20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsمدارک التنزیل

Ayah 20:41

وَ اصْطَنَعْتُكَ لِنَفْسِیْۚ Open ayah 20:41 in the Quran reader

اور میں نے تم کو اپنے (کام کے) لیے بنایا

41: وَاصْطَنَعْتُکَ لِنَفْسِیْ (اور میں نے تمہیں اپنے لئے منتخب کرلیا) چن لیا۔ اور اپنی وحی اور رسالت کیلئے تمہارا انتخاب کرلیا تاکہ تم میرے ارادہ اور محبت کے مطابق کام کرو۔ زجاج (رح) کہتے ہیں میں نے تمہیں اپنے کام کیلئے چنا۔ اور تمہیں اپنی محبت کو قائم کرنے والا بنایا۔ اور اپنے اور مخلوق کے درمیان واسطہ بنایا تاکہ میرا خطاب سن کر مخلوق کو پہنچائو۔ گویا میں نے تمہارے ذریعہ ان پر حجت قائم کردی اور ان کو براہ راست مخاطب کیا۔
Ayah 20:42

اِذْهَبْ اَنْتَ وَ اَخُوْكَ بِاٰیٰتِیْ وَ لَا تَنِیَا فِیْ ذِكْرِیْۚ Open ayah 20:42 in the Quran reader

تو تم اور تمہارا بھائی دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ اور میری یاد میں سستی نہ کرنا

42: اِذْھَبْ اَنْتَ وَاَخُوْکَ بِاٰیٰتِیْ (تم اور تمہارا بھائی میرے معجزات لے کر جائو) آیات سے یہاں معجزات مراد ہیں۔ وَلَا تنِیَا (اور تم دونوں سستی نہ کرنا) تھکنا، سستی کرنا۔ یہ الونی سے ہے جس کا معنی کمی اور تھکاوٹ ہے۔ فِیْ ذِکْرِی : (میری یاد میں) تم دونوں میری یاد کو اپنے دو پروں بنائو جس سے تم نے پرواز کرنا ہے۔ 2: الذکر سے مراد تبلیغ رسالت ہے۔ ذکر کے لفظ کا اطلاق تمام عبادات پر ہوتا ہے اور تبلیغ رسالت تو عظیم ترین عبادات میں سے ہے۔
Ayah 20:43

اِذْهَبَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰىۚۖ Open ayah 20:43 in the Quran reader

دونوں فرعون کے پاس جاؤ کہ وہ سرکش ہو رہا ہے

43: اِذْھَبَآ اِلٰی فِرْعَوْنَ (تم دونوں فرعون کے پاس جائو) یہ دوبارہ لائے کیونکہ اول مطلق ہے۔ اور ثانی مقید ہے۔ اِنَّہٗ طَغٰی (بیشک وہ سرکش ہوگیا) ربوبیت کا دعو ٰی کر کے حد سے تجاوز کیا ہے۔
Ayah 20:44

فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّهٗ یَتَذَكَّرُ اَوْ یَخْشٰى Open ayah 20:44 in the Quran reader

اور اس سے نرمی سے بات کرنا شاید وہ غور کرے یا ڈر جائے

44: فَقُوْلَا لَہٗ قَوْلًا لَّیِّنًا (پھر اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا) تم دونوں اس سے مطابقت سے بات کرنا۔ اس لئے کہ موسیٰ (علیہ السلام) پر اس کا حق تربیت تھا۔ نمبر 2۔ اس کو کنیت سے بلانا۔ اس کی تین کنیتیں تھیں۔ نمبر 1۔ ابو العباس نمبر 2۔ ابو الولید۔ نمبر 3۔ ابو مرّۃ نمبر 3۔ اس کو ایسی جوانی کا وعدہ کرنا جس کے بعد بڑھاپا نہیں اور ایسی بادشاہی جو اس سے موت کے علاوہ چھینی نہ جائے گی۔ نمبر 4۔ یا اس سے وہ ارشاد مراد ہے جو دوسرے مقام پر ہے۔ ھل لک الی ان تزکّی واَھْدِیَکَ الی ربک فتخشٰی کلام کا ظاہر استفہام اور مشورہ ہے۔ لَّعَلَّہٗ یَتَذَکَّرُ (شاید کہ وہ نصیحت پذیر ہوجائے) نصیحت قبول کرلے اور غور وفکر کرے پھر حق کا یقین کرلے۔ اَوْ یَخْشٰی (یا وہ ڈر جائے) یعنی وہ اس بات سے ڈرے کہ معاملہ اسی طرح ہے جیسا کہ تم دونوں بیان کر رہے ہو۔ اس صورت میں اس کا انکار ہلاکت کے مترادف ہے۔ نکتہ : یہاں لعلہ یتذکر فرمایا حالانکہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے کہ وہ نصیحت قبول نہ کرے گا۔ کیونکہ ترجی علم ورجاء دونوں کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ مطلب یہ اس طرح ہوگا۔ اذھبا علی رجائکما وطمعکما تم اپنی امید اور توقع کے ساتھ جائو۔ اور تم حکم کو اس انداز سے انجام دو کہ جس طرح وہ شخص ادا کرتا ہے۔ جس کو توقع ہے کہ اس کا علم فائدہ دے گا۔ اور رہی یہ بات کہ جب اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ وہ ہرگز ایمان نہ لائے گا تو ارسال رسل کا فائدہ کیا ہے تو جواب یہ ہے کہ اتمام حجت اور قطع معذرت بطریق اسباب مقصود ہے (باقی حکمتوں سے واقف ہے جس کی یہ کائنات ہے کہ یہ مزید کی مجال نہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ لعلہ یتذکر کا معنی یہ ہے کہ لعلہ یتذکر متذکر او یخشی خاش کہ شاید کوئی نصیحت حاصل کرنے والا نصیحت پائے اور ڈرنے والا ڈر جائے۔ چناچہ اس طرح بہت سے لوگوں کے سلسلہ میں واقع ہوا جو موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے۔ اور ایک قول ہے کہ لعلؔ اللہ تعالیٰ کی ذات کیلئے جب آئے تو وجوب کو ظاہر کرتا ہے۔ اور یقینا اس کو نصیحت تو آگئی لیکن اسوقت اس کو نصیحت نے فائدہ نہ دیا۔ (کیونکہ قبول نہ کیا) ۔ قول آخر یہ ہے فرعون نے نصیحت حاصل کی اور ڈر گیا اور موسیٰ (علیہ السلام) کی اتباع کا ارادہ کرلیا۔ مگر اس کو ھامان نے روک دیا۔ اور فرعون اپنے کسی معاملہ کا فیصلہ اس کے بغیر نہ کرتا تھا۔ یحییٰ بن معاذ (رح) کے سامنے یہ آیت پڑھی گئی تو وہ زار و قطار رونے لگے اور عرض کیا اے اللہ یہ تیری نرمی تو اس شخص کے ساتھ ہے جو اپنے بارے میں کہتا ہے انا الٰہ ( کہ میں معبود ہوں) اس کے ساتھ تیری نرمی کا معاملہ کیا ہوگا۔ جو کہتا : انت الا لٰـہُ ( کہ تو میرا معبود ہے) اور یہ تیری نرمی اس کے ساتھ ہے جو کہتا ہے۔ انا ربکم الاعلی اس کے ساتھ کتنی مہربانی ہوگی جو کہتا ہے سبحان ربی الا علی۔
Ayah 20:45

قَالَا رَبَّنَاۤ اِنَّنَا نَخَافُ اَنْ یَّفْرُطَ عَلَیْنَاۤ اَوْ اَنْ یَّطْغٰى Open ayah 20:45 in the Quran reader

دونوں کہنے لگے کہ ہمارے پروردگار ہمیں خوف ہے کہ وہ ہم پر تعدی کرنے لگے یا زیادہ سرکش ہوجائے

45: قَالَا رَبَّنَـآ اِنَّنَا نَخَافُ اَنْ یَّفْرُطَ عَلَیْنَا (موسیٰ و ہارون نے کہا اے میرے رب ہمیں اندیشہ ہے کہ وہ کہیں ہم پر زیادتی نہ کر بیٹھے) سزا میں جلد بازی کرے یفرطؔ سے الفارط ہے کہا جاتا ہے فرط علیہ۔ ای عجل جلدی کی اَوْ اَنْ یَّطْغٰی (یا وہ سرکشی نہ کرنے لگے) ہمارے ساتھ بدسلوکی میں حد سے تجاوز نہ کرے۔
Ayah 20:46

قَالَ لَا تَخَافَاۤ اِنَّنِیْ مَعَكُمَاۤ اَسْمَعُ وَ اَرٰى Open ayah 20:46 in the Quran reader

(خدا نے) فرمایا کہ ڈرو مت میں تمہارے ساتھ ہوں (اور) سنتا اور دیکھتا ہوں

46: قَالَ لَا تَخَافـَـآ اِنَّنِیْ مَعَکُمَا (اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم دونوں اندیشہ نہ کرو میں تم دونوں کے ساتھ یقینا ہوں) یعنی تمہارا محافظ و مددگار ہوں۔ اَسْمَعُ (میں سنوں گا) تمہارے اقوال کو وَاَرٰی (اور میں دیکھتا ہوں) تمہارے افعال کو۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اسمع میں سننے والا ہوں تمہاری دعائوں کو ان کو قبول کروں گا۔ واری (میں دیکھنے والا ہوں) جو تمہارے خلاف ارادہ کیا جائے پس میں رکاوٹ ڈالنے والا ہوں میں تمہارے احوال سے بیخبر نہیں تم پرواہ نہ کرو۔
Ayah 20:47

فَاْتِیٰهُ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلَا رَبِّكَ فَاَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ وَ لَا تُعَذِّبْهُمْ١ؕ قَدْ جِئْنٰكَ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ السَّلٰمُ عَلٰى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰى Open ayah 20:47 in the Quran reader

(اچھا) تو اس کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم آپ کے پروردگار کے بھیجے ہوئے ہیں تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے کی اجازت دیجئے اور انھیں عذاب نہ کیجئے ہم آپ کے پاس آپ کے پروردگار کی طرف سے نشانی لے کر آئے ہیں اور جو ہدایت کی بات مانے اس کو سلامتی ہے

دو بنیادی مطالبات اور ان کے پیش کرنے کا طریقہ : 47: فَاْ تِیٰـہُ (پس تم دونوں جائو) فرعون کے پاس فَقُوْلَآ اِنَّا رَسُوْلَا رَبِّکَ (پس تم دونوں کہو ہم تیرے رب کے قاصد ہیں) تیری طرف فَاَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ (پس تو بھیج ہمارے ہمراہ بنی اسرائیل کو) ان کو غلامی سے آزاد کرو۔ وَلَا تُعَذِّبْھُمْ (اور ان کو تکلیفیں مت پہنچا) دشوار ترین مشقت کے کام لے کر۔ قَدْ جِئْنَاکَ بِاٰ یَۃٍ (ہم تیرے پاس معجزہ لے کر آئے ہیں) آیت یہاں دلیل نبوت یعنی معجزے کیلئے استعمال ہوا۔ مِنْ رَّبِّکَ (تیرے رب کی طرف سے) اس کی سچائی پر جو ہم نے دعوٰی کیا۔ یہ جملہ اِنَّا رَسُوْلَا رَبِّکَکیلئے بمنزلہ بیان اور تفسیر کے ہے۔ کیونکہ دعوائے رسالت دلیل سے ہی ثابت ہوتا ہے۔ اور آیت سے یہی دلیل نبوت کا لاناہی مقصود ہے۔ فرعون نے یہ سنکر کہا وہ دلیل کیا ہے پس آپ نے اپنا دست اقدس بغل سے نکالا تو اس سے شعاع آفتاب کی طرح شعاعیں نکل رہی تھیں۔ وَالسَّلٰمُ عَلٰی مَنِ اتّبَعَ الْھُدٰی (اور جو سیدھی راہ پر چلے اس کے لئے سلامتی ہے) یعنی عذاب سے وہ سلامتی پاسکتا ہے جو اسلام لے آئے۔ یہ سلام تحیہ نہیں ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ ان ملائکہ کا سلام ہے جو ہدایت پانے والوں پر جنت میں خازن ہیں۔
Ayah 20:48

اِنَّا قَدْ اُوْحِیَ اِلَیْنَاۤ اَنَّ الْعَذَابَ عَلٰى مَنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰى Open ayah 20:48 in the Quran reader

ہماری طرف یہ وحی آئی ہے کہ جو جھٹلائے اور منہ پھیرے اس کے لئے عذاب (تیار) ہے

48: اِنَّا قَدْ اُوْ حِیَ اِلَیْنَا اَنَّ الْعَذَابَ (ہمارے پس یہ وحی کی گئی کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب) دنیا اور آخرت میں عَلٰی مَنْ کَذَّبَ وَتَوَلّٰی (اس شخص پر ہوگا جس نے تکذیب کی اور منہ پھیرا) رسولوں کو جھٹلایا اور ایمان سے اعراض اختیار کیا۔ قرآن میں ارجیٰ آیت : یہ قرآن میں ارجٰی آیت قرار دی گئی کیونکہ جنس سلام کو مومن کیلئے مخصوص کیا اور جنس عذاب کو مکذب کیلئے مخصوص کیا اور جنس کے بعد کونسی چیز رہ جاتی ہے۔ تم دونوں اس کے پاس جائو اور فریضۃ رسالت ادا کرو۔ چناچہ دونوں نے وہ کہا جس کا حکم ملا تھا۔
Ayah 20:49

قَالَ فَمَنْ رَّبُّكُمَا یٰمُوْسٰى Open ayah 20:49 in the Quran reader

(غرض موسیٰ اور ہارون فرعون کے پاس گئے) اس نے کہا موسیٰ تمہارا پروردگار کون ہے ؟

فرعون اور موسیٰ ( علیہ السلام) کی گفتگو کا آغاز : 49: قَالَ فَمَنْ رَّبُّکُمَا یٰـمُوْسٰی (فرعون نے کہا اے موسیٰ تم دونوں کا رب کون ہے ؟ ) اس نے دونوں کو اولاً مخاطب کیا پھر ایک کا نام لے کر آواز دی کیونکہ موسیٰ نبوت میں اصل تھے اور ہارون (علیہ السلام) ان کے تابع تھے۔
Ayah 20:50

قَالَ رَبُّنَا الَّذِیْۤ اَعْطٰى كُلَّ شَیْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى Open ayah 20:50 in the Quran reader

کہا کہ ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی شکل وصورت بخشی پھر راہ دکھائی

دلائلِ توحید : 50: قَالَ رَبُّنَا الَّذِیْ اَعْطٰی کُلَّ شَیْ ئٍ خَلْقَہٗ (موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر شئی کو اس کے مناسب بناوٹ عنایت فرمائی۔ ) خلقہ یہ اعطی کے دو میں سے پہلا مفعول ہے یعنی اعطٰی خلیقتہ کل شیٔ یحتاجون الیہ ویرتفقون بہٖ اس نے بناوٹ دی ہر چیز کو ایسی جس کے وہ ضرورت مند اور جس سے وہ فائدہ اٹھانے والے ہیں نمبر 2۔ دو میں سے دوسرا مفعول ہے۔ ہر شیٔ کو اس کی وہ شکل و صورت دی جو اس کے منفعت و مقصد کے مطابق ہے جیسا کہ آنکھ کو وہ ہیئت دی جو بصارت کے مطابق ہے اور کان کو وہ شکل دی جو سننے کے مناسب تھی اور اسی طرح ناک ‘ پائوں ‘ ہاتھ ہر ایک ان میں سے مقررہ منفعت کے عین مطابق ہے۔ قراءت : نصیر نے خَلَقَہ پڑھا ہے انہوں نے مضاف کی صفت قرار دیا یا مضاف الیہ کی۔ تقدیر عبارت اس طرح ہے أعْطٰی کُلَّ شَیٍٔ مَخْلُوْقٌ عطاء۔ ثُمَّ ھُدٰی (پھر اس کی راہنمائی کی) بتلا دیا کہ جو کچھ دنیا کی معیشت کیلئے ہے کس طرح اس سے فائدہ اٹھائے اور عقبیٰ کی سعادت کیونکر حاصل کرے۔
Ayah 20:51

قَالَ فَمَا بَالُ الْقُرُوْنِ الْاُوْلٰى Open ayah 20:51 in the Quran reader

کہا تو پہلی جماعتوں کا کیا حال ہے ؟

51: قَالَ فَمَا بَالُ الْقُرُوْنِ الْاُوْلٰی (فرعون نے کہا پھرا قوام سابقہ کا کیا حال ہوا) گزری ہوئی اقوام کا کیا حال ہے ؟ اور اقوام پارینہ کا کیا معاملہ ہے۔ فرعون نے قرون متقدمہ کی حالت پوچھی کہ کون ان میں بدبخت ہے اور کون خوش نصیب۔
Ayah 20:52

قَالَ عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْ فِیْ كِتٰبٍ١ۚ لَا یَضِلُّ رَبِّیْ وَ لَا یَنْسَى٘ Open ayah 20:52 in the Quran reader

کہا کہ انکا علم میرے پروردگار کو ہے (جو) کتاب میں (لکھا ہوا ہے) میرا پروردگار نہ چوکتا ہے اور نہ بھولتا ہے

52: قَالَ (موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب میں فرمایا۔ ) عِلْمُھَا عِنْدَ رَبِّیْ فِی کِتَابٍ (انکاعلم میرے رب کے پاس دفتر میں محفوظ ہے) کتابؔ سے لوح محفوظ مراد ہے۔ نحو : عِلْمُھَا مبتدا اور عند ربی خبر ہے اور فی کتاب دوسری خبر ہے۔ آپ کے جواب کا مطلب یہ تھا کہ یہ غیب کے متعلق سوال ہے جو اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے۔ میں تو اس کا ایک بندہ ہوں۔ مجھے تو اتنا ہی علم ہے جتنا علام الغیوب نے اطلاع دی ہے اور اہل زمانہ سابقہ کے حالات کا علم لوح محفوظ میں درج ہے۔ لَا یَضِلُّ رَبِّیْ (میرا رب نہ غلطی کرتا ہے) کوئی چیز اسے فراموش نہیں ہوسکتی۔ کہا جاتا ہے ضللت الشیٔ جبکہ اس کی جگہ بھول جائے اور اس جگہ کی طرف راہ نہ ملے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ لوگوں کی سعادت و شقاوت میں خطاء نہیں کرتا۔ کہ جس کو سعید بنانا ہو اس کو شقی اور شقی کو سعید بنا دے۔ وَلَا یَنْسٰی (اور نہ بھولتا ہے) ان کے ثواب و عقاب کو نہیں بھولتا۔ نمبر 2۔ جو وہ جانتا ہے اس کو وہ نہیں بھولتا کہ کتاب سے اس کو دیکھنا پڑے۔ کتاب تو اس لئے ہے تاکہ ملائکہ کو معلوم ہوجائے کہ مخلوق کا معمول اس کے معلوم کے موافق ہے۔
Ayah 20:53

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّ سَلَكَ لَكُمْ فِیْهَا سُبُلًا وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ؕ فَاَخْرَجْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْ نَّبَاتٍ شَتّٰى Open ayah 20:53 in the Quran reader

وہ (وہی تو ہے) جس نے تم لوگوں کے لئے زمین کو فرش بنایا اور اس میں تمہارے لئے راستے جاری کئے اور آسمان سے پانی برسایا پھر اس سے انواع واقسام کی مختلف روئیدگیاں پیدا کیں

53: الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الْاَرْضَ مَھْدًا ( وہ ذات جس نے تمہارے لئے زمین کو فرش کی طرح بنایا) نحو : رَبِّی کی صفت ہونے کی وجہ سے اَلَّذِیْ مرفوع ہے۔ نمبر 2۔ مبتدا محذوف کی خبر ہے۔ نمبر 3۔ مدح کی وجہ سے منصوب ہے۔ قراءت : کوفی وغیرہ نے مھدًا کو مِھَادًا پڑھا ہے۔ یہ دونوں لغات ہیں۔ بچھو نے اور بچھانے کی چیز کیلئے بولتے ہیں۔ وَّ سَلَکَ (اور اس نے چلائے) یعنی بنائے۔ لَکُمْ فِیْھَا سُبُـلًا (تمہارے لئے راستے) وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآ ئِ مَآ ئً (اور اس نے آسمان سے بارش اتاری) فَاَخْرَجْنَا بِہٖٓ (پس اس پانی سے ہم نے نکالا) ہٗ کی ضمیر پانی کی طرف لوٹتی ہے۔ کلام میں تفنن پیدا کرنے کیلئے غیبت سے کلام کا رخ متکلم کی طرف موڑ دیا۔ ایک قول یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا کلام پورا ہوچکا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے متعلق فَاَخْرَجْنَا بِہٖ سے اطلاع دی۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ موسیٰ (علیہ السلام) کا کلام ہے۔ یعنی ہم کھیتی کر کے اور اس کو پانی دے کر نکالتے ہیں۔ اَزْوَاجًا (اقسام) مِّنْ نَّبَاتٍ (نباتات کی) نحو : نبات مصدر ہے اور اگنے والی چیز کا نام اس سے رکھ دیا اس میں مصدر کی وجہ سے واحد و جمع برابر ہیں۔ شَتّٰی مختلف نمبر 1۔ یہ ازواج کی صفت ہے۔ نمبر 2۔ نبات کی صفت ہے یہ شتیت کی جمع ہے جیسے مریض، مرضی، مطلب یہ ہوگا کہ نبات نفع، ذائقہ، رنگت، خوشبو، شکل میں مختلف ہیں۔ بعض لوگوں کے استعمال کیلئے جبکہ دوسری حیوانات کے کام آتی ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کا ایک اور انعام ملاحظہ کریں کہ ہمارے ارزاق چو پایوں کے کام سے حاصل ہوتے ہیں اور انکا چارہ اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کو بنایا ہے جو ہماری حاجات سے فاضل اور بچی ہوئی ہیں۔ جن کو کھانے کی قدرت قائلین میں بھی نہیں ہے۔
Ayah 20:54

كُلُوْا وَ ارْعَوْا اَنْعَامَكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّهٰى۠ Open ayah 20:54 in the Quran reader

کہ خود بھی کھاؤ اور اپنے چارپایوں کو بھی بھی چراؤ بیشک ان باتوں میں عقل والوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں

54: کُلُوْا وَارْعَوْا اَنْعَامَکُمْ (تم کھائو اور اپنے چوپایوں کو کھلائو) نحو : یہ اخرجنا کی ضمیر سے حال ہے۔ مطلب یہ ہے ہم نے مختلف اقسام کی نبات نکالیں اس حال میں کہ ان سے انتفاع کی اجازت دی۔ بعض کا خود کھانا مباح کیا اور دیگر کا اپنے جانوروں کو کھلانا۔ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ (بیشک اس میں) جس کا میں نے تذکرہ کیا لَاٰیٰتٍ (البتہ نشانات) ہیں یعنی دلالتیں ہیں۔ لِّاُولِی النُّہٰی (عقل مندوں کیلئے) النھی جمع ہے اور اس کا واحد نُھْیَۃ ہے نمبر 1۔ اس کو اس لئے کہا جاتا ہے کیونکہ ممنوعات سے روکتی ہے نمبر 2۔ معاملات میں اسی کی طرف انتہاء ہوتی ہے۔
Ayah 20:55

مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ وَ فِیْهَا نُعِیْدُكُمْ وَ مِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً اُخْرٰى Open ayah 20:55 in the Quran reader

اسی زمین میں سے ہم نے تم کو پیدا کیا اور اسی میں تمہیں لوٹائیں گے اور اسی سے دوسری دفعہ نکالیں گے

سہولیات انسانی اور زمین : 55: مِنْھَا خَلَقْنٰکُمْ (اور ہم نے تم کو زمین سے پیدا کیا) یعنی تمہارے باپ آدم (علیہ السلام) کو دوسرا قول ہر نطفہ کو دفن والی جگہ کی تھوڑی سی مٹی میں گوندھا جاتا ہے پھر مٹی اور نطفے کو ملا کر اس کے جسم کی تخلیق کی جاتی ہے۔ تیسرا قول نطفہ غذائوں کا نچوڑ ہے اور وہ غذائیں زمین ہی سے نکلی ہیں۔ وَفِیْھَا نُعِیْدُکُمْ (اور اسی میں ہم تم کو لوٹائیں گے) جبکہ تم مر کر دفن ہوگے وَ مِنْھَا نُخْرِجُکُمْ (اور اسی سے تم کو نکالیں گے) بعث کے وقت تَارَۃً اُخْرٰی (دوسری مرتبہ) نکالنے سے مراد یہ ہے کہ انسانوں کے متفرق اجزاء جو مٹی میں مل چکے تھے ان کو ازسر نو جمع کر کے جوڑ دیا جائے گا اور سابقہ صورت زندہ کر کے پہنا دی جائیگی اور محشر کی طرف ان کو نکالا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی جو سہولیات زمین سے متعلق ہیں ان کو شمار فرمایا۔ نمبر 1۔ کہ اس کو فرش اور بچھو نے کی طرح بنایا کہ جس پر آتے جاتے ہیں۔ نمبر 2۔ ان کے لئے راستوں کو درست کردیا جن میں اپنی مرضی سے چلتے ہیں۔ نمبر 3۔ اس میں مختلف قسم کی وہ نباتات اگا دیں جن میں انسانوں کی خورک اور ان کے چوپائیوں کا چارہ اگا دیا۔ زمین ہی ان کی وہ اصل ہے جس سے انہوں نے پرورش پائی اور ان کی وہ ماں ہے جس سے ان کو پیدا کیا گیا۔ نمبر 4۔ اور زمین ہی وہ ہے جو موت کے بعد ان کو سمیٹتی ہے۔
Ayah 20:56

وَ لَقَدْ اَرَیْنٰهُ اٰیٰتِنَا كُلَّهَا فَكَذَّبَ وَ اَبٰى Open ayah 20:56 in the Quran reader

اور ہم نے فرعون کو اپنی سب نشانیاں دکھلائیں مگر وہ تکذیب اور انکار ہی کرتا رہا

نشانات : 56: وَلَقَدْ اَرَیْنٰـہٗ اٰیٰتِنَا کُلَّھَا (ہم نے اس کو اپنی ساری نشانیاں دکھائیں) اَرَیْنَا کی ضمیر فرعون کی طرف جاری ہے۔ آیات سے یہ نو آیات مراد ہیں نمبر 1۔ عصا نمبر 2۔ ید بیضاء نمبر 3۔ سمندر کا پھٹنا۔ نمبر 4۔ پتھر کا پھٹنا۔ نمبر 5۔ مکڑی یعنی ٹڈی دل۔ نمبر 6۔ جوئیں۔ نمبر 7۔ مینڈک نمبر 8۔ خون۔ نمبر 9۔ پہاڑ کا اکھڑ کر لٹکنا۔ فَکَذَّبَ (پس اس نے جھٹلایا) ان آیات کو وَاَبٰی (اور حق کو قبول کرنے سے انکار کردیا) یعنی ایمان و اطاعت سے انکار کردیا۔
Ayah 20:57

قَالَ اَجِئْتَنَا لِتُخْرِجَنَا مِنْ اَرْضِنَا بِسِحْرِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:57 in the Quran reader

کہنے لگا موسیٰ تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ اپنے جادو (کے زور) سے ہمیں ہمارے ملک سے نکال دو

فرعون کا خوف اور جادوگروں کے مقابلہ کی تیاری : 57: قَالَ اَجِئْتَنَا لِتُخْرِجَنَا مِنْ اَرْضِنَا بِسِحْرِکَ یٰـمُوْسٰی (کہنے لگا اے موسیٰ کیا تو اس لئے ہمارے پاس آیا ہے تاکہ تو اپنے سحر سے ہم کو ہماری سرزمین سے نکال دے) قال کا قائل فرعون اور ارضنا سے مراد سر زمین مصر ہے۔ نکتہ : یہ آیت بتلا رہی ہے کہ فرعون موسیٰ (علیہ السلام) سے بہت ڈر گیا اور بِسِحْرِکَ کہہ کر بہانہ لگایا ورنہ کون سا ایسا جادوگر ہے جو بادشاہ کو اس کی حکومت سے نکال باہر کرے۔
Ayah 20:58

فَلَنَاْتِیَنَّكَ بِسِحْرٍ مِّثْلِهٖ فَاجْعَلْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكَ مَوْعِدًا لَّا نُخْلِفُهٗ نَحْنُ وَ لَاۤ اَنْتَ مَكَانًا سُوًى Open ayah 20:58 in the Quran reader

تو ہم پھر تمہارے مقابل ایسا ہی جادو لائیں گے تو ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کرلو نہ تو ہم اس کے خلاف کریں گے اور نہ تم (اور یہ مقابلہ) ایک ہموار میدان میں (ہوگا)

58: فَلَنَاْ تِیَنَّکَ بِسِحْرٍ مِّثْلِہٖ (پس اب ہم بھی تیرے مقابلے میں ایسا ہی جادو لائیں گے) یعنی تیرا مقابلہ ایسے جادو سے کریں گے جو تیرے جادو جیسا ہوگا۔ فَاجْعَلْ بیْنَنَا وَبَیْنَکَ مَوْعِدًا (پس تو ہمارے اور اپنے درمیان ایک وعدہ مقرر کرلے) موعد یہ مصدر ہے جو الوعد کے معنی میں ہے ظرف زمان و مکان نہیں البتہ مضاف مقدر مانا جائے گا۔ ای مکان موعد اور لَّا نُخْلِفُہٗ (جس کے خلاف نہ ہم کریں) اس وعدے کی۔ قراءت : لا تُخْلِفْہٗ کو جزم کے ساتھ یزید نے امر کا جواب ہونے کی وجہ سے پڑھا یا اور دیگر قراء نے موعد کا وصف ہونے کی وجہ سے رفع کے ساتھ پڑھا ہے۔ نَحْنُ وَلَآاَنْتَ مَکَانًا (ہم اور نہ تم کسی ہموار میدان میں) یہ مکان محذوف کا بدل ہے اور یہ بھی درست ہے کہ مضاف مقدر نہ ہو۔ اور معنی اس طرح کرلیا جائے تو ہمارے اور اپنے درمیان ایک وعدہ مقرر کر جس کی ہم خلاف ورزی نہ کریں۔ اور مکانًا مصدر ہونے کی بنا پر منصوب ہوگا۔ نمبر 2۔ یا اس فعل کی بنا پر منصوب ہوگا۔ جس پر مصدر دلالت کرتا ہے۔ سُوًی (ہموار ) قراءت : حجازی، ابو عمرو، علی رحمہم اللہ نے کسرہ سے پڑھا ہے۔ جبکہ دیگر قراء نے ضمہ سے۔ نحو : یہ مکان کی صفت ہے۔ نمبر 2۔ یہ استواء سے لیا جائے تو پھر اس کا معنی نصف ہوگا۔ ایسا مکان جو ہمارے اور تمہارے لیے آدھے راستہ پر واقع ہو تاکہ فاصلہ درمیان سے طرفین تک برابر ہو۔
Ayah 20:59

قَالَ مَوْعِدُكُمْ یَوْمُ الزِّیْنَةِ وَ اَنْ یُّحْشَرَ النَّاسُ ضُحًى Open ayah 20:59 in the Quran reader

(موسی نے) کہا کہ آپ کے لئے یوم زینت کا وعدہ ہے اور یہ کہ لوگ اس دن چاشت کے وقت اکٹھے ہوجائیں

یوم زینت سے مراد : 59: قَالَ مَوْعِدُکُمْ یَوْمُ الزِّیْنَۃِ (کہا تمہارے مقابلہ کے وعدہ کا وقت وہ دن ہے جس میں تمہارے تہوار کا دن ہے) نحو : موعدکم مبتدا یوم الزِّیَنَۃ خبر ہے۔ یہ ان کے ہاں خوشی کا دن تھا۔ نمبر 2۔ نیروز کا دن نمبر 3۔ یوم عاشور۔ زمان کے ساتھ جواب اس صورت میں درست ہوتا ہے ( اگرچہ مکان کے متعلق سوال تاویل اول کی صورت میں ہے) کیونکہ انکا اجتماع زینت کے دن آخر کسی مکان میں وقوع پذیر ہوگا۔ پس زمان کو بطور علم مکان کے ذکر دیا۔ اور دوسری تفسیر کے مطابق تقدیر عبارت یہ ہوگی وعدکم و عد یوم الزینۃ تمہارا وعدہ یوم الزینت کا وعدہ ہے۔ وَاَنْ یُّحْشَرَ النَّاسُ (اور جس میں لوگ جمع ہوجاتے ہیں) یعنی جمع کئے جاتے ہیں۔ نحو : نمبر 1۔ یہ موضع رفع میں ہے۔ نمبر 2۔ یوم پر عطف کی وجہ سے موضع جر میں ہے۔ نمبر 3۔ الزینۃ پر عطف کی وجہ سے موضع جر میں ہے۔ ضُحًی (چاشت کے وقت) خوب دھوپ کے وقت تاکہ شک وشبہ سے بالاتر ہو۔ اور حق کے سامنے آنے کیلئے ظاہر تر ہو۔ اور تمام شہری و دیہاتی اس کو ملاحظہ کریں اور ان میں وہ پھیل جائے۔
Ayah 20:60

فَتَوَلّٰى فِرْعَوْنُ فَجَمَعَ كَیْدَهٗ ثُمَّ اَتٰى Open ayah 20:60 in the Quran reader

تو فرعون لوٹ گیا اور اپنا سامان جمع کر کے پھر آیا

60: فَتَوَلّٰی فِرْعَوْنُ (پس فرعون دربار سے لوٹ گیا) موسیٰ (علیہ السلام) نے اعراض کرتے ہوئے پشت پھیری۔ فَجَمَعَ کَیْدَہٗ (پھر اپنا مکر جمع کرنا شروع کیا) اپنی تدابیر اور جادوگر ان کی تعداد 72 تھی۔ نمبر 2۔ چار صد تھی نمبر 3۔ ستر ہزار تھی۔ ثُمَّ اَتٰی (پھر پہنچ گیا) مقررہ وعدہ مقام پر۔
Ayah 20:61

قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰى وَیْلَكُمْ لَا تَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَیُسْحِتَكُمْ بِعَذَابٍ١ۚ وَ قَدْ خَابَ مَنِ افْتَرٰى Open ayah 20:61 in the Quran reader

موسیٰ نے ان (جادوگروں سے کہا) ہائے تمہاری کمبختی خدا پر جھوٹ افترا نہ کرو کہ وہ تمہیں عذاب دے فنا کر دے گا اور جس نے افترا کیا وہ نامراد رہا

61: قَالَ لَہُمْ مُّوْسٰی (ان کو موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا) جادو گروں کو وَیْلَکُمْ لَاتَفْتَرُوْا عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا (تم پر افسوس ! اللہ تعالیٰ پر جھوٹ مت تراشو) اس کی آیات اور اس کے معجزات کو جادو کا نام مت دو ۔ فَیُسْحِتَکُمْ (پس وہ تمہیں نیست و نابود کردیگا) قراءت : کوفی نے سوائے ابوبکر کے پڑھا ہے۔ یعنی وہ تمہیں ہلاک کر دے گا۔ دیگرقراء نے فَیُسْحَتکم یاء کے فتحہ اور حاءؔ کے فتحہ سے پڑھا ہے۔ السحت اور الاسحات۔ ملیامیٹ کرنے کا معنی دیتے ہیں۔ نحو : یہ جواب نہی ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ بِعَذَابٍ (بڑے عذاب کے ذریعہ) وَقَدْ خَابَ مَنِ افْتَرٰی (اور جو جھوٹ باندھتا ہے وہ ناکام و نامراد رہتا ہے) جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولتا ہے۔
Ayah 20:62

فَتَنَازَعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ وَ اَسَرُّوا النَّجْوٰى Open ayah 20:62 in the Quran reader

تو وہ باہم اپنے معاملہ میں جھگڑنے اور چپکے چپکے سرگوشی کرنے لگے

جادوگروں کا اختلاف اور مشورہ : 62: فَتَنَازَعُوْٓا (پس وہ اپنے باہمی رائے میں اختلاف کرنے لگے) ۔ انہوں نے اختلاف کیا بعض جادوگروں نے کہا کہ یہ ہمارے جیساجادوگر ہے۔ دوسروں نے کہا یہ بات جادوگر نہیں کہہ سکتا لا تفتروا علی اللّٰہ کذبًا الآیۃ اَمْرَھُمْ بَیْنَہُمْ وَاَسَرُّوا النَّجْوٰی (اپنے معاملے میں اور انہوں نے خفیہ مشورہ کیا) پوشیدہ باہمی مشورہ کیا اور کہنے لگے اگر وہ جادوگر ہے تو ہم عنقریب اس پر غلبہ پالیں گے۔ اور اگر یہ آسمان سے ہے پھر حکم اسی کا ہے۔ النجوٰی۔ یہ مصدر بھی ہوسکتا ہے اور اسم بھی پھر انہوں نے اس بات کو باطل سے مزین کر کے کہا۔
Ayah 20:63

قَالُوْۤا اِنْ هٰذٰىنِ لَسٰحِرٰنِ یُرِیْدٰنِ اَنْ یُّخْرِجٰكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهِمَا وَ یَذْهَبَا بِطَرِیْقَتِكُمُ الْمُثْلٰى Open ayah 20:63 in the Quran reader

کہنے لگے کہ یہ دونوں جادوگر ہیں اور چاہتے ہیں کہ اپنے جادو (کے زور) سے تم کو تمہارے ملک سے نکال دیں اور تمہارے شائشسہ مذہب کو نابود کردیں

63: قَالُوْآ اِنْ ھٰذٰنِ لَسٰحِرٰنِ (کہنے لگے بلاشبہ یہ دونوں جادوگر ہیں) یعنی موسیٰ و ہارون۔ قراءت : ابو عمرو نے اِنَّ ھذین لساحران پڑھا اور ظاہر کا تقاضا یہی ہے۔ مگر یہ مصحف امام کے مخالف ہے اور اسی طرح ابن کثیر، حفص، خلیل نے بھی اس سے اختلاف کر کے ھذان ہی پڑھا ہے۔ اور یہ نحو و لغت کے ائمہ ہیں۔ اِنْؔ مخففہ ہے جیسے کہ اس قول میں ان زید لمنطلق اور لام ان نافیہ اور مخففہ کو آپس میں الگ کر رہی ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ ِانْ مَاؔ کے معنی میں ہے اور لام بمعنی اِلاَّ ہے تقدیر اس طرح ہے ما ھذان اِلاَّساحران اور اس کی دلیل قراءت ابی بن کعب ؓ ہے۔ ان ہذان الاساحران اور دیگر نے اِنّ ھذان لساحران پڑھا ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ بلحارث بن کعب، خثعم، مراد، کنانہ کی لغت ہے۔ ان کے ہاں تثنیہ ہمیشہ الف کے ساتھ ہوتا ہے۔ وہ نصب و جر کسی بھی حالت میں یاءؔ کو قبول نہیں کرتے مثلاً عصا، سعدی۔ جیسا شاعر کہتا ہے جس کا نام رؤبہ ہے۔ ان اباھا و ابا اباھا قد بلغا فی المجدغایتاھا۔ نمبر 1۔ محل استشہاد ہے۔ زجاج کا قول اِنَّ نعمؔ کے معنی میں ہے جیسا شاعر نے کہا یہ شاعر عبید اللہ بن قیس الر قیات ہے۔ ویقلن شیب قد علاک وقد کبرت فقلت اِنّہ انعم کے معنی ای نعم اور ھاء وقفی ہے۔ ھٰذ ان مبتدا ہے ساحران خبر ہے۔ مبتدا محذوف کی۔ اور لام اصل میں مبتدا محذوف پر داخل ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے۔ ھذ ان لھما ساحران۔ پس اس کا داخل ہونا اپنے مقررہ مقام یعنی ابتداء میں ہے۔ یا لام کبھی خبر میں داخل ہوجاتی ہے۔ جیسا کہ مبتدا اس قول میں خالی لأنت ومن جریرخالہٗ کہتے ہیں اس بات کو مبرد پر پیش کیا گیا پس اس نے پسند کیا مگر ابو علی نے اس کو فضول قرار دیا۔ یُرِیْدٰنِ اَنْ یُّخْرِجٰکُمْ مِّنْ اَرْضِکُمْ بِسِحْرِ ھِمَا (یہ دونوں چاہتے ہیں کہ تمہیں تمہاری سرزمین سے اپنے جادو کے زور سے نکال باہر کریں۔ وَیَذْ ھَبَا بِطَرِیْقَتِکُمُ الْمُثْلٰی (نکال باہر کریں اور تمہارے اعلیٰ طریقے کو ختم کردیں) ارضؔ سے سرزمین مصر۔ اور طریقہ سے قبطی مذہب و دین۔ المثلیٰ افضل کو کہتے ہیں۔ یہ امثل کی مونث ہے۔
Ayah 20:64

فَاَجْمِعُوْا كَیْدَكُمْ ثُمَّ ائْتُوْا صَفًّا١ۚ وَ قَدْ اَفْلَحَ الْیَوْمَ مَنِ اسْتَعْلٰى Open ayah 20:64 in the Quran reader

تو تم (جادو کا) سامان اکٹھا کرلو اور پھر قطار باندھ کر آؤ اور آج جو غالب رہا وہی کامیاب ہوا

64: فَاَجْمِعُوْا (پس تم مل ملک کر انتظام کرو) پس تم فیصلہ کرو یعنی اس کو اجتماعی فیصلہ قرار دو باہمی اختلاف نہ کرو۔ قراءت : ابو عمرونے فَاجْمَعُوْا پڑھا ہے اور اس کی تائید فَجَمَع کَیدہ۔ ] طہٰ : 60[ سے ہوتی ہے۔ کَیْدَکُمْ (اپنی تدبیر کو) جو تدبیر کرنی ممکن ہے۔ ثُمَّ ائْتُوْا صَفًّا (پھر صف بندی کر کے مقابلہ میں آئو) نحو : صفًا یہ حال ہے کہ مصفین۔ انہوں نے صف بندی اس لئے کی کیونکہ یہ دیکھنے والوں کے دلوں میں زیادہ رعب ڈالنے والی چیز ہے۔ وَقَدْ اَفْلَحَ الْیَوْمَ مَنِ اسْتَعْلٰی (اور آج جو غالب آئیگا۔ وہی کامیاب ہوگا) جو غالب آیاوہ کامیاب۔ یہ جملہ معترضہ ہے۔
Ayah 20:65

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَلْقٰى Open ayah 20:65 in the Quran reader

بولے کہ موسیٰ یا تو تم (اپنی چیز) ڈالو یا ہم اپنی چیزیں پہلے ڈالتے ہیں

65: قَالُوْا انہوں نے کہا یعنی جادوگروں نے یٰمُوْسٰٓی اِمَّا اَنْ تُلْقِیَ (اے موسیٰ یا تو تم اپنا عصا پہلے ڈالو) وَاِمَّا اَنْ نَّکُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَلْقٰی (یا ہم پہلے ڈالنے والے بنیں) جو کچھ ہمارے پاس ہے۔ نحو : انؔ اپنے مابعد سمیت دونوں مقام پر فعل مضمر کی وجہ سے منصوب ہے۔ نمبر 2۔ مبتدا محذوف کی خبرہونے کی بنا پر مرفوع ہے۔ اس کا معنی اس طرح ہوگا اخترا حد الامرین دو میں سے ایک بات کا چنائو کرو۔ نمبر 3۔ الا مر اِلْقَائُ کَ اَوْ الْقَاؤُنَا۔ مبتدا محذوف کی خبر ہے۔ یہ اختیار چنائو ان کی طرف سے آپ کے ساتھ حسن ادب کو ظاہر کررہا ہے گویا اللہ تعالیٰ نے یہ بات ان کے دل میں ڈالی۔ اور آپ کی ان تک پہنچائی اور موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کے پہلے ڈالنے کا علم عنایت فرمایا اسی لئے موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا۔
Ayah 20:66

قَالَ بَلْ اَلْقُوْا١ۚ فَاِذَا حِبَالُهُمْ وَ عِصِیُّهُمْ یُخَیَّلُ اِلَیْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ اَنَّهَا تَسْعٰى Open ayah 20:66 in the Quran reader

(موسیٰ نے) کہا نہیں تم ہی ڈالو (جب انہوں نے چیزیں ڈالیں) تو ناگہاں ان کی رسیاں اور لاٹھیاں موسیٰ کے خیال میں ایسی آنے لگیں کہ وہ (میدان میں) ادھر ادھر دوڑ رہی ہیں

66: قَالَ بَلْ اَلْقُوْا (موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا بلکہ تم ڈالو) تاکہ ان کے پاس جو جادو کے فریب تھے وہ خوب ظاہر کریں اور اللہ تعالیٰ موسیٰ (علیہ السلام) کا غلبہ خوب واضح کردیں اور حق کو باطل پر مار کر اس کا بھیجا نکال دیا جائے۔ اور معجزے کو جادو پر مسلط کر کے اس کو مٹا دیا جائے۔ تاکہ دیکھنے والوں کے سامنے نبوت وقدرت کا روشن نشان ہو۔ اور عبرت حاصل کرنے والے اس سے عبرت لے سکیں وہ جو کچھ پھینکنا چاہتے تھے پھینکا۔ فَاِذَا حِبَالُھُمْ وَعِصِیُّھُمْ (پس یکایک ان کی لاٹھیاں اور رسیاں ) نحو : یہ اذاؔ کہا جاتا ہے مفاجات کیلئے ہے۔ تحقیقی قول یہ ہے کہ اذا یہاں وقت کے معنی میں ہے جو اپنے لیے نصب کو چاہتا ہے اور جملہ اس کی طرف مضاف ہوتا ہے۔ خاص کر بعض مقامات پر اس کا ناصب فعل مخصوص ہوتا ہے اور وہ فعل مفاجات ہے اور یہ جملہ ابتدائیہ ہے اور کوئی نہیں بن سکتا۔ تقدیر عبارت یہ ہے : ففاجأ موسٰی وقت تخییل سعی حبالھم و عصیہم مطلب اس طرح ہے علی مفا جأتہ حبا لھم و عصیھم مخیّلۃ الیہ السعیّ اچانک موسیٰ کو ایسا خیال ہونے لگا کہ وہ رسیاں اور لاٹھیاں دوڑ رہی ہیں۔ یُخَیَّلُ اِلَیْہِ (خیال ہونے لگا) قراءت : ابن ذکو ان نے تاءؔ سے پڑھا ہے۔ نحو : ضمیرموسیٰ (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے۔ مِنْ سِحْرِ ھِمْ اَنَّھَا تَسْعٰی (ان کے جادو کی بنا پر کہ وہ دوڑ رہی ہیں) یخیل کی ضمیر سے بدل الاشتمال ہے ای یخیل الملقی۔ ڈالی ہوئی چیزوں کے متعلق تخیل پیدا ہوا۔ اور روایت تفسیر میں یہ ہے کہ انہوں نے لاٹھیوں کو پارے میں ڈبو رکھا تھا۔ جب دھوپ ان پر پڑی تو وہ حرکت کرنے لگیں۔ اور لہرانے لگیں جس سے یہ تخیل پیدا ہوا۔
Ayah 20:67

فَاَوْجَسَ فِیْ نَفْسِهٖ خِیْفَةً مُّوْسٰى Open ayah 20:67 in the Quran reader

(اس وقت) موسیٰ نے اپنے دل میں خوف معلوم کیا

67: فَاَوْ جَسَ فِیْ نَفْسِہٖ خِیْفَۃً مُّوْسٰی (پس موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے دل میں کچھ خوف محسوس کیا۔ ) دل میں خوف لائے۔ یہ گمان کرتے ہوئے کہ وہ انکا رخ کر رہی ہیں۔ اور نمبر 1۔ فطرت بشر یہ کے کہ تقاضا سے ایسا ہوا۔ نمبر 2۔ ان کو خطرہ ہوا کہ لوگ خلجان میں مبتلا ہو کر شک سے ان کی اتباع نہ کریں گے۔ اور دھوکے میں مبتلا ہوجائیں گے۔
Ayah 20:68

قُلْنَا لَا تَخَفْ اِنَّكَ اَنْتَ الْاَعْلٰى Open ayah 20:68 in the Quran reader

ہم نے کہا خوف نہ کرو بلاشبہ تم ہی غالب ہو

68: قُلْنَا لَاتَخَفْ اِنَّکَ اَنْتَ الْاَعْلٰی (ہم نے کہا تم کچھ خوف نہ کرو بلاشبہ تم ہی سب پر غالب رہو گے) غالب و زبردست ہوگے۔ تاکیدات : میں مبالغہ واضحہ ہے نمبر 1۔ ان نمبر 2۔ انت۔ نمبر 3۔ حرف تعریف نمبر 4۔ لفظ اعلیٰ اور وہ غلبہ ظاہر ہے۔ ان کے سوا نگ کو نگل جائے گا :
Ayah 20:69

وَ اَلْقِ مَا فِیْ یَمِیْنِكَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوْا١ؕ اِنَّمَا صَنَعُوْا كَیْدُ سٰحِرٍ١ؕ وَ لَا یُفْلِحُ السَّاحِرُ حَیْثُ اَتٰى Open ayah 20:69 in the Quran reader

اور جو چیز (یعنی لاٹھی) تمہارے داہنے ہاتھ میں ہے اسے ڈال دو کہ جو کچھ انہوں نے بنایا ہے اس کو نگل جائے گی جو کچھ انہوں نے بنایا ہے یہ تو جادوگروں کے ہتھکنڈے ہیں اور جادوگر جہاں جائے فلاح نہیں پائے گا

69: وَاَلْقِ مَا فِیْ یَمِیْنِکَ تَلْقَفُ (اور تم جو کچھ تمہارے ہاتھ میں ہے اس کو ڈال دو ۔ ) ان لوگوں نے جو کچھ جھوٹ بنایا۔ اس کو یہ نگل لے گی۔ قراءت : تَلْقفُ لام اور فاءؔ کے سکون اور قافؔ کی تخفیف کے ساتھ حفص نے پڑھا ہے۔ ابن ذکو ان نے تَلقَّفُ پڑھا ہے۔ باقی قراء نے تَلقَّفْ پڑھا ہے۔ مَا صَنَعُوْا (جو انہوں نے بنایا ہے) جو کچھ جھوٹ بنایا اور کیا۔ مطلب یہ ہے تم اپنی لاٹھی پھینک دو وہ ان کی لاٹھیوں اور رسیوں کو نگل جائے گی۔ یہاں عصاک نہیں فرمایا کیونکہ وہ عصا باعظمت تھا۔ گویا اس طرح فرمایا گیا کہ تم ان کے سوانگ کی طرف بالکل توجہ نہ دو ۔ اور اس کی پرواہ نہ کرو جو آپ کے سوانگ ہاتھ میں ہے یہ ان سے بہت بڑھ کر ہے۔ نمبر 2۔ تحقیر کے طور پر فرمایا کہ تم ان کی رسیوں اور لاٹھیوں کی کثرت کی طرف توجہ نہ کرو اس اکیلی چھوٹی سی چھڑی کو جو تمہارے دائیں ہاتھ میں ہے ڈال دو وہ تیرے رب کی قدرت سے اکیلی ہونے اور ان کی کثرت کے باوجود ان سب کو نگل جائے گی۔ اِنَّمَا صَنَعُوْا کَیْدُ سٰحِرٍ (انہوں نے جو کارروائی کی ہے وہ جادو کافر یب ہے۔ ) قراءت : کوفی نے سحر پڑھا ہے۔ مگر عاصم ان میں شامل نہیں۔ اس کا معنی ذی سحر ہوگا۔ جادو والا۔ نمبر 2۔ وہ جادو میں دن رات مشغول و مستغرق ہونے کی وجہ سے مجسمہ سحر تھے۔ کید کا لفظ ہر دو قراءت کے لحاظ سے مرفوع پڑھا گیا ہے۔ اور ماؔ موصولہ ہے یاؔ مصدر یہ ہے البتہ ساحرکو واحد لایا گیا ہے جمع ذکر نہیں کیا کیونکہ کلام میں مقصود جنسیت کا معنی ہے عددی معنی مقصود نہیں۔ اگر جمع لایا جاتا تو عدد کو مقصود سمجھ لیا جاتا جیسا اس قول میں ہے۔ وَلَا یُفْلِحُ السّٰحِرُ (اور جادوگر کہیں کامیاب نہیں ہوتا) یہاں جنس ساحر مراد ہے۔ حَیْثُ اَتٰی (جہاں کہیں ہو) ۔
Ayah 20:70

فَاُلْقِیَ السَّحَرَةُ سُجَّدًا قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ هٰرُوْنَ وَ مُوْسٰى Open ayah 20:70 in the Quran reader

(القصہ یونہی ہوا) تو جادوگر سجدے میں گرپڑے اور کہنے لگے کہ ہم ہارون اور موسیٰ کے پروردگار پر ایمان لائے

70: پس موسیٰ (علیہ السلام) نے لاٹھی ڈال دی۔ اس نے ان کے سارے سو انگ کو نگل لیا۔ اس عظیم نشانی کو دیکھ کر وہ سجدہ میں گرگئے۔ اسی کو اس آیت میں ذکر فرمایا۔ فَاُلْقِیَ السَّحَرَۃُ سُجَّدًا (جادوگر سجدہ میں گرگئے) اخفش کا قول : انہوں نے چونکہ بہت جلد سجدہ کیا اس لئے فرمایا گویا وہ گرا دیے گئے۔ پس انکا معاملہ کتنا عجیب ہے کہ وہ حمایت کفر و مخالفت میں رسیاں اور لاٹھیاں ڈال رہے تھے۔ پھر ایک گھڑی کے بعد ان کے سر شکریہ کے ساتھ سجدہ میں پڑے ہوئے تھے پس دونوں القائوں میں کتنا فرق ہے ! روایت تفسیریہ میں ہے کہ انہوں نے جنت اور اس کی منازل کو حالت سجدہ میں ملاحظہ کیا پھر سراٹھا کر پکار اٹھے۔ قَالُوْا اٰمَنَّا بَرَبِّ ھٰرُوْنَ وَمُوْسٰی (کہنے لگے ہم تو ہارون موسیٰ کے رب پر ایمان لے آئے۔ ) یہاں ہارون کو مقدم ذکر کیا گیا جبکہ سورة شعراء میں موخر کیا گیا فاصلہ کا لحاظ کیا گیا اور دوسری بات یہ ہے کہ وائو ترتیب کو چاہتی نہیں۔
Ayah 20:71

قَالَ اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ؕ اِنَّهٗ لَكَبِیْرُكُمُ الَّذِیْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ١ۚ فَلَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ فِیْ جُذُوْعِ النَّخْلِ١٘ وَ لَتَعْلَمُنَّ اَیُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّ اَبْقٰى Open ayah 20:71 in the Quran reader

(فرعون) بولا کہ پیشتر اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے ؟ بیشک وہ تمہارا بڑا (یعنی استاد) ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے سو میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں (جانب) خلاف سے کٹوا دوں گا اور کجھور کے تنوں پر سولی چڑھوا دوں گا (اس وقت) تم کو معلوم ہوگا کہ ہم میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور دیر تک رہنے والا ہے

ساحروں کے ایمان پر فرعونی تقریر : 71: قَالَ اٰمَنْتُمْ (فرعون نے کہا تم موسیٰ پر ایمان لے آئے) قراءت : امنتم حفص نے بلا حد پڑھا ہے۔ اور بصری اور شامی، حجازی قراء نے ہمزہ ممدودہ کے ساتھ پڑھا۔ دیگر قراء نے دو ہمزہ کے ساتھ۔ لَہٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَکُمْ (اس پر اس سے پہلے کہ میں تمہیں اجازت دیتا) ہٗ کی ضمیر موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے۔ محاورہ میں امن بہ اور امن لہ دونوں استعمال ہوتے ہیں۔ اِنَّہٗ لَکَبِیْرُ کُمُ الَّذِیْ عَلَّمَکُمُ السِّحْرَ (واقعہ وہ تم سے بڑا ہے جس نے تم کو سحر سکھایا ہے) کبیر کا معنی بڑا ہونے یا تمہارا استاذ ہونے کی وجہ سے ہے۔ اہل مکہ معلم کو کبیر کہتے ہیں اَمَرَنِیْ کَبِیْرِیْ میرے استاذ نے مجھے حکم دیا۔ فَـلَاُ قَطِّعَنَّ اَیْدِیَکُمْ وَاَرْجُلَکُمْ مِّنْ خِلَافٍ (پس اب میں تم سب کے ہاتھ پائوں ایک دوسرے کے برخلاف کٹواتا ہوں) قطع میں خلاف کا مطلب یہ ہے دایاں ہاتھ بائیں ٹانگ کیونکہ ہر عضو دوسرے کا مخالف ہے اس طرح کہ یہ ہاتھ اور وہ پائوں یہ دایاں اور دوسرا بایاں۔ منؔ یہ ابتدائیہ ہے کیونکہ قطع کی ابتداء کی جائے گی اور ایک سے دوسرے عضو کی مخالفت سے پیدا ہوگا۔ اور جار مجرور محلاً منصوب ہیں۔ مطلب یہ ہے لا قطعنھا مختلفات میں ان کو مختلف طور پر کاٹوں گا۔ کیونکہ جب وہ ایک دوسرے کے خلاف ہونگے تو اسی لئے اختلاف کے لفظ سے ان کی صفت بیان کردی۔ نکتہ : آیت میں علی جزوع کی جگہ فی جزوع کہنے سے یہ ظاہر کرنا مقصود ہے۔ کہ میں تمہیں کھجور کے تنوں سے اس طرح پیوست کر دونگا۔ جس طرح مظروف ظرف کے ساتھ پیوست ہوتا ہے۔ اسی لئے وَّ لَاُصَلِّبَنَّکُمْ فِیْ جُذُوْعِ النَّخْلِ کہا اور کھجور کا ذکر خاص طور پر اس لئے کیا کیونکہ کھجور کا تنا لمبا ہوتا ہے اور اس کے اوپر ٹہنیاں نہ ہونے کی وجہ سے اس کے ساتھ لٹکائی چیز نمایاں نظر آتی ہے۔ وَلَتَعْلَمُنَّ اَیُّنَـآ اَشَدُّ عَذَابًا (اور تمہیں یقینا یہ بھی معلوم ہوا چاہتا ہے کہ ہم میں سے کس کا عذاب سخت ہے) جو میں تمہیں اس پر ایمان لانے کی بنا پر دوں گا۔ یا موسیٰ کا رب ایمان کو چھوڑنے پردے گا۔ دوسرا قول اس سے اس نے اپنی ذات اور موسیٰ (علیہ السلام) کی ذات مراد لی۔ اس کی دلیل یہ آیت ہے آمنتم لہ اور ایمان کے لفظ کے ساتھ لام کا صلہ قرآن مجید میں غیر اللہ کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ جیسا اس ارشاد میں ہے۔ یومن باللّٰہ ویومن للمؤمنین ] التوبہ : 61[ وَّ اَبْقٰی (اور دیرپا ہمیشگی والا ہے)
Ayah 20:72

قَالُوْا لَنْ نُّؤْثِرَكَ عَلٰى مَا جَآءَنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الَّذِیْ فَطَرَنَا فَاقْضِ مَاۤ اَنْتَ قَاضٍ١ؕ اِنَّمَا تَقْضِیْ هٰذِهِ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاؕ Open ayah 20:72 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ جو دلائل ہماے پاس آگئے ہیں ان پر اور جس نے ہم کو پیدا کیا ہے اس پر ہم آپ کو ہرگز ترجیح نہیں دیں گے تو آپ کو جو حکم دینا ہو دیجیے اور آپ جو حکم دے سکتے ہیں وہ صرف اسی دنیا کی زندگی میں (دے سکتے ہیں)

ساحروں کا جواب : 72: قَالُوْا لَنْ نُّؤْثِرَ کَ (جادوگروں نے کہا ہم تجھ کو ہرگز ترجیح نہیں دیں گے) تمہیں ہرگز پسند نہ کریں گے۔ عَلٰی مَا جَآ ئَ نَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ (ان دلائل کے مقابلہ میں جو ہم کو میسر آچکے) وہ قطعی دلائل جو موسیٰ (علیہ السلام) کی سچائی پر دلالت کرتے ہیں۔ وَالَّذِیْ فَطَرَنَا اور اس ذات کے مقابلہ میں جس نے ہم کو پیدا کیا۔ نحو : اس کا عطف ما جاء نا پر ہے ای لن تختا رک علی الذی جاء نا ولا علی الذی خلقنا۔ ہم ہرگز تمہارا چنائو نہ کریں گے اس ذات کے مقابلہ میں جس نے ہمیں پیدا کیا اور نہ ان دلائل کے مقابلہ میں جو ہمارے پاس آچکے۔ نمبر 2۔ یہ قسم ہے اور اس کا جواب لن نوثرکؔ قسم سے مقدم آرہا ہے۔ فَاقْضِ مَآ اَنْتَ قَاضٍ (پس تجھے جو فیصلہ کرنا ہے کر ڈال) تو جو بھی قطع ید وارجل اور صلیب کرنا چاہتا ہے کرڈال۔ اقض کا معنی اصنع ہے جیسا کہ شاعر ابو ذوتب نے کہا وعلیھما مسرودتان قضاھماؔ ای صنعھما ان دونوں کو کردیا۔ نمبر 2۔ فیصلہ کے معنی میں ہے احکم ماانت حاکم تو فیصلہ کر جو تو کرنے والا ہے۔ اِنَّمَا تَقْضِیْ ھٰذِہِ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا (تو سوائے اس کے کہ اس دنیوی زندگی میں کچھ کرے) اور کر ہی کیا سکتا ہے۔ یعنی اس دنیوی زندگی میں نحو : الحیاۃ الدنیا کو ظرفیت کیو جہ سے نصب دیا گیا۔ ای انما تحکم فینا مدۃ حیاتنا۔ تو ہمارے متعلق فیصلہ اس دنیا کی زندگی کی مدت میں کرسکتا ہے۔
Ayah 20:73

اِنَّاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِیَغْفِرَ لَنَا خَطٰیٰنَا وَ مَاۤ اَكْرَهْتَنَا عَلَیْهِ مِنَ السِّحْرِ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى Open ayah 20:73 in the Quran reader

ہم اپنے پروردگار پر ایمان لے آئے تاکہ وہ ہمارے گناہوں کو معاف کر دے اور (اسے بھی) جو آپ نے ہم سے زبردستی جادو کرایا اور خدا بہتر اور باقی رہنے والا ہے

73: اِنَّآ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِیَغْفِرَ لَنَا خَطٰیٰـنَاوَمَآ (بلاشبہ ہم اپنے رب پر ایمان لے آئے تاکہ وہ ہماری خطائیں) اَکْرَھْتَنَا عَلَیْہِ مِنَ السِّحْرِ (اور جادو کو جس پر تو نے ہمیں مجبور کیا تھا وہ معاف فرما دے ) نحو : ماؔ موصولہ ہے اور خطایانا پر عطف کی وجہ سے منصوب ہے۔ من السحرؔ یہ حال ہے ماؔ کا۔ روایت تفسیریہ میں ہے کہ انہوں نے فرعون کو کہا ہمیں موسیٰ دکھائو جبکہ وہ سویا ہوا ہو۔ فرعون نے ایسا کردیا انہوں نے دیکھا کہ آپ کی لاٹھی آپ کی حفاظت کر رہی ہے۔ وہ اسی وقت کہنے لگے یہ جادو نہیں۔ جادوگر جب سوجاتا ہے اس کا جادو ختم ہوجا تا ہے۔ رسوائی کے خوف سے انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کا مقابلہ کرنے سے گریز کیا۔ مگر فرعون نے ان کو جادو دکھانے پر اور کرنے پر مجبور کیا۔ شریعت سے ناواقفی بدبختی ہے : غور کرو ! ان کو ان کے علم سحر نے کیا فائدہ پہنچایا اور فرعون کو سحر کے متعلق جہالت نے کتنا نقصان پہنچایا۔ پس شریعت کا علم جب کسی کو میسر ہو تو وہ کتنا فائدہ دے گا اور اس سے محرومی کتنی بڑی بدبختی کو سمیٹ لائے گی۔ وَاللّٰہُ خَیْرٌ (اللہ تعالیٰ بہت ہی اچھے ہیں) اس کو ثواب دیتے ہیں جو اس کی اطاعت اختیار کرے۔ وَّ اَبْقٰی (اور بقاء والے ہیں) عذاب و سزا میں جو اس کی نافرمانی اختیار کرے۔ اس میں فرعون کی بات کی تردید ہے جو اس نے کہی ولتعلمن اینا اشد عذابا وابقٰی ] طہ : 71[
Ayah 20:74

اِنَّهٗ مَنْ یَّاْتِ رَبَّهٗ مُجْرِمًا فَاِنَّ لَهٗ جَهَنَّمَ١ؕ لَا یَمُوْتُ فِیْهَا وَ لَا یَحْیٰى Open ayah 20:74 in the Quran reader

جو شخص اپنے پروردگار کے پاس گنہگار ہو کر آئے گا تو اس کے لئے جہنم ہے جس میں نہ مرے گا نہ جئے گا

74: اِنَّہٗ مَنْ یَّاْتِ رَبَّہٗ مُجْرِمًا (جو شخص بغاوت کا مجرم بن کر اپنے ربّ کے سامنے جائے گا) یعنی کفر کی حالت میں فَاِنَّ لَہٗ (پس بیشک اس کے لئے) یعنی مجرم کیلئے جَھَنَّمَ لَایَمُوْتُ فِیْھَا (جہنم ہے کہ اس میں وہ نہ مرے گا) کہ اس کو موت سے استراحت میسر ہو وَلَا یَحْیٰی (نہ جیئے گا) ڈھب والی زندگی نہ ہوگی کہ آرام میسر ہو۔
Ayah 20:75

وَ مَنْ یَّاْتِهٖ مُؤْمِنًا قَدْ عَمِلَ الصّٰلِحٰتِ فَاُولٰٓئِكَ لَهُمُ الدَّرَجٰتُ الْعُلٰىۙ Open ayah 20:75 in the Quran reader

اور جو اس کے روبرو ایماندار ہو کر آئے گا اور عمل بھی نیک کئے ہوں گے تو ایسے لوگوں کے لئے اونچے اونچے درجے ہیں

75: وَمنْ یَّاْ تِہٖ مُؤْمِنًا (اور جو شخص اپنے رب کے ہاں مومن ہو کر حاضر ہوگا) یعنی ایمان پر اس کی موت آئے گی۔ قَدْ عَمِلَ الصّٰلِحٰتِ (جس نے نیک کام بھی کئے ہوں) ایمان لانے کے بعد فَاُولٰٓپکَ لَھُمُ الدَّرَجٰتُ الْعُلٰی (پس ان لوگوں کیلئے بڑے بڑے بلند درجات ہیں) ۔ فائدہ : العُلٰی یہ العلیا کی جمع ہے۔
Ayah 20:76

جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا مَنْ تَزَكّٰى۠ Open ayah 20:76 in the Quran reader

(یعنی) ہمیشہ رہنے کے باغ جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ہمیشہ ان میں رہیں گے اور یہ اس شخص کا بدلہ ہوگا جو پاک ہوا

76: جَنّٰتُ عَدْنٍ (ہمیشہ رہنے کے باغات ) نحو : یہ درجات سے بدل ہے۔ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا (اس کے نیچے نہریں جاری ہونگی وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے) خالدین کا معنی ہمیشہ ہے۔ وَذٰلِکَ جَزٰٓ ؤُا مَنْ تَزَکّٰی (یہ اس کا بدلہ ہے جس نے اپنے کو پاک کرلیا) شرک سے اپنے آپ کو لا الہ الا اللّٰہ کے ذریعہ پاک کرلیا۔ ایک قول یہ تینوں آیات ان کے قول کی حکایت ہے۔ قول آخر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر دی گئی ہے۔ حکایت نہیں اور یہ قول سب سے زیادہ بہتر ہے۔
Ayah 20:77

وَ لَقَدْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى١ۙ۬ اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِیْ فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِیْقًا فِی الْبَحْرِ یَبَسًا١ۙ لَّا تَخٰفُ دَرَكًا وَّ لَا تَخْشٰى Open ayah 20:77 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ ہماے بندوں کو راتوں رات نکال لے جاؤ پھر ان کے لئے دریا میں (لاٹھی مار کر) خشک راستہ بنادو پھر تم کو نہ تو (فرعون کے) آ پکڑنے کا خوف ہوگا اور نہ (غرق ہونے کا ڈر)

موسیٰ ( علیہ السلام) کو رات کو نکلنے کا حکم : 77: وَلَقَدْ اَوْحَیْنَا اِلٰی مُوْسٰی اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِیْ (اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس وحی بھیجی کہ ہمارے ان بندوں کو راتوں رات لے جائو) جب اللہ نے فرعون اور اس کی قوم کو ہلاک کرنے کا ارادہ فرمایا تو موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ ان کو مصر سے راتوں رات نکالو اور ان کو سمندر کے راستہ پر لے جائو۔ فَاضْرِبْ لَھُمْ طَرِیْقًا فِی الْبَحْرِ (پھر ان کے لئے سمندر میں راستہ بنادیا) مقرر کر انے کے لئے۔ یہ عرب کے قول ضرب لہ فی مالہ سھمًاسے لیا گیا ہے کہ اس نے اپنے مال میں اس کا حصہ تجویزو مقرر کردیا۔ یَبَسًا خشک ! یہ مصدر ہے جو بطور صفت استعمال ہوا۔ کہا جاتا ہے یبس یبْسَا و یُبسا (خشک ہوا خشک ہونا) ۔ لَّا تَخٰفُ (تمہیں خطرہ نہ ہوگا۔ ) یہ اضرب کی ضمیر سے حال ہے ای اضرب لھم طریقًا غیر خائف ان کے لئے سمندر میں ایک راستہ بنادو جو بےخطر ہو۔ قراءت : حمزہ نے جواب قرار دیکر لاتَخَفْ پڑھا ہے۔ دَرَکًا (تعاقب کا) یہ ادراکؔ سے اسم ہے۔ ای لا یدرکک فرعون و جنودہ ولا یلحقونک (فرعون اور اس کا لشکر نہ تمہیں پاسکے گا اور نہ آکر پیچھے سے مل سکے گا) ۔ وَّلَا تَخْشٰی (اور تمہیں نہ خوف ہوگا۔ ) ڈوبنے کا۔ قراءت : قرات حمزہ کے مطابق لاتخشی ہے جملہ مستانفہ ہے ای وانت لا تخشی نمبر 2۔ یا الف زائد ہے۔ جیسا کہ اس آیت میں وتظنون باللّٰہ الظنوناؔ ] الاحزاب : 10[ موسٰی ( علیہ السلام) ان کو لیکر رات کے اول حصے میں چل دیئے۔ انکی تعداد ستّر ہزار تھی۔ دیگر مفسرین نے چھ لاکھ لکھی ہے مترجم انہوں نے فرعونیوں سے زیوارت مانگ کر لئے تھے۔ فرعون نے اطلاع پاکر 6 لاکھ قبطی فوج لیکر انکا پیچھا کیا۔ اور انکے نشان راہ پر چل دیئے۔ اسی کو فرمایا :
Ayah 20:78

فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ بِجُنُوْدِهٖ فَغَشِیَهُمْ مِّنَ الْیَمِّ مَا غَشِیَهُمْؕ Open ayah 20:78 in the Quran reader

پھر فرعون نے اپنے لشکر کے ساتھ ان کا تعاقب کیا تو دریا کی (موجوں) نے ان پر چڑھ کر انھیں ڈھانک لیا (یعنی ڈبو دیا)

غرق فرعون : 78: فَاَتْبَعَھُمْ فِرْعَوْنُ بِجُنُوْدِہٖ (فرعون نے انکا پیچھا اپنے لشکروں کے ساتھ کیا۔ ) نحو : یہ حال ہے یعنی وہ ان کے پیچھے نکلا اس حال میں کہ اس کا لشکر ساتھ تھا۔ فَغَشِیَھُمْ مِّنَ الْیَمِّ (پس سمندر نے ان کو ڈھانپ لیا) ان کو سمندر سے وہ ملا مَاغَشِیَھُمْ (جو ان کو ملنا تھا) یہ کلمات ان جوامع الکلم میں سے ہیں۔ جو کہ الفاظ قلیل ہونے کے باوجود کثیر معانی پر مشتمل ہیں۔ ای غشیہم ما لا یعلم کنھہ الا اللّٰہ عزوجل ان کو سمندر میں اس چیز نے ڈھانپ لیا جس کی حقیقت اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔
Ayah 20:79

وَ اَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَهٗ وَ مَا هَدٰى Open ayah 20:79 in the Quran reader

اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کردیا اور سیدھے راستے پر نہ ڈالا

79: وَاَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَہٗ (فرعون نے اپنی قوم کو بری راہ پر لگایا) سیدھی راہ سے ہٹا کر وَمَا ھَدٰی (اور نیک راہ نہ بتائی) حق اور درست راستے کی طرف ان کی راہنمائی نہ کی۔ یہ فرعون کی اس بات کی تردید ہے جو اس نے بطور ادّعاء کہی تھی۔ وما اھدیکم الا سبیل الرشاد ] غافر : 29 [
Ayah 20:80

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ قَدْ اَنْجَیْنٰكُمْ مِّنْ عَدُوِّكُمْ وَ وٰعَدْنٰكُمْ جَانِبَ الطُّوْرِ الْاَیْمَنَ وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكُمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى Open ayah 20:80 in the Quran reader

اے آل یعقوب ! ہم نے تم کو تمہارے دشمن سے نجات دی اور (تورات دینے کے لئے) تم سے کوہ طور کی داہنی طرف مقرر کی اور تم پر من اور سلویٰ نازل کیا

80: سمندر پار ہونے کے بعد بنی اسرائیل پر کئے جانے والے احسانات کا تذکرہ فرمایا۔ اور فرعون اور اس کے لشکروں کی ہلاکت کے بعد والے انعامات ذکر کئے۔ یٰـبَنِیْ اِسْرَآئِ یْلَ (اے بنی اسرائیل ! ) یعنی ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی کی کہ میرے بندوں کو راتوں رات نکال لے جائو اور ہم نے کہا اے بنی اسرائیل گویا اس کا تعلق اَسْرِ بِعِبَادِیْ سے ہے۔ ہلاکتِ فرعون کے بعد والے انعامات : قَدْ اَنْجَیْنٰکُمْ مِّنْ عَدُوِّکُمْ (ہم نے تمہارے دشمن سے نجات دی) ۔ عدو سے فرعون مراد ہے۔ وَوٰعَدْنٰکُمْ (اور ہم نے تم سے وعدہ لیا) کتاب دینے کا۔ جَانِبَ الطُّوْرِ الْاَیْمَن (طور کے دائیں جانب) اور اس کا قصہ اس طرح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے وعدہ کیا کہ طور پر آئیں۔ اور قوم کے ستر سربرآوردہ افراد بھی ساتھ لائیں تاکہ تورات عنایت کی جائے۔ ان کی طرف وعدے کی نسبت اس لئے کی گئی کیونکہ وہ وعدے ان کے پیغمبر اور نقباء سے لئے گئے۔ اور شریعت پر عمل پیرا ہونے سے حاصل ہونے والی منفعتیں انہی کو پہنچنے والی تھیں اور دینی فائدے انہی کو ملنے والے تھے۔ نحو : الا یمن منصوب ہے کیونکہ یہ جانبؔ کی صفت ہے اور ایک قراءت میں جوار کی وجہ سے مجرور بھی پڑھا گیا۔ وَنَزَّلْنَا عَلَیْکُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوٰی (اور ہم نے تم پر من وسلوی اتارا) میدان تیہ میں اور ہم نے تمہیں حکم دیا۔