Taa-Haa 20:96

Taa-Haa · from ayah 96

20:96

قَالَ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ یَبْصُرُوْا بِهٖ فَقَبَضْتُ قَبْضَةً مِّنْ اَثَرِ الرَّسُوْلِ فَنَبَذْتُهَا وَكَذٰلِكَ سَوَّلَتْ لِیْ نَفْسِیْ ۟قَالَ بَصُرۡتُ بِمَا لَمۡ يَـبۡصُرُوۡا بِهٖ فَقَبَـضۡتُ قَبۡضَةً مِّنۡ اَثَرِ الرَّسُوۡلِ فَنَبَذۡتُهَا وَكَذٰلِكَ سَوَّلَتۡ لِىۡ نَفۡسِى

اس نے کہا کہ میں نے ایسی چیز دیکھی جو اوروں نے نہیں دیکھی تو میں نے فرشتے کے نقش پا سے (مٹی کی) ایک مٹھی بھر لی۔ پھر اس کو (بچھڑے کے قالب میں) ڈال دیا اور مجھے میرے جی نے (اس کام کو) اچھا بتایا

— Fateh Muhammad Jalandhari

He said, "I saw what they did not see, so I took a handful [of dust] from the track of the messenger and threw it, and thus did my soul entice me."

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 5 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Taa-Haa

All translations of 20:96

اس نے جواب دیا "میں نے وہ چیز دیکھی جو اِن لوگوں کو نظر نہ آئی، پس میں نے رسُول کے نقش قدم سے ایک مٹھی اٹھا لی اور اُس کو ڈال دیا میرے نفس نے مجھے کچھ ایسا ہی سجھایا"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اس نے کہا کہ میں نے ایسی چیز دیکھی جو اوروں نے نہیں دیکھی تو میں نے فرشتے کے نقش پا سے (مٹی کی) ایک مٹھی بھر لی۔ پھر اس کو (بچھڑے کے قالب میں) ڈال دیا اور مجھے میرے جی نے (اس کام کو) اچھا بتایا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اس نے جواب دیا کہ مجھے وه چیز دکھائی دی جو انہیں دکھائی نہیں دی، تو میں نے فرستادہٴ الٰہی کے نقش قدم سے ایک مٹھی بھر لی اسے اس میں ڈال دیا اسی طرح میرے دل نے یہ بات میرے لئے بھلی بنا دی

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ بولا : میں نے ایک ایسی چیز دیکھ لی تھی جو دوسروں کو نظر نہیں آئی تھی۔ اس لیے میں نے رسول کے نقش قدم سے ایک مٹھی اٹھالی، اور اسے (بچھڑے پر) ڈال دیا۔ اور میرے دل نے مجھے کچھ ایسا ہی سمجھایا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بولا میں نے وہ دیکھا جو لوگوں نے نہ دیکھا تو ایک مٹھی بھر لی فرشتے کے نشان سے پھر اسے ڈال دیا اور میرے جی کو یہی بھلا لگا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اس نے کہا: میں نے وہ چیز دیکھی جو ان لوگوں نے نہیں دیکھی تھی سو میں نے اُس فرستادہ (فرشتے) کے نقش قدم سے (جو آپ کے پاس آیا تھا) ایک مٹھی (مٹی کی) بھر لی پھر میں نے اسے (بچھڑے کے قالب میں) ڈال دیا اور اسی طرح میرے نفس نے مجھے (یہ بات) بھلی کر دکھائی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس نے کہا میں نے وہ چیز دیکھی جو ان لوگوں نے نہیں دیکھی، سو میں نے رسول کے پاؤں کے نشان سے ایک مٹھی اٹھالی، پھر میں نے وہ ڈال دی اور میرے دل نے اسی طرح کرنا میرے لیے خوشنما بنادیا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

سامری نے کہا : میں نے وہ چیز دیکھی جو دوسروں کو نظر نہ آئی۔ چناچہ میں نے رسول کے نقش قدم سے ایک مٹھی اٹھا لی۔ پھر اسے (بچھڑے کے جسم میں) ڈال دیا۔ میرے نفس نے مجھے ایسا ہی سمجھایا تھا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس نے جواب دیا مجھے وہ چیز نظر آئی جو اوروں کو نظر نہیں آئی تو میں نے فرستادے کے نقش قدم سے ایک مٹھی اٹھائی اور وہ اس میں ڈال دی اور اس طرح میرے نفس نے مجھے سمجھایا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تو اس نے کہا کہ میں نے وہ کچھ دیکھا جو ان لوگوں کو نظر نہ آسکا، پس میں نے ایک مٹھی اٹھا لی رسول کے نقش قدم سے پھر میں نے اسے ڈال دیا، اور میرے نفس نے مجھے یہی سجھاؤ دیاف

— مولانا اسحاق مدنی

وہ بولا مجھے ایسی چیز نظر آئی جو اوروں کو نظر نہ آئی تھی سو میں نے (اس) فرستادہ (خداوندی) کے نقش قدم سے ایک مٹھی (خاک) اٹھالی تھی میں نے وہ (مٹی اسی قالب کے اندر) ڈال دی تھی۔۔ اور میرے جی کو تو یہی بات بھائی تھی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اس نے کہا کہ میں نے (ایک ایسی چیز) دیکھی تھی جو انہوں نے نہیں دیکھی تو میں نے لے لی ایک مٹھیّ (مٹی کی) رسول کے نقش پا سے تو وہ میں نے (اس میں) پھینک دی اور اسی طرح میرے نفس نے یہ راستہ مجھے بتایا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اس نے کہا کہ میں نے ایسی چیز دیکھی جو اوروں نے نہیں دیکھی تو میں نے فرشتے کے قدم سے ایک مٹھی مٹی کی بھر لی، پھر اس کو اس (بچھڑے کے) بت میں ڈال دیا اور مجھے میرے دل نے اس کام کو اچھا بتایا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

He answered: "I saw what the people did not see. So I took a handful of dust from the trail of the Messenger, and I flung it (into the fire). Thus did my mind prompt me."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He said, :I perceived something they did not perceive. So I picked up a handful from under the footstep of the messenger. Then, I cast it. And thus my inner self tempted me.

— Muhammad Taqi Usmani

He said, :I perceived something they did not perceive. So I picked up a handful from under the footstep of the messenger. Then, I cast it. And thus my inner self tempted me.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

(Samiri) said: "I saw what they saw not, so I took a (Qabdah) handful (of dust) from the (hoof) print of the messenger and threw it. Thus my inner self suggested to me."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He said: I perceived what they perceive not, so I seized a handful from the footsteps of the messenger, and then threw it in. Thus my soul commended to me.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

He said, "I saw what they did not see, so I took a handful [of dust] from the track of the messenger and threw it, and thus did my soul entice me."

— Saheeh International

He replied, "I had the skill (of carving) which they did not have. I followed some of the Messengers's (Moses) tradition, but I then ignored it. Thus, my soul prompted me (to carve a golden calf with an artificial hollow sound).

— Muhammad Sarwar

He said: I saw (Jibreel) what they did not see, so I took a handful (of the dust) from the footsteps of the messenger, then I threw it in the casting; thus did my soul commend to me

— Muhammad Habib Shakir

He said: l saw that which they saw not; so I seized a handful from the footstep of the messenger, and then cast it; Thus my soul embellished the affair to me.

— Abdul Majid Daryabadi

He replied: "I saw what they saw not: so I took a handful (of dust) from the footprint of the Messenger, and threw it (into the calf): thus did my soul suggest to me."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 20:96

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 95–98

گائے پرست سامری اور بچھڑا۔ حضرت موسیٰ ؑ نے سامری سے پوچھا کہ تو نے یہ فتنہ کیوں اٹھایا ؟ یہ شخص باجروکا رہنے والا تھا اس کی قوم گائے پرست تھی۔ اس کے دل میں گائے محبت گھر کئے ہوئے تھی۔ اس نے بنی اسرائیل کے ساتھ اپنے ایمان کا اظہار کیا تھا۔ اس کا نام موسیٰ بن ظفر تھا ایک روایت میں ہے یہ کرمانی تھا۔ ایک روایت میں ہے اس کی بستی کا نام سامرا تھا اس نے جواب دیا کہ جب فرعون کی ہلاکت کے لئے حضرت جبرائیل ؑ آئے تو میں نے ان کے گھوڑے کے ٹاپ تلے سے تھوڑی سی مٹی اٹھا لی۔ اکثر مفسرین کے نزدیک مشہور بات یہی ہے حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ حضرت جبرائیل ؑ آئے اور حضرت موسیٰ ؑ کو لے کر چڑھنے لگے تو سامری نے دیکھ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 95–96

سورة طٰهٰ 73 اس آیت کی تفسیر میں دو گروہوں کی طرف سے عجیب کھینچ تان کی گئی ہے۔ ایک گروہ جس میں قدیم طرز کے مفسرین کی بڑی اکثریت شامل ہے، اس کا یہ مطلب بیان کرتا ہے کہ " سامری نے رسول یعنی حضرت جبریل کو گزرتے ہوئے دیکھ لیا تھا، اور ان کے نقش قدم سے ایک مٹھی بھر مٹی اٹھا لی تھی، اور یہ اسی مٹی کی کرامت تھی کہ جب اسے بچھڑے کے بت پر ڈالا گیا تو اس میں زندگی پیدا ہوگئی اور جیتے جاگتے بچھڑے کی سی آواز نکلنے لگی۔ " حالانکہ قرآن یہ نہیں کہہ رہا ہے فی الواقع ایسا ہوا تھا۔ وہ صرف یہ کہہ رہا ہے کہ حضرت موسیٰ کی باز پرس کے جواب میں سامری نے یہ بات بنائی۔ پھر ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ مفسرین اس کو ایک…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

معارف و مسائل بَصُرْتُ بِمَا لَمْ يَبْصُرُوْا بِهٖ ، (یعنی وہ چیز دیکھی جو دوسروں نے نہیں دیکھی) اس سے مراد جبرئیل امین ہیں اور ان کے دیکھنے کے واقعہ میں ایک روایت تو یہ ہے کہ جس وقت حضرت موسیٰ ؑ کے اعجاز سے دریائے قلزم میں خشک راستے بن گئے اور بنی اسرائیل ان راستوں سے گزر گئے اور فرعونی لشکر دریا میں داخل ہو رہا تھا تو جبرئیل امین گھوڑے پر سوار یہاں موجود تھے دوسری روایت یہ ہے کہ دریا سے پار ہونے کے بعد حضرت موسیٰ ؑ کو طور پر آنے کی دعوت دینے کے لئے جبرئیل امین گھوڑے پر سوار تشریف لائے تھے ان کو سامری نے دیکھ لیا دوسرے لوگوں کو معلوم نہ ہوسکا اس کی وجہ حضرت ابن عباس کی ایک روایت میں یہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

سامری کا ڈھونگ سامری نے جب دیکھا کہ اب وہ حضرت موسیٰ کی گرفت میں آچکا ہے تو اس نے نہایت ہوشیاری کے ساتھ ایک بات بنائی جس میں اس نے ایک طرف تو اپنے تو اپنے اس فعل کے لئے ایک وجہ بھی بیان کرنے کی کوشش کی اور ساتھ ہی اس امر کا اعتراف بھی کرلیا کہ اب مجھ پر یہ بات واضح ہوگئی کہ یہ جو کچھ بھی میں نے سمجھا تھا یہ محض فریب نفس تھا اور میں غلط فہمی کے سبب سے فنس کے فریب کو ایک حقیقت سمجھ بیٹھا۔ بات تو اس نے یہ بنائی کہ مجھے ایک کشفی مشاہدہ ہوا جو صرف مجھی کو ہوا دوسروں کو نہیں ہوا۔ وہ سر کہ میں نے دیکھا کہ حضرت جبرئیل آئے ہیں اور میں نے ان کے نقش قدم (یا ان کے گھوڑے کے نقش قدم) سے ایک مٹھی خاک اٹھالی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 95–96

96۔ 1 مطلب یہ بیان کیا ہے کہ جبرائیل ؑ کے گھوڑے کو گزرتے ہوئے سامری نے دیکھا اور اس کے قدموں کے نیچے کی مٹی اس نے سنبھال رکھ لی، جس میں کچھ کرامات کے اثرات تھے۔ اس مٹی کی مٹھی اس نے پگھلے ہوئے زیورات یا بچھڑے میں ڈالی تو اس میں سے ایک قسم کی آواز نکلنی شروع ہوگئی جو ان کے فتنے کا باعث بن گئی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

40: رسول سے مراد حضرت جبرئیل ؑ ہیں جو حضرت موسیٰ ؑ کے لشکر کے ساتھ تھے۔ عام طور سے مفسرین نے اس کی تفسیر یہ کی ہے کہ حضرت جبرئیل ؑ انسانی شکل میں ایک گھوڑے پر سوار تھے، اور سامری نے دیکھا کہ گھوڑے کا پاؤں جس جگہ پڑتا، وہاں زندگی کی کچھ آثار پیدا ہوجاتے تھے۔ سامری نے سمجھا کہ اس مٹی میں جو زندگی کے آثار پیدا ہورہے ہیں، ان سے یہ کام بھی لیا جاسکتا ہے کہ کسی بےجان چیز پر ڈالنے سے اس میں زندگی کے کچھ خصوصیات پیدا ہوجائیں، چنانچہ اس نے ایک مٹھی اس مٹی کی لے کر بچھڑے پر ڈال دی جس سے آواز نکلنے لگی۔ لیکن بعض مفسرین مثلاً حضرت مولانا حقانی نے تفسیر حقانی جلد 3 ص 272، 273 میں فرمایا ہے کہ یہ سامری کی…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

سامری کے اس جواب کی تفسیر میں کئی اقوال و روایات وارد ہیں۔ اس نے کیا چیز دیکھ لی جو اوروں نے نہ دیکھی ؟ وہ رسول کون تھے جس کے نقش قدم سے انہوں نے مٹھی لی اور پھینک دی ؟ پھر اس فعل کا بچھڑا سازی سے کیا تعلق ہے ؟ بچھڑے میں اس مٹی نے کیا اثرات کیے ؟ ان روایات میں سے بیشتر میں یہ بات ہے کہ سامری نے جبرئیل (علیہ السلام) کو اس شکل میں دیکھا جس میں وہ زمین پر اترتے ہیں ان کے قدموں کے نیچے سے اس نے خاک اٹھا لی۔ یا اس کے گھوڑے کے قدموں کے نیچے سے خاک اٹھا لی اور اسے سونے سے بنائے ہوئے بچھڑے پر ڈالا اور اس سے آواز آنے لگی۔ یا اس مٹی نے سونے کے ڈھیر سے بچھڑا بنا دیا۔ قرآن کریم نے یہاں اس حقیقت واقعہ کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 سامری نے کہا کہ مجھ کو ایک ایسی چیز نظر پڑی جو اوروں نے نہیں دیکھی تھی۔ یعنی خدا کے بھیجے ہوئے فرشتہ (جبرائیل) کو گھوڑے پر سوار دیکھا۔ شاید یہ اس وقت ہوا ہو جب بنی اسرائیل دریا میں گھسے اور پیچھے پیچھے فرعون کا لشکر گھسا اس حالت میں جبرائیل دونوں جماعتوں کے درمیان میں کھڑے ہوگئے تاکہ ایک کو دوسرے سے ملنے نہ دیں۔ بہرحال سامری نے کسی محسوس دلیل سے یا وجدان سے یا کسی قسم کے تعارف سابق کی بناء پر سمجھ لیا کہ یہ جبرائیل ہیں ان کے پاؤں یا ان کے گھوڑے کے پاؤں کے نیچے سے مٹھی بھر مٹی اٹھالی۔ وہ ہی اب سونے کے بچھڑے میں ڈال دی۔ کیونکہ اس کے جی میں یہ بات آئی کہ روح القدس کی خاک پا میں یقینا کوئی خاص…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

وَکَذٰلِکَ سَوَّلَتْ لِیْ نَفْسِیْ ” رسول سے مراد یہاں حضرت جبرائیل علیہ السلام ہیں۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام کہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئے تھے تو سامری نے انہیں دیکھ لیا۔ سامری چونکہ راہب تھا ‘ وہ روحانی اور نفسیاتی نوعیت کے مجاہدے بھی کرتا رہتا تھا۔ اس لیے حضرت جبرائیل کسی اور کو تو نظر نہ آئے مگر اسے نظر آگئے۔ زمین پر جہاں آپ علیہ السلام کا قدم پڑ رہا تھا وہاں سے اس نے کچھ مٹی اٹھا لی۔ یہی مٹی اس نے اس بھٹی میں ڈال دی جس میں وہ بچھڑا تیار کرنے کے لیے زیورات کو پگھلا رہا تھا۔ یوں حضرت روح الامین علیہ السلام کے قدموں کی مٹی کی تاثیر سے اس بچھڑے سے وہ آواز آنے لگی۔ یہ گویا اس معاملے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

66 سیدنا موسیٰ اپنی قوم سے پھر اپنے بھائی ہارون سے مخاطب ہونے کے بعد اب سامری سے مخاطب ہوئے اور پوچھا : بتلاؤ سامری ! یہ کیا معاملہ ہے ؟ واضح رہے کہ قرآن نے یہاں خطب کا لفظ استعمال کیا ہے جو کسی ناگوار صورت حال کو دریافت کرنے کے لئے آتا ہے۔ نیز یہ سامری اگرچہ بظاہر سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آیا تھا۔ مگر وہ ایک منافق اور فتنہ پرداز اور ہوشیار انسان تھا جو کفر و شرک کو اپنے دل میں چھپائے ہوئے تھا۔ وہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی کھل کر مخالفت تو کر نہ سکتا تھا مگر اس تاک میں رہتا تھا کہ کوئی موقع ملے تو قوم کو پھر سے اپنے آبائی دین یعنی گؤسالہ پرستی کی طرف لے جائے۔ سیدنا موسیٰ (علیہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

112۔ (جس کے اثر سے اس بچھڑے کے بےجان قالب سے وہ بےمعنی آواز نکلنے لگی) (آیت) ’ ’ من اثرالرسول “۔ سے مراد من اثر فرس الرسول ہے اور مضاف محذوف ہے۔ کماعلیہ اکثر المفسرین (روح) اور رسول سے مراد باتفاق مفسرین حضرت جبرئیل ہیں، اور یہی تفسیر تابعین و صحابہ سے بھی مروی ہے۔ ھو الماثور عند الصحابۃ والتابعین ؓ وینبعھم جل اجلۃ المفسرین (روح) اختلاف صرف ایک ابومسلم اصفہانی سے منقول ہے، ان کے اقوال تفسیر کبیر میں درج ملیں گے، بعض اہل باطل بھی بڑے مرتاض ہوتے ہیں۔ اور ریاضتوں سے کشف حاصل ہوجاتا ہے اسی طرح کا یہ شخص سامری معلوم ہوتا ہے۔ روایتوں میں آتا ہے کہ اس نے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کو گھوڑے پر سوار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 90–104

آیت نمبر 90 تا 104 ترجمہ : اور ہارون (علیہ السلام) نے ان سے پہلے یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کے واپس آنے سے پہلے کہہ دیا تھا اے میری قوم تم اس گوسالہ کی وجہ سے آزمائش میں مبتلا کر دئے گئے ہو اور بلاشبہ تمہارا رب تو رحمٰن ہے لہٰذا تم اس کی عبادت کرنے میں میری اتباع کرو اور عبادت کے معاملہ میں میری بات مانو ان لوگوں نے جواب دیا ہم تو اسی پر جمے رہیں گے یعنی اسی کی عبادت پر قائم رہیں گے موسیٰ کے ہمارے پاس واپس آنے تک موسیٰ (علیہ السلام) نے واپسی کے بعد فرمایا اے ہارون جب تم نے ان کو دیکھا کہ یہ گمراہ ہوگئے بچھڑے کی عبادت کی وجہ سے تو میرے پاس چلے آنے سے کیا امر مانع ہوا ؟ اَلاَّ تَتَّبِعَنّ میں لا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قال بصرت بما لم یبصروا بہ فقبضیت قبضۃ من اثر الرسول فنبذتہا وکذلک سولت لی نفسی۔ اس نے کہا مجھے ایسی چیز نظر آئی تھی جو اوروں کو نظر نہیں آئی تھی پھر میں نے اس فرستادۂ (خداوندی کی سواری) کے نقش قدم سے ایک مٹھی بھر (خاک) اٹھا لی تھی پس میں نے وہ مٹھی (خاک) (اس قالب کے اندر) ڈال دی اور میرے جی کو یہی بات پسند آئی۔ قَبْضَۃٌایک بار قبضہ کرنا اس سے مراد وہ شے بھی ہوتی ہے جو مٹھی میں لے لی جائے یہاں ایک مٹھی خاک مراد ہے۔ اثر الرسول (مضاف محذوف ہے) یعنی فرستادۂ (خداوندی) کے گھوڑے کے نقش قدم سے۔ فَنَبَذْتُہَا میں نے وہ خاک (بچھڑے کے قالب میں) ڈال دی۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ سامری نے وہ خاک حضرت جبرئیل…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 95–96

(95۔ 96) اس کے بعد حضرت موسیٰ ؑ سامری کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا سامری یہ تو نے بچھڑے کی پوجا کیوں کی، سامری کہنے لگا کہ مجھے ایسی چیز نظر آئی تھی جو بنی اسرائیل کو نہیں آئی، حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا ان کے بغیر تجھے ایسی کیا چیز نظر آئی، وہ کہنے لگا کہ میں حضرت جبریل امین ؑ کو گھوڑے پر سوار دیکھا تھا اور وہ دابۃ الحیاۃ تھا، تو میں نے حضرت جبریل امین ؑ کے گھوڑے کے نقش قدم سے ایک مٹھی بھر خاک اٹھالی تو میں نے اس خاک کو اس بچھڑے کے منہ اور اس کی سرین میں ڈال دی جس کی وجہ سے اس کے منہ سے یہ آواز نکلنے لگی اور میری جی کو یہی بات بھائی ،

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالَ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ يَبْصُرُوْا بِهٖ۔۔ : میں نے اس آیت کی تفسیر کے لیے بہت زیادہ تفاسیر کا مطالعہ کیا، کئی اہل علم سے بھی پوچھا، جو کچھ تفاسیر میں لکھا ہے، میں وہ نقل کرتا ہوں۔ حافظ ابن کثیر ؓ فرماتے ہیں : ”بَصُرْتُ بِمَا لَمْ يَبْصُرُوْا بِهٖ“ (میں نے وہ چیز دیکھی جو ان لوگوں نے نہیں دیکھی) یعنی میں نے جبریل ؑ کو دیکھا، جب وہ فرعون کو ہلاک کرنے کے لیے آئے تو ”فَقَبَضْتُ قَبْضَةً مِّنْ اَثَرِ الرَّسُوْلِ“ (سو میں نے رسول کے پاؤں کے نشان سے ایک مٹھی اٹھا لی) یعنی جبریل ؑ کی گھوڑی کے پاؤں کے نشان سے۔ یہی بات بہت سے مفسرین یا زیادہ تر مفسرین کے ہاں مشہور ہے۔“ (ابن کثیر) جیسا کہ حافظ ابن…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 94–96

(تفسیر 94-97) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یبنوم لا تاخذ ببلحیتی ولا ببراسی، حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : دائیں ہاتھ سے سر کے بال پکڑے اور بائیں ہاتھ سے داڑھی کو پکڑا۔ کیونکہ اللہ کی رضا کے لیے غیرت ان پر غالب آچکی تھی یعنی ایسا نہ کرو کہ لوگ خیال کریں گے کہ یہ آپ کی طرف سے استخفاف اور سزا ہے۔ بعض علماء نے کہا : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ بغیر استخفاف اور عقوبت کے کیا تھا جیسا کہ انسان اپنی داڑھی کو پکڑ لیتا ہے۔ یہ واقعہ سورة اعراف میں تفصیلاً گزر چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی مراد کو بہتر جانتا ہے۔ انی خشیت ان تقول فرقت بین بنی اسرآء یل یعنی مجھے اندیش ہے کہ میں نکلوں گا اور انہیں چھوڑ جائوں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 77–97

1:۔ سعید بن منصور ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) فاضرب لہم طریقا فیا لبحر یبسا “ سے مراد ہے اپنا عصا مارا اپنا راستہ بنا لوجس پر پانی اور مٹی نہ ہو۔ 2:۔ عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ کہ (آیت) ” طریقا فیا لبحر یبسا “ یعنی خشک راستہ۔ 3:۔ ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھیوں نے کہا کہ فرعون آرہا ہے تم تو پکڑے گئے اور یہ دریا ہم کو گھیرے ہوئے ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری (آیت) ” لا تخف درکا ولا تخشی “ (یعنی تم خوف نہ کرو) غرق ہونے کا اور نہ کیچڑ میں دھنس جانے کا۔ 4:۔ ابن منذر اور…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قَالَ : اس نے کہا ] [بَصُرْتُ : میں نے دیکھا ] [بِمَا : اس کو ] [لَمْ يَبْصُرُوْا : ان لوگوں نے نہیں دیکھا ] [بِهٖ : جس کو ] [فَقَبَضْتُ : تو میں نے پکڑا ] [قَبْضَةً : ایک مٹھی بھر ] [مِّنْ اَثَرِ الرَّسُوْلِ : فرشتے کے نقش قدم سے ] [فَنَبَذْتُهَا : پھر میں نے پھینک دیا اس کو ] [وَكَذٰلِكَ : اور اس طرح ] [سَوَّلَتْ : خوشنما بنا کر پیش کیا ] [لِيْ : میرے لئے ] [نَفْسِيْ : میرے جی نے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 95–98

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا سامری سے خطاب، اس کے لیے بددعا کرنا اور اس کے بنائے ہوئے معبود کو جلا کر سمندر میں بکھیر دینا حضرت ہارون (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کے خطاب اور عتاب سے فارغ ہو کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سامری کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا تیرا کیا حال ہے یہ حرکت تو نے کیوں کی کس طرح سے کی ؟ اس پر اس نے جواب دیا کہ میں نے وہ چیز دیکھی جو دوسرے لوگوں کو نظر نہ آئی، میں نے اس میں سے ایک مٹھی اٹھالی اور جو مٹھی بھری تھی وہ اس مجسمہ میں ڈال دی جو میں نے چاندی سونے سے بنایا تھا علماء تفسیر نے لکھا ہے کہ سامری بھی بنی اسرائیل میں سے تھا اور ایک قول یہ ہے کہ ان میں سے نہیں تھا بلکہ قوم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 83–98

موسیٰ (علیہ السلام) کی کوہ طور سے واپسی اور گوسالہ پرستی کا واقعہ قال اللہ تعالیٰ وما اعجلک عن قومک یموسی .... الیٰ .... وسع کل شیء علما۔ القصہ جب فرعون غرق ہوگیا۔ تو بنی اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ استدعا کی کہ ہمارے لیے کوئی دستور ہدایت اور قانون شریعت چاہئے کہ ہم اس پر چلیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس بارے میں حق تعالیٰ سے درخواست کی، حق تعالیٰ نے توریت عطا کرنے کا وعدہ فرمایا کہ ہم تم کو ایسی کتاب عطا کریں گے۔ جس میں احکام شریعت جمع ہوں گے اور یہ حکم۔ یا کہ ستر علماء اپنے ہمراہ لے کر کوہ طور پر آئیں تاکہ وہ اس کرامت کا جلوہ دیکھیں۔ چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی جگہ پر تو ہارون…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

69:۔ یہ سامری کا جواب ہے۔ سامری نے کہا کہ مجھ کو ایک ایسی چیز نظر پڑی جو اوروں نے نہیں دیکھی تھی۔ یعنی خدا کے بھیجے ہوئے فرشتہ (جبریل) کو گھوڑے پر سوار دیکھا۔ شاید یہ اسی وقت ہوا ہو جب بنی اسرائیل دریا میں گھسے اور پیچھے پیچھے فرعون کا لشکر گھسا اس حالت میں جبرئیل دونوں جماعتوں کے درمیان کھڑے ہوگئے تاکہ ایک کو دوسرے سے ملنے نہ دیں۔ بہرحال سامری نے کسی محسوس دلیل سے یا وجدان سے یا کسی قسم کے تعارف سابق کی بنا پر سمجھ لیا کہ یہ جبرئیل ہیں ان کے پاؤں یا ان کے گھوڑے کے پاؤں کے نیچے سے مٹھی بھر مٹی اٹھا لی وہ ہی اب سونے کے بچھڑے کے منہ میں ڈال دی۔ کیونکہ اس کے جی میں یہ بات آئی کہ روح القدس کی خاک…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 95–98

ربط آیات : موسیٰ (علیہ السلام) کتاب لے کر کوہ طور سے واپس آئے تو قوم کو شرک میں مبتلا دیکھ کر سخت برہم ہوئے۔ پہلے اپنے بھائی کو سرزنش کی لیکن بعد میں پتہ چلا کہ وہ تو بےقصور ہیں۔ انہوں نے تو افہام و تفہیم کی پوری کوشش کی تھی مگر قوم نہ مانی اور الٹا ان کے قتل کے درپے ہوئے۔ ہارون (علیہ السلام) نے یہ مناسب نہ سمجھا کہ ایمان والوں کو ساتھ لے کر باقی قوم سے الگ ہوجائیں اور کوہ طور کی طرف چل دیں۔ انہیں خطرہ تھا کہ جماعت میں ایسا تفرقہ پیدا ہوجائے گا جس کی اصلاح ناممکن ہوجائے گی۔ بہرحال جب موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے بھائی کی بےگناہی کا علم ہوا تو انہوں نے اپنے اور بھائی کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ يَبْصُرُوْا بِہٖ فَقَبَضْتُ قَبْضَۃً مِّنْ اَثَرِ الرَّسُوْلِ فَنَبَذْتُہَا وَكَذٰلِكَ سَوَّلَتْ لِيْ نَفْسِيْ۝ 96 بصر البَصَر يقال للجارحة الناظرة، نحو قوله تعالی: كَلَمْحِ الْبَصَرِ [ النحل/ 77] ، ووَ إِذْ زاغَتِ الْأَبْصارُ [ الأحزاب/ 10] ( ب ص ر) البصر کے معنی آنکھ کے ہیں جیسے فرمایا ؛کلمح البصر (54 ۔ 50) آنکھ کے جھپکنے کی طرح ۔ وَ إِذْ زاغَتِ الْأَبْصارُ [ الأحزاب/ 10] اور جب آنگھیں پھر گئیں ۔ نیز قوت بینائی کو بصر کہہ لیتے ہیں اور دل کی بینائی پر بصرہ اور بصیرت دونوں لفظ بولے جاتے ہیں قرآن میں ہے :۔ فَكَشَفْنا عَنْكَ غِطاءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيدٌ [ ق/…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 90–96

تفسیر : اور موسیٰ سب سے آگے تنہا خدا کے پاس آئے جس پر خدا نے پوچھا وما اعجلک عن قومک یا موسیٰ اور خدا تعالیٰ کے پاس کوہ طور پر موسیٰ چالیس دن رات رہے ( سفر خروج 24۔ باب) اتنی دیر لگنے سے بنی اسرائیل نے غل مچا دیا کہ موسیٰ کہاں گئے۔ کسی نے کہا مرگئے۔ کسی نے کچھ کہا، اس میں ایک شخص نے کہ جس کا نام سامری تھا لوگوں سے کہا کہ آؤ میں تمہارا معبود دکھائوں کہ جو تمہیں مصر سے نکال لایا ہے۔ تم میرے پاس سونے کا زیور لاؤ چناچہ وہ اس کے پاس لائے اس نے اس کو ڈھال کر ایک بچھڑا بنا دیا اور اس میں ایک ایسا رستہ ہوا کے آنے جانے کا رکھا کہ جس سے گائے بیل کی آواز جیسی آواز پیدا ہوتی تھی۔ یہ دیکھ کر بنی اسرائیل…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 95–96

قَالَ فَمَا خَطْبُکَ یٰسَامِرِیُّ ۔ قَالَ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ یَبْصُرُوْا بِہٖ فَـقَبَضْتُ قَبْضَۃً مِّنْ اَثَرِالرَّسُوْلِ فَـنَبَذْتُھَا وَکَذٰلِکَ سَوَّلَتْ لِیْ نَفْسِیْ ۔ (طٰـہٰ : 96) اے سامری ! (اس فتنہ انگیزی) سے تیری غرض کیا تھی ؟ اس نے کہا میں نے وہ چیز دیکھی جو لوگوں نے نہ دیکھی تو میں نے رسول کے نقش قدم سے ایک مٹھی اٹھائی اور پھر اس کو ڈال دیا اور اس طرح میرے نفس نے آراستہ کردی میرے لیے یہ بات (اور اسی طرح میرے نفس نے مجھے سجھایا) اس آیت کی تفسیر میں مفسرین کا اختلاف اس آیت کے مفہوم میں علماء تفسیر میں خاصا اضطراب پایا جاتا ہے۔ ہمارے قدیم مفسرینِ کرام کی اکثریت یہ کہتی ہے کہ سامری…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 95–96

فہم القرآن ربط کلام : حضرت ہارون (علیہ السلام) سے وضاحت طلب کرنے کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کا سامری کو مخاطب کرنا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یقین ہوگیا کہ یہ سامری نے جرم کیا ہے۔ انھوں نے بڑے جلال میں آکر سامری سے استفسار فرمایا کہ اے سامری ! تو نے بنی اسرائیل کو کیوں گمراہ کیا ؟ سامری نے کہا میں نے ایک ایسی چیز دیکھی جسے لوگ نہ دیکھ پائے۔ میں نے وہاں سے ایک مٹھی بھر مٹی اٹھائی اور اسے پگھلے ہوئے زیورات میں ڈال کر بچھڑا بنایا اور یہ سب کچھ میرے اپنے دل و دماغ کا کیا دھرا ہے۔ سامری کے الفاظ اور انداز سے معلو ہوتا ہے کہ اس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے جلال سے ڈر کر اس بات کا اعتراف کیا کہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

96: قَالَ بَصُرْتُ بِمَالَمْ یَبْصُرُوْا بِہٖ (اس نے کہا مجھے ایسی چیز نظر آئی تھی جو دوسروں کو نظر نہ آئی تھی) قراءت : حمزہ و علی نے تبصروا تاءؔ سے پڑھا ہے۔ قول زجاج (رح) بصر کا معنی عَلِمَ اور اَبْصَرَکا معنی نظر آتا ہے۔ یعنی مجھے اس چیز کا علم تھا جس کا بنی اسرائیل کو علم نہ تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا وہ کیا بات تھی ؟ اس نے کہا میں نے جبرئیل (علیہ السلام) کو زندگی کے گھوڑے پر سوار دیکھا میرے دل میں یہ بات آئی کہ میں اس کے نشان راہ سے مٹھی بھر خاک لے لوں۔ جس چیز میں میں وہ مٹی ڈالوں گا اس میں روح، گوشت، خون پیدا ہوجائے گا۔ فَقَبَضْتُ قَبْضَۃً (پھر میں نے ایک مٹھی بھر اٹھالی تھی)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

96۔ قال بصرت بمالم یبصرو بہ، ، میں نے ایسی چیز دیکھی جو اوروں نے نہیں دیکھی اور میں وہ چیز پہچانی جو اوروں نے نہیں پہچانی ، حمزہ اور کسائی نے ، مالم تبصرو، ، تاء کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے خبر ہونے کی وجہ سے ، فقبضت قبضۃ من اثرالرسو، ، وہ فرستادہ خداوندی کے گھوڑے کے نقش قدم سے، فنبذتھا، اور اس کو بچھڑے کے منہ میں ڈال دیا۔ بعض حضرات نے کہا کہ سامری نے وہ خاک حضرت جبرائیل کے گھوڑے کی ٹاپوں کے نیچے سے اٹھائی تھی کیونکہ اس کی پیدائش اسی سال ہوئی تھی جس سال بنی اسرائیل کے نوزائیدہ بچے قتل کیے جارہے تھے۔ سامری کی ماں نے اس کو لے جاکر ایک غار میں رکھ دیا تھا۔ اللہ نے اس کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 95–98

95۔ 98:۔ بنی اسرائیل اور ہارون (علیہ السلام) پر خفا ہونے کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) نے سامری سے جو خفگی کی باتیں کی تھیں ان آیتوں میں ان کا ذکر ہے حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے سامری سے پوجھا تو نے یہ بچھڑا بنانے کا فساد کیوں پھیلایا سامری نے جواب دیا کہ فرعون کے ڈوبنے کے وقت جبرئیل (علیہ السلام) جب گھوڑی پر سوار ہو آئے تو بنی اسرائیل میں سے کسی نے ان کو نہیں دیکھا مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے انہیں مجھے دکھا دیا اور میرے دل میں یہ بات سمائی کہ میں نے ان کے گھوڑی کے قدم کے نیچے کی مٹی میں سے ایک مٹھی مٹی اٹھا لی اور جب میں نے زیور کا بچھڑا بنایا تو میرے دل میں یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 94–96

آیات (94) یعنی بچھڑے کو معبود بنانے میں وہ معذور نہیں تھا۔ اگر وہ بچھڑے کی عبادت کے بارے میں کسی شبہ میں مبتلا ہوگئے تھے تو ہارون (علیہ السلام) نے ان کو بہت روکا تھا اور ان کو آگاہ کردیا تھا کہ یہ ان کی آزمائش ہے۔ ان کا رب تو رحمن ہے، جس کی طرف سے تمام ظاہری اور باطنی نعمتوں کا فیضان جاری ہے اور وہ تمام تکالیف کو دور کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا ہے کہ وہ ہارون (علیہ السلام) کی اتباع کریں اور بچھڑے کو چھوڑ دیں، مگر انہوں نے ایسا نہ کیا اور کہنے لگے : (لن نبرح علیہ عکفین حتی یرجع الینا موسیٰ ) ” موسیٰ (علیہ السلام) کے آنے تک ہم تو اسی کی عبادت و تعظیم میں لگے رہیں گے “۔ اور موسیٰ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 41–135

قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

96 سامری کا حضرت موسیٰ کو منافقانہ اور شاطرانہ جواب : یعنی جبریل امین کے نقش قدم کی مٹی۔ جیسا کہ عام مفسرین کرام نے لکھا ہے کہ اس ملعون نے حضرت جبریل امین کے نقش قدم کی مٹی میں یہ تاثیر دیکھی تھی۔ یا رسول سے اس کی مراد خود حضرت موسیٰ سے تھی تاکہ اس طرح وہ خوش ہو کر اس کو چھوڑ دیں۔ جیسا کہ بعض اہل علم نے کہا ہے۔ اسی رائے کو ابومسلم اصفہانی نے اختیار کیا اور اسی کی تائید امام رازی (رح) نے کی۔ اور اسی کو بعض اہل علم نے اقرب الی التحقیق قرار دیا۔ یعنی سامری نے حضرت موسیٰ کے جواب میں کہا کہ میں نے رسول یعنی جناب ہی سے ایک حصہ لیا تھا اور آپ ہی کے طریقہ پر چلا تھا۔ لیکن بعد میں جب مجھے اس کی غلطی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 77–98

دریا کا پھٹنا، فرعون کا غرق ہونا، من و سلوٰی کا نزول اور بچھڑے کی پوجا تشریح : ان آیات میں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کا وہ حصہ بیان کیا گیا ہے۔ جس میں آپ کو حکم دیا گیا کہ ” میرے بندوں کو، ، اس سے مراد بنی اسرائیل اور مسلمان ہیں۔ ان لوگوں پر فرعون حد سے زیادہ ظلم کرتا تھا لے کر نکل جاؤ، لہٰذا سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سب کو اکٹھا کیا اور رات کی تاریکی میں نکل پڑے جب سمندر کے کنارے پہنچے تو فرعون کا لشکر ان کے تعاقب میں آپہنچا۔ ظاہر ہے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے خطرے اور پانی کے ڈر سے گھبرائے تو اس وقت ایک اور بہت بڑا معجزہ وجود میں آیا۔ اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ سے کہا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 90–104

(رکوع نمبر 5) اسرارومعارف ہارون (علیہ السلام) نے فورا ان لوگوں کو اس کام سے باز رہنے کی تلقین فرمائی اور فرمایا تم ایک بڑی آزمائش میں پھنس گئے ہو اور گمراہ ہو رہے ہو ، لوگو تمہارا معبود تو بہت بڑا رحم کرنے والا ہے جو اس نافرمانی پر بھی تمہیں کسی فوری عذاب میں مبتلا نہیں کر رہا ، لہذا توبہ کرو اور میری پیروی کرو اور میری یہ بات ضرور مان لو مگر وہ نہ مانے بلکہ کہنے لگے کہ جب تک موسیٰ (علیہ السلام) واپس نہ آجائیں ہم تو اسی کی پوجا کرتے رہیں گے ، مفسرین کے مطابق بنی اسرائیل تین گروہوں میں بٹ گئے تھے ، ایک گروہ حضرت ہارون (علیہ السلام) کی پیروی پہ قائم رہا مگر ان کی تعداد کم تھی دوسرا گروہ بچھڑے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 95–96

ف 10 یعنی جبرئیل گھوڑے پر جاتے نظر آئے اور ان میں سے کسی کو دکھائی نہ دیئے۔11 یعنی ان کے گھوڑے کے پائوں تلے سے آیت کے الفاظ میں اگرچہ اس چیز کی تصریح نہیں ہے کہ ” الرسول “ سے سامری کی مراد کون تھے لیکن مفسرین سلف فرماتے ہیں کہ ان کی مراد حضرت جبرئیل سے تھی (کذا فی اروح) بعض (معتزلہ) نے اس سے مراد حضرت موسیٰ لئے ہیں یعنی سامری نے کہا ” میں نے پیغمبر کی پکھ اطاعت اختیار کی تھی مگر اب اس کو چھوڑ دیا ہے۔ “ یہ معنی تفسیر بالرای کے مترادف ہے اور سلف کے خلاف ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(20:96) بصرت۔ ماضی واحد متکلم۔ میں نے دیکھا۔ مجھے نظر آیا۔ بصر یبصر (کرم) بصر مصدر ۔ جس کے معنی دیکھنے اور معلوم کرنے ہیں۔ البصر آنکھ کو کہتے ہیں اس کی جمع ابصار ہے قوت بینائی کو بصر کہتے ہیں۔ قبضۃ۔ مٹھی بھر۔ تھوڑا سا لے لینا۔ القبض کے معنی ہیں کسی چیز کو پورے پنچے کے ساتھ پکڑنا۔ جیسے قبض السیف اس نے تلوار کو پکڑا۔ قبض علی۔ مٹھی میں لے لینا۔ قبضہ میں لے لیناقبض عن۔ لینے سے ہاتھ کھینچ لینا۔ مال خرچ کرنے سے ہاتھ روک لینا۔ جیسے یقبضون ایدیہم (9:67) اور (خرچ کرنے سے) ہاتھ بند کئے رہتے ہیں۔ قبض الی اپنی طرف سمیٹ لینا۔ جیسے ثم قبضنہ الینا قبضا یسیرا (25:46) پھر ہم اس کو آہستہ آہستہ اپنی طرف سمیٹ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 90–98

لغات القرآن آیت نمبر 90 تا 98 فتنتم تم آزمائش میں ڈالے گئے۔ لننبرح ہم ہرگز نہ کریں گے۔ عکفین جم کر بیٹھنے والے۔ عصیت تو نے نافرمانی کی۔ یا بنوم اے میری ماں کے بیٹے۔ لاحیۃ داڑھی۔ خشیت میں ڈر گیا۔ فرقت تو نے تفرقہ ڈال دیا۔ لڑا دیا۔ خطبک تیرا کہنا، تیرا حال۔ بصرت میں نے دیکھا۔ قبضت میں نے اٹھا لیا۔ اثر الرسول فرشتے کا قدم، فرشتے کا نشان قدم۔ سولت گھڑ لیا، پھسلا دیا۔ لامساس نہ چھونا، ہاتھ نہ لگانا۔ ظلت تو (بیٹھا) رہا۔ نحرقن ہم ضرور جلا ڈالیں گے۔ ننسفن ہم ضرور بکھیر دیں گے۔ تشریح :- آیت نمبر 90 تا 98 جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور پر پہنچ گئے اس وقت بنی اسرائیل کے اکثر لوگوں نے سامری کے فریب…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 96–99

ان آیتوں میں فرمایا کہ جس طرح اس سورت میں پہلے لوگوں کے چند قصے بیان کئے گئے ہیں، اسی طرح قرآن میں جگہ جگہ پچھلے انبیاء اور پچھلی امتوں کا ذکر آیا ہے۔ تاکہ اہل کتاب ان قصوں کو اپنی کتابوں کے موافق پا کر اور مشرکین مکہ یہ غیب کی باتیں امی رسول ﷺ سے سن کر قرآن کو اللہ کا کلام ، اور جن پر یہ کلام اترا ہے ان کو اللہ کا سچا رسول جان لیں۔ پھر فرمایا ” ایسی سیدھی بات سمجھانے کے بعد بھی جو کوئی قرآن کو اللہ کا کلام نہ مانے گا، اور اس کی نصیحت کو قبول کرنے سے منہ پھیرے گا، تو قیامت کے دن ایسے گناہوں کے بوجھ کے نیچے یہ لوگ دبے ہوئے ہوں گے۔ جس بوجھ کی سزا میں ہمیشہ گرفتار رہیں گے۔ پھر فرمایا :” قیامت کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[41] یہاں رسول سے مراد جبرائیل (علیہ السلام) ہیں جیسا کہ اکثر مفسرین کا خیال ہے۔ [42] سامری ایک مکار اور فتنہ پرداز شخص تھا۔ اس نے صرف یہی نہیں کیا کہ سونے کا بچھڑا بنا کر کسی تدبیر سے اس میں گائے کی آواز پیدا کردی اور بنی اسرائیل کے جاہل لوگوں کو دھوکے میں ڈال دیا بلکہ اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی اپنے جال میں پھانسنا چاہا اور آپ کے سوال پر یہ افسانہ گھڑ دیا کہ جبرائیل (علیہ السلام) کے نقش قدم کی مٹی کی برکت سے یہ کرامت صادر ہوئی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 96–98

(ف 1) سامری نے جو یہ قصہ سنایا ہے کہ میں نے جبریل (علیہ السلام) کے نقش قدم کو دیکھ لیا تھا ، اور ایک مٹھی مٹی وہاں سے اٹھالی تھی اور اس قالب میں ڈال دی تھی ، تاکہ اس میں آواز پیدا ہوجائے ، یا تقدیس آجائے ، یہ محض اس کا اپنا وہم تھا ، جیسا کہ اس نے خود تصریح کردی ہے کہ میرے نفس نے مجھے یونہی سمجھا دیا تھا ، ورنہ قرآن حکیم نے اس بات کی صراحت نہیں فرمائی کہ اس مٹی کی وجہ سے اس میں آواز پیدا ہوگئی تھی ، نہ قرآن میں یہ مذکور ہے کہ جبرئیل کے نقش پا میں یہ تاثیر ہے ۔ ابو مسلم اصفہانی نے ” بصرت “ کے معنی علم کے لئے ہیں ، اور فقبضت قبضۃ من اثر ال رسول “۔ کے معنے سنت موسیٰ کی پیروی کے قرار دیئے ہیں ،…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-96 سامری نے جواب دیا میں نے ایک ایسی چیز دیکھی تھی جو اور سب نے نہیں دیکھی تو میں نے اس فرشتے کے نشان قدم کی مٹی سے ایک مٹھی بھر کے رکھ لی بس وہی مٹی کی مٹھی میں نے اس بچھڑے کے منہ میں ڈال دی اور اس وقت میرے جی نے مجھ کو ایسی ہی صلاح دی۔ یعنی میں نے جبرئیل کو دیکھا اور ان کے پائوں کے نیچے کی مٹی یا ان کے گھوڑے کے پائوں کے نیچے کی مٹی میں ایک خاص اثر محسوس کیا تو میں نے وہ مٹی ایک مٹھی بھر کر رکھ لی اور اس مٹی کو اس بچھڑے کے منہ میں ڈال دیا اس سے یہ آواز پیدا ہوگئی اور یہ بات میں نے اپنے جی سے کی اور میرے نفس نے یہی بات مجھ کو درست بتائی یہ جبرئیل (علیہ السلام) کا آنا یا تو فرعون کے غرق ہونے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 7۔ یعنی حضرت جبرئیل (علیہ السلام) گھوڑے پر چڑھے ہوئے جس روز دریا سے پار اترے ہیں کہ بمصلحت نصرت مومنین و اہلاک کفار کے آئے ہوں گے۔ 8۔ میرے دل میں خود بخود یہ بات پیدا ہوگئی کہ اس میں تحصیل حیات کا اثر ہوگا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

سامری حقیقت حال کو سمجھ گیا تو فورا فریب نفسی سے اس کو تعبیر کرنے لگا : 96۔ معلوم ہوتا ہے کہ سامری بھی کوئی معلومی شے نہیں تھا بلکہ زمانہ کا کوئی چالاک اور ہوشیار آدمی تھا اس نے سمجھتے ہوئے یہ چال چلی تھی کہ شاید موسیٰ (علیہ السلام) اب طور سے واپس نہ آئے یا اس کے خیال میں یہ تھا کہ قوم کے سردار موسیٰ (علیہ السلام) کو چھوڑ کر میری طرف نکل آئیں گے کہ کیونکہ سردار ہمیشہ اس طرف کا رخ کرتے ہیں جدھر عوام کا رخ ہوجائے کیونکہ انہوں نے یہ گر باور کیا ہوتا ہے کہ ” چلو تم ادھر کو جدھر کی ہوا ہو “ جب اس نے سمجھ لیا کہ اب میرے پاس ایسی کوئی طاقت بھی نہیں جس کے انحصار پر میں مزید کوئی قدم اٹھا سکوں تو اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary بَصُرْ‌تُ بِمَا لَمْ يَبْصُرُ‌وا بِهِ (I perceived something they perceived not - 20:96) The reference here is to Jibra'il (علیہ السلام) . There is a tradition that he was present on his horse at the river crossing when, the Bani Isra'il having crossed it safely to the other side, the Pharaoh and his army entered the river in pursuit of the fugitives. There is another tradition that after Sayyidna Musa (علیہ السلام) had crossed the river Sayyidna Jibra'il came to him riding a horse to invite him to go to the Tur mountain. At that time Samiri alone, and no one else, saw him and the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 95–96

73. Here it has been a good deal of divergence of opinion in regard to the interpretation of this verse. According to the majority of the early commentators and their followers, it means: The Samiri saw the Messenger (Angel Gabriel) when he was passing and took a handful of dust from his footprints. Then he sprinkled this upon the idol of the golden calf. This created life in it and it began to low like a living calf. The Quran, in fact, does not say that this actually happened but merely cites the reply given by the Samiri to Prophet Moses (peace be upon him) when the latter took him to task…

Read the full tafseer →