Ayahs 20:74–8274۔ 82:۔ مسند امام احمد بن حنبل صحیح مسلم وغیرہ میں ابوسعید خدری ؓ سے جو روایت ہے اس کو ان آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے حاصل اس روایت کا یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ کافروں کو دوزخ میں موت نہیں ہے کلمہ گو گنہگار جو دوزخ میں ڈالے جائیں گے وہ جل کر کوئلے ہوجائیں گے یہاں تک کہ مرجائیں گے پھر شفاعت کے سبب سے جنت میں داخل ہوں گے 1 ؎۔ اس سے معلوم ہوا کہ مجرم کے معنے اس آیت میں مشرک کے ہیں اسی واسطے مجرم کا لفظ مومن کے مقابلہ میں فرمایا آخری آیت میں توبہ کا جو ذکر ہے اوپر توبہ کی شرائط بیان ہوچکی ہیں ان میں بڑی شرط توبہ کی مذمت ہے کہ برا کام کرکے آدمی بچھتائے کہ یہ کام میں نے کیوں کیا جب یہ پچھتانا آدمی کے دل میں سچے طور پر ہوگا تو جو گناہ کرچکا ہے اس سے اور آئندہ گناہ کرنے کے ارادہ سے ضرور دل بیزار ہوگا غرض سچی ندامت ہوگی تو باقی کی دو شرطیں یعنی گذشتہ گناہ سے بیزاری اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا قصد یہ خود بخود حاصل ہوجائیں گی اسی واسطے معتبر سند سے عبداللہ بن مسعود کی روایت مسند امام احمد بن حنبل مستدرک حاکم ابن ماجہ اور بیہقی میں جو ہے اس میں آنحضرت ﷺ نے اتنا ہی فرمایا کہ گناہ کرکے گناہ پر پچھتانا اور نادم ہونا بس یہی توبہ ہے 2 ؎۔ لیکن سچی ندامت کو باقی کی دونوں باتیں بھی لازم ہیں اس لیے علماء نے ندامت کا سچا پن آزمانے کے لیے ندامت کے ساتھ وہ شرطیں اسی حدیث سے نکال کر اور بڑھا دی ہیں حاصل کلام یہ ہے کہ علاوہ ان تین شرطوں کے علماء نے یا اہل تصوف نے جو اور شرطیں توبہ کی بڑھا دی ہیں مثلا جس شہر میں گناہ کیا ہے اس شہر کو چھوڑ دینا وغیرہ ان میں سے کوئی بات توبہ کی شرط میں داخل نہیں ہے ہاں ندامت میں اتنی شرط ضرور ہے کہ وہ ندامت محض خدا کے خوف سے ہو اگر وہ ندامت لوگوں کے برا کہنے کے ڈر سے یا حاکم کے خوف سے ہوگی تو یہ توبہ نہیں ہے۔ اسی طرح پچھلے گناہ پر کسی قدر جو شخص نادم ہے مگر آئندہ گناہ کرنے کا قصد دل میں موجود ہے تو بھی توبہ پوری نہیں ہے اور توبہ کے قبول ہونے کے معنے شریعت میں یہ ہیں کہ جو سزا قیامت میں اللہ نے اس گناہ کے لیے رکھی ہے وہ بالکل ساقط ہوجاتی ہے لیکن اگر اس گناہ میں علاوہ خدا کے گناہ کے کچھ کسی آدمی کا بھی حق ہے مثلا ایک شخص نے ایک شخص کی لونڈی بھگائی اور اس لونڈی سے بدکاری بھی کی تو توبہ کرنے سے بدکاری کا گناہ معاف ہوجائے گا مگر جب تک پرایا مال مالک کو نہ پہنچایا جائے گا پرائے مال کے رہنے کا مؤاخذہ محض توبہ سے ساقط نہ ہوگا اسی واسطے علماء نے چوتھی شرط توبہ میں یہ بڑھائی ہے کہ اگر گناہ حق العباد کی قسم سے ہے تو اس کی تلافی بھی جس طرح ممکن ہو کرنی چاہیے اور اگر تلافی انسان کے اختیار سے باہر ہوگئی ہو تو اللہ معاف کرنے والا ہے صحیح حدیثوں سے یہ بات ثابت ہے کہ قیامت کے دن جس طرح اللہ تعالیٰ توحید ‘ نماز ‘ روزہ ‘ حج ‘ زکوٰۃ ان اپنے حقوق کا حساب لے گا اسی طرح آپس کے آدمیوں اور جانوروں کے حقوق کا بھی حساب و فیصلہ ہوگا 3 ؎۔ لیکن یہ بھی صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ جس کسی بندہ کی نسبت اللہ تعالیٰ کو رعایت کرنی منظور ہوگی تو اللہ صاحب حق بندہ کو جنت کا لالچ دے کر وہ حق معاف کرادے گا۔ اور یہ بھی صحیح حدیث میں ہے کہ جس شخص کے پاس لونڈی غلام ہوں اور شرارت کریں اور آقا ان کی شرارت کے سبب سے ان کو مارے یا برا کہے تو لونڈی غلام کی شرارت اور آقا کی مار پیٹ جھاڑ کی دونوں کا مقابلہ کیا جائے گا اگر آقا کی مار پیٹ جھاڑ کی لونڈی غلام کی شرارت کے برابر ہے تو کچھ نہیں ورنہ مؤاخذہ ہوگا 4 ؎۔ اصل مقصد یہ ہے کہ جس شخص کے دل میں خدا کا خوف ہوگا سوا شرک کے وہ کسی طرح کے کبیرہ گناہ کرکے بغیر توبہ کیے بھی اگر مرجائے گا تو اللہ تعالیٰ سے اس کی مغفرت کی توقع ہے چناچہ صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ کی روایت سے وہ ایک گناہ گار کا قصہ مشہور ہے جس نے مرتے وقت اپنی لاش کو جلانے کی اور اس جلی ہوئی خاک کو آدھی دریا میں بہانے اور آدھی ہوا میں اڑانے کی وصیت کی تھی جب اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو پھر زندہ کر کے پوچھا کہ یہ وصیت تو نے کس غرض سے کی تھی اس نے کہا یا اللہ میں بہت گناہ گار تھا تیرے روبرو آنے کے خوف سے میں نے اپنی خاک کے رائیگاں کرنے کی وصیت کی تھی اللہ تعالیٰ فرمائے گا جب تو نے میرے خوف سے یہ کام کیا تھا تو میں نے تیرے سب گناہ معاف کردیئے 5 ؎۔ جس وقت جادوگروں نے فرعون سے وہ باتیں کیں جن کا ذکر اوپر کی آیتوں میں ہے اس وقت تک نہ تورات نازل ہوئی تھی نہ جادوگروں اور بنی اسرائیل کو دوزخ اور جنت کا تفصیلی حال معلوم تھا اس واسطے ظاہر یہی بات ہے کہ جادوگروں اور بنی اسرائیل کو دوزخ اور جنت کا تفصیلی حال معلوم تھا اس واسطے ظاہر یہی بات ہے کہ جادوگروں کا کلام کے بعد یہاں سے اللہ تعالیٰ کا کلام شروع ہوا۔ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ جو شخص شرک کی حالت میں مر کر اللہ تعالیٰ کے روبرو حاضر ہوگا وہ ہمیشہ اسی حالت سے دوزخ میں رہے گا کہ نہ تو سختی عذاب اس کی موت کا سبب قرار پاسکے گی نہ زندگی سے ہی اس کو کچھ فائدہ پہنچے گا اور جو ایماندار شخص نیک عمل لے کر اللہ تعالیٰ کے روبرو حاضر ہوگا وہ عقبیٰ میں بڑا مرتبہ پائے گا کہ ہمیشہ جنت میں رہے گا کیونکہ شرک سے بچنے والوں کا اللہ تعالیٰ نے یہی بدلہ مقرر کیا ہے جب فرعون بنی اسرائیل کو موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ کردینے پر کسی طرح راضی نہیں ہوا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر ایک رات مصر سے چل کھڑے ہوں اور قلزم دریا پر پہنچ کر دریا کے پانی میں اپنے ہاتھ کی لکڑی ماریں اللہ کے حکم سے دریا میں سوکھا راستہ پیدا ہوجائے گا اور بغیر خوف فرعون کے حملہ اور دریا کی طغیانی کے اے موسیٰ تم اور بنی اسرائیل تو دریا میں سوکھے راستہ سے دریا پار ہوجاؤگے۔ فرعون اپنے لشکر کو ساتھ لے کر تمہارا پیچھا کرے گا تو وہ مع اپنے لشکر کے دریا میں ڈوب کر ہلاک ہوگا کیونکہ فرعون نے اپنی قوم کو برے راستے سے لگایا اور قوم کے لوگوں نے اس کا کہنا مانا اس لیے ان سب کی یہی سزا ہے جو انہوں نے بھگتی فرعون اور اس کے لشکر کے ڈوب کر ہلاک ہونے کا قصہ سورة الاعراف میں گزر چکا ہے۔ آگے فرعون کی ہلاکت کے بعد تورات کے نازل کرنے کے اور من وسلوٰی کے اتارنے کے احسانات کو یاد دلا کر بنی اسرائیل کو ارشاد ہے کہ اے بنی اسرائیل اللہ کی دی ہوئی نعمتیں کھاؤ اور ان نعمتوں کی ناشکری نہ کرو ورنہ اللہ کے غضب میں گرفتار ہوجاؤ گے اور یہ خوب یاد رکھو کہ جو شخص اللہ کے غضب میں گرفتار ہوا اس کے لیے دنیا اور آخرت دونوں جگہ میں خرابی ہے آخری آیت میں قریش کو شرک سے باز آنے کی رغبت دلائی اور فرمایا جو شخص شرک سے توبہ کرے اللہ کی وحدانیت اور اللہ کے سول کی صداقت کو مانے گا اور پھر اس پر قائم رہے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے پچھلے سب گناہ معاف کردے گا۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے عمرو بن العاص کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے 6 ؎۔ کہ جو شخص شرک سے توبہ کرے تو اس کے پچھلے سب گناہوں کی بنیاد اکھڑ جاتی ہے یہ حدیث آخری آیت کی گویا تفسیر ہے۔ تورات کے نازل ہونے اور من سلٰوی کے اترنے کا قصہ سورة بقرہ میں اور سورة الاعراف میں گزر چکا ہے۔
1 ؎ صحیح مسلم ص 104 ج 1 باب اثبات الشفاعۃ دخراج املوحدین من النار۔
2 ؎ نیز دیکھئے) سنن ابن ماجہ ص 323 باب ذکر التوبہ و ترغیب ص 221 ج 2 کتاب التوبہ والزہد۔
3 ؎ الترغیب ص 299 ج 2 فصل فی ذکر الحساب۔
4 ؎ التر غیب ص 299 ج 2 ضصل فی ذکر الحساب۔
5 ؎ مشکوٰۃ ص 207 باب بعد باب الا ستغفار والتوبہ فصل اول۔
6 ؎ ص 339 ج 3۔
Ayahs 20:83–8483۔ 84:۔ مدین سے مصر واپس آتے وقت جو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے باتیں کیں اس وقت اسرائیل میں کا کوئی شخص حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے ساتھ نہیں تھا اس واسطے اس کی تصدیق کے لیے کہ حضرت موسیٰ سچے نبی ہیں اور اللہ تعالیٰ سے اور ان سے باتیں ہوتی ہیں جس وقت حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) تورات لینے کوہ طور پر گئے تو بنی اسرائیل میں سے چند شخصوں کو منتخب کرکے اپنے ساتھ لے گئے تھے اور جب کوہ طور قریب آیا تو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) قوم کے لوگوں سے آگے بڑھ کے جلدی سے پہاڑ پر پہنچ گئے اور ان کے ساتھ کے لوگ پیچھے رہ گئے اس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) سے پوچھا کہ قوم کے لوگوں کو چھوڑ کر جلدی کرکے کیوں چلے آئے۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے جواب دیا کہ وہ لوگ بھی پیچھے آتے ہیں یا اللہ میں جلدی کر کے اس واسطے چلا آیا کہ کوہ طور پر حاضر ہونے کے تیرے حکم کی تعمیل میں جلدی کروں تاکہ تو مجھ سے خوش ہو 1 ؎۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایت کئی جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی نظر انسان کے دل پر لگی رہتی ہے کہ انسان ہر ایک کام کس نیت سے کرتا ہے اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا بنی اسرائیل کو پچھے چھوڑ کر چلے آنے کا اور جس نیت سے موسیٰ (علیہ السلام) جلدی کر کے پہاڑ پر آگئے اس کا حال اللہ تعالیٰ کو پہلے سے ہی معلوم تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ بات اس لیے پوچھی کہ اللہ تعالیٰ کا بندوں کی ہر ایک حالت سے واقف ہونے کا حال لوگوں کو معلوم ہوجائے۔
1 ؎ نیز مشکوٰۃ ص 454 باب اریاء والسمعۃ۔
Ayahs 20:85–8785۔ 87:۔ بنی اسرائیل کا یہ بچنا بچھڑے کی پوجا کے سبب سے تھا یہ بچھڑے کی پوجا کا قصہ سورة بقرہ اور سورة اعراف میں گزر چکا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ بنی اسرائیل جس رات مصر سے چلے اس رات ایک شادی کا بہانہ کرکے انہوں نے فرعون کی قوم کے لوگوں سے کچھ زیور مانگ لیا تھا تاکہ فرعون کی قوم کو شادی کا یقین ہوجائے اور بنی اسرائیل سفر کی تیاری میں تمام رات جو جاگتے رہے اس کو فرعون کی قوم کے لوگ شادی میں کا جاگنا سمجھ کر سفر کی تیاری میں کچھ فتور نہ ڈالیں اس رات کی صبح کو فرعون کی قوم کے لوگ تو سب ڈوب کر مرگئے اس لیے وہ زیور بنی اسرائیل کے ہی پاس رہ گیا اور دشمنوں کے ہلاک ہوجانے بعد اگرچہ وہ زیور غنیمت کا مال ہوگیا تھا لیکن صحیح بخاری ومسلم 1 ؎ کے حوالہ سے جابر ؓ بن عبداللہ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ امت محمدیہ سے پہلے کسی امت کو غنیمت کا مال حلال نہیں تھا اس لیے ہارون (علیہ السلام) کو جب اس زیور کا حال معلوم ہوا تو انہوں نے بنی اسرائیل سے کہا کہ تم ایک گڑھا کھود کر زیور اس میں دبا دو بنی اسرائیل نے ایسا ہی کیا لیکن بنی اسرائیل میں سامری نام کا جو ایک ستارا تھا اس نے اس زیور کو گڑھے میں سے نکال کر گلا ڈالا اور اس کا بچھڑا بنا دیا۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور مجاہد کے قول کے موافق جبرئیل کے گھوڑے کے قدم کے نیچے کی مٹی جو سامری نے اٹھا رکھی تھی وہ اس نے اس بچھڑے کے منہ میں ڈال دی جس سے وہ بچھڑا گائے کی آواز کی طرح آواز نکالنے لگا اور بنی اسرائیل اس بچھرے کی پوجا کرنے لگے کوہ طور پر جب یہ قصہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو جتلایا اور قصہ کو سن کر موسیٰ (علیہ السلام) کو غصہ آیا موسیٰ (علیہ السلام) کے اس غصہ اور رنجیدہ ہونے کا ذکر ان آیتوں میں ہے حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اے موسیٰ ( علیہ السلام) تمہارے پیچھے بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ نے بچھڑے کی بلا بھیج کر آزمایا لیکن وہ آزمائش میں پورے نہ اترے اور سامری کے بہکانے سے بہک گئے۔ موسیٰ (علیہ السلام) اس قصہ کا حال سن کر کوہ طور سے بہت ہی غصہ اور رنج میں الٹے پھرے اور قوم کے لوگوں سے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو میری معرفت کیا تمہاری دین ودنیا کی بہبودی کے لیے کتاب آسمانی تورات کے نازل فرمانے کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا تھا جس کتاب کے لینے کے لیے میں تم سے دین پر قائم رہنے کا عہد لے کر کوہ طور پر گیا تھا پھر اس کتاب کے نازل ہونے سے پہلے تم نے سامری کا کہنا کیوں مانا اور بلا سند بچھڑے کو اپنا معبود کیوں ٹھہرایا کیا مجھ کو کوہ طور پر برسوں کا عرصہ گزر گیا تھا جو تم میرا انتظار نہ کرسکے اور جب تم نے میرے عہد کو توڑا تو کیا تم نے اللہ کے غضب میں گرفتار ہونے کا ارادہ بھی دل میں ٹھان لیا تھا کیونکہ اللہ کے رسول کی مخالفت کے سبب سے فرعون اور اس کی قوم کے سب لوگ جس طرح غضب الٰہی میں گرفتار ہوئے وہ ماجرا اب تک تمہاری آنکھوں کے سامنے ہوگا۔ قوم کے لوگوں نے جواب دیا اے رسول اللہ کے ہم نے جان بوجھ کر تمہارے عہد کو نہیں توڑا بلکہ قبطی قوم کا وہ زیور جو ہمارے پاس رہ گیا تھا ہارون (علیہ السلام) کے کہنے سے پہلے تو ہم نے اور سامری نے سب نے مل کر وہ زیور ایک گڑھے میں دبا دیا تھا لیکن اس کے بعد پھر سامری نے اس زیور کا بچھڑا بنا کر ہم کو ایسا بہکایا کہ بالکل بےقابو کردیا۔ فرمایا انسان کے تمام جسم میں جس طرح سے خون پھرتا ہے 2 ؎۔ اسی طرح بہکانے کے وقت ہر شخص کے تمام جسم میں شیطان جگر لگاتا ہے ترمذی وغیرہ کے حوالہ سے حارث اشعری کی صحیح حدیث بھی گزر چکی ہے 3 ؎ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا بغیر یاد الٰہی کے آدمی کو شیطان کے پھندے سے اور کوئی چیز نہیں بچا سکتی۔ ان حدیثوں میں آگئے کہ انہوں نے ہارون (علیہ السلام) کی یاد الٰہی کی نصیحت کو نہیں مانا جس سے شیطان کے پھندے میں پھنس گئے۔
1 ؎ مشکوٰۃ ص 512 باب فضائل سید المرسلین۔
2 ؎ مشکوٰۃ ص 18 باب فی الوسوستہ۔
3 ؎ ص 369 ج 3۔
Ayahs 20:88–8988۔ 89:۔ اگرچہ اور مفسروں کا قول ہے کہ اس گائے کے بچہ کا گوشت پوست سب کچھ ہوگیا تھا اور وہ چلتا پھرتا تھا لیکن امام المفسیرین حضرت عبداللہ بن عباس ؓ قسم کھا کر فرمایا کرتے تھے کہ وہ گائے کے بچہ کی صورت کا محض ایک پتلا تھا ہوا کے پھرنے سے اس میں سے ایک آواز نکلتی تھی اور کچھ بھی نہیں تھا 1 ؎۔ اوپر بیہقی اور ابو نعیم کی روایت سے بیان ہوچکا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے باب میں تفسیر قرآن آجانے کے لیے خاص طور پر دعا کی ہے 2 ؎۔ اس واسطے تفسیر قرآن میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا قول زیادہ اعتماد کے قابل ہے اگرچہ بعضے متاخر مفسر بعضی جگہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا قول لینے میں یہ عذر کیا کرتے ہیں کہ شاید یہ روایت حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے اہل کتاب سے لی ہے لیکن صحیح بخاری میں جو خود عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے اہل کتاب سے لی ہے لیکن صحیح بخاری میں جو خود عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کو اہل کتاب کی روایت کے لینے سے ایسی نفرت تھی کہ وہ اور لوگوں کو بھی اہل کتاب سے روایت لینے کو منع کیا کرتے تھے 3 ؎۔ اوپر بنی اسرائیل نے یہ جو کہا تھا سامری نے اور سامری نے سب زیور کا بچھڑا بنا کر ہم کو ایسا بہکایا کہ بالکل بےقابو کردیا ان آیتوں میں اسی کا ذکر ہے حاصل مطلب ان آیتوں کا وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا کہ ہارون (علیہ السلام) کے کہنے سے بنی اسرائیل اور سامری سب نے مل کر وہ زیور جو گڑھے میں ڈال کر دبا دیا تھا سامری نے اس زیور کو گڑھے میں سے نکال کر بچھڑا بنایا اور جبرئیل (علیہ السلام) کے گھوڑی کے قدم کے نیچے کی میں اس بچھڑے کے منہ میں ڈال دی جس سے وہ بچھڑا گائے کی سی آواز سے بولنے لگا اس بچھڑے کے بولنے سے سامری اور اس کے ساتھ بنی اسرائیل سے کہنے لگے کہ تمہارا معبود یہی ہے موسیٰ (علیہ السلام) بھولے سے کوہ طور پر چلے گئے آگے فرمایا ان لوگوں نے کیا اتنی بات بھی نہیں دیکھی کہ بنی اسرائیل میں سے بارہ ہزار کے قریب آدمیوں نے جو اس بچھڑے کی پوجا نہیں کی ان کو اس سے کچھ نقصان نہیں پہنچا اور جنہوں نے اس کی پوجا کی نہ ان سے کسی مقصد کو سن کر اس نے کچھ جواب دیا نہ کسی کا کوئی مقصد پورا کیا خدا کی شان یہ نہیں ہے اس کی شان تو وہ ہے کہ جب اس نے فرعون اور اس کی قوم کو نقصان پہنچانا چاہا تو ایک دم میں ان سب کو ہلاک کردیا اور بنی اسرائیل کو جب اس نے فائدہ پہنچانا چاہا تو ان کے اتنے بڑے قوی دشمن کے پھندے سے انہیں چھوڑا دیا 4 ؎۔ صحیح بخاری ومسلم میں ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے اچھے رفیق کی مثال مشک وعنبر کی اور برے رفیق کی مثال کھال دھونکنے والے کی بیان فرما کر یہ فرمایا ہے کہ جس طرح کھال دھونکنے والے کے پاس بیٹھنے سے کبھی نہ کبھی آگ کا پتنگا اڑ کر پڑجانے اور کپڑوں کے جل جانے کا خوف ہے۔ یہی حال برے رفیق کی رفاقت سے پہنچ گیا۔
1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 162 ج 3۔
2 ؎ صحیح بخاری ص 521 ج امناقب ابن عباس۔
3 ؎ غالبا اس حدیث کی طرف اشارہ ہے جو صحیح بخاری باب مایستحب للعالم اذاسئل امی الناس اعمل الخ وغیرہ میں وارد ہے (ع ‘ ح)
4 ؎ مشکوٰۃ ص 462 باب الحب فی اللہ۔
Ayahs 20:90–9190۔ 91:۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے کوہ طور پر سے واپس آجانے سے پہلے ہارون (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو جو نصیحت کی تھی اور بنی اسرائیل نے جو جواب اس کا دیا تھا یہ اس کا ذکر ہے ہارون (علیہ السلام) کی نصیحت کا حاصل یہ ہے کہ اے بنی اسرائیل یہ بچھڑا تمہارے حق میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک جانج ہے اب تک جو کچھ تم نے کیا اگر تم میرا کہنا مان کر اس سے توبہ کرو گے تو اللہ اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے وہ تمہاری توبہ ضرور قبول کرے گا۔ ہارون (علیہ السلام) کی اس نصیحت کا بنی اسرائیل نے یہ جواب دیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے کوہ طور سے واپس آنے تک ہم اس بچھڑے کی پوجا کبھی کہ چھوڑیں گے۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث اوپر گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے قسم کھا کر فرمایا اللہ تعالیٰ اور گنہگار مخلوقات کر پیدا کرکے انہیں توبہ استغفار کی توفیق دیتا اور ان کی توبہ قبول کرتا 1 ؎۔ توبہ قبول کرنے کے محل پر رحمان کا لفظ جو فرمایا اس کا مطلب اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے۔
1 ؎ صحیح مسلم ص 355 ج 2 باب سقوط الذنوب بالاستغفار والتوتبہ۔
Ayahs 20:92–9492۔ 94:۔ سورة اعراف میں گزر چکا ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل سے خفگی کی باتیں کرچکے تو اسی غصہ کی حالت میں انہوں نے وہ تختیاں اپنے ہاتھ میں سے زمین پر پٹخ دیں جن تختیوں پر اللہ تعالیٰ نے ان کو تورات لکھ کردی تھی اور اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) کی ڈاڑھی اور سر کے بال پکڑ کر کھینچنے لگے اسی واسطے مختصر طور پر یہاں ہارون (علیہ السلام) کی طرف سے ڈاڑھی اور سر کے بالوں کے چھوڑ دینے کی التجا کا ذکر فرمایا ڈاڑھی اور سر کے بالوں کے چھوڑ دینے کی التجا کا ذکر فرمایا ڈاڑھی اور سر کے بالوں کے پکڑنے کا ذکر نہیں فرمایا حاصل کلام یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے فقط اس خیال سے ہارون (علیہ السلام) کی ڈاڑھی اور سر کے بال پکڑے تھے کہ ہارون (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو بچھڑے کی پوجا سے کیوں نہیں روکا اور اگر یہ لوگ روکنے سے نہیں رکے تھے تو بارہ ہزار آدمی ان میں کے بچھڑے کی پوجا سے جو بچے ہوئے تھے ان کو ساتھ لے کر کوہ طور پر کیوں نہیں چلے آئے کہ اس سے بچھڑا پوجنے والے تنہا رہ کر اپنی غلطی کو شاید سمجھ جاتے یا ان بارہ ہزار آدمیوں کو ساتھ لے کر بچھڑا پوجنے والوں کا مقابلہ کیوں نہیں کیا لیکن جب موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ معلوم ہوگیا کہ ہارون (علیہ السلام) نے بچھڑا پوجنے والوں کا مقابلہ کرنے میں بنی اسرائیل کی آپس کی پھوٹ کا اندیشہ تھا جس سے خود موسیٰ (علیہ السلام) نے ہی کوہ طور پر جاتے وقت ہارون (علیہ السلام) کو منع کیا تھا تو موسیٰ ( علیہ السلام) کا دل اپنے بھائی کی طرف سے صاف ہوگیا اور انہوں نے اپنے بھائی کے حق میں مغفرت کی دعا مانگی۔ چناچہ اس کا ذکر سورة الاعراف میں گزر چکا ہے۔ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے خفا ہو کر اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) سے یہ کہا کہ جب بنی اسرائیل بہک گئے تھے تو تم نے اس کی اطلاع مجھ کو کوہ طور پر آن کر کیوں نہیں دی میں نے جو کوہ طور پر جاتے وقت تم سے کہا تھا کہ بنی اسرائیل کی خبر گیری رکھنا کہ ان میں کسی طرح کی گمراہی نہ پھیلے اس کا خیال تم نے کیوں نہیں رکھا۔ اوپر گزر چکا ہے کہ ان خفگی کی باتوں کے وقت موسیٰ (علیہ السلام) نے ہارون (علیہ السلام) کی ڈاڑھی اور سر کے بال پکڑ لئے تھے اس واسطہ ہارون (علیہ السلام) نے کہا بھائی میری ڈاڑھی اور میرے سر کے بال نہ پکڑو میں فقط اس خیال سے کوہ طور پر نہیں آیا کہ میرے یہاں سے چلے جانے کے بعد بنی اسرائیل میں کچھ زیادہ پھوٹ نہ پڑجائے اور اس پھوٹ کو دیکھ کر تم کہیں یہ کہنے لگو کہ کوہ طور پر جاتے وقت بنی اسرائیل کی پھوٹ کے روکنے کی نصیحت جو کی گئی تھی وہ نصیحت کیوں نہیں یاد رکھی گئی 1 ؎۔ صحیح بخاری ومسلم میں حضرت عائشہ ؓ کی روایت سے ایک قصہ ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ فتح مکہ کے وقت چوری کی سزا میں اللہ کے رسول ﷺ نے ایک عورت کا ہاتھ کاٹنا چاہا تو بعضے صحابہ نے اس سزا کی معافی کی سفارش آپ سے کی تھی اس پر آپ ﷺ نے خطبہ پڑھا اور اس خطبہ میں فرمایا کہ اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرتیں تو ان کا ہاتھ بھی کاٹا جاتا اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے کہ انبیاء شریعت کی تائید کے وقت رشتہ داروں کی کچھ پاس داری نہیں کرسکتے اس واسطے موسیٰ (علیہ السلام) نے شریعت کی تائید کے جوش میں اپنے بھائی کی ڈاڑھی اور سر کے بال پکڑ کر کھینچ لئے۔
1 ؎ صحیح بخاری ص 1003 ج 2 باب کر اہیتہ الشفاعۃ فی الحدالخ۔
Ayahs 20:95–9895۔ 98:۔ بنی اسرائیل اور ہارون (علیہ السلام) پر خفا ہونے کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) نے سامری سے جو خفگی کی باتیں کی تھیں ان آیتوں میں ان کا ذکر ہے حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے سامری سے پوجھا تو نے یہ بچھڑا بنانے کا فساد کیوں پھیلایا سامری نے جواب دیا کہ فرعون کے ڈوبنے کے وقت جبرئیل (علیہ السلام) جب گھوڑی پر سوار ہو آئے تو بنی اسرائیل میں سے کسی نے ان کو نہیں دیکھا مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے انہیں مجھے دکھا دیا اور میرے دل میں یہ بات سمائی کہ میں نے ان کے گھوڑی کے قدم کے نیچے کی مٹی میں سے ایک مٹھی مٹی اٹھا لی اور جب میں نے زیور کا بچھڑا بنایا تو میرے دل میں یہ بات سمائی کہ میں اس مٹی کو بچھڑے کے منہ میں ڈال دوں غرق ہونے والے دن فرعون گھوڑے پر سوار تھا اور اس کا گھوڑا دریائے قلزم کے سوکھے راستہ میں جاتے ہوئے ڈرتا تھا اس لیے جبرئیل (علیہ السلام) گھوڑی پر سوار دیکھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے سامری کی اس بات کے جواب میں کہا تیرے اس جرم کی سزا یہ ہے کہ جب تک جیتا رہے گا جنگل میں مارا مارا پھرے گا اور آخرت کا عذاب بھی تیرے ذمہ سے ٹل نہیں سکتا۔ پھر فرمایا تو اور تیرے ساتھی جس بچھڑے کی پوجا میں لگے ہوئے تھے اس کو جلایا جاکر اس کی راکھ دریا میں بکھیر دی جائے گی۔ اس کے بعد نصیحت کے طور پر بنی اسرائیل سے فرمایا تمہارا معبود یہ بچھڑا کیوں کر ہوسکتا تھا جس کو کسی کے برے بھلے کی کچھ خبر نہیں بلکہ تمہارا معبود وہ ہے جس کا علم غیب ہے اور کوئی چیز اس کے علم غیب سے باہر نہیں ہے۔ بعضی تفسیروں میں ہے کہ حضرت جبیرئیل (علیہ السلام) کی گھوڑی کے قدموں میں اللہ تعالیٰ نے یہ تاثیر دی تھی کہ جہاں وہ قدم رکھتی تھی وہاں کی سوکھی گھانس ہری ہوجاتی تھی اللہ کی قدرت سے یہ بات سامری کو نظر آگئی اس لیے اس نے اس گھوڑی کے قدموں کے نیچے کی خاک میں سے ایک مٹھی اچھی چیز سمجھ کر اٹھا رکھی تھی اگرچہ اہل کتاب کی روایت خیال کر کے اکثر مفسروں نے اس قول کو اپنی تفسیروں میں نہیں لکھا ہے لیکن صحیح بخاری میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا خضر (علیہ السلام) کو خضر اس لیے کہتے ہیں کہ جس سوکھی گھانس پر وہ بیٹھتے ہیں وہ سوکھی گھانس ہری ہوجاتی ہے 1 ؎۔ خضر ہری چیز کو کہتے ہیں ابوہریرہ ؓ کی روایت کی بنا پر اگر یہ کہا جائے کہ جس صاحب قدرت نے خضر (علیہ السلام) کے جسم میں ایک خلاف عادت تاثیر پیدا کی ہے اسی نے وہی تاثیر جبرئیل (علیہ السلام) کی گھوڑی کے قدموں میں پیدا کردی تو اس کی قدرت کے آگے یہ کچھ بڑی بات نہیں ہے صحیح بخاری کے حوالہ سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی حدیث گزر چکی ہے کہ نوح (علیہ السلام) کے نبی ہونے سے پہلے کچھ نیک لوگ مرگئے تھے جن کے مرجانے سے قوم کے لوگوں کو بڑا رنج تھا۔ شیطان نے قوم کے لوگوں کے دل میں یہ وسوسہ ڈالا کہ اگر ان نیک لوگوں کی شکل کی مورتیں بنا کر رکھ لی جائیں تو ان مورتوں کے دیکھنے سے یہ رنج کم ہوجائے گا قوم کے لوگوں نے اس وسوسہ کے موافق عمل کیا آخر رفتہ رفتہ ان مورتوں کی پوجا ہونے لگی 2 ؎۔ اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے۔ اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے کہ جس طرح کے وسوسہ سے شیطان نے پہلے دنیا میں بت پرستی پھیلائی اسی قسم کے وسوسہ سے بنی اسرائیل میں بچھڑے کی پوجا پھیلائی کہ نعوذ باللہ من ذلک موسیٰ کا خدا اس بچھڑے میں سما گیا ہے نتیجہ جس کا یہ ہوا کہ قوم نوح ( علیہ السلام) کو اس طوفان کی سزا ملی اور بنی اسرائیل کی قتل کی سزا کا ذکر سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔
1 ؎ صحیح بخاری ص 483 ج 1 باب حدیث الخضر مع موسیٰ علیما السلام۔
2 ؎ صحیح بخاری ص 732 ج 2 تفسیر سورة نوح۔
Ayahs 20:99–10199۔ 101:۔ اوپر موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کا موسیٰ (علیہ السلام) اور جادوگروں کے مقابلہ کا فرعون اور اس کی قوم کے ڈوب کر ہلاک ہونے کا بنی اسرائیل میں بچھڑے کی پوجا کا پھیلنا اس کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا کہ جس طرح اس سورت میں پہلے لوگوں کے چند قصے بیان کیے گئے ہیں اسی طرح قرآن میں جگہ جگہ پچھلے انبیاء اور پچھلی امتوں کا ذکر آیا ہے تاکہ اہل کتاب ان قصوں کو اپنی کتابوں کے موافق پاکر اور مشرکین مکہ یہ غیب کی باتیں ان پڑھ رسول ( علیہ السلام) سے سن کر قرآن کو اللہ کا کلام اور جن پر یہ کلام اترا ہے ان کو اللہ کا سچا رسول جان لیں پھر فرمایا ایسی سیدھی بات سمجھانے کے بعد بھی جو کوئی قرآن کو اللہ کا کلام نہ مانے گا اور اس کی نصیحت کو قبول کرنے سے منہ پھیرے گا تو قیامت کے دن ایسے گناہوں کے بوجھ کے نیچے یہ لوگ دبے ہوئے ہوں گے جس بوجھ کی سزا میں ہمیشہ گرفتار رہیں گے پھر فرمایا قیامت کے دن وہ بوجھ ان کو بہت برا لگے گا جس کی سزا ان کو ہمیشہ بھگتنی پڑے گی عمرو بن قیس ثقہ تابعی بعضے صحابہ ؓ سے سنی ہوئی روایت بیان کیا کرتے تھے کہ قیامت کے دن اچھے عمل کرنے والے اپنے عملوں پر سوار ہو کر قبروں سے میدان محشر تک جائیں گے اور برے عمل بداعمال لوگوں پر سوار ہوجائیں گے۔ گناہوں کو بوجھ جو فرمایا اس کا مطلب اس روایت سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے۔ سورة الاعراف میں گزر چکا ہے کہ عملوں کے تولے جانے کے بعد جس کے نیک عملوں کا پلڑا بھاری ہوگا وہ جنتی قرار پائیں گے اور جن کا بدعملوں کا پلڑا بھاری ہوگا وہ دوزخ میں جائیں گے۔ معتبر سند سے مستدرک حاکم اور تفسیر ابن ابی حاتم میں جابر بن عبداللہ ؓ کی روایت سے ایک حدیث بھی ہے کہ جن لوگوں کے بدعملوں کا بوجھ قیامت کے دن میزان میں بھاری ہوگا وہ دوزخ میں جائیں گے 1 ؎۔ بدعملوں کو برا بوجھ جو فرمایا اس کا مطلب اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ بدعملوں کا بوجھ ایسا بڑا بوجھ ہے کہ جو گویا آدمی کو دوزخ میں ڈال دے گا۔
1 ؎ فتح الباری ص 179 ج 6 باب من وقش الحساب ‘ عذب۔
Ayahs 20:102–104102۔ 104:۔ اگرچہ بعضے سلف کا قول ہے کہ صور کئی دفعہ پھونکا جائے گا لیکن صحیح مسلم میں عبداللہ بن عمر سے جو روایت ہے اس میں ہے کہ صور دو دفعہ پھونکا جائے گا پہلے صور کی آواز سے تمام دنیا ویران ہوجائے گی اور دوسرے صور کی آواز سے سب زندہ ہوجائیں گے 1 ؎۔ اکثر صحابہ کا قول ہے کہ دونوں صور کے مابن چالیس برس کا فاصلہ ہوگا 2 ؎۔ معتبر سند سے طبرانی میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ اسرافیل (علیہ السلام) صور پھونکیں گے 3 ؎۔ ان آیتوں میں صور کے بعد حشر کا ذکر ہے اس واسطے یہاں صور سے مطلب دوسرا صور ہے دوزخ میں جانے کے قابل لوگوں کی آنکھوں کی پتلیاں حشر کے دن نیلی ہوں گی کہ ان کی آنکھیں بےرونق اور ان کی صورتیں بری نظر آئیں۔ معتبر سند سے ترمذی اور صحیح ابن حبان میں ابوہریرہ ؓ کی حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنکھوں کے نیلی ہوجانے علاوہ میدان محشر میں ایسے لوگوں کا منہ بھی کالا ہوجائے گا۔ اوپر بداعمال کے بوجھ کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ ایسے لوگوں کو یہ بوجھ اس دن اٹھانا پڑے گا جس دن دوسرے صور کی آواز سن کر یہ دوبارہ زندہ ہوجائیں گے اور ایسی حالت سے میدان محشر میں کھڑے ہوں گے کہ ان کی آنکھیں نیلی ہوں گی اور منہ کالا ہوگا۔ مسند امام احمد کے حوالہ سے حضرت عائشہ کی صحیح حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ منکر نکیر کے سوال و جواب کے بعد اچھے لوگوں کو جنت کا اور برے لوگوں کو دوزخ کا ٹھکانا دکھا کر اللہ کے فرشتے جتلا دیتے ہیں کہ ان ٹھکانوں میں ہمیشہ رہنے کے لیے تم کو قیامت کے دن دوبارہ زندہ کیا جائے گا 4 ؎۔ اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے کہ دوبارہ زندہ ہوتے ہی ایسے لوگوں کو دوزخ میں ہمیشہ رہنے کا اپنا ٹھکانا یاد آجائے گا اس لیے اس ہمیشہ کے عذاب کی زندگی کے آگے دنیا میں رہنے کی مدت ان کو تھوڑی معلوم ہوگی اور عذاب میں گرفتار ہونے کی پریشانی سے آپس میں چپکے چپکے باتیں کرنے کے طور پر کوئی اس مدت کو دس دن کی مدت بتلائے گا کوئی ایک دن کی کوئی پہر دو پہر کی اور کوئی گھڑی بھر کی دس دن اور ایک دن کا ذکر تو ان آیتوں میں ہے پہر دو پہر کا ذکر قد افلح المومنون میں اور گھڑی بھر کا ذکر سورة الا حقاف میں آئے گا۔
1 ؎ مشکوٰۃ ص 481 باب لاتقوم الساعۃ الا علی شرا رالناس بجوالہ صحیح ص 401 ج 2۔
2 ؎ مشکوٰۃ ص 481 باب النفخ فی الصور بروایۃ ابی ہریرہ۔
3 ؎ فتح الباری ص 161 ج 5 باب نفخ الصور۔
4 ؎ الترغیب ص 288 ج 2 باب فیم اورد فی سوال القبر ونعیمہ۔
Ayahs 20:105–107105۔ 107:۔ تفسیر ابن منذر میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ قریش نے جب قرآن شریف میں قیامت کا حال اور دنیا کے ویران ہوجانے کا حال سنا تو پہاڑ ان کے دل میں ایک سخت اور پائیدار چیز گزری اس لیے انہوں نے اعتراض کے طور پر پوچھا کہ کیا صور پھونکنے سے پہاڑ بھی اڑ جائیں گے ان کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 1 ؎۔ سورة القارعہ میں اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کے اڑنے کی تفسیر فرمائی ہے کہ دھنکنے میں جس طرح روئی ٹکڑے ہو کر اڑ جاتی ہے اسی طرح صور کی آواز سے پہاڑا اڑتے پھریں گے۔ سورة الحاقہ اور سورة مزمل میں پہلے صور کے وقت پہاڑروں اور زمین کی اپنی اپنی جگہ سے ٹوٹ کر اڑ جانے کی زیادہ تفصیل آئے گی۔ صحیح بخاری ومسلم میں سہل بن سعد سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا جس زمین پر حشر قائم ہوگا وہ زمین صاف اور چورس ہوگی 2 ؎۔ پہاڑ ٹیلہ مکان اس پر کچھ نہ ہوگا شعب الایمان بیہقی تفسیر عبدالرزاق وغیرہ میں عبداللہ بن مسعود ؓ کا صحیح قول ہے کہ جس زمین پر حشر قائم ہوگا اس پر کسی نے گناہ بھی نہیں کیا 3 ؎۔ حضرت علی ؓ اور انس بن مالک ؓ کا قول بھی عبداللہ بن مسعود ؓ کے قول کے موافق ہے 4 ؎۔ اس طرح کی غیب کی بات صحابہ ؓ اپنی طرف سے نہیں کہہ سکتے اس واسطے صحابہ ؓ کے یہ قول حدیث نبوی کے برابر ہیں۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن عمرو ؓ کی روایت ابھی اوپر گزر چکی ہے 5 ؎۔ کہ پہلے صور کی آواز سے تمام دنیا ویران ہوجائے گی ان روایتوں کو آیتوں کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ پہلے صور کی آواز سے پہاڑ ٹیلے مکانات سب اس طرح فنا ہوں گے کہ حشر کے قائم ہونے کے لیے دوسرے صور کے وقت نئی زمین جو پیدا کی جائے گی نہ اس زمین پر ان چیزوں میں سے کوئی چیز پیدا کی جائے گی نہ اس زمین پر کسی نے کوئی گناہ کیا ہوگا میدان کے یہی معنی میں ‘ ابراہیم بن منذر امام احمد کے زمانہ کے علماء میں تھے ‘ بخاری اور ترمذی میں ان سے روایتیں ہیں ابو حاتم نے ان کو معتبر علماء میں شمار کیا ہے ان کی تفسیر میں صحابہ ؓ تابعین اور تبع تابعین تمام کے قول ہیں۔ تبع تابعین کے بعد جو تفسیریں مع سند کے لکھی گئی ہیں ابراہیمی بن منذر کی تفسیر بھی اسی زمانہ کی آخری تفسیر میں ہے۔
1 ؎ الدر المنثور ص 307 ج 4۔
2 ؎ مشکوٰۃ ص 482 باب الحشر۔
3 ؎ فتح الباری ص 165 ج 6 باب یقبض اللہ الارض۔
4 ؎ ایضا فتح الباری۔
5 ؎ یعنی گذشتہ باب فیم اور دفی سوال القبر ونعیمہ۔
Ayah 20:108108:۔ صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ دوسرے صور کے وقت بد لوگوں کو ایک آگ گھیر کر ان کی قبروں سے میدان محشر تک لیجائے گی یہ حدیث لا عوج لہ کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ وہ آگ میدان محشر کے راستہ سے بچ کر اور کوئی ٹیڑھا راستہ انہیں چلنے نہ دے گی اس واسطے سورة المعارج میں فرمایا کہ دوسرے صور کی آواز سن کر جب یہ لوگ قبروں سے اٹھیں گے تو جس طرح اب بتوں کی طرف پوجا کے لیے سیدھے دوڑتے ہیں اسی طرح قیامت کے دن میدان محشر کی طرف حساب و کتاب کے لیے دوڑتے ہوئے چلے آئیں گے۔ صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ سے روایت ہے 1 ؎ جس کا حاصل یہ ہے کہ میدان محشر میں گرمی اور پسینے سے جب لوگ بہت گھبرائیں گے تو آدم (علیہ السلام) سے عیسیٰ ( علیہ السلام) تک کے انبیاء کے پاس اس التجا کے لیے جائیں گے کہ یہ انبیاء اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حساب و کتاب کے شروع ہوجانے کی سفارش کردیں یہ سب انبیاء جواب دیں گے کہ آج اللہ تعالیٰ کے غصہ کی وہ حالت ہے کہ آج سے پہلے کبھی ہوئی اور نہ اس کے بعد کبھی ہوگی اس لیے ہم اس سفارش کے بات میں کچھ نہیں کرسکتے۔ آخر خاتم الانبیاء محمد ﷺ اس سفارش کو اپنے ذمہ لیں گے اور آپ کی سفارش سے حساب و کتاب شروع ہوجائے گا آپ کی یہ سفارش تمام امتوں کے حق میں ہو وے گی اس واسطے اس سفارش کو بڑی سفارش کہتے ہیں۔ آیت میں یہ جو ذکر ہے کہ میدان محشر میں اللہ تعالیٰ کے جلال کے سبب سے سب کی آوازیں ایسی دب جائیں گی کہ سوائے قدموں کی کھس کھس کی آواز کے کسی کے بولنے کی آواز نہ آئے گی۔ اس حدیث سے اس کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے جلال کے سبب سے سوائے خاتم الانبیاء ﷺ کے اور انبیاء بھی اس میدان میں اللہ تعالیٰ کے روبرو اور کچھ نہیں بول سکیں گے۔
1 ؎ مشکوٰۃ ص 483 باب الحشر۔
Ayahs 20:109–112109۔ 112:۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ ان بت پرستوں کو اپنے بتوں پر یہ جو بھروسہ ہے کہ اگر قیامت قائم ہوئی تو جن نیک لوگوں کی مورتوں کو یہ لوگ پوجتے ہیں وہ نیک لوگ اللہ کی بارگاہ میں سفارش کر کے قیامت کے دن اپنی پوجا کرنے والوں کو دوزخ کے عذاب سے چھڑا لیں گے یہ بھروسہ شیطان کا دھوکا ہے جس دھوکے میں یہ لوگ پھنس رہے ہیں اس لیے کہ جب ان لوگوں کو یہ سمجھا دیا گیا ہے کہ جو شخص شرک میں گرفتار رہ کر بغیر توبہ کے مرجائے گا تو ایسے شخص کے حق میں اللہ تعالیٰ کا یہ قطعی وعدہ ہے کہ ایسا شخص ہمیشہ دوزخ کے عذاب میں گرفتار رہے گا کسی طرح اس کی بخشش نہ ہوگی اس لیے کسی مشرک کے حق میں اللہ تعالیٰ کسی کو سفارش کرنے کی اجازت نہ دے گا اور یہ بھی سمجھا دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس وعدہ کے برخلاف نیک لوگوں کا اپنے پوجا کرنے والوں کی سفارش کا کرنا تو درکنار بلکہ ان مشرکوں کے شرک کے سبب سے قیامت کے دن وہ نیک لوگ ان مشرکوں کی صورت سے بیزار ہوجائیں گے کیونکہ نیک لوگوں کے دل میں اللہ کی وحدانیت اور شرک سے بیزاری کی جو بات تھی وہی اللہ کو پسند آئی اسی سبب سے اللہ تعالیٰ نے ان کو سفارش کا مرتبہ دیا پھر وہ مشر کوں کی سفارش کرکے جس شرک سے بیزار تھے اس کے حامی کیونکر بن سکتے ہیں اس لیے ان مشرکوں کی یہ بڑی نادانی ہے کہ جس بات سے اللہ کے نیک بندے بیزار ہیں یہ مشرک لوگ اسی بات کا ان نیک لوگوں کو ذمہ دار قرار دیتے ہیں پھر فرمایا ہر ایک شخص کے دنیا کے عملوں کا حال اور اس کا عقبیٰ کا انجام اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے انسان اس غیب دان کے علم کی حد کو نہیں پہنچ سکتا اس نے قیامت کے دن کا یہ غیب کا فیصلہ لوگوں کو جتلا دیا ہے کہ اس دن مشرک لوگ نقصان اٹھائیں گے اور ایمان دار نیک عمل لوگوں کو اس دن کچھ نقصان نہ پہنچے گا اور صاحب قدرت وہ ایسا ہے کہ اس کی قدرت کے آگے سب عاجز اور اس کی بارگاہ میں ناک رگڑتے اور گڑ گڑاتے ہیں اس واسطے اس کے حکم اور فیصلہ کو کوئی ٹال نہیں سکتا ان مشرکوں نے اس کے فیصلہ کے برخلاف یہ بات جو تراش رکھی ہے کہ اول تو قیامت قائم نہ ہوگی اور اگر قائم ہوئی تو جن لوگوں کی مورتوں کی یہ مشرک لوگ پوجا کرتے ہیں وہ اپنے پوجا کرنے والوں کو اس دن دوزخ کے عذاب سے بچا لیں گے ان مشرکوں کو اپنی اس تراشی ہوئی بات کا انجام وقت پر معلوم ہوجائے گا دنیا کے بادشاہوں کے حکم میں یہ بات جو پائی جاتی ہے کہ ایک بادشاہ کوئی حکم جاری کر کے مرجاتا ہے اور پھر اس کے مرجانے کے بعد اس کا جانشین اس حکم کو بدل ڈالتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ زندہ ہے اور قائم رہنے والا ہے نہ اس کا کوئی جانشین ہے نہ اس کے کسی حکم کو کوئی بدل سکتا ہے۔ صحیح مسلم میں جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے 1 ؎۔ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا جس شخص کے اعمال نامہ میں شرک نہ ہوگا تو اللہ تعالیٰ کو ایسے شخص کے اور گناہوں کے بخش دینے میں کچھ دریغ نہ ہوگا۔ اس حدیث کو آیتوں کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ سفارش کے قبول ہونے اور گناہوں کے معاف ہوجانے کے لیے نامہ اعمال میں شرک نہ ہونا چاہیے۔ مشرکوں نے سفارش کے باب میں جو بات تراش رکھی ہے جس کا ذکر اوپر گزرا وہ بالکل غلط ہے۔
1 ؎ صحیح مسلم ص 66 ج 1 باب الدلیل علی ٰ ان من مات لایشرک با للہ شیأ دخل الجنۃ الخ۔