Ayahs 20:1–2( 20:1) لتشقی۔ لام تعلیل کے لئے ہے تشقی مضارع واحد مذکر حاضر شقاوۃ مصدر۔ (باب سمع) شقاوت۔ سعادت کی ضد ہے۔ اس کے معنی ہیں تکلیف میں پڑنا۔ جیسے فلا یضل ولا یشقی (20:123) نہ وہ بھٹکے گا۔ اور نہ وہ تکلیف میں پڑے گا۔ یا کمبختی جیسے ربنا غلبت علینا شقوتنا (23:106) اے ہمارے رب ہم پر ہماری کم بختی نے زور کیا۔
لتشقی۔ کہ تو مشقت میں پڑے۔ کہ تو تکلیف وتعب اٹھائے۔ اس تکلیف اور تعب کی دو صورتیں ہیں۔
ایک تو آپ کا کافروں کے ردوانکار پر حزن وملال۔ دوم۔ راتوں کو آپ کا قرأت قرآن میں طویل قیام یہاں تک کہ قدم مبارک متورم ہوجاتے ۔ پہلی صورت میں آیت کا مطلب ہوگا :۔
کہ کفار کے راہ حق کو تسلیم نہ کرنے پر اس قدر کبیدہ خاطر نہ ہوں کہ زندگی دوبھر ہوجائے آپ کا کام تذکیروہ تبلیغ ہے اور جگہ ارشاد ربانی ہے فلعلک باخع نفسک علی اثارہم ان لم یؤمنوا بھذا الحدیث اسفا (18:6) شاید آپ ان کے (اعراض کے پیچھے) غم سے اپنی جان دے دیں گے۔
دوسری صورت میں یہ کہ۔ اپنے آپ پر اتنی سختی کی ضرورت نہیں بلکہ آسانی سے جتنا پڑھ سکیں اتنا کافی ہے۔ جیسے ارشاد ہے فاقرء وا ما تیسر من القران (173:20) سو تم لوگ جتنا قرآن آسانی سے پڑھا جاسکے پڑھ لیا کرو۔
Ayah 20:3(20:3) الا۔ حرف استثنائ۔ تذکرۃ۔ مستثنیٰ منقطع (بدیں وجہ منصوب) ای ما انزلنہ لشقائک لکن تذکیرا۔ یعنی ہم نے قرآن کو تمہاری مشقت کے لئے نہیں بلکہ نصیحت وموعظت کے لئے اتارا تھا۔
لمن یخشی۔ اس کے لئے جو (اپنے رب سے) ڈرتا ہے جیسا کہ اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے انما انت منذر من یخشھا (79: 45) آپ تو صرف اسی کو ڈرا سکتے ہیں جو اس سے خوف رکھتا ہو۔
Ayah 20:4(20:4) تنزیلا۔ نزل ینزل کا بروزن تفعیل مصدر ہے بمعنی اتارنا۔ نازل کرنا یا بہ فعل مقدر نزل کا مفعول مطلق ہے ای نزل تنزیلا۔
العلی۔ کبری کے وزن پر العلیا (الاعلی کی تانیث ) کی جمع ہے۔ بلند، اونچا ، بلند و بالا۔ یہ سموت کی صفت ہے۔
Ayah 20:5(20:5) الرحمن۔ ای ھو الرحمن۔ استوی۔ وہ ٹھہرا۔ اس نے قصد کیا۔ اس نے قرار پکڑا۔ وہ قائم ہوا۔ وہ سنبھل گیا۔ وہ چڑھا۔ وہ سیدھا ہوا۔ استواء (استفعال) مصدر۔ استواء کے جب دو فاعل ہوں تو اس کے معنی دونوں کے مساوی اور برابر ہونے کے ہوتے ہیں۔ جیسے لا یستوی اصحب النار واصحب الجنۃ (59:20) دوزخ کے لوگ اور جنت کے لوگ برابر نہیں۔
استوی علی العرش۔ یعنی تخت حکومت پر اس طرح قابض ومتمکن ہے کہ اس کا کوئی حصہ یا کوئی گوشہ اس کے حیطہ اقتدار سے باہر نہیں اور اس کے قبضہ و تسلط میں نہ کوئی مزاحمت ہے نہ کوئی گڑ بڑ۔ سب کام و انتظام بدرجہ اتم درست ہے۔ عرش کے معنی تخت اور بلند مقام کے ہیں۔
Ayah 20:6(20:6) الثری۔ ثری خاک نمناک، گیلی مٹی۔ سیلی زمین کو کہتے ہیں۔ عام زمین کے نیچے گیلی مٹی ہے اور گیلی مٹی سے بھی نیچے سے مراد زمین کی اتھاہ گہرائیاں ہیں۔
Ayah 20:7(20:7) تجھر۔ مضارع مجزوم (بوجہ عمل ان) واحد مذکر حاضر۔ تو آواز بلند کرے یا کرتا ہے یا کرے گا۔ جہر۔ بلند آواز سے یا عیاں طور پر۔ الجھر کے معنی کسی چیز کا حاسہ سمع یا حاسہ بصر میں افراط کے سبب پوری طرح ظاہر اور نمایاں ہونے کے ہیں۔ چناچہ حاسہ بصر کے متعلق قرآن مجید میں آیا ہے لن نؤمن لک حتی نری اللہ جھرۃ (2:52) جب تک ہم خدا کو سامنے نمایاں طور پر نہ دیکھ لیں گے تم پر ایمان نہیں لائیں گے۔ اور حاسہ سمع کے متعلق آیت ہذا۔: اگر تو پکار کر بات کہے تو وہ تو چپکے سے کہی ہوئی بات کو اور اس سے زیادہ چھپی ہوئی کو بھی جانتا ہے۔
السر۔ اس بات کو کہتے ہیں جو دل میں پوشیدہ ہو یہ اعلان کی ضد ہے۔ چناچہ قرآن مجید میں ہے سرا وعلانیۃ (2:474) پوشیدہ اور ظاہر۔ اخفی۔ خفاء سے افعل التفضیل کا صیغہ ہے زیادہ پوشیدہ ۔ یعنی وہ جس کا علم مجھ کو بھی نہ ہو۔
Ayahs 20:8–9(20:8) الاسماء الحسنی۔ موصوف وصفت۔ اچھے اچھے نام۔
Ayah 20:10(20:10) امکثوا۔ مکث یمکث مکث (باب نصر) سے فعل امر جمع مذکر حاضر تم ٹھہرو۔ تم ٹھہرے رہو۔ انست۔ ماضی واحد متکلم۔ انس مادہ۔ انس یؤنس ایناس (افعال) انوس کرنا۔ انس الشیٔ کسی چیز کو دیکھنا۔ انست میں نے دیکھی ہے۔ انس (سمع) انس (کرم) انس (ضرب) انسا۔ مانوس ہونا۔ اسی سے انس محبت۔ مونس۔ انس دینے والا۔
لعلی۔ لعل حرف مشبہ بالفعل ی ضمیر واحد متکلم۔ شاید میں۔ قبس۔ القبس۔ آگ کا شعلہ۔ یا اس کی چنگاری جو شعلہ سے لی جائے۔ القبس (ضرب) مصدر۔ قبس منہ النار آگ کو بصورت شعلہ لینا۔ قبس العلم علم سے فائدہ اٹھانا۔ اقتبس (باب افتعال) علم و ہدایت سے فائدہ اٹھانا۔ علم حاصل کرنا۔ نیز اس کے معنی بڑی آگ سے کچھ آگ لینے کے ہیں۔ جیسے قرآن مجید میں ہے انظرونا نقتبس من نورکم۔ (57:13) ہماری طرف نظر شفقت کیجئے کہ ہم بھی تمہارے نور سے روشنی حاصل کرلیں لعلی اتیکم منھا بقبس۔ شاید میں اس آگ میں کوئی چنگاری تمہارے لئے لے آئوں۔
علی النار۔ ای عند النار۔ آگ کے پاس۔ ھدی۔ یہ اسم بھی ہے اور مصدر بھی ھدی یھدی کا۔ بطور اسم بمعنی الھادی ہے۔ ہدایت دینے والا۔ راہنمائی کرنے والا۔ راستہ بتانے والا۔
Ayah 20:11(20:11) نودی۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب نداء مصدر۔ اس کو پکارا گیا۔ اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے اذا نودی للصلوۃ من یوم الجمعۃ (62:9) جب جمعہ کے دن نماز کے لئے پکارا جائے۔
Ayah 20:12(20:12) فاخلع۔ خلع (باب فتح) سے فعل امر واحد مذکر حاضر۔ پس تو اتار ڈال ۔ نعلیک۔ تیرے دونوں جوتے۔ اپنے دونوں جوتے۔ نعلین تثنیہ منصوب۔ مضاف ک ضمیر واحد مذکر حاضر مضاف الیہ تثنیہ کا نون بوجہ اضافت کے گرگیا۔ طوی۔ طوی ایک وادی کا نام ہے۔
Ayahs 20:13–14(20:13) اخترتک۔ ماضی واحد متکلم اختیار (افتعال) مصدر ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ میں نے تجھے منتخب کرلیا ہے۔
فاستمع۔ پس خوب (کان لگا کر) سن۔ استماع افتعال فعل امر واحد مذکر حاضر الاستماع کے معنی غور سے سننے کے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے ومنہم من یستمعون الیک (10:42) اور ان میں بعض ایسے ہیں جو تمہاری طرف کان لگاتے ہیں۔
لما۔ میں لام کا تعلق یا اخترتک سے ہے کہ جو وحی کیا جاتا ہے اس کے لئے میں نے تمہیں منتخب کیا ہے یا اس کا تعلق استمع سے ہے کہ جو وحی کیا جاتا ہے اسے خوب دھیان سے سنو۔ یوحی۔ مضارع مجہول واحد مذکر غائب۔ ایحاء (افعال) مصدر۔ وحی مادہ وحی کی جاتی ہے۔
Ayah 20:15(20:15) اکاد اخفیھا۔ اکاد۔ کاد یکاد کود سے مضارع واحد متکلم واحد متکلم کا صیغہ ہے یہ افعال مقاربہ میں سے ہے کسی فعل کے قریب الوقوع ہونے کو بیاں کرنے کے لئے آتا ہے۔ یہاں بمعنی ارید میں ارادہ رکھتا ہوں ۔ میں چاہتا ہوں کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اخفی مضارع واحد متکلم اخفی یخفی اخفاء (افعال) مصدر سے ہے ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب الساعۃ کے لئے ہے۔ اخفیھا۔ میں اس کو مخفی رکھنا چاہتا ہوں۔
لتجزی لام تعلیل کے لئے ہے تجزی مضارع مجہول واحد مؤنث غائب تاکہ اس کو جزا دی جائے تاکہ اسے بدلہ دیا جائے ضمیر کا مرجع کل نفس ہے۔ لتجزی کل نفس بما تسعی۔ تاکہ ہر شخص کو اس کی کوشش کا بدلہ مل جائے ۔ لتجزی کا تعلق اتیۃ سے ہے اکاد اخفیھا کا جملہ جملہ معترضہ ہے۔
Ayahs 20:16–17(20:16) فلا یصدنک۔ فعل نہی واحد مذکر غائب بانون ثقیلہ برائے تاکید۔ صد سے ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ پس ہرگز تجھے نہ روک دے۔ ضمیر فاعل کا مرجع من لا یؤمن بھا ہے۔ عنھا ای عن تصدیق الساعۃ قیامت کی تصدیق سے۔ ھاضمیر کا مرجع الساعۃ ہے۔ فتردی۔ میںسببیہ ہے۔ تردی مضارع واحد مذکر حاضر ردی یردی (باب سمع) ردی مصدر بمعنی ہلاک ہونا۔ فتردی ورنہ تم بھی ہلاک ہوجائو گے۔
Ayah 20:18(20:18) اتوکؤ علیھا۔ توکؤ(تفعل) مصدر ہے مضارع واحد متکلم۔ توکأ یتوکأ توکؤ ٹیک لگانا۔ علی کے صلہ کے ساتھ بمعنی (اس کے) سہارے ٹیک لگانا۔ اتوکلأ علیھا۔ میں اس (عصا) پر ٹیک لگاتا ہوں۔ اس پر سہارا لگاتا ہوں۔
الوکاء کے معنی کسی چیز کے سربند کے ہیں اور کبھی وکائ اس ظرف کو بھی کہہ دیا جاتا ہے جس میں کوئی چیز ڈال کر اس کا منہ باندھ دیا گیا ہو۔ اسی سے اوکأت فلانا جس کے معنی کسی کے لئے تکیہ لگا دینے کے ہیں توکأ علی العصا۔ اس نے عصا پر ٹیک لگائی اور اس سے قوت حاصل کی۔
اھش۔ ھش یھش ھشا۔ (باب نصر) سے مضارع واحد متکلم میں پتے جھاڑتا ہوں۔ الھش کے معنی بھی ھز کی طرح کسی چیز کو حرکت دینے کے ہیں لیکن یہ کسی نرم چیز کو حرکت دینے کے لئے بولا جاتا ہے جیسے ھش الورقدرخت سے پتے جھاڑنا۔ علی غنمی۔ اپنی بکریوں کے لئے۔ فیھا میں ھا ضمیر کا مرجع عصا ہے۔
مارب۔ ماربۃ کی جمع ہے۔ ضرورتیں۔ حاجتیں۔ ارب سخت حاجت کہ بغیر تدبیر کے پوری نہ ہوسکے۔ ارب اربۃ اربۃ ماربۃ مصدر ہیں۔ بمعنی سخت حاجتمند ہونا۔
Ayah 20:19(20:19) القھا۔ فعل امر واحد مذکر حاضر۔ تو اس کو ڈال دے۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب عصا کے لئے ہے۔ القی اس نے ڈال دیا۔ القاء مصدر۔
Ayah 20:20(20:20) حیۃ سانپ مذکر مؤنث دونوں کے لئے آتا ہے اس کی جمع حیات ہے۔ تسعی۔ سعی سے مضارع واحد مؤنث غائب وہ دوڑتی ہے۔ وہ کوشش کرتی ہے۔ فاذاھی حیۃ تسعی۔ پس اچانک وہ سانپ بن کر دوڑنے لگا۔
Ayah 20:21(20:21) سنعیدھا۔ س مستقبل قریب کے لئے ہے نعید اعادۃ (افعال) سے مضارع جمع متکلم کا صیغہ ہے۔ ہم لوٹا دیں گے۔ ہم لوٹا کر پھر کردیں گے۔ ھاکا مرجع حیۃ ہے۔ سیرتھا۔ اس کی سیرت اس کی حالت۔ مضاف مضاف الیہ۔ سنعیدھا سیرتھا الاولی۔ ہم ابھی اسے اس کی پہلی حالت کی طرف پھیر دیں گے۔
Ayah 20:22(20:22) اضمم۔ ضم یضم ضم سے فعل امر واحد مذکر حاضر کا صیغہ ہے تو ملالے الضم (نصر) دو یا دو سے زیادہ چیزوں کو باہم ملا دینا۔ واضمم یدک الی جناحک اپنے بازو کو اپنے بغل سے ملا لو۔ ضم الشیٔ الیہ۔ اپنی طرف کھینچنا۔ ضم علی الشیٔ قبضہ کرنا۔ ضمہ الی صدرہ گلے ملنا۔ معانقہ کرنا۔
جناحک۔ مضاف مضاف الیہ۔ تیرا بازو۔ تیرا پہلو۔ واضمم یدک الی جناحک اور اپنا ہاتھ اپنے پہلو سے ملا لے مجاہد نے الی بمعنی تحت لیا ہے اپنا ہاتھ اپنے بازو کے نیچے ملالو۔ جناح واحد ہے اس کی جمع اجنحۃ ہے۔ جناح پرندے کے بازو کو بھی کہتے ہیں مادہ ج ن ح سے۔ جناح جمع جنوح بمعنی گناہ ہے۔
تخرج۔ مضارع مجزوم (بوجہ جواب امر) واحد مؤنث غائب خروج سے وہ نکلے گی ضمیر فاعل کا مرجع یدک ہے عربی میں ید مؤنث ہے۔ بیضاء سفید بیاضمصدر سے صفت مشبہ واحد مؤنث اس کا مذکر ابیض اور جمع بیض ہے یہ ضمیر فاعل تخرج سے حال ہے
من غیر سوئ۔ سوئ۔ برائی۔ عیب۔ براکام۔ بغیر کسی عیب کے ۔ بغیر کسی مرض کے ۔ ایۃ اخری۔ دوسرا معجزہ یا تو ایۃ۔ بیضاء طرح ضمیرتخرج سے حال ہے اور بدیں وجہ منصوب ہے۔ یا فعل مضمر خذ کا مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔
Ayah 20:23(20:23) لنریک من ایتنا الکبری۔ لام تعلیل کا ہے تاکہ۔ اس لئے کہ۔ نریمضارع جمع متکلم کضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ من بمعنی بعض۔ ایتنا الکبری موصوف وصفت۔ ہماری بڑی بڑی نشانیاں۔ یعنی ہم نے عصا اور یدبیضاء کے معجزے اس لئے عطا کئے تاکہ اپنی بڑی بڑی نشانیوں میں سے کچھ نشانیاں آپ کو دکھائیں۔
Ayah 20:24(20:24) طغی۔ ماضی واحد مذکر غائب وہ حد سے نکل گیا۔ اس نے سرکشی کی۔ اس نے سر اٹھایا۔ طغی یطغی (فتح) اور طغی یطغی (سمع) طغیان مصدر۔ طغی الرجل ظلم و نافرمانی میں حد سے گذر گیا۔ طغی الماء پانی کا بلند ہوجانا۔ انہ طغی وہ بیحد سرکش ہوچکا ہے۔
Ayah 20:25(20:25) رب۔ ای ربی۔ اے میرے رب۔ اشرح۔ شرح مصدر سے (باب فتح) فعل امر واحد مذکر حاضر۔ تو کھول دے تو کشادہ کر دے۔ شرحت اللحم وشرحتہ کے اصل معنی گوشت (وغیرہ کے لمبے لمبے ٹکڑے کاٹ کر) پھیلانے کے ہیں اسی سے شرح صدر ہے یعنی نور الٰہی اور سکون و اطمینان کی وجہ سے سینے میں وسعت پیدا ہوجانا۔ اور جگہ ارشاد ربانی ہے الم نشرح لک صدرک (94:1) (اے محمد ﷺ ) کیا ہم نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا۔
Ayah 20:26(20:26) یسر۔ فعل امر۔ واحد مذکر حاضر تیسیر (تفعیل) مصدر تو آسان کر دے۔
Ayah 20:27(20:27) احلل۔ فعل امر واحد مذکر حاضر۔ تو کھول دے۔ حل یحل حل (نصر) بمعنی گرہ کشائی۔ عقدۃ۔ گرہ۔ لکنت۔ رکاوٹ۔ بندش۔ عقد سے جس کے معنی باندھنے کے ہیں واحلل عقدۃ من لسانی۔ اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔
Ayah 20:28(20:28) یفقھوا۔ مضارع مجزوم (بوجہ جواب امر) جمع مذکر غائب فقہ مصدر (باب سمع) کہ وہ (لوگ) سمجھ سکیں۔ مضارع منصوب بھی اسی طرح لکھا جائے گا۔
Ayahs 20:29–30(20:29) وزیرا۔ الوزر کے معنی بارگراں کے ہیں۔ اور یہ معنی وزر سے لیا گیا ہے۔ جس کے معنی پہاڑ میں جائے پناہ کے ہیں وزیر وزر سے صیغہ صفت ہے وزیروہ شخص جو امیر کا بوجھ اور اس کی ذمہ داریاں اٹھائے ہوئے ہو اور اس کے عہدہ کو وزارت کہا جاتا ہے۔ وزیر۔ معین ۔ مددگار۔
Ayahs 20:31–32(20:31) اشدد۔ شدمصدر (باب نصر، ضرب) سے فعل امر واحد مذکر حاضر تو سخت کر دے۔ تو مضبوط کر دے۔ اشدد بہ یعنی اس کے وزیر ہونے سے میری قوت کو یا میری کمر کو مضبوط کر دے۔
ازری۔ مضاف مضاف الیہ ازرکا مطلب قوت ہے نیز پشت کے اس حصہ کو کہتے ہیں جہاں ازار بند (تہ بند) باندھا جاتا ہے ۔ یعنی کمر۔ ازار بند (پنجابی۔ نالا) بھی اسی سے ہے۔ اشدد بہ ازری اس کے ذریعہ میری قوت کو مضبوط کر دے۔
Ayahs 20:33–35(20:33) کی۔ مضارع کو نصب دیتا ہے اسی وجہ سے نسبحک ونذکرک منصوب ہیں۔ تاکہ ہم خوب کثرت سے تیری پاکی بیان کریں اور تیرا ذکر کریں۔
Ayah 20:36(20:36) اوتیت۔ ایتاء (باب افعال) سے ماضی مجہول واحد مذکر حاضر۔ تجھ کو دیا گیا تجھ کو عطا کیا گیا۔ اور جگہ ارشاد ہے ولم یؤت سعۃ من المال (2:247) اور اسے مال کی فراخی نہیں دی گئی۔ قد اوتیت سؤلک۔ تمہاری درخواست منظور کی گئی۔ تمہارا سوال منظور کیا گیا یعنی جس کا تم نے سوال کیا تھا وہ تمہیں عطا کیا گیا۔
Ayah 20:37(20:37) مننا۔ من مصدر سے ماضی جمع متکلم (باب نصر) ہم نے بڑا احسان کیا۔ ہم نے بڑی نعمت دی المنۃ جمع المنن احسان۔ مہربانی۔ نعمت۔ یہ دوطرح سے ہے ایک منت بالفعل جیسے لقد من اللہ علی المؤمنین (3:164) خدا نے مومنوں پر بڑا احسان کیا ہے۔ اور اسی معنی میں آیت ہذا میں ہے۔ دوسرا معنی منت بالقول ہے جیسے لا تبطلوا صدقتکم بالمن والاذی (2:264) اپنے صدقوں کو احسان جتلا کر اور اذیت پہنچا کر باطل نہ کریں۔
مرۃ اخری۔ اور ہم نے ایک مرتبہ پہلے بھی تم پر احسان کیا تھا۔ یہاں ایک بار سے مراد شمار نہیں ہے کیونکہ قبل ازیں خداوند تعالیٰ نے صرف ایک احسان ہی نہیں فرمایا تھا بلکہ متعدد احسانات کئے جن کا ذکر آگے آرہا ہے ۔ یہاں ایک بار سے مراد یہ ہے کہ اب ہم آپ کو مانگنے پر عطا کر رہے ہیں اور اس سے قبل ہم بن مانگے ہی آپ پر احسانات کر رہے ہیں۔
مرۃ اخری سے مراد یہ مؤخر الذکر احسانات ہیں یا مرۃ اخری سے مراد یہ نئی درخواست کا قبول کرنا ہے۔ یعنی ہم نے پہلے بھی تم پر احسانات کئے ہیں اور یہ ایک بار پھر تم پر احسان کیا ہے کہ حضرت ہارون (علیہ السلام) کو نبی بنا کر تمہارے ساتھ کردیا ہے (پھر اس کے بعد گذشتہ احسانات کا ذکر ہے) ۔
Ayah 20:38(20:38) اوحینا۔ ماضی جمع متکلم۔ ہم نے وحی کی۔ ایحاء مصدر (افعال) یہاں اوحینا سے مراد الھمنا ہے یعنی ہم نے موسیٰ کی ماں کے دل میں یہ تدبیر ڈال دی۔ ما یوحی۔ جو وحی (ہی) کی جاتی ہے۔ جو الہام کرنے کی بات تھی جو الہام ہی کئے جانے کے قبل تھی۔ یوحی مضارع مجہول واحد مذکر غائب وحی کیا جاتا ہے الہام کیا جاتا ہے۔ اندرونی القاء کیا جاتا ہے۔
Ayah 20:39(20:39) ان۔ کہ یعنی ہم نے جو الہام کیا وہ یہ تھا کہ۔ اقذفیہ۔ اقذفی۔ قذف سے (باب ضرب سے) فعل امر واحد مؤنث حاضر کا صیغہ ہے۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کا مرجع حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہیں۔ اقذفی تو ڈال دے۔ تو پھینک دے۔ اقذفیہ تو اس کو ڈال دے۔ القذف (ضرب) کے معنی دور پھینکنے کے ہیں۔ قرآن مجید میں اور جگہ آیا ہے و قذف فی قلوبہم الرعب (33:26) اور اس نے ان کے دلوں میں دہشت ڈال دی۔ اور یقذفون من کل جانب دحورا (37:8) اور ہر طرف سے (ان پر انگارے) پھینکے جاتے ہیں۔ قذف بطور استعارہ عیب لگانے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔
التابوت۔ صندوق۔ فاقذ فیہ۔ اور اس کو ڈال دے۔ یہاں ہ ضمیر مفعول کا مرجع یا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہیں یا التابوت یعنی پھر تابوت کو (جس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو رکھا گیا ہے) دریا میں ڈال دے۔ الیم۔ البحر۔ مراد دریائے نیل ہے۔
یاخذہ۔ یاخذ مضارع مجزوم (بوجہ جواب امر) واحد مذکر غائب وہ اس کو لے لے گا۔ وہ اس کو پکڑ لے گا۔ ضمیر کا مرجع تابوت بھی ہوسکتا ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بھی۔ لیکن عدو لہ میں چونکہ ضمیر کا مرجع صریحاً حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے لہٰذا یاخذہ میں بھی ترجیحاً اس ضمیر کا مرجع حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہی ہیں۔
فلیلقہ۔ پس ڈال دے گا اس کو۔ پھینک دے گا اس کو۔ القاء مصدر (افعال) ۔ والقیت۔ القاء سے ماضی واحد متکلم۔ میں نے ڈالا۔ میں نے ڈال دیا۔ القی الشیٔ الی الارض۔ زمین پر پھینکنا ۔ القی الیہ السمع اس نے اس کی طرف کان لگایا یعنی اس کی بات سنی القی علی کسی پر مہربانی کرنا۔
القیت علیک محبۃ منی میں نے اپنی جناب سے تم کو محبت عطا کی۔ حضرت ابن عباس ؓ کے نزدیک اس کا مطلب ہے کہ اللہ نے اس سے محبت کی اور خلقت کے لئے حبیب بنادیا۔ ابن عطیہ کے مطابق اپنے جمال کا پر تو اس پر ڈالا کہ جو دیکھے محبت کئے بغیر نہ رہ سکے۔ حضرت قتادہ کے نزدیک : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی آنکھوں میں ایسی ملاحت تھی کہ جو بھی ان کو دیکھتا تھا محبت وعشق کے بغیر نہ رہ سکتا تھا۔
فائدہ : اقذ فیہ فی التابوت سے لے کر عدولہ تک وہ مضمون بیان ہوا جو ام موسیٰ (علیہ السلام) کو الہام کیا گیا تھا۔ اب پھر خطاب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ہے کہ ہم نے اپنی جناب سے تجھے سب کی نگاہوں میں پرکشش بنادیا کہ خود تمہارا دشمن تمہارے سامنے ہتھیار ڈال دے اور خود تمہاری پرورش پر مجبور ہوجائے۔ دیگر یہ کہ تمہاری پرورش عین ہماری آنکھوں کے سامنے ہو ۔
لتصنع۔ تصنع۔ تو تیار ہو وے۔ تو پرورش کیا جائے۔ صنع سے۔ مضارع مجہول واحد مذکر حاضر ولتصنع معطوف ہے اور اس کا عطف فعل مقدرہ پر ہے ای والقیت علیک محبۃ لتحب ولتصنع۔
علی عینی۔ میری نظروں کے سامنے عینی میں اضافت تشریف واختصاص کے لئے ہے۔ ورنہ تو اپنے عام معنی میں : دنیا کی ساری موجودات پروردگار عالم کی نگرانی میں رہتی ہیں۔
Ayah 20:40(20:40) اذ تمشی۔ یہ اذ اوحینا کا بدل ہے کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن کا (موقعہ پر) چلے جانا بھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایک احسان تھا کہ اس کے نتیجے میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی رضاعت ان کی والدہ کے سپرد ہوئی۔ اذ تمشی۔ جب وہ چلتی چلتی آگئیں۔
فتقول۔ پھر کہا۔ پھر کہتے لگی۔ یعنی جب اہل خانہ فرعون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دودھ پلانے کے لئے کسی دائی کی تلاش میں تھے۔ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کسی کا دودھ پینے کے لئے تیار نہ تھے تو ان کی بہن نے جو وہاں آگئی تھی کہا ھل ادلکم الخ۔ جیسا کہ اور جگہ ارشاد ہوا ہے وحرمنا علیہ المراضع من قبل فقالت ہل ادلکم الخ (28:12) اور ہم نے حرام کردیں اس پر ساری دودھ پلانے والیاں اس سے پہلے۔ تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن نے کہا کہ کیا میں تمہیں پتہ دوں۔۔ الخ۔
ادلکم علی۔ میں تمہاری (کسی ایسے شخص کی طرف) رہنمائی کروں۔ پتہ دوں۔ یکفلہ۔ اس کی کفالت کرے۔ اس کی پرورش کرے۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ ہُ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔ تقر۔ مضارع واحد مؤنث غائب۔ یا یہ قرۃ وقرور سے باب سمع ہے جس کے معنی خوشی کے مارے آنکھیں روشن ہوجانے اور ٹھنڈی رہنے کے ہیں۔ یا قرار سے ہے جس کے معنی قرار پکڑنے اور سکون پانے کے ہیں۔ مضارع منصوب بوجہ عمل کے کے ہے۔ ترجمہ : (تاکہ اس کی آنکھ) ٹھنڈی رہے۔
لا تحزن۔ مضارع منفی واحد مؤنث غائب۔ حزف سے (باب سمع) سے کی کی وجہ سے مضارع منصوب (تاکہ ) وہ (عورت) غمگین نہ ہو وے۔ فنجینک۔ پس ہم نے تجھے نجات دی۔ نجینا ماضی جمع متکلم۔ تنجیۃ (تفعیل) سے مصدر۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔
فتنک۔ فتنا۔ ماضی جمع متکلم (باب ضرب) ہم نے آزمائش میں ڈالا۔ ک ضمیر واحد مذکر حاضر۔ فتونا۔ مصدر۔ تاکید کے لئے لایا گیا۔ ہم نے تجھے خوب آزمائشوں میں ڈالا۔ علی قدر۔ وقت مقررہ۔ عین وقت پر۔ وقت مقدر (عمر و تربیت کے لحاط سے موزوں وقت۔ یا عمر وہ وقت جو نبوت کے لئے علم الٰہی میں مقرر تھا) ۔ جریر نے عمر بن عبدالعزیز کی مدح میں کہا ہے ؎
نال الخلافقۃ اوکانت لہ قدرا کما اتی ربہ موسٰی علی قدر