Explained with ayahs 95–98
گائے پرست سامری اور بچھڑا۔
حضرت موسیٰ ؑ نے سامری سے پوچھا کہ تو نے یہ فتنہ کیوں اٹھایا ؟ یہ شخص باجروکا رہنے والا تھا اس کی قوم گائے پرست تھی۔ اس کے دل میں گائے محبت گھر کئے ہوئے تھی۔ اس نے بنی اسرائیل کے ساتھ اپنے ایمان کا اظہار کیا تھا۔ اس کا نام موسیٰ بن ظفر تھا ایک روایت میں ہے یہ کرمانی تھا۔ ایک روایت میں ہے اس کی بستی کا نام سامرا تھا اس نے جواب دیا کہ جب فرعون کی ہلاکت کے لئے حضرت جبرائیل ؑ آئے تو میں نے ان کے گھوڑے کے ٹاپ تلے سے تھوڑی سی مٹی اٹھا لی۔ اکثر مفسرین کے نزدیک مشہور بات یہی ہے حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ حضرت جبرائیل ؑ آئے اور حضرت موسیٰ ؑ کو لے کر چڑھنے لگے تو سامری نے دیکھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–96
سورة طٰهٰ 73
اس آیت کی تفسیر میں دو گروہوں کی طرف سے عجیب کھینچ تان کی گئی ہے۔
ایک گروہ جس میں قدیم طرز کے مفسرین کی بڑی اکثریت شامل ہے، اس کا یہ مطلب بیان کرتا ہے کہ " سامری نے رسول یعنی حضرت جبریل کو گزرتے ہوئے دیکھ لیا تھا، اور ان کے نقش قدم سے ایک مٹھی بھر مٹی اٹھا لی تھی، اور یہ اسی مٹی کی کرامت تھی کہ جب اسے بچھڑے کے بت پر ڈالا گیا تو اس میں زندگی پیدا ہوگئی اور جیتے جاگتے بچھڑے کی سی آواز نکلنے لگی۔ " حالانکہ قرآن یہ نہیں کہہ رہا ہے فی الواقع ایسا ہوا تھا۔ وہ صرف یہ کہہ رہا ہے کہ حضرت موسیٰ کی باز پرس کے جواب میں سامری نے یہ بات بنائی۔ پھر ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ مفسرین اس کو ایک…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
(پھر سامری کی طرف متوجہ ہوئے اور اس سے) کہا کہ اے سامری تیرا کیا معاملہ ہے (یعنی تو نے یہ حرکت کیوں کی) اس نے کہا کہ مجھ کو ایسی چیز نظر آئی تھی جو اوروں کو نظر نہ آئی تھی (یعنی حضرت جبرئیل ؑ گھوڑے پر چڑھے ہوئے جس روز دریا سے پار اترے ہیں جو بمصلحت نصرت مؤمنین و اہلاک کفار کے آئے ہوں گے اور تاریخ طبری میں سدی سے بسند نقل کیا ہے کہ حضرت جبرئیل موسیٰ ؑ کے پاس یہ حکم لے کر گھوڑے پر سوار ہو کر آئے تھے کہ آپ طور پر جاویں تو اس وقت سامری نے دیکھا تھا) پھر میں نے اس فرستادہ (خداوندی کی سواری) کے نقش قدم سے ایک مٹھی (بھر کر خاک) اٹھا لی تھی (اور خود بخود میرے قلب میں یہ بات آئی کہ اس میں…
Read the full tafseer →قال فما خطبک یسا مری
سامری سے باز پرس
تمام ذمہ داروں سے پوچھ گچھ کرنے کے بعد جب بات پایہ تحقیق کو پہنچ گئی کہ دراصل اس سارے فساد کا بانی سامری ہی ہے تو حضرت موسیٰ اس کی طرف متوجہ ہوئے نہایت تیکھے انداز میں اس سے سوال کیا کہ سامری ! تو بتا، یہ تو نے کیا کیا ؟ یہ کیا ماجرا ؟ یہ کیا فتنہ کھڑا کردیا ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–96
96۔ 1 مطلب یہ بیان کیا ہے کہ جبرائیل ؑ کے گھوڑے کو گزرتے ہوئے سامری نے دیکھا اور اس کے قدموں کے نیچے کی مٹی اس نے سنبھال رکھ لی، جس میں کچھ کرامات کے اثرات تھے۔ اس مٹی کی مٹھی اس نے پگھلے ہوئے زیورات یا بچھڑے میں ڈالی تو اس میں سے ایک قسم کی آواز نکلنی شروع ہوگئی جو ان کے فتنے کا باعث بن گئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
39: یعنی میرے چلے جانے سے قوم دو ٹکڑوں میں بٹ جاتی، کچھ لوگ میرا ساتھ دیتے، اور کچھ ان گمراہوں کا جو مجھے قتل تک کرنے کے درپے تھے جیسا کہ سورة اعراف :150 میں حضرت ہارون ؑ کی زبانی بیان فرمایا گیا ہے۔ لہذا آپ نے جو فرمایا تھا کہ اصلاح کرتے رہنا۔ مجھے اندیشہ تھا کہ ایسا کرنے سے آپ اس کے حکم کی خلاف ورزی ہوجاتی۔
Read the full tafseer →سامری تم بتائو تم نے کیا کیا اور کیوں کیا ؟ یہ لفظ بتاتا ہے کہ سامری نے کوئی بہت بڑا جرم کیا ہے۔
Read the full tafseer →7 ادھر سے فارغ ہو کر موسیٰ (علیہ السلام) نے سامری کو ڈانٹ پلائی اور فرمایا کہ اب تو اپنی حقیقت بیان کر۔ یہ حرکت تو نے کس وجہ سے کی ؟ اور کیا اسباب پیش آئے کہ بنی اسرائیل تیری طرف جھک پڑے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
اِنِّیْ خَشِیْتُ اَنْ تَقُوْلَ فَرَّقْتَ بَیْنَ بَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ ”
کہ تم نے ان کو تقسیم کر کے ان کے اتحاد کو پارہ پارہ کردیا۔
وَلَمْ تَرْقُبْ قَوْلِیْ ”
حضرت ہارون علیہ السلام سے باز پرس کرنے کے بعد اب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے سامری سے جواب طلب کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
65 سیدنا ہارون اگرچہ عمر میں بڑے تھے تاہم منصب کے لحاظ سے چھوٹے تھے۔ علاوہ ازیں سیدنا موسیٰ جلالی طبیعت کے مالک اور سخت جوش غضب میں تھے۔ لہذا اسی کا غضب سے مغلوب ہو کر سیدنا ہارون کی داڑھی اور سر کے بالوں کو پکڑا تھا۔ سیدنا ہارون بڑے تحمل سے کہنے لگے کہ پہلے میری بات سن لو اور میری داڑھی پکڑ کر دشمنوں کو مجھ پر ہنسنے کا موقع نہ دو ۔ بات یہ تھی کہ جب یہ لوگ شرک میں مبتلا ہوئے تو میں نے انھیں پوری سختی سے روکا تھا۔ لیکن چونکہ اکثریت اس شرک میں مبتلاتھی لہذا انہوں نے مجھے دبا لیا اور مجھے جان سے مار ڈالنے کے درپے ہوگئے تھے اور ان میں اکثر میرے دشمن بن گئے تھے۔ اب اگر میں اس معاملہ میں مزید سختی…
Read the full tafseer →111۔ (تو نے یہ کیا حرکت کرڈالی، تجھے یہ سوجھی کیا ؟ ) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) حضرت ہارون (علیہ السلام) کی صفائی سے مطمئن ہو کر اب اصل مجرم سامری کی طرف مخاطب ہوتے ہیں۔ ماعلیک لہ (کشاف)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–104
آیت نمبر 90 تا 104
ترجمہ : اور ہارون (علیہ السلام) نے ان سے پہلے یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کے واپس آنے سے پہلے کہہ دیا تھا اے میری قوم تم اس گوسالہ کی وجہ سے آزمائش میں مبتلا کر دئے گئے ہو اور بلاشبہ تمہارا رب تو رحمٰن ہے لہٰذا تم اس کی عبادت کرنے میں میری اتباع کرو اور عبادت کے معاملہ میں میری بات مانو ان لوگوں نے جواب دیا ہم تو اسی پر جمے رہیں گے یعنی اسی کی عبادت پر قائم رہیں گے موسیٰ کے ہمارے پاس واپس آنے تک موسیٰ (علیہ السلام) نے واپسی کے بعد فرمایا اے ہارون جب تم نے ان کو دیکھا کہ یہ گمراہ ہوگئے بچھڑے کی عبادت کی وجہ سے تو میرے پاس چلے آنے سے کیا امر مانع ہوا ؟ اَلاَّ تَتَّبِعَنّ میں لا…
Read the full tafseer →قال فما خطبک یسامری۔ (پھر سامری کی طرف متوجہ ہو کر) موسیٰ نے کہا سامری تیرا کیا معاملہ ہے 1
(تو نے ایسا کس طرح کیا) ۔
بیضاوی نے لکھا ہے خَطْبٌ خَطَبَ الشَّیئَکا مصدر ہے اس کا معنی ہے طلب یعنی ایسی حرکت سے تیرا مقصد کیا تھا کسی چیز نے تجھے ایسا کام کرنے پر آمادہ کیا۔ صاحب نہایہ نے لکھا ہے خطب کا معنی ہے حال اور شان یعنی تیرا کیا حال ہے خطب ہر اس چیز کو کہتے ہیں جس کے متعلق خطاب کیا جائے اسی لئے حال اور شان کو بھی خطب کہا جاتا ہے۔ صاحب قاموس نے لکھا ہے خطب کا معنی ہے شان اور امر چھوٹا ہو یا بڑا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–96
(95۔ 96) اس کے بعد حضرت موسیٰ ؑ سامری کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا سامری یہ تو نے بچھڑے کی پوجا کیوں کی، سامری کہنے لگا کہ مجھے ایسی چیز نظر آئی تھی جو بنی اسرائیل کو نہیں آئی، حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا ان کے بغیر تجھے ایسی کیا چیز نظر آئی، وہ کہنے لگا کہ میں حضرت جبریل امین ؑ کو گھوڑے پر سوار دیکھا تھا اور وہ دابۃ الحیاۃ تھا، تو میں نے حضرت جبریل امین ؑ کے گھوڑے کے نقش قدم سے ایک مٹھی بھر خاک اٹھالی تو میں نے اس خاک کو اس بچھڑے کے منہ اور اس کی سرین میں ڈال دی جس کی وجہ سے اس کے منہ سے یہ آواز نکلنے لگی اور میری جی کو یہی بات بھائی ،
Read the full tafseer →قَالَ فَمَا خَطْبُكَ يٰسَامِرِيُّ : ہارون ؑ سے جس زبانی اور عملی شدت کے ساتھ سوال ہوا تھا سامری سے سوال کرتے ہوئے وہ شدت نظر نہیں آتی، کیونکہ اپنوں پر غصہ زیادہ آتا ہے اور ان کے معقول عذر بیان کرنے پر غصہ ہی نہیں دل کا ملال بھی ختم ہوجاتا ہے، بلکہ ان کے لیے دعا نکلتی ہے۔ چناچہ ہارون ؑ کی بات سن کر موسیٰ ؑ نے دعا کی : (قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَلِاَخِيْ وَاَدْخِلْنَا فِيْ رَحْمَتِكَ ڮ وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ) [ الأعراف : 151 ] ”اے میرے رب ! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل کرلے اور تو سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم والا ہے۔“
اس کے برعکس سامری کی بدطینتی پہلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
(تفسیر 94-97) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یبنوم لا تاخذ ببلحیتی ولا ببراسی، حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : دائیں ہاتھ سے سر کے بال پکڑے اور بائیں ہاتھ سے داڑھی کو پکڑا۔ کیونکہ اللہ کی رضا کے لیے غیرت ان پر غالب آچکی تھی یعنی ایسا نہ کرو کہ لوگ خیال کریں گے کہ یہ آپ کی طرف سے استخفاف اور سزا ہے۔ بعض علماء نے کہا : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ بغیر استخفاف اور عقوبت کے کیا تھا جیسا کہ انسان اپنی داڑھی کو پکڑ لیتا ہے۔ یہ واقعہ سورة اعراف میں تفصیلاً گزر چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی مراد کو بہتر جانتا ہے۔
انی خشیت ان تقول فرقت بین بنی اسرآء یل یعنی مجھے اندیش ہے کہ میں نکلوں گا اور انہیں چھوڑ جائوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–97
1:۔ سعید بن منصور ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) فاضرب لہم طریقا فیا لبحر یبسا “ سے مراد ہے اپنا عصا مارا اپنا راستہ بنا لوجس پر پانی اور مٹی نہ ہو۔
2:۔ عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ کہ (آیت) ” طریقا فیا لبحر یبسا “ یعنی خشک راستہ۔
3:۔ ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھیوں نے کہا کہ فرعون آرہا ہے تم تو پکڑے گئے اور یہ دریا ہم کو گھیرے ہوئے ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری (آیت) ” لا تخف درکا ولا تخشی “ (یعنی تم خوف نہ کرو) غرق ہونے کا اور نہ کیچڑ میں دھنس جانے کا۔
4:۔ ابن منذر اور…
Read the full tafseer →[قَالَ : (موسٰی (علیہ السلام) نے) کہا ] [فَمَا خَطْبُكَ : تو تیرا کیا مدعا ہے ] [يٰسَامِرِيُّ : اے سامری ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–98
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا سامری سے خطاب، اس کے لیے بددعا کرنا اور اس کے بنائے ہوئے معبود کو جلا کر سمندر میں بکھیر دینا
حضرت ہارون (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کے خطاب اور عتاب سے فارغ ہو کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سامری کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا تیرا کیا حال ہے یہ حرکت تو نے کیوں کی کس طرح سے کی ؟ اس پر اس نے جواب دیا کہ میں نے وہ چیز دیکھی جو دوسرے لوگوں کو نظر نہ آئی، میں نے اس میں سے ایک مٹھی اٹھالی اور جو مٹھی بھری تھی وہ اس مجسمہ میں ڈال دی جو میں نے چاندی سونے سے بنایا تھا علماء تفسیر نے لکھا ہے کہ سامری بھی بنی اسرائیل میں سے تھا اور ایک قول یہ ہے کہ ان میں سے نہیں تھا بلکہ قوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–98
موسیٰ (علیہ السلام) کی کوہ طور سے واپسی اور گوسالہ پرستی کا واقعہ
قال اللہ تعالیٰ وما اعجلک عن قومک یموسی .... الیٰ .... وسع کل شیء علما۔
القصہ جب فرعون غرق ہوگیا۔ تو بنی اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ استدعا کی کہ ہمارے لیے کوئی دستور ہدایت اور قانون شریعت چاہئے کہ ہم اس پر چلیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس بارے میں حق تعالیٰ سے درخواست کی، حق تعالیٰ نے توریت عطا کرنے کا وعدہ فرمایا کہ ہم تم کو ایسی کتاب عطا کریں گے۔ جس میں احکام شریعت جمع ہوں گے اور یہ حکم۔ یا کہ ستر علماء اپنے ہمراہ لے کر کوہ طور پر آئیں تاکہ وہ اس کرامت کا جلوہ دیکھیں۔ چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی جگہ پر تو ہارون…
Read the full tafseer →68:۔ حضرت ہارون (علیہ السلام) کا جواب سن کر وہ سامری کی طرف متوجہ ہوئے اور اس سے فرمایا اے سامری ! تم نے یہ حرکت کیوں کی کہ گوسالہ بنا کر قوم کو بت پرستی پر لگا دیا۔ سامری بنی اسرائیل کے قبیلہ سامرہ کا ایک فرد تھا اور سمندر پار کرنے کے بعد در پردہ دین موسیٰ سے مرتد ہوگیا۔ اور منافقانہ طور پر بنی اسرائیل میں شامل رہا۔ بنی اسرائیل نے سمندر سے پار اترنے کے بعد ایک قوم کو گائے کی پوجا کرتے دیکھا۔ تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہنے لگے۔ ” اِجْعَلْ لَّنَا اِلٰھًا کَمَا لَھُمْ اٰلِھَةً “ جس پر انہوں نے ان کو سرزنش کی۔ سامری نے بنی اسرائیل کا مزاج سمجھ لیا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی عدم موجودگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–98
ربط آیات :
موسیٰ (علیہ السلام) کتاب لے کر کوہ طور سے واپس آئے تو قوم کو شرک میں مبتلا دیکھ کر سخت برہم ہوئے۔ پہلے اپنے بھائی کو سرزنش کی لیکن بعد میں پتہ چلا کہ وہ تو بےقصور ہیں۔ انہوں نے تو افہام و تفہیم کی پوری کوشش کی تھی مگر قوم نہ مانی اور الٹا ان کے قتل کے درپے ہوئے۔ ہارون (علیہ السلام) نے یہ مناسب نہ سمجھا کہ ایمان والوں کو ساتھ لے کر باقی قوم سے الگ ہوجائیں اور کوہ طور کی طرف چل دیں۔ انہیں خطرہ تھا کہ جماعت میں ایسا تفرقہ پیدا ہوجائے گا جس کی اصلاح ناممکن ہوجائے گی۔ بہرحال جب موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے بھائی کی بےگناہی کا علم ہوا تو انہوں نے اپنے اور بھائی کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا…
Read the full tafseer →قَالَ فَمَا خَطْبُكَ يٰسَامِرِيُّ 95
خطب ( حال)
الخَطْبُ «2» والمُخَاطَبَة والتَّخَاطُب : المراجعة في الکلام، والخَطْبُ : الأمر العظیم الذي يكثر فيه التخاطب، قال تعالی: فَما خَطْبُكَ يا سامِرِيُّ [ طه/ 95] ، فَما خَطْبُكُمْ أَيُّهَا الْمُرْسَلُونَ [ الذاریات/ 31]
( خ ط ب ) الخطب
والمخاطبۃ والتخاطب ۔ باہم گفتگو کرنا ۔ ایک دوسرے کی طرف بات لوٹانا ۔ الخطب ۔ اہم معاملہ جس کے بارے میں کثرت سے تخاطب ہو ۔ قرآن میں ہے :۔ فَما خَطْبُكَ يا سامِرِيُّ [ طه/ 95] پھر سامری سے کہنے لگے ) سامری تیرا کیا حال ہے ۔ فَما خَطْبُكُمْ أَيُّهَا الْمُرْسَلُونَ [ الذاریات/ 31] کہ فرشتوں تمہارا مدعا کیا ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–96
تفسیر : اور موسیٰ سب سے آگے تنہا خدا کے پاس آئے جس پر خدا نے پوچھا وما اعجلک عن قومک یا موسیٰ اور خدا تعالیٰ کے پاس کوہ طور پر موسیٰ چالیس دن رات رہے ( سفر خروج 24۔ باب) اتنی دیر لگنے سے بنی اسرائیل نے غل مچا دیا کہ موسیٰ کہاں گئے۔ کسی نے کہا مرگئے۔ کسی نے کچھ کہا، اس میں ایک شخص نے کہ جس کا نام سامری تھا لوگوں سے کہا کہ آؤ میں تمہارا معبود دکھائوں کہ جو تمہیں مصر سے نکال لایا ہے۔ تم میرے پاس سونے کا زیور لاؤ چناچہ وہ اس کے پاس لائے اس نے اس کو ڈھال کر ایک بچھڑا بنا دیا اور اس میں ایک ایسا رستہ ہوا کے آنے جانے کا رکھا کہ جس سے گائے بیل کی آواز جیسی آواز پیدا ہوتی تھی۔ یہ دیکھ کر بنی اسرائیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–96
قَالَ فَمَا خَطْبُکَ یٰسَامِرِیُّ ۔ قَالَ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ یَبْصُرُوْا بِہٖ فَـقَبَضْتُ قَبْضَۃً مِّنْ اَثَرِالرَّسُوْلِ فَـنَبَذْتُھَا وَکَذٰلِکَ سَوَّلَتْ لِیْ نَفْسِیْ ۔ (طٰـہٰ : 96)
اے سامری ! (اس فتنہ انگیزی) سے تیری غرض کیا تھی ؟ اس نے کہا میں نے وہ چیز دیکھی جو لوگوں نے نہ دیکھی تو میں نے رسول کے نقش قدم سے ایک مٹھی اٹھائی اور پھر اس کو ڈال دیا اور اس طرح میرے نفس نے آراستہ کردی میرے لیے یہ بات (اور اسی طرح میرے نفس نے مجھے سجھایا)
اس آیت کی تفسیر میں مفسرین کا اختلاف
اس آیت کے مفہوم میں علماء تفسیر میں خاصا اضطراب پایا جاتا ہے۔ ہمارے قدیم مفسرینِ کرام کی اکثریت یہ کہتی ہے کہ سامری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–96
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت ہارون (علیہ السلام) سے وضاحت طلب کرنے کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کا سامری کو مخاطب کرنا۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یقین ہوگیا کہ یہ سامری نے جرم کیا ہے۔ انھوں نے بڑے جلال میں آکر سامری سے استفسار فرمایا کہ اے سامری ! تو نے بنی اسرائیل کو کیوں گمراہ کیا ؟ سامری نے کہا میں نے ایک ایسی چیز دیکھی جسے لوگ نہ دیکھ پائے۔ میں نے وہاں سے ایک مٹھی بھر مٹی اٹھائی اور اسے پگھلے ہوئے زیورات میں ڈال کر بچھڑا بنایا اور یہ سب کچھ میرے اپنے دل و دماغ کا کیا دھرا ہے۔ سامری کے الفاظ اور انداز سے معلو ہوتا ہے کہ اس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے جلال سے ڈر کر اس بات کا اعتراف کیا کہ…
Read the full tafseer →سامری سے باز ُ پرس :
95: موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف اس کی حرکت کا انکار کرتے ہوئے فرمانے لگے۔ قَالَ فَمَا خَطْبُکَ (کس چیز نے تجھے اس حرکت پر آمادہ کیا) ۔ یٰسَامِرِیُّ اے سامری ؟
Read the full tafseer →95۔ قال فماخطبک ، ، سامری تیراکیامعاملہ ہے تونے یہ کس طرح کردیا (یاسامری) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–98
95۔ 98:۔ بنی اسرائیل اور ہارون (علیہ السلام) پر خفا ہونے کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) نے سامری سے جو خفگی کی باتیں کی تھیں ان آیتوں میں ان کا ذکر ہے حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے سامری سے پوجھا تو نے یہ بچھڑا بنانے کا فساد کیوں پھیلایا سامری نے جواب دیا کہ فرعون کے ڈوبنے کے وقت جبرئیل (علیہ السلام) جب گھوڑی پر سوار ہو آئے تو بنی اسرائیل میں سے کسی نے ان کو نہیں دیکھا مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے انہیں مجھے دکھا دیا اور میرے دل میں یہ بات سمائی کہ میں نے ان کے گھوڑی کے قدم کے نیچے کی مٹی میں سے ایک مٹھی مٹی اٹھا لی اور جب میں نے زیور کا بچھڑا بنایا تو میرے دل میں یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
آیات (94)
یعنی بچھڑے کو معبود بنانے میں وہ معذور نہیں تھا۔ اگر وہ بچھڑے کی عبادت کے بارے میں کسی شبہ میں مبتلا ہوگئے تھے تو ہارون (علیہ السلام) نے ان کو بہت روکا تھا اور ان کو آگاہ کردیا تھا کہ یہ ان کی آزمائش ہے۔ ان کا رب تو رحمن ہے، جس کی طرف سے تمام ظاہری اور باطنی نعمتوں کا فیضان جاری ہے اور وہ تمام تکالیف کو دور کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا ہے کہ وہ ہارون (علیہ السلام) کی اتباع کریں اور بچھڑے کو چھوڑ دیں، مگر انہوں نے ایسا نہ کیا اور کہنے لگے : (لن نبرح علیہ عکفین حتی یرجع الینا موسیٰ ) ” موسیٰ (علیہ السلام) کے آنے تک ہم تو اسی کی عبادت و تعظیم میں لگے رہیں گے “۔ اور موسیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–135
قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “
Read the full tafseer →95 حضرت موسیٰ کا خطاب سامری سے : سو اس کے بعد حضرت موسیٰ سامری کی طرف متوجہ ہوئے اور اپنے غیظ و غضب بھرے انداز میں اس سے کہا کہ " تیرا کیا معاملہ ہے اے سامری "۔ تو نے یہ اتنا بڑا فتنہ اس قوم کے اندر برپا کیا اور ان کو راہ حق و ہدایت سے پھسلا کر ہلاکت کے گڑھے میں ڈالا۔ آخر کیوں ؟ اور تو نے گوسالہ پرستی کے اس سنگین اور ہولناک جرم کا ارتکاب کیوں کیا۔ اس ملعون سے یہ سوال کرنے کا مقصد یہ تھا کہ اس کو سب کے سامنے رسوا کیا جائے اور وہ اپنی گمراہی کا خود اعتراف کرلے۔ تاکہ اس سے واضح ہوجائے کہ اس کے بعد اس کو جو سزا دی گئی وہ درست تھی اور وہ اسی کا مستحق اور اسی کے لائق تھا۔ بہرکیف جب معاملے سے متعلق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–98
دریا کا پھٹنا، فرعون کا غرق ہونا، من و سلوٰی کا نزول اور بچھڑے کی پوجا
تشریح : ان آیات میں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کا وہ حصہ بیان کیا گیا ہے۔ جس میں آپ کو حکم دیا گیا کہ ” میرے بندوں کو، ، اس سے مراد بنی اسرائیل اور مسلمان ہیں۔ ان لوگوں پر فرعون حد سے زیادہ ظلم کرتا تھا لے کر نکل جاؤ، لہٰذا سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سب کو اکٹھا کیا اور رات کی تاریکی میں نکل پڑے جب سمندر کے کنارے پہنچے تو فرعون کا لشکر ان کے تعاقب میں آپہنچا۔ ظاہر ہے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے خطرے اور پانی کے ڈر سے گھبرائے تو اس وقت ایک اور بہت بڑا معجزہ وجود میں آیا۔ اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ سے کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–104
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
ہارون (علیہ السلام) نے فورا ان لوگوں کو اس کام سے باز رہنے کی تلقین فرمائی اور فرمایا تم ایک بڑی آزمائش میں پھنس گئے ہو اور گمراہ ہو رہے ہو ، لوگو تمہارا معبود تو بہت بڑا رحم کرنے والا ہے جو اس نافرمانی پر بھی تمہیں کسی فوری عذاب میں مبتلا نہیں کر رہا ، لہذا توبہ کرو اور میری پیروی کرو اور میری یہ بات ضرور مان لو مگر وہ نہ مانے بلکہ کہنے لگے کہ جب تک موسیٰ (علیہ السلام) واپس نہ آجائیں ہم تو اسی کی پوجا کرتے رہیں گے ، مفسرین کے مطابق بنی اسرائیل تین گروہوں میں بٹ گئے تھے ، ایک گروہ حضرت ہارون (علیہ السلام) کی پیروی پہ قائم رہا مگر ان کی تعداد کم تھی دوسرا گروہ بچھڑے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–96
ف 10 یعنی جبرئیل گھوڑے پر جاتے نظر آئے اور ان میں سے کسی کو دکھائی نہ دیئے۔11 یعنی ان کے گھوڑے کے پائوں تلے سے آیت کے الفاظ میں اگرچہ اس چیز کی تصریح نہیں ہے کہ ” الرسول “ سے سامری کی مراد کون تھے لیکن مفسرین سلف فرماتے ہیں کہ ان کی مراد حضرت جبرئیل سے تھی (کذا فی اروح) بعض (معتزلہ) نے اس سے مراد حضرت موسیٰ لئے ہیں یعنی سامری نے کہا ” میں نے پیغمبر کی پکھ اطاعت اختیار کی تھی مگر اب اس کو چھوڑ دیا ہے۔ “ یہ معنی تفسیر بالرای کے مترادف ہے اور سلف کے خلاف ہے۔
Read the full tafseer →(20:95) ما خطبک۔ الخطب والمخاطبۃ باہم گفتگو کرنا۔ ایک دوسرے کی طرف بات لوٹانا۔ الخطب اہم معاملہ جس کے بارہ میں کثرت سے تخاطب (باہم گفتگو ) ہوماخطبکتیرا کیا حال ہے تیرا کیا معاملہ ہے ۔ تیری کیا حقیقت ہے (تو نے یہ کیا حرکت کر ڈالی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–98
لغات القرآن آیت نمبر 90 تا 98
فتنتم تم آزمائش میں ڈالے گئے۔ لننبرح ہم ہرگز نہ کریں گے۔ عکفین جم کر بیٹھنے والے۔ عصیت تو نے نافرمانی کی۔ یا بنوم اے میری ماں کے بیٹے۔ لاحیۃ داڑھی۔ خشیت میں ڈر گیا۔ فرقت تو نے تفرقہ ڈال دیا۔ لڑا دیا۔ خطبک تیرا کہنا، تیرا حال۔ بصرت میں نے دیکھا۔ قبضت میں نے اٹھا لیا۔ اثر الرسول فرشتے کا قدم، فرشتے کا نشان قدم۔ سولت گھڑ لیا، پھسلا دیا۔ لامساس نہ چھونا، ہاتھ نہ لگانا۔ ظلت تو (بیٹھا) رہا۔ نحرقن ہم ضرور جلا ڈالیں گے۔ ننسفن ہم ضرور بکھیر دیں گے۔
تشریح :- آیت نمبر 90 تا 98
جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور پر پہنچ گئے اس وقت بنی اسرائیل کے اکثر لوگوں نے سامری کے فریب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–95
ان آیات میں سامری پر غصہ ہونے کا ذکر ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سامری کی طرف متوجہ ہوئے کہ تو نے ایسا کیوں کیا۔ اس نے کہا :” مجھ کو وہ بات نظر آئی جو ان کو نہ آئی۔ یعنی حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کے گھوڑے کی میں نے خاصییت دیکھی کہ جہاں وہ قدم رکھتا تھا، زمین سرسبز ہوجاتی تھی۔ پس میں نے اس مٹی کو متبرک پا کر ایک مٹھی بھر لی تھی۔ پھر میں نے اس کو ڈھلے ہوئے بچھڑے میں ڈال دیا، جس کو میں نے اپنی ہی ہوائے نفسانی سے کیا، کوئی دوسرا اس کا محرک نہ تھا “۔ اس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے سامری سے کہا کہ تیرے اس جرم کی سزا یہ ہے کہ جب تک تو زندہ رہے گا جنگل میں مارا مارا پھرے گا، اور سب سے علیحدہ رہے گا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
[40] ہارون (علیہ السلام) کے جواب کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ قوم کے افراد کے درمیان اتفاق و اتحاد ان کے راہ راست پر رہنے سے زیادہ اہم ہے۔ اس آیت کا یہ مطلب اگر کوئی شخص لے گا تو قرآن سے ہدایت کی بجائے گمراہی حاصل کرے گا۔ ہارون (علیہ السلام) کی پوری بات سمجھنے کے لئے اس آیت کو سورة اعراف کی آیت 150 سے ملایا جائے تو واقعہ کی یہ تفصیل سامنے آتی ہے کہ ہارون (علیہ السلام) نے لوگوں کو گمراہی سے روکنے کی پوری کوشش کی مگر انہوں نے نہ مانا بلکہ آپ کو مار ڈالنے پر آمادہ ہوگئے۔ مجبوراً آپ اس اندیشے سے خاموش ہوگئے کہ کہیں موسیٰ (علیہ السلام) کے واپس آنے سے پہلے قوم میں پھوٹ نہ پڑجائے اور خانہ جنگی برپا نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی غیرت دینی :
(ف 1) موسیٰ (علیہ السلام) قوم کی اس بت پرستی کی حرکت سے سخت طیش میں تھے ، فرط غضب میں انہوں نے حضرت ہارون (علیہ السلام) سے بھی سختی کے ساتھ باز پرس کی اور کہا کہ تم نے یہ سب کچھ کیوں اپنے سامنے ہونے دیا یہاں چند باتیں قابل غور ہیں ۔
1۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طبیعت میں فطرتا سختی تھی ، اور ایسا ہونا ضروری بھی تھا کیونکہ مقابلہ فرعون سے تھا ، اور اس کی قوم کے جبارہ سے ۔
2۔ یہ غضب ذاتی طور پر نہ تھا ، بلکہ دین کے مقابلے میں محض اللہ کی محبت کے جوش سے تھا ،
3۔ واقعات اسی نوع کے تھے کہ موسیٰ (علیہ السلام) جیسے پیغمبر کا غصہ سے بےتاب ہوجانا بالکل اضطراری…
Read the full tafseer →-95 اس کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے سامری سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا اے سامری تیرا کیا معاملہ ہے یعنی تو نے ایسا کیوں کیا۔
Read the full tafseer →ف 6۔ یعنی تو نے یہ حرکت کیوں کی۔
Read the full tafseer →موسیٰ (علیہ السلام) نے اب اپنی توجہ سامری کی طرف مبذول فرمائی :
95۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی طبیعت میں افسوس بھی تھا اور غصہ بھی لیکن واپس آکر جو راستہ اختیار کیا وہ نہایت شاندار تھا اور اس کی افادیت ایک صاحب عقل کے لئے آج بھی سمجھ لینے کی ہے کہ واپس آتے ہی پہلے ان کرداروں سے چھان بین کی جن سے فی الواقعہ پہلے چھان بین کرنے کا حق تھا ۔ قوم کے سارے سرداروں سے بھی گفتگو ہوگئی اور آپ کے بعد سب سے بڑی ذمہ دار شخصیت سیدنا ہارون (علیہ السلام) سے بھی ، ساری باتوں کی مکمل وضاحت کے بعد آپ سامری کی طرف متوجہ ہوئے اور نہایت سلجھے ہوئے انداز سے اس سے پوچھا کہ آئیے سامری صاحب ! ذرا ہم کو بتائیے کہ یہ آپ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–95
Commentary
When the Bani Isra'il were smitten with the mischief of calf-worship Sayyidna Harun (علیہ السلام) as the deputy of Sayyidna Musa (علیہ السلام) remonstrated with them but to no avail. They split into three factions. Those who remained loyal to Sayyidna Harun (علیہ السلام) and refused to be misled by Samiri and who numbered, according to Qurtubi, twelve thousand. The second faction adopted calf-worship with the reservation that if Sayyidna Musa (علیہ السلام) ، on his return, forbade them they would give it up. The third faction consisted of zealots who believed that Sayyidna Musa…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–96
73. Here it has been a good deal of divergence of opinion in regard to the interpretation of this verse. According to the majority of the early commentators and their followers, it means: The Samiri saw the Messenger (Angel Gabriel) when he was passing and took a handful of dust from his footprints. Then he sprinkled this upon the idol of the golden calf. This created life in it and it began to low like a living calf. The Quran, in fact, does not say that this actually happened but merely cites the reply given by the Samiri to Prophet Moses (peace be upon him) when the latter took him to task…
Read the full tafseer →