20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 20:1–4

مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰۤىۙ Open ayah 20:2 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ ہم نے تم پر قرآں اس لئے نازل نہیں کیا کہ تم مشقت میں پڑجاؤ

اِلَّا تَذْكِرَةً لِّمَنْ یَّخْشٰىۙ Open ayah 20:3 in the Quran reader

بلکہ اس شخص کو نصیحت دینے کے لیے (نازل کیا ہے) جو خوف رکھتا ہے

تَنْزِیْلًا مِّمَّنْ خَلَقَ الْاَرْضَ وَ السَّمٰوٰتِ الْعُلٰىؕ Open ayah 20:4 in the Quran reader

یہ اس (ذات برتر) کا اتارا ہوا ہے جس نے زمین اور اونچے اونچے آسمان بنائے

1۔ 4:۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق یہ سورة مکی ہے مجاہد کے قول کے موافق طٰہٰ حروف مقطعات میں سے ہے حروف مقطعات کی تفسیر کا ذکر سورة بقرہ کے شروع میں گزر چکا ہے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب تہجد کی نماز فرض ہوئی تو اللہ کے رسول ﷺ تہجد کی نماز میں یہاں تک کھڑے رہتے تھے کہ آپ کے پیروں پر ورم آجاتا تھا آپ کا یہ حال دیکھ کر مکہ کے مشرک لوگ کہتے تھے یہ قرآن محمد ﷺ کو محنت اور مشقت میں ڈالنے کے لیے اتارا گیا ہے 1 ؎۔ اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کی اس بات کے جواب میں فرمایا اے رسول اللہ کے یہ قرآن اللہ تعالیٰ نے تم پر تکلیف اٹھانے کے لیے نہیں اتارا بلکہ یہ قرآن تو ان لوگوں کی نصیحت کے لیے اتارا ہے جن کے دل میں آخرت کے عذاب کا ڈر ہے جن لوگوں کے دل میں آخرت کے عذاب کا ڈر نہیں ہے وہ مسخراپن سے ایسی باتیں کرتے ہیں کہ قرآن تم کو اور مسلمانوں کو محنت اور مشقت میں ڈالنے کے لیے اترا ہے یہ منکر قرآن لوگ قیامت کے دن نیک کام والوں کے محنت اور مشقت کے اجر کو دیکھیں گے تو پچھتائیں گے کہ انہوں نے یہ محنت ومشقت کیوں نہیں اٹھائی مشرکین مکہ یہ جو کہتے تھے کہ یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں ہے بلکہ محمد ﷺ نے خود بنا لیا ہے مشرکین کی اس بات کو جھٹلانے کے لیے فرمایا یہ قرآن اس صاحب قدرت کا اتارا ہوا ہے جس نے زمین اور آسمان کو پیدا کیا ہے اس لیے اس قرآن سے اس کی یہ قدرت ظاہر ہوتی ہے کہ اس نے ان پڑھ رسول پر یہ اپنا ایسا کلام اتارا ہے کہ ان پڑھ آدمی تو کیا اہل کتاب بھی قرآن میں کی غیب کی باتیں بغیر تائید غیبی کے ہرگز نہیں بتا سکتے صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایت کئی جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا اور معجزوں کے علاوہ قرآن کا ایک ایسا معجزہ مجھ کو دیا گیا ہے جس سے مجھے امید ہے کہ قیامت کے دن قرآن کے پیرو لوگوں کی تعداد اور آسمانی کتابوں کے پیروؤں سے زیادہ ہوگی 2 ؎۔ اس ضعف اسلام کے زمانہ میں فقط قرآن کی ہدایت سے غیر قوموں کے لوگ جو قرآن کے پیرو بن رہے ہیں اس سے اس حدیث کا مطلب اور قرآن کے کلام الٰہی ہونے کا ثبوت اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے۔ معتبر سند سے ترمذی میں عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ ایک آسمان سے دوسرے آسمان کی پانسو برس کی راہ کی اونچائی ہے 3 ؎۔ یہ حدیث والسموت العلی کی تفسیر ہے جس سے آسمانوں کی اونچائی کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے۔ 1 ؎ الدر المنثور ص 289 ج 4۔ 2 ؎ مشکوٰۃ ص 512 باب فضائل سید المرسلین۔ 3 ؎ تفسیر ابن کثیر تفسیر آیت ہذا مگر جامع ترمذی کی یہ روایت بروایت ابوہریرہ ؓ ہے مشکٰوۃ ص 510 باب بدء الخلق فصل تیسری۔
Ayah 20:5

اَلرَّحْمٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوٰى Open ayah 20:5 in the Quran reader

(یعنی خدائے) رحمن جس نے عرش پر قرار پکڑا

5:۔ سورة آل عمران میں بیان ہوچکا ہے کہ اس طرح کی متشابہت آیتوں میں سلف کا مذہب یہی ہے کہ ایسی آیتوں کے ظاہر معنے پر ایمان لانا چاہیے اور ان کی تفصیلی کیفیت اللہ کے علم پر سونپنی چاہیے بعضے مفسروں نے آیت کے یہ معنے جو کیے معنے کے اور جس قدر تاویلی معنی مفسرین متاخرین نے کیے ہیں وہ سب سلف کے مخالف ہیں اور تفسیر قرآن میں جس قدر سلف کی مخالفت مضر اور ان کے پیروی ضرور ہے وہ ہر ایک مسلمان کو خوب معلوم ہے کیونکہ تفسیر قرآن اور روایت حدیث کے باب میں یہ صحیح حدیثوں سے ثابت ہوچکا ہے کہ جو کوئی بغیر نقل شرعی کے اس باب میں اپنی رائے اور عقل کو دخل دے گا اس کا ٹھکانا دوزخ ہے تو پھر بغیر اس کے چارہ نہیں ہے کہ متشابہ آیتوں کی تفسیر میں صحابہ تابعین نے جو طریقہ اختیار کیا ہے وہی طریقہ اختیار کیا جائے تاکہ مخالفت سلف میں عقل اور رائے کا دخل تفسیر قرآن میں ہو کر حدیث کی وعید میں آدمی گرفتار نہ ہوجائے ترمذی ابوداؤد ابن ماجہ اور مسند امام احمد بن حنبل میں یہی وعید کی حدیث چند صحابہ کی روایت سے آئی ہے 1 ؎۔ جس کا حاصل یہی ہے کہ تفسیر قرآن روایت حدیث میں جو کوئی عقل کو کام میں لائے گا اس کا ٹھکانہ جہنم ہے حاصل کلام یہ ہے کہ جب حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ اور عبد اللہ بن عباس ؓ اور چند صحابہ ؓ سے متشابہ آیتوں کے باب میں یہی صراحت آچکی ہے کہ سوائے اللہ کے ان کے معنیٰ کوئی نہیں جانتا جو ان کے معنے جاننے کا دعویٰ کرے وہ نازیبا ہے کیونکہ صحیحین کی حضرت عائشہ ؓ کی حدیث میں آنحضرت ﷺ نے متشابہ آیتوں کی تاویل سے منع فرمایا ہے 2 ؎۔ کہ جس کو تاویل کرتے دیکھو اس کو ڈرا دو اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ تاویل کا طریقہ بڑے خوف کی چیز ہے حاصل مطلب اس آیت کا یہ ہے کہ جس طرح سے عرش پر ہونا اللہ تعالیٰ کی شان کے مناسب ہے اسی طرح بلا مشابہت دنیا کے بادشاہوں کے اللہ تعالیٰ جل شانہ ‘ عرش پر ہے جس کی تفصیلی کیفیت اللہ ہی کو معلوم ہے حاصل کلام یہ ہے کہ حاضر پر غائب کو قیاس کیا جاکر دین میں کوئی بات کہی جائے تو اس میں غلطی کا گمان باقی رہ جاتا ہے اس واسطے تمام سلف نے متشابہ آیتوں کے معنے میں اس طریقہ کو پسند نہیں کیا بلکہ اسی طریقہ کو پسند کیا ہے جو اوپر بیان کیا گیا۔ 1 ؎ مشکوٰۃ ص 35 کتاب العلم۔ 2 ؎ تفسیر ہذاج 1 ص 222۔
Ayahs 20:6–8

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا وَ مَا تَحْتَ الثَّرٰى Open ayah 20:6 in the Quran reader

جو آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور جو کچھ ان دونوں کے بیچ ہے اور جو کچھ (زمین کی) مٹی کے نیچے ہے سب اسی کا ہے

وَ اِنْ تَجْهَرْ بِالْقَوْلِ فَاِنَّهٗ یَعْلَمُ السِّرَّ وَ اَخْفٰى Open ayah 20:7 in the Quran reader

اور اگر تم پکار کر بات کہو تو وہ چھپتے بھید اور نہایت پوشیدہ بات کو جانتا ہے

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى Open ayah 20:8 in the Quran reader

(وہ معبود برحق ہے کہ) اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اس کے (سب) نام اچھے ہیں

6۔ 8:۔ مطلب یہ ہے کہ آسمان سے لے کر ساتویں زمین کے نیچے تک سب کچھ اللہ کے قبضہ اور اختیار میں ہے اور یہ سب کچھ اس نے اس طرح پیدا کیا ہے کہ اس میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے علم اس کا ایسا وسیع ہے کہ آدمی کے دل میں جو بات آچکی یا آنے والی ہے یہ سب اس کو معلوم ہے ایسے معبود کی تعظیم میں جو دوسروں کو شریک کرتے ہیں وہ بڑے نادان ہیں کیونکہ سوائے اللہ کے انسان کو انسان کی ضرورت کی چیزوں کو کسی دوسرے نے پیدا نہیں کیا جو انسان پر اس کی تعظیم واجب ہو نہ سوائے اللہ کے کسی دوسرے کو انسان کے دل کے مقصد کی خبر ہے نہ کسی مقصد کے پورا کرنے کا کسی دوسرے کو اختیار ہے مشرکین مکہ کو جب اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی باتیں سمجھائی جاتی تھیں تو وہ مشرک مسلمانوں سے کہتے تھے کہ تم بھی تو کبھی اللہ ‘ کبھی رحمن ‘ کبھی رحیم کہہ کر دعائیں مانگتے ہو پھر اللہ کو وحدہ لاشریک بھی کہتے ہو اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کرے گا وہ جنت میں داخل ہوگا 1 ؎۔ زیادہ تفصیل اس کی سورة الاعراف میں گزر چکی ہے۔ 1 ؎ صحیح بخاری ص 1099 ج 2 باب ان للہ ماتہ اسم الا واحدا۔
Ayahs 20:9–16

وَ هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ مُوْسٰىۘ Open ayah 20:9 in the Quran reader

اور کیا تمہیں موسیٰ (کے حال) کی خبر ملی ہے ؟

اِذْ رَاٰ نَارًا فَقَالَ لِاَهْلِهِ امْكُثُوْۤا اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْۤ اٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِقَبَسٍ اَوْ اَجِدُ عَلَى النَّارِ هُدًى Open ayah 20:10 in the Quran reader

جب انہوں نے آگ دیکھی تو اپنے گھر کے لوگوں سے کہا کہ تم (یہاں) ٹھیرو میں نے آگ دیکھی ہے (میں وہاں جاتا ہوں) شاید اس میں سے میں تمہارے پاس انگاری لاؤں یا آگ (کے مقام) کا راستہ معلوم کرسکوں

فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا نُوْدِیَ یٰمُوْسٰىؕ Open ayah 20:11 in the Quran reader

جب وہاں پہنچے تو آواز آئی کہ موسیٰ

اِنِّیْۤ اَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَیْكَ١ۚ اِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًىؕ Open ayah 20:12 in the Quran reader

میں تو تمہارا پروردگار ہوں تو اپنی جوتیاں اتارو تم (یہاں) پاک میدان (یعنی) طوٰی میں ہو

وَ اَنَا اخْتَرْتُكَ فَاسْتَمِعْ لِمَا یُوْحٰى Open ayah 20:13 in the Quran reader

اور میں نے تم کو انتخاب کرلیا ہے جو حکم دیا جائے اسے سنو

اِنَّنِیْۤ اَنَا اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدْنِیْ١ۙ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِیْ Open ayah 20:14 in the Quran reader

بیشک میں خدا ہوں میرے سوا کوئی معبود نہیں تو میری عبادت کرو اور میری یاد کے لیے نماز پڑھا کرو

اِنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ اَكَادُ اُخْفِیْهَا لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا تَسْعٰى Open ayah 20:15 in the Quran reader

قیامت یقینا آنے والی ہے میں چاہتا ہوں کہ اس (کے وقت) کو پوشیدہ رکھوں تاکہ ہر شخص جو کوشش کرے اس کا بدلہ پائے

فَلَا یَصُدَّنَّكَ عَنْهَا مَنْ لَّا یُؤْمِنُ بِهَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ فَتَرْدٰى Open ayah 20:16 in the Quran reader

تو جو شخص اس پر ایمان نہیں رکھتا اور اپنی خواہش کے پیچھے چلتا ہے (کہیں) تم کو اس (کے یقین) سے روک نہ تو (اس صورت میں) تم ہلاک ہوجاؤ

9۔ 16:۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ کے ذکر سے یہاں یہ مطلب ہے کہ جس طرح قریش میں کے سرکش لوگ اے رسول اللہ کے تم سے وہ گستاخی کی باتیں کرتے ہیں جن کا ذکر اوپر گزرا اسی طرح فرعون نے بھی موسیٰ (علیہ السلام) سے بہت سرکشی کی باتیں کیں تھیں لیکن آخر کو اللہ کے رسول موسیٰ (علیہ السلام) کا غلبہ ہوا اور فرعون ڈوب کر ہلاک ہوگیا وقت مقررہ پر یہی انجام اب ہونے والا ہے کہ اسلام کا غلبہ ہو کر مکہ کی ہر گلی کوچہ میں کلمہ گو نظر آئیں گے اور جن بتوں کی حمایت میں یہ مشرک لوگ سرکشی کی باتیں کرتے ہیں ان بتوں کی اور ان کے پوجنے والوں کی نہایت ذلت ہوگی اللہ سچا ہے۔ چناچہ قرآن شریف کی اس غیب کی خبر کا ظہور فتح مکہ کے وقت جو کچھ ہوا صحیح بخاری کی عبداللہ بن مسعود ؓ اور صحیح مسلم کی ابوہریرہ ؓ کی روایتوں کے حوالہ سے اس کا ذکر کئی جگہ گزر چکا ہے کہ ان بتوں کو اللہ کے رسول ؓ نے اپنے ہاتھ کی لکڑی مار مار کی زمین پر گرا دیا 1 ؎۔ اور کسی مشرک کا اتنا حوصلہ نہ ہوا کہ وہ اپنے جھوٹے معبودوں کی حمایت کرتا۔ مسند امام احمد کے حوالہ سے عبداللہ بن عباس کی یہ معتبر روایت بھی گزر چکی ہے 2 ؎۔ کہ شیطان اس غلبہ اسلام کو دیکھ کر بہت رویا حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ شعیب (علیہ السلام) سے اجازت لے کر موسیٰ (علیہ السلام) مدین سے مصر کو اپنی ماں اور اپنے بھائی ہارون سے ملنے کے لیے آر ہے تھے تو اس سفر میں ان کی بی بی بھی ان کے ساتھ تھیں زنانے ساتھ کے سبب سے موسیٰ (علیہ السلام) راتوں کو راستہ چلتے تھے وہ سخت جاڑے کا موسم تھا برف کے پڑنے سے ایک رات بڑی سردی ہوئی اور اتفاق سے اس رات کو موسیٰ (علیہ السلام) راستہ میں بھول گئے اسی حالت میں پہاڑ کی داہنی طرف ان کو کچھ آگ کی سی روشنی دکھائی دی اس روشنی کو دیکھ کر انہوں نے اپنی بی بی سے کہا تم یہیں ٹھہری رہو میں جہاں یہ آگ کی روشنی ہے وہاں جاتا اپنے کے لیے کچھ آگ بھی لے آتا ہوں اور آگ کے پاس کوئی آدمی ملا تو اس سے راستہ بھی پوچھ لوں گا جب موسیٰ (علیہ السلام) آگ کے پاس پہنچے تو ان کو آواز آئی کہ اے موسیٰ میں تمہارا رب ہوں تم طوٰی نام کے پاک میدان میں ہو اس لیے تم اپنی جوتیاں اتار ڈالو اور اللہ تعالیٰ نے تم کو نبوت کے لیے پسند کیا ہے اس واسطے تم کو جو حکم دیا جاتا ہے اس کو سنو وہ حکم یہ ہے کہ سوا اللہ کے اور کوئی معبود نہیں ہے اسی کی عبادت کیا کرو اور اس کی یاد قائم رہنے کے لیے نماز پڑھا کرو اور یاد رکھو کہ دنیا نیک وبد کے امتحان کے لیے پیدا کی گئی ہے اس واسطے نیکی وبدی کی جزاو سزا کے واسطے قیامت ایک روز ضرور آنے والی ہے جس کے آنے کا وقت سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی دوسرے کو معلوم نہیں ہے جو لوگ قیامت کے آنے کے قائل نہیں ہیں وہ عقبیٰ کی بہبودی کے کاموں سے غافل ہیں اور جو ان کا جی چاہتا ہے سو کرتے ہیں ایسے لوگوں کا کہنا نہ مانوں کیونکہ وہ راستہ ہلاکت کا ہے پاک جوتیوں سے نماز پڑھنے اور یہود سے مخالفت کرنے کی جن حدیثوں کا حوالہ شاہ صاحب نے اپنے فائدہ میں بیان کیا ہے اس میں سے یہود سے مخالفت کرنے کی حدیث شداد بن اوس کی روایت سے ابوداؤد اور صحیح ابن حبان میں ہے 3 ؎۔ اور اس کی سند بھی معتبر ہے اسی طرح جوتیوں کے پاک ہونے کی حدیث ابوداؤد میں ابوسعید خدری کی روایت ہے 4 ؎۔ اس کی سند بھی صحیح ہے ان حدیثوں کی بنا پر اکثر علماء کا قول ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی جوتیاں ناپاک تھیں کچھ نجاست ان میں لگی ہوئی تھی اس واسطے ان کے اتار دینے کا حکم ہوا۔ حضرت عبداللہ بن عباس کا قول ہے کہ وہ روشنی جو موسیٰ (علیہ السلام) کو نظر آئی وہ اللہ تعالیٰ کا نور تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) اس نور کی روشنی کو آگ کی روشنی سمجھے تھے اس لیے ان کے کلام میں نور کو نار فرمایا بعضے علماء کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ کے منہ کے آگے جو پردے ہیں ان میں ایک پردہ آگ کا بھی ہے یہ اسی کو روشنی تھی جو موسیٰ (علیہ السلام) کو نظر آئی۔ صحیح مسلم میں ابو موسیٰ اشعری سے جو روایتیں اللہ تعالیٰ کے منہ کے آگے کے پردوں کے ذکر میں ہیں ان میں نور اور نار دونوں لفظ آئے ہیں 5 ؎۔ اس واسطے دونوں قول صحیح معلوم ہوتے ہیں ابو موسیٰ اشعری کی روایت میں یہ بھی ہے کہ اگر اللہ کے منہ کے آگے سے پردے اٹھ جائیں تو اس کے جلال سے تمام عالم جل جائے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے یہ جو فرمایا کہ وہ روشنی جو موسیٰ (علیہ السلام) کو نظر آئی وہ اللہ تعالیٰ کا نور تھا اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے منہ پر نور کا جو پردہ ہے وہ اس نور کے پردہ کا نور تھا کیونکہ اس حدیث کے موافق اللہ تعالیٰ کی تجلی کے دیکھنے کی تمام عالم میں کسی کو تاب نہیں سورة الاعراف میں جو قصہ گزرا کہ اللہ تعالیٰ کی تجلی سے پہاڑ ٹوٹ کر گر پڑا اور موسیٰ (علیہ السلام) بیہوش ہوگئے اس سے اس حدیث کا مطلب اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے قول کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے صحیح مسلم وغیرہ میں جو روایتیں ہیں کہ دنیا کی آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کو کوئی نہیں دیکھ سکتا 6 ؎۔ ان سے بھی حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے قول کا وہی مطلب قرار پاتا ہے جو اوپر بیان کیا گیا کہ وہ روشنی جو موسیٰ ؓ کو نظر آئی وہ اللہ تعالیٰ کے نور کے پردہ کی روشنی تھی اسی واسطے اس نور کے دیکھنے کے بعد سورة الاعراف کے قصہ کی طرح موسیٰ (علیہ السلام) بیہوش نہیں ہوئے منہ اور اس کے آگے کے پردے دنیا میں جسم کے ساتھ خصوصیت رکھنے کی چیزیں ہیں اور اللہ تعالیٰ جسم سے پاک ہے اس لیے جس طرح متشابہ آیتوں کی تفصیلی کیفیت کا اللہ تعالیٰ کے علم پر سونپنے کا طریقہ سلف نے اختیار کیا ہے وہی طریقہ سلف نے اس قسم کی حدیثوں کے معنے میں بھی اختیار کیا ہے۔ صحیح بخاری ومسلم میں عدی بن حاتم سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا حساب و کتاب کے وقت قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بلا واسطہ ہر شخص سے کلام کرے گا 7 ؎۔ معتزلہ فرقہ کے لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے موسیٰ (علیہ السلام) کو آواز دینے اور ان سے کلام کرنے کا یہ مطلب جو بیان کیا ہے کہ طور پہاڑ کی داہنی طرف جو پیڑ تھا اللہ تعالیٰ نے اس میں گویائی کی قوت پیدا کردی تھی اسی آواز کو موسیٰ (علیہ السلام) نے سنا کیونکہ بلا واسطہ بات چیت کرنے کا جو صاف ذکر ہے اس سے معتزلہ فرقہ کے اعتقاد کی غلطی اچھی طرح ثابت ہوتی ہے اس کی زیادہ تفصیل سورة الاعراف میں گزر چکی ہے۔ صحیح بخاری ومسلم میں انس بن مالک سے جو روایتیں ہیں ان میں اللہ کے رسول ﷺ نے واقم الصلوۃ لذکری کی تفسیر یوں فرمائی ہے کہ جو شخص کسی وقت کی نماز پڑھنی بھول جائے تو جب یاد آئے اسی وقت وہ بھولی ہوئی نماز پڑھ لے کہ اس بھول کا یہی کفارہ ہے 8 ؎۔ 1 ؎ صحیح بخاری ص 614 ج 2 باب این رکز البنی ﷺ الرایۃ یوم الفتح۔ 2 ؎ تفسیر ہذاص 270 ج 3۔ 3 ؎ ابوداؤد ص 95 ج 1 باب الصلوٰۃ فی النعل۔ 4 ؎ ابوداؤد ص 98 ج 1 باب الصلوٰۃ فی النعل۔ 5 ؎ صحیح مسلم ص 99 ج 1 اثبات رویتۃ المومنین الخ۔ 6 ؎ صحیح مسلم ص 959 ج 1 باب معنی قول اللہ عزوجل ولقدراہ نزلۃ اخری الخ۔ 7 ؎ صحیح بخاری ص 1119 ج 2 باب کلام الرب یوم القیمۃ الخ۔ 8 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 144 ج 2 مشکوٰۃ ص 61 باب تعجیل الصلوٰۃ فصل اول۔
Ayahs 20:17–36

وَ مَا تِلْكَ بِیَمِیْنِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:17 in the Quran reader

اور موسیٰ یہ تمہارے داہنے ہاتھ میں کیا ہے ؟

قَالَ هِیَ عَصَایَ١ۚ اَتَوَكَّؤُا عَلَیْهَا وَ اَهُشُّ بِهَا عَلٰى غَنَمِیْ وَ لِیَ فِیْهَا مَاٰرِبُ اُخْرٰى Open ayah 20:18 in the Quran reader

انہوں نے کہا یہ میری لاٹھی ہے اس پر میں سہارا لگاتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں کے لئے پتے جھاڑتا ہوں اور اس میں میرے اور بھی کئی فائدے ہیں

قَالَ اَلْقِهَا یٰمُوْسٰى Open ayah 20:19 in the Quran reader

فرمایا کہ موسیٰ اسے ڈالدو

فَاَلْقٰىهَا فَاِذَا هِیَ حَیَّةٌ تَسْعٰى Open ayah 20:20 in the Quran reader

تو انہوں نے اس کو ڈال دیا اور ناگہاں سانپ بن کر دوڑنے لگا

قَالَ خُذْهَا وَ لَا تَخَفْ١ٙ سَنُعِیْدُهَا سِیْرَتَهَا الْاُوْلٰى Open ayah 20:21 in the Quran reader

(خدا نے) فرمایا اسے پکڑ لو اور ڈرنا مت ہم اس کو ابھی اس کی پہلی حالت پر لوٹا دیں گے

وَ اضْمُمْ یَدَكَ اِلٰى جَنَاحِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ اٰیَةً اُخْرٰىۙ Open ayah 20:22 in the Quran reader

اور اپنا ہاتھ اپنی بغل سے لگا لو وہ کسی عیب (و بیماری) کے بغیر سفید (چمکتا دمکتا) نکلے گا۔ یہ دوسری نشانی ہے

لِنُرِیَكَ مِنْ اٰیٰتِنَا الْكُبْرٰىۚ Open ayah 20:23 in the Quran reader

تاکہ ہم تمہیں اپنے نشانات عظیم دکھائیں

اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى۠ Open ayah 20:24 in the Quran reader

تم فرعون کے پاس جاؤ (کہ) وہ سرکش ہو رہا ہے

قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْۙ Open ayah 20:25 in the Quran reader

کہا میرے پروردگار (اس کام کے لئے) میرا سینہ کھول دے

وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْۙ Open ayah 20:26 in the Quran reader

اور میرا کام آسان کر دے

وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْۙ Open ayah 20:27 in the Quran reader

اور میری زبان کی گرہ کھول دے

یَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪ Open ayah 20:28 in the Quran reader

تاکہ وہ میری بات سمجھ لیں

وَ اجْعَلْ لِّیْ وَزِیْرًا مِّنْ اَهْلِیْۙ Open ayah 20:29 in the Quran reader

اور میرے گھروالوں میں سے (ایک کو) میرا وزیر (یعنی مددگار) مقرر فرما

هٰرُوْنَ اَخِیۙ Open ayah 20:30 in the Quran reader

(یعنی) میرے بھائی ہارون کو

اشْدُدْ بِهٖۤ اَزْرِیْۙ Open ayah 20:31 in the Quran reader

اس سے میری وقت کو مضبوط فرما

وَ اَشْرِكْهُ فِیْۤ اَمْرِیْۙ Open ayah 20:32 in the Quran reader

اور اسے میرے کام میں شریک کر

كَیْ نُسَبِّحَكَ كَثِیْرًاۙ Open ayah 20:33 in the Quran reader

تاکہ ہم تیری بہت سی تسبیح کریں

وَّ نَذْكُرَكَ كَثِیْرًاؕ Open ayah 20:34 in the Quran reader

اور تجھے کثرت سے یاد کریں

اِنَّكَ كُنْتَ بِنَا بَصِیْرًا Open ayah 20:35 in the Quran reader

تو ہم کو ہر حال میں دیکھ رہا ہے

قَالَ قَدْ اُوْتِیْتَ سُؤْلَكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:36 in the Quran reader

فرمایا موسیٰ تمہاری دعا قبول کی گئی

17۔ 32:۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو پیغمبری جو ملی اوپر اس کا ذکر تھا ان آیتوں میں معجزوں کے ملنے کا ذکر ہے اگرچہ کوئی چیز اللہ تعالیٰ کے علم سے باہر نہیں ہے لیکن موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ بات جتلانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان سے اس لکڑی کا حال پوچھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) بھی جس لکڑی کا حال بیان کر رہے تھے اللہ تعالیٰ نے دم بھر میں اس کو اپنی قدرت سے سانپ بنا دیا اس بات کے اچھی طرح جتلانے میں یہ حکمت تھی کہ فرعون کو معجزہ دکھانے اور جادوگروں کے مقابلہ کے وقت اس لکڑی کا سانپ بن جانا موسیٰ (علیہ السلام) کے دھیان میں رہے حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) سے جب اللہ تعالیٰ نے پوچھا اے موسیٰ ( علیہ السلام) تمہارے داہنے ہاتھ میں یہ کیا چیز ہے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا یہ میرے ہاتھ کی لکڑی ہے بکریاں چرانے کے وقت اس پر اپنی تھوڑی ٹیک کر میں کھڑا ہوجاتا ہوں اور اسی سے بکریوں کے لیے درختوں کے پتے جھاڑتا ہوں اور کبھی یہ لکڑی میرے اور کام بھی آجاتی ہے۔ یہ آخری بات اللہ تعالیٰ نے اپنے علم غیب کے موافق موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان سے نکلوائی کیونکہ اسی لکڑی کے کام میں لانے سے پانی کے وہ بارہ چشمے پیدا ہوئے جس کا ذکر سورة البقرہ میں گزرا اور اسی لکڑی کے کام میں لانے سے دریائے قلزم نے راستہ دے دیا جس کا ذکر سورة الشعراء میں آئے گا غرض اس طرح کی غیب کی خبروں سے قرآن شریف کے کلام الٰہی ہونے میں کوئی شبہ باقی نہیں رہتا جب موسیٰ (علیہ السلام) اپنے ہاتھ کی لکڑی کا حال بیان کرچکے تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا موسیٰ ( علیہ السلام) تم اس لکڑی کو زمین میں ڈال دو موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو زمین میں ڈال دیا اور ڈالتے ہی اس لکڑی کا سانپ بن کر دوڑنے لگا یہ حالت دیکھ کو موسیٰ (علیہ السلام) ڈر گئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا موسیٰ ڈرو نہیں اس سانپ کو ہاتھ میں پکڑ لو پھر وہ سانپ کی لکڑی ہوجائے گی۔ اب آگے اللہ تعالیٰ نے دوسرے معجزے کی تدبیر بتلائی کہ موسیٰ ( علیہ السلام) تم اپنے ہاتھ کی ہتھیلی کو بغل میں دبا کر نکالو اور پھر دیکھو کہ تمہارے ہاتھ کی ہتھیلی سفید اور اس میں سورج کی سی روشنی ہوجائے گی یہ سفیدی برص کی بیماری کی طرح نہ ہوگی بلکہ جب تم چاہو گے تو وہ ہتھیلی کی سفیدی جاتی رہے گی یہ تمہارا دوسرا معجزہ ہے اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت دکھانے کے لیے یہ دو بڑے معجزے تم کو دیئے ہیں اب تم مصر میں فرعون کے پاس جاکر اسے یہ معجزے دکھاؤ کہ اس نے بہت سر اٹھایا ہے اپنے آپ کو خدا کہتا ہے جب موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے گھر میں پرورش پائی تھی تو وہ فرعون کے رعب کا حال خوب دیکھ چکے تھے اس واسطے فرعون کے پاس جانے کا حکم سن کر موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ دعا کی کہ یا اللہ تو اپنی رحمت سے میرا دل ایسا کھول دے کہ میں بےدھڑک تیرا پیغام فرعون کو پہنچا دوں اور میرے نزدیک یہ کام بہت مشکل ہے تو ہی اپنی قدرت سے اس کو آسان کردے زبان کے جل جانے کے سبب سے اس میں ایک طرح کا توتلا پن جو ہوگیا ہے وہ بھی جاتا رہے تاکہ فرعون اور اس کی قوم کے لوگ میری بات کو اچھی طرح سمجھیں جس طرح اپنی رحمت سے تو نے مجھ کو پیغمبر بنایا ہے اسی طرح میرے بھائی ہارون کو نبوت دے کر میرا مدگار بنا دے تاکہ اس کے شکریہ میں ہم دونوں بھائی ہر وقت تیری یاد میں لگے رہیں ہماری حالت کچھ تجھ سے چھپی نہیں ہے کہ ہم تیری یاد میں کوتاہی نہیں کرتے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی اس دعا کے جواب میں فرمایا کہ تمہاری دعا قبول ہوگئی تمہاری دعا کے موافق سب باتیں تم کو مل جائیں گی جب موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے گھر میں پرورش پا رہے تھے تو فرعون کی بی بی آسیہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ایک دن فرعون کی گود میں دے دیا موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کی ڈاڑھی نوچ ڈالی اس سے فرعون کو اپنے خواب کی وہ تعبیر یاد آئی جو نجومیوں نے بتلائی تھی کہ بنی اسرائیل میں کا ایک لڑکا ایسا پیدا ہوگا جو فرعون کا دشمن ہوگا اور اس کے ہاتھ سے فرعون کی سلطنت کو زوال آئے گا یہ تعبیر یاد کر کے فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کے مار ڈالنے کا قصد کیا آسیہ نے فرعون کو اس قصد سے روکا اور کہا کہ اتنے چھوٹے بچے بالکل ناسمجھ ہوتے ہیں تم کو میری بات کا یقین نہ ہو تو ایک رکابی میں آگ کے انگارے اور دوسری میں کچھ جواہرات منگا کر اس بچہ کے سامنے رکھو اور دیکھو تو یہ کون سی رکابی میں ہاتھ ڈال دیتا ہے جب یہ رکابیاں آئیں تو موسیٰ (علیہ السلام) جواہرات کی رکابی میں ہاتھ ڈالنا چاہتے تھے لیکن جبرئیل (علیہ السلام) نے ادھر سے موسیٰ (علیہ السلام) کا ہاتھ کھینچ کر انگاروں کی رکابی میں ڈال دیا اور ایک انگارہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ میں دے کر وہی ہاتھ ان کے منہ میں دے دیا جس سے ان کی زبان جل گئی اور اس میں توتلا پن آگیا اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے سورة مریم کی آیت (ووھبنا لہ من رحمتنا اخاہ ھرون نبیا) سے جس طرح ہارون (علیہ السلام) کا نبی ہونا ثابت ہے اسی طرح صحیح بخاری میں سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے حضرت علی سے فرمایا میری نبوت کے زمانہ میں تمہارا وہی مرتبہ ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت میں ہارون (علیہ السلام) کا تھا 1 ؎۔ فقط اتنا ہی فرق ہے کہ ہارون ( علیہ السلام) نبی تھے اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ سورة مریم کی وہ آیت اور یہ حدیث واشر کہ فی امری کی گویا تفسیر ہے جس سے ہارون (علیہ السلام) کا نبی ہونا اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے۔ صحیح بخاری ومسلم میں مالک بن صعصعہ سے اور صحیح مسلم میں انس بن مالک ؓ سے جو معراج کی روایتیں ہیں 2 ؎۔ ان میں یہ ہے کہ معراج کی رات میں پہلے پچاس نمازیں فرض ہوئیں تھیں پھر موسیٰ ( علیہ السلام) کے مشورہ کے موافق خاتم الانبیاء ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے تخفیف کی التجا کی تو پچاس نمازوں کی پانچ رہ گئیں موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت سے امت محمدیہ کو جو فائدہ پہنچا یہ روایتیں گویا اس کی تفسیر ہیں۔ 1 ؎ صحیح بخاری ص 562 ج 1 مناقب علی بان ابی طالب۔ 2 ؎ صحیح مسلم ص 91 ج 1 باب الاسراء برسول اللہ ﷺ الخ۔
Ayahs 20:37–40

وَ لَقَدْ مَنَنَّا عَلَیْكَ مَرَّةً اُخْرٰۤىۙ Open ayah 20:37 in the Quran reader

اور ہم نے تم پر ایک بار اور بھی احسان کیا تھا

اِذْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّكَ مَا یُوْحٰۤىۙ Open ayah 20:38 in the Quran reader

جب ہم نے تمہاری والدہ کو الہام کیا تھا جو تمہیں بتایا جاتا ہے

اَنِ اقْذِفِیْهِ فِی التَّابُوْتِ فَاقْذِفِیْهِ فِی الْیَمِّ فَلْیُلْقِهِ الْیَمُّ بِالسَّاحِلِ یَاْخُذْهُ عَدُوٌّ لِّیْ وَ عَدُوٌّ لَّهٗ١ؕ وَ اَلْقَیْتُ عَلَیْكَ مَحَبَّةً مِّنِّیْ١ۚ۬ وَ لِتُصْنَعَ عَلٰى عَیْنِیْۘ Open ayah 20:39 in the Quran reader

(وہ یہ تھا) کہ اسے (یعنی موسیٰ کو) صندوق میں رکھو پھر اس (صندوق) کو دریا میں ڈال دو تو دریا اسے کنارے پر ڈال دے گا (اور) میرا اور اس کا دشمن اسے اٹھا لے گا اور (موسی) میں نے تم پر اپنی طرف سے محبت ڈال دی (اس لئے کہ تم پر مہربانی کی جائے) اور اس لیے کہ تم میرے سامنے پرورش پاؤ

اِذْ تَمْشِیْۤ اُخْتُكَ فَتَقُوْلُ هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰى مَنْ یَّكْفُلُهٗ١ؕ فَرَجَعْنٰكَ اِلٰۤى اُمِّكَ كَیْ تَقَرَّ عَیْنُهَا وَ لَا تَحْزَنَ١ؕ۬ وَ قَتَلْتَ نَفْسًا فَنَجَّیْنٰكَ مِنَ الْغَمِّ وَ فَتَنّٰكَ فُتُوْنًا١۫۬ فَلَبِثْتَ سِنِیْنَ فِیْۤ اَهْلِ مَدْیَنَ١ۙ۬ ثُمَّ جِئْتَ عَلٰى قَدَرٍ یّٰمُوْسٰى Open ayah 20:40 in the Quran reader

جب تمہاری بہن (فرعون کے ہاں) گئی اور کہنے لگی کہ میں تمہیں ایسا شخص بتاؤں جو اسکو پالے تو (اس طریق سے) ہم نے تم کو تمہاری ماں کے پاس پہنچا دیا تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ رنج نہ کریں۔ اور تم نے ایک شخص کو مار ڈالا تو ہم نے تم کو غم سے مخلصی دی اور ہم نے تمہاری (کئی بار) آزمائش کی پھر تم کئی سال اہل مدین میں ٹھہرے رہے پھر اے موسیٰ تم (قابلیت رسالت کے) اندازے پر آپہنچے

37۔ 40:۔ ان آیتوں کا مطلب سمجھنے کے قابل اس قصہ کا حاصل یہ ہے کہ فرعون نے خواب میں ایک آگ دیکھی جو شام کے ملک سے پیدا ہو کر مصر میں بنی اسرائیل کا محلہ جو کہلاتا تھا سوائے اس محلہ کے مصر کے اور سب گھر جل گئے فرعون نے اس وقت کے نجومیوں سے اپنے اس خواب کی تعبیر پوچھی انہوں نے یہ تعبیر بتلائی کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہونے والا ہے جس کے سبب سے فرعونی سلطنت برباد ہوجائے گی۔ فوعون نے اس تعبیر سے بچنے کے لیے یہ تدبیر نکالی ہے کہ بنی اسرائیل میں جس قدر لڑکے پیدا ہوں ان کو مار ڈالا جائے اور لڑکیوں کو چھوڑ دیا جائے۔ سورة الاعراف میں گزر چکا ہے کہ بنی اسرائیل یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد کو کہتے ہیں جن کا اصلی وطن ملک شام ہے یوسف (علیہ السلام) کی مصر کی سکونت کے سبب سے یہ لوگ مصر میں آن کر آباد ہوئے حاصل یہ ہے کہ بنی اسرائیل کی اصلی سکونت ملک شام کی تھی اور موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے ہزارہا لڑکے قتل ہوگئے اور ان میں کے بڈھے اپنی موت سے مرے تو فرعون کے مصاحبوں نے فرعون سے کہا کہ اس طرح سے تمام بنی اسرائیل ختم ہوجائیں گے اور سلطنت کے محنت مزدوری کے کام جو ان کے ذمہ ہیں ان میں حرج پڑجائے گا اس کے بعد سے فرعون نے یہ حکم دیا کہ ایک سال بنی اسرائیل کے لڑکے قتل کیے جایا کریں اور دوسرے سال چھوڑ دیئے جایا کریں اتفاق سے موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش اس سال میں ہوئی جس میں بنی اسرائیل کے لڑکوں کے قتل کیے جانے کی باری تھی اس واسطے موسیٰ (علیہ السلام) کی جان کی حفاظت کے لیے اللہ تعالیٰ نے جو تدبیر موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں کو بتلائی اس کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اوپر نبوت اور معجزوں کے احسانات کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا کہ اے موسیٰ ( علیہ السلام) اللہ کے احسانات کچھ اسی پر منحصر نہیں ہیں کہ اس نے تم کو نبی کیا معجزے دیئے بلکہ تم پر اس کے یہ احسانات بھی ہیں کہ بنی اسرائیل کے لڑکوں کے قتل کیے جانے کے سال میں جب تمہاری پیدائش ہوئی تو تمہاری جان کی حفاظت کے لیے اللہ تعالیٰ نے تمہاری ماں کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ دودھ پلانے کے بعد وہ تم کو ایک صندوق میں لٹا کر نیل دریا میں وہ صندوق ڈال دیا کریں پھر اللہ کی قدرت سے ایک دن وہ صندوق بہہ کر فرعون کے محل کے نیچے پہنچ گیا جو فرعون اور اس کی بی بی آسیہ نے نکلوایا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں تمہاری ایسی محبت ڈال دی کہ وہ دودھ پلوا کر تمہارے پالنے کو تیار ہوگئے اور اللہ کے حکم سے جب تم نے کسی غیر انا کا دودھ نہ پیا تو تمہاری بہن نے تمہاری ماں کا درپردہ پتہ دیا غرض اس تدبیر سے اللہ تعالیٰ نے تم کو تمہاری ماں کے پاس پہنچا دیا تاکہ تمہارے دیکھنے سے تمہاری ماں کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور تمہاری جدائی کا غم تمہاری ماں کے دل سے جاتا رہے۔ صحیح بخاری میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا تقدیر الٰہی کے موافق جو بات پیش آنے والی ہے وہ ٹل نہیں سکتی کیونکہ اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے نتیجہ کے طور پر جو کچھ لوح محفوظ میں لکھا جانا تھا وہ لکھ کر قلم بھی خشک ہوگیا 1 ؎۔ مطلب یہ ہے کہ تحریر کے ختم ہوجانے پر قلم خشک کیا جاتا ہے اس لیے لوح محفوظ کی تحریر اب ختم ہوگئی کوئی نئی بات اب اس تحریر میں نہیں لکھی جاسکتی اس حدیث کو آیتوں کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ انسانی تدبیر سے تقدیر نہیں ٹل سکتی اپنی تدبیر کے موافق فرعون نے بنی اسرائیل کے ہزاروں لڑکے قتل کروا ڈالے مگر تقدیر الٰہی کے موافق اس نے جو خواب دیکھا تھا آخر اس کا ظہور ہو کر رہا ولتصنع علی عینی اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری محبت فرعون اور اس کی بیوی آسیہ کے دل میں اس واسطے ڈال دی کہ اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں تمہاری پرورش اچھی طرح ہوجائے اللہ تعالیٰ نے فرعون کو اپنا دشمن تو اس لیے فرمایا کہ وہ ملعون خدا کی ہستی کا منکر اور اپنے آپ کو خدا کہلواتا تھا اور موسیٰ (علیہ السلام) کا دشمن وہ یوں تھا کہ بنی اسرائیل کے ہزارہا لڑکے اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کی دشمنی میں قتل کرائے۔ 1 ؎ مشکوٰۃ ص 20 باب الایمان بالقدر۔