19. Surah Maryam

مريمMary · 98 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 19:1–15

كٓهٰیٰعٓصٓ۫ۚ Open ayah 19:1 in the Quran reader

کھیعص

ذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَهٗ زَكَرِیَّاۖۚ Open ayah 19:2 in the Quran reader

(یہ) تمہارے پروردگار کی مہربانی کا بیان ہے جو اس نے اپنے بندے زکریا پر (کی تھی)

اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ نِدَآءً خَفِیًّا Open ayah 19:3 in the Quran reader

جب انہوں نے اپنے پروردگار کو دبی آواز سے پکارا

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّیْ وَ اشْتَعَلَ الرَّاْسُ شَیْبًا وَّ لَمْ اَكُنْۢ بِدُعَآئِكَ رَبِّ شَقِیًّا Open ayah 19:4 in the Quran reader

(اور) کہا کہ اے میرے پروردگار میری ہڈیاں بڑھاپے کے سبب کمزور ہوگئی ہیں اور سر (ہے کہ بڑھاپے کی وجہ) سے شعلہ مارنے لگا ہے اور اے میرے پروردگار میں تجھ سے مانگ کر کبھی محروم نہیں رہا

وَ اِنِّیْ خِفْتُ الْمَوَالِیَ مِنْ وَّرَآءِیْ وَ كَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا فَهَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ وَلِیًّاۙ Open ayah 19:5 in the Quran reader

اور میں اپنے بعد اپنے بھائی بندوں سے ڈرتا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے تو مجھے اپنے پاس سے ایک وارث عطا فرما

یَّرِثُنِیْ وَ یَرِثُ مِنْ اٰلِ یَعْقُوْبَ١ۖۗ وَ اجْعَلْهُ رَبِّ رَضِیًّا Open ayah 19:6 in the Quran reader

جو میری اولاد اور اولاد یعقوب کی میراث کا مالک ہو اور (اے) میرے پروردگار اس کو خوش اطوار بنائیو

یٰزَكَرِیَّاۤ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمِ اِ۟سْمُهٗ یَحْیٰى١ۙ لَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ سَمِیًّا Open ayah 19:7 in the Quran reader

اے زکریا ! ہم تم کو ایک لڑکے کی بشارت دیتے ہیں جس کا نام یحیٰی ہے اس سے پہلے ہم نے اس نام کا کوئی شخص پیدا نہیں کیا

قَالَ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ كَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا وَّ قَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِیًّا Open ayah 19:8 in the Quran reader

انہوں نے کہا پروردگار میرے ہاں کس طرح لڑکا (پیدا) ہوگا جس حال میں کہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں بڑھاپے کی انتہا کو پہنچ گیا ہوں

قَالَ كَذٰلِكَ١ۚ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَیَّ هَیِّنٌ وَّ قَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ قَبْلُ وَ لَمْ تَكُ شَیْئًا Open ayah 19:9 in the Quran reader

حکم ہوا کہ اسی طرح (ہوگا) تمہارے پروردگار نے فرمایا ہے کہ یہ مجھے آسان ہے اور میں پہلے تم کو بھی تو پیدا کرچکا ہوں اور تم کچھ چیز نہ تھے

قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْۤ اٰیَةً١ؕ قَالَ اٰیَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَ لَیَالٍ سَوِیًّا Open ayah 19:10 in the Quran reader

کہا کہ پروردگار میرے لیے کوئی نشانی مقرر فرما فرمایا نشانی یہ ہے کہ تم صحیح وسالم ہو کر تین (رات دن) لوگوں سے بات نہ کرسکو گے

فَخَرَجَ عَلٰى قَوْمِهٖ مِنَ الْمِحْرَابِ فَاَوْحٰۤى اِلَیْهِمْ اَنْ سَبِّحُوْا بُكْرَةً وَّ عَشِیًّا Open ayah 19:11 in the Quran reader

پھر وہ (عبادت کے) حجرے سے نکل کر اپنی قوم کے پاس آئے تو ان سے اشارے سے کہا کہ صبح وشام (خدا کو) یاد کرتے رہو

یٰیَحْیٰى خُذِ الْكِتٰبَ بِقُوَّةٍ١ؕ وَ اٰتَیْنٰهُ الْحُكْمَ صَبِیًّاۙ Open ayah 19:12 in the Quran reader

اے یحییٰ (ہماری) کتاب کو زور سے پکڑو رہو اور ہم نے ان کو لڑکپن میں دانائی عطا فرمائی تھی

وَّ حَنَانًا مِّنْ لَّدُنَّا وَ زَكٰوةً١ؕ وَ كَانَ تَقِیًّاۙ Open ayah 19:13 in the Quran reader

اور اپنے پاس دے شفقت اور پاکیزگی دی تھی اور وہ پرہیزگار تھے

وَّ بَرًّۢا بِوَالِدَیْهِ وَ لَمْ یَكُنْ جَبَّارًا عَصِیًّا Open ayah 19:14 in the Quran reader

اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنے والے تھے اور سرکش اور نافرمان نہیں تھے

وَ سَلٰمٌ عَلَیْهِ یَوْمَ وُلِدَ وَ یَوْمَ یَمُوْتُ وَ یَوْمَ یُبْعَثُ حَیًّا۠ Open ayah 19:15 in the Quran reader

اور جس دن وہ پیدا ہوئے اور جس دن وفات پائیں گے اور جس دن زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے ان پر سلامتی اور رحمت (ہے)

قصہء اول حضرت زکریا و حضرت یحییٰ (علیہما السلام) قال اللہ تعالیٰٰ ۔ کٓھٰیٰعٓصٓ، ذکر رحمت ربک عبدہ زکریا۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ ویوم یبعث حیا۔ (ربط) حضرت زکریا (علیہ السلام) انبیاء بنی اسرائیل میں سے ہیں۔ صحیح بخاری میں ہے کہ وہ نجار (یعنی بڑھئی) کا پیشہ کرتے تھے اور اپنے ہاتھ کی محنت سے کما کر کھاتے تھے۔ ان کے کوئی فرزند نہ تھا اور اعزاء اوراقرباء کی طرف سے یہ کھٹکا تھا کہ میرے بعد دین حق میں تغیر و تبدل کر ڈالیں گے۔ جیسا کہ بنی اسرائیل میں ہوتا رہا۔ اس لیے انہوں نے پچھلی رات میں نہایت عجز وزاری کے ساتھ ایک فرزند کی دعا مانگی کہ جو میرے بعد تیرے دین کی حفاظت کرسکے اور دعا کا آغاز اپنے ضعف اور ناتوانی سے کیا۔ رب انی وھن العظم منی الخ۔ اے میرے پروردگار میں بوڑھا ہوگیا ہوں ہڈیاں کمزور ہوگئیں اور سر کے بال سپید ہوگئے وغیرہ وغیرہ۔ کیونکہ بارگاہ خداوندی میں ضعف اور لاچارگی کا اظہار اجابت دعا کا بہترین ذریعہ اور وسیلہ ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں کٓھٰیٰعٓصٓ اللہ تعالیٰ کو ہی اس کے معنی معلوم ہیں۔ یہ تذکرہ ہے تیرے پروردگار کی خاص رحمت و عنایت کا اپنے خاص بندے زکریہ پر جس وقت انہوں نے اپنے پروردگار کو آہستہ آواز کے ساتھ پکارا جو درد مندی اور نیاز مندی اور اخلاص سے معمور تھی۔ اس وقت جو اللہ کی خاص رحمت اور عنایت ان پر مبذول ہوئی ان آیات میں اس کا ذکر فرماتے ہیں اور پست آواز سے دعا اس لیے فرمائی کہ دعا کا ادب یہی ہے کہ وہ پست آواز سے ہو۔ کما قال تعالیٰ ۔ ادعوا ربکم تضرعا و خفیۃ کیونکہ خدا تعالیٰ کے ہاں جہر اور اخفاء سب برابر ہیں۔ کما قال تعالیٰ ۔ و ان تجھربالقول فانہ یعلم السر و اخفٰی اور شاید لوگوں سے اس دعا کا چھپانا مقصود ہو کہ لوگ یہ دعا سن کر مجھ کو احمق نہ بتلائیں کہ بڑھاپے میں کیا ہوگیا کہ اولاد کی دعا مانگ رہے ہیں اور وہ دعا یہ کی کہ اے میرے پروردگار بڑھاپے کی وجہ سے میری ہڈیاں کمزور اور سست ہوگئیں اور سر بڑھاپے کی وجہ سے آگ کی طرح چمک اٹھا اور میری یہ حالت اگرچہ اولاد کی دعا سے مانع ہے۔ مگر اے پروردگار آپ سے دعا مانگنے میں کبھی محروم اور بےبہرہ نہیں رہا۔ آپ کی یہ گزشتہ الطاف و عنایات باوجود ظاہری اسباب کے فقدان کے مجھے دعا پر آمادہ کرتی ہیں اور میری یہ دعا کسی دنیوی غرض کے لیے نہیں جس میں یہ امکان اور احتمال ہو کہ انبیاء اور اصفیاء کی جو دعا کسی دنیاوی غرض کے لیے ہو وہ بعض مرتبہ قبول نہیں ہوتی بلکہ میری یہ دعا خالص دینی غرض کے لیے ہے اور اس درخواست کی اصل وجہ یہ ہے کہ تحقیق میں اپنے مرنے کے بعد اپنے وارثوں اور رشتہ داروں سے ڈرتا ہوں کہ وہ دین کی حفاظت میں اور اس کے قائم رکھنے میں سستی کریں یا دنیا میں پھنس کر دین کو خراب کریں اور تیری مرضی کے مطابق دین کی خدمت نہ بجا لاسکیں۔ اے پروردگار تیرے دین کی خدمت اور حفاظت کا خیال مجھے اسی دعا پر آمادہ کر رہا ہے اور میری بیوی تو شروع جوانی ہی سے بانجھ ہے۔ اور اب تو اٹھانوے برس کی بڑھیا ہے۔ ظاہر اسباب میں اولاد کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ پس اے پروردگار ایسی حالت میں تو آپ مجھ کو خاص اپنے پاس سے بلا اسباب عادیہ کے ایک ایسا وارث یعنی ایسا بیٹا عطا کر جو علم و حکمت میں میرا بھی وارث ہو اور مرنے کے بعد میرا قائم مقام ہو اور میرے طریقۂ ہدایت و ارشاد کو جاری رکھ سکے۔ اور اولاد یعقوب کا بھی وارث ہو یعنی خاندان یعقوب کا سچا جانشین ہو اور تیرے دین کا پاسبان اور نگہبان ہو۔ مطلب یہ ہے کہ اے پروردگار ایسا فرزند عطا فرما جو میرے علم کا اور آباء و اجداد کے علم کا وارث ہو اور اے پروردگار میرے اس فرزند کو مقبول اور پسندیدہ بنا لے۔ جس سے تو بھی راضی ہو اور مخلوق بھی اس سے راضی ہو۔ یعنی ایسا فرزند عطا فرما کہ جو علم و حکمت کے ساتھ اخلاق فاضلہ اور اعمال صالحہ کے ساتھ بھی موصوف ہو تاکہ وہ تیرے نزدیک مقبول اور پسندیدہ ہو سکے۔ اور اولاد یعقوب کے لیے تو نے جس کرامت اور برکت کا وعدہ کیا ہے وہ اس کا وارث ہو سکے۔ اے پروردگار اہل دنیا کی طرح مطلق فرزند کا طلب گار نہیں بلکہ ایسے وارث کا آرزو مند ہوں جو تیرے نزدیک پسندیدہ اور برگزیدہ ہو اور تیرے دین کی حفاظت کرے۔ شیعہ اس آیت سے استدلال کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے ترکہ میں وراثت جاری ہوتی ہے مگر ان کا یہ استدلال بالکل غلط ہے اس لیے کہ اس آیت میں مال کی وراثت مراد نہیں بلکہ علم و حکمت کی وراثت مراد ہے۔ 1۔ کیونکہ اس وقت یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد لاکھوں کی تعداد میں موجود تھی۔ لہٰذا یہ کیسے ممکن ہے کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) کے ایک فرزند تن تنہا تمام اولاد یعقوب کے اموال و املاک کے وارث بن جائیں۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو انتقال کیے ہوئے دو ہزار برس سے زیادہ گزر چکے تھے۔ کیا وہ مال اب بجنسہ غیر منقسم رکھا ہوا تھا۔ 2۔ نیز مال کی وراثت کی دعا کرنا فضول ہے ہر لڑکا اپنے باپ کے مال کا وارث ہوتا ہی ہے۔ لہٰذا یرثنی کہنا بےکار اور لغو ہوا۔ معلوم ہوا کہ مال کی وراثت مراد نہیں۔ 3۔ نیز زکریا (علیہ السلام) تو نجار تھے جیسا کہ حدیث میں صراحۃ مذکور ہے کہ وہ بڑھئی کا کام کرتے تھے۔ جس سے وہ محنت کر کے روزانہ اپنی قوت لا یموت حاصل کرتے تھے۔ ان کے پاس کون سا مال و دولت رکھا تھا جس کی وہ فکر میں تھے کہ میرے بعد اس دولت کا کون وارث ہوگا۔ یہ فکر تو دنیا داروں کو ہوتی ہے کہ مرنے کے بعد میرے مال کا کیا ہوگا۔ 4۔ مال کے وارث ہونے کے لیے اللہ سے بیٹا مانگنا شان نبوت کے بالکل منافی ہے مالی وراثت کی فکر تو دنیا داروں کو ہوتی ہے کہ ہمارے مرنے کے بعد ہمارا مال و دولت فرزند کو مل جائے۔ اور انی خفت الموالی کمال بیقراری و بےتابی پر دلالت کرتا ہے کہ تولد فرزند کے لیے اس لیے بیتاب ہیں کہ بنی اعمام ان کے مال کے وارث نہ ہوجائیں۔ تو یہ شان تو دنیا داروں کی ہے نہ کہ انبیاء (علیہ السلام) کی۔ 5۔ نیز احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ انبیاء (علیہ السلام) کے مال میں میراث جاری نہیں ہوئی بلکہ انبیاء کرام (علیہ السلام) جو چھوڑتے ہیں وہ سب صدقہ اور وقف ہوتا ہے اور اس قسم کی روایت شیعوں کی کلینی میں بھی موجود ہے۔ پس معلوم ہوا کہ آیت میں میراث نبوت مراد ہے مال کی وراثت مراد نہیں جیسا کہ و ورث سلیمان داود میں میراث سے میراث نبوت مراد ہے کہ جو داؤد (علیہ السلام) کی اولاد میں سے صرف سلیمان (علیہ السلام) کو ملی کیونکہ اگر میراث مالی مراد ہوتی تو تمام اولاد میں سے سلیمان (علیہ السلام) کی کیا خصوصیت تھی۔ نیز اس خبر دینے سے کوئی فائدہ نہ ہوتا اس لیے کہ تمام ملتوں اور شریعتوں میں یہ بات معلوم اور مقرر ہے کہ مال میں بیٹا باپ کا وارث ہوتا ہے۔ پس اگر وراثت مالی مراد ہوتی تو اس خبر دینے کی ضرورت نہ تھی اس کی خبر دینا لغو ہے اور کلام الہٰی لغو سے پاک ہے۔ وراثت انبیاء (علیہ السلام) کے مسئلہ کی تفصیل سورة نساء کے شروع میں گزر چکی ہے۔ وہاں دیکھ لی جائے اور لفظ وراثت اور میراث مالی وراثت کے ساتھ مخصوص نہیں۔ کتاب و سنت میں میراث علمی پر بھی اس لفظ کا اطلاق بکثرت آیا ہے۔ جیسے آیت فخلف من م بعدھم خلف و رثوا الکتٰب اور آیت ثم اور ثنا الکتٰب الذین اصطفینا میں وراثت علمی مراد ہے۔ وراثت کے اصل معنی قائم مقام اور متسلط ہونے کے ہیں اور اس کے لیے مال لازم نہیں جیسا کہ قرآن کریم میں ہے۔ نحن نرث الارض ومن علیھا۔ و نحن الوارثون۔ خیرالوارثین۔ اس آیت میں میراث مالی کا مراد لینا ناممکن ہے اور محال ہے بلکہ تسلط اور تصرف کے معنی مراد ہیں۔ حق جل شانہ کا یہ ارشاد ثم اور ثنا الکتٰب الذین اصطفینا جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے وارث بنایا اپنی کتاب کا ان بندوں کو جن کو ہم نے چھانٹ لیا۔ اس جگہ وراثت مالی کا احتمال بھی نہیں ہوسکتا۔ دوسری جگہ ارشاد ہے۔ فخلف من م بعدھم خلف و رثوا الکتٰب یہاں بھی وراثت کتاب سے علم کتاب کی وراثت مراد ہے۔ نیز اول میں بعد عبادنا کے۔ فمنھم ظالم لنفسہٖ الخ وارد ہے اور دوسری آیت میں بعد کتاب کے یا خذون عرض ھٰذا الادنٰی وارد ہوا ہے۔ سو فمنھم کی تفریح سے ظاہر ہے کہ عطائے کتاب کے بعد لوگ تین حال پر ہوگئے کوئی ظالم رہا اور کوئی مقتصد اور کوئی سابق بالخیر۔ سو یہ تفریح کتاب کی وراثت علمی پر ہے نہ کہ اوراق کتاب اور اس کی قیمت پر۔ شیعوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ لفظ وراثت دراصل وراثت مال کے لیے وضع ہوا ہے۔ بالکل غلط ہے۔ وراثت کا اطلاق وراثت علم اور وراثت منصب اور وراثت تولیت اور وراثت خلافت بمعنی قائم مقامی و تسلط سب پر شائع اور ذائع ہے۔ قال تعالیٰ و اور ثنا القوم الذین کانوا یستضعفون مشارق الارض و مغار بھا التی بارکنا فیھا اس کتاب میں بنی اسرائیل کا قوم فرعون کا وارث ہونا یعنی ان کے ہلاک اور غرقابی کے بعد ان کا قائم مقام ہونا مراد ہے۔ مالی وراثت مراد نہیں، مسلمان کافر کا وارث نہیں ہوتا اور علیٰ ہذا القیاس ان الارض للٰہ یورثھا من یشآء من عبادہٖ یہاں وراثت ارضی سے ان کا قائم مقام بنانا مراد ہے اور تلک الجنۃ التی نورث من عبادنا من کان تقیا سو اس آیت میں جنت کی وراثت سے قائم مقام ہونے کے معنی مراد نہیں بلکہ اہل ایمان کو حاوی اور مسلط کردینے کے معنی مراد ہیں۔ اور حدیث العلماء ورثۃ الانبیاء شیعوں کے نزدیک بھی مسلم ہے اور ظاہر ہے کہ اس حدیث میں وراثت سے علم اور حکمت کی وراثت مراد ہے اور علیٰ ہذا وورث سلیمان داود میں علم و نبوت اور کمالات نفسانی کی وراثت مراد ہے۔ وراثت مالی مراد نہیں کیونکہ باجماع اہل تاریخ داؤد (علیہ السلام) کے انیس بیٹے تھے۔ سب کے سب باپ کے وارث ہوئے۔ سلیمان (علیہ السلام) کی کیا خصوصیت کہ جو خاص ان کی وراثت کا ذکر فرمایا۔ وہ وراثت علم و نبوت ہے جس میں ان کے دوسرے بھائی شریک نہ تھے۔ حق تعالیٰ نے بواسطہ فرشتہ کے فرمایا اے زکریا ہم نے تمہاری دعا قبول کی ہم تجھ کو ایک لڑکے کے پیدا ہونے کی بشارت دیتے ہیں جس کا نام یحییٰ ہوگا۔ اس سے پہلے ہم نے کوئی ان کا ہمنام یا ہم صفت پیدا نہیں کیا۔ یعنی اس سے پہلے ہم نے یہ نام کسی کا نہیں رکھا یا یہ معنی ہیں کہ اس سے پہلے ہم نے اس صفت اور شان کا نہیں بنایا۔ مطلب یہ ہے کہ صفت عفت اور پاکدامنی اور نزاہت میں ان کا مثل نہیں بنایا یعنی ان کی طبیعت کو عورتوں کی طرف نفسانی اور طبعی میلان سے پاک کردیا۔ زکریا (علیہ السلام) نے جب یہ عظیم بشارت سنی تو فرط مسرت سے بطور تعجب عرض کیا اے میرے پروردگار میرے کہاں سے لڑکا پیدا ہوگا ؟ کیا میں جوان بنا دیا جاؤں گا یا اسی بڑھاپے کی حالت میں بچہ ہوگا ؟ اور حق تعالیٰ کی طرف سے جب یہ عظیم بشارت ملی تو فرط مسرت سے مزید طمانیت کے لیے اور استلذاذ کے طور پر اس کے متعلق سوالات شروع کیے کہ کیسے ہوگا اور کس طرح ہوگا۔ اور میری عورت تو شروع ہی سے بانجھ ہے اور میں بڑھاپے کی انتہا کو پہنچ چکا ہوں۔ معلوم نہیں کہ بحالت موجودہ کس طرح اولاد ہوگی۔ فرشتہ نے زکریہ (علیہ السلام) کو جواب دیا کہ تعجب مت کرو۔ اسی طرح ہوگا اور بحالت موجودہ تمہارے بیٹا ہوگا۔ تیرا پروردگار فرماتا ہے کہ یہ کام مجھ پر آسان اور تحقیق اس سے پہلے میں تجھ کو پیدا کرچکا ہوں اور تو اس سے پہلے کوئی چیز نہ تھا۔ پس جو خدا عدم محض سے پیدا کرنے پر قادر ہے اسے بڑھاپے میں لڑکا پیدا کرنا کیا مشکل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کو اختیار ہے کہ جس عمر میں چاہے اولاد عطا فرما دے۔ کسی خاص عمر میں اولاد کا پیدا ہونا مادہ اور طبیعت کا اقتضاء نہیں۔ صرف اللہ کے ارادہ اور مشیت سے ہے وہ تو بغیر ماں باپ کے بھی پیدا کرنے پر قادر ہے۔ بوڑھے ماں باپ سے اولاد پیدا کرنا اسے کیا مشکل ہے۔ زکریا (علیہ السلام) کو جب اطمینان ہوگیا تو عرض کیا کہ اے میرے پروردگار اس وعدہ پر میرا دل مطمئن ہوگیا ہے۔ لیکن میرے لیے کوئی نشانی مقرر فرما دیجیے جو تیری بشارت کی آمد کی علامت ہو جسے معلوم ہوجائے کہ تیرے وعدہ کے ظہور کا وقت اب قریب آگیا ہے تاکہ تیرے شکر میں مشغول ہوجاؤں۔ فرمایا تیری نشانی یہ ہے کہ تو تین دن اور تین رات لوگوں سے بات نہ کرسکے گا۔ حالانکہ تو بھلا چنگا صحیح اور تندرست ہوگا۔ یعنی بات نہ کر سکنا کسی مرض اور عذر کی وجہ سے نہ ہوگا بلکہ وہ حمل اور ولادت کی علامت ہوگی۔ یعنی باوجود یکہ تو نہ گونگا ہوگا اور نہ تیری زبان میں نقص اور عیب ہوگا۔ تو بلا کسی مرض اور علت کے تین رات باوجود یکہ تو نہ گونگا ہوگا اور نہ تیری زبان میں کوئی نقص اور عیب ہوگا۔ تو بلا کسی مرض اور علت کے تین رات تک ایک لفظ بھی زبان سے نہ نکال سکے گا۔ تیری زبان بالکل بند ہوجائے گی اور تو لوگوں سے اشارے سے بات کرسکے گا۔ مگر باوجود اس کے اللہ کے ذکر پر تجھے قدرت ہوگی۔ اور یہ تیری عورت کے حمل کی نشانی ہوگی۔ چناچہ ایسا ہی ہوا کہ اللہ کے ذکر میں تو زکریا (علیہ السلام) کی زبان چلتی مگر جب لوگوں سے کچھ کہنا چاہتے تو بند ہوجاتی۔ تین دن اور تین رات برابر یہی کیفیت رہی جب لوگوں سے بات کرتے تو اشارہ سے بات کرتے تھے۔ جیسا کہ فرماتے ہیں۔ پس جب وہ وقت آیا تو زکریا (علیہ السلام) مسجد کی محراب سے اپنی قوم کے سامنے برآمد ہوئے اور زبان گفتگو سے رک گئی سمجھ گئے کہ بشارت کا وقت قریب آگیا۔ باہر لوگ منتظر تھے دیکھا کہ چہرہ متغیر ہے۔ لوگوں نے پوچھا کہ اے نبی اللہ تم کو کیا ہوا ؟ تو اس وقت اپنی قوم کو آہستہ اشارہ سے بتایا کہ صبح شام اللہ کی تسبیح پڑھا کرو۔ مطلب یہ ہے کہ حسب سابق اللہ کے ذکر اور اس کی عبادت میں مشغول رہو یا یہ مطلب ہے کہ اس جدید نعمت کے شکر میں مزید تسبیح وتحمید میں مشغول ہوجاؤ۔ میں بھی اللہ کی حمد وثناء میں مشغول ہوں سب کو چاہیے کہ میرے ساتھ مل کر اللہ کے ذکر میں مشغول ہوں۔ غرض یہ کہ ہم نے حسب وعدہ اور حسب بشارت زکریا (علیہ السلام) کو ایک فرزند عطا کیا۔ جس کا نام یحییٰ تھا۔ اور جب یحییٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے اور سن شعور کو پہنچے تو ہم نے ان سے کہا اے یحییٰ کتاب تورات کو مضبوطی کے ساتھ تھام لے۔ یعنی اس پر پوری طرح عمل کرنے کی کوشش کرو اور ہم نے اس کو لڑکپن ہی سے فہم و دانش اور علم اور فراست صادقہ اور معرفت کا ملہ دی تھی۔ چناچہ ایک مرتبہ بچپن میں لڑکوں نے آپ کو کھیلنے کے لیے بلایا۔ تو آپ (علیہ السلام) نے یہ کہا کہ ہم کھیل کے لیے پیدا نہیں ہوئے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ ” حکم “ سے حلم اور وقار اور سکون کے مراد ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یحییٰ (علیہ السلام) کو ہم نے بچپن ہی سے علم و حکمت عطا کیا تھا تاکہ وہ احکام شریعت کو خوب سمجھ سکیں۔ یہ ایک صفت ہوئی۔ اور دوسری صفت یحییٰ (علیہ السلام) کو یہ عطا ہوئی کہ ہم نے اپنے پاس سے ان کو شفقت اور نرم دلی عطا کی یعنی بڑے رقیق القلب تھے۔ لوگوں پر شفقت فرماتے اور جب نماز پڑھتے تو زار و قطار روتے اور تیسری صفت ان کو یہ عطا کی کہ ان کو پاکیزگی اور پاک دلی عطا کی۔ زکوٰۃ سے طہارت قلب مراد ہے کہ دل گناہوں کے میلان سے پاک ہوجائے اور بعض کہتے ہیں کہ زکوٰۃ سے عمل صالح مراد ہے۔ اور چوتھی صفت ان کی یہ تھی کہ وہ طبعی اور جبلی طور پر پرہیزگار تھے خوف خداوندی کبھی ان کے دل سے جدا نہ ہوتا تھا۔ اور پانچویں صفت ان کی یہ تھی کہ وہ اپنے والدین کے بڑے خدمت گزار تھے۔ اللہ پاک کی عبادت کے بعد والدین کی خدمت سے بڑھ کر کوئی طاعت نہیں۔ کما قال تعالیٰ وقضٰی ربک الا تعبدوآ الآ ایاہ و بالوالدین احسانا اور چھٹی صفت ان کی یہ تھی کہ وہ سرکش اور نافرمان نہ تھے۔ یعنی تکبر اور نافرمانی کے شائبہ سے بھی پاک تھے۔ اور ساتویں صفت جو ان کو عطا ہوئی وہ یہ تھی کہ ان پر اللہ کا سلام ہے۔ اور اس کی سلامتی ہے جس دن پیدا ہوا اور جس دن وہ مرے گا۔ اور جس دن اٹھایا جائے گا۔ مطلب یہ ہے کہ اول تا آخر اللہ کی حفاظت میں محفوظ و مامون رہیں گے۔ اللہ کا سلام حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کے طرفین حیات کو محیط ہے۔ جو ان کی فضیلت کی خاص دلیل ہے۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے حضرت یحییٰ (علیہ السلام) پر تین سلام ذکر فرمائے پہلا سلام تو سلام تربیت ہے اور دوسرا سلام، سلام عصمت ہے اور تیسرا سلام، سلام فضل و مشاہدہ ہے۔ تمتہ : یحییٰ (علیہ السلام) بالاتفاق شہید ہوئے۔ یہود نے ان کو قتل کیا اور زکریا (علیہ السلام) کی وفات کے بارے میں اختلاف ہے کہ آیا وہ طبعی موت سے مرے یا وہ بھی شہید ہوئے۔ وھب ؓ کی ایک روایت میں ہے کہ یہود نے جب یحییٰ (علیہ السلام) کو قتل کردیا تو زکریا (علیہ السلام) کی طرف متوجہ ہوئے کہ ان کو بھی قتل کریں۔ زکریا (علیہ السلام) نے جب یہ دیکھا تو بھاگے۔ اور ایک درخت کے شگاف میں داخل ہوگئے۔ یہود نے آکر اس درخت پر آرا چلا دیا اور درخت کے ساتھ ان کے دو ٹکڑے کر دئیے۔ زکریا (علیہ السلام) نے صبر کیا اور اف تک نہ کی۔ (البدایہ والنہایہ ص 51 ج 2) قصۂ دوم حضرت عیسیٰ و مریم (علیہما السلام)
Ayahs 19:16–33

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ مَرْیَمَ١ۘ اِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ اَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِیًّاۙ Open ayah 19:16 in the Quran reader

اور کتاب (قرآن) میں مریم کا بھی مذکور کرو جب وہ اپنے لوگوں سے الگ ہو کر مشرق کی طرف چلی گئیں

فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُوْنِهِمْ حِجَابًا١۪۫ فَاَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهَا رُوْحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِیًّا Open ayah 19:17 in the Quran reader

تو انہوں نے ان کی طرف سے پردہ کرلیا (اس وقت) ہم نے ان کی طرف فرشتہ بھیجا تو وہ ان کے سامنے ٹھیک آدمی (کی شکل) بن گیا

قَالَتْ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِالرَّحْمٰنِ مِنْكَ اِنْ كُنْتَ تَقِیًّا Open ayah 19:18 in the Quran reader

مریم بولیں کہ اگر تم پرہیزگار ہو تو میں تم سے خدا کی پناہ مانگتی ہوں

قَالَ اِنَّمَاۤ اَنَا رَسُوْلُ رَبِّكِ١ۖۗ لِاَهَبَ لَكِ غُلٰمًا زَكِیًّا Open ayah 19:19 in the Quran reader

انہوں نے کہا میں تو تمہارے پروردگار کا بھیجا ہوا (یعنی فرشتہ) ہوں (اور اس لئے آیا ہوں) کہ تمہیں پاکیزہ لڑکا بخشوں

قَالَتْ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ وَّ لَمْ اَكُ بَغِیًّا Open ayah 19:20 in the Quran reader

مریم نے کہا کہ میرے ہاں لڑکا کیونکر ہوگا مجھے کسی بشر نے چھوا تک نہیں اور میں بدکار بھی نہیں ہوں

قَالَ كَذٰلِكِ١ۚ قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَیَّ هَیِّنٌ١ۚ وَ لِنَجْعَلَهٗۤ اٰیَةً لِّلنَّاسِ وَ رَحْمَةً مِّنَّا١ۚ وَ كَانَ اَمْرًا مَّقْضِیًّا Open ayah 19:21 in the Quran reader

(فرشتے نے) کہا یوں ہی (ہوگا) تمہارے پروردگار نے فرمایا ہے کہ یہ مجھے آسان ہے اور (میں اسے اسی طریقہ پر پیدا کروں گا) تاکہ اس کو لوگوں کے لئے اپنی طرف سے نشانی اور (ذریعہ) رحمت اور (مہربانی) بناؤں اور یہ کام مقرر ہوچکا ہے

فَحَمَلَتْهُ فَانْتَبَذَتْ بِهٖ مَكَانًا قَصِیًّا Open ayah 19:22 in the Quran reader

تو وہ اس (بچے) کے ساتھ حاملہ ہوگئیں اور اسے لیکر ایک دور جگہ چلی گئیں

فَاَجَآءَهَا الْمَخَاضُ اِلٰى جِذْعِ النَّخْلَةِ١ۚ قَالَتْ یٰلَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ هٰذَا وَ كُنْتُ نَسْیًا مَّنْسِیًّا Open ayah 19:23 in the Quran reader

پھر درد زہ ان کو کھجور کے تنے کی طرف لے آیا کہنے لگیں کہ کاش میں اس سے پہلے مر چکتی اور بھولی بسری ہوگئی ہوتی

فَنَادٰىهَا مِنْ تَحْتِهَاۤ اَلَّا تَحْزَنِیْ قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِیًّا Open ayah 19:24 in the Quran reader

اس وقت ان کے نیچے کی جانب سے فرشتے نے ان کو آواز دی کہ غمناک نہ ہو تمہارے پروردگار نے تمہارے نیچے ایک چشمہ جاری کردیا ہے

وَ هُزِّیْۤ اِلَیْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسٰقِطْ عَلَیْكِ رُطَبًا جَنِیًّا٘ Open ayah 19:25 in the Quran reader

اور کجھور کے تنے کو پکڑ کر اپنی طرف ہلاؤ تم پر تازہ کھجوریں جھڑ پڑیں گی

فَكُلِیْ وَ اشْرَبِیْ وَ قَرِّیْ عَیْنًا١ۚ فَاِمَّا تَرَیِنَّ مِنَ الْبَشَرِ اَحَدًا١ۙ فَقُوْلِیْۤ اِنِّیْ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا فَلَنْ اُكَلِّمَ الْیَوْمَ اِنْسِیًّاۚ Open ayah 19:26 in the Quran reader

تو کھاؤ اور پیو اور آنکھیں ٹھنڈی کرو اگر تم کسی آدمی کو دیکھو تو کہنا کہ میں نے خدا کے لیے روزے کی منت مانی ہے تو آج میں کسی آدمی سے ہرگز کلام نہ کروں گی

فَاَتَتْ بِهٖ قَوْمَهَا تَحْمِلُهٗ١ؕ قَالُوْا یٰمَرْیَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَیْئًا فَرِیًّا Open ayah 19:27 in the Quran reader

پھر وہ اس (بچے) کو اٹھا کر اپنی قوم کے لوگوں کے پاس لے آئیں وہ کہنے لگے کہ مریم یہ تو تو نے برا کام کیا

یٰۤاُخْتَ هٰرُوْنَ مَا كَانَ اَبُوْكِ امْرَاَ سَوْءٍ وَّ مَا كَانَتْ اُمُّكِ بَغِیًّاۖۚ Open ayah 19:28 in the Quran reader

اے ہارون کی بہن نہ تو تیرا باپ ہی بد اطوار آدمی تھا اور نہ تیری ماں ہی بدکار تھی

فَاَشَارَتْ اِلَیْهِ١ؕ قَالُوْا كَیْفَ نُكَلِّمُ مَنْ كَانَ فِی الْمَهْدِ صَبِیًّا Open ayah 19:29 in the Quran reader

تو مریم نے اس لڑکے کی طرف اشارہ کیا وہ بولے کہ ہم اس سے کہ گود کا بچہ ہے کیونکر بات کریں ؟

قَالَ اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰهِ١ؕ۫ اٰتٰىنِیَ الْكِتٰبَ وَ جَعَلَنِیْ نَبِیًّاۙ Open ayah 19:30 in the Quran reader

(بچے نے کہا) میں خدا کا بندہ ہوں اس نے مجھے کتاب دی ہے اور نبی بنایا ہے

وَّ جَعَلَنِیْ مُبٰرَكًا اَیْنَ مَا كُنْتُ١۪ وَ اَوْصٰنِیْ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ مَا دُمْتُ حَیًّا٢۪ۖ Open ayah 19:31 in the Quran reader

اور میں جہاں ہوں (اور جس حال میں ہوں) مجھے صاحب برکت کیا ہے اور جب تک زندہ ہوں مجھ کو نماز اور زکوٰۃ کا ارشاد فرمایا ہے

وَّ بَرًّۢا بِوَالِدَتِیْ١٘ وَ لَمْ یَجْعَلْنِیْ جَبَّارًا شَقِیًّا Open ayah 19:32 in the Quran reader

اور (مجھے) اپنی ماں کے ساتھ نیک سلوک کرنے والا (بنایا ہے) اور سرکش و بدبخت نہیں بنایا

وَ السَّلٰمُ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُّ وَ یَوْمَ اَمُوْتُ وَ یَوْمَ اُبْعَثُ حَیًّا Open ayah 19:33 in the Quran reader

اور جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن مروں گا اور جس دن زندہ کر کے اٹھایا جاؤں گا مجھ پر سلام و رحمت ہے

قال اللٰہ تعالیٰ ۔ واذکر فی الکتٰب مریم۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ و یوم اموت ویوم ابعث حیا۔ (ربط) حق تعالیٰ نے گزشتہ رکوع میں حضرت زکریا (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرمایا کہ بحالت پیری ایک پیر ناتواں اور ایک بانجھ اور بوڑھی بیوی سے بلا سبب ظاہری ایک مبارک فرزند یعنی یحییٰ (علیہ السلام) کا تولد ہوا۔ اب اس سے زیادہ عجیب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کا قصہ بیان کرتے ہیں۔ اس لیے کہ بوڑھے مرد اور بانجھ عورت سے بچہ پیدا ہونا اگرچہ عجیب ہے۔ مگر والدین سے بچہ کا پیدا ہونا عادۃ قریب الی العقل ہے اور بغیر باپ کے محض ماں سے بچہ پیدا ہونا بہت ہی عجیب و غریب ہے جو اللہ کی کمال قدرت پر دلالت کرتا ہے کہ خدائے تعالیٰ بغیر باپ کے بھی بچہ پیدا کرنے پر قادر ہے۔ ولادت خواہ کسی طرح ہو وہ کسی مادہ اور طبیعت کے اقتضاء پر موقوف نہیں۔ صرف اللہ کے ارادہ اور مشیت پر موقوف ہے۔ مطلب یہ کہ خدائے تعالیٰ قادر مطلق ہے جس طرح چاہے پیدا کرے اور کوئی مولود معبود نہیں ہوسکتا۔ حق جل شانہ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کا قصہ یہود اور نصاریٰ دونوں ہی کی تردید اور اصلاح کے لیے بیان فرمایا اس لیے کہ یہود تو حضرت مسیح بن مریم (علیہ السلام) کو معاذ اللہ ولد الزنا بتاتے تھے اور نصاریٰ ان کو خدا یا خدا کا بیٹا بتلاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی ولادت کی مفصل کیفیت بیان کی تاکہ خوب واضح ہوجائے کہ یہ مولود مسعود اللہ کی قدرت اور اس کی رحمت کی نشانی ہے۔ معاذ اللہ ولد الزنا نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس مولود مسعود کو خلاف عادت محض اپنی قدرت سے بغیر باپ کے پیدا فرمایا ہے۔ اور یہ معلوم ہوجائے کہ یہ مبارک مولود قدرت خدا وندی کا ایک کرشمہ ہے معبود نہیں۔ چناچہ اس مولود مسعود نے پیدا ہونے کے بعد جو پہلا کلام کیا سب سے پہلے اپنی عبدیت کا اقرار کیا۔ قال انی عبداللہ اور اس کے بعد اپنی صفات بیان کیں جن میں اپنی نبوت کا اور اپنی برکت کا اور اپنی عبادت کا یعنی نماز اور زکوٰۃ کا اور اپنی تواضع اور اطاعت کا اور خدا تعالیٰ کی طرف سے اپنے اوپر سلامتی کا ذکر فرمایا تاکہ سننے والے سن لیں کہ میں خدا کا بندہ ہوں اور جو لوگ مجھے بےباپ کے پیدا ہونے کی وجہ سے خدا کا بیٹا کہتے ہیں وہ سب غلط ہے۔ ولادت اور الوہیت کا جمع ہونا عقلا محال ہے۔ بغیر باپ کے پیدا ہونا الوہیت اور ابنیت کی دلیل نہیں۔ بلکہ من جانب اللہ عزت اور کرامت کی دلیل ہے۔ اور پھر شیر خوار گی کی حالت میں اپنے معجزانہ کلام کو والسلام علی یوم ولدت و یوم اموت و یوم ابعث حیا پر ختم فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ کو تمام تہمتوں اور عیبوں سے سلامتی عطا فرمائی ہے۔ یہی اس کی دلیل ہے کہ معاذ اللہ حضرت مسیح بن مریم (علیہ السلام) خدا نہیں کیونکہ خدا کو کسی کی سلامتی کی ضرورت نہیں۔ نیز خدا ولادت اور موت اور بعث سے پاک اور منزہ ہے۔ اور ان تین وقتوں کی تخصیص اس لیے فرمائی کہ یہ تین وقت انسان پر بہت سخت اور نازک ہیں۔ ان تین وقتوں میں انسان اللہ کی سلامتی کا بہت زیادہ محتاج ہوتا ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اے نبی آپ اس کتاب یعنی قرآن کے اس خاص حصہ یعنی اس سورت میں مریم کا قصہ لوگوں کو پڑھ کر سنائیے۔ جب وہ اپنے گھر والوں سے علیحدہ ہو کر ایک ایسے مکان میں جو مشرق کی جانب تھا۔ غسل کے لیے گئیں۔ سو اپنے اور ان کے درمیان ایک پردہ ڈال لیا تاکہ اس پردہ کی آڑ میں غسل کرسکیں اور کوئی اس پردہ کے اندر نہ آسکے۔ پس جب غسل کر چکیں اور کپڑے پہن لیے تو اس وقت ہم نے اس کے پاس ایک اپنا فرشتہ یعنی جبرئیل امین (علیہ السلام) کو بھیجا۔ پس وہ پورا آدمی بن کر مریم کے سامنے نمودار ہوا۔ یعنی حضرت جبرئیل (علیہ السلام) ایک نہایت حسین و جمیل اور خوبصورت نوجوان کی صورت میں مریم (علیہ السلام) کے سامنے ظاہر ہوئے آدمی کی صورت میں اس لیے نظر آئے تاکہ مریم (علیہ السلام) ان کو دیکھ کر ڈریں نہیں اور ان کا کلام سنیں۔ اگر فرشتہ کی صورت میں نظر آتے تو مریم (علیہ السلام) ان کو دیکھ کر ڈر جاتیں اور بےہوش ہوجاتیں۔ اور عجب نہیں کہ اس صورت میں مریم صدیقہ (علیہ السلام) کی عفت اور پاک بازی کا امتحان بھی مقصود ہو غرض یہ کہ مریم (علیہ السلام) نے جب غسل خانے میں ایک اجنبی اور بیگانہ آدمی دیکھا اور گھبرا گئیں اور بولیں کہ میں تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں اگر تو مرد متقی ہے تو میں تیرے شر سے پناہ مانگتی ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ مریم (علیہ السلام) اس کو بشر سمجھ کر گھبرائیں اور خدا کا واسطہ دیا کہ سامنے سے ہٹ جائے تو اس وقت جبرئیل امین (علیہ السلام) نے اپنا فرشتہ ہونا ظاہر کیا۔ اور کہا کہ میں کوئی بشر اور آدمی نہیں اس سے تم ڈر رہی ہو۔ میں تو تیرے پروردگار کا فرستادہ (بھیجا ہوا) فرشتہ ہوں تاکہ تجھ کو خدا کے حکم سے پاک اور پاکیزہ لڑکا عطا کروں۔ مجھ سے ڈرنے اور پناہ مانگنے کی ضرورت نہیں۔ میں ایسا نہیں جیسا کہ تیرا گمان ہے۔ مریم (علیہ السلام) کو اس کی نورانی صورت سے القاء ربانی سے یہ یقین ہوگیا کہ بیشک یہ فرشتہ ہے مگر تعجب ہے کہ بغیر شوہر کے کیسے بچہ ہوگا اس لیے مریم (علیہ السلام) نے کہا میرے لڑکا کہاں سے ہوگا اور مجھ کو تو کسی آدمی نے ہاتھ بھی نہیں لگایا۔ یعنی میرا کسی سے نکاح نہیں ہوا اور نہ تھی میں کبھی بدکار۔ جبرئیل (علیہ السلام) نے کہا یونہی ہوگا۔ یعنی اللہ تعالیٰ تجھے بغیر باپ کے ہی لڑکا عطا کرے گا۔ تیرے پروردگار نے فرمایا ہے کہ وہ (یعنی بغیر باپ کے بیٹا عطا کرنا) مجھ پر آسان ہے۔ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے۔ وہ اپنی تخلیق وتکوین میں ٓلات اور مواد اور اسباب کا محتاج نہیں۔ اسے بغیر باپ کے لڑکا پیدا کرنا کیا مشکل ہے۔ اور ہم چاہتے ہیں کہ اس لڑکے کو لوگوں کے لیے اپنی قدرت کی نشانی بنا دیں۔ کہ اس کے حال کو دیکھ کر لوگ ہماری قدرت کو پہچانیں کہ اللہ تعالیٰ بغیر باپ کے لڑکا پیدا کرنے پر قادر ہے۔ اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ اپنی جانب سے اسی بےباپ کے بچہ کو سامان رحمت بنائیں جو اس پر ایمان لائے وہ ہدایت پائے۔ اور قیامت کے دن شفاعت سے بہرہ یاب ہو۔ یہ فائدہ خاص مؤ منین کے لیے ہے اور اٰیۃ للناس یعنی قدرت کی نشانی ہونا یہ سب لوگوں کے واسطے ہے۔ اور اس بچہ کا بغیر باپ کے پیدا ہونا علم الہٰی میں طے شدہ امر ہے۔ حضرت مریم (علیہ السلام) فرشتے کی بات سے مطمئن ہوگئیں پھر اس گفتگو کے بعد جبریل امین (علیہ السلام) مریم (علیہا السلام) کے قریب آئے اور ان کے منہ میں یا گریبان میں پھونک ماری۔ پس اسی وقت مریم (علیہا السلام) حاملہ ہوگئیں۔ بعض کہتے ہیں کہ چھ سات مہینے حمل رہا۔ اور بعض کہتے ہیں کہ قرار حمل اور ولادت سب ایک ہی ساعت میں واقع ہوئے۔ فرشتے عورت کو چھوتے نہیں۔ اس لیے جبریل امین (علیہ السلام) نے مریم (علیہا السلام) کے گریبان میں پھونک ماری جس سے وہ اسی وقت حاملہ ہوگئیں۔ قرآن کریم میں نفخ روح کا ذکر ہے۔ مگر اس کی کیفیت کا بیان نہیں۔ اس لیے بیان کیفیت سے سکوت اولیٰ ہے۔ پس جب وضع حمل کا وقت قریب آیا تو شرم کے مارے اس حمل کو لے کر کسی دور جگہ جنگل یا پہاڑ میں چلی گئیں۔ غالبا وہ جگہ بیت لحم ہے۔ یہ مقام بیت المقدس سے آٹھ میل کے فاصلہ پر ہے۔ بیت المقدس میں حضرت مریم (علیہ السلام) لی طرح ایک اور مرد صالح مسجد کی خدمت کیا کرتا تھا جس کا نام یوسف نجار تھا۔ اور وہ حضرت مریم (علیہ السلام) کا چچا زاد بھائی تھا۔ بڑا عابد و زاہد تھا۔ سب سے پہلے مریم (علیہ السلام) کے حمل کا حال یوسف نجار کو معلوم ہوا۔ دیکھ کر حیران اور ششدر رہ گیا کہ اس عفیفہ اور پاک دامن کو کیا ہوا۔ ایک طرف تو ان کی عفت و براءت و طہارت و نزاہت کا اور ان کی کرامتوں کا خیال آتا اور دوری طرف آثار حمل کو دیکھتا تو متحیر ہوتا کہ آخر یہ ماجرا کیا ہے۔ زبان سے چپ رہتا مگر اندر ہی اندر طرح طرح کے خیالات آتے بالآخر ایک دن حضرت مریم (علیہ السلام) سے تعریضا اور کنایۃ یہ سوال کیا۔ اے مریم (علیہ السلام) تیرے بارے میں میرے دل میں خیال پیدا ہوا ہے میں نے اس کو بہت چھپانا چاہا مگر وہ مجھ پر غالب آیا میں اس کو تجھ پر ظاہر کر کے اپنے دل کو شفا دینا چاہتا ہوں۔ مریم (علیہ السلام) نے کہا، کہو وہ کیا خیال ہے ؟ قال ھل یکون قط شجر من غیر حب و ھل یکون زرع من غیر بزر و ھل یکون ولدمن غیر ابی (یوسف نجار نے کہا اے مریم (علیہ السلام) ! کیا کوئی درخت بغیر گھٹلی کے اور کوئی کھیتی بغیر دانہ کے ہوسکتی ہے اور کیا کوئی فرزند بغیر باپ کے ہوسکتا ہے ؟ ) مریم (علیہ السلام) اس تعریض اور کنایہ کو سمجھ گئیں اور کہا کہ ہاں کیا تجھ کو معلوم نہیں کہ خدا نے جب پہلی کھیتی کو پیدا کیا تو بیج کے بغیر پیدا کیا۔ اور پہلے درخت کو اپنی قدرت سے بغیر پانی کے پیدا کیا۔ اس نے اپنی قدرت سے پانی کو درخت کی زندگی کا ذریعہ بنایا۔ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کو علیحدہ علیحدہ پیدا کیا اور پھر ایک کو دوسرے کا سبب بنایا۔ کیا تیرا یہ اعتقاد ہے کہ حق تعالیٰ بغیر پانی کی مدد کے درخت اگانے پر قادر نہیں ؟ یوسف نجار نے کہا میرا ہرگز یہ اعتقاد نہیں۔ میرا اعتقاد تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے جب وہ کسی کام کو کرنا چاہتا ہے تو صرف اتنا کہ دیتا ہے کہ ” ہوجا “ سو وہ ہوجاتا ہے۔ مریم (علیہ السلام) نے کہا کیا تجھے معلوم نہیں کہ تخم اور دانہ کا اور کھیتی کا اور پانی کا اور بارش کا اور درخت کا ایک ہی خالق ہے اور وہ درخت اگانے میں کسی پانی اور دانہ کا محتاج نہیں۔ یوسف نجار نے کہا کیوں نہیں بیشک وہ قادر مطلق ہے۔ پھر مریم (علیہ السلام) نے کہا کیا تجھے یہ معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو اور اس کی عورت کو بغیر مرد کے اور بغیر عورت کے اور بغیر حمل کے پیدا کیا۔ حضرت مریم (علیہ السلام) کے یہ جوابات سن کر یوسف نجار کا دل مطمئن ہوگیا اور اس کے دل سے تمام شبہات دور ہوگئے اور سمجھ گیا کہ یہ کوئی امر غیبی ہے جو تہمت اور بدگمانی سے پاک ہے۔ بلکہ کرامت خدا وندی ہے جس سے مریم (علیہ السلام) کو عزت دینی مقصود ہے۔ (دیکھو تفسیر کبیر للام الرازی صفحہ 546 ج 5 و تفسیر ابن کثیر ص 116 ج 3۔ و تفسیر ور منشور از سورة آل عمران ص 24۔ ج 12۔ و روح المعانی ص 74 ج 16) پھر جب ولادت کا وقت قریب آیا تو درد زہ نے ان کو مضطر کیا اور مجبور کیا کہ وہ کھجور کے تنے سے آکر سہارا لیں یہ درخت جنگل میں تھا اور بالکل خشک ہوگیا تھا۔ جب درد زہ شروع ہوا تو مریم (علیہ السلام) چار و ناچار ایک درخت خرما کے تنے سے سہارا لے کر بیٹھ گئیں۔ پریشانی کا عجیب عالم تھا ایک طرف تو بےسرو سامانی اور دوسری طرف رسوائی اور بدنامی کا خیال اس لیے بولیں کہ کاش میں اس حالت سے پہلے ہی مرجاتی اور بھولی بھلائی ہوجاتی کہ کوئی میرا نام و نشان تک نہ جانتا۔ فضیحت اور رسوائی کے خوف سے مریم (علیہ السلام) نے موت کی تمنا کی۔ شرم اور عار کے خیال نے فرشتوں کی بشارت کو فراموش کردیا۔ پس اس وقت فرشتے نے مریم (علیہ السلام) کو نیچے کی جانب سے آواز دی کہ تو غم نہ کر اور موت کی تمنا نہ کر تیرے پروردگار نے غیب سے یکایک تیرے نیچے ایک نہر جاری کردی ہے اور تیرے کھانے پینے کا سامان کردیا ہے۔ پینے کے لیے نہر جاری کردی اور کھانے کے لیے خشک درخت کو میوہ دار کردیا۔ پہلی مرتبہ جبریل (علیہ السلام) بشارت کے لیے آئے تو مریم (علیہ السلام) کے سامنے آئے اس وقت تسلی کے لیے آئے تو سامنے نہیں آئے بلکہ وادی کے نیچے سے آواز دی۔ مریم (علیہ السلام) اس وقت ایک ٹیلہ پر تھیں۔ اور نیچے جبریل (علیہ السلام) تھے۔ وہاں ایک خشک نہر تھی اللہ نے اپنی قدرت سے اس میں پانی جاری کردیا اور سوکھے درخت کو ہرا اور سر سبز کردیا۔ اسی دم اس پر پھل آگئے اور حکم دیا اللہ تعالیٰ نے کہ اے مریم (علیہ السلام) اس کھجور کے تنے کو پکڑ کر اپنی طرف ہلا وہ تجھ پر پکی پکی تازہ کھجوریں گرائے گی۔ زچہ کے لیے سب سے زیادہ مفید تر کھجور ہے۔ اطباء نے لکھا ہے کہ عورت کے لیے ایام نفاس میں رطب تازہ کھجور سے بہتر کوئی غذا نہیں۔ الغرض جبریل (علیہ السلام) نے حضرت مریم (علیہ السلام) کی تسلی اور تسکین کے بعد یہ کہا۔ پس اے مریم (علیہ السلام) ! تو اس پھل کو کھا اور اس پانی کو پی اور اس فرزند دلبند سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کر۔ جو خدا بلا اسباب ظاہری خشک زمین سے پانی اور خشک درخت سے میوہ پیدا کرسکتا ہے وہ بغیر باپ کے لڑکا پیدا کرنے پر بھی قادر ہے۔ حق تعالیٰ کی ان کرامتوں اور عنایتوں پر نظر کرو اور پریشانی اور غم دل سے نکال دو ۔ یکایک پانی کا جاری ہونا یہ تو پینے کا سامان ہوا اور خشک درخت سے یکدم تازہ کھجوروں کا گرنا یہ کھانے کا سامان ہوا۔ یہ تو لذت جسمانی ہوئی۔ اور چونکہ پانی اور پھل کا ظہور بطور خرق عادت ہوا۔ اس لیے یہ کرامت لذت روحانی کا سبب بنی۔ پس اے مریم (علیہ السلام) یہ تو تیری راحت کا سامان ہوا اور جس بدنامی سے تو ڈر رہی ہے اس کا انتظام یہ ہے کہ اگر تو اس کے بعد کسی آدمی کو دیکھے اور وہ تجھ سے تیرے بیٹے کا حال پوچھے کہ یہ لڑکا کہاں سے آیا تو تم زبان سے کچھ نہ بولنا بلکہ اشارہ سے یہ کہہ دینا کہ میں نے رحمن کے واسطے ایسے روزہ کی نذر کی ہے جس میں کلام کی ممانعت ہے۔ سو اس وجہ سے میں آج کسی آدمی سے زبان سے بات نہیں کروں گی۔ بنی اسرائیل میں روزہ کی حالت میں بولنا منع تھا۔ ان لوگوں کا روزہ یہ تھا کہ کھانا اور پینا اور بات کرنا چھوڑ دیتے تھے۔ اس لیے فقولیٓ انی نذرت کا مطلب یہ ہے کہ زبان سے کچھ نہ کہنا بلکہ لوگوں کو اشارہ سے یہ بات سمجھا دینا الخ۔ قول کبھی زبان سے ہوتا ہے اور کبھی اشارہ سے۔ غرض یہ کہ فرشتہ کے اس کلام سے حضرت مریم (علیہ السلام) کو تسلی ہوگئی اور عیسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے۔ پھر جب مریم (علیہ السلام) کو ان بشارتوں اور کرامتوں سے سکون اور اطمینان ہوگیا تو مریم (علیہ السلام) اس بچہ کو اپنی گود میں اٹھائے ہوئے بیت اللحم سے چلیں اور اپنی قوم کے پاس اس کو لے کر آئیں تو قوم پر یہ بات بہت گراں گزری کہ جب مریم (علیہ السلام) کی کہیں شادی نہیں ہوئی تو یہ بچہ کہاں سے لائی۔ سو کہنے لگے کہ اے مریم (علیہ السلام) یہ تو تو ایک عجیب اور انوکھی چیز لے کر آئی ہے۔ تیرے گھر والوں میں کبھی ایسا امر ہوا ہی نہ تھا۔ اس طرح بچہ کو برملا گود میں لے کر آنا بہت ہی شرم کا مقام ہے یہ تو کھلی بےباکی اور بےحیائی ہے۔ اے ہارون کی بہن تیرا باپ کوئی برا آدمی نہ تھا اور نہ تیری ماں بدکار تھی یہ اثر تجھ میں کہاں سے آیا۔ سچ بتا کہ کس کا ہے۔ مریم (علیہ السلام) کے باپ کا نام عمران تھا جو مسجد اقصیٰ کے امام تھے اور بڑے عابد و زاہد تھے اور ان کی ماں کا نام حنہ بنت فاقوذا تھا جن کا قصہ قرآن میں مذکور ہے۔ پس جب تیرے ماں باپ بھائی بدکار نہ تھے تو تو نے یہ نالائق حرکت کیسے کی۔ حدیث میں ہے کہ مریم (علیہ السلام) کے بھائی کا نام ہارون تھا۔ جن کا زہد اور عبادت بنی اسرائیل میں ضرب المثل تھا۔ اور حضرت مریم (علیہ السلام) کا زہد اور عبادت بھی اپنے بھائی ہارون جیسا تھا۔ اس بناء پر ان کو اخت ہارون کہا گیا۔ اور ہارون نام حضرت ہارون پیغمبر (علیہ السلام) کے نام پر رکھا گیا تھا۔ بنی اسرائیل میں یہ دستور تھا کہ وہ اپنے بچوں کے نام پیغمبروں اور صالحین کے نام پر رکھتے تھے۔ جیسا کہ مسلمانوں میں ہزاروں آدمیوں کا نام محمد اور احمد رکھا گیا ہے۔ اور اگر بالفرض ہارون سے مراد برادر موسیٰ (علیہ السلام) ہی ہوں تو بھی محاورۂ عرب کے مطابق مریم (علیہ السلام) کو اخت ہارون کہنا درست ہے۔ کیونکہ مریم (علیہ السلام) حضرت ہارون کی نسل سے تھیں۔ جیسے تمیمی کو یا اخاتمیم اور ہمدانی کو یا اخا ہمدان کہتے ہیں اور قرآن کریم میں ہے۔ واذکر اخا عاد اس طرح مریم (علیہ السلام) کو یٰٓاخت ہارون کہنا صحیح ہے۔ پس مریم (علیہا السلام) اپنی قوم کی طعن وتشنیع کی یہ باتیں سن کر حسب ہدایت خدا وندی خاموش ہوگئیں اور کوئی جواب نہیں دیا بلکہ اس بچہ کی طرف اشارہ کردیا کہ جو کچھ کہنا ہو وہ اس سے کہو۔ یہ بچہ تمہیں جواب دے گا۔ تو وہ لوگ برہم ہو کر بولے کہ ہم اس بچہ سے کیسے بات کریں جو ابھی ماں کی گود میں بچہ ہی ہے۔ جب حضرت مریم (علیہ السلام) نے بچہ کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ تم اس بچہ سے پوچھ لو تو اور غضبناک ہوئے کہ بجائے شرم کے ہم سے تمسخر کرتی ہے اور کہتی ہے کہ اس شیر خوار بچہ سے پوچھ لو اور کہا جاتا ہے کہ زکریا (علیہ السلام) کو جب یہ خبر معلوم ہوئی تو وہ بھی جھپٹے ہوئے آئے اور بچہ سے کہا کہ اگر تو من جانب اللہ مأمور ہے تو اپنی حجت اور حقیقت بیان کر۔ عیسیٰ (علیہ السلام) نے دودھ پینا چھوڑ دیا اور ان کی طرف متوجہ ہوئے اور بول اٹھے اور کہا کہ میں بلاشبہ اللہ کا بندہ ہوں۔ خدا اور خدا کا بیٹا نہیں۔ الغرض جب حضرت مریم (علیہ السلام) بچہ کو لے کر اپنی قوم میں آئیں تو بنی اسرائیل جمع ہوگئے اور حضرت مریم (علیہ السلام) پر طعن وتشنیع شروع کی اس وقت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ماں کا دودھ پی رہے تھے اسی وقت دودھ پینا شروع کیا اور کہا کہ تحقیق میں اللہ کا بندہ ہوں (تفسیر قرطبی صفحہ 102 ض 11) اور اپنی ذات کے لیے آٹھ صفتیں بیان فرمائیں جن میں تمام خیالات فاسدہ کا رد ہوگیا۔ پہلی صفت : عبدیت انی عبد اللہ یعنی میں اللہ کا خاص بندہ ہوں بطور خرق عادت کے بغیر با پ کے پیدا ہوا ہوں۔ معاذ اللہ ولد الزنا نہیں اور نہ معاذ اللہ میں عین خدا ہوں اور نہ خدا مجھ میں حلول کیے ہوئے ہے۔ اس لیے کہ خالق معبود کا ایک جسم نومولود کے ساتھ متحد ہونا بداہۃ محال ہے اس لیے کہ معبود قدیم ہے اور جسم نومولود حادث ہے جو ابھی عدم سے وجود میں آیا ہے اور ظاہر ہے کہ قدیم نہ حادث کے ساتھ متحد ہوسکتا ہے اور نہ اس کا عین ہوسکتا ہے اور نہ اس میں حلول کرسکتا ہے۔ 1۔ کیونکہ۔ محل۔ حال کو محیط ہوتا ہے۔ اور اپنے اندر اس کو سمو لیتا ہے۔ 2۔ نیز محل اور ظرف۔ حال اور مظروف سے مقدار میں زیادہ ہوتا ہے۔ 3۔ نیز حال، محل کا محتاج بھی ہوتا ہے اور اللہ ان سب باتوں سے پاک اور منزہ ہے۔ عقلا یہ امر محال ہے کہ ایک جسم حادث اور متغیر۔ قدیم اور واجب الوجود کا محل اور ظرف بن سکے اور اس کو اپنے احاطہ میں لے سکے۔ یا اس کا جزء بن سکے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا مقصود اگرچہ اس کلام سے ماں سے تہمت دور کرنا تھا مگر عیسیٰ (علیہ السلام) نے سب سے پہلے خدا تعالیٰ سے تہمت کو دور کیا کہ کسی کو خدا کا شریک ٹھہرانا یا اس کے لیے اولاد تجویز کرنا یہ خدا تعالیٰ پر اتہام ہے۔ اور وہ اس تہمت سے پاک ہے۔ اسی طرح میری ماں کا حال ہے لوگ اس پر زنا کی تہمت لگا رہے ہیں مگر وہ اس سے بالکل پاک ہے۔ ایسا مبارک اور صاحب کمال بچہ کہیں زنا سے پیدا ہوسکتا ہے اور میری ولادت اس بات کی دلیل ہے کہ میں اللہ کا بندہ ہوں۔ معاذاللہ خود اللہ یا اللہ کا بیٹا نہیں۔ اس لیے کہ مولود معبود نہیں ہوسکتا لا محالہ عبد ہی ہوگا۔ اور اگر بقول نصاریٰ بطور فرض محال اس بات کو مان لیا جائے کہ ذات خدا وندی کے ناسوت کا عیسیٰ (علیہ السلام) میں حلول جائز اور ممکن ہے تو پھر کلمۃ اللہ کا حلول اور دخول زید اور ذات عمر میں بھی جائز ہونا چاہیے۔ سب کو معلوم ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) قدیم اور ازلی نہ تھے۔ بلکہ حادث تھے ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئے تھے۔ پس اگر ایک جسم حادث اور طفل مولود میں خداوند کا حلول اور دخول ممکن ہے تو پھر جسم فرعون میں اور جسم نمرود میں اور جسم گوسالہ میں معبود کا حلول کیوں محال ہے ؟ اور دوسری صفت یہ ہے کہ اللہ نے مجھ کو کتاب یعنی انجیل دی ہے۔ یعنی عنقریب اللہ تعالیٰ مجھ کو کتاب (انجیل) عطا کرے گا جو میری نبوت کی دلیل ہوگی اور نبوت الوہیت کے منافی ہے۔ اور تیسری صفت یہ ہے کہ اللہ نے مجھ کو نبی بنایا ہے۔ یعنی اللہ نے ازل میں فیصلہ کردیا ہے کہ وہ مجھ کو نبی بنائے گا۔ اور مجھ کو انجیل عطا کرے گا۔ اور چونکہ یہ فیصلہ قطعی ہے ضرور اپنے وقت پر واقع ہوگا۔ اس لیے اس آنے والے واقعہ کو بصیغۂ ماضی تعبیر کیا اور بعض کا قول یہ ہے کہ اسی وقت اللہ نے ان کو کتاب دے دی اور نبی کردیا۔ مگر یہ قول غایت درجہ بعید ہے۔ صحیح مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ازل میں یہ حکم کرچکا ہے کہ آئندہ چل کر مجھ کو نبوت ملے گی اور مجھ پر انجیل نازل ہوگی۔ جیسا کہ حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میں نبی تھا۔ حالانکہ آدم (علیہ السلام) ابھی روح اور جسد کے درمیان تھے۔ اور چوتھی صفت یہ ہے وجعلنی مبارکا این ماکنت یعنی اللہ تعالیٰ نے مجھ کو برکت والا بنایا ہے جس جگہ بھی ہوں جہاں بھی رہوں اور جاؤں خیر و برکت میرے ساتھ ہوگی اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ میں خدا کا مبارک بندہ ہوں۔ اور پانچویں صفت یہ ہے و او صانی بالصلٰوۃ و الزکٰوۃ ما دمت حیا اللہ نے مجھ کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیا ہے۔ جب تک میں دنیا میں زندہ رہوں۔ اس لیے کہ آسمان پر اٹھائے جانے کے بعد بندہ احکام شریعہ کا مکلف نہیں رہتا البتہ قیامت کے قریب جب آسمان سے دوبارہ نازل ہوں گے تو پھر حسب دستور احکام شرعیہ کے مکلف ہوں گے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ نے مجھ کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیا ہے جو اس کے حکم کے مطابق اس کے مقررہ وقت پر ادا کی جائے گی اور طاہر ہے کہ نماز اور زکوٰۃ اللہ کی عبادت ہے اور عبادت دلیل عبدیت کی ہے۔ اور عبدیت اور الوہیت کا جمع ہونا عقلا محال ہے۔ اور چھٹی صفت یہ ہے و بر ا مبوا لدتی اللہ تعالیٰ نے مجھ کو میری والدہ کا خدمت گذار بنایا ہے۔ اشارہ اس طرف ہے کہ میں بغیر باپ کے پیدا ہوا ہوں اور میری یہ والدہ عفیفہ اور طاہرہ اور مطہرہ ہے مجھ پر اس کی تعظیم و تکریم واجب ہے۔ بالفرض اگر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے کوئی باپ ہوتے تو خدمت اور احسان میں والدہ کی تخصیص نہ ہوتی بلکہ باپ کا بھی ذکر ہوتا جیسا کہ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کے قصہ میں فرمایا و برا مبوالدیہ یعنی یحییٰ (علیہ السلام) اپنے والدین کے ساتھ نیکی کرنے والے تھے اور اپنی والدہ کی خدمت اور اطاعت دلیل عبدیت کی ہے۔ اور ساتویں صفت یہ ہے و لم یجعلنی جبارا شقیا اللہ نے مجھ کو سرکش اور بدبخت نہیں بنایا کہ اللہ کا حکم نہ مانوں بلکہ متواضع اور نیک بخت بنایا۔ اس لیے کہ معصیت شقاوت کا سبب ہے۔ معلوم ہوا کہ جو شخص نماز نہیں پڑھتا یا زکوٰۃ نہیں دیتا اپنی ماں کا نافرمان ہے وہ متکبر اور بدبخت ہے اور متواضع اور نیک بخت ہونا یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) خدا کے بندے تھے۔ اور آٹھویں صفت یہ ہے والسلام علی یوم ولدت و یوم اموت و یوم ابعث حیا سلامتی ہے مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن میں مروں گا اور جس دن میں قبر سے زندہ اٹھا یا جاؤں گا۔ یہ صفت بھی اس بات کی دلیل ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ نبی تھے کیونکہ خدا ولات اور موت سے منزہ ہے اور کسی کی سلامتی اور حفاظت سے بےنیاز ہے۔ حدیث میں ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) آسمان سے نازل ہونے کے چند سال بعد مدینہ منورہ میں وفات پائیں گے اور آنحضرت ﷺ کے پاس روضۂ اقدس میں مدفون ہوں گے۔ اور اللہ تعالیٰ کی قدرت سے وہاں ایک قبر کی جگہ خالی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مجھ پر اللہ کی سلامتی ہے جس دن میں پیدا ہوا مس شیطان سے محفوظ رہا اور مرنے کے بعد سوال قبر وغیرہ سے محفوظ رہا اور قیامت کے دن قیامت کی ہول اور دہشت سے محفوظ رہوں گا۔ مجھے کہیں خوف و غم نہیں۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ماں کی گود میں یہ خارق عادت کلام کیا اور اپنی خداد خصال کمال کو نہایت بلاغت کے ساتھ بیان کیا۔ جب لوگوں نے ان کا یہ کلام سنا تو حیرت میں رہ گئے اور اس خارق عادت کلام کو سن کر لوگوں کو ان کی ماں کی براءت اور نزاہت معلوم ہوگئی اور اسی وجہ سے لوگوں نے مریم (علیہ السلام) پر زنا کی سزا قائم نہ کی اور مطمئن ہوگئے کہ یہ لڑکا معاذ اللہ ولد الزنا نہیں بلکہ قدرت خدا وندی کی ایک نشانی ہے۔ اور خوب سمجھ گئے کہ یہ بچہ اور اس کی ماں ہر قسم کی تہمت سے پاک ہے۔ اس لیے کہ اول تو ایک نومولود بچہ کا خارق عادت طریقہ پر اس طرح گفتگو کرنا اور نہایت فصاحت اور بلاغت کے ساتھ ایسا مؤثر کلام کرنا جس سے دشمن حیران اور سر بگریباں رہ جائیں، اس بات کی دلیل ہے کہ یہ نومولود نہایت مبارک اور مسعود ہے اور یہ اور اس کی ماں ہر قسم کی تہمت سے پاک اور منزہ ہے۔ پھر یہ کہ جو مولود ایسی پاکیزہ خصال اور ایسی صفات کمال کے ساتھ موصوف ہو وہ کیسے ولد الزنا ہوسکتا ہے خصوصا جبکہ خود ان کے اقرار ما کان ابوک امرا سوء و ما کانت امک بغیا سے کہ فرع کو اصل کے مطابق دیکھنا چاہیے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا یہ آخری کلام تھا یہ خارق عادت کلام سن کر لوگوں نے ان کی والدہ کی براءت معلوم کرلی اور خاموش ہوگئے اور عیسیٰ (علیہ السلام) بھی یہ کلام کر کے شیر خوار بچوں کی طرح خاموش ہوگئے پھر انہوں نے کوئی بات نہیں کی۔ یہاں تک کہ اس مدت کو پہنچے جس میں بچے عادتا باتیں کیا کرتے ہیں اس کلام کے بعد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا بولنا کہیں ثابت نہیں ورنہ ضرور نقل ہوتا۔ غرض یہ کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اس کلام کے بعد شیر خوار بچوں کی طرح خاموش ہوگئے اور جب تک بولنے کی عمر تک نہ پہنچے اس وقت تک نہ بولے۔ (دیکھو تفسیر قرطبی صفحہ 103 ج 11)