اسی کی طرف نسبت کردی۔ اِذْذَّھَبَ مُغَاضِبًا (جبکہ وہ انتہائی غصہ میں چل دیئے) فائدہ : یہ حال ہے یعنی اپنی قوم کیلئے ناراض ہو کر۔ مطلب یہ کہ آپ نے ان سے جدا ہو کر ان کو ناراض کیا کیونکہ اس صورت میں ان پر عذاب اترنے کا خطرہ تھا۔ ایک روایت یہ ہے کہ آپ اپنی قوم سے تنگ آگئے کیونکہ آپ نے ان کو عرصہ دراز نصیحت کی مگر انہوں نے نصیحت پر کان نہ دھرا۔ بلکہ کفر پر قائم رہے۔ اس پر آپ غضبناک ہوگئے اور یہ خیال کیا کہ جائز ہے۔ کیونکہ انہوں نے یہ اللہ تعالیٰ کی خاطر ناراض ہو کر کیا ہے اور کفر اور کفار سے بغض کی بناء پر کیا ہے۔ ان پر لازم تھا کہ صبر کرتے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہجرت کے اذن کا انتظار کرتے۔ اس پر وہ مچھلی کے پیٹ میں پہنچا کر ابتلاء میں ڈال دیئے گئے۔ فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِ رَ عَلَیْہِ (پس انہوں نے گمان کیا کہ ہم ان پر تنگی نہ کریں گے) قول ابن عباس ؓ : ایک دن وہ حضرت معاویہ ؓ کے پاس گئے۔ اور کہا : لقد ضربتنی امواج القرآن البارحۃ فغرقت فیھا۔ گزشتہ رات مجھ تک قرآن کی امواج پہنچیں تو میں ان میں ڈوب گیا میں نے ان میں سے نکلنے کا راستہ تیرے علاوہ کوئی نہ پایا آپ نے کہا اے معاویہ وہ کیا ہے۔ چناچہ معاویہ نے یہ آیت تلاوت کی اور کہا کیا اللہ تعالیٰ کا پیغمبر یہ گمان کرسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اس پر قدرت نہیں ہے ؟ ابن عباس ؓ نے کہا یہ تقدیر الٰہی ہے قدرت بندہ نہیں ہے۔ فَنَادٰی فِی الظُّلُمٰتِ (پس انہوں نے اندھیروں میں آواز دی) یعنی مچھلی کے پیٹ کی شدید ظلمت جیسا کہ فرمایا : ذھب اللہ بنو رھم و ترکھم فی ظلمٰت ] البقرہ : 17 [ وقت مصیبت کی دعا : نمبر 2۔ رات کا اندھیرا اور سمندر کا اندھیرا اور مچھلی کے پیٹ کا اندھیرا۔ (اَنْ ای بانہٗ اَنْ اصل میں اَنَّ ہے اور ہٗ ضمیر محذوف ہے) لَّا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ (یہ کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں مگر تو) الا یہ ای کے معنی میں ہوسکتا۔ ای سُبْحٰنَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظّٰالِمِیْنَ (اپنے نفس پر ظلم کرنے والا ہوں کہ آپ کی اجازت سے پہلے اپنی قوم سے نکل آیا۔ ) حدیث میں ہے کہ جو مصیبت زدہ اس دعا کو پڑھے گا اس کی دعا قبول ہوگی۔ (ترمذی، نسائی) قول حسن (رح) ان کو اس لئے نجات ملی کہ انہوں نے اپنے متعلق زیادتی کا اقرار کرلیا۔
Ayah 21:88

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ١ۙ وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 21:88 in the Quran reader

تو ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور ان کو غم سے نجات بخشی اور ایمان والوں کو ہم اسی طرح نجات دیا کرتے ہیں

88: فَاسْتَجَبْنَا لَہٗ وَنَجَّیْنٰہُ مِنَ الْغَمِّ (پھر ہم نے ان کی دعا کو قبولیت عنایت فرمائی اور ان کو غم سے نجات دی) لغزش و حشت اور وحدت کا غم۔ وَکَذٰلِکَ نُنْجِی الْمُؤْمِنِیْنَ (اور ہم مؤمنین کو اسی طرح نجات دیا کرتے ہیں) جب وہ دعا کرتے ہیں اور ہم سے فریاد کرتے ہیں۔ قراءت : شامی اور ابوبکر نے جیمؔ اور نونؔ کے ادغام سے پڑھا ہے اور یہ بعض قراء کا مسلک ہے کیونکہ نون کا جیم میں ادغام نہیں ہوتا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ تقدیر عبارت اس طرح ہے۔ نُجّی النجاءُ من المؤمنین یاء کو تخفیف کیلئے ساکن کردیا۔ اور فعل کا اسناد مصدر کی طرف کردیا اور مؤمنین کو النجاء مصدر کی وجہ سے نصب دیا۔ لیکن اس میں مصدرکو فاعل کے قائم مقام لایا گیا ہے جبکہ مفعول موجود ہے اور یہ جائز نہیں اور یاء کا سکون پایا گیا ہے۔ مگر یہ ضرورت کا تقاضا ہے اسلئے جائز ہوگیا۔ ایک اور قول یہ ہے : اس کی اصل ننجی ‘ تنجیہ میں سے ہے۔ دو نون کے اجتماع سے دوسری نون کو حذف کردیا جیسا کہ ایک تاء کو اس آیت میں حذف کیا گیا ہے۔ تنزل الملائکۃ۔ [ القدر : 4]
Ayah 21:89

وَ زَكَرِیَّاۤ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ رَبِّ لَا تَذَرْنِیْ فَرْدًا وَّ اَنْتَ خَیْرُ الْوٰرِثِیْنَۚۖ Open ayah 21:89 in the Quran reader

اور زکریا کو (یاد کرو) جب انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ پروردگار مجھے اکیلا نہ چھوڑو اور تو سب سے بہتر وارث ہے

زکریّا ( علیہ السلام) کا تذکرہ : 89: وَزَکَرِیَّآ اِذْنَادٰی رَبَّہٗ رَبِّ لَاتَذَرْنِیْ فَرْدًا (اور زکریا کو یاد کرو جبکہ انہوں نے اپنے رب کو پکارا اے میرے رب مجھے اکیلانہ چھوڑ) انہوں نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ وہ ان کو بیٹا عنایت فرمائے جو انکا وارث ہو۔ اور بغیروارث کے ان کو اکیلا نہ چھوڑیں۔ پھر اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے حوالہ کرتے ہوئے کہا۔ وَّ اَنْتَ خَیْرُ الْوٰرِثِیْنَ (سب وارثوں سے بہتر وارث آپ ہی ہیں) یعنی اگر آپ وارث نہ عنایت فرمائیں گے تو تب بھی کوئی پرواہ نہیں اس لئے کہ آپ سب سے بہتر وارث ہیں۔ اور ہمیشہ باقی رہنے والے ہیں۔
Ayah 21:90

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ١٘ وَ وَهَبْنَا لَهٗ یَحْیٰى وَ اَصْلَحْنَا لَهٗ زَوْجَهٗ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ یَدْعُوْنَنَا رَغَبًا وَّ رَهَبًا١ؕ وَ كَانُوْا لَنَا خٰشِعِیْنَ Open ayah 21:90 in the Quran reader

تو ہم نے ان کی پکار سن لی اور ان کو یحییٰ بخشا اور ان کی بیوی کو اولاد کے قابل بنادیا یہ لوگ لپک لپک کر نیکیاں کرتے اور ہمیں امید اور خوف سے پکارتے اور ہمارے آگے عاجزی کیا کرتے تھے

90: فَاسْتَجَبْنَا لَہٗ وَوَھَبْنَا لَہٗ یَحْیٰی (پھر ہم نے ان کی دعا کو قبول کیا اور ان کو یحییٰ بیٹا عنایت فرمایا) وَاَصْلَحْنَا لَہٗ زَوْجَہٗ (اور ہم نے ان کی بیوی کو درست کردیا) بانجھ پن کے بعد ولادت کے قابل بنادیا نمبر 2۔ خوبصورت بنادیا وہ بدصورت تھیں۔ اِنَّھُمْ (بیشک وہ) یہ انبیائے مذکورین۔ کَانُوْا یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ (وہ بھلائی کے کاموں میں جلدی کرنے والے تھے) ان کی دعائیں اس لئے جلد قبول ہوئیں کیونکہ وہ ابواب خیر کی طرف جلدی کرنیوالے تھے اور خیر کے حصول میں مسارعت کرنے والے تھے۔ وَیَدْعُوْنَنَا رَغَبًا وَّ رَھَبًا (اور امید و خوف سے وہ ہمیں پکارتے تھے) رحمت کی طمع اور سزاکا خوف جیسا کہ اس ارشاد میں ہے۔ یحذر الاخرۃ و یرجوا رحمۃ ربہ ] الزمر : 9 [ نحو : رغبا و رھبا یہ دونوں مصدر ہیں اور موضع حال میں ہیں۔ نمبر 2۔ دونوں مفعول لہ ہیں۔ مطلب یہ ہے ہماری رغبت کیلئے اور ہمارے ڈر سے۔ وَکَانُوْا لَنَاخٰشِعِیْنَ (اور وہ ہمیں سے ڈرنے والے تھے) تواضع کرنے والے اور ہماری عظمت سے ڈرنے والے۔
Ayah 21:91

وَ الَّتِیْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِیْهَا مِنْ رُّوْحِنَا وَ جَعَلْنٰهَا وَ ابْنَهَاۤ اٰیَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 21:91 in the Quran reader

اور ان (مریم) کو (بھی یاد کرو) جنہوں نے اپنی عفت کو محفوظ رکھا تو ہم نے ان میں اپنی روح پھونک دی اور ان کو ان کے بیٹے کو اہل عالم کے لئے نشانی بنادیا

تذکرئہ مریم۔ : 91: وَالَّتِیْ (اور یاد کرو اس عورت کو) عبارت اس طرح ہے : اذکر التی اَحْصَنَتْ فَرْجَھَا (جس نے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی) حلال و حرام ہر دو سی۔ فَنَفَخْنَافِیْھَا مِنْ رُّوْحِنَا (پھر ہم نے پھونکا اس کے اندر اپنی روح کو) ہم نے اس میں روح مسیح کو جاری کردیا۔ نمبر 2۔ ہم نے جبرئیل کو حکم دیا انہوں نے مریم کے گریبان میں پھونک ماری۔ پھر اس پھونک سے عیسیٰ کو مریم کے بطن میں پیدا کردیا۔ اضافت روح کی اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے عیسیٰ (علیہ السلام) کی تشریف کیلئے فرمائی ہے۔ وَجَعَلْنٰہَا وَابْنَھَآاٰیَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ (اور ہم نے مریم اور اس کے بیٹے کو جہان والوں کیلئے نشانی بنادیا) ایۃؔ یہ مفعول ثانی ہے۔ یہاں جہان والوں کیلئے نشانی فرمایا یہ دونوں نشانیاں نہیں فرمایا۔ جیسا کہ اس آیت میں ہے۔ وجعلنا اللیل والنھار آیتین ] الاسراء : 12 [ کیونکہ انکا مجموعی وجود قدرت کی ایک نشانی ہے اور وہ بغیر باپ ان کی پیدائش ہے۔ نمبر 2۔ تقدیر عبارت اس طرح تھی : وجعلناھا آیۃ وابنھا کذٰلک کہ ہم نے مریم کو بھی نشانی بنایا اور اسی طرح ان کے بیٹے کو بھی پس آیۃً مفعول معطوف علیہ ہے۔ اور اس کے لئے دلیل وہ قراءت ہے جس میں آیتینؔ اس کو پڑھا گیا ہے۔
Ayah 21:92

اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً١ۖ٘ وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْنِ Open ayah 21:92 in the Quran reader

یہ تمہاری جماعت ایک ہی جماعت ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں تو میری ہی عبادت کیا کرو

92: اِنَّ ھٰذِہٖ اُمَّتُکُمْ (بیشک یہ تمہاری ملت ہے) الامۃؔ ملت کے معنی میں ہے۔ ھذہؔ کا مشار الیہ ملت اسلام ہے اور یہ تمام انبیاء (علیہم السلام) کی ملت ہے۔ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً (ایک ہی ملت ہے) یہ حال ہے یعنی ایک ہی ملت ہے جس میں دوسروں کا اشتراک نہیں۔ اور اس میں عامل وہ ہے جس پر اسم اشارہ دلالت کر رہا ہے۔ یعنی ملت اسلام ہی تمہاری وہ ملت ہے جس پر قائم رہنا تمہارے لئے ضروری ہے اور تم اس سے قطعاً انحراف اختیار نہ کرو اس بات کی طرف ایک حلت ہونا اور مختلف نہ ہونا اشارہ کررہا ہے۔ وَّاَنَا رَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْنِ (اور میں تمہارا رب ہوں پس تم میری ہی عبادت کرو) میں نے اپنے اختیار سے تمہاری تربیت کی پس شکریہ اور افتخار کے طور پر تم میری ہی عبادت کرو اور اس میں خطاب تمام لوگوں کیلئے ہے۔
Ayah 21:93

وَ تَقَطَّعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ١ؕ كُلٌّ اِلَیْنَا رٰجِعُوْنَ۠ Open ayah 21:93 in the Quran reader

اور یہ لوگ اپنے معاملے میں باہم متفرق ہوگئے (مگر) سب ہماری طرف رجوع کرنے والے ہیں

93: وَتَقَطَّعُوْآ اَمْرَھُمْ بَیْنَھُمْ (اور انہوں نے آپس میں اپنا کام ٹکڑے ٹکڑے کردیا) اصل کلام اس طرح ہے تقطعتم تم نے ٹکڑے ٹکڑے کیا۔ البتہ کلام کا رخ مخاطب سے غائب کی طرف پھیرا گیا جیسا کہ التفات کا طریقہ ہے مطلب یہ ہے انہوں نے اپنے دین کے معاملے کو اپنے مابین ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور گروہ اور جماعتیں بن گئیں پھر ان کو ڈرایا کہ یہ فرقے مختلف ہیں۔ کُلٌّ اِلَیْنَا رٰجِعُوْنَ (تمام ہماری طرف لوٹنے والے ہیں) پس ہم ان کو ان کے اعمال پر بدلہ دیں گے۔
Ayah 21:94

فَمَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا كُفْرَانَ لِسَعْیِهٖ١ۚ وَ اِنَّا لَهٗ كٰتِبُوْنَ Open ayah 21:94 in the Quran reader

جو نیک کام کرے گا اور مومن بھی ہوگا تو اس کی کوشش رائیگاں نہ جائے گی اور ہم اس کے لئے (ثواب اعمال) لکھ رہے ہیں

94: فَمَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ (جو شخص بھی نیکیاں کرے) ذرا بھر وَھُوَمُؤْمِنٌ (اس حال میں کہ وہ مومن ہو) جس پر ایمان لانا ضروری ہو۔ فَلاَ کُفْرَانَ لِسَعْیِہٖ (اس کی کوشش کی ناقدری نہ کی جائے گی) یعنی اس کی کوشش مقبول و منظو رہے۔ کفرانؔ یہ محرومی ثواب میں ایک مثال ہے۔ جیسا کہ شکر عطاء میں ایک حالت ہے بلاغت میں اضافہ کیلئے جنس کی نفی کی گئی ہے۔ وَاِنَّا لَہٗ (اور بیشک ہم اس کے لئے) اس کوشش یعنی ہمارے حکم کی حفاظت و نگہبانی کو کَاتِبُوْنَ (لکھنے والے ہیں) اس کے صحیفہ عمل میں پس اس پر اس کو ثواب دیں گے۔
Ayah 21:95

وَ حَرٰمٌ عَلٰى قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَاۤ اَنَّهُمْ لَا یَرْجِعُوْنَ Open ayah 21:95 in the Quran reader

اور جس بستی (والوں) کو ہم نے ہلاک کردیا محال ہے کہ (وہ دنیا کی طرف رجوع کریں) وہ رجوع نہیں کریں گے

واپس لوٹنا ناممکن : 95: وَحَرٰمٌ (اور ناممکن ہے) قراءت : خلف اور حفص کے علاوہ کوفی قراء نے اس کو حِرمٌ پڑھا ہے۔ اور یہ دونوں لغات ہیں جیسے وَحَلَالٌ اور یہ معنی کے لحاظ سے اس کی ضد میں۔ حرام ؔ سے یہاں مراد وہ جس کا وجود ممتنع ہو۔ عَلٰی قَرْیَۃٍ اَھْلَکْنٰھَآ اَنَّہُمْ لَایَرْجِعُوْنَ (ان بستیوں کیلئے ان کو ہم نے فنا کردیا کہ وہ دنیا میں لوٹ کر آئیں) مطلب یہ ہے یہ بات ہلاک کئے ہوئے کیلئے ناممکن ہے کہ وہ بعث کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف نہ لوٹے۔ نمبر 2۔ ناممکن ہے اس بستی کیلئے جس کو ہم نے تباہ کردیا یعنی ہلاک کرنا مقر ر کردیا یا ہلاکت کا حکم کردیا کہ وہ ان اعمال کی طرف لوٹ آئیں جن کا پہلی آیت میں عمل صالح اور مقبول کوشش کی صورت میں ذکر ہوا۔ وہ کفر سے اسلام کی طرف نہ لوٹیں گے۔
Ayah 21:96

حَتّٰۤى اِذَا فُتِحَتْ یَاْجُوْجُ وَ مَاْجُوْجُ وَ هُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ Open ayah 21:96 in the Quran reader

یہاں تک کہ یاجوج اور ماجوج کھول دیئے جائیں اور وہ ہر بلندی سے دوڑ رہے ہوں

تذکرئہ یاجوج ماجوج : 96: حَتّٰی (یہاں تک کہ) حتی کے بعد کلام بطور حکایت لایا جاتا ہے۔ اور کلام محکی ہے اور جملہ شرط و جزاء بنے گا۔ میری مراد اس سے اِذَا اور جو اس کے مابعد آرہا ہے وہ ہے : فُتِحَتْ یَاْجُوْجُ وَمَاْ جُوْجُ (جب یا جوج و ماجوج کو کھول دیا جائے گا۔ ) یعنی ان کے سامنے والی دیوار کو کھول دیا جائے گا۔ مضاف کو حذف کردیا جیسا کہ مضاف کو قریۃ میں حذف کیا جاتا ہے۔ قراءت : شامی نے فتحّت پڑھا ہے۔ یاجوج و ماجوج یہ جنس انسانی کے دو قبیلے ہیں کہا جاتا ہے کہ لوگوں کے کل دس حصے ہیں ان میں سے نوؔ حصے یا جوج ماجوج ہیں۔ وَھُمْ ( اور وہ) یہ ضمیر ان لوگوں کی طرف راجع ہے جو محشر کی طرف چلائے جائیں گے۔ دوسرا قول یہ یا جوج وماجوج کی طرف راجع ہے جبکہ سدّ کے کھل جانے پر وہ نکلیں گے۔ مِّنْ کُلِّ حَدَبٍ (بلند زمین میں) اونچی زمین۔ یَّنْسِلُوْنَ (کھسکنے والے ہونگے) تیزی سے جانے والے ہونگے۔
Ayah 21:97

وَ اقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ فَاِذَا هِیَ شَاخِصَةٌ اَبْصَارُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ یٰوَیْلَنَا قَدْ كُنَّا فِیْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا بَلْ كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 21:97 in the Quran reader

اور (قیامت کا) سچا وعدہ قریب آجائے تو ناگاہ کافروں کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں (اور وہ کہنے لگیں کہ) ہائے شامت ہم اس (حال) سے غفلت میں رہے بلکہ ہم (اپنے حق میں) ظالم تھے

قیامت اور اس کا منظر : 97: وَاقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ (اور سچا وعدہ قریب ہوجائے گا) الوعدؔ سے قیامت مراد ہے۔ فائدہ : اور اذاکا جواب۔ فَاِذَا ھِیَ ہے یہ اذا مفاجات کیلئے ہے اور جزاء پر فاء کی جگہ آتا رہتا ہے جیسا کہ اس ارشاد میں : اذا ھم یقنطون ] الروم : 36 [ جب فاء بھی آگیا تو جزاء کے شرط کے ساتھ متصل ہونے میں دونوں نے تعاون کیا پس مزید تاکید ہوگئی اگر اس طرح کہا جاتا : فہی شاخصۃ یا اذاھی شاخصۃ تو تب بھی درست ہوتا۔ ھی ؔ یہ ضمیر مبہم ہے اس کی وضاحت الا بصار کر رہا ہے۔ اور اس کی تفسیر شَاخِصَۃٌ اَبْصَارُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ہے۔ کہ کافروں کی آنکھیں اوپر کو اٹھی ہونگی۔ یعنی پلکیں اونچی ہونگی اور جس مصیبت میں گرفتار ہونگے ان کی وجہ سے پلک جھپک نہ سکیں گے۔ یٰوَیْلَنَا (وہ کہیں گے ہائے کاش) یہ محذوف سے متعلق ہے تقدیر عبارت یہ ہے یقولون یاویلنا وہ کہیں گے ہائے ہماری خرابی۔ نحو : یقولون یہ الذین کفروا سے حال ہے۔ قَدْکُنَّا فِیْ غَفْلَۃٍ مِّنَ ھٰذَا (کہ ہم تو اس سے غفلت میں پڑے تھے) ھٰذا سے مراد یوم ہے۔ بَلْ کُنَّا ظٰلِمِیْنَ (بلکہ ہم ہی ظالم تھے) کیونکہ ہم نے عبادت کو اس کے مقام سے ہٹا کر دوسرے مقام پر رکھ دیا۔
Ayah 21:98

اِنَّكُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ١ؕ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ Open ayah 21:98 in the Quran reader

(کافر اس روز) تم اور جن کی تم خدا کے سوا عبادت کرتے ہو دوزخ کا ایندھن ہونگے (اور) تم (سب) اس میں داخل ہو کر رہوگے

98: اِنَّکُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ (بلاشبہ تم اور جس چیز کی تم اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کرتے ہو) یعنی اصنام اور ابلیس اور اس کے معاونین کیونکہ وہ ان کی طاعت میں بتوں کو پوجنے لگے اور ان کے پیچھے چل کر ان کی عبادت شروع کی۔ حَصَبُ (ایندھن ) قراءت : یہ حطب بھی پڑھا گیا ہے۔ جَھَنَّمَ اَنْتُمْ لَھَا وَارِدُوْنَ (ہیں جہنم کا اور تم اس میں اترنے والے ہو) ۔ اس میں داخل ہوگے۔
Ayah 21:99

لَوْ كَانَ هٰۤؤُلَآءِ اٰلِهَةً مَّا وَرَدُوْهَا١ؕ وَ كُلٌّ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 21:99 in the Quran reader

اگر یہ لوگ (درحقیقت) معبود ہوتے تو اس میں داخل نہ ہوتے اور سب اس میں ہمیشہ (جلتے) رہیں گے

99: لَوْکَانَ ھٰٓؤُلَآئِ اٰلِھَۃً (اگر یہ معبود ہوتے) جیسا کہ تمہارا خیال ہے۔ مَّا وَرَدُوْھَا (تو وہ جہنم میں نہ اترتے) داخل نہ ہوتے۔ وَ کُلٌّ (اور تمام) یعنی عابد و معبود۔ فِیْھَا (اس آگ میں) خٰلِدُوْنَ (ہمیشہ رہنے والے ہیں) ۔
Ayah 21:100

لَهُمْ فِیْهَا زَفِیْرٌ وَّ هُمْ فِیْهَا لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 21:100 in the Quran reader

وہاں ان کو چلانا ہوگا اور اس میں (کچھ) نہ سن سکیں گے

100: لَھُمْ (ان کے لئے) یعنی کفار کیلئے۔ فِیْھَا زَفِیْرٌ (اس میں کر اہٹ ہوگی) رونا۔ شور مچانا۔ چیخنا۔ وَّھُمْ فِیْھَا لَایَسْمَعُوْنَ (اور اس میں کوئی بات نہ سنیں گے) کوئی بات کیونکہ وہ بہرے ہوجائیں گے اور بات سننے میں انسیت کی ایک قسم ہے جو ان کو میسر نہ کی جائے گی۔
Ayah 21:101

اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰۤى١ۙ اُولٰٓئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَۙ Open ayah 21:101 in the Quran reader

جن لوگوں کے لئے ہماری طرف سے پہلے بھلائی مقرر ہوچکی ہے وہ اس سے دور رکھے جائیں گے

اطاعت والے جہنم سے محفوظ : 101: اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَھُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰٓی (جن کے لئے ہماری طرف سے بھلائی مقدر ہوچکی ہوگی) الحسنیؔ جن میں مرتبہ والی خصلت و عادت۔ یہ احسن کی مؤنث ہے اور نمبر 1۔ سعادت کو کہتے ہیں نمبر 2۔ ثواب کی بشارت نمبر 3۔ اطاعت کی توفیق۔ شان نزول : یہ آیت ابن الزبعری کے اس قول کے جواب میں اتری جو اس نے آنحضرت ﷺ کی تلاوت جو صنادیدِ قریش کے سامنے کی گئی اس کو سن کر کہا : انکم وما تعبدون من دون اللہ حصب جہنم الی قولہ خالدون۔ تو وہ کہنے لگا کیا یہود نے عزیر اور نصاریٰ نے مسیح اور نبو ملیح نے ملائکہ کی عبادت نہیں کی۔ اور ماتعبدونؔ میں ماؔ غیر ذوی العقول کیلئے آتا ہے۔ اس میں یہ عاقل شامل ہی نہیں مگر وہ معاندین تھے اس لئے ماؔ کو عموم پر قرار دیکر اس میں شامل کرلیا۔ اُولٰٓئِکَ (وہ یعنی عزیر و مسیح اور ملائکہ) عَنْہَا (اس سے) یعنی جہنم سے مُبْعَدُوْنَ (دور رکھے جائیں گے) ۔ کیونکہ انہوں نے نہ عبادت کا حکم دیا اور نہ اس کو پسند کرتے تھے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ : ان الذین سبقت لہم منا الحسنی سے مراد تمام مومن ہیں۔ اس لئے کہ علی ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے یہ آیت پڑھی۔ اور فرمایا میں ان لوگوں میں سے ہوں اور ابو بکر، عمر، عثمان طلحہ، زبیر، سعد، عبدالرحمان، ان میں سے ہیں۔ قول جنید (رح) : شروع میں ہماری عنایت ان پر ہوچکی انتہاء میں ہماری ولایت ان پر ظاہر ہوجائے گی۔
Ayah 21:102

لَا یَسْمَعُوْنَ حَسِیْسَهَا١ۚ وَ هُمْ فِیْ مَا اشْتَهَتْ اَنْفُسُهُمْ خٰلِدُوْنَۚ Open ayah 21:102 in the Quran reader

(یہاں تک کہ) اس کی آواز بھی تو نہیں سنیں گے، اور جو کچھ ان کا جی چاہے گا اس میں (یعنی ہر طرح کے عیش اور لطف میں) ہمیشہ رہیں گے

102: لَایَسْمَعُوْنَ حَسِیْسَھَا (وہ اس کی آہٹ بھی نہ سنیں گے) حسیسؔ سے وہ آوازمراد ہے جو حس سے معلوم ہو اور جہنم کی بھڑک کی حرکت۔ یہ درحقیقت جہنم سے ان کو دور ہونے میں مبالغہ ظاہر کرنے کیلئے فرمایا یعنی وہ اس کے قریب بھی نہ ہونگے اس کی آواز ان کو سنائی دے اور اس کی لپٹوں کی آواز سنائی دے۔ وَھُمْ فِیْ مَا اشْتَھَتْ اَنْفُسُھُمْ (اور وہ اپنی اپنی من پسند نعمتوں میں) خٰلِدُوْنَ (ہمیشہ رہیں گے) ہمیشہ ان کی اقامت ان نعمتوں میں ہوگی۔
Ayah 21:103

لَا یَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ وَ تَتَلَقّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ١ؕ هٰذَا یَوْمُكُمُ الَّذِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 21:103 in the Quran reader

ان کو (اس دن کا) بڑا بھاری خوف غمگین نہیں کرے گا، اور فرشتے ان کو لینے آئیں گے (اور کہیں گے) یہی وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا

103: لَایَحْزُنُھُمُ الْفَزَعُ الْاَکْبَرُ (ان کو بڑی گھبراہٹ غمگین نہ بنائے گی) مراد نفخہ اخیرہ ہے۔ وَتَتَلَقّٰھُمُ (اور ان کو ملیں گے) انکا استقبال کریں گے۔ الْمَلٰٓئِکَۃُ (فرشتے) جو جنت کے دروازوں پر ان کو مبارک بادیاں دیں گے اور کہیں گے۔ ھٰذَا یوْمُکُمُ الَّذِیْ کُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ (یہ تمہارا وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ لیا گیا) یہ تمہارے اس ثواب کا وقت ہے جس کا تمہارے ساتھ تمہارے رب نے دنیا میں وعدہ فرمایا۔
Ayah 21:104

یَوْمَ نَطْوِی السَّمَآءَ كَطَیِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ١ؕ كَمَا بَدَاْنَاۤ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُهٗ١ؕ وَعْدًا عَلَیْنَا١ؕ اِنَّا كُنَّا فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:104 in the Quran reader

جس دن ہم آسمان کو اس طرح لپیٹ لیں جیسے خطوں کا طومار لپیٹ لیتے ہیں، جس طرح ہم نے (کائنات کو) پہلے پیدا کیا تھا اسی طرح دوبارہ پیدا کردیں گے (یہ) وعدہ (جس کا پورا کرنا لازم) ہے، ہم ایسا ضرور کرنے والے ہیں

آسمان کا لپٹنا : 104: یَوْمَ نَطْوِی السَّمَآ ئَ (وہ دن بھی یاد کرنے کے قابل ہے جس دن ہم آسمان کو لپیٹ لیں گے) نحو : اس میں عامل لا یحزنہمؔ ہے۔ نمبر 2۔ اس میں عامل وتتلقاھم ہے۔ قراءت : تُطْوَی السَّمَآء یزید نے پڑھا ہے۔ طیّ السمائؔ سے مراد اس کے ستاروں کا مٹنا اور بےنورہونا۔ نمبر 2۔ یہ نشر کی ضد ہے جس کا معنی پھیلانا ہے یعنی اس کے ستاروں کو جمع کردیں گے اور لپیٹ لیں گے۔ یہ ساری بساط لپیٹ لی جائے گی۔ کَطَیِّ السِّجِلِّ (جیسے صحفیہ کو لپیٹتے ہیں) لِلْکُتُبِ (لکھنے کیلئے) حمزہ، علی، حفص نے اسی طرح پڑھا ہے۔ ای للمکتوبات (یعنی اس میں معانی کثیرہ وغیرہ لکھے جائیں) ۔ یعنی معنی یہ ہے مکتوبات کیلئے جیسے کاغذ لپیٹا جاتا ہے۔ نمبر 2۔ للکتاب۔ ای کما یطوی الطو مار الکتابۃ (جس طرح کاغذوں کو لکھنے کیلئے لپیٹتے ہیں) ۔ نمبر 3۔ للکتب اس کے لئے جو اس میں لکھا جائے۔ کیونکہ کتاب کا اصل مصدر ہے۔ جیسا کہ البناء پھر اس کا اطلاق مکتوب پر آنے لگا۔ دوسرا قول : السجل یہ ایک فرشتہ ہے جو بنی آدم کے صحیفے لپیٹتا ہے جبکہ وہ اس کی طرف اٹھا کر لائے جائیں اس کے حوالہ کئے جائیں۔ تیسرا قول یہ رسول اللہ ﷺ کا کاتب تھا۔ اس صورت میں الکتابؔ وہ کاغذ جس میں لکھا جائے الطیّ کی اضافت فاعل کی طرف کی گئی ہے۔ اور پہلی صورتوں میں اضافت مفعول کی طرف ہے۔ کَمَا بَدَاْنَا اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُہٗ (جیسا ہم نے شروع میں ابتداء تخلیق کی تھی) اسی طرح آسانی سے ہم اس کو دوبارہ پیدا کریں گے۔ : کماؔ کا کاف فعل مضمر کی وجہ سے منصوب ہے جس کی تفسیر نعیدہ کر رہا ہے۔ اور ماؔ موصولہ ہے۔ ای نعید مثل الذی بدأ ناہ نعیدہ اور اولؔ یہ بدأنا کا ظرف ہے ای اول ماخلق اول جو پیدا کیا۔ نمبر 2۔ اس ضمیر موصول سے حال ہے جو لفظوں میں ساقط ہے۔ اور معنی میں ثابت ہے۔ اول خلق سے اس کی ایجاد مراد ہے۔ ای کما اوجدہ اوّلا یعیدہ ثانیا۔ کہ جس طرح اول مرتبہ اس کو وجود دیادوسری مرتبہ اسی طرح اعادہ کرے گا۔ اس میں اعادہ کو ابلاء سے تشبیہ دے کر سمجھایا کہ دونوں پر قدرت تو یکساں ہے پھر ایک کا اقرار دوسرے کا انکار چہ معنی دارد۔ خلق ؔ میں تنکیر اسی طرح ہے جیسا کہتے ہیں : ھو اول رجل جَاءَ نِیْ اس سے مراد اول الرجال ہوتی ہے لیکن واحد اور نکرہ لاکر ایک ایک آدمی کی تفصیل کا تم نے ارادہ کیا ہے پس اسی طرح یہاں معنی ہوگا۔ اول خلق بمعنی اول الخلق یعنی اول الخلائق تخلیق میں سب سے پہلا۔ خلق مصدر ہے۔ اس کی جمع نہیں آتی۔ وعدا یہ مصدر موکد ہے کیونکہ نعیدہؔ میں اعادہ کا وعدہ ہے۔ عَلَیْنَا (ہمارے ذمہ ہے) یعنی ایسا وعدہ جو بہر صورت میں ہو کر رہے گا۔ اِنَّا کُنَّا فٰعِلِیْنَ (بیشک ہم ہی کرنے والے ہیں) یہ سب یعنی اس وعدے کو سچ کردکھائیں گے تم اس کی تیاری کرو اور صالح اعمال کو آگے بھیجو تاکہ ان خوفناک مقامات سے اپنے کو چھوڑ وا سکو۔
Ayah 21:105

وَ لَقَدْ كَتَبْنَا فِی الزَّبُوْرِ مِنْۢ بَعْدِ الذِّكْرِ اَنَّ الْاَرْضَ یَرِثُهَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوْنَ Open ayah 21:105 in the Quran reader

اور ہم نے نصیحت (کی کتاب یعنی تورات) کے بعد زبور میں لکھ دیا تھا کہ میرے نیکو کار بندے ملک کے وارث ہوں گے

جنت ایمان والوں کو : 105: وَلَقَدْ کَتَبْنَا فِی الزَّبُوْرِ (تحقیق ہم نے زبور میں لکھ دیا) ۔ زبور دائودعلیہ السلام کی کتاب کا نام ہے۔ مِنْ بَعْدِ الذِّکْرِ (ذکر کے بعد۔ ) ذکر سے یہاں تورات مراد ہے۔ اَنَّ الْاَرْضَ (کہ زمین) اس سے مراد سرزمین شام ہے۔ یَرِثُھَا عِبَادِیَ (اس کے وارث میرے بندے ہونگے۔ ) قراءت : یاء کے سکون سے حمزہ نے پڑھا۔ دیگر قراء نے یاء کے فتحہ سے پڑھا ہے۔ الصّٰلِحُوْنَ (نیک) مراد امت محمدیہ علی صاحبھا الصلوۃ والسلام۔ دوسرا قول الزبورؔ کا معنی مزبور یعنی مکتوب لکھا ہوا۔ انبیاء ( علیہ السلام) پر اتاری جانے والی تمام کتب مراد ہیں۔ الذکرؔ سے ام الکتاب یعنی لوح محفوظ مراد ہے۔ کیونکہ تمام کتب اسی سے لی گئی ہیں۔ اس کی دلیل حمزہ، خلف کی قراءت الز ُ بور زاء ؔ کے ضمہ سے ہے۔ اس صورت میں الزبور کی جمع بمعنی مزبور ہے۔ الارضؔ سے ارض جنت مراد ہے۔
Ayah 21:106

اِنَّ فِیْ هٰذَا لَبَلٰغًا لِّقَوْمٍ عٰبِدِیْنَؕ Open ayah 21:106 in the Quran reader

عبادت کرنے والے لوگوں کے لئے اس میں (خدا کے حکموں کی) تبلیغ ہے

106: اِنَّ فِیْ ھٰذَا (بیشک اس میں) قرآن میں نمبر 2۔ اس سورت میں جو اخبار، وعدے اور وعیدیں اور مواعظ مذکور ہوئیں ان تمام میں۔ لَبَلٰغًا (البتہ پوری بات ہے) کفایت ہے اور اس کی اصل یہ ہے کہ بلاغ وہ ہے جس سے حاجت و ضرورت پوری ہوجائے۔ لِّقَومٍ عٰبِدِیْنَ (عبادت گزار قوم کیلئے) توحید پرست اور وہ امت محمد یہ علی صاحبھا الصلوٰۃ والسلام ہے۔
Ayah 21:107

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 21:107 in the Quran reader

اور (اے محمد ! ) ہم نے تم کو تمام جہاں کے لئے رحمت (بناکر) بھیجا ہے

رسولِ رحمت : 107: وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً (اور ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر رحمت بنا کر) قول (علیہ السلام) انما انا رحمۃ مھداۃ (ابن سعد۔ کنز العمال) میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرستادہ رحمت ہوں۔ لِّلْعٰلَمِیْنَ (جہان والوں کیلئے) کیونکہ آپ اس چیز کو لیکر آئے ہیں اگر وہ اسکی اتباع کرلیں تو وہ سعادت مند ہوجائیں اور جس نے نہ مانا اس نے گویا اپنے آپ کو ضائع کردیا اور اپنا رحمت والا حصہ رکھ دیا۔ دوسرا قول یہ ہے آپ ایمان والوں کیلئے دونوں جہان میں رحمت ہیں۔ اور کافروں کیلئے دنیا میں رحمت ہیں۔ کیونکہ آپ کی وجہ سے عذاب استیصال مؤخر ہے۔ اسی طرح مسخ اور خسف سے بچے ہوئے ہیں۔ ورحمۃ یہ مفعول لہ ہے یا حال ہے ای ذار حمۃ۔
Ayah 21:108

قُلْ اِنَّمَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 21:108 in the Quran reader

کہہ دو کہ مجھ پر (خدا کی طرف سے) یہ وحی آئی ہے کہ تم سب کا معبود خدائے واحد ہے، تو تم کو چاہئے کہ فرمانبردار ہوجاؤ

108: قُلْ اِنَّمَا (کہہ دیں بیشک) انماؔ حکم کو ایک چیز میں بند کرنے کیلئے آتا ہے۔ نمبر 2۔ کسی چیز کو ایک میں بند کرنے کیلئے آتا ہے۔ جیسے : انما زید قائم اور انما یقول زیدٌ۔ یُوْحٰٓی اِلَیَّ (میری طرف وحی کی جاتی ہے) یوحی کا فاعل اَنَّمَآ اِلٰھُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ ہے اور تقدیر عبارت اس طرح ہے۔ یوحیٰ الی وحدانیۃ اِلٰہی میرے معبود کی وحدانیت میری طرف وحی کی گئی ہے اور یہ بھی درست ہے کہ معنی اس طرح ہو۔ ان الذین یوحی الی۔ بیشک وہ جو میری طرف وحی کی گئی۔ اس صورت میں ماموصولہ ہے۔ فَھَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ (پس کیا تم اطاعت کرنے والے ہو) یہ استفہام بمعنی امر ہے۔ ای اسلموا تم مسلمان ہوجائو۔
Ayah 21:109

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ اٰذَنْتُكُمْ عَلٰى سَوَآءٍ١ؕ وَ اِنْ اَدْرِیْۤ اَقَرِیْبٌ اَمْ بَعِیْدٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ Open ayah 21:109 in the Quran reader

پس اگر یہ لوگ منہ پھیریں تو کہہ دو کہ میں نے تم سب کو یکساں (احکام الہی) سے آگاہ کردیا ہے اور مجھ کو معلوم نہیں کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے (عن) قریب (آنیوالی) ہے یا (اس کا وقت) دور ہے

109: فَاِنْ تَوَلَّوْا (اگر وہ منہ موڑ لیں) اسلام سے فَقُلْ اٰذَنْتُکُمْ (پس کہہ دیں کہ میں تمہیں صاف کہہ چکا) میں نے تمہیں جس بات کا حکم دیا وہ اچھی طرح بتلا دی۔ عَلٰی سَوَآئٍ ( برابر اور ٹھیک طور پر) یہ حال ہے یعنی تم سب اعلان و اعلام میں برابر ہو ایک کی دوسرے سے تخصیص نہیں ہے اور نہ ہی میں نے کی۔ دلیل : اس میں دلیل ہے کہ باطنیہ کا مذہب باطل ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے خاص ساتھیوں کو احکام شرع پوشیدہ سکھاتے اور دیواروں کو بھی کان ہوتے ہیں یا یہ کہ ہم اور تم اسی معاملہ میں برابر ہیں جو کچھ مجھے علم ملا اس سے واقف کردیا کچھ چھپا کر نہیں رکھا۔ وَاِنْ اَدْرِیْ اَقَرِیْبٌ اَمْ بَعِیْدٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ (اور مجھے معلوم نہیں کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ قریب ہے یا دور) یعنی مجھے معلوم نہیں کہ قیامت کب آئے گی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پر مطلع نہیں کیا۔ لیکن میں جانتا ہوں کہ بہر صورت قیامت واقع ہوگی نمبر 2۔ مجھے معلوم نہیں کہ تم پر عذاب کب اترے گا۔ اگر تم ایمان نہ لائے۔
Ayah 21:110

اِنَّهٗ یَعْلَمُ الْجَهْرَ مِنَ الْقَوْلِ وَ یَعْلَمُ مَا تَكْتُمُوْنَ Open ayah 21:110 in the Quran reader

جو بات پکار کر کی جائے وہ اسے بھی جانتا ہے اور جو تم پوشیدہ کرتے ہو اس سے بھی واقف ہے

110: اِنَّہٗ یَعْلَمُ الْجَھْرَ مِنَ الْقَوْلِ وَیَعْلَمُ مَاتَکْتُمُوْنَ (بیشک اللہ تعالیٰ کو تمہاری پکار کر کہی ہوئی بات کی بھی خبر ہے اور جو بات تم دل میں چھپا کر رکھتے ہو۔ اس کا بھی علم ہے) یعنی وہ ذات ہر چیز کا علم رکھنے والی ہے وہ اس کو بھی جانتا ہے۔ جو تم ظاہر کرکے اسلام پر طعنہ زنی کرتے ہو اور جس کو تم کینہ کی صورت میں اپنے دلوں میں چھپاتے ہو۔ وہ اس پر خود تم سے بدلہ لینے والا ہے۔
Ayah 21:111

وَ اِنْ اَدْرِیْ لَعَلَّهٗ فِتْنَةٌ لَّكُمْ وَ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 21:111 in the Quran reader

اور میں نہیں جانتا شاید وہ تمہارے لئے آزمائش ہو اور ایک مدت تک (تم اس سے) فائدہ (اٹھاتے رہو)

111: وَاِنْ اَدْرِیْ لَعَلَّہٗ فِتْنَۃٌ لَّکُمْ (اور میں نہیں جانتا کہ شاید وہ تاخیر عذاب تمہارے حق میں امتحان و آزمائش ہو) اور مجھے معلوم نہیں کہ شاید تم سے دنیا میں عذاب کی تاخیر میں تمہارے لئے امتحان ہو تاکہ وہ تمہارے اعمال کو دیکھے۔ وَمَتَاعٌ اِلٰی حِیْنٍ (اور تمہارے لئے ایک وقت تک فائدہ اٹھانا ہو) اور مدت تک فائدہ حاصل کرنا ہو۔ تاکہ وہ تمہارے خلاف حجت و دلیل بن جائے۔
Ayah 21:112

قٰلَ رَبِّ احْكُمْ بِالْحَقِّ١ؕ وَ رَبُّنَا الرَّحْمٰنُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ۠ Open ayah 21:112 in the Quran reader

(پیغمبر نے کہا) کہ اے میرے پروردگار ! حق کے ساتھ فیصلہ کردے اور ہمارا پروردگار بڑا مہربان ہے، اسی سے ان باتوں میں جو تم بیان کرتے ہو مدد مانگی جاتی ہے۔

طلب ِفیصلہ : 112: قٰلَ رَبِّ احْکُمْ بِالْحَقِّ (کہا رسول نے اے میرے رب تو حق کا فیصلہ فرما دے) ہمارے اور اہل مکہ کے درمیان عدل و انصاف سے فیصلہ فرما دے۔ نمبر 2۔ جس کے وہ حقدار ہیں اس عذاب کو اتار کر فیصلہ فرمادے ان سے نرمی نہ فرما، ان پر سختی فرما۔ جیسا کہ آپ نے دعا میں فرمایا : اللھم اشد دو طأتک علی مضر۔ (رواہ البخاری، مسلم) اے اللہ قریش پر اپنے بندھن کو سخت کر دے۔ قراءت : حفص نے قال رب پڑھا۔ قول رسول ﷺ کی حکایت کے طور پر اور یزید نے رب احکم پڑھا ہے۔ اور زید نے یعقوب سے ربِّی اَحْکَمُ پڑھا ہے۔ وَرَبُّنَا الرَّحْمٰنُ (اور ہمارا رب رحمان ہے۔ ) وہ اپنی مخلوق پر مہربانی فرمانے والا ہے۔ الْمُسْتَعَانُ (وہ مددگار ہے) اسی سے مدد طلب کی جاتی ہے۔ عَلٰی مَاتَصِفُوْنَ (اس پر جو تم بیان کرتے ہو) یعنی تمہاری جھوٹے غلط بیان کے برخلاف کہ کافروں کو فتح ہوگی۔ قراءت : ابن ذکوان نے یاء سے پڑھا ہے۔ وہ حالات کو اس کے برخلاف بیان کرتے جس پر وہ چل رہے تھے۔ ان کی طمع و تمنا یہ تھی کہ شوکت و غلبہ ان کو حاصل ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے گمانوں کی تردید فرمائی کہ اللہ تعالیٰ تمہاری تمام امیدوں پر پانی پھیر دیں گے اور اپنے رسول ﷺ کی مدد فرمائیں گے اور ایمان والوں کی نصرت و امداد کی جائے گی اور کافر ذلیل و رسوا ہونگے اور وہ اس کے خلاف مدد دینے پر قدرت رکھتا ہے جو کفار بیان کرتے ہیں۔ الحمد للہ 29 انتیسویں شب رمضان المبارک 1423؁ھ جمعرات اللہ تعالیٰ نے محض اپنے کرم سے سورة انبیاء کا ترجمہ مکمل کرنے کی توفیق دی۔