Explained with ayahs 92–94
کوہ طور سے واپسی اور بنی اسرائیل کی حرکت پہ غصہ۔
حضرت موسیٰ ؑ سخت غصے اور پورے غم میں لوٹے تھے۔ تختیاں زمین پر ماریں اور اپنے بھائی ہارون کی طرف غصے سے بڑھ گئے اور ان کے سر کے بال تھام کر اپنی طرف گھسیٹنے لگے۔ اس کا تفصیلی بیان سورة اعراف کی تفیسر میں گزر چکا ہے اور وہیں وہ حدیث بھی بیان ہوچکی ہے کہ سننا دیکھنے کے مطابق نہیں۔ آپ نے اپنے بھائی اور اپنے جانشین کو ملامت کرنی شروع کی کہ اس بت پرستی کے شروع ہوتے ہی تو نے مجھے خبر کیوں نہ کی ؟ کیا جو کچھ میں تجھے کہہ گیا تھا تو بھی اس کا مخالف بن بیٹھا ؟ میں تو صاف کہہ گیا تھا کہ میری قوم میں میری جانشینی کر اصلاح کے درپے رہ اور مفسدوں کی نہ مان۔…
Read the full tafseer →سورة طٰهٰ 71
ان آیات کے ترجمے میں ہم نے اس بات کو ملحوظ رکھا ہے کہ حضرت موسیٰ چھوٹے بھائی تھے مگر منصب کے لحاظ سے بڑے تھے، اور حضرت ہارون بڑے بھائی تھے مگر منصب کے لحاظ سے چھوٹے تھے۔
سورة طٰهٰ 72
حضرت ہارون کے اس جواب کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ قوم کا مجتمع رہنا اس کے راہ راست پر رہنے سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے، اور اتحاد چاہے وہ شرک ہی پر کیوں نہ ہو، افتراق سے بہتر ہے خوہ اس کی بنا حق اور باطل ہی کا اختلاف ہو۔ اس آیت کا یہ مطلب اگر کوئی شخص لے گا تو قرآن سے ہدایت کے بجائے گمراہی اخذ کرے گا۔ حضرت ہارون کی پوری بات سمجھنے کے لیے اس آیت کو سورة اعراف کی آیت 150 کے ساتھ ملا کر پڑہنا چاہیے۔ وہاں وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–94
خلاصہ تفسیر
اور ان لوگوں سے ہارون ؑ نے (حضرت موسیٰ ؑ کے لوٹنے سے) پہلے بھی کہا تھا کہ اے میری قوم تم اس (گو سالہ) کے سبب گمراہی میں پھنس گئے ہو (یعنی اس کی پرستش کسی طرح درست نہیں ہو سکتی یہ کھلی گمراہی ہے) اور تمہارا رب (حقیقی) رحمان ہے (نہ کہ یہ گو سالہ) سو تم (دین کے بارے میں) میری راہ پر چلو اور (اس بات میں) میرا کہنا مانو (یعنی میرے قول و فعل کی اقتدا کرو) انہوں نے جواب دیا کہ ہم تو جب تک موسیٰ ؑ واپس (ہوکر) آئیں اسی (کی عبادت) پر برابر جمے بیٹھے رہیں گے (غرض ہارون ؑ کا کہنا نہیں مانا تھا یہاں تک کہ موسیٰ ؑ بھی آگئے اور قوم سے اول خطاب کیا جو اوپر آ چکا بعد اس کے ہارون ؑ کی طرف متوجہ…
Read the full tafseer →حضرت ہارون کی معذرت
حضرت موسیٰ نے حضرت ہارون کا سر اور ان کی ڈاڑھی پکڑ کر ان کو جھنجھوڑا کہ تم نے یہ کیا کمزوری دکھائی ! حضرت موسیٰ کے اس طرز عمل سے ان کی حمیت حق بھی نمایاں ہو رہی ہے اور وہ محبت بھی جو فطری طور پر ان کو حضرت ہارون سے تھی۔ اس محبت کا تقاضا یہی تھا کہ جب انہوں نے محسوس فرمایا کہ حضرت ہارون سے دین کے معاملے میں کمزور صادر ہوئی ہے تو وہ جذبات سے مغلوب ہوگئے اور ان کو انہوں نے سختی سے جھنجھوڑا۔ حضرات انبیاء اور صالحین کا طریقہ یہی ہے کہ وہ دنیا کے معاملات میں تور داداری برتتے ہیں لیکن دین کے معاملات میں وہ مداہفت نہیں برتتے۔ اس معاملے میں جو ان سے جتنا ہی قریب ہوتا ہے وہ اس کے…
Read the full tafseer →94۔ 1 حضرت موسیٰ ؑ قوم کو شرک کی گمراہی میں دیکھ کر سخت غضب ناک تھے اور سمجھتے تھے کہ شاید اس میں ان کے بھائی ہارون ؑ کی، جن کو وہ اپنا خلیفہ بنا کر گئے تھے، خوش آمد کا بھی دخل ہو، اس لئے سخت غصے میں ہارون ؑ کی داڑھی اور سر پکڑ کر انھیں جھنجھوڑنا اور پوچھنا شروع کیا، جس پر حضرت ہارون ؑ نے انھیں اتنا سخت رویہ اپنانے سے روکا۔
94۔ 2 سورة اعراف میں حضرت ہارون ؑ کا جواب یہ نقل ہوا ہے کہ قوم نے مجھے کمزور خیال کیا اور میرے قتل کے درپے ہوگئی (آیت۔ 142) جس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت ہارون ؑ نے اپنی ذمے داری پوری طرح نبھائی اور انھیں سمجھا نے اور گو سالہ پرستی سے روکنے میں مداہنت اور کوتاہی نہیں کی۔ لیکن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
39: یعنی میرے چلے جانے سے قوم دو ٹکڑوں میں بٹ جاتی، کچھ لوگ میرا ساتھ دیتے، اور کچھ ان گمراہوں کا جو مجھے قتل تک کرنے کے درپے تھے جیسا کہ سورة اعراف :150 میں حضرت ہارون ؑ کی زبانی بیان فرمایا گیا ہے۔ لہذا آپ نے جو فرمایا تھا کہ اصلاح کرتے رہنا۔ مجھے اندیشہ تھا کہ ایسا کرنے سے آپ اس کے حکم کی خلاف ورزی ہوجاتی۔
Read the full tafseer →نظر آتا ہے کہ حضرت ہارون ٹھنڈے مزاج کے آدمی تھے اور حضرت موسیٰ کے مقابلے میں اپنے جذبات پر قابو رکھتے تھے۔ وہ حضرت موسیٰ کے شعور میں ایک حساس یونٹ تلاش کرتے ہیں۔ برادری ایک حساس رشتہ ہے۔ اپنے خیال کے مطابق وہ یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ اگر میں آپ کی ہدایات کے مطابق کام کرتا تو بنی اسرائیل کے اند رفرقہ بندی ہوجاتی۔ ایک گروہ بچھڑے کی حمایت میں اٹھ جاتا دوسرا میرے ساتھ ہوجاتا حالانکہ آپ کا حکم یہ تھا کہ بنی اسرائیل کی حفاظت اور نگرانی رکھ اور ان میں کوئی نئی بات پیدا ہونے نہ دو ، تو ان کو انتشار سے بچانا بھی اطاعت امر ہے۔
حضرت موسیٰ کے غضب اور غصے کا رخ سامری کی طرف مڑ جاتا ہے جس نے اس فتنے کو ایجاد…
Read the full tafseer →5 حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرط جوش میں ہارون (علیہ السلام) کی داڑھی اور سر کے بال پکڑ لیے تھے۔ اس کی مفصل بحث سورة اعراف کے فوائد میں گزر چکی۔
6 یعنی میری سمجھ میں یہ ہی آیا کہ تمہارے آنے کا انتظار کرنا اس سے بہتر ہے کہ تمہارے پیچھے کوئی ایسا کام کروں جس سے بنی اسرائیل میں پھوٹ پڑجائے۔ کیونکہ ظاہر ہے اگر مقابلہ یا انقطاع ہوتا تو کچھ لوگ میرے ساتھ ہوتے اور بہت سے مخالف رہتے۔ مجھے ڈر ہوا کہ تم آکر یہ الزام نہ دو کہ میرا انتظار کیوں نہ کیا ؟ اور قوم میں ایسا تفرقہ کیوں ڈال دیا۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " چلتے وقت موسیٰ ہارون کو نصیحت کر گئے تھے کہ سب کو متفق رکھیو۔ اس لیے انہوں نے بچھڑا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
اِنِّیْ خَشِیْتُ اَنْ تَقُوْلَ فَرَّقْتَ بَیْنَ بَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ ”
کہ تم نے ان کو تقسیم کر کے ان کے اتحاد کو پارہ پارہ کردیا۔
وَلَمْ تَرْقُبْ قَوْلِیْ ”
حضرت ہارون علیہ السلام سے باز پرس کرنے کے بعد اب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے سامری سے جواب طلب کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
65 سیدنا ہارون اگرچہ عمر میں بڑے تھے تاہم منصب کے لحاظ سے چھوٹے تھے۔ علاوہ ازیں سیدنا موسیٰ جلالی طبیعت کے مالک اور سخت جوش غضب میں تھے۔ لہذا اسی کا غضب سے مغلوب ہو کر سیدنا ہارون کی داڑھی اور سر کے بالوں کو پکڑا تھا۔ سیدنا ہارون بڑے تحمل سے کہنے لگے کہ پہلے میری بات سن لو اور میری داڑھی پکڑ کر دشمنوں کو مجھ پر ہنسنے کا موقع نہ دو ۔ بات یہ تھی کہ جب یہ لوگ شرک میں مبتلا ہوئے تو میں نے انھیں پوری سختی سے روکا تھا۔ لیکن چونکہ اکثریت اس شرک میں مبتلاتھی لہذا انہوں نے مجھے دبا لیا اور مجھے جان سے مار ڈالنے کے درپے ہوگئے تھے اور ان میں اکثر میرے دشمن بن گئے تھے۔ اب اگر میں اس معاملہ میں مزید سختی…
Read the full tafseer →109۔ (بلکہ میرا عذر تو سن لیجئے) براسی “۔ سے مراد ہے سرکے بال پکڑ کر گھسٹینا۔ جیسا کہ شدید اشتعال وغضبنا کی کی حالت میں انسان اضطرارا کر گزرتا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ غصہ تمامتر غیرت دین سے تھا، اس لیے مباح ہی نہیں، داخل عبادت تھا، ملاحظہ ہو سورة الاعراف، پ 9 کا حاشیہ۔ (آیت) ” یبنؤم “ حضرت ہارون (علیہ السلام) کا یا ابن ام کہہ کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مخاطب کرنا جلب شفقت ورأفت کے لیے ہے۔ اسرائیلیوں میں دستور بھی اسی طرز تخاطب کا تھا۔ (ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگیزیزی)
110۔ (بلکہ مفسدین کی آزادی عمل کے لیے میدان خالی چھوڑ دیا) ” حاصل مقام کا یہ ہے کہ یہاں دو اجتہاد ہیں ایک یہ کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–104
آیت نمبر 90 تا 104
ترجمہ : اور ہارون (علیہ السلام) نے ان سے پہلے یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کے واپس آنے سے پہلے کہہ دیا تھا اے میری قوم تم اس گوسالہ کی وجہ سے آزمائش میں مبتلا کر دئے گئے ہو اور بلاشبہ تمہارا رب تو رحمٰن ہے لہٰذا تم اس کی عبادت کرنے میں میری اتباع کرو اور عبادت کے معاملہ میں میری بات مانو ان لوگوں نے جواب دیا ہم تو اسی پر جمے رہیں گے یعنی اسی کی عبادت پر قائم رہیں گے موسیٰ کے ہمارے پاس واپس آنے تک موسیٰ (علیہ السلام) نے واپسی کے بعد فرمایا اے ہارون جب تم نے ان کو دیکھا کہ یہ گمراہ ہوگئے بچھڑے کی عبادت کی وجہ سے تو میرے پاس چلے آنے سے کیا امر مانع ہوا ؟ اَلاَّ تَتَّبِعَنّ میں لا…
Read the full tafseer →قال یابنوم لا تاخذ بلحیتی ولا براسی انی خشیت ان تقول فرقت بین بنی اسرآء یل ولم ترقب قولی۔ ہارون نے کہا اے میرے ماں جائے تم میری داڑھی مت پکڑو اور نہ سر کے بال پکڑو مجھ کو یہ اندیشہ
ہوا کہ (کہیں) تم کہنے لگو کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفریق ڈال دی اور میری بات کا پاس نہیں کیا۔
یَابْنَ اُمَّاے میری ماں جائے۔ بجائے بھائی کہنے کے ماں جائے کا لفظ رقت آفریں اور مہربانی طلب ہے اور حضرت موسیٰ کے دل میں اپنے لئے رقت پیدا کرنی مقصود تھی اس لئے اخی نہیں کہا اور یہ لفظ اختیار کیا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ موسیٰ ( علیہ السلام) اور ہارون اخیافی بھائی یعنی دونوں کی ماں ایک تھی ‘ لیکن صحیح بات یہ ہے کہ دونوں حقیقی…
Read the full tafseer →(94) اس پر حضرت ہارون ؑ نے حضرت موسیٰ ؑ سے عرض کیا اے میرے ماں جائے میری داڑھی نہ پکڑیں اور نہ میرے سر کے بال پکڑیں ، (ماں کا ذکر) اس لیے کردیا تاکہ حضرت موسیٰ ؑ کا غصہ ٹھنڈا ہو) مجھ کو یہ اندیشہ ہوا کہ تم کہنے لگو کہ قتل کے ذریعے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے آنے کا انتظار نہ کیا اس بنا پر میں نے ان کو قتل بھی نہ کیا (اور نہ آپ کے پاس آیا)
Read the full tafseer →قَالَ يَبْنَـؤُمَّ لَا تَاْخُذْ۔۔ : ”يَبْنَـؤُمَّ“ اصل میں ”یَا ابْنَ أُمِّیْ“ تھا، یاء کو الف سے بدلنے کے بعد حذف کردیا۔ ہارون ؑ نے موسیٰ ؑ کا دل نرم کرنے کے لیے انھیں ماں کا بیٹا کہہ کر مخاطب کیا، کیونکہ ماں کی جانب والی قرابت باپ کی جانب والی قرابت سے زیادہ شفقت، نرمی اور پیار کا تقاضا کرتی ہے۔ (شنقیطی)
اِنِّىْ خَشِيْتُ۔۔ : ہارون ؑ نے سفر جاری نہ رکھنے کا یہ عذر بیان کیا کہ یہ لوگ راستے میں بچھڑا بنا کر وہیں بیٹھ رہنے پر اڑ گئے تھے، اگر میں توحید پر قائم لوگوں کو لے کر آپ کی طرف آتا تو قوم دو حصوں میں بٹ جاتی اور اگر میں انھیں لے کر بچھڑا پوجنے والوں سے لڑتا تو پھر بھی دو دھڑے بن جاتے، جن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
(تفسیر 94-97) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یبنوم لا تاخذ ببلحیتی ولا ببراسی، حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : دائیں ہاتھ سے سر کے بال پکڑے اور بائیں ہاتھ سے داڑھی کو پکڑا۔ کیونکہ اللہ کی رضا کے لیے غیرت ان پر غالب آچکی تھی یعنی ایسا نہ کرو کہ لوگ خیال کریں گے کہ یہ آپ کی طرف سے استخفاف اور سزا ہے۔ بعض علماء نے کہا : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ بغیر استخفاف اور عقوبت کے کیا تھا جیسا کہ انسان اپنی داڑھی کو پکڑ لیتا ہے۔ یہ واقعہ سورة اعراف میں تفصیلاً گزر چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی مراد کو بہتر جانتا ہے۔
انی خشیت ان تقول فرقت بین بنی اسرآء یل یعنی مجھے اندیش ہے کہ میں نکلوں گا اور انہیں چھوڑ جائوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–97
1:۔ سعید بن منصور ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) فاضرب لہم طریقا فیا لبحر یبسا “ سے مراد ہے اپنا عصا مارا اپنا راستہ بنا لوجس پر پانی اور مٹی نہ ہو۔
2:۔ عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ کہ (آیت) ” طریقا فیا لبحر یبسا “ یعنی خشک راستہ۔
3:۔ ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھیوں نے کہا کہ فرعون آرہا ہے تم تو پکڑے گئے اور یہ دریا ہم کو گھیرے ہوئے ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری (آیت) ” لا تخف درکا ولا تخشی “ (یعنی تم خوف نہ کرو) غرق ہونے کا اور نہ کیچڑ میں دھنس جانے کا۔
4:۔ ابن منذر اور…
Read the full tafseer →[قَالَ : (ہارون نے) کہا ] [يَبْنَـؤُمَّ : اے میری ماں کے بیٹے ] [لَا تَاْخُذْ : آپ نہ پکڑیں (مجھ کو)] [بِلِحْيَتِيْ : میری داڑھی سے ] [وَلَا بِرَاْسِيْ : اور نہ میرے سر سے ] [انى: بیشک ] [خَشِيْتُ : مجھے ڈر ہوا ] [ان : کہ ] [ تَقُوْلَ : آپ کہیں گے ] [فَرَّقْتَ : تم نے تفرقہ ڈالا ] [بَيْنَ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ : بنی اسرائیل کے درمیان ] [وَلَمْ تَرْقُبْ : اور تم نے لحاظ نہیں کیا ] [قَوْلِيْ : میری بات کا ]
ل ح ی
[لَحْیًا : (ض) درخت چھیلنا۔] [اِلْتِحَائً : (افتعال) داڑھی نکلنا۔ داڑھی چھوڑنا۔]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–94
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی غیر موجودگی میں زیوروں سے سامری کا بچھڑا بنانا، اور بنی اسرائیل کا اس کو معبود بنا لینا، واپس ہو کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) پر ناراض ہونا
جب بنی اسرائیل فرعون سے چھٹکارا پا کر دریا پار ہوگئے تو اب انہیں اپنے وطن فلسطین پہنچنا تھا۔ اور ایک صحراء کو عبور کرنا تھا اس سفر میں بہت سے امور پیش آئے انہیں میں سے ایک یہ بھی تھا کہ اللہ تعالیٰ شانہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کوہ طور پر بلا کر تو ریت شریف عطا فرمائی جس کا اوپر (وَ وٰعَدْنٰکُمْ جَانِبَ الطُّوْرِ الْاَیْمَنَ ) میں تذکرہ فرمایا اور من وسلویٰ نازل ہونے اور پتھر سے پانی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–98
موسیٰ (علیہ السلام) کی کوہ طور سے واپسی اور گوسالہ پرستی کا واقعہ
قال اللہ تعالیٰ وما اعجلک عن قومک یموسی .... الیٰ .... وسع کل شیء علما۔
القصہ جب فرعون غرق ہوگیا۔ تو بنی اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ استدعا کی کہ ہمارے لیے کوئی دستور ہدایت اور قانون شریعت چاہئے کہ ہم اس پر چلیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس بارے میں حق تعالیٰ سے درخواست کی، حق تعالیٰ نے توریت عطا کرنے کا وعدہ فرمایا کہ ہم تم کو ایسی کتاب عطا کریں گے۔ جس میں احکام شریعت جمع ہوں گے اور یہ حکم۔ یا کہ ستر علماء اپنے ہمراہ لے کر کوہ طور پر آئیں تاکہ وہ اس کرامت کا جلوہ دیکھیں۔ چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی جگہ پر تو ہارون…
Read the full tafseer →67:۔ حضرت ہارون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ میں نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میں تو قطعا کوتاہی نہیں کی۔ میں نے ان کو شرک سے پوری سختی سے منع کیا۔ یہاں تک کہ وہ مشتعل ہو کر مجھے قتل کرنے لگے تھے جیسا کہ اعراف میں ہے ” اِنَّ الْقَوْمَ السْتَضْعَفُوْنِیْ وَ کَادُوْا یَقْتُلُوْنَنِیْ “ اس کے علاوہ یہ ہوسکتا تھا کہ میں شرک نہ کرنے والوں کو ساتھ لے کر شرک کرنے والوں سے جہاد کرتا تو یہ میں نے اس ڈر سے نہیں کیا کہ آپ ہی واپس آکر مجھ سے کہتے کہ تم نے بنی اسرائیل میں فرقہ بندی پیدا کردی۔ اور میری واپسی کا انتظار بھی نہ کیا ای خشیت لو قاتلت بعضھم ببعض وتفانوا و تفرقوا انت قول فرقت بین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–94
ربط آیات :
اس سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کے کوہ طور پر جانے اور تورات لانے کا ذکر ہوچکا ہے۔ آپ کی غیرحاضری میں سامری نے سونے کا بچھڑا بناڈالا اور قوم کو شرک میں مبتلا کردیا۔ اللہ نے ان کی بےعقلی کا ذکر کیا کہ بچھڑے کے مجسمے سے کر شماتی آواز سن کر اسی پر لٹو ہوگئے اور اسے معبود تسلیم کرلیا حالانکہ وہ نہ تو کسی بات کا جواب دے سکتا تھا اور نہ کسی نفع ونقصان کا مالک تھا۔ آب آج کی آیات میں ہارون (علیہ السلام) کی طرف سے قوم کو تبلیغ اور موسیٰ (علیہ السلام) کی واپسی پر ہارون (علیہ السلام) کی سرزنش کا بیان ہے اس کے ساتھ ہارون (علیہ السلام) کے عذر کا ذکر بھی ہے جو انہوں نے اپنی براء ۃ میں موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →قَالَ يَبْنَـؤُمَّ لَا تَاْخُذْ بِلِحْيَتِيْ وَلَا بِرَاْسِيْ 0ۚ اِنِّىْ خَشِيْتُ اَنْ تَقُوْلَ فَرَّقْتَ بَيْنَ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ وَلَمْ تَرْقُبْ قَوْلِيْ 94
( ابْنُ )
أصله : بنو، لقولهم في الجمع :
أَبْنَاء، وفي التصغیر : بُنَيّ ، قال تعالی: يا بُنَيَّ لا تَقْصُصْ رُؤْياكَ عَلى إِخْوَتِكَ [يوسف/ 5] ، يا بُنَيَّ إِنِّي أَرى فِي الْمَنامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ [ الصافات/ 102] ، يا بُنَيَّ لا تُشْرِكْ بِاللَّهِ [ لقمان/ 13] ، يا بنيّ لا تعبد الشیطان، وسماه بذلک لکونه بناء للأب، فإنّ الأب هو الذي بناه وجعله اللہ بناء في إيجاده، ويقال لكلّ ما يحصل من جهة شيء أو من تربیته، أو بتفقده أو كثرة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–96
تفسیر : اور موسیٰ سب سے آگے تنہا خدا کے پاس آئے جس پر خدا نے پوچھا وما اعجلک عن قومک یا موسیٰ اور خدا تعالیٰ کے پاس کوہ طور پر موسیٰ چالیس دن رات رہے ( سفر خروج 24۔ باب) اتنی دیر لگنے سے بنی اسرائیل نے غل مچا دیا کہ موسیٰ کہاں گئے۔ کسی نے کہا مرگئے۔ کسی نے کچھ کہا، اس میں ایک شخص نے کہ جس کا نام سامری تھا لوگوں سے کہا کہ آؤ میں تمہارا معبود دکھائوں کہ جو تمہیں مصر سے نکال لایا ہے۔ تم میرے پاس سونے کا زیور لاؤ چناچہ وہ اس کے پاس لائے اس نے اس کو ڈھال کر ایک بچھڑا بنا دیا اور اس میں ایک ایسا رستہ ہوا کے آنے جانے کا رکھا کہ جس سے گائے بیل کی آواز جیسی آواز پیدا ہوتی تھی۔ یہ دیکھ کر بنی اسرائیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–94
قَالَ یٰـھٰرُوْنُ مَامَنَعَکَ اِذْ رَاَیْتَھُمْ ضَلُّوْٓا۔ اَلاَّ تَتَّبِعَنِ ط اَفَـعَصَیْتَ اَمْرِیْ ۔ قَالَ یَبْنَـؤُمَّ لاَ تَاْخُذْ بِلِحْیَتِیْ وَلاَ بِرَاْسِیْ ج اِنِّیْ خَشِیْتُ اَنْ تَقُوْلَ فَرَّقْتَ بَیْنَ بَنِیْٓ اِسْرَاَئِ یْلَ وَلَمْ تَرْقُبْ قَوْلِیْ ۔ (طٰـہٰ : 92، 93، 94)
(حضرت موسیٰ نے کہا : اے ہارون ! تمہیں کس چیز نے روکا تھا جب تم نے دیکھا کہ وہ گمراہ ہورہے ہیں۔ کہ تم میری پیروی نہ کرو، کیا تم نے میرے حکم کی خلاف ورزی کی۔ حضرت ہارون نے جواب دیا، اے میرے ماں جائے ! میری ڈاڑھی نہ پکڑ نہ میرے سر کے بال کھینچ، مجھے اندیشہ ہوا کہ مبادا آپ ( علیہ السلام) یہ کہیں کہ تم نے بنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–94
فہم القرآن
ربط کلام : بنی اسرائیل کے جھوٹے معبود کی حقیقت بتلانے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی حضرت ہارون (علیہ السلام) کے ساتھ تلخی۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) قوم اور ان کے نمائندوں کو انتباہ کرنے کے بعد فارغ ہوئے تو انھوں نے توحید کی غیرت میں آکر اپنے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) کی داڑھی اور سر کے بالوں کو کھینچتے ہوئے کہا اے ہارون ! جب یہ لوگ آپ کے سامنے شرک کر رہے تھے تو آپ کو کس بات نے منع کیا تھا کہ ان کو شرک کرنے سے نہ روکے اور تجھے کون سی رکاوٹ پیش آئی کہ نیابت کرنے کی بجائے میری نافرمانی کرے۔ حضرت ہارون (علیہ السلام) نے فرمایا اے میرے مادر زاد بھائی ! میری داڑھی اور سر کے بال…
Read the full tafseer →94: پھر اپنے دائیں ہاتھ سے ان کے سر کے بال اور بائیں سے ڈاڑھی پکڑی۔ اللہ تعالیٰ کی خاطر غیرت اور غصہ کی وجہ سے اور ان پر انکار کرتے ہوئے۔ قَالَ یَبْنَؤُمَّ (کہا اے میرے ماں جائے)
قراءت : شامی اور کوفی نے سوائے حفص کے میم کے کسرہ سے پڑھا ہے۔
ہارون ( علیہ السلام) حقیقی بھائی تھے :
حضرت ہارون (علیہ السلام) جمہور علماء کے نزدیک حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے حقیقی بھائی تھے۔ مگر ماں کا تذکرہ دل میں رقت و شفقت پیدا کرنے کیلئے کیا۔ لَاتَاْخُذْ بِلِحْیَتِیْ وَلَابِرَاْسِیْ (تم میرے ڈاڑھی اور سر کے بال مت پکڑو) پھر اپنا عذر پیش کرتے ہوئے فرمایا۔ اِنِّیْ خَشِیْتُ اَنْ تَقُوْلَ (مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ تم…
Read the full tafseer →94۔ قال یا ابن ام لاتاخذ بلحیتی ولابراسی، ،، یعنی میرے سر کے بال پکڑ کر نہ کھنچئے، حضرت موسیٰ نے شدت غضب میں حضرت ہارون (علیہ السلام) کے سر کے بال کھینچے تھے ۔ انی خشیت، ، مجھے اندیشہ ہے کہ اگر میں ان کو گوسالہ پرستی سے سختی کرتا تو یہ دوگروہوں میں تقسیم ہوجاتے اور ایک دوسرے کی گردن مارتے تو آپ مجھے کہتے (ان تقول فرقت بین بینی اسرائیل) تو مجھے اس بات سے ڈر لگا کہ اگر ان کو روکوں تولامحالہ ان کے دوفرقے ہوجائیں گے ایک میرا حامی اور دوسرا وہ جس کے ساتھ میں قتال کرتا، اور پھر آپ کہتے کہ بنی اسرائیل کے تونے دوٹکڑے کردیے۔ ولم ترقب قولی، ، اور میری بات کا لحاظ نہیں رکھا، میں نے تجھ سے کہاتھ ا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–94
92۔ 94:۔ سورة اعراف میں گزر چکا ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل سے خفگی کی باتیں کرچکے تو اسی غصہ کی حالت میں انہوں نے وہ تختیاں اپنے ہاتھ میں سے زمین پر پٹخ دیں جن تختیوں پر اللہ تعالیٰ نے ان کو تورات لکھ کردی تھی اور اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) کی ڈاڑھی اور سر کے بال پکڑ کر کھینچنے لگے اسی واسطے مختصر طور پر یہاں ہارون (علیہ السلام) کی طرف سے ڈاڑھی اور سر کے بالوں کے چھوڑ دینے کی التجا کا ذکر فرمایا ڈاڑھی اور سر کے بالوں کے چھوڑ دینے کی التجا کا ذکر فرمایا ڈاڑھی اور سر کے بالوں کے پکڑنے کا ذکر نہیں فرمایا حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے فقط اس خیال سے ہارون (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
آیات (94)
یعنی بچھڑے کو معبود بنانے میں وہ معذور نہیں تھا۔ اگر وہ بچھڑے کی عبادت کے بارے میں کسی شبہ میں مبتلا ہوگئے تھے تو ہارون (علیہ السلام) نے ان کو بہت روکا تھا اور ان کو آگاہ کردیا تھا کہ یہ ان کی آزمائش ہے۔ ان کا رب تو رحمن ہے، جس کی طرف سے تمام ظاہری اور باطنی نعمتوں کا فیضان جاری ہے اور وہ تمام تکالیف کو دور کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا ہے کہ وہ ہارون (علیہ السلام) کی اتباع کریں اور بچھڑے کو چھوڑ دیں، مگر انہوں نے ایسا نہ کیا اور کہنے لگے : (لن نبرح علیہ عکفین حتی یرجع الینا موسیٰ ) ” موسیٰ (علیہ السلام) کے آنے تک ہم تو اسی کی عبادت و تعظیم میں لگے رہیں گے “۔ اور موسیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–135
قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “
Read the full tafseer →94 حضرت ہارون کا جواب اور بیان عذر : سو حضرت ہارون نے اس کے جواب میں کہا کہ " مجھے اس بات کا اندیشہ تھا کہ کہیں کسی سخت اقدام سے ان میں تفریق نہ پیدا ہوجائے "۔ یعنی میں نے ان لوگوں کو سمجھانے کی تو اپنی طرف سے پوری کوشش کی مگر انہوں نے میری کوئی بات نہ سنی۔ یہاں تک کہ یہ میرے قتل کے درپے ہوگئے۔ تب میں نے خاموشی اختیار کرلی کہ کہیں قوم کے اندر خانہ جنگی نہ بپا ہوجائے اور پھر آپ آ کر مجھ سے کہیں کہ تم نے میرا انتظار کیوں نہیں کیا اور قوم کو آپس میں کیوں لڑوا دیا۔ آیت کریمہ کا یہ مطلب سورة اعراف کی آیت نمبر 15 کی روشنی میں واضح ہوتا ہے۔ ورنہ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوسکتا کہ میں نے قوم کے اتحاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–98
دریا کا پھٹنا، فرعون کا غرق ہونا، من و سلوٰی کا نزول اور بچھڑے کی پوجا
تشریح : ان آیات میں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کا وہ حصہ بیان کیا گیا ہے۔ جس میں آپ کو حکم دیا گیا کہ ” میرے بندوں کو، ، اس سے مراد بنی اسرائیل اور مسلمان ہیں۔ ان لوگوں پر فرعون حد سے زیادہ ظلم کرتا تھا لے کر نکل جاؤ، لہٰذا سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سب کو اکٹھا کیا اور رات کی تاریکی میں نکل پڑے جب سمندر کے کنارے پہنچے تو فرعون کا لشکر ان کے تعاقب میں آپہنچا۔ ظاہر ہے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے خطرے اور پانی کے ڈر سے گھبرائے تو اس وقت ایک اور بہت بڑا معجزہ وجود میں آیا۔ اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ سے کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–104
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
ہارون (علیہ السلام) نے فورا ان لوگوں کو اس کام سے باز رہنے کی تلقین فرمائی اور فرمایا تم ایک بڑی آزمائش میں پھنس گئے ہو اور گمراہ ہو رہے ہو ، لوگو تمہارا معبود تو بہت بڑا رحم کرنے والا ہے جو اس نافرمانی پر بھی تمہیں کسی فوری عذاب میں مبتلا نہیں کر رہا ، لہذا توبہ کرو اور میری پیروی کرو اور میری یہ بات ضرور مان لو مگر وہ نہ مانے بلکہ کہنے لگے کہ جب تک موسیٰ (علیہ السلام) واپس نہ آجائیں ہم تو اسی کی پوجا کرتے رہیں گے ، مفسرین کے مطابق بنی اسرائیل تین گروہوں میں بٹ گئے تھے ، ایک گروہ حضرت ہارون (علیہ السلام) کی پیروی پہ قائم رہا مگر ان کی تعداد کم تھی دوسرا گروہ بچھڑے…
Read the full tafseer →ف 8 جمہور مفسرین کے قول کے مطاب قحضرت موسیٰ حضرت ہارون کے سگے بھائی تھے لیکن ہارون نے شفقت کے طور پر انہیں ” اے میری ماں کے بیٹے “ کہہ کر پکارا تاکہ انہیں رحم آئے اور ان کے دل میں نرمی پیدا ہو۔ خصوصاً جبکہ ان کی والدہ جیسا کہ کہا جاتا ہے ایک باایمان خاتون تھیں۔ (شوکانی)9 بات سے مراد حضرت موسیٰ کی یہی وصیت ہے جس کا اوپر ” امری “ کے تحت ذکر ہوا، اس کا (یعنی واحد ترقب قولی) کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تو نے میری ہدایت اور واپسی کا انتظار نہ کیا۔ یہاں حضرت ہارون کا صرف اتنا جواب بیان کیا گیا ہے۔ سورة اعراف میں ہے کہ انہوں نے یہ بھی کہا ان القوم استصعفونی وکادوا یقنلوننی “ یعنی قوم نے مجھے…
Read the full tafseer →(20:94) یا بنؤم اصل میں یا بنؤمی تھا (یائے متکلم کی طرف اضافت کے ساتھ یاء کو حذف کیا اور الف سے بدلا یا بنؤما ہوگیا۔ پھر الف مبدلہ کو حذف کردیا گیا یا بنؤم بن گیا۔ بعض نے اس مشکل کا آسان ترین حل یہ بیان کیا ہے کہ یا بنؤم یا بنعم کی طرح کلام میں بکثرت استعمال کی وجہ سے تحریر میں بھی اسیے ہی استعمال ہونے لگا۔
انی خشیت ان تقول فرقت بینی وبین بنی اسرائیل۔ الخ۔ ای انی خشیت لو انکرت علیہم لصارو حزبین یقتل بعضہم بعضا فتقول فرقت۔۔ الخ یعنی مجھے ڈر تھا کہ اگر میں نے سختی سے ان کی مخالفت کی یا ان کے فعل میں چون وچرا کی تو وہ دو گروہوں میں بٹ جائیں گے اور ایک دوسرے سے برسر پیکار ہوجائیں گے پھر آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–98
لغات القرآن آیت نمبر 90 تا 98
فتنتم تم آزمائش میں ڈالے گئے۔ لننبرح ہم ہرگز نہ کریں گے۔ عکفین جم کر بیٹھنے والے۔ عصیت تو نے نافرمانی کی۔ یا بنوم اے میری ماں کے بیٹے۔ لاحیۃ داڑھی۔ خشیت میں ڈر گیا۔ فرقت تو نے تفرقہ ڈال دیا۔ لڑا دیا۔ خطبک تیرا کہنا، تیرا حال۔ بصرت میں نے دیکھا۔ قبضت میں نے اٹھا لیا۔ اثر الرسول فرشتے کا قدم، فرشتے کا نشان قدم۔ سولت گھڑ لیا، پھسلا دیا۔ لامساس نہ چھونا، ہاتھ نہ لگانا۔ ظلت تو (بیٹھا) رہا۔ نحرقن ہم ضرور جلا ڈالیں گے۔ ننسفن ہم ضرور بکھیر دیں گے۔
تشریح :- آیت نمبر 90 تا 98
جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور پر پہنچ گئے اس وقت بنی اسرائیل کے اکثر لوگوں نے سامری کے فریب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–95
ان آیات میں سامری پر غصہ ہونے کا ذکر ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سامری کی طرف متوجہ ہوئے کہ تو نے ایسا کیوں کیا۔ اس نے کہا :” مجھ کو وہ بات نظر آئی جو ان کو نہ آئی۔ یعنی حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کے گھوڑے کی میں نے خاصییت دیکھی کہ جہاں وہ قدم رکھتا تھا، زمین سرسبز ہوجاتی تھی۔ پس میں نے اس مٹی کو متبرک پا کر ایک مٹھی بھر لی تھی۔ پھر میں نے اس کو ڈھلے ہوئے بچھڑے میں ڈال دیا، جس کو میں نے اپنی ہی ہوائے نفسانی سے کیا، کوئی دوسرا اس کا محرک نہ تھا “۔ اس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے سامری سے کہا کہ تیرے اس جرم کی سزا یہ ہے کہ جب تک تو زندہ رہے گا جنگل میں مارا مارا پھرے گا، اور سب سے علیحدہ رہے گا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
[40] ہارون (علیہ السلام) کے جواب کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ قوم کے افراد کے درمیان اتفاق و اتحاد ان کے راہ راست پر رہنے سے زیادہ اہم ہے۔ اس آیت کا یہ مطلب اگر کوئی شخص لے گا تو قرآن سے ہدایت کی بجائے گمراہی حاصل کرے گا۔ ہارون (علیہ السلام) کی پوری بات سمجھنے کے لئے اس آیت کو سورة اعراف کی آیت 150 سے ملایا جائے تو واقعہ کی یہ تفصیل سامنے آتی ہے کہ ہارون (علیہ السلام) نے لوگوں کو گمراہی سے روکنے کی پوری کوشش کی مگر انہوں نے نہ مانا بلکہ آپ کو مار ڈالنے پر آمادہ ہوگئے۔ مجبوراً آپ اس اندیشے سے خاموش ہوگئے کہ کہیں موسیٰ (علیہ السلام) کے واپس آنے سے پہلے قوم میں پھوٹ نہ پڑجائے اور خانہ جنگی برپا نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی غیرت دینی :
(ف 1) موسیٰ (علیہ السلام) قوم کی اس بت پرستی کی حرکت سے سخت طیش میں تھے ، فرط غضب میں انہوں نے حضرت ہارون (علیہ السلام) سے بھی سختی کے ساتھ باز پرس کی اور کہا کہ تم نے یہ سب کچھ کیوں اپنے سامنے ہونے دیا یہاں چند باتیں قابل غور ہیں ۔
1۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طبیعت میں فطرتا سختی تھی ، اور ایسا ہونا ضروری بھی تھا کیونکہ مقابلہ فرعون سے تھا ، اور اس کی قوم کے جبارہ سے ۔
2۔ یہ غضب ذاتی طور پر نہ تھا ، بلکہ دین کے مقابلے میں محض اللہ کی محبت کے جوش سے تھا ،
3۔ واقعات اسی نوع کے تھے کہ موسیٰ (علیہ السلام) جیسے پیغمبر کا غصہ سے بےتاب ہوجانا بالکل اضطراری…
Read the full tafseer →-94 ہارون نے کہا اے میری ماں کے بیٹے یعنی اے بھائی میری داڑھی اور میرے سر کے بال نہ پکڑ میں تو اس بات سے ڈرا کر کہیں آپ یوں نہ فرمائیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفریق اور پھوٹ ڈلوا دی اور میری بات کا پاس نہ کیا اور لحاظ نہ رکھا۔ یعنی اگر میں مسلمانوں کو لے کر مقابلہ کرتا یا آپ کے پاس چلا آتا دونوں صورتوں میں اس کا اندیشہ تھا کہ آپ فرماتے تو نے بنی اسرائیل میں باہمی تفریق اور خانہ جنگی ڈلوا دی میں نے اس ڈر سے نہتو مقابلہ کیا اور نہ گوسالہ پرستوں کو چھوڑ کر آپ کے پاس آیا۔
Read the full tafseer →ف 5۔ حاصل مقام کا یہ ہے کہ یہاں دو اجتہاد ہیں، ایک یہ کہ ترک مساکنت زیادہ نافع تھی، دوسرا یہ کہ ترک مساکنت زیادہ مضر تھی، موسیٰ (علیہ السلام) کا ذہن اجتہاد اول کی طرف گیا اور ہارون (علیہ السلام) کا ذہن دوسرے اجتہاد کی طرف گیا۔
Read the full tafseer →ہارون (علیہ السلام) نے یقینا جواب دینا ہی تھا لہذا انہوں نے جواب دیا :
94۔ اب سیدنا ہارون (علیہ السلام) بھی گویا ہوئے اور پنے جلال طبیعت کے مالک بھائی کو جواب دیا کہ ” اے میری ماں جائے ! میرا سر اور داڑھی مت پکڑو ‘ میں اس بات کے خوف سے کہ کہیں بنی اسرائیل کے اندر مخالفت کی آگ نہ جل جائے “ اور پوری قوم کی قوم کو بھسم کر کے نہ رکھ دے اور سارا معاملہ چوڑ چپٹ نہ ہوجائے ذرا نرم انداز اختیار کیا اور اس شرارت کے نکالنے والوں کو فورا سزا نہیں دی کہ کہیں گروہی تصادم نہ ہوجائے اور آپ واپس آکر زیادہ پریشان نہ ہوں اور یہ لوگ ساتھ ساتھ یہ کہہ بھی رہے تھے کہ ہم اس حرکت سے یقینا باز آجائیں گے لیکن اس وقت جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–95
Commentary
When the Bani Isra'il were smitten with the mischief of calf-worship Sayyidna Harun (علیہ السلام) as the deputy of Sayyidna Musa (علیہ السلام) remonstrated with them but to no avail. They split into three factions. Those who remained loyal to Sayyidna Harun (علیہ السلام) and refused to be misled by Samiri and who numbered, according to Qurtubi, twelve thousand. The second faction adopted calf-worship with the reservation that if Sayyidna Musa (علیہ السلام) ، on his return, forbade them they would give it up. The third faction consisted of zealots who believed that Sayyidna Musa…
Read the full tafseer →71. See (Surah Al-Aaraf, Ayat 150).
72. It can also be interpreted like this: You did not wait for orders from me. In order to understand fully the statement of Prophet Aaron (peace be upon him), one should read this verse along with (verse 150 of Surah Al-Aaraf), where he says: Son of my mother, these people overpowered me and were going to kill me. So, let not the enemies gloat over me. Do not count me among the people who have done wrong. Now if both these verses are read together, one can easily see the true picture of the event. Prophet Aaron (peace be upon him) did his utmost to stop…
Read the full tafseer →