20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 20:37–55

وَ لَقَدْ مَنَنَّا عَلَیْكَ مَرَّةً اُخْرٰۤىۙ Open ayah 20:37 in the Quran reader

اور ہم نے تم پر ایک بار اور بھی احسان کیا تھا

اِذْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّكَ مَا یُوْحٰۤىۙ Open ayah 20:38 in the Quran reader

جب ہم نے تمہاری والدہ کو الہام کیا تھا جو تمہیں بتایا جاتا ہے

اَنِ اقْذِفِیْهِ فِی التَّابُوْتِ فَاقْذِفِیْهِ فِی الْیَمِّ فَلْیُلْقِهِ الْیَمُّ بِالسَّاحِلِ یَاْخُذْهُ عَدُوٌّ لِّیْ وَ عَدُوٌّ لَّهٗ١ؕ وَ اَلْقَیْتُ عَلَیْكَ مَحَبَّةً مِّنِّیْ١ۚ۬ وَ لِتُصْنَعَ عَلٰى عَیْنِیْۘ Open ayah 20:39 in the Quran reader

(وہ یہ تھا) کہ اسے (یعنی موسیٰ کو) صندوق میں رکھو پھر اس (صندوق) کو دریا میں ڈال دو تو دریا اسے کنارے پر ڈال دے گا (اور) میرا اور اس کا دشمن اسے اٹھا لے گا اور (موسی) میں نے تم پر اپنی طرف سے محبت ڈال دی (اس لئے کہ تم پر مہربانی کی جائے) اور اس لیے کہ تم میرے سامنے پرورش پاؤ

اِذْ تَمْشِیْۤ اُخْتُكَ فَتَقُوْلُ هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰى مَنْ یَّكْفُلُهٗ١ؕ فَرَجَعْنٰكَ اِلٰۤى اُمِّكَ كَیْ تَقَرَّ عَیْنُهَا وَ لَا تَحْزَنَ١ؕ۬ وَ قَتَلْتَ نَفْسًا فَنَجَّیْنٰكَ مِنَ الْغَمِّ وَ فَتَنّٰكَ فُتُوْنًا١۫۬ فَلَبِثْتَ سِنِیْنَ فِیْۤ اَهْلِ مَدْیَنَ١ۙ۬ ثُمَّ جِئْتَ عَلٰى قَدَرٍ یّٰمُوْسٰى Open ayah 20:40 in the Quran reader

جب تمہاری بہن (فرعون کے ہاں) گئی اور کہنے لگی کہ میں تمہیں ایسا شخص بتاؤں جو اسکو پالے تو (اس طریق سے) ہم نے تم کو تمہاری ماں کے پاس پہنچا دیا تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ رنج نہ کریں۔ اور تم نے ایک شخص کو مار ڈالا تو ہم نے تم کو غم سے مخلصی دی اور ہم نے تمہاری (کئی بار) آزمائش کی پھر تم کئی سال اہل مدین میں ٹھہرے رہے پھر اے موسیٰ تم (قابلیت رسالت کے) اندازے پر آپہنچے

وَ اصْطَنَعْتُكَ لِنَفْسِیْۚ Open ayah 20:41 in the Quran reader

اور میں نے تم کو اپنے (کام کے) لیے بنایا

اِذْهَبْ اَنْتَ وَ اَخُوْكَ بِاٰیٰتِیْ وَ لَا تَنِیَا فِیْ ذِكْرِیْۚ Open ayah 20:42 in the Quran reader

تو تم اور تمہارا بھائی دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ اور میری یاد میں سستی نہ کرنا

اِذْهَبَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰىۚۖ Open ayah 20:43 in the Quran reader

دونوں فرعون کے پاس جاؤ کہ وہ سرکش ہو رہا ہے

فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّهٗ یَتَذَكَّرُ اَوْ یَخْشٰى Open ayah 20:44 in the Quran reader

اور اس سے نرمی سے بات کرنا شاید وہ غور کرے یا ڈر جائے

قَالَا رَبَّنَاۤ اِنَّنَا نَخَافُ اَنْ یَّفْرُطَ عَلَیْنَاۤ اَوْ اَنْ یَّطْغٰى Open ayah 20:45 in the Quran reader

دونوں کہنے لگے کہ ہمارے پروردگار ہمیں خوف ہے کہ وہ ہم پر تعدی کرنے لگے یا زیادہ سرکش ہوجائے

قَالَ لَا تَخَافَاۤ اِنَّنِیْ مَعَكُمَاۤ اَسْمَعُ وَ اَرٰى Open ayah 20:46 in the Quran reader

(خدا نے) فرمایا کہ ڈرو مت میں تمہارے ساتھ ہوں (اور) سنتا اور دیکھتا ہوں

فَاْتِیٰهُ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلَا رَبِّكَ فَاَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ وَ لَا تُعَذِّبْهُمْ١ؕ قَدْ جِئْنٰكَ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ السَّلٰمُ عَلٰى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰى Open ayah 20:47 in the Quran reader

(اچھا) تو اس کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم آپ کے پروردگار کے بھیجے ہوئے ہیں تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے کی اجازت دیجئے اور انھیں عذاب نہ کیجئے ہم آپ کے پاس آپ کے پروردگار کی طرف سے نشانی لے کر آئے ہیں اور جو ہدایت کی بات مانے اس کو سلامتی ہے

اِنَّا قَدْ اُوْحِیَ اِلَیْنَاۤ اَنَّ الْعَذَابَ عَلٰى مَنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰى Open ayah 20:48 in the Quran reader

ہماری طرف یہ وحی آئی ہے کہ جو جھٹلائے اور منہ پھیرے اس کے لئے عذاب (تیار) ہے

قَالَ فَمَنْ رَّبُّكُمَا یٰمُوْسٰى Open ayah 20:49 in the Quran reader

(غرض موسیٰ اور ہارون فرعون کے پاس گئے) اس نے کہا موسیٰ تمہارا پروردگار کون ہے ؟

قَالَ رَبُّنَا الَّذِیْۤ اَعْطٰى كُلَّ شَیْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى Open ayah 20:50 in the Quran reader

کہا کہ ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی شکل وصورت بخشی پھر راہ دکھائی

قَالَ فَمَا بَالُ الْقُرُوْنِ الْاُوْلٰى Open ayah 20:51 in the Quran reader

کہا تو پہلی جماعتوں کا کیا حال ہے ؟

قَالَ عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْ فِیْ كِتٰبٍ١ۚ لَا یَضِلُّ رَبِّیْ وَ لَا یَنْسَى٘ Open ayah 20:52 in the Quran reader

کہا کہ انکا علم میرے پروردگار کو ہے (جو) کتاب میں (لکھا ہوا ہے) میرا پروردگار نہ چوکتا ہے اور نہ بھولتا ہے

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّ سَلَكَ لَكُمْ فِیْهَا سُبُلًا وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ؕ فَاَخْرَجْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْ نَّبَاتٍ شَتّٰى Open ayah 20:53 in the Quran reader

وہ (وہی تو ہے) جس نے تم لوگوں کے لئے زمین کو فرش بنایا اور اس میں تمہارے لئے راستے جاری کئے اور آسمان سے پانی برسایا پھر اس سے انواع واقسام کی مختلف روئیدگیاں پیدا کیں

كُلُوْا وَ ارْعَوْا اَنْعَامَكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّهٰى۠ Open ayah 20:54 in the Quran reader

کہ خود بھی کھاؤ اور اپنے چارپایوں کو بھی بھی چراؤ بیشک ان باتوں میں عقل والوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں

مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ وَ فِیْهَا نُعِیْدُكُمْ وَ مِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً اُخْرٰى Open ayah 20:55 in the Quran reader

اسی زمین میں سے ہم نے تم کو پیدا کیا اور اسی میں تمہیں لوٹائیں گے اور اسی سے دوسری دفعہ نکالیں گے

تذکیر انعامات و احسانات قال اللہ تعالیٰ ولقد مننا علیک مرۃ اخری .... الیٰ .... ومنھا نخرجکم تارۃ اخری۔ (ربط) یہاں سے حق تعالیٰ اپنے وہ انعامات اور احسانات موسیٰ (علیہ السلام) کو یاد دلاتے ہیں کہ جو نبوت سے پہلے ان پر کیے تھے تاکہ ان کا دل مضبوط ہوجائے اور سمجھ لیں کہ جب نبوت سے پہلے حق تعالیٰ نے مجھ پر اتنے احسانات کیے اور طرح طرح کے مصائب سے مجھ کو بچایا تو اب بدرجہ اولیٰ میری حفاظت فرمائیں گے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اے موسیٰ اس واقعہ سے پہلے بھی ہم آپ پر آپ کے بلاسووال اور بلادرخواست کے بار بار احسان کرچکے ہیں تو اب تجھے سوال اور درخواست کے بعد کیوں محروم کریں گے اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے آٹھ احسان ذکر فرمائے۔ پہلا احسان جب کہ ہم نے تیری ماں کی طرف وحی بھیجی تھی جو اب تیری طرف بھیجی جاتی ہے جو اس لائق اور قابل ذکر ہے کہ آپ (علیہ السلام) کی طرف بھیجی جائے اور آپ کو سنائی جائے اور وحی سے وحی الہام مراد ہے۔ وحی نبوت مراد نہیں جیسا کہ واوحی ربک الی النحل میں وحی سے الہام مراد ہے اور وہ وحی یہ تھی کہ اس موسیٰ (علیہ السلام) کو جلا دوں سے بچانے کے لیے صندوق میں لٹا کر اس صندوق کو دریائے نیل میں پھینک دے۔ صندوق وہاں پہنچ جائے تو اس کو ایسا شخص اٹھالے گا جو میرا بھی دشمن ہے اور اس کا بھی دشمن ہے۔ جس کا واقعہ یہ ہے کہ فرعون نے خواب میں دیکھا کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہوگا جو اس کو اور اس کی سلطنت کو غارت کرے گا۔ اس لیے بنی اسرائیل میں جو لڑکا پیدا ہوتا فرعون اس کو قتل کرا دیتا۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے تو ان کی والدہ محترمہ کو (جن کا نام یوحانذ تھا) ۔ خوف ہوا کہ فرعون کے سپاہی اگر خبر پاویں گے تو بچہ کو مار ڈالیں گے خدا تعالیٰ نے ان کو یہ الہام کیا کہ اس بچہ کو ایک صندوق میں لٹاکر اور اس کو مقفل کرکے دریائے نیل میں ڈال دے۔ ہم اس کو اپنے اور اس کے دشمن فرعون سے ملوائیں گے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے اسی طرح موسیٰ (علیہ السلام) کو ایک صندوق میں رکھ دیا دریائے نیل میں ڈال دیا۔ دریائے نیل کی ایک شاخ فرعون کے باغ میں جاتی تھی وہ صندوق بہتا بہتا اس باغ میں پہنچ گیا۔ فرعون اپنی بیوی آسیہ سمیت نہر کے کنارے پر بیٹھا تھا۔ جب وہ صندوق اس کی نظر پر پڑا تو اس کو نکلوایا کھول کر دیکھا تو اس میں ایک خوبصورت لڑکا پایا۔ فرعون کو اور اس کی بیوی کو دونوں کو اس سے محبت ہوگئی بیٹا بنا کر اس کو پالا جس سے خدا کی قدرت اور اس کی غیبی حفاظت کا کرشمہ ظاہر ہوا۔ در بہ بست و دشمن اندر کانہ بود قصہ فرعون زیں افسانہ بود دوسرا احسان اور اے موسیٰ (علیہ السلام) ایک احسان میں نے تجھ پر یہ کیا کہ اپنی جانب سے تجھ پر محبت ڈال دی جو تجھے دیکھے وہ تجھ پر ایسا فریفتہ ہوجائے کہ صبر بھی نہ کرسکے۔ تیسرا احسان اور تاکہ تو میری آنکھ کے سامنے پرورش کیا جائے یعنی تاکہ تیری پرورش میری نگرانی اور نگہبانی میں ہو۔ چوتھا احسان اس وقت کا ہے کہ جب تیری بہن مریم بنے سران تیری تلاش میں تیرا حال معلوم کرنے کے لئے فرعون کے گھر چلی جا رہی تھی پھر فرعون کے گھر پہنچ کر کہہ رہی تھی کہ کہو تو میں تم کو ایسی عورت بتلا دوں جو اس بچہ کی پرورش کی کفیل ہوجائے۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے بالہام خداوندی موسیٰ (علیہ السلام) کے صندوق کو دریا میں ڈال دیا تو بمقتضائے بشریت زنجیدہ اور غمگین ہوئیں کہ معلوم نہیں کہ بچہ کا کیا حشر ہوگا۔ ادھر یہ قصہ پیش آیا کہ وہ صندوق فرعون کے محل پر پہنچ گیا اور موسیٰ (علیہ السلام) اس میں سے نکال لئے گئے اور یہ قرار پایا کہ ان کو بیٹا بنا لیا جائے تو حضرت آسیہ (علیہا السلام) کی توجہ سے دودھ پلانے کے لئے دائیوں کی تلاش شروع ہوئی۔ مگر موسیٰ (علیہ السلام) نے کسی کا دودھ نہ پیا۔ کما قال اللہ تعالیٰ وحرمنا علیہ المراضع یعنی ہم نے تمام دودھ پلانے والیوں کو ان پر حرام کردیا۔ اب آسیہ (علیہا السلام) کو یہ فکر ہوئی کہ اب اس لڑکے کو کس طرح پالیں اور ادھر یہ ہوا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن ان کی تلاش میں وہاں جا پہنچیں جن کو انا کی تلاش تھی۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن نے جب یہ دیکھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کسی عورت کا پستان منہ میں نہیں لیتے تو اس وقت ان کی بہن بولیں کہ کیا میں تم کو ایسے گھرانے کا پتہ نہ بتلا دو کہ جو اس کی پرورش کی کفالت بھی کریں اور اس کے خیرخواہ بھی ہوں۔ فرعون کے گھر والوں نے کہا کہ لاؤ موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن نے ان کی والدی کو لے جاکر حاضر کردیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کی پستان کو قبول کرلیا۔ فرعون کے گھر والے بہت خوش ہوئے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے کہا کہ میں اچھا کبھی کبھی لاکر مجھ کو دکھلا دیا کرو۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے اس کو مان لیا اور آسیہ (علیہا السلام) نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی گود میں دے دیا اور وہ ان کو اپنی گود میں لے کر رہاں سے چلیں۔ پس اس تدبیر سے ہم نے اے موسیٰ تم کو تمہاری ماں کی طرف لوٹا دیا۔ تاکہ تیرے دیدار سے اس کی آنکھ ٹھنڈی ہو۔ اور تیرے فراق سے غمگین نہ ہو۔ اس طرح اولاد کو صندوق میں بند کرکے دریا میں ڈال دینا کوئی معمولی چیز نہیں جس پر صدمہ اور غم نہ ہو۔ پانچواں احسان اور بڑے ہونے کے بعد ایک اور احسان کیا وہ یہ کہ تم نے ایک جان کو مار ڈالا یعنی ایک قطبی کو جب وہ اسرائیلی کو مارتا تھا تم نے اس کے ایک گھونسا مارا جس سے وہ قطبی مرگیا پس ہم نے تم کو قصاص کے غم سے نجات دی اس طرح سے کہ تم کو مصر سے مدین پہنچا دیا۔ چھٹا احسان اور طرح طرح سے تم کو قسم قسم کے فتنوں اور آزمائشوں میں ڈالا اور پھر سب سے تم کو خلاصی دی۔ ساتواں احسان پھر جب تو قبطی کو قتل کرکے مصر سے مدین پہنچا تو کئی سال امن وامان کے ساتھ مدین والوں میں رہا ” مدین “ شعیب (علیہ السلام) کا شہر ہے۔ مصر سے آٹھ منزل پر ہے۔ جب قصاص کے ڈر سے مدین بھاگے تو وہاں شعیب (علیہ السلام) کے پاس رہنا نصیب ہوا۔ شعیب (علیہ السلام) نے اس شرط پر کہ آٹھ یا دس سال تک ان کی بکریاں چرائیں۔ اپنی صاحبزادی صفوراء سے ان کا عقد کردیا۔ پھر مصر واپس آئے۔ یہ سب حق تعالیٰ کا موسیٰ (علیہ السلام) پر انعام تھا۔ آٹھواں احسان پر اے موسیٰ تو اللہ کی تقدیر اور اس کے اندازہ کے مطابق جو اللہ نے مقرر کیا تھا۔ ایک میدان میں پہنچا وہاں ہم نے تجھ سے کلام کیا اور تجھ کو اپنی ذات کے لیے خاص کرلیا۔ یعنی تجھ کو نبوت و رسالت اور کلام اور وحی کے لیے منتخب کیا اور تجھ کو اپنا محب اور مخلص بنا لیا تاکہ تو میری مرضی کے مطابق میرا کام انجام دے۔ میں نے تجھ کو اپنے اور اپنی مخلوق کے درمیان اپنا سفیر اور ترجمان بنایا اور تجھ کو نشانات اور معجزات عطا کیے۔ لہٰذا تو اور تیرا بھائی میری نشانیاں لے کر فرعون اور اس کے درباریوں کے پاس جاؤ اور ان کو دعوت و تبلیغ کرو اور میری یاد میں سستی نہ کرو۔ کسی وقت میری یاد سے غافل نہ ہو یعنی پوری مستعدی کے ساتھ تبلیغ کرو اور میری یاد میں سستی نہ کرو۔ کسی وقت میری یاد سے غافل نہ ہو یعنی پوری مستعدی کے ساتھ تبلیغ کرو۔ اور اس میں سستی نہ کرو تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ تحقیق وہ دعویٰ ربوبیت کرکے حد سے گزر گیا ہے۔ پھر تم دونوں اس سے نرمی سے بات کرو۔ اس کے ساتھ سختی کے ساتھ بات کرو اور اس کے حق پر ورش کی رعایت کرو۔ اور اس کی ظاہری بادشاہت کے ادب کو ملحوظ رکھو اور نرمی عموما نصیحت میں مفید ہوتی ہے۔ اور سختی سے دل پر اثر نہیں ہوتا۔ شاید وہ نصیحت پکڑے یعنی ایمان لے آئے یا کم از کم عذاب الٰہی سے ڈر جائے۔ یہ دعوت و تبلیغ کے دستور العل کی طرف اشارہ ہے کما قال اللہ تعالیٰ ادع الی سبیل ربک بالحکمۃ والموعظۃ الحسنۃ وجادلہم بالتی ہی احسن۔ نکتہ : خدا تعالیٰ کو قطعی طور پر معلوم تھا کہ فرعون ایمان نہیں لائے گا لفظ لعل جس کے معنی شاید کے ہیں وہ موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کی نسبت سے ہے ان کو معلوم نہ تھا۔ ان کے اعتبار سے کلمہ امید فرمایا اور خدا تعالیٰ نے باوجود علم ازلی کے فرعون ایمان نہیں لائے گا۔ پھر اس کو دعوت دینا اتمام حجت کے لئے تھا کہ قیامت کے دن یہ عذر نہ کرسکے کہ میرے پاس کوئی رسول نہیں آیا۔ الغرض جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو فرعون کے پاس جانے کا حکم دیا تو دونوں نے عرض کیا کہ اے ہمارے پروردگار ہم اپنی بےسروسامانی کی وجہ سے اس بات سے ڈرتے ہیں کہ وہ تبلیغ و دعوت سے پہلے ہی عقوبت میں جلدی نہ کر بیٹھے کہ نہ تیرا پیغام سنا سکیں اور نہ کوئی معجزہ ہی دکھلا سکیں اس سے پہلے ہی وہ ہم کو ہلاک کر دے۔ یا تکلیف اور ایذا رسانی میں حد سے گزر جائے۔ حتیٰ کہ تیری بارگاہ میں گستاخی اور بےادبی کر بیٹھے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم دونوں بالکل نہ ڈرو تحقیق میں تمہارے ساتھ ہوں۔ یعنی میری حفاظت اور نصرت تمہارے ساتھ ہے۔ میں تمہاری دعا سنتا ہوں۔ اور تمہارا حال دیکھتا ہوں۔ تم سے جدا اور غافل نہیں۔ تم بےفکر رہو کچھ غم نہ کرو۔ پس بےخوف و خطر اس کے پاس جاؤ پھر کہو کہ ہم تیرے پروردگار کے بھیجے ہوئے ہیں۔ اس کا پیغام اور حکم لے کر تیرے پاس آئے ہیں۔ پس اول تو ہم پر ایمان لا تاکہ تو اپنے رب کے غضب سے محفوظ ہوجائے۔ پھر تو اپنے ظلم و ستم سے باز آجا۔ اور بنی اسرائیل کو اپنی قید سے رہا کرکے ہمارے ساتھ بھیج دے تاکہ ہم ان کو ان کے آبائی وطن ملک شام میں لے جائیں۔ اور ان کو مت ستا۔ فرعون بنی اسرائیل سے مشقت اور ذلت کا کام لیتا۔ جیسے جہر کھودنا اور کوڑا کرکٹ ان سے اٹھوانا اور طرح طرح سے ان سے بیگار لینا جس کی وجہ صرف یہ تھی کہ یہ لوگ۔ اس کی ربوبیت کو نہیں مانتے تھے اور دین ابراہیم (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) اور یوسف (علیہ السلام) پر قائم تھے۔ اس عداوت میں بنی اسرائیل کو طرح طرح سے تکلیفیں پہنچاتا اور ذلیل و خوار کرتا اس لیے موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون سے کہا کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے تاکہ ہم ارض مقدس میں واپس چلے جائیں جو ہمارے بزرگوں کے رہنے کی جگہ ہے۔ الغرض ہم دونوں تیرے پروردگار کے رسول ہیں جن کا بےچون و چرا اتباع تجھ پر واجب ہے پس اولا تو ہم پر ایمان لا اور ہم کو پروردگار کا رسول برحق مان اور پھر بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔ تحقیق ہم اپنی نبوت و رسالت کے لیے تیرے پروردگار کے پاس سے ایک روشن نشان اور واضح برہان لے کر آئے ہیں۔ یعنی ایک معجزہ لے کر آئے ہیں۔ جس کے مقابلہ سے تو عاجز ہوگا اور یہ معجزہ ہمارے دعویٰ نبوت و رسالت کی نشانی ہوگی اور سلامتی ہے اس شخص پر کہ جس نے راہ ہدایت کی پیروی کی۔ یعنی جو ایمان لایا اور حق کا پیروبنا اور صراط مستقیم پر چلا۔ تحقیق ہم پر ہمارے پروردگار کی طرف سے یہ وحی بھیجی گئی کہ عذاب ہے اس شخص پر جس نے حق کو جھٹلایا اور حق سے منہ موڑا۔ القصہ دونوں نے اللہ تعالیٰ کو پیغام پہنچا دیا۔ ربوبیت خداوندی پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا فرعون کے ساتھ مکالمہ پس یہ دونوں حضرات جب حکم خداوندی فرعون کے پاس پہنچے اور اس کو حق تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا تو اس پر فرعون بولا اے موسیٰ تم دونوں بھائیوں کا رب کون ہے جس نے تم کو رسول بنا کر بھیجا ہے یعنی جب موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) حق تعالیٰ کا پیغام لے کر فرعون کے پاس گئے اور جاکر اس سے یہ کہا ان رسولا ربک یعنی ہم دونوں تیرے رب کے رسول اور فرستادہ ہیں۔ تو فرعون نے یہ سوال کیا۔ فمن ربکما یموسی یعنی اچھا تم دونوں یہ بتاؤ کہ تمہارا رب کون ہے جس کے تم فرستادہ اور پیغمبر ہو اور جس کے عذاب سے تم مجھ کو ڈراتے ہو۔ کیونکہ میں اپنے سوا کسی کو رب نہیں جانتا ما علمت لکم من الہ غیری فرعون خالق اور معبود کے وجود کا منکر تھا۔ اور یہ کہتا تھا کہ میں اپنے سوا کسی کو رب نہیں جانتا اور اے موسیٰ تیرا رب بھی میں ہی ہوں۔ تو نے میرے گھر میں پرورش پائی ہے۔ فرعون دہری عقیدہ کا تھا۔ منکر خدا تھا۔ میرے سے خالق اور صانع عالم کا قائل نہ تھا۔ اور یہ سمجھتا تھا کہ یہ کارخانہ عالم خود رو کارخانہ ہے۔ قدیم سے اسی طرح چل رہا ہے اور اسی طرح چلتا رہے گا۔ لوگ خود بخود پیدا ہوتے ہیں اور پھر مر کر گل سڑ جاتے ہیں اور ریزہ ریزہ ہو کر فنا ہوجاتے ہیں۔ سارے عالم کو خود رو گھاس کی طرح سمجھتا تھا کہ خود بخود موسم برسات میں اگا اور پھر چند روز بعد خشک ہو کر ختم ہوگیا۔ فرعون کا گمان یہ تھا کہ جو شخص جس خطہ زمین کا فرمان روا ہوگیا وہی اس کا رب ہے اس لیے ازراہ تکبر و تجبر اپنی الوہیت اور ربوبیت کا مدعی تھا اس لیے یہ بولا کہ میں اپنے سوا تمہارا کوئی رب نہیں جانتا پھر وہ کون رب ہے جس کا تم اپنے کو رسول بتاتے ہو۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کی اس بات کا جواب دیا اور دلائل اور براہین سے وجود صانع کو ثابت کیا اور کہا کہ ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر شے کو اس کا وجود عطا کیا اور اس کو اس کی خاص صورت اور خاص شکل دی۔ جو اس کے علم ازل میں اس کی جنسی اور نوعی استعداد کے لائق اور مناسب تھی تاکہ ایک شئے دوسری شئے سے متمیز ہوسکے۔ پھر وجود عطا کرنے کے بعد ہر شئے کو اس کے اسباب بقاء کی طرف رہنمائی کی۔ ہر چیز پیدا ہوتے ہی بقا کا ذریعہ ڈھونڈنے لگتی ہے۔ مرغی کا بچہ زمین پر جو نچ مارتا ہے اور انسان کا بچہ ماں کے پستان کو ڈھونڈھنے لگتا ہے۔ پیدا ہوتے ہی کھانے پینے کا ہوش آجاتا ہے۔ یہ ہوش کہاں سے آیا۔ اور کس نے سکھایا اور جانوروں کا تو یہ حال ہے کہ ہر جانور کو ابتداء پیدائش ہی سے یہ علم ہوجاتا ہے کہ جنگل کا کون سا گھاس اور کس درخت کے پتے میرے لیے مفید ہیں اور کون سے مضر ہیں۔ مفید کو کھا جاتا ہے اور مضر سے بچتا ہے۔ اور جب بیمار ہوتا ہے تو خود ہی مختلف قسم کے نباتات کھا کر اپنا علاج کرلیتا ہے حالانکہ جانور کسی میڈیکل کالج کا تعلیم یافتہ نہیں ہوتا۔ پس خدا وہ ہے کہ جو ہر چیز کو اس کا خاص وجود اور اس کو خاص صورت اور خاص شکل عطا کرے۔ پھر وجود عطا کرنے کے بعد اس کو اپنے منافع اور مضارالقاء اور الہام کرے اور ظاہر ہے کہ فرعون نہ کسی کو وجود عطا کرنے پر قادر ہے اور نہ کسی کو خاص صورت اور خاص شکل دینے پر قادر ہے۔ فرعون موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ جواب سرتاپا صدق و صواب سن کر ایسا ششدر و حیران اور مبہوت رہ گیا کہ کچھ بول ہی نہ سکا۔ اور نہ اس استدلال پر کوئی اعتراض کرسکا اس لیے اس وقت اس کو یہ سوجھا کہ بات کا رخ دوسری طرف پلٹ دیا جائے اس لیے اس نے رخ بدل کر یہ سوال کیا فما بال القرون الاولی جب تم یہ کہتے ہو کہ ان العذاب علی من کذب وتولی۔ تحقیق اللہ کا عذاب ہے ہر اس شخص پر جو حق کو جھٹلا دے اور اس سے منہ پھیرلے۔ لہٰذا اگر تم پیغمبر خدا ہو تو یہ بتلاؤ کہ پہلی امتوں کا کیا حال ہے جو مرچکی ہیں اور جنہوں نے پیغمبروں کی تکذیب کی اور ان کے روشن دلائل سے انحراف کیا وہ لوگ تو بت پرست تھے اور حشر و نشر اور جزاء و سزا کے منکر تھے اور ان باتوں کے قائل نہ تھے جن کی طرف تم دعوت دیتے ہو کیا وہ تمہارے ان دلائل سے غافل اور بیخبر تھے۔ تمہارے قول کے مطابق بتلاؤ کہ ان پر کیا عذاب آیا۔ اور بتلاؤ کہ ان کا حشر و نشر کس طرح ہوگا اور ان کے ساتھ کیا معاملہ ہوگا۔ اور اب تو ان کی ہڈیوں کا بھی نام و نشان نہیں رہا۔ ان کا حشر کسی طرح ہوگا۔ اگر تم پیغمبر خدا ہو تو تم کو ان کی تفصیلی حالات معلوم ہونے چاہئیں۔ لہٰذا بتلاؤ کہ گزشتہ قو میں اب کس حال میں ہیں جنت میں ہیں یا دوزخ میں ہیں۔ فرعون نے یہ فضول اور لا یعنی باتیں اس لیے چھیڑیں کہ اصل مسئلہ (وجود صانع) کو ادھر ادھر کی باتوں میں رلا دے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ گزشتہ امتوں کے اعمال اور احوال اور ان کے انجام اور مال کا تفصیلی علم تو میرے پروردگار کے پاس ایک کتاب میں لکھا ہوا محفوظ ہے۔ جس میں ان کے کل اعمال و افعال درج ہیں قیامت کے دن ہر شخص کو خدا کے روبرو حاضر کیا جائے گا اور اس کے اعمال کے مطابق اس کو جزا ملے گی اور کتاب سے مراد یا تو لوح محفوظ ہے یا نامہ اعمال ہے اور پیغمبر کو تمام چیزوں کا علم تفصیلی ضروری نہیں۔ غیب کا علم اللہ کو ہے۔ مجھے تو صرف اتنی چیز کا علم ہوتا ہے جتنا کہ حق تعالیٰ مجھ کو بذریعہ وحی کے بتلا دے۔ مطلب یہ ہے کہ اجمالی طور پر تو میں نے پہلے ہی تجھ کو بتلا دیا تھا کہ جب گزشتہ امتوں نے پیغمبروں کی تکذیب کی ان پر دنیا میں عذاب آیا جیسا کہ میں نے پہلے ہی وان العذاب علی من کذب وتولی میں اجمالی طور پر اشارہ کردیا تھا کہ وہ لوگ عذاب میں ہلاک ہوئے تم بھی اپنا انجام سوچ لو باقی یہ امر کہ امم سابقہ پر کیا کیا گزرا اور آئندہ قیامت کے دن ان کے ساتھ کیا معاملہ ہوگا یہ منجملہ علم غیب کے ہے۔ اور غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کے ساتھ مخصوص ہے۔ اللہ ہی کو اس کی تفصیل معلوم ہے۔ اس کو نہ تو جانتا ہے اور نہ میں جانتا ہوں اور امم سابقہ کے احوال کے علم کو منصب نبوت و رسالت سے تعلق نہیں۔ پیغمبر کو گزشتہ قوموں کے احوال کا تفصلی علم ضروری نہیں انبیاء غیب دان نہیں ہوتے۔ عالم الغیب صرف حق تعالیٰ ہے انبیاء کا کام دین اور شریعت کے احکام کو بتانا ہے۔ خدا تعالیٰ بذریعہ وحی کے جتنا اپنے نبی کو بتلا دیتا ہے اتنی بات سے وہ نبی بندوں کو آگاہ کردیتا ہے۔ خدا تعالیٰ کی جتنی حکمت اور مصلحت ہوتی ہے اتنی بات ظاہر کردی جاتی ہے باقی پوشیدہ رکھی جاتی ہے۔ جن باتوں کا تو نے سوال کیا ہے ان کا منصب نبوت و رسالت سے تعلق نہیں۔ میرا کام ہدایت اور تبلیغ اور دعوت اور احکام شریعت کو بیان کرنا ہے۔ امم سابقہ کے احوال کی تفصیل مری بعثت کے اغراض اور مقاصد سے نہیں اور کسی نبی کا غیب کا نہ جاننا نبوت و رسالت میں قادح نہیں۔ نبوت نام ہے صرف پیغام رسانی کا پیغمبر کے ذمے صرف ہدایت اور بیان احکام ہے۔ پوشیدہ امور اور گزشتہ احوال کا بیان کرنا اس کے ذمہ نہیں۔ یہ تمام کلام امام فخر الدین رازی (رح) کے کلام کی تشریح اور تفصیل ہے (دیکھو تفسیر کبیر نمبر 1 ص 49 ج 6 اور دیکھو تفسیر روح المعانی ص 184 ج 16) تفسیر آیت مذکورہ بعنوان دیگر موسیٰ (علیہ السلام) نے جب وجود صانع پر ایسے واضح اور روشن دلائل قائم کیے کہ جن کا جواب ممکن نہیں تو فرعون گھبرا گیا اور اس کو ڈر ہوا کہ میری قوم ان روشن دلائل کو سن کر موسیٰ (علیہ السلام) کی تصدیق نہ کر دے اور مجھے چھوڑ کر اس رب معبود کو طرف نہ جھک جائے کہ جس کی طرف موسیٰ (علیہ السلام) دعوت دے رہے ہیں اس لیے فرعون نے بات کاٹ کر لایعنی امور یعنی قصوں اور کہانیوں کا ذکر چھیڑ دیا جس کا نبوت و رسالت سے تعلق نہیں اور موسیٰ (علیہ السلام) کو دق کرنے کے لیے یہ سوال کیا کہ اچھا جو شخص تمہارے نزدیک تکذیب کرے وہ مستحق عذاب ہے تو بتلاؤ کہ پہلی قوموں کا کیا حال ہوا۔ جو تکذیب کرتے تھے۔ اس سوال میں فرعون کی ایک غرض یہ تھی کہ موسیٰ (علیہ السلام) صاف طور پر یہ کہہ دیں کہ وہ سب دوزخی تھے تو وہ لوگ مشتعل ہوجائیں اور موسیٰ (علیہ السلام) سے بگڑ جائیں کہ یہ شخص تو ہمارے آباؤ اجداد کو دوزخی بتلاتا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کے علم کو اللہ تعالیٰ کے حوالہ کردیا جس سے اس کا مطلب حاصل نہ ہوسکا۔ غرض یہ کہ فرعون نے اس ڈر کے مارے کہ اس کی قوم موسیٰ (علیہ السلام) کی تقریر سراپا تنویر کی طرف نہ جھک پڑے اس لیے اس نے اس بات (یعنی مسئلہ الوہیت و ربوبیت) کو چھوڑ کر دوسری بات شروع کردی اور اگلوں کا حال پوچھنا شروع کردیا۔ فرعون بڑا ظالم اور متکبر اور جبار تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی تقریر دلپذیر و دلگیر کو سن کر نہ تو ان کو قتل کیا اور نہ ان کو گرفتار کیا۔ بلکہ گھبرا کر مناظرہ اور بحث کی راہ سے ہٹ کر دوسری راہ اختیار کی اور سوال کیا کہ اگر تم پیغمبر خدا ہو تو پہلی قوموں کے تفصیلی حالات بتاؤ کہ جو انبیاء کے مکذب اور حشرونشر کے منکر تھے ان کا کیا حال ہوا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو دق کرنے کے لئے یہ سوال کیا تاکہ اپنی قوم پر یہ بات واضح کر دے کہ اس کے پاس بھی بڑا علم ومعرفت ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دے دیا کہ علم غیب اللہ ہی کے ساتھ مخصوص ہے اور تمام چیزوں کا تفصیلی علم اللہ ہی کو ہے۔ پیغمبر کو تمام چیزوں کا تفصیلی علم ہونا نہ ضروری اور نہ منصب نبوت و رسالت سے اس کا کچھ تعلق ہے تو پھر کس لیے ان لا یعنی باتوں کا مجھ سے سوال کرتا ہے۔ تجھ کو چاہئے کہ تو ان دور از کار باتوں میں جانے کے بجائے ان دلائل اور براہین پر غور کرے جو میں نے تیرے سامنے بیان کی ہیں تاکہ تجھ پر خدا کی ربوبیت اور تیری عبدیت اور عاجزی اور درماندگی ظاہر ہو۔ خلاصہ کلام یہ کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے گزشتہ قوموں کے اعمال اور ان کے انجام کے علم کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کیا اور کہا کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں ایک کتاب (لوح محفوظ یا نامہ اعمال) ہے جس میں ان کے تمام اعمال محفوظ ہیں۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اعمال کے مطابق جزا دے گا۔ اور پھر فرمایا کہ میرا پروردگار ایسا علیم وخبیر ہے کہ اس کو لکھنے کی ضرورت نہیں اس لیے کہ میرا پروردگار نہ غلطی کرتا ہے اور نہ بھولتا ہے۔ اس کا علم سہو و نسیان اور خفا اور غلطی سے پاک اور منزہ ہے۔ اس کو لکھنے کی ذرہ برابر ضرورت نہیں البتہ اہتمام حجت کے لیے بندوں کے اعمال کو ایک کتاب میں محفوظ کردیا ہے تاکہ کوئی مجرم انکار نہ کرسکے۔ غرض یہ کہ ان کی مثل دفتر خداوندی میں محفوظ ہے۔ وقت پر سزا کا حکم سنا دیا جائے گا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا علم غلطی اور نسیان سے پاک اور منزہ ہے۔ بخلاف تیرے کہ تیرا علم سرتاپا غلط ہے اور سہو اور نسیان کی آماجگاہ ہے اور پھر اس پر دعویٰ ربوبیت بھی ہے اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے امم سابقہ کے مال کو علم خداوندی کے حوالے اس لیے کیا کہ ابھی تک توریت نازل نہیں ہوئی تھی جس سے گزشتہ امم کا کچھ حال معلوم ہوتا ہے۔ توریت فرعون کی ہلاکت کے بعد نازل ہوئی۔ (دیکھو زاد المسیر صفحہ 292 ج 5) موسیٰ (علیہ السلام) کا اصل مقصد اثبات ربوبیت خداوندی تھا۔ جس پر ابتداء کلام میں دلائل قائم فرمائے۔ پھر جب فرعون نے اس بات کو رلانے کے لیے پہلی قوموں کا حال پوچھنا شروع کیا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کے جواب میں یہ ارشاد فرمایا۔ علمھا عند ربی فی کتب۔ سو موسیٰ (علیہ السلام) نے اس جواب میں بھی اصل مدعا (اثبات الوہیت صانع) کی ایک اور دلیل کی طرف اشارہ فرمایا۔ وہ یہ کہ خدا تعالیٰ کے لیے ضروری ہے کہ وہ علام الغیوب ہو اور ایسا علیم وخبیر ہو کہ جس کے علم میں کسی غلطی اور سہو و نسیان کا امکان نہ ہو اور ظاہر ہے کہ یہ بات تجھ میں نہیں گزشتہ قوموں کا حال نہ میں جانتا ہوں اور نہ تو جانتا ہے۔ تیری لاعلمی اور جہالت تیرے سامنے ہے پھر کس بناء پر الوہیت اور ربوبیت کا دعویٰ کرتا ہے۔ جہالت اور ربوبیت کا اجتماع عقلا محال ہے۔ میں تو خدا کا نبی اور رسول ہوں اور نبی کے لیے غیب دان ہونا ضروری نہیں اور تو تو مدعی ربوبیت ہے تیرے بےعلم غیب ضروری ہے اور ظاہر ہے کہ وہ تجھ میں نہیں پھر بتلا کس بنا پر تو نے ربوبیت کا دعویٰ کیا۔ اے مدعی ربوبیت تو اگر ذرا عقل سے کام لے تو سمجھ جائے کہ تو اس عالم کا رب نہیں ہوسکتا اس لئے کہ عالم کا یہ عجب و غریب کارخانہ اور محکم نظام خود بخود محض بخت و اتفاق سے یا مادہ اور ایتھر کی حرکت سے نہیں چل رہا ہے بلکہ کسی علیم و قدیر کے دست قدرت سے چل رہا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) اس جواب کے بعد پھر اصل مقصد یعنی اثبات الوہیت خداوندی کی طرف متوجہ ہوئے اور اوصاف خداوندی بیان کرنے شروع کیے جو اس کی ربوبیت کے دلائل ہیں۔ اور فرمایا کہ میرا رب جس نے مجھ کو تیری طرف پیغمبر بنا کر بھیجا ہے وہ رب ہے کہ جس نے تمہارے لیے زمین کو فرش بنایا تاکہ تم اس پر آرام کرسکو اور مزے کے ساتھ اس پر چل پھر سکو اور زمین عجیب فرش ہے کہ جو نہ لوہے کی مانند بہت سخت ہے کہ جس پر لیٹنے سے جسم کو تکلیف ہو اور نہ روئی اور گارے کی طرح نرم ہے جس میں پاؤں دھنسنے لگیں۔ اور اسی رب نے تمہارے چلنے کے لیے اس زمین میں راستے بنا دئیے تاکہ ایک جگہ سے دوسری جگہ جا سکو اور اسی رب نے آسمان سے تمہارے لیے پانی اتارا تاکہ تم اس سے زندہ رہ سکو پھر ہم نے اس پانی کے ذریعے قسم قسم کے نباتات اگائے باوجودیکہ زمین ایک ہے اور پانی ایک ہے اور ہوا ایک ہے مگر ہر ایک کا مزہ اور رنگ اور بو مختلف ہے اور تم کو اجازت دی کہ ان میں سے خود بھی کھاؤ اور اپنے جانوروں کو بھی چراؤ یہ سب تمہاری حیات اور زندگی کا سامان ہوا پس جس رب نے مجھ کو رسول بنا کر بھیجا ہے وہ ایسا ہے اور ان صفتوں کے ساتھ موصوف ہے۔ بیشک ان چیزوں میں عقلمندوں کے لیے ہماری قدرت اور ربوبیت کی کتنی ہی نشانیاں ہیں۔ البتہ جو عقلیں نفسانی خواہشوں کی پیرو بن گئی ہیں وہ ان روشن دلائل سے اندھی اور بہری بنی ہوئی ہیں۔ : نھی جمع نھیۃ کی ہے جیسے غرف جمع غرفۃ کی ہے۔ نھیۃ اس عقل کو کہتے ہیں جو انسان کو قبیح باتوں سے روکے۔ پس اے فرعون تو جو خدائی کا دعویٰ کرتا ہے تو بتلا کہ تجھ میں بھی ان صفات کا کوئی شمہ پایا جاتا ہے نہ تو نے زمین بنائی اور نہ آسمان بنایا۔ اور نہ تو خود بخود پیدا ہوا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے جو دلائل قدرت اور براہین الوہیت پیش کیے وہ دہریوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہیں اگر عقل ہے تو سمجھ لیں گے کہ ہمارا معبود اور ہمارا پالنے والا سوائے اس خدا کے کوئی نہیں جس میں یہ صفات پائی جاتی ہیں۔ بیان مبدأ و معاد موسیٰ (علیہ السلام) ان دلائل قدرت کے بیان کرنے کے بعد مبداء اور معاد کے بیان کی طرف متوجہ ہوئے کہ تم سب مٹی سے پیدا ہوئے جو تمہارا مبداء ہے اور پھر مر کو اسی کی طرف لوٹا دئیے جاؤ گے اور اسی میں رل مل جاؤ گے۔ اور پھر قیامت کے دن ہم تم کو اسی مٹی سے نکالیں گے۔ چناچہ فرماتے ہیں اے لوگو ! جس طرح زمین سے ہم نے بنایات کو پیدا کیا۔ اسی طرح ہم نے تم کو زمین سے پیدا کیا۔ انسان کے زمین سے پیدا ہونے کے معنی یہ ہیں کہ انسان کی پیدائش نطفہ سے ہے اور نطفہ خلاصہ ہے غذا کا اور غذا زمین سے پیدا ہوتی ہے اور ہمارے باپ آدم (علیہ السلام) ابتداء مٹی ہی سے پیدا ہوئے تھے۔ اور تمام افراد بشری آدم (علیہ السلام) کی پشت میں مضمر اور مستتر تھے۔ بہر حال انسان کی اضلیت مٹی ہے۔ اور پھر مرے پیچھے ہم تم کو زمین میں لوٹا دیں گے یعنی تم زمین میں دفن کر دئیے جاؤ گے۔ اور اگر جلا دئیے گئے تو تمہاری راک مٹی میں ملا دی جائے گی۔ اور اسی زمین میں سے ہم تم کو دوبارہ قیامت کے دن حساب اور کتاب کے لیے نکالیں گے۔ لہٰذا تم کو چاہئے کہ زمین کا مراقبہ کیا کرو۔ زمین ہر وقت تمہاری نظروں کے سامنے ہے۔ اس میں غور کیا کرو کہ وہ تمہارا مبداء اور منشاء ہے۔ تم اسی زمین سے پیدا ہوئے اور پھر مرنے کے بعد اسی زمین میں لوٹا دئیے جاؤ گے اور پھر قیامت کے دن اسی زمین سے تم نگالے جاؤ گے۔ اور تم کو تمہارے اعمال کی جزاء ملے گی۔ لہٰذا سوچ لو اور اس دن کے لئے کچھ ذخیرہ جمع کرلو اس زمین میں دلائل ربوبیت بھی ہیں اور دلائل قیامت بھی جس خدا نے پہلی بار تم کو مٹی سے پیدا کیا اور پھر مٹی ہی میں تم کو دفن کرا کے امانت رکھا وہی خدا پھر تم کو مٹی سے نکال سکتا ہے۔