Ayahs 20:1–111:۔ ابن منذر ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ پر جب شروع میں وحی کا نزول ہوا تو آپ نماز میں اپنے قدموں کے اگلے حصوں پر کھڑے ہوئے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائی (آیت) ” طہ (1) ما انزلنا علیک القران لتشقی (2) “
نزول قرآن آپ (علیہ السلام) کے لئے باعث مشقت نہیں :
2:۔ ابن مردویہ اور ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ کفار نے کہا یہ آدمی اپنے رب کی طرف سے مشقت میں پڑگیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” طہ (1) ما انزلنا علیک القران لتشقی (2) “
3:۔ ابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب رات کو کھڑے ہوتے تھے تو رسی سے اپنے آپ کو باندھ لیتے تھے تاکہ نیند نہ آجائے تو یہ (آیت) ” طہ (1) ما انزلنا علیک القران لتشقی (2) “ نازل ہوئی۔
4:۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ اپنے آپکو باند ھ لیتے تھے اور ایک پاوں کو دوسرے پر رکھ لیتے تھے تو یہ (آیت) ” طہ (1) ما انزلنا علیک القران لتشقی (2) “ نازل ہوئی۔
5:۔ ابن مردویہ نے علی ؓ سے روایت کیا کہ جب نبی کریم ﷺ پر یہ (آیت) ” یایھا المزمل (1) قم الیل الا قلیلا (2) ‘ (مزمل آیت 2) نازل ہوئی تو ساری رات آپ قیام فرماتے تھے یہاں تک کہ آپ کے قدم مبارک سوج جاتے تھے تو آپ کبھی ایک قدم پر کھڑے ہوتے تھے اور کبھی دوسرے پر تو اس وقت جبرائیل (علیہ السلام) تشریف لائے اور فرمایا ” طہ “ یعنی اے محمد ﷺ اپنے دونوں قدموں کو زمین پر رکھئے (آیت) ” ما انزلنا علیک القران لتشقی (2) (ہم نے قرآن اس لئے نہیں اتارا کہ آپ مشقت میں پڑجائیں) پھر یہ حکم بھی نازل فرمایا (آیت) ” فاقرء و ما تیسر من القرآن “ (مزمل آیت 20)
6:۔ بزار نے سند حسن سے علی ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ باری باری ہر قدم پر کھڑے ہوتے تھے یہاں تک کہ یہ (آیت) ” طہ (1) ما انزلنا علیک القران لتشقی (2) نازل ہوئی۔
7:۔ عبد بن حمید اور ابن منذر نے ربیع بن انس (رح) سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ جب نماز پڑھتے تو ایک پاوں پر کھڑے ہوجاتے اور دوسرے کو اوپر اٹھالیتے تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ” طہ “ یعنی طا الارض اے محمد ﷺ دونوں پاوں زمین پر رکھئے (آیت) ” ما انزلنا علیک القران لتشقی “ ہم نے قرآن اس لئے نہیں اتارا کہ آپ مشقت میں پڑجائیں۔
8:۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے ” طہ “ کے بارے میں روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز میں قرآن پڑھتے تو کبھی آپ ایک پاوں پر کھڑے ہوتے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” طہ “ یعنی اپنے دونوں پاوں زمین پر رکھو (آیت) ” ما انزلنا علیک القران لتشقی “
9:۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ پر قرآن نازل فرمایا تو آپ اور آپ کے صحابہ ؓ (رات بھی) قیام کرتے تھے کفارقریش نے کہا محمد ﷺ پر یہ قرآن اس لئے اتارا گیا ہے تاکہ آپ مشقت میں پڑجائیں تو (اس پر) اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت) ” طہ (1) ما انزلنا علیک القران لتشقی (2) “
10:۔ ابن ابی حاتم نے، طبرانی اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا (آیت) ” طہ “ سے مراد ہے اے شخص۔
11:۔ حارث بن ابی اسامہ اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” طہ “ نبطی زبان میں اس کا معنی ہے طا اے شخص۔
12:۔ عبد بن حمید اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” طہ “ نبطی زبان میں اس کا معنی ہے طا یعنی اے شخص۔
13:۔ عبد بن حمید اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ بہ یہ تیرے قول یا رجل کی طرح ہے۔
14:۔ ابن ابی شیبہ نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” طہ “ نبطی زبان میں اس کا معنی ہے اے شخص۔
15:۔ ابن جریر اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” طہ “ نبطی زبان میں اس کا معنی ہے اے شخص۔
16:۔ ابن ابی شیبہ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” طہ “ نبطی زبان میں اس کا معنی ہے اے شخص۔
17:۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” طہ “ سریانی زبان میں اس سے مراد ہے اے شخص۔
18۔ حاکم نے ابن عباس ؓ سے راویت کیا کہ (آیت) ” طہ “ کا معنی ہے جیسے تیرا کہنا اے محمد حبشی زبان میں۔
19:۔ ابن ابی شیبہ عبد بن حمید اور ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” طہ “ سے مراد ہے جیسے تیرا کہنا اے آدمی حبشی زبان میں۔
20:۔ ابن ابی حاتم نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” طہ “ ایسا کلمہ ہے جس کو عربی بنایا گیا ہے۔
21:۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” طہ “ سورتوں کا شروع کرنے والا ہے۔
22:۔ ابن ابی حاتم نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” طہ “ میں الطاء ذی الطول ہے (یعنی مقدور اور وسعت والے)
23:۔ ابن مردویہ نے ابوالطفیل (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرے رب کے پاس میرے دس نام ہیں ابوالطفیل نے فرمایا ان میں سے میں نے آٹھ کو یاد کرلیا ہے محمد، احمد، ابوالقاسم، الفاتح، الخاتم، الماحی، العاقب، الحاشر سیف نے گمان کیا کہ ابوجعفر نے فرمایا کہ باقی دو نام طہ، اور یسین ہیں۔
24:۔ ابن مردویہ اور حاکم نے (حاکم نے اس کو صحیح بھی کہا ہے) زر (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے ابن مسعود ؓ کے پاس طہ کی فتحہ کے ساتھ پڑھا عبداللہ نے اس کو پکڑا اور فرمایا طہ مک سورة ہے آدمی نے ان سے کہا کہ اس کا معنی کہ آپ اپنے پاوں کو رکھئے عبداللہ نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ اس طرح پڑھتے تھے اور اسی طرح جبرئیل (علیہ السلام) نے اس کو نازل فرمایا۔
25:۔ ابن عساکر نے عائشہ ؓ نے بیان فرمایا کہ پہلی سورة جو میں نے قرآن میں سے سیکھی وہ طہ ہے اور جب میں پڑھتی تھی (آیت) ” طہ (1) ما انزلنا علیک القران لتشقی (2) “ تو نبی ﷺ فرماتے اے عائشہ ! میں مشقت میں نہیں پڑتا۔
26:۔ بیہقی نے دلائل میں ابوصالح سے اور وہ ابن عباس ؓ سے (آیت) ” طہ (1) ما انزلنا علیک القران لتشقی (2) “ کے بارے میں روایت کیا کہ آپ رات کو اپنے پاوں پر کھڑے ہوئے قیام فرماتے تھے اور طہ عک قبیلہ کی لغت میں (اے انسان) کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ میں عک قبیلہ کے ایک شخص کو یارجل کہہ کر پکارا تو وہ میری طرف متوجہ نہ ہوا اور جب میں نے اس کو طہ کہا تو وہ میری طرف متوجہ ہوا۔
نبطی زبان میں طلہ کے معنی آدمی :
27:۔ عبد بن حمید نے عروہ بن خالد (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ضحاک (رح) کو سنا کہ بنومازن بن مالک میں سے ایک آدمی نے کہا کہ قرآن میں کوئی چیز مجھ پر مخفی نہیں ہے اور وہ قرآن کا قاری اور شاعر تھا ضحاک (رح) نے اس سے فرمایا تم یہ دعوی کرتے ہو تو مجھ کو بتا کہ طہ سے کیا مراد ہے اس نے کہا یہ اللہ تعالیٰ کے اچھے ناموں میں سے ہے جیسے طسم اور حم ضحاک (رح) نے فرمایا کہ نبطی زبان میں اس کا معنی ہے اے آدمی۔
28:۔ ابن منذر اور ابن مسعود نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ طہ قسم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی قسم کھائی ہے اور وہ اللہ کے ناموں میں سے ہے۔
29:۔ عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے (آیت) ” ما انزلنا علیک القران لتشقی “ کے بارے میں فرمایا کہ نماز میں (آیت) ” فاقرء وا ما تیسر منہ “ (مزمل آیت 20) کی طرح ہے (سو نماز میں آپ مشقت نہ اٹھائیے جو آسان ہو وہ پڑھئے) صحابہ کرام ؓ بھی نماز میں اپنے سینوں کو رسیوں سے باندھتے تھے۔
30:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ما انزلنا علیک القران لتشقی “ کا مطلب یہ ہے کہ اے شخص ہم نے آپ پر قرآن اس لئے نازل نہیں کیا کہ آپ مشقت میں پڑجائیں اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ نے آپ کو بدبخت نہیں بنایا بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو رحمت اور نور اور جنت کی طرف راہنمائی کرنے والا بنایا ہے (آیت) ” الا تذکرۃ لمن یخشی “ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی کتابوں کو اتارا اور اپنے رسولوں کو بھیجا رحمت بنا کر کہ اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر رحم فرمایا تاکہ نصیحت حاصل کرنے والے نصیحت حاصل کریں اور وہ نفع حاصل کریں جو اللہ کی کتاب کو سنیں اور یہ قرآن نصیحت ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اتارا اس میں اس کے حلال اور اس کے حرام کا واضح بیان ہے۔
31:۔ ابن ابی حاتم نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما تحت الثری “ سے مراد ہے کہ جو ساتویں زمین کے نیچے ہے۔
32:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الثری “ سے مراد ہر تر اور گیلی چیز۔
33:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما تحت الثری “ سے وہ چٹان ہے جو ساتویں زمین کے نیچے ہے اور یہ سبز چٹان ہے اور وہ سجین ہے جس میں کفار کے اعمال کے رجسڑڈ ہیں۔
34:۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الثری “ سے مراد وہ مٹی ہے جو کھودی جائے۔
35:۔ ابویعلی نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ سے پوچھا گیا کہ اس زمین کے نیچے کیا ہے ؟ فرمایا پانی پھر پوچھا پانی کے نیچے کیا ہے ؟ فرمایا اندھیرا ہے۔ پھر پوچھا گیا اندھیرے کے نیچے کیا ہے ؟ فرمایا ہوا ہے، پھر پوچھا ہوا کے نیچے کیا ہے ؟ فرمایا گیلی مٹی۔ پھر پوچھا گیلی مٹی کے نیچے کیا ہے ؟ فرمایا خالق کے علم کے ہاں مخلوق کا علم ختم ہوگیا۔
36:۔ ابن مردویہ نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ تبوک میں تھا اچانک ایک لمبا آدمی ہمارے پاس آیا وہ نبی کریم ﷺ کے قریب ہوا اور آپ کی اونٹنی کی لگام کو پکڑ لیا اور کہا کیا آپ محمد ﷺ ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں پھر اس نے کہا میں ارادہ رکھتا ہوں کہ میں آپ سے ایسی باتوں کا سوال کروں جن کو زمین والوں میں سے کوئی نہیں جانتا مگر ایک آدمی یا دو آمدی (ان کو جانتے ہیں) آپ نے فرمایا پوچھ جو تو چاہے اس نے کہا اے محمد ﷺ اس زمین کے نیچے کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا مخلوق ہے، پھر اس نے کہا ان کے نیچے کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا زمین ہے۔ پھ پھر اس نے کہا ان کے نیچے کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا مخلوق ہے پھر اس نے کہا ان کے نیچے کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا زمین ہے یہاں تک ساتویں زمین کا ذکر آیا پھر اس نے کہا ساتویں زمین کے نیچے کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا چٹان ہے پھر اس نے کہا چٹان کے نیچے کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا مچھلی ہے پھر اس نے کہا مچھلی کے نیچے کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا پانی ہے پھر اس نے کہا پانی کے نیچے کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا تاریکی ہے پھر اس نے کہا تاریکی کے نیچے کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا ہوا ہے پھر اس نے کہا ہوا کے نیچے کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا گیلی مٹی پھر اس پھر اس نے کہا گیلی مٹی کے نیچے کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا تو رسول اللہ ﷺ کی آنکھوں میں آنسو آگئے پھر آپ نے فرمایا مخلوق کا علم ختم ہوگیا خالق کے علم کے پاس اے سوال کرنے والے ! جس سے سوال کیا گیا ہے وہ سوال کرنے والے سے زیادہ نہیں جانتا اس نے کہا آپ نے سچ فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اگر آپ گیلی مٹی کے نیچے کسی چیز کا دعوی کرتے تو میں جان لیتا کہ آپ جادوگر اور جھوٹے ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں پھر وہ آدمی چلا گیا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے لوگوں کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون تھا ؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں پھر آپ نے فرمایا یہ جبرائیل (علیہ السلام) تھے۔
37:۔ ابن منذر ابن ابی حاتم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے (آیت) ” یعلم السر واخفی “ کے بارے میں فرمایا کہ ” السر “ سے مراد ہے وہ بات ہے جو ابن آدم اپنے د ل میں چھپاتا ہے ” واخفی “ سے مراد ہے وہ بات جو ابن آدم سے مخفی ہے جس کو وہ زمانہ مستقبل میں کرنے والا ہے جس کا ابھی تک اسے علم نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے جو پہلے ہوچکا ہے اسے بھی جانتا ہے جو ہونے والا اور ایک شخص اس کے ہاں برابر ہے یعنی ایک جان کی طرح جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ما خلقکم ولا بعثکم الا کنفس واحدۃ “ لقمان آیت 28) یعنی تمہارا پیدا کرنا اور تمہارا دوبارہ اٹھانا ایک جان کی طرح ہے کہ جس طرح ایک جان کو پیدا کرنا زیادہ مشکل نہیں اسی طرح ساری مخلوق کو پیدا کرنا مشکل نہیں)
38:۔ حاکم نے (اور آپ نے اس کو صحیح بھی کہا) ابن عباس ؓ سے (آیت) ” یعلم السر واخفی “ کے بارے میں فرمایا کہ (آیت) ” السر “ اس بات کو کہتے ہیں جس کو تو جانتا ہے اور (آیت) ” واخفی “ اس بات کو کہتے ہیں جو اللہ تیرے دل میں ڈال دے ان باتوں میں سے جن کو تو نہیں جانتا۔
39:۔ عبداللہ بن احمد نے زوائد الزہد میں ابو الشیخ (رح) نے العظمہ میں اور بیہقی نے دلائل میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ وہ جانتا ہے جو کچھ تم اپنے دل میں چھپاتے ہو اور وہ اس کو بھی جانتا ہے جو تو کل کام کرے گا۔
40:۔ عبدالرزاق اور عبد بن حمید نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” یعلم السر واخفی “ سے مراد ہے وہ پوشیدہ بات ہے جس کا خیال تیرے دل میں آیا اور جس کا خیال تیرے دل میں نہیں آیا جو آئندہ ہونے والی ہے۔
41:۔ عبد بن حمید ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” یعلم السر واخفی “ میں اخفی سے مراد ہے وسوسہ اور السر سے مراد وہ کام ہے جس کو تو لوگوں سے چھپا کر کرتا ہے۔
42:۔ عبد بن حمید اور ابن منذر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ ” السر “ سے مراد وہ راز کی بات ہے جو آدمی اپنے غیر سے چھپاتا ہے اور اخفی ہے مراد وہ بات ہے جو تو اپنے دل میں چھپالی۔
43:۔ عبد بن حمید اور ابن منذر نے سعید بن جبیر (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ (آیت) ” السر “ سے مراد وہ بات ہے جو ابھی دل میں ہی ہے اور اخفی سے مراد وہ بات ہے جو ابھی تک ہوئی ہی نہیں آئندہ ہونے والی ہے۔
44:۔ عبد بن حمید اور ابن منذر نے عکرمہ ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ السر سے مراد وہ بات ہے کہ جو آدمی اپنے گھر والوں کو بیان کردیتا ہے اور اخفی سے مراد وہ بات ہے جو ابھی دل میں ہے۔
45:۔ عبد بن حمید نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” یعلم السر واخفی “ میں ” السر “ سے مراد وہ بات ہے جو تو نے اپنے دل میں چھپالی اور واخفی سے مراد وہ بات ہے جو ابھی دل میں نہیں آئی۔
46:۔ ابوالشیخ نے عظمی میں زید بن اسلم (رح) سے (آیت) ” یعلم السر واخفی “ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ عبادت کے رازوں کو جانتا ہے واخفی اور اس کے رازوں کو ہم نہیں جانتے۔
47:۔ عبدالرزاق، عبدبن حمید اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” انی انست نارا “ یعنی میں نے محسوس کیا آگ کو (آیت) ” اواجد علی النار ھدی “ یا میں پاوں آگ (کی جگہ) پر کوئی راہ بتانے والا۔
48:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” اواجد علی النار ھدی “ کے بارے میں فرمایا کہ یا میں کوئی ایسی ذات پالوں جو مجھے راستے کی راہنمائی کرے۔
49:۔ ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ کوئی (آیت) ” اواجد علی النار ھدی “ یعنی جو راستے کو بتائے گا۔
50:۔ ابن ابی شیبہ عبد بن حمید، اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ کوئی (آیت) ” اواجد علی النار ھدی “ سے مراد ہے کہ وہ راستے کی راہنمائی کرے گا۔
51:۔ عبد بن حمید نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اواجد علی النار ھدی “ سے مراد ہے راہ بتلانے والا جو مجھ کو پانی کی طرف (راستہ) بتلائے گا۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور آگ :
52:۔ احمد نے زہد میں عبد بن حمید ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے وھب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے آگ کو دیکھا تو اس کی طرف چل پڑے یہاں تک کہ اس کے قریب ٹھہر گئے وہ ایک بڑی آگ تھی جو جوش مار رہی تھی سخت سبز درخت کے پتوں میں جس کو علیق کہا جاتا تھا آگ بہت تیز ہو رہی تھی لیکن درخت نہیں جل رہا تھا اور اس کی سبزی اور خوبصورتی میں اضافہ ہورہا تھا اور موسیٰ (علیہ السلام) کھڑے دیکھ رہے تھے اور وہ نہیں جانتے تھے کہ کیا کریں مگر یہ کہ انہوں نے گمان کیا کہ وہ درخت جل رہا ہے اور کسی آگ لگانے والے نے اس کو آگ لگائی ہے پس آپ نے دیکھا کہ درخت جل چکا ہے اور آگ کو مکمل جلنے سے روکا ہوا ہے اس کی ہریالی نے اور اس کے پانی کی کثرت نے اور اس کے پتوں کی کثافت نے اور اس کے تنے کے بڑا ہونے نے یقین کرلیا (کہ آگ اس کو نہیں جلا رہی) موسیٰ (علیہ السلام) اس امید پر ٹھہرے ہوئے تھے کہ اس درخت میں سے کوئی چیز (یعنی انگارہ شعلہ) وغیرہ گرے تو میں اس کو اٹھالوں جب ٹھہرنا لمبا ہوگیا تو آپ نے سبز گھاس کو آگ کے سامنے کیا جو آپ کے ہاتھ میں تھی اور آپ ارادہ کررہے تھے کہ اس کے شعلہ میں سے لے لیں جب موسیٰ (علیہ السلام) نے ایسا کیا تو آگ آپ کی طرف مائل ہوئی گویا کہ وہ آپ کا ارادہ کررہی تھی تو اس سے پیچھے ہٹ گئے اور ڈر گئے پھر دوبارہ لوٹے اور اس کا چکر لگایا آگ آپ کی طرف اور آپ اس آگ کی طرف مائل ہورہے تھے وہ آگ بجھنے کا نام نہیں لے رہی تھی موسیٰ (علیہ السلام) پر یہ معاملہ بڑا شدید گزرا اور بڑے متعجب ہوئے اور موسیٰ (علیہ السلام) اس کے متعلق غور وفکر کرنے لگے اور فرمایا یہ آگ ہے اس میں سے شعلہ نہیں لیا جاسکتا (مگر حیران ہوئے) کہ آگ درخت کو نہیں جلا رہی پھر اتنی بڑی آگ پلک جھپکنے کی دیر میں بجھ گئی جب موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ دیکھا تو فرمایا اس آگ میں کوئی شان ہے اور یہ طے کرلیا کہ یہ آگ مامورہ ہے یا مصنوعہ ہے آپ کو اس آگ کا کوئی پتا نہ چلا کہ اس کی حقیقت کیا ہے ؟ اس کو کون جلانے والا ہے اور اس کو کیوں جلایا موسیٰ (علیہ السلام) حیران ہو کر کھڑے رہے نہیں جانتے تھے کہ واپس لوٹ جاوں یا کھڑا رہوں اسی حال میں تھے کہ آپ نے اس درخت کی ٹہنیوں کو دیکھا تو وہ آسمان پر چھائے ہوئے سبزی سے زیادہ سبز تھیں اور آپ اس کو دیکھ رہے تھے کہ تاریکی اس پر چھا رہی ہے پھر وہ سرسبزی روشن ہوگئی اور زرد ہوگئی اور سفید ہوگئی یہاں تک کہ پھیلی ہوئی روشنی بن گئی ستون کی طرح آسمان اور زمین کے درمیان اس پر نور سورج کی شعاع کی طرح تھا اور آنکھیں ان کو نہ دیکھ سکتی تھیں جب بھی آپ اس کی طرف دیکھتے تو یہ کیفیت ہوجاتی کہ قریب ہے کہ آنکھیں اچک لیں اس وقت آپ کا خوف وہراس اور زیادہ ہوگیا آپ نے اپنا ہاتھ اپنی آنکھوں پر رکھا اور زمین کے درمیان اس پر نور سورج کی شعاع کی طرح تھا اور آنکھیں ان کو نہ دیکھ سکتی تھیں جب بھی آپ اس کی طرف دیکھتے تو یہ کیفیت ہوجاتی کہ قریب ہے کہ آنکھیں اچک لیں اس وقت آپ کا خوف وہراس اور زیادہ ہوگیا آپ نے اپناہاتھ اپنی آنکھوں پر رکھا اور زمین پر لیٹ گئے آپ نے ایک آواز سنی لیکن آپ اس وقت ایسی آواز سنی جو سننے والے اس طرح کی آواز نہیں سنتے جب موسیٰ (علیہ السلام) پر خوف سخت ہوگیا تو درخت میں سے آواز دی گئی اے موسیٰ ! تو انہوں نے جلدی سے جواب دیا اور انہیں جانتے تھے کہ کون ان کو بلارہا ہے اور آپ کا جلدی جواب دینے کی وجہ سے انسان سے انس حاصل کرنا تھا آپ نے کئی مرتبہ فرمایا میں حاضر ہوں میں تیری آواز کو سن رہا ہوں اور میں تیری حس کو محسوس کررہا ہوں اور میں نے تیری جگہ کو نہیں دیکھا کہ تو کہاں ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں تیرے اوپر ہوں اور میں تیرے ساتھ ہوں اور میں تیرے پیچھے ہوں اور میں تیری جان سے بھی زیادہ قریب ہوں جب موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ آواز سنی تو جان لیا کہ یہ باتیں لائق نہیں ہیں مگر اس رب کے لئے تو آپ کو اس کا یقین ہوگیا اور عرض کیا اے میرے الہی تو واقعی اسی شان کے لائق ہے میں آپ کے کلام کو سن رہا ہوں یا آپ کے کسی پیغامبر کی فرمایا میں ہی تجھ سے کلام کررہا ہوں میرے قریب ہوجاؤ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے ہاتھوں کو لاٹھی پر رکھا پھر اس پر سہارا لے کر سیدھا کھڑے ہوگئے موسیٰ (علیہ السلام) کے جسم پر کپکپی طاری تھی اعضاء ادھر ادھر ہورہے تھے پاوں لڑکھڑانے لگے زبان بولنے سے رک گئی کوئی ہڈی دوسری ہڈی کو برداشت نہیں کررہی تھی آپ ایک مردہ شخص کی طرح تھے لیکن زندگی کے سانس جاری تھے پھر اسی کیفیت میں رینگتے ہوئے اور ڈرتے ہوئے اس درخت کے قریب کھڑے ہوگئے جس میں سے ان کو آواز دی گئی تھی رب تبارک وتعالیٰ نے ان سے فرمایا (آیت) ” وما تلک بیمینک یموسی “ عرض کیا یہ میری لاٹھی ہے پوچھا اس سے کیا کرتے ہو ؟ حالانکہ ان سے زیادہ کوئی جاننے والا نہیں موسیٰ (علیہ السلام) فرمایا (آیت) ” اتوکوا علیھا اھش بہا علی غنمی ولی فیھا مارب اخری (18) آپ اس کو جانتے ہی ہیں کہ میرے لئے اس میں معنی اور فوائد بھی ہیں اور اس کی دو شاخیں تھیں اور شاخوں کے نیچے ایک کھونٹی سی بندھی ہوئی تھی جب کوئی ٹہنی لمبی ہوتی تو آپ اس کھونٹی کے ساتھ اسے جھکا لیتے اور جب آپ اس ٹہنی کے توڑنے کا ارادہ فرماتے تو شاخوں کے ذریعہ اسے ٹیڑھا کردیتے اور اس پر سہارا لگاتے اور اس کے ساتھ پتے جھاڑتے اور جب چاہتے اس کو اپنے کندھے پر ڈال لیتے اور اس کے ساتھ کمان کو اور ترکش کو اپنے لوٹے کو اور اپنے کپڑوں کو لٹکالیتے سایہ لینے کی ضرورت ہوتی تو اس پر کپڑا ڈال کر سایہ حاصل کرتے اور جب کنویں پر آتے اس کی رسی کم پڑجاتی اس کی لاٹھی کے ذریعہ پانی تک پہنچتے تھے اور اس کے ذریعہ اپنی بکریوں کی درندوں سے حفاظت کرتے تھے رب تعالیٰ نے ان سے فرمایا (آیت) ” القیھا یموسی “ (یعنی اے موسیٰ اس کو ڈال دو ) موسیٰ (علیہ السلام) نے اسے پھینک دیا اچانک وہ ایک بڑا سا سانپ بن گیا دیکھنے والوں نے اس کی طرف دیکھا وہ یوں چلنے لگا گویا کہ وہ کوئی چیز تلاش کررہا ہے جسے وہ پکڑنا چاہتا ہے سانپ ایک چٹان کے پاس سے گذرتا ہے اونٹ کی طرح اور اس کو نگل لیتا ہے وہ اپنے دانت مارتا ہے کسی بڑے درخت کی جڑ میں اور اسے جڑوں سمیت اکھاڑ دیتا ہے اس کی آنکھوں سے آگ نکلتی ہے اس نوک بالوں کی کلغی بن گئی ہے جس طرح ٹوٹنے والے ستارے ہوتے ہیں اور دونوں شاخیں لوٹ آئیں اور وہ دونوں کشادہ کنوئیں کی طرح بن گئیں اور اس کی داڑھیں اور کیچلیاں تھیں اور اس کے دانتوں کے پسنے کے آواز تھی جب موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ منظر دیکھا (آیت) ” ولی مدبرا ولم یعقب “ (نمل آیت 10) تو بھاگ کھڑے ہوئے اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھا پھر غور سے دیکھا اور سانپ سے عاجز ہیں پھر انہوں نے اپنے رب کو یاد کیا اور ان سے شر م کرتے ہوئے کھڑے ہوئے پھر (آیت) ” نودی یموسی “ حکم ہوا اے موسیٰ وہاں لوٹ جاؤ جہاں سے آئے تھے وہ لوٹ آئے اور وہ سخت خوف میں تھے اللہ تعالیٰ نے فرمایا اپنے داہنے ہاتھ سے اس کو پکڑ اور مت ڈر ہم اس کو پہلی صورت پر لوٹادیں گے اور موسیٰ (علیہ السلام) اس وقت ایک قمیص پہنے ہوئے تھے انہوں نے اس کو اپنے ہاتھ میں لپیٹ لیا فرشتے نے ان سے کہا اے موسیٰ (علیہ السلام) بتائے اگر اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرما لیا (اس چیز کا) جس سے تو ڈر رہا ہے کیا یہ کپڑا آپ کو اس چیز سے بچا سکتا ہے عرض کیا نہیں لیکن میں ضعیف اور کمزور ہوں میری پیدائش میں کمزوری رکھی گئی ہے انہوں نے اپنے ہاتھ سے کپڑا اتار دیا پھر اس کو سانپ کے منہ پر رکھ دیا پھر انہوں نے اس کی داڑھوں اور دانتوں کے چلنے کی آواز سنی پھر اس کو پکڑ لیا تو اچانک وہ پہلے کی طرح ایک لاٹھی تھی اور اچانک آپ کا ہاتھ ایسی جگہ پر تھا کہ جس جگہ پر آپ رکھا کرتے تھے جب وہ دو شاخوں کے درمیان سہارا لیتے تھے ان کے رب نے ان سے فرمایا قریب ہوجاؤ وہ برابر ان کے قریب ہوتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے اپنی پیٹھ کو درخت کے تنے کے ساتھ باندھ دیا وہ ٹھہرے رہے اور آپ کا سارا خوف جاتا رہا اور اپنے ہاتھوں کو لاٹھی پر رکھا اور اپنے سر اور گردن کو جھکا دیا پھر ان سے فرمایا آج میں نے جس جگہ پر تم کو کھڑا کیا ہے تیرے بعد کسی بشر کو یہ لائق نہیں کہ تیری جگہ کھڑا ہو کیونکہ میں نے تجھ کو اپناخاص قرب بخشا ہے یہاں تک کہ تو نے میرے کلام کو سنا اور تو مجھ سے سب سے زیادہ قریب جگہ میں ہے پس آپ میرے پیغام کو لے کر جائیے بلاشبہ آپ میری آنکھ اور میرے کان تیرے ہاتھ میری قدرت اور نظر ہیں اور میں نے تجھ کو اپنی سلطانی کا جبہ پہنا دیا ہے تاکہ اس کے ذریعہ قوت کا مل ہوجائے کام میں تو ایک عظیم لشکر ہے میری لشکروں میں سے میں نے تجھ کو اپنی مخلوق میں سے ایک کمزور تین مخلوق کی طرف بھیجا ہے جو اکڑ گیا ہے میری نعمت سے اور امن میں ہوگیا ہے میری تدبر سے اور دنیا نے ان کو دھوکا دیا یہاں تک کہ اس نے میرے حق کا انکار کیا اور میری ربوبیت کا انکار کیا اور میرے علاوہ کو شمار کیا انہوں نے گمان کیا کہ وہ مجھ کو نہیں پہچانتا ہے اور میں اپنی عزت کی قسم کھاتا ہوں اگر عذر اور حجت نہ ہوتی جو میری مخلوق کے درمیان رکھ دی گئی تو میں ایک جابر پکڑنے والے کی طرح پکڑتا زبردست پکڑنا اللہ تعالیٰ کے ناراض ہونے کہ وجہ سے آسمان زمین پہاڑ اور سمندر سب ناراض ہوجاتے اگر میں آسمان زمین پہاڑ اور سمندر سب ناراض ہوجاتے ہیں اگر میں آسمان کو حکم دوں تو وہ ان پر کنکریاں برسائے اور اگر حکم دوں زمین کو کہ وہ اس کو نگل لے اور اگر حکم دوں سمندروں کو تو وہ اس کو غرق کردے اور اگر حکم دوں پہاڑوں کو تو وہ اسے تباہ و برباد کردیں لیکن یہ مجھ پر آسان ہے اور میری نگاہ کرم سے گر چکا ہے اور میرا حلم اس سے وسیع ہے اور میں بےنیاز ہوں اس چیز کے ساتھ جو میرے پاس ہے اور میرا یہ حق ہے کہ میں غنی ہوں میرے علاوہ کوئی غنی نہیں سو تم اس کو میرا یہ پیغام پہنچا دو اور اس کو بلاؤ میری عبادت کی طرف اور میری توحید کی طرف اور میرے نام کے اخلاص کی طرف اور اسے میری آیات سے نصیحت کرو اور اس کو ڈراؤ میرے انتقام سے اور میری سزا سے اور اس کو بتاؤ کوئی چیز نہیں ٹھہر سکتی میرے غضب کے سامنے (آیت) ” فقل لھم قولا میسورا “ اور اس سے نرم لہجہ میں بات کرو شاید وہ نصیحت حاصل کرے (آیت) ” او یخشی “ یا ڈر جائے اور اس کو بتاؤ بلاشبہ میرا عفو اور مغفرت سبقت لے جانے والے ہیں میرے غضب اور عقوبت سے اور مجھے خوف میں نہ ڈالے جو میں نے اسے پہنا رکھا ہے دنیا کے لباس میں سے کیونکہ اس کی پیشانی میرے ہاتھ میں ہے اس کی حرکت اس کا بولنا اس کا سانس لینا سب میرے اذن سے ہے اس سے کہو کہ وہ قبول کرے اپنے رب کی بات کو کیونکہ وہ وسیع المغفرت والا ہے کیونکہ میں نے تجھ کو مہلت دی ہے چار سو (400) سال تک اور تو ہر وقت اسے جنگ کی مبارزت دیتا ہے تو اس کی مثل ہونے کا دعوی کرتا رہا اور اس کے بندوں کو اس کے راستے سے روکتا رہا پھر بھی وہ بارش برساتا ہے آسمان سے اور تیرے لئے زمین سے اناج اگاتا رہا تو نہ بیمار ہوا اس سارے عرصہ میں اور نہ تو بوڑھا ہوا اور نہ تو محتاج ہوا اور نہ تجھے مغلوب کیا گیا اور اگر (اللہ تعالیٰ ) چاہتا تو وہ سب کچھ کرسکتا تھا اور تجھ سے ساری نعمتیں سلب کرسکتا تھا لیکن وہ بردباری کرنے والا ہے اور بڑے حلم والا ہے خوب کوشش کرو خود بھی اور اپنے بھائیوں کے ذریعے اور تم دونوں اس سے جہاد کے پابند ہو اگر میں چاہتا کہ میں تمہارے پاس ایسے لشکر لاتا کہ جن کا مقابلہ نہ ہوسکتا تو میں ایسا کرسکتا تھا لیکن میں نے ایسا نہیں کیا تاکہ ضعیف بندہ جس کو اپنی ذات اور ہر نعمت کی کثرت نے مغرور بنادیا ہے جان لے کہ چھوٹا سا گروہ میرے اذن سے بڑے گروہ پر غالب آجاتا ہے اور وہ میری طرف سے کوئی چھوٹا گروہ نہیں ہے اور تم کو اس کی زیب وزینت خوش نہ لگے اور نہ وہ چیزیں خوش لگیں کہ جن کے ذریعہ ہمنے ان کو نفع دیا اور تمہاری آنکھ اس کے مال وزر کی طرف نہ اٹھیں کیونکہ یہ دنیا کی زندگی کی رونق ہے اور عیش پرستوں کی زینت ہے اگر میں چاہتا تو تم کو بھی دنیا کی زینت سے مزین کردوں جسے فرعون بھی دیکھ کر جان لیتا جو تم کو دولت بخشی گئی ہے اور وہ اس سے عاجز ہے اس کی مثل سے جو میں نے تم کو دیا اگر میں چاہوں تو ایسا کردوں لیکن میں تم کو دنیا کی زیب وزینت سے دور رکھنا چاہتا ہوں اور اسی طرح میں کرتا ہوں اپنے دوستوں کے ساتھ اور میں نے بڑھ رہا ہے جو کچھ میں نے ان کے لئے جمع کر رکھا ہے اس میں سے میں اپنے دوستوں کو دور رکھنا چاہتا ہوں دنیا کی ان نعمتوں اور خوشحالیوں سے جسے بکریاں چرانے والا شفیق ہوتا ہے اپنی بکریوں پر اور دور رکھتا ہے ان کو ہلاکت کی جگہوں سے اور میں ان کو شکوہ اور غنیمتوں سے دور رکھتا ہوں جیسے شفیق چرواہے اپنی اونٹوں کو بچاتا ہے خطرناک جگہوں پر بیٹھنے سے اور یہ سب چیزیں عطا کرنا میرے لئے کوئی مشکل نہیں ہے لیکن یہ سب کچھ اس لئے ہے تاکہ وہ میری عزت اور کرامت کو مکمل طور پر حاصل کرلیں اور اسے دنیا اور خواہش دھوکا نہ دے اور تو جان لے کہ میری طرف بندے مزین نہیں ہوتے (دنیا کی) زینت کے ساتھ میرے ہاں دنیا سے عدم دلچپسی اس سے بہتر ہے کیونکہ متقین کا لباس وہ ہے جس کے ذریعہ پہچانے جاتے ہیں سکینت سے اور خشوع سے (جس کو فرمایا) (آیت) ” سیماھم فی وجوھھم من اثر السجود “ (یعنی ان کی نشانی ان کے چہروں میں سجدوں کے اثر سے ہوتی ہے) یہ لوگ میرے دوست ہیں سچے جب تو ان سے ملے تو ان کے لئے نرمی سے جھک جا اور ان کے لئے اپنے د ل کو اور اپنی زبان کو نرم کردے اور جو جان لے کہ جس نے میرے ولی کی اھانت کی یا اس کو ڈرایا تو تحقیق اس نے میرے ساتھ جنگ کی وہ میرے سامنے خود آیا اور اس نے اپنی جان کو کچلنے کے لئے مجھے دعوت دی اور میں اپنے دوستوں کی مدد کی طرف زیادہ جلدی کرنے والا ہوں دنیا میں اور آخرت میں اپنے دوستوں کے لئے بدلہ لینے والا ہوں دنیا میں اور آخرت میں اپنے دوستوں کی مدد کسی غیر کے سپرد نہیں کرتا۔ راوی نے کہا کہ موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے پاس اس شہر میں گئے کہ اس کے اردگرد اس نے جنگل کے شیر باندھ رکھے تھے اور ان شیروں کی کیفیت یہ تھی کہ جس پر وہ چھوڑے جاتے تھے اسے کھاجاتے تھے شہر کے اس جنگل میں چاردروازے تھے موسیٰ (علیہ السلام) بڑے راستے سے فرعون کے پاس گئے فرعون نے دیکھا ہوا تھا جب شیروں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھا تو لومڑیوں کی طرح چیخنے لگے جو منتظم تھے وہ سب یہ عجیب کیفیت دیکھ کر بھاگ گئے اور موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کی طرف متوجہ ہوئے یہاں تک کہ اس دروازہ تک پہنچ گئے جس میں فرعون تھا اور اس کو اپنی لاٹھی سے کھٹکھٹایا اور وہ ایک اونی جبہ اور شلوار پہنے ہوئے تھے جب چوکیدار نے ان کو دیکھا تو آپ کی جرأت سے اسے بہت تعجب ہوا اور اس نے آپ کو اجازت نہ دی (اندر جانے کی) اور اس نے کہا کیا تو جانتا ہے کہ تو نے کس دروازہ کو کھٹکھٹایا ہے تو نے اپنے سردار کے دروازہ کو کھٹکھٹایا ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا تو میں اور فرعون سب میرے رب کے غلام ہیں اور میں اس کی مدد کرنے والا ہوں اس چوکیدار نے دوسرے چوکیداروں کو موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں بتایا سب کو خبر پہنچ گئی اور فرعون سے پہلے ستر نگران تھے ان میں سے ہر ایک چوکیدار کے نیچے حسب ضرورت لشکر تھا یہاں تک کہ یہ خبر فرعون تک پہنچ گئی تو اس نے کہا اس کو میرے پاس لے آؤ جب موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے پاس آئے تو فرعون نے کہا کیا تو مجھے جانتا ہے ؟ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا ہاں (پھر اس نے کہا) (آیت) ” الم نربک فینا ولیدا “ ( الشعر آیت 18) (کیا ہم نے اپنے پاس بچپن میں تجھ کو پالا نہ تھا) موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو دو بدو جواب دیئے فرعون نے کہا اس کو پکڑ لو موسیٰ (علیہ السلام) نے جلدی سے اپنی لاٹھی کو نیچے ڈالا تو وہ بڑا اژدہا بن گیا (اسی کو فرمایا) (آیت) ” فالقی عصاہ فاذاھی ثعبان مبین “ وہ اژدھا چڑھ دوڑا لوگوں پر تو لوگ اس سے بھاگ گئے ان میں سے پچیس ہزار آدمی مرگئے ان کے بعض نے بعض کو مار ڈالا اور فرعون بھی بھاگ کر اپنے گھر میں داخل ہوگیا اس نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا (آیت) ” فاجعل بیننا وبینک موعدا “ ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کردو ہم اس کا انتظار کریں گے موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا مجھے اس کا حکم نہیں دیا گیا اور مجھے تو تیرے ساتھ مقابلہ کرنے کا حکم دیا گیا اگر تو میرے پاس نہیں آئے گا تو میں تیرے پاس داخل ہوجاوں گا اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی کہ اپنے اور اس کے درمیان ایک معیاد مقرر کردو، اس سے کہو کہ وہ خود میعاد مقرر کردے فرعون نے کہا میں چالیس دن تک میعاد مقرر کرتا ہوں اس نے ایسا کردیا راوی نے کہا ڈر کی وجہ سے فرعون کی یہ حالت ہوگئی کہ وہ چالیس دنوں میں ایک مرتبہ بیت الخلاء آتا تھا اب ہر روز چالیس مرتبہ آتا تھا موسیٰ (علیہ السلام) باگھر سے باہر تشریف لائے جب آپ شیروں کے پاس سے گذرے وہ آپ کے سامنے دم دبا کر جھگ گئے اور وہ موسیٰ (علیہ السلام) کو الوداع کرنے کے لئے ان کے ساتھ چلے اور انہوں نے آپ پر کوئی حملہ نہ کیا اور نہ کسی اور اسرائیلی پر حملہ کیا۔
Ayahs 20:12–14مقدس مقام پر جوتے اتارنا :
1:۔ عبدالرزاق، فریابی، عبد بن حمید اور ابن ابی حاتم نے حضرت علی ؓ سے (آیت) ” فاخلع نعلیک “ کے بارے میں روایت کیا کہ (دونوں جوتے) مردار گدھے کے چمڑے کے بنے ہوئے تھے اس لئے فرمایا کہ ان دونوں کو اتار دو ۔
2:۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ فرماتے ہیں نماز میں جوتے اتارنے کی وجہ کیا ہے ؟ موسیٰ (علیہ السلام) اپنے جوتوں کو اتارنے کا حکم اس لئے تھا کیونکہ وہ مردار گدھے کے چمڑے سے بنے ہوئے تھے۔
3:۔ عبد بن حمید نے کعب ؓ سے (آیت) ” فاخلع نعلیک “ کے بارے میں روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے جوتے مردار گدھے کے چمڑے سے بنے ہوئے تھے پس تیرے رب نے ارادہ کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے قدم پاکیزہ جگہ کو چھولیں۔
4:۔ ابن ابی حاتم نے زھری (رح) سے (آیت) ” فاخلع نعلیک “ کے بارے میں روایت کیا کہ آپ کے جوتے گھویلوگدھے کے چمڑے کے بنے ہوئے تھے۔
5:۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے دونوں جوتے جن کے اتارنے کے لئے کہا گیا وہ خنزیر کے چمڑے کے تھے۔
6:۔ عبد بن حمید اور ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے (آیت) ” فاخلع نعلیک “ کے بارے میں روایت کیا کہ جوتے اتارنے کا حکم اس لئے دیا گیا تھا تاکہ آپ کے قدم پاکیزہ زمین کو چھولیں۔
امامت کے لئے بزرگ ہستی کو آگے بڑھانا :
7:۔ طبرانی نے علقمہ سے روایت کیا کہ ابن مسعود ابوموسی اشعری ؓ کے پاس ان کے گھر تشریف لائے نماز کا وقت ہوگیا تو ابوموسی اشعری ؓ نے فرمایا اے ابوعبدالرحمن آگے بڑھئے کیونکہ آپ عمر کے لحاظ سے بڑے ہیں اور زیادہ علم رکھنے والے ہیں عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا نہیں بلکہ آپ امامت کرائیں کیونکہ میں آپ کے پاس آپ کے گھر آیا ہوں ابوموسی اشعری ؓ آگے بڑھے اور اپنی جوتیوں کو اتاردیا جب نماز پڑھ لی تو ابن مسعود ؓ نے ان سے فرمایا آپ نے جوتیاں کیوں اتار دیں کیا آپ مقدس وادی میں تھے میں نے رسول اللہ ﷺ کو خفین اور نعلین میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔
8:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” انک بالواد المقدس “ کے بارے میں فرمایا کہ المقدس سے مراد ہے مبارک طوی یہ وادی کا نام ہے۔
9:۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” انک بالواد المقدس “ سے مراد ہے پاکیزہ۔
10:۔ ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے کیا کہ (آیت) ” انک بالواد المقدس “ سے مراد فلسطین کی وادی جو دو مرتبہ پاک کی گئی۔
11:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” انک بالواد المقدس “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ارض مقدس ہے اور اس کو طوی کہنے کی وجہ یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) اس وادی سے رات کو گذرے وہ لپیٹ دی گئی کہا گیا کہ اس طرح اور اسی طرح وادی لپیٹ دی گئی اور لپیٹنا رات کو ہوا اور پھر اس کو بلند کیا وادی کے اگلے حصے کی طرف اور یہ اللہ کے نبی موسیٰ (علیہ السلام) تھے (جن کے لئے زمین کو لیپٹ دیا گیا)
12:۔ ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” انک بالواد المقدس “ میں المقدس سے مراد برکتوں والی۔ طوی ایک وادی کا نام ہے۔
13:۔ ابن ابی حاتم نے مبشر بن عبید (رح) سے روایت کیا کہ طوی بغیر نون کے ہے ایلہ کی ایک وادی ہے اور یہ خیال کیا گیا کہ اس کو برکت کے ساتھ دو مرتبہ لپیٹ دیا گیا۔
14:۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ طوی یعنی طا ایک وادی ہے۔
15:۔ عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن ابی تجیح (رح) سے روایت کیا کہ طوی یعنی زمین کو ننگے پاوں طے کر جیسے تو کعبہ میں ننگے پاوں داخل ہوتا ہے اور فرمایا یہ بر کہ الوادی سے مشتق ہے یہ قول سعید بن جبیر ؓ کا ہے۔ اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ طوی وادی کا نام ہے۔
16:۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” انک بالواد المقدس “ یعنی وہ وادی جس کو دو مرتبہ پاک کیا گیا اور اس کا نام طوی ہے۔
17:۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے طوی، طا کے رفع کے ساتھ اور اس کے آخر میں تنوین پڑھتے تھے۔
18۔ ابوالشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنت کے دروازے پر لکھا ہوا ہے بلاشبہ میں اللہ ہوں میرے سوا کوئی معبود نہیں اس کلمہ کو کہنے والے کو میں عذاب نہیں دوں گا۔
حضرت عمر ؓ کا قبول اسلام :
19:۔ ابن سعد، ابویعلی، حاکم اور بیہقی نے دلائل میں انس ؓ سے روایت کیا کہ حضرت عمر ؓ تلوار لٹکائے ہوئے نکلے بنوزہرہ کے ایک آدمی سے ملاقات ہوئی اس نے پوچھا صبح سویرے کہاں جارہے ہو ؟ کہنے لگے میں ارادہ رکھتا ہوں محمد ﷺ کو قتل کردوں، اس آدمی نے کہا تم بنو ہاشم اور بنو زہرہ سے کیسے امن میں رہوگے ؟ عمر ؓ نے اس سے کہا میں تو تجھے بھی دیکھ رہا ہوں کہ تو اپنا دین چھوڑ چکا ہے اس آدمی نے کہا کیا میں تجھ کو اس سے بھی عجیب بات نہ بتاوں کہ تیری بہن اور تیرے بہنوئی بھی دین چھوڑ چکے ہیں، حضرت عمر ؓ چنگھاڑتے ہوئے ان کے پاسآئے خباب ؓ بیٹھے تھے جب خباب ؓ نے عمر ؓ کی آہٹ کو سنا تو گھر میں چھپ گئے عمر ؓ اندر داخل ہوئے اور پوچھا میں تمہارے پاس سے آواز سن رہا تھا وہ سورة طہ کی آیات پڑھ رہے تھے انہوں نے کہا تم بات کرو جو کرنا چاہتے ہو عمر ؓ نے فرمایا کہ تم دونوں اپنے دین سے پھرگئے ہو ان کے بہنوئی نے کہا اے عمر ! تیرے دین کے علاوہ (دوسرے دین میں) حق ہو عمر ؓ پنے بہنوئی پر ٹوٹ پڑے اور اس کو سخت روندا ان کی بہن اپنے شوہر کو چھڑانے کے لئے آئیں تو حضرت عمر ؓ نے دھکا دے کر اس کا چہرہ زخمی کردیا تو اس کا پھر عمر ؓ نے فرمایا مجھے وہ کتاب ددو جو تمہارے پاس ہے اور اس کو تم پڑھ رہے تھے اس کی بہن نے کہا تو ناپاک ہے (آیت) ” لا یمسہ الا المطھرون “ (یعنی اس کو پاکیزہ لوگ ہی ہاتھ لگا سکتے ہیں۔ کھڑے ہوجائیے اور وضو کیجئے وہ کھڑے ہوئے اور وضو کیا پھر انہوں نے کتاب کو لیا اور پڑنے لگے طہ سے لے کر (آیت) اننی انا اللہ لا الہ الا انا فاعبدنی واقم الصلوۃ لذکری “ تک (پھڑنے کے بعد) عمر ؓ نے فرمایا مجھے محمد ﷺ کے پاس لئے جاؤ جب خباب ؓ نے عمر ؓ کی یہ بات سنی تو کمرے سے نکل آئے اور کہا اے عمر ! خوشخبری ہو میں امید رکھتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے جو خمیس کی رات تیرے لئے د عا کی تھی وہ پوری ہوگئی اے اللہ اسلام کو عزت دے عمر بن خطاب یا عمر بن ہشام سے، عمر ؓ (بہنوئی کے) گھر سے نکلے یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کے پاسآگئے اور مسلمان ہوگئے۔
20:۔ ابونعیم نے حلیہ میں علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ ہم کو رسول اللہ ﷺ نے جبرائیل (علیہ السلام) کے واسطہ سے بتایا کہ اللہ عزوجل نے فرمایا (آیت) اننی انا اللہ لا الہ الا انا فاعبدنی “ تم میں سے کوئی شخص میرے پاس لا الہ الا اللہ کی گواہی اخلاص کے ساتھ دیتا ہوا آئے گا وہ میرے قلعہ میں داخل ہوجائے گا اور جو شخص میرے قلعہ میں داخل ہوگا وہ میرے عذاب سے امن رہے گا۔
21:۔ ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے (آیت) ” واقم الصلوۃ لذکری “ کے بارے میں روایت کیا کہ جب بندہ نے نماز پڑھی تو اس نے اپنے رب کا ذکر کیا۔
22:۔ عبد بن حمید نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واقم الصلوۃ لذکری “ یعنی جب تو میرا ذکر کرے (تو نماز پڑھ ) ۔
23:۔ احمد، عبد بن حمید، بخاری مسلم، ابوداود اور ابن مردویہ نے ا نس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب کوئی تم میں سے نماز کے وقت میں سوجائے یا اس سے غافل ہوجائے تو وہ اس کو پڑھ لے جب اس کو یاد آجائے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” واقم الصلوۃ لذکری “
24:۔ ترمذی ابن ماجہ ابن منذر ابن ابی حاتم ابن حبان اور ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ خیبر سے واپس آرہے تھے تو رات کو سفر تھا یہاں تک کہ صحابہ کرام کو نیند آگئی تو آپ نے اونٹ کو بٹھایا اور آرام کے لئے اتر گئے پھر فرمایا اے بلال تو رات کو ہمارے اوپر پہرہ دے فرمایا پہلے تو بلال نماز پڑھتے رہے کجاوے کے ساتھ ٹھیک لگا کر بیٹھ گئے منہ مشرق کی طرف کرلیا انکونیند آگئی اور سو گئے صحابہ کرام ؓ میں سے کوئی نہ جاگا یہاں تک کہ سورج کی کرنیں ان پر پڑیں اور سب سے پہلے نبی کریم ﷺ جاگے اور فرمایا اے بلال ! بلال نے عرض کیا آپ ﷺ پر میرے ماں باپ قربان ہوں میری جان کو اس ذات نے پکڑے رکھا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہاں سے کوچ کرو پھر آگئے جاکر اونٹ کو بٹھایا اور وضو فرمایا اور نماز قائم کی پھر رسول اللہ ﷺ نے ٹھہر ٹھہر کر نماز پڑھائی جس طرح نماز کے و قت میں پڑھتے تھے پھر فرمایا جو شخص نماز بھول جائے جب اس کو یاد آئے تو پڑھ لے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” واقم الصلوۃ لذکری “ ابن شہاب اس کو (آیت) ” لذکری “ پڑھتے تھے۔
25:۔ طبرانی اور ابن مردویہ نے عبادہ بن صامت ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جو نماز سے غافل ہوگیا ہو یہاں تک کہ سورج طلوع ہوگیا یا غروب ہوگیا اس کا کفارہ کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی طرف تقرب حاصل کرے اچھی طرح وضو کرے اور اچھی طرح نماز پڑھے اور اللہ تعالیٰ سے استغفار کرے تو اس کا یہی کفارہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت) ” واقم الصلوۃ لذکری “
26:۔ سعید بن منصور اور ابن منذر نے سمرہ بن یحی (رح) سے روایت کیا کہ میں عشاء کی نماز کو بھول گیا یہاں تک کہ صبح ہوگئی میں صبح کو ابن عباس ؓ کے پاس گیا اور میں نے ان کو بتایا تو انہوں نے فرمایا کھڑا ہوجا اور نماز پڑھ پھر یہ (آیت) ” واقم الصلوۃ لذکری “
27:۔ عبد بن حمید نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب تو نماز کو بھول جائے تو اس کو قضا کرلے جب تجھ کو یاد آجائے۔
28:۔ ابن ابی شیبہ نے شعبی اور ابراہیم رحمہما اللہ سے (آیت) ” واقم الصلوۃ لذکری “ کے بارے میں روایت کیا کہ جب تو بھول جائے تو جب یاد آجائے پڑھ لے۔
29:۔ ابن ابی شیبہ نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ جو شخص نماز کے وقت میں سوجائے یا اس کو بھول جائے تو جب اس کو یاد آجائے نماز پڑھ لے سورج کی طلوع ہونے کے وقت یا اس کے غروب ہونے کے وقت پھر یہ (آیت) ” واقم الصلوۃ لذکری “ پڑھی جب تجھے یاد آجائے تو نماز پڑھ لے جو وقت بھی ہو۔
30:۔ ابن ابی شیبہ نے عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حدیبیہ سے واپس آرہے تھے تو ہم ایک ریتیلی زمین پر اترے (اوردھا سے مراد ہے ریت) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کون ہمارا پہرہ دے گا بلال ؓ نے فرمایا میں پہرہ دوں گا سب لوگ سوگئے یہاں تک کہ ان پر سورج طلوع ہوگیا نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم ایسا کرو جیسے تم پہلے کرتے تھے اسی طرح جو شخص سوجائے یا بھول جائے اس کے لئے یہی حکم ہے۔
31:۔ ابن شیبہ نے ا بو جحیفہ (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ایک سفر میں تھے کہ جب میں سب صحابہ سوگئے یہاں تک کہ سورج طلوع ہوگیا پھر فرمایا کہ تم سب مردہ تھے پھر اللہ تعالیٰ نے تم پر تمہاری روحوں کو لوٹا دیا جو شخص نماز کے وقت سوجائے یا بھول جائے تو اس کو چاہئے کہ وہ اس کو پڑھ لے جب اس کو یاد آجائے اور جب وہ جاگ جائے تو (اسی وقت نماز پڑھ لے )
Ayahs 20:15–241:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” ان الساعۃ اتیۃ اکاد اخفیھا “ سے مراد ہے کہ میں اس کو (یعنی قیامت کے دن کو) کسی پر ظاہر نہیں کروں گا اپنے علاوہ۔
قیامت کی گھڑی مخفی ہے :
2:۔ سعید بن منصور، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” ان الساعۃ اتیۃ اکاد اخفیھا “ کے بارے میں روایت کیا کہ میں اس کو اپنی ذات سے بھی پوشیدہ رکھا۔
3:۔ عبد بن حمید، اور ابن انباری نے مصاحف میں مجاہدرحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اکاد اخفیھا “ کہ میں نے اس کو اپنی ذات سے بھی پوشیدہ رکھا۔
4:۔ ابن ابی حاتم اور ابن انباری نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ان الساعۃ اتیۃ اکاد اخفیھا من نفسی “ پڑھا پھر فرماتے ہیں کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی ذات سے یہ بات کبھی بھی چھپی ہوئی نہیں ہے۔
5:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آسمانوں اور زمین والوں میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہے کہ جس سے اللہ تعالیٰ نے قیامت کا علم نہ چھپایا ہو اور یہ ابن مسعود ؓ کی قرأت میں ہے (آیت) ” اکاد اخفیھا من نفسی “ یعنی میں اپنی ذات سے بھی چھپائے رکھتا پھر فرماتے ہیں میں قیامت کے علم کو مخلوق سے چھپائے رکھتا یہاں تک کہ اگر میں اس کا علم اپنے آپ سے چھپا سکتا تو بھی میں ایسا کردیتا۔
6:۔ عبدالرزاق، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ بعض قرأتوں میں (آیت) ” اکاد اخفیھا من نفسی “ ہے یعنی میں اس کو پوشیدہ رکھوں اپنی ذات سے بھی پھر فرمایا میری عمر کی قسم اللہ تعالیٰ نے اس کو پوشیدہ رکھا مقرب فرشتوں سے انبیاء اور رسولوں سے۔
7:۔ عبد بن حمید نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اکاد اخفیھا “ یعنی وہ اس کو چھپاتا ہے اپنی ذات سے۔
8:۔ ابن ابی حاتم اور ابن انباری نے ورقاء (رح) سے روایت کیا کہ مجھے سعید بن جبیر ؓ نے اس طرح پڑھایا (آیت) ” اکاد اخفیھا “ میں الف کے نصب اور فاء کی زیر کے ساتھ فرماتے ہیں کہ میں اس کو ظاہر کروں گا پھر فرمایا کیا تو نے شاعر کا یہ قول نہیں سنا :
دأت شھرین ثم أدمیکا ما دمیکین بخفیان عمیرا :
9:۔ ابن انباری نے فراء (رح) سے روایت کیا کہ ابی بن کعب ؓ کی قرأت میں (آیت) ” اکاد اخفیھا من نفسی فکیف اطلعکم علیکم “ میں نے اپنے آپ سے پوشیدہ رکھتا ہوں تو تم کو اس سے کیسے مطلع کردوں۔
10:۔ عبد بن حمید اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے (آیت) ” لتجزی کل نفس بما تسعی “ کے بارے میں کیا کہ اس سے مراد ہے تاکہ ہر شخص کو اپنے عمل کا ثواب دیا جائے۔
11:۔ ابن ابی حاتم نے شعبی اور ابن شبرمہ (رح) سے روایت کیا کہ خواہش کو ھوی اس لئے کہتے ہیں کیونکہ وہ انسان کو آگ میں گرا دیتی ہے۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی لاٹھی :
12:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کی لاٹھی کے بارے میں فرمایا کہ ان کو فرشتوں میں سے ایک فرشتے نے عطا کی تھی جب وہ مدین کی طرف جارہے تھے وہ رات کو روشنی دیتی تھی اور وہ اس کو زمین پر مارتے تھے تو سبزہ اگ آتا تھا اور اس کے ساتھ اپنی بکریوں کے لئے درخت کے پتے جھاڑتے تھے۔
13:۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ھی عصای، اتوکوا علیھا “ یعنی جب آپ بکریوں کے ساتھ چلتے تھے تو اس پر سہارا لیتے تھے۔
14:۔ ابن ابی شیبہ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے (آیت) ” واھش بھا علی غنمی “ کے بارے میں روایت کیا کہ میں اس کو درخت پر مارتا ہوں تو اس سے میری بکریوں کے لیے پتے گرتے ہیں۔
15:۔ ابن ابی حاتم نے عمرو بن میمون (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واھش بھا علی غنمی “ میں ” واھش “ سے مراد ہے کہ آدمی کا اپنی لاٹھی سے درخت کے پتے جھاڑنا پھر پتوں کا گرپڑنا۔
16:۔ ابن ابی حاتم نے عمر و بن میمون (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الھش “ سے مراد ہے کہ لاٹھی کو دو شاخوں کے درمیان رکھ کر اس کو حرکت دینا تاکہ پتے گرپڑیں اور خبط سے مراد ہے پتے جھاڑنا کہ وہ پتے جھاڑتا ہے تاکہ پتے گرپڑیں۔
17:۔ ابن ابی حاتم نے مالک بن انس ؓ روایت کیا کہ ” الھش “ یہ ہے کہ کوئی آدمی کنڈی کو رکھ دے ٹہنی میں پھر اس کو حرکت دے یہاں تک کہ اس کے پتے اور اس کا پھل گرجائے اور لکڑی کو توڑنا نہیں ہوتا یہ ” ھش “ ہے اور خبط نہیں ہے۔
18۔ عبدالرزاق، عبد بن حمید اور ابن منذر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” واھش بھا علی غنمی “ یعنی میں اس کے ساتھ پتے جھاڑتا ہوں (آیت) ” ولی فیھا مارب اخری “ یعنی میری اس میں دوسری ضروریات بھی ہیں۔
19:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولی فیھا مارب اخری “ یعنی ضروریات۔
20:۔ ابن ابی شیبہ، عبدبن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” مارب اخری “ حاجتیں اور منافع۔
21:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” مارب اخری “ سے مراد ہیں دوسری ضرورتیں میں اس پر اٹھاتا ہوں زاد راہ کا تھیلا اومشکیزہ۔
22:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے (آیت) ” ولی فیھا مارب اخری “ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ لاٹھی آپ کے لئے رات کو روشنی دیتی تھی اور یہ آدم (علیہ السلام) کی لاٹھی تھی۔
23:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” فالقھا فاذاھی حیۃ تسعی “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ لاٹھی اس سے پہلے سانپ نہیں تھی پھر سانپ بن گئی وہ کسی درخت سے گذرتا تو اسے کھا جاتا کسی چٹان سے گذرتا تو اس کو نگل جاتا موسیٰ (علیہ السلام) سنتے تھے یہ وہ چٹان گرگئی ہے اس کے پیٹ میں ” ولی مدبرا “ (النمل آیت : 10) (تو پیٹھ پھیر کر بھاگے) آواز دی گئی اے موسیٰ اس کو پکڑ لو انہوں نے اس کو نہ پکڑا پھر دوسری مرتبہ آواز دی گئی (آیت) ” خذھا ولا تخف “ (اور اس کو پکڑ لو اور نہ ڈرو) پھر تیسری مرتبہ میں یہ کہا گیا (آیت) ” انک من الامنین “ (یہ بیشک تو امن میں ہے) تو پھر موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو پکر لیا۔
24:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” سنعیدھا سیرتھا الاولی “ کے بارے میں روایت کیا کہ ہم اس کو پہلی حالت میں لوٹا دیں گے۔
25:۔ عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” سنعیدھا سیرتھا الاولی “ یعنی پہلی حالت میں اور فرمایا (آیت) ” واضمم یدک الی جناحک “ یعنی اپنی ہتھیلی کو داخل کردے اپنے بازو کے نیچے (آیت) ” تخرج بیضآء من غیر سوٓء “ تو وہ سفید نکلے گا یعنی بغیر برص کی بیماری کے۔
26:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” من غیر سوٓء “ یعنی بغیر برص کی بیماری کے۔
27:۔ ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا ہاتھ باہر نکالا تو وہ چراغ کی طرح تھا موسیٰ (علیہ السلام) نے جان لیا کہ ان کی اپنے رب سے ملاقات ہوئی ہے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” لنریک من ایتنا الکبری “