Ayah 20:8181: کُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ (تم نفیس چیزیں کھائو) حلال۔ مَارَزَقْنٰکُمْ (جو ہم نے تمہیں دی ہیں)
قراءت : انجیتکم وواعدتکم و رزقتکمکو فی نے عاصم کے علاوہ پڑھا ہے۔
وَلَا تَطْغَوْا فِیْہِ (اور اس میں حد شرعی سے مت گزرو) اس میں اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز مت کرو۔ کہ نعمتوں کی ناشکری کرنے لگو اور نعمتوں کو معاصی میں صرف کرنے لگو۔ نمبر 2۔ تم ایک دوسرے پر ظلم مت کرو۔
فَیَحِلَّ عَلَیْکُمْ غَضَبِیْ (ورنہ میرا غصہ تم پر اتر پڑے گا) غضب سے میری سزا مراد ہے۔ وَمَنْ یَّحْلِلْ عَلَیْہِ غَضَبِیْ فَقَدْ ھَوٰی (اور جس شخص پر میرا غصہ واقع ہوتا ہے وہ بالکل گیا گزرا ہوا) ہلاک ہوگیا نمبر 2۔ ایسا گرا جس کے بعد اٹھ نہیں سکتا۔ الھویؔ اس کی اصل یہ ہے پہاڑ سے گر کر ہلاک ہوا۔ اور حقیقی معنی یہ ہے کہ ایمان کی بلندی سے جہنم کے گڑھے میں جاگرا۔
قراءت : علی نے فیحل و یحلل پڑھا اور باقی قراء نے کسرہ سے۔ کسرہ کی صورت میں حل یحل جبکہ اس کا ادا کرنا لازم ہوجائے سے ہوگا اور اس کے ضمن میں نزول کا معنی پایا جاتا ہے۔
Ayah 20:8282: وَاِنِّیْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ (اور میں ایسے لوگوں کو بڑا بخشنے والا ہوں جو توبہ کرلیں) توبہ سے مراد شرک سے توبہ کرنا ہے۔ وَ اٰمَنَ (اور ایمان لے آئیں) اللہ تعالیٰ کو وحدہ لاشریک مانا اور جو اتارا گیا اس میں اس کی تصدیق کی وَعَمِلَ صَالِحًا (اور نیک عمل کریں) فرائض کو ادا کیا ثُمَّ اھْتَدٰی (پھر اسی راہ پر قائم رہیں) پھر استقامت اختیار کی اور مذکورہ ہدایت پر ثابت قدمی دکھائی اور اس کا حاصل تین چیزیں ہیں توبہ، ایمان، عمل صالح۔
Ayah 20:83ستّر افراد کے ساتھ طور :
83: وَمَآ اَعْجَلَکَ (اور کیا سبب ہے اے موسیٰ تمہارے جلدی آنے کا) کونسی چیز تمہیں جلدی لے آئی۔
عَنْ قَوْمِکَ یٰـمُوْسٰی (اپنی قوم کو چھوڑ کر) ان ستر افراد کو جنہیں منتخب کیا گیا تھا اور اس کا واقعہ اس طرح ہے کہ وعدہ مقررہ پر موسیٰ (علیہ السلام) ان کو ساتھ لے کر کوہ طور کی طرف تشریف لارہے تھے۔ پھر کلام باری تعالیٰ کے شوق میں آپ ان سے آگے بڑھ کر پہلے طور پر پہنچ گئے۔ اور انہیں پیچھے چلے آنے کا حکم دیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ وما اعجلک یعنی کس چیز نے جلد آنے کو تم پر لازم کردیا۔
نحو : یہ استفہام انکاری ہے اور ما مبتدا اور اعجلک اس کی خبر ہے۔
Ayah 20:84آزمائشِ بنی اسرائیل :
84: قَالَ ھُمْ اُولَآئِ عَلٰٓی اَثَرِیْ (موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا وہ لوگ بھی تو میرے پیچھے پیچھے چلے آرہے ہیں) وہ میرے پیچھے ابھی مل رہے ہیں، میرے اور ان کے مابین کوئی زیادہ فاصلہ نہیں۔ پھر آگے جلدی آنے کا سبب ذکر کیا۔
وعَجِلْتُ اِلَیْکَ رَبِّ (اور میں آپ کے پاس جلدی اس لئے آیا) اس مقررہ وعدہ کے مطابق جو آپ نے فرمایا۔ لِتَرْضٰی (تاکہ آپ راضی ہوں) تاکہ آپ مجھ سے زیادہ خوش ہوجائیں۔
نکتہ : اس میں دلیل ہے کہ اجتھاد جائز ہے۔
Ayah 20:8585: قَالَ فَاِنَّاقَدْ فَتَنَّاقَوْمَکَ (اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہم نے تمہاری قوم کو ایک آزمائش میں مبتلا کردیا ہے) ہم نے ان کو ابتلاء میں ڈالا ہے۔ مِنْم بَعْدِکَ (تمہارے بعد) تمہارے پہاڑ کی طرف روانہ ہونے اور ان سے نکلنے کے بعد۔ قومؔ سے یہاں وہ لوگ مراد ہیں جو حضرت ہارون کے ساتھ پیچھے تھے۔ وَاَضَلَّھُمُ السَّامِرِیُّ (اور ان کو سامری نے گمراہ کیا) ان کو بچھڑے کی عبادت کی طرف دعوت دیکر اور ان کے اس کو قبول کرلینے کی بنا پر۔
وجہ : السامرۃ بنی اسرائیل کے ایک قبیلہ کا نام ہے۔ اسی کی طرف یہ نسبت تھی۔ دوسراقول یہ ہے کہ وہ کرمان کا ایک جاٹ تھا۔ اس نے بچھڑا بنایا۔ اس کا نام موسیٰ بن ظفر تھا اور یہ منافق شخص تھا۔
Ayah 20:86موسیٰ ( علیہ السلام) کی واپسی اور ان کی فہمائش :
86: فَرَجَعَ مُوْسٰٓی (پس موسیٰ (علیہ السلام) لوٹے) اپنے رب سے مناجات کے بعد اِلٰی قَوْمِہٖ غَضْبَانَ اَسِفًا (اپنی قوم کی طرف رنج سے بھرے ہوئے) انتہائی غصے میں نمبر 2۔ انتہائی غم زدہ قَالَ یٰقَوْمِ اَلَمْ یَعِدْکُمْ رَبُّکُمْ وَعْدًا حَسَنًا (کہا اے میری قوم کیا تمہارے ساتھ تمہارے رب نے اچھا وعدہ نہیں کیا) اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ فرمایا کہ ان کو تورات دی جائے گی جس میں ہدایت و نور ہے۔ اس میں ایک ہزار سورتیں تھیں۔ ہر سورت میں ایک سو آیات تھیں۔ اس کی کتابوں کو ستر اونٹ اٹھاتے تھے۔ اور اس سے زیادہ بہترین کوئی وعدہ نہیں ( یہ اسرائیلی روایت عجیب ہے کہ تورات کی تختیاں تو ایک صندوق میں آگئیں اور جب کاغذوں پر لکھی گئی تو ستّر اونٹ کا بوجھ بن گیا۔ فافہم و تدبر)
اَفَطَالَ عَلَیْکُمُ الْعَھْدُ (کیا تم پر وعدہ کا زمانہ زیادہ گزر گیا تھا) تم سے میری جدائی کا زمانہ۔ العہدؔ اس زمانے کو کہا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے طال عھدی بک ای طَالَ زمانی بسبب مفارقتک تمہاری جدائی کے سبب لمبا زمانہ گزرا۔
اَمْ اََرَدْ تُّمْ اَنْ یَّحِلَّ عَلَیْکُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ (یا تم نے ارادہ کیا کہ تم پر تمہارے رب کا غضب واقع ہو) تم نے ارادۃ ً ایسا فعل کیا جس سے اللہ تعالیٰ کا غضب تم پر لوٹے۔ فَاَخْلَفْتُمْ مَّوْعِدِیْ (پس تم نے میرے وعدے کی خلاف ورزی کی) انہوں نے جاتے وقت وعدہ کیا تھا کہ وہ ان کے حکم کی خلاف ورزی نہ کریں گے۔ اور جس ایمان پر انہوں نے چھوڑا ہے وہ اس پر قائم رہیں گے۔ مگر انہوں نے بچھڑا بنا کر اس کے حکم کی خلاف ورزی کی۔
Ayah 20:8787: قَالُوْا مَآ اَخْلَفْنَا مَوْعِدَکَ بِمَلْکِنَا (انہوں نے کہا ہم نے آپ کے وعدہ کی خلاف ورزی اپنے اختیار سے نہیں کی ) ۔
قراءت : بِمَلکنا ؔ میم کے فتحہ سے مدنی اور عاصم نے پڑھا جبکہ حمزہ، علی نے ضمہ سے بملکنا اور باقی قراء نے کسرہ سے پڑھا یعنی ہم نے آپ کے وعدہ کی خلاف ورزی اس طرح نہیں کی کہ ہمیں اپنے معاملے میں اختیار حاصل تھا۔ یعنی اگر ہم اپنے معاملے کے مالک ہوتے۔ اور آزاد ہوتے اور سوجھ رکھتے تو ہم خلاف ورزی نہ کرتے۔ لیکن ہم سامری کی جانب سے مغلوب ہوگئے اور اس کے مکروفریب سے مسحور ہوگئے (اور اپنے نفس پر قابو نہ رہا اور باوجود بااختیار ہونے کے بےاختیار ہوگئے مترجم)
وَلٰکِنَّا حُمِّلْنَآ (ہم پر لدا ہوا تھا) قراءت : یہ لفظ ضمہ اور تشدید کے ساتھ آیا ہے۔ حجازی، شامی، حفص نے پڑھا ہے۔ دیگر قراء نے حاء کے فتحہ اور تخفیف میم کے ساتھ پڑھا۔
اَوْزَارًا مِّنْ زِیْنَۃِ الْقَوْمِ (بوجھ قوم کے زیور کا) اَوْزَار قبطیوں کے زیور کا بوجھ۔ نمبر 2۔ گناہ و جرائم تھے کیونکہ وہ زیورات انہوں نے مصر سے نکلنے کی رات استعارۃ لئے تھے کہ کل عید ہے سامری نے کہا موسیٰ (علیہ السلام) اس کے حرام ہونے کی نحوست سے دس دن روک لئے گئے کیونکہ وہ ان کے لئے مستامنین کی طرح تھے جو دارالحرب میں ہو۔ اور مستأ من کو حربی کافر کا مال لینے کی اجازت نہیں اور اس طور پر بھی کہ غنائم کا مال بنی اسرائیل کے لئے حلال نہ تھا۔ پس اس کو جلانے کیلئے انہوں نے آگ میں ڈال دیا۔ اس نے آگ کے گڑھے میں بچھڑے کا قالب رکھ دیا۔ پس وہ کھوکھلا بچھڑے کا جسم پگھل کر بن گیا۔ اس کے سوراخوں میں جو رگوں کی طرح تھے ہوا داخل ہو کر ڈھکارنے کی آواز پیدا ہوجاتی ہے۔
دوسرا قول فرعون اور اس کے لشکر کے ڈوبنے کے وقت اس نے جبرئیل (علیہ السلام) کے گھوڑے کے قدموں کی مٹی لے لی۔ اور وہ اس میں ڈال دی۔ وہ زندگی کا گھوڑا تھا۔ پس بچھڑے میں زندگی کا اتنا اثر آگیا کہ وہ ڈھکارنے لگا۔ بنی اسرائیل کی طبائع اس سونے کی طرف مائل ہوئیں پس اس کی عبادت کرنے لگے۔
سامری کی شرارت :
فَقَذَفْنٰـھَا (پس ہم نے زیور پھینک دیا) سامری کے اس گڑھے والی آگ میں جس میں اس نے پھینکنے کا حکم دیا تھا۔ فَکَذٰلِکَ اَلَْقَی السَّامِرِیُّ (پس اسی طرح سامری نے بھی گڑھے میں اپنازیور ڈال دیا) جو اس کے پاس تھا۔ نمبر 2۔ اس کے ساتھ جبرئیل (علیہ السلام) کے گھوڑوں کے قدموں کی خاک اس میں ڈال دی۔ (شاہ عبدالقادر (رح) نے لطیفہ لکھا کہ سونا کافروں کا حرام مال تھا۔ برکت والی مٹی پڑنے سے ایک عجوبہ بن گیا۔ ایسی چیزوں سے بچنا چاہیے یہ دین کو خراب کرتی ہیں۔ )
Ayah 20:8888: فَاَخْرَجَ لَھُمْ (پھر اس نے ظاہر کیا) سامری نے اس حفرہ نار میں سے عِجْلًا (بچھڑا) ۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے اس پگھلے ہوئے زیور سے ان کی آزمائش کیلئے پیدا کردیا تھا۔ جَسَدًا (ایک قالب) لَّہٗ خُوَارٌ (جس میں ڈھکارنے کی آواز تھی۔ ) وہ بچھڑوں کی
طرح ڈھکارتا تھا۔ فَقَالُوْا (سامری اور اس کے پیرو کہنے لگے۔ ) ھٰذَا اِلٰـھُکُمْ وَاِلٰـہُ مُوْسٰی (یہ تمہارا اور موسیٰ کا معبود ہے۔ ) عام لوگوں نے اس کی بات مان لی مگر بارہ ہزار ْصرف صحیح بات پر قائم رہے۔
فَنَسِیَ (پس وہ بھول گیا یعنی موسیٰ اپنے رب کو یہاں بھول کر چھوڑ گیا۔ ) اور اس کی طلب میں طور پر چلا گیا۔ نمبر 2: اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ابتدائے کلام ہے کہ سامری اپنے ربّ کو بھول گیا اور اس پر ظاہری ایمان کو چھوڑ دیا۔ نمبر 3۔ سامری اس استدلال کو بھول گیا کہ بچھڑا معبود نہیں بن سکتا اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے افلا یرون الایر جع الیھم قولا۔
Ayah 20:8989: اَفَـلَا یَرَوْنَ اَلَّا یَرْجِعَ (کیا وہ اتنا نہیں دیکھتے کہ وہ جواب نہیں دے سکتا) ای انہ لا یرجع
نحو : انؔ مخففہ من المثقلہ ہے اور ضمیر شان محذوف ہے۔ یہ اَنْ ناصبہ مصدر یہ نہیں اِلَیْہِمْ قَوْلًا (ان کی کسی بات کا) ان کو جواب نہیں دیتا۔
وَّلَا یَمْلِکُ لَھُمْ ضَرًّا وَّلَا نَفْعًا (اور نہ ہی ان کو کسی نفع و نقصان کی قدرت رکھتا تھا) یعنی وہ خطاب، نقصان، نفع سے عاجز ہے۔ پس انہوں نے اس کو معبود کا درجہ کیسے دے لیا۔
ایک قول یہ ہے کہ اس نے ڈھکارا بھی صرف ایک ہی مرتبہ۔
Ayah 20:9090: وَلَقَدْ قَالَ لَھُمْ (اور ان سے کہہ چکے تھے) بچھڑے کے پوجاریوں سیھٰرُوْنُ مِنْ قَبْلُ (ہارون (علیہ السلام) اس سے پہلے) موسیٰ (علیہ السلام) کی واپسی سے پہلے۔ یٰقَوْمِ اِنَّمَا فُتِنْتُمْ بِہٖ (اے میری قوم کے لوگو ! تم اس بچھڑے کی وجہ سے فتنے میں ڈالے گئے ہو) بچھڑے کی وجہ سے تمہاری آزمائش کی گئی ہے پس اس کی عبادت مت کرو۔ وَاِنَّ رَبَّکُمُ الرَّحْمٰنُ (بیشک تمہارا رب رحمان ہی ہے) نہ کہ یہ بچھڑا فَاتَّبِعُوْنِیْ (پس تم میری راہ پر چلو) تم میرے اس دین کو اختیار کرو جو کہ برحق ہے۔ وَاَطِیْعُوْا اَمْرِیْ (اور میرا کہا مانو) بچھڑے کی پوجا ترک کردو۔
Ayah 20:9191: قَالُوْا لَنْ نَّبْرَحَ عَلَیْہِ عٰکِفِیْنَ (انہوں نے جواب دیا کہ ہم تو اس کی پوجا پر برابر جمے بیٹھے رہیں گے) ہم بچھڑے کی پوجا پاٹ پر برابر قائم وثابت رہیں گے۔ حَتّٰی یَرْجِعَ اِلَیْنَا مُوْسٰی (یہاں تک کہ ہماری طرف موسیٰ لوٹ کر آئیں) ۔ پس ہم دیکھیں گے کہ آیاوہ اس کی پوجا کرتے ہیں جیسا ہم کررہے ہیں اور آیا سامری نے سچ کہا یا جھوٹ بولا ہے۔ ؟
Ayah 20:92ہارون ( علیہ السلام) سے باز ُ پرس :
92: جب موسیٰ (علیہ السلام) واپس لوٹ آئے۔ قَالَ یٰھٰرُوْنُ مَامَنَعَکَ اِذْرَاَیْتَھُمْ ضَلُّوْا (موسیٰ نے کہا اے ہارون جب تم نے دیکھا تھا کہ یہ بالکل گمراہ ہوگئے۔ تم کو کس بات نے روکا) جب ان کو بچھڑے کی پوجا کرتے گمراہ ہوتے دیکھا۔
Ayah 20:9393: اَلَّا تَتَّبِعَنِ (میرے پیچھے چلے آنے سے )
قراءت : مکی نے وقف وصل میں یاءؔ کے ساتھ پڑھا ہے۔ الاتتبعنی اور وقف و وصل میں ابو عمرو اور نافع نے ان کی موافقت کی اور دیگر قراء نے بغیر یاء کے پڑھا ہے۔
مطلب یہ ہے تمہیں کونسی بات مانع بنی میرے پیچھے آنے سے جبکہ مانع اور داعی میں گہرا تعلق ہے جو کسی چیز سے مانع ہوتا ہے۔ اور وہ اس چیز کو ترک کرنے کا داعی ہوتا ہے۔ اسی لئے بعض لوگوں نے منع کا مجازی معنی دعٰی کیا کہ کس چیز نے تم کو میری اتباع نہ کرنے پر آمادہ کیا۔
ایک قول یہ ہے کہ لا زائدہ ہے مطلب یہ ہے کہ کونسی چیز مانع بنی میری اتباع سے جبکہ انہوں نے تیری بات کو قبول نہ کیا۔ کہ تو مجھے آملتا اور اطلاع دیتا۔ یا اللہ تعالیٰ کی خاطر ناراض ہونے میں میری اتباع کرنے سے تمہیں کونسی چیز مانع بنی ؟ اور ایمان والوں کو ساتھ لیکر منکرین کے ساتھ قتال کیوں نہ کیا اور تم نے معاملے کافوری تدارک کیوں نہ کیا جیسا کہ میں اس کو دیکھ کر فوری تدارک کر رہا ہوں۔ اَفَعَصَیْتَ اَمْرِیْ (کیا تم نے میرے کہنے کے خلاف کیا) وہ جو میں نے تمہیں ان کی مصلحتوں کا خیال رکھنے کا حکم دیا تھا۔
Ayah 20:9494: پھر اپنے دائیں ہاتھ سے ان کے سر کے بال اور بائیں سے ڈاڑھی پکڑی۔ اللہ تعالیٰ کی خاطر غیرت اور غصہ کی وجہ سے اور ان پر انکار کرتے ہوئے۔ قَالَ یَبْنَؤُمَّ (کہا اے میرے ماں جائے)
قراءت : شامی اور کوفی نے سوائے حفص کے میم کے کسرہ سے پڑھا ہے۔
ہارون ( علیہ السلام) حقیقی بھائی تھے :
حضرت ہارون (علیہ السلام) جمہور علماء کے نزدیک حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے حقیقی بھائی تھے۔ مگر ماں کا تذکرہ دل میں رقت و شفقت پیدا کرنے کیلئے کیا۔ لَاتَاْخُذْ بِلِحْیَتِیْ وَلَابِرَاْسِیْ (تم میرے ڈاڑھی اور سر کے بال مت پکڑو) پھر اپنا عذر پیش کرتے ہوئے فرمایا۔ اِنِّیْ خَشِیْتُ اَنْ تَقُوْلَ (مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ تم کہنے لگو) جبکہ میں ان سے قتال کرتا اور کچھ میرے ساتھ دیتے کچھ مخالفت کرتے۔ فَرَّقْتَ بَیْنَ بَنِیْ اِسْرَآئِ یْلَ (تو نے بنی اسرائیل کے درمیان تفریق کردی) یا میں ڈرا کہ تم کہو گے کہ تم نے ان کے دو فرقے بنا دیے۔ ایک گروہ میرے ساتھ مل جاتا اور دوسرا سامری کی اتباع کرتا اس طرح مستقل گروہ بندی ہوجاتی۔ وَلَمْ تَرْقُبْ (اور تو نے انتظار نہیں کیا) تم نے لحاظ نہیں رکھا۔ قَوْلِیْ (میری بات کا) وہ بات یہ تھی اخلفنی فی قومی واصلح ] الاعراف : 142[
مسئلہ : اس آیت میں دلیل ہے کہ اجتہاد جائز ہے۔
Ayah 20:95سامری سے باز ُ پرس :
95: موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف اس کی حرکت کا انکار کرتے ہوئے فرمانے لگے۔ قَالَ فَمَا خَطْبُکَ (کس چیز نے تجھے اس حرکت پر آمادہ کیا) ۔ یٰسَامِرِیُّ اے سامری ؟
Ayah 20:9696: قَالَ بَصُرْتُ بِمَالَمْ یَبْصُرُوْا بِہٖ (اس نے کہا مجھے ایسی چیز نظر آئی تھی جو دوسروں کو نظر نہ آئی تھی)
قراءت : حمزہ و علی نے تبصروا تاءؔ سے پڑھا ہے۔
قول زجاج (رح) بصر کا معنی عَلِمَ اور اَبْصَرَکا معنی نظر آتا ہے۔ یعنی مجھے اس چیز کا علم تھا جس کا بنی اسرائیل کو علم نہ تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا وہ کیا بات تھی ؟ اس نے کہا میں نے جبرئیل (علیہ السلام) کو زندگی کے گھوڑے پر سوار دیکھا میرے دل میں یہ بات آئی کہ میں اس کے نشان راہ سے مٹھی بھر خاک لے لوں۔ جس چیز میں میں وہ مٹی ڈالوں گا اس میں روح، گوشت، خون پیدا ہوجائے گا۔
فَقَبَضْتُ قَبْضَۃً (پھر میں نے ایک مٹھی بھر اٹھالی تھی) القبضۃ ایک مرتبہ مٹھی بھرنا۔ اس کا اطلاق ہاتھ میں آنے والی مقدار پر ہوتا ہے مفعول کو مصدر کا نام دے دیا گیا جیسے ضَربُ الا میر اے مضروب۔
قراءت : قبصْت قبصَۃ صادؔ سے پڑھا گیا۔ فرق یہ ہے کہ ضادؔ سے تمام ہتھیلی و انگلیاں سمیت بھرنا اور صادؔ سے انگلیوں کی اطراف سے اٹھانا۔ مِّنْ اَثَرِ الرَّسُوْلِ (فرستادئہ خداوندی کے نقش پا سے) یعنی مِنْ اَثَرِ فَرسِ الرَّسُولِ ۔ قاصد کے گھوڑے کے نشانہائے قدم سے۔ فَنَبَذْتُھَا (پس میں نے وہ خاک بچھڑے میں ڈال دی) بچھڑے کے پیٹ میں ڈال دی۔ وَکَذٰلِکَ سَوَّلَتْ (اور اسی طرح پسند آئی) میرے نفس نے میرے لئے یہ بات مزین کی۔ لِیْ نَفْسِیْ (میرے جی نے میرے لئے) کہ میں اس کو کروں پس میں نے اپنی خواہش پر چلتے ہوئے کر ڈالی۔ اس میں غلطی کا اعتراف اور معذرت ہے۔
Ayah 20:9797: قَالَ (اس کو موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا) : فَاذْھَبْ (تو بس چلا جا) ہمارے درمیان دھتکارا ہوا۔ فَاِنَّ لَکَ فِی الحَیٰوۃِ (تیرے لئے اس دنیا کی زندگی میں جب تک تو زندہ رہے گا) ۔ اَنْ تَقُوْلَ (کہ تو کہتا پھرے گا) جو تجھ سے ملنا چاہے گا۔ اور اسے تیرے متعلق علم نہ ہوگا۔ لَامِسَاسَ (چھونا نہیں) مجھے کوئی ہاتھ نہ لگائے اور نہ میں اس کو ہاتھ لگائوں گا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو اس کے ساتھ میل جول سے مکمل طور پر منع فرما دیا اور اس پر ان سے ملنا حرام کردیا اور گفتگو بند کردی۔ خریدو فروخت ناجائز قرار دی۔ جب کسی کے ساتھ اتفاقا ہاتھ لگ جاتا تو چھونے والے اور سامری دونوں کو بخار چڑھ جاتا۔ چناچہ وہ جنگل میں چیختا پھرتا۔ لامساس لامساس لامساس۔
بعض کہتے ہیں اس کی اولاد میں یہ اب تک موجود ہے۔
ایک قول یہ ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کے قتل کا ارادہ فرمایا مگر اللہ تعالیٰ نے اس کی سخاوت کی وجہ سے اس سے منع فرما دیا۔ وَاِنَّ لَکَ مَوْعِدًا لَّنْ تُخْلَفَہٗ (اور تیرے لئے ایک اور مقررہ وعدہ ہے جو تجھ سے ہرگز نہ ٹلے گا) اللہ تعالیٰ تیرے متعلق کئے گے وعدہ کی خلاف ورزی ہر گزنہ فرمائیں گے جو اس نے شرک اور فساد فی الارض کے سلسلہ میں کر رکھا ہے۔ وہ آخرت میں تیرے حق میں پورا کرے گا اور یہ دنیا کی سزا اس سے زائد ہے۔
قراءت : مکی اور ابو عمرو نے لن تخلفہ پڑھا ہے۔ اور یہ اخلفت الموعد سے لیا گیا ہے۔ جب کہ تم اس کے خلاف پائو۔
سامری کے معبود کا حشر :
وَانْظُرْ اِلٰٓی اِلٰھِکَ الَّذِیْ ظَلْتَ عَلَیْہِ (اور تو اپنے اس معبود کو دیکھ جس کی عبادت پر تو جما بیٹھا تھا) ظَلْت اصل میں ظَلَلْت ہے پہلی لام کو تخفیف کی وجہ سے حذف کردیا۔ عَاکِفًا (ٹھہرنے والا) لَنُحَرِّ قَنَّہٗ (ہم ضرور اس کو آگ سے جلا کر راکھ کردیں گے۔ ) ثُمَّ لَنَنْسِفَنَّہٗ (پھر اس کی راکھ کو بکھیر دیں گے) فِی الْیَمِّ نَسْفًا (دریا میں بکھیرنا) ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو جلوادیا اور سمندر میں اس کی راکھ بکھیر دی گئی۔ بعض نے سمندر کا پانی جا پیا کیونکہ بچھڑے کی محبت ان کے دل میں رچی بسی تھی۔ مگر ان کے ہونٹوں پر بطور علامت سونے کی زردی ظاہر ہوگئی۔
Ayah 20:9898: اِنَّمَآ اِلٰھُکُمُ اللّٰہُ الَّذِیْ لَآاِلٰہَ اِلَّا ھُوَ وَسِعَ کُلَّ شَیْ ئٍ عِلْمًا (حقیقت میں تمہارا معبود صرف وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں اس کا علم ہر چیز پر وسیع ہے) علمًا یہ تمیز ہے یعنی اس کا علم ہر چیز پر ہاوی ہے۔
Ayah 20:9999: کَذٰلِکَ کافؔ محلاً منصوب ہے ای مثل ما اقتصصنا علیک قصۃ موسٰی و ہارون جیسے ہم نے تمہیں موسیٰ و ہارون کا واقعہ بیان کیا۔ اسی طرح نَقُصُّ عَلَیْکَ مِنْ اَنْبَـآئِ مَاقَدْ سَبَقَ (ہم تم سے واقعات گزشتہ کی کچھ خبریں بیان کرتے ہیں۔ ) گزشتہ امتوں کے واقعات و حالات تاکہ وضاحت اور زیادہ ہوجائے اور آپ کے معجزات بھی زیادہ ہوجائیں۔ وَقَدْ ٰاتَیْنٰکَ (اور ہم نے ہی آپ کو دیا ہے۔ ) مِنْ لَّدُنَّا (اپنے پاس سے) ذِکْرًا (ایک نصیحت نامہ) ذکر سے قرآن مجید مراد ہے۔ یہ سب سے عظیم تر ذکر ہے اور قرآن کریم ایسا ہے۔ جو اس کی طرف متوجہ ہو اس کے لئے اس میں نجات ہے یہ واقعات، حالات پر مشتمل ہے جن میں حقیقی فکر و سوچ اور عبرت پائی جاتی ہے۔
Ayah 20:100قرآن سے منہ موڑنے والے کا حکم :
100: مَنْ اَعْرَضَ عَنْہُ (جو لوگ اس سے منہ موڑیں گے) اس قرآن سے جو کہ ذکر ہے اور اس پر ایمان نہ لائیں گے۔ فَاِنَّہٗ یَحْمِلُ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وِزْرًا (وہ قیامت کے دن بھاری بوجھ اٹھائیں گے) سخت عذاب۔ اس کو بوجھ کا نام دیا کیونکہ انکا انجام بھی بوجھ کے مشابہہ ہے۔ اور اس کے نتیجہ میں جو صعوبات پیش آئیں گی وہ بھاری بوجھ کی طرح ہیں جو کہ کمر کو توڑنے والا ہونگی۔ اور اس کا گناہ بھی اس کی پیٹھ پر ڈالا جائے گا۔ نمبر 2۔ اس وجہ سے کہ گناہ کا بدلہ ہے۔
Ayah 20:101101: خٰلِدِیْنَ (وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہونگے) یہ یَحْمِلُ کی ضمیر سے حال ہے۔ معنی کا لحاظ کر کے جمع لائے اور فَاِنَّہٗمیں لفظ منؔ کا لحاظ کر کے واحد لائے۔ فِیْہِ (اس میں بوجھ میں) بوجھ کی جزاء یعنی عذاب میں وَسَآ ئَ لَھُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ حِمْلًا (اور قیامت کے دن یہ بوجھ ان کے لئے بہت برا ہوگا) ساءؔ یہ بئس کے حکم میں ہے۔ اور اس میں ضمیر مبہم ہے جس کی تفسیر حملًا بطور تمیز کر رہا ہے۔ لھمؔ میں لام بیانیہ ہے جیسا کہ ہیت لک ] یوسف : 23[ میں ہے۔ ساءؔ کا مخصوس بالذّم محذوف ہے۔ کیونکہ پہلے آنے والا اَلْوِزْرؔ اس پر دلالت کر رہا ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے ساء الحمل حملًا وزرھم۔
Ayah 20:102قیامت کا ایک منظر :
102: یَّوْ مَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ (جس روز صور میں پھونک مار دی جائے گی)
نحو : یوم ینفخ یہ یوم القیامۃ سے بدل ہے۔
قراءت : ابوعمرو نے ننفخ پڑھا ہے۔
الصورؔ نمبر 1۔ قرن سینگ کو کہتے ہیں۔ نمبر 2۔ جمع صورۃ ہے۔ صورتوں میں ارواح پھونک دیں گے۔ اس کی دلیل قتادہ کی قراءت ہے۔ فی الصور میں واو کا فتحہ جمع صورۃ ہے۔ وَنَحْشُرُ الْمُجْرِمِیْنَ یَوْ مَئِذٍ زُرْقًا (اور ہم مجرمین کو اس دن اٹھائیں گے اس حال میں کہ ان کی آنکھیں نیلی ہونگی) زُرقًا یہ حال ہے یعنی اندھی آنکھوں والا جیسا کہ دوسری آیت میں فرمایا و نحشرھم یوم القیامۃ علی وجوھھم عمیا ] الاسراء : 97[ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جس کی آنکھ سے روشنی جاتی رہے اس کی آنکھ کی سیاہی ختم ہو کر نیلی ہوجاتی ہے۔
Ayah 20:103103: یَّتَخَافَتُوْنَ (وہ چپکے چپکے باتیں کرتے ہوں گے) بَیْنَھُمْ (آپس میں) اس دن کے ہول و ڈر کی وجہ سے وہ ایک دوسرے سے چپکے باتیں کریں گے۔ اِنْ لَّبِثْتُمْ (تم دنیا میں نہیں ٹھہرے۔ )
اِلَّا عَشْرًا (مگر دس راتیں) قبور میں قیام کی مدت کو قلیل قرار دیں گے۔ نمبر 2۔ دنیا میں قیام کے زمانہ کو تھوڑا کر کے بتلائیں گے۔ کیونکہ وہ وہاں ایسی سختیاں دیکھیں گے جو انہیں نعمتوں اور سرور کے ایام یاد دلائیں گی۔ وہ ان ایام پر افسوس کریں گے اور ان کو بہت قلیل بتلائیں گے اس لئے کہ خوشی کے دن ہوتے ہی تھوڑے ہیں نمبر 3۔ کیونکہ وہ دن ان سے کھو چکے ہونگے اور گزری چیز خواہ طویل المدت ہو۔ مگر ختم ہونے کی وجہ سے قصیر ہوتی ہے۔ نمبر 4۔ آخرت کو جھانک لینے کی وجہ سے کیونکہ وہ ابدی ہے۔ اس کے مقابلہ میں دنیا کی عمرکو حقیر و چھوٹا قرار دیں گے۔ اور دنیا میں رہنے والوں کی مدت آخرت کے قیام کے مقابلہ میں قلیل قرار دی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے اس کے قول کو راجح قرار دیا ہے جو ان میں سب سے قلیل قرار دیتا ہے فرمایا :
Ayah 20:104104: نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَقُوْلُوْنَ اِذْ یَقُوْلُ (ہم خوب جانتے ہیں جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں جبکہ ان میں سے) اَمْثَلُہُمْ طَرِیْقَۃً اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا یَوْمًا (صاحب الرائے اس طرح کہتا ہوگا۔ تم تو ایک ہی روز رہے) امثلؔ کا معنی معتدل و درست رائے والا۔ طریقۃ ؔ بمعنی قول ہے۔ جیسا کہ دوسری آیت میں فرمایا : قالوالبثنا یومًا اوبعض یوم فسئل العادین ] المؤمنون : 113[
Ayah 20:105پہاڑوں کے متعلق سوال و جواب :
105: وَیَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْجِبَالِ (آپ سے پہاڑوں کے متعلق سوال کرتے ہیں) کفار نے نبی اکرم ﷺ سے دریافت کیا کہ قیامت کے دن پہاڑوں کا کیا بنے گا۔ دوسرا قول یہ ہے کسی نے سوال نہیں کیا بر تقدیر سوال جواب کی تعلیم کی گئی ہے کہ اگر وہ آپ سے سوال کریں تو کہہ دیں اسلئے فاءؔ سے فرق کیا گیا بخلاف دیگر سوالات کے وہاں فاءؔ نہیں لائی گئی جیسا اس قول میں ویسئلونک عن المحیض قل ھو اذی (البقرہ : 111) ویسئلونک عن الیتامٰی قل اصلاح لہم خیر ] البقرہ : 220[ ویسئلونک عن الخمر والمیسر قل فیھما اثم کبیر ] البقرہ : 219[ یسئلونک عن الساعۃ ایان مرسھا قل انما علمھا عند ربی ] الاعراف : 187[ ویسئلونک عن الروح قل الروح من امر ربی ] الاسراء : 85[ ویسئلونک عن ذی القرنین قل سأتلوا ] الکہف : 83[ غرضیکہ ان تمام مقامات میں سب سے پہلے سوالات کیے گئے پھر جوابات وارد ہوا۔ ان میں شرط کا معنی نہ تھا اسلئے فاء نہیں لائی گئی۔
یَنْسِفُھَا رَبِّیْ نَسْفًا (میرا رب ان کو اڑا دے گا اڑانا) ان کو ریت کی طرح کر دے گا۔ پھر ہوائیں بھیج کر ان کو متفرق کر دے گا۔ جیسا کہ غلہ کو متفرق کیا جاتا ہے۔ قول خلیل (رح) یہ ہے کہ ان کو جڑ سے اکھاڑ دے گا۔
Ayah 20:106106: فَیَذَرُھَا (پھر ان کے مقامات کو تبدیل کر دے گا۔ ) نمبر 2۔ ھاءؔ کی ضمیر کا مرجع الارض کو معلوم ہونے کی بنا پر بنایا جائے۔ جیسا اس آیت میں ماترک علی ظھر ھا ] فاطر : 45 [ قَاعًا صَفْصَفًا (ہموار زمین چٹیل میدان۔ )
Ayah 20:107107: لَّا تَرٰی فِیْھَا عِوَ جًا (تمہیں اس میں ناہمواری دکھائی نہ دے گی) عوجا : جھکائو۔ ٹیڑھ۔ وَّ لَآ اَمْتًا (نہ ٹیلہ) بلندی العوجؔ کا لفظ کسرہ سے معانی میں ہی استعمال ہوتا ہے۔ جیسا کہ مفتوح کا لفظ اعیان میں ہی آتا ہے اور زمین تو اعیان میں سے ہے۔ مگر اس کے لئے لفظ معانی والا استعمال ہوا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب زمین اس قدر برابر کردی جائے کہ اس میں ذرا بھر ٹیڑھ نہ رہے خواہ کتنے آلات سے جائزہ لیا جائے تو پھر یہ معانی کے قائم مقام بن گئی۔
Ayah 20:108108: یَوْ مَپذٍ (اس دن ) ۔ اس میں یوم کی اضافت پہاڑوں کے اڑانے کی طرف کی۔ ای یوم اذنسفت الجبال نمبر 2۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ یوم القیامہ کا بدل ثانی ہے۔ یَّتَّبِعُوْنَ الدَّاعِیَ لَا عِوَجَ لَہٗ (وہ داعی کے کہنے پر چلیں گے ادھر ادھر نہ مڑیں گے) جو محشر کی طرف بلائے گا۔ یعنی داعی سے مراد اسرافیل ہیں۔ اتباع داعی سے اتباع صوت داعی مراد ہے اسرافیل (علیہ السلام) صخرہ بیت المقدس پر آواز دیں گے ایتھا العظام البالیۃ والجلود المتخرقۃ و اللحوم المتفرقۃ ھلمّی الی عرض الرحمان ] الرحمان : 71[ اے بوسیدہ ہڈیو اے پارہ پارہ کھالو۔ متفرق گوشت کے گالو۔ رحمان کی بارگاہ میں پیش ہونے کو چلو۔ ہر طرف سے وہ اس کی آواز پر متوجہ ہونگے ادھر ادھر نہ مڑیں گے۔ وَخَشَعَتِ (اور پست ہوجائیں گی۔ )
الْاَصْوَاتُ لِلرَّحْمٰنِ ( آواز میں رحمان کی ہیئت ورعب سے) فَـلَا تَسْمَعُ اِلَّا ھَمْسًا (پس تو نہ سن پائے گا سوائے خفیف آواز کے) ہونٹ ہلانے سے خفیف آواز سنی جائے گی دوسرا قول یہ ہے کہ ھمس الابل سے ہے اونٹوں کے چلنے کے وقت ان کے پائوں کی آواز مطلب یہ ہے کہ تم قدموں کی آہٹ سنو گے اور محشر کی طرف انکا منتقل ہونا۔
Ayah 20:109109: یَوْمََئِذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَۃُ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَہُ الرَّحْمٰنُ (اس دن شفاعت فائدہ نہ دے گی مگر ایسے شخص کیلئے جس کے لئے رحمان نے اجازت دے دی ہو۔ )
نحو : مَنْ شفاعت کا بدل ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے۔ مضاف محذوف ہے۔ ای لا تنفع الشفاعۃ الا شفاعۃ من اذن لہ الرحمان یعنی وہ شفاعت کرنے والے کو شفاعت کی اجازت مرحمت فرمائے گا۔ وَرَضِیَ لَہٗ قَوْلًا (اور اس کے لئے بولنا پسند کرلیا ہو) اور اپنے لئے اس کی بات کو پسند کرلیا ہو کہ جس کے حق میں شفاعت کی جارہی ہے وہ محفوظ ہوگا۔ نمبر 2۔ یہ منصوب ہے اس طرح کہ تنفع کا مفعول ہے۔
Ayah 20:110110: یَعْلَمُ مَابَیْنَ اَیْدِیْھِمْ وَمَا خَلْفَھُمْ (وہ جانتا ہے ان کے تمام اگلے پچھلے احوال کو) ان کے گزشتہ احوال اور مستقبل کی کیفیات سے واقف ہے۔ وَلَا یُحِیْطُوْنَ بِہٖ عِلْمًا (وہ اس کے علم کا احاطہ نہیں کرسکتے) یعنی ان چیزوں کو جن کا احاطہ علم الٰہی کرنے والا ہے۔
نحو : اس صورت میں ضمیر ماؔ کی طرف راجع ہے۔ نمبر 2: ضمیر کا مرجع ذات باری تعالیٰ ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کا احاطہ ممکن ہی نہیں۔
Ayah 20:1111 1 1: وَعَنَتِ (جھک جائیں گے اور ذلیل ہوجائیں گے) اور اسی سے ہے کہ اسیر و قیدی کو عانٍ (عاجز) کہتے ہیں عنا یعنو الْوُجُوْہُ (چہرے) مراد چہروں والے۔ لِلْحَیِّ (اس ذات کیلئے جو کبھی نہیں مرے گی) ہمیشہ زندہ رہے گی اس پر موت نہ آئے گی۔ ہر زندگی جس کے پیچھے موت ہو وہ زندگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ الْقَیُّوْمِ (ہمیشہ قائم و دائم رہنے والی) ہر شخص جو کچھ کرتا ہے اس کے تمام اعمال کو تھامے ہوئے ہے۔ نمبر 2۔ تمام مخلوق کے انتظام کو تھامے ہوئے ہے۔ وَقَدْ خَابَ (اور ایسا شخص ناکام رہے گا) اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید ہوگا۔ مَنْ حَمَلَ ظُلْمًا (جو ظلم لے کر آیا ہوگا) جو موقف قیامت میں شرک اٹھا کر لایا۔ کیونکہ ظلم و ضع الشیٔ فی غیر موضعہٖ کو کہا جاتا ہے اور اس سے بڑا ظلم اور کیا ہوگا جس نے مخلوق کو خالق کا شریک بنادیا۔
Ayah 20:112112: وَمَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ (اور جس نے نیک کام کئے) صالحات سے طاعات مراد ہیں۔ وَھُوَ مُؤْمِنٌ (اس حالت میں کہ وہ ایماندار تھا) وہ محمد ﷺ جو لے کر آئے اس کی تصدیق کرنے والا تھا۔
نکتہ : معلوم ہوا کہ ایمان والا لقب ایسے شخص کا ہوسکتا ہے جو بغیر اعمال صالحہ کے ہو۔ ایمان اعمال صالحہ کی قبولیت کی شرط ہے۔ فَـلَا یَخٰفُ (وہ نہ اندیشہ کرے گا۔ ) قراءت : مکی نے نہی فَـلَا یَخَفْ پڑھا ہے۔
ظُلْمًا (زیادتی کا) کہ اس کی سیّأٰت بڑھا دی جائیں وَّ لَا ھَضْمًا (اور نہ کمی کا) کہ اس کی حسنات میں کمی کردی جائے ھضمؔ کی اصل نقص اور کسر ہے ( کم کرنا، توڑنا) ۔
Ayah 20:113113: وَکَذٰلِکَ (اور اسی طرح)
نحو : اس کا عطف کذلک نَقُصُّ پر ہے۔ یعنی اس اتارنے کی مثل اَنْزَلْنٰـہٗ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا (ہم نے اس کو قرآن عربی اتارا) عربی زبان میں اتارا۔ وَّ صَرَّ فْنَا ( اور بار بار بیان کئے) ۔ فِیْہِ مِنَ الْوَعِیْدِ لَعَلَّھُمْ یَتَّقُوْنَ (اس میں وعیدیں شاید کہ وہ پرہیز کریں) شرک سے بچے رہیں۔ اَوْ یُحْدِثُ لَھُمْ (یا وہ پیدا کر دے گا ان کے لئے) وعید یا قرآن ذِکْرًا (نصیحت) یا ایمان لا کر اس سے مشرف باد ہوجائیں اور بلند ہوجائیں۔ ایک قول یہ ہے کہ أو وائو کے معنی میں ہے۔
Ayah 20:114114: فَتَعٰـلَی اللّٰہُ (پس اللہ تعالیٰ بڑا عالی شان ہے) وہ تمام گمانوں سے بلند وبالا ہے تمام فہموں کے وہموں سے اعلیٰ ہے اجسام کی مشابہت اور مخلوق کی مشابہت سے منزہ ہے۔ الْمَلِکُ (وہ بادشاہ) ایسا کہ تمام بادشاہ اس کے محتاج الْحَقُّ (سچا) الوہیت کا سچا حقدار فناء و بگاڑ اور زوال کا اس کے اقتدار حکومت میں احتمال و وہم بھی نہیں۔ جب قرآن اور اس کے نزول کا تذکرہ ہوا۔ تو بطور استطراد فرمایا جب جبرئیل قرآن کی وحی لیکر آئیں تو جب تک وہ پوری وحی پہنچانہ چکیں قرآن پڑھنے میں عجلت نہ کریں۔ آپ اتنی دیر کریں کہ اس کو سنا دیں اور سمجھا دیں۔ وَلَا تَعْجَلْ بِالْقُرْاٰنِ (اور آپ قرآن پڑھنے میں عجلت نہ کریں) ۔ مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّقْضٰٓی اِلَیْکَ وَحْیُہٗ (اس سے قبل کہ اس کی وحی مکمل ہو) اس سے پہلے کہ جبرئیل (علیہ السلام) پہنچا کر فارغ ہوں۔ وَقُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا (اور کہہ دیں اے میرے رب میرے علم میں اضافہ فرما) قرآن اور اس کے معانی کا علم دوسراقول یہ ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر ﷺ کو کسی چیز میں اضافہ کی طلب کرنے کا حکم نہیں دیا سوائے علم کے۔
Ayah 20:115قصہ آدم ( علیہ السلام) و ملائکہ و ابلیس :
115: وَلَقَدْ عَھِدْنَـآ اِلٰٓی اٰدَمَ (اور تحقیق ہم آدم (علیہ السلام) کو ایک حکم دے چکے تھے) یعنی ہم نے ان کی طرف وحی کی کہ وہ درخت میں سے نہ کھائیں بادشاہوں کے اوامر وو صایا میں کہا جاتا ہے تقدم الملک الی فلان واوعزالیہ و عزم علیہ وعھد الیہ۔ ان تمام میں حکم و نصیحت کا معنی ہے۔
نحو : قصہ آدم کا عطف و صَرَّفنا فیہ من الوعید پر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ میں قسم سے کہتا ہوں کہ ہم نے تمہارے باپ آدم کو حکم دیا اور ان کو وصیت کی کہ وہ درخت کے قریب نہ جائیں۔
مِنْ قَبْلُ (ان کے وجود سے قبل) پس انہوں نے وہ کرلیا جس سے روکا گیا تھا۔ جیسا کہ یہ مخالفت کر رہے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ بنی آدم کے معاملے کی بنیاد ہی اس بات پر ہے۔ اور اس کا اثران میں پختہ ہے۔ فَنَسِیَ (پس وہ عہد کو بھول گئے) ممانعت والا عہد اور انبیاء (علیہم السلام) سے اس نسیان پر مواخذہ ہوتا ہے۔ جس کے متعلق اگر وہ تکلف کرتے تو وہ اس سے بچ سکتے تھے۔ وَ لَمْ نَجِدْ لَہٗ عَزْمًا (اور ہم نے ان کے اندر پختگی نہ پائی) یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم کی مخالفت کیلئے پختہ ارادہ و قصد نہ پایا۔ نمبر 2۔ آدم اولی العزم میں سے نہ تھے۔ یہاں وجود علمؔ کے معنی میں ہے اور لہ عزمًا دونوں اس کے مفعول ہیں۔ نمبر 3۔ عزم یہ عدم کی نقیض ہے یعنی ان میں پختگی معدوم تھی۔ اور لہؔ اس صورت میں نجد کے متعلق ہے۔
Ayah 20:116116: وَاِذْ قُلْنَا (اور جب ہم نے کہا۔ )
نحو : یہ اذکر محذوف کی وجہ سے منصوب ہے۔
لِلْمَلٰٓپکَۃِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ (فرشتوں کو کہ تم آدم کو سجدہ کرو) قول اول یہ لغوی سجدہ ہے جو کہ تذلل، خضوع کو کہا جاتا ہے۔ دوسرا قول آدم کی عظمت ظاہر کرنے کیلئے آدم کو قبلہ کی طرف قرار دیکر سجدہ کا حکم ہوا۔ فَسَجَدُوا اِلَّا اِبْلِیْسَ (پس انہوں نے سوائے ابلیس کے سجدہ کیا) حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ابلیس فرشتہ تھا مستثنیٰ منہ کی جنس سے تھا۔
حضرت حسن کا قول یہ ہے ملائکہ ارواح کی مخلوق کا نچوڑ ہیں۔ ان میں توالد و تناسل نہیں اور ابلیس گرم لو کے مادہ سے ہے (جو جنات کی اصل ہے) ان سے استثناء انکا اس لئے صحیح ہے۔ کہ یہ ان کے ساتھ رہتا اور ان کی معیت میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا۔ اَبٰی (اس نے انکار کیا۔ )
نحو : یہ جملہ مستانفہ ہے۔ گویا یہ قائل کے اس قول کا جواب ہے جو کہ یہ کہے کہ اس نے پھر سجدہ کیوں نہ کیا ؟ اور درست وجہ یہ ہے کہ اس کا مفعول مقدر نہ مانا جائے اور وہ سجدہ ہے اور اس پر فَسَجُدُوْا دلالت کرتا ہے اور اس کا معنی یہ ہے کہ اس نے انکار کو ظاہر کیا۔ اور اس پر توقف کیا۔
Ayah 20:117117: فَقُلْنَا یٰٓاٰ دَمُ اِنَّ ھٰذَا عَدُوٌّلَّکَ وَلِزَوْجِکَ (اور ہم نے کہا اے آدم بیشک یہ تیرا دشمن اور تیری بیوی کا دشمن ہے) اس طرح کہ اس نے تمہیں سجدہ نہیں کیا اور تیری عظمت کا قائل نہیں۔ فَـلَا یُخْرِجَنَّکُمَا مِنَ الْجَنَّۃِ (کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ تم دونوں کو جنت سے نکال باہر کرے) یعنی تمہارے جنت سے نکلوانے کا سبب نہ بن جائے۔ فَتَشْقٰی (پھر تم مشقت و مصیبت میں پڑ جائو) خوراک کی تلاش میں تھکنا پڑے۔
یہاں فتشقیا نہیں فرمایا آیات کے آواخر کا لحاظ رکھا گیا۔ نمبر 2۔ حواء تو بحیثیت تابع داخل ہی ہے۔ نمبر 3۔ مرد عورت کے خرچہ کا ذمہ دار ہے۔ روایت تفسیر یہ میں ہے کہ آدم (علیہ السلام) کے پاس ایک سرخ بیل بھیجا گیا جس سے ھل چلاتے اور اپنی پیشانی سے پسینہ پونچھتے تھے۔
Ayah 20:118118: اِنَّ لَکَ اَلَّا تَجُوْعَ فِیْھَا (اور تیرے لئے اس میں یہ ہے کہ نہ بھوک لگے گی) یعنی جنت میں وَ لَا تَعْرٰی (اور نہ تو ننگا ہوگا) کپڑوں سے کیونکہ یہ کپڑے ہمیشہ کیلئے تیار کردہ ہیں۔
Ayah 20:119119: وَاَنَّکَ (اور بیشک تم) قراءت : نافع، ابوبکر نے اِنَّکَ پڑھا۔ پہلے اِنَّ پر عطف کیا اور دیگر قراء نے فتحہ سے پڑھا اور اس کا عطف اَلاَّ تَجُوعَ پر کیا ہے۔ اور محلاً منصوب مانا ہے اور فصل کی صورت میں بھی جائز ہے۔ جیسا کہ تم کہو ان فی علمی اَنَّکَ جالسٌ۔ لَاتَظْمَؤُ ا فِیْھَا (نہ اس میں پیاس لگے گی) اس میں پیاسا نہ ہوگا کیونکہ وہاں مشروبات ہی مشروبات ہیں۔ وَلَا تَضْحٰی (نہ دھوپ لگے) سورج کی گرمی تجھے نہ پہنچے گی۔ کیونکہ جنت میں سورج کا وجود نہیں۔ اہل جنت ظلِّ ممدود میں قیام پذیر ہیں۔
Ayah 20:120120: فَوَسْوَسَ اِلَیْہِ الشَّیْطٰنُ (پس شیطان نے ان کو بہکایا) اس نے وسوسہ ڈالا۔ اَنہی الیہ الوسوسۃ سر الیہ کی طرح ہے پوشیدہ وسوسہ ڈالا۔ قَالَ یٰٓاٰدَمُ ھَلْ اَدُلُّکَ عَلٰی شَجَرَ ۃِ الْخُلْدِ (کہا اے آدم کیا میں تمہیں ہمیشگی کا درخت بتلا دوں) یہاں شجرہ کی نسبت خلد کی طرف کی خلدؔ، خلود کو کہتے ہیں۔ کیونکہ جس نے اس سے کھالیا۔ اس کے خیال کے مطابق وہ ہمیشہ رہا۔ اور اس پر موت نہ آئے گی۔ وَمُلْکٍ لَّا یَبْلٰی (اور ایسی بادشاہی جو پرانی نہ ہو) یعنی زوال و فناء نہ آئے گا۔