20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سورة نمبر 20 کل رکوع 8 آیات 135 الفاظ و کلمات 1251 حروف 5466 مقام نزول مکہ مکرمہ سورة مریم اور سورة طہ کے نزول کا زمانہ قریب ہی لگتا ہے سورة طہ ہجرت حبشہ سے کچھ پہلے ہی نازل ہوئی تھی یا ہجرت حبشہ کے وقت، بہرحال حضرت عمر فاروق کے قبول اسلام سے پہلے ہی یہ سورت نازل ہوچکی تھی جیسا کہ واقعات سے ظاہر ہے۔ قرآن کریم کے نازل کیے جانے کا ایک مقصد یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ جن لوگوں کے دلوں میں اللہ کا خوف ہو اور ان کے دل نرم ہوں تو اس قرآن کے روحانی فیوض اور برکات ہے محروم نہ رہیں گے لیکن جن لوگوں نے ضد اور ہٹ دھرمی کا طریقہ اختیار کر رکھا ہے اور ہر طرح کی نعمتوں سے وہ پہلو بچاتے، کتراتے گریزاں رہتے ہیں وہ قرآن کریم کی تعلیمات اور سعادت سے محروم ہی رہیں گے اور جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دن رات اللہ کا دین پہنچانے کی جدوجہ دفرماتے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یہ دلی تمنا تھی کہ ہر شخص دین اسلام کی دولت سے مالا مال ہوجائے۔ اس کے لئے آپ اتنی مشقت برداشت فرماتے جس کا تصور ممکن نہیں ہے چناچہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا ہے کہ ” اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ تو اس غم میں اپنی جان گھلا ڈالیں گے کہ وہ ایمان کیوں نہیں لاتے ؟ “ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جدوجہد کے ساتھ ساتھ دعا بھی فرماتے تھے۔ ایک دن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ کی بار گاہ میں یہ دعا فرمائی، الٰہی ! ابو الحکم بن ہاشم (ابوجہل) اور عمر بن خطاب میں سے کسی ایک کو اسلام کا حامی بنا دے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعا کو قبول فرمایا اور حضرت عمر ابن خطاب دولت ایمان سے مالا مال ہوگئے۔ حضرت عمر کے ایمان لانے کے اسباب یہ پیدا ہوئے کہ کفار مکہ جب ہر طرح کے لالچ اور دھمکیوں سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو راستے سے ہٹانے میں کامیاب نہ ہوئے تو ایک دن اس مشورہ پر سب کا اتفاق ہوگیا کہ جس کی وجہ سے یہ سب کچھ ہو رہا ہے اس کو قتل کردیا جائے لیکن یہ کون کرے گا۔ اس کی ہمت کسی میں نہ تھی۔ حضرت عمر جو نہایت بہادر اور مضبوط اعصاب کے مالک تھے، کہنے لگے کہ یہ کام میں کروں گا۔ اسی وقت اٹھے اور ننگی تولار گلے میں لٹکائے نہایت جوش اور غصہ سے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف روانہ ہوگئے ۔ راستے میں ایک شخص نے پوچھا کہ عمر کہاں کے ارادے ہیں ؟ کہنے لگے کہ میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتل کرنے جا رہا ہوں۔ اس شخص نے کہا پہلے اپنے گھر کی خبر تو لو۔ تمہارے بہنوئی اور چچا زاد بھائی سعید بن زید اور تمہاری بہن فاطمہ بنت خطاب نے اسلام قبول کرلیا ہے۔ یہ خبر حضرت عمر پر بجلی بن کر گری۔ وہ فوراً اپنی بہن کے گھر کی طرف پلٹ گئے اس وقت حضرت خباب بن الارت قرآن کریم کی سورت طہ جو کسی چیز پر لکھی ہوئی تھی حضرت عمر کی بن اور بہنوئی کو پڑھا رہے تھے۔ جب حضرت عمر دروازے پر پہنچے تو ان کو کلام پاک کی آواز سنائی دی حضرت عمر نے جیسے ہی اندر داخل ہونے کے لئے آواز دی جس میں غصہ جھلک رہا تھا تو حضرت خطاب گھر کے کسی کونے میں چھپ گئے۔ حضرت عمر نے گھر میں داخل ہوتے ہی نہایت غصے اور خفگی کے ساتھ اپنے بہنوئی سے پوچھا کہ کیا میں نے صحیح سنا ہے کہ تم نے اسلام قبول کرلیا ہے ہے ؟ انہوں نے صاف صاف بتا دیا کہ ہم نے حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لائے ہوئے دنی کو قبول کرلیا ہے۔ یہ سن کر حضرت عمر کا غصہ اتنا شدید ہوگیا کہا نہوں نے اپنے چچا زاد بھائی اور بہنوئی سعید بن زید کو مارنا شروع کردیا۔ حضرت فاطمہ بنت خطاب نے اپنے شوہر کی حمایت میں ان کو بچانے کی کوشش کی تو حضرت فاطمہ بھی زخمی ہوگئیں اور ان کے بدن سے خون رسنے لگا ۔ بہن کا خون دیکھ کر حضرت عمر مار نے سے رک گئے اور حیران ہو کر کہا کہ فاطمہ مجھے دکھاؤ وہ کونسا کلام ہے جس نے تمہارے دل کو موم بنا دیا اور تم ہر طرح کی تکلیفیں برداشت کرنے کے لئے تیار ہو۔ حضرت فاطمہ بنت خطاب نے کہا کہ بھائی اس قرآن کے صفحے کو ہاتھ لگانے کے لئے پاک ہونا ضروری ہے۔ آپ پہلے غسل کر لیجیے۔ حضرت عمر غسل کرنے چلے گئے تو حضرت خباب بن الارت بھی باہر نکل آئے جب وہ غسل کر کے واپس آگئے تو ان کو سور طہ کی آیات دی گئیں جنہیں حضرت عمر فاروق نے غور سے پڑھا اور اس سچے کلام پر ایمان لانے کا ارادہ کیا حضرت خباب ابن الارت حضرت عمر کو اسی حالت میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اس مقام پے لے گئے۔ جہاں آپ عبادت و بندگی میں مشغول تھے۔ حضرت عمر کو آتا دیکھ کر صحابہ کرام گھبرا گئے مگر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ عمر کو آنے دو اگر آج اس نے اسلام قبول نہ کیا تو اس کی تلوار سے اس کی گردن اتار دی جائے گی لیکن یہاں تو رنگ ہی بدل چکا تھا۔ حضرت عمرفاروق نے آتے ہی اسلام لانے کا ارادہ ظاہر فرمایا جس سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خوش ہوگئے اور اس وقت موجودہ مسلمانوں نے اس قدر زور سے نعرہ تکبیر بلند کیا کہ پورے ملک میں ان کی آواز گونج اٹھی۔ حضرت عمر نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب یہ سچا دین ہے تو ہم چھپ کر عبادت کو یں کریں ؟ ہم کیوں نہ بیت اللہ میں جا کر نماز ادا کریں۔ آپ نے اجازت دے دی اور اس طرح حضرت عمر نے صحابہ کرام کے ساتھ مل کر پہلی نماز بیت اللہ میں جا کر ادا کی حضرت عمر فاروق کے اسلام قبول کرنے سے مسلمانوں میں جوش و جذبہ اور بھی بڑھ گیا اور کفار مکہ کے گھروں میں کہرام مچ گیا اور صف ماتم بچھ گئی۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعا کو قبول فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے سورة طہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم نے اس قرآن کو اس لئے نازل نہیں کیا کہ آپ اور آپ کے ماننے والوں کو کسی مشقت، مصیبت اور مشکل میں ڈال دیں اور نہ آپ اس کے ذمہ دار ہیں کہ جو لوگ ایمان لانے سے کرتا رہے ہیں اور بےدینی پر جمے بیٹھے ہیں ان کو زبردستی اسلام میں داخل کردیں۔ بلکہ آپ اللہ کا دین پہنچاتے رہئے جن کے نصیب میں دین اسلام کی سعادت ہے وہ ضرور اسلام قبول کرلیں گے۔ اس میں جلدی یا بےصبری کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ جس کے دل میں خوف الٰہی ہوگا۔ وہ اس راہ حق سے محروم نہ رہے گا۔ سورة طہ میں حضرت موسیٰ کے واقعہ کو ایک مرتبہ پھر ایک نئے انداز سے نہایت تفصیل کے ساتھ بیان کر کے اہل ایمان کو اس بات پر تسلی دی گئی ہے کہ جس طرح حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون بغیر ظاہری اسباب کے اتنے زبردست اور طاقوتر شخص فرعون اور اس کے اقتدار سے ٹکرا گئے۔ فرعون کی ساری سازشوں اور کوششوں کے باوجود جس طرح اللہ نے بنی اسرائیل کو عزت اور سربلندی سے نوازا تھا۔ اسی طرح اگر ایمان والوں نے صبر و تحمل اور برداشت سے کام لیتے ہوئے اللہ کے دین کو نہایت فہم و فراست کے ساتھ کفار اور مشرکین تک پہنچایا تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ وہ ایمان نہ لائیں یا مسلمان کامیاب نہ ہوں۔ حضرت آدم کے واقعہ کو بیان کر کے اس طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ حضرت آدم سے ایک غلطی ہوئی مگر جب ان کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو انہوں نے اللہ کی بارگاہ میں معافی مانگی اور ندامت کا اظہار کیا۔ تب اللہ نے ان کو معاف کردیا کیونکہ اللہ اپنے بندوں پر نہایت مہربان ہے اور وہ گناہوں کو معاف کردینے والا ہے۔ فرمایا جا رہا ہے کہ آج کفار مکہ اگر اپنے گناہوں اور غیر اللہ کی پرستش سے توبہ کر کے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت قبول کرلیں تو نہ صرف اللہ ان کے پچھلے گناہوں کو معاف کر دے گا بلکہ ان کو دین و دنیا کی تمام بھلائیاں عطا فرمائے گا۔ اس سورة میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کے جثار صحابہ کو اس طرف متوجہ کیا گیا ہے کہ وہ اللہ کے دین کو پہنچانے کی امکانی جدوجہد کرتے رہیں لیکن اس میں کسی جلدی یا بےصبری کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اللہ کا قانون یہ ہے کہ وہ مجرموں کو فوراً ہی سزا نہیں دیتا بلکہ وہ گناہگاروں کو سنبھلنے اور سمجھنے کا موقع عنایت فرماتا رہتا ہے اگر ان منکرین نے پھر بھی اس موقع سے فائدہ نہیں اٹھایا اور اپنے کفر و شرک ضد اور ہٹ دھرمی پر جمے بیٹھے رہے تو اللہ کی قدرت و طاقت یہ ہے کہ وہ ان کو جڑ و بنیاد سے اکھاڑ کر پھینک دے گا اور اہل ایمان کو سربلند فرما دے گا۔

Ayahs 20:1–8

طٰهٰۚ Open ayah 20:1 in the Quran reader

طا۔ ھا۔ (حروف مقطعات معنی کا علم اللہ کو ہے)

مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰۤىۙ Open ayah 20:2 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ ہم نے یہ قرآن آپ پر اس لئے نازل نہیں کیا کہ آپ مشقت پر پڑ جائیں

اِلَّا تَذْكِرَةً لِّمَنْ یَّخْشٰىۙ Open ayah 20:3 in the Quran reader

یہ تو ہر اس شخص کے لئے نصیحت ہے جو اللہ کا خوف رکھتا ہے

تَنْزِیْلًا مِّمَّنْ خَلَقَ الْاَرْضَ وَ السَّمٰوٰتِ الْعُلٰىؕ Open ayah 20:4 in the Quran reader

یہ (قرآن) اس کی طرف سے نازل کیا گیا ہے جس نے زمین اور بلند وبالا آسمانوں کو پیدا کیا ہے

اَلرَّحْمٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوٰى Open ayah 20:5 in the Quran reader

وہ رحمٰن جو عرش پر قائم ہے۔

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا وَ مَا تَحْتَ الثَّرٰى Open ayah 20:6 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین میں اور ان دونوں کے درمیان اور گیلی مٹی کے نیچے جو کچھ بھی ہے وہ اسی کی ملکیت ہے

وَ اِنْ تَجْهَرْ بِالْقَوْلِ فَاِنَّهٗ یَعْلَمُ السِّرَّ وَ اَخْفٰى Open ayah 20:7 in the Quran reader

اگر تم اپنی بات کو پکار کر کہو تو (یاد رکھو) وہ اللہ تو چپکے سے کہی ہوئی اور اس سے بھی زیادہ پوشیدہ بات کو جانتا (اور سنتا ) ہے۔

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى Open ayah 20:8 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے سارے بہترین نام اسی کے لئے ہیں۔

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 8 تشقی تو مشقت اٹھاتا ہے۔ تذکرۃ دھیان اور توجہ دینے کی چیز۔ یخشی وہ ڈرتا ہے۔ العلی بلند وبالا۔ استوی وہ برابر ہوا۔ قائم ہوا۔ الثریٰ گیلی مٹی۔ السر بھید، دل میں چھپی بات۔ اخفی بہت زیادہ پوشیدہ، چھپا ہوا۔ اسماء الحسنی بہترین نام۔ تشریح :- آیت نمبر 1 تا 8 اس سورت کو بھی ” حروف مقطعات ‘ ‘ سے شروع کیا گیا ہے۔ جن حروف کے معنی کا علم اور اس کا بھید اللہ کو معلوم ہے۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس قرآن کریم کو تمام انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لئے نازل کیا ہے تاکہ اس کے وہ بندے جو محتاط، خوف الٰہی سے سرشار اور زندگی کے ہر معاملے میں پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہیں ان کو صحیح راستہ دکھایا جاسکے اور وہ اپنی حقیقی منزل تک پہنچ سکیں۔ یہ اس اللہ کا کلام ہے جس نے ساری کائنات کو پیدا کیا ہے اور اسے انتہائی نظم و ضبط سے اپنی مصلحت کے مطابق چلا رہا ہے۔ اس نے یہ زمین جس پر انسان چلتا پھرتا، رہتا بستا اور ہر طرح کے بےانتہا فائدے حاصل کرتا ہے اور وہ بلند وبالا آسمان جو ایک سائبان کی طرح تان دیا گیا ہے اس کی قدرت کے نمونے ہیں وہ کائنات کو پیدا کر کے خاموش یا لاتعلق ہو کر نہیں بیٹھ گیا بلکہ وہ اپنی شان کے مطابق عرش پر موجود ہے اور جس طرح چاہتا ہے نظام کائنات کو چلا رہا ہے جو کچھ آسمان زمین بلکہ تحت الثری تک میں موجود ہے وہ ذرہ ذرہ کا مالک ہے اور اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے نہ وہ کسی کی شرکت کا محتاج ہے وہ کھلی چھپی اور راز کی تمام باتوں سے اچھی طرح واقف ہے۔ وہ ہر ایک کی سنتا ہے۔ اللہ کو زور سے پکارا جائے یا آہستہ سے وہ انسانی جذبات اور خیالات کا پوری طرح علم رکھتا ہے۔ وہ ہر رواز اور بھید کو جاننے والا معبود حقیقی ہے اس کے سوا کوئی عبادت اور بندگی کے لائق نہیں ہے۔ فرمایا کہ اے نبی ! اللہ نے جس کائنات کو پیدا کر کے اس ہدایت کیلئے اپنی کتاب قرآن کریم کو نازل کیا ہے آپ اس قرآن کریم کی تعلیمات کو ساری دنیا میں پہنچانے کی جدوجہد کیجیے اور اپنی جدوجہد اور کوشش میں کمی نہ کیجیے ہم نے یہ قرآن ہدایت کے لئے نازل کیا ہے آپ کو کسی مشقت یا مصیبت میں ڈالنے کے لئے نازل نہیں کیا ہے۔ یہ قرآن انسانی ذہنوں کی تسکین اور سکون کے لئے بھیجا گیا ہے۔ یہ ایک ورشنی ہے جو آہستہ آہستہ پھیل کر رہے گی اور وہ لوگ جو اس قرآن کے ذریعے اپنے دلوں میں خوف الٰہی کی قندیلیں روشن کرلیں گے۔ ان کو زندگی کا سچا راستہ ضرور نصیب ہوجائے گا۔ ارشاد ہے کہ انسان اپنے مالک اور اس کی مہربانیوں کو پہچان لے کیونکہ آسمان سے لیکر زمین اور اس کی تہہ تک کی ساری چیزیں اس کی ہیں وہ ہر چیز کا مالک ہے۔ اس کی ہستی اس لائق ہے کہ اس کے سامنے جھکا جائے اس کی عبادت اور بندگی کی جائے۔ اس کائنات میں سب سے بہتر اور لائق تعظیم اس کے نام ہیں، اس کے سوا کوئی ایسی ذات نہیں ہے جس کو ایسے حسین اور خوبصورت نام نصیب ہوں۔
Ayahs 20:9–16

وَ هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ مُوْسٰىۘ Open ayah 20:9 in the Quran reader

اور کیا آپ کے پاس موسیٰ کی بات پہنچی ہے۔

اِذْ رَاٰ نَارًا فَقَالَ لِاَهْلِهِ امْكُثُوْۤا اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْۤ اٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِقَبَسٍ اَوْ اَجِدُ عَلَى النَّارِ هُدًى Open ayah 20:10 in the Quran reader

جب انہوں نے ایک آگ کو دیکھا تو اپنے گھر والوں سے کہا۔ ذرا ٹھہرو۔ بیشک میں نے آگ دیکھی ہے۔ شاید میں تمہارے پاس اس سے ایک انگارہ لے آؤں یا آگ پر پہنچ کر راستے (کا پتہ) معلوم کرلوں۔

فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا نُوْدِیَ یٰمُوْسٰىؕ Open ayah 20:11 in the Quran reader

پھر جب (موسیٰ علیہ السلام) وہاں پہنچے تو آواز آئی اے موسیٰ

اِنِّیْۤ اَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَیْكَ١ۚ اِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًىؕ Open ayah 20:12 in the Quran reader

بیشک میں تمہارا رب ہوں۔ اپنے جوتے اتار لو کیونکہ تم پاک اور مقدس مقام طویٰ پر ہو۔

وَ اَنَا اخْتَرْتُكَ فَاسْتَمِعْ لِمَا یُوْحٰى Open ayah 20:13 in the Quran reader

میں نے تمہیں چن لیا ہے۔ جو بھی وحی کی جائے اس کو غور سے سنو

اِنَّنِیْۤ اَنَا اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدْنِیْ١ۙ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِیْ Open ayah 20:14 in the Quran reader

بیشک میں اللہ ہوں۔ میرے سوا کوئی معبود نہیں۔ پس میری ہی بندگی کرو اور میری بندگی کے لئے نماز قائم کرو

اِنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ اَكَادُ اُخْفِیْهَا لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا تَسْعٰى Open ayah 20:15 in the Quran reader

بیشک قیامت آنے والی ہے میں اس کو پوشیدہ رکھنا چاہتا ہوں تاکہ ہر شخص کو اس کے لئے پورا بدلہ مل جائے۔

فَلَا یَصُدَّنَّكَ عَنْهَا مَنْ لَّا یُؤْمِنُ بِهَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ فَتَرْدٰى Open ayah 20:16 in the Quran reader

جو شخص اس (دن) پر یقین نہیں رکھتا اور اپنی خواہشوں کے پیچھے لگا ہوا ہے وہ تمہیں اس سے نہ روک دے۔ پھر تم ہلاکت میں پڑجاؤ۔

لغات القرآن آیت نمبر 9 تا 16 حدیث بات چیت، خبر۔ اھل گھر والے، بیوی۔ امکثوا تم ٹھہر جاؤ ۔ رک جاؤ۔ انست میں نے دیکھا ہے۔ لعلی شاید کہ میں۔ قبس سلگتی لکڑی۔ انگارہ، نودی آواز دی گئی۔ اخلع اتار دے۔ نعلیک (نعلین) دونوں جوتے۔ الواد میدان۔ المقدس پاک صاف، مقدس۔ طوی میدان۔ اخترتک میں نے تجھے چن لیا، پسند کرلیا۔ استمع غور سے سنو۔ الساعۃ گھڑی، قیامت۔ اکاد میں قریب ہوا۔ اخفی میں چھپا کر رکھوں۔ تسعی دوڑتا ہے۔ لاتصدن نہ روک دے ۔ تردیٰ ہلاک ہوجائے۔ تشریح : آیت نمبر 9 تا 16 حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایک قبطی کو مار ڈالنے کے الزام اور فرعون کے ظلم و ستم اور بےانصافی کے خوف سے مصر سے مدین تشریف لے گئے تھے۔ مدین میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کی صاحبزادی سے آپ کا نکاح ہوگیا۔ حضرت شعیب کی شرط کے مطابق حضرت موسیٰ (علیہ السلام) چند سال مدینے میں رہ کر اپنی اہلیہ کے ساتھ مصر کے لئے روانہ ہوگئے۔ ان آیات میں جس واقعہ کا ذکر کیا گیا ہے وہ ایک اندھیری رات تھی۔ سردی شباب پر تھی، بکریوں کا گلہ ساتھ میں تھا اس حالت میں راستہ بھول گئے۔ بکریاں ادھر ہوگئیں اور ان کی اہلیہ کو زچگی کا درد شروع ہوگیا۔ اندھیرے کی وجہ سے سخت پریشانی تھی جس کو تاپنے اور سینکنے کے لئے آگ بھی موجود نہ تھی۔ اچانک حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دور ایک آگ نظر آئی۔ حضرت موسیٰ نے اپنی اہلیہ سے کہا کہ تم یہیں ٹھہرو، میں جا کر آگ کا ایک انگارہ یا شعلہ لے کر آجاتا ہوں۔ ممکن ہے کوئی ایسا شخص بھی مل جائے جس سے راستہ کا پتہ معلوم کرلوں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب میدان میں پہنچے تو دیکھا ایک درخت سے آگ کے شعلے بھڑک رہے ہیں ۔ انہوں نے ایک عجیب بات دیکھی کہ آگ جتنی زور سے بھڑکتی ہے وہ آگ والا درخت اتنا ہی خوبصورت اور سرسبز و شاداب ہوجاتا ہے۔ وہ درخت سے قریب ہوتے گئے تاکہ اگر کوئی شاخ جل کر گرے تو اس کو اٹھالیں۔ لیکن وہ آگ سے جتنا قریب ہوتے، آگ دور ہوتی جاتی پیچھے ہٹتے تو ایسا محسوس ہوتا کہ آگ ان کا پیچھا کر رہی ہے۔ حضرت موسیٰ اس آگ سے ایک نامعلوم سا خوف محسوس کرنے لگے۔ اچانک اس درخت میں سے آواز آئی کہ اے موسیٰ یہ میں ہوں تیرا پروردگار امام احمد نے وہب سے نقل کیا ہے کہ جب انہوں نے یا موسیٰ ! سنا تو کئی مرتبہ چاروں طرف پلٹ کر دیکھتے ہوئے ” لبیک “ کہا اور عرض کیا، میں آپ کی آواز تو سن رہا ہوں مجھے کچھ آہٹ سی محسوس ہو رہی ہے۔ مگر آپ کہاں ہیں ؟ مجھے آپ نظر نہیں آ رہے ہیں۔ آواز آئی میں تیرے اوپر ہوں، تیرے ساتھ ہوں، تیرے سامنے ہوں، تیرے پیچھے ہوں اور تیری جان سے زیادہ قریب ہوں۔ کہتے ہیں کہ اس وقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) روئے تو میں سے اللہ کا کلام سن کر ایک عجیب لذت اور کیف محسوس کر رہے تھے۔ (معارف القرآن) جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس آگ سے قریب ہوئے تو درخت سے آواز آئی۔ اے موسیٰ ! یہ آگ نہیں ہے، بلکہ میں تمہارا پروردگار ہوں، اس وقت ایک پاکیزہ اور مقدس وادی طوی میں کھڑے ہو، اس مقام کے تقدس کا تقاضا ہے کہ اپنے دونوں جوتے اتار دو ، میں نے تمہیں اپنا رسول منتخب کیا ہے۔ اس لئے جو کچھ کہا جائے اس کو سنو اور اس کے مطابق عمل کرو، فرمایا (1) بیشک میں اللہ ہوں، میرے سوا کوئی عبادت و بندگی کے لائق نہیں ہے۔ (2) میری عبادت و بندگی کرو۔ (3) نماز قائم کرو کیونکہ مجھے یاد کرنے کا بہترین ذریعہ نماز ہی ہے۔ (4) یہ دنیا مستقل رہنے کی جگہ نہیں ہے بلکہ ایک دن فنا ہوجانے والی ہے۔ پھر وہ وقت آنے والا ہے جب دنیا ختم ہوجائے گی اور قیامت آجائے گی۔ (5) ہم نے قیامت کے دن کو اس لئے پوشیدہ رکھا ہے تاکہ ہر شخص اس کے انتظار میں حسن عمل کرتا رہے۔ (6) قیامت کا واقع ہونا ایک ایسا اٹل فیصلہ ہے جس میں شک و شبہ تک گنجائش نہیں ہے لیکن لوگ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور اس دن کو بھولے ہوئے ہیں جو بہت جلد آنے والا ہے۔ (7) آپ ان لوگوں کی پروانہ کیجیے جو اس پر یقین نہیں رکھتے وہ اپنی بربادی کا خود سامان کر رہے ہیں۔ (8) آپ اس ہلاکت میں نہ پڑیں۔ اس کے بعد کی آیات میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا بقیہ واقعہ اور اس کی تفصیلات آرہی ہیں جو آیات آپ نے اس وقت پڑھی ہیں اور اس کی تشریح ملاحظہ کی ہے ان میں چند باتیں ایسی ہیں جن کی تفصیل عرض کی جا رہی ہے۔ (1) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جان بوجھ کر قبطی شخص کو قتل نہیں کیا تھا بلکہ وہ ایک اسرائیلی کو بچانے کے لئے آگے بڑھے تھے اور اچانک ایک مکہ کی چوٹ سے اس قبطی کی موت واقع ہوگئی تھی جس پر خود حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی افسوس ہوا۔ جب حضرت موسیٰ کو کسی نے بتایا کہ قبطی کے قتل کے الزام میں فرعون ان کو ناحق سزا دینا چاہتا ہے تو وہ خاموشی اور احتیاط کے ساتھ مصر سے مدین کی طرف ہجرت کر گئے تاکہ فرعون کے ظلم سے اپنے آپ کو بچا سکیں۔ کیونکہ فرعون ایک جابر و ظالم شخص تھا جس سے کسی انصاف کی امید نہیں کی جاسکتی تھی۔ لہٰذا حضرت موسیٰ بشری تقاضے کے تحت اپنی جان کو حفاظت کے لئے مدین کی طرف روانہ ہوگئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جان بچانا اور بےانصافی کے ماحول میں خوف محسوس کرنا شان نبوت کے خلاف نہیں ہے۔ جس طرح نبی کریم ﷺ نے قریش مکہ کے ظلم و ستم اور بےانصافی کو دیکھتے ہوئے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی اور تین دن اور تین راتوں تک آپ نے غار ثور میں چھپ کر پناہ لی۔ (2) اپنے گھر والوں کی حفاظت اور ان کے لئے اتنے سامان زیست کی فکر کرنا ہر شخص کی ذمہ داری ہے تاکہ وہ زندگی کی کڑی دھوپ میں اپنے آپ کو محفوظ تصور کرسکے۔ (3) اللہ ہر جگہ موجود ہے، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جس آگ کو دیکھ رہے تھے وہ درحقیقت دنیاوی آگ نہ تھی بلکہ اللہ کا نور جمال و جلال، تجلی الٰہی یا حجاب نوری تھا جس کو حضرت موسیٰ آگ سمجھ بیٹھے تھے۔ (4) جس طرح اللہ نے زمین کے بعض حصوں اور عمارتوں کو ایک خاص اعزازو اکرام اور شرف و امتیاز بخشا ہے جیسے بیت اللہ شریف، مسجد نبوی شریف اور مسجد اقصیٰ کو اسی طرح کوہ طور کے دامن میں ایک مقدس ” وادی طوی “ ہے جہاں حضرت موسیٰ کو شریف نبوت سے نوازا گیا ۔ وہ بھی ایک مقدس و محترم مقام ہے۔ (5) ایک طرف تو قرآن کریم کی اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وادی طوی ایک مقدس وادی ہے جس کا احترام یہ سکھایا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنے جوتے اتار دیں لہٰذا ہر مقدس و محترم مقام پر جوتے اتار دینا چاہئے۔ اس لئے یہودی اپنی عبادت کے وقت اپنے عبادت خانے میں جوتے اتار کر عبادت کرتے ہیں۔ دوسری طرف نبی کریم ﷺ نے یہ فرمایا ہے کہ یہود کی مخالفت کرنے کیلئے جوتے پہن کر بھی نماز پڑھی جاسکتی ہے (اس کی مزید تفصیل معارف القرآن ج 5 ص 70 پر ملاحظہ کی جاسکتی ہے) اس سلسلہ میں اتنی بات عرض ہے کہ جوتے پہن کر نماز پڑھنا اگر یہود کی مخالفت کے لئے ہو تو جائز ہے لیکن اس کو ایک اصول کے طور پر نہیں لیا جاسکتا کیونکہ اس سے بہت سے اسلامی اصولوں کی نفی ہوجائے گی۔ مثلاً جوتے وہ ہوتے ہیں جو گندگی سے گزرتے ہیں جب کہ پاکی اور ستھرائی کو نصف ایمان قرار دیا گیا ہے اور عبادت گاہوں میں اس اصول کی پابندی زیادہ ضروری ہے ۔ لہٰذا اگر میں وادی طویٰ میں جاؤں گا تو ضرور جوتے اتار دوں گا تاکہ اللہ کے حکم کی تعمیل ہوجائے لیکن بیت اللہ اور مسجد نبوی میں جاتے وقت میں کبھی جوتے نہیں پہنوں گا کیونکہ اس سے بیت اللہ شریف اور مسجد نبوی کا احترام ممکن نہیں ہے۔ جس طرح چارشادیوں کی اجازت دی گئی ہے لیکن یہ کوئی ایسا حکم نہیں ہے کہ ہر شخص جب تک چار شادیاں نہیں کرے گا تو نعوذ باللہ وہ مسلمان ہی نہیں ہو سکتا۔ یہ ایک ضرورت ہے اگر کوئی شخص عدل و انصاف کرسکتا ہے تو اس کے لئے مزید شادیاں (شریعت کے مطابق) کرلینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ بعض موقعے ایسے ہوتے ہیں جہاں جوتوں کے اندر ہی نماز پڑھنا ضروری ہوتا ہے جیسے فوجی جب میدان جنگ میں ہوتا ہے وہاں جوتے اتارنے میں دشمن کے اچانک حملہ کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ لہٰذا یہاں جوتے پہن کر ہی نماز پڑھی جاسکے گی۔ لیکن ہر جگہ اس حکم پر عمل کرنا ممکن نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں نے اس کو ایک اصول کے طو پر کبھی نہیں لیا۔ دوسری بات یہ بھی ہے کہ آج قرآن کریم میں اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو وادی مقدس میں جوتے اتارنے کا حکم دیا گیا ہے تو ہم سب سے پہلے قرآن کریم کے اس اصول پر عمل کریں گے اور جہاں ضرورت ہوگی وہاں حدیث کے مطابق عمل کرلینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (6) اللہ کی عبادت و بندگی اور اس کی یاد کا اعلیٰ اور افضل ترین طریقہ نماز پڑھنا ہے۔ کیونکہ نماز دین کا ستون، دل کا سکون اور ایمان کا نور ہے۔ نبی کریم ﷺ (اور آپ کی امت کو بھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت کی طرح نمازوں کی ادائیگی اور اہتمام کا حکم دیا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی امت کو دن بھر میں صبح و شام دو وقت کی نمازوں کا حکم تھا جب کہ نبی کریم ﷺ اور آپ کی امت پر دن بھر میں پانچ نمازیں فرض کی گئی ہیں۔ (7) قیامت کب آئے گی، اس کی کیفیات کیا ہوں گی اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے اس کے سوا کسی کو بھی اس کا علم نہیں دیا گیا اس کے پوشیدو رکھنے کی وجہ یہ ارشاد فرمائی گئی تاکہ لوگ قیامت کے ہولناک دن کے خوف سے حسن عمل میں لگے رہیں اگر غور کیا جائے تو قیامت صغریٰ ہر انسان سے بہت قریب ہے کیونکہ جو شخص مرگیا اس کی قیامت تو شروع ہوگئی کیونکہ اب وہ ایک لمبی سی نیند لے کر حشر کے دن اٹھے گا۔ لہٰذا قیامت انسان سے دور نہیں ہے لیکن وہ قیامت کبری جس سے اس پورے نظام کائنات کو الٹ پلٹ دیا جائے گا وہ ایک ایسے مقررہ وقت پر آئے گی جس کا علم کسی کو بھی نہیں دیا گیا۔ نبی کریم ﷺ نے قیامت کی کچھ نشانیاں بتائی ہیں جن کی تفصیل سے اندازہ ہوتا ہے کہ قیامت کبری بھی اب انسان سے دور نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو شخص اس قیامت کے دن پر ایما نہیں رکھتا اور وہ اپنی نفسانی خواہشات میں لگا رہتا ہے فرمایا کہ ” اے نبی ! آپ اس شخص کو اہمیت نہ دیں کیونکہ وہ تو آپ کو روکنے اور ہلاکت میں ڈالنے کی کوششیں کرتا رہے گا۔ “
Ayahs 20:17–24

وَ مَا تِلْكَ بِیَمِیْنِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:17 in the Quran reader

(اللہ نے فرمایا) اے موسیٰ تمہارے داہنے ہاتھ میں کیا ہے ؟

قَالَ هِیَ عَصَایَ١ۚ اَتَوَكَّؤُا عَلَیْهَا وَ اَهُشُّ بِهَا عَلٰى غَنَمِیْ وَ لِیَ فِیْهَا مَاٰرِبُ اُخْرٰى Open ayah 20:18 in the Quran reader

عرض کیا وہ میری لاٹھی ہے جس پر میں ٹیک لگاتا ہوں۔ اس سے میں اپنی بکریوں کے لئے پتے جھاڑتا ہوں۔ اس سے اور بھی بہت سارے کام لیتا ہوں۔

قَالَ اَلْقِهَا یٰمُوْسٰى Open ayah 20:19 in the Quran reader

فرمایا کہ اس کو (نیچے) پھینک دو ۔

فَاَلْقٰىهَا فَاِذَا هِیَ حَیَّةٌ تَسْعٰى Open ayah 20:20 in the Quran reader

انہوں نے اس کو پھینکا تو وہ دوڑتا ہوا سانپ بن گیا

قَالَ خُذْهَا وَ لَا تَخَفْ١ٙ سَنُعِیْدُهَا سِیْرَتَهَا الْاُوْلٰى Open ayah 20:21 in the Quran reader

فرمایا کہ اس کو پکڑلو، مت ڈرو ہم اس کو پہلی حالت میں لوٹا دیں گے

وَ اضْمُمْ یَدَكَ اِلٰى جَنَاحِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ اٰیَةً اُخْرٰىۙ Open ayah 20:22 in the Quran reader

اور اے موسیٰ اپنا ہاتھ بغل میں ڈالو وہ بغیر کسی بیماری کے سفید چمکتا ہو نکلے گا۔ یہ دوسری نشانی اس لئے ہے

لِنُرِیَكَ مِنْ اٰیٰتِنَا الْكُبْرٰىۚ Open ayah 20:23 in the Quran reader

تاکہ ہم تمہیں اپنی بڑی نشانیاں دکھا سکیں

اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى۠ Open ayah 20:24 in the Quran reader

اللہ نے فرمایا کہ اب تم (ہماری نشانیاں لے کر) فرعون کی طرف جاؤ اس لئے کہ اس نے سرکشی اختیار کر رکھی ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 24 یمین داہنا ہاتھ، عصا لاٹھی۔ اتوکا میں سہارا لیتا ہوں۔ اھش میں پتے جھاڑتا ہوں۔ مارب (ماربۃ) نفع، فائدہ۔ حیۃ سانپ۔ نعید ہم لوٹا دیں گے۔ سیرۃ الاولی پہلی حالت۔ اضمم ملالے۔ جناح بازو۔ بیضاء روشن، سید۔ غیر سوء بغیر کسی عیب اور تکلیف کے۔ طغی اس نے سرکشی کی۔ تشریح : آیت نمبر 17 تا 24 گزشتہ آیات سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ” وادی طویٰ “ کی مقدس وادی میں پہنچے اور انہوں نے ایک دھکتے ہوئے درخت کو دیکھا جو عجیب کیفیات کیساتھ روشن ہو رہا تھا تو آواز آئی اے موسیٰ ! یہ میں ہوں تمہارا رب، یہ سن کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر وجد کی جیسی کیفیت طاری ہوگئی کیونکہ انسان کا اس سے بڑا اعزاز اور کیا ہوگا۔ کہ کائنات کا مالک خود انسان سے بات کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے پوچھا کہ تمہارے داہنے ہاتھ میں کیا ہے۔ عرض کردیتے کہ یہ لاٹھی ہے مگر انہوں نے جواب میں طوالت اختیار کرتے ہوئے عرض کیا یہ ایک لاٹھی ہے جس پر میں ٹیک لگا لیتا ہوں، کبھی اپنی بکریوں کیلئے پتے جھاڑ لیتا ہوں اور میں اس سے اور بہت سے کام لیتا ہوں۔ فرمایا کہ اے موسیٰ اپنے عصا کو ذرا زمین پر تو پھینکئے، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جیسے ہی اپنا عصا پھینکا تو وہ ایک خوفناک اژدھا بن گیا۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اتنے بڑے خوفناک اژدھے کو دیکھا وہ بشری تقاضے کے تحت سخت خوفزدہ ہو کر بھاگنے لگے۔ ندا آئی اے موسیٰ ! آپ اس سے نہ ڈرئیے۔ آپ جیسے ہی اس کو پکڑیں گے تو یہ پھر عصا بن گیا۔ اللہ نے فرمایا کہ اے موسیٰ اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالئے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حکم کی تعمیل کی تو بغیر کسی عیب اور بیماری کے ان کا ہاتھ چاند کی طرح چمکتا ہوا نکلا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے موسیٰ ” عصا اور ید بیضا “ یہ دونوں معجزات ہیں۔ ان کو لے کر آپ فرعون کی طرف جائیے۔ اس نے سرکشی اور نافرمانی اختیار کر رکھی ہے اس کو بتائیے کہ وہ اپنی نافرمانی کے ہر انداز سے باز آجائے۔ اس واقعہ کی بقیہ تفصیلات اگلی آیت میں آرہی ہیں۔ ان آیات میں جو کچھ ارشاد فرمایا گیا ہے۔ اس میں چند باتوں کی وضاحت یہ ہے۔ (1) اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ نہیں پوچھا کہ تمہارے ہاتھ میں کیا ہے بلکہ یہ فرمایا کہ تمہارے داہنے ہاتھ میں کیا ہے ؟ اس سے یہ بتانا مقصود تھا کہ اہمیت کی چیز کو داہنے ہاتھ میں ہونا چاہئے۔ اس بات کو نبی کریم ﷺ نے بھی ارشاد فرمایا ہے کہ ” ان اللہ یحب التیامن فی کل شیء حتی التنعل والترجل “ بیشک اللہ کو ہر چیز میں داہنی جانب میں پسند ہیں یہاں تکہ جوتا پہننا اور بالوں میں کنگھی کرنا۔ بتایا جا رہا ہے کہ دنیا کی دوسری قومیں اپنے ہر کام میں بایاں ہاتھ استعمال کرتی ہیں۔ اہل ایمان اپنے ہر کام کی ابتداء داہنی جانبوں سے کیا کریں تاکہ یہ اہل ایمان کا ایک امتیازی وصف بن جائے کھانے، پینے، کپڑا پہننے، کسی کو کچھ دینے لینے میں ہمیشہ داہنی جانبوں کو اختیار کریں۔ (2) دوسری بات یہ ہے کہ ہاتھ میں عاص رکھنا انبیاء کرام (علیہ السلام) کی سنت ہے۔ (3) اس کائنات میں فاعل حقیقی اللہ ہے۔ اس کی قدرت ہے کہ وہ لکڑی کو اژدھا اور اژدھے کو لکڑے بنا دے ۔ ایک مؤمن کو ہر آن اللہ کی اس قدرت کو پیش نظر رکھتے ہوئے اللہ سے ہی مانگنا چاہئے کیونکہ اگر اللہ چاہے تو کائنات کی ہر چیز بدل سکتا ہے۔ برے حالات کو بہتر بنا دینا بھی اس کی قدرت سے باہر نہیں ہے۔