20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 20:83–98

وَ مَاۤ اَعْجَلَكَ عَنْ قَوْمِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:83 in the Quran reader

اور اے موسیٰ تم نے اپنی قوم سے (آگے چلے آنے میں) کیوں جلدی کی ؟

قَالَ هُمْ اُولَآءِ عَلٰۤى اَثَرِیْ وَ عَجِلْتُ اِلَیْكَ رَبِّ لِتَرْضٰى Open ayah 20:84 in the Quran reader

کہا وہ میرے پیچھے (آ رہے) ہیں اور اے پروردگار میں نے تیری طرف (آنے کی) جلدی اس لئے کی کہ تو خوش ہو

قَالَ فَاِنَّا قَدْ فَتَنَّا قَوْمَكَ مِنْۢ بَعْدِكَ وَ اَضَلَّهُمُ السَّامِرِیُّ Open ayah 20:85 in the Quran reader

فرمایا کہ ہم نے تمہاری قوم کو تمہارے بعد آزمائش میں ڈال دیا ہے اور سامری نے ان کو بہکا دیا ہے

فَرَجَعَ مُوْسٰۤى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا١ۚ۬ قَالَ یٰقَوْمِ اَلَمْ یَعِدْكُمْ رَبُّكُمْ وَعْدًا حَسَنًا١ؕ۬ اَفَطَالَ عَلَیْكُمُ الْعَهْدُ اَمْ اَرَدْتُّمْ اَنْ یَّحِلَّ عَلَیْكُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَخْلَفْتُمْ مَّوْعِدِیْ Open ayah 20:86 in the Quran reader

اور موسیٰ غم اور غصے کی حالت میں اپنی قوم کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ اے قوم کیا تمہارے پروردگار نے تم سے ایک اچھا وعدہ نہیں کیا تھا ؟ کیا (میری جدائی کی) مدت تمہیں دراز معلوم ہوئی یا تم نے چاہو کہ تم پر تمہارے پروردگار کی طرف غضب نازل ہو ؟ اور (اس لئے) تم نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا اس کے خلاف کیا

قَالُوْا مَاۤ اَخْلَفْنَا مَوْعِدَكَ بِمَلْكِنَا وَ لٰكِنَّا حُمِّلْنَاۤ اَوْزَارًا مِّنْ زِیْنَةِ الْقَوْمِ فَقَذَفْنٰهَا فَكَذٰلِكَ اَلْقَى السَّامِرِیُّۙ Open ayah 20:87 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ ہم نے اپنے ختیار سے تم سے وعدہ خلاف نہی کیا بلکہ ہم لوگوں کے زیوروں کا بوجھ اٹھائے ہوئے تھے پھر ہم نے اس کو آگ میں ڈال دیا اور اسی طرح سامری نے ڈال دیا

فَاَخْرَجَ لَهُمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ فَقَالُوْا هٰذَاۤ اِلٰهُكُمْ وَ اِلٰهُ مُوْسٰى١۬ فَنَسِیَؕ Open ayah 20:88 in the Quran reader

تو اس نے انکے لئے ایک بچھڑا بنادیا (یعنی اس کا) قالب جس کی آواز گائے کی سی تھی تو لوگ کہنے لگے یہ تمہارا معبود ہے اور موسیٰ کا بھی معبود ہے مگر وہ بھول گئے ہیں

اَفَلَا یَرَوْنَ اَلَّا یَرْجِعُ اِلَیْهِمْ قَوْلًا١ۙ۬ وَّ لَا یَمْلِكُ لَهُمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا۠ Open ayah 20:89 in the Quran reader

کیا یہ لوگ نہیں دیکھتے کہ ان کی کسی بات کا جواب نہیں دیتا اور نہ ان کے نقصان اور نفع کا کچھ اختیار رکھتا ہے

وَ لَقَدْ قَالَ لَهُمْ هٰرُوْنُ مِنْ قَبْلُ یٰقَوْمِ اِنَّمَا فُتِنْتُمْ بِهٖ١ۚ وَ اِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحْمٰنُ فَاتَّبِعُوْنِیْ وَ اَطِیْعُوْۤا اَمْرِیْ Open ayah 20:90 in the Quran reader

اور ہارون نے ان سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ لوگو ! اس سے صرف تمہاری آزمائش کی گئی ہے اور تمہارا پروردگار تو خدا ہے تو تم میری پیروی کرو اور میرا کہا مانو

قَالُوْا لَنْ نَّبْرَحَ عَلَیْهِ عٰكِفِیْنَ حَتّٰى یَرْجِعَ اِلَیْنَا مُوْسٰى Open ayah 20:91 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ جب تک موسیٰ ہمارے پاس نہ آئیں ہم اس (کی پوجا) پر قائم رہیں گے

قَالَ یٰهٰرُوْنُ مَا مَنَعَكَ اِذْ رَاَیْتَهُمْ ضَلُّوْۤاۙ Open ayah 20:92 in the Quran reader

(پھر موسیٰ نے ہارون سے کہا) کہ ہارون جب تم نے ان کو دیکھا تھا کہ گمراہ ہوگئے ہیں تو تم کو کس چیز نے روکا ؟

اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَیْتَ اَمْرِیْ Open ayah 20:93 in the Quran reader

(یعنی) اس بات سے کہ تم میرے پیچھے چلے آؤ بھلا تم نے میرے حکم کے خلاف (کیوں کیا ؟ )

قَالَ یَبْنَؤُمَّ لَا تَاْخُذْ بِلِحْیَتِیْ وَ لَا بِرَاْسِیْ١ۚ اِنِّیْ خَشِیْتُ اَنْ تَقُوْلَ فَرَّقْتَ بَیْنَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ لَمْ تَرْقُبْ قَوْلِیْ Open ayah 20:94 in the Quran reader

کہنے لگے بھائی میری داڑھی اور سر (کے بالوں) کو نہ پکڑیئے میں تو اس سے ڈرا کہ آپ یہ نہ کہیں کہ تم نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میری بات کو ملحوظ نہ رکھا

قَالَ فَمَا خَطْبُكَ یٰسَامِرِیُّ Open ayah 20:95 in the Quran reader

(پھر سامری سے) کہنے لگے کہ سامری تیرا کیا حال ہے ؟

قَالَ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ یَبْصُرُوْا بِهٖ فَقَبَضْتُ قَبْضَةً مِّنْ اَثَرِ الرَّسُوْلِ فَنَبَذْتُهَا وَ كَذٰلِكَ سَوَّلَتْ لِیْ نَفْسِیْ Open ayah 20:96 in the Quran reader

اس نے کہا میں نے ایسی چیز دیکھی جو اوروں نے نہیں دیکھی تو میں نے فرشتے کے نقش پا سے (مٹی کی) ایک مٹھی بھر لی پھر اس کو (بچھڑے کے قلب میں ڈال دیا اور مجھے میرے جی نے (اس کام کو) اچھا بتایا

قَالَ فَاذْهَبْ فَاِنَّ لَكَ فِی الْحَیٰوةِ اَنْ تَقُوْلَ لَا مِسَاسَ١۪ وَ اِنَّ لَكَ مَوْعِدًا لَّنْ تُخْلَفَهٗ١ۚ وَ انْظُرْ اِلٰۤى اِلٰهِكَ الَّذِیْ ظَلْتَ عَلَیْهِ عَاكِفًا١ؕ لَنُحَرِّقَنَّهٗ ثُمَّ لَنَنْسِفَنَّهٗ فِی الْیَمِّ نَسْفًا Open ayah 20:97 in the Quran reader

(موسیٰ نے) کہ جا تجھ کو دنیا کی زندگی میں یہ (سزا) ہے کہ کہتا رہے کہ مجھ کو ہاتھ نہ لگا اور تیرے لئے ایک اور وعدہ ہے (یعنی عذاب کا) تجھ سے ٹل نہ سکے گا اور جس معبود کی (پوجا) پر تو (قائم و) معتکف تھا اس کو دیکھ ہم اسے جلا دیں گے پھر اس کی راکھ کو اڑا کر دریا میں بکھیر دیں گے

اِنَّمَاۤ اِلٰهُكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَسِعَ كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا Open ayah 20:98 in the Quran reader

تمہارا معبود وہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں اس کا علم ہر چیز پر محیط ہے

موسیٰ (علیہ السلام) کی کوہ طور سے واپسی اور گوسالہ پرستی کا واقعہ قال اللہ تعالیٰ وما اعجلک عن قومک یموسی .... الیٰ .... وسع کل شیء علما۔ القصہ جب فرعون غرق ہوگیا۔ تو بنی اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ استدعا کی کہ ہمارے لیے کوئی دستور ہدایت اور قانون شریعت چاہئے کہ ہم اس پر چلیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس بارے میں حق تعالیٰ سے درخواست کی، حق تعالیٰ نے توریت عطا کرنے کا وعدہ فرمایا کہ ہم تم کو ایسی کتاب عطا کریں گے۔ جس میں احکام شریعت جمع ہوں گے اور یہ حکم۔ یا کہ ستر علماء اپنے ہمراہ لے کر کوہ طور پر آئیں تاکہ وہ اس کرامت کا جلوہ دیکھیں۔ چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی جگہ پر تو ہارون (علیہ السلام) کو چھوڑا اور ستر علماء کو لیکر کوہ طور کی طرف متوجہ ہوئے جب وہ کوہ طور کے قریب پہنچے تو موسیٰ (علیہ السلام) شدت شوق سے بےتاب ہوگئے اور ان سب سے پہلے سبقت کرکے گے پہنچ گئے اور ان کو یہ سمجھا گئے کہ تم پہاڑ پر آجانا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ سوال کیا۔ اور اے موسیٰ جلدی کرکے اپنی قوم سے پہلے آجانے پر تم کو کس چیز نے آمادہ کیا تو عرض کیا کہ اے میرے پروردگار وہ میرے پیچھے ہی پیچھے آرہے ہیں کچھ زیادہ دور نہیں اور اے میرے پروردگار میں نے تیری طرف آنے میں اس لیے جلدی کی کہ تو مجھ سے اور زیادہ خوش ہوجائے۔ اس لیے میں نے بصد شوق ورغبت تیری طرف عجلت اور مسارعت کی تاکہ مزید تیرے قرب اور رضا اور کرامت کا سبب بنے اس عجلت اور سبقت سے میرا مقصود اپنی برائی نہیں بلکہ تیری مزید خوشنودی مقصود ہے اور نہ یہ عجلت۔ قوم سے غفلت اور بےاعتنائی کی بنا پر ہے۔ وہ سب میرے پیچھے پیچھے میرے نشان قدم پر چلے آرہے ہیں۔ خدا تعالیٰ نے فرمایا اے موسیٰ (علیہ السلام) ! یہ خاص گروہ اگرچہ تمہارے پیچھے پیچھے تمہارے نشان قدم پر چلا آرہا ہے۔ مگر تمہاری وہ قوم جن پر تم ہارون (علیہ السلام) کو اپنا خلیفہ مقرر کرکے چھوڑ آئے ہو وہ تمہارے نشان قدم سے منحرف ہوگئی۔ حق جل شانہ کا اس سوال ما اعجلک سے مقصود ہی یہ تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو اس فتنہ کی خبر دیں جو ان کی مفارقت کے بعد پیش آیا۔ چناچہ فرماتے ہیں۔ پس تحقیق ہم نے تمہاری قوم کو تمہارے چلے آنے کے بعد فتنہ اور آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ اور ظاہر اسباب میں سامری نے ان کو گمراہ کیا ہے۔ یعنی اصل فتنہ اور ابتلاء تو من جانب اللہ ہے اور گمراہی کا ظاہر سبب اور واسطہ سامری ہے کہ اس نے گوسالہ ایجاد کیا۔ اور بنی اسرائیل کو اس کی عبادت پر آمادہ کیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) طور پر جاتے وقت اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو اپنا جانشین کرگئے تھے اور یہ ہدایت فرما گئے تھے کہ ان کو توحید اور ہدایت پر قائم رکھنا۔ ” سامری “ موسیٰ (علیہ السلام) کی امت کا ایک منافق تھا ہر وقت مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش میں لگا رہتا تھا موسیٰ (علیہ السلام) کے چلے جانے کے بعد اس نے چاندی سونے کا ایک بچھڑا ڈھال لیا۔ اور بنی اسرائیل سے کہا کہ یہ تمہارا معبود ہے بنی اسرائیل اس کو پوجنے لگے اور آزمائش میں پورے نہ اترے سوائے بارہ ہزار کے سب گوسالہ پرستی میں مبتلا ہوگئے۔ سامری کا نام موسیٰ بن ظفر تھا۔ اور بعض کہتے ہیں اس کا نام ہارون تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے جاتے ہی سارے بنی اسرائیل کے گمراہ کرنے کی فکر میں پڑگیا تھا۔ بالآخر اس نے یہ فتنہ کھڑا کیا جس پر بنی اسرائیل مفتون ہوگئے۔ پس موسیٰ (علیہ السلام) اس فتنہ کی خبر سن کر چالیس دن کی مدت پوری کرکے توریت لینے کے بعد اس خبر دحشت اثر کی وجہ سے غصہ اور غم میں بھرے ہوئے اپنی قوم کی طرف لوٹے اور ان کو ڈانٹنے اور دھمکانے لگے۔ اور کہا اے میری قوم کیا تمہارے پروردگار نے تم سے ایک اچھا اور سچا وعدہ نہیں کیا تھا یعنی خدائے تعالیٰ نے مجھے کوہ طور پر بلا کر تمہارے لیے توریت اور شریعت عطا کرنے کا وعدہ کیا تھا جس میں تمہارے دین اور دنیا کی عزت اور شرافت اور کرامت تھی۔ اس کا انتظار کیوں نہ کیا۔ اور نہ میری واپسی کا انتظار کیا اور جلد بازی کرکے بچھڑے کو پوجنا شروع کردیا۔ تو کیا اس عہد اور وعدہ کی مدت اتنی طویل اور دراز ہوگئی تھی۔ کہ تم صبر نہ کرسکے۔ اللہ تعالیٰ نے توریت دینے کے لئے موسیٰ (علیہ السلام) سے تیس رات کا وعدہ کیا تھا۔ بعد میں دس رات کا اور اضافہ ہوگیا تو یہ لوگ کہنے لگے تھے اب تک کیوں نہیں آئے اور سامری کے کہنے سے بچھڑے کو پوجنا شروع کردیا۔ اس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ مجھ سے کچھ ایسی تاخیر تو نہیں ہوگئی تھی جس سے تم بالکل ناامید ہوگئے یا تم نے یہ ارادہ کرلیا کہ تمہارے رب کی طرف سے تم پر کوئی غضب نازل ہو۔ اس لیے تم نے اس بچھڑے کو پوجنا شروع کردیا۔ مطلب یہ ہے کہ تمہاری گوسالہ پرستی کے دو ہی سبب ہوسکتے ہیں۔ یا تو یہ کہ میری مفارقت کا عرصہ طویل ہوگیا اور تم انتظار کرتے کرتے تھک گئے۔ اس لیے تم میرے عہد کو (جو میں نے تم سے خدا کی توحید پر قائم رہنے کا لیا تھا۔ اور تم نے مجھ سے اس کا وعدہ کیا تھا) وہ بھول گئے۔ اور یا تم نے یہ چاہا کہ تم کوئی ایسا فعل کرو جس کی وجہ سے تم پر خدا کا غضب نازل ہو اور ظاہر ہے کہ یہ دونوں باتیں نہیں پس بتلاؤ کہ آخر اس گوسالہ پرستی کا کیا سبب ہے۔ پہلی بات کا نہ ہونا تو ظاہر ہے کہ مجھے تم سے جدا ہوئے صرف چالیس دن کا زمانہ گزرا ہے۔ کوئی طویل مدت نہیں گزری اور دوسری بات کا نہ ہونا بھی ظاہر ہے کہ جس کسی کو ذرہ برابر بھی سمجھ ہوگی۔ وہ کبھی بھی غضب الٰہی کا خواہشمند نہیں ہوسکتا۔ پس نتیجہ یہ نکلا کہ تم نے مجھ سے وعدہ خلافی کی۔ چلتے وقت تم نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ آپ (علیہ السلام) کے واپس آنے تک اللہ کی اطاعت پر قائم رہیں گے بتلاؤ وہ وعدہ کہاں گیا۔ گوسالہ پرست یہ عتاب سن کر نادم ہوئے اور گوسالہ پرستی سے الگ ہوگئے اور یہ ہیبت ناک عتبا سن کر ایسے عذر کرنے لگے جو قابل سماعت نہیں۔ کہنے لگے کہ ہم نے اپنی قدت اور اختیار سے تیرے عہد اور وعدہ کا خلاف نہیں کیا۔ یعنی یہ حرکت ہم نے ازخود نہیں کی بلکہ سامری نے ہم سے کرائی اگر ہم اپنے حال پر چھوڑ دئیے جاتے اور سامری یہ دام تزو یر ہمارے سامنے نہ بچھاتا تو ہم کبھی آپ (علیہ السلام) کے خلاف نہ کرتے اس کمبخت نے ایسا جال بچھایا کہ ہم نہ اس کو روک سکے اور نہ اپنے کو روک سکے۔ ایسا ملمع کیا کہ ہم اپنے اختیار سے باہر ہوگئے اور چونکہ ہم بےعقل اور باؤلے تھے جیسا کہ آپ کو معلوم ہے اس لئے ہم اس شعبدہ کو دیکھ کر بےقابو ہوگئے اور اس فتنہ میں مبتلا ہوگئے۔ لیکن بات یہ ہوئی کہ ہم پر قوم فرعون کے زیوروں کے بوجھ لاد دئیے گئے تھے۔ اور کم عقلی کی وجہ سے ہماری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ ہم ان کا کیا کریں۔ پس سامری کے کہنے سے ہم نے ان زیوروں کو آگ کے گڑھے میں ڈال دیا۔ بنی اسرائیل جب مصر سے نکلنے لگے تو انہوں نے یہ حیلہ بنایا کہ ہم اپنی عید میں جاتے ہیں اس حیلہ اور بہانہ سے نبی اسرائیل نے قبطیوں سے ان کے چاندی اور سونے کے زیورات مستعار (عاریت پر) لیے تاکہ ان کو یقین آجائے کہ بنی اسرائیل کا مقصود فقط شادی اور عید ہی میں جانا ہے اور یہ حیلہ اس لیے کیا تھا کہ بغیر اس حیلہ کے فرعونی ان کو مصر سے نکلنے نہ دیتے۔ یہ مانگے ہوئے زیور بنی اسرائیل کے پاس موجود تھے۔ مگر چونکہ یہ زیورات ان کے لیے حلال نہ تھے اس لیے وہ ان کو اپنے اوپر گناہ اور بوجھ سمجھتے تھے اور سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ ان کا کیا کیا جائے۔ سامری نے ہم کو یہ مشورہ دیا کہ ایک گڑھا سا کھود کر اس میں آگ جلائی جائے اور بنی اسرائیل کو حکم دیا کہ وہ تمام زیورات جو تمہارے پاس ہیں ان سب کو آگ میں جلا دو تاکہ تم پر گناہ اور بوجھ نہ رہے اس لیے ہم نے ان زیورات کو سامری کے کہنے سے آگ کے گڑھے میں ڈال دیا۔ پھر جس طرح ہم نے ڈالا تھا اسی طرح سامری نے بھی جو اس کے پاس کے پاس تھا آگ میں ڈال دیا۔ پھر سامری نے ان کے لیے ان زیورات سے ایک ڈھر نکالا یعنی ایک جسم بےروح نکالا جس میں سے بچھڑے کی سی آواز آتی تھی۔ یعنی سامری نے ان زیورات کو آگ کے گڑھے میں ڈال کر بچھڑے کا ایک پتلہ بنا کر نکال لیا جس میں سے گائے کی آواز نکلتی تھی مطلب یہ ہے کہ اس میں سوائے آواز کے اور کوئی صفت نہ تھی اس آواز کو سن کر یہ لوگ گمراہ ہوئے۔ پھر بعد ازاں سامری اور اس کے متبعین یہ کہنے لگے کہ اے بنی اسرائیل تمہارا اور موسیٰ کا معبود تو یہ ہے تم اس کی عبادت کرو۔ موسیٰ تو اپنے معبود کو بھول گئے اور اس کی تلاش میں کوہ طور پر چلے گئے اصل معبود تو ان کا یہ بچھڑا ہے جس میں ان کا معبود حقیقی حلول کر آیا ہے۔ عجب نادان تھے کہ ایک شعبدہ باز کے کہنے سے یہ یقین کرلیا کہ خداوند قدوس کسی حیوان اور انسان میں حلول کرسکتا ہے۔ ہندوستان کے ہنومان بھی یہ سمجھتے ہیں کہ خداوند قدوس رامچندر اور کرشن اور گائے بیل کے جسم میں حلول کرسکتا ہے۔ ہندوؤں کے نزدیک کسی کو اوتار ماننے کا مطلب ہی یہ ہے کہ معاذ اللہ حق تعالیٰ اس میں حلول کر آیا ہے۔ بہرحال بنی اسرائیل نے ان زیورات کے استعمال کو اپنے لیے حلال نہ سمجھا جو قبطیوں سے مستعار لیے تھے۔ اس لیے گناہ سے بچنے کی صورت یہ نکالی کہ ان کو آگ کے گڑھے میں ڈال کر جلا دیا جائے۔ لیکن غضب یہ کیا کہ ان کا بت بنا کر پوجنا جائز سمجھا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ آئندہ آیات میں ان کی اس جہالت اور حماقت کو بیان کرتے ہیں۔ پس کیا وہ لوگ یہ نہیں دیکھتے تھے کہ وہ بچھڑا نہ ان کی کسی بات کا جواب دے سکتا ہے اور نہ ان کو وہ نقصان پہنچانے پر قادر ہے اور نہ نفع پہنچانے پر۔ مطلب یہ ہے کہ عجب احمق ہیں کہ صرف حیوان کی آواز پر ایمان لے آئے اور ایسے اندھے بنے کہ ان کو یہ نظر نہ آیا کہ یہ بچھڑا نہ تو بول سکتا ہے اور نہ نفع اور ضرر پر قدرت رکھتا ہے۔ یہ تو فرعون سے زیادہ عاجز ہے۔ یہ کیونکر معبود ہوسکتا ہے۔ اور یہ لوگ جیسے اندھے ہوگئے تھے۔ ویسے ہی بہرے بھی ہوگئے تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی واپسی سے پہلے ہارون (علیہ السلام) نے ان کو بہت سمجھایا مگر ایسے بہرے بنے کہ ایک نہ سنی چناچہ فرماتے ہیں۔ البتہ تحقیق ہارون (علیہ السلام) نے موسیٰ (علیہ السلام) کے طور پر سے لوٹنے سے پہلے ہی بنی اسرائیل سے کہہ دیا تھا۔ اے میری قوم اصل بات یہ ہے کہ تم اس گوسالہ کی وجہ سے آزمائش میں ڈال دئیے گئے ہو۔ یہ سب فتنہ اور ابتلا ہے اور سراسر گمراہی کا سامان ہے۔ اس بچھڑے کے پتلے کا معبود اور خدا ہونا محال اور ناممکن ہے۔ اور اس میں شک نہیں کہ تمہارا پروردگار خدائے رحمن ہے جس کی رحمت اور نعمت تمام عالم کو محیط ہے۔ اس کو اپنا معبود بناؤ پس اس رب رحمن کی عبادت میں تم میری پیروی کرو۔ اور میرا حکم مانو۔ وہ بالے جب تک موسیٰ ہمارے پاس نہ آئے تو ہم اسی پر جمے بیٹھے رہیں گے۔ یعنی جب تک موسیٰ (علیہ السلام) واپس نہ آجائے اس وقت تک ہم یہی کرتے رہیں گے۔ البتہ ان کے واپس آنے کے بعد دیکھا جائے گا جو اس وقت مناسب ہوگا وہ کرلیں گے۔ ہارون (علیہ السلام) نے بہت سمجھایا مگر کسی طرح نہ مانے بالآخر کنارہ کش ہوگئے۔ ہارون (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو عجب طرح سے نصیحت فرمائی اول تو ان کو باطل پر متنبہ کیا اور کہا انما فتنتم بہ یعنی یہ فتنہ ہے اس سے دور رہو دوم ان کو اللہ کی معرفت کی طرف متوجہ کیا اور کہا وان ربکم الرحمن یعنی تمہارا معبود وہ ہے جس کی رحمت تمام عالم کو محیط ہے۔ نہ کہ یہ بچھڑا۔ سوم ان کو نبوت کے اتباع کی دعوت دی فاتبعونی۔ چہارم ان کو اتباع شریعت کی دعوت دی۔ اور یہ فرمایا واطیعوا امری ان لوگوں نے جواب دیا کہ ہم آپ کی نصیحت کو قبول کرلیں گے۔ جب تک موسیٰ (علیہ السلام) واپس نہ آئیں ہم اسی طریقہ پر قائم رہیں گے۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) طور پر واپس آئے اور قوم کو بچھڑے کا طواف کرتے دیکھا تو غصہ میں پھرگئے اور اپنے داہنے ہاتھ سے حضرت ہارون (علیہ السلام) کے سر کے بال پکڑلیے اور بائیں سے ڈاڑھی۔ اور کہا اے ہارون جب تو نے ان کو گمراہ ہوتے ہوئے دیکھا تو کون سا امر تجھ کو مانع ہوا کہ تو میری پیروی نہ کرے۔ یعنی تجھ کو چاہئے تھا ان اہل ضلال سے جہاد و قتال کرتا یا میرے پاس کوہ طور پر چلا آتا۔ پس تو نے میرے حکم کے خلاف کیا اور ان گمراہوں سے مقابلہ اور مقاتلہ نہ کیا۔ ہارون (علیہ السلام) نے کہا اے میری ماں کے بیٹے نہ میری ڈاڑھی پکڑ اور نہ اسراسر میں نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اور نصیحت میں کوئی کوتاہی نہیں کہ لیکن قوم نے مجھ کو ضعیف اور کمزور سمجھا اور قریب تھا کہ وہ مجھے قتل کر ڈالیں۔ کما قال اللہ تعالیٰ قال ابن ام ان القوم استضعفونی وکادوا یقتلوننی تحقیق میں ان سے مقابلہ اور مقاتلہ بھی کرتا۔ لیکن مجھ کو ڈر یہ ہوا کہ آپ آکر یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میری بات کو یاد نہ رکھا۔ یا یہ معنی ہیں کہ میرے حکم کا انتظار نہ کیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے جب ہارون (علیہ السلام) پر عتاب فرمایا تو حضرت ہارون (علیہ السلام) نے نہایت محبت آمیز لہجہ میں اپنا بےخطا اور بےقصور ہونا اس طرح بیان کیا کہ لے میرے بھائی آپ (علیہ السلام) کور طور پر جاتے وقت مجھے یہ نصیحت کر گئے تھے۔ اخلفنی فی قوی واصلح ولا تتبع سبیل المفسدین۔ یعنی اے ہارون (علیہ السلام) تم میری نیابت کرنا اور قوم کے کام کو درست رکھنا اور مفسدوں کی راہ پر نہ چلنا اور یہ نہیں فرمایا تھا کہ مفسدوں کا تلوار سے مقابلہ کرنا اور اصلاح نام ہے جماعت نرمی کے ساتھ نگہبانی کا اس لیے میں نے ان کو گوسالہ پرستی سے سختی کے ساتھ منع کیا۔ اور ہرچند اصلاح کی کوشش کی مگر شنوائی نہ ہوئی اور مجھ کو یہ ذر ہوا کہ اگر میں ان کا مقابلہ کروں یا ان کے درمیان سے نکل جاؤں اور ان کو بالکل چھوڑ دوں تو ظاہر ہے کہ ایسی حالت میں کچھ لوگ میرے ساتھ ہوجائیں گے۔ اور کچھ مجھ سے علیحدہ ہوجائیں گے۔ تو بنی اسرائیل میں تفرقہ پڑجائے گا۔ اور عجب نہیں کہ یہ تفرقہ باہمی قتل و قتال اور جنگ وجدال کا سبب بنے اور خدا پرستوں اور گوسالہ پرستوں میں جنگ وجدال کی نوبت آئے اور پھر ان کو سنبھالنا دشوار ہوجائے اس لیے مجھے ڈر ہوا کہ آپ (علیہ السلام) آکر مجھے یہ الزام نہ دیں کہ تو نے قوم میں تفرقہ کیوں ڈال دیا۔ اور میرا انتظار کیوں نہ کیا۔ شاہ عبد القادر (رح) لکھتے ہیں۔ ” موسیٰ (علیہ السلام) چلتے وقت ہارون (علیہ السلام) کو نصیحت کرگئے تھے کہ سب کو متفق رکھیو۔ اس واسطے انہوں نے بچھڑا پوجنے والوں کا مقابلہ نہ کیا (فقط) زبان سے سمجھایا پر وہ نہ سمجھے “ (موضع القرآن) ہارون (علیہ السلام) کے اس جواب سے موسیٰ (علیہ السلام) پر یہ بات واضح ہوگئی کہ ہارون (علیہ السلام) بےقصور اور بےگناہ ہیں۔ اس لیے ان کا عذر قبول کیا اور اپنے بھائی کے لئے دعائے مغفرت کی۔ بعد ازاں سامری کی طرف متوجہ ہو کر کہا پس کیا حال ہے تیرا اے سامری یعنی تو نے یہ نامعقول حرکت کیوں کی۔ وہ بولا میں نے وہ چیز دیکھی جو اوروں نے نہیں دیکھی۔ سو میں نے فرستادہ خدا وندی یعنی روح القدس کی سواری کے نقش قدم سے ایک مٹھی بھر خاک اٹھالی۔ پھر میں نے اس مشت خاک کو اس قالب کے اندر ڈال دی تو وہ زندہ ہو کر بولنے لگا اور اس میں یہ آواز پیدا ہوگئی۔ اسی طرح میرے جی نے یہ بات بنائی اور اس بارے میں میں نے اپنی نفسانی خواہش کا اتباع کیا۔ اس کے سوا اور کوئی سبب نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ سامری نے یہ جواب دیا کہ مجھ کو ایسی چیز نظر بڑی جو اوروں نے نہیں دیکھی۔ وہ یہ کہ جب بنی اسرائیل دریا میں گھسے اور پیچھے پیچھے فرعون مع اپنے لشکر کے ان کے تعاقب میں پہنچا تو اس حالت میں جبریل امین (علیہ السلام) دونوں جماعتوں کے درمیان کھڑے ہوگئے تاکہ ایک دوسرے سے ملنے نہ پائیں۔ اور جبریل امین (علیہ السلام) اس وقت فرس الحیواہ پر سوار تھے۔ سامری نے اس وقت کسی دلیل سے یا کسی وجدان سے یا کسی قرینہ سے سمجھ لیا کہ یہ جبرائیل (علیہ السلام) ہیں۔ ان کے پاؤں کے نیچے سے یا ان کے گھوڑے کے پاؤں کے نیچے سے مٹھی بھر مٹی اٹھالی۔ اور یہ سمجھا کہ اس میں حیاۃ کا مادہ ہے اس لیے کہ جس مٹی پر جبریل علیہا لسلام کے گھوڑے کا سم پڑتا تھا وہ سبزہ ہوجاتی تھی۔ اس لیے اس کے دل میں یہ آیا کہ یہ مشیت خاک جس چیز پر ڈال جائے گی وہ زندہ ہوجائے گی۔ اس بنا پر اس نے اول زیورات کو آگ میں ڈالا۔ جس سے وہ پگھل گئے پھر اس کے دل میں یہ بات آئی کہ اس پتلے پر وہ مشت خاک ڈال دے۔ مشت خاک کا ڈالنا تھا کہ اس پتلہ سے آواز نکلنے لگی۔ بنی اسرائیل اس کرشمہ کو دیکھ کر مفتون ہوگئے جمہور صحابہ کرام وتابعین سے آیت کی یہ تفسیر منقول ہے۔ (دیکھو تفسیر قرطبی ص 234 ج 11 و تفسیر ابن جریر ص 147 ج 16 و تفسیر کبیر ص 79 ج 6 و روح المعانی ص 229 ج 6) اور حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جب فرعون بچوں کو قتل کراتا تھا تو سامری کی ماں اس کو غار میں چھپا کر ڈال آئی کہ ذبح سے محفوظ رہے اللہ تعالیٰ نے جبریل (علیہ السلام) سے اس کی پرورش کرائی اس لیے سامری حضرت جبریل (علیہ السلام) کو اس صورت سے پہچانتا تھا۔ غرض یہ کہ سامری نے زیورات کو گلا کر بچھڑے کا قالب بنایا اور وہ مٹی اس میں ڈال دی تو وہ بولنے لگا۔ حضرت شاہ عبد القادر (رح) لکھتے ہیں کہ سونا تو کافروں سے ملا ہوا مال تھا جو ان سے فریب سے لیا تھا۔ اس میں مٹی بڑی برکت کی تو حق اور باطل مل کر ایک کرشمہ بن گیا۔ کہ جاندار کی طرح روح اور آواز اس میں پیدا ہوگئی ایسی چیزوں سے بہت بچنا چاہئے اسی سے بت پرستی بڑھتی ہے۔ (کذافی موضع القرآن بتوضیح) موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اچھا تیری سزا یہ ہے کہ تو دور ہوجا اور ہم میں سے نکل جا۔ پس اس دنیاوی زندگی میں تیرے قتل کا حکم تو نازل نہیں ہوا۔ البتہ اس دنیاوی زندگی میں تیری سزا یہ ہے کہ تو یہ کہتا پھرے ” لاساس “ کہ مجھے ہاتھ نہ لگانا یعنی جس کو دیکھے تو اس سے تیرا یہ کلام ہو سو لاساس نہ مجھے چھونا اور نہ میرے پاس آنا اور نہ میں تم کو چھوؤں گا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے سامری کو یہ سزا دی کہ بےاختیار وہ زندگی بھر اسی حال میں رہے۔ اس لیے نہ وہ کسی کو چھو سکتا تھا اور نہ اس کو کوئی اور اگر وہ کسی کو چھوتا یا کوئی اس کو چھوتا تو دونوں کو بخار چڑھ جاتا اور اگلے روز اسی وقت اترتا۔ اس کے بیوی بچے بھی اس کو ہاتھ نہیں لگا سکتے تھے۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو حکم دیا کہ اس سے خلط ملط نہ رکھیں اور نہ اس کے قریب جائیں۔ اور نہ اس سے بات کریں دنیا میں اس سے بڑھ کر وحشت ناک اور عبرت ناک سزا نہیں ہوسکتی یہ کلام موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے معجزہ تھا کہ دنیا میں اس کا یہ حال ہوا اب آخرت کی سزا کو بیان کرتے ہیں۔ اور اے سامری بلاشبہ تیرے لیے اس دنیاوی سزا کے علاوہ ایک اور سزا کا وعدہ ہے۔ جو تجھ سے ہرگز خلاف نہ کیا جائے گا۔. اس سے آخرت کے عذاب کا وعدہ مراد ہے جس میں ہرگز خلاف نہ ہوگا اور وہ تجھ سے ہرگز نہ ٹلے گا۔ یہ تو تیری سزا ہوئی اب اپنے خود ساختہ معبود کا حال دیکھ اور اپنے اس معبود کی طرف ایک نظر اٹھا کر دیکھ جس کا تو معتکف اور مجاور بنا ہوا تھا۔ ہم ضرور اس کو آگ میں جلا دیں گے پھر ریزہ ریزہ کرکے اس کی راکھ کو دریا میں اڑا دیں گے کہ نہ اس کا عین باقی رہے گا اور نہ اثر وہ معبود نہیں ہوسکتی۔ جزایں نیست تمہارا معبود صرف اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس کا علم ہر چیز کو سمائے ہوئے ہے۔ کوئی ذرہ اس سے پوشیدہ نہیں یعنی خدا وہ ہے جس کا علم محیط اور غیر محدود ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ جو اس سورت میں ہل اتاک حدیث موسیٰ سے شروع ہوا وہ یہاں تک آکر تمام ہوا اور یہّ یت اسی قصہ کا اخیر ہے۔ لطائف ومعارف سحر : سحر کے معنی لغت میں امر خفی اور پوشیدہ چیز کے ہیں اور اصطلاح میں اس عجیب و غریب شے کو کہتے ہیں کہ جس کی حقیقت اور کیفیت لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ ہو۔ معتزلہ اور متکلمین کی ایک جماعت یہ کہتی ہے کہ سحر کی کوئی حقیقت واقعیہ نہیں بلکہ سحر ایک بےحقیقت ملمع کاری کا نام ہے جس کی واقع میں کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔ امام ابو اسحاق اسفرائنی (رح) اور ابوبکر رازی (رح) کی یہی رائے ہے کہ سحر سے کسی شئے کی حقیقت و ماہیت نہیں بدل جاتی بلکہ خلاف واقعہ اس کی صورت متغیر ہوجاتی ہے۔ اور جمہور علماء کے نزدیک سحر محض تخییل اور نظر بندی کا نام نہیں بلکہ بسا اوقات واقع میں اس کی ایک حقیقت بھی ہوتی ہے جو باذن الٰہی بسا اوقات اثر بھی کرتی ہے۔ اور یہی صحیح ہے اور ظاہر قرآن اور حدیث اس پر دلالت کرتا ہے۔ امام رازی (رح) تفسیر کبیر میں فرماتے ہیں کہ سحر کے اقسام ہیں بعض میں شئی کی حقیقت ہی بدل جاتی ہے اور بعض میں حقیقت نہیں بدلتی۔ شعبدہ بازی بھی ایک قسم کا سحر ہے۔ اور آج کل جو مسمر یزم نکلا ہے وہ یہی ایک قسم کا شعبدہ ہے جو قوت خیالیہ کا اثر ہے۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ سحر محض خیال کا نام ہے اور واقع میں اس کی حقیقت نہیں ہوتی وہ اس آیت سے استدلال کرتے ہیں۔ یخیل الیہ من سحرہم انھا تسعی۔ جواب یہ ہے کہ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ سحر کی تمام اقسام محض تخیل اور نظر بندی ہوں بلکہ جس سحر کی خدا تعالیٰ نے اس آیت میں خبر دی ہے وہ خیال بندی تھا کہ ان کی لاٹھیوں اور رسیوں کو دیکھ کر یہ خیال ہوتا کہ وہ دوڑ رہی ہیں۔ (تفصیل کے لیے فتح الباری ص 186 ج 10 دیکھیں) معجزہ : معجزہ اللہ کے اس فعل کو کہتے ہیں جو بلا کسی سبب کے نبی کے ہاتھ پر ظاہر ہو اور دنیا اس کے مقابلہ سے اور اس کے مثل لانے سے عاجز ہو۔ معجزہ اللہ تعالیٰ کا فعل ہوتا ہے۔ نبی کا فعل نہیں ہوتا۔ جسے دیکھ کر بالبداہت یہ یقین ہوجاتا ہے کہ یہ امر منجانب اللہ ہے اور قدرت خداوندی کا کرشمہ ہے جو مادی اسباب اور علل سے بالاتر ہے اور برتر ہے اور سحر جادوگر کا ایک فعل ہوتا ہے جو اس کے ارادہ اور اختیار سے ظاہر ہوتا ہے نیز سحر ایک فن ہے جس کے اصول اور قواعد مدون ہیں جو اس فن کو سیکھ لے گا وہ جادو کرسکے گا۔ بخلاف معجزہ کے کہ وہ کوئی فن نہیں جو سیکھنے اور سکھانے سے حاصل ہو سکے۔ اور نہ وہ نبی کا کوئی اختیاری فعل ہے جس کو نبی اپنے ارادہ و اختیار سے کرسکے۔ معجزہ اللہ تعالیٰ کا فعل ہوتا ہے جو بلاکسی سبب کے نبی کے ہاتھ پر ظاہر ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اپنی سنت اور عام عادت کے خلاف بلا کسی سبب کے نبی کے ہاتھ پر اپنی قدرت کا کرشمہ ظاہر کرتے ہیں تاکہ وہ اس کی نبوت و رسالت کی دلیل ہو اور لوگ دیکھتے ہی اس کو یہ سمجھ لیں کہ یہ اللہ کا فعل ہے اور قدرت بشری کے دائرہ سے خارج ہے اس کو دیکھتے ہی بالبداہت بنی کی صداقت کا یقین حاصل ہوجاتا ہے۔ پس معجزہ اللہ کے قہر اور قدرت کا ایک نمونہ ہوتا ہے اس کے غلبہ اور رعب کے سامنے کسی کا پاؤں نہیں جمتا اور اختیار کی باگ ہاتھ سے چھوٹ جاتی ہے۔ عقل دلائل عقلیہ کا کچھ مقابلہ کرسکتی ہے مگر معجزہ کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ سحر اور معجزہ میں فرق : 1۔ ہمارے اس گزشتہ بیان سے سحر اور معجزہ کا باہمی فرق واضح ہوگیا کہ سحر ایک فن ہے جو تعلیم و تعلم سے حاصل ہوسکتا ہے اور معجزہ اللہ کا فعل ہے جس میں کسی تعلیم و تعلم کو دخل نہیں۔ 2۔ نیز سحر اگرچہ ظاہر نظر میں بلا کسی سبب کے معلوم ہوتا ہے لیکن در پردہ اس کے اسباب خفیہ ہوتے ہیں۔ جو لوگوں کی نظر سے پوشیدہ ہوتے ہیں۔ بخلاف معجزہ کے کہ وہ بلا وسطہ اللہ تعالیٰ کا فعل ہوتا ہے جس میں اسباب طبیعہ کو بالکل دخل نہیں ہوتا۔ نیز جادو ہمیشہ بدکار اور نکمے کے ہاتھ پر ظاہر ہوتا ہے اور معجزہ خدا کے برگزیدہ بندے کے ہاتھ سے ظاہر ہوتا ہے کہ جس کی صورت اور چہرہ ہی سے یہ نظر آجاتا ہے کہ یہ کوئی خدا کا نیک کردار اور دنیا اور حرص اور طمع سے بری اور بیزار بندہ ہے۔ مرد حقانی کی پیشانی کا نور کب چھپا رہتا ہے پیش ذی شعور در دل ہر امی کز حق مزہ است روئے دے آواز پیمبر معجز است حکایت مشتمل بربیان فرق درمیان سحر و معجزہ عارف رومی (رح) نے مثنوی دفتر سوم میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ میں دو جادوگروں کی ایک عجیب حکایت نقل کی ہے جس سے سحر اور معجزہ کا فرق واضح ہوجاتا ہے۔ اسلئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس حکایت کو ہدیہ ناظرین کریں۔ خلاصہ حکایت یہ ہے۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے پاس گئے اور اس کو دعوت دی کہ ہم دونوں بھائی یعنی موسیٰ اور ہارون علیہما الصلوٰۃ والسلام اللہ کے رسول ہیں تو ہم پر ایمان لا اور معجزہ عصا دکھایا تو فرعون بولا یہ تو جادو ہے۔ اور میرے ملک میں بھی بہت جادو گرہیں ہم تیرے اس جادو کا جادو سے مقابلہ کریں گے۔ اس بنا پر فرعون نے اپنے ملک کے تمام جادوگروں کے جمع کرنے کا حکم دے دیا۔ تاکہ سب مل کر موسیٰ (علیہ السلام) کا مقابلہ کریں۔ ملک مصر میں دو نوجوان جادو گری میں بہت مشہور تھے۔ ان کے پاس بادشاہ نے یہ پیغام دے کر ایک قاصد کو روانہ کیا کہ بادشاہ پر ایک مصیبت آپڑی ہے اس کے دفع کرنے کی کوئی تدبیر کرو۔ اور وہ مصیبت یہ ہے کہ قلعہ پر حملہ اور ہلہ بول دیا ہے اور ان دونوں فقیروں کے پاس سوائے ایک عصا (لاٹھی) کے کچھ نہیں اور وہ عصا نہایت عجیب و غریب ہے جو ان کے حکم سے اژدہا بن جاتا ہے ان ہر دو فقیروں کے مقابلہ سے بادشاہ کا لشکر عاجز آگیا ہے۔ قاصد نے بادشاہ کا یہ پیغام پہنچایا اور یہ کہا کہ بادشاہ نے یہ کہا ہے کہ اگر تم اس مصیبت کے دفع کرنے میں کوئی تدبیر کرو تو تم کو اس صلہ میں بہت انعام ملے گا۔ یہ دونوں جادوگر اس پیغام کو سن کر اپنی ماں کے پاس آئے اور کہا کہ ہمیں ہمارے باب کی قبر بتاتا کہ ہم اس کو روح سے کچھ ضروری بات دریافت کرسکیں۔ بعد ازاں باپ سے کہا کہ اے بابا بادشاہ کا ہمارے پاس یہ پیغام پہنچا ہے کہ ان دو درویشوں نے مجھ کو پریشان کر رکھا ہے اور سارے لشکر کے سامنے مجھ کو بےآبرو کردیا ہے اور عجیب درویش ہیں کہ ان کے پاس سوائے عصا کے کوئی ہتھیار نہیں اور سارا شورد شراسی لاٹھی میں ہے۔ اے بابا آپ بچوں کے ملک میں گئے ہیں اگرچہ بظاہر مٹی میں سوتے ہیں مگر وہاں کے حال سے واقف ہیں۔ آپ ہم کو ان درویشوں کی اصل حقیقت سے آگاہ فرمائیں اگر ان کا یہ عصا جادو ہے تو یہ بتلا دیجئے اور اگر کوئی کرشمہ ایزادی ہے تو یہ بتلا دیجئے تاکہ ہم بھی اسی خدا کے مطیع ہوجائیں اور کیمیا سے مل کر کیمیا بن جائیں ہم اس وقت ناامیدی کی حالت میں ہیں شاید کوئی امید نظر آجائے اور ہم ضلالت کی شب تاریک میں ہیں۔ شاید کوئی آفتاب ہدایت طلوع ہو کر آئے اور اس کی روشنی میں ہم کو راہ حق نظر آجائے۔ مردہ ساحر کا اپنے بیٹوں کو خواب میں جواب آئندہ شب وہ مردہ جادوگر اپنے بیٹوں کو خواب میں نظر آیا اور ان کے سوال کا یہ جواب دیا کہ اے میرے بیٹو میں اس کام کی اصل حقیقت سے پورا آگاہ ہوں۔ مگر مجھ کو صاف طور پر کہنے کی اجازت نہیں۔ لیکن تم کو ایک نشان بتائے دیتا ہوں اس سے تم اصل حقیقت کا پتہ لگا لینا۔ وہ یہ کہ تم دونوں جاؤ اور ان دونوں درویشوں کی خواب گاہ کو تلاش کرو کہ وہ کہاں سوتے ہیں۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) کو سوتا ہوا پاؤ تو اس کے عصا (لاٹھی) کے چرانے کی کوشش کرنا۔ پس اگر تم اس عصا کے چرانے میں کامیاب ہوگئے تو سمجھ لینا کہ یہ دونوں (موسیٰ اور ہارون علیہما السلام) جادوگر ہیں اور سحر اور جادو کا توڑ تو تمہارے لیے کوئی مشکل نہیں۔ کیونکہ تم بھی سحر میں کامل اور ماہر ہو۔ اور اگر تم اس عصا کو نہ چرا سکے تو سمجھ لینا کہ وہ کوئی طلسم اور شعبدہ نہیں اور یقین کرلینا کہ وہ دونوں اللہ کے فرستاہ اور ہدایت یافتہ ہیں اور یہ ان کی نبوت کی قطعی نشانی ہے کہ سونا تو درکنار اگر ان کی وفات بھی ہوجائے تب بھی اللہ تعالیٰ ان کو بلند فرمائے گا اور وہ کبھی مغلوب نہ ہوں گے۔ بیٹا جاؤ یہ سچی نشانی ہے جو میں نے تم کو بتائی ہے۔ تم اسے دل پر نقش کرلو۔ دونوں بیٹے باپ کا یہ حکم سن کر موسیٰ (علیہ السلام) کی تلاش میں نکلے معلوم ہوا کہ ایک درخت کے نیچے پڑے سو رہے ہیں۔ اور عصا قریب ہی رکھا ہے دونوں نے اس موقعہ کو غنیمت جانا۔ اور عصا چرانے کے لیے آگے بڑھے یکایک عصا نے حرکت کی اور اژدھا بن کر ان پر حملہ کرنے لگا۔ یہ دیکھ کر دونوں بھاگ نکلے۔ مولانا بحر العلوم (رح) شرح مثنوی صفحہ 49 ج 3 صفحہ 50 ج 3 دفتر سوم میں فرماتے ہیں کہ مولانائے روم (رح) نے ان اشعار میں سحر اور معجزہ کے فرق کو واضح کیا ہے وہ یہ کہ سحر ساحر کی غفلت کی حالت میں باقی نہیں رہتا۔ بخلاف معجزہ کے کہ وہ رسول کی غفلت کی حالت میں بھی باقی رہتا ہے اس کا سبب یہ ہے کہ سحر ساحر کا فعل ہے اور اس کی توجہ اور ہمت پر موقوف ہے جب ساحر اپنے سحر سے غافل ہوا تو سحر اور اس کا اثر بھی ختم ہوا۔ جادوگر جب سو جاتا ہے تو اس کے جادو کا کوئی رہبر باقی نہیں رہتا۔ اس لیے وہ سحر معطل اور بےکار ہوجاتا ہے جیسا کہ چرواہا جب سو جاتا ہے تو بھیڑ یا نڈر ہوجاتا ہے بخلاف معجزہ کے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا فعل ہوتا ہے جس کو وہ محض اپنی قدرت سے نبی کے ہاتھ پر ظاہر کرتا ہے تاکہ اس کی صداقت کی نشانی بنے اللہ تعالیٰ خود اس کا محافظ و نگہبان ہوتا ہے۔ نبی کی غفلت اور عدم غفلت کو معجزہ کے بقا اور عدم بقاء میں کوئی داخل نہیں۔ عصا کا شانپ بن جانا اور اس کے مارنے سے دریائے نیل میں راستے پیدا ہوجانا یہ سب اللہ تعالیٰ کا فعل تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو اس کا علم نہ تھا کہ کس طرح عصا مارنے سے دریا میں بارہ راستے بن جائیں گے۔ معجزہ بیشک نبی کے ہاتھ پر ظاہر ہوتا ہے۔ مگر اس کا ظہور اللہ کے ارادے اور اختیار سے ہوتا ہے نبی کے ارادہ اور اختیار کو اور اس کی طاقت بشریہ کو اس میں دخل نہیں ہوتا بلکہ نسا اوقات رسول کو اس کا علم بھی نہیں ہوتا۔ ایں سخن رانیست ہرگز اختتام ختم کن واللہ اعلم بالسلام اطلاع : سحر اور معجزہ کے فرق کو اس ناچیز نے اپنی کتاب علم الکلام اور اصول اسلام میں قدرے تفصیل کے ساتھ لکھ دیا ہے۔ حضرات اہل علم ان دونوں کتابوں کی مراجعت کریں، انشاء اللہ تعالیٰ ما قل ودل کا مصداق پائیں گے۔ اور اگر اس ناچیز کو دعاء مغفرت سے نواز دیں تو زہے نصیب۔
Ayahs 20:99–104

كَذٰلِكَ نَقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ مَا قَدْ سَبَقَ١ۚ وَ قَدْ اٰتَیْنٰكَ مِنْ لَّدُنَّا ذِكْرًاۖۚ Open ayah 20:99 in the Quran reader

اس طرح پر ہم تم سے وہ حالات بیان کرتے ہیں جو گزر چکے ہیں اور ہم نے تمہیں اپنے پاس سے نصیحت (کی کتاب) عطا فرمائی ہے

مَنْ اَعْرَضَ عَنْهُ فَاِنَّهٗ یَحْمِلُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وِزْرًاۙ Open ayah 20:100 in the Quran reader

جو شخص اس سے منہ پھیرے گا وہ قیامت کے دن (گناہ کا) بوجھ اٹھائے گا

خٰلِدِیْنَ فِیْهِ١ؕ وَ سَآءَ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ حِمْلًاۙ Open ayah 20:101 in the Quran reader

(ایسے لوگ) ہمیشہ اس (عذاب) میں (مبتلا) رہیں گے اور یہ بوجھ قیامت کے روز ان کے لئے برا ہے

یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ وَ نَحْشُرُ الْمُجْرِمِیْنَ یَوْمَئِذٍ زُرْقًاۚۖ Open ayah 20:102 in the Quran reader

جس روز صور پھونکا جائے گا اور ہم گنہگاروں کو اکٹھا کریں گے اور ان کی آنکھیں نیلی نیلی ہوں گی

یَّتَخَافَتُوْنَ بَیْنَهُمْ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا عَشْرًا Open ayah 20:103 in the Quran reader

(تو وہ آپس میں آہستہ آہستہ کہیں گے کہ تم دنیا میں) صرف دس ہی دن رہے ہو

نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَقُوْلُوْنَ اِذْ یَقُوْلُ اَمْثَلُهُمْ طَرِیْقَةً اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا یَوْمًا۠ Open ayah 20:104 in the Quran reader

جو باتیں یہ کریں گے ہم خوب جانتے ہیں اس وقت ان میں سب سے اچھی راہ والا (یعنی عاقل وہوش مند (کہے گا کہ نہیں بلکہ صرف ایک ہی روز ٹھہرے ہو

اثبات رسالت محمدیہ و تہدید معاندین و ترہیب از عذاب آخرت قال اللہ تعالیٰ کذلک نقص علیک من انباء ما قد سبق .... الیٰ .... ان لبثتم الا یوما۔ (ربط) یہاں تک موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ اور ہارون کا ماجرا ختم ہوا جو از اول تا آخر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت و رسالت کی دلیل اور برہان تھا۔ اب ان آیات میں رسالت محمدیہ کا اثبات فرماتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ اے نبی ہم آپ ﷺ کو اس قرآن میں گزشتہ زمانے کے حالات سے آگاہ کرتے ہیں تاکہ یہ آپ ﷺ کی نبوت رسالت کی اور اس قرآن کے من جانب اللہ ہونے کی دلیل ہو۔ اور آپ ﷺ کے لیے باعث تسلی ہو اور منکرین اور معاندین کے لیے موجب تہدید و عبرت ہو۔ اور لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ یہ قرآن جو ہم نے آپ ﷺ کو عطا کیا ہے وہ آپ ﷺ کی نبوت اور صداقت کی دلیل ہے۔ جو لوگ اس قرآن سے اعراض کرتے ہیں قیامت کے دن ان کی آنکھیں کھل جائیں گی۔ گزشتہ آیات میں موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزہ عصا کا ذکر تھا۔ اب ان آیات میں آنحضرت صلی اللہ علی ہو سلم کے معجزہ قرآن کا ذکر فرماتے ہیں۔ عارف رومی (رح) فرماتے ہیں کہ قرآن بمنزلہ عصائے موسیٰ کے ہے کہ افعال کفریہ کو نگل جائے گا۔ اے رسول ما تو جادو نیستی صادقی ہم فرقہ موسیستی اے ہمارے رسول آپ ﷺ جادو نہیں بلکہ آپ صلی اللہ علیہ سچے ہیں اور موسیٰ (علیہ السلام) کے ہم فرقہ اور ہم مشرب ہیں ہست قرآن مرترا ہچو عصا کفر ہا را در کشد چوں اژدھا یہ قرآن آپ ﷺ کے لئے عصاء موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف ہے کفر کے تمام سانپوں کو نگل جائے گا۔ تو اگر در زیر خاکے خفیہء چوں عصائش داں تو آنچہ گفتہء اگر آپ ﷺ زیرخاک بھی خواب استراحت فرمائیں گے تو یہ قرآن عصائے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرح آپ ﷺ کے دین کا پاسبان اور نگہبان ہوگا۔ آپ ﷺ موسیٰ (علیہ السلام) کے بھائی ہیں آپ کا آغاز اور انجام انہی کی طرح ہوگا۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اے نبی ﷺ جس طرح ہم نے آپ کے سامنے موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بیان کیا۔ اسی طرح ہم آپ کے سامنے گزشتہ حوادث کی کچھ خبریں بیان کرتے ہیں۔ تاکہ آپ ﷺ کو تسلی ہو اور آپ کی امت کے لیے عبرت اور نصیحت ہو اور سمجھیں کہ گزشتہ پیغمبروں کے کافروں کے ساتھ خدا تعالیٰ کا کیا معاملہ رہا ہے۔ اور تحقیق ہم نے تجھ کو اپنے پاس سے ایک کتاب نصیحت و ہدایت دی ہے۔ جو شخص اس قرآن سے اعراض کرے گا۔ یعنی اس پر ایمان نہیں لائے گا اور اس کے مطابق عمل نہیں کرے گا تو وہ قیامت کے دن بلاشبہ کفر اور معصیت کا بڑا بھاری بوجھ اٹھا کر لائے گا۔ درآنحالیکہ اس بوجھ کی سزا میں ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے ہوں گے جس سے کبھی چھٹکارا نہ ہوگا۔ اور وہ ان کے واسطے قیامت کے دن بہت ہی بڑا بوجھ ہوگا جو ان پر لدا ہوگا۔ اور قیامت کا دن وہ دن ہوگا۔ جس دن صور پھونکا جائے گا۔ جس سے مردے زندہ ہوں گے۔ اور ہم اس دن مجرموں کو یعنی کافروں کو جو اس قرآن کی تکذیب کرتے تھے میدان قیامت میں ایسی حالت میں جمع کریں گے کہ ان کی آنکھیں نیلی ہوں گی۔ مطلب یہ ہے کہ اس دن مجرمین کی علامت یہ ہوگی کہ ان کی آنکھیں نیلی ہوں گی اور چہرے سیاہ ہونگے اول اول ایسے بدصورت ہوں گے اور بعد میں اندھے ہوجائیں گے اور اس وقت اس قدر خوف زدہ ہوں گے کہ آپس میں چپکے چپکے کہہ رہے ہوں گے کہ تم لوگ دنیا میں یا قبروں میں دس رات سے زیادہ نہیں رہے۔ ” صور “ ایک سینگ ہے جس میں پھونک مار کر لوگوں کو حشر کے لیے بلایا جائے گا۔ وہ دو دفعہ پھونکا جائے گا۔ پہلی دفعہ میں تمام دنیا فنا ہوجائے گی اور دوسری دفعہ پھونکنے سے تمام زندہ ہوجائیں گے۔ اور دونوں نفخوں درمیان 40 سال کا فاصلہ ہوگا یہاں نفخہ سے مراد نفخہ دوم ہے۔ اس روز جب کافر زندہ کرکے قبروں سے اٹھائے جائیں گے تو ان کی آنکھیں نیلی اور منہ کالے ہوں گے۔ اور ان پر پیاس غالب ہوگی اور بدحواس ہوں گے۔ اور دنیا کے طویل و عریض قیام کو یہ خیال کریں گے کہ ہم دنیا میں صرف دس دن ٹھہرے ہیں۔ حق تعالیٰ فرماتے ہیں ہم خوب جانتے ہیں جو وہ کہیں گے جب ان میں کا بہتر طریق ولا یعنی ان میں پوری عقل والا یہ کہے گا کہ نہیں ٹھہرے تم دنیا میں مگر ایک روز یعنی اگر ہم کو پہلے سے اس کا علم ہوتا تو اس فانی کو ترک کرتے اور اس باقی کو اختیار کرتے۔
Ayahs 20:105–114

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ یَنْسِفُهَا رَبِّیْ نَسْفًاۙ Open ayah 20:105 in the Quran reader

اور تم سے پہاڑوں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہہ دو کہ خدا ان کو اڑا کر بکھیر دے گا

فَیَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًاۙ Open ayah 20:106 in the Quran reader

اور زمین کو ہموار میدان کر چھوڑے گا

لَّا تَرٰى فِیْهَا عِوَجًا وَّ لَاۤ اَمْتًاؕ Open ayah 20:107 in the Quran reader

جس میں نہ تم کجی (اور پستی) دیکھو نہ ٹیلا (اور نہ بلندی)

یَوْمَئِذٍ یَّتَّبِعُوْنَ الدَّاعِیَ لَا عِوَجَ لَهٗ١ۚ وَ خَشَعَتِ الْاَصْوَاتُ لِلرَّحْمٰنِ فَلَا تَسْمَعُ اِلَّا هَمْسًا Open ayah 20:108 in the Quran reader

اس روز لوگ ایک پکارنے والے کے پیچھے چلیں گے اور اس کی پیروی سے انحراف نہ کرسکیں گے اور خدا کے سامنے آوازیں پس ہوجائیں گی تو تم آواز خفی کے سوا کوئی آواز نہ سنو گے

یَوْمَئِذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ رَضِیَ لَهٗ قَوْلًا Open ayah 20:109 in the Quran reader

اس روز (کسی کی) سفارش کچھ فائدہ نہ دے گی مگر اس شخص کی جسے خدا اجازت دے اور اسی کی بات کو پسند فرمائے

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِهٖ عِلْمًا Open ayah 20:110 in the Quran reader

جو کچھ ان کے آگے ہے جو کچھ ان کے پیچھے ہے وہ اسکو جانتا ہے اور وہ (اپنے) علم سے خدا (کے علم) پر احاطہ نہیں کرسکتے

وَ عَنَتِ الْوُجُوْهُ لِلْحَیِّ الْقَیُّوْمِ١ؕ وَ قَدْ خَابَ مَنْ حَمَلَ ظُلْمًا Open ayah 20:111 in the Quran reader

اور اس زندہ و قائم کے رو برو منہ نیچے ہوجائیں گے اور جس نے ظلم کا بوجھ اٹھایا وہ نامراد رہا

وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا یَخٰفُ ظُلْمًا وَّ لَا هَضْمًا Open ayah 20:112 in the Quran reader

اور جو نیک کام کرے گا اور مومن بھی ہوگا تو اس کو نہ ظلم کا خوف ہوگا اور نہ نقصان کا

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا وَّ صَرَّفْنَا فِیْهِ مِنَ الْوَعِیْدِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ اَوْ یُحْدِثُ لَهُمْ ذِكْرًا Open ayah 20:113 in the Quran reader

اور ہم نے اس کو اسی طرح کا قرآن عربی نازل کیا ہے اور اس میں طرح طرح کے ڈراوے بیان کر دئیے ہیں تاکہ لوگ پرہیزگار بنیں یا خدا ان کے لئے نصیحت پیدا کر دے

فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ وَ لَا تَعْجَلْ بِالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّقْضٰۤى اِلَیْكَ وَحْیُهٗ١٘ وَ قُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا Open ayah 20:114 in the Quran reader

تو خدا جو سچا بادشاہ ہے عالی قدر ہے اور قرآن کی وحی جو تمہاری طرف بھیجی جاتی ہے اس کے پورا ہونے سے پہلے قرآن کے (پڑھنے کے) لئے جلدی نہ کیا کرو اور دعا کرو کہ میرا پروردگار مجھے اور زیادہ علم دے

منکرین آخرت اور مکذبین رسالت کے ایک سوال کا جواب قال اللہ تعالیٰ ویسئلونک عن الجبال .... الیٰ .... وقل رب درنی علما۔ (ربط) گزشتہ آیات میں قیامت کا ذکر تھا اب ان آیات میں منکرین آخرت کے ایک سوال کا ذکر کرتے ہیں کہ منکرین آخرت بطور تمسخر آنحضرت ﷺ سے یہ پوچھتے تھے کہ اچھا اگر قیامت قائم ہوئی تو بتلاؤ کہ اس دن ان پہاڑوں کا کیا حال ہوگا۔ ان کے خیال میں پہاڑوں کا نیست و نابود ہونا ناممکن تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان کے اس سوال کا جواب دیا کہ خداوند عالم ان کو خاک کرکے اڑا دے گا۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اے نبی یہ لوگ آپ سے قیامت کا حال سن کر بطور استہزا یہ دریافت کرتے ہیں کہ اگر بالفرض قیامت ہوئی تو اس دن پہاڑوں کی کیا حالت ہوگی اور اس دن یہ پہاڑ کہاں ہوں گے۔ پس اے نبی آپ ﷺ بےقامل ان کے جواب میں یہ کہہ دیجئے کہ میرا پروردگار اپنی قدرت کاملہ سے ان کو ریزہ ریزہ کرکے ہوا میں اڑا دے گا۔ اور ان کو پراگندہ کر دے گا پوری طرح پراگندہ کرنا یہ سوال قبیلہ ثقیف کے ایک شخص نے کہا تھا پھر ان پہاڑوں کے نیچے کی زمین کو صاف میدان بنا دے گا پس اے دیکھنے والے تو اس میں نہ کوئی کجی دیکھے گا اور نہ کوئی اونچائی۔ یعنی ٹیلہ اس دن پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے۔ اور ان کے نیچے کی زمین ایسی ہموار کردی جائے گی کہ جس میں اونچائی اور نیچائی کا کوئی نام و نشان نہ رہے گا۔ اور وہ ایسی برابر کردی جائے گی کہ اگر علم ریاضی و ہندسہ کے ماہرین بھی آلات ہندسہ سے اس کی جانچ پڑتال کریں تو وہ بھی برابری اور ہمواری کی شہادت دیں۔ مطلب یہ ہے کہ اس روز پہاڑ ریزہ ریزہ کرکے ہوا میں اڑا دیئے جائیں گے۔ اور زمین ایسی ہموار کردی جائے گی کہ اس پر نہ کوئی ٹیلہ اور پہاڑ ہوگا جس پر کوئی مجرم چڑھ کر پناہ لے سکے۔ اور نہ کوئی غار ہوگا جس میں کوئی مجرم چھپ سکے۔ اور روز تمام لوگ خدائی پکارنے والے کی آواز کے پیچھے دوڑیں گے یہ پکارنے والے اسرائیل (علیہ السلام) ہوں گے۔ صخرہ بیت المقدس پر کھڑے ہو کر آواز دیں گے۔ ” اے پرانی اور بوسیدہ ہڈیو اور اے متفرق شدہ گوشت کے ٹکڑو خدائے رحمن کے سامنے پیش ہونے کے لیے حاضر ہوجاؤ تمہارے فیصلوں اور حساب کا وقت آپہنچا ہے “۔ اسرافیل (علیہ السلام) کی یہ آواز سن کر لوگ دور پریں گے اور اپنی قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے۔ اس آواز کے اتباع اور پیروی سے کسی کو کجی اور انحراف ممکن نہ ہوگا۔ اسی روز اس آواز پر سب سیدھے دوڑے چلے آئیں گے۔ دائیں بائیں نہ جھکیں گے۔ اگر دنیا کا ماجرا ہوتا تو انحراف ممکن تھا۔ لیکن آج اس آواز کی پیروی سے انحراف ممکن نہیں اور اس دن ہیبت کے مارے رحمن کے لیے تمام آوازیں پست ہوں گی سوائے پیروں کی آہستہ آواز کے کچھ نہ سن سکے گا۔ نہایت خاموشی کے ساتھ میدان حشر کی طرف جائیں گے۔ اس روز کسی کو کسی کی شفاعت نفع نہ دے گی مگر جس کو یا جس کے لئے رحمن نے شفاعت کی اجازت دی ہو اور پسند کیا ہو۔ شفاعت کے بارے میں اس کا بولنا اور بات کرنا تو اس روز اس کی سفارش چلے گی۔ اور نفع دے گی۔ یا یہ معنی ہیں کہ اس دن شفاعت کسی کو نفع نہ دے گی مگر جس کے لیے اور جس کے واسطے رحمن نے اذن دیا اور جس کی بات سے اللہ راضی ہوا۔ بات سے مراد لا الہ الا اللہ کہنا ہے اور مطلب یہ ہے کہ جس نے دنیا میں لا الہ الا اللہ کہا یعنی ایمان لایا۔ اور اسی پر مرگیا اگرچہ اس کے گناہ ہوں تو اس کو انبیاء اور ملائکہ کی شفاعت نفع دے گی۔ حاصل یہ کہ جو مسلمان ہو وہ لائق شفاعت ہے اگرچہ گنہگار ہو۔ کافر کے حق میں کوئی شعی اور سفارش نہیں چلے گی۔ شفاعت کے لیے شافع اور مشفوع لہ دونوں کا مسلمان ہونا شرط ہے اور شفاعت کے لیے اجازت کی ضرورت اس لیے ہوئی کہ شافع کو معصیت کا نہ مبداء معلوم ہے اور نہ منتہیٰ ۔ اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے ان کے اگلے اور پچھلے احوال کو اس کا علم تمام خلائق کو محیط ہے۔ وہ جانتا ہے کہ کون لائق شفاعت ہے اور کون نہیں اور جہنم میں داخل ہونے کے بعد کون نکالے جانے کے قابل ہے اور کون نہیں اور تمام مخلوقات علم کے اعتبار سے اللہ کا احاطہ نہیں کرسکتیں۔ کسی مخلوق میں یہ مجال نہیں کہ وہ کسی کے بارے میں لیاقت اور عدم لیاقت کا حکم لگا سکے۔ اس لیے اس روز بغیر اجازت خداوندی کے کوئی کسی کے لیے شفاعت نہیں کرسکے گا۔ اور اس دن تمام چہرے اس حی وقیوم کے سامنے پست اور ذلیل اور عاجزی کرنے والے ہوں گے۔ اس دن حکومت اور سلطنت صرف اللہ کی ہوگی۔ ” حی “ کے معنی ایسے زندہ کے ہیں کہ جو کبھی نہ مرے اور ” قیوم “ کے معنی جو ہر چیز کو قائم رکھنے والا اور تھامنے والا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ حشر کے دن سب کے چہرے خدائے عزوجل کے سامنے عاجز اور سرافگندہ ہوں گے۔ اور اس روز یہ چہرے دو قسم کے ہوں گے۔ قسم اول کافروں کے چہرے ایسے ہوں گے۔ جن کی بابت ارشاد فرماتے ہیں۔ اور تحقیق نامراد ہوا جس نے ظلم (یعنی کفر اور شرک) کا بوجھ اٹھایا۔ یعنی جو شخص کفر اور شرک کا بوجھ لے کر میدان حشر میں آیا وہ تو خراب اور برباد ہوا۔ اور قسم دوم مومنین کی ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور جو شخص نیک کام کرے گا بشرطیکہ وہ مومن ہو تو وہ قیامت کے دن نہ ظلم اور زیادتی سے ڈرے گا اور نہ نقصان اور کمی سے ڈرے گا۔ ظلم اور زیادتی کے یہ معنی کہ اس کے گناہوں میں زیادتی اور اضافہ کردیا جائے گا۔ اور نقصان کے معنی یہ ہیں کہ اس کی نیکیوں میں کمی کردی جائے۔ مطلب یہ ہے کہ جو گناہ اس نے نہیں کیا ہے اس کا اس سے مؤاخذہ نہیں کیا جائے گا۔ اور جو نیکی اس نے کی ہے وہ ضائع نہیں کی جائے گی۔ ہر ایک ظالم کو بقدر اس کے ظلم کے سزا ملے گی۔ اور ہر مومن صالح کو بقدر اس کے ایمان کے اور عمل صالح کے جزا ملے گی۔ اور اے نبی جس طرح ہم نے ان آیات میں قیامت کے احوال اور اہوال کو آپ ﷺ کے سامنے بیان کیا ہے جو وعد اور وعید کو متضمن ہیں اسی طرح ہم نے اس سارے قرآن کو عربی زبان میں نازل کیا ہے۔ تاکہ اہل عرب اس کے اعجاز کو دیکھ کر اس کے وعد اور وعید پر ایمان لائیں اور سعادت ابدی حاصل کریں۔ اور ہم نے اس قرآن میں عذاب سے ڈرانے والی چیزوں کو مکررسہ کرر بیان کیا ہے۔ تاکہ لوگ متقی اور پرہیزگار بن جائیں۔ یعنی تقویٰ کا ملکہ ان کے نفس میں راسخ ہوجائے یا کم از کم ان کے دلوں میں آخرت کی فکر پیدا کردے۔ جو رفتہ رفتہ ان کو تقویٰ اور ہدایت کے مرتبہ تک پہنچا دے اور شاید آئندہ چل کر مسلمان ہوجائیں۔ ” ذکر “ کے معنی فکر اور عبرت اور نصیحت کے ہیں اور عبرت اور نصیحت ہدایت کی ابتداء ہے اور درع اور تقویٰ اس کی منتہا ہے پس اللہ جو بادشاہ حقیقی اور مالک برحق ہے اور وہ بلند اور برتر ہے۔ اس سے کہ وہ اپنے بندوں کی ہدایت کے لیے امر و نہی اور وعد اور وعید نازل نہ فرمائے اور اپنے مجرموں کو سزا اور اپنے وفاداروں کو انعام نہ دے۔ فرما نبرداروں اور نافرمانوں میں فرق کرنا بادشاہت کے لوازم میں سے ہے اس لیے اس بادشاہ برحق نے اپنے بندوں کی صلاح اور فلاح کے لیے اور ان کے دین و دنیا کی بہبودی کے لیے آپ صلی اللہ (علیہ السلام) پر یہ کتاب ہدایت یعنی قرآن کریم نازل فرمائی تاکہ راہ ہدایت ایسی واضح ہوجائے کہ کسی کو اس میں شبہ کی گنجائش نہ رہے اور بندے اپنی صلاح اور فلاح سے باخبر ہوجائیں اور مجرمین پر اللہ کی حجت پوری ہوجائے۔ قرآن کے نازل کرنے کی غرض وغایت یہی ہے کہ لوگ اللہ کی عبادت کریں۔ اور اس کی معصیت سے بچیں اور ایسی کتاب ہدایت اور ایسے قانون شریعت کا نازل کرنا جو دین و دنیا کی صلاح اور فلاح کا کفیل ہو وہ بادشاہ برحق ہی کا کام ہے کہ جس کی سلطنت کو فنا اور زوال نہ ہو۔ لہٰذا تم کو چاہئے کہ اس بادشاہ برحق کے وعدہ پر مطمئن رہو اور اس کی وعید سے ڈرتے رہو کہ اگر ہم نے پیغمبر کی نافرمانی کی تو پہلی امتوں کی طرح ہم بھی تباہ ہوجائیں گے۔ خوب سمجھ لو کہ مالک حقیقی اور بادشاہ نے تم پر مہربانی کی کہ تمہاری صلاح اور فلاح کے لیے یہ قرآن نازل کیا۔ حق جل شانہ نے ان آیات میں یہ بیان کیا ہے کہ ہم اس قرآن میں وعد اور وعید کو مکررسہ کرر اس لیے بیان کرتے ہیں کہ بنی آدم کی اصلاح اس پر موقوف ہے اب اسی مناسبت سے آئندہ آیات میں تبعا واستطرادا کلام ربانی اور پیام یزدانی کا ادب بیان فرماتے ہیں کہ جب اللہ کا کلام نازل ہو تو اس کا ادب یہ ہے کہ اس کو سنا جائے اور سن کر اس کے معانی میں غور و فکر کیا جائے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اے نبی اس بادشاہ برحق نے بندوں کے ہدایت کے لیے یہ قرآن آپ ﷺ پر نازل کیا ہے تو جبریل امین (علیہ السلام) جب آپ ﷺ کے پاس قرآن کی وحی لے کر آیا کریں تو آپ وحی کے پورا ہونے سے پہلے قرآن کے پڑھنے میں جلدی نہ کیا کریں۔ جبرئیل امین (علیہ السلام) جب آپ ﷺ کے پاس قرآن کی وحی لے کر نازل ہوتے تو ابھی وحی پوری نازل نہ ہونے پاتی تھی کہ آپ ﷺ اثناء نزول ہی میں اس خوف سے کہ کہیں بھول نہ جائیں جبریل امین (علیہ السلام) کے ساتھ ساتھ جلدی جلدی پڑھتے اور اس کو دھراتے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کی ممانعت کردی کہ جب تک وحی وپری نہ ہوجائے اور جبریل (علیہ السلام) اس کے پہنچانے سے فارغ نہ ہوجائے اس وقت تک آپ ﷺ نہ پڑھا کریں اور آپ کو تسلی کردی کہ قرآن کا بتمام و کمال آپ ﷺ کے سینہ میں جمع کردینا اور لفظ بلفظ اس کا محفوظ کردینا یہ ہمارے ذمہ ہے جیسا کہ یہ حکم سورة قیامہ میں بھی آیا ہے۔ لا تحرک بہ لسانک لتعجل بہ ان علینا جمعہ وقرانہ فاذا قرانہ فاتبع قرانہ ثم ان علینا بیانہ۔ اور اے نبی ﷺ آپ اس فکر میں نہ پڑیئے اور ہمارا فرشتہ جب آپ ﷺ کے سامنے ہماری وحی پڑھے تو آپ ﷺ اس کو خوب غور سے سنئے کیونکہ اللہ کے کلام کا حق استماع اور انصات ہے اور جب فرشتہ آپ ﷺ پر پڑھنے سے فارغ ہوجائے تو بجائے پڑھنے کے وحی پوری ہوجانے کے بعد آپ ﷺ یہ دعا مانگا کیجئے۔ اے میرے پروردگار اپنی طرف سے میرے علم اور فہم میں زیادتی کر تاکہ تیرے کلام کے معانی کو اور تیرے احکام کے اسرار اور حکم کو خوب سمجھوں کیونکہ قرآن کے ہر حرف کے نیچے بیشمار علوم ہیں اور جو وحی ہم آپ ﷺ پر نازل کر رہے ہیں وہ تو ضرور بالضرور آپ ﷺ پر نازل ہو کر رہے گی۔ اور آپ ﷺ کے سینہ میں ضرور محفوظ ہو کر رہے گی۔ آپ ﷺ اس کی فکر نہ کیجئے زیادتی علم کے فکر کیجئے۔ نظم قرآن کے کلمات اور حروف محدود اور متناہی ہیں۔ اور اس کے علوم غیر محدود اور غیر متناہی ہیں اور علم کی زیادتی اور ترقی میں حفظ بھی آگیا۔ کیونکہ زیادتی علم کی دعا ایسی جامع دعا ہے جو سب کو شامل ہے اس لیے کہ ظاہر ہے کہ معانی کا سمجھنا الفاظ کی یاد ہونے پر موقوف ہے۔ اس لیے زیادتی علم زیادتی حفظ کو بھی شامل ہے۔ سفیان بن عیینہ ؓ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کا علم برابر زیادہ ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ آپ ﷺ نے وفات پائی۔ اور عبد اللہ بن مسعود ؓ جب یہ آیت پڑھتے تو یہ دعا کرتے اللہم زدنی علما و ایمانا و یقیناً اے اللہ میرے علم میں اور میرے ایمان میں اور میرے یقین میں زیادتی فرما کہ ہر لمحہ علم اور معرفت اور ایمان اور ایقان میں اضافہ اور ترقی ہوتی رہے اور ترمذی اور ابن ماجہ میں ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے۔ اللہم انفعنی بما علمتنی وعلمنی ما ینفعنی وزدنی علما والحمدللہ علی کل حال اور ایک حدیث میں اس دعا کے اخیر میں اتنا لفظ اور زیادہ آیا ہے۔ واعوذ باللہ من حال اہل النار۔