Ayahs 20:1–8تقریر رسالت و وحدانیت
قال اللہ تعالیٰ ۔ طٰہٰ مآ انزلنا علیک القراٰن لتشقٰی۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ لہ الاسمآء الحسنٰی
(ربط) گزشتہ سورت کے ختم پر نزول قرآن کا ذکر تھا۔ فانما یسرناہ بلسانک لتبشر بہ المتقین الخ یعنی ہم نے قرآن آپ ﷺ کی زبان یعنی عربی میں اس لیے نازل کیا تاکہ آپ ﷺ کو متقین کی تبشیر اور معاندین کا انداز آسان ہوجائے اب اس سورت کے شروع میں انزال قرآن کی حکمت بیان فرماتے ہیں کہ اس قرآن کے نازل کرنے سے ہمارا مقصود نصیحت اور مرعظت اور بندوں کی ہدایت ہے کہ ان کو زمین اور آسمان کے پیدا کرنے والے کی معرفت حاصل ہو اور سمجھیں کہ لائق عبادت وہی معبود برحق ہے جس کی قدرت اور جس کا علم تمام کائنات کو محیط ہے۔
ابتداء میں جب آں حضرت ﷺ پر وحی کا نزول شروع ہوا تو آپ ﷺ نماز تہجد میں اس قدر طویل قیام فرماتے کہ قدم مبارک ورم کر جاتے۔ بدبخت کافروں کو جب یہ حال معلوم ہوا تو کہنے لگے کہ اس شخص پر قرآن نازل کیا یہ تو اور مشقت میں پڑگیا۔ اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔
طٰہٰ واللہ اعلم بمرادہ بذالک اے نبی ﷺ ہم نے آپ ﷺ پر قرآن اس لیے نازل نہیں کیا کہ آپ ایسی مشقت اور تعب میں پڑجائیں لیکن یہ قرآن تو ہم نے اس شخص کی نصیحت کے لیے نازل کیا ہے جو خدا سے ڈرتا ہو۔ لہٰذا آپ ﷺ کسی کے کہنے سے رنجیدہ اور ملول نہ ہوں جس کی قسمت میں ڈرنا ہے وہ مانے گا۔ جس قدر آپ ﷺ کو آسان ہو اتنا پڑھ لیا کیجیے۔ فاقرء وا ما تیسر منہ اور اس قدر تعب اور مشقت میں نہ پڑیے۔ مشرکین یہ خیال نہ کریں کہ اللہ نے آپ ﷺ پر کوئی مشقت اور تعب کی چیز نازل کی ہے بلکہ وہ ایک خیر کثیر اور کتاب حکمت اور موعظت ہے۔ اور مشعل ہدایت اور ابر رحمت اور سامان سعادت ہے۔ مطلب یہ کہ یہ قرآن رحمت کے لیے نازل کیا ہے نہ کہ زحمت کے لیے۔
یا یہ معنی ہیں کہ یہ قرآن ہم نے آپ ﷺ پر اس لیے نازل نہیں کیا کہ آپ ﷺ ان سرکشوں کے ایمان نہ لانے کی وجہ سے رنج اور حسرت میں پڑجائیں بلکہ اس لیے نازل کیا ہے کہ آپ ﷺ اس کے ذریعے ان کو نصیحت کریں اور ان منکرین اور معاندین کی باتوں سے ملول اور تنگ دل نہ ہوں۔ آپ ﷺ ان کو تبلیغ اور نصیحت کرچکے، اب ان کو اختیار ہے کہ چاہیں ایمان لائیں یا نہ لائیں۔ اور یہ مضمون اس قسم کا ہے جیسا کہ دوسری آیت میں ہے۔ فلعلک باخع نفسک عآٰی اٰثارھم ان لم یؤ منو ا بھٰذا الحدیث اسفا۔ فلا یکن فی صدرک حرج منہ۔ ولا یحزنک الذین یسا رعون فی الکفر۔
مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ ان کی دعوت اور نصیحت میں جس قدر مشقت اٹھا سکتے تھے وہ آپ ﷺ نے اٹھا لی۔ آپ ﷺ ان کے رنج و غم میں اپنی جان ہلاک نہ کیجیے اور یہ قرآن آپ ﷺ پر اس ذات کی طرف سے نازل ہوا ہے جس نے زمین کو اور بلند آسمانوں کو پیدا کیا۔ وہ رحمٰن ہے جو عرش پر قائم اور جلوہ فرما ہے۔ بمقتضائے رحمانیت اس نے بندوں کی ہدایت اور اصلاح کے لیے آپ ﷺ پر یہ قرآن نازل کیا ہے اور آپ ﷺ کے قلب مبارک کو اس نور ہدایت کے لیے کوہ طور سے بڑھ کر مضبوط اور محکم بنایا ہے۔ ہر شخص کا دل ان انوار و تجلیات کو برداشت نہیں کرسکتا۔ استواء علی العرش کی مفصل تفسیر سورة اعراف میں گذر چکی ہے، وہاں دیکھ لی جائے۔ اہل سنت کا مسلک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بلا مکان اور بلا جہت کے اور بلا حد اور بلا کیفیت کے عرش پر قائم ہے جو اس کی شان کے لائق ہے۔ عرش عظیم باری تعالیٰ کا جلوہ گاہ ہے۔ عرش اس کا مستقر اور جائے قرار نہیں اس لیے کہ وہ نہ مکان کا محتاج ہے اور نہ کسی تخت اور جہت کا محتاج ہے اور نہ عرش اس کو اٹھائے ہوئے ہے اور نہ تھامے ہوئے ہے بلکہ اللہ کی قدرت عرش عظیم کو تھامے اور اٹھائے ہوئے ہے۔ عرش اللہ تعالیٰ کا مخلوق اور پیدا کردہ ایک جسم ہے جو محدود اور متناہی ہے اور یہ ناممکن اور محال ہے کہ کوئی شے خالق کو اٹھا سکے اور تھام سکے۔ عرش اور مکان بنانے سے پہلے اللہ تعالیٰ جس شان سے تھا عرش اور مکان کے پیدا کرنے کے بعد بھی اسی شان سے ہے۔ معاذ اللہ خدا تعالیٰ کا کوئی جسم نہیں۔ جو کسی دوسرے جسم پر مستقر اور متمکن ہو سکے۔ (نظم)
نے مکاں راہ یافت سویش نے زماں نے بیاں دارد خبر زو نے عیاں
ایں ہمہ مخلوق حکم دا ور است کالق عالم ز عالم برتر است
اللہ ہی کی ملک ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور جو کچھ گیلی مٹی کے نیچے ہے۔ یعنی جو چیز زمین کی تہہ میں ہے وہ بھی اس کی ملک ہے۔ گیلی میٹی ساتویں زمین کے نیچے ہے۔ مطل یہ ہے کہ بلندی و پستی سب اسی کے قبضہء تصرف میں ہے اور سب پر اسکی نظر رحمت ہے۔
یہ تو اللہ کی قدرت ہوئی اور اللہ کے علم کی شان یہ ہے کہ اے مخاطب اگر تو کوئی بات پکار کر کہے تو اس کے سننے میں تو کیا شبہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے سننے میں کسی جہر کا اور کسی آواز کا محتاج نہیں۔ وہ تو ایسا ہے کہ اس کو پوشیدہ بات کا اور پوشیدہ سے زیادہ پوشیدہ بات کا بھی علم ہے یعنی اللہ تعالیٰ پر تو دل کے خطرات بھی پوشیدہ نہیں۔ ” سر “ کے معنی آہستہ اور پوشیدہ بات کے ہیں جو دوسروں سے چھپا کر کرے اور ” اخفیٰ “ وہ بات ہے جو اپنی دل میں رکھے اور کسی سے بھی ظاہر نہ کرے۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ تمام اچھے نام اور تمام عمدہ صفات اور کمالات اسی کے لیے ہیں۔ ربوبیت اور خالقیت اور رزاقیت اور مالکیت اور تمام صفات فاضلہ اسی کے لیے مخصوص ہیں۔ اور کسی میں یہ صفات نہیں پائی جاتیں۔ اور یہ قرآن اسی ذات مقدس کی نازل کردہ کتاب ہے کہ جو تمام چیزوں کی مالک ہے اور تمام ظاہر و باطن کی عالم ہے، اور تمام کائنات کی مربی ہے۔ پس جس پر ایسی مقدس اور مبارک کتاب نازل ہوگی وہ مشقت اور مصیبت میں نہیں پڑ سکتا۔ اسی کتاب کو رحمٰن نے عرش عظیم سے نازل فرمایا ہے۔ اس کتاب کا نزول رحمت کی دلیل ہے نہ کہ زحمت اور مشقت کی علامت ہے۔
Ayahs 20:9–36تفصیل قصہ موسیٰ (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ ۔ وھل اتٰک حدیث موسٰی۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ واتبع ھوٰہ فتردٰی
(ربط) اوپر کی آیتوں میں اللہ کی توحید اور آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کا بیان تھا اب آگے موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بسط اور تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے مقابلہ میں کس طرح اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور وحدانیت کو ثابت کیا۔ اور دلیل نبوت یہی ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) آگ لینے کے لیے گئے اللہ کے فضل سے ان کو نبوت مل گئی اور عصا اور ید بیضاء کا معجزہ عطا ہوا۔ اسی طرح اگر اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے محمد رسول اللہ ﷺ کو نبوت عطا کر دے تو کیا بعید ہے۔
نیز اس قصہ کے بیان سے آں حضرت ﷺ کی تسلی بھی مقصود ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی طرح آپ ﷺ کو بھی دعوت اور تبلیغ میں طرح طرح کی مصیبتیں اور مشقتیں پیش آئیں گی۔ آپ ﷺ بھی ان کی طرح صبر کیجیے بالآخر اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو بھی موسیٰ (علیہ السلام) کی طرح غلبہ عطا فرمائے گا۔ اور فرعون کی طرح ان متکبرین کی ظاہری شان و شوکت سب خاک میں مل جائے گی۔ چناچہ فرماتے ہیں :
اور اے نبی ﷺ بھلا آپ ﷺ کو موسیٰ (علیہ السلام) کی خبر بھی پہنچی ہے کہ کس طرح انہوں نے سختیوں پر صبر کیا۔ آپ ﷺ بھی تحمل شدائد میں ان کی اقتداء کیجیے۔ کیونکہ توریت میں آپ ﷺ کو موسیٰ (علیہ السلام) کے مانند کہا گیا ہے جس کو علماء بنی اسرائیل خوب جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی کے موسیٰ (علیہ السلام) کو اس بات سے آگاہ کیا تھا کہ ” میں بنی اسرائیل کے بھائیوں (یعنی بنی اسمٰعیل) میں سے تیری مانند ایک نبی برپا کروں گا پس اسی مماثلت اور مشابہت کے ثابت کرنے کے لیے قرآن کریم میں جابجا موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بیان کیا گیا ہے تاکہ لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ آپ ﷺ بلاشبہ وہی نبی ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے تورات میں موسیٰ (علیہ السلام) کے مانند کہا ہے۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے مدین سے واپس ہوتے ہوئے راستہ میں ایک آگ دیکھی۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حضرت شعیب (علیہ السلام) سے اپنے ماں باپ اور بھائی کو دیکھنے کے لیے مصر جانے کی اجازت چاہی تو شعیب (علیہ السلام) نے ان کو اجازت دے دی اور ان کی بیوی کو ان کے ساتھ روانہ کردیا۔ سردی کا موسم تھا اور اندھیری رات تھی، راستہ بھول گئے۔ اسی پریشانی میں تھے کہ کوہ طور پر دور سے ایک آگ دیکھی تو اپنی بیوی سے جن کا نام صفوریا یا صفورہ تھا یا گھر والوں سے کہا، شاید بیوی کے علاوہ کوئی خادم وغیرہ بھی ساتھ ہو یہ کہا کہ تم یہیں ٹھہرو۔ میرے پیچھے پیچھے مت آنا۔ میں نے ایک آگ دیکھی ہے۔ میں وہاں جاتا ہوں، شاید میں تمہارے واسطے اس آگ میں سے ایک شعلا لاؤں یا شاید پاؤں آگ کے پاس راستہ کا اتہ پتہ یعنی شاید وہاں کوئی شخص ایسا مل جائے جو مجھے راستہ بتلا دے۔ یہ اس وقت کا واقعہ ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) اپنی بیوی صفورا دختر شعیب (علیہ السلام) کو اپنے ساتھ لیے مدین سے مصر کو واپس آرہے تھے۔ جاڑوں کا موسم اور رات کا وقت تھا۔ بیوی کو حمل تھا۔ آج کل میں بچہ پیدا ہونے والا تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) راستہ بھول کر دوسرے راستہ پر پڑگئے۔ کوہ طور کے قریب جا پہنچے۔ سردی کی وجہ سے بےقرار تھے یکایک دور سے ایک آگ نظر آئی۔ حقیقت میں وہ آگ نہ تھی بلکہ وہ نور الٰہی تھا جو آگ کی صورت میں نظر آیا اور موسیٰ (علیہ السلام) اس کو آگ سمجھے۔
جمہور مفسرین کا قول یہ ہے کہ وہ دراصل نار نہ تھی بلکہ نور الٰہی کی ایک تجلی تھی۔ چونکہ موسیٰ (علیہ السلام) نار (آگ) کی تلاش میں نکلے تھے اور آگ ہی ان کا مطلوب اور مقصود تھا۔ اس لیے نور الٰہی بصورت نار متجلی اور نمودار ہوا۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) اس نور الٰہی کو نار سمجھے اس لیے نور کو نار سے تعبیر کیا گیا۔ اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ وہ حقیقۃً آگ تھی اور بارگاہ خداوندی کے حجابات میں سے ایک حجاب تھی۔ جیسا کہ صحیح مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ من جملہ حجابات خداوندی۔ اللہ کا ایک حجاب آگ ہے۔ اگر اللہ اس حجاب کو اٹھا لے تو اس بےچون و چگون وجہ (منہ) کے سبحات جلال یعنی انوار و تجلیات جہاں تک پہنچیں سب کو جلا کر بھسم کردیں۔ (رواہ مسلم)
نکتہ : موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنی اہلیہ اور اہل کو بلفظ امکثوا بصیغۂ جمع مذکر خطاب کرنا بطریق تکریم تھا۔ جیسے رحمۃ اللہ وبرکاتہ علیکم اھل البیت میں بصیغہ جمع مذکر خطاب تکریم ہے۔ اور جیسے انمایرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت و یطھرکم تطھیرا میں ازواج مطہرات کو بصیغہ جمع مذکر بغرض تکریم خطاب کیا گیا ہے۔
پھر جب موسیٰ (علیہ السلام) اس آگ کے پاس پہنچے تو من جانب اللہ آواز دی گئی اے موسٰی (علیہ السلام) بلاشبہ میں تیرا رب ہوں جو تجھ سے کلام کر رہا ہوں اور دوسری آیت میں اس طرح آیا ہے نودی من شا طئی الوادی الایمن فی البقعۃ المبا رکۃ من الشجرۃ ان یا موسٰٓی انی انا اللہ یعنی موسیٰ (علیہ السلام) جب اس مبارک وادی میں درخت کے قریب پہنچے تو یہ آواز سنی کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! میں تیرا پروردگار ہوں گویا کہ یہ درخت بلا تشبیہ و تمثیل ایک غیبی ٹیلیفون تھا۔ جس میں سے یہ آواز سنائی دے رہی تھی۔ امام احمد (رح) نے وہب (رح) سے نقل کیا ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ آواز سنی یموسٰی اے موسیٰ (علیہ السلام) تو فورا لبیک کہا کئی بار یہ آواز سنی اور ہر بار یہی جواب دیا لبیک لیکن ان کو یہ معلوم نہ ہوا کہ پکارنے والا کون ہے اس لیے بولے کہ اے پکارنے والے میں آواز سنتا ہوں اور تیری جگہ نہیں دیکھتا کہ تو کہاں ہے اور کدھر ہے۔ پکارنے والے نے جواب دیا کہ میں تیرے اوپر اور تیرے ساتھ اور تیرے آگے اور تیرے پیچھے اور تیرے تجھ سے زیادہ قریب ہوں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے جب یہ سنا تو جان لیا اور یقین کرلیا کہ یہ پکارنے والا اللہ عزوجل ہے کیونکہ یہ صفات مذکورہ سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی میں نہیں۔
نیز روایت کیا جاتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ کلام جمیع جہات سے اور تمام اجزاء بدن نے سنا گویا کہ تمام اعضاء بدن کان ہی کان تھے۔ اس لیے بدیہی طور پر جان لیا کہ یہ شان اللہ کے کلام کی ہی ہوسکتی ہے۔ (دیکھو تفسیر کبیر صفحہ 13 ج 6 و روح المعانی ص 153 ج 16)
پس چونکہ میں تیرا رب ہوں اور تجھ سے کلام کر رہا ہوں اس لیے ادب اور احترام کا تقاضا یہ ہے کہ تو اپنی دونوں جوتیاں نکال دے کیونکہ تو ایک پاک وادی میں ہے جس کا نام طویٰ ہے۔ اس لیے سلف صالحین کا یہ طریقہ رہا ہے کہ برہنہ پا۔ خانہ کعبہ کا طواف کرتے تھے۔ تواضع اور ادب کا طریقہ یہی ہے کہ بادشاہوں کے فرش پر جوتے پہن کر نہیں جاتے اور بعض کہتے ہیں کہ وہ جوتیاں مردار گدھے کے چمڑے کی تھیں یا ان میں کوئی ناپاکی لگی ہوئی تھی۔ اس لیے ان کے نکالنے کا حکم ہوا۔ اس حکم کا منشا بھی وہی ادب اور احترام ہے۔ اور ظاہر یہی ہے کہ جوتیاں اتارنے کا حکم ادب اور احترام کی بنا پر دیا گیا ہے کہ مقامات متبرکہ و مقدسہ کا ادب یہی ہے کہ آدمی ننگے پاؤں ہو تاکہ وہاں کی مٹی کی برکت پاؤں کو پہنچے۔ جیسا کہ خانہ کعبہ کا ادب یہ ہے کہ اس میں برہنہ پا داخل ہو اور ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے بشیربن خصاصیہ ؓ کو دیکھا کہ جوتے پہنے ہوئے قبروں کے درمیان سے گزر رہے ہیں تو آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا : اذا کنت فی مثل ھٰذا المکان فاخلع نعلیک قال نخلع تھا (اے بشیر جب تو ایسی جگہ میں ہو تو جوتے اتار دیا کر بشیر کہتے ہیں کہ میں نے فورا جوتے اتار دیے۔ )
حضرت علی ؓ اور سعید بن جبیر (رح) اور حسن بصری (رح) اور ابن جریج (رح) سے بھی یہی منقول ہے کہ ادب اور تواضع کا تقاضا یہی ہے کہ دعا اور مناجات کے وقت جوتے اتار دین چاہئیں۔ تفصیل کے لیے تفسیر قرطبی ص 173 ج 11 دیکھیں۔
عطائے خلعت نبوت و رسالت
یہ ابتدا وحی اور آغاز تکلیم خداوندی کا بیان تھا۔ اب آگے خلعت نبوت و رسالت کے عطا کیے جانے کا ذکر فرماتے ہیں۔ اور اے موسیٰ میں نے تجھ کو اپنی نبوت و رسالت کے لیے منتخب کیا اور تجھ کو اپنا برگزیدہ بنایا۔ جیسا کہ دوسری آیت میں ہے انی اسطفیتک علی النس برسٰلٰتی و بکلٰمی یعنی اے موسیٰ (علیہ السلام) میں نے تجھ کو اپنی رسالت اور کلام کے لیے چھانٹ لیا۔ غرض یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اول موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام کیا اور اسی وقت اور اسی مکان میں ان کو نبوت و رسالت کا خلعت عطا فرما دیا کہ ہم نے تم کو اپنا نبی اور رسول بنایا اور اسوقت ان کی عمر چالیس سال تھی۔ پس اے موسیٰ خوب غور سے سنو اس وحی کو جو تمہاری طرف کی جائے اس کے سننے کے لیے ہمہ تن گوش بن جاؤ۔ اور وحی یہ ہے کہ میں ہی اللہ ہوں میرے سوا کوئی معبود نہیں، سو میری عبادت کرو اور میری یاد کے لیے نماز کو قائم و دائم رکھو۔ اس لیے کہ تحقیق قیامت اپنے مقرر وقت پر ضرور آنے والی ہے۔ اس دن عبادت گزاروں اور اطاعت شعاروں کو ان کی عبادت اور اطاعت کا اجر ملے گا، اس کے لیے تیار رہو۔ میں یہ چاہتا ہوں کہ قیامت کے وقت کو تمام خلائق سے مخفی اور پوشیدہ رکھوں اور کسی کو اس پر مطلع نہ کروں۔ ایک حدیث میں ہے کہ جو مرگیا اس کی قیامت قائم ہوگئی۔ موت ” قیامت صغریٰ “ ہے اللہ تعالیٰ نے اس کا وقت بھی پوشیدہ رکھا ہے اور قیامت قائم کرنے اور اس کے وقت کے پوشیدہ رکھنے میں حکمت یہ ہے کہ ہر شخص کو اس کی سعی اور جدوجہد کا معاوضہ اور بدلہ وقت مقررہ پر مل جائے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اعمال کی جزا و سزا کے لیے ایک وقت مقرر فرمایا تاکہ لوگ اس دن کے لیے تیاری کرلیں مگر اس کا وقت کسی کو نہیں بتلایا۔ اس لیے کہ جب انسان کو اپنی موت کا یا قیامت کا وقت معلوم ہوجائے گا تو بےفکری کے ساتھ معاصی میں مشغول رہے گا اور سمجھے گا کہ جب موت کا وقت قریب آئے گا اس وقت توبہ کرلوں گا اور اس کو یہ معلوم نہیں کہ توبہ بھی اس کے اختیار میں نہیں۔ جب بےباکی کے ساتھ معاصی کا ارتکاب کرے گا تو دل سیاہ ہوجائے گا اور ایمان اور عمل صالح سے متنفرہو جائے گا تو توبہ کیسے کرے گا ؟
پس تم قیامت کے لیے تیار رہو۔ مبادا تم کو قیامت کی تصدیق سے یا اس کے مراقبہ یا اس کی تیاری سے یا اس کے فکر سے وہ شخص باز نہ رکھے جو آخرت پر یقین نہیں رکھتا۔ اور اپنی نفسانی خواہشات کا پیرو بن گیا ہے۔ جدھر اس کی نفسانی خواہش اس کو لے جاتی ہے ادھر دوڑا چلا جاتا ہے۔ پس مبادا اس شخص کی طرح تو بھی ہلاک ہوجائے۔ خطاب موسیٰ (علیہ السلام) کو ہے مگر مقصود سنانا اوروں کو ہے۔ یعنی ان کی راحت مراد ہے کہ قیامت سے غفلت اور بےفکری کا انجام ہلاکت اور بربادی ہے۔
نکتہ : اسی آیت میں اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کو توحید کا حکم دیا۔ اننیٓ انا اللہ لآ الٰہ الآ انا۔ اس لیے بندوں پر اول واجب اور اول فرض اللہ کی معرفت اور اس کی توحید ہے۔ پھر اس کے بعد عبادت کا حکم دیا۔ فاعبدنی فرمایا اس لیے کہ فاتعقیبیہ اس پر دلالت کرتی ہے کہ توحید کے بعد اللہ کی عبادت فرض ہے اور تمام عبادتوں میں سب سے افضل عبادت نماز ہے جس کا واقم الصلٰوۃ لذکری میں حکم دیا۔ اس کے بعد ان الساعۃ اٰتیۃ میں ایمان بالآخرۃ کا ذکر فرمایا اور سب سے آخر میں معاد کا ذکر فرمایا۔ آخرت کی تیاری کا حکم فرمایا اور آخرت سے غفلت اور بےفکری کی ممانعت فرمائی۔ فلا یصدنک عنھا من لا یؤ من بھا فرمایا اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بتلا دیا کہ شہوات نفسانی اور لذات دنیاوی کا اتباع موجب ہلاکت ہے۔ و اتبع ھواہ فتردٰی اشارہ اس طرف ہے کہ ہوائے نفسانی کا اتباع تمام اخلاق رذیلہ کی جڑ ہے۔