19. Surah Maryam

مريمMary · 98 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 19:34–40

ذٰلِكَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ١ۚ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِیْ فِیْهِ یَمْتَرُوْنَ Open ayah 19:34 in the Quran reader

یہ مریم کے بیٹے عیسیٰ ٰ ہیں (اور یہ) سچ بات ہے جس میں لوگ شک کرتے ہیں

مَا كَانَ لِلّٰهِ اَنْ یَّتَّخِذَ مِنْ وَّلَدٍ١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُؕ Open ayah 19:35 in the Quran reader

خدا کو سزاوار نہیں کہ کسی کو بیٹا بنائے وہ پاک ہے جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو یہی کہتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے

وَ اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 19:36 in the Quran reader

اور بیشک خدا ہی میرا پروردگار ہے تو اسی کی عبادت کرو یہی سیدھا راستہ ہے

فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَیْنِهِمْ١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ مَّشْهَدِ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 19:37 in the Quran reader

پھر (اہل کتاب کے) فرقوں نے باہم اختلاف کیا سو جو لوگ کافر ہوئے ان کو بڑے دن (یعنی قیامت کے روز) حاضر ہونے سے خرابی ہے

اَسْمِعْ بِهِمْ وَ اَبْصِرْ١ۙ یَوْمَ یَاْتُوْنَنَا لٰكِنِ الظّٰلِمُوْنَ الْیَوْمَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 19:38 in the Quran reader

اور وہ جس دن ہمارے سامنے آئیں گے کیسے سننے والے اور کیسے دیکھنے والے ہوں گے مگر ظالم آج صریح گمراہی میں ہیں

وَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْحَسْرَةِ اِذْ قُضِیَ الْاَمْرُ١ۘ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ وَّ هُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 19:39 in the Quran reader

اور ان کو حسرت و افسوس کے دن سے ڈراؤ جب بات فیصل کردی جائے گی اور (ہیہات) وہ غفلت میں (پڑے ہوئے ہیں) اور ایمان نہیں لاتے

اِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْاَرْضَ وَ مَنْ عَلَیْهَا وَ اِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 19:40 in the Quran reader

ہم ہی زمین کے اور جو لوگ اس پر (بستے) ہیں ان کے وارث ہیں اور ہماری ہی طرف ان کو لوٹنا ہوگا

قول مبرم و فیصلہء محکم دربارۂ حقیقت عیسیٰ بن مریم صلی اللہ تعالیٰ علیٰ نبینا وعلیہما وبارک و سلم قال اللہ تعالیٰ ۔ ذٰلک عیسیٰ ابن مریم۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ والینا یرجعون۔ یہاں تک حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کا قصہ تفصیل سے بیان فرمایا تاکہ اصل حقیقت واضح اور منکشف ہوجائے۔ اب آگے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں یہود اور نصاریٰ کے اختلاف کا فیصلہ فرماتے ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں، یہ ہیں عیسیٰ پسر مریم جو فقط عورت سے بغیر باپ کے پیدا ہوئے ہیں۔ یہ فقط مریم (علیہ السلام) کے بیٹے ہیں ان کا کوئی باپ نہیں۔ ان کی صحیح شان اور صفت وہ ہے جو اوپر بیان ہوئی عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) وہ نہیں جن کو عیسائی خدا یا خدا کا بیٹا کہتے ہیں اور نہ وہ ولد الزنا ہیں جیسا کہ یہود کہتے ہیں۔ میں بالکل سچی بات بتلا رہا ہوں جس میں لوگ اختلاف کر رہے ہیں۔ یہود عیسیٰ (علیہ السلام) کو ولد الزنا اور جھوٹا اور جادوگر کہتے ہیں اور نصاریٰ میں کوئی ان کو اللہ اور کوئی ان کو ابن اللہ کہتا ہے مگر وہ حقیقت میں اللہ کا بندہ ہے اور اس کا نبی ہے اور روح اللہ اور کلمۃ اللہ ہے۔ سچی اور حق بات یہ ہے جو بتلا دی گئی۔ اور اس کے سوا سب جھوٹ ہے۔ گزشتہ آیات میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کو ثابت کیا اب آگے کی آیت میں نصاریٰ کے عقیدۂ ابنیت کا رد فرماتے ہیں۔ اللہ کی یہ شان نہیں کہ وہ اپنے لیے کوئی فرزند بنائے۔ اللہ اس سے پاک ہے اس لیے کہ یہ اس کے لیے نقص اور عیب ہے۔ خدا تعالیٰ سب حاجتوں اور خواہشوں سے پاک ہے اور بیٹا باپ کے ہمجنس ہوتا ہے اور خدا بےمثل اور بےچون و چگون ہے۔ اس کی شان تو یہ ہے کہ جب وہ کسی کام کو کرنا چاہتا ہے تو صرف اتنا کہہ دیتا ہے کہ ہوجا سو وہ کام ہوجاتا ہے۔ بھلا ایسے قادر مطلق کو بیٹے اور بیٹی کی کیا ضرورت ہے۔ اور اس کو بغیر باپ کے پیدا کرنا کیا مشکل ہے اور منجملہ ان باتوں کے جو عیسیٰ (علیہ السلام) نے ماں کی گود میں لوگوں سے کیں ایک بات یہ تھی کہ لوگوں کو اس بات کی خبر دی کہ تحقیق اللہ میرا پروردگار ہے اور تم سب کا پروردگار ہے پس تم سب اسی کی عبادت کرو۔ یہی سیدھی راہ ہے جو اس راہ پر چلے گا وہ ہدایت پائے گا۔ پس اس حقیقت حال کے واضح ہوجانے کے بعد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں جماعتیں آپس میں مختلف ہوگئیں۔ حالانکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا صحیح حال ظاہر ہوچکا ہے جس میں اختلاف کی گنجائش نہیں اس لیے شیر خوارگی کی حالت میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے خارق عادت کلام سے یہ بات واضح ہوگئی کہ وہ خدا کے برگزیدہ بندے اور رسول برحق تھے۔ معاذ اللہ خدا یا خدا کا بیٹا نہ تھے۔ خدا کا مولود اور شیر خوار ہونا عقلا محال اور ناممکن ہے اور معاذ اللہ نہ وہ ولد الزنا تھے اور ان کی والدہ ماجدہ تہمت سے بالکل پاک اور بری تھیں مگر باوجود اس کے یہود تو یہ کہتے ہیں کہ وہ کاذب اور ساحر اور ولد الزنا تھا اور گہوارہ میں جو کلام کیا وہ سب جادو کا اثر تھا۔ اور دعویٰ نبوت کے بعد جس قدر معجزات دکھلائے وہ سب جادو تھے۔ اور نصاریٰ میں بعض تو یہ کہتے ہیں کہ وہ خدا تھے اور بعض کہتے ہیں کہ وہ خدا کے فرزند تھے اور بعض نصاریٰ اہل اسلام کی طرح ان کو خدا کا بندہ اور رسول مانتے ہیں اور زیادہ تر نصاریٰ میں تین فرقے ہیں، نسطوریہ اور یعقوبیہ اور ملکانیہ۔ فرقہء نسطوریہ تو حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا بتاتا ہے کہ آسمان سے آیا تھا۔ باپ نے پھر اس کو پھر آسمان پر بلا لیا اور اوپر اٹھا لیا۔ اور فرقہء یعقوبیہ یہ کہتا ہے کہ عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ تھا بعینیہٖ خدا آسمان سے اترا اور پھر آسمان پر چڑھ گیا۔ اور فرقہء ملکانیہ یہ کہتا ہے کہ مسیح بن مریم (علیہ السلام) تین خداؤں میں سے ایک خدا تھا اور نصاریٰ کا ایک گروہ یہ کہتا ہے کہ عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) خدا کے بندے اور اس کے رسول برحق تھے۔ اور صحیح نصرانی اور عیسائی یہی فرقہ ہے۔ اور یہی قول حق ہے جس کی قرآن اور حدیث نے مسلمانوں کو ہدایت کی اور یہی تمام مسلمانوں کا اجماعی عقیدہ ہے اور نصاریٰ کا یہ فرقہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بندہ اور رسول برحق مانتا تھا۔ نصاریٰ کے تمام فرقوں میں یہی فرقہ حق پر تھا جو توحید کا قائل تھا۔ اور تثلیت کا منکر تھا۔ پس ہلاکت اور بربادی ہے ان کافروں پر جو اللہ پر افتراء کرتے ہیں اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا بتاتے ہیں، سو ایسے کافروں کے لیے شدید عذاب ہے۔ بڑے دن کی حاضری کے وقت یعنی قیامت کے دن اور یہ کافر جو آج دنیا میں حق سے اندھے اور بہرے اور گونگے بنے ہوئے ہیں قیامت کے دن کیا ہی خوب سننے والے اور کیا ہی خوب دیکھنے والے ہوں گے۔ جس دن ہمارے پاس آئیں گے اس دن آنکھیں بھی کھل جائیں گی اور کان بھی خوب کھل جائیں گے۔ لیکن یہ ظالم لوگ آج تو گمراہی میں ہیں یعنی یہ کافر آج دنیا میں اندھے اور بہرے بنے ہوئے ہیں نہ حق کو سنتے ہیں نہ حق کو دیکھتے ہیں۔ مگر جب قیامت میں ہمارے سامنے آئیں گے تو اس وقت سننے والے اور خوب دیکھنے والے ہوں گے لیکن اس وقت کا سننا اور دیکھنا کچھ فائدہ نہ دے گا۔ اور اے نبی آپ ﷺ ان کو حسرت کے دن سے ڈرائیے یعنی قیامت کے دن سے ڈرائیے جس روز نیک و بد سب ہی پچھتائیں گے اور حسرت میں مبتلا ہوں گے برے آدمی تو اپنی برائیوں پر حسرت کریں گے کہ ہم نے یہ برے کام کیوں کیے اور نیک لوگ اس بات پر حسرت کریں گے کہ ہم نے نیکیاں زیادہ کیوں نہ کیں۔ لہٰذا آپ ﷺ ان لوگوں کو اس حسرت کے دن سے ڈرائیے جب کہ موت کو سب کے سامنے ذبح کر کے اہل جنت اور اہل جہنم کے خلود اور دوام کا اخیر فیصلہ کردیا جائے گا جیسا کہ حدیث میں ہے کہ موت کو چت کبرے مینڈھے کی شکل میں لا کر جنت اور جہنم کے درمیان میں ذبح کیا جائے گا۔ اور لوگ دیکھتے ہوں گے۔ اور فریقین یعنی اہل جنت اور اہل دوزخ کو خلود اور دوام کا حکم سنا دیا جائے گا۔ تاکہ اہل جنت کو معلوم ہوجائے کہ اب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جنت میں خلود اور دوام ہے اور کفار کو معلوم ہوجائے کہ اب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں خلود اور دوام ہے موت اور فنا نہیں۔ رواہ البخاری و مسلم و غیرہما۔ سنن ابن ماجہ اور صحیح ابن حبان میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ جب موت کے مینڈھے کو پل صراط پر کھڑا کر کے اہل جنت اور اہل دوزخ کو آواز دی جائے گی تو اہل جنت تو ڈرتے ڈرتے نظر اٹھا کر دیکھیں گے ان کو ڈر ہوگا کہ کہیں جنت سے نکلنے کا حکم تو نہیں ہوگا۔ اور اہل دوزخ خوش ہو کر دیکھیں گے کہ شاید ہم کو اس جگہ سے خروج اور رہائی کا حکم ہوجائے تو پھر سب کے سامنے موت ذبح کی جائے گی اور یہ اعلان کردیا جائے گا۔ کلاھما خلود فیما تجدون لا موت فیہ ابدا۔ ہر ایک اپنے اپنے ٹھکانہ میں ہمیشہ رہے گا کسی پر کبھی بھی موت نہ آئے گی۔ (فتح الباری صفحہ 362 ج 11) اور وہ لوگ آج دنیا میں غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ اور یہ لوگ یوم آخرت اور یوم حسرت پر یقین نہیں رکھتے۔ لیکن جب وہ دن سامنے آئے گا تو سوائے حسرت کے کچھ نظر نہ آئے گا۔ حضرت شاہ عبدالقادر (رح) لکھتے ہیں جب تک حشر کا دن ہے۔ مسلمان دوزخ سے نکل نکل کر بہشت میں جاویں گے۔ تب تک کافر بھی توقع میں ہوں گے۔ پھر موت کو مینڈھے کی صورت میں لا کر بہشت اور دوزخ کے بیچ سب کو دکھا کر ذبھ کریں گے اور پکار دیں گے کہ بہشتی بہشت میں اور دوزخی دوزخ میں رہ پڑے ہمیشہ کو وہ دن ہے کہ کافر ناامید ہوں گے۔ (موضح القرآن) مطلب یہ ہے کہ اب تک کافروں کو بھی امید تھی کہ شاید گنہگار مسلمانوں کی طرح ہم بھی کسی وقت دوزخ سے نکل جائیں گے لیکن جب موت کو لا کر سب کے سامنے ذبح کردیا جاے گا تو اس وقت کافر بالکل ناامید ہوجائیں گے اور حسرت سے ہاتھ ملیں گے لیکن اب پچھتانے سے کیا فائدہ۔ وقت گزر چکا۔ جمہور مفسرین یہ کہتے ہیں کہ اس آیت میں ” یوم الحسرۃ “ سے وہ وقت مراد ہے کہ جس وقت موت کو مینڈھے کی شکل میں لا کر سب کے سامنے ذبح کیا جائے گا۔ صحیحین میں ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن موت ایک کبود (چت کبرے) مینڈھے کی صورت میں لائی جائے گی۔ پھر دوزخ اور بہشت کے درمیان اس کو کھڑا کیا جائے گا۔ پھر ایک منادی یہ ندا کرے گا اے اہل جنت ! اس کی یہ آواز سن کر جنتی اپنی گردن اور اپنا سر اوپر اٹھا کر دیکھیں گے۔ وہ کہے گا کہ تم اس کو پہچانتے ہو ؟ جنتی جواب دیں گے ہاں یہ موت ہے اور وہ سب اسکو دیکھیں گے۔ یعنی خوب پہچان لیں گے کہ یہ موت ہے۔ پھر منادی ندا کرے گا کہ اے اہل نار ! یہ آواز سن کر دوزخی اپنی گردن اٹھا کر دیکھیں گے۔ وہ منادی کہے گا کہ تم اس کو پہچانتے ہو ؟ وہ کہیں گے کہ ہاں یہ موت ہے اور وہ سب اس کو دیکھ لیں گے۔ پھر اس مینڈھے کو جنت اور دوزخ کے درمیان سب کے سامنے ذبح کردیا جائے گا پھر منادی ندا کرے گا کہ اے اہل جنت ! اب ہمیشہ ہمیشہ رہو کبھی تم کو موت نہیں اور اے دوزخیو ! ہمیشہ ہمیشہ دوزخ میں رہو کبھی تم کو موت نہیں پھر آپ نے یہ آیت پڑھی۔ و انذرھم یوم الحسرۃ اذ قضی الامروھم فی غفلۃ و ھم لا یوء منون پھر آپ (علیہ السلام) نے اپنے دست مبارک سے دنیا کی طرف اشارہ فرمایا۔ اور یہی مضمون صحیحین میں عبداللہ بن عمرؓ کی روایت میں آیا ہے۔ اس وقت جنتیوں کو خوشی پر خوشی ہوگی اور دوزخیوں کو غم پر غم ہوگا۔ ترمذی کی روایت میں اتنا اور زیادہ ہے کہ اگر کوئی خوشی سے مرتا تو جنتی مرجاتے اور اگر کوئی غم سے مرتا تو دوزخی مرجاتے (مگر موت کے ذبح ہوجانے کے بعد تو کسی کو موت نہیں) اسی لیے ایک روایت میں ہے کہ موت کے ذبح ہوجانے کے بعد دوزخ اور جنت کے درمیان ایک پکارنے والا پکار کر یہ کہے گا : یا اھل الجنۃ ھو الخلود ابد الاٰبدین و یا اھل النار ھوا الخلود ابدا الاٰبدین (تفسیر ابن کثیر ص 122 ج 3) اے اہل جنت ! اب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خلود اور دوام ہے اور اے اہل دوزخ ! اب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دوزخ میں رہنا ہے۔ اہل ایمان ہمیشہ ہمیشہ جنت میں رہیں گے۔ اب کبھی جنت سے نہ نکلیں گے۔ اور کافر ہمیشہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔ غرض یہ کہ موت کے ذبح سے اہل جنت اور اہل نار کو یہ اطلاع دینی مقصودد ہوگی کہ اب ہمیشہ ہمیشہ اسی میں رہنا ہے۔ اس ندا کو سن کر اہل جنت اس قدر خوش ہوں گے کہ اگر کوئی خوشی سے مرجاتا تو وہ مرجاتے اور اہل دوزخ غم اور حسرت سے ایسی چیخ ماریں گے کہ اگر کوئی چیخ سے مرجاتا تو مرجاتے۔ اس لیے تمام اہل سنت والجماعۃ کا اجماعی عقیدہ ہے کہ کافر ہمیشہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے کبھی بھی جہنم سے نہیں نکلیں گے جیسا کہ اسی مسئلہ کی تفصیل پارہ ہشتم میں النار مثوٰ کم خٰلدین فیھآ الا ما شآاللٰہ کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ نیز سورة ہود میں خٰلدین فیھا ما دامت السمٰوٰت والارض الا ما شآء ربک کی تفسیر میں بھی اسی مسئلہ کی تحقیق گزر چکی ہے۔ امام قرطبی (رح) اپنی تفسیر میں ان احادیث کو ذکر کر کے فرماتے ہیں۔ و قد ذکرنا ذٰلک فی کتاب التذکرۃ و بینا ان الکفار مخلدون بھٰذہٖ الاحادیث والاٰیات ردا علی من قال ان صفۃ الغضب تنقطع و ان ابلیس و من تبعہ من الکفرۃ کفر عون و ھامان و قارون و اشباھھم یدخلون الجنۃ (تفسیر قرطبی ص 109 ج 11) ہم نے تفصیل کے ساتھ اس قسم کی احادیث کو اپنی کتاب التذکرۃ بامور الآخرۃ میں ذکر کردیا ہے۔ اور آیات اور احادیث سے یہ بات واضح کردی ہے کہ کفار ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے اور ان آیات اور احادیث کو ہم نے ان لوگوں کے رد کے لیے ذکر کیا ہے جن کا یہ گمان ہے کہ حق تعالیٰ کی صفت غضب منقطع اور ختم ہوجائے گی اور ابلیس اور اس کی پیروی کرنے والے کافر جیسے فرعون اور ہامان اور قارون جیسے جہنم سے نکل کر جنت میں داخل ہوجائیں گے۔ قال القرطبی و فی ھذہ الاحادیث التصریح بان خلود اھل النار فیھا لا الی غایۃ امدو اقامتھم فیھا علی الدوام بلا موت و لا حیاۃ نافعۃ ولا راحۃ کما قال تعالیٰ لا یقضیٰ علیھم فیموتوا و لا یخفف عنھم من عذابھا و قال تعالیٰ کلمآ ارادوا فیھا فمن زعم انھم یخرجون منھا و انھا تبقی خالیۃ او انھا تفنی و تذول فھو خارج عن مقتضی ما جاء بہ الرسول و اجمع علیہ اھل السنۃ۔ (فتح الباری باب صفۃ الجنۃ و النار من کتاب الرقاق) امام قرطبی (رح) فرماتے ہیں کہ ان احادیث میں (یعنی ذبح موت کی احادیث میں) اس کی تصریح ہے کہ دوزخیوں کے عذاب کی کوئی حد اور انتہا نہیں کافر ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ بغیر موت کے اور بغیر نافع زندگی کے اور بغیر راحت و آرام کے جیسا کہ حق تعالیٰ نے قرآن میں خبر دی کہ کافروں پر کبھی موت نہیں آئے گی اور نہ وہ کبھی جہنم سے نکلیں گے۔ اور جس شخص نے یہ گمان کیا کہ دوزخی کچھ روز کے بعد دوزخ سے نکال لیے جائیں گے اور دوزخ خالی رہ جائے گی۔ یا یہ گمان کیا کہ دوزخ فنا ہوجائے گی تو ایسا گمان کرنے والا شخص اس شریعت کے دائرہ سے خارج ہے کہ جس کو محمد ﷺ لے کر آئے نیز یہ شخص اہل سنت والجماعت کے اجماعی عقیدہ سے باہر ہے۔ خلاصۂ کلام یہ کہ جس دن موت ذبح کی جائے گی وہ دن کافروں کے حق میں انتہائی حسرت کا ہوگا اور مزید برآں حسرت کا ایک سبب یہ ہوگا کہ قیامت کے دن ہر نفس کو ایک گھر جنت کا اور ایک گھر جہنم کا دکھایا جائے گا اور پھر یہ کہا جائے گا کہ اے کافرو ! اگر تم نیک عمل کرتے تو جنت کے اس گھر میں جاتے اور اے مسلمانو ! اگر تم کفر کرتے تو دوزخ کے اس گھر میں جاتے۔ اللہ کا احسان ہوا کہ اس نے تم کو ایمان اور عمل صالح کی توفیق دی۔ یہ سن کر کافروں پر حسرت اور غم چھا جائے گا۔ یہ عبداللہ بن مسعودؓ کا قول ہے جو وعظ میں فرمایا کرتے تھے۔ اب کافروں کے اس حسرت کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ تحقیق ہم ہی وارث ہوں گے، اس زمین کے اور جو اس پر آباد کیا ہے یعنی زمین کے جملہ ساکنین پر آخر ایک دن موت آنی ہے سب مرجائیں گے۔ کسی کا ملک اور کسی کی ملک باقی نہ رہے گی۔ اور صرف ہم اکیلے باقی رہ جائیں گے اور ہم ہی ان کے مال و متاع کے وارث ہوں گے۔ اور وہ آخرت میں ہماری طرف لوٹائے جائیں گے۔ پھر ہم ان کو ان کے اعمال کے مطابق جزا دیں گے۔ لطائف و معارف 1۔ تمام اہل اسلام اور تمام عیسائی اس بات پر متفق ہیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) بغیر باپ کے محض اللہ کی قدرت سے پیدا ہوئے اور یہود یہ کہتے ہیں کہ وہ عام انسانوں کی طرح مرد اور عورت سے پیدا ہوئے تھے مگر ان کا تولد ناجائز تھا اور یہود ان کو معاذاللہ ولد الزنا اور ولد الحرام بتاتے ہیں۔ اور ملحد اور زندیق اور مرزائی اور قادیانی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بغیر باپ کے پیدا ہونے کے منکر ہیں اور کہتے ہیں کہ عام انسانوں کی طرح عیسیٰ (علیہ السلام) بھی مرد کے نطفہ سے پیدا ہوئے ہیں اور کہتے ہیں کہ حضرت مریم (علیہ السلام) کا یوسف نجار سے نکاح تو ہوگیا تھا مگر رخصتی نہیں ہوئی تھی اور ایسی حالت میں میاں بیوی کا جمع ہونا شرعا ممنوع نہ تھا۔ ایسے وقت میں اگر اولاد پیدا ہو تو وہ جائز اولاد متصور ہوگی۔ مگر خلاف رسم ہونے کی وجہ سے یہ بات معیوب اور موجب خجالت و ندامت سمجھی جاتی تھی۔ حضرت مریم (علیہ السلام) پر یہودیوں کا اتہام اسی وجہ سے تھا۔ ورنہ یوسف نجار شرعا مریم (علیہ السلام) کے شوہر تھے غرض یہ کہ ملاحدہ اور زنادقہ کے نزدیک حضرت مسیح (علیہ السلام) یوسف نجار کے بیٹے تھے اور بغیر باپ کے پیدا نہیں ہوئے تھے۔ اور دلیل یہ بیان کرتے ہیں کہ اناجیل مروجہ سے یہ ثابت ہے کہ حضرت مریم (علیہ السلام) کے ساتھ یوسف نجار کا تعلق زوجیت کا تھا اور اسی تعلق سے اور بھی ان سے اولاد ہوئی۔ اور یوسف نجار مریم (علیہ السلام) صدیقہ کے شرعی شوہر تھے جیسا کہ اناجیل اور کتاب الاعمال کے مقامات ذیل میں صاف لکھا ہے کہ یسوع۔ یوسف کا بیٹا ہے اور یوسف مریم (علیہ السلام) کا شوہر ہے۔ دیکھو متی 16؍1، لوقا 23؍2، متی 55؍13، یوحنا 42؍6، اعمال 31؍2، و نامہ رومیاں 4؍1 اس قسم کے نام نہاد مسلمان جو خوارق عادت کے منکر ہیں۔ وہ بغیر باپ کے تولد کے قائل نہیں وہ اپنے مزعومات اور خیالات کے لیے انجیل کا سہارا ڈھونڈتے ہیں۔ جواب : یہ سب غلط ہے اور الھاد اور زندقہ ہے۔ قرآن کریم نے متعدد مواضع میں حضرت مسیح بن مریم (علیہ السلام) کی ولادت کے قصہ کو اس درجہ تفصیل اور وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے کہ نہ اس میں کسی تاویل کی گنجائش ہے اور نہ کسی احتمال کی گنجائش ہے۔ آیات قرآنیہ سے بصراحت و وضاحت یہ امر واضح ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) بلا باپ کے پیدا ہوئے۔ 1۔ اس لیے کہ اس قصہ کا آغاز فتمثل لھا بشرا سویا سے ہوا جو دور تک چلا گیا۔ یہ تمام تفصیل اس بات کی صریح دلیل ہے کہ فرشتہ کی آمد محض اس لیے ہوئی تھی کہ وہ حضرت مریم (علیہ السلام) کو بلا سبب ظاہری من جانب اللہ ایک فرزند عطا کرے۔ یہ سن کر حضرت مریم (علیہ السلام) کو تعجب ہوا اور بولیں کہ لم یمسسنی بشر و لم اک بغیا یعنی میرا تو کسی مرد سے تعلق ہی نہیں نہ حلال کا اور نہ حرام کا نہ نکاح کا نہ زنا کا مجھے تو آج تک کسی مرد نے ہاتھ بھی نہیں لگایا پھر میرے بچہ کیسے ہوگا۔ فرشتہ نے جواب دیا کہ یوں ہی ہوگا یعنی بغیر باپ کے تجھ سے لڑکا پیدا ہوگا۔ بعد ازاں حضرت مریم (علیہ السلام) کی تسلی کے لیے فرشتہ نے کہا کہ یہ بات تیرے پروردگار کے لیے کوئی مشکل نہیں تو مطمئن رہ، پس اگر واقع میں حضرت مریم (علیہ السلام) کا کوئی شرعی شوہر تھا تو ان کو اس قدر گھبرانے اور ڈرنے کی کیا ضرورت تھی۔ ورنہ منکوحہ عورت کو ولادت سے تہمت کا کیا ڈر۔ 2۔ نیز حضرت مریم (علیہ السلام) کے اضطراب میں فرشتہ کا یہ کہنا۔ ولنجعلہٓ اٰیۃ للناس تاکہ ہم اس مولود مسعود کو اپنی قدرت کی نشانی بنا دیں۔ اس امر پر صراحۃ دلالت کرتا ہے کہ تولد مسیح قدرت خداوندی کی ایک خاص نشانی ہوگی اور لفظ ” آیت “ صرف ایسے ہی موقعہ پر استعمال ہوتا ہے کہ جو چیز بطور خرق عادت بلا اسباب ظاہری ظہور میں آئے جیسے اصحاب کہف اور ناقہ صالح (علیہ السلام) پر لفظ آیت کا اطلاق کیا گیا ہے۔ تو معلوم ہوا کہ یہ ولادت عجائب قدرت سے ہے۔ جن میں اسباب ظاہری کو دخل نہیں۔ 3۔ آیت ان مثل عیسیٰ عند اللٰہ کمثل اٰدم میں حضرت مسیح (علیہ السلام) کی بلاباپ ولادت کو حضرت آدم (علیہ السلام) کی ولادت کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے کہ جس طرح آدم (علیہ السلام) کا بغیر باپ کے پیدا ہونا دلیل ان کی الوہیت کی نہیں اسی طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا بغیر باپ کے پیدا ہونا الوہیت اور ابنیت کی دلیل نہیں۔ یہ آیت نصاریٰ کے اس خیال کے رد کرنے کے لیے نازل ہوئی کہ جو مسیح (علیہ السلام) کو بغیر باپ کے پیدا ہونے کی وجہ سے خدا کا بیٹا سمجھتے تھے۔ اس کے علاوہ اس قصہ میں حضرت مریم (علیہ السلام) کی کرامتوں کا ذکر ہے۔ جیسے یکایک ایک خشک کھجور کا پھل دار ہوجانا اور یکدم اس کے قریب پانی کا چشمہ ہوجانا اور حضرت مسیح (علیہ السلام) کا گہوارہ میں لوگوں سے خارق عادت طریقہ پر عجیب و غریب کلام کرنا وغیرہ وغیرہ۔ یہ تمام امور اس امر کی دلیل ہیں کہ یہ ولادت بطور کا رق عادت بلا اسباب طاہری قدرت خداوندی کا ایک کرشمہ تھی لوگ ان کرامتوں کو دیکھ کر مطمئن ہوگئے اور سمجھ گئے کہ ایسا مبارک مولود معاذ اللہ کبھی بھی ولد الزنا نہیں ہوسکتا۔ شیر خوار بچہ کی اس خارق عادت گفتگو نے تمام تہمتوں اور بدگمانیوں کا خاتمہ کردیا۔ اور بدزبانوں کی زبان بند کردی اور ملاحدہ اور زنادقہ نے جو ان صریح آیات میں تاویلات اور تحریفات کی ہیں اور اناجیل کا سہارا پکڑا ہے سو ان کی تردید کے لیے (اول) تو یہی کہہ دینا کافی ہے کہ اناجیل کا محرف ہونا قرآن اور حدیث اور اجماع امت سے اور علماء یہود و نصاریٰ کے اعتراف اور اقرار سے ثابت ہے۔ قرآن و حدیث کے مقابلہ میں محرف کتاب کو کیسے حجت میں پیش کیا جاسکتا ہے ؟ (دوم) یہ کہ انجیل متی کے باب اول درس 18 سے لے کر اخیر تک اس کی تصریح ہے کہ عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) ایک کنواری سے پیدا ہوئے جس کا ایک جملہ یہ ہے۔ جب اس کی ماں مریم کی منگنی یوسف کے ساتھ ہوئی تو ان کے اکٹھے ہونے سے پہلے وہ روح القدس سے حاملہ پائی گئیں۔ پھر انجیل لوقا کے باب اول درس 26 سے لے کر 38 تک یہی کلام چلا گیا ہے جس کے کئی جملوں میں قرآن کے موافق مریم (علیہ السلام) کا فرشتہ سے حمل ہونا اور مسیح کا بغیر باپ کے پیدا ہونا مذکور ہے اس میں یہ مذکور ہے کہ ” مریم (علیہ السلام) نے فرشتہ سے کہا یہ کیونکر ہوگا جس حال سے کہ مرد سے واقف بھی نہیں اور فرشتہ نے جواب میں اس سے کہا کہ روح القدس تجھ پر نازل ہوگا۔ اور خدا کی قدرت تجھ پر سایہ ڈالے گی “۔ اور صحیفہء یسعیاہ کے باب 7 درس 14 میں ہے۔ ” ایک کنواری حاملہ ہوگی اور بیٹا جنے گی “ پھرنا معلوم کہ یہ ملاحدہ اور زنادقہ مسلمانوں جیسے نام رکھ کر کہاں سے زمین و آسمان کے قلابے ملاتے ہیں اور صریح آیات قرآنیہ کا انکار کرتے ہیں اور اس قسم کی ولادت کو خلاف سنت الٰہیہ کہہ کر محال بتلاتے ہیں۔ ان کو معلوم نہیں کہ اللہ کی سنت اور اس کا قانون انبیاء اور اولیاء کے ساتھ اور ہے اور عوام اور دشمنوں کے ساتھ اور ہے۔ 2۔ نیز آیات قرآنیہ کا از اول تا آخر تمام سیاق وسباق صراحۃ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کا یہ کلام شیر خوارگی کی حالت میں تھا۔ اور ملاحدہ یہ کہتے ہیں کہ بارہ برس کی عمر میں تھا یا نبوت ملنے کے بعد تھا۔ کبرت کلمۃ تخرج من افواھھم ان یقولون الا کذبا۔ جس طرح لوگوں نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کی ولادت میں اختلاف کیا اسی طرح لوگوں نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کی وفات کے بارے میں بھی اختلاف کیا۔ یہود بےبہبود کہتے ہیں کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) صلیب پر چڑھائے گئے اور صلیب ہی پر مرگئے اور لعنتی ہوئے۔ اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) صلیب پر چڑھائے گئے اور صلیب پر مرے اور تین دن کے واسطے تمام انسانوں کے گناہوں کا عذاب اٹھایا تاکہ سب کے گناہوں کا کفارہ ہوں اور اس کے بعد وہ زندہ ہوئے اور جی اٹھے اور آسمان پر چلے گئے۔ اور اپنے باپ کے پاس جا بیٹھے اور تمام اہل اسلام یہ کہتے ہیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) صلیب پر نہیں چڑھائے گئے اور نہ وہ مقتول ہوئے اور نہ مصلوب ہوئے بلکہ اسی جسم عنصری کے ساتھ زندہ آسمان پر اٹھائے گئے اور جس جسم کو وہ قتل کرنا یا صلیب دینا چاہتے تھے اللہ نے اسی جسم کو زندہ اور صحیح سالم آسمان پر اٹھا لیا۔ اور ایک شخص حضرت مسیح (علیہ السلام) کے مشابہ اور ہمشکل بنا دیا گیا اور وہ ان کی جگہ ان کے شبہ میں مصلوب ہوا بعض فرقے بھی اسی کے قائل ہیں۔ اور جو شخص حضرت مسیح (علیہ السلام) کی جگہ مصلوب ہوا بعض کہتے ہیں اس کا نام یہودا تھا اور بعض کہتے ہیں کہ اس کا نام شمعون تھا۔ اس مسئلہ کی تفصیل سورة نساء کے اخیر میں گزر چکی ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم (علیہ السلام) کو تو خاموشی کا حکم دیا اور حضرت مسیح (علیہ السلام) جو کلمۃ اللہ اور کلمہء صدق تھے ان کو گویا کردیا تاکہ اللہ کی الوہیت اور اپنی عبدیت اور ماں کی طہارت و نزاہت ایسے خارق عادت طریقہ سے ظہور میں آئے کہ کسی کو مجال انکار کی نہ رہے اور چونکہ اللہ پاک کے علم میں تھا کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کے بارے میں طرح طرح سے الفاظ کفریہ کہے جائیں گے، لہٰذا اول گویائی میں ان کی زبان سے وہ باتیں نکلوائیں جو ہمہ قسم کفر کے رد کے لیے کافی ہوں۔ 4۔ حدیث ذبح موت : امام قرطبی (رح) فرماتے ہیں کہ موت کو مینڈھے کی صورت میں لا کر ذبح کرنے میں اشارہ اس طرف ہے کہ یہ ان کا فدیہ اور بدل ہے۔ جیسے اسماعیل (علیہ السلام) کے فدیہ میں مینڈھا ذبح کیا گیا اور اس مینڈھے کے کبودی رنگ یا سیاہ سفید ہونے میں بہشتیوں اور دوزخیوں کی طرف اشارہ ہے اس لیے کہ سفیدی اہل جنت کا رنگ ہے اور سیاہی اہل دوزخ کا رنگ ہے۔ اور حدیث میں موت کے مینڈھے کی صفت املح وارد ہوئی ہے اور املح وہ ہے کہ جس میں سیاہی اور سفیدی ملی ہوئی ہو۔ (دیکھو فتح الباری صفحہ 362 ج 11 باب صفۃ الجنۃ و النار من کتاب الرقاق) 5۔ امام قرطبی (رح) نے بعض صوفیاء کرام سے نقل کیا ہے کہ اس موت کے مینڈھے کو یحییٰ بن زکریا (علیہما السلام) آنحضرت ﷺ کے سامنے ذبح کریں گے جس سے دوام حیات اور بقائے دائمی کی طرف اشارہ ہوگا۔ اور بعض کہتے ہیں کہ جبریل (علیہ السلام) ذبح کریں گے۔ (فتح الباری صفحہ 362 ج 11) 6۔ موت کے مینڈھے کے ذبح ہونے کے بعد ایک منادی ندا کرے گا۔ اے اہل جنت ! اب تم کو موت نہیں۔ اور اے اہل دوزخ ! اب تم کو موت نہیں۔ موت کے ذبح کے بعد یہ منادی اس لیے ہوگی کہ سب کو معلوم ہوجائے کہ موت اب مردہ اور معدوم اور فنا ہوگئی اس کے بعد موت پھر کبھی نہیں آئے گی اور ظاہر ہے کہ موت اور فنا کے ذبح ہوجانے کے بعد سوائے بقاء اور دوام کے اور کیا ہوگا۔ (فتح الباری صفحہ 362 ج 11) 7۔ موت کا مینڈھا ذبح ہونے کے بعد فریقین کے لیے یہ اعلان : کلاھما خلود فیما تجدون لا موت فیہ ابدا (فتح الباری صفحہ 362 ج 11) اس امر کی صریح دلیل ہے کہ جس طرح اہل ایمان کا جنت میں خلود ابدی ہوگا اسی طرح کافروں کا خلود ابدی ہوگا اور یہی تمام اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے، ابن تیمیہ (رح) اور ابن قیم (رح) نے اس بارے میں جمہور کا خلاف کیا اور یہ گمان کیا کہ کفار چند روز کے بعد دوزخ سے نکال لیے جائیں گے۔ یہ بالکل غلط ہے اور سیرۃ النبی ﷺ کے مصنف نے بھی اس غلطی میں ابن تیمیہ کی تقلید کی اور علامہ شبلی (رح) کو اور ان کے پیروؤں کو اپنی مزعوم درایت پر بڑا ناز ہے اور اہل ندوہ اپنے دفرد اور شذوذ کو تحقیق سمجھتے ہیں۔ نعوذ باللہ من سوء الفھم۔
Ayahs 19:41–50

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِبْرٰهِیْمَ١ؕ۬ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّا Open ayah 19:41 in the Quran reader

اور کتاب میں ابراہیم کو یاد کرو بیشک وہ نہایت سچے پیغمبر تھے

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ یٰۤاَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا یَسْمَعُ وَ لَا یُبْصِرُ وَ لَا یُغْنِیْ عَنْكَ شَیْئًا Open ayah 19:42 in the Quran reader

جب انہوں نے اپنے باپ سے کہا کہ ابا آپ ایسی چیزوں کو کیوں پوجتے ہیں جو نہ سنیں اور نہ دیکھیں اور نہ آپ کے کچھ کام آسکیں ؟

یٰۤاَبَتِ اِنِّیْ قَدْ جَآءَنِیْ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ یَاْتِكَ فَاتَّبِعْنِیْۤ اَهْدِكَ صِرَاطًا سَوِیًّا Open ayah 19:43 in the Quran reader

ابا مجھے ایسا علم ملا ہے جو آپ کو نہیں ملا تو میرے ساتھ ہوجائیے میں آپ کو سیدھی راہ پر چلادوں گا

یٰۤاَبَتِ لَا تَعْبُدِ الشَّیْطٰنَ١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ كَانَ لِلرَّحْمٰنِ عَصِیًّا Open ayah 19:44 in the Quran reader

ابا شیطان کی پرستش نہ کیجیے بیشک شیطان خدا کا نافرمان ہے

یٰۤاَبَتِ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یَّمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ فَتَكُوْنَ لِلشَّیْطٰنِ وَلِیًّا Open ayah 19:45 in the Quran reader

ابا مجھے ڈر لگتا ہے کہ آپ کو خدا کا عذاب آپکڑے تو آپ شیطان کے ساتھی ہوجائیں

قَالَ اَرَاغِبٌ اَنْتَ عَنْ اٰلِهَتِیْ یٰۤاِبْرٰهِیْمُ١ۚ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ لَاَرْجُمَنَّكَ وَ اهْجُرْنِیْ مَلِیًّا Open ayah 19:46 in the Quran reader

اس نے کہا ابراہیم کیا تو میرے معبودوں سے برگشتہ ہے ؟ اگر تو باز نہ آئے گا تو میں تجھے سنگسار کردوں گا اور تو ہمیشہ کے لئے مجھ سے دور ہوجا

قَالَ سَلٰمٌ عَلَیْكَ١ۚ سَاَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِیْ حَفِیًّا Open ayah 19:47 in the Quran reader

(ابراہیم نے) سلام علیک کہا (اور کہا کہ) میں آپ کے لئے اپنے پروردگار سے بخشش مانگوں گا۔ بیشک وہ مجھ پر نہایت مہربان ہے

وَ اَعْتَزِلُكُمْ وَ مَا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ اَدْعُوْا رَبِّیْ١ۖ٘ عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوْنَ بِدُعَآءِ رَبِّیْ شَقِیًّا Open ayah 19:48 in the Quran reader

اور میں آپ لوگوں سے اور جن کو آپ خدا کے سوا پکارا کرتے ہیں ان سے کنارہ کرتا ہوں اور اپنے پروردگار ہی کو پکاروں گا امید ہے کہ میں اپنے پروردگار کو پکار کر محروم نہیں رہوں گا

فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۙ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ وَ كُلًّا جَعَلْنَا نَبِیًّا Open ayah 19:49 in the Quran reader

اور جب ابراہیم ان لوگوں سے اور جن کی وہ خدا کے سوا پرستش کرتے تھے ان سے الگ ہوگئے تو ہم نے ان کو اسحاق اور (اسحاق) کو یعقوب بخشے اور سب کو پیغمبر بنایا

وَ وَهَبْنَا لَهُمْ مِّنْ رَّحْمَتِنَا وَ جَعَلْنَا لَهُمْ لِسَانَ صِدْقٍ عَلِیًّا۠ Open ayah 19:50 in the Quran reader

اور ان کو اپنی رحمت سے (بہت سی چیزیں) عنایت کیں اور ان کا ذکر جمیل بلند کیا

قصۂ سوم حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ و السلام قال اللہ تعالیٰ ۔ واذکر فی الکتٰب ابرٰھیم۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ وجعلنا لھم لسان صدق علیا۔ ربط۔ اس سورة کا یہ تیسرا قصہ ہے جس میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی خدا پرستی کا ذکر ہے کہ وہ کیسے خدا پرست تھے اور کس طرح انہوں نے اپنے باپ کو توحید کی دعوت دی اور کس طرح شرک اور بت پرستی کا بطلان ظاہر کیا اور اس دعوت اور تبلیغ میں اپنے باپ کے ادب اور احترام کو ملحوظ رکھا اور پھر کس طرح انہوں نے اللہ تعالیٰ کے لیے اپنے باپ کو چھوڑا اور اپنے آبائی وطن سے ہجرت کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے درجے بلند کیے اور ان کو اولاد صالح عطا فرمائی اور تمام امتوں اور قوموں میں ان کا ذکر خیر جاری رکھا۔ علامہ سیوطی (رح) نے بحر میں لکھا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ایک سو پچھتر برس زندہ رہے اور ان کے اور آدم (علیہ السلام) کے درمیان دو ہزار سال کا فاصلہ ہے اور ان کے اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے درمیان ایک ہزار برس کا فاصلہ ہے۔ نیز حضرت مریم (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ میں ان مشرکین کا رد فرمایا جو کسی زندہ عاقل کو خدا کا شریک ٹھہراتے تھے۔ اب ان آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کر کے ان مشرکین کا رد فرماتے ہیں جو بےجان بتوں کو خدا کا شریک ٹھہراتے تھے اس قسم کے مشرک قیامت کے دن اپنی حماقت پر بہت ہی زیادہ حسرت کریں گے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اے نبی ﷺ آپ اس کتاب یعنی قرآن میں لوگوں کے سامنے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کیجیے کہ یہ عرب کے مشرک حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہونے پر فخر کرتے ہیں اور ان کے طریقہ کے خلاف شرک میں مبتلا ہیں۔ بیشک ابراہیم (علیہ السلام) نہایت راستباز تھے۔ صدق و راستی میں حد کمال کو پہنچے ہوئے تھے۔ صدق و راستی انکے جز جز میں پوری طرح سرایت کیے ہوئے تھی اور پیغمبر تھے خدا کی طرف سے خبر دینے والے تھے یا یہ معنی ہیں کہ وہ عالی قدر اور بلند مرتبہ تھے۔ مطلب یہ ہے کہ نبوت اور صدیقیت کے جامع تھے جب کہ انہوں نے اپنے باپ آزر سے جو بت پرست تھے، یہ کہا کہ اے میرے باپ کیوں پوجتا ہے اس چیز کو جو نہیں سنتی اور نہیں دیکھتی اور نہ کسی ضرورت میں تیری کفایت کرسکے۔ یعنی جس چیز میں یہ صلاحیت نہیں کہ تیری خدمت اور عیادت کرسکے اور نہ تیری فریاد سن سکے اور نہ کسی نفع اور ضرر میں تیری کفایت کرسکے تو ایسی چیز کی عبادت سے کیا فائدہ کہ جس سے نہ نفع کی امید ہو اور نہ ضرر کا ڈر ہو اور یہ باتیں انتہائی ذلت کی ہیں اور معبود کے لیے نہایت عظمت چاہیے لہٰذا جب یہ بت نہ دیکھتے ہیں، اور نہ سنتے ہیں اور نہ ان کو یہ تمیز کہ کون ان کی عبادت کرتا ہے اور کون نہیں کرتا اور نہ یہ کسی نفع اور ضرر کے مالک ہیں تو ان کی عبادت سے کیا فائدہ ؟ ان بتوں سے تو ان کی عبادت کرنے والے ہی بہتر ہیں کہ جو سنتے بھی ہیں اور دیکھتے بھی ہیں ایسی ذلیل اور خوار اور بیکار چیز کو اپنا معبود بنانا انتہائی حماقت ہے۔ ایک بات تو یہ ہوئی دوسری بات حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ کی فہمائش کے لیے یہ کہی : اے میرے باپ بلا شبہ مجھے اللہ کی طرف سے وہ علم پہنچا ہے جو تیرے پاس نہیں آیا۔ لہٰذا غیر عالم کو چاہیے کہ وہ عالم کا اتباع کرے۔ پس آپ میرا اتباع کیجیے میں آپ کو سیدھی راہ بتلاؤں گا جو چلنے والے کو منزل مقصود پر پہنچا دے۔ اتباع کے معنی پیچھے پیچھے چلنے کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اے میرے باپ میرے پیچھے پیچھے چلو ان شآء اللہ تعالیٰ میں تم کو خدا تک پہنچا دوں گا۔ بحق پدری و بمقتضائے محبت فرزندی میں آپ سے کہتا ہوں کہ آپ میرا اتباع کیجیے۔ مجھے اللہ کی طرف سے جو علم پہنچا ہے اس میں غلطی کا احتمال نہیں تو ایسے علم صحیح والے کا اتباع تو عقلا ضروری ہے۔ تیسری بات یہ کہی اے میرے باپ تم شیطان کی عبادت نہ کرو کیونکہ بتوں کی عبادت در حقیقت شیطان کی عبادت ہے کیونکہ بتوں میں یہ صلاحیت اور لیاقت نہیں کہ وہ اپنی عبادت کی دعوت دے سکیں اور انبیاء اور اولیاء تو صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتے چلے آئے۔ لہٰذا بتوں کی عبادت کا داعی سوائے شیطان کے کون ہوسکتا ہے۔ اور سب کو معلوم ہے کہ بلاشبہ شیطان اللہ کا انتہائی نافرمان ہے جس کو ارحم الراحمین نے اپنی رحمت سے ملعون اور مطرود کردیا ہے۔ پس جو اس ملعون اور مطرود کی اتباع کرے گا اس کو بھی لعنت اور غضب سے حصہ ملے گا۔ خدا کا سب سے پہلا نافرمان یہی شیطان ہے جس نے آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا۔ چوتھی بات یہ کہی کہ اے میرے باپ بیشک میں ڈرتا ہوں کہ اگر تم اسی کفر و شرک کی حالت میں مرگئے تو تجھے رحمٰن کی طرف سے عذاب پہنچے گا۔ اور پھر تو دوزخ میں شیطان کا ساتھی بنے یعنی عذاب میں اس کا شریک بنے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جب باپ کو نرمی اور تلطف کے ساتھ یہ نصیحت فرما چکے تو باپ نے اس کے برعکس درشتی سے یہ جواب دیا۔ اے ابراہیم (علیہ السلام) کیا تو میرے معبودوں سے منحرف اور برگشتہ ہے ؟ اگر تو میرے معبودوں کو برا کہنے سے باز نہ آیا تو میں تجھ کو ضرور سنگسار کر دوں گا۔ اور ایک مدت دراز تک یعنی عمر بھر کے لیے تو مجھ سے دور ہوجا۔ تاکہ میں تیری شکل نہ دیکھوں۔ ورنہ میں تجھے مار ہی ڈالوں گا۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا اچھا تم پر سلام ہو۔ لیجیے میں جاتا ہوں اور تم سے رخصت ہوتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ تم کو ہر ظاہری اور باطنی آفت سے سلامتی عطا فرمائے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا یہ سلام تحیہء اکرام نہ تھا بلکہ سلام رحمت تھا اور باپ کے لیے دعا کو متضمن تھا۔ البتہ میں تیرے لیے اپنے پروردگار سے مغفرت مانگتا رہوں گا بلاشبہ وہ مجھ پر بڑا مہربان ہے۔ یعنی میں آپ سے جدا ہوتا ہوں اور اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ایمان کی توفیق دے جو ذریعہ مغفرت ہے۔ چلتے وقت باپ سے دعاء مغفرت کا وعدہ کیا۔ شاید باپ نرم پڑجائے۔ ابراہیم (علیہ السلام) اپنے باپ کے لیے دعاء مغفرت کرتے رہے۔ جب ان کے باپ کا خاتمہ کفر پر ہوگیا تو ان سے بیزار ہوگئے جیسا کہ سورة توبہ کے اخیر میں گزرا وما کان استغفار ابرٰھیم لابیہ الا عن موعدۃ و عد ھآ ایاہ فلما تبین لہٓ انہ عدوٌ للٰہ تبرا منہ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو پہلے سے علم نہ تھا کہ باپ کفر پر مرے گا ورنہ استغفار نہ کرتے۔ اور چھوڑ دوں گا میں تم سب کو یعنی باپ کو اور تمام خویش و اقارب کو اور سب اہل وطن کو اور چھوڑ دوں گا ان چیزوں کو یعنی ان بتوں کو جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو یعنی میں تم سب کو چھوڑ کر ملک شام کی طرف ہجرت کرتا ہوں اور صرف اپنے پروردگار کی عبادت کرتا رہوں گا جو مجھے دیکھتا ہے اور میری دعا کو سنتا ہے۔ امید ہے کہ میں اپنے رب کے پکارنے میں محروم نہ رہوں گا۔ جیسا کہ تم اپنے بتوں کے پکارنے میں محروم اور ناکام ہو۔ پس جب ابراہیم (علیہ السلام) ان سے اور ان چیزوں سے جن کی وہ پرستش کرتے تھے علیٰحدہ ہوگئے اور سب کو چھوڑ دیا اور ملک شام کی طرف ہجرت کر گئے تو ہم نے ان کو اسحاق جیسا بیٹا اور یعقوب جیسا پوتا بخشا یعنی ان کو نیک اولاد عطا کی تاکہ ان کی وحشت دور ہو۔ خدا کیلئے خویش و اقارب کو چھوڑا اللہ تعالیٰ نے اس سے بہتر عطا کردیا۔ ایمان کے بعد سب سے زیادہ قابل قدر فرزند صالح ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے۔ ؂ ندارد پدر ہیچ بایستہ تر، زفرزند شائستہ شائستہ تر اور ان دونوں میں سے ہر ایک کو ہم نے نبی بنایا اور ان تینوں کو ہم نے اپنی رحمت اور برکت سے خاص حصہ دیا جو ان کی پشت ہا پشت میں جاری وساری رہی۔ اور اس دنیا میں ہم نے ان کا نیک نام بلند کیا کہ ہر کوئی ان کا ذکر۔ خیر اور بھلائی کے ساتھ کرتا ہے۔ اور تمام اہل ملت و دین ان کی مدح وثناء کرتے ہیں۔ لسان صدق سے ثناء مراد ہے۔ کیونکہ ثناء اور تعریف زبان سے ہوتی ہے اور بخشش ہاتھ سے ہوتی ہے اور درود میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور انکی اولاد کا ذکر یہ بھی لسان صدق میں داخل ہے۔ اور اس جملہ یعنی و جعلنا لھم لسان صدق علیا میں اشارہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جو یہ دعا مانگی تھی واجعل لی لسان صدق فی الاٰخرین وہ دعا قبول ہوئی شاید حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کا ذکر اس جگہ اس لیے نہیں کیا کہ وہ اس سے پہلے عطا ہوچکے تھے۔ اور بحکم الٰہی ان کو اور انکی والدہ ہاجرۃ (علیہ السلام) کو خانہ کعبہ کے قریب لا کر چھوڑ گئے تھے اس جگہ اس اولاد کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ (علیہ السلام) کو عزیز و اقارب کو چھوڑنے کے صلہ میں عطا کی تھی اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) شروع ہی سے ان کے پاس نہیں رہے تھے۔ بچپن ہی میں ان سے جدا ہوگئے تھے۔ نیز حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کا مستقل طور پر آئندہ ذکر آنے والا ہے۔ نکتہ : سلاطین اور ملوک کی اگر تعریف کی جائے تو اس تعریف سے لوگوں کی نظر میں سلاطین کا رتبہ بلند ہوتا ہے۔ بخلاف حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کہ ان کی ثناء حسن سے ثنا کرنے والوں کا رتبہ بلند ہوگا کیونکہ ابراہیم (علیہ السلام) کی تعریف سر تا پا صدق اور حق ہوگی۔ اس لیے ان کی تعریف لوگوں کے حق میں موجب صد خیر و برکت ہوگی۔
Ayahs 19:51–53

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ مُوْسٰۤى١٘ اِنَّهٗ كَانَ مُخْلَصًا وَّ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّا Open ayah 19:51 in the Quran reader

اور کتاب میں موسیٰ کا بھی ذکر کرو بیشک وہ (ہمارے) برگزیدہ اور پیغمبر مرسل تھے

وَ نَادَیْنٰهُ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ الْاَیْمَنِ وَ قَرَّبْنٰهُ نَجِیًّا Open ayah 19:52 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو طور کی داہنی جانب پکارا اور باتیں کرنے کے لئے نزدیک بلایا

وَ وَهَبْنَا لَهٗ مِنْ رَّحْمَتِنَاۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ نَبِیًّا Open ayah 19:53 in the Quran reader

اور اپنی مہربانی سے انکو ان کا بھائی ہارون پیغمبر عطا کیا

قصۂ چہارم حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ و السلام قال اللہ تعالیٰ ۔ واذ کر فی الکتٰب موسٰٓی۔۔۔ الیٰ اخاہ ھٰرون نبیا۔ یہ چوتھا قصہ موسیٰ (علیہ السلام) کا ہے۔ خلیل اللہ کے قصے کے بعد کلیم اللہ کا قصہ ذکر فرماتے ہیں۔ اس قصہ میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی پانچ صفتیں ذکر فرمائیں۔ (1) مخلص یعنی خدا کے منتخب اور برگزیدہ بندے تھے۔ (2) رسول اور نبی تھے۔ (3) ان سے اللہ تعالیٰ نے کلام فرمایا۔ (4) ان کو اپنا مقرب بنایا۔ (5) ان کی فرمائش سے ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو نبی بنایا۔ چناچہ فرماتے ہیں : اور اے نبی ﷺ اس کتاب یعنی قرآن میں موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ پڑھ کر لوگوں کو سنائیے۔ بیشک وہ خدا کے چیدہ اور برگزیدہ خالص اللہ کے لیے چنے ہوئے تھے۔ جن کی ذات وصفات میں اور اعمال و نیات میں غیر اللہ کا شائبہ بھی نہ تھا۔ اور تھے وہ رسول اور نبی۔ ” رسول “ کے معنی یہ ہیں کہ وہ فرستادہء خدا وندی تھے اور نبی کے معنی یہ ہیں کہ مخلوق کو احکام خدا وندی سے آگاہ کرنے والے اور خبر دینے والے تھے۔ معتزلہ کے نزدیک ہر نبی رسول ہوتا ہے۔ ان کے نزدیک دونوں متلازم ہیں اور جمہور اہل سنت کے نزدیک نبی عام ہے اور رسول خاص ہے۔ رسول وہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی خصوصی امتیاز حاصل ہو یعنی کوئی مستقل کتاب یا کوئی مستقل شریعت عطا ہوئی ہو یا مکذبین اور معاندین کے مقابلہ میں معجزات قاہرہ دے کر بھیجے گئے ہوں۔ اور ” نبی “ وہ ہے کہ جو اللہ کی طرف سے خبر دے گو اس کے ساتھ کوئی مستقل کتاب اور مستقل شریعت نہ ہو۔ بہرحال نبی عام ہے اور رسول خاص ہے۔ بظاہر مناسب یہ تھا کہ پہلے عام کو ذکر کرتے اور پھر خاص کو ذکر کرتے لیکن فاصلہ یعنی قافیہ کی رعایت سے خاص کو عام یعنی نبی پر مقدم کیا جیسا کہ طٰہٰ میں رب ھٰرون و موسیٰ میں فاصلہ کی رعایت سے ہارون کو موسیٰ (علیہ السلام) پر مقدم کیا۔ اور ہم نے موسیٰ کو کوہ طور کے دائیں جانب سے آواز دی اور یہ نداء نداء رسالت تھی۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) مدین سے مصر کو واپس آرہے تھے اور ہم نے ان کو قریب کرلیا راز کی باتیں سنانے کے لیے۔ اور بلا واسطہ ان سے کلام کرنے کے لیے۔ زجاج (رح) کہتے ہیں کہ آیت میں قرب سے قرب مسافت اور قرب مکانی مراد نہیں بلکہ قرب منزلت اور قرب مرتبہ مراد ہے۔ اور ہم نے اپنی رحمت اور مہربانی سے ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو نبی بنا کر عطا کیا۔ یعنی ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی یہ دعا واجعل لی وزیرا من اھلی قبول کی اور ان کی دعا کے مطابق ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو نبی بنا دیا۔ پس اصل ہبہ اور اصل عطیہ نبوت ہارون (علیہ السلام) کا تھا کہ ان کی دعا سے ہارون (علیہ السلام) کو نبوت ملی نہ کہ ذات ہارون (علیہ السلام) کا کیونکہ ہارون (علیہ السلام) تو پہلے سے موجود تھے اور موسیٰ (علیہ السلام) سے عمر میں بڑے تھے۔
Ayahs 19:54–55

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِسْمٰعِیْلَ١٘ اِنَّهٗ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّاۚ Open ayah 19:54 in the Quran reader

اور کتاب میں اسمعیل کا بھی ذکر کرو وہ وعدہ کے سچے اور (ہمارے) بھیجے ہوئے نبی تھے

وَ كَانَ یَاْمُرُ اَهْلَهٗ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ١۪ وَ كَانَ عِنْدَ رَبِّهٖ مَرْضِیًّا Open ayah 19:55 in the Quran reader

اور اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم کرتے تھے اور اپنے پروردگار کے ہاں پسندیدہ (وبرگزیدہ) تھے

قصۂ پنجم حضرت اسماعیل علیہ الصلوٰۃ و السلام قال اللہ تعالیٰ ۔ واذکر فی الکتٰب اسمٰعیل۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ وکان عندربہٖ مرضیا حضرت اسماعیل (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اول فرزند ہیں اور عرب حجاز کے جد اعلیٰ ہیں اور خاتم الانبیاء ﷺ کا ظہور ان کے صلب سے ہوا اور ان کی شریعت بھی مستقل تھی اور عشق اور فدائیت میں ان کی خاص شان ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے قصہ کو ان کے باپ کے قصہ کے ذیل میں ذکر نہیں فرمایا بلکہ جداگانہ طریقہ سے ان کا ذکر فرمایا اور اس سلسلہ میں ان کی چار صفتیں ذکر فرمائیں۔ (1) صادق الوعد تھے۔ (2) رسول اور نبی تھے۔ (3) اہل و عیال کو جانی اور مالی عبادت کا حکم دیتے تھے اصلاح کا طریقہ یہ ہے کہ اپنے اہل و عیال اور اہل خانہ سے اس کا آغاز کرے۔ کما قال اللہ تعالیٰ وانذر عشیر تک الاقربین وا مر اھلک بالصلوٰۃ واصطبر علیھا۔ (4) وہ مرضی یعنی خدا وند تعالیٰ کے پسندیدہ تھے۔ یہ انتہائی مدح ہے کہ جل شانہ ان سے من کل الوجوہ راضی تھے اور وہ ہر اعتبار سے خدا کے پسندیدہ تھے۔ چناچہ فرماتے ہیں : اور ذکر کرو قرآن میں قصہ اسماعیل (علیہ السلام) کا تحقیق وہ وعدے کے بڑے سچے تھے۔ لوگوں سے جو وعدے کرتے اسے پورا کرتے۔ ایک شخص سے وعدہ کیا تھا کہ جب تک تو واپس آئے گا تو تیرے انتظار میں کھڑا رہوں گا۔ وہ شخص تین دن کے بعد واپس آیا آپ (علیہ السلام) برابر تین دن اسی جگہ کھڑے رہے سب سے بڑھ کر یہ کہ آپ (علیہ السلام) نے اپنے باپ سے ذبح پر صبر کرنے کا وعدہ کیا۔ اس کو پورا کر کے دکھلایا اور تھے وہ رسول اور نبی۔ قبیلہ جرہم کی طرف مبعوث ہوئے تھے عجب نہیں کہ مناسک اور وادی غیر ذی زرع کے متعلق کچھ خاص احکام اور خاص شریعت دی گئی ہو جن سے وادی غیر ذی زرع کے رہنے والوں کو آگاہ اور خبردار کرتے ہوں۔ اور اسماعیل کہ خاص طور پر حکم کرتے تھے اپنے گھروالوں کو نماز اور زکوٰۃ کا یعنی اول اپنے اہل عیال کو عبادت کا حکم کرتے تھے کما قال اللہ تعالیٰ وانذر عشیرتک الاقربین۔۔ قوآانفسکم و اھلیکم نارا۔ اور تھے اسماعیل (علیہ السلام) اپنے پروردگار کے نزدیک نہایت پسندیدہ قضا الٰہی پر راضی تھے اور بلا میں صبر کرتے تھے۔ اور سخاوت میں کامل تھے اور وعدہ کے سچے تھے۔
Ayahs 19:56–57

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِدْرِیْسَ١٘ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّاۗۙ Open ayah 19:56 in the Quran reader

اور کتاب میں ادریس کا بھی ذکر کرو وہ بھی نہایت سچے نبی تھے

وَّ رَفَعْنٰهُ مَكَانًا عَلِیًّا Open ayah 19:57 in the Quran reader

اور ہم نے انکو اونچی جگہ اٹھا لیا تھا

قصہ ششم حضرت ادریس (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ ۔ واذکر فی الکتٰب ادریس۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ و رفعنٰہ مکانا (ربط) یہ چھٹا قصہ حضرت ادریس (علیہ السلام) کا ہے جو حضرت آدم (علیہ السلام) کے پوتے اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے جد امجد تھے۔ آپ (علیہ السلام) کا صل نام اخنوخ ہے اور ادریس لقب ہے چونکہ آپ کتابوں کو بکثرت پڑھتے تھے اس لیے آپ کا یہ لقب ہوا۔ آپ (علیہ السلام) درزی کا کام کرتے تھے سب سے پہلے آپ (علیہ السلام) ہی نے کپڑا سیا ہے اور سلا ہوا کپڑا سب سے پہلے آپ ہی نے پہنا ہے۔ آپ سے پہلے لوگ حیوانات کی کھالیں پہنا کرتے تھے۔ کتابت اور قلم حساب اور ترازو، پیمانہ اور ہتھیار کے موجد بھی آپ (علیہ السلام) ہی ہیں۔ اس قصہ میں اللہ تعالیٰ نے ان کی تین صفتیں ذکر فرمائیں۔ ایک صدیقیت، دوم نبوت، سوم رفعت مکانی۔ چناچہ فرماتے ہیں : اور اے نبی آپ ﷺ اس کتاب یعنی قرآن میں ادریس (علیہ السلام) کا ذکر پڑھ کر لوگوں کو سنائیے بلاشبہ وہ بڑے راست کردار تھے۔ سر تا پا صدق تھے کذب کا کہیں آس پاس گزر بھی نہ تھا۔ اور نبی تھے اللہ تعالیٰ نے ان پر تیس صحیفے نازل فرمائے تھے اور اٹھایا ہم نے ان کو بلند مکان پر یعنی آسمان پر۔ ابن عباسؓ اور مجاہدؓ سے مروی ہے کہ ادریس (علیہ السلام) عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرح زندہ آسمان پر اٹھائے گئے اور اب وہ بھی آسمان میں زندہ ہیں۔ اور صحیحین میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے شب معراج میں ادریس (علیہ السلام) کو چوتھے آسمان پر دیکھا اور وہاں ان سے ملاقات کی۔ حضرت ادریس (علیہ السلام) کے رفع کے بارے میں مختلف روایتیں آئی ہیں مگر وہ سب اسرائیلیات ہیں۔ جب پر ابن کثیر (رح) نے تنقید کی ہے اور بعض علماء کہتے ہیں کہ رفعناہ مکانا علیا میں رفعت مکانی مراد نہیں بلکہ رفعت مکانت یعنی علوم مرتبہ کے معنی مراد ہیں۔ اور مطلب یہ ہے کہ ہم نے ان کو قرب اور معرفت کے بلند مقام پر پہنچایا۔ تیس صحیفے ان پر نازل کیے اور بہت سے علوم اور صنعتیں ان کے ہاتھ سے ایجاد ہوئیں۔ جیسا کہ آنحضرت ﷺ کی نسبت آیا ہے۔ ورفعنا لک ذکرک۔ جمہور علماء کے نزدیک صحیح اور مختار یہ ہے کہ آیت میں رفعت سے مکان حسی کی بلندی مراد ہے۔ بلندی مرتبہ مراد نہیں۔ کیونکہ ظاہر الفاظ قرآنی سے یہی متبادر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بلند مکان یعنی آسمان پر اٹھایا اور مرتبہ کی بلندی بھی اسی میں زیادہ ہے کہ ان کو آسمان پر اٹھایا گیا۔ امام رازی (رح) فرماتے ہیں کہ مقام مدح کے یہی معنی مناسب ہیں۔ اس لیے کہ جو عظیم المرتبہ ہوتا ہے وہی آسمان پر اٹھایا جاتا ہے۔ (دیکھو تفسیر کبیر) اور امام ابن جریر (رح) اور حافظ ابن کثیر (رح) کا میلان بھی اسی معنی کی طرف ہے کہ آیت میں رفع سے مکان بلندی یعنی آسمان کی طرف اٹھایا جانا مراد ہے۔ اور حضرت شاہ ولی اللہ (رح) نے بھی اپنے ترجمہ میں اسی معنی کو اختیار کیا۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم و علمہ اتم و احکم ذکر و صف عام جنس انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کہ ہمہ اہل ہدایت و اہل کرامت و اہل نعمت و اہل قرب و منزلت بودندو با ایں ہمہ در خشوع و خضوع بانتہا رسیدہ بودہ بودند
Ayah 19:58

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ مِنْ ذُرِّیَّةِ اٰدَمَ١ۗ وَ مِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ١٘ وَّ مِنْ ذُرِّیَّةِ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْرَآءِیْلَ١٘ وَ مِمَّنْ هَدَیْنَا وَ اجْتَبَیْنَا١ؕ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُ الرَّحْمٰنِ خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ بُكِیًّا۩ Open ayah 19:58 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جن پر خدا نے پیغمبروں میں سے فضل کیا (یعنی) اولاد آدم میں سے اور ان لوگوں میں سے جن کو ہم نے نوح کے ساتھ (کشتی میں) سوار کیا اور ابراہیم اور یعقوب کی اولاد میں سے اور ان لوگوں میں سے جن کو ہم نے ہدایت دی اور برگزیدہ کیا جب ان کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی تھیں تو سجدے میں گرپڑتے اور روتے رہتے تھے

قال اللہ تعالیٰ ۔ اولٰٓئک الذین انعم اللہ علیھم من النبیٖن۔۔۔ الیٰ ۔۔۔۔ خروا سجدا و بکیا (ربط) شروع سورت سے یہاں تک خاص خاص انبیاء کے خاص خاص اوصاف بیان کیے گئے۔ اب تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) کا وصف عام بیان کرتے ہیں جو تمام انبیاء میں مشترک ہے۔ اور مقصود یہ ہے کہ جنس انبیاء کے تمام افراد اور تمام اشخاص خدائے تعالیٰ کے فرمانبردار اور برگزیدہ بندے تھے جن کو حق تعالیٰ نے اپنی خاص ہدایت اور خاص نعمت اور کرامت اور قرب منزلت سے سرفراز فرمایا۔ مگر باوجود اس قدر علو مقام اور رفعت شان کے غایت درجہ متواضع تھے اور عبودیت اور بندگی میں کامل تھے کہ خدا تعالیٰ کی آیتوں کو سن کر خشوع اور خضوع کے ساتھ سجدہ میں گر پڑتے تھے۔ اور زار و قطار روتے تھے۔ پس تم ان کے طریقے پر چلو اور اہل غفلت کے طریقہ پر نہ چلو چناچہ فرماتے ہیں : یہ لوگ جن کا اس سورت میں زکریا (علیہ السلام) سے لے کر یہاں تک ذکر ہوا، وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے اپنا خاص انعام فرمایا وہ نبیین ہیں ان میں سے بعض صرف نسل آدم سے ہیں۔ جیسے ادریس (علیہ السلام) اور بعض ان لوگوں کی نسل سے ہیں جن کو ہم نے نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں سوار کیا تھا۔ جیسے ابراہیم (علیہ السلام) کہ وہ سام بن نوح (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں جو کشتی میں سوار تھے اور بعض ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل سے ہیں جیسے اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب (علیہ السلام) اور بعض اسرائیل یعنی یعقوب (علیہ السلام) کی نسل سے ہیں جیسے موسیٰ و ہارون و زکریا و یحییٰ علیہم الصلوٰۃ والسلام اور یہ سب حضرات ان لوگوں میں سے تھے۔ اور جن کو ہم نے ہدایت دی اور جن کو ہم نے برگزیدہ بنایا۔ یہ حضرات ایسے برگزیدہ بندے تھے کہ جب ان پر رحمٰن کی آیتیں پڑھی جاتی تھیں اور خوف و خشیت اور غلبہء شوق و محبت سے سجدہ کرتے ہوئے اور روتے ہوئے زمین پر گر جاتے تھے۔ سماع قرآن کے وقت رونا اور خشوع و خضوع مستحب ہے۔ یہ آیت سجدہ کی ہے اس کے پڑھنے والے اور سننے والے پر سجدہ واجب ہے۔
Ayahs 19:59–63

فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّبَعُوا الشَّهَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّاۙ Open ayah 19:59 in the Quran reader

پھر ان کے بعد چند ناخلف ان کے جانشنیں ہوئے جنہوں نے نماز کو (چھوڑ دیا گو یا اسے) کھو دیا اور خواہشات نفسانی کے پیچھے لگ گئے سو عنقریب ان کو گمراہی (کی سزا) ملے گی

اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاُولٰٓئِكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ شَیْئًاۙ Open ayah 19:60 in the Quran reader

ہاں جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور عمل نیک کئے تو ایسے لوگ بہشت میں داخل ہوں گے اور ان کا ذرا نقصان نہ کیا جائے گا

جَنّٰتِ عَدْنِ اِ۟لَّتِیْ وَعَدَ الرَّحْمٰنُ عِبَادَهٗ بِالْغَیْبِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ وَعْدُهٗ مَاْتِیًّا Open ayah 19:61 in the Quran reader

(یعنی) بہشت جاودانی (میں) جس کا خدا نے اپنے بندوں سے وعدہ کیا ہے (اور جو کوئی آنکھوں سے) پوشیدہ (ہے) بیشک اس کا وعدہ (نیکوکاروں کے سامنے) آنے والا ہے

لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا اِلَّا سَلٰمًا١ؕ وَ لَهُمْ رِزْقُهُمْ فِیْهَا بُكْرَةً وَّ عَشِیًّا Open ayah 19:62 in the Quran reader

وہ اس میں سلام کے سوا کوئی بیہودہ کلام نہ سنیں گے اور ان کے لئے صبح وشام کھانا تیار ہوگا

تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِیْ نُوْرِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ كَانَ تَقِیًّا Open ayah 19:63 in the Quran reader

یہی وہ جنت ہے جس کا ہم اپنے بندوں میں سے ایسے شخص کو وارث بنائیں گے جو پرہیزگار ہوگا

ذکر حال و مآل اہل سعادت و اہل شقاوت قال اللہ تعالیٰ ۔ فخلف من م بعدھم خلف اضاعوا الصلوٰۃ۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ من کان تقیا (ربط) گزشتہ آیات میں سلف صالحین اور انبیاء کرام (علیہ السلام) کا ذکر تھا۔ جو سب دین حق پر تھے۔ اور خدا کے برگزیدہ بندے تھے۔ اب ان آیات میں پچھلوں اور ان ناخلف لوگوں کا حال اور مآل بیان کرتے ہیں کہ جنہوں نے انبیاء کرام (علیہ السلام) کے اتباع سے انحراف کیا اور دنیاوی شہوات اور لذات کے پیچھے ہو لیے۔ اور ہولناکیوں میں مبتلا ہوگئے اور نماز جیسی اہم العبادات کو ضائع کردیا۔ سو ایسے لوگ حال اور مآل کے اعتبار سے تباہ و برباد ہوئے۔ البتہ جو لوگ اپنی جہالت اور ضلالت سے تائب ہوئے اور انبیاء کرام (علیہ السلام) پر ایمان لائے اور ان کے طریقہ پر چلے وہ اہل سعادت ہیں ان کو بارگاہ خدا وندی سے انعام ملے گا۔ اس لیے اب ان آیات میں متبعین اور مبتدعین کے حال اور مآل کو اور ان کی سعادت اور شقاوت کو بیان کرتے ہیں تاکہ معلوم ہوجائے کہ سعادت انبیاء کرام (علیہ السلام) کے اتباع میں ہے اور شقاوت ان کے اتباع سے اعراض و انحراف میں ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں : پھر ان اہل سعادت کے بعد بعض کچھ ایسے نا خلف پیدا ہوئے جنہوں نے نماز کو ضائع کردیا اور نفسانی خواہشوں کے پیچھے لگ گئے سو یہ لوگ عنقریب آخرت میں بدی اور خسارہ میں مبتلا ہوں گے یعنی عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ مگر جس نے توبہ کرلی اور ایمان لے آیا اور اچھے کام کیے سو ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان کے حق میں ذرہ برابر کمی نہیں کی جائے گی یعنی ان کے اعمال کی پوری پوری جزا ملے گی۔ باغات خلود اور دوام میں داخل ہوں گے۔ یعنی ہمیشہ رہنے کے باغوں میں داخل ہوں گے۔ برخلاف دنیاوی باغات کے کہ وہ فانی ہیں۔ یہ دائمی باغات ایسے ہیں جن کا رحمٰن نے غائبانہ وعدہ کیا ہے یعنی وہ باغ بندوں کی نظروں سے غائب ہیں کچھ شک نہیں کہ اس کا وعدہ اس کے دوستوں کو ضرور آکر اور پہنچ کر رہے گا۔ ان باغوں میں سوائے سلام کے کوئی بیہودہ اور خراب بات نہیں سنیں گے۔ اللہ کا اور فرشتوں کا سلام سنیں گے۔ یا آپس کا سلام سنیں گے سلام سے وہ کلام مراد ہے جس سے سلامتی اور خوشی ظاہر ہو یعنی جنت میں عمدہ اور خوشگوار باتیں سنیں گے۔ اور رہا رزق تو ان باغوں میں ان کے لیے صبح و شام کا رزق موجود اور حاضر ہوگا جنت میں صبح و شام نہیں مگر جتنی مقدار صبح سے شام تک اور شام سے صبح تک ہے اتنی مقدار میں جنت میں ان کو رزق ملے گا۔ جیسے کہ دنیا میں ان کی عادت تھی ورنہ جنت میں دن رات نہیں وہاں ہر وقت نور ہی نور ہوگا۔ شاید وہ روشنی بدلتی رہے گی جس سے اوقات کا فرق معلوم ہوگا یا کوئی اور علامتیں ہوں گی جن سے صبح و شام کی مقدار کو پہچانیں گے۔ جیسا کہ بعض آثار میں آیا ہے کہ پردے چھوڑنے اور دروازے بند کرنے سے رات کا وقت معلوم ہوگا اور پردے اٹھنے سے اور دروازوں کے کھلنے سے دن معلوم ہوگا۔ (دیکھو روح المعانی ص 103 ج 16) واللہ اعلم۔ وہ بہشت جس کا ذکر ہم نے کیا ہے وہ ہے جس کا ہم وارث بنا دیں گے اپنے بندوں میں سے اس شخص کو جو پرہیزگار ہوگا۔ شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ حاصل کلام یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کے زمانہ کے بعد ایسے لوگ پیدا ہوئے جو برخلاف سیرت انبیاء (علیہ السلام) کے تھے۔ اس سے اشارہ یہود و نصاریٰ کی طرف ہے جنہوں نے اپنے دین مبین میں تحریف و تبدیل کی۔ اور بداعمالیوں میں مبتلا ہوئے۔ ظاہر آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بوقت نزول سورة مریم مسلمانوں میں ایک جماعت ایسی موجود تھی جو اوصاف مذکورۂ آیت یعنی ایمان اور عمل سالح کے ساتھ موصوف تھی۔ اور شک نہیں کہ وہ جماعت مہاجرین اولین کی تھی۔ وہو المقصود۔ (ازالۃ الخفاء)