Ayahs 20:56–76ذکر مذاکرہ دیگر درمیان موسیٰ (علیہ السلام) و فرعون لعین
قال اللہ تعالیٰ ولقد ارینہ ایتنا کلہا ... الیٰ ... وذلک جزا اؤ من تزکی۔
(ربط) گزشتہ آیات میں الوہیت و ربوبیت خداوندی کے بارے میں مذاکرہ کا ذکر تھا۔ اب ان آیات میں موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون علیہ اللعنہ کے درمیان ایک دوسرے مذاکرہ کا ذکر ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور البتہ تحقیق ہم نے فرعون کو الوہیت اور ربوبیت اور نبوت و رسالت اور حشر و نشر اور قیامت کے متعلق اپنی تمام نشانیاں دکھا دیں۔ جن کو اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور کسی عذر کی اس کے لیے گنجائش باقی نہ رہی اس لیے کہ حق اس کی آنکھوں کے سامنے آگیا۔ پھر بھی اس نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا اور ان کو سحر اور جادو بتلایا اور ان کے ماننے سے انکار کردیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) بحکم خداوندی فرعون کے پاس گئے اور جن آیات بینات کا اس وقت دکھانا منظور تھا وہ سب اس کو دکھلا دیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے دلائل ربوبیت و وحدانیت بھی فرعون کے سامنے بیان کر دئیے۔
کما قال اللہ تعالیٰ حکایۃ عنہ ربنا الذی اعطی کل شیء خلقہ ثم ھدی الخ اپنی نبوت و رسالت کے اثبات کے لیے فرعون کو عصا اور یدبیضاء کا معجزہ دکھلا دیا۔ اور منھا خلقنکم وفیہا نعیدکم ومنھا نخرجکم تارۃ اخری سے حشر و نشر اور قیامت کا اثبات فرمایا مگر فرعون نے ان آیات بینات اور ان روشن دلائل کو بھی نہ مانا اور ان معجزات کو جادو بتایا اور بولا اے موسیٰ کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ اپنے جادو کے زور سے ہم کو ہمارے ملک سے نکال دے اور خود اس پر قابض ہوجائے تو ہم بھی تیرے مقابلہ میں ایسا ہی جادو لائیں گے اور تیرے جادو کا جادو سے مقابلہ کریں گے تاکہ لوگ جان لیں کہ یہ شخص پیغمبر نہیں جادو گر ہے۔ فرعون ملعون نے یہ بات اجئتنا لتخرجنا من ارضنا بسحرک یموسی اے موسیٰ (علیہ السلام) کیا تو اپنے جادو کے روز سے ہم کو ہمارے ملک اور وطن سے نکالنا چاہتا ہے اپنی قوم کو موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے نفرت اور اشتعال دلانے کے لئے کہی۔ کیونکہ جب قوم کے لوگ یہ سنیں گے تو ان کے دل میں یہ بات جم جائے گی کہ اگر ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی بات مان لی تو اس کا انجام یہ ہوگا کہ ہم کو اپنے گھر بار سے نکلنا پڑے گا۔ تو اس کی بات کو قبول نہ کریں گیں اور نہ اس کے معجزوں میں غور و فکر کریں گے۔ اور یہ سمجھیں گے کہ جو کچھ موسیٰ (علیہ السلام) نے دکھایا ہے وہ ابھی ایک قسم کا جادو ہے۔ فرعون ملعون کا یہ کلام اس بات کی دلیل ہے کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزہ کو دیکھ کر غایت درجہ خوف زدہ ہوا اور یہ سمجھ گیا کہ یہ حق ہے جادو نہیں اور یہ وہی شخص ہے کہ جس کی پیش گوئی میں عرصہ سے سن رہا ہوں۔ کہ آل ابراہیم میں ایک شخص ہوگا جس کے ہاتھ پر میرے سلطنت کا خاتمہ ہوگا اور اسی ڈر کے مارے بنی اسرائیل کی اولاد کو قتل کرواتا تھا۔ اگر اس کو یقین نہ ہوتا تو ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں تھی جادوگر محض جادو سے کسی سلطنت پر قبضہ نہیں کرسکتا۔ عصائے موسیٰ کی ہیبت نے اس کو ایسا بدحواس بنا دیا کہ اس کو موسیٰ (علیہ السلام) پر دست درازی کی جرأت نہ ہوئی۔
الغرض جب موسیٰ (علیہ السلام) بحکم خداوندی فرعون کے پاس گئے اور حق تعالیٰ کا پیغام پہنچایا اور عصا اور یدبیضا کا معجزہ اس کو دکھایا تو دل سے تو سمجھ گیا اور یقین کرلیا کہ یہ خدائے برحق کے نبی اور رسول ہیں۔ مگر نہ ماننے کا ایک بہانہ نکالا کہ تم جادوگر ہو اور یہ جو کچھ تم نے دکھایا ہے وہ سب سحر ہے پس ہم بھی اس سحر کے مقابلہ میں ایک اور سحر لائیں گے۔ اور تمہارا مقابلہ کریں گے۔
پس اس مقابلہ کے لیے ہمارے اور اپنے درمیان وعدے کے لئے کوئی مقام اور وقت معین کرلیجئے نہ ہم اس کے خلاف کریں اور نہ تم اس کے خلاف کرو۔ اور اس مقابلہ کے لئے درمیان شہر کوئی جگہ مقرر کرلیں جو شہر کے بیچوں بیچ ہو اور آنے والوں کے لیے ہر طرف سے مسافت برابر ہو تاکہ کسی طرف سے آنے والے کو دشواری نہ ہو یا یہ معنی ہیں کہ وہ میدان اور وہ زمین ہموار ہو جس میں سب برابر کھڑے ہو کر مقابلہ کو اچھی طرح سے دیکھ سکیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا تمہارے وعدہ کا وقت تمہاری عید کا دن ہے۔ جس دن لوگ آرائش و زیبائش کرتے ہیں موسیٰ (علیہ السلام) نے مقابلہ کے لیے عید کا دن اس لیے تجویز کیا کہ اس دن سب لوگ حاضر ہوں گے۔ تو حق مجمع عام کے روبرو ظاہر ہوجائے گا اور یہ کہ لوگ چاشت کے وقت یعنی دن چڑھے جمع کیے جائیں۔ جس وقت روشنی خوب ہوتی ہے یعنی ہمارا وعدہ عید کے دن چاشت کے وقت کا ہے تاکہ دن دھاڑے سب کے سامنے حق واضح ہوجائے اور سارے جہان میں اس کی خبر پھیل جائے اور کوئی بات چھپی نہ رہے۔ پیغمبروں کے کام میں کوئی تلبیس اور ملمع کاری نہیں ہوتی۔ اس لیے دن چڑھے کا وقت مقرر کیا۔ تاکہ روز روشن میں کسی کو اشتباہ نہ رہے۔ نیز موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے غلبہ کا یقین کامل تھا اس لیے بےدھڑک یہ دن اور یہ وقت مقرر کیا۔
پس جب مقابلہ کے لیے مکان اور زمان اور وقت سب طے پا گیا۔ تو فرعون اپنے دربار سے واپس ہوا اور خلوت میں آکر مشورہ کیا کہ کس طرح مقابلہ کیا جائے۔ پھر اپنے مکرو فریب کا سامان جمع کرنا شروع کیا۔ پھر جب سامان کرچکا تو پوری طاقت اور پوری جمعیت کے ساتھ وقت معین پر میدان مقابلہ میں آیا۔ ساحروں کی بڑی فوج اس کے ہمراہ تھی۔ فرعون جب میدان میں آیا تو تخت شاہی پر بیٹھا۔ اور تمام ارکان دولت اس کے سامنے صف بستہ کھڑے ہوگئے اور تمام جادوگر بھی اس کے سامنے صف بستہ کھڑے ہوگئے اور فرعون ان کو طرح طرح کے انعامات کی امیدیں دلا رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جادوگروں کی تعداد چار سو تھی اور بعض کہتے ہیں کہ ستر ہزار تھی۔ واللہ اعلم
اور موسیٰ (علیہ السلام) اطمینان سے اپنے عصا پر تکیہ لگائے تشریف لائے اور ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) ان کے ہمراہ تھے۔
میدان مقابلہ میں موسیٰ (علیہ السلام) کا ساحروں کو نا صحابہ خطاب
جب حسب وعدہ سب میدان مقابلہ میں حاضر ہوگئے تو موسیٰ علیہا لسلام نے ان جادو گروں سے یہ کہا کہ اے کمبختی کے مارو میرے معجزے کو جو خدا کی دی ہوئی نشانی سے جادو قرار دے کر اللہ پر جھوٹ بہتان نہ ماندھو کہ پھر وہ تم کو کسی آفت سے ہلاک کر ڈالے اور جڑ سے تم کو نیست و نابود کر دے اور تحقیق نامراد اور ناکام ہوا وہ شخص جس نے مخلوق پر افتراء کیا۔ چہ جائیکہ جو شخص اللہ پر افتراء کرے اور کیسے کامیاب ہوسکتا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے بغرض اتمام حجت مقابلہ سے پہلے جادوگر ان کو سمجھایا۔ اور ان کو نصیحت کی کہ دیکھو اللہ پر افتراء نہ کرو۔ مفتری کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔
پس جب جادوگروں نے موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان مبارک سے یہ کلمہ موعظت و حکمت سنا تو سن کر اپنے معاملہ میں مختلف ہوگئے اور آپس میں جھگڑنے لگے۔ کہ آیا اس مبارک چہرہ کا مقابلہ کرنا چاہئے یا نہیں کوئی کہتا کہ یہ بات جادوگروں کی سی نہیں اور یہ چہرہ بھی جادوگروں جیسا نہیں۔ اس شخص کے لب و لہجہ سے یہ معلوم ہو رہا ہے کہ یہ شخص اندر سے مطمئن ہے۔ خوف و ہراس کا نام و نشان بھی اس شخص کے آس پاس بھی کہیں نظر نہیں آتا اور بعض کہتے کہ یہ جادو گر ہے ہم اس پر غالب آجائیں گے۔ اور چھپ کر باہم مشورہ کرنے لگے۔ اور فرعون سے چھپا کر سرگوشیاں کرنے لگے کہ فرعون کے لوگوں میں سے کسی کو اس مشورہ کی خبر نہ ہو۔ بالآخر اس مشورہ میں یہ طے پایا کہ سب نے متفق ہو کر یہ کہا۔
1۔ کہ بیشک یہ دونوں بھائی جادوگر ہیں۔
2۔ اور یہ دونوں یہ چاہتے ہیں کہ اپنے جادو کے زور سے تم کو تمہارے ملک سے نکال دیں اور خود اس پر متصرف اور قابض ہوجائیں اور اس ملک کو اپنے تصرف میں لائیں۔
3۔ اور یہ دونوں یہ چاہتے ہیں کہ تمہارے بہتر طریقہ کو مٹا دیں۔ اور اپنا طریقہ اس پر رائج کردیں۔ ” طریقہ “ سے دین اور مذہب مراد ہے کہ فرعون نے یہ کہا۔ انی اخاف ان یبدل دینکم مطلب یہ ہے کہ ان دونوں بھائیوں کا مقصد یہ ہے کہ سر زمین مصر سے تمہارا طریقہ اور مذہب اور تمہاری تہذیب اور تمدن ختم کرکے بنی اسرائیل کا طریقہ اور ان کا دین اور ان کی تہذیب و تمدن ملک میں رائج کریں۔ پس تم سب مل کر اور متفق ہو کر اپنی تدبیر کو پختہ کرلو اور پھر سب صف باندھ کر مقابلہ پر آؤ تاکہ اس کے دل میں ہیبت ہو۔ اور سب پر تمہارا رعب پڑے اور ڈٹ کر موسیٰ (علیہ السلام) کا مقابلہ کرو اور تحقیق آج فلاح کو پہنچا جو آج کامیاب ہوا۔ یعنی آج جس نے غلبہ پالیا جیت اسی کی ہے اور وہی اپنے مقصد میں کامیاب ہے ساحرون کی تعداد میں مختلف اقوال آئے ہیں بعض کہتے ہیں کہ 900 (نوسو) تھے اور بعض کہتے ہیں کہ تین سو تھے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ بارہ ہزار تھے اور بعض کہتے ہیں کہ تیس ہزار تھے اور بعض کہتے ہیں کہ ستر ہزار تھے۔ (دیکھو تفسیر کبیر صفحہ 61 ج 6)
پھر اس صف بندی کے بعد جادو گروں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا اے موسیٰ بتلائے یا تو یہ ہو کہ آپ اپنا عصا پہلے زمین پر ڈالیں گے۔ اور باہم ہی پہلے ڈالنے والے بنیں یعنی دونوں باتوں کے درمیان آپ کو اختیار ہے۔ جیسی صورت چاہیں پسند کریں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا بلکہ پہلے تم ہی ڈالو مجھے کسی چیز کی پرواہ نہیں۔
چناچہ پہلے انہوں نے اپنی لاٹھیاں رسیاں زمین پر ڈالدیں تو ڈالتے ہی ان کی رسیاں اور لاٹھیاں ان کے جادو کے زور سے موسیٰ (علیہ السلام) کی نظر میں ایسی دکھائی دینے لگیں جیسے سانپ دوڑ رہے ہوں۔ تمام لوگوں کو ایسا نظر آیا کہ ان کی لاٹھیاں اژدھا بنی ہوئی ہیں اور دوڑی چلی جا رہی ہیں اور سارا میدان ان سے بھرا ہوا ہے۔
پس اس منظر کو دیکھ کر موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے دل میں کچھ خوف محسوس کیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) چونکہ جادو کی حقیقت سے واقف نہ تھے اس لیے موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے دل میں کچھ ڈر محسوس کیا اور یہ خوف بمقتضائے جبلت بشری تھا یا اس وجہ سے تھا کہ مبادا لوگ اس ظاہری منظر کو دیکھ کر جادو کے فتنہ میں مبتلا ہوجائیں اور سحر اور معجزہ کا فرق ان پر ملتبس ہوجائے اور عجب نہیں کہ یہ بھی خیال کیا ہوا کہ میرے پاس تو ایک ہی عصا ہے اور وہ ایک ہی سانپ بنے گا اور ان کے پاس تو بہت سی رسیاں اور لاٹھیاں ہیں جب وہ سب سارے سانپ بن جائیں گے تو بظاہر باطل حق پر غالب نظر آئے گا۔ اس لیے ڈرے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس وقت ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہہ دیا کہ تو کچھ بھی خوف نہ کر بلاشبہ تو ہی تن تنہا ان سب پر غالب رہے گا۔ معجزہ کے سامنے جادو اور شعبدہ کیا چیز ہے اور اے موسیٰ جو چیز بھی اس وقت تیرے دائیں ہاتھ میں ہے اس کو زمین پر ڈال دے اگرچہ وہ گھانس کا تنکا ہی کیوں نہ ہو۔ یعنی ان رسیوں اور لاٹھیوں کی پرواہ نہ کر جو کچھ تیرے داہنے ہاتھ میں ہے خواہ گھانس کا تنکا ہی کیوں نہ ہو اس کو زمین پر ڈال دے وہ ان کے تمام شعبدے کو نگل جائے گا۔ جو انہوں نے بنایا ہے۔ اور آپ کا ایک عصا ان ہزار ہا ہزار لاٹھیوں اور رسیوں کو نگل کر ڈکار بھی نہ لے گا تحقیق انہوں نے جو خچھ بنایا ہے وہ تو جادوگر کا حیلہ اور فریب ہے اور آپ نے جو کام کیا ہے وہ قدرت خداوندی کا ایک کرشمہ ہے اور ایک خیالی شعبدہ بھی کرشمہ قدرت پر غالب نہیں آسکتا۔ اور جادوگر جہاں کہیں بھی آئے کامیاب نہیں ہوتا۔
پس موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا۔ فورا وہ ایک بڑا اشدھا بن گیا اور ان عصاؤں اور رسیوں کے پیچھے ہوا جو ساحروں نے ڈالی تھیں دم کے دم میں سب کو ایک ایک کر کے نگل گیا۔ اور کسی چیز کو باقی نہ چھوڑا۔ اور لوگ ڈر کے مارے بھاگ اٹھے۔ بعد ازاں موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ عصا جو اژدھا بنا ہوا تھا۔ فرعون کی طرف متوجہ ہوا کہ فرعون کو نگل جائے تو فرعون چلایا اور موسیٰ (علیہ السلام) سے فریاد کی تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو پکڑ لیا پھر وہ پہلے ہی جیسا عصا ہوگیا۔ (دیکھو تفسیر کبیر ص 60 ج 6)
کہا جاتا ہے کہ اس واقعہ کے بعد ایک عرصہ تک فرعون اپنے محل سے باہر نہیں نکلا۔
ساری دنیا نے اس وقت حق اور باطل اور سحر اور معجزہ کا یہ معرکہ دیکھا اور جادوگر بھی سمجھ گئے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے جو کچھ دکھایا ہے وہ سحر نہیں بلکہ معجزہ نبوت اور کرشمہ قدرت ہے کوئی اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ پس جادو گروں کی اس وقت یہ حالت ہوئی کہ وہ اس کرشمہ غیبی کو دیکھ کر ایسے بےخود ہوگئے کہ گویا گردن پکڑ کر سجدہ میں ڈال دئیے گئے۔ ساحرین چونکہ فن سحر کے ماہر تھے اور اس کے اصول و فروع سے باخبر تھے اور سحر کی حقیقت سے واقف تھے اس لیے دیکھتے ہی یہ سمجھ گئے کہ یہ کرشمہ موسوی دائرہ سحر سے بالا اور برتر کوئی حقیقت ہے۔ یہ کرشمہ قدرت ہے اور موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت پر ایمان لے آئے اور بولے کہ ہم ایمان لے آئے ہارون اور موسیٰ کے پروردگار پر یعنی ہم اس رب پر ایمان لائے جو موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کا رب ہے اور جس کی قدرت سے یہ عصا اژدھا بنا اور ہماری ہزار ہا رسیوں اور لاٹھیوں کو ایک لقمہ بنا کر نگل گیا۔ سحر میں یہ طاقت نہیں کہ وہ ایک دم سے رسیوں اور تمام لاٹھیوں کو نگل جائے۔ جادوگروں نے جب یہ دیکھا کہ عصا موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کے جبال اور عصی میں سے ایک کو بھی نہیں چھوڑا۔ تو سمجھ گئے کہ یہ سحر نہیں بلکہ معجزہ ہے اور ایمان لے آئے اور سجدہ میں گر گئے اور ساحروں کا یہ سجدہ، سجدہ شکر تھا کہ اللہ نے ہم پر حق اور باطل اور سحر اور معجزہ کا فرق ظاہر فرما دیا۔
سبحان اللہ کی عجب ماجرا ہے کہ انہی جادوگروں نے ابتداء میں موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ کے لئے اپنی رسیوں اور لاٹھیوں کو زمین پر ڈالا تھا۔ پھر جب حق واضح ہوگیا تو اپنے سروں کو زمین پر ڈال دیا اور یہ سجدہ، سجدہ شکر تھا۔ کہ اللہ تعالیٰ نے ایمان کی توفیق عطا فرمائی۔
نکتہ : اور رب ہارون (علیہ السلام) و موسیٰ (علیہ السلام) میں ہارون (علیہ السلام) کو اس لیے قدم کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) سے عمر میں بڑے تھے۔ یا اس وجہ سے کہ فرعون نے بچپن میں موسیٰ (علیہ السلام) کی پرورش کی تھی تو رب موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ وہم نہ ہوجائے کہ فرعون مراد ہے۔
عکرمہ ؓ سے مروی ہے کہ فرعون کے ملک میں نو سو جادوگر تھے۔ انہوں نے فرعون سے کہہ دیا تھا کہ اگر موسیٰ (علیہ السلام) در حقیقت جادوگر ہے تو ہم اس پر ضرور غالب آئیں گے کیونکہ فن سحر میں ہم سے زیادہ کوئی کامل اور ماہر نہیں اور اگر وہ پیغمبر ہوں گے تو ہم ان پر غالب نہ آسکیں گے۔
چناچہ جب مقابلہ ہوا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے عصا نے جادو کی ہستی مٹا کر رکھ دی تو ان سب کو آپ کی پیغمبری کا یقین ہوگیا۔ اور ایمان لے آئے فرعون نے یہ واقعہ دیکھ کر جادوگروں کو دھمکایا اور کہا کہ میری اجازت سے پہلے تم اس پر کیسے ایمان لے آئے۔ یعنی تم کو چاہئے تھا کہ مجھ سے مشورہ کرتے۔ اور میرے حکم کے بعد ایمان لاتے۔ پھر اپنے لوگوں کو شبہ میں ڈالنے کی غرض سے یہ کہا۔ بیشک یہ شخص تمہارا بڑا ہے جس نے تم کو جودو سکھایا ہے اور تم سب اس کے شاگرد ہو اور دل سے اس کے ساتھ ہو اور اندرونی طور پر اس سے ملے ہوئے ہو۔ یہ سب تمہاری ملی بھگت ہے اور جنگ زرگری ہے تم نے اپنے استاد کی شان بلند کرنے کے لیے ایسا کیا ہے۔ فرعون نے جب دیکھا کہ جس جادو کے بل بوتے پر وہ اچھل کود رہا تھا وہ دم کے دم میں معجزہ موسوی کا لقمہ بن گیا تو اب لوگوں کو بہکانا شروع کیا۔
چو حجت نہ ماند جفا جوئے را بہ پرخاش برہم کشد روئے را
امام رازی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ فرعون کا صریح جھوٹ تھا لوگوں کو دھوکہ دینے اور شبہ میں ڈالنے کے لیے اس نے یہ جھوٹ بولا کہ تمہارا استاد ہے وہ خوب جانتا تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) ان جادوگروں سے کبھی ملے بھی نہیں اور نہ ان کی ان سے کوئی جان پہچان ہے اور اگر موسیٰ (علیہ السلام) ان جادوگروں کے استاد ہوتے اور یہ ان کے شاگرد ہوتے تو سب کو معلوم ہوتا۔ استادی اور شاگردی کا تعلق لوگوں کو معلوم ہوتا ہے۔ فرعون نے جب یہ جھوٹ بولا تو سننے والے بھی جانتے اور سمجھتے تھے کہ یہ فرعون کا بہتان اور دردغ بےفروع ہے۔ (دیکھو تفسیر کبیر ص 64 ج 6)
پھر اس جھوٹ کے بعد فرعون نے ان کو دھمکانا شروع کیا اور کہا۔ پس تم خوب سمجھ لو کہ میں ضرور بالضرور تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹ ڈالوں گا۔ یعنی داہنے ہاتھ اور بائیں پاؤں تاکہ تمہاری ہیئت اور صورت بگڑ جائے۔ اور پھر تم کو سولی دے کر کھجور کے تنوں پر لٹکوا دوں گا۔ تاکہ لوگ تم کو دیکھ کر عبرت حاصل کریں اور تم یہ بھی جان لو گی کہ ہم دونوں میں یعنی مجھ میں اور رب موسیٰ (علیہ السلام) میں کس کا عذاب زیادہ سخت اور دیرپا ہے یعنی میں تم کو تمہارے ایمان لانے پر سزا دوں گا۔ اگر تم ایمان نہ لائے تو موسیٰ (علیہ السلام) کے مطابق تم کو موسیٰ (علیہ السلام) کا خدا عذاب دیتا۔ اب تم کو معلوم ہوجائے گا کہ میرا عذاب زیادہ سخت ہے دیرپا ہے یا موسیٰ (علیہ السلام) کے خدا کا جس پر تم ایمان لائے ہو۔
ایک شبہ : امام رازی (رح) فرماتے ہیں اگر کوئی یہ سوال کرے کہ ابھی تو یہ گزرا ہے کہ فرعون موسیٰ (علیہ السلام) کے عصا سے جب وہ اژدھا ہوگیا اور وہ عصا فرعون کی طرف متوجہ ہوا تو فرعون چیخیں مارنے لگا اور موسیٰ (علیہ السلام) سے فریاد کرنے لگا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے عصا کو پکڑا اور ہاتھ میں لیا پھر وہ بدستور پہلے ہی جیسا عصا ہوگیا تب فرعون کے ہوش و حواس درست ہوئے تو شبہ یہ ہے کہ پہلے تو فرعون کے خوف کا یہ حال تھا جو بیان ہوا اور اب یہ دلیری اور بہادری کہ سب کو ڈرا دھمکا رہا ہے۔ خوف و ہراس کے بعد یہ دلیری کہاں سے آئی۔
جواب : یہ ہے کہ وہ دل سے نہایت خوفزدہ تھا۔ مگر بےحیائی اور ڈھٹائی سے اپنی دلیری ظاہر کرتا تھا کہ اس کے بات بنی رہے اور ظالم اور بدکار لوگوں کا یہی طریقہ ہے کہ وہ اس قسم کی باتیں کیا کرتے ہیں۔ فرعون کا یہ کہنا کہ انہ لکبیرکم الذی علمکم السحر یہ تمہارا استاد و بزرگوار ہے۔ جس نے تم کو جادو سکھایا اس کا یہ دروغ بےفروع خود اس کے اندرونی خوف کی دلیل ہے۔ حالانکہ اس کو خوب معلوم تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کبھی بھی ان جادوگروں سے نہیں ملے اور نہ ان سے واقف ہیں۔ اور نہ ان کا ان سے کوئی تعلق ہے جو شخص اندر سے خوفزدہ ہوتا ہے وہ باہر سے ایسی ہی بےسروپا باتیں کیا کرتا ہے۔ جس کی حقیقت اکڑ سے زیادہ کچھ نہیں ہوتی۔ (دیکھو تفسیر کبیر ص 64 ج 6)
مومنین صالحین کی طرف سے فرعون کی تہدید کا جواب
یہاں تک تو اللہ تعالیٰ نے فرعون کی تہدید کا اور دھمکیوں کا ذکر کیا۔ اب آگے مومنین صالحین کی طرف سے فرعون کی تہدید کا جواب ذکر فرماتے ہیں کہ فرعون کی ان دھمکیوں سے ان کے پائے ثبات میں کوئی تزلزل نہیں آیا۔ فرعون کی یہ دھمکیاں سن کر مومنین صالحین جو اب میں یہ بولے کہ اے فرعون ہم تجھ کو ہرگز ترجیح نہ دیں گے۔ ان واضح دلائل کے مقابلہ میں جو ہم کو پہنچے ہیں اور نہ ہم تجھ کو اس ذات کے مقابلہ میں ترجیح دیں گے جس نے ہم کو پیدا کیا ہے۔ ہمارا رب وہ ہے جس نے پردہ عدم کو چاک کرکے ہم کو وجود عطا کیا ہے۔ ربوبیت کے لیے خالقیت شرط ہے جب تو ہمارا خالق نہیں تو ہمارا رب کیسے ہوسکتا ہے پس توجہ کرنا چاہئے وہ کر گزر ہمیں تیرے ڈرانے دھمکانے کی کچھ پرواہ نہیں جزایں نیست کہ تو اپنا حکم صرف اس دنیاوی زندگانی میں جاری کرسکتا ہے جو عنقریب زائل اور فنا ہونے والی ہے تو تیرا عذاب کچھ دیر پا نہیں۔ تیرا سارا زور اس دار فانی میں ہے۔ اور ہم دار البقاء اور دار القرار کے شیدائی اور خدائی ہیں تو ہم کو کیا اس فانی اور مجازی عذاب سے ڈراتا ہے بس اب تو ہم اپنے اس پروردگار پر ایمان لا چکے ہیں تو ہم کو وجود عطا کیا اور زمین کو ہمارا فرش اور آسمان کو ہماری چھت بنایا۔ اور ہمارے لیے سامان رزق زمین سے اگایا۔ ساری عمر ہم نے اس کا کفر کیا اور ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں۔ تاکہ وہ پروردگار ہمارے پچھلے تمام گناہوں کو بخش دے اور خاص کر اس گناہ کا بخش دے جو تو نے ہم سے زبردستی کرایا۔ یعنی یہ جادو جو ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ میں کیا۔ وہ تیرے زور دینے سے کیا ساحروں نے یہ سحر اگرچہ اپنے اختیار سے کیا لیکن چونکہ حکم شاہی سے کیا تو مجبور تھے اس لیے کہ حکم شاہی آدمی کو مجبور کردیتا ہے۔ شخصی اور انفرادی دباہ سے آدمی اتنا مجبور نہیں ہوتا جتنا کہ حکومت کے دباؤ سے مجبور ہوجاتا ہے۔ فرعون نے جب ساحروں کو موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ کے لیے کہا اور ان سے عصا کے اژدھا ہوجانے کا ذکر کیا تو جادوگروں نے یہ کہا کہ اچھا پہلے ہم کو موسیٰ (علیہ السلام) کو سوتا ہوا دکھا دو تاکہ ہم ان کو دیکھ کر معلوم کرلیں کہ بات کیا ہے تو فرعون نے جادوگروں کو ان کے دیکھنے کے لیے بھیجا جب جادوگر وہاں پہنچے تو دیکھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) تو سو رہے ہیں اور وہ عصا سانپ کی صورت میں ان کا پہرہ دے رہا ہے اور ان کی پاسبانی اور نگہبانی کر رہا ہے۔ جادوگروں نے اس حالت کو دیکھ کر یہ شخص تو جادوگر نہیں کیونکہ ساحر جب سو جاتا ہے تو اس کا سحر اس وقت کام نہیں کرتا جادوگروں نے آکر یہ سارا ماجرا فرعون سے بیان کردیا مگر فرعون نے نہ مانا اور کہا کہ تم لوگ بھی بیشمار اژدھے لاسکتے ہو وہ ایک اژدھا کیا تمہارا مقابلہ کرے گا۔ غرض یہ کہ فرعون نے جادوگروں کو موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ کرنے کے لیے مجبور کیا۔ (دیکھو تفسیر کبیر صفحہ 65 ج 6 و تفسیر روح المعانی صفحہ 211 ج 16)
اور ظاہر یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا حال دیکھنے کے لیے خاص خاص فن نحر کے ماہر ہی گئے ہوں گے نہ کہ سب۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ سب جادوگر دل سے موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ پر آمادہ نہ تھے۔ بہت سے فرعون کے جبرو اکراہ سے مقابلہ پر آئے اور جب علی الاعلان حق واضح ہوگیا۔ اور حق باطل کو نگل گیا تو فرعون کی پرواہ نہ کی اور اپنے خدائے عزوجل پر ایمان لے آئے اور اپنے گناہ کی معافی چاہی اور فرعون کی دھمکیوں کے جواب میں یہ کہا اور اللہ بہت بہتر ہے اور بہت باقی رہنے والا ہے۔ وہ قادر مطلق ہے اور اس کا ثواب اور عذاب دائمی ہے۔ اس کا انعام سے بہتر ہے اور اس کا عذاب تیرے عذاب سے زیادہ سخت اور زیادہ دیرپا ہے تو تو ایک ہگورا اور متورا بھگوڑا آدمی ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے عصا کو دیکھ کر تیرا پیشاب پاخانہ خطا ہوگیا۔ اور تو اپنے تخت سے بھاگ اٹھا۔ تجھے ربوبیت سے کیا واسطہ۔ اب آگے قرآن کریم میں اس کا ذکر نہیں کہ فرعون نے ان ایمان لانے والوں کو وہ سزا دی یا نہیں جس کی اس نے ان کو دھمکی دی تھی حافظ ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں کہ ظاہر یہ ہے کہ فرعون نے جو ان کے قتل اور سولی کا عزم مصمم کیا تھا وہ کر گزرا۔ جیسا کہ ابن عباس ؓ اور دیگر سلف سے مروی ہے کہ یہ مقتولین صبح کے وقت جادوگر تھے اور شام کے وقت شہید تھے۔
(دیکھو تفسیر ابن کثیر صفحہ 159 ج 3 اور دیکھو تفسیر کبیر ص 67 ج 6)
پھر ان مومنین صالحین نے فرعون کے عذاب کے مقابلہ میں ایمان کو اختیار کرنے کی وجہ بیان کی۔ اس میں ذرا شک نہیں کہ جو شخص قیامت کے دن اپنے پروردگار کے سامنے مجرم اور باغی ہو کر حاضر ہوگا تو بلاشک اس کے لیے دوزخ کا دائمی عذاب ہے جس میں نہ وہ مرے گا اور نہ زندہ رہے گا وہاں اس کو کوئی راحت نصیب نہ ہوگی۔ ہمیشہ عذاب ہی میں رہے گا۔ ہم اس کے عذاب سے ڈر کر ایمان لائے ہیں جس کے مقابلہ میں تیرا عذاب ہیج ہے اور جو شخص اس کے پاس ایمان والا ہو کر آئے گا جس نے ایمان کے ساتھ نیک عمل بھی کیے ہوں تو ایسے لوگوں کے لیے بلند درجے اور ہمیشہ رہنے کے باغات ہوں گے۔ جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اور یہ جزا ہے اس شخص کی کہ جو کفر اور معصیت کی نجاستوں سے پاک صاف ہوا اور کفر اور معصیت کی نجاست سے پاک کرنے والی چیز ایمان اور عمل صالح ہے۔
Ayahs 20:77–82نبی اسرائیل کا مصر سے خروج اور فرعون کا تعاقب اور اس کی غرقابی
قال اللہ تعالیٰ ولقد اوحینا الیٰ موسیٰ ان اسر بعبادی .... الیٰ .... ثم اھتدی۔
(ربط) گزشتہ آیات میں ساحرین کے ساتھ موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ کا ذکر تھا کہ کھلے میدان میں دن دہاڑے مقابلہ ہوا اور فرعونیوں کو شکست فاش ہوئی اور ساحرین مشرف باسلام ہوگئے تو بنی اسرائیل کا پلہ بھاری ہوگیا۔ اور فرعون ڈر گیا۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) کی تبلیغ اور دعوت کا سلسلہ شروع ہوگیا چند ہی سال میں موسیٰ (علیہ السلام) کے متبعین کافی تعداد میں ہوگئے مگر چند روز کے بعد لوگوں نے پھر فرعون کو دعوائے الوہیت اور سابق ظلم و تشدد پر آمادہ کیا تو حسب سابق اس نے پھر وہی ظلم و ستم شروع کردیا۔ اور بنی اسرائیل کے بچوں کو قتل کرنے لگا تاکہ لوگوں کے دلوں میں یہ شبہ پڑجائے کہ وہ مولود جس کی نجومیوں نے خبر دی تھی وہ ابھی پیدا ہی نہیں ہوا۔ اس لیے فرعون نے پھر قتل کا بازار گرم کیا۔ اس پر بنی اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) سے ان مظالم کی شکایت کی۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو صبر کا حکم دیا اور فرعون سے مطالبہ کیا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دے تاکہ ہم سب ملک شام چلے جائیں اور فرعون کو متنبہ کرنے کے لیے طرح طرح کے نشانات رکھاتے رہے۔ جیسے طوفان اور جراد اور قمل اور ضفادع اور دم وغیرہ وغیرہ جن کا ذکر سورة اعراف میں گزر چکا ہے۔ فرعون جب کوئی نشان دیکھتا تو ڈر جاتا اور موسیٰ (علیہ السلام) سے اس کے رفع کے لیے درخواست کرتا اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیجنے کا وعدہ کرلیتا۔ مگر جب وہ مصیبت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا سے رفع ہوجاتی تو پھر مکر جاتا۔ بیس سال اسی حالت میں گزر گئے نہ ایمان لایا اور نہ بنی اسرائیل کو رہا کرنے پر آمادہ ہوا اور اس طویل و عریض مدت میں خدا تعالیٰ کی طرف سے جس قدر بھی نشانیاں دکھائی گئیں سب کی تکذیب کی۔
کما قال اللہ تعالیٰ ولقد اریناہ ایتنا کلہا فکذب وابی۔
پس جب حق جل شانہ کی طرف سے حجت پوری ہوگئی اور جرم کا پیمانہ لبریز ہوگیا تو وقت آگیا کہ بنی اسرائیل کو فرعون کے پنجہ سے نجات دلائی جائے اور اس کے ان وحشیانہ مظلالم کا انتقام لیا جائے اور اس کے غرق کا سامان کیا جائے تو موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم آیا کہ تم بنی اسرائیل کو اپنے ہمراہ لے کر مصر سے ہجرت کر جاؤ تاکہ بنی اسرائیل کی مظلومیت کا خاتمہ ہو اور خدا کے ماننے والے اور نہ ماننے ایک دوسرے سے جدا اور ممتاز ہوجائیں اور خارق عادات طریقہ سے بنی اسرائیل کا دریا سے پار ہوجانا اور پھر ان کے بعد فرعون اور اس کے لشکر کا اس خارق عادت طریقہ سے بصد ہزار ذلت و خواری غرق ہوجانا کرشمہ قدرت اور معجزہ نبوت ہے چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ حکم ہوا کہ تم بنی اسرائیل کو اپنے ساتھ لے کر شام چلے جاؤ اور جب راستہ میں دریا پر پہنچو تو اس پر لاٹھی مار دینا اس سے دریا میں بارہ راستے بن جائیں گے اور درمیان میں دونوں طرف پانی کی دیواریں کھڑی ہوجائیں گی اور بنی اسرائیل کے بارے خاندانوں میں کا ہر خاندان ایک ایک راستہ سے الگ الگ نکل جائے گا۔
چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) جب دریا کے کنارے پر پہنچے تو جب حکم خداوندی دریا پر اپنی لاٹھی ماری تو فورا دریا میں خشک راستے تیار ہوگئے اور دونوں طرف پہاڑ کی طرح پانی کی دیواریں کھڑی ہوگئیں۔
جب صبح ہوئی تو فرعون کو اور قوم قبط کو معلوم ہوا کہ اب شہر میں بنی اسرائیل میں سے کوئی نہیں فرعون کو جب یہ خبر ملی تو فورا اپنا لشکر لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا اور بنی اسرائیل کو دیکھا کہ دریا میں خشک راستوں سے گزر رہے ہیں۔ تو اس نے اپنے آدمیوں کو ان دریائی راستوں پر چلنے کا حکم دیا۔ اس عجیب و غریب منظر کو دیکھ کر فرعون کے خوشامدی بولے کہ یہ سب حضور فیض گنجور کا اقبال ہے۔
جب بنی اسرائیل دریا سے پار نکل گئے اور فرعون مع لشکر کے دریا کے بیچ پہونچ گیا تو بحکم خداوندی دریا کا پانی رواں ہوگیا۔ اور وہ بدبخت مع اپنی قوم کے غرق ہوگیا۔
(ربط دیگر) گزشتہ رکوع میں حق تعالیٰ نے خاص موسیٰ (علیہ السلام) پر اپنے انعامات اور احسانات کا ذکر فرمایا۔ ان آیات میں بنی اسرائیل پر اپنے انعامات کا ذکر فرماتے ہیں کہ کس طرح تمہارے دشمن کو تمہاری نظروں کے سامنے غرق کیا۔
(ربط دیگر) گزشتہ رکوع میں فرعون کے حال کو بیان کیا تھا۔ اب اس رکوع میں فرعون کے مال اور انجام کو بیان فرماتے ہیں۔ قا کہ لوگ اس سے عبرت پکڑیں اور جان لیں کہ خدا تعالیٰ اگرچہ ظالم کو مہلت دیتا ہے مگر اس کو چھوڑتا نہیں۔
چناچہ فرماتے ہیں اور جب فرعون باوجودیکہ اس مقابلہ میں شکست کھا گیا مگر پھر بھی اپنے تکبر اور تجبر سے باز نہ آیا اور بنی اسرائیل کو طرح طرح کی ایذائیں پہنچاتا رہا تو البتہ تحقیق اس وقت ہم نے بنی اسرائیل کو فرعون کے پنجہ ظلم سے نجات دینے کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف یہ وحی بھیجی کہ ہمارے ان بندوں کو یعنی بنی اسرائیل کو راتوں رات مصر سے باہر لے کر نکل جاؤ اور دور چلے جاؤ چلتے چلتے تم کو راستہ میں دریا ملے گا۔ پس جب دریا پر پہنچو تو اس پر اپنا عصا مار کر بنی اسرائیل کے لیے خشک راستہ بنا دیا۔ جس میں نہ پانی ہو اور نہ کیچڑ ہم نے دریا کو حکم دے دیا ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) تجھ پر عصا مارے تو اس کے لیے خشک راستے بنا دینا۔ چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے سمندر پر پہنچ کر اس پر اپنا عصا مارا اسی وقت اس میں بحکم خداوندی بارہ راستے بن گئے۔
فالفلق فکان کل فرق کالطود العظیم۔
چونکہ علم الٰہی میں یہ امر تھا کہ فرعون اپنا لشکر لے کر بنی اسرائیل کا تعاقب کرے گا اس لیے پہلے ہی فرما دیا کہ تم سیدھے چلے جانا نہ تو پکڑے جانے سے ڈرے گا اور بہ ڈوبنے کا خوف کرے گا۔ اس واسطے کہ ہم تجھ کو صحیح سالم سلامتی کے ساتھ پار کردیں گے نہ تو تجھ کو ڈوبنے کا خوف ہوگا اور نہ یہ خوف ہوگا کہ پیچھے سے کوئی دشمن آکر ہمیں پکڑلے اس حکم کے مطابق موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو اپنے ساتھ لے کر راتوں رات مصر سے چل پڑے۔
پس جب صبح کو فرعون کو اور قبطیوں کو اس کی خبر ہوئی تو فرعون نے اپنے لشکر سمیت ان کا پیچھا کیا۔ اور دریا کے کنارے پہنچا تو دیکھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) تو بنی اسرائیل کو لیکر دریا سے پار ہوچکے ہیں اور دریا میں خشک راستے بنے ہوئے ہیں۔ فرعون اپنے لشکر کو لے کر انہی راستوں پر ہو لیا۔ پس جب تمام لشکر دریا کے درمیان پہنچ گیا تو ڈھانپ لیا فرعون کو مع اس کے لشکروں کے دریا کی موج سے اس چیز نے کہ جس نے ان سب کو ڈھانپ لیا۔ یعنی ایک بڑی موج نے ان سب کو اپنی آغوش میں لے لیا اور وہ موج ایسی عظیم اور ہولناک تھی کہ کوئی اس کی کنہ تک نہیں پہنچ سکتا۔ مطلب یہ ہے کہ جب فرعون مع لشکر کے دریا کے اندر داخل ہوگیا۔ تو دریا کی ہولناک موج نے ان سب کو پکڑ لیا اور ہر طرف سے پانی آملا۔ اور سب غرق ہوگئے۔
اور فرعون نے اپنی قوم کو بےراہ کیا اور راہ راست پر نہ لگایا۔ یہ فرعون کے اس دعوے کا جواب ہے جو یہ کہتا تھا وما اھدیکم الا سبیل الرشاد میں تم کو سیدھا راستہ بتلاتا ہوں۔
یہاں تک اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو فرعون کے عبرتناک غرقابی کا ذکر فرمایا اب آئندہ آیات میں بنی اسرائیل پر اپنے دوسرے انعامات اور احسانات کا ذکر کرتے ہیں اس سلسلہ میں حق تعالیٰ نے دینی اور دنیوی احسانات کا ذکر فرمایا چناچہ فرماتے ہیں اے بنی اسرائیل ہم نے تم کو تمہارے بڑے دشمن فرعون سے نجات دی سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے نجات کی نعمت کو بیان فرمایا۔ اس لیے کہ دفع ضرر کی نعمت سب سے مقدم ہے اور یہ نعمت دنیوی تھی اب اس کے بعد دینی نعمت کو بیان کرتے ہیں اور اے بنی اسرائیل ہم نے تم سے توریت دینے کے لیے طور کے داہنی جانب کا وعدہ کیا توریت کا عطا کرنا دینی نعمت ہے کیونکہ توریت نور ہے اور ہدایت ہے اور شریعت الٰہیہ ہے۔ جس پر عمل سے انسان گمراہی سے محفوظ رہتا ہے۔
پھر اس دینی نعمت کے بعد ایک دنیوی نعمت کا ذکر فرمایا اور وہ یہ ہے کہ ہم نے تم پر من وسلویٰ اتارا من تو ایک حلوا تھا جو آسمان سے ان پر اترتا تھا۔ اور ” سلوی “ ایک پرندہ تھا جو ان پر گرتا تھا اور لذیذ تھا۔ بقدر حاجت اس میں سے لے لیتے تھے اور اگلے روز کے لیے ذخیرہ کرنے کی ممانعت تھی یہ ان پر اللہ کا دنیوی انعام تھا۔ اب آگے یہ ارشاد فرماتے ہیں کہ ہماری ان نعمتوں کو عصیان اور طغیان کا سبب نہ بناؤ۔ چناچہ فرماتے ہیں اور ہم نے ان سے یہ کہا کہ ان پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ جو ہم نے تم کو دی ہیں اور اس کھانے میں حد شرعی سے تجاوز نہ کرو کہ پھر تم پر میرا غضب نازل ہو۔ حد سے بڑھنے سے ناشکری اور نافرمانی کرنا اور اس کا ذخیرہ کرنا مراد اور جس پر میرا غضب نازل ہوا وہ بلندی سے پستی میں جاگرا اور ہلاک اور برباد ہوا۔ یعنی اوپر سے ہادیہ (قعر جہنم میں جاگرا) ” ھوی “ کے معنی اوپر سے نیچے گرنے کے ہیں۔
(ھذا کلہ من التفسیر الکبیر للامام الرازی (رح) از ص 69 ج 6 تا ص 70 ج 6)
اور اس قہر و غضب کے ساتھ یہ بھی ہے کہ بلاشبہ بخشنے والا ہوں اس شخص کو جس نے پچھلے گناہوں سے توبہ کی اور ایمان لے آیا اور آئندہ کو نیک کام کیے پھر راہ ہدایت پر قائم رہا اور مضبوطی کے ساتھ اس پر جما رہا۔ یہاں تک کہ اسی پر مرگیا۔ یہ مقام استقامت ہے۔ کما قال اللہ تعالیٰ ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا۔ غرض کہ اہتداء سے استمرار اور استقامت کے معنی مراد ہیں۔ (دیکھو تفسیر کبیر صفحہ 70 ج 6)
اور راہ ہدایت سے صراط مستقیم مراد ہے جو نبی اکرم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کا طریقہ ہے اور یہ گروہ اہل سنت والجماعت کا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی سنت اور طریقہ اور جماعت صحابہ کے طریقہ پر قائم ہے۔