Ayahs 20:115–127ذکر قصہ سیدنا آدم (علیہ السلام) برائے تنبیہ معترضین مستکبرین
قال اللہ تعالیٰ ولقد عھدنا الٰی ادم من قبل .... الیٰ .... ولعذاب الاخرۃ اشد وابقی۔
(ربط) گزشتہ آیات میں اعراض عن الذکر کی سزا اور اس کے برے انجام کا ذکر تھا اب حضرت آدم (علیہ السلام) کا اور شیطان کا قصہ ذکر کرتے ہیں تاکہ معلوم ہوجائے کہ اعراض اور استکبار کس درجہ قبیح چیز ہے نیز اس قصہ کے ذکر سے اولاد آدم کو تنبیہ کرنا مقصود ہے کہ اولاد آدم کو چاہئے کہ اپنے اور اپنے باپ کے قدیمی دشمن سے ہشیار رہیں مبادا کہ غفلت سے اس کے دھوکہ میں آجائیں آدم (علیہ السلام) کا رتبہ بہت بلند تھا۔ اس لیے ان سے بھول چوک پر یہی مواخذہ ہوا۔ ع
جن کے رتبے ہیں سو ان کے مشکل ہے سوا
اولاد آدم کو چاہئے کہ اگر کسی وقت شیطان کی تسویل اور تغریر سے کوئی گناہ سرزد ہوجائے تو باپ کی طرح توبہ اور استغفار سے اس کی تلافی اور تدارک کریں شیطان کی طرح اپنے قصور کی تاویلیں نہ کریں۔
(ربط دیگر) کہ گزشتہ آیت میں علم و حکمت کی زیادتی کی دعا کی تلقین تھی اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ علم کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ بدون تکبر کے علم کے موافق عمل بھی کیا جائے اس لیے آئندہ آیات میں حضرت آدم (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرماتے ہیں۔
کہ علم کی زیادتی نے آدم (علیہ السلام) کو مسجود ملائک بنایا اور تکبر نے ابلیس کو مردود اور ملعون بنایا چناچہ فرماتے ہیں اور البتہ تحقیق ہم نے پہلے ہی سے آدم سے عہد لے لیا تھا کہ اس درخت سے نہ کھانا اور یہ بتلا دیا تھا کہ یہ شیطان تمہارا دشمن ہے۔ پس وہ ہمارے اس عہد کو بھول گئے اور شیطان کی قسم کھانے سے دھوکہ کھاگئے اور ہم نے ان میں پختگی نہ پائی۔ ابلیس کے وسوسہ سے ان کی طبیعت نرم پڑگئی اور ان کا عزم سست پڑگیا عہد کی پوری حفاظت نہ کرسکے اور دل اس پر مضبوط نہ رہا۔ اس لیے نسیان واقع ہوا۔ (یا یہ معنی ہیں کہ) اس بارے میں ہم نے آدم کا قصد اور ارادہ نہیں پایا۔ یعنی قصدا ان سے یہ صورت واقع نہیں ہوئی بلکہ خطاء ایسا ہوگیا اور ان کا ارادہ خلاف حکم کرنے کا نہ تھا۔ بھول سے اور دھوکہ سے ایسا ہوگیا۔ ” عزم “ کے معنی لغت میں مضبوطی اور پختگی کے بھی آتے ہیں اور قصد و ارادہ کے بھی آتے ہیں اس لئے آیت میں دونوں معنی درست ہیں اور یہ واقعہ اس وقت پیش آیا کہ جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ ہم نے آدم (علیہ السلام) کو اپنا خلیفہ بنایا ہے سو تم اس کے لیے سجدہ تعظیم و تکریم بجالاؤ تاکہ تمہارا یہ سجدہ تعظیمی و تکریمی اس کی علامت ہو کہ ہم خلیفہ خداوندی کی اطاعت اور تائید اور تقویت میں کوئی کمی نہ کریں گے سجدہ عبادت تو سوائے اللہ رب العزت کے کسی کے لیے ممکن نہیں۔ یہ سجدہ سجدہ عبادت نہ تھا بلکہ سجدہ تحیت تھا۔ جو انبیاء سابقین کی شریعتوں میں جائز رہا۔ اور خاتم الانبیاء کی شریعت میں منسوخ ہوگیا۔ جیسے بہن بھائی کا نکاح حضرت آدم (علیہ السلام) کی شریعت میں جائز تھا اور اب منسوخ ہوگیا۔
پس سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے سجدہ کرنے سے انکار کردیا۔ تب ہم نے آدم (علیہ السلام) سے کہا بلاشبہ یہ تمہارا اور تمہاری بیوی کا دشمن ہے۔ جیسا کہ تم نے اس کی عداوت اور حسد کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرلیا اور ہم تمہاری ہی وجہ سے اس کو اپنی بارگاہ سے نکال رہے ہیں۔ پس تم اس سے ہوشیار رہنا۔ کہیں تم دونوں کو جنت سے نہ نکلوا دے یہ تمہارا دشمن ہے اور تمہارے جنت سے نکلالنے کی فکر میں لگا ہوا ہے پس ایسا کام نہ کرنا جس سے جنت سے نکلنا پڑے۔ پھر تم دنیا کی مشقتوں میں پڑجاؤ۔ اور بیوی بھی تمہارے ساتھ ہے۔ اس کا بوجھ بھی تم پر پڑے گا یعنی جنت سے تو دونوں ہی نکلو گے مگر ساری مشقت تم پر پڑجائے گی۔ کیونکہ بیوی کی تمام ذمہ داری شوہر ہی پر ہوتی ہے اس آیت میں فتشقی سے آخرت کی شفاوت مراد نہیں بلکہ دنیا کا تعب اور اس کی مشقت مراد ہے۔ اس لیے کہ دنیاوی رزق یعنی بھوک اور پیاس کے دفعیہ کے لیے کاشت کاری اور آٹا پیشنا اور روٹی پکانا درکار ہے جو بغیر مشقت اور محنت کے ممکن نہیں اور یہاں آپ کو بلامشقت اور بلا محنت اللہ کا رزق ملتا ہے۔ اس لیے کہ جنت میں تیرے لیے تمام نعمتیں اور راحتیں ہیں۔ جنت میں تو نہ کبھی بھوکا رہے اور نہ ننگا ہوسکتا ہے اور یہ کہ نہ تو اس میں پیاسا ہو اور نہ دھوپ کی تکلیف اٹھاوے۔
غرض یہ کہ کھانے اور پینے اور غذا اور قیام اور طعام اور لباس کے سب آرام تجھ کو یہاں حاصل ہیں۔ اگر یہاں سے نکالا گیا تو دنیاوی رزق اور غذا کے حصول کے لیے تجھ کو بڑی مشقتیں اٹھانی پڑیں گی۔ پس شیطان نے ان کے دل میں وسوسہ ڈالا۔ چناچہ ابلیس نے یہ کہا کہ اے آدم کیا میں تم کو ہمیشہ رہنے کا درخت نہ بتلا دوں کہ جو کوئی اس میں سے کھا لیوے وہ کبھی نہ مرے اور کیا میں تم کو ایسی بادشاہت اور سلطنت نہ بتلا دوں کہ جو کبھی پرانی نہ ہو۔ یعنی جس کو کبھی زوال نہ ہو یعنی اگر تو اس درخت سے کھالے گا تو ہمیشہ زندہ رہے گا اور تیری سلطنت کبھی زائل نہ ہوگی۔ شیطان نے اس طرح سے حضرت آدم (علیہ السلام) کو دھوکہ دیا اور ” شجرہ الخلد “ کے نام سے ان کو فریب دیا اور جھوٹی قسم کھائی کہ خدا کی قسم اگر تم نے اس درخت سے کھالیا تو تم کو جنت کا دوام اور خلود حاصل ہوگا۔ جب شیطان نے خدا کی قسم کھا کر حضرت آدم (علیہ السلام) سے یہ کہا تو ان کو شبہ بھی نہ ہوا کہ خدا تعالیٰ کا نام لے کر کوئی جھوٹ بھی بول سکتا ہے۔
پس اس طرح اس کے بہکانے سے دونوں نے اس درخت سے کھالیا۔ جس کی ممانعت کی گئی تھی۔ اور جنت کے دائمی عیش و عشرت کے شوق ورغبت نے اس ممانعت کا بھلا دیا۔ پس اس کے کھاتے ہیں دونوں کے ستر ایک دوسرے کے سامنے ظاہر ہوگئے۔ یعنی اس درخت کے کھاتے ہی بہشتی لباس تو اتر گیا اور دونوں ننگے ہوگئے اور گھبرا کر اپنے اوپر جنت کے درختوں کے پتے چپکانے لگے اور حیران رہ گئے کہ دم کہ دم میں یہ کیا ہوگیا۔ اور اس طرح شیطان کے دھوکے میں آکر آدم (علیہ السلام) شجرہ ممنوعہ کو شجرہ الخلد سمجھ بیٹھے اور بھولے سے اپنے پروردگار کی نافرمانی اور خلاف حکم کر بیٹھے۔ پس اس طرح وہ راہ صواب سے ہٹ گئے اور لغزش کھاگئے۔ قدم تو اٹھایا تھا خلود اور دوام کے لیے وہ پھسل کر دوسری طرف جا پڑا جس مقصد کے لیے کھایا تھا وہ پورا نہ ہوا اور بجائے خلود کے اور دوام کے جنت سے اترنا پڑا۔
(یا یہ معنی ہیں) کہ پس اس شجرہ ممنوعہ کے کھانے سے ان کی عیش کمزور ہوگئی اور جنت کا عیش و آرام سب ختم ہوگیا۔
(یا یہ معنی ہیں) کہ پس وہ اس درخت میں سے کھا کر اپنے مقصد میں ناکام ہوگئے۔ ان کا مقصد اس درخت کے کھانے سے یہ تھا کہ ان کو جنت کا خلود اور دائمی قیام حاصل ہوجائے۔ مگر اس درخت کے کھانے سے مقصد پورا نہ ہوا بلکہ جنت سے اترنا پڑا۔
جاننا چاہئے کہ ” غوی “ کے معنی جو غوایت سے مشتق ہے وہ کلام عرب میں مختلف معانی ہیں مستعمل ہوا ہے :
1۔ غویٰ کے معنی لغت میں گمراہی اور راہ صواب سے بہک جانے کے بھی آتے ہیں۔
2۔ اور غویٰ کے معنی عیش کے فاسد اور مکدر ہونے کے بھی آتے ہیں۔
قال ابن الجوزی فی قولہ تعالیٰ فغویٰ قولان (احدھما) ضل عن طریق الخلد حیث ارادہ من قبل المعصیۃ والثانی فسد علیہ عیشہ لان معنی الغی الفساد کذا فی زاد المسیر صفحہ 329 ج 5 وھکذا فی روح المعانی صفحہ 247 ج 16۔
3۔ اور غوایت کے معنی خیبت اور ناکامی کے بھی آتے ہیں۔ چناچہ شاعر کہتا ہے۔
فمن یلق خیرا یحمد الناس امرہ ومن یغولا یعدم علی الغی باعینا
جو شخص نیک کام کرے تو لوگوں کو اس کی تعریف کرتا ہوا پائے گا۔ اور جو کوئی اپنے مقصد میں نا کام ہوجائے تو ناکامی پر ملامت کرنے والے کو معدوم نہیں پائے گا۔
غرض یہ کہ لفظ غوایت تین معنوں میں مستعمل ہوتا ہے آیت میں ہر معنی کا مراد لینا صحیح ہے جیسا کہ ہم نے بیان کیا۔ اور کوئی معنی بھی عصمت انبیاء کے خلاف نہیں۔ اور لفظ غویٰ سے پہلے جو لفظ عصیٰ حضرت آدم (علیہ السلام) کے متعلق استعمال ہوا ہے۔ سو جاننا چاہئے کہ خود قرآن کریم میں اس کی تصریح ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کا یہ فعل سہوا و نسیانا تھا قصدا اور عمدا نہ تھا۔ کما قال اللہ تعالیٰ فنسی ولم نجدلہ عزما جس سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) سہوا و نسیانا بھول کر ایک کام خلاف حکم الٰہی کر بیٹھے۔ معاذ اللہ انہوں نے قصدا حکم الٰہی کی مخالفت نہیں کی۔ لہٰذا حضرت آدم (علیہ السلام) کی طرف عصیان کی نسبت محض ظاہر اور صورت کے اعتبار سے ہے ورنہ حقیقت یہ فعل لغزش تھا معصیت نہ تھا کما قال اللہ تعالیٰ فازتھما الشیطن چونکہ انبیاء کرام (علیہ السلام) کا مقام بہت بلند ہے۔ اس لیے ان سے ذرا سی بھول چوک پر ہی مواخذہ ہوتا ہے۔ ع
جن کے رہتے ہیں سوا ان کی مشکل ہے سوا
” معصیت “ کے معنی لغت میں خلاف حکم کسی کام کرنے کے ہیں اور وہ کبھی عمدا اور قصدا ہوتا ہے اور اصل معصیت اور گناہ ایسا ہی فعل ہے جو قصدا ہو اور کبھی عمدا اور قصدا نہیں۔ یہ درحقیقت معصیت اور گناہ نہیں بلکہ غلطی اور لغزش ہے۔ اس کو صورۃ معصیت کہہ دیا جاتا ہے۔ یہاں آیت میں دوسرے معنی مراد ہیں۔
نکتہ : ابن قتیبہ (رح) کہتے ہیں کہ عصی ادم ربہ فغوی کہنا تو جائز ہے مگر آدم (علیہ السلام) کو عاصی اور غاوی کہنا جائز نہیں کیونکہ عاصی اور غاوی عرف میں اسی شخص کو کہا جاسکتا ہے کہ جو فعل معصیت کا عادی اور خوگر ہوگیا ہو مثلا اگر کوئی شخص اپنے کپڑے کو خود ایک بار سی لے تو یہ کہنا صحیح ہے کہ خاط فلان توبہ فلاں شخص نے اپنا کپڑا سی لیا مگر اس کو خیاط (درزی) کہنا صحیح نہیں۔ جب تک وہ کپڑا سینے کو اپنا پیشہ نہ بنالے۔ اور لوگوں میں اس پیشے کے ساتھ معروف و مشہور نہ ہوجائے اور ظاہر ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے یہ فعل ساری عمر میں صرف ایک مرتبہ سرزد ہوا اور وہ بھی بھول سے ہوا قصداو ارادۃ نہیں کیا۔ اور جو شخص ساری عمر میں کوئی ایک کام غلطی اور بھول چوک سے کر گزرے تو اس کو عاصی اور غادی نہیں کہا جاسکتا۔ عاصی اس وقت کہا جائے گا جب کوئی کام دیدہ و دانستہ حاکم کے حکم کے خلاف کرے اسی طرح حضرت آدم (علیہ السلام) کی نسبت یہ کہنا تو جائز ہے کہ انہوں نے خدا کی نافرمانی کی مگر ان کو نافرمان کہنا کفر ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) سے جو لغزش ہوئی اور بھول چوک سے جو خطا صادر ہوئی اس کو محض ظاہری صورت کے اعتبار سے معصیت کہا گیا ورنہ درحقیقت وہ معصیت نہ تھی بلکہ در حقیقت وہ زلت و لغزش تھی۔ جس کے معنی بھول چوک اور غفلت سے قدم پھسل جانے کے ہیں کہ شیطان نے ان کو دھوکہ دے کر ان کا قدم پھسلا دیا جانا چاہتے تھے خلود و دوام کی راہ پر دشمن نے ان کو ایسا دھوکہ دیا کہ قدم دوسری طرف جا پڑا۔ کما قال اللہ تعالیٰ فازلہمما الشیطن نیز جل شانہ کے اس ارشاد فلا یخرجنکما من الجنۃ فتشقی سے مفہوم ہوتا ہے کہ لا تقربا ھذا الشجرۃ کی نہی تحریم کے لیے نہ تھی کہ اس درخت سے کھانا قطعا حرام ہے بلکہ بر بنائے شفقت و مرحمت تھی کہ اس درخت سے کھانے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تم طرح طرح کی تعب اور مشقت میں مبتلا ہوجاؤ گے۔
بہرحال حضرت آدم (علیہ السلام) کی یہ لغزش معمولی اور حقیر تھی۔ مگر بساط قرب و جوار رحمت میں واقع ہونے کی وجہ سے بڑی ہوگئی اور اسی وجہ سے خطاب اور عتاب تمام تر آدم (علیہ السلام) کو کیا گیا۔ اور حضرت حوا کو اس میں شریک نہیں فرمایا اس لیے کہ وہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے تابع تھیں۔ اور اسی وجہ سے عصیان اور غوایت کی نسبت صرف آدم (علیہ السلام) کی طرف کی گئی اور حضرت حوا (علیہا السلام) کو اس میں شریک نہیں کیا گیا۔
پھر جب آدم (علیہ السلام) نے بصد ہزار گریہ وزاری اور بصد ہزار ندامت و شرمساری اپنی لغزش سے توبہ اور معذرت کی تو ان کے رب نے ان کو نوازا اور پہلے سے زیادہ ان کو مقبول اور پسندیدہ بنا لیا۔ پھر اپنی خاص الخاص رحمت اور عنایت سے ان پر متوجہ ہوا اور کلمات توبہ کی ان کی تلقین فرمائی کما قال اللہ تعالیٰ فتشقی ادم من ربہ کلمات فتاب علیہ۔ اور ان پر ایسا ثابت اور مستقیم کردیا کہ پھر مدۃ العمر شیطان ان کو کوئی دھوکہ اور فریب نہ دے سکا۔ لا یلدغ ال مومن من حجر مرتین یعنی مومن کا مل شیطان کے سوراخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاتا حضرت آدم (علیہ السلام) کو زندگی میں یہ پہلا موقعہ تھا اس سے پہلے ابلیس سے ان کو واسطہ نہ پڑا تھا۔ ناتجربہ کاری کی بنا پر اور اپنی صاف دلی کی بنا پر اس کے فریب میں آگئے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) نے جب یہ دیکھا کہ یہ شخص خدا کی قسم کھا کر کہہ رہا ہے۔ وقاسمھما انی لکما لمن الناصحین تو ان کو یہ شبہ بھی نہ ہوا کہ خدا کا نام لے کر کوئی جھوٹ بھی بول سکتا ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کو (کذب) جھوٹ کے معنی تو معلوم تھے مگر انہوں نے اس سے قبل اپنی آنکھ سے کبھی جھوٹ اور جھوٹے کو نہیں دیکھا تھا اس لیے دھوکہ میں آگئے جب معلوم ہوگیا تو توبہ اور معذرت کی۔ اس کی وجہ سے حضرت آدم (علیہ السلام) خدا تعالیٰ کے اور زیادہ مقبول ہوگئے اور ان کی بےمثال گریہ وزاری اور ندامت و شرمساری نے اس بات کو ظاہر کردیا کہ ان کے دل میں کس درجہ حق جل شانہ کی محبت اور عظمت سرایت کیے ہوئے ہے۔
الغرض حضرت آدم (علیہ السلام) تو توبہ اور معذرت کی وجہ سے پہلے سے زیادہ مقبول اور محبوب ہوگئے اور شیطان مردود کی امید پر پانی پھر گیا۔ اس مردود نے تو یہ سوچا تھا کہ میری طرح آدم (علیہ السلام) بھی تباہ ہوجائیں مگر اسکی یہ تمنا پوری نہ ہوئی۔ اس کی توقع کے خلاف حضرت آدم (علیہ السلام) کی عجز وزاری اور تذال اور خاکساری ان کے مزید تقرب کا سبب بن گئی۔
بعد ازاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم دونوں میاں بیوی اکٹھے یہاں سے نیچے اترو بظاہر یہ خطاب خطاب عتاب تھا مگر درحقیقت خطاب تکمیل و تشریف تھا۔ تاکہ خلافت ارضی کا وعدہ پورا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا ہی اس لیے کہا تھا کہ روئے زمین کا ان کو خلیفہ بنایا جائے اس لیے ان کو بہشت سے زمین پر اترنے کا حکم دیا گیا تاکہ وہ منصب خلافت پر پہنچیں اور جو لغزش سہوا یا نسیانا سرزد ہوئی تھی وہ توبہ اور استغفار سے معاف ہوگئی۔ یہاں اھبطا بصیغہ تثنیہ آیا ہے اور یہ خطاب حضرت آدم (علیہ السلام) اور حوا (علیہا السلام) کو ہے اور سورة بقرہ واعراف میں بلفظ جمع یعنی اھبطوا آیا ہے اور یہ خطاب آدم (علیہ السلام) اور حوا (علیہا السلام) اور ابلیس تینوں کو ہے یا خطاب فقط آدم (علیہ السلام) اور حوا (علیہا السلام) کو ہے اور صیغہ جمع اس لیے لایا گیا کہ ان دونوں کا وجود ان کی بیشمار ذریعت پر مشتمل تھا۔
بہرحال حکم یہ ہوا کہ تم سب مع ابلیس کے جنت سے اترو تم میں سے ایک دوسرے کا دشمن ہوگا۔ دشمنی اور عزت و وجاہت میں متفاوت ہوں گے۔ جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ ایک دوسرے سے حسد کرے گا۔ اور باہم دشمنی ہوگی۔ اندر سے تمہاری شہوات اور نفسانی اغراض کو حسد اور عداوت پر آمادہ کریں گے۔ اور باہر سے یہ شیطان تم کو حسد اور عداوت کے داؤ پیچ بتالئے گا۔ اور دنیا میں خوب ادھم مچے گا۔ اور فتنہ اور فساد برپا ہوگا جس کا علاج سوائے آسمانی ہدایت کے اور حکم خداوندی کی پیروی کے کچھ نہ ہوگا۔ پس ایسی حالت میں جب کہ تم زمین پر ہو اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت کا سامان آوے یعنی کتاب اور رسول اور دلائل عقلیہ و نقلیہ بصد ہزار شوق ورغبت اور بصد ہزار شکر و امتنان دوڑ کر اس کو لے لینا دنیا کے فتنہ و فساد سے بچنے کی صرف ایک یہی راہ ہے۔ سو جس نے میری ہدایت کی پیروی کی یعنی رسول کا حکم اور میری نازل کردہ کتاب پر عمل کیا تو وہ دنیا میں گمراہ نہ ہوگا۔ اور آخرت میں وہ رنج اور تکلیف نہیں اٹھائے گا اور کسی مشقت میں نہیں پڑے گا۔ اور جس نے میری نصیحت اور ہدایت سے منہ موڑا تو وہ دنیا اور آخرت دونوں میں خوار ہوا۔ دنیا میں تو اس طرح کی تحقیق اس کی زندگی تنگ ہوگی۔ راحت اور سکون اور اطمینان سے خالی ہوگی۔ کافر کے دل پر حرص اور ترقی کا اس قدر غلبہ ہوتا ہے کہ دن رات ننانوے کے پھیر میں رہتا ہے اور دولت و عزت و وجاہت کے زوال کے خطرات ہر وقت اس کی نظروں کے سامنے رہتے ہیں بڑا ہی خوش قسمت ہے وہ دولت مند جس کو دن رات میں دو تین گھنٹے سونا نصیب ہوجائے جب راحت اور سکون ہی نصیب نہ ہوا تو دولت سے کیا فائدہ ہوا۔ ظاہر میں بیشمار دولت ہے۔ مگر قناعت کی دولت سے دل خالی ہے اور حیرانی اور پریشانی سے لبریز ہے۔ دن رات وفتروں کے چکروں میں اور رشوتوں اور خوشامدوں کی مصیبت میں مبتلا ہے کسی سے جھوٹ بول رہا ہے اور کسی کا جھوٹ سن رہا ہے لکھ پتی اور دربدر پھر رہا ہے لاکھوں چکر لگا چکا ہے۔ مگر ہنوز منزل مقصود دور ہے کسی نے کیا خوب کہا ہے
اگر دنیا نہ باشد درد مندیم دگر باشد بمہرش پائے بند یم
بلائے زیں جہاں آشوب ترنیست کہ رنج خاطر است ارہست درنیست
دنیاوی زندگی میں قلبی سکون اور اطمینان بدون قناعت اور ذکر الٰہی حاصل نہیں ہوسکتا۔ الا بذکر اللہ تطمئن القلوب
سے قناعت تو نگرم گرداں کزو رائی تو ہیچ نعمت نیست
یہ تو کافر کی دنیاوی زندگی کا حال ہوا اور کافر کی اخروی زندگی کا حال یہ ہے کہ قیامت کے دن ہم اس کو نابینا اٹھائیں گے۔ یعنی جب وہ قبر سے اٹھے گا تو اندھا ہوگا۔ اور گونگا اور بہرا بھی ہوگا۔
کما قال اللہ تعالیٰ ونحشرھم یوم القیمۃ علی وجوھھم عمیا و بکما وصما۔
کافر جب قبر سے اٹھے گا اس وقت اندھا ہوگا۔ بعد میں اس کا اندھا پن دور کردیا جائے گا۔ اس وقت وہ کافر بولے گا۔ اے میرے پروردگار تو نے جھے اندھا کیوں اٹھایا حالانکہ میں تو دنیا میں بینا تھا۔ اللہ تعالیٰ جواب میں فرمائیں گے ہاں دنیا میں تو نے بھی ایسا ہی کیا تھا۔ تیرے پاس ہماری ہدایت کی نشانیاں پہنچیں جو خوب روشن اور واضح تھیں پس تو نے ان کو بھلا دیا۔ اور ان سے منہ پھیرلیا اور آنکھیں بند کرلیں اور باوجود بینائی کے تو ہماری آیات ہدایت اور دلائل قدرت کے دیکھنے سے اندھا بن گیا۔ اور اسی طرح آج تجھ سے تغافل برتا جائے گا یعنی جس طرح تو نے ہماری آیتوں سے اعراض کیا اور ان سے اندھا بنا رہا اور ہم کو بھول گیا۔ اسی طرح ہم آج تیرے ساتھ وہی معاملہ کریں گے۔ جو نہ ہوتے ہوئے اور اندھے بنے ہوئے کے ساتھ ہونا چاہئے۔ اور جس طرح یہ سزا اس کے جرم کے مطابق دی گئی اس طرح ہم ہر اس شخص کو اس کے عمل کے مناسب جزا دیں گے۔ جو حد سے گزر گیا اور اپنے پروردگار کی آیتوں پر ایمان نہیں لایا۔ تو دنیا میں تو اس کی سزا یہی ہے کہ اس کو ” معیشت خنک “ یعنی تنگ زندگانی میں مبتلا کیا جائے اور عذاب مذکور کے بعد آخرت کا عذاب بہت ہی سخت ہے اور بہت باقی رہنے والا ہے۔ یعنی دائمی ہے جس کی کوئی انتہا ہی نہیں۔
نکتہ : ان آیات میں ذکر خداوندی سے اعراض کرنے والوں کے لیے اول دو عقوبتوں کے بعد عذاب آخرت کا ذکر فرمایا اور بتلا دیا کہ وہ عذاب کبھی زائل نہ ہوگا۔ دنیا کی تنگی تو زائل ہوسکتی ہے۔ مگر آخرت کی مصیبت کبھی نہیں ٹل سکتی اور دوزخ کا عذاب کبھی ختم نہیں ہوسکتا۔
لطائف و معارف
عصمت انبیاء کے مسئلہ کی مفصل تحقیق سورة بقرہ کے شروع میں حضرت آدم (علیہ السلام) کے قصہ میں گزر چکی ہے۔
اب پھر مختصرا چند باتیں عرض کی جاتی ہیں۔
1۔ اہل حق کا یہ اجماعی عقیدہ ہے کہ انبیاء کرام (علیہ السلام) خداوند ذوالجلال کی نافرمانی سے معصوم ہوتے ہیں۔ صغیرہ اور کبیرہ سے پاک اور منزہ ہوتے ہیں قصدا اور ارادتا ان سے حق تعالیٰ کی نافرمانی ممکن نہیں۔
دلائل سورة بقرہ کی تفسیر میں گزر چکے ہیں۔
2۔ عصمت کے معنی یہ ہیں کہ ظاہر و باطن نفس اور شیطان کی مداخلت سے بالکلیہ پاک اور منزہ ہوں اوع نفس اور شیطان ہی دونوں چیزیں مادہ معصیت ہیں اور مادہ معصیت سے پاک ہونے ہی کا نام عصمت ہے۔
ملائکہ بھی معصوم ہوتے ہیں مگر ان کی عصمت اضطراری ہوتی ہے کہ ان میں شرکا مادہ اور داعیہ ہی نہیں ہوتا۔ بخلاف انبیاء کرام (علیہ السلام) کے کہ ان کی عصمت اختیاری ہوتی ہے اس لیے کہ ان میں بمقتضائے بشریت مادہ نفسانیت ہوتا ہے مگر حفاظت ربانی اور تائید یزدانی ان کی محافظ اور نگہبان ہوتی ہے کہ مجال نہیں کہ مادہ معصیت ذرہ برابر ان کو جادہ اطاعت سے ہٹا سکے یا کوئی ایسی چیز ان سے سرزد ہو سکے جو کہ ان کے دامن عصمت کو آلودہ کرسکے۔ حق جل شانہ کی نظر عنایت اور فرشتوں کی محافظت ان کو اپنے احاطہ میں لیے ہوتی ہے اور ان کا قدم اس احاطہ سے باہر نہیں نکل سکتا۔
3۔ انبیاء کرام میں نفوس ہوتے ہیں مگر وہ نفوس قدسیہ ہوتے ہیں اور عصمت و نزاہت میں ملائکہ کے ہمرنگ ہوتے ہیں۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) اگرچہ ظاہر میں بشر ہوتے ہیں مگر مزاج اور طبیعت کے اعتبار سے فرشتوں کے ساتھ متحد ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے انبیاء کرام (علیہ السلام) کسی مباح اور جائز امر کا ہوائے نفسانی کی بناء پر ارتکاب نہیں کرتے بلکہ مباح کے اباحت بیان کرنے کے لیے مباح اور امر جائز کا ارتکاب کرتے ہیں جو کہ عین تشریع ہے نبی پر جس طرح فرض کے فرضیت کا بیان کرنا فرض ہے اسی طرح مباح کی اباحت کا بیان کرنا بھی فرض ہے کیونکہ تبلیغ احکام نبی پر فرض ہے۔
بخلاف اولیاء کے کہ وہ بسا اوقات مباحات کو محض اپنی ہوا نفسانی کی بنا پر بھی کرتے ہیں اس لیے اہل سنت والجماعت کا اجماعی مسلک یہ ہے کہ انبیاء کرام (علیہ السلام) معصوم ہیں اور اولیاء محفوظ ہیں۔ ہوائے نفس سے بالکلیہ پاک اور منزہ نہیں بخلاف نبی کے کہ وہ ہوائے نفس سے بالکل پاک اور منزہ ہوتا ہے۔ وما ینطق عن الھوی ان ھو الا وحی یوحی۔ قل ما یکون فی ان ابدلہ من تلقایء نفسی ان اتبع الا ما یوحی الی۔ معاذ اللہ انبیاء کرام (علیہ السلام) ہماری طرف اسیر حرص و شہوت نہیں ہوتے۔ ورنہ خدا تعالیٰ ہم پر ان کی بےچون و چرا اطاعت فرض نہ کرتا۔ اور نبی کریم ﷺ کو جو خلاصہ موجودات اور زبدہ کائنات ہیں ان کو انبیاء کرام (علیہ السلام) کی اقتداء کا حکم نہ دیتا اور یہ ارشاد نہ فرماتا۔ اولئک الذین ھدی اللہ فبھداھم اقتدہ۔
(اطلاع) حضرت آدم (علیہ السلام) کے قصہ کے متعلق سورة اعراف کے شروع میں بھی بہت کچھ تفصیل کے ساتھ لکھ دیا ہے۔ اس لیے ناظرین کرام سورة بقرہ اور سورة اعراف دونوں جگہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے قصہ کی تفسیر پر نظر ڈال لیں۔
Ayahs 20:128–135تہدید و تنبیہ اہل غفلت برعدم عبرت
از ہلاک امم سابقہ مع مشابدہ آثار ہلاکت در اثنائے سفر تجارت
قال اللہ تعالیٰ ۔ افلم یھدلہم کم اہلکنا قبلہم .... الیٰ .... ومن اھتدی۔
(ربط) گزشتہ آیات میں غافلین اور معرضین کی عقوبت کا ذکر تھا۔ کما قال اللہ تعالیٰ ومن اعرض عن ذکری فان لم معیشۃ ضنکا ونحشرہ یوم القیمۃ اعمیٰ الخ۔
اب ان آیات میں غافلین اور معرضین کو تہدید اور تنبیہ کی جاتی ہے کہ کیا تم کو اس بات سے عبرت نہیں ہوئی کہ تم سے پہلے کتنی بستیاں انبیاء سے سرکشی اور اعراض کرنے کی بنا پر تباہ و برباد کی جا چکی ہیں اور تم ملک شام جاتے ہوئے ان کے کھنڈروں پر گزرتے ہو جن کو دیکھ کر ان غارت شدہ قوموں کی ہلاکت اور بربادی کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔ اگر تمہیں عقل ہے تو اس سے عبرت حاصل کرو کہ آیات خداوندی سے اعراض اور غفلت کا اور اس اسراف کا یعنی حد سے گزر جانے کا کیا انجام ہوتا ہے۔
نیز اس تہدید و تنبیہ سے آنحضرت ﷺ کی تسلی بھی مقصود ہے کہ آپ ﷺ ان معرضین اور نافلین کے اقوال و احوال سے رنجیدہ اور غمگین نہ ہوں۔
چناچہ فرماتے ہیں پس کیا ان معرضین اور غافلین کو جو اپنے اعراض پر قائم اور مصر ہیں۔ اب تک اس بات نے ان کی رہنمائی نہیں کی کہ ہم ان سے پہلے کتنی امتیں ہلاک کرچکے ہیں جیسے قوم عاد اور قوم ثمود وغیرہ وغیرہ جن کے گھروں میں یہ چلتے پھرتے ہیں۔ یعنی قریش جب مکہ سے شام کو تجارت کے لیے جاتے ہیں تو اپنے سفر میں جاتے ہوئے قوم ثمود اور قوم عاد کی بستیوں سے گزرتے ہیں اور ان کے اجڑے کھنڈرات دیکھتے ہیں۔ کیا اس کو دیکھ کر بھی ہدایت نہیں پاتے کہ اپنے کفر اور تمرد سے باز آجائیں۔ بلاشبہ اس میں عقلمندوں کے لیے نشانیاں ہیں کہ جو خدا اور اس کے رسول سے اعراض کرے اس کا انجام ایسا ہوتا ہے اور اے نبی یہ لوگ بڑے ہی سخت مجرم ہیں اگر تیرے پروردگار کی طرف سے ایک بات پہلے طے نہ ہوچکی ہوتی تو عذاب الٰہی آکر فورا ان کو چمٹ جاتا کلمہ سابقہ سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قیام حجت سے پہلے کسی کو عذاب نہیں دیتا۔ اتمام حجت کے بعد عذاب نازل کرتے ہیں۔ اور علیٰ ہذا اگر علم الٰہی میں سن کے عذاب کی کوئی میعاد مقرر نہ ہوتی تب بھی ان پر فورا عذاب آجاتا۔ مطلب یہ ہے ان پر عذاب نازل ہونے سے دو باتیں مانع ہیں ایک تو یہ اللہ تعالیٰ بدون اتمام حجت کے کسی کو عذاب نہیں دیتے اور دوسری بات یہ کہ مجرم قوم کے لیے عذاب کا ایک وقت مقرر ہے اگر اللہ کی طرف سے یہ دو باتیں نہ ہوتیں تو فورا ناگہانی طور پر ان پر عذاب آجاتا۔ پس اے نبی آپ ﷺ ان مجرمین پر فی الحال عذاب نازل نہ ہونے سے رنجیدہ نہ ہوں۔ بلکہ ان کی رنجیدہ باتوں پر صبر کیجئے اور مقررہ میعاد اور آخری نتیجہ کا انتظار کیجئے اللہ تعالیٰ نے ان کے عذاب کے لیے ایک وقت مقرر کردیا ہے جو اپنے وقت پر ظاہر ہوگا۔ لہٰذا آپ صبر کیجئے اور لیل و نہار اپنے رب کی حمد و ثنا کے ساتھ اس کی تسبیح و تقدیس میں لگے رہیئے جس میں نماز بھی آگئی۔ طلوع آفتاب سے پہلے یہ نماز فجر ہوئی اور غروب آفتاب سے پہلے یہ نماز عصر ہوئی اور رات کے اوقات میں بھی اللہ کی تسبیح وتحمید کیا کرو۔ یہ تہجد کی نماز ہوئی اور دن کے اطراف اور جوانب میں بھی اللہ کی حمد و ثنا کیا کرو۔ امید ہے کہ قیامت کے دن آپ اس کے ثواب کو دیکھ کر خوش ہوں گے۔ اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ ومن اناء الیل سے نماز عشاء مراد ہے اور اطراف نہار سے نماز ظہر اور نماز مغرب مراد ہے۔ نماز ظہر اول دن کے طرف آخر میں ہے اور نماز مغرب کا دن کی طرف ہونا ظاہر ہے۔
خلاصہ کلام کہ آپ دن رات اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس کی تسبیح وتحمید میں لگے رہئے اور اپنی توجہ معبود حقیقی کی طرف رکھئے اور اے نبی جن چیزوں سے ہم نے کافروں کے مختلف گروہوں کر بہرہ مند کیا ہے ان کی طرف بطریق رغبت و استحسان ہرگز اپنی آنکھوں کو دراز نہ کرنا وہ متاع قلیل اور فانی ہے۔ ہم نے ان کافروں کو دنیاوی زندگی کی رونق اور زیبائش کا سامان دیا ہے جو محض ایک رونق ہے اور چند روزہ آرائش و زیبائش ہے اللہ کے یہاں اس کی کوئی قدرومنزلت نہیں ہم نے ان کو یہ سامان رونق محض آزمانے کے لیے دیا ہے کہ دیکھیں کہ وہ شکر بجالاتے یا ناشکری کرتے ہیں۔ آپ ﷺ اس فانی اور چند روزہ رونق کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھئے اور تیرے پروردگار کا رزق اس فانی اور نمائشی رزق سے کہیں بہتر ہے اور بہت باقی رہنے والا ہے اللہ تعالیٰ نے دنیا میں آپ ﷺ کو نبوت و رسالت اور فتوحات عظیمہ سے مشرف کیا اور آخرت کی عزت و کرامت آپ ﷺ کے لیے ذخیرہ ہے۔ اللہ نے جو نعمت اور کرامت آپ ﷺ کو عطا کی ہے وہ اس مال و متاع سے کہیں بہتر ہے جو اس نے کفار کو دنیا میں دی ہے اور اے نبی ﷺ ہم نے کافروں کو دنیا میں جو نعمتیں دی ہیں وہ ان کے حق میں نعمت نہیں بلکہ فتنہ اور بلاء ہیں ان سے ان کی آزمائش مقصود ہے اور اے نبی اپنے متعلقین اور گھر والوں کو بھی نماز کا حکم دیجئے اور اس طرح اپنے گھر والوں کو آگ سے جھڑائیے کما قال اللہ تعالیٰ یایھا الذین امنوا قوا انفسکم واہلیکم نارا اور خود بھی اس پر قائم اور دائم رہئے۔ حدیث میں ہے کہ جب بچہ سات برس کا ہوجائے تو اسکو (عادت ڈالنے کے لیے) نماز پڑھواؤ ہم تجھ سے کوئی روزی نہیں چاہتے۔ بلکہ ہم تجھو کو روزی دیتے ہیں۔ یعنی جب تو ٹھیک ٹھیک نماز ادا کرے گا۔ تو اللہ تجھ کو ایسی جگہ سے روزی دے گا جہاں سے تجھے وہم و گمان بھی نہ ہوگا۔
شاہ عبد القادر (رح) لکھتے ہیں کہ دنیا میں مالک غلاموں سے روزی کمواتے ہیں۔ وہ مالک ” برحق “ بندگی چاہتا ہے اور غلاموں کو روزی آپ دیتا ہے (موضع القرآن)
مطلب یہ ہے کہ نماز سے خدا کا فائدہ نہیں بلکہ بندوں کا فائدہ ہے کہ نماز کی برکت سے بےغل و غش اور بےغائلہ روزی ملتی ہے وہ مولائے برحق تمام عالم کے رزق کا کفیل اور ذمہ دار ہے اور اسی طرح دوسری جگہ ارشاد ہے وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون ما ارید منھم من رزق وما ارید ان یطعمون ان اللہ ھو الرزاق القوۃ المتین اور نیک اجام اہل تقویٰ کے لیے ہے دنیا اور آخرت کی خوبیاں اور بھلائیاں تقویٰ سے حاصل ہوتی ہیں۔
یہاں تک معرضین اور غافلین کے کچھ اقوال و افعال اور ان کے کچھ احوال کا بیان ہوا۔ اب آگے پھر ان معرضین اور معاندین کے ایک قول کا ذکر فرماتے ہیں۔ وہ یہ ہے اور یہ معاندین یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ رسول ہمارے پاس اپنے پروردگار کی طرف سے ہمارے حسب منشاء اپنی نبوت کی کوئی نشانی لے کر کیوں نہیں آتا۔ یعنی جو معجزہ ہم طلب کرتے ہیں وہ معجزہ کیوں نہیں ظاہر کرتا۔ اللہ تعالیٰ جواب میں فرماتے ہیں کیا ان لوگوں کے پاس پہلی کتابوں کی واضح نشانی اور روشن دلیل نہیں آچکی۔
” صحف اولیٰ “ سے توریت اور انجیل اور زبور اور باقی کتاب منزلہ مراد ہیں اور ان کتابوں میں آپ ﷺ کی نبوت کی بشارت موجود ہے۔ کما قال اللہ تعالیٰ النبی الامی الذی یجدونہ مکتوبا عندھم فی التورۃ والانجیل۔ اولم یکن لہم ایۃ ان یعلمہ علموا نبی اسرائیل تو کیا یہ بات آپ ﷺ کی نبوت و صداقت کے لیے کافی نشانی نہیں کہ علماء بنی ارائیل آپ ﷺ کے چہرہ کو دیکھ کر پہچان لیتے ہیں کہ یہ وہی نبی آخر الزمان ﷺ ہیں جن کی توریت اور انجیل اور زبور میں خبر دی گئی ہے۔ حاصل جواب یہ ہے کہ آپ ﷺ کی نبوت کے لیے اگلی کتابوں میں آپ ﷺ کے ظہور کی بشارت کافی ہے جس کے بعد کسی معجزہ کی ضرورت نہیں۔
ی ایہ معنی ہیں کہ کیا ان کے پاس قرآن عظیم نہیں پہنچا جو اگلی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے اور انبیاء سابقین اور اگلی امتوں کے حال بیان کرتا ہے اور علوم ہدایت پر مستمل ہے اور عالم کے لیے رحمت اور نعمت ہے جس کی آیتیں دن رات ان پر تلاوت کی جاتی ہیں۔ اور اس کا اعجاز آفتاب سے زیادہ روشن ہے تو کیا یہ روشن نشانی آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کے اثبات کے لیے کافی نہیں اس پر ایمان کیوں نہیں لاتے اور اگر ہم معاندین کو اس قرآن کے نازل کرنے سے پہلے یا اس رسول کے بھیجنے سے پہلے کسی عذاب سے ہلاک کردیتے تو قیامت کے دن یہ کافر یہ کہتے کہ اے ہمارے پروردگار تو نے ہمارے پاس کوئی رسول کیوں نہ بھیجا تو ہم ذلیل اور رسوا ہونے سے پہلے ہی تیری ہی آیتوں کا اتباع کرلیتے۔ اے نبی آپ ﷺ ان سے کہہ دیجئے کہ اب حیلہ اور بہانے کا وقت بھی ختم ہوا ہم میں سے ہر ایک انجام اور نتیجہ کا منتظر ہے پس تو چندے اسی کا انتظار کرو۔ سو عنقریب یعنی مرنے کے بعد یا قیامت کے دن جان لوگے کہ کون ہیں راہ راست پر چلنے والے اور کون ہے کہ جو منزل مقصود تک پہنچ گیا ہم یا تم واللہ اعلم وعلمہ واتم واحکم۔
الحمدللہ
آج بتاریخ 9 شعبان المعظم سنہ 1390 ھجری بروز یکشنبہ بوقت چاشت سورة طہ کی تفسیر سے فراغت ہوئی۔
فللہ الحمد اولا وآخرا