20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 20:113–115

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا وَّ صَرَّفْنَا فِیْهِ مِنَ الْوَعِیْدِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ اَوْ یُحْدِثُ لَهُمْ ذِكْرًا Open ayah 20:113 in the Quran reader

اور ہم نے اس کو اسی طرح کا قرآن عربی نازل کیا ہے اور اس میں طرح طرح کے ڈراوے بیان کر دئیے ہیں تاکہ لوگ پرہیزگار بنیں یا خدا ان کے لئے نصیحت پیدا کر دے

فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ وَ لَا تَعْجَلْ بِالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّقْضٰۤى اِلَیْكَ وَحْیُهٗ١٘ وَ قُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا Open ayah 20:114 in the Quran reader

تو خدا جو سچا بادشاہ ہے عالی قدر ہے اور قرآن کی وحی جو تمہاری طرف بھیجی جاتی ہے اس کے پورا ہونے سے پہلے قرآن کے (پڑھنے کے) لئے جلدی نہ کیا کرو اور دعا کرو کہ میرا پروردگار مجھے اور زیادہ علم دے

وَ لَقَدْ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اٰدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِیَ وَ لَمْ نَجِدْ لَهٗ عَزْمًا۠ Open ayah 20:115 in the Quran reader

اور ہم نے پہلے آدم سے عہد لیا تھا مگر وہ (اسے) بھول گئے اور ہم نے ان میں صبر وثبات نہ دیکھا

113۔ 115:۔ اوپر ذکر تھا کہ جس طرح اس سورت میں پہلے لوگوں کے چند قصے بیان کیے گئے ہیں اس طرح قرآن میں جگہ جگہ پچھلے انبیاء اور پچھلی امتوں کا ذکر آیا ہے تاکہ لوگ ان پڑھ رسول سے یہ غیب کی باتیں سن کر قرآن کو اللہ کا کلام اور جن پر یہ قرآن اترا ہے ان کو اللہ کا رسول جان لیں ان آیتوں میں فرمایا جس طرح قرآن میں جگہ جگہ پچھلے انبیاء اور پچھلی امتوں کا ذکر ہے اسی طرح عذاب آخرت سے ڈرانے کی آیتیں بھی اہل مکہ کی بول چال کی عربی زبان کے موافق قرآن میں جگہ جگہ ہیں تاکہ یہ لوگ عذاب آخرت کی آیتوں کو سن کر شرک سے باز آئیں اور عذاب آخرت سے بچیں اور پچھلی امتوں کے ہلاکت کے قصے سن کر اور شام کے ملک کے سفر میں قوم ثمود اور لوط کے اجڑے ہوئے مکانات کو دیکھ کر دنیا کے عذاب سے بھی ڈرتے ہیں اور یہ یاد رکھیں کہ جو شرک کی باتیں یہ لوگ کر رہے ہیں کہ بتوں کو اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے ہی اللہ کی شان ان باتوں سے بہت بلند ہے اور اس کی بادشاہت ایسی سچی ہے کہ اس میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے یہ اس کی بردباری ہے کہ وہ اپنی شان اور اپنی بادشاہت کے برخلاف باتیں ان لوگوں کی سنتا ہے اور ان پر کسی طرح کا عذاب نہیں بھیجتا۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری ؓ کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا اللہ سے بڑھ کر کون برد بار ہوسکتا ہے کہ وہ لوگوں سے اپنی شان کے برخلاف باتیں سنتا ہے اور پھر ایسے لوگوں کے آرام کا انتظام قائم رکھتا ہے 1 ؎۔ سورة الزمر اور سورة المومن میں آئے گا کہ پہلا صور پھونکا جاکر جب تمام دنیا ویران ہوجائے گی تو اس ویرانی کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ یہ فرمائے گا کہ آج وہ بادشاہت کا دعویٰ کرنے والے کہاں گئے اس وقت کوئی جواب دینے والا موجود نہ ہوگا اس لیے پھر خود فرمائے گا کہ ساری بادشاہت اللہ ہی کی ہے ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی بردباری اور سچی بادشاہت کا جو ذکر ہے اس کا مطلب ابو موسیٰ اشعری ؓ کی روایت سے اور سورة الزمر اور سورة المومن کی آیتوں سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے قرآن شریف میں لفظ وہی ہیں جو اہل مکہ رات دن بولتے تھے اسی واسطے قرآن کو اہل مکہ کی بول چال کی موافق کہا جاتا ہے لیکن اہل مکہ ان لفظوں کو اپنی نظم اور نثر میں جن ڈھنگوں سے برتاؤ میں لاتے تھے قرآن شریف کا ڈھنگ ان سب سے نرالا ہے اس سبب سے اہل مکہ منکرین قرآن جب قرآن کی آیتوں کو سن کر بےقابو ہوجاتے تھے تو اس کو جادو بتلاتے تھے جس سے ان کا مطلب یہ تھا کہ اس قرآن میں اگرچہ لفظ وہی ہیں جو رات دن ہم بولتے ہیں لیکن جادو کی خلاف عادت باتوں سے جس طرح آدمی کا دل بےقابو ہوجاتا ہے یہی حال اس قرآن کا ہے کہ لوگ اس کو سن کر یہاں تک بےقابو ہوجاتے ہیں کہ اپنے باپ دادا کے طریقہ کو چھوڑ کر قرآن کی پیروی اختیار کرلیتے ہیں 2 ؎۔ مستدرک حاکم میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی صحیح روایت سے ولید بن مغیرہ کا جو قصہ ہے اس میں ولید بن مغیرہ نے قرآن کی آیتیں سن کر قریش سے یہی بات کہی تھی کہ تم سب میں کوئی شخص مجھ سے زیادہ عربی زبان کی نظم ونثر سے واقف نہیں ہے اور مجھ کو جنات کے بھی بہت سے شعر یاد ہیں لیکن اس قرآن میں تو ایسا ایک جادو کا اثر ہے جو ہم لوگوں کی نظم ونثر سے بالکل نرالا ہے اسی واسطے قرآن کی آیتیں سن کر میرا دل بےقابو ہوگیا جبیر بن مطعم ؓ کی روایت صحیحین وغیرہ میں ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ اسلام لانے سے پہلے سورة والطور کو سن کر میرا دل ٹکڑے ٹکڑے ہوا جاتا تھا 3 ؎۔ اس سے یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آجاتی ہے کہ اگرچہ قرآن شریف کی آیتوں کے لفظ وہی ہیں جن کو اہل مکہ رات دن بولتے تھے لیکن ان ہی لفظوں سے مطلب کو اس طرز سے ادا کیا گیا ہے جس سے اہل مکہ لاجواب اور ان کے دل بےقابو ہوتے تھے ابتدائے وحی کے زمانہ میں جب جبرئیل (علیہ السلام) وحی لاتے تو اللہ کے رسول ﷺ جبرئیل (علیہ السلام) کی قرأت کے ساتھ ساتھ وحی کی آیتوں کو خود بھی پڑھنا شروع کردیتے تھے تاکہ کوئی آیت بھول نہ جائیں۔ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کا بھولے سے گیہوں کھانے کا قصہ یاد دلا کر یہ بتلایا کہ بنی آدم میں بھول کی عادت اگرچہ موروثی ہے لیکن اے رسول اللہ کے اگر تم اپنے علم کی ترقی کی دعا اللہ سے مانگتے رہو گے تو اللہ تعالیٰ جل شانہ کے حکم سے قرآن کی پچھلی آیتیں بھی تم کو یاد رہیں گی اور قرآن کی نئی نئی آیتوں سے روز بروز تمہارا علم بڑھتا رہے گا آدم (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے برخلاف گیہوں کا دانہ جو کھایا اس قصہ کے ذکر کرنے سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی یہ تسکین بھی فرمائی ہے کہ قریش سیدھی سیدھی باتیں جو قرآن کی نہیں مانتے اور شیطان کے بہکانے میں آ کر اللہ کے حکم کے برخلاف کام کرتے ہیں یہ آدم (علیہ السلام) کے زمانہ سے انسان کی ایک قدیمی عادت ہے اس لیے اس کا کچھ رنج نہیں کرنا چاہیے۔ صحیح بخاری میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا اگر حوا نہ ہوتیں تو کوئی عورت اپنے شوہر کے برخلاف شیطان کے کہنے میں نہ آتی 4 ؎۔ اس حدیث سے ان علماء کے قول کی بڑی تائید ہوتی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ شیطان کے بہکانے سے پہلے حوا نے گیہوں کے دانے کھائے اور پھر آدم (علیہ السلام) کو بھی ان دانوں کے کھا لینے کی رغبت دلائی اس قول کے موافق ولم نجد لہ عزما کا مطلب یہ ہے کہ اگر آدم (علیہ السلام) کے مزاج میں شیطان کی مخالفت کی پوری ہمت ہوتی تو وہ کبھی حوا کا کہنا ماننے میں جلدی نہ کرتے موضع القرآن میں یہی قول لیا گیا ہے لیکن بعضے سلف نے ولم نجدلہ عزما کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ آدم (علیہ السلام) نے گیہوں کھانے کا کام کچھ دل کے عزم سے نہیں کیا بلکہ بھول کر کیا ان آیتوں میں عزما کا جو لفظ ہے یہ مطلب اس کے موافق ہے دل کے مضبوط ارادہ کو عزم کہتے ہیں۔ حاصل کلام یہ ہے کہ ان آیتوں میں بھول کا لفظ موجود ہونے سے علماء نے اسی قول کو ترجیح دی ہے کہ انبیاء سے کبیرہ گناہ تو ہوتا ہی نہیں اور صغیرہ گناہ بھی جان بوجھ کر نہیں بلکہ بھول سے ہوتا ہے۔ 1 ؎ مثلاص 50 ج 3۔ 2 ؎ مستدرک ص 506۔ 507 ج 2 کتاب التفسیر۔ 3 ؎ فتح الباری ص 418 ج 1 باب الجہر بالمغرب۔ 4 ؎ صحیح بخاری ص 461 ج 1 باب خلق آدم وذریۃ۔
Ayahs 20:116–123

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰى Open ayah 20:116 in the Quran reader

اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب سجدے میں گرپڑے مگر ابلیس نے انکار کیا

فَقُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اِنَّ هٰذَا عَدُوٌّ لَّكَ وَ لِزَوْجِكَ فَلَا یُخْرِجَنَّكُمَا مِنَ الْجَنَّةِ فَتَشْقٰى Open ayah 20:117 in the Quran reader

ہم نے فرمایا کہ آدم یہ تمہارا اور تمہاری بیوی کا دشمن ہے تو یہ کہیں تم دونوں کو بہشت سے نکلوا نہ دے پھر تم تکلیف میں پڑجاؤ

اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوْعَ فِیْهَا وَ لَا تَعْرٰىۙ Open ayah 20:118 in the Quran reader

یہاں تم کو یہ (آسائش) ہوگی کہ نہ بھوکے رہو نہ ننگے

وَ اَنَّكَ لَا تَظْمَؤُا فِیْهَا وَ لَا تَضْحٰى Open ayah 20:119 in the Quran reader

اور یہ کہ نہ پیاسے رہو اور نہ دھوپ کھاؤ

فَوَسْوَسَ اِلَیْهِ الشَّیْطٰنُ قَالَ یٰۤاٰدَمُ هَلْ اَدُلُّكَ عَلٰى شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَ مُلْكٍ لَّا یَبْلٰى Open ayah 20:120 in the Quran reader

تو شیطان نے انکے دل میں وسوسہ ڈالا (اور) کہا کہ آدم ! بھلا میں تم کو (ایسا) درخت بتاؤں (جو) ہمیشہ کی زندگی کا (ثمرہ دے) اور (ایسی) بادشاہت کہ کبھی زائل نہ ہو ؟

فَاَكَلَا مِنْهَا فَبَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ١٘ وَ عَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى۪ۖ Open ayah 20:121 in the Quran reader

تو دونوں نے اس درخت کا پھل کھالیا تو ان پر انکی شرمگاہیں ظاہر ہوگئیں اور وہ اپنے (بدنوں پر) بہشت کے پتے چپکانے لگے اور آدم نے اپنے پروردگار کے حکم کے خلاف کیا تو وہ اپنے مطلوب سے بےراہ ہوگئے

ثُمَّ اجْتَبٰهُ رَبُّهٗ فَتَابَ عَلَیْهِ وَ هَدٰى Open ayah 20:122 in the Quran reader

پھر ان کے پروردگار نے ان کو نوازا تو ان پر مہربانی سے توجہ فرمائی اور سیدھی راہ بتائی

قَالَ اهْبِطَا مِنْهَا جَمِیْعًۢا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى١ۙ۬ فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَایَ فَلَا یَضِلُّ وَ لَا یَشْقٰى Open ayah 20:123 in the Quran reader

فرمایا کہ تم دونوں یہاں سے اتر جاؤ تم میں بعض بعض کے دشمن ہوں گے پھر اگر میری طرف سے تمہارے پاس ہدایت آئے تو جو شخص میری ہدایت کی پیروی کرے گا وہ نہ گمراہ ہوگا اور نہ تکلیف میں پڑے گا

116۔ 123:۔ یہ قصہ سورة بقرہ اور سورة اعراف میں گزر چکا ہے حاصل اس قصہ کا یہ ہے کہ فرشتوں پر انسان کی بزرگی ظاہر ہوجانے کے لیے کعبہ کی طرح آدم (علیہ السلام) کو قبلہ ٹھہرا کر جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا تو سوائے شیطان کے اور سب فرشتوں نے اس حکم کی تعمیل کی اور فقط شیطان نے اس حکم کی تعمیل میں سرکشی کی راہ سے یہ عذر پیش کیا یا اللہ تو نے مجھ کو آگ سے پیدا کیا ہے اور آدم کو مٹی سے اور آگ مٹی سے بہتر ہے اس لیے آدم کو قبلہ ٹھہرا کر میں سجدہ کیوں کرسکتا ہوں شیطان یہ نہ سمجھا کہ نور نار سے بہتر ہے پھر نوری فرشتوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل جب فورا بلا عذر کرلی تو اس ناری جسم کو کسی عذر کے پیش کرنے کا کیا موقع باقی رہا۔ غرض اس سرکشی کی سزا میں اللہ تعالیٰ نے شیطان کو مردود ٹھہرا کر آسمان سے زمین پر اتار دیا اور آدم (علیہ السلام) کو یہ جتلا دیا کہ تمہارے سبب سے شیطان کو یہ ذلت ہوئی ہے اسی واسطے شیطان تمہارا اور تمہاری بی بی حوا کا دشمن ہوگیا ہے وہ تم کو جنت سے زمین پر اتار دینے کی تدبیر کرے گا تم اس کا کہنا ہرگز نہ ماننا کیونکہ اگر تم نے شیطان کا کہنا مان کر جس درخت کے پھل سے تم کو روکا گیا ہے وہ پھل کھالیا تو پھر تم کو زمین پر اتار دیا جائے گا جہاں تمہیں طرح طرح کی تکلیفیں اٹھانی پڑیں گی محنت سے کھیتی نہ کرو گے تو بھوکے اور کپڑوں کی تدبیر نہ کرو گے تو ننگے رہو گے ہاتھ سے پانی نہ بھرو گے تو پیاس اور دھوپ میں کھیتی کرو گے تو گرمی کی تکلیف اٹھاؤ گے۔ یہ جنت کی سی راحت جاتی رہے گی کہ میوؤں کی کثرت سبب سے کبھی بھوکے نہیں رہتے لباس وہ ہے کہ جو نہ کبھی پھٹ کر اترے گا نہ ننگے ہوگے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق آدم (علیہ السلام) اور حوا کا جنت میں لباس ایسا تھا جیسے ہاتھ پیروں کی انگلیوں کے ناخن ہیں پھر فرمایا جنت میں پانی کی نہریں جاری ہیں اور یہاں سورج نہیں ہے اس واسطے یہاں پیاس اور گرمی کی تکلیف نہیں اٹھانی پڑتی ہے اللہ سچا ہے اور اس کا علم غیب سچا ہے اس نے اپنے علم غیب کے موافق یہ بات جو آدم ( علیہ السلام) کو جتلائی تھی کہ شیطان آدم (علیہ السلام) کے اور ان کے بی بی حوا کے جنت سے نکلوا دینے کی تدبیر میں لگا ہوا ہے آخر اس کا ظہور یہ ہوا کہ شیطان نے آدم (علیہ السلام) کے دل میں یہ وسوسہ ڈالا کہ اس درخت کے پھل سے آدم (علیہ السلام) کو اس لیے منع کیا گیا ہے کہ اگر آدم (علیہ السلام) اس پھل کو کھا لیں گے تو ہمیشہ جنت میں رہیں گے آدم (علیہ السلام) اور حوا شیطان کے اس فریب میں آگئے اور دونوں نے گیہوں کے دانے کھالئے۔ گیہوں کے دانے کھاتے ہی جنت کا لباس اتر گیا اور دونوں ننگے ہو کر انجیر کے پتوں سے اپنے ستر کو ڈھانکنے لگے۔ گیہوں کے کھانے سے اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو منع جو کیا تھا اس امتناعی حکم کا خیال آدم (علیہ السلام) نے نہیں رکھا اس لیے فرمایا کہ شیطان کے بہکانے سے آدم (علیہ السلام) بہک گئے اور انہوں نے اللہ کے حکم کو ٹال دیا لیکن اللہ نے آدم (علیہ السلام) کے حال پر یہ مہربانی کی کہ انہیں توبہ کی توفیق دے کر زمین پر اتار دینے کے بعد ان کی توبہ قبول کی۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق گناہ کے دو سو برس کے بعد آدم (علیہ السلام) کی توبہ قبول ہوئی اب آگے آدم (علیہ السلام) اور شیطان کو زمین پر اتارنے کا حکم دے کر فرمایا کہ تم ایک دوسرے کے دشمن ہوگئے مطلب یہ کہ شیطان اولاد آدم کے بہکانے کی دشمنی سے کبھی باز نہ آئے گا لیکن آسمانی کتابیں اور رسول بھیج کر قیامت تک اللہ تعالیٰ آدم کی اولاد کو شیطان کے پھندے سے بچنے کی ہدایت فرماتا رہے گا اس لیے جو لوگ اس ہدایت کے پابند بن کر شیطان کو اپنا دشمن اور رسولوں کو اپنا پیشوا قرار دیں گے وہ دنیا میں شیطان کے پھندے سے اور عقبی میں اس کے خمیازہ سے بچتے رہیں گے۔ ترمذی نسائی وغیرہ کے حوالہ سے حارث اشعری کی صحیح روایت کئی جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا اللہ کی یاد سے بڑھ کر شیطان کے پھندے سے بچانے والی کوئی چیز دنیا میں نہیں ہے 1 ؎۔ اسی طرح مسند امام احمد اور مستدرک حاکم کے حوالہ سے ابوسعید خدری ؓ کی روایت بھی کئی جگہ گزر چکی ہے 2 ؎۔ جس کا حاصل مطلب یہ ہے کہ شیطان جب ملعون ٹھہرایا جاکر آسمان پر سے نکالا جانے لگا تو اس نے اللہ تعالیٰ کے روبرو اولاد آدم کے بہکانے کی قسم کھائی اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے جاہ و جلال کی قسم کھا کر فرمایا کہ اولاد آدم میں سے جو شخص گناہ کر کے توبہ و استغفار کرتا رہے گا تو اللہ تعالیٰ بھی اس کے ہر طرح کے گناہ معاف کرتا رہے گا۔ ان حدیثوں کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اگرچہ شیطان اولاد آدم کے بہکانے کی دشمنی سے کبھی باز نہ آئے گا لیکن جو لوگ عبادت الٰہی اور گناہ کے بعد خالص دل سے توبہ استغفار میں مصروف رہیں گے ان کے حق میں شیطان کی دشمنی بالکل رائیگاں جائے گی۔ (1 ؎ تفسیر ہذاص 369 ج 3 ) (2 ؎ مثلاص 327 ج 2 )
Ayahs 20:124–126

وَ مَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِیْ فَاِنَّ لَهٗ مَعِیْشَةً ضَنْكًا وَّ نَحْشُرُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اَعْمٰى Open ayah 20:124 in the Quran reader

اور جو میری نصیحت سے منہ پھیرے گا اس کی زندگی تنگ ہوجائے گی اور قیامت کو ہم اسے اندھا کر کے اڑھائیں گے

قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِیْۤ اَعْمٰى وَ قَدْ كُنْتُ بَصِیْرًا Open ayah 20:125 in the Quran reader

وہ کہے گا میرے پر ورگار تو نے مجھے اندھا کر کے کیوں اٹھایا ؟ میں تو دیکھتا بھالتا تھا

قَالَ كَذٰلِكَ اَتَتْكَ اٰیٰتُنَا فَنَسِیْتَهَا١ۚ وَ كَذٰلِكَ الْیَوْمَ تُنْسٰى Open ayah 20:126 in the Quran reader

(خدا) فرمائے گا کہ ایسا ہی (چاہئے تھا) تیرے پاس ہماری آیتیں آئیں تو تو نے ان کو بھلا دیا اسی طرح آج ہم تجھ کو بھلادیں گے

124۔ 126:۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کے نازل فرمانے کا اور قرآن میں ہر طرح کی نصیحت کا تذکرہ ہونے کا ذکر فرمایا اس ذکر کے ذیل میں ایک ذکر یہ آگیا تھا کہ جب حضرت جبرئیل قرآن کی کوئی آیت لے کر آتے تو آنحضرت ﷺ اس خوف سے کہ آیت کا کوئی لفظ بھول نہ جائیں ساری آیت کو حضرت جبرئیل کے پورا کرنے سے پہلے ایک ایک دو دو لفظ جو حضرت جبرئیل کے منہ سے نکلتے جاتے ان کو یاد کرنے لگ جاتے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے بیچ میں اپنے رسول کو یہاں اور سورة القیامہ میں یہ ہدایت فرمایا کہ حضرت جبرئیل جو اللہ کا حکم لاتے ہیں جب وہ اس کو پورا سنا دیا کریں اس وقت تم آیت کو یاد کرنا شروع کیا کرو پھر شیطان کا حضرت آدم ( علیہ السلام) کو بہکانے اور حضرت آدم کے اس حکم الٰہی کے بھول جانے کا ذکر فرمایا جو اللہ تعالیٰ نے گیہوں کھانے کی ممانعت کا دیا تھا یہ ذکر اس لیے فرمایا کہ آنحضرت جو بھول چوک کے خوف سے آیت کے لفظوں کو جلدی کر کے یاد کرتے تھے وہ بھی کچھ بیجا بات نہ تھی کیونکہ حضرت آدم ( علیہ السلام) کے زمانہ سے شیطان کے بہکانے سے انسان کا کسی بات کو بھول جانا ہر ایک انسان کی ایک عادتی بات ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے سنقرئک فلا تنسیٰ نازل فرما کر وحی میں بھول چوک کا دخل نہ ہونے کا وعدہ فرمالیا ہے اس لیے وحی میں اس عادت انسان کا دل باقی نہیں رہا۔ سلف سے لے کر خلف تک تمام علماء امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ انبیاء کو حکم الٰہی کے پہنچانے میں غیب سے اس طرح کی حفاظت ہے کہ کبھی ان سے اس میں غلطی نہیں ہوتی آنحضرت چھ مہینے تک جادو کے اثر میں جن دنوں مبتلا رہے ان دنوں میں بھی دنیاوی بعضی باتوں میں آپ کو ایک طرح کی بھول رہی مگر دینی ابواب میں اس حفاظت غیبی کے سبب سے کبھی آپ نے کوئی بات بھول چوک کی نہیں کی۔ حاصل کلام یہ ہے کہ اوپر کی آیتوں کی مناسبت کے سبب سے ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم میں سے ان لوگوں کا ذکر فرمایا ہے جو شیطان کے بہکانے سے قرآن شریف کی نصیحتوں کو بالکل سنتے ہی نہیں یا وہ لوگ جو قرآن کو یاد کرکے پھر غفلت سے بھلا دیتے ہیں جو لوگ قرآن شریف کی نصیحتوں کو بالکل سنتے ہی نہیں یا وہ لوگ جو قرآن کو یاد کر کے پھر غفلت سے بھلا دیتے ہیں جو لوگ قرآن شریف کی نصیحتوں پر بالکل ایمان نہیں لاتے ان پر جو کچھ قبر میں اور قیامت قائم ہونے کے بعد دوزخ میں عذاب ہوگا اس کا ذکر تو جگہ جگہ قرآن شریف کی عذاب کی آیتوں میں آچکا ہے قرآن شریف کا پڑھ کر بھول جانا اکثر صحابہ ؓ کے نزدیک کبیرہ گناہ ہے۔ ابوداؤد اور ترمذی میں حضرت انس ؓ کی وہ حدیث جو ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میری امت کے گناہ جب کسی طرف سے میرے روبرو لائے گئے تو قرآن شریف کے پڑھ کر بھول جانے سے بڑا کوئی گناہ میں نے نہیں پایا 1 ؎۔ اس حدیث کی سند ضعیف ہے اسی طرح ابوداؤد کی حضرت سعد بن عبادہ ؓ کی وہ حدیث جو ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قرآن شریف پڑھ کر جو بھول جائے گا وہ قیامت کے دن کوڑھی ہو کر اٹھے گا 2 ؎۔ اس کی سند بھی ضعیف ہے لیکن مسند امام احمد میں یہ حدیث دوسری سند سے حضرت عبادہ بن صامت سے آئی ہے اس لیے ایک سند سے دوسری سند کو تائید ہو کر قرآن شریف کے بھولنے والے کا کوڑھی ہو کر قیامت کے دن اٹھنا آنحضرت ﷺ کے فرمانے سے ثابت ہے 3 ؎۔ اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو قیامت کی اس رسوائی سے بچائے اور سب مسلمانوں کو یہ توفیق دے کہ قرآن شریف پڑھ کر کوئی نہ بھولے حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ جس شخص نے آسمانی کتاب اور اللہ کے رسول کو نہ مانا وہ مرتے ہی عذاب قبر میں گرفتار ہوگا۔ معیشۃ ضنگا کی تفسیر میں اگرچہ سلف کے کئی قول ہیں لیکن حافظ ابوجعفر ابن جریر نے اپنی تفسیر میں عذاب قبر کی تفسیر کو ترجیح دی ہے معتبر سند سے مسند بزار میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں خود صاحب وحی ﷺ نے معیشۃ ضنگا کی تفسیر عذاب قبر کی فرمائی ہے 4 ؎۔ آگے فرمایا کہ ایسا شخص قیامت کے دن اندھا اٹھے گا اور جب وہ عرض کرے گا کہ یا اللہ میں تو دنیا میں آنکھوں والا تھا تو جواب ملے گا کہ تو نے ظاہری آنکھوں سے اللہ کی قدرت کی نشانیوں کو نہیں دیکھا اور دل کی آنکھوں سے آسمانی کتاب کی نصیحت کو نہیں سمجھا اس لیے آج تو بھولے بسرے شخص کی طرح اللہ کی رحمت سے دور پڑکر ظاہر اور دلی آنکھوں سے اندھا اٹھا۔ دلی آنکھوں سے اندھا اٹھنے کا یہ مطلب ہے کہ اپنے بچاؤ کو کوئی بات ایسا شخص دل میں نہ سوچ سکے گا بلکہ جو بات سوچے گا وہ بچاؤ سے کوسوں دور ہوگی۔ چناچہ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایت کئی جگہ گزر چکی ہے کہ قیامت کے دن بعضے گناہ گار گناہوں کے انکار کو اپنے بچاؤ کا سبب خیال کریں گے لیکن اللہ تعالیٰ ان کے ہاتھ پیروں سے گناہوں کی گواہی دلوا کر ان کو دوزخ کے قابل ٹھہرائے گا 5 ؎۔ مسند امام احمد اور ابوداؤد میں براء بن عازب ؓ کی صحیح روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے عذاب قبر سے پناہ مانگنے کی ہدایت فرما کر فرمایا نافرمان لوگ جب قبر میں منکر نکیر کے سوالوں کا پورا جواب نہ دیں گے تو ان کی قبروں میں آگ کا فرش بچھا کر آگ کا لباس ان کو پہنا دیا جائے گا اور دوزخ کی گرم ہوا بھی ان کی قبروں میں آتی رہے گی اور ان کی قبروں کو یہاں تک تنگ کیا جائے گا کہ ان کی پسلیاں ٹوٹ جائیں گی اور ایک بہرہ گونگا فرشتہ لوہے کا ایسا بھاری ہتھوڑا لے کر آئے گا کہ اگر وہ ہتھوڑا پہاڑا پر بھی مارا جائے تو وہ پہاڑ مٹی ہوجائے۔ یہ فرشتہ اس ہتھوڑے سے ہر وقت ان لوگوں کو مار مار کر ان کے جسموں کو خاک کر دے گا اور پھر اس خاک سے جسم بنایا جاکر اس میں روح پھونک دی جائے گی ایسے لوگوں پر یہی عذاب قیامت تک رہے گا 6 ؎۔ کیونکہ عذاب قبر کی میعاد قیامت تک کی ہے اسی واسطے آگے فرمایا قیامت کے دن کا عذاب قبر کے عذاب سے زیادہ سخت ہوگا۔ براء بن العازب ؓ کی اس حدیث کو اوپر کی ابوہریرہ ؓ کی حدیث کی تفسیر کہا جاسکتا ہے کیونکہ ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں معیشہ ضنگا کی تفسیر عذاب قبر کو قرار دیا گیا ہے اور اس براء بن عازب کی حدیث میں عذاب قبر کی تفصیل ہے براء بن العازب ؓ کی روایت میں اللہ کے رسول ﷺ نے صحابہ ؓ کو عذاب قبر سے پناہ مانگنے کی جو ہدایت فرمائی اس سے یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے کہ گناہ گار کلمہ گو لوگوں پر بھی عذاب قبر ہوگا بعضے مفسروں نے معیشۃ ضنگا کی تفسیر قیامت کے دن کے عذاب کو جو ٹھہرایا ہے وہ تفسیر قوی معلوم نہیں ہوتی کیونکہ آگے آیت میں قیامت کے دن کے عذاب کا جدا ذکر ہے اور یہ بھی ہے کہ جس عذاب کا ذکر معیشۃ ضنگا کے لفظوں سے کیا گیا ہے قیامت کے دن کا عذاب اس سے زیادہ سخت اور زیادہ دیر تک رہنے والا ہے علاوہ اس کے مسند بزار کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی معتبر روایت جو اوپر گزری معیشۃ ضنگا کی یہ دوسری تفسیر اس روایت کے بھی برخلاف ہے۔ 1 ؎ الترغیب ص 261 ج 1 الترہیب من نسیان القرآن الخ۔ 2 ؎ ابوداؤد ص 207 ج 1 باب التشدید فی من حفظ القرآن الخ۔ 3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 129 ج 3۔ 4 ؎ تفسیر ابن کثیرص 169 ج 3۔ 5 ؎ صحیح مسلم 409 ج 2 فصل فی بیان ان الاعضاء منطقۃ شاہدۃ یوم القیامۃ۔ 6 ؎ الترغیب ص 289 ج 2 فی مادرد فی عذاب القبرو فتنۃ۔
Ayah 20:127

وَ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ مَنْ اَسْرَفَ وَ لَمْ یُؤْمِنْۢ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَدُّ وَ اَبْقٰى Open ayah 20:127 in the Quran reader

اور جو شخص حد سے نکل جائے اور اپنے پروردگار کی آیتوں پر ایمان نہ لائے ہم اسکو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں اور آخرت کا عذاب بہت سخت اور بہت دیر رہنے والا ہے

127:۔ اوپر ان لوگوں کا ذکر تھا جو قرآن کے اللہ کا کلام ہونے کے منکر ہیں جیسے اہل کتاب اور مشرکین مکہ اب اس آیت میں مشرکین مکہ کا یہ ذکر ہے کہ جس طرح منکرین قرآن پر عذاب قبر ہوگا جن کا ذکر اوپر گزرا اسی طرح ان لوگوں پر بھی ہوگا جو شرک میں گرفتار ہیں اور قرآن کے بھی منکر ہیں مسند امام احمد کے حوالہ سے حضرت عائشہ ؓ کی معتبر حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے کہ منکر نکیر کے سوال کے بعد اچھے لوگوں کو ان کا جنت کا ٹھکانہ اور برے لوگوں کو ان کا دوزخ کا ٹھکانہ فرشتے دکھا کر یہ کہہ دیتے ہیں کہ ان ٹھکانوں میں رہنے کے لیے قیامت کے دن تم کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا 1 ؎۔ ابوداؤد اور مسند امام احمد کے حوالہ سے براء بن العازب ؓ کی صحیح حدیث جو اوپر کی آیتوں کی تفسیر میں گزری اس میں یہ بھی ہے کہ برے لوگ قیامت کے قائم نہ ہونے کی ہمیشہ قبر میں دعا مانگتے رہتے ہیں۔ یہ حدیثیں ولعذاب الاخرۃ اشد وابقیٰ کی گویا تفسیر ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ برے لوگ اپنے دوزخ کے ٹھکانے میں عذاب قبر سے زیادہ عذاب مرتے ہی دیکھ لیتے ہیں اس لیے اس کے آگے عذاب قبر کو غنیمت جان کر یہ دعا مانگتے رہتے ہیں کہ قیامت قائم نہ ہو اور ان کو دوزخ کے ٹھکانے میں نہ رہنا پڑے تو اچھا ہے۔ 1 ؎ الترغیب ص 288 ج 2 باب فی مادروفی سوال القبر ونعیمہ۔
Ayahs 20:128–129

اَفَلَمْ یَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰكِنِهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّهٰى۠ Open ayah 20:128 in the Quran reader

کیا یہ بات ان لوگوں کے لئے موجب ہدایت نہ ہوئی کہ ہم ان سے پہلے بہت سے لوگوں کو ہلاک کرچکے ہیں جن کے رہنے کے مقامات میں یہ چلتے پھرتے ہیں ؟ عقل والوں کے لئے اس میں (بہت ہی نشانیاں ہیں)

وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَكَانَ لِزَامًا وَّ اَجَلٌ مُّسَمًّىؕ Open ayah 20:129 in the Quran reader

اور اگر ایک بات تمہارے پروردگار کی طرف سے پہلے صادر اور (جزائے اعمال کے لئے) ایک میعاد مقرر نہ ہوچکی ہوتی تو (نزول) عذاب لازم ہوچکا ہوتا

128۔ 129:۔ اوپر عذاب قبر اور عذاب آخرت کا ذکر تھا ان آیتوں میں فرمایا اس عذاب کی قدر تو مرنے کے بعد کھل جائے گی لیکن دنیا میں سوداگری کی غرض سے یہ لوگ اکثر ملک شام کا سفر کرتے رہتے ہیں اور اس سفر میں قوم ثمود اور قوم لوط کی اجڑی ہوئی بستیاں انہیں نظر آیا کرتی ہیں ان بستیوں کو دیکھ کر ان میں کے سمجھ دار لوگوں کو کیا یہ عبرت نہیں ہوتی کہ جو کوئی ان اجڑی ہوئی قوموں کے قدم بقدم چلے گا اس کا بھی مرنے سے پہلے وہی انجام اللہ کی قدرت سے کچھ بعید نہیں ہے جو انجام ان اجڑی ہوئی قوموں کا ہوا پھر فرمایا ان لوگوں کی سرکشی تو یہاں تک بڑھ گئی ہے کہ اب تک سوائے مکہ کے قحط کے اور کسی عذاب کی ایسی بلا ان کو آن کر چمٹ جاتی جس سے انہیں پیچھا چھڑانا مشکل ہوجاتا لیکن اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق دنیا کے پیدا ہونے سے پچاس ہزار برس پہلے دنیا کا ایک انتظام قرار پاکر ہر کام کا وقت مقرر ہوچکا ہے ‘ اس وقت مقررہ تک اگر یہ لوگ اپنی سرکشی سے باز نہ آئے تو علاوہ عذاب قبر اور عذاب قیامت کے دنیا میں بھی ان پر کوئی ایسی سخت آفت آجاوے گی جس سے ان کی ساری سرکشی خاک میں مل جائے گی ‘ اللہ تعالیٰ سچا ہے اللہ تعالیٰ کا کلام سچا ہے ‘ اس مکی سورت کے نازل ہونے کے کچھ عرصہ کے بدر کی لڑائی کے وقت اہل مکہ میں کے بڑے بڑے سرکشوں پر آفت آجانے کا وقت مقررہ آن پہنچا کہ دنیا میں یہ لوگ بڑی ذلت سے مارے گئے اور مرتے ہی عذاب قبر میں گرفتار ہوگئے ‘ جس عذاب کے جتلانے کو اللہ کے رسول ﷺ نے ان لوگوں کی لاشوں پر کھڑے ہو کر یہ فرمایا کہ اب تو تم لوگوں نے اللہ کے وعدے کو سچا پالیا ‘ چناچہ صحیح بخاری ومسلم کی انس بن مالک کی روایت سے یہ قصہ کئی جگہ گزر چکا ہے 1 ؎۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن عمرو بن العاص کی حدیث بھی کئی جگہ گزر چکی ہے 2 ؎۔ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا دنیا کے پیدا کرنے سے پچاس ہزار برس پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے علم غیب کے نتیجہ کے طور پر جو کچھ دنیا میں ہونے والا تھا وہ سب لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے اس حدیث سے یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آجاتی ہے کہ دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے وہ لوح محفوظ کے لکھے کے موافق وقت مقررہ پر ہوتا ہے ‘ وقت مقررہ سے پہلے سرکشی کے طور پر اہل مکہ عذاب کی جلدی کرتے رہے مگر عذاب نہ آیا ‘ وقت مقررہ کے آتے ہی ایسی سخت آفت آئی کہ ان میں کے بڑے بڑے سرکشوں کی ساری سرکشی خاک میں مل گئی ‘ مکہ کے قحط کا قصہ صحیح بخاری کی عبداللہ بن مسعود ؓ کی روایت کے حوالہ سے کئی جگہ گزر چکا ہے 3 ؎۔ کہ قریش نے جب بہت سرکشی اختیار کی تو اللہ کے رسول ﷺ کی بددعا سے مکہ میں سخت قحط پڑا۔ یہ اوپر گزر چکا ہے کہ قرآن شریف میں لفظ وہی ہیں جو اہل مکہ رات دن بولتے تھے ‘ مگر ان ہی لفظوں کا برتاؤ قرآن شریف میں اس طرز سے بیان کیا گیا ہے ‘ جس طرز بیان کو سن کر اہل مکہ میں کے منکر قرآن کا مقابلہ نہیں کرسکتے تھے جیسے مثلا ان آیتوں میں آخری آیت کا مطلب یہ تھا (ولولا کلمۃ سبقت من ربک لکان لزاما واجل مسمی) ۔ قرآن شریف کی طرز ادائے مطلب میں واجل مسمی کو لکان لزاما کے بعد ذکر کیا جاکر دوسری آیت کے فاصبر علی مایقولون سے اس کو ملا دیا جس سے یہ مطلب نکلا کہ اہل مکہ کے دنیاوی عذاب کا وقت مقررہ گویا اللہ کے رسول ﷺ صبر کی مدت سے ملا ہوا ہے کچھ بہت دور نہیں ہے اور پھر لفظوں کے آگے پیچھے کردینے سے علم غیب کا جو مطلب آیت میں جتلایا گیا تھا ‘ اللہ کے رسول ﷺ کے کچھ دنوں صبر کرنے کے بعد بدر کی لڑائی کے وقت اس کا ظہور بھی ویسا ہی ہوا۔ حاصل کلام یہ ہے کہ قرآن شریف کی ایسی ہی باتوں نے مخالفوں کو قرآن شریف کے مقابلہ سے عاجز کردیا تھا۔ اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم کے آگے نہ انسان کے علم کی کچھ حقیقت ہے نہ جنات کے علم کی اب اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کے موافق جس طرز بیان سے قرآن شریف کے لفظوں کا برتاؤ کیا ہے اور غیب کی خبریں اس برتاؤ سے بیان کی گئی ہیں ‘ کسی کی کیا طاقت ہے کہ اس کا مقابلہ کرسکے ‘ اسی واسطے سورة بنی اسرائیل میں فرمایا کہ انسان اور جنات دونوں جمع ہو کر بھی اس قرآن کے مقابلہ کا ارادہ کریں تو عاجز آجاویں ‘ موسیٰ (علیہ السلام) اور خضر (علیہ السلام) نے اللہ کے علم کو دریا اور مخلوق کے علم کو اس دریا میں کے ایک قطرہ کی مثال سے سمجھایا ہے 4 ؎۔ اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے کہ قرآن اللہ تعالیٰ نے اپنے حکم کے موافق نازل فرمایا ہے اور اللہ تعالیٰ کے علم کے مقابلہ میں مخلوق کا علم ایسا ہے جس طرح دریا کے مقابلہ میں پانی کا ایک قطرہ ‘ پھر ایک قطرہ کی کیا ہستی ہے ‘ جو دریا کا مقابلہ کرے ‘ اس لیے مخلوقات میں سے کسی کو یہ طاقت نہیں کہ وہ قرآن کا مقابلہ کرسکے۔ (1 ؎ بحوالہ مشکوٰۃ ص 455۔ باب حکم الاسراء ) (2 ؎ بحوالہ مشکوٰۃ باب الایمان بالقدر ضصل اول ) (3 ؎ صحیح بخاری ص 713 ج 2۔ تفسیر سورة الدخان۔ ) (4 ؎ نیز دیکھئے صحیح بخاری ص 23 ج 1 باب مالیستحب للعالم اذاسئل ای الناس اعلم )
Ayah 20:130

فَاصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ غُرُوْبِهَا١ۚ وَ مِنْ اٰنَآئِ الَّیْلِ فَسَبِّحْ وَ اَطْرَافَ النَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضٰى Open ayah 20:130 in the Quran reader

پس جو کچھ یہ بکواس کرتے ہیں اس پر صبر کرو اور سورج کے نکلنے سے پہلے اور اسکے غروب ہونے سے پہلے اپنے پروردگار کی تسبیح وتحمید کیا کرو اور رات کی ساعات (اوّلین) میں بھی اس کی تسبیح کیا کرو اور دن کے اطراف (یعنی دوپہر کے قریب ظہر کے وقت بھی) تاکہ تم خوش ہوجاؤ

130۔ بعضے مفسروں نے آیت کے اس ٹکڑے کو درگزر کی آیتوں میں گن کر آیت جہاد سے اس کو منسوخ لکھا ہے لیکن اوپر بیان ہوچکا ہے کہ درگذر کی کوئی آیت جہاد کے حکم سے منسوخ نہیں ہے ‘ مکہ کے مشرک لوگ بھی اللہ کے رسول ﷺ کو دیوانہ کہتے تھے ‘ کبھی شاعر ‘ کبھی جادوگر ‘ اس پر فرمایا اے رسول اللہ کے یہ تو تمہیں جتلا دیا گیا ہے کہ اللہ کے انتظام میں ہر کام کا وقت مقرر ہے اس کے آنے تک کچھ دنوں صبر کرنا اور رات دن میں جو نمازیں اللہ تعالیٰ نے تم پر فرض کردی ہیں دل لگا کر ان میں مصروف رہنا چاہیے ‘ تمہارا صبر اور تمہاری عبادت کا بدلہ دنیا اور آخرت میں وقت مقررہ پر اتنا ملے گا کہ تم خوش ہوجاؤگے اللہ سچا ہے ‘ اللہ کا وعدہ سچا ہے ‘ جن بتوں کی حمایت میں مکہ کے مشرک لوگ اللہ کے رسول ﷺ کی ذلت کے درپے تھے اور آپ کو دیوانہ کہتے تھے ‘ کچھ دنوں کے صبر کے بعد دنیا میں تو آیت کے وعدہ کا یہ ظہور ہوا کہ فتح مکہ کے وقت اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے ہاتھ سے ان بتوں کو خوب ذلیل کروایا۔ چناچہ صحیح بخاری کے حوالہ سے عبداللہ بن مسعود ؓ 1 ؎۔ اور صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ 2 ؎ کی روایت کئی جگہ گزر چکی ہے کہ فتح مکہ کے وقت اللہ کے رسول نے اپنے ہاتھ کی لکڑی مار مار کر ان بتوں کو زمین میں ڈال دیا اور کسی مشرک نے دم نہیں مارا اور آخرت میں آیت کے وعدہ کا یہ ظہور ہوگا کہ امت میں کے جن گنہگاروں کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہوگا آپ کی سفارش سے وہ جنت میں داخل ہوں گے۔ چناچہ صحیح بخاری ومسلم میں ابوسعید خدری 3 ؎ کی روایت سے شفاعت کی ایک بڑی حدیث ہے جس میں اس کا ذکر تفصیل سے ہے ‘ اس سفارش کے قبول ہوجانے سے آپ کا دل بہت خوش ہوگا ‘ چناچہ صحیح مسلم 4 ؎ میں عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ قیامت کے دن کا اپنی امت کا انجام یاد کر کے رونے لگے ‘ اسی وقت جبرئیل (علیہ السلام) آئے اور کہا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے رسول اللہ کے رونے کی کوئی بات نہیں ہے قیامت کے دن تمہاری امت کے ساتھ وہ برتاؤ کیا جائے گا کہ تم خوش ہوجاؤ گے۔ ابوسعید خدری کی حدیث عبداللہ بن عمر ؓ کی حدیث کی گویا تفسیر ہے کیونکہ عبداللہ بن عمر ؓ کی حدیث میں اللہ کے رسول ﷺ کی قیامت کے دن کی خوشی کا ذکر مبہم طور پر تھا۔ ابوسعید خدری کی حدیث سے معلوم ہوگیا کہ وہ خوشی یہی ہوگی کہ امت محمدیہ میں کے جن گنہگاروں کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہوگا ‘ آپ کی سفارش سے وہ لوگ دوزخ میں سے نکالے جاکر جنت میں داخل کیے جاویں گے ‘ سورج کے نکلنے سے پہلے جس نماز کا حکم ہے وہ صبح کی نماز ہے اور سورج کے غروب سے پہلے عصر کی ‘ رات دن کی گھڑیوں میں مغرب اور عشاء کی دونوں نمازیں ہیں ‘ دن کے چڑھتے حصہ کے ختم اور ڈھلتے حصہ کے شروع میں ظہر کی نماز ہے حاصل کلام یہ ہے کہ اس طرح مختصر طور پر آیت میں پانچ نمازوں کا حکم ہے اور اللہ کے رسول ﷺ نے اس حکم کی تعمیل جس طرح کی ہے ‘ اس کی تفصیل صحیح مسلم کی ابوموسیٰ اشعری اور بریدہ اسلمی کی روایتوں میں ہے 5 ؎۔ جن روایتوں کا حاصل یہ ہے کہ ایک شخص نے اللہ کے رسول ﷺ سے پانچوں نمازوں کا وقت پوچھا تھا ‘ آپ نے اس شخص کو یہ حکم دیا تھا کہ وہ شخص دو دن تک آپ کے ساتھ نماز پڑھے ‘ اس حکم کے بعد ہر نماز کا اول اور آخر وقت سمجھانے کے لیے پہلے دن صبح کی نماز آپ نے صبح صادق کے شروع ہوتے ہی پڑھی اور دوسرے دن سورج کے نکلنے کے قریب پھر ظہر کی نماز پہلے دن سورج ڈھلتے ہی پڑھی اور دوسرے دن ایسے وقت پر پڑھی کہ نماز سے فارغ ہوتے ہی سوائے سایہ اصلی کے ‘ ہر چیز کا سایہ ہر چیز کی لمبائی کے برابر ہو کر عصر کا اول وقت آگیا ‘ سورج کے ڈھلنے سے پہلے ہر ایک چیز کا سایہ گھٹتا جاتا ہے اور سورج کے ڈھلنے کے بعد بڑھتا جاتا ‘ ٹھیک دوپہر کو ہر چیز کے نیچے تھوڑا سا سایہ ایسا ہوتا ہے کہ جو کچھ دیر کے لیے نہ گھٹتا ہے نہ بڑھتا ہے اسی کو سایہ اصلی کہتے ہیں ‘ عصر کی نماز پہلے دن ایسے وقت پر پڑھی کہ سوائے سایہ اصلی کے ‘ ہر چیز کا سایہ اس چیز کی لمبائی کے برابر ہوگیا تھا اور دوسرے دن دھوپ پر زردی آجانے کے قریب پھر مغرب کی نماز پہلے دن سورج غروب ہوتے ہی پڑھی اور دوسرے دن شفق کے غروب ہونے کے قریب، عشاء کی نماز پہلے دن شفق کے غروب ہوتے ہی پڑھی اور دوسرے دن رات کا تہائی حصہ گزر جانے کے قریب ‘ سورج کے غروب ہوجانے کے بعد کچھ دیر تک آسمان پر ایک سرخی جو رہتی ہے ‘ اس کو شفق کہتے ہیں یا اس سرخی کے جاتے رہنے کے بعد بہت دیر تک آسمان پر ایک سفیدی جو رہتی ہے اس کو شفق کہتے ہیں اس میں اور نمازوں کے وقت جو اوپر بیان کیے گئے ہیں ان میں علماء کا اختلاف ہے جس کی تفصیل فقہ کی کتابوں میں ہے 6 ؎۔ دو دن کی نمازیں پوری ہوجانے کے بعد اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا نمازوں کا وقت دونوں دن کے وقتوں کے بیچ میں ہے۔ یہ تو سورة بنی اسرائیل میں گزر چکا ہے کہ پانچوں نمازیں معراج کی رات فرض ہوئی ہیں اور پھر معراج کی رات گزر جانے کے بعد صبح کو جبرئیل (علیہ السلام) آئے 7 ؎۔ اور انہوں نے دو دن تک امامت کرکے دس نمازیں پڑھائیں اور یہی کہا کہ جن وقتوں پر یہ دس نمازیں پڑھائی گئی ہیں ان کے بیچ میں پانچوں نمازوں کا وقت ہے جبرئیل (علیہ السلام) کی یہ حدیث ترمذی ‘ صحیح ابن حبان ‘ مستدرک حاکم میں جابر بن عبد اللہ ؓ کی روایت سے ہے 8 ؎۔ ترمذی نے امام بخاری کے قول کے حوالہ سے اس حدیث کو صحیح کہا ہے 9 ؎۔ جابر بن عبداللہ کی اسی روایت میں مغرب کا وقت دونوں دن سورج کے غروب ہوجانے کا ہے شفق کے غروب ہونے کے قریب کا دوسرا وقت نہیں ہے ‘ علماء نے اس اختلاف کو یوں رفع کیا ہے کہ جبرئیل (علیہ السلام) کی امامت کا قصہ ہجرت سے پہلے کا ہے اور نمازوں کے وقت پوچھنے والے شخص کا قصہ مدینہ کا ہے اور اس کی روایت بھی صحیح مسلم میں ہے اس واسطے ترجیح اسی روایت کو ہے ہجرت سے پہلے فقط نماز ہی فرض تھی اس لیے آیت میں فقط نماز ہی کا ذکر ہے زکوٰۃ حج اور رمضان کے روزوں کا ذکر نہیں ہے۔ 1 ؎ صیح بخاری ص 682 ج 2‘ کتاب التفسیر۔ 2 ؎ صحیح مسلم ص 102 103 ج 2۔ 3 ؎ مشکہٰ 1 ص 489 باب الحوض والشفاعۃ۔ 4 ؎ باب دعاء النبی ﷺ لامتہ وبکائہ وشفقتہ علیہم۔ 5 ؎ صحیح مسلم ص 223 ج 2‘ باب اوقات الصلوات الخمس۔ 6 ؎ مثلانی الاوطار (ابواب المواقیت) وغیرہ۔ 7 ؎ فتح الباری ص 297 ج اطبع دہلی۔ 8 ؎ نیل الاوطار ص 381 ج 1۔ 9 ؎ جامع ترمذی مع تحفت الاحوذی ص 141 ج 1۔
Ayah 20:131

وَ لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ۬ لِنَفْتِنَهُمْ فِیْهِ١ؕ وَ رِزْقُ رَبِّكَ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى Open ayah 20:131 in the Quran reader

اور کئی طرح کے لوگوں کو جو ہم نے دنیا کی زندگی میں آرائش کی چیزوں سے بہرہ مند کیا ہے تاکہ ان کی آزمائش کریں ان پر نگاہ نہ کرنا اور تمہارے پروردگار کی (عطا فرمائی ہوئی) روزی بہت اور باقی رہنے والی ہے

131:۔ مسند بزار مسند ابویعلی ‘ مصنف ابن ابی شیبہ تفسیر ابن مردویہ وغیرہ 1 ؎ میں جو شان نزول اس آیت کی ابورافع ؓ کی روات سے بیان کی گئی ہے اس میں ابو رافع ؓ کہتے ہیں آنحضرت ﷺ کے گھر میں ایک روز کوئی مہمان آیا تھا اور آنحضرت ﷺ کے گھر میں اس روز کچھ کھانے کو نہیں تھا اس واسطے آنحضرت ﷺ نے مجھ کو ایک یہودی سے کچھ آٹا قرض لینے کو بھیجا۔ اس یہودی نے جواب دیا کہ بغیر کوئی چیز گروی رکھنے کے میں قرض نہیں دیتا۔ آنحضرت ﷺ کو اس یہودی کا جواب سن کر بڑا رنج ہوا اور آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمان میں مجھ کو صاحب اعتبار کیا ہے بغیر کسی چیز کے گروی رکھنے کے وہ آٹا قرض دیتا تو ضرور اس کا قرضہ ادا کردیتا۔ پھر آپ نے اپنی زرہ گروی رکھنے کو دی ‘ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ‘ حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ بد دین لوگوں کو دنیا میں چند روز کے لیے خدا تعالیٰ نے کچھ ثروت یا کچھ خوش حالی جو دی ہے ‘ نیک لوگوں کو اس پر کچھ نظر نہیں ڈالنی چاہیے کیونکہ نیک لوگوں کے لیے عاقبت میں جو کچھ خدا نے ہمیشہ کے لیے رکھا ہے اس کے مقابلہ میں اس دنیا کی چند روزہ ثروت اور خوشحالی کی کچھ حقیقت نہیں ہے اور دنیا میں ان لوگوں کو خدا تعالیٰ نے جو کچھ خوش حالی دی ہے وہ فقط خفگی کے لیے دی ہے کہ خوش حالی کے سبب سے ان کی اور سرکشی بڑھے پھر ان سے ایک ہی دفعہ مواخذہ کیا جائے گا۔ مسند امام احمد ترمذی اور ابن ماجہ میں حضرت سہل بن سعد سے روایت ہے 2 ؎ جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ دنیا کی خوشحالی کی اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک مچھر کے پر کے برابر بھی اگر قدرو منزلت ہوتی تو کسی منکر شریعت کو میٹھے پانی کا ایک گھونٹ تک بھی پینے کو اللہ تعالیٰ نہ دیتا ‘ ترمذی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے 3 ؎۔ معتبر سند سے مسند امام احمد شعب الایمان بیہقی ‘ تفسیر ابن ابی حاتم تفسیر ابن المنذر وغیرہ میں عقبہ بن عامر سے روایت ہے 4 ؎۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جب تم دیکھو کہ اللہ تعالیٰ کسی شخص کو باوجود بد دینی کے دنیا میں فراغت اور خوشحالی سے رکھتا ہے تو جان لو کہ وہ خوش حالی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک جانچ ہے پھر آپ نے قرآن شریف کی یہ آیت پڑھی (فلما نسوا ماذکروا بہ فتحنا علیھم ابواب کل شئی۔ الایۃ) جس کا مطلب یہ ہے کہ جب لوگ وعظ ونصیحت پر عمل نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ ان کی دنیا کی سب مرادیں پوری کردیتا ہے ‘ پھر ایک دفعہ ہی ان کو پکڑ لیتا ہے ‘ حاصل کلام ہے کہ دنیا کی زیادہ خوشحالی دیندار کے لیے اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایسی ہے ‘ جیسے بیمار آدمی کے لیے بد پرہیزی کی چیز چناچہ مستدرک حاکم ‘ صحیح ابن حبان اور طبرانی میں معتبر سند سے ابوسعید خدری ؓ 5 ؎‘ رافع بن خدیج 6 ؎ اور ابی قتادہ 7 ؎ کی روایتیں ہیں۔ جن میں آنحضرت ﷺ نے یہی مثال بیان فرمائی ہے کہ دیندار شخص کو اللہ تعالیٰ دنیا سے اس طرح بچاتا ہے جس طرح کوئی شخص اپنے بیمار آدمی کو بد پرہیزی کی چیز سے بچاتا ہے پھر یہ ایک عادتی بات ہے کہ جس طرح بیمار کی زیست کی توقع نہیں رہتی اس کا پرہیز توڑ دیا جاتا ہے اور جو کچھ کھانے پینے کو وہ بیمار مانگتا ہے وہ اس کو دے دیا جاتا ہے اسی طرح جو لوگ اس طرح کے ناامید بیمار کی حالت تک حرص دنیا میں پہنچ جاتے ہیں کہ آخرت کی بہبودی سے بالکل ناامید ہوجاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی دنیا کی سب تمنا پوری کردیتا ہے اور وہ پرہیز ان کا توڑ دیتا ہے جو دین داروں کے لیے اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے۔ پھر جس طرح بد پرہیز بیمار فورا ہلاک ہوجاتا ہے اسی طرح ایسے لوگوں سے مواخذہ ہوجاتا ہے۔ یہ ابو رافع ؓ اللہ کے رسول ﷺ کے پروردہ ہیں ان کا نام ابراہیم ہے ‘ ابو رافع ؓ کی یہ شان نزول کی روایت تفسیر اسحاق بن راہویہ ‘ اور تفسیر محمد بن ابرہیم ابن منذر میں بھی ہے 8 ؎۔ یہ دونوں کتابیں 300 ھ کی معتبر تفسیروں میں ہیں ‘ یہ اسحاق بن راہویہ فن حدیث میں امیر المؤمنین مشہور اور امام بخاری (رح) کے استادوں میں ہیں ‘ امام بخاری (رح) نے ان ہی کی ترغیب سے صحیح بخاری کی تالیف کی ہے۔ چناچہ حافظ ابن حجر (رح) نے مقدمہ فتح الباری شرح صحیح بخاری میں صحیح سند سے امام بخاری کا قول لکھا ہے جس میں امام بخاری (رح) نے یہ بات جتلائی ہے کہ صحیح بخاری ان کے استاد اسحاق بن راہویہ کی ترغیب سے انہوں نے تالیف کی ہے نیشاپور کے علماء میں یہ محمد بن ابراہیم بن المنذر مشہور اور ان کی تالیف کی کتابیں معتبر ہیں ‘ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث قدسی کئی جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا نیک لوگوں کے لیے جنت میں جو نعمتیں پیدا کی گئی ہیں وہ نہ دنیا میں کسی نے آنکھوں سے دیکھیں ‘ نہ کانوں سے سنیں ‘ نہ کسی دل میں ان کا خیال گزر سکتا ہے 9 ؎۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے عبد اللہ بن عمر ؓ کی روایت بھی گزر چکی ہے 10 ؎۔ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا جب ہمیشہ کے دوزخ میں رہنے والے دوزخی دوزخ میں روجاویں گے تو موت کو ذبح کیا جاکر جنتیوں اور دوزخیوں کو یہ حکم سنا دیا جائے گا کہ یہ نعمتیں ہمیشہ رہیں گی اور جو شخص جہاں ہے ‘ ہمیشہ وہیں دوزخ اور جنت میں رہے گا ‘ یہ حدیثیں رزق ربک خیر وابقی کی گویا تفسیر ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ عقبیٰ کی خوشحالی کے آگے دنیا کی خوشحالی کی کچھ حقیقت نہیں ‘ کیونکہ دنیا کی خوشحالی میں جو راحت کی چیزیں ہیں ‘ ان میں کوئی چیز ایسی نہیں کہ جو نہ کسی نے آنکھوں سے دیکھی ہوں نہ کانوں سے سنی ہوں ‘ نہ کسی کے دل میں اس کا خیال گزرا ہو اسی طرح دنیا کی راحت کی چیزوں اور ان کے برتنے والوں کے پیچھے ہر وقت فنا اور موت لگی ہوئی ہے عقبیٰ کی راحت کی چیزوں کو ایسی ہمیشگی ہے کہ ان کے برتنے والوں کو نہ کبھی موت کا اندیشہ ہے ‘ نہ وہ راحت کی چیزیں نبڑنے والی ہیں۔ 1 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 312 ج 4۔ 2 ؎ مشکوٰۃ ص 441 کتاب الرقاق ‘ فصل ثانی۔ 3 ؎ الترغیب والترہیب ص 172 ج 4۔ 4 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 12 ج 3 ومشکوٰۃ ؎ ص 223 ج 1 بروایت عبد اللہ بن عمر ؓ ؎ شرح صحیح مسلم امام نووی ص 322 ج 1۔ 5 ؎ الترغیب والترہیب ص 32 ج 4۔ 6 ؎ ایضا۔ 7 ؎ مشکوٰۃ ص 448 باب فضل الفقراء ) 8 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 313 ج 4 مگر الفاظ مختلف ہیں۔ 9 ؎ مشکوٰۃ باب صنقہ اہل الخنۃ۔ 10 ؎ بحوالہ مشکوٰۃ ص 493‘ باب الحوض والشفاعۃ۔
Ayah 20:132

وَ اْمُرْ اَهْلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَ اصْطَبِرْ عَلَیْهَا١ؕ لَا نَسْئَلُكَ رِزْقًا١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُكَ١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوٰى Open ayah 20:132 in the Quran reader

اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم کرو اور اس پر قائم رہو ہم تم سے روزی کے خواستگار نہیں بلکہ تمہیں ہم روزی دیتے ہیں اور (نیک) انجام (اہل تقویٰ ) کا ہے

132:۔ اوپر نماوں کا حکم فرما کر اس آیت میں فرمایا ‘ اے رسول اللہ کے اس حکم کے موافق تم بھی نماز میں مصروف رہو اور اپنے گھر والوں کو بھی نماز میں مصروف رہنے کی تاکید کرو کیونکہ دنیا کے بادشاہ لوگ اپنی رعایا کی کمائی میں سے حصہ مانگتے ہیں اللہ تعالیٰ کی بادشاہت ایسی نہیں کہ اس کو کسی کی کمائی کی محتاجی ہو ‘ وہ آپ سب کو رزق دیتا ہے اس نے تو جنات اور انسان کو اس لیے پیدا کیا ہے کہ یہ سب اس کو اپنا معبود جان کر اس کی عبادت خالص دل سے کریں اور وہ ان کی محنت سے بڑھ کر ان کو بدلہ دیوے اور دنیا میں اگرچہ وہ نیک وبد سب کو رزق دیتا ہے لیکن عقبیٰ میں محنت سے بڑھ کر بدلہ ان ہی لوگوں کو ملے گا جو عقبیٰ کے بدلہ کی نیت سے نیک کام کرتے اور برے کاموں سے بچتے ہیں ‘ جو لوگ عقبیٰ کے منکر ہیں اگر وہ رسم کے طور پر نیک کام کریں گے تو اس کا بدلہ ان کو دنیا میں ہی مل جائے گا ‘ نہ عقبیٰ کے بدلہ کا انہیں یقین ہے نہ ان کو عقبیٰ میں کچھ بدلہ ملنے والا ہے۔ صحیح بخاری ومسلم میں عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے 1 ؎۔ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ماں کے پیٹ میں جب بچہ کا پتلا تیار ہوجاتا ہے تو اس میں روح کے پھونکے جانے سے پہلے اس کی تمام عمر کا رزق اللہ کے حکم سے فرشتہ لکھ لیتا ہے یہ حدیث نحن نرزقک کی گویا تفسیر ہے ‘ جس کا حاصل یہ ہے کہ انسان کے پتلے میں جان پڑنے سے پہلے اس کے رزق کا انتظام اللہ تعالیٰ کے کار خانہ قدرت میں ہوجاتا ہے صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے 2 ؎۔ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا جو لوگ عقبیٰ کے منکر ہیں وہ رسم کے طور پر دنیا میں کوئی نیک کام کرتے ہیں تو ان کو اس کا بدلہ دنیا ہی میں مل جاتا ہے۔ عقبیٰ کے اجر کی نیت سے ان کا نہ کوئی نیک کام ہوتا ہے نہ ان کو کوئی اجر عقبیٰ میں ملنے والا ہے 3 ؎۔ صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایتیں ہیں جن میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا جس طرح کسی شخص کے دروازہ پر نہر ہو اور وہ ہر روز پانچ دفعہ اس نہر میں نہاوے تو اس کے جسم پر میل کچیل کچھ نہ رہے گا۔ اسی طرح پانچوں وقت کی نماز کے پڑھنے سے ایک رات دن کے آدمی کے صغیرہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں ‘ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی یہ حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے 4 ؎۔ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے قسم کھا کر فرمایا ‘ اللہ تعالیٰ کو گنہگار بندوں کے گناہ معاف کردینے کی صفت ایسی پیاری ہے کہ زمین پر حال میں جو لوگ بستے ہیں اگر وہ گناہ نہ کریں تو ان کی جگہ اللہ تعالیٰ اور گنہگار مخلوق کو پیدا کرے اور گناہوں کے بعد توبہ کی توفیق دے کر اس گنہگار مخلوق کے گناہ معاف فرمادے۔ ان حدیثوں کو آیت کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ جو لوگ پانچوں وقت کی نماز کے اور کبیرہ گناہ کے بعد توبہ و استغفار کے پابند ہیں ‘ ان کے صغیرہ گناہ نماز کی برکت اور کبیرہ گناہ خالص دل کی توبہ سے اللہ تعالیٰ معاف فرما دیتا ہے جس سے قیامت کے دن عملوں کے تولے جانے کے وقت ان کے بدی کے پلڑے ہلکے ہوجاویں گے جس سے ایسے لوگوں کی نجات کی اللہ کی ذات سے پوری توقع ہے۔ (1 ؎ مشکوٰۃ ص 20 باب الایمان بالقدر ) (2 ؎ بحوالہ مشکوٰۃ ص 33 کتاب العلم ) (3 ؎ مشکوٰۃ ص 57‘ کتاب الصلوٰۃ۔ ) (4 ؎ بحوالہ مشکوٰۃ ص 203 باب الاستغفار والتوبۃ۔ )
Ayahs 20:133–134

وَ قَالُوْا لَوْ لَا یَاْتِیْنَا بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ اَوَ لَمْ تَاْتِهِمْ بَیِّنَةُ مَا فِی الصُّحُفِ الْاُوْلٰى Open ayah 20:133 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ یہ (پیغمبر ﷺ اپنے پروردگار کی طرف سے ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں لاتے ؟ کیا ان کے پاس پہلی کتابوں کی نشانی نہیں آئی ؟

وَ لَوْ اَنَّاۤ اَهْلَكْنٰهُمْ بِعَذَابٍ مِّنْ قَبْلِهٖ لَقَالُوْا رَبَّنَا لَوْ لَاۤ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّذِلَّ وَ نَخْزٰى Open ayah 20:134 in the Quran reader

اور اگر ہم انکو پیغمبر (کے بھیجنے) سے پیشتر کسی عذاب سے ہلاک کردیتے تو وہ کہتے کہ اے ہمارے پروردگار تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم ذلیل اور رسوا ہونے سے پہلے تیرے کلام (واحکام) کی پیروی کرتے

133۔ 134:۔ مشرکین مکہ اللہ کے رسول ﷺ کی شان میں کہتے تھے کہ اگر یہ سچے رسول ہیں تو مثلا جس طرح صالح (علیہ السلام) نے اونٹنی کے پتھر میں سے پیدا ہوجانے کا ظاہر معجرہ اپنی قوم کے لوگوں کو دکھلا دیا ‘ اسی طرح یہ رسول ہم کو کوئی ظاہر ظاہر معجزہ کیوں نہیں دکھلاتے ‘ مشرکین کی اس بات کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ‘ ان پڑھ رسول کی معرفت پچھلی کتابوں کے سچے قصے جو ان لوگوں نے سنے ہیں کیا اس سے اتنی بات ان لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتی کہ ان پڑھ شخص تو درکنار کوئی اہل کتاب بھی وہ غیب کے سچے قصے بغیر آسمانی کتاب کی مدد کے نہیں بیان کرسکتا تو اب اس میں کیا شک باقی رہا کہ قرآن کتاب آسمانی ہے اور جن پر یہ قرآن نازل ہوتا ہے ‘ وہ اللہ کے سچے رسول ہیں اور اسی آسمانی کتاب کی مدد سے اللہ کے رسول وہ غیب کی باتیں بیان کرتے ہیں ‘ اگر معجزہ دیکھ کر ان لوگوں کا سچا ارادہ راہ راست پر آنے کا ہے و ایک ہی معجزہ ان کو کافی ہے علاوہ اس کے ان پچھلے قصوں میں یہ عادت الٰہی ان لوگوں کو معلوم ہوچکی ہے کہ جس قوم کی خواہش کے موافق کسی معجزہ کا ظہور ہوا اس معجزہ کو دیکھ کر پھر وہ قوم راہ راست پر نہیں آئی تو ایسی قوم پر بہت جلدی کوئی نہ کوئی عذاب آجاتا یہ انجام اگر ان لوگوں کو منظور ہے تو کوئی معجزہ اللہ کی قدرت سے باہر نہیں ہے پھر فرمایا اللہ نے اپنے رسول کو اس لیے نہیں بھیجا کہ یہ لوگ جو معجزہ چاہیں اس کا دکھا دینا اللہ کے رسول کے ذمہ ہو بلکہ اللہ نے تو رسول کو بھیج کر ان پر آسمانی کتاب اس واسطے نازل فرمائی ہے کہ اللہ کی مرضی اور نامرضی کے کاموں کے جان لینے میں لوگوں کو انجانی کا عذر نہ رہے کیونکہ رسول کے بھیجنے اور آسمانی کتاب کے نازل کرنے سے پہلے ان کو کسی عذاب سے ذلیل ورسوا کیا جاتا تو ان لوگوں کو اس عذر کی گنجائش باقی رہتی کہ عذاب کی ذلت اور رسوائی سے پہلے کوئی پیغمبر اللہ کی مرضی اور نامرضی کے کاموں کا پیغام لے کر آتا ‘ تو یہ لوگ اس پر ضرور عمل کرتے۔ صحیح بخاری ومسلم میں ابن شعبہ 1 ؎، سے اور صحیح مسلم میں عبداللہ بن مسعود ؓ سے 2 ؎، جو روایتیں ہیں ان میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ‘ انجانی کے عذر کا رفع کردینا اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے ‘ اسی واسطے اس نے آسمانی کتابیں دے کر رسول بھیجے ‘ تاکہ اللہ کی مرضی اور نامرضی کے کام اور مرضی کے کاموں کے ثواب ‘ اور نامرضی کے کاموں کے عذاب کا حال آسمانی کتابوں کے ذریعہ سے اللہ کے رسول امت کے لوگوں کو اچھی طرح سمجھا دیں جس مطلب کے لیے اللہ تعالیٰ نے آسمانی کتابیں دے کر اپنے رسول بھیجے ہیں اس کی تفسیر ان حدیثوں سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے۔ 1 ؎ مشکوٰۃ ص 286 باب اللعمان۔ 2 ؎ صحیح مسلم ص 358 ج 2۔
Ayah 20:135

قُلْ كُلٌّ مُّتَرَبِّصٌ فَتَرَبَّصُوْا١ۚ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ اَصْحٰبُ الصِّرَاطِ السَّوِیِّ وَ مَنِ اهْتَدٰى۠ Open ayah 20:135 in the Quran reader

کہہ دو کہ سب (نتائج اعمال کے) منتظر ہیں سو تم بھی رہو عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا کہ (دین کے) سیدھے راستے پر چلنے والے کون ہیں اور (جنت کی طرف) راہ پانے والے کون ہیں (ہم یا تم)

135:۔ اسلام سے پہلے عرب میں شاعر بہت ہوتے تھے اور عرب کا یہ بھی ایک دستور تھا کہ ہجو کے ڈر سے شاعروں کے منہ پر ان کو برا نہیں کہتے تھے ‘ بلکہ جن شاعروں کو اپنا مخالف سمجھتے تھے ‘ ان پر گردش زمانہ سے کسی آفت کے آجانے کا انتظار کیا کرتے تھے۔ قریش بھی اللہ کے رسول کو شاعر اور بتوں کی مذمت کی آیتوں کو شاعرانہ ہجو خیال کر کے اللہ کے رسول اور مسلمانوں کے حق میں کسی آفت کے آجانے کا انتظار کیا کرتے تھے ‘ اس لیے فرمایا اے اللہ کے رسول ان مشرکوں سے کہہ دیا جائے کہ ہم تمہارے انجام کا انتظار کرتے ہیں اور تم ہمارے انجام کے انتظار میں لگے رہو ‘ کچھ عرصہ کے بعد تمہیں خود معلوم ہوجائے گا کہ دنیا میں راہ راست پر کون تھا اور ٹیڑھے رستہ پر کون ‘ اور دونوں جہان میں راہ راست پر قائم رہنے والوں کا انجام کیا ہوا اور جو راہ راست سے ہٹے ہوئے تھے ان کا انجام کیا ہوا ‘ اللہ سچا ہے ‘ اللہ کا وعدہ سچا ہے ‘ پہلا ظہور تو بدر کی لڑائی کے وقت ہوا جس کا قصہ انس بن مالک کی صحیح بخاری ومسلم کی روایت سے کئی جگہ گزر چکا ہے کہ اہل مکہ میں کے بڑے بڑے بتوں کے حامی اور اسلام کے بد خواہ دنیا میں بڑی ذلت سے اس لڑائی میں مارے گئے اور مرتے ہی عذاب قبر میں گرفتار ہوگئے۔ جس عذاب کے جتلانے کے لیے اللہ کے رسول نے ان کی لاشوں پر کھڑے ہو کر فرمایا کہ اب تو تم نے اللہ کے وعدہ کو سچا پالیا ‘ دوسرا ظہور اس وعدہ کا فتح مکہ کے وقت ہوا ‘ جس کا قصہ صحیح بخاری کی عبداللہ بن مسعود اور صحیح مسلم کی ابوہریرہ ؓ کی روایتوں سے کئی جگہ گزر چکا ہے 2 ؎ کہ مشرکین مکہ جن بتوں کی مذمت سے چڑ کر اللہ کے رسول کو شاعر اور بتوں کی مذمت کی آیتوں کو شاعرانہ ہجو کہا کرتے تھے ‘ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے ہاتھ سے ان بتوں کو یہ ذلت دلوائی کہ اللہ کے رسول ﷺ نے اپنے ہاتھ کی لکڑی مار مار کر ان بتوں کو زمین پر ڈال دیا اور بتوں کی مذمت سے چڑنے والے مشرکوں میں سے کوئی بھی اتنا نہ رہا کہ ان بتوں کو اس ذلت سے بچاتا۔ 1 ؎ جس کا حوالہ ابھی صفحہ 183 پر گزرا۔ 2 ؎ ملاخطہ ہو ص 60 جلد ہذا۔