Ayahs 21:1–101۔ 10:۔ مشرکین مکہ نے دین ابراہیمی کو بگاڑ کر بت پرستی اور طرح طرح کی خرابیاں اس میں پیدا کرلی تھیں جب قرآن شریف میں بت پرستی اور اس کی خرابیوں کی مذمت روز بروز اترنے لگی تو وہ لوگ آنحضرت ﷺ کی نسبت طرح طرح کی باتیں اور مشورے کرتے تھے۔ کوئی آنحضرت ﷺ کو جادوگر کہتا تھا ‘ کوئی شاعر کہتا تھا ‘ جس کا مطلب یہ تھا کہ جس طرح شاعر لوگ عقل کے برخلاف خیالی باتیں اپنے شعروں میں باندھتے ہیں۔ ویسی ہی خیالی باتیں قرآن شریف میں ہیں کوئی کہتا تھا کہ رات کو انہیں فرشتہ ہونا چاہئے۔ کوئی کہتا تھا اگر یہ رسول ہیں تو پہلے رسولوں کی طرح کوئی ایسا معجزہ کیوں نہیں لاتے جس سے ہم سب قائل ہوجائیں ‘ قریش کی باتوں کا جواب اللہ کے رسول ﷺ نے اتنا ہی دیا تھا کہ اللہ تعالیٰ سے آسمان و زمین کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں وہ تمہاری بےادب کی باتوں اور خفیہ مشوروں کو خوب سنتا اور جانتا ہے ‘ ایک دن اس کا خمیازہ تم کو بھگتنا پڑے گا لیکن قریش کے شبہات جو آنحضرت ﷺ کی نبوت کی نسبت تھے ‘ ان کا جواب ادا ہوجانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرما دیا کہ نبی آخر الزمان یہی ہیں دنیا کی مدت ان نبی آخرالزمان کے بعد بہت تھوڑی رہ گئی ہے ‘ حساب و کتاب قریب آن لگا ہے۔ قریش کو غفلت چھوڑ دینی چاہیے اور ان کے آس پاس جو اہل کتاب رہتے ہیں ان سے ان کو پوچھا لینا چاہیے کہ ہمیشہ سے رسول انسان ہی آتے رہے ہیں ‘ فرشتے نہیں آئے ‘ اور جو قریش کہتے ہیں کہ کوئی معجزہ ایسا پچھلے انبیاء کا سا ظاہر ہوجانا چاہیے۔ جس سے ہم سب قائل ہوجائیں ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ تجارت کی غرض سے شام کے ملک کو جب یہ لوگ جاتے ہیں تو قوم ثمود کی اور قوم لوط کی بہت سی بستیاں ان کو اجڑی ہوئی نظر آتی ہیں۔ پھر ان کو یہ کیونکر معلوم ہوا کہ پہلے رسولوں کے معجزے سے پہلی امتیں قائل ہوگئیں ‘ اور ایمان لے آئیں ‘ یہ نہیں جانتے کہ اگر ایسا ہوتا تو یہ انجام ان پچھلی قوموں کا کیوں ہوتا جو ان کی آنکھوں کے سامنے ہے کہ طرح طرح کے عذابوں سے وہ قومیں اجڑ گئیں ‘ پھر فرمایا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے پہلے رسولوں سے وعدہ سچا کیا ‘ وہی اب ہونے والا ہے کہ باوجود فہمائش کے یہ لوگ راہ پر نہ آویں گے تو اجڑ جاویں گے۔ چناچہ بدر کی لڑائی میں اس وعدہ کا ظہور ہوا ‘ جس کا خلاصہ صحیح بخاری ومسلم کی انس بن مالک کی روایت کے حوالہ سے کئی جگہ بیان کردیا گیا ہے کہ اللہ کے رسول اور قرآن شریف کی شان میں بےادبی کے الفاظ منہ سے نکالنے والے بڑے بڑے سرکش مشرکین مکہ میں کے بڑی ذلت سے اس لڑائی میں مارے گئے اور مرتے ہی عذاب آخرت میں گرفتار ہوگئے جس عذاب کے جتلانے کو اللہ کے رسول ﷺ نے ان کی لاشوں پر کھڑے ہو کر یہ فرمایا کہ تم نے اللہ تعالیٰ کے وعدہ کو سچا پا لیا 1 ؎۔ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان اور انسان کی سب ضروریات کی چیزوں کو اس طرح پیدا کیا کہ اس میں کوئی اس کا شریک نہیں ‘ پھر بلاسبب جو لوگ اللہ تعالیٰ کی تعظیم میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں اور قرآن شریف کی نئی نئی آیتوں کی نصیحت سے جب ان کو شرک کی برائی جتلائی جاتی ہے تو قرآن کی اس طرح کی نصیحت کو سن کر اسے مسخراپن میں اڑا دیتے ہیں اور اس میں مشورے کر کے اللہ کے رسول اور اللہ کے کلام کی شان میں طرح طرح کی بےادبی کے لفظ منہ سے نکالتے ہیں ‘ ایسے لوگوں کو ہشیار ہوجانا چاہیے کہ ان کی باتوں اور ان کے کاموں کے حساب و کتاب کا وقت بہت جلدی ان کے سر پر آرہا ہے ‘ یہ لوگ جو کہتے ہیں کہ اللہ کا رسول آدمی نہیں ہوسکتا ‘ فرشتہ ہونا چاہیے اس کا یہ جواب بھی کئی جگہ قرآن میں ان کو سمجھا دیا گیا کہ فرشتہ کو اصلی صورت میں دیکھنا انسان کی طاقت سے باہر ہے اس لیے کوئی فرشتہ بھی اگر اللہ کا رسول ہو کر آتا تو وہ بھی ضرور آدمی کی صورت میں ہوتا ‘ اس واسطے پچھلے سب رسول آدمی تھے۔ عام بنی آدم کی طرح کھانا ‘ پینا ‘ مرنا سب کچھ ان کے پیچھے لگا ہوا تھا ‘ آخر آیت میں قریش کو یہ جتلایا کہ اس قرآن کے تمہاری زبان میں نازل ہونے کے سبب اگر تم سمجھو تو تمہاری بڑی ناموری ہے ‘ معتبر سند سے طبرانی میں روایت ہے جس میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے ذکر کی تفسیر ناموری کو قرار دیا ہے ‘ مطلب یہ ہے کہ اب تو یہ قریش نادانی سے اللہ کے رسول اور قرآن کی شان میں طرح طرح کی بےادبی کے لفظ منہ سے نکالتے ہیں لیکن ان میں سے جو لوگ اللہ کے رسول کو سچا اور قرآن کو اللہ کا کلام جانیں گے ‘ ایک وقت ایسا آنے والا ہے کہ ان کو اور ان کی اولاد کو بڑی ناموری حاصل ہوگی ‘ قرآن کی یہ ایک پیشین گوئی ہے ‘ جس کے ظہور کے انتظام کے لیے اللہ کے رسول ﷺ نے معجزہ کے طور پر صحیح بخاری ومسلم کے عبداللہ بن عمر ؓ وغیرہ کی 2 ؎ روایتوں میں جو فرمایا اس کا حاصل یہ ہے کہ جب بہت سی غیر قومیں دائرہ اسلام میں داخل ہوں گی تو اس وقت سردار سوائے قوم قریش کے اور قوم کا کوئی شخص نہ ہوگا۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی خلافت سے لے کر عباسیہ کی خلافت کے عروج تک قرآن کی اس پیشین گوئی اللہ کے رسول ﷺ کے اس معجزہ کا جو ظہور ہوا 3 ؎ تاریخ الخلفاء کے دیکھنے سے اس کا حاصل اچھی طرح معلوم ہوسکتا ہے، اس مضمون کی آیت سورة الزخرف میں آوے گی۔ اس کو بھی اس آیت کی تفسیر میں دخل ہے حاصل کلام یہ ہے کہ قریش کی اس عزت کا سبب اللہ کے رسول کا اس قوم میں ہونا اور قرآن کا قریش کی زبان میں اترنا ہے۔
1 ؎ صحیح بخاری ص 522 ج 2۔ باب قتل ابی جہل۔
2 ؎ مشکوٰۃ باب مناقب قریش۔
3 ؎ حافظ سیوطی (رح) کی مشہور تالیف اور مصر وہسد میں مطبوع اور مستد اول کتاب ہے (ع۔ ح)
Ayahs 21:11–1511۔ 15:۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے قریش کی مشاورتوں کا ذکر فرمایا تھا اور ان کو جو شب ہے آنحضرت ﷺ کی نبوت میں تھے اس کے جواب دیئے تھے اور قیامت اور حساب و کتاب کا وقت قریب آن لگنے سے ان کو ڈرایا تھا۔ ان آیتوں میں حضرت نوح ( علیہ السلام) سے لے کر حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے زمانہ تک جو لوگ اور بستیاں رسولوں کی مخالفت کے سبب سے غارت ہوگئی تھیں ‘ ان کا ذکر فرمایا ہے تاکہ قریش کو عبرت ہو کر رسولوں کی مخالفت کا نتیجہ ان کے حق میں بھی یہی پیش آوے گا جو پچھلی امتوں کو پیش آیا ‘ پچھلی قومیں جو ہلاک ہوئیں ‘ ان قوموں میں سب سے آخری جس قوم کا ذکر ان آیتوں میں ہے کہ وہ اللہ کا عذاب دیکھ کر بھاگے اور بھاگتے وقت ان سے کہا گیا کہ اب کیوں بھاگتے ہو جن مکانوں میں عیش و آرام کرتے تھے وہیں کیوں نہیں ٹھہرتے ‘ تفسیر ابن ابی حاتم اور تفسیر ابن مردویہ میں اس قصہ کی پوری تفصیل مجاہد کے قول کے موافق ہے 1 ؎۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے درمیانی زمانہ میں یمن کے ملک میں ایک شعیب ( علیہ السلام) نام کے نبی تھے ‘ جب ان کی قوم نے ان کو جھٹلایا اور شہید کر ڈالا ‘ تو بخت نصر نے اس قوم کے اوپر چڑھائی کی ‘ اس وقت دو دفعہ تو یہ یمن کے لوگ بخت نصر کی قوم پر غالب ہوئے جب تیسری دفعہ بخت نصر بابلی اپنی ذات سے بڑی بھاری فوج لے کر آیا ‘ اس وقت یہ یمنی لوگ بھاگے اور فرشتوں نے طعن کے طور پر ان یمنی لوگوں سے یہ کہا کہ اب کیوں بھاگتے ہو اپنی آرام گاہوں میں اب کیوں نہیں ٹھہرتے اور اس طعن کے بعد فرشتوں نے بابلی لوگوں کے سامنے ان یمنی لوگوں کو گھیرا اور سب قتل ہوگئے۔ قیامت کی نشانیاں ظاہر ہونے کے بعد یا موت کا یقین ہوجانے کے بعد یا عذاب الٰہی آنکھوں کے سامنے آجانے کے بعد کوئی ایمان لائے یا توبہ کرے تو ایسے آخری وقت کا ایمان اور آخری وقت کی توبہ قبول نہیں ہے کیونکہ ایسے وقت پر آدمی کے ذمہ شریعت کی پابندی باقی نہیں رہتی اس لیے ان یمنی لوگوں نے فرعون کی طرح آخری وقت پر ایمان لانے کا جو اقرار کیا ‘ وہ اقرار کام نہ آیا۔ رہا حضرت یونس ( علیہ السلام) کی قوم کا آخری وقت کا ایمان اس کا جواب خود صحاب وحی ﷺ نے دے دیا ہے کہ ان کا ایمان عذاب کے خوف سے مجبوری کے طور پر نہیں تھا ‘ بلکہ خود ان کی خالص نیت ایمان لانے کی سچے طور پر ہوگئی تھی ‘ اس نیت کی قدر فرمائی اور ان کا آخری وقت کا ایمان قبول فرما لیا۔ معتبر سند سے مسند امام احمد میں حضرت عبداللہ بن عباس سے 2 ؎ اور تفسیر ابن مردویہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود کی روایت سے یہ حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے حضرت یونس ( علیہ السلام) کی قوم کے آخری وقت کے ایمان کے قبول ہونے کا سبب صراحت سے فرمایا ہے ‘ یہ شعیب مدین والے شعیب نہیں ہیں بلکہ یہ انبیائے بنی اسرائیل میں سے حضرت موسیٰ کے بعد ایک اور شعیب ہیں ‘ صحیح مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے 3 ؎۔ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ‘ قیامت کے قریب جب سورج مغرب سے نکلے گا تو پھر کسی کی توبہ قبول نہ ہوگی۔ معتبر سند سے ترمذی اور ابن ماجہ میں عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے 4 ؎۔ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا موت کے قریب جب سانس اکھڑ کر خراٹا لگ جاتا ہے تو اس وقت کی توبہ قبول نہیں ہوتی ‘ اوپر یہ جو گزرا کہ قیامت کی نشانیاں ظاہر ہوجانے کے بعد یا موت اور عذاب کا یقین ہوجانے کے بعد انسان کے ذمہ شریعت کے حکم کی پابندی باقی نہیں رہتی ‘ اس واسطے ایسے وقت کو توبہ قبول نہیں ‘ اسی واسطے ان یمنی لوگوں کی آخری وقت کی توبہ قبول نہیں ہوئی ‘ ان حدیثوں سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے ‘ قصم کے معنی کسی چیز کے توڑ ڈالنے کے ہیں مطلب یہ ہے کہ بابلی لوگوں نے ان یمنی لوگوں کو ایسا مارا کہ ان کی کمر ٹوٹ گئی۔ آگے کو لڑنے کی ہمت نہ رہی ‘ اور شکست کھا کر بالکل ہلاک ہوگئے ‘ چوپائے جانوروں کے قدموں کی آواز کو رکض کہتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ وہ لوگ اپنی سواریوں پر سوار ہو کر بھاگے تھے لعلکم تسلمون اس کا مطلب یہ ہے کہ تم لوگ بڑے صاحب ثروت کہلاتے تھے۔ اب بھاگتے کیوں ہو ‘ اپنے اپنے گھروں کو جاؤ ‘ شاید تمہارے دوست آشنا ‘ نوکر چاکر ‘ روپیہ پیسہ خرچ کرنے اور اس عذاب کے ٹالنے کی تم سے کوئی تدبیر پوچھیں ‘ یہ بات بھی فرشتوں نے ان لوگوں کے شرمندہ کرنے کے لیے کہی تھی حصیدا خامدین اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ کٹی ہوئی کھیتی کی طرح بالکل کٹ گئے اور بجھی ہوئی آگ کی طرح بالکل ٹھنڈے اور دہم ہو کر رہ گئے۔
1 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 314 ج 4۔
2 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 317۔ 318 ج 3 سورة یونس۔
3 ؎ مشکوٰۃ باب العلامات بین یدی الساعتہ۔
4 ؎ مشکوٰۃ۔ باب الاستغفار والتوبہ۔
Ayahs 21:16–1816۔ 18:۔ مشرکین مکہ نے جس طرح ملت ابراہیمی کی اور باتوں کو دل سے بھلا دیا تھا ‘ اسی طرح حشر اور قیامت کے مسئلہ کو بھی بھلا دیا تھا۔ اس لیے قرآن شریف میں حشر اور قیامت کی باتیں سن کر وہ طرح طرح کی عقبی بحث کرتے تھے ‘ چناچہ ایک شخص ابی بن خلف ایک روز ایک پرانی گلی ہوئی ہڈی آنحضرت ﷺ کے روبرو لایا اور اس ہڈی کو مل مل کر ہڈی کی راکھ ہوا میں اڑاتا جاتا تھا ‘ اور کہتا تھا ‘ کیا یہ راکھ محمد کا خدا پھر زندہ کرے گا ‘ اس قصہ کا ذکر مفصل سورة یس میں آوے گا اور اسی طرح کی بہت عقلی بحثیں ان لوگوں کی قرآن شریف میں کئی جگہ ہیں ‘ اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں اور بہت سی قرآن کی آیتوں میں ان کو قلی طور پر سمجھایا ہے کہ آسمان زمین اور جو کچھ دنیا کی چیزیں ہیں ‘ اللہ تعالیٰ نے انسان کی راحت اور آسائش اور رفع ضرورت کے لیے وہ سب پیدا کی ہیں ‘ آسمان سے مینہ کی ضرورت کے وقت مینہ برساتا ہے جس سے ہر طرح کی چیز زمین میں پیدا ہوتی ہیں ‘ دھوپ کے وقت دھوپ پڑتی ہے جس سے ہر طرح کی پیداوار پک کر تیار ہوجاتی ہے ‘ زمین میں ہر طرح کی پیداوار کی قوت اور تاثیر اللہ تعالیٰ نے رکھی ہے جس سے انسان کے کھانے ‘ پینے ‘ اوڑھنے ‘ بچھانے ‘ پہننے ‘ مکان بنانے کی سب طرح کی ضرورتیں رفع ہوتی ہیں ‘ زمین کے جمنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے زمین کسی طرح کی ضرورت سے انسان کو جانا مشکل نہ ہو۔ غرض جس انسان کی ضرورت کے لیے یہ سب کچھ پیدا کیا گیا ہے باوجود عقل وتمیز کے کیا وہ انسان حیوانوں کی طرح عبث اور بےفائدہ پیدا ہوا ہے ‘ کہ جب تک جیئے کھائے پییٔے اور ایک دن مر کر خاک ہوجاوے ‘ بس پھر کچھ بھی نہیں ‘ ادنی سی عقل کا آدمی دنیا میں کوئی کام کرتا ہے تو کوئی مقصد اس کام کے کرنے سے اپنے دل میں ضرور ٹھان لیتا ہے مثلا کھیتی کرتا ہے ‘ تو اناج کے حاصل ہونے کے مقصد سے باغ لگاتا ہے تو میوہ کھانے کے مطلب سے ‘ مکان بناتا ہے تو رہنے کی نیت سے ‘ وہ خالق جس نے عقل اور عقل والوں سب کو پیدا کیا۔ اس کے دنیا کی پیدائش جیسے بڑے کام کو یہ لوگ کس سمجھ اور عقل سے بےفائدہ اور بےمقصد ٹھہراتے ہیں ‘ ذرا بھی یہ لوگ اپنی عقل کو کام میں لاویں گے تو ان کی سمجھ میں آجاوے گا کہ ان کا ان کی ضرورت کی چیزوں کا پیدا کرنے والا کوئی ہے اور اس کا احسان ان پر ایسا بڑا ہے کہ اس نے ان کو نیست سے ہست کردیا ‘ ان کی ہر طرح کی ضرورت کی چیزیں مہیا کیں اس قدر سمجھ جانے کے بعد خود ان کا دل گواہی دے گا کہ جس نے ان پر اتنا بڑا احسان کیا ہے اس کی فرمانبرداری اس کی نہایت درجہ کی تعظیم ان کے اوپر واجب اور ضرور ہے ‘ اس پہلی چیز عقل سے بھی دریافت ہوسکتی ہے ‘ دوسری اور تیسری چیز محض عقل سے نہیں معلوم ہوسکتی کیونکہ عقل میں اتنی قدرت اور طاقت نہیں ہے کہ وہ اپنی طرف سے فرمانبرداری اور تعظیم کے طریقے ایجاد کرلے جس کی فرمانبرداری اور جس کی تعظیم ہے جب تک وہ نہ بتادے کہ کون سی قسم کی فرمانبرداری اور کس قسم کی تعظیم اس کی مرضی کے موافق ہے۔ پرائی مرضی کا حال عقل کیا جان سکتی ہے ‘ غرض دوسری اور تیسری بات کے جان لینے کے لیے کسی راہبر کی ضرورت ہے ‘ ان ہی راہبروں کا نام پیغمبر ہے ‘ اور طریقہ راہبری کا نام شریعت ہے اب رہی یہ بات کہ جس خدا نے اپنی فرمانبرداری اور تعظیم سے پہلے انسان پر اس کی ضرورت کی چیزوں کے پیدا کرنے کا احسان کیا ہے جو شخص اس کی فرمانبرداری اور اس اس کی تعظیم کرے گا کیا اس سے وہ خوش ہو کر کچھ انعام اس کو نہ دے گا اور جو اس کی مرضی کے موافق کام نہ کرے گا اس کو وہ کچھ سزا نہ دے گا ‘ یہ عقلی تجربہ کے بالکل برخلاف ہے کیونکہ یہ بات ہر شخص کی آنکھوں کے روبرو ہے کہ کسی بادشاہ کے دربار میں فرمانبردار اور نافرمان رعیت کا ایک حال نہیں ہے فرمانبردار رعیت کو انعام اور خلعت ملتے ہیں نافرمان رعیت سے جیل خانے بھرے جاتے ہیں ‘ گردنیں ماری جاتی ہیں پھر خدا کی طرف کی جزا وسزا یہیں دنیا میں ہوجاتی تو دنیا کی زیست کو قیام نہیں ہوتا اس واسطے جزا وسزا کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت سے دوبارہ انسان کا پھر زندہ کرنا قرار دیا ہے ‘ اسی کا نام حشر ہے اور جس روز یہ جزا اللہ تعالیٰ تجویز فرماوے گا اس دن کا نام قیامت ہے اور جب اللہ تعالیٰ اپنی قدرت سے ایک دفعہ انسان کو پیدا کرچکا ہے تو دوسری دفعہ انسان کا پھر پیدا کرنا تجربہ عقلی سے اس کو سہل اور آسان ہے ‘ کوئی دلیل عقلی اس دوسری دفعہ پیدا کرنے کے ناممکن ہونے کی اب تک نہ قائم ہوئی ہے نہ آئندہ کوئی عقل مند قائم کرسکتا ہے ‘ یہ بہت سی ان آیتوں کا حاصل مطلب ہے جن آیتوں کو اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں جگہ جگہ مشرکین کی عقلی بحثوں کے جواب میں نازل فرمایا ہے اور اس حاصل مطلب سے توحید کی ضرورت ‘ نبوت کی ضرورت ‘ شریعت کی ضرورت ‘ حشر کی ضرورت ‘ قیامت ‘ سب کچھ اس طرح ثابت ہوتا ہے کہ عقل کو بنظر انصاف کسی چیز کے انکار کی گنجائش کسی طرح باقی نہیں رہتی ‘ ان ہی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی غلطی کو بھی بیان فرمایا ہے ‘ جو حضرت عیسیٰ اور حضرت عزیر ( علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا اور فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے ‘ وہ بیان بھی ایسا ہے کہ کوئی عقلمند اس کے ماننے میں شبہ نہیں کرسکتا۔ مگر سورة المائدہ میں گزرا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کھایا کرتے تھے ‘ اب جس کی ذات میں اتنا تغیر ہو کہ ہر روز کی غذا سے اس کا خون ‘ گوشت سب کچھ بڑھتا رہے اسے اللہ تعالیٰ کی ذات سے کچھ مناسبت نہیں ‘ حالانکہ باپ بیٹے میں مناسبت ضرور ہے ‘ یہی حال عزیر (علیہ السلام) کا ہے ‘ اسی طرح اللہ کی عظمت کے آگے فرشتے عاجزی سے جس طرح ہر وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت میں لگے رہتے ہیں ‘ اس کا ذکر آگے آتا ہے ‘ پھر ان میں سے کسی کو اللہ کی اولاد کیوں کر ٹھہرایا جاسکتا ہے ’ علم کلام کی کتابوں میں جس کو ” علم عقائد “ کہتے ہیں ‘ یہ جو لکھا ہے کہ ہر ایک شخص پر دلیل عقلی سے خدا کا پہچاننا فرض ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ جو شخص ان قاعدوں کے موافق خدا کو نہ پہچانے جو قاعدے علم کلام والوں نے صفات الٰہی عین ذات ہیں یا غیر ہیں اور پھر وہ سب صفات ایک ہیں یا علیحدہ علیحدہ ہیں اور اس طرح اور پیچیدہ چند قاعدے جو ہیں ‘ ان قاعدوں کے سیکھنے اور جاننے تک آدمی کا ایمان صحیح نہیں ہوتا ‘ یہ علم کلام کی ایسی سب باتیں ابو ہاشم 1 ؎ معتزلی کی ایجاد کی ہوئی ہیں۔ عقل سے خدا کو پہچاننے کی چند آیتوں کا مطلب جو اوپر بیان ہوا ہے یا اس قسم کی حدیثیں جو کچھ ہیں وہ فقط ان مشرکوں کی عقلی حجتوں کے جواب میں ہیں جو شرک پر اڑے ہوئے تھے اور توحید کے ماننے میں طرح طرح کی عقلی حجتیں پیش کرتے تھے اب بھی کوئی ایسا حجتی ہو تو اس کو اس قسم کی آیتوں یا حدیثوں سے قائل کرنے کا مضائقہ نہیں مگر جس شخص نے بغیر حجت کے کلمہ شہادت ادا کرلیا ‘ اس کو بغیر ابوہاشم کی نکالی ہوئی باتوں کے سیکھنے کے ناقص الایمان کہنا بڑا ظلم ہے یوم المیثاق میں نہ خدا تعالیٰ نے ان علم کلام کی باتوں سے اپنی شناخت کرائی ‘ نہ حضرت جبرئیل جب ایک سائل بن کر آنحضرت ﷺ کے پاس لوگوں کو ایمان سکھانے آئے تو انہوں نے ان باتوں کا ذکر کیا ‘ نہ آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کے زمانہ میں یہ باتیں ایمان کی شرط قرار پائیں ‘ سینکڑوں ہزاروں دیہاتی عرب آنحضرت ﷺ اور صحابہ کے زمانہ میں فقط کلمہ شہادت ادا کرکے اور کچھ معمولی نماز روزہ کے مسائل سیکھ کر اپنے اپنے گاؤں کو چلے جاتے تھے اور آنحضرت ﷺ اور صحابہ ؓ ان کو مسلمان گنتے تھے ‘ بعض اہل علم کلام والوں نے اس کا یہ جواب جو دیا ہے کہ زمانہ ابتدائے اسلام میں اس طرح کا معمولی ایمان جائز تھا اب جائز نہیں ہے ‘ یہ بالکل ایک غلط جواب ہے دین وہی ہے جو آنحضرت ﷺ اور صحابہ ؓ کے زمانہ میں اس کی ضرورت نہ تھی ‘ اب ضرورت ہے اسی کا نام بدعت ہے اور آنحضرت کے زمانہ میں جو لوگ ایمان لائے اور برکت صحبت رسول سے صحابیت کے درجے کو پہنچے ان کے ایمان کو ایک معمولی ایمان بتلانا اور اپنے ایمان کو درجہ معمولی سے بڑھ کر ایک اعلی درجہ کا ایمان شمار کرنا ایک بڑی جرأت کی بات ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ جس طرح فقہ میں چار مذہب حنفی ‘ شافعی ‘ مالکی ‘ حنبلی مشہور ہیں اسی طرح عقائد میں تین مذہب حنابلہ ‘ اشاعرہ ‘ ماتریدیہ مشہور ہیں ‘ حنابلہ لوگوں کی نسبت امام احمد بن حنبل (رح) سے ہے ‘ اور اشاعرہ لوگوں کی نسبت ابوالحسن اشعری سے ہے 2 ؎۔ جو ابو موسیٰ اشعری ایک مشہور صحابی کی اولاد میں ہیں اور ماتریدیہ لوگوں کی نسبت ابو المنصور ماتریدی ہے 3 ؎۔ سلف کے قول سے زیادہ مطابقت حنابلہ لوگوں کے قاعدوں میں پائی جاتی ہے۔ سلف نے اس طرح کے عقلی علم عقائد کے پڑھنے لکھنے کو منع لکھا ہے اور یہ کہا ہے کہ اس طرح کے عقلی علم عقائد سے بجائے عقیدہ کے مضبوط ہونے کے آدمی کا اور شک بڑھ جاتا ہے اور سچ بھی ہے ‘ سب آدمیوں کا اور شک بڑھ جاتا ہے اور سچ بھی ہے ‘ سب آدمیوں کی عقل ایک سی نہیں ہوتی ‘ کوئی کچھ کہتا ہے اور کوئی کچھ اس لیے ہر عقلی بات شک سے خالی نہیں ہوتی ‘ صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ سے اور صحیح مسلم میں حضرت عمر ؓ سے جو روایتیں ہیں 4 ؎۔ ان کا حاصل یہ ہے کہ ایک دن ایک شخص آیا اور اس نے دین کی چند باتیں اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ سے پوچھیں ‘ جب اس شخص نے پوچھا کہ ایمان کیا چیز ہے تو اللہ کے رسول نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی چیزوں کو دیکھ کر آدمی اللہ تعالیٰ کی ہستی کا یقین کرے اور جب ان چیزوں کے پیدا کرنے میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے تو خالص اسی کی عبادت انسان پر واجب ہے دین کی چند باتیں پوچھ کر جب وہ شخص چلا گیا تو اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا یہ جبرئیل (علیہ السلام) تھے اللہ کے حکم سے تم لوگوں کو دین سکھانے آئے تھے ‘ اس صحیح حدیث کے ٹکڑے سے یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آجاتی ہے کہ اللہ کے حکم سے جبرئیل (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی پہچان کا جو طریقہ صحابہ کو سکھایا ہے اور صحابہ ؓ کی روایتوں سے وہی طریقہ امت میں پھیلا ہے ‘ اس طریقہ میں علم کلام کے قاعدوں کا کچھ دخل نہیں ہے 5 ؎۔ صحیح بخاری کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایت سے حدیث قدسی کئی جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا جو لوگ اپنی پہلی پیدائش آنکھوں سے دیکھ کر دوسری دفعہ کی پیدائش سے منکر ہیں ‘ وہ نادانی سے اللہ کو جھٹلاتے ہیں اور جو لوگ اللہ کو صاحب اولاد ٹھہراتے ہیں ان کی جرأت گویا گالی دینے کے برابر ہے کیونکہ باپ اور اولاد میں جو مناسبت اور مشابہت ہوتی ہے خالق اور مخلوق میں وہ نہیں پائی جاتی ‘ پھر زبردستی اللہ کی ذات میں اس مناسبت کا پیدا کرنا اللہ تعالیٰ کی ذات کو بٹہ لگانا ہے جو گالی کے برابر ہے ‘ اس حدیث سے منکرین حشر کی اور اللہ تعالیٰ کو صاحب اولاد ٹھہرانے والوں کی جرأت کی تفسیر اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے پھر فرمایا اگر اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے کسی کو اولاد ٹھہراتا تو فرشتوں میں سے ٹھہراتا جو کھانے پینے سے پاک اور پہلے صور تک زندہ رہنے والے ہیں ‘ اس کے بعد قرآن کی ان سچی باتوں کو ایک پہاڑ اور مشرکوں کی ان جھوٹی باتوں کو ایک شخص قرار دے کر فرمایا کہ ان سچی باتوں کے پہاڑ کو پھینک مارنے سے آخر ایک دن ان جھوٹی باتوں کا سر کچل جائے گا اور یہ جھوٹی باتیں مکہ میں باقی نہ رہیں گی اور جو لوگ مرتے دم تک ان جھوٹی باتوں سے باز نہ آویں گے مرنے کے بعد بڑی بڑی آفت اور برائی میں پڑجاویں گے ‘ صحیح بخاری کے حوالہ سے عبداللہ بن مسعود ؓ اور صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایتیں فتح مکہ کے قصہ میں کئی جگہ گزر چکی ہیں کہ اس وقت اللہ کے رسول ﷺ نے مکہ کے مشرکوں کے بتوں کو اپنے ہاتھ کی لکڑی سے مار مار کر گرایا اور فرمایا سچ آیا اور جھوٹ بھاگا آخری آیت میں جھوٹ کا سر پھوٹ جانے اور اس کے سٹک جانے کا جو وعدہ ہے اس کا ظہور ان حدیثوں سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے کیونکہ اگر وہ بت انسان ہوتے تو لکڑیوں کی مار سے اور زمین پر پٹخے جانے سے ان کے سر کو صدمہ پہنچتا 6 ؎۔ صحیح بخاری ومسلم میں نعمان بن بشیر ؓ سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ‘ قیامت کے دن کم سے کم دوزخ کا عذاب یہ ہوگا کہ دوزخی شخص کے پاؤں میں آگ کی جوتیاں پہنا دی جاویں گی جس سے اس کا بھیجا کھل کر نکل پڑے گا ‘ آیتوں میں جس عذاب کو خرابی فرمایا ہے ‘ اس کا اندازہ اس حدیث سے کیا جاسکتا ہے۔
1 ؎ ایک مشہور بدعتی فرقہ معتزلہ کا ایک ممتاز عالم عبدالسلام بن محمد متوفی 321 ھ
2 ؎ امام علی بن اسمیٰعل الاشعری متوفی 324 ھ
3 ؎ محمد بن محمود ماتریدی متوفی 333 ھ۔
4 ؎ مشکوٰۃ۔ کتاب الایمان ’ حدیث اول۔
5 ؎ مشکوٰۃ ص 12۔ کتاب الایمان۔
6 ؎ مشکوٰۃ ‘ باب صفۃ اہل النا رواہلہا۔
Ayahs 21:19–2119۔ 21:۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ آسمان پر کے فرشتے ‘ زمین پر کے جنات اور انسان سب اللہ کے غلام ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کا مالک ہے پھر کوئی باپ اپنی اولاد کو غلام بنا کر رکھتا ہے جو اللہ کی اولاد تھی اور اس نے اس کو غلام بنا کر رکھا جن فرشتوں کو یہ مشرک اللہ کی بیٹیاں کہتے ہیں ان فرشتوں کا یہ حال ہے کہ اللہ کی عظمت کے آگے وہ بالکل ناچیز اور ہر وقت اس کی عبادت میں لگے رہتے ہیں کیا باپ کے آگے اولاد کی یہ شان ہوتی ہے جو اللہ کی عظمت کے آگے فرشتوں کی ہے پھر فرمایا کہ اللہ کی تو وہ قدرت ہے کہ انسان ناپید تھا ‘ اللہ نے اپنی قدرت سے اس کو پیدا کردیا۔ مٹی کی بےجان چیزوں پتھر لکڑی وغیرہ کے بت جو ان مشرکوں نے بنائے ہیں ‘ کیا ان میں یہ طاقت ہے کہ وہ کسی مردہ کو زندہ کرسکتے ہیں وہ تو خود بےجان ہیں کیا خاک کسی مردہ کو زندہ کریں گے ‘ مکہ کے قحط کے وقت ان سے تو اتنا بھی نہ ہوا کہ مینہ برسا کر اپنے پجاریوں کو قحط کی تکلیف سے بچا لیتے ‘ آخر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی برکت سے مینہ بر سایا ‘ تب وہ قحط رفع ہوا ‘ حاصل کلام یہ ہے کہ ایسی بےجان بےاختیار اور لکڑی کی مورتوں کو معبود ٹھہرانا کسی عقل مند آدمی کا کام نہیں ہے ‘ رہی یہ بات کہ جن اچھے لوگوں کی یہ مورتیں ہیں ‘ وقت پر وہ اچھے لوگ اپنی مورتوں کے پوجنے والوں کی مدد کریں گے ‘ اول تو مکہ کے قحط کے وقت ان کی مدد کی قلعی کھل گئی ‘ دوسرے ان مشرکوں کو یہ سمجھا دیا گیا ہے کہ مدد تو درکنار وہ اچھے لوگ ان مشرکوں کی صورت سے بالکل بیزار ہیں ‘ مکہ کے قحط کا قصہ صحیح 1 ؎ بخاری وغیرہ کی عبداللہ ؓ بن مسعود کی روایت سے کئی جگہ گزر چکا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جب مشرکین مکہ نے بہت سرکشی شروع کی تو اللہ کے رسول ﷺ نے ان لوگوں پر قحط کی بلا آنے کی بددعا کی اور اس بددعا کے اثر سے مکہ میں ایسا قحط پڑا کہ ان مشرکوں کی ساری سرکشی نکل گئی اور فاقوں کے مارے نہ کھانے کی چیزیں۔ اس قحط کے زمانہ میں ان مشرکوں نے اپنے بتوں سے مینہ برسانے کی بہت اتجا کی اور اللہ کے رسول کی دعا سے مینہ برسا۔ صحیح 2 ؎ بخاری ومسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی حدیث کئی دفعہ گزر چکی ہے کہ دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے اپنے علم غیب کے نتیجہ کے طور پر اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں یہ لکھ لیا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کون شخص دوزخ میں جھونکے جانے کے قابل کام کرے گا اور کون شخص جنت میں جانے کے قابل ‘ اب جس کے قابل لوگ پیدا ہوئے ‘ ان کو ویسے ہی کام آسان اور اچھے معلوم ہوتے ہیں ‘ اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے کہ مشرکین مکہ میں سے اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق جو لوگ دوزخی ٹھہر چکے ہیں وہ مکہ کے قحط میں بتوں کی اتنی بڑی عاجزی اور اللہ تعالیٰ کی اتنی بڑی قدرت دیکھنے کے بعد بھی ان ہی بےجان عاجز پتھر کی مورتوں کو پوجتے رہے اور آخر اسی حال میں دنیا سے اٹھ گئے۔
(1 ؎ کتاب التفسیر۔ سورة الدخان )
(2 ؎ مشکوٰۃ باب الایمان بالقدر )
Ayahs 21:22–2422۔ 24:۔ جن لوگوں نے عقلی بحث کے علم مثلا علم منطق اور علم مناظرہ بنائے ہیں انہوں نے یہ بات طیر دی ہے کہ کسی چیز میں بحث اس وقت تک ہوتی ہے جب تک وہ چیز معلوم نہ ہوجائے جب کوئی چیز معلوم ہوئی اور آنکھوں کے سامنے آگئی تو پھر اس میں بحث کی گنجائش کچھ باقی نہیں رہتی ‘ مثلا دو آدمیوں نے دور سے کہیں گرد اڑتی ہوئی دیکھی اور ایک نے کہا اس گرد میں ایک گھوڑے سوار آرہا ہے دوسرے نے کہا گھوڑے کا سوار نہیں بلکہ سانڈنی سوار ہے۔ جب تھوڑی دیر میں گھوڑے کا سوار آنکھوں کے سامنے آگیا تو بحث ختم ہوگئی ‘ اب آنکھوں کے سامنے کی چیز کو جھٹلا کر اگر کوئی شخص گھوڑے کے سوار کو سانڈنی سوار کہہ دے تو لوگ اس کو بیوقوف بتلا دیں گے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے شرک کے مٹ جانے اور توحید کے ثابت ہوجانے کی بحث کو اس آیت میں اس درجہ تک پہنچا دیا ہے کہ جو مشرک شرک کے رواج دینے میں عقلی بحث کرتے تھے ان کو بحث کی گنجائش نہیں رہی کیونکہ یہ آنکھوں سے دیکھ کر سینکڑوں ہزاروں تاریخ کی کتابیں ان ہی لڑائیوں کے ذکر میں لکھی ہیں اور حال کے لوگوں کے سامنے بھی وہ لڑائیاں بند نہیں ہیں اور ان لڑائیوں میں ایک غالب ایک مغلوب ہوتا رہتا ہے اور لڑائی کے زمانہ تک خونریزی اور طرح طرح کی بدنظمی اور فساد برپا ہوتے رہتے ہیں حکومت آسمانی کی ابتدائے دنیا سے اب تک ایک انتظام جو ہے وہی ہے ‘ حکومت دنیا کا سا حال اس کا نہیں کہ خلجیوں کا انتظام کچھ اور تھا اور تیموریوں کا کچھ اور اب کچھ اور ہی ہے ‘ اس سبب سے آنکھوں دیکھی باتوں سے یہ بات نکلی ‘ کہ آسمانی حکومت ایک ذات پاک کی قدرت اور اختیار میں ہے کہ جس کا نہ کوئی شریک ہے نہ مقابل ‘ اسی کا نام توحید ہے ‘ ترمذی ‘ مستدرک حاکم ‘ صحیح ابن خزیمہ ‘ بیہقی 1 ؎ وغیرہ میں ابی بن کعب وغیرہ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہی ہے کہ یہود اور مشرکین نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ جس خدا کی تم عبادت کرتے ہو اس کے کچھ اوصاف بیان کرو ‘ اس پر اللہ تعالیٰ نے قل ھو اللہ نازل فرمائی ‘ حافظ ابن خزیمہ اور حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے ‘ اس سے معلوم ہوا کہ قل ھو اللہ کے مضمون کے موافق اللہ کو ذات اور صفات میں وحدہ ‘ لاشریک لہ ‘ جاننا یہی توحید ہے ‘ سوا اس کے اہل بدعت اور اہل تصوف نے توحید کے اور پیچیدہ معنی جو بیان کیے ہیں وہ شریعت سے ثابت نہیں ‘ آگے فرمایا ‘ کہ جب ان لوگوں کے تجربہ عقلی کے موافق اللہ کی وحدانیت اور اس کے ہاتھ میں تمام عالم کے انتظام کا ہونا ثابت ہوگیا تو یہ مشرک لوگ اللہ کی شان میں جو باتیں بناتے ہیں ان سے وہ پاک ذات بالکل پاک ہے اور اس کے کسی طرح کے انتظام میں جب کوئی شریک نہیں ہے تو اس کی تعظیم میں دوسروں کو شریک ٹھہرانا بڑے وبال کی بات ہے ‘ صحیح بخاری ومسلم کے 1 ؎ حوالہ سے عبداللہ ؓ بن معسود کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ‘ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پید کیا اس واسطے خالص اللہ تعالیٰ کی تعظیم اور عبادت انسان پر واجب ہے اس واجب کو چھوڑ کر اللہ کی تعظیم میں شریک ٹھہرانا ایسے بڑے وبال کی بات ہے کہ اس سے بڑھ کو دنیا میں کوئی جرم نہیں ‘ شرک کے وبال کا حال اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے پھر فرمایا ابتدائے دنیا سے اب تک تمام دنیا کا انتظام ایک وتیرہ پر اس طرح قائم ہے ‘ نہ کوئی دوسرا اللہ کے انتظام میں شریک ہے نہ اس سے کوئی پوچھنے والا کہ مثلا اتنی پچھلی قوموں کو اس نے طرح طرح کے عذابوں سے کیوں ہلاک کردیا ہاں اس کا حکم تمام مخلوقات پر جاری ہے اس واسطے تمام مخلوقات میں سے جو کوئی اس کے حکم کے برخلاف عمل کرے گا وہ ضرور اس کو پکڑے گا اور اس کی پکڑ کو کوئی ٹال نہیں سکتا ‘ فرعون جیسے صاحب لشکر بادشاہ کو اس نے ایک دم میں ڈبو کر ہلاک کردیا اور کوئی اس سے پوچھ نہ سکا ‘ پھر فرمایا کہ اس عقلی تجربہ کے طور پر سمجھانے کے بعد بھی کیا یہ لوگ شرک کو نہیں چھوڑتے تو اچھا یہ لوگ اپنے آپ کو ملت ابراہیمی پر بتلاتے ہیں اس واسطے اے رسول اللہ کے ان کو قائل کرنے کے لیے تم ان سے کہو کہ ملت ابراہیمی میں شرک کی کوئی سند ہو تو لاؤ اس کو پیش کرو ‘ ورنہ مجھ پر جو قرآن نازل فرمایا اس میں حال کے اور پچھلے لوگوں کا سب حال ہے ‘ مطلب یہ ہے کہ شرک کے وبال میں جس طرح پچھلی قومیں طرح طرح کے عذابوں میں ہلاک ہوچکی ہیں ‘ قرآن میں ان کے قصے جگہ جگہ اس بات کے جتلانے کے لیے بیان کردیئے گئے ہیں کہ حال کے لوگوں میں سے جو کوئی ان پچھلی قوموں کے قدم بقدم چلے گا ‘ اس کا انجام بھی وہی ہوگا جو ان پچھلی قوموں کا ہوا ‘ بدر کی لڑائی کے وقت اس وعدہ کا جو کچھ ظہور ہوا ‘ صحیح بخاری ومسلم کی انس بن مالک کی روایت کے حوالہ سے اس کا قصہ کئی جگہ گزر چکا ہے آخر کو فرمایا کہ یہ بات تو نہیں کہ ان کے پاس شرک کی کوئی سند ہو بلکہ بات فقط اتنی ہی ہے کہ ان میں کے جو لوگ اللہ کے علم غیب میں گمراہ ٹھہر چکے ہیں وہ حق بات کے سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ حق بات کو مسخراپن میں ڈال دیتے ہیں۔ صحیح بخاری ومسلم کے 2 ؎ حوالہ سے حضرت علی ؓ کی حدیث اوپر گزرچکی ہے کہ دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے اپنے علم غیب کے نتیجہ کے طور پر اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں یہ لکھ لیا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کون شخص دنیا میں دوزخیوں کے سے کام کر کے مرتے دم تک انہیں کاموں کو اچھا اور آسان سمجھتا رہے گا ‘ عقلی تجربہ اور ملت ابراہیمی کے حوالہ سے سمجھانے کے بعد بھی مشرکین مکہ میں کے جو لوگ مرتے دم تک شرک سے باز نہیں آئے ان کی گمراہی کا سبب اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے۔
(1 ؎ فتح الباری ص 412 ج 4 تفسیر ” قل ھواللہ احد “ )
(1 ؎ مشکوٰۃ باب الکبائر و علامات النفاق )
(2 ؎ مشکوٰۃ باب القدر )
Ayah 21:2525:۔ اوپر مشرکین مکہ کو یوں قائل کیا گیا تھا کہ ملت ابراہیمی میں شرک کی کوئی سند ہو تو پیش کی جائے اس آیت میں فرمایا ملت ابراہیمی تو درکنار پچھلے کسی رسول کی شریعت میں سے بھی یہ لوگ شرک کی کوئی سند پیش نہیں کرسکتے کیونکہ مصلحت وقت کے موافق ہر ایک شریعت کے نماز ‘ روزے ‘ حلال و حرام کے احکام جدا ہیں ‘ لیکن اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور شرک کی برائی سے پچھلی کوئی شریعت خالی نہیں ہے ‘ صحیح بخاری ومسلم کے 1 ؎ حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایت کئی جگہ گزر چکی ہے ‘ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ‘ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا مسئلہ پچھلی ہر ایک شریعت میں موجود ہے ‘ اس حساب سے ایک باپ کی اولاد کی طرح سب انبیاء گویا اس میں بھائی بھائی ہیں ‘ اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے کہ جس طرح بھائی سے بھائی جدا نہیں ہوتا اسی طرح پچھلی کوئی شریعت اللہ کی وحدانیت اور شرک کی برائی سے خالی نہیں ہے ‘ پھر کسی مشرک کی کیا طاقت ہے کہ کسی شریعت میں سے وہ شرک کی سند ڈھونڈ کر پیش کرسکتا ہے ‘ سلف کا یہ قول مشہور ہے کہ جس نے ایک رسول کو جھٹلایا ‘ اس نے سب رسولوں کو جھٹلایا ‘ اس کا مطلب اس آیت اور حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے ‘ جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت سب رسولوں کی شریعتوں میں ہے اس واسطے ایک رسول کی شریعت جھٹلانے سے سب شریعتوں کا جھٹلانا لازم آجاتا ہے۔
(1 ؎ مشکوٰۃ باب بداء الخق وذکر الانبیاء (علیہم السلام) )
Ayahs 21:26–2926۔ 29:۔ سورة والصافات میں شعب الایمان بیہقی ‘ تفسیر سدی ‘ تفسیر مقاتل وغیرہ کے حوالہ سے قتادہ وغیرہ کا قول آوے گا کہ مشرکین مکہ سے قبیلہ خزاعہ کے لوگ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی اولاد کہتے تھے اور ان کی مورتوں کی پوجا کر کے یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ جن بتوں کی مورتوں کی ہم پوجا کرتے ہیں ‘ اگر قیامت قائم ہوئی تو وہ فرشتے اللہ کے روبرو ہماری سفارش کرکے ہم کو دوزخ کی آگ سے چھڑا لیویں گے ‘ اسی کے جواب میں فرمایا کہ جس طرح ان مشرکوں کے پاس بت پرستی کی کچھ سند نہیں ‘ اسی طرح فرشتوں کو اللہ کی اولاد ٹھہرانے کی بھی ان کے پاس کوئی سند نہیں ہے ‘ شیطان کے بہکانے سے اپنی اٹکل سے یہ لوگ جو جی میں آتا ہے بکتے ہیں جس کا خمیازہ وقت مقررہ پر بھگتیں گے ‘ پھر فرمایا فرشتے تو اللہ کے ایسے فرمانبردار بندے ہیں کہ اللہ کے حکم پر چلتے ہیں ‘ اپنی حد سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی خلاف مرضی کوئی بات بھی وہ منہ سے نہیں نکالتے اور ان کو اللہ تعالیٰ کا یہ حکم بھی معلوم ہے کہ جو مشرک بغیر توبہ کے مرجاوے گا تو جس طرح سوئی کے ناکے میں اونٹ کا گھس جانا ناممکن ہے ‘ اسی طرح ایسے مشرک کی نجات ناممکن ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے برخلاف اللہ تعالیٰ کے فرشتے ان مشرکوں کی سفارش کیونکر کرسکتے ہیں ‘ پھر فرمایا فرشتے اللہ کی جو کچھ آئندہ فرمانبرداری کریں گے وہ اور ان آیتوں کے نازل ہونے تک جو فرمانبرداری انہوں نے کی ہے وہ اللہ کے علم سے باہر نہیں ہے ‘ یہ مشرک جو کہتے ہیں کہ اگر قیامت قائم ہوئی تو فرشتے اللہ کے روبرو ان مشرکوں کی سفارش کر کے ان مشرکوں کو دوزخ کے عذاب سے چھڑا لیویں گے یہ ایک ایسی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں ان کا کہیں پتہ نہیں ہے بلکہ اللہ کے علم غیب میں تو یہ ہے کہ فرشتے اللہ کی ہیبت سے بہت ڈرتے ہیں ‘ پھر ان سے یہ نڈر پنے کا کام کیونکر ہوسکتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے برخلاف ان مشرکوں کی سفارش کرنے کی جرأت کریں گے ‘ پھر فرمایا ‘ فرشتوں کی مورتوں کو یہ لوگ شیطان کے بہکانے سے پوجتے ہیں ‘ فرشتے ان کے اس شرک سے بالکل بیزار ہیں کیونکہ پچھلی قوموں پر جتنے عذاب آئے ہیں وہ فرشتوں ہی کے ہاتھوں آئے ہیں اس لیے فرشتوں کو یہ معلوم ہے کہ جو فرشتہ اپنی پوجا کا حرف بھی زبان پر لاوے تو بنی آدم میں کی نافرمان قوموں کی سزا کی طرح ایسے فرشتے کی سزا جہنم ہے ‘ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابو سعید خدری ؓ کی اس حدیث کا ذکر کئی جگہ گزر چکا ہے جس میں قیامت کے دن کی شفاعت کا ذکر تفصیل سے ہے ‘ اس حدیث کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ ملائکہ ‘ انبیاء اور صلحا کی شفاعت کا سلسلہ ان کلمہ گو گنہگاروں پر ختم ہوجائے گا جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہوگا یہ حدیث الا لمن ارتضی کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ الا لمن ارتضی کی حد ان کلمہ گو گنہگاروں تک ہے جن کے دل میں ذرہ بھر بھی ایمان ہے جو مشرک بغیر توبہ کے مرجاویں گے نہ ان کا شمار کلمہ گو گنہگاروں میں ہوسکتا ہے ‘ نہ ان کی شفاعت کی قیامت کے دن کچھ امید ہے اوپر کے ذکر کے موافق مشرکین مکہ شفاعت کی جس بےبنیاد امید پر جیتے تھے ‘ اس بےبنیاد امید کا حال ان کو وقت پر معلوم ہوجائے گا ‘ صحیح بخاری میں ابوہریرہ ؓ سے طبرانی میں نواس بن سمعان سے اور تفسیر ابن مردویہ میں عبداللہ ؓ بن مسعود سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ جس وقت اللہ تعالیٰ وحی کے طور پر کوئی حکم فرماتا ہے تو سب فرشتے ڈر کے مارے کانپ جاتے ہیں ‘ پہلے پہل جبرئیل (علیہ السلام) کا ڈر کم ہوتا ہے اور وہ وحی کے حکم کو سمجھ کر باقی کے فرشتوں کی تسکین کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ معمولی حکم صادر ہوا ہے ‘ کچھ خوف نہ کرو ‘ اس تسکین کے بعد فرشتوں کا خوف کم ہوجاتا ہے آیتوں میں یہ جو ذکر ہے کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کے خوف سے ڈرتے رہتے ہیں ‘ اس کا مطلب ان روایتوں سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے۔
Ayahs 21:30–3330۔ 33:۔ اگرچہ پہلی آیت کی تفسیر میں سلف کے کئی قول ہیں مگر بیہقی کی کتاب اسماء وصفات ‘ تفسیر عبد بن حمید اور مستدرک 1 ؎ حاکم میں معتبر سند سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا قول ہے جس میں انہوں نے کانتا رتقا ففتقنھما کی تفسیر یوں بیان فرمائی ہے کہ آسمان بند تھا ‘ اس میں مینہ برسنے کی تاثیر نہیں تھی ‘ اللہ تعالیٰ نے اس میں مینہ برسنے کی تاثیر پیدا کی اسی طرح زمین بند تھی ‘ اس میں کسی طرح کی پیداوار نہیں تھی ‘ اللہ تعالیٰ نے اس میں پیداوار کی قوت پیدا کی ‘ حافظ ابو جعفر ابن جریر نے سلف کے سب قولوں میں سے اسی قول کو معتبر ٹھہرایا ہے ‘ آخر آیت میں اللہ تعالیٰ نے بھی مینہ کا ذکر فرمایا ہے ‘ اس واسطے یہی قول صحیح معلوم ہوتا ہے۔ حاصل مطلب پہلی آیت کا یہ ہے کہ مکہ کے قحط کے وقت ان مشرکوں نے کیا یہ نہیں دیکھا کہ اس وقت یہی آسمان زمین تھے اور یہ مشرک لوگ اپنے بتوں سے مینہ کے برسنے کی التجائیں بھی کر رہے تھے ‘ لیکن آسمان و زمین میں جو قوت اور تاثیر اللہ تعالیٰ نے رکھی ہے ‘ اس کا ظہور سوائے اس کے اور کسی کے اختیار میں نہیں اس لیے جب تک اس کا حکم نہ ہوا یہ دونوں ایسے ہی بند ہوگئے ‘ جس طرح اس تاثیر کے پیدا کیے جانے سے پہلے بند تھے پر ایسی آنکھوں کی دیکھی ہوئی بات کا یقین ان لوگوں کے دل میں کیوں نہیں پیدا ہوتا مکہ کے قحط کا قصہ صحیح بخاری وغیرہ کی عبداللہ ؓ بن مسعود کی روایت 2 ؎ سے اسی سورة میں گزر چکا ہے ‘ قحط کی حالت کے علاوہ کسی جگہ بارش اور قوت پیداوار کم ہے اور کسی جگہ زیادہ مثلا مکہ کی سر زمین کا کچھ اور حال ہے اور طائف کی زمین کا کچھ اور حال ہے ‘ اس سے بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت کی وہی نشانی ہر وقت ان لوگوں کی آنکھوں کے سامنے ہے جو نشانی انہوں نے مکہ کے قحط میں آنکھوں سے دیکھی ‘ صحیح 3 ؎ مسلم کے حوالہ سے حضرت عائشہ ؓ کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے کہ فرشتے نور سے پیدا کیے گئے ہیں اور جنات آگ کے شعلے سے ‘ اس حدیث کو آیت کے ٹکڑے وجعلنا من الماء کل شی حی کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ آیت کے اس ٹکڑے میں انسان اور اس کی ضرورت کی سب چیزوں کو پانی سے پیدا کرنے کا ذکر ہے فرشتوں اور جنات کا ذکر یہاں نہیں ہے ‘ کھیتی اور باغات کی سر سبزی کو ان کی زندگی فرمایا ‘ آگے فرمایا ‘ پانی پر زمین جب بچھائی گئی تو وہ ہلتی تھی ‘ اس کے جمانے کے لیے اس میں پہاڑ ٹھونکے گئے اور ان پہاڑوں میں گھاٹیاں رکھی گئیں تاکہ ایک شہر سے دوسرے شہر کو جانے میں لوگوں کو تکلیف نہ ہوا ‘ آسمان کو بچاؤ کی چھت جو فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ آسمان پر فرشتوں کا پہرہ رہتا ہے جس سے شیاطین آسمان پر کی باتیں چوری سے نہیں سن سکتے ’ پھر فرمایا آسمان پر سورج چاند اور تارے اللہ کی قدرت کے نمونے ہیں جن کو یہ لوگ دھاون کرکے اس کی قدرت کو نہیں پہچانتے ‘ پھر فرمایا سمجھ دار شخص کے لیے رات دن بھی اس کی قدرت کی نشانیاں ہیں کہ رات کے نیند سے آدمی کی دن بھر کی تکان رفع ہوجاتی ہے اور دن کو پھر چل کر ہر شخص اپنی گزران کی صورت نکال سکتا ہے ‘ اسی طرح سورج کی گردش سے جاڑے گرمی اور برسات کا موسم پیدا ہوتا ہے اور چاند کی گردش سے مہینہ اور سال کا حساب معلوم ہوجاتا ہے ‘ حاصل کلام یہ ہے کہ سمجھ دار کے حق میں سب مخلوقات اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں اور جو لوگ ناسمجھی سے شیطان کے پنجے میں پھنسے ہوئے ہیں ‘ وہ ان قدرت کی نشانیوں سے ایسے غافل ہیں کہ سمجھانے سے بھی نہیں سمجھتے ‘ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ 4 ؎ سے حضرت علی ؓ کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے کہ دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے اپنے علم غیب کے موافق اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں یہ لکھ لیا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کون شخص دوزخ میں جھونکے جانے کے قابل کام کرے گا اور کون شخص جنت میں جانے کے قابل ‘ اسی طرح صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری کی حدیث بھی گئی جگہ گزر چکی ہے ‘ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے قرآن کی نصیحت کی مثال مینہ کے پانی کی اور اچھے برے لوگوں کی مثال اچھی بری زمین کی بیان فرمائی ہے ‘ ان حدیثوں کو آیتوں کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ جو لوگ دنیا کے پیدا ہونے سے ایسا ہی فائدہ پہنچا ‘ اور قیامت تک پہنچتا رہے گا جس طرح اچھی زمین کو مینہ کے پانی سے فائدہ پہنچتا ہے اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں بد قرار پاچکے تھے ‘ ان کے حق میں قرآن کی نصیحت اور قدرت کی سب نشانیاں اسی طرح رائیگاں ہیں جس طرح بری زمین میں مینہ کا پانی رائیگاں جاتا ہے۔
(1 ؎ تفسیر الدر المنثورص 317 ج 4 )
(2 ؎ ص 217 جلدہذا )
(3 ؎ مشکوٰۃ باب بدء الخلق الخ )
(4 ؎ مشکوٰۃ ‘ باب الایمان بالقدر )
Ayahs 21:34–3534۔ 35:۔ سورة یونس میں گزر چکا ہے 1 ؎ کہ جب اللہ کے رسول ﷺ مشرکین مکہ کو قرآن شریف کی وہ آیتیں سناتے تھے ‘ جن میں ان کے بتوں کی مذمت ہوتی تھی تو ان میں کے بڑے بڑے سرکش اللہ کے رسول ﷺ سے کہتے تھے کہ اگر تم کو ہمیں قرآن سنانا منظور ہے تو اس میں سے ہمارے بتوں کی مذمت کا ذکر بدل ڈالو ‘ مشرکین مکہ اللہ کے رسول ﷺ سے یہ بھی کہا کرتے تھے کہ برس دن تک تم ہمارے بتوں کی پوجا کرو اور ہم برس دن تک تمہارے خدا کی عبادت کریں گے۔ پھر اس صورت میں ہمار تمہارا کوئی جھگڑا باقی نہ رہے گا ‘ یہ ذکر تفصیل سے سورة الزمر میں آتا ہے ‘ حاصل کلام یہ ہے کہ جب مشرکین مکہ کی یہ باتیں کچھ کارگر نہ ہوئی تو یہ لوگ اللہ کے رسول کو کو ستے اور آپ کی وفات کی تمنا کرتے تھے اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے رسول اللہ کے اللہ تعالیٰ کا یہ انتظام تو تم سے پہلے کا ہے کہ کوئی بشر دنیا میں رہنے والا نہیں اس انتظام کے موافق اگر تم دنیا میں نہ رہے تو ایک دن یہ لوگ بھی نہ رہیں گے کیونکہ موت کا مزہ ہر شخص کو چکھنا ضرور ہے پھر اپنی دنیا کی خوش حالی کے نشہ میں یہ لوگ اپنی موت سے جو غافل ہیں ‘ یہ ان کی نادانی ہے ‘ دنیا کی خوشحالی اور تنگدستی تو اللہ تعالیٰ نے اس آزمائش کے لیے پیدا کی ہے کہ خوشحالی کی حالت میں کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری کرتا ہے اور کون ناشکری ‘ اسی طرح تنگدستی کی حالت میں کون صبر کرتا ہے اور کون بےصبری ‘ پھر ایک دن سب اللہ تعالیٰ کے روبرو حاضر ہونے والے ہیں اس وقت ہر شخص کے عملوں کے موافق جزا و سزا کا فیصلہ ہوگا ‘ صحیح مسلم کے حوالہ 2 ؎ سے صہیب ؓ رومی کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے ‘ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ‘ خوشحالی کے وقت شکر اور تنگدستی کے وقت صبر ان لوگوں کا کام ہے جو پکے ایماندار ہیں ‘ اس حدیث کو آیتوں کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ خوشحالی اور تنگدستی دنیا میں آزمائش کی چیزیں ہیں اور آزمائش میں وہی لوگ پورے اترتے ہیں جو پکے ایماندار ہیں ‘ اللہ کے رسول کی وفات کا انتظار کرنے والوں میں سے بڑے بڑے سرکش بدر کی لڑائی میں ختم ہوگئے ‘ جس کا قصہ صحیح بخاری ومسلم کی انس ؓ بن مالک کی روایت کے حوالہ سے کئی جگہ گزر چکا ہے اور جن بتوں کی حمایت میں یہ لوگ اللہ کے رسول کی وفات کا انتظار کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے ہاتھ سے ان بتوں کو جس قدر ذلیل کرایا ‘ صحیح بخاری کی عبداللہ ؓ بن مسعود 3 ؎ اور صحیح مسلم کی ابوہریرہ ؓ 4 ؎ کی روایتوں کے حوالہ سے یہ قصہ بھی کئی جگہ گزر چکا ہے کہ فتح مکہ کے وقت اللہ کے رسول ﷺ نے اپنے ہاتھ کی لکڑی مار مار کر ان بتوں کو زمین میں پھینک دیا اور کس مشرک سے ان بتوں کی کچھ حمایت نہ ہوسکی۔
(1 ؎ ص 18‘ 19 جلد 3 )
(2 ؎ مشکوٰۃ باب التوکل والصبر )
(3 ؎ صحیح بخاری ابواب فتح مکہ )
(4 ؎) صحیح مسلم ص 103 ج 2