Ayahs 20:41–4441۔ 44:۔ بچپن سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کئی طرح کی آزمائش میں پڑے اول تو اس سال میں پیدا ہوئے جب بنی اسرائیل کے لڑکے فرعون قتل کر رہا تھا پھر صندوق میں بند ہو کردیا میں ڈالے گئے پھر دودھ کسی انا کا نہ پیا پھر فرعون کی ڈاڑھی نوچ لینے سے قتل کے قابل قرار پائے پھر آخر زبان جل گئی پھر قبطی کے ان کے ہاتھ سے مارے جانے کے سبب سے فرعونی لوگ ان کے قتل پر آمادہ ہوگئے پھر بھوکے پیاسے مدین کا سفر کرنا پڑا اس قصہ میں گویا آنحضرت ﷺ کی تسلی ہے کہ گھبرانے کی بات نہیں ہے انبیاء کو قدیم سے دنیا میں تکلیفیں پہنچتی رہتی ہیں پھر آخرت میں ان تکلیفوں کے بدلہ راحتیں ہیں اور دنیا میں بھی وقت مقررہ پر قدیم سے انبیاء کا غلبہ آخر کو ہوتا رہا ہے اور ان کے مخالف طرح طرح کے عذایوں سے ہلاک ہوتے رہے ہیں ان آیتوں میں موسیٰ کے ہاتھ سے فرعون کی قوم کا ایک شخص جو مارا گیا اس کا ذکر تو فرمایا اور باقی کی آزمائش کی باتوں کو وفتنک فتونا فرما کر مختصر طور پر ذکر کیا جس سے مقصود وہی آزمائش کی باتیں ہیں جو اوپر بیان کی گئیں فرعون کی قوم کو قبطی قوم کہتے ہیں قوم میں کا ایک آدمی موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ سے جو مارا گیا اس کے قصہ کا حاصل یہ ہے 1 ؎۔ کہ ایک اسرائیلی اور دوسرا قبطی شخص مصر کے بازار میں جھگڑ رہے تھے ادھر سے اتنے میں موسیٰ (علیہ السلام) آگئے ان کو دیکھ کر اسرائلی شخص نے ان سے فریاد کی موسیٰ (علیہ السلام) کو قبطی شخص کی زیادتی معلوم ہوئی اس پر ان کو غصہ آگیا انہوں نے غصہ میں ایک گھونسا اس قبطی شخص کے مارا جس سے وہ فورا مرگیا لیکن قبطی قوم کے کسی شخص نے یہ ماجرا نہیں دیکھا اس واسطے اس قوم کے لوگ کسی پر نالش نہ کرسکے اس کے ایک دن بعد وہی اسرائیلی شخص دوسرے قبطی شخص سے جھگڑ رہا تھا کہ اتفاق سے اب بھی موسیٰ (علیہ السلام) وہاں آگئے اور پھر اسرائیلی شخص نے قبطی کی زیادتی کی فریاد موسیٰ (علیہ السلام) سے کی، موسیٰ (علیہ السلام) نے اس اسرائیلی شخص کو دھمکایا کہ تو روز جھگڑے کرتا رہتا ہے اور اس دھمکی کے بعد اس قبطی شخص کے مارنے کو ہاتھ اٹھایا اسرائیلی شخص یہ سمجھا کہ موسیٰ نے مجھ کو دھمکایا ہے اس لیے میرے ہی مارنے کو ہاتھ بھی اٹھایا ہے اس لیے اس نے غل مچا دیا کہ موسیٰ ( علیہ السلام) تم نے کل ایک قبطی کو جس طرح مار ڈالا کیا آج مجھ کو مارنا چاہتے ہو اس غل سے تمام مصر میں یہ بات پھیل گئی کہ اس قبطی کو موسیٰ ( علیہ السلام) نے مارا ہے فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کے پکڑنے کو پیادے بھیجے یہ سارے ابھی موسیٰ ( علیہ السلام) تک نہیں پہنچے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں مصر سے نکل جانے کا ارادہ پیدا کرکے ان کو مدین کے راستہ سے لگا دیا مدین مصر سے آٹھ منزل ہے موسیٰ (علیہ السلام) جب مدین پہنچ گئے تو وہاں شعیب (علیہ السلام) کی بیٹی سے ان کا نکاح ہوگیا۔ صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا قول ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) مدین میں دس برس رہے 2 ؎۔ اب موسیٰ (علیہ السلام) کی عمر چالیس برس کی ہوگئی اور نبوت کے ملنے کا زمانہ قریب آگیا اس واسطے اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں مصر کا ارادہ پیدا کیا اور راستہ میں جس طرح نبوت ملی اس کا ذکر اسی سورت کے شروع میں گزرا اوپر اکیلے موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون کی ہدایت کے لیے جانے کا حکم تھا اس حکم کے بعد جب موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ دعا مانگی کہ یا اللہ میرے بھائی ہارون کو بھی نبی کردیا جائے تو موسیٰ (علیہ السلام) کی یہ دعا قبول ہوئی ہارون (علیہ السلام) نبی ہوگئے۔ اس لیے ان آیتوں میں موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) دونوں کو فرعون کی ہدایت کے لیے جانے کا حکم ہوا سخت بات سے آدمی کو غصہ آجاتا ہے جس کے سبب سے سمجھ میں آتی ہوئی بات کو بھی آدمی نہیں سمجھتا اس واسطے ان آیتوں میں موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو یہ حکم ہوا کہ وہ فرعون سے نرم لفظوں میں بات چیت کریں (لعلہ یتذکر او یخشی) اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے علم غیب سے کوئی چیز باہر نہیں ہے فرعون اور اس کو قوم کا جو انجام ہونے والا ہے وہ اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے لیکن دنیا کے کاموں کا دارومدار اللہ تعالیٰ نے اپنے علم غیب پر نہیں رکھا اور نہ غیب کا حال سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی کو معلوم ہے اس واسطے تم اس امید پر پوری کوشش کرو کہ شاید فرعون راہ راست پر آجائے تم کو اس کوشش کا اجر ضرور ملے گا۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے 3 ؎۔ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نافرمان لوگوں کو پہلے مہلت دیتا ہے جب مہلت کے زمانہ میں وہ لوگ اپنی نافرمانی سے باز نہیں آتے تو کسی سخت عذاب میں ان کو پکڑ لیتا ہے اس حدیث کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی عادت کے موافق فرعون اور اس کی قوم کو بہت بڑی مہلت دی اور اس مہلت کے زمانہ میں دو نبی موسیٰ اور ہارون ان لوگوں کی فہمائش کے لیے بھیجے اور ان نبیوں کو نرم لفظوں میں فہمائش کرنے کی ہدایت بھی کی اور ان نبیوں نے ہدایت کے موافق عمل بھی کیا لیکن مہلت کے زمانہ میں جب فرعون کی سرکشی دن بدن بڑھتی گئی تو آخر کو فرعون اور اس کی قوم کو دریائے قلزم میں ڈبو کر ہلا کردیا۔
1 ؎ یہ روایت ” حدیث الفنون “ سے موسوم ہے اور سنن کبرٰی امام نسائی کے حوالہ سے زیر تفسیر آیت کے نحت تسیر ابن کثیر میں ہے نیز دیکھئے الدر المنثورص 396 تا 301 ج 4۔
2 ؎ تفسیر ابن کثیر سورة القصص تفسیر آیۃ کریمہ فان اتممت عشرا الآیہ بجوالہ بخاری۔
3 ؎ مثلا ص 109 ج 3۔
Ayahs 20:45–4745۔ 47:۔ فرعون بڑا ظالم بادشاہ مشہور تھا اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے ہاتھ سے ایک فرعونی مارا گیا تھا اس کا بھی خوف تھا کہ فرعون جب دیکھے گا ضرور بدلہ لے گا اس سبب سے حضرت موسیٰ اور ہارون نے مل کر خدا سے التجا کی کہ یا اللہ فرعون ہم پر کوئی زیادتی نہ کرنے پائے اللہ تعالیٰ نے ان کی تسکین فرمائی کہ اللہ تمہارے ساتھ ہے اس میں گویا آنحضرت ﷺ کی تسکین ہے کہ انبیاء کے ساتھ اللہ ہے باوجود اختیارات بادشہاہی کے فرعون حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) پر کچھ زیادتی نہ کرسکا تو اے نبی اللہ کے ! اہل مکہ تم پر کیا زیادتی کرسکتے ہیں اللہ کا وعدہ سچا ہے مکہ میں باوجودیکہ سب قوم آنحضرت کے مخالف تھی مگر کسی سے کچھ نہ ہوسکا آخر کر حق ہی کا بول بالا رہا۔ مسند امام احمد نسائی ابوداؤد اور مستدرک حاکم میں اوس بن الصامت ؓ کی بی بی خولہ ؓ اور حضرت عائشہ ؓ سے جو معتبر روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ خولہ اللہ کے رسول ﷺ کے پاس آئیں اور چپکے چپکے یہ شکایت کی کہ اوس بن الصامت نے زبردستی ان کو طلاق دے دی اللہ تعالیٰ نے فورا اس پر سورة مجادلہ کی چند آیتیں نازل فرمائیں یہ حدیث اسمع و اری کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ خولہ کے اپنے رسول کے پاس آنے کو اللہ تعالیٰ نے فورا دیکھ لیا اور ان کی چپکے چپکے سے باتوں کو اسی وقت سن لیا۔ خولہ ؓ کے طلاق کے مسئلہ کی زیادہ تفصیل سورة المجادلہ میں آئے گی اوپر گزر چکا ہے کہ بنی اسرائیل کا اصلی وطن ملک شام ہے یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ سے یہ لوگ مصر میں آن کر آباد ہوئے اور یوسف (علیہ السلام) کی وفات کے بعد فرعون ان کو بہت ستاتا تھا۔ طرح طرح کی ذلت اور محنت کے کام ان سے لیتا تھا اس واسطے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ حکم دیا تھا کہ بنی اسرائیل کو مصر سے لے جا کر ان کے اصلی وطن ملک شام میں بسا دیا جائے اس حکم کی تعمیل میں موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) نے فرعون سے یہ کہا کہ بنی اسرائیل کو کیوں ستاتا ہے اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق ان کو ہمارے ساتھ کردیا جائے ان آیتوں میں مختصر طور پر موسیٰ (علیہ السلام) کے عصا اور یدبیضا کے معجزے کا ذکر قد جئناک بایۃ من ربک کے لفظوں سے ہے لیکن سورة شعراء میں آئے گا کہ اس پہلی ملاقات میں موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو عصا اور ید بیضاء کا معجزہ بھی دکھایا جس سے پہلے تو فرعون ڈر گیا اور پھر موسیٰ (علیہ السلام) کو جادوگر اور ان کے معجزے کو جادو بتلایا والسلام علی من اتبع الھدی اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق اس کے رسول جو نیک راستہ بتلاتے ہیں جو کوئی اس راستہ پر چلے گا آخرت میں وہی امن وامان سے رہے گا اور جو کوئی اللہ کے رسولوں کو جھٹلائے گا وہ آخرت میں سزا بھگتے گا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) سے یہ وعدہ جو کیا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں اس کا ظہور وقت پر ہوتا رہا۔ چناچہ آگے آتا ہے کہ جب جادوگروں کے مقابلہ کے وقت ان جادوگروں نے اپنی رسیوں اور لکڑیوں کے سانپ بنا کر میدان میں چھوڑے تو موسیٰ (علیہ السلام) ان سانپوں کو دیکھ کر کچھ ڈرنے لگے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے فورا ان کی تسکین کی اور فرمایا ڈرو نہیں تم ہی غالب رہو گے تم اپنے ہاتھ کی لکڑی جھٹ پٹ زمین میں ڈال دو تمہاری لکڑی کا سانپ جادوگروں کے ان سب سانپوں کو ابھی نگل جائے گا اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کا یہ کرشمہ دیکھ کر جادوگر ایمان لے آئیں گے۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے 1 ؎۔ کہ دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے اپنے علم غیب کے نتیجہ کے طور پر اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں یہ لکھ لیا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کون شخص دوزخ میں جھونکے جانے کے قابل کام کرے گا اور کون جنت میں داخل ہونے کے قابل۔ اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے کہ ایک ہی معجزے کا اثر فرعون کے دل پر تو یہ ہوا کہ وہ عمر بھر معجزہ کو جادو بتلا کر دوزخ میں جھونکے جانے کے قابل قرار پایا اور اسی معجزے کا اثر جادوگروں کے دل پر یہ ہوا کہ وہ ایمان دار بن کر جنتی ٹھہرے۔
1 ؎ مثلاص 240 ج 3۔
Ayahs 20:48–5248۔ 52:۔ اوپر موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) نے فرعون کو یہ جتلایا تھا کہ جو کوئی اللہ کے رسول کو جھٹلا دے گا وہ آخرت میں سزا بھگتے گا ان آیتوں میں یہ جتلایا کہ ہم نے وہ بات اپنی طرف سے نہیں کہی بلکہ اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ سے ہم کو یہی حکم بھیجا ہے کہ جو کوئی اللہ کے رسولوں کو جھٹلائے گا اور اللہ کے حکم سے اس کے رسول جن باتوں کی نصیحت کرتے ہیں ان کے مان لینے کی طرف رخ نہ کرے گا تو وہ آخرت میں سزا بھگتے گا۔ سورة الشعراء میں آئے گا کہ فرعون خدا کی ہستی کا اس قدر سخت منکر تھا کہ خدا کی ہستی کے اقرار کو قابل قید جرم گنتا تھا اسی واسطے اگرچہ موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) نے اوپر کی آیتوں میں فرعون سے یہ کہا تھا کہ ہم دونوں تیرے رب کے بھیجے ہوئے رسول ہیں لیکن فرعون نے غرور کے مارے ان لفظوں کو نہیں دہرایا بلکہ موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) سے یہ کہا کہ تم دونوں کا رب کون ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کی اس بات کا یہ جواب دیا کہ ہمارا رب وہ ہے جس آدمی کو آدمی کی صورت میں اور جانوں کو جانور کی صورت میں پیدا کیا اور پھر ہر ایک کو زندگی کے بسر کرنے کا طریقہ سکھایا مثلا آدمی اور جانوروں کے بچہ کو پیدا ہوتے ہی دودھ پینے کا طریقہ سکھایا فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ کہا کہ جب اللہ نے سب کو پیدا کیا ہے اور اسی کی تعظیم سب پر واجب ہے تو پچھلی بہت سی قومیں ایسی گزری ہیں جنہوں نے اس واجب کو ادا نہیں کیا پھر آخر ان کا کیا انجام ہوگا موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا اللہ کے کار خانہ میں بھول چوک نہیں ہے ان سب پچھلی قوموں کا حال اللہ تعالیٰ کے پاس ایک کتاب میں لکھا ہوا ہے اس کے موافق ایک دن نیکی بدی کا فیصلہ ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ کا اتنا بڑا انتظام کہ اس نے اتنی بڑی زمین بچھونے کی طرح پانی پر بچھائی جس میں کہیں کھیتی ہے کہیں باغات ہیں کہیں ایک شہر سے دوسرے شہروں کے جانے کے راستے ہیں آسمان ہے تو ایسا ہی ہے کہ ہر سال وقت مقررہ پر اس میں سے پانی برستا ہے یہ سب انتظام اس بات کا گواہ ہے کہ ایک دن نیک وبد کا ضرور فیصلہ ہوگا تاکہ یہ سب انتظام ٹھکانے لگے جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد پر کچھ نہ ہوگا وہ بڑے نادان ہیں کیونکہ یہ نادان لوگ دنیا کا کوئی چھوٹا سا انتظام بھی کرتے ہیں تو اس کا نتیجہ پہلے سے سوچ لیتے ہیں مثلا فرعون نے دریائے نیل سے اپنے باغوں تک نہر جو بنائی تو یہ نتیجہ سوچ کر بنائی کہ نہر سے باغوں کے پیڑوں کو پانی اچھی طرح پہنچے گا پھر فرعون یا اس کے ساتھ جو دنیا کے اتنے بڑے انتظام کو بےنتیجہ بتلاتے ہی ان سے بڑھ کر دنیا میں نادان کون ہوسکتا ہے اصل بات یہ ہے کہ راحت کے وقت انسان اللہ کو بھول جاتا ہے ہاں تکلیف کے وقت انسان کو اللہ یاد آتا ہے جس طرح راحت کے زمانہ تک فرعون خدا کی ہستی کا منکر رہا جب قلزم میں ڈوبنے کی تکلیف سر پر آن پڑی تو اپنی خدائی کو غلط ٹھہرا کر اللہ تعالیٰ کی فرما نبرداری کا قائل ہوگیا جس کا ذکر سورة یونس میں گزر چکا ہے۔ صحیح بخای ومسلم کے حوالہ سے عبادہ بن الصامت کی اور صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی یہ روایتیں بھی اسی سورة میں گزر چکی ہیں 2 ؎۔ کہ ایسے آخری وقت کی فرمانبرداری اللہ تعالیٰ کی درگاہ میں مقبول نہیں ہے کیونکہ ایسے آخری وقت پر شرع کا کوئی حکم آدمی کے ذمہ باقی نہیں رہتا پھر ایسے وقت احکام شرع کی پابندی کا اقرار کیا کام آسکتا ہے۔
1 ؎ مثلاص 240 ج 3۔
2 ؎ تفسیر ہذاص 61 ج 3۔
Ayahs 20:53–5653۔ 56:۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی نصیحت میں فقط مینہ کا ذکر کیا تھا اس ذکر کو پورا کرنے کے لیے یہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس مینہ سے طرح طرح کا اناج انسان کے کھانے کے لیے اور طرح طرح کا چارہ انسان کے چوپایوں کے لیے ہر سال پیدا ہوتا ہے پھر فرمایا اے بنی آدم اللہ تعالیٰ کا پیدا کیا ہوا اناج خود کھاؤ اور چارا اپنے چوپاؤں کو چراؤ اور یہ یاد رکھو کہ اس ہر سال کے انتظام میں سمجھ دار لوگوں کے لیے اللہ کی قدرت کی یہ نشانیاں ہیں کہ جس طرح اب ایک مینہ کے اثر سے ہر سال مردہ زمین میں سے طرح طرح کا اناج پیدا ہوتا ہے اسی طرح حشر کے دن ایک مینہ کے اثر سے ہر مردہ شخص کی مٹی سے اس کا جسم تیار ہوجائے گا اور جس طرح اب خلاف عقل پانی جیسی پتلی چیز سے ماں کے پیٹ میں بچہ کا پتلا تیار ہو کر اس میں روح پھونک دی جاتی ہے اسی طرح اس دن ہر مردہ شخص کی مٹی سے جو پتلا تیار ہوگا اس میں روح پھونک دی جائے گی۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے جس میں دوسرے صور سے پہلے مینہ کے برسنے اور اس مینہ کی تاثیر سے جسموں کے تیار ہوجانے کا ذکر تفصیل سے ہے 1 ؎۔ اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے کہ جگہ جگہ قرآن شریف میں کھیتی کے ذکر کے ساتھ حشر کا ذکر کس سبب سے آیا ہے سورة قٓ میں آئے گا کہ مرنے کے بعد جنگل دریا میں جہاں جہاں ہر مردہ شخص کی مٹی جائے گی اس کا سب پتہ اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے اس سے ہر مردہ شخص کی مٹی کا جمع ہوجانا اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے ترمذی ابوداؤد اور صحیح ابن حبان کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری کی روایت کئی جگہ گزر چکی ہے 2 ؎۔ کہ آدم (علیہ السلام) کے پتلے کے لیے اللہ تعالیٰ نے تمام زمین کی تھوڑی تھوڑی سی مٹی لی ہے اسی واسطے بنی آدم میں کوئی گورا ہے کوئی کالا اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے کہ اگرچہ اب بنی آدم کی پیدائش نطفہ سے ہے لیکن اس نطفہ میں آدم (علیہ السلام) کے پتلے کی مٹی کا اثر بھی پشت درپشت چلا آتا ہے اس لیے جس طرح یہاں منھا حلقنا فرمایا اسی طرح قرآن شریف میں اور جگہ بھی بنی آدم کی پیدائش میں مٹی کا ذکر فرمایا ہے آخر کو فرمایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی معرفت فرعون کو اللہ کی قدرت کی یہ سب نشانیاں دکھائی اور سمجھائی گئیں لیکن اس نے اللہ کے رسول موسیٰ (علیہ السلام) کو جھٹلایا اور اللہ کی قدرت کی ایک نشانی کو بھی نہ مانا جس کا انجام یہ ہوا کہ دنیا میں بڑی ذلت سے وہ ڈوب کر مرگیا اور آخرت میں سخت عذاب بھگتے گا۔ فرعون کی مثال سے قریش کو یہ بات سمجھائی گئی تھی کہ ان میں سے جو لوگ اللہ کے رسول ﷺ کے جھٹلانے سے باز نہ آئیں گے ان کا بھی یہی انجام ہوگا جو فرعون کا ہوا اللہ سچا ہے اللہ کا کلام سچا ہے قریش میں کے جو لوگ فرعون کے قدم بقدم چلے بدر کی لڑائی کے وقت ان کا جو کچھ انجام ہوا صحیح بخاری ومسلم کی انس بن مالک کی روایت کے حوالہ سے اس کا ذکر کئی جگہ گزر چکا ہے 3 ؎۔ اگرچہ بعضے مفسروں نے ان آیتوں کو بھی موسیٰ (علیہ السلام) کا کلام ٹھہرایا ہے لیکن ظاہر یہی ہے کہ منکرین حشر کو جس طرح اور آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے حشر کا حال سمجھایا ہے وہی حالت ان آیتوں کی ہے سو اس واسطے ان آیتوں کو اللہ تعالیٰ کا کلام قرار دینا قرآن شریف کی اکثر آیتوں کے طرح بیان کے موافق ہے۔
1 ؎ صحیح مسلم ص 406 ج 2 باب مابین النفختین۔
2 ؎ مثلاص 291 ج 3۔
3 ؎ مثلا ص 23 ج 3۔
Ayahs 20:57–6057۔ 60:۔ اوپر ذکر تھا کہ فرعون نے اللہ کے رسول موسیٰ (علیہ السلام) کو جھٹلایا ان آیتوں میں یہ ذکر ہے کہ فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کیوں کر اور کیا باتیں کہہ کر جھٹلایا موسیٰ (علیہ السلام) کے سبب سے ملک مصر کے ہاتھ سے جاتے رہنے کا ذکر اگرچہ فرعون نے بہتان کے طور پر اس خیال سے کیا تھا کہ جلاوطنی کا حال سن کر ساری قبطی قوم موسیٰ (علیہ السلام) کی دشمن ہوجائے لیکن حقیقت میں یہ ایک غیب کی بات تھی جو اللہ تعالیٰ نے فرعون کے منہ سے نکلوائی چناچہ سورة الشعراء میں آئے گا کہ فرعون کے اور اس کی قوم کے ڈوب کر ہلاک ہوجانے کے بعد تمام ملک مصر موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم بنی اسرائیل کے قبضہ میں آگیا حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ فرعون نے کہا اے موسیٰ تم اپنے جادو کے زور سے ہم کو ملک مصر سے نکال دینے اور خود اس ملک پر قبضہ کرلینے کا ارادہ جو رکھتے ہو تمہارا یہ ارادہ ہرگز پورا نہ ہوگا ہم بھی تمہارے مقابلہ کے لیے جادوگر بلواتے ہیں صاف کھلے میدان میں مقابلہ کا وقت اور دن مقرر کیا جائے موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا تم لوگوں میں جشن کا جو ایک دن مقرر ہے اسی دن پہر ڈیڑھ پہر دن چڑھے مقابلہ ہوجائے گا ان باتوں کے بعد فرعون اس محل سے اٹھ کھڑا ہوا اور جادوگروں کو جمع کر کے مقررہ وقت اور تاریخ پر میدان میں آگیا صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے کہ دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے اپنے علم غیب کے نتیجہ کے طور پر اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں یہ لکھ لیا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کون شخص دوزخ میں جھونکے جانے کے قابل کام کرے گا اور کون جنت میں داخل ہونے کے قابل اب جو شخص جس ٹھکانے کے قابل ہے دنیا میں ویسے ہی کام اس کو آسان اور اچھے معلوم ہوتے ہیں اور حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں فرعون دوزخی قرار پاچکا تھا اس لیے معجزہ کو جادو کہنا اور موسیٰ (علیہ السلام) کا جادوگروں سے مقابلہ کرانا اس کو اچھا معلوم ہوا اور مقابلہ کے وقت جادوگروں کے عاجز ہوجانے کے بعد بھی کسی طرح سے حق بات اس کو سمجھ میں نہیں آئی۔
Ayah 20:6161:۔ تاریخ مقررہ پر جادوگر میدان میں آئے اور فرعون بھی مع اپنے مصاحبوں کے وہاں آیا اور ایک اونچی جگہ تخت بچھا کر بیٹھا اس وقت موسیٰ (علیہ السلام) نے جادوگروں سے کہا کہ اے کم بختو تم جادو کی جھوٹی باتوں کو جادو کے زور سے سچی کر کے جو لوگوں کو دکھاتے ہو اس سے تم اللہ پر جھوٹ باندھتے ہو کیونکہ مثلا اللہ کی پیدا کی ہوئی لکڑی کے سانپ ہونے کا اقرار جو تم لوگوں سے کراتے ہو تو اس میں اللہ کو جھٹلاتے ہو کہ یہ رسی اور لکڑی نہیں بلکہ سانپ ہیں اس جھوٹ کے جرم میں اللہ تعالیٰ تمہیں کسی آفت سے ہلاک کردے گا کس لیے کہ جھوٹا شخص کبھی فلاح کو نہیں پہنچتا۔ صحیح بخاری ومسلم میں عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا جو شخص جان بوجھ کر جھوٹ بولنے کی عادت کرے وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک جھوٹوں میں لکھ لیا جاتا ہے 1 ؎۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ کے حوالہ سے ابوہریرہ کی حدیث گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک جیسا کوئی شخص جاتا ہے تمام دنیا کے لوگ اس کو ویسا ہی جاننے لگتے ہیں 2 ؎۔ ان حدیثوں سے وقدخاب من افتٰری کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ دنیا میں ایسا شخص جھوٹا مشہور ہوجاتا ہے اور عقبیٰ میں اس کو جھوٹ کی سزا ملے گی غرض دین ودنیا میں کہیں ایسا شخص فلاح کو نہیں پہنچ سکتا۔
1 ؎ صحیح مسلم ص 325 ج 2 باب قبح الکذب الخ
2 ؎ نیز مشکوٰۃ ص 445 باب الحب فی اللہ والبغض فی اللہ ضصل اول۔
Ayahs 20:62–6962۔ 69:۔ جادوگر لوگ جب حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) سے مقابلہ کو آئے تو حضرت موسیٰ کا یہ حال دیکھ کر نہ ان کے پاس کچھ جادو کا سامان ہے نہ ان کی اس لکڑی پر جو ان کے پاس ہے کچھ جادو کا اثر ہے اس سے بعضے جادوگروں نے یہ بات پہچان لی تھی کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) جادوگر نہیں ہیں اس لیے ان جادوگروں کو خدشہ پیدا ہوا تھا کہ اگر درحقیقت حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو تائید غیبی ہوئی تو ہم کیا مقابلہ کرسکیں گے اسی خدشہ کے سبب سے انہوں نے فرعون سے چھپا کر یہ مصلحت آپس میں کی تھی کہ تائید غیبی کی صورت میں کیا کیا جائے جب باقی کے جادوگروں نے اس خدشہ والے جادوگروں کی ہمت بندھائی اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اور ہارون ( علیہ السلام) کو کہا کہ بلاشک یہ دونوں جادوگر ہیں اور ہم سب کو مل کر ان دونوں سے مقابلہ کرنا چاہیے تاکہ ان دونوں کا جادو مصر میں پھیل کر ہماری روزی اور عزت میں فرق نہ آئے اور ہم کو مصر چھوڑنا نہ پڑے اس کے بعد ان جادوگروں کی ہمت حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے مقابلہ پر بندھ گئی ان ہمت بندھانے والے جادوگروں نے یہ بھی کہا کہ ہم سب جادوگروں کو ایک دل ہو کر جادو کا ہنر دکھانا اور ایک ساتھ دنگل میں جانا چاہیے تاکہ موسیٰ ( علیہ السلام) اور ہارون ( علیہ السلام) پر رعب پڑے اور یہ سب اس لیے ہے کہ فرعون جیسا بادشاہ آج کے دن دنگل میں موجود ہے آج کی جیت بڑی فلاح کی بات ہے اس کے بعد سب جادوگروں نے ایک زبان ہو کر موسیٰ ( علیہ السلام) (علیہ السلام) سے کہا کہ موسیٰ ( علیہ السلام) چاہو تو تم اپنی لکڑی سانپ بن جانے کے لیے زمین میں ڈالو نہیں تو ہم پہلے ڈالتے ہیں، موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ تم ہی اپنی رسیاں اور لکڑیاں پہلے زمین میں ڈالو جادوگروں نے جونہی اپنی رسیاں اور لکڑیاں زمین میں ڈالیں تو یہ دکھائی دینے لگا کہ وہ رسیاں سانپ بن کر دوڑ رہی ہیں اس سے موسیٰ (علیہ السلام) کے دل میں کچھ دہشت سمائی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی تسکین کی اور فرمایا موسیٰ ( علیہ السلام) ڈرو نہیں تم ہی غالب رہو گے تم اپنے داہنے ہاتھ کی لکڑی زمین میں ڈال دو کہ اس کا سانپ جو بنے گا وہ اس جادو کے سب کارخانہ نگل جائے گا اور کوئی جادوگر کہیں فلاح کو نہ پہنچے گا۔ سورة بقرہ میں گزر چکا ہے کہ جادو میں ضرر تو ہے نفع نہیں ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جیسے مثلا کوئی جادوگر ٹھیکریوں کے روپے بنا دیوے تو اور حقیقت وہ ایسے روپے نہیں ہوجاتے کہ کوئی جادوگر ان سے کچھ نفع اٹھائے بلکہ دیکھنے میں وہ روپے ہوتے ہیں اور حقیقت میں وہ ٹھیکریاں ہوتی ہیں جادوگروں کے فلاح کو نہ پہنچنے کا یہی مطلب ہے کہ کسی جادوگر کو اس کا جادو کچھ نفع نہیں پہنچا سکتا۔ حاصل کلام یہ ہے کہ جادوگروں نے رسیوں اور لکڑیوں کے سانپ جو بنائے تھے وہ دیکھنے میں سانپ تھے اور اصل میں لکڑیاں اور رسیاں تھیں اس لیے وہ جادوگر مقابلہ کے وقت ان سانپوں سے کچھ نفع نہ اٹھا سکے اور معجزے کے طور پر موسیٰ (علیہ السلام) کی لکڑی کا اژدہا جو بنا تھا وہ اصلی تھا اسی واسطے اس سے موسیٰ (علیہ السلام) نے پورا نفع اٹھایا کہ وہ جادوگروں کے سب رسیوں اور لکڑیوں کو نگل گیا معجزہ اور جادو میں یہی فرق ہے کہ معجزہ کی خلاف عادت چیز سچی ہوتی ہے اور جادو کی چیز فقط دیکھنے کی دھوکے کی ٹٹی۔ چناچہ اس کی زیادہ تفصیل سورة الاعراف میں گزر چکی ہے جادو کے ضرر کی مثال صحیح بخاری ومسلم کی حضرت عائشہ ؓ کی وہ روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ پر جادو کے کیے جانے کا قصہ ہے کہ آپ کو اس جادو سے دنیا کے کاموں میں نسیان ہوجانے کا ضرر پہنچا تھا 1 ؎۔
1 ؎ صحیح بخاری ص 422 ج 1 باب صنقہ ابلیس و جنودہ۔
Ayahs 20:70–7370۔ 73:۔ ایک جادوگر دوسرے جادوگر کے جادو کے عمل اور منتر کو اگر بگاڑ دے تو جادو کا اثر مٹ کر اصل چیز نظر آنے لگتی ہے مثلا رسی کا کوئی جادوگر اگر سانپ بنادے اور دوسرا جادوگر اس پہلے جادوگر کے جادو کے منتر کو بگاڑ دے تو اصل رسی نظر آنے لگے گی۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا عصا جب ان اصلی رسیوں اور لکڑیوں کو بھی نگل گیا جس کو جادوگروں نے سانپ کی صورت بنا کر زمین پر چھوڑا تھا تو جادوگروں کو یقین ہوگیا کہ یہ تائید غیبی ہے جادو کا اثر نہیں ہے اس لیے فورا وہ سجدے میں گر پڑے اور مسلمان ہوگئے اگرچہ بعضے مفسروں نے لکھا ہے کہ فرعون نے جادوگروں کے مسلمان ہوجانے پر ان کے ہاتھ پیر کاٹ ڈالنے اور سولی دینے کی دھمکی جو ان کو دی تھی اس دھمکی کا عمل فرعون پھر نہ کرسکا لیکن حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی صحیح روایت میں یہ ہے کہ وہ جادوگر کچھ دیر پہلے تو جادوگر کہلاتے تھے تھوڑی دیر کے بعد شہید کہلانے لگے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فرعون نے ان کو شہید کر ڈالا۔
اہل سنت کے نزدیک جادو کا وجود دنیا میں ثابت ہے صحیح بخاری وغیرہ میں لبید بن عاصم منافق کا آنحضرت ﷺ پر جادو کرنا اور چھ مہینے کے قریب تک آپ پر اس کا اثر رہنا ثابت ہوچکا ہے اور جادو کا علاج بھی شرع میں جائز ہے جادو کا سیکھنا اور سکھانا حرام ہے اگر جادو اتارنے کی نیت سے سیکھے تو علماء نے اس کو جائز رکھا ہے 1 ؎۔ جس جادو کے منتر میں کفر کے الفاظ ہوں وہ جادو کفر ہے باقی کبیرہ گناہ ہے حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے ہاتھ کی لکڑی کو زمین میں ڈال دیا اور اس لکڑی کا اژدہا بن گیا تو وہ اژدہا ان سب رسیوں اور لکڑیوں کو نگل گیا اور پھر فورا اس اژد ہے کی لکڑی بن گئی اور موسیٰ (علیہ السلام) نے وہ لکڑی اپنے ہاتھ میں اٹھالی۔ یہ حالت دیکھ کر جادوگروں کو یقین ہوگیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) جادوگر نہیں ہیں بلکہ ان کو تائید غیبی ہے اس لیے وہ سجدہ میں گر پڑے اور سمجھ گئے کہ فرعون کا خدائی کا دعوی بالکل جھوٹا ہے کیونکہ اگر اس کا وہ دعوی سچا ہوتا تو موسیٰ کا غلبہ ہرگز نہ ہوتا اس واسطے ہم صاف کہتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کا جو رب ہے وہی ہمارا بھی رب ہے جادوگروں کی یہ بات سن کر فرعون نے ان کو ڈرایا اور کہا کہ تم نے بغیر میرے حکم کے موسیٰ کے کہنے کو مان لیا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ موسیٰ ( علیہ السلام) تم سے بڑھ کر جادوگر اور تم سب کے استاد ہیں پھر فرعون نے کہا کہ اس حکم عدولی کی سزا یہ ہے کہ میں تم سب کا ایک طرف کا ہاتھ اور دوسری طرف کا پاؤں کٹوا ڈالوں گا اور پھر کھجور کے ٹہنے میں چھید کر تم کو سولی دوں گا جس سے تم کو معلوم ہوجائے گا کہ میری سزا سخت اور پائیدار ہے یا موسیٰ کے خدا کی۔ جادوگروں نے فرعون کی یہ دھمکی سن کر اس کو جواب دیا کہ ہم کو ہمارے پیدا کرنے والے کی قسم ہے کہ ہم تیری دھمکی سے ڈر کر موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزہ کو نہ جھٹلا دیں گے جو سزا تیرا جی چاہے وہ ہمارے حق میں تجویز کر جس طرح دنیا کی زندگی ناپائیدار ہے وہی تیری تجویز کی ہوئی سزا کا حال ہے اور اللہ تعالیٰ کی ٹھہرائی ہوئی جزا اور سزا تیری جزا وسزا سے بڑھ کر اور پائیدار ہے اس لیے ہم نے اللہ کو اپنا معبود مان لیا اور تو نے زبردستی ہم کو جادو کی تعلیم جو دلوائی تھی اس سے اور باقی سب گناہوں سے ہم نے توبہ کی تاکہ اللہ تعالیٰ ہمارے سب گناہوں کو معاف کر دے صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے 2 ؎۔ کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق دوزخی ٹھہر چکا ہے وہ ویسے کام کرتا ہے اور جو شخص جنتی قرار پاچکا ہے وہ ویسے ہی کام کرتا ہے اس حدیث سے آیتوں کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جادوگر اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں جنتی ٹھہر چکے تھے اس لیے وہ موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزہ کو تائید غیبی سمجھ گئے اور فرعون اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں دوزخی قرار پا چکا تھا اس واسطے وہ عمر بھر معجزہ کو جادو سمجھتا رہا۔
1 ؎ لیکن اس پر اولا تو کوئی صریح و صحیح دلیل موجود نہیں ثانیا شرکیہ منتر جادو کے ذریعہ علاج ار شرکیہ منتر اور دم ازرئے و حدیث شریف معنوع ہے۔ (ع۔ ح)
2 ؎ مثلاص 240 ج 3۔