20. Surah Taa-Haa
طهTaa-Haa · 135 ayahsبصیرتِ قرآن
تعارف
تعارف
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سورة نمبر 20 کل رکوع 8 آیات 135 الفاظ و کلمات 1251 حروف 5466 مقام نزول مکہ مکرمہ سورة مریم اور سورة طہ کے نزول کا زمانہ قریب ہی لگتا ہے سورة طہ ہجرت حبشہ سے کچھ پہلے ہی نازل ہوئی تھی یا ہجرت حبشہ کے وقت، بہرحال حضرت عمر فاروق کے قبول اسلام سے پہلے ہی یہ سورت نازل ہوچکی تھی جیسا کہ واقعات سے ظاہر ہے۔ قرآن کریم کے نازل کیے جانے کا ایک مقصد یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ جن لوگوں کے دلوں میں اللہ کا خوف ہو اور ان کے دل نرم ہوں تو اس قرآن کے روحانی فیوض اور برکات ہے محروم نہ رہیں گے لیکن جن لوگوں نے ضد اور ہٹ دھرمی کا طریقہ اختیار کر رکھا ہے اور ہر طرح کی نعمتوں سے وہ پہلو بچاتے، کتراتے گریزاں رہتے ہیں وہ قرآن کریم کی تعلیمات اور سعادت سے محروم ہی رہیں گے اور جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دن رات اللہ کا دین پہنچانے کی جدوجہ دفرماتے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یہ دلی تمنا تھی کہ ہر شخص دین اسلام کی دولت سے مالا مال ہوجائے۔ اس کے لئے آپ اتنی مشقت برداشت فرماتے جس کا تصور ممکن نہیں ہے چناچہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا ہے کہ ” اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ تو اس غم میں اپنی جان گھلا ڈالیں گے کہ وہ ایمان کیوں نہیں لاتے ؟ “ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جدوجہد کے ساتھ ساتھ دعا بھی فرماتے تھے۔ ایک دن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ کی بار گاہ میں یہ دعا فرمائی، الٰہی ! ابو الحکم بن ہاشم (ابوجہل) اور عمر بن خطاب میں سے کسی ایک کو اسلام کا حامی بنا دے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعا کو قبول فرمایا اور حضرت عمر ابن خطاب دولت ایمان سے مالا مال ہوگئے۔ حضرت عمر کے ایمان لانے کے اسباب یہ پیدا ہوئے کہ کفار مکہ جب ہر طرح کے لالچ اور دھمکیوں سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو راستے سے ہٹانے میں کامیاب نہ ہوئے تو ایک دن اس مشورہ پر سب کا اتفاق ہوگیا کہ جس کی وجہ سے یہ سب کچھ ہو رہا ہے اس کو قتل کردیا جائے لیکن یہ کون کرے گا۔ اس کی ہمت کسی میں نہ تھی۔ حضرت عمر جو نہایت بہادر اور مضبوط اعصاب کے مالک تھے، کہنے لگے کہ یہ کام میں کروں گا۔ اسی وقت اٹھے اور ننگی تولار گلے میں لٹکائے نہایت جوش اور غصہ سے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف روانہ ہوگئے ۔ راستے میں ایک شخص نے پوچھا کہ عمر کہاں کے ارادے ہیں ؟ کہنے لگے کہ میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتل کرنے جا رہا ہوں۔ اس شخص نے کہا پہلے اپنے گھر کی خبر تو لو۔ تمہارے بہنوئی اور چچا زاد بھائی سعید بن زید اور تمہاری بہن فاطمہ بنت خطاب نے اسلام قبول کرلیا ہے۔ یہ خبر حضرت عمر پر بجلی بن کر گری۔ وہ فوراً اپنی بہن کے گھر کی طرف پلٹ گئے اس وقت حضرت خباب بن الارت قرآن کریم کی سورت طہ جو کسی چیز پر لکھی ہوئی تھی حضرت عمر کی بن اور بہنوئی کو پڑھا رہے تھے۔ جب حضرت عمر دروازے پر پہنچے تو ان کو کلام پاک کی آواز سنائی دی حضرت عمر نے جیسے ہی اندر داخل ہونے کے لئے آواز دی جس میں غصہ جھلک رہا تھا تو حضرت خطاب گھر کے کسی کونے میں چھپ گئے۔ حضرت عمر نے گھر میں داخل ہوتے ہی نہایت غصے اور خفگی کے ساتھ اپنے بہنوئی سے پوچھا کہ کیا میں نے صحیح سنا ہے کہ تم نے اسلام قبول کرلیا ہے ہے ؟ انہوں نے صاف صاف بتا دیا کہ ہم نے حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لائے ہوئے دنی کو قبول کرلیا ہے۔ یہ سن کر حضرت عمر کا غصہ اتنا شدید ہوگیا کہا نہوں نے اپنے چچا زاد بھائی اور بہنوئی سعید بن زید کو مارنا شروع کردیا۔ حضرت فاطمہ بنت خطاب نے اپنے شوہر کی حمایت میں ان کو بچانے کی کوشش کی تو حضرت فاطمہ بھی زخمی ہوگئیں اور ان کے بدن سے خون رسنے لگا ۔ بہن کا خون دیکھ کر حضرت عمر مار نے سے رک گئے اور حیران ہو کر کہا کہ فاطمہ مجھے دکھاؤ وہ کونسا کلام ہے جس نے تمہارے دل کو موم بنا دیا اور تم ہر طرح کی تکلیفیں برداشت کرنے کے لئے تیار ہو۔ حضرت فاطمہ بنت خطاب نے کہا کہ بھائی اس قرآن کے صفحے کو ہاتھ لگانے کے لئے پاک ہونا ضروری ہے۔ آپ پہلے غسل کر لیجیے۔ حضرت عمر غسل کرنے چلے گئے تو حضرت خباب بن الارت بھی باہر نکل آئے جب وہ غسل کر کے واپس آگئے تو ان کو سور طہ کی آیات دی گئیں جنہیں حضرت عمر فاروق نے غور سے پڑھا اور اس سچے کلام پر ایمان لانے کا ارادہ کیا حضرت خباب ابن الارت حضرت عمر کو اسی حالت میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اس مقام پے لے گئے۔ جہاں آپ عبادت و بندگی میں مشغول تھے۔ حضرت عمر کو آتا دیکھ کر صحابہ کرام گھبرا گئے مگر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ عمر کو آنے دو اگر آج اس نے اسلام قبول نہ کیا تو اس کی تلوار سے اس کی گردن اتار دی جائے گی لیکن یہاں تو رنگ ہی بدل چکا تھا۔ حضرت عمرفاروق نے آتے ہی اسلام لانے کا ارادہ ظاہر فرمایا جس سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خوش ہوگئے اور اس وقت موجودہ مسلمانوں نے اس قدر زور سے نعرہ تکبیر بلند کیا کہ پورے ملک میں ان کی آواز گونج اٹھی۔ حضرت عمر نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب یہ سچا دین ہے تو ہم چھپ کر عبادت کو یں کریں ؟ ہم کیوں نہ بیت اللہ میں جا کر نماز ادا کریں۔ آپ نے اجازت دے دی اور اس طرح حضرت عمر نے صحابہ کرام کے ساتھ مل کر پہلی نماز بیت اللہ میں جا کر ادا کی حضرت عمر فاروق کے اسلام قبول کرنے سے مسلمانوں میں جوش و جذبہ اور بھی بڑھ گیا اور کفار مکہ کے گھروں میں کہرام مچ گیا اور صف ماتم بچھ گئی۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعا کو قبول فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے سورة طہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم نے اس قرآن کو اس لئے نازل نہیں کیا کہ آپ اور آپ کے ماننے والوں کو کسی مشقت، مصیبت اور مشکل میں ڈال دیں اور نہ آپ اس کے ذمہ دار ہیں کہ جو لوگ ایمان لانے سے کرتا رہے ہیں اور بےدینی پر جمے بیٹھے ہیں ان کو زبردستی اسلام میں داخل کردیں۔ بلکہ آپ اللہ کا دین پہنچاتے رہئے جن کے نصیب میں دین اسلام کی سعادت ہے وہ ضرور اسلام قبول کرلیں گے۔ اس میں جلدی یا بےصبری کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ جس کے دل میں خوف الٰہی ہوگا۔ وہ اس راہ حق سے محروم نہ رہے گا۔ سورة طہ میں حضرت موسیٰ کے واقعہ کو ایک مرتبہ پھر ایک نئے انداز سے نہایت تفصیل کے ساتھ بیان کر کے اہل ایمان کو اس بات پر تسلی دی گئی ہے کہ جس طرح حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون بغیر ظاہری اسباب کے اتنے زبردست اور طاقوتر شخص فرعون اور اس کے اقتدار سے ٹکرا گئے۔ فرعون کی ساری سازشوں اور کوششوں کے باوجود جس طرح اللہ نے بنی اسرائیل کو عزت اور سربلندی سے نوازا تھا۔ اسی طرح اگر ایمان والوں نے صبر و تحمل اور برداشت سے کام لیتے ہوئے اللہ کے دین کو نہایت فہم و فراست کے ساتھ کفار اور مشرکین تک پہنچایا تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ وہ ایمان نہ لائیں یا مسلمان کامیاب نہ ہوں۔ حضرت آدم کے واقعہ کو بیان کر کے اس طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ حضرت آدم سے ایک غلطی ہوئی مگر جب ان کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو انہوں نے اللہ کی بارگاہ میں معافی مانگی اور ندامت کا اظہار کیا۔ تب اللہ نے ان کو معاف کردیا کیونکہ اللہ اپنے بندوں پر نہایت مہربان ہے اور وہ گناہوں کو معاف کردینے والا ہے۔ فرمایا جا رہا ہے کہ آج کفار مکہ اگر اپنے گناہوں اور غیر اللہ کی پرستش سے توبہ کر کے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت قبول کرلیں تو نہ صرف اللہ ان کے پچھلے گناہوں کو معاف کر دے گا بلکہ ان کو دین و دنیا کی تمام بھلائیاں عطا فرمائے گا۔ اس سورة میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کے جثار صحابہ کو اس طرف متوجہ کیا گیا ہے کہ وہ اللہ کے دین کو پہنچانے کی امکانی جدوجہد کرتے رہیں لیکن اس میں کسی جلدی یا بےصبری کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اللہ کا قانون یہ ہے کہ وہ مجرموں کو فوراً ہی سزا نہیں دیتا بلکہ وہ گناہگاروں کو سنبھلنے اور سمجھنے کا موقع عنایت فرماتا رہتا ہے اگر ان منکرین نے پھر بھی اس موقع سے فائدہ نہیں اٹھایا اور اپنے کفر و شرک ضد اور ہٹ دھرمی پر جمے بیٹھے رہے تو اللہ کی قدرت و طاقت یہ ہے کہ وہ ان کو جڑ و بنیاد سے اکھاڑ کر پھینک دے گا اور اہل ایمان کو سربلند فرما دے گا۔
طٰهٰۚ Open ayah 20:1 in the Quran reader
طا۔ ھا۔ (حروف مقطعات معنی کا علم اللہ کو ہے)
مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰۤىۙ Open ayah 20:2 in the Quran reader
(اے نبی ﷺ ہم نے یہ قرآن آپ پر اس لئے نازل نہیں کیا کہ آپ مشقت پر پڑ جائیں
اِلَّا تَذْكِرَةً لِّمَنْ یَّخْشٰىۙ Open ayah 20:3 in the Quran reader
یہ تو ہر اس شخص کے لئے نصیحت ہے جو اللہ کا خوف رکھتا ہے
تَنْزِیْلًا مِّمَّنْ خَلَقَ الْاَرْضَ وَ السَّمٰوٰتِ الْعُلٰىؕ Open ayah 20:4 in the Quran reader
یہ (قرآن) اس کی طرف سے نازل کیا گیا ہے جس نے زمین اور بلند وبالا آسمانوں کو پیدا کیا ہے
اَلرَّحْمٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوٰى Open ayah 20:5 in the Quran reader
وہ رحمٰن جو عرش پر قائم ہے۔
لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا وَ مَا تَحْتَ الثَّرٰى Open ayah 20:6 in the Quran reader
آسمانوں اور زمین میں اور ان دونوں کے درمیان اور گیلی مٹی کے نیچے جو کچھ بھی ہے وہ اسی کی ملکیت ہے
وَ اِنْ تَجْهَرْ بِالْقَوْلِ فَاِنَّهٗ یَعْلَمُ السِّرَّ وَ اَخْفٰى Open ayah 20:7 in the Quran reader
اگر تم اپنی بات کو پکار کر کہو تو (یاد رکھو) وہ اللہ تو چپکے سے کہی ہوئی اور اس سے بھی زیادہ پوشیدہ بات کو جانتا (اور سنتا ) ہے۔
اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى Open ayah 20:8 in the Quran reader
اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے سارے بہترین نام اسی کے لئے ہیں۔
وَ هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ مُوْسٰىۘ Open ayah 20:9 in the Quran reader
اور کیا آپ کے پاس موسیٰ کی بات پہنچی ہے۔
اِذْ رَاٰ نَارًا فَقَالَ لِاَهْلِهِ امْكُثُوْۤا اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْۤ اٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِقَبَسٍ اَوْ اَجِدُ عَلَى النَّارِ هُدًى Open ayah 20:10 in the Quran reader
جب انہوں نے ایک آگ کو دیکھا تو اپنے گھر والوں سے کہا۔ ذرا ٹھہرو۔ بیشک میں نے آگ دیکھی ہے۔ شاید میں تمہارے پاس اس سے ایک انگارہ لے آؤں یا آگ پر پہنچ کر راستے (کا پتہ) معلوم کرلوں۔
فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا نُوْدِیَ یٰمُوْسٰىؕ Open ayah 20:11 in the Quran reader
پھر جب (موسیٰ علیہ السلام) وہاں پہنچے تو آواز آئی اے موسیٰ
اِنِّیْۤ اَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَیْكَ١ۚ اِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًىؕ Open ayah 20:12 in the Quran reader
بیشک میں تمہارا رب ہوں۔ اپنے جوتے اتار لو کیونکہ تم پاک اور مقدس مقام طویٰ پر ہو۔
وَ اَنَا اخْتَرْتُكَ فَاسْتَمِعْ لِمَا یُوْحٰى Open ayah 20:13 in the Quran reader
میں نے تمہیں چن لیا ہے۔ جو بھی وحی کی جائے اس کو غور سے سنو
اِنَّنِیْۤ اَنَا اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدْنِیْ١ۙ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِیْ Open ayah 20:14 in the Quran reader
بیشک میں اللہ ہوں۔ میرے سوا کوئی معبود نہیں۔ پس میری ہی بندگی کرو اور میری بندگی کے لئے نماز قائم کرو
اِنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ اَكَادُ اُخْفِیْهَا لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا تَسْعٰى Open ayah 20:15 in the Quran reader
بیشک قیامت آنے والی ہے میں اس کو پوشیدہ رکھنا چاہتا ہوں تاکہ ہر شخص کو اس کے لئے پورا بدلہ مل جائے۔
فَلَا یَصُدَّنَّكَ عَنْهَا مَنْ لَّا یُؤْمِنُ بِهَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ فَتَرْدٰى Open ayah 20:16 in the Quran reader
جو شخص اس (دن) پر یقین نہیں رکھتا اور اپنی خواہشوں کے پیچھے لگا ہوا ہے وہ تمہیں اس سے نہ روک دے۔ پھر تم ہلاکت میں پڑجاؤ۔
وَ مَا تِلْكَ بِیَمِیْنِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:17 in the Quran reader
(اللہ نے فرمایا) اے موسیٰ تمہارے داہنے ہاتھ میں کیا ہے ؟
قَالَ هِیَ عَصَایَ١ۚ اَتَوَكَّؤُا عَلَیْهَا وَ اَهُشُّ بِهَا عَلٰى غَنَمِیْ وَ لِیَ فِیْهَا مَاٰرِبُ اُخْرٰى Open ayah 20:18 in the Quran reader
عرض کیا وہ میری لاٹھی ہے جس پر میں ٹیک لگاتا ہوں۔ اس سے میں اپنی بکریوں کے لئے پتے جھاڑتا ہوں۔ اس سے اور بھی بہت سارے کام لیتا ہوں۔
قَالَ اَلْقِهَا یٰمُوْسٰى Open ayah 20:19 in the Quran reader
فرمایا کہ اس کو (نیچے) پھینک دو ۔
فَاَلْقٰىهَا فَاِذَا هِیَ حَیَّةٌ تَسْعٰى Open ayah 20:20 in the Quran reader
انہوں نے اس کو پھینکا تو وہ دوڑتا ہوا سانپ بن گیا
قَالَ خُذْهَا وَ لَا تَخَفْ١ٙ سَنُعِیْدُهَا سِیْرَتَهَا الْاُوْلٰى Open ayah 20:21 in the Quran reader
فرمایا کہ اس کو پکڑلو، مت ڈرو ہم اس کو پہلی حالت میں لوٹا دیں گے
وَ اضْمُمْ یَدَكَ اِلٰى جَنَاحِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ اٰیَةً اُخْرٰىۙ Open ayah 20:22 in the Quran reader
اور اے موسیٰ اپنا ہاتھ بغل میں ڈالو وہ بغیر کسی بیماری کے سفید چمکتا ہو نکلے گا۔ یہ دوسری نشانی اس لئے ہے
لِنُرِیَكَ مِنْ اٰیٰتِنَا الْكُبْرٰىۚ Open ayah 20:23 in the Quran reader
تاکہ ہم تمہیں اپنی بڑی نشانیاں دکھا سکیں
اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى۠ Open ayah 20:24 in the Quran reader
اللہ نے فرمایا کہ اب تم (ہماری نشانیاں لے کر) فرعون کی طرف جاؤ اس لئے کہ اس نے سرکشی اختیار کر رکھی ہے۔